Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode :2

🕯️ صلیبِ سکوت
قسط نمبر:2
✍︎ حیات ارتضی S.A
═══════❖═══════
{ماضی}

کالی سیار رات تھی، اور بجلی کے گرجتے ہوئے بادل کسی بھی لمحے بارش برسنے کے لیے تیار تھے۔ ہر طرف ایک خوفناک خاموشی چھائی ہوئی تھی، اور دور کھیتوں میں کتوں کی بھونکنے کی آوازیں اس سناٹے کو اور بھی پر اسرار بنا رہی تھیں۔

وہ پاگلوں کی طرح سڑک پر اکیلی بھاگتی جا رہی تھی، اور خوف نے اس کے پورے جسم کو پسینے سے بھیگا دیا تھا۔ دسمبر کی ٹھنڈ میں وہ ایسا پسینے سے بھیگی ہوئی تھی، جیسے گرمی کی شدت نے اچانک اسے گھیر لیا ہو۔

گلے میں دوپٹہ نہیں تھا، جو بھاگتے ہوئے کہیں گر گیا تھا۔ چپل سے بے نیاز، اس کے پیر سڑک پر بھاگتے بھاگتے زخمی ہو چکے تھے، لیکن وہ رکی نہیں۔

وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ سڑک اسے کہاں لے جائے گی، نہ ہی وہ جانتی تھی کہ اس کی منزل کیا ہے۔ بس ایک انجان راستے پر بھاگتی جا رہی تھی، اپنی جان بچانے کے لیے، اپنے بچے کی حفاظت کے لیے۔

اتنی جدوجہد کے بعد بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ اپنی جان بچا سکے گی یا نہیں۔ آج سے پہلے اس نے اتنی بھیانک رات کبھی نہیں دیکھی تھی۔

اپنے بچے کی جان بچانے کے لیے وہ گھر والوں سے باغی ہو کر بھاگی تھی۔ تھکن سے اس کے قدم جکڑے جا رہے تھے، اور ہر سانس کے ساتھ اسے لگ رہا تھا کہ وہ گر پڑے گی۔

ایک مجبور ماں، جس کے لیے یہ ثابت کرنا ممکن نہیں تھا کہ اس کے پیٹ میں جو بچہ ہے وہ ناجائز نہیں۔ جس کی پاکدامنی کی گواہی دینے والا وہ شخص خود چار کندھوں پر سوار ہو کر اس کا ساتھ چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے جا چکا تھا۔

اپنے پیار کو کھو دینے کا درد اتنا گہرا تھا کہ اسے لگ رہا تھا جیسے کسی بھی لمحے اس کا کلیجہ پھٹ جائے اور وہ مر جائے۔ وہ صرف ایک شخص نہیں تھا، بلکہ اس کی پوری دنیا تھی، جس کے بغیر جینے کا تصور اس کے لیے ناممکن تھا۔ اور اب وہ اسے تنہا چھوڑ کر چلا گیا اسے تو اب تک اس خبر پر یقین نہیں آرہا تھا۔
دل کی ویرانی نے اسے بے حال کر دیا۔ ہر قدم، ہر سانس، ایک درد کے ساتھ جڑا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔
رات کے اس پہر، ایسے موسم میں، ایسے سناٹے میں، وہ گھر سے باہر نکلنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ ایک ایسی لڑکی جو کبھی رات کے پہر گھر سے باہر قدم نہیں رکھتی تھی، اب دیوانوں کی طرح بھاگ رہی تھی، بس اپنے بچے کی حفاظت کے لیے۔

کتنی خوبصورت ہستی ہے ماں! ایک ایسی ہستی جو اپنے بچے کی سانس بچانے کے لیے اپنی سانسوں کو داؤ پر لگا دیتی ہے۔ خوف، تھکن، درد۔۔۔سب کچھ پیچھے رہ جاتا ہے، بس ایک ہی چیز باقی رہ جاتی ہے۔اپنے بچے کی حفاظت، اپنی محبت کا جنون، جو اسے ہر قدم آگے بڑھنے پر مجبور کرتا ہے۔
جو کبھی رات کے اندھیرے میں باہر جھانکنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ ایک لڑکی، جس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ یوں اکیلی، رات کے اس پہر، ویران سڑکوں پر کبھی نکل سکتی ہے۔

وہ بھاگتی بھاگتی تھک چکی تھی۔ سانسیں بے ترتیب تھیں اور دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اچانک، ایک چیخ اس کے گلے سے نکل گئی۔۔۔آ ہ ااااااا! رونے کی آواز کے ساتھ۔

سنسان جگہ میں اس کی چیخ گونج اٹھی۔ ہوا کے ساتھ مل کر، درختوں کی شاخیں ہلکی سی کانپیں، اور اندھیرا جیسے اس کے خوف کو اور بڑھاوا دے رہا تھا۔ رات کی خاموشی میں ہر سرسراہٹ اس چیخ کے ساتھ زندہ ہو گئی، اور اس کا دل ہر لمحہ دھڑکنے کے ساتھ اور ڈر کے قریب آ رہا تھا۔

خان۔۔۔ وہ خان کا نام لے کر زور سے چیخ اُٹھی، “کس کے بھروسے آپ نے مجھے چھوڑ دیا، کیوں چلے گئے، مجھے اس دنیا میں اکیلے چھوڑ کر، کیوں نہیں سوچا کہ میرا کیا ہوگا؟”

آپ کی سب تسلیاں، سب وعدے جو آپ نے میرے ساتھ کیے تھے، آپ نے کسی کو یاد نہیں رکھا، “مانتی ہوں، مجھ سے بہت بڑا گناہ ہوا، اپنی محبت کو رسوا کر کے، مگر خان، مجھے اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا موقع تو دیتے!”

اس کے دماغ میں طوفان اٹھ رہے تھے، ظالموں نے کس طرح زبردستی مجھ سے سائن کروائے، آپ نے مجھے موقع ہی نہیں دیا، آنکھوں سے آنسو بہتے، وہ ایک سمت بھاگتی جا رہی تھی، دل کے ہر دھڑکن کے ساتھ بس سوچ رہی تھی کہ کہاں جانا ہے، کچھ پتہ نہیں، “خان، آپ کیوں چلے گئے؟”

آج دیکھیں، آپ کی محبت کیسے بے سہارا، رات کے اس پہر، سڑکوں پر لاوارث پھر رہی ہے، رات کا وہ پہر، جب شریف عورتیں بھی گھر سے باہر پاؤں رکھنے کے بارے میں سوچ نہیں سکتیں، وہ اپنی درد زدہ سوچوں میں گم، سڑک پر بھاگتی جا رہی تھی،

پاؤں کے زخموں سے خون رس رہا تھا، درد کی شدت بڑھ رہی تھی، اور اچانک۔۔سامنے سے آتی ہوئی گاڑی سے ٹکرا کر وہ چکراتی ہوئی زمین پر گری، کسی نے تیزی سے گاڑی سے نیچے اتر کر اس کے بے جان جسم کو اٹھایا، اور گاڑی میں ڈال دیا، چکراتی ہوئی نظروں سے وہ اس شخص کا چہرہ نہیں دیکھ پائی تھی، اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ ہاتھ، جو اسے اٹھا کر لے جا رہے ہیں، زندگی کا تحفظ دے رہے ہیں یا موت کا فرمان، وہ بے ہوش ہو چکی تھی، بہت دیر تک بھاگنے کی وجہ سے اس کی حالت بہت خراب تھی، گاڑی میں بیٹھنے کے بعد، دروازے بند ہو گئے، اور وہ تیز رفتاری سے، رات کے اندھیرے میں غائب ہو گئی۔۔۔

═══════❖═══════
{حال}
یارم خان آج ایک کالج فنکشن میں بطور چیف گیسٹ انوائیٹ کیا گیا تھا۔

یارم کو ایسے فنکشنز میں جانا بالکل پسند نہیں تھا۔
مگر یہ کالج اس کے خاص دوست کا تھا اس نے بہت ریکویسٹ کی تھی کہ اسے ضرور آنا ہے۔
وہ اپنے خاص دوست کو منع نہیں کر سکا۔

مگر کالج میں بچیوں کو پرائز دیتے ہوئے ایک لڑکی اس کے دماغ اور سوچوں پر چھائی ہوئی تھی۔

وہ جب سے فنکشن سے ہو کر لوٹا تھا وہ لڑکی کو اپنے دماغ سے نکال نہیں سکا ۔
وہ لڑکی یارم خان جیسے سنجیدہ سیریس مزاج شخص کے لبوں کی مسکراہٹ بنی ہوئی تھی۔

یارم کو اگر ایسے اکیلے میں اس کی مورے یا کوئی اور گھر والا مسکراتے ہوئے دیکھ لیتا تو حیران ہی ہو جاتا۔

اس طرح فضول مُسکرانا یارم کے نیچر کے بالکل خلاف تھا۔
یارم نے آج تک کسی لڑکی کو اپنے دل پر دستک دینے تک کی اجازت نہیں دی تھی۔ہم سفر چننے کے معاملے میں وہ بہت محتاط سوچ کا مالک شخص تھا۔

اس کی آنکھوں نے ہمیشہ سے ایک ایسی لڑکی کا خواب دیکھا تھا، جو بالکل اس کی سوچ کے مطابق ہو،
ایک ایسی لڑکی جو سنجیدہ اور کم گو ہو، مگر جب بولے تو ہر لفظ میں مٹھاس اور تاثیر ہو، جسے صرف وقار کہا جا سکتا ہو،
ایسی لڑکی جس کی خاموشی بھی بولتی ہو، اور ہر ہنسی، ہر ادا دل کو چھو لے،
ایسی لڑکی جس کو دیکھتے ہی دل کہے، یہ صرف میرے لیے ہے، اور میں صرف اس کے لیے بنایا گیا ہوں،
وہ لڑکی، جس کا ہر جذبہ، ہر لمحہ، ہر نظریں اس کے خواب کے ساتھ ہم آہنگ ہوں،
جیسے ہر تصور، ہر خواہش، اور ہر امید صرف اسے پانے کے لیے جیتی ہو،
اور وہ جانتا تھا، جب وہ سامنے آئے گی، ہر چیز اپنی جگہ پر آ جائے گی، ہر احساس کو منزل ملے گی، اور دل کے تار بس اس کے ساتھ گونجیں گے۔

مگر ایسی لڑکی آج تک یارم کی نظروں کے سامنے آئی ہی نہیں تھی ۔جو یارم کے دل کی کھڑکی کھول کر حق جما سکتی۔۔

مگر آج کالج میں اس لڑکی نے یارم کے دل کی کھڑکی پر دستک بھی دی اور وہ شاید چھپکے سے اندر بھی داخل ہو چکی تھی۔وہاں بہت سی لڑکیاں تھی،مگر وہ لڑکی سب سے بہت مختلف تھی۔

اس کی آنکھوں میں شرم و حیا چہرے پر معصومیت ترتیب سے لپیٹا ہوا حجاب کھلے سے گاؤن میں لپٹا ہوا نازک سا وجود اسے کسی کی یاد دلا رہا تھا ۔

اس کی پہلی جھلک نے ہی یارم کی آنکھوں میں اس ہستی کا احساس اجاگر کیا تھا، جسے چاہنے کے باوجود بھی وہ آج تک بھول نہ سکا۔
اس لڑکی کا عکس، اس کی شخصیت کی یاد دلا گیا، جس کی وجہ سے وہ برسوں تناؤ اور تڑپ میں رہا۔
ہنسنے کھیلنے والا یارم، آج خاموش ہو گیا تھا،ہمیشہ خوش مزاج گھل مل کر رہنے والا کل یارم، آج خاموشی کی طبیعت کا مالک بن کر صرف تنہائی پسند کرتا تھا،
وہ اب صرف ضرورت کے وقت بولنا پسند کرتا، اور لوگو کے نظریے سے خاموشی ہی اس کی پہچان بن گئی تھی۔۔

مگر اس لڑکی میں کچھ تو خاص تھا۔ وہ لڑکی بالکل یارم کی سوچوں میں بنے ہوئے عکس میں فٹ ہو رہی تھی۔
یا رم ہمیشہ سے جس طرح کی لائف پارٹنر چاہتا تھا اس لڑکی میں وہ تمام خوبیاں یارم کو صاف نظر آرہی تھیں۔
اس کا دھیما لہجہ شرم سے جھکی ہوئی نظریں۔آج کے زمانے میں بھی پردے کو اتنی اہمیت دینا۔یارم سب کچھ اپنے دماغ سے نکال نہیں پا رہا تھا۔۔۔

پہلی بار یارم کے دل نے کسی لڑکی کی شدت سے خواہش محسوس کی تھی۔
یارم ایک سمجھدار، سلجھی ہوئی سوچ رکھنے والا نوجوان تھا۔
اپنے دل کی بات کو سمجھنے میں اسے زیادہ دیر نہ لگی، اور وہ اس لڑکی کو پہلی نظر میں ہی پسند کرنے لگا۔
یہ رشتہ شاید آگے چل کر محبت کی صورت اختیار کرنے والا تھا۔
یارم کچھ سوچتے ہوئے اپنے روم سے نکلا اور سیدھا اپنی مورے اور بابا کے روم میں چلا گیا۔

═══════❖═══════

یارم نے دروازے کو ہلکا سا کھٹکھٹاتے ہوئے، جیسے کسی سنجیدہ راز کی دہلیز کو چھو رہا ہو، بغیر کسی جھجک کے اندر کی جانب دھکیل دیا۔

اس کی ماں سامنے ہی صوفے پر بیٹھ کر یارم کے بابا کی شرٹ کے بٹن لگاتی جا رہی تھی، ہر بٹن کو بڑے دھیان اور نفاست کے ساتھ لگا رہی تھی،
یارم کی ماں ایک نہایت سلیقہ مند عورت تھی، ہر وقت کچھ نہ کچھ کرنے میں لگی رہتی، چھوٹے چھوٹے کاموں میں بھی اس کی نفاست اور ترتیب صاف نظر آتی،
اس کے بابا بیڈ پر لیٹے ہوئے نیوز دیکھنے میں مصروف تھے۔
اپنے بیٹے کو اس وقت اپنے روم میں دیکھ کر حیران ہو کر دیکھ رہے تھے ،یہ وقت یارم کے آرام کرنے کا تھا ڈیوٹی سے واپس آکر وہ اپنے کمرے میں کچھ گھنٹے آرام سے گزارنے کا ہمیشہ سے آدھی رہا۔ اس وقت نہ تو وہ کبھی روم سے نکلتا تھا اور نہ ہی کسی سے بات کرتا۔

اسلام علیکم کیسے ہو آپ!! یارم نے قدم اندر رکھتے ہی مسکرا کر سلام کرتے ہوئے حال پوچھا اور قدم اپنی ماں کی جانب بڑھا دیے۔۔

“ہم تو ٹھیک ہیں مگر یہ چاند آج اس وقت ہمارے کمرے میں کیسے نکل آیا ہے۔
اس کی ماں نے خوش ہو کر شرٹ کو سائیڈ پر رکھتے ہوئے اپنے سامنے سر جھکائے کھڑے ہوئے اپنے بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے گال اور ماتھے پر پیار کیا۔۔

آپ تو ایسے بول رہی ہیں جیسے میں آپ کے کمرے میں آتا ہی نہیں ہوں۔ یارم نے مسکراتے ہوئے اپنی ماں کا ماتھا عقیدت سے چومتے ہوئے کہا۔
“نہیں، ہم نے ایسا تو نہیں کہا کہ ہمارا بیٹا ہمارے کمرے میں نہیں آتا، ہم نے تو صرف یہ کہا ہے کہ یہ چاند اس وقت ہمارے کمرے میں کبھی نہیں روشنی بکھیرتا، کیونکہ یہ ہمارے چاند کے آرام کرنے کا وقت ہوتا ہے،”
اس کی ماں نے شفقت اور محبت سے لبریز نظروں سے اپنے بیٹے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔

اپنی ماں سے مل کر وہ اپنے بابا کی جانب بڑھ گیا،
بس دل چاہا کہ آپ کے کمرے میں آ کر کچھ دیر آپ کے پاس بیٹھوں، تو چلا آیا۔اپنے بابا سے ملتے ہوئے ہمیشہ کی طرح سینے پر گرتا چلا گیا تھا یہ یارم کا اپنے بابا کے ساتھ ملنے کا انداز تھا۔

“نہیں، برخودار آتے تو تم روز ہو ،مگر اس وقت پر ہمارے بیٹے کو اپنا آرام بہت عزیز ہوتا ہے۔۔۔ اس لیے تمہاری ماں کا اور میرا سوال کرنا ضروری ہے۔”

یارم کے بابا کا چہرہ کھل گیا، اور وہ اپنے بیٹے کو ہمیشہ کی طرح پیار سے اپنی باہوں میں سمیٹ گئے،
ان کی نگاہوں میں آج بھی یارم چھوٹا سا بچہ تھا، جسے وہ اپنے سینے پر لٹا کر ہر لاڈ اور محبت کا حق ادا کرتے تھے،
ہر لمحہ، ہر سانس میں وہ فکر اور شفقت جھلک رہی تھی، جیسے وقت رک گیا ہو اور بس یہ لمحہ، یہ قربت، اور یہ پیار باقی رہ گیا ہو۔

“کیا کریں بابا، جاب ہی ایسا ہے، بہت تھک جاتا ہوں۔۔۔ سارا دن مجرموں سے پالا پڑا رہتا ہے، اور خدا کی قسم، ایسے ایسے نمونوں کے ساتھ پالا پڑتا ہوں کہ کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ بنا انکوائری کیے ہی انہیں شوٹ کر دوں۔۔۔ مگر پھر یہ سوچ کر ہاتھ روک لیتا ہوں، کہیں کسی بے گناہ کی جان نہ لے لوں۔۔۔”
“اور جانتے ہیں، یہ سب کچھ آپ کی دی ہوئی تربیت کا نتیجہ ہے۔
میرے بابا اور اماں نے مجھے ہمیشہ یہی سکھایا ہے کہ میرے ہاتھ سے کبھی کچھ غلط نہیں ہونا چاہیے، میرے ہاتھوں سے کبھی کسی بے گناہ کو تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔۔۔
اور میں اپنی اماں اور بابا کی دی ہوئی تربیت پر کبھی انگلی اٹھانے کا کسی کو موقع نہیں دے سکتا۔”

یارم نے اپنے بابا کے دونوں ہاتھوں کو چوم کر آنکھوں سے لگا لیا،
ہر لمحے میں محبت، عزت اور شکرگزاری کی گہرائی واضح تھی۔یارم کے لیے اس کا بابا صرف والد نہیں تھا، بلکہ اس کا سب سے قریبی دوست بھی تھا،
جس کے ساتھ وہ ہر خوشی اور ہر غم بانٹ سکتا تھا۔
یارم اپنے دل کی ہر بات اپنے بابا سے شیئر کیا کرتا تھا۔۔۔
دونوں کے تعلق میں کبھی یہ لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ باپ اور بیٹا ہیں،
بلکہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے بڑے بھائی اور چھوٹے بھائی کا رشتہ ہو،
ہر بات میں اعتماد، کی مٹھاس شامل تھی۔اور جب بیٹا ان کی تربیت کا پاس ہمیشہ رکھتا تو یارم کے ماں باپ کا سر فخر سے بلند ہو جاتا۔

“خدا تیرے جیسا بیٹا ہر کسی کو دے….یارم تجھے پتہ ہے تو میرا بیٹا نہیں میرا غرور ہے۔قسم سے جب میں تجھے دیکھتا ہوں تو مجھ میں خوشی سے غرور آجاتا ہے۔۔
جب میں یہ سوچتا ہوں کہ اتنا نیک اور بہادر سچ میں میرا بیٹا ہے۔تو مجھے خود پر ہی یقین نہیں اتا۔

نہ بابا جان شرمندہ نہ کریں۔
غرور تو آپ ہو میرا۔
جب میں سوچتا ہوں کہ میں آپ کا بیٹا ہوں تو سینہ خوشی سے چوڑا ہو جاتا ہے۔ نیک ماں باپ کی اولاد ہونا بھی اولاد کے لیے فخر کی بات ہوتا ہے۔اپنے بابا کے سینے پر سر رکھ کر وہ لیٹے ہوئے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر سینے سے لگائے ہوئے تھا۔

“اچھا جی، ٹھیک ہے، تم جیتے اور میں ہارا۔”
اس کے بابا مسکرا رہے تھے۔
“جانتا ہوں، تم کبھی اپنی تعریف نہیں کرتے، ہمیشہ سہرا میرے اور اماں کے سر پر سجا دیتے ہو۔
چلو، بتاؤ، ہمارا بیٹا ہم سے کیا ضروری بات کرنے آیا ہے۔”

“کیا بابا ….کیوں شرمندہ کر رہے ہیں؟بغیر ضروری بات کہ میں آپ کے کمرے میں نہیں آسکتا۔”
“کیا بابا ….کیوں شرمندہ کر رہے ہیں؟بغیر ضروری بات کہ میں آپ کے کمرے میں نہیں آسکتا۔”یار ایسے گھبرا کربلا جیسے چوری پکڑی گئی ہو۔

“آسکتے ہو۔
مگر اس وقت ہمارے بیٹے کے چہرے کی خوشی دیکھ کر پتہ چل رہا ہے کہ ہمارا بیٹا ہمارے کمرے میں کوئی خاص بات کرنے آیا ہے۔اس کے بابا اور اماں دونوں یارم پر نظر جمائے ہوئے تھے ان کا دل کہہ رہا تھا کہ صاحبزادے کے دل میں کچھ خاص تو ہے۔

یارم کے چہرے کی مسکراہٹیں بتا رہی تھیں کہ وہ بہت خوش ہیں۔

بابا آپ لوگ مجھے بہت پیار کرتے ہیں ، اچھی طرح سے سمجھتے ہیں۔ اس لیے کوئی بات آپ سے چھپا ہی نہیں سکتا ۔یارم کا انداز ایسا تھا جیسے بات کرنے سے پہلے تنبید باندی جا رہی ہو۔یارم کے چہرے پر اس کے بابا کی گہری نظریں تھی، اس کے بابا کا دل کہہ رہا تھا کہ ان کا شہزادہ کوئی بڑی بات کہنے کی کوشش کر رہا ہے۔

“بالکل چھپانے کی ضرورت بھی نہیں ہے،اور کوشش بھی مت کرنا ۔ہم نے ہمیشہ تمہیں پوری طرح سے آزادی دی ہے کہ تم اپنے دل کی بات کہہ سکو،ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے بچے ہم سے کوئی پردہ رکھیں۔ہمیشہ سے ہماری یہی کوشش رہی ہے کہ جو بھی دل میں خواہش ہو ہمارے سامنے رکھو۔
ہم آپ کی ہر خواہش کو خود سے ہی پورا کر دیں گے تو پردہ رکھنے کی ضرورت کیا ہے۔
اس کے بابا نے سنجیدہ انداز میں سمجھایا۔

گزرے کچھ وقت کی تلخ یادوں کے اثرات ایک دم سے یارم کے بابا کے ذہن پر چھانے لگے تھے۔مگر فورا سے ان درد دینے والے خیالات کو انہوں نے جھٹک دیا۔

کیونکہ یارم روزانہ چھوٹی چھوٹی باتیں لے کر نہ تو ان کے کمرے میں آتا، اور نہ ہی بات کرنے سے پہلے تنبید باندھنے کا عادی تھا۔

لیکن یارم کے چہرے کی خوشی اور سنجیدگی واضح کر رہی تھی کہ وہ کوئی خاص بات کرنے آیا ہے۔ یہ بات ہر بات ہر خیال سے زیادہ اہم تھی، اور اس کے والد کے لیے بھی خاص معنی رکھتی تھی۔

اس کی ماں خاموشی سے صوفے پر بیٹھی اپنا کام چھوڑ کر بڑے غور کے ساتھ ، باپ اور بیٹے کی باتوں کو سن رہی تھی،
وہ اس لمحے کی اہمیت کو جانتی تھی۔

“اتنا سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جتنی ہمت، بہادری اور یقین کے ساتھ تم کمرے میں داخل ہوئے تھے، اسی یقین کو برقرار رکھو اور کہہ دو جو دل کی بات ہے۔یا رم کی خاموشی کو اور گہری سوچ کو دیکھ۔یارم کے بالوں میں پیار سے انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔

“بابا۔۔۔ میں شادی کرنا چاہتا ہوں۔”
یارم نے ذرا سا رک کر صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے بتایا ۔

“ماشاءاللہ ۔۔ ماشاءاللہ۔۔ میں صدقے جاؤں اپنے بچے پر۔یہ بات سننے کو ہمارا کان ترس گیا تھا۔

یارم کی ماں نے اس کے بابا کے بولنے سے پہلے ہی خوشی کا اس قدر اظہار کردیا…. یارم اور اسکے بابا ایک ساتھ ہنس پڑے تھے۔

“یہ تو بہت خوشی کی بات ہے کہ ہمارا بیٹا شادی کرنا چاہتا ہے۔تمہاری ماں تو کب سے میرے پیچھے پڑی ہوئی ہے کہ یارم سے بولو کہ اب اسکی شادی کی عمر ہوگئی ہےاس کو شادی کر لینا چاہیے۔

مگر میں ہمیشہ یہ سوچ کر چپ ہو جاتا تھا کہ ہمارا بیٹا بہت سمجھدار ہے۔وقت آنے پر خود فیصلہ کر لے گا۔ میں کوئی دباؤ نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔

یارم کے بابا نے پیار سے اپنے بیٹے کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے اس کے فیصلے کو دل سے قبول کیا۔یارم کے منہ سے شادی کا سن کر یا رم کے ماں باپ تو جیسے جی اٹھے تھے۔۔

” تو بتاؤ ہمارے بیٹے نے ہمارے لیے بہو پسند کر لی ہے یا یہ ذمہ داری ہم پر چھوڑی ہے۔یارم کے بابا نے اگلا سوال کیا۔

” بابا لڑکی تو میں نے پسند کر لی ہے۔
مگر آخری فیصلہ آپ کا اور اماں کا ہوگا۔ ۔
اگر آپ اس کو میرے لائق سمجھیں گے تو ہی یہ رشتہ ہو سکے گا ۔ آپ سے بڑھ کر میری زندگی میں کچھ نہیں۔

ہمم۔
ٹھیک ہے بتاؤ کب اور کہاں جانا ہے ہمیں اپنے بیٹے کی پسند پر پورا بھروسہ ہے ۔۔۔

Thank you so much baba love you……

یارم کو یقین تھا کہ اس کے بابا اور اماں کبھی اس کو انکار نہیں کریں گے ۔
اور اپنے یقین کو پورا ہوتے دیکھ وہ خوش ہو گیا تھا۔

“خوش رہو ۔۔تھینک یو کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہاری خوشی سے بڑھ کر ہم دونوں کے لیے کچھ نہیں۔
اور جس کا انتخاب تم نے کیا ہوگا بے شک وہ قابل تعریف لڑکی ہوگی۔تم ہمیں جلدی سے بتاؤ تاکہ ہم رشتہ لے کر جا سکیں۔۔۔

“بابا بہت جلد آپ کو بتا دوں گا۔

مگر ایک بار میں اس لڑکی سے خود پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ اس رشتے میں انٹرسٹڈ ہے یا نہیں۔
کیونکہ میں تو ابھی خود اس کے دل کی بات نہیں جانتا۔بس میرے دل میں جو کچھ تھا میں نے آپ کو بتا دیا۔

ایک بار اس سے پوچھ لوں ،اگر اس لڑکی کو اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ہوا تو پھر آپ ان کے گھر رشتہ لے جائیے گا۔

“ٹھیک ہے بیٹا جیسے تمہیں ٹھیک لگے۔یارم کے بابا کو اپنے بیٹے کے ہر فیصلے پر پورا یقین تھا۔

“کیسے نہیں میرے بیٹے کے ساتھ رشتہ کرنے کے لیے راضی ہوگی۔ میرا بیٹا اتنا خوبصورت ہے کہ کوئی انکار کر ہی نہیں سکتا ۔
یارم کی ماں پیار بھری نظروں سے اپنے بیٹے کو دیکھتے ہوئے بولی۔

“ہر وقت اپنے بیٹے کی تعریفیں کرتی رہتی ہیں۔ کبھی غور سے اپنے بیٹے کے باپ کو بھی دیکھ لیا کرو خوبصورتی میں تو ہم بھی کم نہیں ۔کبھی ہماری تعریف میں بھی دو الفاظ کہہ دیا کریں تو ہمیں بہت اچھا لگے گا ۔۔۔
یارم کے بابا نے جان بوجھ کر اس کی ماں کو تنگ کرنے کے لیے یہ کہا تھا۔

یارم کی ماں آج بھی یارم کے بابا سے ایسی باتوں پر شرما جایا کرتی تھیں۔اور اپنے بیٹے کے سامنے تو ایسی باتیں سننا ان کے لیے جیسے گناہ ہو۔

“استغفراللہ کیسی باتیں کرتے ہیں کبھی سوچ بھی لیا کریں۔ جوان بیٹا پاس بیٹھا ہوا ہے،جو دل میں آتا ہے بول دیتے ہیں۔۔

یارم کی ماں استغفراللہ استغفراللہ کرتی ہوئی کمرےسے باہر نکل گئی تھی۔
اسے اپنے بیٹے سے بہت شرم آتی تھی۔
مگر ان دونوں میں باپ بیٹے والا رشتہ نہیں بلکہ بیسٹ فرینڈز والا رشتہ تھا ،جو ایک دوسرے کے سامنے کچھ بھی کہہ جاتے تھے۔
کہاں جا رہی ہو، یارم کی ماں؟ میری بات تو سنو، انہوں نے بلند آواز میں انہیں رکنے کو کہا۔

نہیں، مجھے کوئی بات نہیں سننی۔ اب باپ بیٹا آرام سے بیٹھ کر باتیں کرو۔
وہ دروازہ بند کرتے ہوئے جا چکی تھی، جبکہ باپ بیٹا دونوں قہقہہ لگا کر ہنس دیے تھے۔

“بابا مورے کو تنگ مت کیا کریں آپ جانتے ہیں ان کو ایسی باتوں سے شرم آتا ہے۔وہ ذرا پرانے خیالات رکھتی ہیں ان کے نزدیک یہ سب بے شرمی کی باتیں ہیں۔

” جانتا ہوں اسی لیے تو تنگ کرتا ہوں جب وہ شرماتی ہیں اور یوں گھبرا کر چلی جاتی ہیں مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔
یار اس کی ڈانٹ اور شرم و حیا میں ہی تو میری خوشیاں چھپی ہوئی ہیں۔
کیسے تمہاری ماں کو تنگ کرنا بند کر سکتا ہوں،۔
“ٹھیک ہے جی آپ کی بیوی آپ کی مرضی ۔ہم تو صرف کباب میں ہڈی ہیں۔ وہ ہنستے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہوا۔

“مجھے اجازت دیجئے …تاکہ میں آپ کی ہونے والی بہوں کی رائے پوچھ سکوں۔
کہ وہ میری اماں کے پیارے بیٹے کو پسند بھی کرتی ہے یا نہیں۔

“انشاءاللہ ضرور ہاں کرے گی،ہمارے بیٹے میں کوئی کمی تھوڑی ہے ، انکار کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

“چلو دیکھتے کیا ہوتا ہے ۔وہ مسکراتے ہوئے بول کر چل پڑا تھا ۔

بے فقر ہو کر جاؤ ،میرے بیٹے میں کوئی کمی تھوڑی ہے،لاکھوں میں ایک ہے۔
بیسٹ آف لک ۔

تھینک یو سو مچ بابا۔
موسٹ ویلکم ،
وہ اپنے بابا کو بتا کر ان کی دعائیں لے کر مطمئن ہو کر کمرے سے جا چکا تھا۔

“یا اللہ! جس کے لیے بھی اس کے دل میں محبت کی خواہش جاگی ہے، تو اپنی رحمت سے اسے اس کا مقدر بنا دے۔ اس کی چاہت کو اس کی قسمت میں لکھ دے۔۔”آمین!”
یارم کے بابا نے دل ہی دل میں یہ دعا مانگی اور لبوں پر سرگوشی لاتے ہوئے آمین کہا۔۔
═══════❖═══════

{حال}
کس کے خیالوں میں کھوئی ہوئی ہو محترمہ!

مائرہ نے عبیرہ کو خیالوں میں کھویا ہوا دیکھ اسکے سامنے ہاتھ لہراتے ہوئے پوچھا ۔

“کہیں نہیں میں نے کس کے خیالوں میں کھونا ہے۔

“کب سے تمہارا کینٹین میں انتظار کر رہے ہیں۔”
وہ ذرا خفگی سے بولی، “آ کر دیکھا تو محترمہ تو خیالوں کی دنیا میں کھوئی ہوئی تھیں۔”
“پچھلے پانچ منٹ سے میں تمہیں دور کھڑی ہوئی دیکھ رہی ہوں۔ مگر مجال ہے جو تمہیں پتہ بھی چلا ہو!”

وہ لمحہ بھر کو رکی، پھر لہجے میں ہلکی سختی لے آئی۔
“عبیرہ، تمہارا یوں کھویا کھویا رہنا… تمہیں شک کے دائرے میں لا رہا ہے۔”

“چھوڑو یار، تم تو بال کی کھال اتارنے لگ جاتی ہو۔۔۔”
عبیرہ نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا۔ اس کے لہجے میں ہلکی سی گھبراہٹ اور چہرے پر واضح الجھن تھی۔
“مائرہ، میں تو صرف ہماری پڑھائی کے بارے میں سوچ رہی تھی۔”

“ٹھیک ہے، اگر تم کہتی ہو تو مان لیتے ہیں۔”مائرہ نے سنجیدہ لہجہ اپناتے ہوئے کہا۔
اس کی نظریں عبیرہ پر ٹکی تھیں، جیسے کسی پردے کے پیچھے جھانکنے کی کوشش کر رہی ہوں۔
“ورنہ بے وقوف تو ہم بھی نہیں جو تمہاری الجھن کو سمجھ نہ سکیں۔ کچھ تو ہے… جو ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔”

مائرہ اور عبیرہ دونوں بہت اچھی دوستیں تھیں۔
عبیرہ مائرہ کے انداز اور تاثر کو بخوبی سمجھ سکتی تھی۔دونوں چلتی ہوئی کینٹنگ تک پہنچ گئی تھی۔”ایسا بالکل نہیں۔ تم ضرورت سے زیادہ اپنے دماغ پر بوجھ مت ڈالو۔۔۔”
عبیرہ نے آہستگی سے کہا، مگر اس کے الفاظ اور چہرے کے زاویے بالکل میچ نہیں ہو رہے تھے۔ اس کی نظریں بار بار ادھر اُدھر بھٹک رہی تھیں۔

کینٹین میں رش اور شور معمول کے مطابق تھا۔ کہیں برتنوں کی کھنکھناہٹ، کہیں طلبہ کے قہقہے، اور کہیں آہستہ آہستہ چلتی گفتگوؤں کا شور گونج رہا تھا۔ اس سب کے بیچ مائرہ اور عبیرہ ایک کونے کی میز پر آمنے سامنے بیٹھی تھیں۔

مائرہ نے سنجیدہ لہجہ اپناتے ہوئے اس پر نظریں گاڑ دیں۔
“عبیرہ، ہم بہت اچھی فرینڈز ہیں۔ تم مجھ پر ٹرسٹ کر سکتی ہو یار۔”
اس نے تھوڑا سا جھک کر رازداری کے ساتھ کہا۔

“فضول میں میں مت سوچو کچھ نہیں ہے.”عبیرا کی جانب سے ایک بار پھر سے انکار میں جواب آیا۔جس کی مائرہ کو امید بھی تھی۔مگر مائرہ بھی اتنی آسانی سے خاموش بیٹھنے والی تو بالکل نہیں تھی۔

“اگر میں یہ کہوں کہ میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ تمہارے دماغ میں کچھ چل رہا ہے، تو کیا پھر بھی انکار کرو گی؟”
مائرہ نے سنجیدگی سے کہا۔
“تم مجھے بتاؤ گی تو مجھے اچھا لگے گا۔ ہو سکتا ہے میں تمہاری کوئی ہیلپ کر سکوں۔۔۔”مائرہ کی بات پر عبیرہ نے حیران نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔اتنی دیر میں ،ویٹر ان کا لنچ ٹیبل پر رکھ کر جا چکا تھا۔ مائرہ عبیرا کو ڈھونڈنے سے پہلے ہی آرڈر دے چکی تھی۔ وہ بات مکمل کرتے ہی سینڈوچ کا ایک ٹکڑا پلیٹ سے اٹھا کر کاٹنے لگی، مگر نظریں عبیرہ پر ہی جمی رہیں۔

“اتنا حیران ہو کر دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ دوست ہوں تمہاری، تمہارے دل کی بات کو سمجھنے کے لیے مجھے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی۔ تمہاری آنکھوں سے تمہارے دل کا حال مجھے صاف نظر آ رہا ہے۔ اب مہربانی کر کے تجسس سے دیکھنا بند کرو اور بتاؤ، معاملہ کیا ہے۔۔۔”

“اگر میرے دل کی بات سن کر تم نے میرا مذاق اڑایا تو۔۔۔”
عبیرہ نے سینڈوچ کی بائٹ لیتے ہوئے نظریں جھکا لیں، اور اس کی جانب دیکھے بغیر کہا۔
اس کے لہجے میں جھجک تھی اور آنکھوں میں ہلکی سی بےچینی جھلک رہی تھی۔

“افسوس ہوا مجھے تمہاری بات سن کر۔ میں اپنی دوست کا مذاق اڑاؤں گی؟”
مائرہ نے افسوس زدہ چہرہ بنایا اور خفگی سے کہا۔

“یار، ایسا کیسے سوچ لیا تم نے۔۔۔”
اس نے بھی سینڈوچ کا ٹکڑا اٹھایا، مگر کھانے سے زیادہ وہ عبیرہ کے تاثرات پڑھنے میں مصروف تھی۔

“اب جلدی سے بتاؤ،مجھ سے صبر نہیں ہو رہا۔”

مائرہ جتنی بے چین تھی عبیرہ کے دل کی بات سننے کے لیے، عبیرہ اتنی ہی گھبرائی ہوئی تھی وہ بات زبان پر لانے کے لیے۔
دل کی بات کہنے کی ہمت اس سے ہو نہیں پا رہی تھی۔

“یار اب بتا بھی دو،مجھے مزید غصہ مت چڑھاؤ۔ جلدی سے بتاؤ، ایسا کیا ہے جس نے تمہیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا،کہ میں تمہارا مذاق اڑا سکتی ہوں۔۔۔”

مائرہ کے لہجے میں وہی مان اور خلوص تھا جو سچی دوستی کا خاصہ ہوتا ہے۔ کینٹین کے شور میں بھی ان کی آوازیں ایک دوسرے کے دل تک پہنچ رہی تھیں،

عبیرہ نے لمحہ بھر کو ہچکچاتے ہوئے نظریں اٹھائیں۔
سینڈوچ پلیٹ میں رکھا تھا مگر اس کے ہاتھ اب رکے ہوئے تھے۔
ہونٹ خشک ہوئے تو اس نے آہستہ سے زبان پھیری اور دبے لہجے میں کہا۔

“مائرہ، تمہیں وہ ڈی ایس پی صاحب یاد ہیں جو اس دن ہماری فیئرول پارٹی میں چیف گیسٹ بن کر آئے تھے۔۔۔”

یہ کہتے ہی اس کی آواز جیسے رک سی گئی۔
مائرہ نے تجسس بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا، اور خاموشی دونوں کے درمیان ایک سوال بن کر اتر آئی۔

“ارے یار، وہ کوئی بھولنے والی چیز تھوڑی ہے!”
مائرہ نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ کہا۔ “بندہ خوبصورت ہے، ہینڈسم ہے تو بھولنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”

اس نے ٹھنڈی آہ بھری اور جیسے خوابوں میں کھو گئی ہو،
“ہائے۔۔۔ آنکھوں سے سیدھا دل پر وار کرنے والی چیز تھا وہ بندہ!”

مائرہ کے لبوں پر اس کا نام آیا تو لہجہ عجیب سا نرم اور سرشار ہو گیا۔

عبیرہ نے تیوری چڑھاتے ہوئے گھور کر دیکھا۔
“شٹ اپ! تمہیں اس کا پوچھا ہے، اس پر تشریح کرنے کو نہیں کہا۔۔۔”

اس کے لہجے میں جھنجلاہٹ اور آنکھوں میں سختی صاف جھلک رہی تھی۔
مائرہ کے لبوں سے یوں کھل کر ڈی ایس پی یارم خان کی تعریف سننا عبیرہ کو بالکل اچھا نہیں لگا تھا۔

“اچھا، سوری سوری! بتاؤ تم کیا کہہ رہی تھی۔۔۔”
مائرہ نے پہلے ہنستے ہنستے شرارت سے ہاتھ اٹھا کر معافی مانگی، پھر فوراً ہی اپنے چہرے پر مصنوعی سنجیدگی طاری کر لی۔
اس کی آنکھوں کی چمک ابھی بھی شوخی ظاہر کر رہی تھی، مگر لہجہ سنجیدہ ہو چکا تھا۔
“پتہ نہیں یار، اس میں کچھ خاص تھا۔ مجھے وہ پہلی ہی نظر میں بہت اچھا لگا۔۔۔”
عبیرہ نے آہستگی سے کہا۔ اس کے لہجے میں الجھن بھی تھی اور اعتراف بھی۔

مائرہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا، پھر لبوں پر مسکراہٹ آئی۔
“ہائے۔۔۔ مطلب کہ لڑکی عشق میں پڑ گئی ہے۔”

مائرہ نے لمبی ہانک بھری۔
تجسس بھری نگاہوں سے عبیرہ کو دیکھتے ہوئے دونوں ہاتھ جوڑ کر اپنی ٹھوڑی کے نیچے رکھ دیے۔
“اب تو صاف صاف بتا دو۔۔۔ ورنہ میرا دل تجسس ہی میں پھٹ جائے گا۔”

“میں جا رہی ہوں۔۔۔ بس اسی چھچھوری حرکتوں کی وجہ سے میں تمہیں بتانا نہیں چاہتی تھی۔”
عبیرہ جلدی سے بیگ کاندھے پر ڈالتی ہوئی بغیر لنچ کیے اٹھ کھڑی ہوئی۔

“ارے یار عبیرہ! میں تو مذاق کر رہی تھی، کیا ہو گیا ہے تمہیں؟”
مائرہ نے گھبرا کہا۔وہ بھی اپنا بیگ اٹھا کر عبیرہ کے پیچھے بھاگی۔ ہاتھ میں سینڈوچ دبا رکھا تھا۔
“میں تمہارا مذاق کیوں اڑاؤں گی؟ اور تم نے ایسا کیا کر دیا ہے جس پر ہنسوں؟”

“مائرہ، مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔”
عبیرہ نے سخت لہجے میں کہا۔

“سوری یار عبیرہ! کیا ہو گیا ہے؟ اب تمہاری قسم، بالکل بھی بیچ میں نہیں ٹوکوں گی۔”
مائرہ نے مشکل سے اس کا ہاتھ پکڑا اور روکتے ہوئے التجا کی۔
“پلیز بتاؤ نا، کیا بات ہے۔۔۔”

عبیرہ نے گہری سانس لی۔
“یار، مجھے وہ ڈی ایس پی یارم خان بہت اچھا لگا ہے۔ فنکشن کے بعد ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا جب وہ میری سوچ میں نہ آیا ہو۔۔۔”مائرہ کی ضد دیکھ کر عابیرا نے پھر سے اسے اپنے دل کی بات ہمت کرتے ہوئے کہہ ڈالی۔۔

مگر مائرہ کی آنکھوں میں شرارت لوٹ آئی۔
“تو پھر کیا کرنا چاہیے؟ اگر تم سیریس ہو تو کسی طریقے سے ان کا نمبر ڈھونڈتے ہیں، بات چیت شروع کی جا سکتی ہے۔”

عبیرہ نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
“نہیں یار، میں ایسا کیسے کر سکتی ہوں؟ کیا سوچیں گے۔۔۔ کہ لڑکی ہو کر کتنی آزاد خیال ہے۔ اور ویسے بھی مجھ سے کبھی نہیں ہوگا، تم جانتی ہو مجھے۔”

وہ دونوں چلتے ہوئے باتیں کر رہی تھیں۔

“مگر یار، اگر اپنا پیار حاصل کرنا ہے تو اتنی ہمت تو کرنی پڑے گی۔”
مائرہ نے سمجھایا۔

“نہیں مائرہ۔۔۔ مجھ سے نہیں ہوگا۔”
عبیرہ نے آہستگی سے کہا۔ارد گرد سٹوڈنٹ گزر رہے تھے۔ تو عابیرا بڑے محتاط انداز میں بات کر رہی تھی تاکہ کوئی سن نہ لے۔

“تو پھر کیا یارم خان کو تو الہام نہیں ہوگا کہ عبیرہ خان ان کے عشق میں مبتلا ہیں۔۔۔”
مائرہ نے شوخی سے کہا۔

اسی لمحے موبائل کی رنگ ٹون بجی۔ مائرہ نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
“چلو، لگتا ہے تمہارے بابا اور ہمارے بھائی جان آ گئے ہیں ہمیں لینے۔ باقی کی بات فون پر کر لیں گے۔”

وہ دونوں کالج گیٹ سے باہر نکلیں تو ہمیشہ کی طرح عبیرہ کا بابا اور مائرہ کا بھائی منتظر تھے۔
ایک دوسرے کو بائے کہہ کر دونوں اپنی اپنی گاڑی میں بیٹھ گئیں۔۔۔
═══════❖═══════

“اسلام علیکم بابا۔
عبیرہ نے گاڑی میں بیٹھتے ہی اپنے بابا کو با ادب انداز سے سلام کہا۔

وعلیکم اسلام ۔
اس کے بابا روز کی طرح پیار بھرے انداز سے سلام کا جواب دیتے ہوئے گاڑی کو پیچھے سے موڑتے ہوئے دوسری سڑک پر ڈالتے گاڑی کو گھر والے راستے پر ڈال دیا ۔
“کیسا گزرا آج کا دن؟؟
بہت اچھا بابا۔”
“ہمم ویری گڈ۔۔

“کیا بات ہے آج میری بیٹی اتنی چپ چپ کیوں ہے۔عبیرا کی خاموشی کو اس کے بابا نے محسوس کرتے ہوئے سٹیرنگ گھماتے سوال کیا۔۔۔

“کچھ نہیں بابا تھوڑا سر میں درد ہے۔عبیرہ نے جھوٹ بولا تھا جبکہ وہ یارم خان کے خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی۔
پہلی بار اس کے دل نے کسی کو اتنی شدت سے چاہا تھا۔
اس کے بابا نے اسے خاموش اور کھوئی کھوئی محسوس کرتے ہوئے ایک دو بار غور سے اس کے چہرے کی جانب دیکھا ۔پھر ان کو لگا شاید سچ میں اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔

“اپنا خیال رکھا کرو گھر پہنچتے ہی دوا کھا کر آرام کرنا ۔آج کے دن کے لیے تھوڑا کم بھی پڑھائی کر لو گی تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
ہر وقت تم اور تمہارا بھائی کتابوں کی دنیا میں کھوئے رہتے ہو، تو سر میں درد ہی ہوگا نا۔

” بابا پلیز مجھے ماحد سے تو مت کمپیئر کریں۔ وہ تو کوئی زیادہ ہی پڑھاکو بچہ ہے۔عبیرہ نے ہنستے ہوئے اپنے پیارے بھائی کی تعریف کی جو اسے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھا۔

“کچھ بچے نالائق ہوتے ہیں تو ماں باپ کے ناک میں دم کیے رکھتے ہیں، اور کچھ بچے لائق ہو کر بھی ماں باپ کو فکر میں ڈال دیتے ہیں۔ تم دونوں بہن بھائی لائق ہو، اتنے لائق کہ آرام کرنے کا وقت تک نہیں رکھتے۔ اور تم لوگوں کی صحت کی فکر سے ہر وقت میں اور تمہاری ماں پریشان رہتے ہیں۔”عبیرا کے بابا کے چہرے پر اپنے دونوں بچوں کے لیے فکر نظر آرہی تھی۔۔

“نہیں بابا ہم اپنی صحت کا خیال رکھیں گے، آرام کریں گے۔میں خود بھی دھیان رکھوں گی اور آپ لاڈلے بیٹھے کو بھی آرام کرنے کے لیے سمجھانے کی پوری کوشش کروں گی۔۔۔
آپ ہمارے لیے پریشان نہ ہوں۔

شاباش!!!
اچھی بات ہے آرام صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔
وہ باتیں کرتے ہوئے گھر پہنچ چکے تھے۔وہ اپنے پیارے بابا کے ساتھ باتیں کرنے میں مصروف تھے ۔۔

مگر عبیرہ پوری طرح اس بات سے بےخبر تھی کہ اس کی سوچ اور اس کی ہر حرکت پر کوئی پہرے بٹھائے جا چکے ہیں۔
مائرہ اور اس کے درمیان ہونے والی ہر بات، ہر لفظ کسی اَن دیکھے سننے والے کے کانوں تک پہنچ رہا تھا۔۔۔ اور ان باتوں نے سننے والے کے دل میں آگ بھڑکا دی تھی۔
═══════❖═══════
{حال}
شہر کی مصروف سڑک پر گاڑیاں بھاگی چلی جا رہی تھیں۔
یارم خان اپنی کار میں کسی کے خیالوں میں کھویا ہوا لبوں پر مسکراہٹ سجائے ڈرائیونگ کرتا منزل کی طرف بڑھ رہا تھا کہ اچانک ایک کار نے سامنے سے آ کر اس کی گاڑی کو زور دار ٹکر مار دی۔

بریک کی تیز چیخ، ٹائروں کے رگڑنے کی آواز اور قریب کھڑی گاڑیوں کے ہارن… لمحے بھر کو پورا منظر تھم سا گیا۔
یارم نے گاڑی کو بڑی مہارت سے سنبھالا اور جھٹکے کے ساتھ بریک لگا کر گاڑی روکی۔
اسی دوران سامنے والی کار کا دروازہ جھٹکے سے کھلا۔
ایک لڑکی تیزی سے باہر نکلی، قدموں میں غصے کی چاپ اور آنکھوں میں شعلے۔
وہ سیدھی یارم کی گاڑی کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی اور شیشے پر زور سے دستک دینے لگی۔

“او مسٹر! تمہیں گاڑی چلانے کی تمیز نہیں؟ گاڑی چلانی آتی نہیں اور نکل پڑے ہو سڑک پر!”

بلو جینز پر لائٹ سے کلر بھی لانگ شرٹ، سر پر سلیقے سے لیا ہوا حجاب، اور گوری رنگت پر ہلکی سی سرخی۔ وہ منظر ہی کچھ اور تھا۔
چہرے پر تیکھا غصہ اور لہجے میں ایسا ایٹیٹیوڈ جیسے قصور یارم کا ہی ہو۔

یارم خان نے رُعب دار نظر اس پر ڈالی۔ وہ جانتا تھا رش میں قصور اس لڑکی کا ہے، مگر اپنی غلطی ماننے کے بجائے الٹا وہی چنگاری بن کر اس کے سامنے کھڑی تھی۔

“لگتا ہے لڑکی، تمہارا دماغ خراب ہے۔ غلطی تمہاری ہے، بریک تم سے نہیں لگی، اور زبان درازی مجھ سے کر رہی ہو؟”
گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہی وہ بولا۔
مگر لڑکی بھی کسی سے کم نہ تھی۔ آنکھوں میں جمی ضد کے ساتھ دیکھا۔چٹکی بجاتے ہوئے اسے نیچے اترنے کو کہا۔

“نیچے آئیے، اور میری بات سنیے! گاڑی میں بیٹھ کر سڑک کو اپنے باپ کی جاگیر مت سمجھیے۔”

یارم کا لہجہ مزید سخت ہوا۔
“لڑکی ہو… تو لڑکی بن کر رہو!”

گاڑی کے شیشے سے یارم خان نے سر ذرا سا باہر نکالا۔
غصے سے سرخ آنکھوں اور جمی ہوئی بھنوؤں کے ساتھ اس نے لڑکی کو دیکھا۔ لمحہ بھر کو ایسا لگا جیسے وہ آنکھیں سیدھا دل چیر کر گزر جائیں۔

اس کا ضبط اپنی انتہا پر تھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ فوراً اس ضدی لڑکی کا دماغ اور عقل دونوں ٹھکانے لگا دے، مگر پھر بھی آواز کو قابو میں رکھتے ہوئے بولا۔

“اگر میں تمیز سے پیش آ رہا ہوں تو یہ تم پر بھی لاگو ہوتا ہے کہ تمیز سے بات کرو۔

تم جانتی بھی ہو، بات کس سے کر رہی ہو؟”
یارم نے گاڑی کے شیشے سے منہ باہر نکالے ہوئے، غصے سے سرخ آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا۔ یارم کا بس چلتا تو فوراً اس کا دماغ اور عقل ٹھکانے لگا دیتا۔
یارم خان نے سرد نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا۔
یارم کی سرد اور رُعب دار نگاہوں نے لڑکی کو جیسے لمحہ بھر کو جکڑ لیا ہو۔

یارم خوبصورت تو بچپن سے ہی تھا، مگر جوانی میں پہنچ کر تو یارم خان کی خوبصورتی نکھر کر سامنے آئی تھی۔ اسے دیکھنے والا ایک بار پلٹ کر غور سے دیکھے بنا گزر ہی نہیں سکتا تھا۔ اوپر سے اس کی پولیس والی جاب اور غصیلی پرسنیلٹی اس کی وجاہت کو اور بھی نمایاں کرتی تھی۔

“تم تو نظر آ رہے ہو کسی امیر گھر کی بگڑی ہوئی اولاد… مگر شاید تمہیں پتا نہیں میں کون ہوں۔۔۔”
یارم خان کی بات کے جواب میں وہ یارم خان کو تمیز کا درس دیتے ہوئے آنکھیں دکھا رہی تھی۔

“تم کون ہو مجھے نہیں پتا، اور مجھے جاننے میں کوئی انٹرسٹ بھی نہیں ہے۔ تمہارے بدتمیزی والے لہجے کو دیکھ کر میں تمہارے گھرانے کا اندازہ لگا سکتا ہوں۔”
یارم خان کو اس لڑکی کا انداز بالکل پسند نہیں آیا تھا۔تیز طرار زبان دراز لڑکیاں یارم کو ہمیشہ سے ناپسند تھی اور ماشاءاللہ اس لڑکی میں وہ تمام خوبیاں تھیں جسے وہ ناپسند کرتا تھا۔

اس سے زیادہ اس لڑکی کے منہ لگ کر اس کے معیار پر نہیں اتر سکتا تھا۔یارم کو فلحال یہاں سے جانا ہی مناسب لگا کیونکہ وہ لڑکی ہار ماننے کے موڈ میں بالکل نہیں تھی۔

“او ہیلو! مسٹر کہاں جا رہے ہو، تم خود کو سمجھتے کیا ہو؟ غلطی تمہاری ہے، مجھ سے سوری کہو۔” وہ آنکھیں گھماتی ہوئی یارم کی سوری کا ویٹ کر رہی تھی۔

“تم یہیں پر کھڑی رہ کر میرا انتظار کرو، کبھی واپس یہاں کا چکر لگا تو سوچوں گا اس بارے میں۔”
یارم خان نے کہتے ہوئے اپنی آنکھوں پر سن گلاسز لگائے اور گاڑی کا شیشہ اوپر کر لیا۔ وہ گاڑی اسٹارٹ کرتا ہوا وہاں سے نکل گیا۔اسے یوں جاتا ہوا دیکھ کر ایزل کا منہ کھلا رہ گیا اسے شاید امید نہیں تھی کہ اسے سوری کیے بنا وہ جا سکتا ہے۔

“بہت ہی کوئی بدتمیز قسم کا انسان تھا۔۔۔”
ایزل کو بہت غصہ آیا تھا یارم خان کے اس انداز پر۔

وہ اپنے گھر کی لاڈلی بیٹی تھی۔ جب کبھی غلطی ایزل کی ہوتی تب بھی گھر والے خود سوری کر کے اسے منا لیا کرتے تھے۔

ایسے میں ایزل سرپھری اور نکچڑی سی ہو گئی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ غلطی چاہے کسی کی بھی ہو، مگر سوری ہمیشہ سامنے والے کو کرنی چاہیے۔

مگر آج یارم خان اس کا یہ بھرم توڑ کر جا چکا تھا۔

اور ایزل خان سے یہ بات ہضم نہیں ہو رہی تھی کہ کوئی اسے اگنور کر کے کیسے جا سکتا ہے۔

پیچھے گاڑیوں کی لائن لگی ہوئی تھی۔ غصے سے گاڑیوں کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ گئی۔

یارم خان کے بروقت بریک لگانے پر گاڑی کو کوئی زیادہ خاص نقصان نہیں ہوا تھا۔
ایزل کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کسی طرح اس شخص کو واپس لائے اور اس سے سوری کہلوا سکے۔

اس کے غرور کو ٹھیس لگی تھی۔
“بدتمیز انسان، جاہل کہیں کا… اتنا نہیں کہ چلو اگر لڑکی کی غلطی ہے بھی تو سوری کہنے سے کون سا چھوٹا ہو جانا تھا۔۔۔”
وہ گاڑی چلاتے ہوئے مسلسل منہ میں اکیلی بیٹھی بڑبڑائی جا رہی تھی۔

“ویسے جو بھی ہے، بندہ تھا تو ڈیشنگ، اور اس کی آئز کتنی خوبصورت تھی یار۔۔۔”

وہ یارم کا سراپا ذہن میں سوچتے ہوئے مسکرا اٹھی تھی۔

نچلے ہونٹ کے کنارے کو چباتے ہوئے وہ اس کا چہرہ تصور میں لا کر سوچ رہی تھی کہ سچ میں وہ کتنا خوبصورت تھا۔

“کیا ایزل اتنے ہینڈسم لڑکے سے جھگڑا بھلا کون کرتا ہے !” وہ خود کو ڈانٹ رہی تھی۔

“چلو، کوئی بات نہیں… نیکسٹ ٹائم ملے گا تو سوری بول دوں گی۔ اور دوستی کا ہاتھ بھی پہلے بڑھاؤں گی۔”
اپنے دماغ کو سوچ کر تسلی دیتی ہوئی گاڑی کی سپیڈ ایک بار پھر سے بڑھا چکی تھی ۔
“ویسے ایک بات تو ہے، بندہ جتنا خوبصورت ہے اتنا ہی بددماغ بھی۔ چلو کوئی بات نہیں، خوبصورت چہروں پر ایٹیٹیوڈ اور غصہ اچھا لگتا ہے۔”
وہ نادانی میں خود سے ہی باتیں کر رہی تھی۔

ایزل ایسی ہی تھی۔خودپسند، خود سے باتیں کرنے والی۔ پل میں ماشا، پل میں تولا بن جانے والی۔ اپنی ہی دنیا میں مست ہو کر زندگی جینے والی۔۔۔
═══════❖═══════

{ماضی}
عروب آئینے کے سامنے کھڑی اپنے بال سنوارتے ہوئے گہری سوچوں میں گھوم تھی کہ کیسے اپنی ماں کو اپنے دل کا حال بتائے۔
داؤد خان تو ہمیشہ سے اس کو زہر لگتا تھا مگر اس حقیقت سے وہ بھاگ نہیں سکتی تھی، کہ گھر والے عروب اور داؤد کا رشتہ طے کرنا چاہتے تھے۔یہ بات داؤد خان کے دل کو بہت تسکین دیتی اور دوسری جانب،عروب تو داؤد خان کو ایک نظر نہیں برداشت کر سکتی تھی ۔
اس کے ساتھ ساری زندگی کیسے گزارے گی۔وہ اپنی مورے سے پتہ نہیں کتنی بار اپنے دل کی بات کر چکی تھی ۔

جبکہ مورے ہمیشہ اپنی بے بسی بتاتی کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتی ۔۔
کیونکہ اس گھر میں صرف مردوں کے فیصلے چلتے ہیں ۔عروب خود بھی اس بات سے واقف تھی کہ،گھر میں صرف اس کے باپ اور چاچا کا حکم چلتا ہے۔

عورتیں تو صرف گھر چلانے اور بچوں کو سنبھالنے کے لیے مشین اور روبوٹ سے زیادہ کچھ نہیں سمجھی جاتی۔۔

آج بھی اس گھر کے مکین وہی برسوں پرانی سوچ کے مالک تھے۔

جن کے لیے عورت پاؤں کی جوتی ہوا کرتی تھی۔
عورت کھانا پکائے ، بچے پیدا کرے اور سر جھکا کر شوہر کی خواہشوں کو پورا کرے۔ اس سے زیادہ اس گھر میں عورت کا کوئی مقام نہیں سمجھا جاتا تھا۔

مگر یہ زنگ آلود سوچ اس گھر کے سب مردوں کی نہیں تھی ۔
ایک مرد اس گھر میں اعلیٰ سوچ اور اعلیٰ ظرف کا مالک بھی تھا۔جو اپنی شریک حیات کو پاؤں کی جوتی نہیں سر کا تاج سمجھتا ۔اور وہ کوئی اور نہیں داؤد کا سگا بھائی باسق خان تھا۔

وہ اپنی سوچوں میں اس قدر کھوئی ہوئی تھی کہ اسے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ کوئی اسے بے تکلفی سے دور کھڑا دیکھ رہا تھا۔کافی دیر دیکھنے کے بعد،داؤ د چلتا ہوا اس کے بے حد قریب آچکا تھا۔۔

“ہائے رے خوبصورت خانم۔۔۔ شیشے میں خود کو کیوں نہار رہی ہو؟ مجھ سے پوچھو کہ تم کتنی حسین ہو۔”
داؤد کی آواز پر عروب نے پلٹ کر دیکھا۔

“تم ۔۔۔تم میرے کمرے میں کیا کر رہے ہو؟”
عروب نے جلدی سے سر پر دوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے قہر آلود نظروں سے گھورا۔

“ہائے۔۔۔ تمہارے ماتھے پر یہ پڑتے ہوئے بل، قسم سے، داؤد خان کی جان لے لیتے ہیں۔۔۔”
وہ قدم اس کی جانب بڑھاتا ہوا اس کے مقابل آن کھڑا ہوا۔اپنے سینے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ نظروں میں چھپا تاثر نمایاں کیے اسے دیکھ رہا تھا۔

“خوبصورت تو تم ویسے ہی ہو، مگر جب اپنے چہرے پر غصہ سجا لیتی ہو نا۔۔۔ تو دل کی دھڑکن اور بھی تیز ہو جاتی ہے۔۔۔”

“داؤد! یہ نامناسب باتیں میرے ساتھ مت کیا کرو۔۔۔ مجھے یہ سب بالکل اچھا نہیں لگتا۔۔۔”
ناگواری سے بولتے ہوئے وہ دو قدم پیچھے ہو کر کھڑی ہو گئی۔داؤد پر وہ ذرا سا بھی بھروسہ نہیں کر سکتی تھی وہ کبھی بھی کسی بھی حد کو کراس کر سکتا تھا۔۔

“اب تمہیں میرا انداز پسند آئے یا نا آئے، اس سے کچھ بھی بدلنے والا تو ہے نہیں۔ ایک دن تمہیں میری ہو کر، میری ہر ایک ضروری اور غیر ضروری بات ماننی ہی ہوگی، یہ مت بھولو میں ہی تمہارا ہونے والا نصیب ہوں ۔۔۔”
اس کی آنکھوں میں وہی پرانا غرور جھلک رہا تھا، بات کرتے ہوئے وہ مزید قدم اس کے قریب بڑھا رہا تھا۔
عروب تیزی سے پیچھے ہوئی، دوپٹہ سنبھالتے ہوئے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر شیرنی کی طرح دیکھ رہی تھی۔

“داؤد خان! اپنی حد میں رہو، ورنہ ابھی مورے کو بلا کر ایسا سبق سکھاؤں گی کہ یاد رکھو گے۔۔۔”
وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہ ڈر انداز سے بولی۔

آخر عروب خان کے اندر بھی پٹھانی خون دوڑ رہا تھا۔ ڈر تو اس کی فطرت میں تھا ہی نہیں۔
“مورے کا ڈر مجھے نہ دیا کرو میں نہیں ڈرتا مورے سے نہ ہی کسی اور سے۔داؤد کی نظریں ایکسرے کی طرح اس پر نصب تھی۔۔

“پیچھے ہٹو مجھے ایسے گندی نظروں سے مت دیکھا کرو ۔
داؤد خان عروب کے حد سے زیادہ قریب ہوتے ہوئے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال چکا تھا۔
عروب خان اس کے سینے پر ہاتھ رکھ دھکا مارتے ہوئے اسے پیچھے کرتے ہوئے اسے غصیلی نگاہوں سے دیکھتی ہوئی تیزی سے روم سے باہر جارہی رہی تھی۔کیونکہ اس سے اسی بات کا ڈر تھا کہ وہ گھٹیا انسان کچھ بھی کر سکتا ہے۔

عروب خان تمہاری اس اکڑ کو ایک دن میں ایسا چکنا چور کروں گا۔

وہ دن دور نہیں تم بھی گھر کی باقی عورتوں کی طرح میرے آگے پیچھے گھومتی پھرتی نظر آؤ گی ۔بہت تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے۔اس کی کلائی کو زبردستی تھامے ہوئے سرد نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
داؤد فطرتاً تو بالکل اچھا نہیں تھا مگر یہ بات سچ تھی کہ اسے عروب کی خوبصورتی ہمیشہ اچھی لگتی تھی مگر وہ جب بھی عروب کی جانب قدم بڑھاتا عروب اسی طرح اس کو نظر انداز کرتی۔اسے عروب کا یہ انداز بہت برا لگتا تھا۔

” جتنے خواب سجانے ہیں سجا لو ،تمہارے خواب مٹی میں مل جائیں گے۔
تمہاری گرفت میں آنے سے پہلے میں مرنا قبول کروں گی۔

ہاتھ کو جھٹکتے ہوئے وہ جاتے جاتے پلٹ کر بولی۔

“تمہارا غرور مٹی میں ملانا میری زندگی کا مقصد ہے۔ مر بھی جاؤ گی تب بھی تجھے نکاح میں ضرور لوں گا،چاہے تمہاری لاش سے نکاح کیوں نہ کرنا پڑے، تمہاری قبر کی تختی پر شوہر کے نام کی جگہ میرا نام لکھا جائے، اور تم مرنے کے بعد بھی تڑپتی رہو گی۔”
وہ بلند آواز میں غرایا۔مگر عروب کمرے سے دور جا چکی تھی۔

وہ غصے سے بنا سامنے دیکھے روم سے نکل کر تیزی سے بڑے بڑے قدم اٹھاتی ہوئی جا رہی تھی ۔

وہ راہداری سے اندھا دھند قدم اٹھاتی ہوئی باسق خان سے ٹکرائی۔اور ہڑبڑا کر پیچھے ہو کر کھڑی ہو گئی۔نظریں اٹھا کر دیکھا تو نظر فوراً سے پھر جھک گئی۔

سس۔سوری لالہ سوری میں نے دیکھا نہیں ۔
اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتی ہوئی نظروں کو جھکائے اپنے ہاتھوں کو مروڑتی ہوئی داؤد خان کا غصہ اپنے ہاتھو پر نکال رہی تھی۔

“بچہ خیریت تو ہے کچھ پریشان لگ رہی ہو۔
باسق خان نے عروب کے پریشان چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے شفقت سے پوچھا۔

“نہیں لالہ ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔”
وہ نظروں کو جھکائے ہوئے جھوٹ بول رہی تھی۔

“پکا ۔۔۔کوئی بات نہیں ہے۔۔۔مگر ہم کو کیوں لگتا ہے کہ ہمارا بہن پریشان بھی ہے اور غصے میں بھی۔

باسق نے عروب کے سر پر پیار سے ہاتھ رکھتے ہوئے اپنی بہن کی پریشانی سمجھنے کی کوشش کی۔

کیونکہ عروب کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ اس وقت کافی غصے میں ہے۔

جی لالہ میں بالکل سچ کہہ رہی ہوں میں بالکل بھی غصے میں نہیں ہوں وہ با مشکل مسکراتی ہوئی بولی۔

“چلو ٹھیک ہے پھر جاؤ ، تمہاری بھابھی کمرہ میں تمہارا اور مون کا انتظار کر رہی ہے۔میں تم لوگوں کے لیے کچھ لے کر آیا تھا۔۔
وہ دونوں ہاتھ اپنی کمر پر باندھے ہوئے کھڑا تھا۔وہ سر کو ہلاتی ہوئی وہاں سے جا چکی تھی۔
مون باسق خان کا بیٹا تھا جس کی عمر پانچ سال تھی۔عروب رشتے میں اس کی پھوپھو لگتی تھی ۔۔۔
باسق خان گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔عروب کے چہرے پر پریشانی بھی دیکھ چکا تھا اور پریشان کرنے والے کو بھی دیکھ چکا تھا ۔جب تیزی سے بھاگتے ہوئے عروب اس سے ٹکرائی تو باسق کی نظروں نے،داؤد خان کو عروب کے روم سے نکلتا ہوا دیکھ لیا تھا۔

باسق خان بہت اچھی طرح سے جانتا تھا کہ عروب کو داؤد خان پسند نہیں ہے۔

مگر وہ اس معاملے میں کچھ کر نہیں سکتا تھا کیوں کہ اس رشتے میں اس کے باپ اور تایا دونوں کی رضا مندی شامل تھی اور گھر میں ان دونوں کے ہی فیصلے چلتے تھے۔
باسق خان داؤد خان کا بڑا بھائی۔اور عروب کے چاچا کا بیٹا تھا ۔

باسق خان کہنے کو تو داؤد خان کا بھائی تھا مگر عادت میں داؤد خان سے بالکل مختلف تھا۔

دونوں میں زمین آسمان کا فرق تھا ۔
جہاں داؤد خان جاہل بد دماغ بے رحم وحشی اور قبائلی سوچ کا مالک تھا ۔

وہاں باسق خان سلجھا ہوا پڑھا لکھا۔وسیع سوچ رکھنے والا رحم دل انسان تھا۔

وہ عروب کو اپنی سگی بہنوں کی طرح پیار کرتا۔۔وہ عمر میں عروب سے ، سال بڑا تھا۔
شاداب خان اور وسیم خان دونوں سگے بھائی تھے۔
شاداب خان عروب کے والد کا نام ہے۔

وسیم خان۔ داؤد اور باسق کے والد کا نام ہے۔

شاداب خان کے ہاں شادی کے بہت عرصہ بعد تک اولاد نہیں ہوئی تھی۔

یہاں تک کہ چھوٹے بھائی وسیم خان کی بھی شادی ہو گئی۔۔

وسیم خان کے گھر اللہ تعالی نے ایک پیارا سا بیٹا عطا کیا۔
جس کا نام اس کے دادا نے باسق خان رکھا۔۔

اس کے دس سال بعد شاداب خان کے گھر اللہ تعالی نے خوشخبری دی اور عروب پیدا ہونے والی ہو گئی۔

عروب اور داؤد میں صرف دو سال کا فرق تھا۔
وسیم خان کی کوئی بیٹی نہیں تھی۔

اس لیے باسق خان ہمیشہ عروب کو اپنی سگی بہن کی طرح ہی پیار کرتا تھا ۔

مگر داؤد خان جو کہ عروب سے صرف دو سال بڑا تھا وہ ہمیشہ عروب کو ایک الگ ہی نظر سے دیکھتا تھا ۔

عروب خان کے باپ اور چچا ان دونوں کا رشتہ کروانے کے لیے بہت خوش تھے۔

مگر نرمین خان اپنی بیٹی کی خوشی کو دیکھتے ہوئے کبھی بھی اس رشتے کے حق میں نہیں تھی۔

نرمین خان عروب کی ماں ہے
نرمین خان کئی بار دبے چھپے لفظوں میں اپنے شوہر کو بتا چکی تھی کہ عروب کو داؤد خان پسند نہیں ہے۔

مگر ہر بار شاداب خان اسے یہ کہہ کر چپ کروا دیتا تھا کہ ہمارے گھر کے فیصلے عورتیں نہیں کرتیں۔اور ہمارے خاندان میں پسند اور ناپسند جیسے واحیات رواج نہیں چلیں گے۔
وہ ہمیشہ یہ کہہ کر چپ کروا دیتے کہ عروب میری بھی اکلوتی بیٹی ہے میں اس کے لیے کچھ غلط تو نہیں سوچ سکتا ۔

شاداب خان اپنی بیوی نرمین سے بہت پیار کرتا تھا مگر اس فیصلے میں وہ ہمیشہ نرمین کا ساتھ نہ دیتے ہوئے تلخ کلامی کے بعد خاموش ہو جایا کرتا تھا ۔

شاداب خان کی سوچ اپنے چھوٹے بھائی کے جیسی تو نہیں تھی مگر بہت وسیع اور اعلی بھی نہیں تھی۔

وہ ہر حالت میں اپنی بیٹی کی شادی داؤد خان سے کر کے خود کو مضبوط بنانا چاہتا تھا ۔

شاداب خان کا کوئی بیٹا نہیں تھا ۔۔۔وہ داؤد کی شادی عروب سے کر کے اسے ہمیشہ کے لیے اپنا بیٹا بنا کر ہر جائز ناجائز کام اس سے ہی کروانا چاہتا تھا ۔

شاداب خان اور وسیم کی نظروں میں بہادر ، غیرت مند اور نہ ڈر بیٹا داؤد ہی تھا ۔
کیونکہ باسق خان تو ہر لحاظ سے ان کی نظر میں کمزور مرد تھا ۔

کیونکہ باسق خان کوئی بھی غیر قانونی کام کرنا قتل و غارت کرنا کسی پر ظلم کرنا انتہائی ناپسند تھا۔۔

اس لیے ان دونوں کو باسق خان پر کوئی خاص امید نہیں تھی۔

اور اس چکر میں دونوں بھائی عروب کی زندگی کو قربان کرنا چاہتے تھے۔

باسق خان جو عروب کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتا تھا مگر چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا ۔
جب عروب کا اپنا باپ ہی اس کا ساتھ نہ دے رہا تھا تو باسق ایسے میں کیا کرتا۔

═══════❖═══════

مائرہ میں کب سے مال پہنچ گئی ہوں یار۔
جلدی آجاؤ۔

عبیرہ بس پانچ منٹ انتظار کرو یار میں ٹریفک میں پھنسی ہوئی ہوں،گھر سے تو ٹائم سے نکلی تھی۔

چلو ٹھیک ہے تب تک مجھے اماں کو مدر ڈے پر گفٹ دینا ہے۔
میں ماما کا گفٹ سلیکٹ کر لیتی ہوں اس کے بعد پھر ہم اپنی شاپنگ کر لیں گے۔

ہاں یار یہ ٹھیک رہے گا،تم بزی بھی ہو جاؤ گی اور تب تک میں پہنچ جاؤں گی۔
پھر ہم مل شاپنگ بھی کریں گے اور ساتھ میں زبردست سا لنچ بھی کریں گے۔

فون بند ہو چکا تھا عبیرہ اپنی ماں کا گفٹ لینے کے لیے گفٹ شاپ کی جانب بڑھ گئی۔
عبیرہ کافی سارے گفٹ دیکھ چکی تھی مگر ابھی تک اسے کوئی بھی پسند نہیں آرہا تھا۔

کیا لوں ماما کے لیے جو یونیک بھی ہو اور ماما کو پسند بھی آجائے۔
وہ اپنے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے اونچی آواز میں سوچ رہی تھی،نظریں سامنے پڑے ہوئے گفٹس پر مرکوز تھیں۔
اس بات سے بے خبر کہ کوئی اور بھی اپنی ماں کے لیے مدر ڈے کا گفٹ لینے اسی شاپ میں موجود تھا۔۔۔
اس کی اونچی بڑبڑاہٹ کو سنتے ہوئے مقابل اس کی جانب متوجہ ہوا تھا۔
اس کی نظریں جیسے ہی عبیرہ پر پڑیں،اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی،وہ عبیرہ سے ملنے کے لیے جگاڑ لگا رہا تھا اور یہاں تو قسمت نے اس کا ساتھ دیتے ہوئے خود ہی عبیرہ کو سامنے لا کھڑا کیا۔

اسلام علیکم مس عبیرہ!!
کیسی ہیں آپ؟؟

جج۔۔جی وعلیکم اسلام!!
میں ٹھیک ہوں۔

ایک دم سے اپنے سامنے یارم خان کو دیکھ کر عبیرہ کے اوپر والی سانس اوپر اور نیچے والی نیچے رہ گئی تھی۔

جینز کی پینٹ کے اوپر وائٹ کلر کی ڈریس شرٹ جس کے بازو کہنیوں تک فولڈ کیے ہوئے تھے۔
پینٹ شرٹ پہنے ہوئے وہ اپنی ڈیشنگ پرسنیلٹی کے ساتھ اس کے سامنے کھڑا تھا۔
اس کی گرے آنکھوں کی چمک اس کے پورے وجود میں سنسنی پھیلائے ہوئے تھی۔
اور مقابل اس کی حالت دیکھ کر محظوظ ہو رہا تھا،وہ ایسے نظریں جھکائے کھڑی تھی جیسے مقابل نے اس کے دل میں چھپی ہوئی محبت کو دیکھ لیا ہو۔

مس عبیرہ مجھے پہچانا؟؟
مقابل نے مسکراتے لبوں سے سنجیدگی کے ساتھ پوچھا۔

جی پہچان لیا۔
آپ ڈی ایس پی یارم خان ہیں۔
جو ہمارے اینول فنکشن پہ آئے تھے اور پرائز ڈسٹریبیوٹ کیے تھے۔

تھینک یو سو مچ ہمیں اپنی یاد میں میں یاد رکھنے کے لیے۔
جی۔
یارم کے لب مسکرائے تھے یہ دیکھ کر کہ اس کے اتنے محبت سے کہے گئے الفاظوں کا صرف اس نے جی کہہ کر ہی جواب دیا۔
مگر اس کو عبیرہ کی یہ شرم و حیا یہ ادا بہت اچھی لگ رہی تھی۔
عبیرہ کا چہرہ حجاب ہے میں لپٹا ہوا چاند لگ رہا تھا۔

کھلے سے بلیک کلر کے گاؤن میں کندھے پر سلیقے سے ہینڈ بیگ لٹکائے ہوئے وہ نظریں جھکائے کھڑی تھی۔
اس کی نظریں جھکانا یارم خان کو کسی کی یاد دلا رہا تھا۔
پتہ نہیں کیوں اس لڑکی کو دیکھ کر بار بار اسے گزرے ہوئے کل میں کسی خاص چہرے کی یاد آرہی تھی۔

دیکھیے مس عبیرہ مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے۔
دونوں ہاتھ پاکٹس میں ڈالتے ہوئے یارم خان نے سنجیدہ انداز سے گفتگو شروع کی تھی۔۔۔
میں باتوں کو گھمانے کا عادی نہیں ہوں۔
میرے خیال سے جو بات انسان کے دل میں ہو اسے صاف انداز میں سامنے والے تک پہنچا دینا ہی بہتر ہوتا ہے۔

لفظوں کو اُلجھانا نہ تو مجھے پسند ہے نہ لفظوں کو اُلجھانے والے لوگ۔
اس کے سنجیدہ سے لہجے کو سن کر عبیرہ نے بامشکل مگر نظر اُٹھا کر اس کی جانب دیکھا۔۔۔
اس کی گفتگو کتنی پُراسرار تھی،عبیرہ نا چاہتے ہوئے بھی اس کی سنجیدہ گفتگو کے لفظوں میں اُلجھ کر کھونے لگی تھی۔
مقابل جتنا خوبصورت تھا اس سے کہیں زیادہ اس کا اندازِ گفتگو متاثر کرنے کا ہُنر رکھتا تھا۔
مقابل ایسی پرسنلٹی اور خوبصورتی کا مالک تھا جسے کوئی بھی لڑکی اپنے شوہر کے روپ میں دیکھنا چاہے۔

“دیکھیے….مس عبیرہ آپ مجھے پہلی نظر میں ہی بہت اچھی لگی ہیں!
میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں اگر آپ بھی مجھے اس قابل سمجھتی ہیں تو۔
پلیز صرف چند آسان الفاظ میں اگر آپ ہاں کا اظہار کر دیں تو میرے لیے آسانی ہوگی کہ میں اپنے گھر والوں کو باعزت طریقے سے آپ کے گھر رشتہ لینے بھیج سکوں۔

عبیرہ پھٹی پھٹی نظروں سے یارم خان کی جانب دیکھے جا رہی تھی۔
اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ قسمت کبھی کبھی اس طرح سے بھی مہربان ہو جاتی ہے،جس کو اس نے خیالوں میں سوچا دل سے چاہا،اللہ تعالی نے اس کے دل میں بھی اس کے لیے خاص جذبات جگا دیے تھے اور ان کا یوں اچانک ملنا یہ سب قدرت کا کرشمہ تھا۔۔۔

ہیلو مس عبیرہ آپ میری بات سن رہی ہیں؟؟
عبیرہ جو خیالوں کی دنیا میں کھو گئی تھی،اس کے سامنے ہاتھ لہراتے ہوئے مخاطب کیا۔

جج۔۔ج۔۔جی سن رہی ہوں۔
وہ اپنی حرکت پر شرمندہ سی ہو گئی تھی،کیا سوچ رہا ہوگا میرے بارے میں کہ میں کتنی بے وقوف ہوں،وہ دماغ میں سوچ کر مزید شرمندہ ہوئی۔

تھینک گاڈ مجھے تو لگا آپ نے میری بات پر دھیان ہی نہیں دیا۔
یارم خان کے لبوں کی دلکش مسکراہٹ عبیرہ کی دھڑکنوں کو تیز کرنے کی وجہ بن رہی تھی۔

پلیز آپ میرے ساتھ کافی پینا پسند کریں گی،وہاں پر بیٹھ کر ہم آرام سے بات بھی کر سکیں گے،یہاں مناسب نہیں۔

نن نہیں میری دوست آنے والی ہے۔
یہ سب احساسات عبیرہ کے لیے بہت نئے تھے وہ کافی گھبرائی ہوئی تھی،اپنے ہی جذبات کو لے کر وہ خوش تھی مگر اس سے کہیں زیادہ گھبراہٹ کا شکار تھی۔

جی ٹھیک ہے مگر میں آپ کی ہاں کا انتظار کروں گا۔
میں اپنے گھر والوں سے بات کر چکا ہوں اور آپ کی رضامندی جاننے کے بعد ہی رشتہ بھیجوں گا۔
پلیز اگر مناسب لگے تو اپنا نمبر دے دیجئے اگر نہیں مناسب تو میرا نمبر لے لیجیے۔
تاکہ ہم دونوں ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں۔
پلیز مجھے آوارہ عاشق مت سمجھیے گا۔
میں ایک باعزت گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں اور میری تربیت ایسی نہیں کی گئی کہ میں لوگوں کی عزتوں کے ساتھ ٹائم پاس کرتا پھروں۔
میں آپ کے لیے سینسئیر ہوں،شادی کرنا چاہتا ہوں۔

عبیرہ کی خاموشی اور گھبراہٹ کو دیکھ کر یارم خان نے خود سے ہی بات کو بڑھا کر کلیئر کرنے کی کوشش کی۔
عبیرہ کہنا چاہتی تھی کہ اسے وہ پسند ہے مگر عبیرہ میں اتنی ہمت کہاں تھی کہ وہ کچھ کہہ سکتی،وہ کافی شرمیلی سی طبیعت کی مالک تھی۔
اس کی خاموشی کو دیکھ کر یارم خان اپنا کارڈ اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے مسکرا دیا۔

آپ کی ہاں کا انتظار رہے گا۔
خدا حافظ بولتے وہ جا چکا تھا۔

وہ آندھی کی طرح آیا اور طوفان کی طرح غائب بھی ہو چکا تھا مگر عبیرہ خان اس کے خیالوں کی دنیا میں کھوئی ہوئی تھی۔

بے اختیار اس کے کارڈ کو دیکھ کر وہ مسکرائی تھی،شرم و حیا سے اس کے گال بلش کرنے لگے تھے۔

وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ اس کے یوں بلش کرنے سے کسی کے دل میں آگ دہک رہی ہے،
اور بہت جلد وہ اسی آگ میں اسے جلانے کے ارادے کے ساتھ اس کی جانب بڑھ چکا ہے۔

معصوم سی عبیرا، جس کی خواہشات بھی اتنی ہی معصوم اور پاکیزہ تھیں،
اس کی زندگی میں بہت جلد ایک منفرد انسان شامل ہونے والا تھا، جس سے عبیرا پوری طرح بے خبر تھی۔

═══════❖═══════
“کیا بات ہے لالا، آپ نے اکیلے اکیلے ہی میرے لیے بھابھی ڈھونڈ لی، نہ مجھے بتایا اور نہ ہی مجھے اس کی تصویر دکھائی۔”
یارم نے ابھی گھر میں قدم رکھا ہی تھا کہ انشاء طوفان کی طرح اس کے سامنے آن کھڑی ہوئی تھی۔

“لالہ کی جان، رشتہ ابھی کنفرم نہیں ہوا، اور تمہاری رائے کے بغیر کبھی ہو بھی نہیں سکتا، اور رہی بات کہ تصویر نہیں دکھائی، تو تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میرے پاس اس لڑکی کی تصویر نہیں ہے۔”
یارم نے نرمی سے جواب دیا۔

“لالا، ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کے پاس اس لڑکی کی تصویر نہ ہو، جس کو آپ پسند کرتے ہیں؟”
انشاء کمر پر دونوں ہاتھ رکھے ہوئے بے یقینی سے یارم کی جانب دیکھ رہی تھی۔

“تو کیا لگتا ہے کہ تمہارا لالا تم سے جھوٹ بول رہا ہے؟”
یارم نے پیار سے اپنی بہن کی ناک کو پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔

“نہیں، مجھے پتہ ہے کہ میرا لالہ جھوٹ نہیں بولتا، مگر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ اپنی ہونے والی بیوی کی تصویر ہمیں دکھانا ہی نہ چاہتے ہوں۔ وہ بہت خوبصورت ہوں اور آپ کو ڈر ہے کہ کہیں ان کو ہماری نظر نہ لگ جائے۔”
انشاء نے نرم لہجے میں سوچا۔

“استغفر اللہ۔ انشاء، اس سے اچھا تو تم سوچ نہیں سکتی، کیونکہ تمہارا چھوٹا سا دماغ اس سے زیادہ سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔”
یارم مسکرا رہا تھا اپنی بہن کی معصوم سوچ پر۔

“دیکھا بھائی، آپ کو ابھی سے میں بے وقوف اور نادان لگنے لگی ہوں، جب بھابھی آجائیں گی تو پھر تو آپ مجھے اور بھی بے وقوف سمجھیں گے۔ اسی لیے مجھے بھابیاں اچھی نہیں لگتیں، بھائی بدل جاتے ہیں۔”
انشاء جو اپنے بھائی سے بے حد پیار کرتی تھی، آخر اس کے دل کا ڈر اس کی زبان پر آگیا تھا۔

“انشاء، میری پیاری سی گڑیا!! تمہارا بھائی نہ کبھی بدلا ہے اور نہ کبھی آنے والی زندگی میں بدل سکتا ہے۔”
یارم نے محبت بھری نگاہوں سے کہا۔

“مجھے نفرت ہے ایسے بھائیوں سے جو شادی کے بعد بدل جاتے ہیں۔ وہ میری بیوی ہوگی، اس کی اپنی ایک خاص جگہ ہے، مگر تم میری بہن ہو، تمہارا مقام میرے دل کے اندر کیا ہے، مجھے نہیں لگتا کہ مجھے بتانے کی ضرورت ہے۔ تم میری چھوٹی سی گڑیا، میری بہنا، میری جان ہو اور دوبارہ کبھی ایسا مت کہنا کہ میں بدل جاؤں گا۔”
یارم نے اپنی بات مضبوطی سے کہی۔

“میں خدا سے دعا مانگتا ہوں، جس دن میری بہن کے ساتھ میری محبت بدل جائے، مجھے وہ سانسیں نہیں چاہیے۔ جس دن میری انشاء کے ساتھ اس کے بھائی کا پیار بدلے، اسی دن، اسی لمحے میری زندگی کا اختتام ہو جائے۔”
یارم خان جو اپنی بہن کو بیٹیوں کی طرح پیار کرتا تھا، اس کا یہ کہنا دل کو تکلیف پہنچا رہا تھا۔

“اللہ نہ کرے لالہ، آپ کو کچھ ہو، اللہ تعالی آپ کو میری زندگی بھی لگا دے۔”
لالہ نے پھر کہا، اپنی بے فکری اور پیار کے ساتھ۔

“لالہ، دوبارہ ایسا مت کہیے گا۔ میں تو بے وقوف ہوں، کچھ بھی کہہ دیتی ہوں، مگر آپ سمجھدار ہیں، آپ ایسا نہیں کہیں گے۔”
انشاء اپنے بھائی کے سینے سے لگتی ہوئی رو پڑی تھی۔

“انشاء، جتنا درد تمہیں ہوا ہے میرے الفاظ سے، اتنا ہی درد مجھے ہوا ہے یہ سن کر کہ تم یہ سوچتی ہو کہ میں بدل جاؤں گا۔”
یارم نے دل سے کہا۔

پاگل لڑکی! بہن بھائی کا رشتہ خون سے سینچا ہوا ہوتا ہے، اس میں ماں باپ کی دعائیں شامل ہوتی ہیں، اور بہن بھائیوں کا رشتہ اتنا کمزور نہیں ہوتا کہ کسی ایک کے آجانے سے بدل جائے۔
“آنسو صاف کرو۔”
یارم مسکراتے ہوئے اپنے ہاتھوں سے اپنی بہن کے آنسوں صاف کر رہا تھا۔

دونوں اس بات سے بے خبر تھے کہ تھوڑی دوری پر کھڑی ہوئی دونوں کی ماں ان کے یہ خوبصورت لمحے اپنی آنکھوں میں قید کر رہی تھی۔
وہ رب کا شکر ادا کر رہی تھی کہ آج کے وقت میں اتنا پیار تھا دونوں بہن بھائیوں کے بیچ میں۔
وہ بیچ میں پڑھ کر ان کے خوبصورت پیار بھرے لمحوں کو خراب نہیں کرنا چاہتی تھی، اور خاموشی سے کچن کی جانب چل پڑی۔

جبکہ یارم اور انشاء کافی دیر تک راہداری کے بیچوں بیچ کھڑے ہوئے باتیں کرتے رہے۔
سچ کہتے ہیں، بہن بھائی جہاں پر اکٹھے ہو جائیں، وہیں پر محفل جم جاتی ہے۔
جگہ سے فرق نہیں پڑتا، پھر وہ جگہ روشنیوں سے بھری ہوئی خوش نما ہو یا اندھیروں سے گھری ہوئی ویران۔
بہن بھائی جہاں پر اکٹھے ہو جائیں، وہاں پر محفل لگانے میں دیر نہیں لگتی۔
═══════❖═══════
عبیرہ خان ویٹ اینڈ واچ تمہیں یہ بلش کرنا بہت مہنگا پڑنے والا ہے۔
تمہاری جرات کیسے ہوئی کہ تم نے میرے علاوہ کسی اور کے نام سے بلش کیا۔
تمہاری سانسوں پر تمہارے دل پر صرف اور صرف آریان خان کا حق ہے۔

جانتا ہوں کہ میں تمہارے خوابوں کے شہزادے والے سانچے میں بالکل فٹ نہیں ہوتا مگر بہت تکلیف کی بات ہے کہ تم سے نفرت،شدید نفرت کرنے کے باوجود بھی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تم میرے بیوی والے سانچے میں پرفیکٹ فٹ ہوتی ہو۔

آریان خان کو تو ہمیشہ سے بیوی کے روپ میں ڈری سہمی معصوم پرہیزگار روایتی سوچ کی مالک لڑکی چاہیے تھی اور تم میں یہ سب خوبیاں موجود ہیں۔

مگر تمہاری بدقسمتی کے تمہارے نصیب میں آریان خان آئے گا جس سے تمہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہونے والا۔

آریان خان دل پھینک انسان ہے جو کبھی بھی کسی ایک کا ہو کر نہیں رہ سکتا۔
تم ہمیشہ میرے کھونٹے پر بندی ہوئی گائے کی طرح ہو گی،جسے اپنی مرضی کے خلاف جا کر بھی اپنے مالک کی مرضی کے مطابق چارہ کھانا پڑے گا،تمہیں ہر قدم پر میری اجازت لینی پڑے گی۔

تمہاری سانسوں پر بھی آریان خان کے پہرے ہوں گے مگر آریان خان وہ جنگلی شیر ہے جو اپنی مرضی سے من پسند شکار کرتا ہے۔
چاہے آریان خان کو جتنی مرضی بھوک لگی ہو اگر سامنے پڑا شکار اس کے دل کو نہیں لبھا رہا تو آریان خان اسے کبھی منہ لگانا پسند نہیں کرتا۔۔۔
آریان خان ضدی بے لگام گھوڑا ہے جس کی لگام آج تک اس نے کسی کے ہاتھ میں نہیں دی۔
آریان خان کے دل اور دماغ پر صرف آریان خان کی حکومت ہے۔

آریان خان اس وقت ملک سے باہر تھا جس کی نظر عبیرہ خان پر ہر وقت گردش کرتی رہتی تھی۔
وہ ملک میں ہو یا ملک سے باہر اسے عبیرہ کے بارے میں ہر خبر ہوتی تھی،عبیرہ خان کا یوں یارم خان کے ساتھ مال میں ملنا اور بلش کرتے ہوئے چہرے سے اس کے بارے میں سوچنا آریان خان کے اندر آگ لگائے ہوئے تھا۔

آج اس کی ضروری میٹنگ تھی اور کل اسے پاکستان آنا تھا،آج کی رات اسے کے لیے بہت مشکل تھی۔

کل کا دن عبیرہ خان کی زندگی بدل کر رکھ دے گا۔
پہلی بار آریان خان اور عبیرہ کا آمنا سامنا ہونے والا تھا،آریان خان اور عبیرہ کی ملاقات کوئی عام ملاقات نہیں ہوگی۔
عبیرہ خان جو 20 سال کی ہو چکی تھی۔

مگر اب تک اس بات سے بے خبر تھی کہ کوئی بچپن سے اس پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کرتی گئی عبیرہ خان پر نظریں کڑی ہوتی گئیں،ہر وقت وہ کسی کی نظروں کے حصار میں رہتی تھی مگر اس شخص کو اس نے نہ تو کبھی دیکھا تھا اور نہ ہی اس کا نام تک جانتی تھی۔

مگر اس پر نظریں رکھنے والا شخص اس کے بارے میں ہر بات جانتا تھا۔
آریان خان کے لیے عبیرہ صرف نفرت اور بدلے کا نام تھا۔

جو شخص اپنے بدلے کے لیے اس لڑکی پر برسوں سے نظر رکھے ہوئے تھا۔

جب یہ لڑکی اس کی بیوی بن کر اس کی دسترس میں ہوگی تو آریان خان کی سفاکی کا عالم کیا ہوگا یہ سوچ کر ہی روح کانپ جاتی ہے۔
═══════❖═══════

Ye qist novel “Saleeb Sukoot” ki ek qist hai, takhleeq Hayat Irtaza, S.A ki.Agli qist mutalea karne ke liye isi novel ki category “Saleeb Sukoot” mulaahiza karein, jahan tamaam qistain tartiib war aur baqaida dastiyaab hain.💡 Har nai qist har Itwaar shaam 8:00 baje shaya ki jaayegi.

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *