Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:6
🕯️ صلیبِ سکوت
قسط :6
✍︎ حیات ارتضی S.A
═══════❖═══════
عبیرہ خان، تمہاری ہمت کیسے ہوئی فون آف کرنے کی؟ یہ سب کر کے تم اپنے لیے مشکل بڑھا رہی ہو۔۔۔
اس ڈی ایس پی سے بات کر لی، مگر مجھ سے بات کرنے کے لیے فون آف کر رکھا ہے۔۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے، اس طرح مجھ سے پیچھا چھڑا لو گی؟
آریان نے غصے میں اپنا فون اٹھا کر پوری شدت کے ساتھ دیوار پر دے مارا۔
کمرے میں اس کی آواز دھاڑ کی طرح گونجی تھی، اتنی بلند کہ آفس کے باہر کھڑے تمام افراد نے سن لی۔
مگر کوئی بھی اندر آنے کی ہمت نہ کر سکا۔ سب جانتے تھے کہ آریان خان خود ایک ایسی پرابلم تھا جس کے سامنے جانے کا مطلب اپنی جان ہتھیلی پر رکھنا ہے۔
اس کے غصے سے ہر بندے کی روح کانپ جاتی تھی، تو پھر کون اندر آتا اس کا حال پوچھنے؟
چند لمحوں میں ہی اس نے فون کا ستیاناس کر دیا تھا، جیسے وہ عبیرہ کی خاموشی کو توڑ نہ پانے کا بدلہ اس بے جان چیز سے لے چکا تھا ۔
گردن ہلا کر اس نے جھٹکے سے اپنی ٹائی کھولی اور سامنے میز پر پٹخ دی۔
اس کے بدن میں غصے کی آگ دہک رہی تھی، جیسے ہر رگ میں شعلے دوڑ رہے ہوں۔ دماغ کی نسیں تن کر پھٹنے کو تھیں، سانس لینا تک مشکل ہو رہا تھا۔
بٹن کھول کر سر پیچھے پھینکا تو سینہ زور زور سے اٹھنے لگا۔
آریان خان کا غصہ دوسروں کے لیے جتنا خوفناک تھا، اتنا ہی جان لیوا اس کے اپنے لیے بھی تھا۔
اس کیفیت میں وہ نہ صرف دوسروں کا نقصان کر سکتا تھا بلکہ اپنے آپ کو بھی تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
فون توڑنے کے بعد بھی اس کے اندر کا لاوا تھما نہیں تھا۔
اس نے سگریٹ نکالی، لائٹر جلایا اور لبوں میں دبا کر گہرا کش بھرا۔
ونڈو کے قریب جا کر دھواں باہر چھوڑا، جیسے اپنے اندر کے دھوئیں کو ہوا کے حوالے کر رہا ہو۔
مگر سکون کہاں۔۔۔ ہاتھ دیوار پر پوری طاقت سے مارا، جیسے اپنی ہی آگ کو کنکریٹ میں دفن کرنا چاہتا ہو۔
“عبیرہ خان، تیار رہنا۔۔۔ بہت جلد ملاقات ہے ہماری۔
تم مجھے ہلکے میں لے رہی ہو۔ رحم تو ویسے ہی کبھی نہیں آیا مجھے تم پر، اور یہ سب کر کے تم مجھے اور اکسا رہی ہو کہ میں تم پر اپنی نفرت کی انتہا کر دوں۔”
وہ زیرِ لب بڑبڑایا، اور پھر سگریٹ کا ایک اور گہرا کش لے کر ونڈو سے دھواں باہر پھینک دیا۔
اس کی آنکھوں میں موجود سلگتی آگ اور لبوں سے اٹھتا ہوا دھواں ایک دوسرے کا عکس تھے۔۔۔ اس کے اندر جلتا غصہ اب باہر نکلنے کو بے تاب تھا۔
اس نفاست پسند شخص کو سگریٹ بھی پینی تھی، اور سگریٹ کی بدبو اس کے آفس یا کمرے سے آئے، یہ اسے کبھی گوارا نہیں ہوتا۔۔۔
پتہ نہیں وہ دماغ میں کیا سوچ رہا تھا، مگر جو بھی سوچ رہا تھا، بہت خطرناک تھا، کیونکہ اس کے چہرے کے بگڑے ہوئے زاویے صاف ظاہر کر رہے تھے کہ آریان خان کے دماغ میں کوئی بڑا منصوبہ چل رہا ہے۔۔۔
وہ کب، کیا کر جائے، کوئی نہیں جانتا۔ تیزی سے آفس سے نکلتا ہوا، طوفان کی طرح اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
اس کے گارڈز بھی اتنی سپیڈ سے اس کے پیچھے پیچھے بھاگتے جا رہے تھے۔
وہ چلتے ہوئے ایسا لگتا تھا جیسے کوئی فلمی ہیرو جا رہا ہو۔
کیا واقعی، بغیر ڈینٹنگ پینٹنگ کے، کوئی اتنا خوبصورت ہو سکتا ہے؟
اس شخص کو روز دیکھنے والے، روز دیکھ کر یہی سوال خود سے کرتے تھے۔۔۔
آفس سے باہر نکلا تو ہر کوئی سانس اندر کھینچتے ہوئے اس کی خوشبو کو محسوس کر رہا تھا۔
اتنا پرفیوم چھڑک کر آریان خان نکلتا کہ جہاں سے گزرتا، اس کی خوشبو ہواؤں میں پھیل جاتی۔۔۔
بارعب آنکھیں اور ایسا اعتماد کہ ہر نظر اس پر جا ٹھہرتی جاتی ۔
بے شک یہ شخص جہاں سے گزرے، وہاں لوگ سانس روک کر اسے دیکھنے پر مجبور ہو جاتے۔
آریان خان صرف چلتا نہیں تھا، بلکہ اپنی شخصیت کے حصار میں سب کو جکڑ لیتا تھا۔۔۔ اور اس حصار کو توڑنے کی ہمت کسی میں نہیں تھی۔
گاڑی کے قریب پہنچتے ہی گارڈز نے دروازہ کھولا، مگر آریان خان نے کسی کو دیکھے بغیر خود ہی دروازہ تھام کر اندر قدم رکھا۔
اس کی نظریں سیدھی سامنے تھیں، جیسے دنیا کی کوئی طاقت اسے اپنی سمت سے ہٹا نہیں سکتی۔
انجن اسٹارٹ ہوتے ہی گاڑی تیزی سے آگے بڑھی، اور گارڈز کی گاڑیاں اس کے پیچھے قطار در قطار نکل کھڑی ہوئیں۔
پورا قافلہ ایسے لگ رہا تھا جیسے کسی شہزادے کا جلوس شہر سے گزر رہا ہو۔۔۔
آریان خان کی شخصیت کا رعب صرف اس کے چہرے یا بدن میں نہیں تھا، بلکہ اس کی ہر حرکت میں، ہر خاموشی میں جھلکتا تھا۔
وہ جتنا پرکشش تھا، اتنا ہی پراسرار بھی۔
کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔۔۔ اور یہی سب سے بڑا خوف تھا۔۔
••••••••••••
یارم نے اچانک سے آ کر اپنے ماں باپ کو تیار کرتے ہوئے عبیرہ کے گھر رشتہ لے جانے کو کہا تو اس کے بابا اور اماں پریشان ہو گئے۔۔۔
مگر چپ چاپ اپنے بیٹے کے کہنے پر تیار ہو کر ساتھ چل پڑے، زیادہ سوال نہیں کیے۔۔۔ اپنے بیٹے کے چہرے پر غیر معمولی پریشانی کے تاثرات دیکھ کر انہیں اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ واقعی پریشان ہے۔۔۔
ان کا بیٹا کم عقل اور ناسمجھ بالکل نہیں تھا، جو اس کے فیصلے پر یقین نہ کر سکیں۔۔۔ اگر وہ اچانک لے کر جا رہا تھا تو مطلب یہ کہ جانا ضروری ہوگا۔۔۔
اب جب وہ لوگ عبیرہ کے گھر پہنچنے والے تھے تو اس کے بابا نے خاموشی کو توڑتے ہوئے سوال کیا۔۔۔
یارم بیٹا، ہمیں ایک بات سمجھ میں نہیں آئی۔ کل ہی تو میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کب ہم رشتہ لے کر جائیں گے، مگر تم نے کہا کہ عبیرہ اپنے بابا سے بات کرنے کے بعد اطلاع دے گی۔
اور آج، اس طرح بغیر اطلاع دیے جانا مناسب ہے؟ میں پوچھ سکتا ہوں کہ کیا ہوا ہے؟؟
بابا کے سوال پر یارم نے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں، جیسے مناسب الفاظ تلاش کر رہا ہو۔
لبوں پر جنبش نہ آئی، مگر چہرے کے تاثرات اس کی الجھن اور پریشانی کو واضح کر رہے تھے۔
وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا، جیسے منظر کے پیچھے چھپ کر اپنی کیفیت چھپانا چاہتا ہو۔
خاموشی اس کے گرد حصار بنائے کھڑی تھی، اور اس حصار کو توڑنے کی ہمت اس میں بھی نہیں تھی۔
“اس کی یہ خاموشی خود ایک جواب تھی، ایسا جواب، جو بابا اور اماں کے دل میں مزید سوالوں کو جنم دے رہا تھا۔۔۔”
“بولو، یارم بیٹا، کوئی پریشانی ہے تو تم ہمیں بتا سکتے ہو، تمہاری خاموشی سے مجھے ڈر لگ رہا ہے۔”
“یارم کی جانب سے، اس بار بھی، مکمل خاموشی تھی۔”
“کب سے، اس کی اماں اپنے بیٹے کو خاموشی سے گاڑی چلاتے دیکھ رہی تھی۔ بابا کے بار بار پوچھنے پر بھی، جب جواب نہ آیا، تو وہ اور زیادہ پریشان ہو گئی۔”
“وہ ماں تھی، اپنے بیٹے کی پریشانی کو سمجھتے ہوئے بھی کوئی سوال نہیں کیا۔
اپنے بیٹے کی ذہانت، عقلمندی، سمجھداری اور سنجیدگی پر ہمیشہ سے اس کے ماں باپ کو ایک یقین تھا۔ مگر پھر بھی، دل کے کسی کونے میں، ایک عجیب سا ڈر جنم لے رہا تھا۔۔۔”
“اماں، مجھے خود نہیں معلوم کہ مسئلہ کیا ہے۔۔۔” یارم خان نے نگاہیں سڑک پر گاڑی چلاتے ہوئے سامنے ہی مرکوز رکھیں، آواز بھاری تھی اور چہرے پر الجھن کے سائے۔
“بس اتنا بتا سکتا ہوں کہ کوئی نہ کوئی بات ضرور ہے، کیونکہ عبیرہ نے اچانک رشتے سے انکار کر دیا، جبکہ اس سے پہلے وہ خوش تھی، یارم کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا ۔۔”
“تو بیٹا، ہو سکتا ہے اس کے بابا نے انکار کر دیا ہو۔ جیسا کہ تم نے خود کہا تھا، وہ اپنے بابا کے خلاف جانے والی بیٹی نہیں ہے، تو اسی لیے اس نے رشتے سے انکار کیا ہوگا۔۔۔”
“بیٹے کی پریشانی دیکھ کر بابا کا دل بھی بے چین تھا، مگر اس لمحے وہ خود کو مضبوط رکھے، ٹھہراؤ کے ساتھ اپنے بیٹے کو سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔”
“ایسے کیسے عبیرہ کے بابا نے میرے بیٹے کے رشتے کو انکار کر دیا۔۔۔؟ میرے بیٹے میں کوئی کمی تو نہیں؛ خوبصورت ہے، پڑھا لکھا ہے، سمجھدار ہے، اتنی اچھی پوسٹ پر ہے۔ انکار کی وجہ مجھے تو بالکل سمجھ میں نہیں آ رہی، یارم اماں اپنے شوہر کی بات سے میں بالکل بھی مطمئن نہیں ہوئی تھی۔۔۔”
“اوہو، یارم کی پیاری سی اماں، میں جانتا ہوں کہ ہمارے بیٹے میں کوئی کمی نہیں۔۔۔ مگر ہر انسان اپنی اولاد کے لیے بہتر سے بہترین چاہتا ہے۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ان کے پاس، یارم سے بہتر کوئی اور آپشن موجود ہو۔۔۔”
“میرے بیٹے سے زیادہ بہتر، کیا ہوگا؟
آپ اس طرح کے الفاظ، میرے بیٹے کے بارے میں مت بولیں،
مجھے یہ بالکل اچھا نہیں لگتا۔۔۔”
“جی جناب، بالکل نہیں بولوں گا، آپ کا حکم سر آنکھوں پر،
مگر اب آپ اپنا موڈ، جلدی سے ٹھیک کر لیں۔۔۔”
اپنی ماں کی محبت کو دیکھ کر وہ مسکرا دیا۔
جس کی نظر میں دنیا کا سب سے خوبصورت اور اچھا بیٹا یارم ہی تھا۔
اس سے آگے نہ تو اس کی ماں کو کسی کی خوبصورتی اچھی لگتی تھی، اور نہ ہی سمجھداری۔۔۔
باتیں کرتے کرتے وہ لوگ عبیرہ کے گھر پہنچ چکے تھے،
اس لیے بات یہیں پر ایک بار رک گئی۔۔۔
یارم کو مناسب تو نہیں لگ رہا تھا یوں اچانک کسی کے گھر آنا،
مگر وہ اس لڑکی کو کھونا بھی نہیں چاہتا تھا۔۔۔
شاید آج زندگی میں پہلی بار اس نے جذباتی فیصلہ کیا تھا۔
دل کی دھڑکن ذرا تیز تھی، جیسے ہر قدم کے ساتھ بےچینی بھی بڑھ رہی ہو۔
اچانک مہمانوں کی خبر سن کر گھر والوں کا کیا ردِعمل ہوگا،
یہ تو اندر جا کر ہی پتہ چل سکتا تھا۔۔۔
کچھ دیر بعد ملازم اندر گیا، اجازت لی،
اور پھر آ کر انہیں اندر آنے کو کہا۔۔۔
ان کو لے جا کر مہمان خانے میں بٹھا دیا گیا۔
کچھ دیر بعد ایک باوقار شخصیت کا حامل شخص اندر داخل ہوا۔
انہیں دیکھتے ہی پہلی نظر میں اندازہ ہو گیا کہ یہ عبیرہ کے بابا ہیں۔۔۔
“السلام علیکم۔۔۔”
“وعلیکم السلام۔۔۔”
اندر آتے ہی تبریز خان نے سلام کیا،
سب نے خوشدلی سے جواب دیا۔
یارم خان اور اس کے بابا کھڑے ہو گئے،
اور تبریز خان سے ہاتھ ملایا۔
تبریز خان نے مسکراتے ہوئے مصافحہ کیا،
پھر محبت بھرے انداز میں انہیں بیٹھنے کا اشارہ دیا۔۔۔
“موسٹ ویلکم، آپ ہمارے گھر تشریف لائے یہ ہمیں بہت اچھا لگا،
مگر معذرت کے ساتھ، میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔۔۔”
یہ کہتے ہوئے عبیرہ کے بابا کی آواز نرم تھی،
چہرے پر مسکراہٹ پھیلی ہوئی،
اور انداز میں ایک وقار تھا جو اجنبی کے لیے بھی اپنائیت پیدا کر رہا تھا۔
یوں لگ رہا تھا جیسے وہ سوال نہیں کر رہے،
بلکہ بڑے پن کے ساتھ بات چیت کا دروازہ کھول رہے ہوں۔۔۔
“پہچانے کیسے، خان صاحب؟ ہماری تو پہلی ملاقات ہے۔۔۔”
یارم خان کے بابا نے مسکراتے ہوئے وضاحت کی۔
بے شک، دوسری جانب بیٹھا ہوا شخص بھی ایک باوقار اور پرکشش شخصیت کا مالک تھا۔
“یہ ڈی ایس پی یارم خان ہیں،
شاید آپ جانتے ہوں۔۔۔”
یارم کے بابا نے اپنے بیٹے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تعارف کروایا۔
“ڈی ایس پی یارم خان کو بھلا اس شہر میں کون نہیں جانتا۔
ان کی بہادری کے چرچے بہت سنے ہیں۔
ماشاءاللہ، آئے دن مجرموں کو جہنم رسید کرنے کے بعد
نیوز کی سرخیوں کی زینت بنتے رہتے ہیں۔
یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ انہوں نے ہمارے گھر قدم رکھا۔۔۔”
“یہ ہونہار ڈی ایس پی ہمارا بیٹا ہے،”
یارم خان کے بابا نے فخر سے کہا۔
“ماشاءاللہ، ماشاءاللہ، آپ کا بیٹا بہت بہادر ہے۔
اور ہمیں امید ہے کہ یہ بہادری اپنے بابا کی جانب سے وراثت میں ملی ہوگی،”
تبریز خان نے خوش دلی سے سراہا۔
“نہیں، ماشاءاللہ، یہ مجھ سے کہیں زیادہ بہادر ہے،”
یارم کے بابا نے مسکراتے ہوئے اپنے بیٹے کی تعریف کی۔
ان کے چہرے پر خوشی کی چمک تھی،
جبکہ یارم کے چہرے پر ایک کشمکش صاف جھلک رہی تھی۔۔۔
مرد حضرات کچھ ہی دیر میں آپس میں گھل مل گئے،
گپ شپ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
مگر یارم کی ماں خاموش بیٹھی تھی،
کیونکہ نہ تو ابھی تک عبیرہ آئی تھی اور نہ ہی اس کی ماں۔
تو وہ کس سے بات کرتی؟
مگر یہ پریشانی زیادہ دیر نہ رہی،
عبیرہ کی والدہ تشریف لے آئیں۔۔۔
“السلام علیکم، معافی چاہتی ہوں، تھوڑی دیر ہو گئی۔۔۔”
جانی پہچانی آواز نے جیسے خاموشی کو نرم سا جھٹکا دیا۔
یارم اور اس کے ماں باپ نے ایک ساتھ دروازے کی طرف دیکھا،
جہاں وہ خاتون کھڑی تھیں۔۔۔
یوں لگا جیسے مانوس چراغ کی روشنی کمرے میں پھیل گئی ہو۔۔۔
یارم اور اس کی امّاں بابا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
اس خاتون کو دیکھ کر جتنا شاک یہ سب لوگ ہوئے تھے،
اتنی ہی حیران وہ خاتون خود بھی رہ گئی تھیں۔
جبکہ تبریز خان حیران نظروں سے سب کو دیکھ رہا تھا،
وہ سوچ رہا تھا کہ ایسا کیا ہو گیا ہے
کہ سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں۔۔۔
“یہ میری وائف ہیں۔۔۔”
تبریز خان نے ہاتھ کے اشارے سے تعارف کروایا۔
مگر تبریز خان کا یہ تعارف شاید کسی نے سنا ہی نہیں۔
سب ایک عجب سکتہ کے عالم میں تھے،
یوں لگ رہا تھا جیسے آوازیں لمحہ بھر کو رک گئی ہوں۔
آنکھیں حیرت سے پھیلی ہوئی تھیں،
چہروں پر بےیقینی کی لکیریں صاف جھلک رہی تھیں،
اور ماحول پر گہری خاموشی چھا گئی تھی۔۔۔
وہ خاتون حیران نظروں سے مسکراتی ہوئی ان کی جانب بڑی تھی مگر باسق خان نے ہاتھ کا اشارہ دے کر روک دیا۔ باسق خان کے چہرے پر اچانک سے شدید غصہ اور گورے چہرے پر سرخی پھیل گئی۔۔۔
یارم ٹک ٹکی باندھے اس خاتون کو دیکھے جا رہا تھا۔
پہاڑ جیسے مضبوط یارم خان کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔
اس چہرے کو پہچاننے میں اسے ایک پل بھی نہ لگا،
مگر چند قدم کے فاصلے پر کھڑی اس خاتون کی طرف
آدھا انچ بڑھنا بھی اس کے بس میں نہیں تھا۔۔۔
یارم کی اماں کا دل چاہ رہا تھا کہ آگے بڑھ کر اس خاتون کو سینے سے لگا لے،
مگر وہ ایسا نہیں کر سکتی تھیں۔
انہیں اچھی طرح علم تھا کہ یارم کے بابا اس ہستی سے کتنی نفرت کرتے ہیں،
اور وہ اپنے شوہر کے خلاف کبھی نہیں جا سکتیں تھیں۔۔۔
اپنے غصے کو ضبط کرنے کی کوشش میں یارم کے بابا کا وجود کانپ رہا تھا۔
مٹھیاں غصے سے بھینچ لی گئی تھیں۔
آنکھوں میں سرخی اتر آئی تھی،
چہرے کی رگیں تن گئی تھیں،
اور لب سختی سے بھنچے ہوئے تھے۔
لیکن ان سخت لکیروں کے پیچھے دل کے ٹوٹنے کی دھڑکن چھپی تھی۔
وہ ہستی جو کبھی جان سے بڑھ کر عزیز تھی،
آج نفرت کی حقدار ٹھہری تھی۔۔۔
“لالہ۔۔۔”
اس خاتون کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے،
مگر وہ پھر بھی باوقار لگ رہی تھیں۔
سلیقے سے اوڑھا ہوا دوپٹہ،
چہرے پر وقت سے پہلے اتر آیا بوڑھاپا،
جو ان کے گزرے ہوئے دکھوں کی کہانی سنا رہا تھا۔
کپکپاتے ہوئے لبوں سے جب انہوں نے جس کو پکارا وہ کوئی اور نہیں ،یارم خان کا بابا تھا۔
آنکھوں میں اب بھی محبت کی ایک چمک باقی تھی۔۔۔
مگر جیسے ہی اس خاتون کا ایک قدم یارم خان کے بابا کی جانب بڑها، اس کے بابا کی کرخت آواز فضا میں گونج اُٹھی۔
“چلو، یہاں سے!”
اچانک یارم کے بابا نے جانے کا آرڈر دے دیا۔
تیز قدم، بے سکون، بغیر کچھ اور کہے، وہ باہر کی جانب بڑھ گئے۔ ہر قدم ایسا لگ رہا تھا جیسے اگر ایک لمحے کی تاخیر بھی ہوئی تو ان کا سانس رک جائے گا۔
اس کے پیچھے پیچھے، یارم خان بھی تیز قدموں سے چل پڑا۔
کسی نے تبریز خان سے اللہ حافظ تک بھی نہیں کہا۔
تبریز خان حیران تھا، یہ سب کچھ دیکھ کر۔
خاتون کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر اس کے قدم اپنی جگہ پر رک گئے۔
“مجھے معاف کر دینا… میں ان دونوں کے خلاف نہیں جا سکتی۔
اگر میرے بس میں ہوتا، تو میں انہیں روک لیتی…”
رتبہ نے یہ الفاظ بامشکل ادا کیے،
ہاتھ اس کے چہرے پر لگا ہوا،
آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی،
جیسے ہر قطرہ دل کی ایک چھپی ہوئی درد بھری صدا ہو۔
رتبہ… “جلدی آجاؤ!”
باسق خان کی بھاری، غسیلی آواز پر، وہ فوراً باہر نکل گئی۔
تبریز خان حیران نظروں سے انہیں جاتا ہوا دیکھ رہا تھا،
خاتون اپنے عزیزوں کو روتے ہوئے نظروں سے جاتے ہوئے دیکھتی رہی،
ہر لمحہ جیسے دل کے کسی ٹکڑے کے ساتھ کٹ رہا ہو،
اور خاموشی میں بس ان کے پیچھے چھپی ہوئی بے بسی رہ گئی۔
بہت ہی تکلیف دیتے ہیں وہ لمحے،
جب وہ لوگ آپ کو نظر انداز کرتے ہیں،
جن کی آنکھوں میں کبھی آپ کے لیے عزت اور بے تحاشہ محبت کے سمندر کی لہریں بلند ہوا کرتی تھیں،
اور اب وہ لہریں خاموش ہو گئی ہیں، صرف یاد کے ساحل پر سرگوشی کرتی رہتی ہیں۔
“محبت کے بھرم ٹوٹنے کے بعد، وجود کے ساتھ روح بھی ٹوٹ کر چھلنی ہو جاتی ہے۔”
═══════❖═══════
“آپ لوگوں کو اس طرح وہاں سے نہیں آنا چاہیے تھا…
اس کا شوہر کیا سوچتا ہوگا…”
رتبہ نے گاڑی میں بیٹھتے ہی یہ الفاظ بامشکل ادا کیے،
چہرے پر فکر اور دل میں بے چینی کے نشان واضح تھے،
جیسے ہر لمحہ وہ اس کی جگہ خود کو رکھ کر سوچ رہی ہو۔
“رتبہ، اس وقت کچھ مت کہنا،
کیونکہ میں کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں ہوں۔
جو کچھ سوچتا ہے، اس کا شوہر سوچے… اور بھاڑ میں جائے۔”
باسق خان کی غسیلی آواز سن کر رتبہ خاموش ہو گئی۔
باسق بہت کم غصے میں آتا تھا،
مگر جب غصہ کرتا، تو اس کا لہجہ اور تیور بہت خطرناک ہو جاتے تھے۔
“بابا، ریلیکس ہو جائیں…
اس میں اماں کا تو کوئی قصور نہیں ہے۔”
“یارم، میں نے کب کہا کہ تمہاری اماں کا قصور ہے!
بس، اس وقت میں کوئی دلیل نہیں سننا چاہتا۔
جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا، میں آج تک بھولا نہیں ہوں…”
غصے کی شدت سے باسق خان نے بے اختیار اپنا ہاتھ گاڑی کے ڈیش بورڈ پر مارا۔
رتبہ نے گھبراہٹ سے آنکھیں بند کر لیں۔
وہ کافی نازک دل کی تھی،
اور باسق خان کا لہجہ عام مردوں کی طرح ہر بات پر غصے والا نہیں تھا،
اس لیے رتبہ کو اس کے اتنے شدید لہجے کی عادت بھی نہیں تھی۔
“بابا، بھولا تو کوئی بھی نہیں…
میں بھی نہیں بھولا۔
ہماری محبت کو پیروں تلے روند کر، سب کو چھوڑ کر چلی گئی…
کبھی پلٹ کر نہیں دیکھا…”
یارم خان نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
رتبہ خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی،
آنکھوں میں ہمدردی اور دل میں فکر لیے،
یہ جانتے ہوئے کہ یارم کے دکھ کے سامنے کچھ کہنا مشکل ہے۔
“یارم، یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ اس کی کوئی مجبوری رہی ہو…”
رتبہ نے اپنے شوہر اور بیٹے کو ایک دم سے اس کے خلاف ہوتے دیکھا تو سمجھانا چاہا۔
یارم اور اس کے بابا فرنٹ سیٹ پر بیٹھے تھے، جبکہ یارم گاڑی چلا رہا تھا۔
اس کے بابا سخت نظروں سے سڑک کو دیکھ رہے تھے۔
بات کرتے ہوئے یارم کی اماں نے اپنا ہاتھ اپنے بیٹے کے کاندھے پر رکھا۔
وہ یارم والی سائیڈ پر، بیک سیٹ پر بیٹھی تھی۔
“اماں، کوئی بھی مجبوری اتنی بڑی نہیں ہوتی کہ آپ اپنے پیاروں کو ہی دھوکہ دے دیں۔
ہم نہیں بھول سکتے کہ وہ ہمیں دھوکہ دے کر گئی تھی…”
“مگر یارم، وہ ایسی نہیں تھی…
مجھے نہیں پتہ کہ ایسا کیا ہو گیا کہ اس نے اتنا بڑا قدم اٹھا لیا…”
“اتنے سالوں بعد ہم اس سے ملے تھے،
اور تم لوگوں نے یوں اسے غیروں کی طرح چھوڑ دیا۔
پیار دینا یا ملنا گوارا نہیں کیا۔
کیا گزری ہوگی اس کے دل پر…”
رتبہ کی آواز میں حیرت اور درد دونوں تھے،
اور یارم خاموشی سے اسے سنتا رہا،
“ہم کیوں سوچیں کہ اس کے دل پر کیا گزری ہوگی؟
جب اس نے ہمیں چھوڑا، ہماری عزت کو خاک میں ڈالا، گھر سے بھاگ گئی…
اس نے سوچا تھا کہ ہمارے دل پر کیا گزری ہے؟
اس کے کیے کی سزا آج تک ہماری بیٹی بھگت رہی ہے…
تم اس کی طرفداری مت کرو، رتبہ، ورنہ ہمارے درمیان اختلافات پیدا ہو جائیں گے…”
باسق خان نے سرد لہجے سے کہا، تو رتبہ خاموش ہو گئی۔
یارم خان کشمکش میں گاڑی چلا رہا تھا۔
وہ جس لڑکی سے بے حد محبت کرتا تھا، جسے چھوڑنے کا سوچنا بھی اس کے لیے ناممکن تھا، اسی لڑکی کی ماں سے وہ کوئی رشتہ رکھنا نہیں چاہتا تھا۔
مگر عبیرہ سے اتنے کم عرصے میں اسے اتنا لگاؤ کیوں ہوا؟
یہ بات اب اسے واضح سمجھ آ رہی تھی۔
اور یہ بھی کہ عبیرہ پہلے ہی نظر میں اس کے دل کو اتنی عزیز کیوں لگی۔
عبیرہ اپنی ماں کی پرچھائی تھی۔۔۔وہی انداز، وہی لب و لہجہ، وہی معصومیت۔
وہ ہمیشہ کہا کرتی تھی، “جب میری بیٹی ہوگی، تو اس کی شادی میں تم سے کروں گی…”
کیا پتہ تھا کہ قسمت وہ ساری باتیں سنہرے حروف میں لکھ رہی تھی؟
یارم خان کو محبت بھی ہوئی تو اسی کی بیٹی سے۔
وہ لوگ تو عبیرہ کی پریشانی دور کرنے کے لیے اس کے ماں باپ کو سمجھانے گئے تھے،
لیکن یہاں تو پوری فیملی خود پریشان تھی۔
ایسا کیا رشتہ تھا اس عورت سے یارم کی فیملی کا؟
اور ایسا کیا کر دیا تھا اس عورت نے، جو یارم کی فیملی اسے معاف نہیں کر سکتی
تھی؟
ماضی کے پنوں میں بہت کچھ چھپا تھا،
جنہیں پڑھتے ہوئے بھی روحیں جھلنی ہونےکا خوف تھا۔
═══════❖═══════
عبیرہ شاور لے رہی تھی جب اسے روم میں ہلچل سی محسوس ہوئی، مگر اس نے اپنے وہم کو جھٹک کر نظر انداز کر دیا۔
وہ آتے ہوئے روم کا لاک لگا کر آئی تھی اور کھڑکی کے پردے بھی درست کر دیے تھے۔ ایسے میں روم میں کون آ سکتا تھا؟ اس نے اپنے وہم کو دور کر کے شاور دوبارہ شروع کیا۔
سونے سے پہلے وہ اکثر شاور لے کر خود کو تازگی محسوس کراتی تھی۔ تقریباً دس منٹ بعد وہ شاور مکمل کر کے ٹی شرٹ اور لوز ٹراؤزر پہنے، بالوں کو خشک کرتی ہوئی واش روم سے باہر آئی۔
بالوں کی نرمی اور حرکات پر توجہ دیتے ہوئے، وہ ٹاول واپس واش روم کے سٹینڈ پر رکھتی اور دروازہ لاک کر کے مرر کے سامنے بالوں کو سنوارنے لگی۔
اسے معلوم نہیں تھا کہ ایک خاموش موجودگی اسے بغور دیکھ رہی تھی۔
ہر حرکت، ہر انداز، ہر چھوٹا لمحہ اس کی موجودگی میں چھپی دلچسپی کو ظاہر کر رہا تھا۔
عبیرہ نے اپنے اوپر محسوس ہونے والی اس غیر مرئی نظروں کی حدت کو سمجھا اور روم کے چاروں طرف نظریں دوڑائیں۔
اس نے شدت سے محسوس کیا کہ روم میں کوئی موجود ہے۔
دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، اور خوف نے اس کے دل پر دباؤ ڈال دیا۔
روم میں پھیلی خوشبو نے بھی اس کی موجودگی کو ظاہر کر دیا۔
عبیرہ جلدی سے ہیئر برش رکھ کر دروازے کی طرف بڑھنے لگی، دل میں اضطراب اور خوف لیے۔
اور اس سے پہلے کہ وہ دروازہ کھول کر روم سے باہر جاتی، مقابل قریب آیا اور احتیاط سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تاکہ اچانک آواز نہ نکلے۔
عبیرہ کی آنکھوں میں حیرت اور خوف کے امتزاج نے لمحے کی شدت کو مزید بڑھا دیا۔
یہ لمحہ کشمکش، خوف اور اضطراب سے بھرپور تھا،
بہت اچھی سیکیورٹی کا انتظام کر رکھا تھا تم نے…
دیکھو، تمہاری سیکیورٹی کی دو سیکنڈ میں کس طرح بینڈ بجا کر تم تک پہنچ چکا ہوں۔
تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ تمہاری یہ سیکیورٹی آریان خان کو روکنے کے لیے کافی ہے۔
اس نے آہستہ اور دھیمی آواز میں کہا،
عبیرہ خوف سے کانپ رہی تھی۔ جتنا وہ اس شخص سے خوفزدہ تھی، اتنا ہی دور رہنا چاہتی تھی۔
مگر مقابل، اس کے حواسوں پر چھاتے ہوئے، ہر لمحہ اس کے قریب آ جاتا تھا۔
ششششش۔۔۔خاموش۔۔چپ رہنے کا حکم دیا گیا… آواز نہیں آنی چاہیے۔
آریان نے آہستہ سے اسکے منہ سے ہاتھ اٹھایا، اور گھورتے ہوئے اپنی بات دھیمی، سرگوشی میں کہی، جس میں سختی اور حکم دونوں محسوس ہو رہے تھے۔
عبیرہ خود کو تھامے کھڑی تھی، دل تیز دھڑک رہا اور ہاتھ کانپ رہے تھے۔ ہر لمحہ وہ باہر نکلنے کی راہ تلاش کر رہی تھی، مگر مقابل کی موجودگی نے اسے محتاط اور خوفزدہ کر رکھا تھا۔
وہ نازک ہرنی کی طرح رک گئی تھی، دل کی دھڑکن اور جسم کی کیفیت اس کے خوف کو ظاہر کر رہی تھی۔
“دل کو سنبھالو، میری ہو چکی بیوی…”
اس کی آواز میں اختیار اور حکمرانی تھی، جس نے عبیرہ کے اضطراب کو بڑھا دیا۔
مقابل قریب آیا اور اس کی موجودگی ہر لمحہ اس پر چھائی رہی۔ عبیرہ خوف اور اضطراب کے باوجود محتاط اور بے بس تھی۔
ہر لمحہ، ہر جنبش میں کشمکش چھپی تھی۔ یہ منظر تناؤ، خوف اور سے بھرپور تھا۔۔
پپ… پپ… پل… پلیز، مجھے جانے دو…
وہ دبی ہوئی آواز میں، آنکھیں نم کیے، روتی ہوئی بول رہی تھی۔
نن… نن… نہیں، جانے دوں گا…
آریان خان نے وہی الفاظ دہراتے ہوئے، سخت اور تھوڑا طنز بھری نظروں سے اسے دیکھا۔
اپنا رخ اس کی طرف کیا اور اسے قریب تھام رکھا، جس کی موجودگی عبیرہ کے دل پر واضح اثر ڈال رہی تھی۔
اس کی سختی اور تھوڑا طنز، عبیرہ کے خوف اور بے بسی کو واضح کر رہا تھا۔
عبیرہ دبی ہوئی، آنکھیں نم اور ہر لمحہ محتاط تھی۔
وہ سہمی ہوئی تھی اور ہر قدم، ہر نظر میں اپنے خوف اور اضطراب کو چھپا نہیں پا رہی تھی۔
اس کی معصومیت اور بے بسی، ہر لمحے کے ساتھ بڑھتی جا رہی تھی۔
مگر اس لمحے میں نہ تو آریان خان کو اس کی معصومیت پر رحم آ رہا تھا، اور نہ ہی وہ اسے کمزور سمجھ رہا تھا۔
“پلیز، مجھے جانے دو… کوئی آ جائے گا…”
عبیرہ کا لہجہ سہما ہوا تھا، ہر لمحے اس کے دل میں ڈر موجود تھا۔
“آ جائے گا تو آ جائے… میں تو کسی سے نہیں ڈرتا۔ میری بات کا جواب دو۔”
آریان خان نے سخت اور براہِ راست انداز میں کہا، جس نے عبیرہ کی خوفزدگی کو اور بڑھا دیا۔
“تمہاری جرات کیسے ہوئی کہ تم نے فون بند کر رکھا؟ جب میں نے کہا تھا کہ میرا رابطہ تم سے ٹوٹنا نہیں چاہیے، تو تمہاری اوقات کیسے ہوئی کہ تم نے فون بند کر کے رکھ دیا…”
آریان خان کے لہجے میں غصہ صاف نظر آ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں سخت اور پُراثر تھیں، ہر لفظ میں حکم اور شدت تھی۔
“اور تمہیں کیا لگتا تھا کہ فون بند کرنے سے یا ونڈو کے آگے ڈریسنگ ٹیبل رکھ دینے سے تم مجھے روک سکتی ہو…”
آریان خان کے نزدیک ہر لفظ وزن رکھتا تھا، اور عبیرہ اس کی سختی اور غصے سے سہمی ہوئی تھی۔ وہ دبی ہوئی، ہر لمحے محتاط، اور خوفزدہ نظر آ رہی تھی۔
آریان خان طوفان کا نام ہے، جسے تمہارے معمولی بندھن توڑ نہیں سکتے۔
اس کے ہاتھ گرفت جبرے پر مضبوط تھی، جبڑے پر درد کی شدت نے عبیرہ کو تڑپ کر سسکنے پر مجبور کر دیا،
“خدا غرق کرے، مر جاؤ تو ذلیل ہو… میرے ساتھ کیا دشمنی ہے تمہاری…”عبیرہ کے دل سے اس کے لیے صرف بددعائیں نکل رہی تھیں۔
مگر ایک بھی لفظ اس کے منہ سے نہیں نکل پایا، دل ہی دل میں اللہ کی بارگاہ میں اس کے لیے بد دعائیں جاری تھی۔
“مجھے بددعائیں دے رہی ہو…”
عبیرہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
کم بخت، دل کی بات کیسے جان لیتا ہے، عبیرہ نے ایک بار پھر دل ہی دل میں سوچا۔مگر آریان کی اگلی بات نے پھر سے اسے حیران کر دیا۔
“جس پر ہر پل نظر رکھی جائے، اس کے دل کی بات کو سمجھنا مشکل نہیں ہوتا….عبیرہ آریان خان…”
آریان خان نے جان بوجھ کر اس کے نام کے ساتھ اپنا نام جوڑتے ہوئے پکارا “
عبیرہ ایک بار پھر حیران تھی کہ وہ کیسے اس کے دل کی ہر بات کو سمجھ رہا ہے۔
“اتنے غور سے مت دیکھو، مجھ سے پیار ہو جائے گا…”
عبیرہ کی حیرانی پر وہ تنزیہ ہنستے ہوئے بولا، جبکہ اس کی مسکراہٹ عبیرہ کو زہر لگ رہی تھی۔
“گھٹیا انسان… اگر تم دنیا کے آخری مرد بھی ہو، تب بھی کبھی تم سے پیار نہ کروں…”
یہ الفاظ بے اختیار عبیرہ کے منہ سے نکلے، اس کے دل کی شدت اور غصے کو ظاہر کرتے ہوئے،وہ بول تو گئی تھی مگر اس کے دل میں ایک عجیب سا ڈر بھی تھا اب مقابل کا رد عمل نہ جانے کیا ہو گا۔۔۔
“محبت کرو یا نہ کرو، اس سے فرق نہیں، مگر میری پابند ہو کر تمہیں اب ساری زندگی رہنا ہے… اور جتنا محتاط رہو گے، اتنا ہی تمہاری بھلائی کے لیے بہتر ہوگا…”
آریان خان کی گرفت نے عبیرہ کو خاموشی اور خوف میں مجبور کر دیا،
“تم نے کل پھر دو ٹکے کے ڈی ایس پی سے فون پر بات کیوں کی؟”
آریان خان کے چہرے کی رگیں تن گئی تھیں، آنکھیں غصے سے سرخ ہو رہی تھیں، اور ہر حرکت میں سختی اور خوف واضح تھا۔ عبیرہ اسے پھٹی ہوئی حیران آنکھوں سے دیکھ رہی تھی، دل میں حیرت کے ساتھ سوچ رہی تھی کہ یہ شخص اس کے بارے میں ہر بات کیسے جان گیا۔
“میں پوچھ رہا ہوں، تم نے اس ڈی ایس پی کا فون کیوں اٹینڈ کیا؟”
جواب نہ آنے پر وہ اور آگ بگولا ہو کر پوچھ رہا تھا۔
“میری مرضی…”
وہ غصے سے چلائی۔ اس بار اس نے اپنی بلند آواز کا لحاظ نہیں کیا تھا۔ ہمت جمع کرتے ہوئے وہ آریان کے غصے کا جواب غصے سے دے رہی تھی۔
شاید اس کے بھی صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔
“اپنی آواز آہستہ رکھو، ورنہ جب میں چلاؤں گا تو تمہارے بھاگنے کے لیے راستہ نہیں بچے گا…”
“مجھے نہ تم سے ڈر لگتا ہے، نہ تمہارے گھر والوں سے، سمجھ گئی تم…”
“یہ چلا کر تم اپنے لیے ہی مشکل پیدا کر رہی ہو، میرا کچھ نہیں بگڑے گا…”
اسے اٹھا کر بیڈ پر بٹھاتے ہوئے، آریان خان نے اپنی گرفت اور شدت دکھائی۔ عبیرہ کی پھولی ہوئی سانس اس کی سختی کے سامنے واضح تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ آج تو واقعی اس کی ہڈی کو نقصان پہنچ سکتا ہے، یہ شخص کس قدر سخت اور بے رحم تھا۔
“کیا کہا تم نے کہ تمہاری مرضی؟ تمہاری کوئی مرضی نہیں ہے… میں تمہاری کوئی مرضی چلنے نہیں دوں گا۔ تمہیں سانس تک مجھ سے اجازت لے کر لینی پڑے گی، ہر چیز کے لیے اپنا محتاج میں بنادوں گا…”
“میری بات کان کھول کر سنو۔ کل تم اپنے باپ سے کہو گی کہ تم مجھ سے پیار کرتی ہو۔ اور اگر میں نہ ملا تو تم میری خاطر اپنی جان دے دو گی…”
وہ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا ہوا ڈریسنگ ٹیبل کے پاس جا کر ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔ کمرے میں اس کا قدم ایسے پڑ رہا تھا جیسے یہ اس کا اپنا کمرہ ہو۔ اس کے چہرے پر نہ خوف تھا، نہ کسی کے دیکھنے کا خیال۔
“میں بابا سے ایسا کبھی نہیں کہوں گی۔
تم جیسے شخص کے لیے جان میری جوتی دیتی ہے… تمہاری خاطر تو میں ایک وقت کا کھانا تک نہ چھوڑوں، جان دینا تو دور کی بات ہے…”
کب سے اس کی تنگ آ چکی تھی۔ وہ پوری ہمت جمع کر کے بولی اور بیڈ پر اٹھ کر بیٹھ گئی۔
“بکواس مت کرو!
اگر تم نے اپنے باپ سے یہ نہیں کہا تو میں جو تمہارا حشر کروں گا… تمہاری سات پشتیں یاد رکھیں گی…”
وہ تیزی سے اس کی جانب بڑھا۔
عبیرہ تیزی سے دروازے کی جانب لپکی تھی۔ اس بار تقریباً وہ کنڈی کھول چکی تھی۔ آریان خان دو ہی قدموں میں فاصلہ طے کرتے ہوئے اس تک پہنچ چکا تھا۔
دروازہ کھولنے کا ارادہ ناکام بناتے ہوئے اسے گھسیٹتے ہوئے بیٹھ کے قریب لے گیا۔
“چھوڑو مجھے…” وہ جھٹپٹائی۔
“تم اتنی آسانی سے نہیں مانو گی… چلو، تمہیں آریان خان سے ملاتا ہوں…”
پاکٹ میں ہاتھ ڈالتے ہوئے چھوٹا سا، تیز دھار والا چاقو نکالا۔
“کک… کیا کرنے والے ہو؟”
“تت… تمہارا کلائی کاٹ کر تمہارا قصہ ختم کرنے والا ہوں،…”
اس کی آنکھوں میں سختی اور خطرے کی چمک تھی، اور ہر لفظ کے ساتھ عبیرہ کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اس کی پھٹی ہوئی آنکھوں میں خوف اور بے بسی صاف دکھائی دے رہی تھی، اور وہ جیسے ہر سانس اور ہر حرکت کے ساتھ قریب آتے خطرے کو محسوس کر رہی تھی۔
تمہیں کیا لگا کہ یارم خان سے فون پر گپیں مارو گی، اور اس کے بعد فون بند کر دو گی، اور کہو گی کہ تمہاری مرضی، تم چاہو جو مرضی کرتی پھرو۔۔۔ مت بھولو کہ اب تم میرے نکاح میں ہو۔
میرے نکاح میں ہوتے ہوئے، تم نے اس دو ٹکے کے ڈی ایس پی سے باتیں کی، اور تمہیں لگتا ہے کہ آریان خان تمہیں کچھ بھی نہیں کہے گا۔۔۔
مسز آریان خان، بھول ہے تمہاری، جب میں تمہیں سزا دوں گا، تو تمہاری روح کانپ جائے گی۔۔۔
وہ خون خوار نظروں سے دیکھتے ہوئے، زبردستی اس کی کلائی تھامے ہوئے، نظریں اس کی آنکھوں میں گاڑے کھڑا تھا۔۔۔
“نن۔۔۔ نہیں، پلیز، ایسا مت کرنا۔۔۔” عبیرہ رو کر التجا کر رہی تھی۔
وہ اتنی ڈرپوک تھی کہ کلائی کاٹنے والا سین مووی یا ڈراموں میں نہیں دیکھ پاتی تھی، جبکہ وہ جانتی تھی کہ وہ محض شوٹنگ کے لیے کیا جا رہا ہوتا ہے۔۔۔
آریان خان تو سچ میں، ہاتھ میں چاقو لیے کھڑا تھا، خوف سے عبیرہ کی جان نکل رہی تھی۔ اس کا پورا وجود خوف سے کانپ رہا تھا، وہ شخص سچ میں اس کی کلائی کاٹنے والا تھا۔۔۔
“پلیز، ایسا مت کرنا۔۔۔”
آہ آہ۔۔۔
“ششش۔۔۔
اگر آواز آئی تو ہاتھ کو بازو سے الگ کر دوں گا۔۔۔”
اس کی کلائی پر، بڑی مہارت سے، اس نے چاقو سے باریک سی لکیر کھینچی، جس سے عبیرہ خوفزدہ ہو گئی۔ خون دیکھ کر وہ ہلکی سی جھنجھلاہٹ محسوس کر رہی تھی، مگر اس کی جان کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔
“تم وحشی ہو وحشی۔۔۔
وہ اپنی کلائی پر باریک سی خون کی لکیر دیکھ کر روتی ہوئی اسے کوس رہی تھی۔
“ہا ہا ہا۔۔۔
تھینک یو، سویٹ ہارٹ۔”
آریان خان قہقہہ لگا کر ہنسا۔۔۔
“تم اپنے باپ کو ویسے تو بتانا نہیں چاہتی تھی، مگر میں نے تمہارے لیے آسانی کر دی ہے… جب تمہارا باپ آئے گا، تو اسے بتانا کہ تم نے میرے لیے خود کشی کی کوشش کی۔۔۔”
آنکھوں میں سختی اور دھندلی چمک لیے، اس نے اس کی زخمی کلائی کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر زور سے دبا دیا، اور گہری، نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔
“آہ… آہ…”
وہ درد سے چلا اٹھی تھی۔
“ظالم انسان… مجھے درد ہو رہا ہے۔۔۔”
“مگر تمہیں یوں تڑپتا ہوا دیکھ کر مجھے بہت مزہ آ رہا ہے۔۔۔”
آریان کے لبوں پر ایک پرسکون مسکراہٹ تھی۔
“تم درندے ہو… درندے انسان کہلانے کے لائق نہیں۔۔۔”
وہ اپنے ہاتھ سے گرتی ہوئی خون کی بوندوں کو دیکھ کر بہت خوفزدہ ہو رہی تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ وہ مر جائے گی۔۔۔
“سویٹ ہارٹ، مجھے… مجھے انسان کہلانے کا کوئی شوق بھی نہیں ہے۔۔۔”
“مسز عبیرہ، آریان خان، تم تو ابھی سے گھبرا گئی ہو۔ یہ تو صرف ایک چھوٹا سا ٹریلر ہے۔ اگر تم پوری مووی نہیں دیکھنا چاہتی، تو اپنے باپ سے وہی کہنا جو میں نے تم سے کہا ہے۔۔۔”
اس کے ہاتھ کو سختی سے دباتے ہوئے، وہ غراتے ہوئے بولا۔ عبیرہ درد سے تڑپ رہی تھی، اور آریان خان سفاکی سے ہنس رہا تھا۔۔۔
“آخر، تم کیا چاہتے ہو؟”
“تجھے چاہتا ہوں۔۔۔ اتنی سی بات تمہاری سمجھ میں نہیں آرہی ؟”
“مگر میں نہیں چاہتی تمہیں۔۔۔”
“اس بات کا کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور اس بات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت نہیں۔ کہ میں تمہیں چاہتا ہوں، یہ صرف ایک مذاق ہے،تم دنیا کی آخری لڑکی بھی ہو، تب بھی میں تم سے نفرت ہی کرتا رہوں گا، اور تم صرف نفرت کے لائق ہو۔۔۔”وہ فوراً سے اپنی بات سے پلٹ گیا۔
“کیوں… کیوں کرتے ہو تم مجھ سے نفرت؟ مجھے تو یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی، کیا دشمنی ہے؟ کسی کو سزا دینے سے پہلے تو بتایا جاتا ہے کہ اس نے کیا گناہ کیا ہے۔۔۔”
عبیرہ اپنے ہاتھ سے نکلتے ہوئے خون کو دیکھ کر پھٹ پڑی تھی۔
“مگر میں بتانا ضروری نہیں سمجھتا، آریان خان کے اپنے قاعدے، اپنے قانون ہیں۔۔۔
فرسٹ ایڈ باکس کہاں ہے؟”
عبیرہ اپنے ہاتھوں کو دل کے قریب دبا کر بیٹھ گئی، ہاتھ پر خون سے بھیگی انگلیاں کانپ رہی تھیں۔ “کیوں؟ اس کی کیا ضرورت ہے؟” اس کی آواز لرز رہی تھی، اور آنکھوں میں خوف کے ساتھ بے بسی بھی جھلک رہی تھی۔
آریان خان کمرے کے کناروں پر نظر دوڑاتے ہوئے، فرسٹ ایڈ باکس کی تلاش میں الماریوں اور شیلفز کے بیچ ہاتھ پھیر رہا تھا۔ اس کے چہرے پر مصنوعی افسوس کے تاثرات تھے، مگر آنکھوں میں سختی اور غصے کا ایک عجب امتزاج صاف جھلک رہا تھا، جیسے ہر لمحہ کچھ بگڑ سکتا ہے۔
“ڈارلنگ، تمہارے ہاتھ پر ڈریسنگ کرنی ہے۔ اگر یہ قطرہ قطرہ خون گرتے گرتے ختم ہو گیا، اور تم مر گئی، تو پتہ ہے میرا کتنا نقصان ہو جائے گا۔۔۔
میں نے جو برسوں سے اپنے اندر غصے کی آگ جمع کر کے رکھی ہے، سالوں تمہاری زندگی کو عذاب بنانے کا انتظار کیا ہے۔ میرے تو سارے ارمان ادھورے رہ جائیں گے۔۔۔”
عبیرہ اپنی جگہ تھرتھرا رہی تھی، ہر سانس کے ساتھ خوف اس کے جسم میں پھیل رہا تھا۔ اس کی نگاہیں آریان خان سے ہٹنے کو تیار نہیں تھیں، اور دل دھڑک رہا تھا جیسے ہر لمحہ کچھ حادثہ ہو جائے گا۔
“یار، تمہیں مرنے نہیں دے سکتا۔ ویسے بھی چوزی کے جتنی جان ہے تمہاری، یہ قطرہ قطرہ خون بھی گرتے گرتے تمہیں پندرہ بیس منٹ میں مار ہی دے گا۔۔۔”
آریان کے لہجے میں سختی تھی، مگر حرکات میں حساب اور ضبط بھی تھا۔ وہ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھا رہا تھا، اور عبیرہ کے دل کی دھڑکنیں سنبھل نہیں پا رہیں تھیں۔
عبیرہ کا جسم تھرتھرا رہا تھا، آنکھیں خوف اور اضطراب سے سرخ ہو گئی تھیں، اور ہر لمحے اس کی چھوٹی چھوٹی حرکتیں، آریان کی گرفت اور حاکمیت کے سامنے بے بسی کی تصویر بنا رہی تھیں۔
“میرا خیال رکھنے کے لیے میرے گھر والے موجود ہیں، تمہیں یہ احسان کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔”
“جب تم میں انسانیت ہی نہیں، تو پھر زبردستی دکھانے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔۔۔”
“تمہارا گھر والا بھی میں ہوں، اور باہر والا بھی میں۔ انسانیت مجھ میں نہیں ہے، اور نہ کبھی دکھاؤں گا۔۔۔ ایٹیٹیوڈ دکھانے کی جرات مت کرنا، اور یہ بار بار ‘تم’ کہہ کر بلانا بند کرو۔
تمہیں اس سے پہلے بھی سمجھا چکا ہوں، اور یہ آخری بار ہے کہ بول رہا ہوں، مجھے ‘آپ’ کہہ کر مخاطب کیا کرو۔۔۔”
“آریان خان کو ‘تم’ کہنے والے چند ایک خاص لوگ ہیں، اور تم ان میں شامل نہیں ہوتیں۔ اور ویسے بھی، تمہارا شوہر ہوں، تم پر واجب ہے کہ ‘آپ’ کہو۔۔۔”
آریان نے زبردستی اس کا ہاتھ پکڑا، روئی سے بے دردی کے ساتھ پائیوڈین لگا کر زخم کو صاف کیا، اور عبیرہ کو سسکنے اور رونے پر مجبور کر دیا۔
“میں مر جاؤں گی، مگر کبھی تمہیں اپنا شوہر تسلیم نہیں کروں گی۔۔۔”
عبیرہ اپنی ضد پر قائم تھی۔ جو شخص اس کی نظروں کو اچھا نہیں لگتا تھا، اسے شوہر تسلیم کرنا اور عزت دینا، وہ کیسے منظور کر لیتی؟
“میں۔۔۔ تمہارا۔۔۔ شوہر۔۔۔ ہوں۔
تم۔۔۔ تسلیم کرو یا نہ کرو، اس سے ذرا برابر بھی فرق نہیں پڑتا۔۔۔
اور کل کا دن ہے، تمہارے پاس۔
اگر تم نے اپنے باپ کو میرے بارے میں بتا دیا تو ٹھیک ہے، نہیں تو پرسوں کی صبح تمہارے لیے ایک نیا عذاب لے کر طلوع ہوگی۔۔۔
اور اس عذاب کا نام ہوگا۔۔۔ آریان خان۔۔۔”
عبیرہ نے خوف اور ہچکچاہٹ کے ساتھ اس کی بات سنی، ہر لفظ اس کے دل میں دھڑک رہا تھا۔ اس کی نظریں زمین پر جمی ہوئی تھیں، ہاتھ کانپ رہے تھے، اور پورا جسم خوف سے لرز رہا تھا۔
“دھمکی دے رہے ہو؟” اس کی آواز چھوٹی، لرزدار، اور بے بسی بھری تھی۔
“آریان خان دھمکیاں نہیں دیتا۔۔۔
جو کہتا ہوں، وہ کر کے دکھانے کا پورا جگرا ہے مجھ میں۔۔۔”
اس کے ہاتھ کی زبردستی ڈریسنگ کرتے ہوئے، وہ آہستہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ کمرے میں اس کی موجودگی ہر لمحے عبیرہ کے دل میں خوف کے بیج بوتی جا رہی تھی۔ اس کی حرکتوں میں سختی تھی، مگر ہر قدم حساب سے اٹھایا گیا، جیسے کمرہ اس کا اپنا ہو، اور ہر چیز پر مکمل گرفت ہو۔
“صرف اور صرف کل کا دن۔۔۔”
آریان خان انگلی اٹھا کر اسے وارننگ دیتا ہوا کھڑکی سے نیچے اتر گیا۔ دو ہی سیکنڈ میں وہ غائب ہو چکا تھا۔
عبیرہ اس کے پیچھے جا کر کھڑکی پر کھڑی ہو گئی۔ دل دھڑک رہا تھا، ہاتھ کانپ رہے تھے۔ کتنی نڈر شخصیت ہے یہ انسان، جو اس کے گھر میں آکر، دوسری بار، اتنا کچھ کہہ کر جا چکا تھا۔۔۔
وہ سوچ کر کانپ رہی تھی کہ اس کے ساتھ آگے کیا ہو سکتا ہے۔ دل چاہا کہ وہ چیخ کر سب کو بتائے کہ یہ شخص اس کا جینا حرام کر رہا ہے، مگر اپنے بھائی اور باپ کی زندگی داؤ پر لگانے کی ہمت اس میں نہیں تھی۔
آریان خان کی ذہنیت اور اس کے پہلے کیے گئے اقدامات کے بارے میں سوچ کر عبیرہ کا دل بھر آیا۔ پہلے اس کے باپ پر گولی چلوا دی، اب اس کے کلائی کاٹ دی،یہ سوچ کر خوف سے اس کا جسم لرز رہا تھا۔
جلدی سے کھڑکی بند کر کے وہ واپس آکر بیٹھ گئی۔ کلائی میں شدید درد کے ساتھ ہر سانس کے ساتھ دل میں خوف کی لہر دوڑ رہی تھی۔ اس کے نظریں زمین پر جمی ہوئی تھیں، اس پر بے بسی کی کیفیت چھائی ہوئی تھی۔
“میں کیسے اپنے بابا سے کہہ سکتی ہوں کہ اس شخص سے پیار کرتی ہوں۔۔۔؟
اور جس طرح کی اس کی حرکتیں ہیں، مجھے پورا یقین ہے کہ بابا کبھی اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔
سوچوں کا طوفان اسکے دماغ میں چھایا ہوا تھا،وہ بیڈ پر سوچتی ہوئی بیٹھی تھی، کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا۔ آنسو بھی خشک ہو چکے ہیں۔ آخر کتنا روتی؟ اس شخص پر رونے کا کوئی اثر بھی تو نہیں تھا، اور باقی گھر کے لوگوں کو وہ روک کر اپنا درد دکھا بھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔
کیا کروں ؟ یارم کو فون کر کے سب کچھ بتا دوں۔ یہی ایک شخص ہے جو مجھے بچا سکتا ہے،وہ خود سے ہی سوال اور خود سے ہی جواب دے رہی تھی ۔۔۔
کافی دیر سوچنے کے بعد، میں بڑی ہمت جمع کر کے فون اٹھایا ،کچھ لمحے سوچتی رہنے کے بعد ، یارم کا نمبر ڈائل کرتے فون کان کو لگا لیا۔
دوسری جانب رنگ ٹون ہو رہی تھی اور عبیرہ کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ عجیب سی گھبراہٹ اسے ایسے گھیر رہی تھی جیسے کسی چھپے ہوئے طوفان کی لہر دل کی دیواروں سے ٹکرا رہی ہو۔
═══════❖═══════
یارم جب سے عبیرہ کے گھر سے واپس آیا تھا، اس کے دل و دماغ پر ایک ہی بوجھ تھا۔۔۔۔عبیرہ کی ماں ۔
گھر آ کر بھی اسے چین نصیب نہ ہوا۔ کمرے میں بار بار چکر لگاتے ہوئے وہ اپنے ہی خیالوں میں گم تھا۔
یہ بےچینی صرف یارم تک محدود نہ تھی۔ اس کے بابا اور ماں بھی اسی فکر میں ڈوبے ہوئے تھے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے ایک ہی پریشانی نے پورے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہو۔
ہر چہرے پر بے سکونی اور اضطراب کی لکیریں صاف جھلک رہی تھیں۔ گھر کا ماحول جیسے کسی انجانے طوفان کے انتظار میں ٹھہرا ہوا تھا، اور سبھی کو ایک ہی منزل دکھائی دے رہی تھی۔۔۔حل ڈھونڈنا، مگر راستہ کسی کو نظر نہیں آ رہا تھا۔
یارم عبیرہ کے بغیر جینا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
زندگی میں پہلی بار اس نے کسی کو اس شدت سے چاہا تھا۔ عبیرہ خان اُس کی پہلی اور آخری محبت بن چکی تھی۔
چند ہی دنوں میں اُس نے اس کے ساتھ کتنے خواب بُن لیے تھے۔۔۔خواب جو اُس کی آنکھوں میں روشنی بن کر چمکتے تھے۔ مگر اب وہی خواب ٹوٹ کر کرچیاں بن گئے تھے۔
یہ کرچیاں صرف خوابوں کی نہیں تھیں، دل کی بھی تھیں، جو ہر پل آنکھوں کے راستے چبھ کر یارم کو اذیت دے رہی تھیں۔
وہ الجھا ہوا، بے سکون قدموں سے چلتا ہوا ٹیرس پر آن کھڑا ہوا۔ نرم ہوا اس کے چہرے کو چھو رہی تھی، مگر اس کے اندر کا طوفان کسی بھی سکون کو قبول کرنے پر آمادہ نہ تھا۔
وہ الجھے قدموں سے ٹیرس پر جا کھڑا ہوا۔ ٹھنڈی ہوا چہرے کو چھو رہی تھی، آسمان پر بادلوں کی نرم روانی تھی، مگر یارم کے دل کا بوجھ کم نہ ہوا۔
آخر دل کے اندر اگر بے سکونی ہو، تو باہر کا موسم کبھی سکون نہیں پہنچا سکتا۔
وہ سوچوں کی دنیا میں کھویا کب سے ٹیرس پر کھڑا تھا۔ نظریں دور سڑک پر دوڑتی ہوئی گاڑیوں اور شور مچاتی ٹریفک پر جمی تھیں، مگر ذہن کہیں اور بھٹک رہا تھا۔ اردگرد کا ہنگامہ جیسے اس کے لیے بے معنی ہو گیا تھا۔
فون پر مسلسل بجتی ہوئی رنگ ٹون کی تیز آواز نے یارم کو خیالوں کی دنیا سے چونکا دیا۔ اس نے آہستہ سے جیب میں ہاتھ ڈالا اور فون نکال کر آنکھوں کے سامنے کیا۔
اسکرین پر جگمگاتے ہوئے نام کو دیکھ کر اس کے دل کی دھڑکن ایک پل کو رک سی گئی۔۔۔ “My Heart Beat”۔
وہ لمحہ بھر ٹھہر گیا، ایک گہری سانس بھری، پھر فون آن کر کے کان سے لگا لیا۔
“السلام علیکم۔۔۔”
“وعلیکم السلام، کیسے ہیں آپ؟”
“پتہ نہیں!”
“اس کا کیا مطلب ہے؟”
“یہ بھی نہیں جانتا!”
“کیا آپ مجھ سے ناراض ہیں؟”
“ایسا کوئی حق آپ نے مجھے دیا ہی نہیں۔۔۔”
“کسی کی مجبوری بھی ہو سکتی ہے! ہو سکتا ہے آپ کو حق دینے سے ، کوئی زبردستی مجھے روک رہا ہو!”
“عبیرہ! جو کہنا ہے، ساتھ ساتھ کہو۔ میں پٹھان ہوں، یوں گھما پھرا کر کی ہوئی باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں۔۔۔
میں صاف بات کرتا ہوں اور صاف گوئی کرنے والے لوگوں کی باتوں کو ہمیشہ غور سے سننے اور سمجھنے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔”
میں آپ سے ملنا چاہتی ہوں!
ہمم ٹھیک ہے!!
کہاں ملنا ہے بتا دو؟؟
اتنے روکھے سوکھے انداز سے بات کیوں کر رہے ہیں جیسے آپ مجھے جانتے ہی نہ ہوں۔۔۔
یارم خان کا روکھا سا رویہ اسے بہت تکلیف پہنچا رہا تھا۔۔۔
“ہمارا انداز تو صرف روکھا ہے، مگر آپ نے تو ہماری توہین ہی کر دی۔۔۔ صاف لفظوں میں یہ کہہ کر کہ آپ ہم سے رشتہ نہیں رکھنا چاہتیں۔”
یارم کی آواز میں عجیب سا کرب چھپا ہوا تھا۔ ایک ہاتھ اس نے ٹیرس کی باؤنڈری پر رکھ چھوڑا تھا، انگلیاں ہلکی سی کپکپا رہی تھیں۔ نظریں دور جا کر اس اندھیرے میں کھو گئی تھیں جہاں سڑک کی روشنی دھندلی سی جھلک رہی تھی۔
وہ باہر دیکھ تو رہا تھا مگر اصل میں اپنے اندر جھانک رہا تھا۔۔۔ آنکھوں کے سامنے بس وہ لمحے تھے، جب اس نے پہلی بار عبیرہ کو چاہا تھا، اور وہ خواب، جو چند دنوں میں ہی کرچی کرچی ہو کر اس کے دل میں پیوست ہو گئے تھے۔
اس کے لفظوں میں تلخی تھی، مگر اس تلخی کے پیچھے صرف اور صرف ٹوٹے خوابوں کی کسک اور دھوکا کھائے دل کی صداؤں کی بازگشت سنائی دے رہی تھی۔
“اس بات کے لیے میں بہت شرمندہ ہوں۔ باقی باتیں مل کر بتانا چاہتی ہوں۔
میں آپ کو اپنی مجبوری بتانا چاہتی ہوں، کہ میں نے کیوں انکار کیا…
میں بہت بڑی مشکل میں ہوں، اور صرف آپ ہی میری مدد کر سکتے ہیں۔”
دوسری جانب مکمل خاموشی نے عبیرہ کو سوچنے پر مجبور کر دیا، کیا یا رب اس کی مدد نہیں کرنا چاہتا؟
اس کا دل جیسے ٹوٹ سا گیا تھا۔
“جو آپ کی خاموشی کو میں انکار سمجھوں؟ کیا آپ میری مدد نہیں کریں گے؟”
اس کا لہجہ ٹوٹا ہوا، بکھرا ہوا سا تھا۔
دوسری جانب سے یارم کی گہری سانس کی آواز عبیرہ کی سماعت سے ٹکرائی، جیسے اس خاموشی کے پیچھے کئی لفظ قید ہوں۔
“میں آپ کی مدد کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہوں۔
اگر یہ رشتہ نہ بھی ہوتا، تب بھی آپ لوگوں کی مدد کرنا میرا فرض ہے۔
بتائیے ۔۔۔ کہاں اور کب ملنا ہے؟”
“کل صبح کالج گیٹ پر، میں آپ کا ویٹ کروں گی۔۔۔”
“اوکے، میں ٹائم پر پہنچ جاؤں گا۔۔۔”
“تھینک یو، سو مچ۔۔۔”
“کس لیے؟”
“میرے انکار کرنے کے بعد بھی، مجھ سے مل کر میری مدد کرنے کے لیے۔۔۔”
“میں نے تو محبت سے آپ کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا؛ مگر پتہ نہیں آپ نے کس مجبوری میں یارم خان کا دل انکار کر کے توڑ دیا۔۔
“میں بہت شرمندہ ہوں.”
“نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔پہلے تو صرف آپ کی جانب سے ایشوز تھے۔
اب تو میری فیملی کی طرف سے بھی مسائل بہت سامنے آئیں گے۔ اگر ہمیں یہ رشتہ کامیاب بنانا ہے تو اس کے لیے ہمیں بہت محنت کرنی پڑے گی، ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہو گا۔۔۔”
“مجھے بھی آپ کو مل کر ایک بہت بڑی بات بتانی ہے۔۔۔ میرا خیال ہے کہ آپ اس بات سے واقف نہیں۔
“میں کچھ سمجھی نہیں۔۔۔”
“جب ملیں گی تو سمجھا دوں گا۔”
“جی، ٹھیک ہے۔۔۔ اللہ حافظ۔”
“اللہ حافظ۔۔۔”
فون کٹ ہو گیا تھا۔ یارم نے گہری سانس لی اور فون پاکٹ میں ڈال دیا۔۔۔
پتہ نہیں، عبیرہ، ہمارے نصیب میں کیا لکھا ہے۔۔۔ مگر یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ تم میری پہلی محبت ہو۔ اس سے پہلے یارم خان نے کبھی اپنے دل کی دیواروں پر کسی کے نام کا عکس نہیں دیکھا تھا۔
جب پہلی بار تمہیں دیکھا، تو یوں لگا جیسے برسوں کی تلاش ختم ہو گئی ہو۔ جیسے تم وہی خوابوں کی لڑکی ہو جسے میں نے اپنے تصور کی دنیا میں ڈھونڈا تھا۔ اور تبھی دل نے تمہیں پورے حق سے اپنی سلطنت میں جگہ دے دی۔
کہتے ہیں، مرد ہو یا عورت، پہلی محبت کبھی فراموش نہیں کی جاتی۔ میری دعا ہے میرے رب سے کہ تم ہمیشہ میری ہمسفر بن کر میرے ساتھ رہو۔۔۔ تم سے جدا ہو کر غم کی سیاہ پرچھائی اپنے ساتھ لے کر چلنے کا حوصلہ مجھ میں نہیں ہے۔
اے خدا، تو اس لڑکی کو میرا مقدر بنا دے۔۔۔ اس کی ہنسی میری زندگی کی خوشبو بنے، اس کی آنکھیں میری منزل کا چراغ ہیں۔۔۔
یہی سوچتے سوچتے، یارم خان نے بے اختیار نظروں کو آسمان کی طرف اٹھایا، اور لرزتی ہوئی آواز میں دل کی گہرائیوں سے رب سے دعا کی۔۔۔
اے اللہ! میری محبت کو میرے لیے آزمائش نہ بنانا۔
میں ہمیشہ محبت سے ڈرتا رہا ہوں، کیونکہ محبت کے بعد قریب ترین رشتے کھونے کا جو خلاء میرے دل میں رہ گیا تھا، وہ برسوں تک بھر نہ سکا۔
اُس خلا کو بھرنے کی کوشش میں،بہت سال گزر گئے، شاید میں نے پھر سے وہی غلطی دہرائی ہے ۔۔۔ مگر یہ محبت مختلف ہے؛
یہ محبت میں نے شریکِ حیات بنانے کے نیت سے کی ہے، اور ماضی کی محبت سے سے میرا رشتہ ممتا بھرا تھا۔مگر ماضی کی محبت مجھے راس نہ آئی، مگر اس بار محبت کو میرے لیے درد مت بنانا۔۔۔
اے رب، اگر یہ رشتہ واقعاً میرا مقدر ہے تو اسے مضبوط فرما، اور اگر نہیں تو اس درد کو میرے سینے سے ہٹا دے، تاکہ میں کبھی کسی کے لئے زہرِ ماضی نہ بن جاؤں۔
بس، مجھے یہ سہارا دے کہ میں محبت کو عزت اور ذمہ داری کے ساتھ جیو، نہ کہ اندھیرے خوف میں۔ آمین۔
وہ آنکھیں بند کیے کچھ دیر خاموشی سے ان لمحوں کو محسوس کرتا رہا، دعا میں اپنے رب سے مخاطب تھا، اس وقت صرف اس کا رب تھا جو اس کے دل کا حال جانتا تھا۔ کبھی کبھی انسان ایسے موڑ پر کھڑا ہوتا ہے جہاں نہ آگے بڑھنے کا کوئی راستہ ہوتا ہے اور نہ پیچھے ہٹنے کی ہمت، ایسا لگتا ہے جیسے سانس رک گئی ہو اور چاروں طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہو۔ اس بے بسی کی کیفیت کو بیان کرنا مشکل ہے اور اسی بے بسی کے عالم سے یارم خان گزر رہا تھا۔
═══════❖═══════
کمرے میں مدھم سی ہلکی روشنی پھیلی ہوئی تھی، جیسے کوئی ایک بلب آدھا سا جلا ہو۔ دیواریں خاموش کھڑی تھیں اور فضا میں ایک انجانی سنجیدگی جھول رہی تھی۔ کھڑکی کے پردے آدھے سرکے ہوئے تھے اور ان سے چھن کر آتی ہلکی چاندنی کمرے میں ایک سرد سا عکس ڈال رہی تھی۔
باسق خان صوفے کے کنارے پر بیٹھا تھا۔ چہرہ جھکا ہوا، پیشانی شکن آلود، اور آنکھوں میں انجانے بوجھ کی پرچھائیاں۔ اس کے دونوں ہاتھ آپس میں جکڑے ہوئے تھے، جیسے وہ اپنے اندر کے طوفان کو روکنے کی کوشش کر رہا ہو۔
رتبہ خان قریب ہی بیٹھی تھی۔ چاندنی کے عکس نے اس کے چہرے پر ایک اور ہی سنجیدگی ڈال دی تھی۔ وہ بار بار اپنے شوہر کو دیکھتی، پھر نگاہیں جھکا لیتی۔
کمرے کے اندر مدہم روشنی، باہر آسمان پر ہلکا سا چاند۔۔۔۔اور ان دونوں کے دلوں پر ایک بھاری درد طاری تھا۔
رتبہ خان نے آخرکار خاموشی توڑی۔ اس کی آواز دھیمی اور تھکی ہوئی سی نکلی، جیسے چاندنی کے لمس میں ڈھل گئی ہو۔
” باسق اتنا مت سوچیں، آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔۔۔”
یہ الفاظ سیدھے نکلے ضرور، مگر ان کے پیچھے وہ اضطراب چھپا ہوا تھا جو کئی لمحوں سے اس کی آنکھوں میں لرز رہا تھا۔
باسق نے سر ذرا سا اٹھایا، مگر نگاہیں اب بھی زمین پر جمی رہیں۔ آواز نکلی تو بوجھل اور کڑوی، جیسے اندر کا بوجھ لفظوں کے خول سے باہر آ گیا ہو۔
“کچھ سوچیں زبردستی ہمارے دل و دماغ پر حکمرانی کرنے لگتی ہیں… ان پر ہمارا زور نہیں ہوتا۔”
اس کے لہجے کی تلخی کمرے کی خاموش فضا میں گونج کر اور بھاری ہو گئی، جیسے وہ بات نہیں کر رہا تھا بلکہ اپنے ہی دل کے زخم کھول رہا تھا۔
“حقیقت تو یہ بھی ہے کہ سوچ میں ہمیشہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو خاص ہوتے ہیں”
رتبہ نے ہمت اکٹھی کرتے ہوئے یہ جملہ کہا۔ اس کے لہجے میں لرزش تھی مگر آنکھوں میں چھپی ہوئی سچائی صاف جھلک رہی تھی۔
“بالکل نہیں، سوچوں میں وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جن سے ہم شدید نفرت کرتے ہیں۔ ان کا خاص ہونا ضروری نہیں”
باسق کی آواز کڑوی تھی۔ غصے میں بھیگی ہوئی آنکھوں سے اس نے رتبہ کی طرف دیکھا۔ ماتھے پر پسینے کی بوندیں جگمگانے لگیں جو اس کے اندر کے طوفان کو ظاہر کر رہی تھیں۔
“خان کس کو دھوکہ دے رہے ہیں مجھے یا پھر اپنے دل کو”
رتبہ نے دھیمے لہجے میں کہا۔ اس کی نظریں باسق پر جمی تھیں اور ہاتھ دوپٹے کے کونے سے کھیل رہے تھے۔
“ماضی کی ہر کتاب کی کہانی کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں، بیشتر لوگوں نے نفرت انہی لوگوں سے کی ہے جو کبھی محبت یا بہت اہم رشتے میں قید رہے ہوں”
وہ آہستہ سے بولی۔
باسق نے سر جھکائے رکھا۔ انگلیاں آپس میں جکڑی ہوئیں اور چہرے پر ضبط کے آثار نمایاں تھے۔
“پلیز میں اس وقت اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا، کچھ دیر اکیلا رہنا چاہتا ہوں”
باسق کی آواز بھاری اور بوجھل تھی، جیسے لفظ بھی مشکل سے لبوں تک پہنچے ہوں۔
“سچ تو یہ ہے کہ حقیقت کا سامنا نہیں کرنا چاہتے آپ”
رتبہ نے آہستہ کہا۔ اس کے لہجے میں دکھ بھی تھا اور تلخ سچائی بھی۔
“جسے تم حقیقت کہہ رہی ہو ،وہ صرف نظر کا دھوکا ہے، ہمارا اس کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں۔ اور تم مہربانی کر کے اس کا ذکر ختم کر دو، میں مزید برداشت نہیں کر پاؤں گا”
باسق کے لہجے میں سختی اور حکم صاف جھلک رہا تھا۔
رتبہ کچھ دیر کے لیے چپ ہو گئی، مگر دل کو یہ خاموشی قبول نہ تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ ماضی کی تلخیوں کو لفظوں کے بجائے معافی کی صورت میں ختم کر دے۔
“مت اتنے پتھر اور سخت دل بنیں، حقیقت سے منہ پھیر لینے سے حقیقت بدل نہیں جاتی۔ “آپ تو اتنے سخت دل کبھی نہ تھے”
رتبہ کی آواز میں شکوہ بھی تھا اور پرانی یادوں کی نمی بھی۔
“اگر کوئی موم سا دل رکھنے والا پتھر ہو جائے تو پھر سمجھ جانا چاہیے کہ ماضی میں تکلیف دینے والوں نے انتہا کر دی ہو گی”
باسق نے کی نظریں اس بار سیدھی رتبہ کی آنکھوں میں جمی تھیں۔ یہ اس کے دل کی گہرائی سے نکلی ہوئی بات تھی، اور کسی حد تک سچ بھی۔
رتبہ نے یہ جملہ سنا تو دل نے تسلیم کر لیا، مگر لمحہ ایسا تھا کہ سمجھ کر بھی شاید وہ بات پوری طرح سمجھی نہ جا سکتی تھی۔
رتبہ نے آہستگی سے اپنا ہاتھ باسق کے ہاتھ پر رکھ دیا،جیسے اسے پرسکون کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔
“دل اگر زیادہ پتھر ہو جائے تو وہ اپنے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ مت اتنا سخت خول اپنے اوپر چڑھائیں جس میں آپ کی شخصیت کہیں گم ہو جائے۔ اس کو معاف کیوں نہیں کر دیتے؟ میں جانتی ہوں آپ اس سے بہت پیار کرتے ہیں۔ غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں، معاف کر دیجیے”
رتبہ نے کہا۔ اس کے لہجے میں التجا بھی تھی اور تھکن بھی، جیسے وہ برسوں کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتی ہو۔
“رتبہ، معافی غلطی کی ہوتی ہے، گناہوں کی نہیں”
باسق کی آواز میں وہی سختی تھی جو برسوں کے زخموں کو چھپائے بیٹھی ہو۔
“تم بھی جانتی ہو، جو اس نے جو کیا وہ گناہ تھا۔ میں اسے کبھی معاف نہیں کر سکتا۔”
وہ لمحہ بھر کو رکا، پھر دھیمی مگر کڑوی آواز میں بولا۔
“مانتا ہوں کہ میں اپنے خاندان سے الگ ہوں، مگر چاہے جتنا بھی بدل جاؤں، بے غیرت نہیں بن سکتا۔”
اس کی آنکھوں میں ایک خول تھا، مگر اس خول کے پیچھے تڑپتی غیرت صاف جھلک رہی تھی۔
“اس نے ہمیں سر اٹھا کر چلنے کے قابل نہیں چھوڑا۔ اسی کے باعث میں نے اپنا گاؤں چھوڑ دیا، کیونکہ مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ بے غیرتی کے بوجھ تلے جی سکوں۔”
اس نے ایک گہری سانس لی اور رتبہ کو دیکھا۔۔
” تم نے کتنی آسانی سے کہہ دیا کہ میں اسے معاف کر دوں؟”
کمرے کی خاموش فضا میں اس کے یہ جملے بجھتے چراغ کی لپک کی طرح لرز گئے۔
“باسق، میں تو بس اتنا کہہ رہی تھی”
رتبہ نے جھجکتے ہوئے کہا، الفاظ اس کے لبوں سے آہستہ آہستہ نکلے۔
“رتبہ!”
باسق خان نے اس کا نام غصے سے پکارا۔ لہجہ بھاری اور آنکھوں میں سلگتی ہوئی تپش تھی، جس نے لمحے بھر کو فضا کو اور زیادہ بوجھل کر دیا۔
باسق کی غصے بھری بلند آواز کا مطلب صاف تھا کہ رتبہ اس بات کو یہی ختم کر دے۔ اس کے لہجے کی سختی کسی فیصلے کی مہر جیسی تھی۔
رتبہ چونک اٹھی۔ اسے عادت نہیں تھی باسق کے اس انداز کی۔ دل بھرا آیا اور آنکھوں میں نمی اترنے لگی، جیسے ضبط کی دیواریں اندر ہی اندر ٹوٹ رہی ہوں۔
“سوری”
رتبہ نے مدھم آواز میں کہا۔
“اب سوری کا کیا مطلب ہے؟”
باسق نے سخت لہجے میں جواب دیا۔
“اتنے پڑھے لکھے تو آپ ہیں کہ سوری کا مطلب آپ کو پتہ ہو”
رتبہ کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔ اسے عادت نہیں تھی باسق خان کی ڈانٹ کی۔ وہ تو ہمیشہ اسے بڑی محبت سے رکھتا آیا تھا۔ آج اس کی اونچی آواز نے رتبہ کے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔
“رتبہ، تم رو رہی ہو؟”
باسق نے کچھ نرم لہجے میں کہا۔
“نہیں، میں کیوں روؤں گی… میں آپ کے لیے چائے لے کر آتی ہوں”
وہ اپنے آنسو چھپاتے ہوئے تیزی سے اٹھنے لگی تھی کہ باسق نے ہاتھ بڑھا کر اس کا ہاتھ نرمی سے تھام لیا اور واپس اپنے پاس بیٹھا لیا۔
“رتبہ ، تمہاری آنکھوں میں آنسو ہمیں بہت تکلیف دیتے ہیں۔ کبھی تو ذرا سا ہمارا غصہ برداشت کر لیا کرو۔ اور ویسے بھی یہ غصہ تم پر تو ہے ہی نہیں”
باسق خان نے نرمی سے کہتے اس کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
“اگر غصہ کرنے کا اتنا شوق تھا تو شروع سے ہی مجھے پلکوں پر بٹھا کر رکھنے کی کیا ضرورت تھی؟ اب آپ نے مجھے ایسا بنا دیا ہے کہ چاہ کر بھی آپ کے غصے کو برداشت نہیں کر پاتی۔ کیا کروں؟”
رتبہ کی آواز لرز رہی تھی، شکوہ اس کے ہر لفظ میں چھپا تھا۔
“اوہ میری جان! میں نے کب تم پر غصہ کیا ہے؟ بس ذرا سا بلند لہجہ اختیار کر کے دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہا تھا۔ مگر یہ بھول گیا کہ رُتبہ کے دل کی نازکی برداشت نہ کر سکے گی۔
یوں اپنی آنکھوں کو اشکوں سے نہ بھرا کرو، رُتبہ… تمہاری آنکھوں کے آنسو باسق کو کبھی اچھے نہیں لگتے۔”
“غصہ تو آپ نے مجھ پر کیا ہے…!” رُتبہ نے روتے ہوئے کہا۔ “اب مکر رہے ہیں، یہ اور بات ہے۔ میں نے تو صرف اتنا کہا ہے کہ آپ معاف کر دیجیے۔ اور معاف کرنے والا ہمیشہ اعلیٰ ظرف، عظیم اور بڑے دل والا ہوتا ہے۔۔۔یہ سبق تو آپ ہی نے ہمیں دیا ہے۔”
رُتبہ نے ایک بار پھر عاجزی سے معافی پر زور دیا، جبکہ باسق نے گہری سانس لیتے ہوئے شاید اپنے غصّے کو ضبط کرنے کی آخری کوشش کی، اور اس کے چہرے پر نرمی کی ایک لہر ابھرتی محسوس ہوئی۔
“خدارا، رُتبہ… مجھے آئندہ کبھی یہ نہ کہنا کہ میں اُسے معاف کر دوں۔
تم اچھی طرح جانتی ہو، میں تو شاید ہی کسی سے خفا ہوتا ہوں۔ مگر جس سے خفا ہو جاؤں… پھر اُس کے ساتھ زندگی بھر کی راہیں جدا کر لیتا ہوں۔ دوبارہ ملاقات کا خیال بھی گوارا نہیں کرتا۔”
“مگر… یارم کا کیا ہوگا؟” رُتبہ کی آواز لرز اٹھی۔
“یہ مت بھولیے… عبیرہ اُسی کی بیٹی ہے۔”
یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئی۔ کمرے میں لمحہ بھر کو ایک بوجھل سکوت چھا گیا، جیسے دیواریں بھی اس تلخ حقیقت کا بوجھ سنبھالنے کو مجبور ہوں۔
“جانتا ہوں…! کیا تمہیں لگتا ہے کہ میں یارم کے بارے میں نہیں سوچ رہا؟”
باسق خان نے ایک گہری سانس لی، جیسے دل کے بوجھ کو ضبط کے پردے میں چھپانے کی کوشش کر رہا ہو۔
“سوچ رہے ہیں تو پھر سمجھیے… وہ لڑکی ہمارے بیٹے کی محبت ہے۔
کیا آپ نے یارم کی آنکھوں میں اُس کے لیے وہ تڑپ، وہ سچّی چاہت نہیں دیکھی؟”
“سب دیکھ بھی رہا ہوں، سب سمجھ بھی رہا ہوں۔ یہ مت بھولو کہ وہ صرف تمہارا نہیں، میرا بھی بیٹا ہے۔
بلکہ… بیٹا ہی نہیں، وہ میرا بہترین دوست بھی ہے۔ میں اس کے دل کے حال سے ناواقف نہیں ہوں۔”
“اگر واقف ہیں تو پھر کیوں نہیں سمجھتے؟ ہمارا بیٹا دل پھینک عاشق نہیں، جو ہر کسی لڑکی پر دل ہار دے۔
یہ شاید اس کی پہلی اور آخری محبت ہے… اور اگر یہ ٹوٹ گئی، تو وہ کبھی خود کو سمیٹ نہیں پائے گا۔ یہ بات یاد رکھ لیجیے۔”
یہ الفاظ سنتے ہی باسق کے چہرے پر لمحہ بھر کو سختی کی ایک جھلک آئی، مگر آنکھوں کی تہہ میں چھپا کرب سب ظاہر کر گیا۔ وہ گہری سانس لے کر خاموش ہو گیا، جیسے دل کی ٹوٹ پھوٹ کو ضبط کے نقاب میں چھپانے کی کوشش کر رہا ہو۔
“شاید اس وقت میرے پاس تمہاری باتوں کا کوئی جواب نہیں ہے… کیونکہ جواب تو انہیں دیا جاتا ہے جو سمجھنے کی کوشش کریں۔
اور اگر تم مجھے اپنی باتوں میں اُلجھانے پر تُلی ہو تو بہتر ہے کہ اس موضوع کو یہیں روک دیا جائے۔”
یہ کہہ کر باسق اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ نرم مگر سنجیدہ لہجے کی بازگشت کمرے میں باقی رہ گئی۔
اس نے دونوں ہاتھ کمر پر باندھے اور ہلکے قدموں سے چلتے ہوئے کھڑکی کے سامنے جا ٹھہرا۔
باہر رات کا اندھیرا پھیل چکا تھا، خاموش آسمان پر چند ستارے جھلملاتے تھے، اور ٹھنڈی ہوا کی لہر جیسے اس کے دل کی تنہائی کو مزید گہرا کر رہی تھی۔
باسق خان کمر پر ہاتھ رکھے خاموشی سے کھڑا رہا؛ سوچوں کا بوجھ اس کے چہرے پر واضح تھا۔
“اے اللہ! مجھے اپنے بیٹے کی محبت اور اُس ٹوٹے دل کی آزمائش سے گزار نہ۔ تو رحم فرما۔”
“یارم! بابا کی جان، تم نے مجھے کس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے؟ تمہارے دردِ دل سے میں ناواقف نہیں، مگر میں اتنا مجبور ہوں کہ چاہ کر بھی شاید تمہیں وہ نہ دے سکوں جو تم چاہتے ہو۔ میں جانتا ہوں کہ تم ٹوٹ جاؤ گے۔۔۔مگرمجھے خدا پر پورا بھروسہ ہے کہ میں اپنے بیٹے کو سمیٹ لو، سینے سے لگا لو۔ وہ اپنے رب سے اپنے دل کی باتیں دل میں ہی کر رہا تھا،کہ اچانک رُتبہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ آہستگی سے آنکھیں کھول گیا، مگر پلٹ کر دیکھنے کی ہمت نہ کر سکا۔
رتبہ: خاموش ہو جانے سے یا نظریں پھیر لینے سے حقیقت نہیں بدلتی۔اور اگر یہ سمجھتیں ہیں کہ آپ اپنے بیٹے کو سمیٹ لوں گے تو یہ بہت بڑی غلط فہمی ہے… آپ یارم کو سمیٹ نہیں سکیں گے۔
باسق خان نے سخت نظروں سے پلٹ کر دیکھا۔
رتبہ! اگر تم مجھے سنبھالنے کے لیے مضبوط بات نہیں کہہ سکتیں تو کم از کم ایسے جملے مت کہو جو میری ہمت توڑ دیں۔
“میں کچھ بھی کہہ لوں،اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، حقیقت اپنی جگہ پر قائم ہے۔ آپ کا دل بھی اسے جانتا ہے کہ میں بالکل سچ کہہ رہی ہوں ۔۔۔تسلیم نہ کرنا آپ کی مرضی ہے۔رتبہ کے لہجے میں ٹھہراؤ تھا۔وہ اپنی بات پر مضبوطی سے قائم تھی۔
” آپ فکر نہ کرو،میں اپنے بیٹے کو سمیٹ لوں گا۔
“نہیں سمیٹ سکیں،میں نے اپنے بیٹے کی آنکھوں میں دیکھا ہے کہ وہ اس لڑکی سے کتنا مان اور کتنی سچائی کے ساتھ محبت کرتا ہے۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ اس کی محبت اس سے چھن جائے؟”
وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئی، جیسے الفاظ کا بوجھ اس کی آنکھوں کے راستے بہہ جانا چاہتا ہو۔ آنکھوں میں نمی تھی، ایک ماں کی وہ نمی جو صرف اپنے بیٹے کے لیے اترتی ہے۔
“یاد رکھیے، وہ آپ ہی کا بیٹا ہے۔
وہ نہ آسانی سے رشتوں سے الگ ہوتا ہے اور نہ ہی جلدی کسی کو دل میں جگہ دیتا ہے۔”
“رتبہ، پلیز… مجھے الجھاؤ مت۔سب کچھ جانتے ہوئے، میں اُس کی بیٹی کو اپنے گھر کی بہو کبھی نہیں بنا سکتا۔
یہ مت بھولو کہ وہ لڑکی اُس شخص کی بیٹی ہے جس نے ہمارے گھر کی عزت پر ڈاکہ ڈالا اور ہماری ہی بیٹی کو گھر سے بھگانے کی جرأت کی۔
یارم کی محبت دلانے کے لیے مجھے اس شخص کے سامنے جھکنا پڑے گا۔۔۔اور یہ میں کبھی نہیں کر سکتا۔
میں پٹھان ہوں، مر جاؤں گا مگر سر نہیں جھکاؤں گا… وہ بھی اپنے دشمن کے سامنے۔”
باسق خان کی آنکھوں میں شدید غصے کی سرخی اترنے لگی، جیسے ہر لفظ کے ساتھ ضبط کا دامن ہاتھ سے نکل رہا ہو۔
رتبہ چند لمحے خاموش کھڑی رہی۔ آنکھوں میں نمی لرزتی رہی،
“پلیز… سمجھنے کی کوشش کریں۔ ہمارا بیٹا اُس لڑکی کو کبھی بھول نہیں سکے گا۔”
رتبہ نے ایک بار پھر ہمت جمع کرتے ہوئے کہا۔
” انشاءاللہ بہت جلد بھول جائے گا، جب ایک نیک اور سچی بیوی اس کی زندگی میں آئے گی ۔۔۔ جو اس سے محبت کرے گی۔ کل کو اس کے گھر بچے ہوں گے، تو عبیرہ کا نام تک اس کی زندگی سے مٹ جائے گا۔ انشاء اللہ وہ دن جلد آئے گا۔”
باسق کا لہجہ اتنا سخت تھا کہ کمرے کی ہوا موہن پڑ گئی۔ وہ ضبت کی آخری دہلیز پر کھڑا تھا، بدن میں سُختی، آنکھوں کے اطراف خون کی سرخی سی چمک رہی تھی ۔۔۔ الفاظ اس کے منھ سے نکلواتے نہیں، بلکہ ٹھونک کر رکھ دیے گئے تھے۔ رُتبہ کا چہرہ بچھی ہوئی روشنی کی طرح مدہم تھا؛ اس کی آنکھوں میں نمی تھی مگر قدم پیچھے نہ ہٹے۔ وہ عورت جو زندگی بھر سر جھکا کر اپنے شوہر کے ساتھ احترام اور عاجزی سے رہی تھی، آج ماں کی ممتا کے زور سے ڈٹی ہوئی تھی۔۔۔خاموشی میں جو ضد اور مجبوریت تھی، وہ الفاظ سے کہیں زیادہ زور دار محسوس ہو رہی تھی۔
“ایسا تو تب ہوگا جب یارم شادی کے لیے راضی ہوگا۔ باسق، آپ کیوں نہیں سمجھ رہے کہ یارم بہت ضدی ہے، وہ اپنی پسندیدہ چیزوں کو اتنی آسانی سے نہیں چھوڑتا۔
وہ تو بچپن کے کھلونوں تک کو آج تک خود سے دور نہیں کر پایا۔ اس کے پسندیدہ کھلونے آج بھی اس کی الماری میں بند ہیں، جنہیں وہ کسی کو ہاتھ تک نہیں لگانے دیتا۔ تو سوچیں، جب وہ لڑکی اس کی محبت ہے تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ اسے چھوڑ دے گا؟”
“جانتا ہوں… آسان نہیں ہوگا، یارم کے دل سے اُس لڑکی کو نکالنا۔ مگر ناممکن بھی نہیں۔ اُس لڑکی کی محبت کبھی اُس کے بابا کی محبت پر حاوی نہیں ہو سکتی۔ میرا بیٹا ہے وہ، مجھے یقین ہے… وہ میرے خلاف کبھی نہیں جائے گا۔”
باسق کے لہجے میں ایک غیر متزلزل اعتماد گونج رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہی سختی تھی جو برسوں کے رشتوں پر یقین سے جنم لیتی ہے۔
“چند دنوں کا یہ لگاؤ برسوں کی باپ کی شفقت پر کبھی بھاری نہیں پڑ سکتا… اور نہ ہی میں کبھی اسے پڑنے دوں گا۔”
“آپ اپنے ہی بیٹے کو ایموشنل بلیک میل کریں گے؟ باسق… آپ ایسے کب سے ہو گئے؟”
رتبہ کی آواز میں حیرت اور ملال دونوں چھلک رہے تھے۔
“آپ تو ہمیشہ کہتے تھے کہ رشتوں کو بلیک میل کر کے نہیں جیتا جاتا، اور اب… اب آپ خود یہی کر رہے ہیں۔”
رتبہ، اپنے بیٹے کی محبت کے لیے، آج پہلی بار باسق خان کے سامنے اتنی شدت سے بحث کر رہی تھی۔
اور دوسری جانب، جس کے خلاف باسق خان کھڑا تھا، وہ لڑکی کبھی رتبہ کے لیے بہنوں کی طرح عزیز ہوا کرتی تھی۔
“رتبہ، مجھے کیوں لگ رہا ہے کہ آپ میرے خلاف جا رہی ہیں؟”
باسق کی آنکھوں میں تشویش اور ہلکی سختی تھی، دل میں یہ فکر جا رہی تھی کہ رتبہ کی باتیں صرف ضد یا غلط فہمی نہیں، بلکہ اس کے بیٹے کی محبت کے لیے پیدا ہوئی ہمت ہیں۔
“ایسا نہیں ہے، میں آپ کے خلاف جانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی…”
رتبہ کی آواز نرم تھی، مگر اس کے دل کی گہرائی میں خوف اور اضطراب جھلک رہا تھا۔۔۔وہ اپنے بیٹے کے حق میں بول رہی تھی، مگر باسق کی سختی کا وزن محسوس کر رہی تھی۔
“رتبہ، سنبھالیے خود کو… آپ میرے خلاف جا رہی ہیں۔ ایک بیوی ہار رہی ہے، ایک ماں کے سامنے…”
باسق خان کے لہجے میں سختی تھی، سنجیدہ اور ٹھوس، جیسے ہر لفظ پر کمرے کی ہوا بھی رک گئی ہو۔ رتبہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گئی، دل کی دھڑکن بڑھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔
“بہتر ہوگا کہ آپ میرے اور یارم کے بیچ سے ہٹ جائیں… میں وعدہ کرتا ہوں، یارم کو سنبھال لوں گا۔ بہت جلد یارم کے لیے کوئی اچھی سی لڑکی ڈھونڈ کر اس کی شادی کر دیں گے۔ پھر یارم سب کچھ بھول جائے گا…”
رتبہ باسق کی باتوں پر خاموش ہو گئی، مگر دل میں اعتراض باقی رہا۔ وہ ماں تھی، اپنے بیٹے کو جانتی تھی؛ وہ اتنی آسانی سے بھولنے والوں میں سے نہیں تھا۔
پھر بھی اس نے خود کو سنبھالا، کیونکہ وہ باسق خان کے سامنے ایک نافرمان یا بدزبان بیوی بننا نہیں چاہتی تھی۔
“آپ آرام کریں، میں ابھی آتا ہوں۔”
باسق شاید کچھ دیر کے لیے کمرے سے باہر جا کر سکون ڈھونڈنا چاہ رہا تھا، مگر رتبہ کو اس کی فکر ہونے لگی۔
“کہاں جا رہے ہیں؟ یہ تو سونے کا وقت ہے۔”
باسق کچھ دیر کے لیے رک گیا۔
“آرام کریں، میں ابھی آ جاؤں گا۔”
“جلدی آئیں، دیر سے سونے سے آپ کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔” رتبہ نے فکر مندی سے کہا۔
“جی، جلدی آ جاؤں گا۔ آپ آرام کریں۔”
کہتے ہوئے باسق کمرے سے باہر چلا گیا۔
رتبہ بیٹھ گئی اور کنارے پر ڈٹ کر خاموش رہی، جیسے اپنے خیالات میں گم ہو۔
“خود سے جھوٹ بولنا دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ آپ کا بیٹا آسانی سے اپنی محبت کو نہیں بھولے گا، پھر بھی آپ میرے سامنے ماننے کو تیار نہیں…”
رتبہ دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی، دل میں درد اور فکر چھائی ہوئی تھی۔
═══════❖═══════
Ye qist novel “Saleeb Sukoot” ki ek qist hai, takhleeq Hayat Irtaza, S.A ki.Agli qist mutalea karne ke liye isi novel ki category “Saleeb Sukoot” mulaahiza karein, jahan tamaam qistain tartiib war aur baqaida dastiyaab hain.💡 Har nai qist har Itwaar shaam 8:00 baje shaya ki jaayegi.