Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode: 3

🕯️ صلیبِ سکوت
قسط 3
✍︎ حیات ارتضی S.A
═══════❖═══════
عبیرہ اپنی اور یارم سے ہوئی ملاقات کے بارے میں مائرہ کو بتا رہی تھیں،۔ مائرہ کو تو جیسے جھٹکا لگا منہ کھولے ہوئے وہ حیرت سے کچھ کہہ نہ پائی،

“میڈم، کچھ بولو گی؟ اتنے سکتے میں آنے کی ضرورت نہیں ہے۔”
عبیرا نے اس کے کاندھے سے کاندھا مار کر اسے ہوش کی دنیا میں واپس آنے کی دعوت دی۔

مائرہ کے چہرے پر حیرت کے آثار واضح تھے، آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں۔
“عبیرہ، مجھے یقین نہیں ہو رہا کہ ڈی ایس پی یارم خان نے تمہیں خود آ کر پروپوز کیا ہے!”

“اب تمہیں یقین دلانے کے لیے، میں اس مال سے نیچے چھلانگ لگا دوں یا بجلی کی ننگی تاروں کو ہاتھ لگاؤں، تاکہ مائرہ میڈم کو پکا یقین ہو جائے کہ واقعی مجھے اے سی پی صاحب نے پروپوز کیا ہے…”

مائرہ کے تجسس کو دیکھ کر عبیرا ہنسی روک نہ سکی۔ دونوں ایک ساتھ لنچ کرتے ہوئے یارم خان پر تبصرے کر رہی تھی۔مگر یارم خان پر تبصرہ کرتی ہوئی عبیرا اس بات سے بے خبر تھی کہ عبیرا کے منہ سے بار بار یارم خان کا نام سن کر کوئی آتش فشاں کی طرح پھٹنے کو تیار تھا۔

” کیا تم اسے ہاں کر دو گی؟؟
مائرہ بڑے تجسس سے پوچھ رہی تھی،مائرہ میں صبر نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔
وہ ہمیشہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے ایکسائٹڈ ہو جاتی تھی اور یہاں تو اس کی دوست کی زندگی میں پیار آنے والا تھا،ایسے میں مائرہ ضرورت سے زیادہ ایکسائٹڈ ہو کر بے صبروں کی طرح پوچھ رہی تھی۔

“ظاہر سی بات ہے یار انکار کی تو کوئی وجہ ہی نہیں ہے،پہلے تو صرف میں اس کے پیار میں مبتلا تھی۔اب تو ڈی ایس پی صاحب نے خود چل کر اظہارِ محبت کیا ہے۔
تو پھر انکار کرنے کی تو کوئی وجہ ہی نہیں اور اوپر سے بندہ ہے اتنا ہینڈسم اور خوبصورت کے انکار کرنے کا جواز بھی پیدا نہیں ہوتا۔
عبیرہ نے نظر جھکا کر شرماتے ہوئے کہا۔

“آئے ہائے!”
مائرہ نے شوخی سے آنکھیں نچائیں،
“میڈم تو محبت کی زبان بولنے لگی… ہاں مگر بول تو سچ، قسم سے، بندہ تو قاتلانہ پرسنلٹی کا مالک ہے۔”

وہ ہنستے ہوئے عبیرہ کے قریب کھسکی، جیسے رازدار لمحے کو اور گہرا کرنا چاہتی ہو۔
“اب دیر مت کرنا، جلدی جلدی جا کر اپنے بابا اور ماما سے بات کرو، اور حضور کو ہاں کی خوشخبری سناؤ… بندہ کہیں پیار میں دیوانہ ہی نہ ہو جائے!”
“مجھے نہیں لگتا بابا کو کوئی اعتراض ہوگا۔”
عبیرہ کے لبوں پر اعتماد بھری مسکراہٹ پھیل گئی۔
“ماما تھوڑی سی پرانے خیالات رکھنے والی سخت مزاج خاتون ہیں، مگر بابا تو ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ ہماری عبیرہ جس کو پسند کرے گی، ہم اپنی بیٹی کی شادی اسی لڑکے سے کریں گے۔ اس لیے میں تو بالکل بے فکر ہوں۔”

اس کے لہجے میں خوشی اور یقین جھلک رہا تھا۔
“بابا تو کبھی انکار نہیں کریں گے، اور ماما کو وہ خود ہی منا لیں گے۔”

عبیرہ نے پورے اعتماد اور اطمینان کے ساتھ کہا، جیسے دل کا بوجھ ہلکا ہو گیا ہو۔

“ہممم…” اس کے لبوں سے نکلا، آنکھوں میں شوخی اور اور چہرے سے خوشی چھلکنے لگی۔

“تو بس اب دیر کس بات کی ہے؟”
مائرہ نے شوخی سے بھنویں اُچکائیں،
“جلدی گھر جاؤ اور بسم اللہ کرو…”

وہ ہنستے ہوئے کولڈ ڈرنک کا گھونٹ بھرتی رہی، جیسے مشورے کے ساتھ ساتھ مشروب سے بھی پورا انصاف کر رہی ہو۔

“یار… تھوڑا سا انتظار کرنا پڑے گا،” عبیرہ نے لمحہ بھر کو گہری سانس بھرتے ہوئے کہا۔
“بابا اس وقت ملک سے باہر ہیں۔ جب تک وہ واپس نہیں آ جاتے، میں ماما سے بات نہیں کر سکتی۔ ماما کے تاثرات کیا ہوں گے، اس کا مجھے اندازہ نہیں…”

وہ ٹھہر ٹھہر کر بولی، جیسے اپنے دل کو سمجھا رہی ہو۔
“بابا کے سامنے بات کروں گی تو وہ سب سنبھال لیں گے۔ اس لیے میں بابا کے آنے کا انتظار کروں گی… اسی کے بعد ڈی ایس پی صاحب کو بھی جواب دوں گی۔”

عبیرہ کا لہجہ یکدم سنجیدہ ہو گیا تھا، جیسے خوشی کی چہک ایک لمحے میں ٹھہر گئی ہو۔

“مطلب… ابھی ڈی ایس پی صاحب کو مزید انتظار کی سولی پر لٹکائے رکھنے کا ارادہ ہے؟”
مائرہ نے آنکھیں پھیلائیں اور مسکراہٹ دبانے کی ناکام کوشش کی۔

اس کے لہجے میں شوخی تھی مگر دل میں عجیب سا ترس بھی، جیسے اے سی پی پر واقعی ہمدردی کے لائق ہو۔

“کوئی بات نہیں… عمر بھر کا ساتھ پانے کے لیے اگر کچھ دن ہجر کی سولی پر لٹکنا پڑ جائے تو یہ سودا ہرگز بُرا نہیں۔”
عبیرہ نے آہستگی سے کہا،
“میں بابا سے بات کیے بغیر کبھی بھی ہاں نہیں کہہ سکتی…”
اس نے لمحہ بھر کو نظریں جھکا لیں، اور اپنے دل کی بے قراری کو سنبھالتے ہوئے جواب دیا۔
“مگر یار… ہاں کر دینے سے کون سا فوراً نکاح ہو جانا ہے!”
مائرہ نے شریر مسکراہٹ لبوں پر سجائے کہا۔۔
“اس بیچارے کو خوشخبری تو دے دو۔ جب تمہیں پورا یقین ہے کہ انکل راضی ہو ہی جائیں گے، تو پھر کیوں اسے یوں انتظار کی سولی پر لٹکانے کا ارادہ ہے؟”

“سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ میں اپنے پیارے بابا جان کی اجازت کے بغیر، اپنے دل کی خوشی کے لیے ہاں کر دوں۔”
عبیرہ کے لہجے میں ایک عجیب سا وقار اور پختگی اُبھر آئی۔

“ہر لڑکی کی محبت کا پہلا مرکز اُس کا باپ ہوتا ہے۔ جب ہم باپ کے ساتھ ہی وفا، عزت اور یقین کا رشتہ نہیں نبھا سکتے… تو پھر کیا ثبوت ہے کہ جس کے شریکِ حیات بن کر زندگی میں جائیں گے، اُس کے ساتھ وفا کر سکیں گے؟”

عبیرہ کے الفاظ میں پختگی اور وقار جھلکتا ہوا نظر آرہا ہے ۔ محبت کا پہلا محور باپ کی اجازت اور اعتماد ہے، اور اگر ہم اس رشتے میں وفادار نہیں رہ سکتے تو شریکِ حیات کے ساتھ کیسے وفادار رہیں گے۔۔

“ٹھیک ہے … بابا کی فرمانبردار بیٹی! جیسے تمہاری مرضی۔”
مائرہ نے شرارت سے ہاتھ ہلایا اور پھر سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا،
“مگر اب مجھے گھر کے لیے نکلنا ہوگا، کیونکہ آج میری پیاری خالہ اور اُن کے فیملی والے آنے والے ہیں۔ امی جان کا حکم ہے کہ گھر جلدی پہنچوں… وہی ٹپیکل ماؤں والی سوچ! کہ اگر آؤ بھگت اچھی طرح کروں گی تو شاید کوئی خالہ کا بیٹا مجھے پسند کر لے گا۔”

وہ جھنجھلا کر ہنسی، “چھی! قسم سے شرم آتی ہے مجھے ماؤں کی ایسی سوچ پر۔ کیا یار… ہم اتنی گئی گزری ہیں کہ لوگوں کی خدمتیں کرنے کے بعد ہی پسند کی جائیں گی؟”
ہمیشہ کی طرح اپنی ماں کے اس انداز سے تنگ، مائرہ قدم تیز باتیں کرتی ہوئی آگے بڑھی۔
عبیرہ بھی اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے مال سے باہر آئی، جہاں گاڑی میں ماحد پہلے ہی ان کا انتظار کر رہا تھا۔دونوں اپنی اپنی گاڑیوں کا رخ کر چکی تھی، عابیرا اپنی گاڑی میں آکر جیسے ہی بیٹھی ماحد کے شکوے شروع ہو گئے۔

“آپی آپ شاپنگ کرنے کے لیے بابا کے ساتھ ہی آیا کریں۔

کیوں؟؟
عبیرہ جیسے ہی گاڑی کے اندر بیٹھی ماحد نے شکوہ کرتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کر دی۔میں آپ کا انتظار کرتے کرتے تھک جاتا ہوں، آپ اچھی طرح سے جانتی ہیں مجھے انتظار کرنا بالکل پسند نہیں ہے۔

“تو ماحد آپ میرے ساتھ اندر آجاتے،شاپنگ کر لیتے،اس طرح تمہارا دل بھی لگ جاتا اور تم اپنے لیے شاپنگ بھی کر لیتے۔مسکراتے ہوئے اپنے پیارے سے بھائی کو عابیرا نے ہمیشہ کے طرح پیارا سا مشورہ دیا۔۔

“نہیں… مجھے پڑھائی کرنی ہے۔ آپ کو اچھی طرح پتہ ہے کہ میرے ایگزیمز چل رہے ہیں، اور ایسے وقت میں میں ایک پل بھی ضائع کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔”
اس کے لہجے کی سنجیدگی نے واضح کر دیا کہ وہ اپنے فیصلے پر قائم ہے۔

“میرے پیارے بھائی، اگر چند گھنٹے پڑھائی نہ بھی کی تو میرا بھائی فیل نہیں ہو جائے گا، کیونکہ میرا بھائی تو بہت انٹیلیجنٹ ہے۔”
عبیرہ نے شوخی سے مسکراتے ہوئے کہا۔
“ہر وقت زندگی کا مقصد صرف پڑھنا ہی نہیں ہوتا… کبھی کبھی ذرا سا چِل بھی مار لینا چاہیے۔ صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے۔”

“نہیں جی… آپ کا چِل کرنا آپ کو ہی مبارک ہو۔ میں تو اپنی پڑھائی کے ساتھ ایسا مذاق کبھی نہیں کر سکتا۔”
ماحد کے لبوں پر ایک ہلکی سی شرارت کھیل گئی۔
“آپ ایک کام کیوں نہیں کرتیں؟”

“کیسا کام؟” عبیرہ نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔

وہ مسکراتے ہوئے بولا،
“آپ جلدی سے شادی کر لیں، تاکہ آپ کی شاپنگ والا بوجھ آپ کے شوہر محترم اٹھا سکیں۔”
یہ کہہ کر وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ گاڑی کو یوٹرن دے رہا تھا۔
“بہت جلد تمہارا یہ شوق بھی پورا ہو جائے گا، لگتا ہے تم مجھ سے بہت بیزار ہو گئے ہو…”
عبیرہ نے مصنوعی غصے کا تاثر دیتے ہوئے چہرہ موڑ کر شیشے میں اپنا عکس دیکھنا شروع کر دیا۔

“اللہ نہ کرے کہ کبھی میں آپ سے بیزار ہو جاؤں… میں تو صرف مذاق کر رہا تھا، میری پیاری آپو۔ میری تو ساری خوشیاں ہی آپ سے وابستہ ہیں۔ آپ یہ الفاظ کیسے کہہ سکتی ہیں؟”
ماحد کے لہجے میں خلوص اور اپنائیت جھلک رہی تھی۔

“نہیں، سچ کہہ رہی ہوں… بہت جلد میں نے شادی کر کے چلے جانا ہے۔” عبیرہ نے گہری سنجیدگی سے کہا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر کھیل گئی۔
“تمہیں پتہ ہے مجھے آج کسی نے پروپوز کیا؟”

“کس نے… کس نے پروپوز کیا؟”
ماحد کی آنکھوں میں تجسس چمک اٹھا۔ بہن بھائی کے درمیان دوستی کا ایسا رشتہ تھا کہ دونوں ایک دوسرے سے کوئی بات چھپاتے نہ تھے۔

“بتاؤ نا آپی جان، کس نے گستاخی کی ہے آپ کو پروپوز کرنے کی؟” ماحد بے قراری سے بولا۔

عبیرہ نے شرما کر نظریں جھکا لیں۔
“ہے کوئی… بہت خاص۔ جلدی سے بابا سے بات کرنے کے بعد تم سب سے ملواؤں گی۔ وہ اپنے ماں باپ کے ہاتھ رشتہ بھیجنا چاہتا ہے، مگر میں نے ابھی ہاں نہیں کی۔ جب تک بابا سے بات نہ کروں، کیسے کہہ سکتی تھی ہاں؟ اور تمہیں تو پتہ ہے ماما کا… انہیں تو محبت کے نام سے ہی چڑ ہے۔”

“ہاں، یہ تو سچ ہے۔” ماحد نے فوراً تائید کی۔ “ورنہ ماما تو لو اسٹوری شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیتیں۔ اچھا کیا جو بابا کے آنے کا انتظار کر رہی ہو۔ وہی سب سنبھال لیں گے۔”

دونوں بہن بھائی کی ہنسی گاڑی کے شور میں گھل گئی۔

“چلو یہ تو بتا دو کہ میری پیاری آپی کو پروپوز کرنے والا کرتا کیا ہے؟” ماحد نے تجسس دبایا نہ جا سکا۔

“ڈی ایس پی یارم خان نام ہے ان کا۔” عبیرہ کے لبوں پر ایک انجانی شرمیلی مسکراہٹ بکھر گئی۔

“کیااا؟ نہیں میں نہیں مان سکتا ! قسم کھا کر کہو، آپ کو پروپوز کرنے والا ڈی ایس پی یارم خان ہے؟!” ماحد نے حیرت سے بہن کی طرف دیکھا۔

“قسم سے، میں جھوٹ کیوں بولوں گی؟ تم اسے جانتے ہو؟”

ماحد کے جوش کی انتہا نہ رہی۔ “آپی، اس کو کون نہیں جانتا؟ وہ تو ہمارا ہیرو بن گیا ہے۔ نڈر پولیس آفیسر، جہاں جاتا ہے مجرموں کا صفایا کر دیتا ہے۔ کچھ ہی مہینے پہلے پوسٹنگ ہوئی ہے یہاں، اور اب ہر ملزم کے کان کھڑے ہو جاتے ہیں اس کے نام پر۔”

وہ رکتا نہیں تھا، بس بولتا ہی چلا گیا۔
“قسم سے، عورتوں کی اتنی عزت کرتا ہے کہ کبھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا۔ پولیس کے شعبے میں رہ کر کوئی اتنا غیرت مند کیسے ہو سکتا ہے؟ ایک بار کالج میں لڑکوں کی لڑائی ہوئی تھی، وہاں دیکھا میں نے اسے… کیا پرسنیلٹی ہے، یار! ہیرو لگتا ہے، بالکل ہیرو!”

بھائی کے منہ سے یارم کی اتنی تعریفیں سن کر عبیرہ کے دل میں پھول کھلنے لگے۔ لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
یقیناً وہ جیسا شوہر چاہتی تھی، یارم خان بالکل ویسا ہی تھا۔ قسمت پر رشک آنے لگا۔
ماحد گھر پہنچنے تک بس یارم خان کے قصے سناتا رہا اور عبیرہ خاموشی سے سنتی رہی۔ مگر اس کی خاموشی میں ہزار رنگ تھے۔۔۔شرم، خوشی، اور دل کے کسی کونے میں مچلتا ہوا خواب۔
ماحد کے لبوں سے یارم کی بے پناہ تعریفیں سن کر عبیرہ کے دل میں اطمینان اور شرمیلی خوشی ایک ساتھ اترتی گئی۔ وہ خاموشی سے سنتی رہی، مگر دل کے کسی کونے میں یہ احساس جڑ پکڑنے لگا کہ شاید واقعی قسمت نے اس کے لیے بہترین انتخاب کر رکھا ہے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے برسوں دل کے نہاں خانوں میں دبے خواب اب حقیقت کے روپ میں اس کی دہلیز پر دستک دے رہے ہوں۔۔۔

═══════❖═══════
عبیرہ کے منہ سے کسی اور کا نام سن کر اس شخص کے رگ و پے میں آگ بھڑک اُٹھی تھی۔
وہ پاکستان کے لیے نکل چکا تھا، مگر دل کے کسی کونے میں اب بھی چنگاریاں دہک رہی تھیں۔
عقاب سی نظریں، جو دور رہ کر بھی عبیرا کے گرد منڈلا رہی تھیں، ہر لمحہ اس کے وجود کا طواف کر رہی تھیں۔ وہ نظروں کی تپش کو محسوس نہ کر سکی، کیا عقاب جیسی آنکھیں اپنے شکار کو کبھی اوجھل ہونے دیتی ہیں؟

” عبیرا خان، تم یہ سمجھ بھی نہیں سکتیں کہ جس لمحے تم بے فکری سے مسکرا رہی ہو، وہی لمحہ تمہاری زندگی کا سب سے بڑا امتحان بننے والا ہے۔وہ مسلسل جہاز کی نشست پر انگلیاں بجا رہا تھا اور سکرین پر اس کی جھلک کو گھورے جا رہا تھا۔

” عبیرہ خان… تمہاری اور میری پہلی ملاقات کبھی بھی خوشگوار نہیں ہو سکتی تھی، لیکن یہ کبھی گمان نہ تھا کہ وہ اتنی خطرناک ہوگی۔ وہ ایک ایک لفظ کو دانتوں تلے دباتے ہوئے سوچ رہا تھا۔

“ویٹ اینڈ واچ، ابیرہ خان… اب دیکھنا تمہاری ہنسی کس طرح تمہارے ہی ہونٹوں سے چھین لی جاتی ہے۔ تمہارے مسکراتے لبوں پر میں ایسی سیاہی پھیر دوں گا کہ ساری زندگی وہ آنسوؤں اور کرب سے لبریز رہیں گے۔”

میں جانتا تھا کہ تمہیں سزا دینا ضروری ہے، لیکن اب تو یہ سزا مزید سخت ہونی چاہیے۔ کس نے تمہیں یہ حق دیا تھا کہ یوں بے خوف ہو کر، کھلکھلا کر ہنسو، وہ بھی کسی اور کے نام پر؟

اس کا غصہ لہروں کی طرح بڑھ رہا تھا۔ نسیں غصے کی شدت سے ابھرنے لگی تھیں، آنکھوں میں سرخی اور دماغ میں ایک ہی عزم دہکتا تھا…
“عبیرہ خان، تمہارے حصے کی خوشیاں اب میرے ہاتھ میں ہیں، اور میں تمہیں وہ دوں گا جو تم نے کبھی خواب میں بھی سوچا نہیں ہوگا۔۔”

“سکرین پر عبیرا کے ہنستے ہوئے لبوں کو دیکھ کر اس کے دل میں ایسا طوفان اٹھا کہ اگر بس چلتا تو وہ ہوا کو چیرتا، لمحوں میں فاصلہ سمیٹ کر اس کے سامنے جا کھڑا ہوتا اور اس کی ہنسی ہمیشہ کے لیے چھین لیتا۔”

“مجھے کیوں لگتا ہے کہ تم بالکل اپنی ماں پر گئی ہو؟ جیسی ماں، ویسی بیٹی۔۔۔ میں کیسے بھول گیا کہ ماں اور بیٹی کا رشتہ اتنا گہرا ہوتا ہے۔” آریان خان کے خیالات جلتے انگاروں کی طرح دہک رہے تھے۔

غصے سے اس کے چہرے کی رگیں پھولی ہوئی تھیں، درد سے سر پھٹا جا رہا تھا۔ آج سے پہلے اسے کبھی اس قدر طیش نہیں آیا تھا۔ دل چاہ رہا تھا کہ پلین کی رفتار کو مات دے کر لمحوں میں فاصلہ سمیٹے اور عبیرہ کی سانسوں تک جا پہنچے۔

کان میں لگی بلوٹوتھ پر عبیرہ کی کھنکھناتی ہنسی گونجی تو آریان کے ضبط کے بندھن ایک لمحے کو ٹوٹنے کے قریب پہنچ گئے۔ کاش وہ اس وقت اس کے سامنے ہوتی، تو شاید وہ کب کا اس کے لبوں سے ہنسی نوچ چکا ہوتا۔ مگر بدقسمتی سے فاصلے نے ابھی اسے کچھ اور وقت کے قید خانے میں باندھ رکھا تھا۔

کبھی کبھی چند گھنٹوں کا سفر صدیوں کی مسافت بن جاتا ہے۔ یہ کہاوت آریان خان کے لیے ہمیشہ ایک معمہ رہی تھی۔ مگر آج۔۔۔ آج اسے پہلی بار اس کہاوت کا اصل مفہوم سمجھ آیا۔ جہاز کی چند گھنٹوں کی اڑان اس پر ایسا بوجھ ڈال رہی تھی جیسے وہ برسوں کی قید کاٹ رہا ہو۔ ہر لمحہ گھڑی کی سوئیاں اس کا مذاق اُڑاتی محسوس ہوتیں۔ وہ چاہتا تھا وقت کے پر کاٹ کر اسے اپنی مٹھی میں قید کر لے، مگر وقت اپنی ضد پر قائم تھا۔۔سست روی سے چلتا ہوا، جیسے جان بوجھ کر اس کے زخموں پر نمک چھڑک رہا ہو۔

دل میں سلگتی آگ اسے بے چین کیے دے رہی تھی۔ وہ سوچتا، اگر لمحوں کو قید کر کے اپنی مرضی کے مطابق آگے دھکیل سکتا تو اب تک عبیرہ کا گلا اس کی انگلیوں کے حصار میں ہوتا۔ مگر یہ سفر۔۔۔ یہ بدترین سفر، اسے مجبور کر رہا تھا کہ وہ اپنی ہی بے بسی کا تماشائی بنے۔ ہر گزرتے پل کے ساتھ انتقام کی پیاس اور بڑھ رہی تھی، اور آریان خان کی آنکھوں میں وہ وحشت اتر رہی تھی ۔

بظاہر وہ بالکل پرسکون تھا۔ جہاز کی نرم روشنی میں بیٹھا ہوا آریان خان عام مسافروں جیسا دکھائی دیتا تھا۔ ایئر ہوسٹس نے قریب آکر مسکرا کر کھانے کا پوچھا تو اس نے بغیر کسی لفظ کے محض ہاتھ کے اشارے سے انکار کر دیا۔ جیسے اسے دنیا کی کسی ضرورت کی پرواہ ہی نہ ہو۔ ویسے بھی وہ فضائی سفر کے دوران کھانے پینے کا عادی نہیں تھا۔ اس کے چہرے کی سنجیدگی اور سکون ایسا تھا کہ کوئی بھی اسے دیکھ کر دھوکا کھا جاتا، کوئی یہ گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس چہرے کے پسِ منظر میں ایک بھڑکتا ہوا آتش فشاں چھپا ہے۔

اس کے دل میں ایسا طوفان اٹھ رہا تھا جو کسی لمحے لاوا بن کر سب کچھ جلا ڈالنے کے لیے بے تاب تھا۔ اس کی آنکھیں خاموش تھیں مگر ان میں انتقام کی ایسی چنگاریاں جل رہی تھیں جو نظر آنے والے سکون کو جھوٹا ثابت کر رہی تھیں۔ وہ سکون ایک نقاب تھا۔۔۔محض ایک پردہ۔۔۔جس کے پیچھے آریان خان کا اصل روپ، ایک جوالہ مکھی کی طرح سلگ رہا تھا۔
═══════❖═══════

“آہہہ۔۔۔!” مائرہ کی چیخ لائبریری کے سکوت کو چیرتی ہوئی فضا میں گونجی۔

عبیرہ اور مائرہ ہمیشہ کی طرح اپنی پسندیدہ کتابیں لینے آئی تھیں۔ دونوں کو معلوم نہ تھا کہ پرسکون دوپہر کے اس لمحے ان کے لیے ایک بھیانک منظر تیار کھڑا ہے۔

جیسے ہی وہ پارکنگ ایریا کی طرف بڑھیں، اچانک دو موٹر سائیکلوں کی تیز گڑگڑاہٹ نے فضا کو لرزا دیا۔ ایک سوار نے ہیلمٹ پہن رکھا تھا اور دوسرے نے چہرہ رومال میں چھپایا ہوا تھا۔ لمحے بھر میں ان موذیوں نے جھپٹ کر مائرہ کے ہاتھ سے موبائل اور کندھے سے لٹکا بیگ کھینچ لیا۔

حرکت اتنی اچانک اور درندگی سے بھری تھی کہ مائرہ کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا۔ بیگ کھینچنے کی شدت سے اس کا نازک کندھا مروڑ کھا گیا اور درد سے اس کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔ عبیرہ نے سہم کر مائرہ کو تھامنا چاہا مگر تب تک وہ بدمعاش تیز رفتار موٹر سائیکل پر دھول اڑاتے ہوئے اندھیرے کی طرح غائب ہو چکے تھے۔

“مائرہ، تم ٹھیک ہو؟”
عبیرہ نے تیزی سے اس کے کندھے کو سہلاتے ہوئے پریشانی سے پوچھا۔

“یار میں تو ٹھیک ہوں…” مائرہ نے ہونٹ کاٹتے ہوئے جواب دیا، مگر اس کی آنکھوں میں چمک کے ساتھ غصہ بھی جھلک رہا تھا۔ “تم چلو میرے ساتھ، مجھے ان کمینوں کے خلاف رپورٹ درج کروانی ہے۔”

عبیرہ نے خوف زدہ نظروں سے اردگرد دیکھا اور دبے لہجے میں کہا،
“مگر مائرہ، ہم دونوں اکیلی لڑکیاں… پولیس اسٹیشن کیسے جا سکتی ہیں؟”

مائرہ نے پلک جھپکتے ہی جھنجھلاہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
“حد ہے عبیرہ! کیا پولیس اسٹیشن جانے کے لیے پوری بارات لے کر جانا پڑتا ہے؟” اس کے لہجے میں زہر بھی تھا اور تڑپ بھی۔ “یار، ان کے پاس میرا سیل فون ہے! وہ کوئی بھی الیگل کام کر سکتے ہیں۔”

اس کے ہاتھ لرز رہے تھے، آواز ٹوٹ رہی تھی۔
“میرا این آئی سی کارڈ، کریڈٹ کارڈ… سب کچھ اس بیگ میں ہے۔ اگر وہ لوگ ان چیزوں کا غلط استعمال کریں تو؟”

مائرہ کی حالت دیکھ کر عبیرہ خاموش ہو گئی۔ وہ جان گئی کہ اب انکار کا کوئی راستہ نہیں۔ دونوں ڈرائیور کے ساتھ قریب ترین تھانے کی طرف نکل پڑیں۔

تھانے کے دروازے پر پہنچتے ہی ایک عجیب سا بوجھ ان کے دل پر آ بیٹھا۔ فضا میں سختی اور بےرحمی کا احساس تھا۔ اندر جاتے ہوئے عبیرہ کو یوں لگا جیسے ہر نظر ان پر جم گئی ہو۔

عبیرہ کو سب کچھ بہت عجیب لگ رہا تھا۔
اس نے آج تک کبھی تھانے میں قدم نہیں رکھا تھا، اور شاید کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اسے یہاں آنا پڑے گا۔ دل پر ایک بوجھ سا تھا، ماحول ہی غیر مانوس اور سخت لگ رہا تھا۔

وہ ڈرائیور کو ساتھ لیے اندر آئیں۔ سامنے ڈیسک پر بیٹھا کانسٹیبل سیدھا کھڑا ہوا اور بیزاری سے بولا:
“جی میڈم، کس سے ملنا ہے؟”

مائرہ نے جلدی سے کہا:
“فون اور ہینڈ بیگ نامعلوم افراد چھین کر لے گئے ہیں، رپورٹ درج کروانی ہے۔”

کانسٹیبل نے بےپرواہی سے کاغذ اٹھایا، پھر ہونٹ ٹیڑھے کرتے ہوئے بولا:
“جی آ جائیں میڈم، ہم آپ کی رپورٹ لکھ لیتے ہیں۔ ویسے… اپنی چیزوں کا خیال تو آپ کو خود بھی رکھنا چاہیے۔”

یہ جملہ سنتے ہی مائرہ کی آنکھوں میں چنگاریاں بھر گئیں۔
“کیا مطلب ہے؟ اپنی چیزوں کا خیال رکھیں؟ ہم شکل سے آپ کو پاگل نظر آتے ہیں جو اپنی حفاظت نہیں کر سکتے؟” اس نے غصے سے کانپتی آواز میں کہا۔

کانسٹیبل بھی تلملا گیا۔
“میڈم، میرا وہ مطلب نہیں تھا۔ آپ بدتمیزی کر رہی ہیں۔”

مائرہ نے میز پر زور سے ہاتھ مارا۔
“میں بدتمیزی کر رہی ہوں یا آپ لوگ اپنا کام نہیں کرتے؟ آپ کا کام ہے رپورٹ لکھنا، مجھ سے سوال جواب نہیں۔ تفتیش ان سے کریں جو میرے سامان کے ساتھ بھاگ گئے ہیں!”

مائرہ کی آواز اب تھانے کی دیواروں سے ٹکرا رہی تھی۔ عبیرہ بار بار اس کا بازو پکڑ کر کہہ رہی تھی۔
“چھوڑو مائرہ، خاموش ہو جاؤ پلیز…”

مگر اگلے ہی لمحے ایک بھاری اور گمبھیر آواز گونجی:
“کیا مسئلہ ہے؟ یہاں اتنا شور کیوں ہے؟”
یہ آواز سنتے ہی عبیرہ کا دل ایک لمحے کو رک سا گیا۔ وہ آہستگی سے پلٹی۔

سامنے… ہاتھ میں ڈنڈا پکڑے، مکمل پولیس یونیفارم میں، دبنگ شخصیت لیے ڈی ایس پی یارم خان کھڑا تھا۔ اس کی آمد پورے ماحول کو جیسے بدل گئی تھی۔

جتنا عبیرہ اسے دیکھ کر حیران ہوئی تھی، یارم بھی عبیرہ کو تھانے کے احاطے میں دیکھ کر اتنا ہی دنگ رہ گیا۔ دونوں کی آنکھوں میں چند لمحوں کے لیے وہی سوال تیر گیا: یہاں…؟

عبیرہ کو تو یہ بھی علم نہیں تھا کہ یارم خان اسی تھانے کا انچارج ہے۔ مگر لگتا تھا کہ تقدیر پھر کوئی نیا کھیل کھیلنے جا رہی ہے۔

مائرہ نے لمحہ ضائع کیے بغیر کہا۔
“سر! ہمیں رپورٹ درج کروانی ہے۔ میرا موبائل اور بیگ چھین لیا گیا ہے اور یہ کانسٹیبل الٹا مجھ سے ہی سوال کرنے لگا ہے!”

یارم خان کی نظریں پہلے مائرہ پر جمیں، پھر آہستگی سے عبیرہ پر ٹک گئیں۔ لمحہ بھر کو وقت تھم سا گیا۔

یارم کو دیکھتے ہی مائرہ کی آواز خود بخود نرم ہو گئی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ ہمیشہ ہی جلدی بھڑک جانے والی ہے، لیکن آج اس کی وہی عادت اسے یارم خان جیسے شخص کے سامنے شرمندہ کر رہی تھی۔

عبیرہ کے لیے تو لمحہ اور بھی بھاری تھا۔ وہ لفظوں میں اپنی کیفیت بیان نہیں کر سکتی تھی۔ نظریں جھکائے، انگلیوں کو بار بار مروڑتی ہوئی، وہ اپنی شرمندگی چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔

یارم نے سپاٹ مگر وزنی لہجے میں کہا۔
“جی، آپ اندر تشریف لے جائیں۔ آپ کی رپورٹ درج ہو جائے گی۔ ان شاءاللہ بہت جلد آپ کا سامان واپس ملے گا اور مجرم سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔
مگر ایک بات… اس طرح غیر اخلاقی انداز میں بات کرنا اچھی چیز نہیں ہے۔ آپ عورت ہیں، ہمارے لیے معتبر ہیں۔ احترام کرنا ہمارا فرض ہے، مگر تہذیب کے دائرے میں رہ کر آہستہ آواز میں بات کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔”

یہ چند الفاظ ہی کافی تھے مائرہ اور عبیرہ کو آئینہ دکھانے کے لیے۔

مائرہ نے فوراً سر جھکا کر کہا۔
“جی سر… سوری۔”

یارم نے ہلکے سے سر ہلایا۔
“اٹس اوکے۔ آپ جائیں اور اپنی رپورٹ درج کروائیں۔
اور تم”۔۔۔اس نے کانسٹیبل کی طرف سخت نگاہ ڈالی۔۔
“کانسٹیبل، میڈم کو لے جاؤ اور تہذیب کے دائرے میں رہ کر بات کیا کرو۔ یہ لوگ اپنے مسائل لے کر آتے ہیں، ان کے مسائل حل کرنا ہمارا فرض ہے۔ ہم ان کی پریشانیاں دور کرنے کی تنخواہ لیتے ہیں، ان پر احسان نہیں کرتے۔ لیکن تم لوگ تو گیٹ پر کھڑے ہو کر ہی تفتیش شروع کر دیتے ہو!”

یارم کا رعب دار اور سنجیدہ لہجہ سن کر کانسٹیبل کی ہوا ٹائٹ ہو گئی۔ وہ کانپتی آواز میں بولا:
“ج… جی سر! سوری… میں اپنی غلطی کے لیے معذرت چاہتا ہوں۔”

اس نے جلدی سے رخ موڑ کر کہا۔
“چلیے میڈم، میں ابھی آپ کی ایف آئی آر درج کر دیتا ہوں۔”

مائرہ اور ڈرائیور کانسٹیبل کے ساتھ چل پڑے۔ عبیرہ بھی قدم بڑھانے لگی تھی کہ اچانک یارم خان کی گہری آواز گونجی۔
“مس عبیرہ، آپ رکیں۔”

عبیرہ کا دل ایک لمحے کو زور سے دھڑکا۔ وہ ٹھٹھک گئی۔

“اگر آپ کی دوست اکیلی بھی جائیں گی تو ان کی ایف آئی آر درج ہو جائے گی۔”
یارم خان کے لہجے میں حکم بھی تھا، اور ایک ان کہی کشش بھی۔

مائرہ یہ بات سن چکی تھی کہ ڈی ایس پی صاحب نے عبیرہ کو جان بوجھ کر روک لیا ہے، مگر وہ اپنی دوست کے لیے خوش تھی کہ اسے اپنے ہونے والے شوہر کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع مل رہا ہے۔ مائرہ کانسٹیبل کے پیچھے چلتی ہوئی وہاں سے نکل گئی۔

یارم خان نے عبیرہ کو اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔ اس کے لہجے میں سنجیدگی اور احترام جھلک رہا تھا۔ عبیرہ نظریں جھکائے، حجاب میں چہرہ چھپائے اس کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔ وہ اسے اپنے آفس روم میں لے آیا۔ خود کرسی پر بیٹھتے ہوئے سامنے والی نشست کی طرف اشارہ کیا اور بولا۔
“تشریف رکھیے۔”

عبیرہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔ وہ دل ہی دل میں مائرہ کے رویے پر شرمندہ تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ یہاں آنا ہی ایک بڑی غلطی تھی۔ وہ سوچوں میں کھوئی بیٹھی تھی کہ اچانک یارم کی آواز گونجی۔
“مس عبیرہ خان۔۔۔”
وہ چونک کر بولی: “جی؟”

یارم نے نرم لہجے میں پوچھا:
“کیا لیں گی؟ ٹھنڈا یا گرم؟”
“کچھ بھی نہیں۔۔۔” عبیرہ نے گھبرا کر جواب دیا۔
یارم کے لبوں پر مسکراہٹ ابھری:
“کیوں؟ کیا آپ ہمیں اس لائق نہیں سمجھتیں؟”

عبیرہ کے جھکے ہوئے چہرے اور لرزتی آواز میں جھجک ہی جھجک تھی۔ “نن۔۔۔ نہیں، ایسی تو کوئی بات نہیں،” وہ بولی۔
یارم نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
“پھر ہر بار ہماری آفر کو کیوں ٹھکرا دیتی ہیں؟ اُس دن مال میں آپ کو کافی کی آفر دی، آپ نے انکار کر دیا۔ آج مہمان نوازی کرنا چاہتا ہوں تو یہ بھی منظور نہیں۔ اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ آپ ہمیں اپنے لائق نہیں سمجھتیں۔”

عبیرہ کے جھکے ہوئے انداز اور سادگی نے یارم کے دل کو اور بھی مسحور کر دیا۔

“پلیز، اگر آپ ہمیں تھوڑا سا مہمان نوازی کا موقع دیں گی تو ہمیں بہت اچھا لگے گا۔”

چند لمحوں بعد اس نے موسم کے حساب سے دو فریش جوس منگوا لیے۔ ساتھ ہی کانسٹیبل کو اشارہ کیا کہ دوسری لڑکی کو کچھ دیر مصروف رکھا جائے۔ کچھ ہی دیر میں ٹرے آ گئی۔ یارم نے ایک گلاس اٹھا کر نرمی سے عبیرہ کی طرف بڑھایا۔
“پلیز لیجیے۔۔۔”

عبیرہ جانتی تھی کہ مقابل اس کا چہرہ دیکھنے کی تمنا رکھتا ہے۔ وہ اس کی نظروں کی تپش محسوس کر رہی تھی۔ دل میں سوچ آئی کہ جب دونوں کے دل میں رشتہ نکاح کی خواہش ہے تو پھر چہرہ چھپانے کا کیا جواز رہ جاتا ہے۔ اس نے جھجکتے ہوئے ہاتھ بڑھایا۔ جیسے ہی گلاس تھاما، دونوں کی انگلیاں آپس میں چھو گئیں۔ یارم کے ہاتھ کی گرمی نے عبیرہ کے وجود میں سنسناہٹ دوڑا دی۔

اس لرزش کو یارم نے بھی محسوس کیا۔ اس کے لبوں پر اطمینان بھری مسکراہٹ آئی۔ عبیرہ نے آہستہ سے نقاب کی پن ڈھیلی کی، نظریں جھکائے گلاس لبوں سے لگایا اور پہلا گھونٹ پیا۔ یارم نے بھی اپنا گلاس اٹھایا، مگر حلق سے جوس اترنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ اس کی ساری توجہ سامنے بیٹھی اس لڑکی کی حیا اور سادگی پر مرکوز تھی، اور وہ دل ہی دل میں اپنے انتخاب پر شکر گزار تھا۔

نظریں تو اس کے لپ اسٹک سے سجے ہونٹوں پر تھیں،لپ سٹک کا کلر اس پر بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔

“پلیز کمفرٹیبل ہو کر بیٹھیں۔۔۔ میرے دیکھنے کے انداز سے مت گھبرائیں۔ آپ کے لیے ایک باعزت جذبہ دل میں لیے ہوئے ہوں۔ گھبرایا تو فریبی اور ہوس بھری نظروں سے جاتا ہے۔”

اس کی گھبراہٹ کو دیکھ کر یارم خان نے نرمی سے کہا اور اپنی نظروں کو اس کے چہرے سے کچھ دیر کے لیے ہٹا لیا۔ کچھ دیر دونوں کے درمیان مکمل خاموشی چھا گئی۔

“مس عبیرہ، اُس دن مال میں میں نے آپ سے ایک گزارش کی تھی۔ امید ہے کہ آپ نے میرے بارے میں کچھ نہ کچھ تو سوچا ہوگا۔ پلیز اگر آپ مجھے بتا دیں گی تو میں اپنے والدین کو آپ کے گھر بھیج دوں گا تاکہ ہمارا رشتہ آگے بڑھ سکے۔ میں اس بے نام سے جذبے کو کوئی خوبصورت سا نام دینا چاہتا ہوں۔”

یارم خان کو لفظوں کو موتیوں کی طرح مالا میں پرونا خوب آتا تھا۔

ایک ایک لفظ کو ٹھہراؤ سے کہتے ہوئے اس کے جواب کا منتظر تھا۔

پلیز مجھے تھوڑا سا ٹائم چاہیے۔عبیرا نے نظریں جھکائے کہا۔

کتنا ٹائم ۔
یارم خان نے ٹھہراؤ سے پوچھا۔

میرے بابا اس وقت کنٹری سے باہر ہیں
اور بغیر اپنے بابا سے بات کیے میں آپ کو کوئی جواب نہیں دے سکتی۔
آئی ہوپ کہ آپ میری بات سمجھیں گے۔

جی بالکل آپ کی بات نہیں سمجھوں گا تو پھر کس کی سمجھوں گا۔
وہ مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا ۔لہجے میں وقار تھا عبیرا کے لیے عزت تھی مگر نظروں میں شوخ اور ہلکی سی شرارت کے رنگ واضح تھے۔۔

ٹھیک ہے آپ اپنے بابا سے بات کرنے کے بعد ہمیں زیادہ ویٹنگ پر مت رکھیے گا۔
یارم خان کو ویٹ کرنا بالکل نہیں پسند۔
آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا۔

میرے دل میں اپ کی عزت اور بھی بڑھ گئی ہے۔۔مجھے خوشی ہوئی کہ آج کے وقت میں بھی آپ اپنے والدین کو اتنی اہمیت دیتی ہیں۔ میں دل سے آپ کی رسپیکٹ کرتا ہوں۔

امید کرتا ہوں کہ بہت جلد آپ مجھے میری مرضی کا پیغام بھیجیں گی۔

یارم خان ایک سمجھدار انسان تھا اور اسے ایسی ہی لڑکی تو چاہیے تھی۔

جو آج بھی رشتوں کی ویلیو کرتی ہو۔
جو آج بھی رشتوں کو موتیوں کی طرح پرو کر رکھنا جانتی ہے۔

جس لڑکی کے چہرے سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ یارم کو پسند کرتی ہے۔
مگر پھر بھی زبان پر لانے کے لیے اسے اپنے باپ کی اجازت درکار تھی تو ایسی لڑکی ایک وفادار بیوی کیسے ثابت نہ ہوتی۔

یارم کو اپنے انتخاب پر فخر محسوس ہو رہا تھا۔

دونوں اس بات سے بے خبر تھے کہ ان کی ہر بات کوئی پورے غور سے سن رہا ہے ۔

اسکے غصے کا عالم ایسا کہ اگر اس کا بس چلے تو وہ پوری دنیا کو آگ لگا دے۔

جس عبیرہ خان پر آج تک اس نے کسی کی پرچھائی نہیں پڑھنے دی ۔

اس عبیرہ خان کو کسی کے ساتھ یوں بیٹھ کر باتوں ہی باتوں میں محبت کا اعتراف کرتے سن کر اس شخص پر کیا گزر رہی ہے۔

اس شخص کے لاوے کی طرح پھٹتے دل کا کوئی حال نہیں سمجھ سکتا تھا۔

مائرہ کے آنے سے پہلے عبیرہ اور یارم آفس روم سے باہر آگئے تھے ۔

مس عبیرہ ۔
جی۔
پلیز آج کے بعد آپ کبھی بھی تھانے جیسی جگہوں پر مت آئیے گا۔کوئی بھی مسئلہ ہو تو بنا جھجک آپ مجھے فون کر سکتی ہیں۔

ساتھ چلتے ہوئے یارم نے سنجیدگی سے کہا۔
جی ٹھیک ہے۔ عبیرہ نے بغیر بحث کے ٹھیکے کہا تو یار ہم کو خوشی ہوئی تھی۔

تھینک یو مجھے آپ سے یہ امید تھی ۔

مائرہ بھی رپورٹ لکھوا کر آچکی تھی ۔دونوں کو گاڑی تک یارم خود چھوڑنے آیا تھا۔
═══════❖═══════

”عبیرہ تبریز خان، تم نے کسی غیر مرد سے ملاقات کرکے اپنی موت کو دعوت دی ہے۔‘‘
وہ زور سے اپنا ہاتھ گاڑی کے شیشے پر مارتے ہوئے پورے زور سے چیخا۔۔۔

فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ہوئے ڈرائیور نے خوفزدہ نظروں سے پیچھے دیکھا۔۔۔

”ایسے کیا دیکھ رہے ہو! سیدھا دیکھ کر گاڑی چلاؤ، ورنہ چھ کی چھ گولیاں تمہاری کھوپڑی میں اتار دوں گا۔۔۔‘‘

”سس۔۔۔ س۔۔۔ سوری سر۔۔۔‘‘

ڈرائیور بری طرح گھبرا کر اپنی نظریں سڑک پر گاڑھے ہوئے گاڑی چلانے لگا۔۔۔

آریان خان ایئرپورٹ سے اپنی ذاتی گاڑی میں گھر جا رہا تھا۔۔۔

مگر اس نے جو باتیں یارم اور عبیرہ کے درمیان سنی تھیں، ان باتوں سے آریان خان کے دماغ کی نسیں پھٹ رہی تھیں۔۔۔

گاڑی گھر کے بجائے اس نے ڈرائیور کو کہہ کر عبیرہ خان کی گاڑی کی لوکیشن پر ڈال دی تھی۔۔۔

عبیرہ، مائرہ کو اس کے گھر ڈراپ کرتی ہوئی اپنے گھر کی جانب نکلی۔۔۔

سارے راستے مائرہ، یارم کا نام لے کر عبیرہ کو تنگ کرتی آئی تھی۔۔۔

وہ باتیں بھی آریان خان کے دماغ میں محفوظ ہو چکی تھیں۔۔۔

پتہ نہیں قسمت عبیرہ کے لیے کون سا فیصلہ کرنے والی تھی۔۔۔

وہ تو یارم کے ساتھ اپنی نئی زندگی کے خواب دیکھ رہی تھی۔۔۔

اور آریان خان تو اس کے خوابوں کو جلانے کی تمنا دل میں لیے اس کی طرف تیزی سے بڑھ رہا تھا۔۔۔

کبھی کبھی انسان آنے والے خطرے سے کتنا بے خبر ہوتا ہے۔۔۔

جیسے اس وقت عبیرہ، جو اپنی گاڑی کی بیک سیٹ سے ٹیک لگائے، آنکھیں بند کیے، یارم کے خواب آنکھوں میں سجائے ہوئے اپنی خوشیوں میں مگن تھی۔۔۔ ═══════❖═══════

گاڑی ایک دم چر کی آواز سے رک گئی تھی۔
بہت بری طرح سے گاڑی کو بریک لگا کر روکا گیا تھا۔

عبیرہ جو یارم کے خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی گاڑی کی بریک اور بریک کی آواز سے گھبرا کر آنکھیں کھول کر دیکھنے لگی۔

اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتی گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے ڈرائیور کو کھینچ کر بار سڑک پر پھینکتے ہوئے عبیرا کی جانب کا دروازہ کھولا گیا اس سے پہلے کہ عبیرا اپنے ہوش سنبھال کر دروازے کو لاک کرتی مقابل اس کی کلائی کو تھامتے ہوئے اسے کھینچ کر گاڑی سے باہر نکال چکا تھا۔۔۔

وہ کون تھا عبیرا بالکل نہیں جانتی تھی۔
اس نے چہرے پر بلیک کلر کا ماسک لگا رکھا تھا مگر اس کی آنکھوں کی چمک اور خوبصورتی بتا رہی تھی کہ وہ بے انتہا خوبصورت ہے۔

بلیک کلر کے ماسک میں اس کا گورا دمکتا چہرہ سورج کی گرمی سے سرخ ہو رہا تھا۔

ڈرائیور سڑک سے اٹھ کر کھڑا ہوتے ہوئے نمک حلالی کرتے بھاگ کر اس لڑکے کا گریبان پکڑنا چاہتا تھا۔

مگر اس سے پہلے مقابل نے پسٹل نکالتے ہوئے اس کی کھوپڑی پر رکھ دیا۔

اب پسٹل کو دیکھ کر تو بڑے بڑوں کی اکڑ ٹوٹ جاتی ہے بیچارہ ڈرائیور کیا چیز تھا۔

ڈرائیور کو اس شخص نے دھکا دیتے ہوئے گاڑی کے اندر ڈالا اور ہاتھ کے اشارے سے باہر نکلنے سے منع کر دیا۔

گاڑی اس وقت سنسان ایریے سے گزر رہی تھی۔

اس سے پہلے کہ کوئی یہ سمجھ پاتا کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے۔

مقابل نے عبیرا کو دھکا دے کر اپنی چمچماتی ہوئی گرے کلر کی گاڑی کے اندر دھکا دیا اور خود بھی بیٹھ گیا۔

ڈرائیور اپنی سیٹ کو سنبھالتے ہوئے تیز رفتار ہوا میں اڑتا ہوا گاڑی کو لے جا رہا تھا۔

کون ہو تم ۔عبیرہ بری طرح سے چلائی تھی ۔
مقابل خاموش بیٹھا ہوا قہر الود نظروں سے اس کو دیکھ رہا تھا اس کے چہرے پر اب بھی ماسک لگا ہوا تھا۔

آنکھوں میں اس قدر غصے کی آگ تھی کہ عبیرا خوفزدہ ہونے لگی۔

اس کی آنکھوں کو دیکھ کر عبیرا کو ایک عجیب سا خوف طاری ہونے لگا۔

اس کا پورا وجود کپ کپا رہا تھا۔
ڈرائیور سڑک پر ایسے دیکھ رہا تھا جیسے اس نے اگر ایک انچ بھی نظر ادھر سے ادھر کی تو سڑک نے غائب ہو جانا ہے۔

گاڑی ٹریفک میں آ کر رکی تو عبیرہ کی جان میں جان آئی اسے لگا کہ شاید وہ خود کو بچا لے گی۔
وہ گاڑی کے شیشے سے باہر دیکھ کر کسی کو ہیلپ کے لیے پکارنا چاہتی تھی ۔
مگر مقابل بہت شاطر تھا اس کے ارادے کو بھانپتے ہی اس نے عبیرا کے چہرے پر سخت ہتھیلی رکھ کر اس کی آواز کو حلق میں ہی دبا دیا۔

اسے اس انداز سے اپنی گود میں دبا کر رکھا جیسے عبیرہ سو رہی ہو۔

عبیرا کے جھٹپٹاتے وجود کو اس نے اپنی گرفت سے قید کر رکھا تھا۔

اور چہرہ سامنے کیے دائیں بائیں نظروں کو گھما کر آرام سے دیکھ رہا تھا ۔
وہ اس انداز سے بیٹھا تھا جیسے کچھ بھی نہ ہوا ہو جبکہ اس نے ایک لڑکی کے منہ پر ہاتھ رکھ کے اس کی آواز کو دبا رکھا تھا۔

ایک لڑکی کو اغوا کر کے لے جا رہا تھا۔
مگر مجال ہے کہ مقابل کے چہرے پر ذرا سی شکن بھی نظر آرہی ہو۔

اس کے وجود سے اس قدر خوشبو اڑ رہی تھی کہ عبیرا کی سانسیں بند ہونے لگی۔
اتنی منفرد خوشبو عبیرا نے آج سے پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی ۔

مقابل جو کوئی بھی تھا بہت شوخ مزاج اور خود کو سنوارنے والی شخصیت رکھتا تھا۔

مقابل کے لباس اور خوشبو سے اندازہ ہو رہا تھا کہ مقابل خود سے بہت پیار کرتا ہے۔

عبیرا کی سوچ اس کے دماغ کے اندر ہی دم توڑ گئی ۔

گاڑی ٹریفک کھلتے ہی ہوا کی طرح اڑتی ہوئی اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی اس کی منزل کہاں تھی عبیرا بالکل نہیں جانتی تھی۔

عبیرا کے ذہن میں ہزار طرح کے وسوسے آرہے تھے۔
کہ آخر وہ اسے کہاں لے جا رہا ہے وہ اس کے ساتھ کیا کرنے والا ہے کیا وہ اس کو مار دے گا ۔

یا یہ شخص اس کی عزت کا دشمن ہے۔
ہزاروں سوال مگر جواب ایک بھی نہیں۔

مقابل سارے راستہ خاموش ہو کر بیٹھا رہا تھا۔

اور عبیرہ کی آواز کو اس نے اپنی ہتھیلی سے دبا رکھا تھا۔
گاڑی ایک بہت بڑے محل نما بنگلے کے سامنے آ کر کھڑی ہوئی۔
لکڑی کا قدیم خوبصورت گیٹ کھولا گیا۔
دونوں طرف گارڈز کی لائن لگی ہوئی تھی۔
گاڑی دروازے کے اندر جا کر اپنے مقام پر رک گئی۔

مگر کوئی بھی گارڈ اندر نہیں آیا تھا دروازے کو باہر سے ہی بند کر دیا گیا۔

عبیرا کے ہوش برخستہ ہو چکے تھے۔
جھٹپٹاہٹ سے بال کی لٹیں کھل کر اس کے چہرے پر آ چکی تھیں ۔
حجاب کھل چکا تھا۔
ڈرائیور نے اس شخص کی سائیڈ کا دروازہ کھول دیا۔

سر میں آپ کی مدد کروں ان کو اندر لے جانے میں۔
عبیرا جو مسلسل جھٹپٹا کر خود کو ازاثد کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔

اس کی جھٹپٹاہٹ کو دیکھتے ہوئے ڈرائیور نے اپنا فرض نبھاتے ہوئے پوچھا تھا کہ اس کی ہیلپ کی کوئی ضرورت ہے یا نہیں ۔
مگر مقابل نے جس قہر زدہ نظروں سے اس کی جانب دیکھا تھا ڈرائیور نے سوری سر کہتے ہوئے فوراً سے گیٹ سے باہر کا رخ کیا تھا ڈرائیور جیسے گیٹ سے باہر نکلا دروازہ بند ہو چکا تھا۔

مم ۔۔م۔۔۔میں آپ کے ساتھ نہیں جاؤں گی۔۔۔
جیسے ہی اس کے منہ سے مقابل نے ہاتھ اٹھایا عبیرا نے لفظوں کو توڑتے ہوئے کہا۔
مقابل ایسے جیسے اس کی بات سن ہی نہیں رہا تھا ۔
گاڑی سے نیچے آرام سے اتر گیا اور اتر کر گھر کے اندر داخل ہو گیا۔

مطلب اسے ایسے ہی آزاد چھوڑ دیا۔

اسے تو لگا کہ وہ یہاں پر لاتے ہی عبیرا کو مارے گا یا اسے گھسیٹ کے اندر لے جائے گا ۔
مگر اس نے تو ایسا کچھ بھی نہیں کیا عبیرا حیران نظروں سے اس کو دیکھ رہی تھی ۔

وہ اپنا ماسک اتارتے ہوئے ہاتھ میں پکڑے گھر کے اندر داخل ہو چکا تھا۔

گھر کتنا خوبصورت ہے باہر سے دیکھ کر ہی اندازہ ہو رہا تھا ۔

وسیع خوبصورت گارڈن جس کی کیاریوں میں رنگ برنگے پھول کھل کر بہت ہی دل فریب منظر پیش کر رہے تھے۔

ایک سائیڈ پر لگے ہوئے ناریل کے درخت جس کے ساتھ بڑے بڑے ناریل کے گچھے لٹک رہے تھے۔

ان پر بیٹھے ہوئے آزاد پرندوں کو عبیرا نے حسرت سے دیکھا تھا۔

کچھ دیر پہلے وہ بھی تو آزاد تھی وہ کس قید میں آ کر پھنس گئی ہے ۔

وہ پاگلوں کی طرح چاروں اطراف میں نظریں دوڑا رہی تھی۔

وسیع گارڈن میں رکھے ہوئے خوبصورت مہنگے صوفہ سیٹ کے ساتھ رکھی ہوئی شیشے کی گول ٹیبل دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ اس گھر کے مالک کو گھر کی سجاوٹ سے بہت لگاؤ ہے۔

کھڑی ہوئی گاڑیاں دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ شخص گاڑیوں کا بہت شوقین ہے ہر نیا ماڈل اس کے پاس موجود تھا۔
ایک سائیڈ پر بنی ہوئی لمبی سی کیاری کے اندر بہت ہی مہنگے قسم کے پھول کھلے ہوئے تھے جن کے ارد گرد بہت سی تتلیاں اڑ کر ایک الگ ہی دنیا کا منظر بنائے ہوئے تھی۔

سب کچھ دیکھ کر عبیرا کچھ دیر کے لیے تو ایسے کھو گئی جیسے انسان موت کے قریب ہو اور سب کچھ بھول کر شہد کی مٹھاس میں لگ جائے۔

مگر پھر ہوش کی دنیا میں واپس آتے ہی وہ باہری دروازے کی جانب بھاگی تھی۔
اس نے بہت دروازہ پیٹا مگر باہر تو جیسے سب لوگ گونگے بہرے بیٹھے ہوئے تھے کسی نے نہ کوئی آواز دی اور نہ ہی دروازہ کھولا۔

وہ روتی ہوئی بکھری ہوئی حالت لیے گاڑی کے ساتھ واپس آ کے ٹیک لگا کر کھڑی ہو گئی۔
باہر اسے کوئی جانے نہیں دے رہا تھا مگر اندر وہ جانا نہیں چاہتی تھی۔
یہ شخص کیا کرنا چاہتا تھا اس کی کیا نیت تھی اور کچھ بھی تو نہیں جانتی تھی۔
اس کا پورا وجود خوف سے لرز رہا تھا پسینے کی بوندیں ماتھے سے لے کر پاؤں تک اسے بھگو رہی تھیں۔

اس نے محسوس کیا کہ باہر کا مین گیٹ تھوڑا سا کھلا ہے ۔

اس سے پہلے کہ وہ کھلے ہوئے تھوڑے سے دروازے کو دیکھ اس جانب بھاگتی اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔

آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں۔
وہ الٹے قدموں گھر کے اندرونی دروازے کی جانب بھاگی تھی کیونکہ ایک بہت بڑا بد شکل قسم کا کتا گیٹ سے اندر آیا اور سیدھا جیسے عبیرہ پر اٹیک کرنے والا ہو اس کی طرف آ رہا تھا ۔
عبیرا پاگلوں کی طرح بھاگتی ہوئی گھر کے اندر داخل ہوئی۔

وہ کتا رکا نہیں تھا عبیرا کے پیچھے بھاگتا ہوا وہ بھی گھر کے اندر داخل ہوا۔
عبرا بھاگتے ہوئے جاگ کر کسی زوردار چیز سے ٹکرائی تھی۔

اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتی مقابل کی خوشبو اسے بتا چکی تھی کہ یہ وہی شخص ہے جو اسے یہاں تک لے کر آیا ہے۔
اتنی بے تابی میری قربت کے لیے کہ سیدھا سینے سے آ لگی ہو مس عبیرا تبریز خان۔

مقابل نے اس کے نام کے ساتھ اس کے بابا کا نام اتنی صفائی سے لیا جیسے اسے سالوں سے جانتا ہو۔

عبیرا نے حیران نظروں سے اسے دیکھا مگر اس سے پہلے کہ وہ اسے کوئی جواب دیتی اس نے پلٹ کر دیکھا وہ کتا اسے خون خوار نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔
اب عبیرا نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے سینے میں سر چھپائے کانپنے لگی تھی۔
پپ۔۔۔پ۔۔پلیز مجھے بچا لیں یہ مجھے مار دے گا عبیرا نے بامشکل۔

ڈونٹ وری مس عبیرا خان یہ آپ کو نہیں کھائے گا۔
کیونکہ آپ کو مارنے اور تڑپانے کا حق صرف اور صرف آریان خان کو ہے۔

اس کا بار بار مس عبیرا خان کہنا اسے یارم کی یاد دلا رہا تھا۔
وہ بالکل اسی انداز سے اس کا نام لے رہا تھا۔
جیک جاؤ اب یہ میری قید میں خود بھاگ کر آئی ہیں چاہ کر بھی واپس نہیں جا سکتی۔

اس نے بھاری آواز میں اس کتے کو جانے کے لیے کہا اور وہ کتا اس شخص کی آواز سے چلا گیا ۔
جیسے اس کو سب بات سمجھ میں آگئی ہو۔
عبیرا حیران اور پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

عبیرا جھٹکے سے اس سے دور ہوئی مقابل نے ماسک سے چہرہ آزاد کر لیا تھا ۔
بے شک وہ بہت خوبصورت تھا۔

خوبصورت لفظ اس کے سامنے چھوٹا تھا مگر اس کی آنکھوں میں شرم و حیا نہیں تھی۔

بے باک نظریں عبیرہ کے اندر تک ایکسرے مشین کی طرح دیکھ رہی تھیں۔

عبیرا کو ایسے مردوں سے سخت نفرت تھی۔
اب عبیرہ خان آج تو یہ جھٹک کر مجھے خود سے دور کرنے کی گستاخی کی ہے ۔
مگر دوبارہ ایسا مت کرنا پہلے ہی تم بہت کچھ ایسا کر چکی ہو ۔

جس کی سزا بھگتے بھگتے تمہاری زندگی گزر جائے گی۔
سزا ختم نہیں ہوگی۔۔

اس نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا تھا۔وہ قدموں کو اٹھاتا ہوا اس کے قریب آ رہا تھا۔

وہ خوفزدہ ہو کر پیچھے کو ہو رہی تھی۔
جاتی بھی تو کہاں جاتی باہر وہ بھیانک بد شکل کتا تھا۔

اور اندر یہ جنگلی انسان اس کے دماغ میں کیا تھا وہ نہیں جانتی تھی۔

کیا چاہتے ہیں مجھ سے میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے ۔
جو آپ مجھے یوں رسوا کر رہے ہیں۔بڑی ہمت سے یہ لفظ عبیرہ خان نے کہے تھے۔

تم نے میرا کیا بگاڑا ہے یہ جاننے کے لیے تو پوری زندگی پڑی ہے ۔

مگر اس وقت جو تم نے کیا ہے وہ یہ کہ تمہاری ہمت کیسے ہوئی کہ تم نے ڈی ایس پی کو اپنے پیار کا دانہ ڈالتے ہوئے خود میں الجھانے کی کوشش کی ہے۔

عبیرا نے حیران نظروں سے اس کی جانب دیکھا تھا۔
مطلب کہ وہ یارم خان کو جانتا ہے اس نے دماغ میں سوچا۔

میں تم سے جوڑی ہر بات جانتا ہوں۔

عبیرا خان نے حیران ہو کر اس کی جانب ایک بار پھر سے دیکھا۔

وہ کچھ بھی تو نہیں بولی تھی اور وہ بنا بولے اس کے دماغ میں آنے والی بات کو پڑھ چکا تھا ۔

عبیرا کو اس شخص سے خوف آنے لگا تھا۔
کیا یہ شخص غیب کی باتیں سن سکتا ہے۔

اگر میں نے ڈی ایس پی یارم خان سے کچھ باتیں کی ہیں۔ تو اس کے لیے میں آپ کی جواب دہ نہیں ہوں میں اپنے گھر والوں کو اس کا جواب دے دوں گی۔
آپ ہوتے کون ہیں مجھ سے میری ذاتی زندگی کے بارے میں سوال کرنے والے۔

عبیرا کو بڑا ناگوار لگا تھا مقابل کا اس سے ذاتی سوال پوچھنا۔

Interesting
very interesting

مقابل کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری تھی۔

بڑی اوقات ہو گئی ہے تمہاری۔اس ڈی ایس پی سے دو ملاقاتیں کرنے کے بعد تمہاری تو زبان قینچی کی طرح چلنے لگی عبیرا تبریز خان۔
اس کے لہجے میں طنز تھا ۔

آنکھوں میں نفرت اور غصے کی آگ تھی۔
وہ کیوں اس سے اتنی نفرت کرتا تھا۔

عبیرہ نہیں جانتی تھی کیونکہ اس نے تو آج پہلی بار اس شخص کا چہرہ دیکھا تھا۔

بن دیکھے کوئی اتنی گہری دشمنی کیسے رکھ سکتا ہے ۔

وہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہی تھی۔

ہاں ہو گئی ہے زبان تیز کیونکہ وہ عورتوں کی عزت کرتے ہیں ۔

اور آپ کی طرح کسی کی عزت کو یوں راستے سے اغوا کر کے نہیں لے جاتے۔

بلکہ وہ تو حراساں ہونے والے لڑکیوں کا سہارا ہیں۔
جو ہر لڑکی کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ایسے شخص کو کون نہیں اپنا ہمسفر بنانا چاہے گا۔

اور آپ نے جہاں تک میرے بارے میں نالج حاصل کی ہے ۔
بالکل ٹھیک کی ہے ہاں میں بہت جلد اس سے شادی کرنے والی ہوں۔

آپ کو اس بات سے اعتراض کیوں ہے۔

شادی کرو گی وہ بھی تم اس ڈی ایس پی سے۔

تمہیں تو میں تمہاری مرضی سے سانسیں لینے کا حق نہیں دیتا۔

اور تم سوچ رہی ہو کہ تم میرے ہوتے ہوئے اس ڈی ایس پی سے شادی کرو گی۔

مقابل نے جھپٹ کر اس کے جبڑے کو اتنی سختی سے دبایا تھا کہ عبیرہ کو پکا یقین تھا ،کہ جبڑے کی کرچیاں کر کے یہ شخص دم لے گا۔

عبیرا نے بے جان سی کوشش کی تھی اپنے جبڑے کو دونوں ہاتھوں سے چھڑوانے کی۔

مگر مقابل کی گرفت اس قدر سخت سی کہ عبیرا اپنے جبڑے کو چھڑوانے میں پوری طرح سے ناکام تھی۔

عبیرا اس کے سامنے کمزور سی لڑکی تھی۔

مقابل جسامت میں اس سے بہت لمبا چوڑا تھا اور کھا کھا کر بھی سانڈ کی طرح پلا ہوا ۔
مگر کسرتی جسم کا مالک تھا۔

یہ سب عبیرا کے اندر کی سوچ تھی۔

اسے اس شخص پر غصہ آرہا تھا مگر اپنا غصہ اتار نہیں سکتی تھی۔

عبیرا خان تمہیں ابھی تک مہلت دے رہا تھا ۔

کہ تم ذرا میرے تشدد اور قہر کو جھیلنے کے لائق ہو جاؤ۔

مگر یہ موقع تم نے خود ہی گنوا دیا ہے۔
اب تم یہاں سے اسی صورت رہائی پا سکتی ہو جب تم میرے ساتھ نکاح کرو گی۔
یہ سن کر تو عبیرہ کے حواس برخاستہ ہو گئے تھے۔
اسے اس شخص سے ایسی کوئی امید نہیں تھی۔

اس نے سوچا تھا کہ شاید یہ شخص اس کو حراساں کر کے اس کے گھر والوں سے کوئی رقم کا مطالبہ کرے گا۔
یا اس کی عزت پر گندی نظریں رکھتے ہوئے اپنے سوچ پر عمل کرے گا۔

مگر اس شخص نے جو کچھ کہا تھا وہ حیران تھی کہ وہ اس سے نکاح کرنا چاہتا تھا مگر کیوں۔

دیکھنے میں وہ بہت خوبصورت اور امیر شخص لگ رہا تھا۔

جس میں کوئی کمی نہیں تھی کہ وہ یوں کسی لڑکی کو اغوا کر کے اس سے نکاح کا مطالبہ کرتا ۔

وہ جتنا خوبصورت تھا کوئی بھی لڑکی راضی خوشی اس سے شادی کر لیتی ۔
مگر وہ عبیرا کے ساتھ شادی کرنا چاہتا تھا ایسا کیوں وہ سوچ میں مبتلا تھی۔

چڑیا کے جتنے دماغ پر ضرورت سے زیادہ بوجھ ڈالنے کی ضرورت نہیں۔
تمہارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ آریان خان تم سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔

ورنہ تم جیسی روز راتوں کو میرے بستر کی زینت بنتی ہیں ۔

لفظوں میں بے باکی اور نظروں میں بے شرمی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔

جھٹکے سے اس کا جبڑا خود ہی آزاد کرتے ہوئے قہر آلود نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

مم ۔م۔۔۔میں آپ سے نکاح نہیں کرنا چاہتی۔
وہ روتے ہوئے بول رہی تھی وہ بہت خوف زدہ ہو چکی تھی۔

چچچ۔۔چچ۔۔۔چچچ میں نے تم سے پوچھا کہ تم مجھ سے نکاح کرنا چاہتی ہو یا نہیں۔

تمہاری اوقات کیا ہے کہ تم مجھے انکار کرو۔
میں نے آرڈر دیا ہے کہ تم ابھی اور اسی وقت مجھ سے نکاح کرو گی۔
اگر آزادی چاہتی ہو تو۔

وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے ہوئے بڑے پر اعتماد انداز سے کھڑا تھا۔

جیسے اسے یقین ہو کہ عبیرا نکاح کے لیے انکار کر ہی نہیں سکتی۔

میں آپ سے نکاح نہیں کروں گی۔
کسی لڑکی کو دھمکا کر زبردستی نکاح کرنا غیر قانونی ہے۔

اچھا مجھے تو یہ پتہ ہی نہیں تھا۔
اچھا ہوا کہ تم نے مجھے پاکستان کا قانون سمجھا دیا۔
کہ کسی لڑکی کے ساتھ اس کی مرضی کے خلاف نکاح کرنا غیر قانونی ہے۔

واہ مائی گاڈ میں تو ڈر گیا اب کیا ہوگا مجھے تمہیں چھوڑ کر آنا پڑے گا۔

مقابل اس کی بے بسی کا مذاق اڑا رہا تھا۔

آپ میرے بابا کو نہیں جانتے میرے بابا آپ کے ٹکڑے کر دیں گے ۔
ہر بیٹی کی طرح عبیرا نے بھی اپنے باپ کی دھمکی دی۔

ہر بیٹی کے لیے باپ ایک مضبوط سہارا ہوتا ہے ۔

عبیرہ کو کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا تو اس نے اپنے بابا کا ڈر دکھاتے ہوئے آزاد ہونا چاہا ۔

چلو آؤ تمہیں ڈیمو دکھاتا ہوں۔
اس نے ریموٹ اٹھا کر بڑی سی سکرین پر ایک ویڈیو پلے کی عبیرا پھٹی ہوئی نگاہوں سے اس ویڈیو کو دیکھ رہی تھی۔
کیونکہ وہ کسی مووی کا سین نہیں تھا۔

اس کی نظروں کے سامنے اس کے بابا بیٹھے ہوئے تھے۔

جو شاید کسی بیچ ایریا میں بیٹھے ہوئے میٹنگ کر رہے تھے۔
اور ان کے پیچھے گارڈز گن تانے ہوئے کھڑے تھے۔

یحیی ۔۔۔ی۔۔۔یہ تو میرے بابا ہیں۔
وہ سکرین کی طرف دیکھ کر ہکلاتے ہوئے بولی ۔
جج۔۔جی۔۔۔جی۔۔۔یہ تمہارے بابا ہیں۔
یہی تو دکھانا چاہتا ہوں کہ جس بابا کا ڈر مجھے دے رہی ہو۔
ان کی تو خود کی زندگی محفوظ نہیں ہے۔

یہ جو پیچھے کھڑے ہوئے گارڈز دیکھ رہی ہو یہ میرے خاص بندے ہیں ۔

میرے ایک اشارے پر تمہارے باپ کی کھوپڑی اڑانے میں دیر نہیں لگائیں گے۔

بکواس سب بکواس یہ میرے بابا کے گارڈز ہیں۔

ایسا کبھی نہیں ہو سکتا تم صرف مجھے ڈرانے کے لیے یہ سب کر رہے ہو۔

عبیرا نے اپنی عقل کا استعمال کرتے ہوئے ویڈیو کو جھٹلا دیا۔

ہممم مطلب کہ بنا ثبوت کے نہیں مانو گے۔

نیچے بیٹھ جاؤ۔
کان میں لگی ہوئی بلوٹوتھ پر اس نے آرڈر دیا تھا۔

عبیرا دیکھ کر حیران ہو گئی۔

وہ دونوں گارڈ نیچے بیٹھ گئے تھے۔
وہ اس کے بابا سے تھوڑی دوری پر کھڑے ہوئے تھے تو اس کے بابا اپنی میٹنگ میں مصروف تھے۔

ارد گرد کیا ہلچل ہو رہی ہے ان کو کچھ اندازہ نہیں تھا۔

سٹینڈ اپ ۔دونوں گارڈ اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔

رائٹ دیکھو۔

دونوں گارڈز نے ایک ساتھ رائٹ سائیڈ پر دیکھا تھا۔
لیفٹ دیکھو۔

گارڈز نے اس کے حکم کی پوری تکمیل کی۔
اب اور کیا ثبوت چاہتی ہو جس سے تمہیں اندازہ ہو جائے کہ یہ میرے بندے ہیں۔

مجھے نہیں یقین آپ نے کوئی بھی چکر چلایا ہوگا ۔

مگر ایسا نہیں ہو سکتا۔

عبیرا بھی اپنے دل کو یقین دلائے ہوئے تھی۔
کہ وہ شخص جھوٹ بول رہا ہے۔

شوٹ ہم۔
نن۔۔۔نن۔۔۔ نو
ایسا مت کیجئے گا۔

مگر اس سے پہلے ہی اس کے بابا کے کاندھے پر گولی لگ چکی تھی۔

مگر وہ حیران تھی کہ گولی ان گارڈز نے نہیں ماری تھی۔

کہیں دور سے نشانہ لے کر اس کے بابا کے کاندھے پر گولی ماری گئی۔

اس کے بابا کی سکائی بلو کلر کی شرٹ خون میں لت پت ہو چکی تھی۔

وہ درد سے کرا رہے تھے جلدی سے ان کو اٹھا کر گاڑ کے ہمراہ گاڑی میں لے گئے۔

عبیرا چیخ چیخ کر روتے ہوئے اپنے بابا کو آوازیں دے رہی تھی۔
جیسے اس کے بابا اس کے پاس بیٹھے ہوں۔

اور رونا دھونا بند کرو یہ سب ڈرامہ بازی بھی کر لینا۔

نکاح کے لیے تیار ہو جاؤ۔

نہیں آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے۔

نکاح کوئی چھوٹی چیز نہیں ہے۔
آپ چاہیں تو میرے بابا سے بہت بڑی رقم مانگ سکتے ہیں۔
وہ میری جان کی خاطر آپ کو دے دیں گے۔
مگر پلیز ایسے میری عزت کو رسوا نہ کریں۔
وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے رو رو کر بول رہی تھی۔

جتنے پیسے تمہارا باپ مجھے دے سکتا ہے ۔
اتنے پیسے تو میں یوں ہی میرے ساتھ رات گزارنے والی اپنے گرل فرینڈز پر اڑا دیتا ہوں۔
بڑی آئی پیسے کی دھونس جمانے والی۔
نکاح تو کرنا پڑے گا۔

بہت غرور تھا آریان خان کی باتوں میں۔

میں نکاح نہیں کروں گی۔

وہ روتے ہوئے ایک ہی رٹ لگائے ہوئے تھی۔

ایز یو وش نہیں نکاح کرنا تو مت کرو مجھے تو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔

میں تو ویسے بھی ہر روز ایک نئی لڑکی کے ساتھ اپنی شب رنگین کرتا ہوں۔

تو مجھے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا تمہارے ساتھ اپنی راتوں کو حسین بناتے ہوئے۔

بہت گھٹیا انسان ہو تمہیں کوئی فرق نہیں پڑ رہا ۔

کہ میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑ کر گڑگڑا کر بول رہی ہوں۔
کہ مجھے جانے دو۔
عبیرا جھجھلاتے ہوئے بول رہی تھی۔

اوئے۔
زبان کو لگام دے کر بولو ورنہ زبان کھینچ کر ہاتھ پر رکھ دوں گا۔

آریان خان نے سخت نظروں سے گھورتے ہوئے دیکھ کر کہا۔

اور آخری بار کہہ رہا ہوں۔
اگر نکاح کرنا چاہتی ہو تو ٹھیک ہے ورنہ آج کی رات میری بستر پر میرا سکون بن کر بچھ جانے کے لیے تیار رہنا۔

اور اگر ڈیمو دوبارہ دیکھنا چاہتی ہو تو جو کچھ تمہارے باپ کے ساتھ کیا ہے۔

وہ تمہارے بھائی کے ساتھ بھی کروا سکتا ہوں اور اب کی بار گولی کاندھے پر نہیں سیدھی سینے پر لگے گی۔

وہ دھمکی دیتے ہوئے اسے نکاح کے لیے منا رہا تھا۔

نہیں نہیں نہیں ۔

میرے بھائی کو کچھ مت کرنا۔
کسی کو بھی کچھ مت کرنا۔
میں نکاح کے لیے تیار ہوں وہ روتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر اس سے اپنے بھائی اور بابا کی زندگی کی بھیک مانگ رہی تھی۔

اتنا تو وہ جان چکی تھی کہ یہ سامنے کھڑا شخص جو بول رہا ہے وہ کرنے کی صلاحیت اور ہمت رکھتا ہے۔

وہ جو کوئی بھی تھا کوئی معمولی انسان نہیں اس کی پہنچ کافی دور تک تھی۔

سب کچھ پہلے سے ریڈی تھا۔
کچھ ہی دیر میں مولوی کو بلوا لیا گیا۔

عبیرا کا حجاب جو کھل کر شاید گاڑی میں گر گیا تھا۔

اس وقت وہ کھلے ہوئے بالوں میں کھڑی ہوئی تھی صرف گاؤں پہن رکھا تھا۔

کچھ بھی تو ایسا نہیں تھا جس کو سر پر لپیٹ لیتی۔

شاید اس کے دماغ میں خود ہی یہ بات آئی تو وہ چلتا ہوا باہر گیا۔

اور کچھ ہی دیر میں ہاتھ میں عبیرہ کا حجاب لے کر روم میں پہنچ چکا تھا۔

عبیرا کے سامنے سٹالر پھینکتے ہوئے اس اشارہ دیا کہ اس کو سر پر لے لے۔

عبیرا نے زبردستی دل کو منا کر روتے ہوئے باپ اور بھائی کی زندگی بچانے کے لیے سر پر سٹالر سے حجاب کر لیا۔

کچھ ہی دیر میں مولوی صاحب اور گواہ روم میں آ چکے تھے۔

عبیرا کو روتے ہوئے دیکھ مولوی صاحب نے غصے بھری نگاہوں سے آریان خان کی جانب دیکھا ۔

دیکھو برخوردار میں لڑکی کی رضامندی کے بغیر نکاح نہیں کرواتا۔

لڑکی کی رضامندی کے بغیر نکاح کرانا حرام ہے۔

مولوی صاحب نے سخت لہجے سے کہا ۔

اچھا اگر لڑکی کے ساتھ نکاح اس کی رضامندی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

تو پھر یہ لڑکی تو راضی ہونے والی نہیں ایک کام کریں سنا ہے کہ آپ کی بیٹی بہت خوبصورت ہے۔

تو جا کر اس کو میرے نکاح میں آنے کے لیے راضی کریں۔
آریان خان نے کورٹ ورڈ میں مولوی صاحب کو یہ دھمکی دی تھی کہ اگر اس لڑکی سے اس کا نکاح نہیں کروایا تو وہ اس کی بیٹی کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے۔

مطلب اس کی بیٹی کی عزت خطرے میں ہے۔

لاحول والا قوت۔۔
مولوی صاحب نے غصے سے کہتے ہوئے نکاح نامے کا رجسٹر کھول دیا تھا ۔

اب اپنی بیٹی کے نام پر تو بہت جلدی قاعدے اور قوانین بھول گئے ہو۔

آریان خان نے مولوی صاحب پر طعنہ کستے ہوئے کہا۔
مولوی صاحب اس کی بات پر دھیان دیے بغیر نکاح شروع کر چکا تھا۔
ارد گرد کھڑے ہوئے گواہ ایسے نظریں نیچے جھکائے ہوئے تھے جیسے اوپر دیکھنا قانوناً جرم ہو۔

کیا آپ کو آریان خان سے 15 لاکھ حق مہر کے عوض یہ نکاح قبول ہے۔

قبول ہے قبول ہے قبول ہے۔۔

عبیرا جو مسلسل رو رہی تھی اپنے بھائی اور باپ کی زندگی بچانے کے لیے وہ ایک ہی سانس میں تین بار قبول ہے بول چکی تھی۔۔۔

دونوں کے سگنیچر لے کر مولوی جا چکا تھا۔

واہ واہ عبیرا خان تم تو بہت اتاولی تھی میرے نکاح میں آنے کے لیے۔
بنا مولوی صاحب کے پوچھے ہی تین بار قبول کر لیا ہے۔

وہ شخص کتنا سفاک تھا اس کی بے بسی پر سفاکی سے قہقہے لگا لگا کر ہنس رہا تھا۔

آپ جیسے شخص کو تو میں مر کر بھی کبھی اپنی زندگی میں قبول نہ کرتی۔

اگر تم میرے بابا پر گولی نہ چلواتے۔
بہت عزیز ہیں وہ دونوں لوگ جن کی جان کی دھمکی دے رہے ہو۔

اور جب انسان اپنے پیاروں کھونے سے ڈر رہا ہوتا ہے۔ تو ان کو بچانے کی خاطر انسان کبھی کبھی کسی ایسی چیز کو بھی قبول کرنے کو تیار ہو جاتا ہے ۔

جس کو دیکھ کر ہی نفرت اور کراہت محسوس ہو رہی ہو۔

نکاح کے بعد جو عبیرا کے دماغ میں غصہ تھا اس نے لفظوں میں زہر گھولتے ہوئے اتار دیا۔

سوچ لو اس نفرت اور کراہت کو کچھ دنوں بعد تم نے اپنے حواسوں پر محسوس کرنا ہے۔

اتنی ہی بکواس کرو جتنی کی سزا تم برداشت کر سکتی ہو۔

اس کے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر کھینچتے ہوئے اسے شدید تکلیف سے دوچار کرتے ہوئے گھور کر کہا۔

بالوں کی جڑیں اسے سر سے اکڑتی ہوئیں محسوس ہو رہی تھی وہ درد کی شدت سے رو رہی تھی۔

مگر مقابل پر اس کے رونے کا کوئی اثر نہیں تھا۔
کچھ دیر بعد عبیرا کو وہ اس کے گھر کے دروازے کے قریب اتارتے ہوئے گاڑی اڑا لے گیا تھا۔

عبیرا چلتی ہوئی اپنے گھر کے دروازے کے قریب آگئی ۔

ڈرائیور اور گھر کے گارڈ جو عبیرہ کو یوں دیکھ کر حیران ہو گئے تھے۔

کیونکہ ڈرائیور نے تو یہی بتایا تھا کہ عبیرا کیڈنیپ ہو چکی ہے۔
مگر عبیرا کو یوں گھر آتے دیکھ کر سب حیران تھے۔

═══════❖═══════

Ye qist novel “Saleeb Sukoot” ki ek qist hai, takhleeq Hayat Irtaza, S.A ki.Agli qist mutalea karne ke liye isi novel ki category “Saleeb Sukoot” mulaahiza karein, jahan tamaam qistain tartiib war aur baqaida dastiyaab hain.💡 Har nai qist har Itwaar shaam 8:00 baje shaya ki jaayegi.

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *