Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:5

🕯️ صلیبِ سکوت
قسط نمبر:5
✍︎ حیات ارتضی S.A
═══════❖═══════
یارم جیسے ہی پولیس کی یونی فارم پہن کر ریڈی ہوا، پسٹل کو پینٹ کی بیک پاکٹ پر لگاتے ہوئے روم سے باہر آیا۔ آج اس کا ناشتہ کرنے کا موڈ نہیں تھا، اور وہ تیزی سے باہر جا رہا تھا۔

مگر اچانک، بھاگ کر، دونوں بازو پھیلا کر، اس کی جان سے پیاری بہن انشاء سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔

یارم نے مسکرا کر دیکھا۔ دونوں بازو سینے پر باندھے، فرمانبرداری سے کھڑا ہو گیا۔ دل جانتا تھا کہ اب اس شہزادی کی بات سنے بغیر وہ نہیں جا سکتا…

انشاء، جو ہمیشہ اپنے لالہ کو روکنے کے اپنے خاص انداز میں سامنے آتی تھی، آج بھی ویسی ہی کھڑی تھی۔ آنکھوں میں ہلکی شرارت، اور چہرے پر نرمی کی جھلک، تھی۔

“جی حکم؟ کیوں صبح صبح آفت کی طرح نازل ہو کر راستہ روک لیا ہے؟”
یارم مسکراتے ہوئے بولا، اور انشاء کے تاثرات پر دل ہی دل میں ہنسی چھپائی۔

لالا۔۔ آپ نے کہا تھا کہ بہت جلد آپ میری ملاقات، میری ہونے والی بھابھی سے کروائیں گے۔
انشاء نے ، پولیس والوں کے انداز میں پوچھا۔

“جی بالکل کہا تھا۔”
یارم نےسر خم تسلیم کرتے ہوئے مان لیا ۔

“تو پھر اب تک ملاقات کیوں نہیں کروائی۔؟اور کتنا انتظار کرنا پڑے گا آپ کو پتہ ہے لالہ مجھے انتظار کرنا بالکل پسند نہیں۔

“میڈم، کروا دوں گا۔ آپ کو اتنی جلدی کیوں ہے؟ جب کہا ہے تو ملاقات کروا دوں گا، تو پھر تھوڑا سا صبر کر لیں۔”

“یارم اپنی بہن کی چلبلی فطرت پر مسکراتے ہوئے لطف اندوز ہو رہا تھا۔”

جلدی بھلا کیسے نہیں ہوگی۔ میں اس لڑکی سے جلد از جلد ملنا چاہوں گی جو ساری زندگی میرے لالا کے ساتھ رہے گی ۔
وہ میرے لالا کے قابل بھی ہے یا نہیں مجھے یہ چھان بین کرنی ہے۔انشاء اپنے بھائی کی آنے والی زندگی کے لیے کافی محتاط نظر آرہی تھی۔۔

“میڈم، آپ کو دکھائے اور آپ کی رضا لیے بغیر میرا رشتہ پکا نہیں ہوگا، آپ بالکل بے فکر رہیں۔”

“وہ تو میں جانتی ہوں کہ آپ پر سب سے پہلا حق میرا ہے۔ آپ سب سے پہلے میرے لالا ہیں، اس کے بعد ہی آپ کسی اور کے ہوں گے۔ اور یہ بات آپ اپنی ہونے والی بیوی کو ضرور بتا دیجیے گا۔

انشاء کی باتوں میں اپنے بھائی پر مان اور محبت صاف جھلک رہی تھی۔ یارم اپنی پیاری بہن کے مان کو کبھی ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا تھا، اسی لیے اس نے طے کر رکھا تھا کہ بہن کی ہر بات پر لبیک کہنا اس پر لازم ہے۔”
“جو حکم میری بہنا۔
میں ایک کام کرتا ہوں، سب سے پہلے کاغذات تیار کرواتا ہوں اور ان پر یہ لکھوا دیتا ہوں کہ میں اپنی بہن کے حکم کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل سکتا۔
میری زندگی کے تمام اہم فیصلے کرنے کا حق صرف میری بہن کو ہے۔
پھر وہ کاغذات لے جا کر آپ کی ہونے والی بھابھی کے آگے رکھوں گا اور کہوں گا: دیکھو، میں نے سائن کر دیے ہیں، اب تم بھی ان پر سائن کر دو۔”یارم کے مونچھوں تلے لبوں پر مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔انشاء کے ساتھ ایسی پیار بھری نوک جھوک اس کی زندگی کو خوشگوار بنا دیتی تھی۔

“جی بالکل ایسا ہی کیجیے گا، تاکہ بعد میں انہیں مجھے قبول کرنے میں کوئی مشکل نہ ہو۔ مجھے ان سے اور کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، بس میرا بھائی سب سے پہلے میرا ہی رہے۔”

انشاء کو یارم کی مذاق میں کہی ہوئی بات دل سے اچھی لگی تھی۔
یارم اس کی معصوم سی انسیکیورٹی پر ہنسے بغیر نہ رہ سکا۔

یارم کے دل میں خیال آیا۔
“شاید بہنوں کا پیار ایسا ہی ہوتا ہے، انہیں لگتا ہے کہ بھابھی کے آجانے سے بھائیوں کا پیار کم ہو جاتا ہے۔
جب کہ بعض رشتوں میں ایسا ہی ہوتا ہے، وہ بھائی جو بچپن سے لے کر جوانی تک اپنی ہر خوشی، ہر غم اپنی بہن کے ساتھ بانٹتا ہے۔۔۔

ہمیشہ بہن بھائیوں کے درمیان جھگڑا ہو کر بھی محبت کی بنیاد قائم رہتی ہے۔۔۔

مگر ایک دن اچانک کوئی ایسی لڑکی اس بھائی کی زندگی میں آجاتی ہے جو آتے ہی سب سے پہلے بہنوں سے رشتہ توڑوانا شروع کر دیتی ہے۔۔۔

جس بھائی کو ہمیشہ اپنی بہن دنیا کی سب سے معصوم لڑکی لگتی ہے، شادی کے بعد اسی بھائی کو اپنی بہن شاطر لگنے لگتی ہے۔۔۔

ہر کوئی ایک جیسا نہیں ہوتا مگر آج کل بہنوں کے دلوں میں یہ ڈر جڑ پکڑتا جا رہا ہے کہ بھابیاں آئیں گی اور بھائیوں کو دور کر دیں گی۔۔۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ میں شادی کے بعد کتنا بدلوں گا۔ مجھے تو لگتا ہے کہ میں شادی کے بعد بھی اپنی بہن سے ذرا برابر بھی دور نہیں ہو سکتا۔
ہم دونوں کی ایک دوسرے میں جان بستی ہے۔۔۔ اب میری محبت یا میری آنے والی بیوی اس رشتے کو کمزور کرے گی یا مضبوط۔۔۔یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔”

اےمیرے اللہ! میری دعا ہے کہ میں کبھی نہ بدلوں۔ ہمیشہ انشاءاللہ کا لالہ بن کر اس کے چہرے کی مسکراہٹ بن کر اس کے ساتھ رہوں۔
اور مجھے ہمیشہ اتنا مضبوط رکھنا کہ میں بیوی، بہن اور ماں کے درمیان عدل و انصاف کر سکوں۔ میں کسی کا بھی حق نہیں دبانا چاہتا۔”
یہ دعا بے اختیار یارم کے دل سے نکلی تھی۔

“میری پیاری بہن، اگر انکوائری ختم ہو گئی ہے تو براہ کرم مجھے جانے دو۔ میں اپنے ہوش و حواس میں وعدہ کرتا ہوں کہ جو بھی تمہارا حکم ہوگا، میں دل سے مان لوں گا۔ سب کچھ ویسے ہی ہوگا جیسے تم چاہتی ہو۔ تمہاری اجازت کے بغیر وہ لڑکی میری زندگی میں داخل نہیں ہو سکتی۔ اور بہت جلد تمہیں اس سے ملواؤں گا، مجھے پوری امید ہے کہ تمہیں وہ پسند آئے گی۔

اور میں اسے پہلے ہی کہہ دوں گا کہ میری زندگی میں آنے سے پہلے، وہ تمہارے بنائے ہوئے تمام اصول و قواعد کی پابندی کرے…

پلیز، پلیز، اب مجھے جانے دو، میں لیٹ ہو رہا ہوں۔

یارم خان، جو کافی سٹرک آفیسر تھا، اپنی بہن کے سامنے سر جھکائے، ہر بات مانتے ہوئے، جانے کے لیے التجائی انداز اپنا رہا تھا۔ واقعی ایک بہت ہی پیارا بھائی تھا، یارم خان۔”
“ٹھیک ہے، اتنی منتیں کر رہے ہیں تو جائیں، مگر آتے وقت میرے لیے اچھی سی آئس کریم ضرور لائیں۔ انشاء نے، ہمیشہ کی طرح، آخر میں اپنی فرمائش کا اظہار کیا، جس کا یارم کو ہمیشہ سے انتظار رہتا تھا۔”

“آاااا۔۔۔”کیا بھائی، مت کریں! مجھے درد ہو رہا ہے
یارم نے اس کی چھوٹی سی ناک پکڑ کر خوب جھنجوڑ دیا۔

“کتنی آئس کریم کھاؤ گی؟ کھا کھا کر تو موٹی ہوتی جا رہی ہو۔
تھوڑا ڈائٹنگ کا دھیان رکھا کرو، اتنی کیلوریز صحت کے لیے اچھی نہیں ہوتیں۔”
“بھائی، میں ڈائٹنگ کر کے اپنی کیلوریز کم کر لوں گی، آپ میرے لیے میری فیورٹ مینگو آئس کریم لے کر آئیں گے؟”

“اوکے، میری ماں، راستہ چھوڑو۔”

“آتے ہوئے لیتا آؤں گا۔”

“دیکھ لینا، ایک دن تم نے مینگو آئس کریم کھا کھا کر خود بھی مینگو بن جانا ہے… اور پھر کسی لڑکے نے تم سے شادی نہیں کرنی!”

یارم نے ہنستے ہوئے اس کے سر پر جست لگائی۔
“مجھے شادی کرنی بھی نہیں ہے، مجھے ساری زندگی اپنے لالہ بابا اور اماں کے ساتھ رہنا ہے…”
وہ شادی کے نام پر منہ بناتے ہوئے بولی۔

“ایسا نہیں ہوتا، پاگل لڑکی، ایک نہ ایک دن ہر لڑکی کو اپنے گھر جانا ہوتا ہے…”
یارم کے لہجے میں شفقت اور محبت بھی تھی، اور تھوڑا سا دکھ بھی۔

“مجھے کہیں نہیں جانا، اور یہ میرا گھر نہیں… ایسا دوبارہ مت کہیے گا، ورنہ میں رونے لگ جاؤں گی۔”
وہ لاڈلا سا چہرہ بناتے ہوئے بولی اور سچ میں رونے لگ گئی تھی۔

اب بھلا یارم کہاں اس کا رونا برداشت کر سکتا تھا؟ اس کا دل تو تڑپ اٹھا۔ وہ انشاء کی آنکھوں میں ایک آنسو بھی نہیں دیکھ سکتا تھا، فوراً اپنی بہن کو گلے لگا لیا۔

“پاگل، اس میں رونے والی کون سی بات ہے؟ لڑکیاں خوشی خوشی شادی کر کے جاتی ہیں، ایک تم ہو۔ ڈرامہ کہیں، چلو چپ کر جاؤ، اگر بابا یا اماں نے دیکھ لیا تو کیا سوچیں گے؟ یارم نے انشاء کو نہ جانے کیا کہا کہ انشاء بیچاری رو رہی ہے، جبکہ ان کو پتہ ہونا چاہیے کہ انشاء خود بہت بڑا ڈرامہ ہے، جسے فضول میں رونا آ جاتا ہے…”

“میں فضول میں نہیں روتی، اپ! بات ایسی کرتے ہیں، پھر روتی ہوں۔ اب اپ جائیں، اپ کو دیر نہیں ہو رہی…”

“دیر ہو رہی ہے، مگر تمہیں روتا ہوا چھوڑ کر نہیں جا سکتا… لاڈو رانی۔”

“نہیں رو رہی، آپ جائیں، بس آتے ہوئے آئس کریم لیتے آئیں گے۔”
وہ “وہ شرارتی سا مسکرا دی۔”

اللہ کی پناہ، ناراضگی میں بھی اپنی آئس کریم نہیں بھولی… لالچ کی حد ہے! یارم نے اس کے سر پر ہلکی تھپکی ماری، ہنس دیا اور اپنی بہن کی شرارتی مسکراہٹ کو نظر انداز کرتے ہوئے، راہداری کی طرف قدم بڑھایا۔
گاڑی تک پہنچتے ہی اس نے آرام سے دروازہ کھولا، پیچھے بیٹھ کر ایک ہاتھ سے اپنی جیکٹ سیدھی کی اور دوسرے ہاتھ سے دروازہ بند کر دیا۔۔

یارم کی یہ ادا دیکھ کر، انشاء کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک اور ایک شرارتی مسکان پھر سے جاگ اٹھی۔

پتہ نہیں وہ کیسی ہوں گی، جو میرے پیارے لالہ کی زندگی میں آئیں گی…
ویسے جو بھی ہوں گی، بہت پیاری ہوں گی۔ میرے لالہ کی چوائس کوئی عام لڑکی نہیں ہو سکتی۔

انشاء نے اپنے دماغ میں سوچا اور اپنے دماغ میں ہی جواب دیا۔
نظر اپنے بھائی پر رشک کرتے ہوئے مرکوز رکھی ہوئی تھی۔

گاڑی سٹارٹ ہو چکی تھی اور دروازہ پار کر چکی تھی، لیکن وہ خیالات میں کھوئی رہ گئی۔
مگر شکر ہے کہ اسے ہوش تھوڑا جلد ہی آگیا۔ ہوش میں آتے ہی انشاء اپنے روم میں جا کر پڑھائی میں لگ گئی۔ انشاء کو پڑھائی کا بہت شوق تھا، مگر گھر سے باہر جا کر پڑھنے کی اجازت اسے کبھی نہیں ملی۔

پانچویں کلاس میں ہی اس کو سکول سے چھڑوا لیا گیا تھا۔ وہ اس وقت بہت روئی تھی، لیکن اس کی پڑھائی کا انتظام گھر پر کر دیا گیا۔ باقی کی تعلیم اس نے گھر بیٹھ کر ہی مکمل کی۔

ماضی میں کچھ تلخ یادیں تھیں، جن کی وجہ سے انشاء کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ یارم ایک بہت اچھا بھائی تھا؛ انشاء کی ہر چھوٹی بڑی خواہش کو پورا کرنا اس کا فرض تھا۔

مگر باہر جا کر پڑھائی کرنے کے معاملے میں وہ اپنے بابا سے بھی کہیں زیادہ سخت تھا۔ لڑکیوں کی تعلیم کرنے سے اسے کوئی مسئلہ نہیں تھا، مگر وہ اپنی بہن کو چار دیواری سے باہر بھیج کر بچپن میں گزرے ہوئے دردناک وقت کو دوبارہ نہیں دہرانا چاہتا تھا۔ اپنے ماضی کو وہ آج تک بھول نہیں سکا تھا۔

یارم خود آ کر انشاء کو پڑھایا کرتا تھا، اور گھر میں اسے پڑھانے والی استاد بھی خواتین تھیں۔ انشاء کا دل بہت چاہتا تھا کہ وہ باہر جا کر تعلیم حاصل کرے، مگر نہ اس کے بابا اور نہ ہی اس کے لالا نے کبھی اجازت دی۔ یہ دو لوگ اس کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتے تھے، اور ان کی اجازت کے بغیر وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی۔

اپنے شوق کو وہ گھر بیٹھ کر ہی پورا کیا کرتی تھی۔ پڑھائی میں کافی لائق ہونے کی وجہ سے، گھر بیٹھ کر بھی وہ اچھے پیپر دے کر کئی بار اول پوزیشن حاصل کر چکی تھی۔

اب انشاء نے میٹرک بہت اچھے نمبروں سے مکمل کر لیا تھا، اور وہ فرسٹ ایئر کی تیاری میں مصروف تھی۔

═══════❖═══════

“ایزل۔۔۔”
یہ صارم کی آواز تھی۔ وہ پاس کھڑا تھا مگر ایزل کو کچھ خبر نہ ہوئی۔ کانوں میں ہینڈ فری لگی تھی اور وہ موبائل پر نظریں جمائے اپنی ہی دنیا میں مست کچھ دیکھتے ہوئے دانت نکال رہی تھی۔

صارم خان ایزل کا پھوپھو زاد بھائی تھا۔ بچپن میں ایک حادثے کے بعد وہ اپنی ماں کے ساتھ ماموں کے گھر آ کر رہنے لگا تھا۔ تب اس کی عمر صرف پانچ چھ سال کی تھی۔ کسی گھر میں رہتے ہوئے اس نے اپنی تعلیم مکمل کی۔

صارم کو بچپن ہی سے کُکنگ کا شوق تھا۔ پڑھائی مکمل کرتے ہی اسی شوق کو بزنس بنا لیا۔ ایک چھوٹے سے ریسٹورنٹ سے شروعات کی اور اللہ تعالیٰ نے ایسی برکت دی کہ بزنس دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگا۔ جو کام محض شوق سے شروع کیا تھا، وہ آج ایک بڑی پہچان بن چکا تھا۔ پاکستان کے ہر بڑے شہر میں اس کے ریسٹورنٹ کی برانچز کھل گئیں۔ T.K Flavor Heaven Restaurant کا کھانا اتنا مشہور تھا کہ باہر سے آئے سیاح بھی یہاں کا ذائقہ چکھے بغیر واپس نہ جاتے۔
ایزل کو فنی ٹک ٹاک دیکھنے کا بےحد شوق تھا، مگر عام لوگوں جیسا نہیں۔ کانوں میں ہینڈ فری لگا کر وہ ویڈیوز دیکھتی اور کبھی کبھی اتنی زور سے ہنستی کہ اس کی ماں ڈر کر فوراً ڈانٹنے لگتی۔
۔۔۔۔۔

سارم نے پکارا، لیکن وہ موبائل پر نظریں جمائے رہی۔ کان میں ہینڈ فری لگی تھی۔
سارم نے چڑ کر اس کے کندھے کو ہلایا اور ہینڈ فری کان سے کھینچ لی۔

“ہمم۔۔۔” اس نے بس سرسری سا جواب دیا۔

“ایزل، اگر میری طرف منہ کر کے بات کر لو گی نا تو تمہارے موبائل کا ٹک ٹاک کہیں نہیں بھاگ جائے گا۔

“صارم بھائی، اگر میں شکل آپ کی طرف نہ بھی کروں تو آپ کو میری بات سمجھ میں آ جائے گی۔۔۔”ایزل نے ہلکی سی مسکراہٹ دبائی اور بغیر نظر اٹھائے بولی،

“ایزل کی بچی۔تم کبھی کوئی کام بحث کیے بغیر کر سکتی ہو؟”
“نہیں، آج تک تو ایسا ہوا ہی نہیں۔ آنے والے وقت کا کیا پتا۔ ویسے آپ پوچھنا کیا چاہتے ہیں؟لیں رکھ دیا میں نے موبائل۔”ایزل نے اپنا رخ سارم کی جانب کرتے ہوئے متوجہ ہو کر کہا۔

ایزل نے آخرکار موبائل نیچے رکھا اور تیوری چڑھا کر اس کی جانب روح کر چکی تھی۔
“اب بتائیں بھی صارم بھائی، آپ نے پوچھنا کیا ہے؟ آپ کو اندازہ ہے کتنی فنی ویڈیوز دیکھ رہی تھی میں۔۔۔ لیکن آپ اور آریان بھائی کو جب تک میرے فن کا بیڑا غرق نہ کر لیں سکون نہیں آتا۔ اگر آپ دونوں کی نظروں سے بچ جاؤں، تو پھر میری پیاری مورے میرے پیچھے پڑ جاتی ہے!”اپنا دکھڑا سنا رہی تھی جب کہ سارم کے لبوں پر ہنسی کھل گئی،مگر ایک آواز نے سب کچھ بدل دیا۔

“ماشاءاللہ، خدا کی قدرت ہے۔۔۔ مورے تمہارے پیچھے پڑ جاتی ہے؟ لڑکی، کبھی اپنی حرکتیں بھی دیکھ لیا کرو؟ قسم سے، اگر تم میری بیٹی نہ ہوتیں تو کب کی گھر سے نکال دیتا۔”

ایزل نے اواز کی صفت پلٹ کر دیکھتے ہوئے اپنا سر پکڑ لیا، “اے اللہ، میری قسمت خراب ہے،مجھے ماما کا نام ہی کیوں لینا تھا۔۔۔”

کیونکہ سامنے مورے تسبیح ہاتھ میں لیے حاضر تھی۔ اب ایزل کے نصیب میں آدھے گھنٹے کا لیکچر پکا تھا۔

بولو بولو ایزل تم مامی جان کے بارے میں کیا کہہ رہی تھی۔
صارم ایزل کی حالت سے محظوظ ہوتے ہوئے اسے تنگ کر رہا تھا ایزل نے گھور کر صارم کو خاموش رہنے کو کہا۔

ایزل جانتی تھی کہ صارم کے ہاتھ بات لگ گئی ہے اب تو وہ مورے سے اس کی خاطر تواضع کروا کر ہی چھوڑے گا۔۔

اسے ہمیشہ اپنی مامی سے ایزل کی طبیعت صاف ہوتے دیکھ مزہ آتا تھا اور بھلا وہ یہ موقع کیسے خالی جانے دیتا۔۔۔

یہ کیا کہے گی میرے بارے میں جب بھی منہ کھولے گی برا ہی بولے گی۔۔۔ہمیشہ کی طرح ایزل کی ماں کی بندوق کا رخ ایزل کی جانب ہو چکا تھا۔

“اللہ معاف کرے میں آپ کے بارے میں برا کیوں بولوں گی۔کیا مورے آپ بھی صارم بھائی کی باتوں میں آجاتی بیچاری ڈرتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
مورے کو سیریس ہوتے دیکھ ایزل کا ٹک ٹاک والا سارا نشہ اتر گیا۔

“صارم کوئی تمہارا دشمن نہیں ہیں ۔اور میں صارم کی باتوں میں کیوں آؤں گی ۔مجھے خود تمہاری حرکتوں کا پتہ ہے،۔۔

“کیا حرکتیں ہیں میری۔۔ آپ کو تو ہر وقت مجھ میں خرابیاں ہی نظر آتی رہتی ہیں۔۔۔ایزل نے خفا سامنہ بنا لیا۔۔

“کوئی ایک عادت اگر تم میں قابلِ تعریف ہو تو پلیز مجھے بتا دو۔۔۔ نہ تم میں لڑکیوں جیسا سلیقہ ہے، نہ ہی لڑکیوں والے گن۔ تم اور تمہارا بھائی۔دونوں ایک جیسے ہو!”

“ادھر صارم کو دیکھو، کتنا ہوشیار اور سمجھدار بچہ ہے۔ اور تم دونوں بہن بھائیوں نے میرے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ پتہ نہیں کس گناہ کی سزا کے بدلے خدا نے تم جیسے دو نمونے میرے گھر دے دیے!” آج تو ایزل کی مورے گلناز خان کا پارہ خوب ہائی تھا۔بیچاری ایزل کو اسی بات کا ڈر تھا کیونکہ اس کی مورے کا پارہ کب ہائی ہو جائے پتہ ہی نہیں چلتا۔

افضل خان اور گلناز خان، صارم کے ماما مامی تھے۔ ان کے دو بچے تھے۔۔بیٹا آریان خان اور بیٹی ایزل خان۔ ماشاءاللہ، دونوں ہی اپنی مرضی کے مالک۔

ایزل، لڑکی ہونے کے باوجود، کہیں نہ کہیں جھک جاتی تھی۔ لیکن آریان خان؟ اس کو لگام ڈالنے والا ابھی تک پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔ وہ کب گھر آتا، کب جاتا، کسی کو پتہ نہیں چلتا تھا۔

آج بھی آریان کا غصہ بیچاری ایزل پر نکل گیا۔ گھر کے ملازموں سے پتا چلا کہ آریان صاحب رات سے گھر پر ہیں، لیکن نہ ماں باپ کو سلام کیا نہ حال پوچھا۔ ابھی تو شاید نواب زادے آرام سے سو رہے تھے، اور صبح صبح ایزل ان کی جھنجھلاہٹ کا نشانہ بن گئی۔ بیچاری خیر اتنی بھی معصوم نہیں تھی، اپنی ماں کو خوب تنگ کرتی تھی، مگر اس کی حرکتیں شرارت میں لپٹی معصومیت لیے ہوتی تھیں۔

آریان خان ایک بے لگام، اڑیل گھوڑے کی طرح تھا۔۔۔دماغ پر صرف اپنی حکومت چلتی تھی۔ اچھے کاموں میں کبھی دلچسپی نہ لی، مگر الٹی سیدھی حرکتوں میں بڑی تیزی دکھاتا۔

صارم اور آریان، دونوں بہترین دوست تھے۔ اگرچہ عمر میں تقریباً پانچ سال کا فرق تھا، لیکن ان کی انڈرسٹینڈنگ لاجواب تھی۔ صارم جانتا تھا کہ آریان کا مزاج روک ٹوک برداشت کرنے والا نہیں ہے، اس لیے وہ کبھی زیادہ دباؤ نہیں ڈالتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سالوں سے ان کی دوستی قائم تھی۔

صارم کو آریان کی بہت سی عادتیں پسند نہیں تھیں، مگر وہ جانتا تھا جب ماں باپ کی بات وہ نہیں مانتا تو کسی اور کی سننے والا کہاں ہوگا۔ اس لیے اکثر خاموش رہ جاتا۔

آریان خان کو نہ کوئی ڈانٹ سکتا تھا، نہ وہ کسی کے حکم کے آگے جھک سکتا تھا۔ ضدی، خودسر، اپنی ہی دنیا میں مگن۔ مگر ایک شخصیت ایسی تھی جس کی ڈانٹ وہ برداشت کر لیتا تھا، بلکہ جس کی بات کو وہ کبھی نہیں ٹالتا تھا۔ وہ تھی صارم کی ماں۔یعنی آریان کی پھوپھو، روشانے۔

بچپن ہی سے آریان خان کو روشانے سے گہرا لگاؤ تھا۔ اپنی ماں سے بھی کہیں زیادہ پیار وہ روشانے کو دیتا۔
روشانے بھی اسے اپنے بیٹے سے بڑھ کر مانتی تھی۔

وقت نے روشانے کو ایسا بڑا دکھ دیا تھا کہ شاید وہ اکیلے برداشت نہ کر پاتی، مگر سارم، آریان اور ایزل کے سہارے اس نے اپنی پوری جوانی گزار دی۔ انہی تین بچوں میں اس کی دنیا سمٹ گئی تھی۔

وقت گزرتا رہا، لیکن روشانے کے زخم آج بھی ہرے تھے۔
آریان اس سے پہلے بھی محبت کرتا تھا، مگر اس کے دل پر لگے زخموں کو دیکھ کر وہ کبھی اس کی بات نہیں ٹالتا تھا۔ وہ اسے پھوپھو کم اور روشانے زیادہ کہہ کر بلاتا۔۔۔جیسے اس رشتے میں ایک ماں سے بڑھ کر ملال اور پیار جھلکتا ہو۔

“کہاں جا رہی ہو۔۔۔”

ایزل اپنی خاطر تواضع کروا کر غصے سے پاؤں پٹختی ہوئی اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہی تھی کہ اسی لمحے مورے کی غصیلی آواز پر اس کے قدم رک گئے۔

“اپنے کمرے میں جا رہی ہوں ابھی کچھ سنانا باقی رہ گیا ہے،تو رک جاتی ہوں۔

“ایزل، صبح صبح زبان درازی مت کرو۔” ماں نے جھنجلا کر کہا۔

“اور جا کر دیکھو، وہ تمہارا گدھے گھوڑے بیچ کر سونے والا بھائی اگر اٹھ گیا ہے تو اس کو جا کر کہو کہ جب گھر میں آیا کرے تو کبھی ماں کو سلام بھی بلا لیا کرے۔” اس کی آواز میں شکوہ بھی تھا اور تھکن بھی۔

وہ پل بھر کو رکی، پھر تلخی کے ساتھ بولی۔
“اس کی شان میں فرق نہیں پڑ جائے گا۔ کب آتا ہے، کب جاتا ہے۔۔۔بے لگام گھوڑا، ہمیں تو پتہ ہی نہیں چلتا۔”

“جی، جا رہی ہوں۔۔۔” ایزل نے تیزی سے کہا۔
اس کے لہجے میں ضد بھی تھی اور بے بسی بھی۔ دل میں وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ ماں نے جو بھڑاس اس پر نکالی ہے، اس کی اصل وجہ صرف اور صرف اس کا شہزادہ بھائی، آریان خان ہے۔

ایزل نے رخ موڑا تو قدموں میں ایک تیزی سی آگئی۔ وہ جانتی تھی، وہ ایزل ہے۔ وہ کب کسی کے جاگنے یا اجازت دینے کا انتظار کرتی ہے۔ دروازے کی کنڈی گھمائی اور دھاڑ سے اندر داخل ہو گئی۔

کمرے کی فضا یکدم بدلی۔ فل اے سی کی ٹھنڈک ہر چیز کو جکڑے بیٹھی تھی۔ پردے آدھے کھلے تھے مگر روشنی اندر آنے سے ڈرتی تھی۔ بستر پر آریان ترچھا پھیلا ہوا تھا، کمبل آدھی ٹانگوں پر ڈالا ہوا، جیسے دنیا کی ساری بے فکری اس کے پاس گروی رکھی ہو۔

یہ آریان کا انداز تھا۔ اس کے کمرے کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا تھا، کیونکہ کسی کی ہمت نہیں تھی اس میں یوں گھس آنے کی۔
کسی کی نہیں۔۔۔ سوائے دو لوگوں کے۔
ایک، اس کا جگری دوست سارم خان۔
اور دوسری، اس کی بدتمیز بہن۔۔۔ایزل۔

جسے وہ ہزاروں بار منع کر چکا تھا:
“میرے روم میں ایسے مت آیا کرو۔”

استغفراللہ! اتنا ٹھنڈا روم۔۔۔ آپ کے روم میں آکر ایسا لگتا ہے جیسے فریزر کا گیٹ کھول دیا ہو۔ کسی دن آپ نے ٹھنڈ سے جم جانا ہے بھائی!

ایزل دروازہ دھڑام سے کھول کر اندر آئی۔ کمرے میں اے سی کی ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے سے ٹکرائی تو وہ کپکپا گئی۔ اونچی آواز میں بڑبڑاتے ہوئے وہ آریان کے بیڈ کے پاس آن کھڑی ہوئی۔

“آریان بھائی، اٹھ جائیں۔ دس بج چکے ہیں، آپ کا اٹھنے کو دل ہی نہیں کر رہا۔۔۔”

وہ ذرا رکی، ناک سکیڑ کر بولی:

“اور نیچے مورے ہیں جو آپ کا سارا غصہ مجھ پر نکال رہی ہیں!”

آریان نے سستی سے آنکھیں ملیں، پھر آہستہ آہستہ اٹھ کر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھ گیا۔ کمبل اب بھی اس کی ٹانگوں پر تھا اور کمرے کی ٹھنڈک کے باوجود وہ خود کو آرام دہ محسوس کر رہا تھا۔

“ایزل، کتنی بار کہا ہے کہ میرے روم میں اس طرح مت آیا کرو!”

آریان نے جھنجلا کر کمبل اپنے اوپر کھینچ لیا، جیسے وہ ٹھنڈ سے نہیں بلکہ ایزل کی اچانک موجودگی سے بچنا چاہتا ہو۔

دنیا بھر کا ٹھرکی انسان اپنی بہن سے بے حیائی کرتا ہے، لیکن آریان ہر غیرت مند بھائی کی طرح اپنی بہن سے بے حد شرم و حیا کرتا تھا۔

“تو آپ اپنا روم بند کر کے، لاک کر کے سویا کریں۔ اگر کھلا ہوگا تو میں تو ایسے ہی آؤں گی!”
ایزل نے ہونٹ پھلا کر جواب دیا، جیسے بات نہ ماننے کا اعلان کر رہی ہو۔

اس وقت آریان نے صرف ٹراؤزر پہن رکھا تھا۔ ایسے حلیے میں اپنی بہن کا سامنا کرنا اس کے لیے سخت شرمندگی کا باعث تھا۔ روم میں مدھم روشنی جل رہی تھی، جس میں اس کی خفگی اور ایزل کی ضد دونوں واضح دکھائی دے رہی تھیں۔

“تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا۔ اتنی ضد اچھی نہیں ہوتی لڑکیوں کے لیے!”

آریان کے غصے پر ایزل کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ اس کی کھی کھی کرتی ہنسی کمرے کی خاموشی میں گونج اٹھی، جیسے ماحول کو چھیڑ رہی ہو۔

“اب یہ دانت نکالنے کی وجہ۔۔۔؟” آریان نے تیوری چڑھائی اور آنکھیں سکیڑ کر اسے گھورا۔
“مجھے ہنسی آرہی ہے یہ سوچ کر کہ بول کون رہا ہے کہ ضد اچھی نہیں ہوتی۔۔۔”

ایزل نے طنزیہ ہنسی دبائی۔

“ضد تو ضد ہوتی ہے، چاہے لڑکے کریں یا لڑکیاں۔ ویسے بھی جس کا بھائی آریان خان جیسا اکڑو ہو، اس کی بہن میرے جیسی ہی ہوتی ہے!”

آریان نے تیوری چڑھائی اور بھاری لہجے میں جواب دیا:

“مرد پر اکڑ سوٹ کرتی ہے۔۔۔” آریان نے سرد لہجے میں کہا۔

ایزل نے فوراً چبھتا ہوا سوال داغ دیا:
“اچھا؟ کس کتاب میں لکھا ہے؟”

آریان نے گہرا سانس لیا، آواز کے سخت پن میں نرمی گھولتے ہوئے بولا:
“ایزل، تم میری چھوٹی بہن ہو، بہت پیار کرتا ہوں تم سے۔۔۔ مگر ہر بات پر میرے ساتھ بحث مت کیا کرو۔”
“جاؤ روم سے، اور جا کر مورے سے کہہ دو کہ آدھے گھنٹے میں ریڈی ہو کر ان سے سلام کرنے آجاؤں گا۔ رات کو بہت لیٹ آیا تھا اس لیے ان کو جگہنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔ اتنا بدتہذیب نہیں ہوں جتنا وہ سمجھتی ہیں!”

اپنے بے ترتیب لباس کی وجہ سے آریان نے غصے سے کہا۔

“جا رہی ہوں، مجھ پر غصہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پتہ نہیں کون سے بھائی ہوتے ہیں جو اپنی بہنوں سے ہر وقت پیار سے بولتے ہیں، آپ کا تو غصہ ہی نہیں اترتا۔۔۔ خیر، آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ مورے کی نظر میں تو ہم دونوں ہی بدتمیز اور بد تہذیب ہیں!”

“جانتا ہوں۔۔۔ اور تم نے جو کہا ہے نا کہ پتہ نہیں کون سے بھائی ہوتے ہیں جو بہنوں سے پیار سے بات کرتے ہیں، اس کا جواب میں تمہیں آ کر دیتا ہوں۔”

“پتہ ہے جواب نہیں، لیکچر دیں گے!”
ایزل نے بات کاٹ کر تیزی سے دروازے کی طرف قدم بڑھائے۔ جاتے جاتے اس نے دروازہ زور سے بند کیا، کمرے میں ایک گونج سی پھیل گئی۔ اس کی چاپ اور لہجے کی تیزی دونوں آریان کے اعصاب پر نقش چھوڑ گئیں۔

آریان نے ٹھنڈی سانس چھوڑتے ہوئے خود کو کمبل سے آزاد کیا۔
“پاگل۔۔۔ تمہیں کیا پتا کہ میں تم سے کتنا پیار کرتا ہوں۔ ہمارے گھر کی جان ہو تم۔ تمہاری چہچہاہٹ کی وجہ سے تو یہ مکان گھر لگتا ہے!”

وہ سوچتے سوچتے مسکرا دیا۔

“اتنی صبح صبح اٹھا کر بٹھا دیا ہے، پتہ نہیں کیا کروانا تھا۔ سنڈے کا دن بھی سکون سے نہیں گزرنے دیتے۔۔۔ انہی حرکتوں کی وجہ سے میں گھر نہیں آتا!”

وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا ہوا شاور لینے واش روم میں گھس گیا۔
═══════❖═══════
“یارم کی اماں۔۔۔”

“جی۔۔۔”

“یارم نے دوبارہ تم سے ذکر کیا کہ کب ہمیں رشتہ لے کر جانا ہے؟”

“نہیں، مجھ سے تو نہیں کہا۔ مجھے لگا شاید آپ سے کوئی بات کی ہو۔۔۔”
یارم کی اماں نے چائے کا کپ یارم کے بابا کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا۔

یارم کے بابا نے کپ تھام کر کرسی سے ٹیک لگا لی۔ گہری سانس بھری اور کچھ لمحے سوچتے رہے۔

“نہیں، میرے ساتھ تو کوئی بات نہیں ہوئی۔ اب تو کافی دن ہو گئے ہیں، میرے خیال سے ہمیں خود پوچھ لینا چاہیے کہ اُس لڑکی نے کیا جواب دیا۔۔۔”

“جی، آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ بڑی مشکل سے یارم نے شادی کے لیے خود سے بات شروع کی ہے۔ ورنہ اُس لڑکے کے لیے تو اپنی جاب ہی سب سے ضروری ہے۔۔۔”
یارم کی اماں نے فکر مندی سے کہا۔

چائے کی بھاپ پیالی کے کنارے سے اٹھ کر ہوا میں گھل رہی تھی۔

“اس سے پہلے کہ اس کا دماغ بدل جائے، ہمیں خود ہی بات کر لینی چاہیے۔۔۔”
یارم کے بابا نے سنجیدگی سے جواب دیا اور نگاہیں کپ کی سطح پر جما دیں جیسے سوچوں میں کھو گئے ہوں۔

یارم کا ذکر ابھی چل ہی رہا تھا کہ اچانک اس کے بھاری قدموں کی چاپ قریب سنائی دی۔ وہ گاڑی سے اتر کر سیدھا گارڈن میں آیا، جہاں اس کے بابا اور ماں بیٹھے تھے۔

“السلام علیکم، کیسے ہیں۔۔۔”
یارم کی ماں نے چائے کا سپ لیتے ہوئے مسکرا کر کہا۔

“وعلیکم السلام۔” یارم کی ماں اور ارم کے بابا نے ایک ساتھ بیٹے کے سلام کا جواب دیا۔

“بسم اللہ، میرے بیٹے کی عمر بہت لمبی ہو۔۔۔”
یارم کی ماں نے پیار سے بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ یارم سر جھکائے ماں کے سامنے کھڑا رہا، پھر اپنے بابا سے ہاتھ ملا کر ان کے پاس ہی بیٹھ گیا۔
“کیا بات ہے، آج تو آپ لوگوں نے گارڈن میں محفل سجا رکھی ہے!”
یارم نے بیٹھتے ہوئے مسکرا کر پوچھا۔

سامنے چھوٹی میز پر چائے کا سامان رکھا تھا، بھاپ اُڑتی پیالیوں کے ساتھ ہلکی شام کی ہوا پودوں کے پتوں کو چھو رہی تھی۔ منظر واقعی کسی محفل سے کم نہ لگ رہا تھا۔

“بیٹا جی، اب محفل سجانا کہو یا ناکہ بندی۔۔۔”
یارم کے بابا کے لہجے میں سنجیدگی کے ساتھ بیٹے کے لیے شرارت بھی چھپی تھی۔

یارم نے تجسس بھری نظروں سے بابا کو دیکھا۔ درختوں کی سرسراہٹ نے لمحہ بھر کے لیے خاموشی اور گہرائی پیدا کر دی۔

“مطلب؟ میں کچھ سمجھا نہیں۔۔۔”

“یارم خان اپنے بابا کی بات کا مطلب نہ سمجھے؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے!”
بابا نے ہنستے ہوئے سر جھٹکا۔

“بابا، میں سچ میں نہیں سمجھا۔۔۔” یارم نے الجھن سے کہا۔

“ٹھیک ہے، نہیں سمجھے تو وضاحت دے دیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تم نے کہا تھا کہ تم ہماری ہونے والی بہو کے ساتھ بات کر کے ہمیں اطلاع دو گے کہ کب ہمیں اس کے گھر رشتہ لے کر جانا ہے۔ مگر تم تو ایک دم خاموش ہو گئے ہو۔۔۔”
“اس بات کو ہفتے سے زیادہ ہو چکا ہے۔۔۔ ہمیں تو ڈر لگنے لگا ہے کہ کہیں تم نے اپنا ارادہ بدل تو نہیں دیا۔۔۔”
یارم کی ماں نے فکرمندی سے کہا۔

ہوا کے جھونکے نے باغیچے میں لگی بیلوں کو ہلایا۔ لمحہ بھر کو منظر اور سنجیدہ ہو گیا۔

“جبکہ ہم دونوں تو خواب سجائے بیٹھے ہیں کہ بہت جلد ہمارے گھر میں بہو آنے والی ہے۔ اور ہم ہونے والے پوتے پوتیوں کا منہ دیکھ سکیں گے۔۔۔ گھر میں رونقیں لگ جائیں گی۔۔۔”
ارم کے بابا نے مسکراتے ہوئے بات مکمل کی۔
“کیا بابا، آپ بھی اتنی دور تک کی سوچ لیتے ہیں؟ پہلے شادی تو ہو جانے دیں، پھر پوتے پوتیوں کا منہ بھی دیکھ لیجیے گا۔۔۔”
یارم مسکراتے ہوئے چہرہ جھکا گیا۔

اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی مگر نظریں زمین پر ٹکی رہیں۔ گارڈن کی خاموشی میں اس کی جھجک صاف جھلک رہی تھی۔
“خان کا بیٹا ہو کر شرما رہا ہے۔۔۔”
ارم کے بابا نے بیٹے کی نظریں جھکانے پر زور دار قہقہہ لگایا۔

ان کی ہنسی باغیچے کی خاموش فضا میں گونج اٹھی۔ یارم کی ماں نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا اور نرمی سے بولی،
“بس بھی کریں، آپ تو ہر بات میں مذاق نکال لیتے ہیں۔۔۔”

“بھئی، اب تمہارا بیٹا شرما رہا ہے تو میرا مذاق کرنا تو بنتا ہے۔ خان پر اتنی شرماہٹ اچھی نہیں لگتی۔۔۔”
یارم کے بابا نے مسکرا کر کہا۔

یارم کی ماں نے ہنستے ہوئے چائے کا کپ میز پر رکھا اور وقار بھرے انداز میں جواب دیا،
“آپ کو تو موقع چاہیے بات چھیڑنے کا۔۔۔”

“تو کیا کروں، آپ باتیں ہی ایسی کرتے ہیں کہ بندہ تھوڑا بہت تو شرما ہی جاتا ہے۔ اور کہاں لکھا ہے کہ خانوں کو شرم نہیں آتی۔۔۔”
یارم نے مسکرا کر جواب دیا۔

“تمہارے بابا کی کتاب میں سنہری حروف میں لکھا ہے کہ خانوں کو شرمانا زیب نہیں دیتا۔”
یارم کی ماں نے بیٹے کی طرفداری کرنے کی کوشش کی، مگر پاسا اس پر الٹا پڑ گیا۔

“ہاں بھائی، اپنی ماں سے پوچھو کہ کبھی میں شرمایا ہوں؟ ہمیشہ تمہاری اماں کو ہی شرمانے پر مجبور کیا ہے۔۔۔”
ارم کے بابا نے شرارتی نظروں سے یارم کی ماں کی طرف دیکھا۔

“استغفراللہ! میں کیسے بتا سکتی ہوں۔۔۔ آپ تو ہر بات میں مجھے لے آتے ہیں۔ جوان بیٹا سامنے بیٹھا ہو تو آپ کو پتہ نہیں ایسی باتیں کیسے سوجھ جاتی ہیں۔۔۔”
یارم کی ماں کے گال سرخ ہو گئے۔ وہ ہمیشہ کی طرح شرماتے ہوئے وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

باغیچے میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی، پھر ارم کے بابا اور یارم دونوں کے قہقہے گونج اٹھے۔

“مجھے نہیں آنا۔۔۔ آپ بیٹا بیٹھ کر بات کرو، جب فیصلہ ہو جائے تو مجھے بھی بتا دیجیے گا۔۔۔”
یارم اپنی ماں کو پیچھے سے آوازیں دیتا رہا گیا مگر وہ نہیں رکی اور شرماتے ہوئے گھر کے اندر چلی گئی، اور یارم اور اس کے بابا مسکراتے رہ گئے۔

“بابا پلیز، نہ تنگ کیا کریں۔۔۔ آپ کو پتہ ہے کہ اماں کو میرے سامنے بہت شرم آتی ہے، آپ پھر بھی نہیں باز آتے انہیں چھیڑنے سے۔۔۔”
یارم ہنستے ہوئے اپنے بابا کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔

“یار، کیا کروں۔۔۔ تمہاری ماں جب ایسے شرماتی ہے تو مجھے بڑی ہی اچھی لگتی ہے۔ اور ایسی شرم و حیا تو مجھے تب ہی دیکھنے کو ملتی ہے جب میں تمہارے سامنے کوئی مذاق کرتا ہوں۔”
بابا نے دلکش مسکراہٹ کے ساتھ کہا، پھر لمحہ بھر رکے اور سنجیدہ ہوتے ہوئے بولے:
“خیر، تم اپنی ماں کی طرف داری کرنا چھوڑو اور سیدھا مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے ہماری ہونے والی بہو کے ساتھ بات کی یا نہیں؟”

“بابا، آپ کی بہو سے سمجھیں کہ میری بات ہو چکی ہے۔ بس آپ کی بہو اپنے ماں باپ کی بہت زیادہ فرمانبردار بیٹی ہے، جو اپنے بابا کی اجازت کے بغیر ہاں میں جواب نہیں دینا چاہتی۔ اور اس کے بابا ملک سے باہر تھے، اس لیے آپ کو جواب نہیں دیا۔”

یارم نے اپنی بات کو مکمل کرتے ہوئے سر ہلکا سا جھکایا۔

“اور کچھ، میں خود بھی مصروف ہو گیا تھا، اچانک سے ایک کیس مجھ پر آن پڑا۔۔۔ ورنہ اب تک تو میں آپ کی بہو سے بات کر کے آپ کو جانے کا بھول چکا ہوتا۔۔۔”

ہوا میں ہلکی چپ چھائی ہوئی تھی، یارم کے لہجے میں سنجیدگی اور تھوڑی سی معذرت جھلک رہی تھی۔

“ہمم۔۔۔ ٹھیک ہے، اب تم جلد از جلد ہماری بہو سے بات کرو، ہم زیادہ انتظار نہیں کر سکتے۔”
یارم کے بابا نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔

“اور ہمیں خوشی ہوئی کہ ہماری بہو اتنی اچھی بیٹی ہے۔ اگر اچھی بیٹی ہے تو اچھی بہو بھی ثابت ہوگی۔۔۔ اور ایسی لڑکی کو ہم جلد از جلد اپنے گھر کی عزت بنانا چاہیں گے۔”
یارم کے بابا نے نرمی اور وقار کے ساتھ اپنی بات مکمل کی۔

ہوا میں ہلکی خوشبو پھیل گئی، اور گارڈن کے پودوں کے درمیان لمحہ بھر کے لیے سکون چھا گیا۔

“جی بابا، میں آج ہی بات کرتا ہوں۔”
“گڈ۔۔۔ چلو تم جاؤ، چینج کر کے ریسٹ کرو۔ میں ذرا اپنی شرمائی ہوئی بیوی کو دیکھوں کہ کس کونے میں جا کر چھپی ہے۔”
یارم کے بابا مسکراتے ہوئے کھڑے ہوئے، اور ہلکی شام کی ہوائیں ان کے گرد گھوم رہی تھی، پودوں کی خوشبو اور باغیچے کی ٹھنڈی ہوا ماحول کو پرسکون بنا رہی تھی۔

“جی جائیے، مگر اس وقت تو اماں غصے میں ہوں گے، جا کر آپ نے ڈانٹ ہی کھانی ہے۔۔۔”
ساتھ چلتے ہوئے یارم نے مسکراتے ہوئے کہا، پتے ہلکے سے سرسرا رہے تھے۔

“یارم خان، تمہیں کیا پتہ کہ جب تمہاری ماں مجھ سے شرما کر ناراض ہوتی ہے، پھر مجھے ڈانٹتی ہے، پھر میں اس کو مناتا ہوں تو مجھے کتنی خوشی ہوتی ہے۔۔۔ یہی تو زندگی کی خوبصورتی ہے۔ اگر ہم سفر دل میں اپنا خاص مقام بنا لے تو زندگی جنت لگتی ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ خدا تمہاری اور ہماری ہونے والی بہو کا رشتہ بھی ہم جیسا ہوگا۔۔۔”

“انشاءاللہ، بابا۔ آپ عبیرہ کو دیکھ کر مایوس نہیں ہوں گے۔۔۔”
یارم نے سر ہلایا۔

“ہمم۔۔۔ ہماری ہونے والی بہو کا نام عبیرہ ہے، بہت پیارا نام ہے، اور تمہارے سر نیم کے ساتھ تو اور بھی اچھا لگے گا۔۔۔”
ارم کے بابا نے مسکراتے ہوئے بیٹے کی پیٹھ تھپتھپائی۔ یارم کے دل نے ایک خوبصورت احساس کو شدت سے محسوس کیا۔

جب عبیرہ تبریز خان سے عبیرہ یارم خان بن جائے گی۔۔۔
اس احساس کو محسوس کر کے وہ گہری مسکراہٹ سجائے، باغیچے میں ہلکی ہوا اور شام کی روشنی کے درمیان عبیرہ کے خیالوں میں گم ہو گیا۔

اس کے بابا نے اپنے بیٹے کے مسکراتے چہرے کو غور سے دیکھا، اور دل سے دعا کی کہ اللہ تعالی اس کے بیٹے کے نصیب میں اس لڑکی کا ساتھ لکھ دے۔

جس کے نام سے اس کے بیٹے کے چہرے پر یہ قدر خوشی تھی۔۔۔ یارم میں ارم کی جان بستی تھی، اور ارم جیسے سمجھدار آدمی کو دیر نہیں لگی کہ اس کا بیٹا پوری طرح سے اس لڑکی کے عشق میں گرفتار ہے۔

یارم اجازت لیتے ہوئے اپنے روم میں چلا گیا، جب کہ اسکا بابا اپنی بیوی کو ڈھونڈتے ہوئے کچن کی طرف چل دیے کیونکہ زیادہ تر ایسی ناراضگی کے بعد وہ کچن میں ہی پائی جاتی تھیں، اور باغیچے میں ہلکی ہوا کے جھونکے اور درختوں کی سرسراہٹ ماحول کو مزید زندہ کرتے ہوئے پیچھے رہ گئی۔۔۔

═══════❖═══════
یارم کے بابا کچن میں داخل ہوئے، گلا صاف کرتے ہوئے کھنگھارتے ہوئے بولے،
“اچھا جی، یارم کی ماں یہاں کچن میں آ کر چھپ گئی ہیں۔۔۔”

کچن میں ہلکی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ یارم کی ماں چولہے کے پاس کھڑی، کڑاہی میں نمکین بکرے کا گوشت بھون رہی تھیں۔ خوشبو پورے کچن میں بکھری ہوئی تھی، لہسن اور مصالحوں کی مہک ہوا میں گھل رہی تھی، اور برتنوں کا ہلکا سا ٹکرانا ماحول میں زندگی بھرا ہوا لگ رہا تھا۔

“جی نہیں، چھپی نہیں ہوں۔ آپ کے لیے، آپ کا من پسند کھانا بنا رہی ہوں۔۔۔”
انہوں نے مکالمہ کرتے گوشت ہلاتے ہوئے ایک پل کی جھلک میں مسکرا دیکھا۔

“آپ کو یاد نہیں، مگر آپ نے کل نمکین بکرے کے گوشت کی کڑاہی کی فرمائش کی تھی۔۔۔”
یارم کی ماں کڑاہی میں گوشت کو سلیقے سے ہلا کر ڈھکن دیتے ہوئے مسکراتے ہوئے اپنے شوہر کی جانب دیکھ رہی تھیں۔
مجھے کچھ یاد رکھنے کی ضرورت ہی نہیں اللہ تعالی نے مجھے اتنی اچھی بیوی دی ہے جس کے لیے میری چھوٹی سی چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات بہت معنے رکھتی ہے۔۔۔
جو میری کسی بات کو نہ کبھی بھولتی ہے نہ کبھی ٹالتی ہے۔( سوائے رومینس کے)

“یا اللہ، میں آپ کا کیا کروں۔۔۔ آپ کو شرم کیوں نہیں آتی؟”
وہ شرما کر سرخ پڑتی ہوئی، راہ فرار ڈھونڈتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔آپ ایسی باتیں کرنا چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔

“آپ شرمانا چھوڑ کیوں نہیں دیتی؟ ہمارے بچوں کی شادیاں کرنے کا ٹائم ہو گیا ہے، اور تم ہو کہ اب تک ان کے باپ سے شرماتی ہو۔”

“کب شرمانا چھوڑو گی۔۔۔”

خان نے مسکراتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھایا۔

یارم کی ماں نے گھور کر، سخت نظروں سے دیکھتے ہوئے، انگلی کے اشارے سے کہا کہ ہاتھ پیچھے رکھے۔۔۔
انہیں ڈر تھا کہ کبھی بھی کسی بھی وقت ان کے بچے یا گھر کے ملازمین کچن میں آ سکتے ہیں۔
“شرم کریں! گھر میں نوکر بھی موجود ہیں، اور آپ کی ایک عدد جوان بیٹی اور بیٹا بھی۔۔۔”
یارم کی ماں سر کی چادر درست کرتے ہوئے، شرم سے چہرہ جھکاتے ہوئے بولی تھیں۔
“تو چلو، روم میں آجاؤ۔۔۔”

یارم کے بابا بھی آج اسے تنگ کرنے کے موڈ میں تھے۔

“آپ جائیں، میں آپ کے لیے کھانا بنا کر لے کر آتی ہوں۔۔۔”

“ٹھنڈے روم میں جا کر بیٹھے، کچن کی گرمی سے آپ کا دماغ بہت گرم ہو جاتا ہے۔۔۔”

“جا رہا ہوں، مگر جلدی آنا، یارم کی ماں۔ ورنہ کچن زیادہ دور نہیں ہے۔”
وہ جاتے ہوئے مسکراتے ہوئے بولے اور کچن کی طرف چل پڑے۔

جب کہ یارم کی ماں، اس کی باتوں کو یاد کر کے شرما کر، نظر جھکا کر مسکراتی ہوئی اپنے شوہر کے لیے کھانا تیار کر رہی تھیں۔۔۔
وہ آج بھی اپنے ہاتھوں سے خان کے لیے کھانا بنایا کرتی تھیں، اور اسی خاموش محبت میں کچن کی خوشبو اور ان کے دل کی گرمی دونوں بکھرتی رہتی تھی۔
═══════❖═══════

عبیرہ عشاء کی نماز پڑھ کر فارغ ہو کر بیٹھی تھی، ہاتھ میں تسبیح لیے۔ آج ہی انٹرنیٹ پر دیکھی گئی یہ تسبیح اسے عجیب سکون دیتی محسوس ہو رہی تھی، ایسا لگ رہا تھا جیسے اس سے زندگی کی بڑی سے بڑی مشکل بھی حل ہو جائے گی۔۔۔

تسبیح میں اللہ تعالی کا پاک نام لکھا ہوا تھا، اور یہ سوچ کر اسے اندر ہی اندر سکون ملا۔ وہ خاموش بیٹھی تسبیح گھما رہی تھی، لیکن دل کا ایک بھاری بوجھ اسے بار بار یاد دلا رہا تھا۔ وہی سب سے بڑی مشکل، آریان خان، جو اب اس کی زندگی کا عذاب بن چکا تھا۔۔۔

نہ تو وہ اپنے گھر والوں کو نکاح کے بارے میں بتانے کی ہمت رکھتی تھی، اور نہ ہی یہ کوئی چھپانے والی بات تھی۔ سوچتی رہی کہ اب کرتی تو کیا کرتی؟ دماغ مکمل طور پر بند سا ہو گیا تھا۔۔۔

تسبیح ابھی شروع ہی ہوئی تھی کہ فون کی مسلسل بجتی ہوئی بیل نے اسے اچانک چونکا دیا۔ تسبیح ہلکی سی جنبش کے ساتھ سائیڈ پر رکھی گئی، اور وہ فون اٹھانے کے لیے سائیڈ ٹیبل کی جانب گئی۔۔۔

اس وقت سامنے جو نمبر تھا، اسے دیکھ کر عبیرہ کی ہونٹوں پر ایک چھوٹی سی مسکان آئی، لیکن دل کے اندر ایک الجھن سی چھا گئی۔ وہ خاموش ہو گئی، اپنے جذبات کو سمجھ نہیں پا رہی تھی، دل میں ہلکی سی دھڑکن اور آنکھوں میں ایک عجیب سا انتظار، جیسے کسی لمحے کی سختی اور نرمی دونوں اکٹھے ہو گئے ہوں۔۔۔

سکرین پر ڈی ایس پی یارم خان کا نمبر جگمگا رہا تھا۔۔۔

یارم کا نمبر دیکھ کر عبیرہ دل سے خوش ہوئی۔ اس سے بات کرنا چاہتی تھی، فون اٹھانا چاہتی تھی، مگر ہمت نہیں تھی۔۔۔

اس شخص نے دو ملاقاتوں میں اسے اتنا خوفزدہ کر دیا تھا کہ وہ سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتی تھی کہ کہیں یارم کو خبر نہ ہو جائے اور وہ اچانک کھڑکی کے راستے سے کمرے میں آ کر بدتمیزی کی ہر حد پار نہ کر دے۔۔۔

اس خوف سے، کھڑکی کے آگے اس نے اپنی بڑی سی ڈریسنگ ٹیبل کھینچ کر رکھ دی تھی۔۔۔

پانچویں بار مسلسل فون کی بیل بج رہی تھی۔ یارم نے بھی شاید آج ٹھان لیا تھا کہ وہ عبیرہ سے بات کر کے ہی رہے گا۔۔۔
جب انسان دل میں کسی کے لیے خاص جذبہ رکھتا ہے، تو اسے نظر انداز کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔۔۔

یہ سچ تھا کہ عبیرہ کے دل میں یارم کے لیے خاص جذبات تھے۔ اور کیوں نہ ہوتے، یارم ہر لحاظ سے اس کے لیے پرفیکٹ تھا۔ وہ جس طرح کے ہمسفر کو خوابوں میں سجا کر رکھتی تھی، یارم بالکل ویسا ہی تھا۔۔۔
یارم خان کو نظر انداز کرنا عبیرہ کے لیے بہت مشکل تھا۔ پانچویں بار فون کی بیل بجنے پر، اس نے کانپتے ہاتھوں سے فون آن کیا، سپیکر پر ڈال دیا اور تھوڑا سا فاصلے پر رکھ دیا۔۔۔

“اسلام علیکم، شکر ہے آپ نے ہمارا فون اٹھا لیا۔۔۔”

“ایسی کیا خطا ہو گئی ہم سے، جو آپ ہمارا فون اٹھانا گوارا نہیں کر رہی تھیں؟”

یارم خان کی خوبصورت آواز سپیکر سے خارج ہوئی اور عبیرہ کے دل کی دھڑکنوں کو تیز کر دیا۔۔۔

وہ خاموش تھی۔ اس کے چہرے پر شدید خوف طاری تھا۔ آریان خان کا ڈر اس کے حواسوں پر پوری طرح سوار تھا۔۔۔

دوسری طرف، یارم خان اس کے دل پر قابض ہو چکا تھا۔ دل یارم سے دور ہونا نہیں چاہتا تھا، اور دماغ آریان خان کے خوف سے نکلنے کو تیار نہیں تھا۔۔۔

“جان سکتا ہوں کہ ہم سے ایسی کیا خطا ہو گئی کہ آپ ہمارے سلام کا جواب دینا بھی ضروری نہیں سمجھ رہی؟
اگر ہم سے کوئی خطا ہوئی ہے تو ہم معذرت کر لیتے ہیں، مگر ایسی سزا مت دیجیے۔۔۔
کیوں اپنی آواز سنانے کے قابل نہیں سمجھ رہی ہمیں؟”

“س-س-سلام۔۔۔”
لفظ ٹوٹتے ہوئے نکلے، اس کی گھبراہٹ اور ڈر واضح تھا۔

پل بھر کے لیے خاموشی چھا گئی، پھر دوسری جانب سے یارم خان کی خوشگوار آواز سنائی دی:
“اللہ کا شکر ہے کہ آپ نے ہمارا فون اٹھا لیا۔۔۔”

عبیرہ نے کانپتے ہونٹوں سے کہا،
“مم… میں آپ سے بات نہیں کر سکتی۔۔۔”

اس کے لفظ ٹوٹے ٹوٹے نکلے، ہر حرف میں خوف اور شرمندگی واضح تھی، اور دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔

دوسری جانب سے ہلکی سی آواز آئی،
“پوچھ سکتا ہوں، کیوں۔۔۔؟”

عبیرہ نے کانپتے ہوئے ہونٹوں سے جواب دیا،
“مم… میں نہیں بتا سکتی۔۔۔”

اس کے الفاظ میں شرم، ڈر اور خوف سب واضح تھے، دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، اور وہ ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گئی۔۔۔
“کیا مسئلہ ہے؟ پلیز، مجھے بتاؤ۔ کوئی پریشانی ہے؟”

یارم نے فکر مندی سے پوچھا، آواز میں نرم مروت اور دل کی لگن واضح تھی۔ عبیرہ کے دل پر اثر ڈال رہی تھی، اور وہ ابھی بھی کچھ کہنا نہیں پا رہی تھی۔۔۔

“عبیرہ، میرا دل گھبرا رہا ،کوئی پریشانی ہے،تو پلیز بتاؤ ۔۔؟”

آواز میں ہلکی فکر اور مروت تھی، عبیرہ کے دل پر اثر ڈال رہی تھی، اور وہ ابھی بھی کچھ جواب دینے کی ہمت جمع نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔
دوسری جانب مکمل خاموشی تھی۔
صرف عبیرہ کی گھبرائی ہوئی سانسیں سنائی دے رہی تھیں، باقی ماحول میں کوئی آواز نہیں تھی۔۔۔

“پلیز، عبیرہ، کچھ بولے تو صحیح۔ میں نے پوچھا، کوئی پریشانی ہے کیا؟
اگر گھر والوں کی طرف سے ہے تو میں آ کر خود ان سے بات کر لوں گا۔۔۔
کوئی چور اچکا تو نہیں ہے کہ آپ کے گھر والے رشتے سے انکار کر دیں گے۔
میں اپنے والدین کے ساتھ خود آ سکتا ہوں اور آپ کے گھر والوں سے بات کر سکتا ہوں، اور پوری امید رکھو کہ میں ان کو منا لوں گا۔ آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔”

یارم کو عبیرہ کی پریشانی سے یہی لگا کہ شاید اس کے گھر والوں نے رشتے کے لیے انکار کر دیا ہے، جبکہ حقیقت اس کی سوچ سے کہیں زیادہ مختلف تھی۔۔۔

“نن… نن… نہیں! کیوں نہیں سمجھ رہے آپ کہ میں آپ سے بات نہیں کر سکتی؟عبیرہ نے کانپتے ہونٹوں سے کہا،
آپ کو کسی سے بات کرنے کی ضرورت نہیں۔
جب میں انکار کر رہی ہوں کہ آپ کا میرا رشتہ نہیں ہو سکتا، تو بات ختم۔۔۔”

لفظ ٹوٹتے ٹوٹتے نکلے، ہر جملے میں خوف اور ہچکچاہٹ صاف محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
“رشتہ نہیں ہو سکتا مطلب۔۔۔ اس طرح سے انکار کر کے آپ میری توہین کر رہے ہیں۔۔۔”

دوسری جانب، خاموشی چھائی ہوئی تھی، اور دبی دبی سسکیوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔۔۔
“عبیرہ، آپ رو رہی ہیں۔۔۔”
یارم نے عبیرہ کے سسکنے کی آواز سن کر کہا۔

“پلیز، رونا بند کریں۔۔۔
مطلب، کوئی پریشانی ضرور ہے۔
کیا میں اس لائق نہیں کہ مجھ پر اتنا بھروسہ کر سکیں؟
آپ مجھے اپنی پریشانی بتائیں، میں اس کا حل نکال لوں گا۔ آپ مجھ پر ٹرسٹ کر سکتی ہیں۔۔۔”

“میں نہیں بتا سکتی، بس آپ مجھ سے دور رہیں اور دوبارہ مجھ سے بات کرنے کی کوشش مت کیجئے گا۔۔۔
آپ کا میرا رشتہ نہیں ہو سکتا۔۔۔”

یہ الفاظ عبیرہ کے منہ سے کیسے نکلے تھے، یہ صرف اس کے دل ہی جانتا تھا۔۔۔

“نہ تو اس طرح سے میں آپ سے رشتہ ختم کر سکتا ہوں اور نہ آپ مجھ سے اس طرح پیچھا چھڑا سکتی ہیں۔۔۔
بڑی محبت سے آپ کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے۔ میں انکار کی وجہ جانے بغیر پیچھے نہیں ہٹوں گا۔۔۔”

یارم خان نے گہری آواز میں کہا،
“میرا نام یارم ہے، اپنی پسندیدہ چیزوں سے دستبردار ہونا میری فطرت میں شامل نہیں۔
میں ہر چیز پر نہ آنکھ رکھتا ہوں، نہ ہاتھ، مگر جس چیز کو دل سے پسند کرتا ہوں، وہ میری ہوتی ہے، اور اسے چھوڑنا میرے بس کی بات نہیں۔۔۔

آپ کی زندگی میں زور زبردستی سے شامل نہیں ہوا، احترام کے ہر پردے کا لحاظ رکھتے ہوئے بڑے موقر انداز سے آپ سے بات کی تھی۔
آپ کی خاموشی اور چہرے پر بکھری ہوئی مسکراہٹ سے میرے لیے یہ جاننا مشکل نہیں تھا کہ میں آپ کو پسند ہوں۔۔۔

اور اب اگر آپ اچانک سے انکار کر رہی ہیں تو اس انکار کے پیچھے آپ نہیں، کوئی اور ہے۔۔۔
میں وہ وجہ ضرور جاننا چاہوں گا۔۔۔”

“آپ کو کچھ بھی جاننے کا حق نہیں رکھتے۔۔۔عبیرہ نے گھبرا کر ٹوٹتے لہجے میں کہا

“میں نے آپ کو ہاں نہیں کی تھی، اب انکار کر رہی ہوں تو بات ختم۔
کیوں بات کو بڑھا رہے ہیں۔۔۔”

اس کے الفاظ میں خوف، حیا اور اصرار سب واضح تھے، اور دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔

“میں بات کو بڑھا نہیں رہا، آپ غیر اخلاقی طور پر بات کو ختم کرنا چاہتی ہیں۔۔۔”
اس کے لہجے میں اصرار اور عاجزی دونوں کے رنگ نمایاں تھے، اور وہ عبیرہ کی خاموشی کے انتظار میں تھا۔۔۔
عبیرہ نے کانپتے ہونٹوں سے کہا،
“میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں، خدا کا واسطہ ہے، میرا پیچھا چھوڑ دیں۔۔۔
مجھے نہیں کرنی آپ سے شادی۔”

عبیرہ نے حلق میں اٹکے ہوئے آنسوؤں کو زبردستی نگلتے ہوئے فون ٹھیک سے بند کر دیا،
پاور آف کرتے ہوئے اسے غصے سے بیڈ پر اچھال دیا۔

وہ سسکیاں لے لے کر رو رہی تھی، ہر سانس میں خوف اور درد واضح تھا۔۔۔

عبیرہ سر تکیے پر رکھے، سسکتے ہوئے رو رہی تھی۔

“آپ مجھے پسند ہیں، بہت پسند ہیں۔ میں آپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں، مگر کیسے بتاؤں کہ اس سفاک انسان نے زبردستی مجھ سے نکاح کر لیا ہے۔۔۔

اب میں چاہ کر بھی آپ کی نہیں ہو سکتی۔۔۔

میں آپ پر ٹرسٹ کر سکتی ہوں، کرنا چاہتی ہوں، مگر میں اپنے گھر والوں کی طرح آپ کی جان کو کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتی۔۔۔

اللہ میاں، میں کہاں پھنس گئی ہوں؟ کیا گناہ ہو گیا تھا جو میری ملاقات اس شخص سے ہوگئی۔۔۔
اس کی میرے ساتھ کیا دشمنی ہے؟ کیوں یہ میری زندگی برباد کرنے پر تلا ہوا ہے۔۔۔”

وہ سسکیاں لے لے کر رو رہی تھی، خود سے سوال کرتے ہوئے اور خود سے ہی جواب تلاش کرتی ہوئی۔۔۔

سسکیوں کے بیچ اس کا دل ٹوٹ رہا تھا، اور خاموش کمرے میں اس کی ہر سانس جیسے درد کی گونج بنا کر باقی لمحوں کو چھو رہی تھی۔
═══════❖═══════

Ye qist novel “Saleeb Sukoot” ki ek qist hai, takhleeq Hayat Irtaza, S.A ki.Agli qist mutalea karne ke liye isi novel ki category “Saleeb Sukoot” mulaahiza karein, jahan tamaam qistain tartiib war aur baqaida dastiyaab hain.💡 Har nai qist har Itwaar shaam 8:00 baje shaya ki jaayegi.

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *