Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:9
🕯️ صلیبِ سکوت
قسط نمبر :9
حیات ارتضی S.A
═══════❖═══════
آریان خان کی گاڑی بنگلے کے سامنے آ کر رکی۔
ٹائروں کی آواز سڑک پر ایسے رگڑی جیسے غصہ پتھر پر گرا ہو۔
آریان خان گاڑی سےتیزی سے اترا۔
قدموں کی چاپ میں تیزی تھی، غصے کی شدت سے سانس بھی بھاری تھا۔
دروازہ دھڑاک سے کھولا اور سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔
ہینڈل گھمایا مگر دروازہ نہیں کھلا۔
ماتھے پر غصے سے مزید شکنیں ابھر آئیں۔
عبیرہ۔۔۔دبے سے لہجے میں چلایا۔
مگر دوسری جانب سے،کوئی جواب نہیں۔
عبیرہ، دروازہ کھولو۔
آواز میں غصہ تھا، اور ایک انجانی بےچینی بھی۔دوسری جانب سے اب بھی خاموشی برقرار تھی۔
دروازے پر زور سے پاؤں مارا۔
خاموشی۔
میں نے کہا، دروازہ کھولو۔
اب کے لہجے میں دھمکی اتر آئی۔
تمہیں یہ لاک بہت مہنگا پڑے گا۔ کیا لگتا ہے، میں تمہارے لگائے تالے کے آگے رک جاؤں گا؟
وہ دانت پیستے ہوئے بولا۔
اندر سے اب بھی کوئی آواز نہ آئی۔
وقت جیسے رک گیا تھا۔
آریان کے چہرے پر ضبط کے بندھن ٹوٹنے لگے۔
موبائل نکال کر نمبر ڈائل کیا ،
“فوراً اوپر آؤ۔”
آواز کڑی تھی۔
چند سیکنڈ بعد ایک ملازم بھاگتا ہوا آیا۔
چہرے پر پسینہ، سانس پھولی ہوئی۔
جی… جی سر، حکم کریں۔
چابی کہاں ہے؟ دو سیکنڈ میں یہ دروازہ کھولو۔
جی سر۔
آواز لرز گئی۔
ملازم پھرتی سے پلٹا، قدم اس قدر تیز کہ جوتوں کی چاپ لمبے راہداری میں گونجنے لگی۔
کچھ لمحوں بعد وہ ہانپتا ہوا چابی لیے واپس آیا۔
آریان نے اس کے ہاتھ سے چابی جھپٹ لی۔
چلو، ہٹو سامنے سے۔
آواز بجلی کی طرح کڑکی۔
ملازم کی آنکھوں میں خوف تیر گیا۔
وہ سر جھکائے تیزی سے پیچھے ہٹا، جیسے زمین بھی اس کے قدموں کے لیے محفوظ نہ رہی ہو۔
پلک جھپکتے میں وہ راہداری میں غائب ہو گیا۔
چابی تالا میں گھومی۔
ایک کٹ کی آواز ابھری۔
دروازہ آہستہ سے کھلا۔
آریان کی سانس بھاری تھی۔
آنکھوں میں وہی طوفان ۔۔۔ جسے روکنے والا کوئی نہ تھا۔
دل میں صرف ایک خیال گونج رہا تھا۔
دروازہ کھلتے ہی ہوا کا جھونکا اندر کی خاموشی سے ٹکرایا۔
کمرے میں روشنی مدھم تھی۔ پردے آدھے گرے ہوئے، اور ساری فضا میں ایک بند سا سناٹا۔
آریان کی آنکھوں میں وہی چنگاریاں ناچ رہی تھیں۔
دل کی دھڑکن جیسے مکے مار رہی تھی۔
عبیرہ کو دیکھتے ہی حساب لینا ہے۔
اس کا دماغ درست کرنا ہے۔
سوچ کے اس جملے کے ساتھ ہی مٹھیاں بھنچ گئیں۔
جبڑے سخت ہوئے۔
غصہ اس کے چہرے پر نہیں، پورے وجود پر لکھا تھا۔
اگر اس لمحے عبیرہ سامنے آ جاتی،
تو شاید وہ حد سے گزر جاتا۔
ایسی حد جہاں الفاظ ختم اور عمل شروع ہوتے ہیں۔
یہ وہ غصہ نہیں تھا جو پل بھر میں ٹھنڈا ہو جائے۔
یہ انا کا وہ زہر تھا جو برسوں میں پلتا ہے ۔۔۔ اور جب پھوٹتا ہے تو اپنے سامنے کسی کو نہیں دیکھتا۔
اس کے قدم فرش پر گونجے۔
کندھے اکڑے ہوئے، نظریں دروازے کے پار کہیں جمی ہوئی۔
وہ خود سے زیرِ لب بولا،
عبیرہ آریان خان ، تم نے مجھ سے غلط وقت پر پنگا لیا ہے۔
جیسے ہی دروازہ کھلا، ایک سرد جھونکا اندر آیا۔
آریان کی نظریں لمحہ بھر میں کمرے کا جائزہ لے رہی تھیں۔۔۔
اور اگلے ہی پل وہ ٹھٹھک کر رہ گیا۔
فرش پر عبیرہ بے سدھ پڑی تھی،
اور اس کے گرد خون کی ہلکی سی ندی بہہ نکلی تھی۔
ایک پل کے لیے آریان کے قدم جیسے زمین میں گڑ گئے۔
پھر جھٹکے سے چابیاں ہاتھ سے چھوٹیں، اور فرش پر کھنکتی ہوئی جا گریں۔
وہ بھاری قدموں سے آگے بڑھا۔
سانسیں بے قابو، مگر ہاتھوں میں کپکپاہٹ نہیں تھی۔
جھک کر دو انگلیاں عبیرہ کی ناک کے پاس رکھیں۔۔۔
سانسیں چل رہی تھیں… مگر بہت مدھم۔
“یہ کیا تم نے…”
الفاظ اس کے لبوں سے پھسل کر ہوا میں تحلیل ہو گئے۔
اس نے زیادہ سوچنے کی کوشش نہیں کی۔
دماغ میں صرف ایک خیال آیا۔۔۔
عبیرہ نے شاید اپنی جان لینے کی کوشش کی ہے۔
لیکن وہ آریان خان تھا،
جذبات کے وقت دماغ کھو دینے والا نہیں۔
اس نے فوراً فون پر کوئی نمبر اور ملازم کو جھنجھوڑتی ہوئی آواز میں حکم دیا،
“ڈاکٹر کو فوراً بھیجو۔ ابھی کے ابھی!”
فون بند کر کے اس نے دوبارہ عبیرہ کی طرف دیکھا۔
فرش پر اس کا گاؤن خون میں بھیگا ہوا تھا۔
بال بکھرے ہوئے، ماتھے پر گہرا زخم،
جس سے خون چہرے سے بہتا ہوا گردن تک پہنچ چکا تھا۔
آریان نے ایک پل کے لیے آنکھیں بند کیں۔۔۔
پھر جھک کر عبیرہ کو بازوؤں میں اٹھا لیا۔
اس کا وجود ہلکا مگر بے جان لگ رہا تھا۔
بیڈ تک پہنچتے پہنچتے اس کی سانسیں مزید مدھم ہو چکی تھیں۔
آریان نے اسے آہستگی سے بستر پر لٹایا،
بیڈ کور اس پر ڈالا،اور دوبارہ ملازم کو کال کرتے ہوئے گرجا،
“میں نے کہا تھاکہ ڈاکٹر کوجلدی بھیجو،
انگلیوں میں اب بھی خون لگا تھا۔
آواز میں وہی گرج، جو صرف آریان خان کے لہجے میں ہمیشہ ہوتی تھی ۔ایسی گرج جس سے ملازمین سمیت سامنے کھڑے ہر شخص پر خوف تاری ہو جاتا۔
پھر اپنی جیب سے رومال نکالا،
اور ماتھے کے زخم پر رکھ کر مضبوطی سے دبایا۔
خون اب بھی رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
آریان کا ہاتھ سختی سے اس کے ماتھے پر جما تھا،
اور اس کے لبوں سے نکلا ایک دبہ دبہ سا جملہ۔۔۔
“عبیرہ، اگر تمہیں کچھ ہوا نا… تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔”
کمرے کی فضا میں صرف ایک آواز گونج رہی تھی۔۔۔دل کی دھڑکن۔
پہلے تو آریان کے اندر غصے کی ایک نئی لہر اٹھی۔
یہ لڑکی اپنی جان لینے کی جرات کیسے کر سکتی ہے؟
مگر اگلے ہی لمحے اسے احساس ہوا ۔۔۔
جس طرح کا کٹ اس کے ماتھے پر لگا ہے، ویسا زخم کوئی خود نہیں لگا سکتا۔
یعنی یہ حادثہ تھا، ارادہ نہیں۔
شاید وہ گری ہو، یا کسی چیز سے ٹکرا گئی ہو۔
اس نے نظریں اٹھا کر پورے کمرے کا جائزہ لیا۔
چاروں طرف خاموشی تھی، بکھرے ہوئے کشن، ایک الٹی کرسی، اور خون کے چھینٹے۔
لیکن ایسی کوئی چیز نہیں تھی جس سے یہ چوٹ لگتی۔
وہ لمحہ بھر کو رکا، ماتھے کی رگیں تن گئیں۔
نہ غصہ کم ہوا، نہ الجھن ۔۔۔ دونوں ایک ساتھ اس کے چہرے پر نظر آرہےتھے۔
آریان خان کو کبھی بھی کسی بات کی تہ تک پہنچے بغیر سکون نہیں آتا تھا۔
کوئی معاملہ اگر الجھ جائے اور وہ اسے سلجھا نہ سکے تو یہ بات اس کی فطرت کے خلاف جاتی تھی۔
یہی ضد، یہی بےچینی اسے دوسروں سے الگ بناتی تھی۔
عقلمندی اور ذہانت کا لقب اسے یوں ہی نہیں ملا تھا۔
وہ جتنا بدتمیز اور روکھا تھا دماغ کا اتنا ہی تیز تھا۔
کاروبار کی دنیا میں وہ ایک چمکتا ہوا نام تھا۔
ایسی شخصیت جس کے ساتھ کام کرنا خود کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔
فون آن کرتے ہی اس نے نظریں سکرین پر جما دیں
ریکارڈنگ چل رہی تھی، وہی گھر، وہی کمرا
گھر کے سی سی ٹی وی کیمرے اس کے موبائل سے منسلک تھے۔
ویڈیو میں عبیرہ نظر آئی
وہ کمرے سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی تھی
مگر جیسے ہی دروازے کے پاس جیک دکھائی دیا، وہ گھبرا کر پلٹی
اور جلدی میں ٹیبل سے ٹکرا کر گر گئی
آریان خان نے ویڈیو روکی
غصے اور ضبط کے بیچ ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی
اس کی نگاہ بے ہوش عبیرہ پر ٹھہر گئی
پھر اس نے ٹھنڈی سانس لی، دانت بھینچے، اور ریکارڈنگ بند کر کے فون جیب میں ڈال لیا۔
اس کے چہرے پر اب بھی وہی سختی تھی
مگر آنکھوں میں ایک اجنبی سا اضطراب اتر آیا تھا۔۔
کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر آ چکا تھا۔
ڈاکٹر نے آتے ہی علاج شروع کیا، سب سے پہلے اس نے عبیرہ کے زخم کو صاف کرتے ہوئے روئی رکھی۔ بی پی چیک کیا تو کافی لو تھا۔
ڈاکٹر نے انجکشن لگایا تاکہ بی پی قابو میں آ جائے۔
“سر زخم بہت گہرا ہے، یہاں سٹچنگ کرنی پڑے گی”
ڈاکٹر نے آریان خان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
“مگر سٹچنگ کے نشان بہت برے لگتے ہیں، ویسے ہی ڈریسنگ نہیں ہو سکتی”
آریان کی آواز میں نرمی کم، حکم زیادہ تھا۔
“نہیں سر، زخم کھل چکا ہے، اگر ٹانکے نہ لگے تو آسانی سے بھرے گا نہیں، فور ہیڈ پر لگنے والے زخم ویسے بھی جلد نہیں بھرتے، آپ فکر نہ کریں، آج کل نشان مٹانا کوئی مسئلہ نہیں”
ڈاکٹر نے دھیرے سے کہا۔
“ہمم ٹھیک ہے، لگا دو”
آریان خان نے دو ٹوک جواب دیا۔
عبیرہ کچھ ہی دیر میں مکمل ہوش میں تھی، لیکن کمزوری اور درد نے اسے بے بس کر رکھا تھا۔
ڈاکٹر نے جیسے ہی سٹچنگ شروع کی، وہ جھٹک کر پیچھے ہونا چاہتی تھی مگر اس کی ہمت جواب دے گئی۔
“ششش خاموش رہو”
آریان نے پاس بیٹھتے ہوئے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں جکڑ لیے۔
“تھوڑی ہمت رکھو، بچی نہیں ہو تم جو ذرا سی تکلیف پر چلانے لگو، ڈاکٹر کو اپنا کام کرنے دو”
آریان کی آواز میں ضبط اور غصہ دونوں بول رہے تھے۔
عبیرہ کے لب کانپے مگر آواز نہ نکل سکی۔
آریان کو کیسے منظور ہو سکتا تھا کہ اس کی بیوی کسی اور کے ہاتھ کو تھامے۔
اگر بس چلتا تو وہ یہ ٹانکے بھی خود لگاتا۔
کیسا عجیب شخص تھا، جو عبیرہ سے نفرت کرتا تھا، مگر اسے کسی دوسرے کے لمس کی اجازت نہیں تھی۔
ڈاکٹر کے ہاتھ لرز رہے تھے، آریان کی نگاہوں کی سختی سے وہ خود کو بھی قصوروار محسوس کر رہا تھا۔
بے حس انسان یہ ذرا سی تکلیف ہے؟
عبیرہ نے دل ہی دل میں تڑپ کر سوچا
میں یہاں درد سے مری جا رہی ہوں اور اسے یہ ذرا سی تکلیف محسوس ہو رہی ہے
اس کے اندر سسکیاں ابل رہی تھیں مگر ہونٹ بند تھے۔
نہ آواز نکالنے کی ہمت تھی نہ احتجاج کی جرأت
ماتھے پر لگنے والے انجکشن نے پہلے تو جلتی ہوئی آگ کی طرح جلا دیا
پھر آہستہ آہستہ سب کچھ سن ہونے لگا
درد تو جیسے رک گیا تھا مگر خوف بڑھتا جا رہا تھا۔
دل میں ایک انجانا سا خوف دھڑک رہا تھا
ایسا خوف جو درد سے کہیں زیادہ اذیت ناک تھا
ڈاکٹر کے ہاتھوں کی حرکتیں آریان کی سخت آواز
اور اس کی تیز نگاہیں
سب کچھ عبیرہ کے دل پر ہتھوڑے کی طرح برس رہا تھا
اور سب سے بڑھ کر وہ احساس
کہ آریان اس سے نفرت کرتا ہے
پھر بھی اس کے اتنا قریب بیٹھا ہے
یہ قربت اسے مزید خوفزدہ کر رہی تھی
جیسے سانس لینا بھی گناہ ہو گیا تھا ۔
عبیرہ کے چہرے پر پسینے کی بوندیں چمک رہی تھیں، وہ درد سے تڑپتی رہی، مگر زبان سے خاموش ۔۔۔ جانتی تھی کہ چیخنے کا فائدہ نہیں۔
,,یا اللہ مدد کر، اس ظالم انسان سے مجھے چھٹکارا دے۔
آنکھیں بند کیے وہ دیر تک خوف زدہ دل کے ساتھ رب سے دعا کرتی رہی۔
سانسیں تیز ہو رہی تھیں، دل بے قابو دھڑک رہا تھا۔
یوں لگتا تھا جیسے پورا وجود درد اور دعا کے درمیان لٹک گیا ہو۔
نہ چیخ سکتی تھی، نہ رو سکتی تھی،
بس دل ہی دل میں ایک صدا گونجتی رہی
یا اللہ، نجات دے۔
“سر سٹچنگ مکمل ہو گئی ہے”
ڈاکٹر نے آہستہ سے کہا۔زخم گہرا ہے کچھ دن۔روز ڈریسنگ کروانی ہوگی، یہ دوائیں باقاعدہ استعمال کرائیے گا ورنہ انفیکشن کا خطرہ رہے گا”
آریان نے عبیرہ کے ہاتھ چھوڑے اور سیدھا کھڑا ہو گیا۔
“سٹچنگ کا سامان اور طریقہ بتا دو، آئندہ میں خود کر لوں گا، جب ٹانکے کھولنے ہوں تو اطلاع دے دینا”
وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھے کھڑا تھا۔
بلیک شرٹ اور نیلی جینز میں اس کی موجودگی کمرے کی فضا کو بھاری کر رہی تھی۔
کہنیوں تک فولڈ بازو، کلائی پر چمکتی ایپل واچ، اور چہرے پر ضبط کی وہ چمک جو غصے سے کہیں زیادہ گہری تھی۔
ڈاکٹر نے جلدی سے نسخہ لکھا اور نظریں جھکائے کمرے سے نکل گیا۔
آریان نے دروازے پر ملازم کو بلایا، پرچی تھمائی اور واپس اندر آ گیا۔
کمرے میں اب خاموشی تھی، بس عبیرہ کی سانسوں کی مدھم آواز۔اس نے جان بوجھ کر انکھیں بند کر رکھی تھی اور یہ بات آریان اچھی طرح سے جانتا تھا۔
آریان نے چند لمحے اسے دیکھا۔
زرد چہرہ، پلکوں پر نمی، اور لبوں پر تھکن کی لکیریں۔
“کمزور عورتیں ہمیشہ درد کو ہتھیار بنا لیتی ہیں”
وہ مدھم آواز میں بولا، جیسے خود سے بات کر رہا ہو۔مگر سنا وہ عبیرا کو ہی رہا تھا
پھر مغرورنظریں پھیر لیں۔مگر قدم پھر بھی وہیں جمے رہے۔
“یاد رکھنا ایسے ہتھکنڈوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا،آریان خان کمزوروں پر ترس نہیں کھاتا”
دل اور انا کے بیچ خاموش جنگ جاری تھی۔
ایسی جنگ جس کا فیصلہ شاید وقت عبیرہ پر ٹکا تھا ۔۔
عبیرہ کے لب ہلے، آواز اتنی مدھم تھی کہ بس سنائی دے جائے۔
“مجھے تم جیسے شخص سے رحم کی امید ہے بھی نہیں۔”
آریان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
وہ آہستہ سا پلٹا، نظر میں غصے کی آگ صاف دکھائی دے رہی تھی۔
کمرے میں دواؤں کی بو پھیلی ہوئی تھی مگر اس کے سانسوں سے اٹھتا غصہ ساری فضا پر چھا گیا۔
قدموں کی چاپ فرش پر گونجی تو عبیرہ کا دل جیسے رک گیا۔
وہ اس کے قریب آیا، نگاہ اتنی سخت تھی کہ سامنے دیکھنا مشکل ہو گیا۔
“زبان بہت چلنے لگی ہے تمہاری۔”
آواز بھاری تھی مگر غصے سے بھری ہوئی۔
عبیرہ نے آنکھیں بند کر لیں۔
جسم ہلکے ہلکے کانپ رہا تھا۔
کمرہ بالکل خاموش تھا، بس آریان کی سانسوں کی آواز باقی تھی۔
وہ ایک قدم اور بڑھا۔
“میں نے کہا تھا نا، اپنی حد میں رہنا سیکھو۔”
عبیرہ نے آنکھیں کھولیں، نظر جھکی ہوئی تھی، دل کی دھڑکن تیز۔
فضا اتنی گھمبیر ہو چکی تھی کہ سانس لینا مشکل لگنے لگا۔
وہ بیڈ کے کنارے بیٹھا، جھک کر اس کے قریب آیا۔
فاصلہ اتنا کم رہ گیا کہ عبیرہ کی سانسیں گھٹنے لگیں۔
خوف سے دل یوں دھڑک رہا تھا جیسے ابھی سینہ پھاڑ دے۔
“تمہیں کیا لگا تھا کہ تم آریان خان کی قید سے بھاگ سکتی ہو؟”
آواز بھاری، رک رک کر نکلتی ہوئی، مگر ہر لفظ میں زہر۔
“جتنی اوقات ہے، اتنا ہی کام کیا کرو۔”
وہ بول نہیں رہا تھا، دہاڑ رہا تھا۔
چہرہ اتنا قریب کہ اس کی سانس عبیرہ کے رخسار سے ٹکرا رہی تھی۔
اس نے نظریں اٹھانے کی کوشش کی مگر آریان کی آنکھوں میں ایسی تپش تھی کہ نظر ٹک نہ سکی۔
آریان نے جھک کر اس کا جبڑا سختی سے پکڑا۔
“آنکھیں کھولو اور مجھے دیکھو”
آواز بھاری تھی، غصے سے بھری ہوئی۔
عبیرہ نے ڈرتے ہوئے آنکھیں کھولیں۔
“اب تمہیں ساری زندگی مجھے اور اس ڈر کو فیس کرنا ہے”
وہ غرایا، اور عبیرہ کے آنسو خاموشی سے بہنے لگے۔
“پپ… پل… پلیز مجھے جانے دو” عبیرہ کی آواز کپکپا رہی تھی، آنسو گالوں پر بہہ رہے تھے۔ وہ ڈر کے مارے رونے لگی تھی۔
“کبھی نہیں جانے دوں گا” آریان کی آواز گرج دار تھی، جیسے ہر لفظ میں قید لکھی ہو۔ “اب تم آریان خان کی بیوی ہو، ہمیشہ میرے پاس رہنا ہے، سزا بن کر اور وفا بن کر۔ سزائیں میں دوں گا، اور وفائیں تم کرو گی”
“میں نے کیا بگاڑا ہے آپ کا؟ کیوں دے رہے ہیں یہ سزا؟ خدا کا واسطہ ہے، مجھے جانے دیں… میرے گھر والے پریشان ہو گئے ہوں گے” وہ سسکیاں لیتی، التجا کرتی رہی۔
آریان کے چہرے پر سختی برقرار تھی، مگر آنکھوں میں ایک انجان اضطراب سا لہرا گیا۔
“دوبارہ خدا کا واسطہ مت دینا کبھی” آریان خان کا لہجہ پتھر کی طرح سخت تھا۔ “تمہارے باپ کو بھی کسی نے بہت خدا کے واسطے دیے تھے، مگر تمہارے باپ پر کبھی کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ اور جہاں تک تمہارے گھر والوں کی بات ہے، اگر وہ پریشان ہیں تو ہونے دو، اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا”
وہ طنزیہ ہنسا، سرد اور سنگدل ہنسی۔ “بلکہ مجھے تو خوشی ہو رہی ہے یہ سوچ کر کہ تمہارے گھر والے پریشان ہوں گے۔ اور صرف تمہارے گھر والے ہی نہیں، تمہارا عاشق بھی بہت پریشان ہوگا۔ سوچ رہا ہوگا کہ آخر اس کی محبوبہ اسے ٹائم دے کر کہاں غائب ہو گئی”
وہ ذرا رکا، پھر غصے سے اس کے قریب جھکتے ہوئے بولا، “ابھی تو تمہیں اس بات کا جواب دینا ہے کہ آخر تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس سے ملاقات فکس کرنے کی۔ اور کیا بتانا چاہتی تھیں تم اسے؟ میرے بارے میں؟”
آریان کی سرخ آنکھوں میں بھڑکتے شرارے دیکھ کر عبیرہ کا وجود کپکپانے لگا۔ وہ خوف سے ساکت تھی۔ آریان کے چہرے کی سختی اور آواز کی تپش، دونوں ہی اسے جلا دینے کو کافی تھیں۔
“اٹھو، اور اٹھ کر کپڑے بدلو” وہ اچانک جھٹکے سے سیدھا ہوا، آواز میں حکم کا زہر گھل گیا۔ “مجھے بے ترتیب حلیے والے لوگ سخت ناپسند ہیں۔ تم میرے کمرے میں ہو، اور مجھے ہرگز برداشت نہیں کہ تم صفائی کا خیال نہ رکھو”
اس کی نگاہ عبیرہ کے عبائے اور گردن پر جم گئی، جہاں خشک خون کے دھبے نمایاں تھے۔ اس کے چہرے پر ناگواری صاف جھلک رہی تھی، جیسے وہ اس منظر کو برداشت نہیں کر سکتا ہو ۔
“کتنا سفاک شخص ہے” عبیرہ نے دل ہی دل میں سوچا، “میں اتنی تکلیف میں ہوں اور اسے صفائی ستھرائی کی فکر ہے۔ جیسے میں کسی جنگل سے اٹھ کر آئی ہوں، جیسے مجھے پتہ ہی نہیں کہ صفائی کیا ہوتی ہے”
اس نے آریان کی طرف دیکھا، مگر نگاہیں فوراً جھکا لیں۔ دل چاہا کہ چیخ کر کہہ دے، مگر زبان ساتھ نہ دے سکی۔ ہونٹ ہلے تو سہی، مگر آواز گلے میں ہی دب کر رہ گئی۔
وہ صرف سوچ کر رہ گئی، کیونکہ جانتی تھی کہ اگر ایک لفظ بھی زبان سے نکلا تو وہ شخص، جو ابھی لمحہ بھر پہلے بھی آگ برسا رہا تھا، اسے راکھ کر دے گا۔
“میرا دیدار بعد میں کر لینا، اٹھ کر چینج کرو”
ایک بار پھر حکم صادر کیا گیا، وہی رعب، وہی لہجہ جو عبیرہ کے دل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کر دیتا تھا۔
“اور آخری بار بول رہا ہوں، گھر جانے کی امید چھوڑ دو۔ کبھی نہیں جانے دوں گا۔ روز روز تمہارے منہ سے یہ سننا بھی نہیں چاہتا”
اس کی بھاری آواز کمرے میں گونجی، جیسے دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ رہی ہو۔
عبیرہ کے آنسو اس کے گالوں سے بہہ کر تکیے پر گر رہے تھے، مگر اس نے چہرہ نہیں موڑا۔
اسے معلوم تھا کہ آریان خان کے سامنے کمزوری دکھانا خود پر ظلم کے مترادف ہے۔
دل میں بس ایک ہی صدا گونج رہی تھی ۔۔
“یا اللہ، یہ آزمائش کب ختم ہوگی۔۔۔”
کیا ساری زندگی یہ شخص اسے اپنے پاس قید رکھے گا۔۔۔
کیا کبھی وہ اپنے پیاروں کے پاس نہیں پہنچ سکے گی۔۔۔
کیا کوئی اسے ڈھونڈنے کبھی یہاں نہیں آئے گا۔۔۔
یہ خیال آتے ہی عبیرہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
دل میں ایک بے بسی سی گھٹنا اٹھی۔
وہ سوچ رہی تھی۔۔۔کیا میری قسمت میں یہی سزا لکھی تھی؟
میں نے تو صرف آزادی چاہی تھی، کیا یہ اتنی بڑی خطا تھی؟
دل کے اندر ایک دبی دبی چیخیں جا رہی تھی مگر لب خاموش تھے۔
وہ جانتی تھی، اس کی ذرا سی آہ بھی آریان کے غصے کو بھڑکا دے گی۔
پھر بھی آنسو بہنا بند نہ ہوئے، جیسے دل اپنا بوجھ ان قطروں میں انڈیل رہا ہو۔
یہ رونے والا تماشہ بند کرو، مجھے زہر لگتی ہو جب تم روتی ہو۔ رونا صرف معصوم اور بے قصور لوگوں پر جچتا ہے۔
آریان خان کی آواز سرد تھی، مگر اس کے لہجے میں کہیں نہ کہیں وہ درد چھپا تھا جو برسوں سے دل میں سڑتا آ رہا تھا۔
تم نہ تو معصوم ہو نہ بے قصور۔
یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیا۔ شاید وہ خود بھی جانتا تھا کہ اس کی بات حقیقت نہیں۔ وہ جانتا تھا کہ عبیرہ بے قصور ہے، مگر پھر بھی اسے سزا دینا چاہتا تھا۔
یہ سزا وہ برسوں سے اپنے دل میں پال رہا تھا۔ بچپن سے، جب اس نے اپنی روشانے کو تبریز خان کے نام پر روتے دیکھا تھا۔
تب ہی اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ بڑا ہو کر اس لڑکی سے شادی کرے گا اور اس پر وہ سب دکھ لاد دے گا جو اس کے دل نے برسوں سہے تھے۔
اس کے دل میں نفرت نہیں تھی، ایک زخم تھا جو وقت کے ساتھ ناسور بن چکا تھا۔
وہ روشانے کے آنسو بھول نہیں سکا تھا، اس کی سسکیاں، اس کے لبوں سے نکلتا ہوا تبریز کا نام، سب کچھ آج بھی اسے اندر سے جھنجھوڑ دیتا تھا۔
اور اب وہ اسی درد کا بوجھ عبیرہ پر ڈال کر سکون تلاش کرنا چاہتا تھا۔
مگر شاید وہ یہ بھول گیا تھا کہ سکون کبھی کسی کے آنسوؤں سے نہیں ملتا۔
ایسے آنکھیں پھاڑ کر کیا دیکھ رہی ہو؟ اٹھو، اور چینج کرو۔
آریان نے غرور بھرے لہجے میں کہا، جیسے حکم دے رہا ہو، درخواست نہیں۔
اس نے اپنی شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے وہ انداز اپنایا جو کسی بادشاہ کو زیب دیتا ہے۔
شرٹ اتارتے ہوئے اس کے چہرے پر ذرّہ برابر جھجک نہ تھی۔ جیسے سامنے انسان نہیں، ایک معمولی وجود کھڑا ہو۔
عبیرہ کی نظریں بے اختیار جھک گئیں۔
شرم سے کانوں کی لو تک سرخ پڑ چکی تھی۔ دل چاہا آنکھوں پر ہاتھ رکھ لے، مگر ہمت نہ ہوئی۔
منہ ہی منہ میں بڑبڑائی، بے شرم انسان۔۔۔
آریان کے لبوں پر ایک سرد مسکراہٹ تیر گئی۔
ابھی تو میں نے اپنی بے شرمیاں دکھائی ہی نہیں۔
جب دکھاؤں گا، تب تمہیں لفظ بے شرم خود کہنا اچھا لگے گا۔
جب میرے رومینس کی تعریف تمہاری زبان سے نکلے گی۔۔۔ وہ دانستہ رکا، اور اس کے لہجے میں خطرناک نرمی اتر آئی۔
عبیرہ نے چونک کر سر اٹھایا۔
یہ کیسے ممکن تھا؟ وہ اتنی دھیمی آواز میں بڑبڑائی تھی اور وہ سن چکا تھا؟
یقیناً آریان خان کے کان عام انسانوں جیسے نہیں تھے، وہ تو سانسوں کی لرزش بھی سن لیتا تھا۔
پوری ہمت جمع کر کے عبیرہ بیڈ سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی،
مگر کمزوری اور خون کے ضیاع نے اس کے جسم کا ساتھ چھوڑ دیا۔
قدم لڑکھڑائے، اور وہ پھر سے بیڈ پر گر گئی۔
ایک لمحے کو آریان کے چہرے پر ناگواری لہر بن کر دوڑ گئی۔
وہ تیزی سے آگے بڑھا، عبیرہ کے کندھوں کو سختی سے تھام کر غصے سے گھورا۔
جیسے وہ قصداً گرنے کا ناٹک کر رہی ہو۔
تم یہ ڈرامے بند کرو، سمجھیں تم؟
یہ سب مجھ پر اثر نہیں کرتے۔
میں نے جو سوچا ہے، وہ کر کے رہوں گا۔
تمہیں کیا لگتا ہے میں نے تمہیں یہاں خدمت گزاری کے لیے قید کیا ہے؟
جو کبھی چوٹ لگواتی ہو، کبھی گرنے کے بہانے بناتی ہو۔
مجھ سے ہمدردی یا رحم کی امید مت رکھنا۔
میرے اندر یہ دونوں چیزیں موجود نہیں۔
اس کے لہجے میں ایسی سختی تھی جیسے ہر لفظ ایک کوڑا بن کر عبیرہ کے دل پر برس رہا ہو۔
عبیرہ نے پلکیں بند کر لیں۔
نہ جانے یہ شخص انسان تھا یا پتھر۔۔۔
جو سامنے تڑپتی جان کو دیکھ کر بھی نرم نہیں پڑا۔
“میں جان بوجھ کر نہیں کر رہی… مجھ سے چلا نہیں جا رہا، چکر آرہے ہیں۔”
عبیرہ نے کپکپاتی آواز میں کہا۔
آریان نے تمسخرانہ ہنسی ہنسی، “اچھا، تو اب آریان خان کو اپنی بیوی کے کپڑے بھی بدلوانے پڑیں گے؟”
اس کے لہجے میں طنز اور غرور دونوں نمایاں تھے۔
عبیرہ کے چہرے پر خوف کی ایک پرچھائیں سی لہری۔ “نہیں، میں خود بدل لوں گی… میں نے ایسا کب کہا۔”
وہ بمشکل اتنا کہہ سکی تھی۔
“تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں،” وہ دھیمے مگر خطرناک لہجے میں بولا، “میں خود سب سنبھال لوں گا۔”
اس نے عبیرہ کے عبائے کا کنارہ تھاما تو وہ چونک اٹھی۔
چوٹ کے مقام پر کپڑا لگا تو درد سے سسکی اس کے ہونٹوں سے پھسل گئی۔
آریان لمحہ بھر کے لیے رکا، مگر اس کی آنکھوں میں نرمی نہیں آئی۔
“تمہیں ڈرامے کرنے کی عادت ہے، مگر یاد رکھو عبیرہ، مجھے کسی کے آنسوؤں پر رحم نہیں آتا۔”
اس نے سرد لہجے میں کہا۔
عبیرہ نے دور ہٹنے کی کوشش کی مگر کمزوری کے باعث قدم ڈگمگا گئے۔
گرنے ہی والی تھی کہ آریان نے آگے بڑھ کر اسے تھام لیا۔
لمحہ بھر کے لیے دونوں کے درمیان فاصلہ معدوم ہو گیا۔
“یہ کمزوری نہیں، اداکاری ہے،” وہ اس کے قریب جھکتے ہوئے بولا، “اور میں تمہاری ہر اداکاری کا انجام اپنی مرضی سے لکھوں گا۔”
عبیرہ کی آنکھوں سے آنسو پھسل کر اس کے ہاتھ پر گرے،
مگر آریان خان کے چہرے پر کوئی تاثر نہ آیا۔
وہ اس کے آنسوؤں کو کمزوری سمجھ کر نظر انداز کر گیا،
اور کمرے میں سناٹا چھا گیا تھا۔
جس میں صرف عبیرہ کے دھڑکتے دل کی آواز باقی رہ گئی۔
“پلیز ایسا مت کیجیے گا، میں خود بدل لوں گی”
عبیرہ کے لہجے میں خوف اور التجا گھل گئے تھے۔ وہ آنسوؤں سے تر چہرہ لیے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔
آریان کے لبوں پر ایک ہلکی مگر خطرناک مسکراہٹ ابھری۔
“تمہیں پتہ ہے، جس چیز سے مجھے روکا جائے وہ میرے لیے اور بھی دل چسپ ہو جاتی ہے”
اس کے لہجے میں غرور نہیں، سفاک اطمینان تھا۔
“اور اب تو تم بار بار روک رہی ہو عبیرہ؛ تو سمجھ لو اب یہی کام میری ضد بن گیا ہے”
“نہیں، میں خود بدل لوں گی، پلیز”
عبیرہ کی آواز کپکپاتی ہوئی بلند ہوئی۔
وہ اپنے گرد بازو پھیلائے خود کو بچانے کی کوشش میں تھی مگر اس کے مقابل وہ شخص تھا جس کے چہرے پر جذبوں کا کوئی رنگ نہ تھا۔
“اتنا تڑپنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہوتا ہمیشہ وہی ہے جو آریان خان چاہتا ہے”
اس نے دھیرے مگر وحشت بھری آواز میں کہا۔
“اور آریان خان اب پیچھے ہٹنے والا نہیں”
“خدا کے لیے، تھوڑا سا تو خیال کریں۔ ایک لڑکی ہوں میں”
عبیرہ کی آواز میں لرزہ تھا؛ اس کے لفظ التجا بن کر ہوا میں تحلیل ہو گئے۔
“کچھ تو میری عزت کا خیال کیجیے”
آریان نے ہلکا سا قہقہہ لگایا؛ ایسا قہقہہ جس میں درد نہیں، تمسخر تھا۔
“عزت؟ جب تم عاشق سے ملنے جا رہی تھیں، تب شرم و حیا کہاں تھی تمہاری؟
اب تو میں تمہارا شوہر ہوں، تم سے نکاح کر چکا ہوں؛ پھر یہ رونا کیوں؟ یہ دہائیاں کیوں؟”
“اب تمہاری سانسیں بھی میری اجازت سے چلیں گی عبیرہ؛ اور تمہیں یہ سیکھنا ہوگا کہ آریان خان سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں”اس نے ایک قدم قریب آتے ہوئے اس کے چہرے کے قریب جھک کر کہا۔
عبیرہ نے آنکھیں بند کر لیں۔
دل میں صرف ایک دعا تھی؛
“اے رب، مجھے اس آزمائش سے نجات دے”
کمرے کی خاموش فضا میں اس کی دعا گم ہو گئی۔
صرف آریان کی سرد سانسیں باقی رہ گئیں
جو اس کے وجود کو خوف کے حصار میں قید کر رہی تھیں۔
بار بار اپنی عزت پر انگلی اٹھتے دیکھ کر عبیرہ کا دل جیسے سلگنے لگا۔
“مم… مجھے ذلیل مت کیجیے، میں نے اسے کسی غلط ارادے سے نہیں بلایا تھا۔ اور نہ ہی وہ ایسا انسان ہے جو کسی کی عزت کو غلط نظر سے دیکھے۔”
اس کی آواز بھرا گئی، مگر سچائی اس کے ہر لفظ سے ٹپک رہی تھی۔
آریان خان کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
عبیرہ کے آخری الفاظ نے اس کے اندر بھڑکتے لاوے کو جیسے پھاڑ دیا ہو۔
اس کے سینے میں برسوں سے دہکتی وہ چنگاری، جو ڈی ایس پی یارم خان کے نام سے سلگی تھی، اب شعلہ بن چکی تھی۔
آنکھوں میں ایسی آگ تھی جیسے کسی مجرم کو نہیں، دشمن کو دیکھ رہا ہو۔
عبیرہ کی لرزتی پلکوں پر اس کی نگاہ پڑی تو وہ لمحہ بھر کو رکا، مگر اگلے ہی لمحے وہ شعلہ بار آنکھیں پھر بھڑک اٹھیں۔
فضا میں ایک عجیب سا سکوت پھیل گیا۔
عبیرہ کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوئیں۔
وہ جانتی تھی، اب کچھ بہت برا ہونے والا ہے۔
’’وہ کیسا نہیں ہے۔۔۔ ہاں، بتاؤ مجھے، کیسا نہیں ہے وہ۔۔۔‘‘
آریان کی آواز میں غصے کا لاوا ابل رہا تھا، آنکھوں میں ایسی سرخی تھی جو کسی کے بھی حواس گم کر دے۔
’’تمہاری زبان اب بھی اس کی تعریف کر رہی ہے۔۔۔ تم سمجھتی کیا ہو خود کو؟‘‘
’’چھوڑیں مجھے۔۔۔‘‘
عبیرہ نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا، وہ اپنے آپ کو اس کے شکنجے سے چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔
’’وہ بہت اچھے ہیں۔۔۔ کم سے کم آپ کی طرح عورتوں پر ظلم نہیں کرتے۔‘‘
آریان نے طنزیہ ہنسی چھوڑی۔ ’’میں ظلم کرتا ہوں۔۔۔ ابھی تو ظلم کیا ہی نہیں۔‘‘
عبیرہ کی آنکھوں میں خوف اور بے بسی لہرا گئی۔
’’اب کروں گا ظلم، اور دل کھول کر کروں گا۔۔۔ ایسا ظلم کروں گا کہ تمہاری سات پشتیں یاد رکھیں گی۔‘‘
اس کی آنکھوں سے شرر برس رہے تھے۔
’’دوبارہ اگر اس ڈی ایس پی کا نام تمہاری زبان پر آیا، تو تمہاری زبان حلق سے کھینچ کر ہتھیلی پر نہ رکھ دی، تو میرا نام آریان خان نہیں۔‘‘
آریان کی گرجدار آواز کمرے میں گونج اٹھی۔
عبیرہ سہم گئی، کانوں پر ہاتھ رکھ لیے، اور ایک لمحے کو تو یوں لگا جیسے کمرے کے باہر ہوا بھی رک گئی ہو۔
کمرے میں صرف اس کے دل کی دھڑکن اور آریان کے غصے کی گونج باقی رہ گئی تھی۔
’’چینج تو تمہیں میں ہی کرواؤں گا،‘‘
آریان خان کی آواز میں سرد غرور تھا، ’’اسی لیے تو تم نے یہ سب کچھ کہا ہے نا؟ کہ میں تمہیں ہاتھ نہ لگاؤں؟‘‘
وہ طنزیہ مسکرایا، ’’اس دو ٹکے کے ڈی ایس پی کی اچھائیاں گنوا رہی تھی، تاکہ میں بھی نیک بن جاؤں؟ تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے، مجھ پر ایسی باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ میں وہی کرتا ہوں، جو میں چاہتا ہوں۔‘‘
وہ سخت لہجے میں بولا، ’’چلو میرے ساتھ۔‘‘
زبردستی اس کا ہاتھ پکڑ کر وہ اسے واش روم میں لے آیا۔
عبیرہ ، چکر کھا رہی تھی، مگر اس ظالم شخص کے دل میں ذرا سا بھی رحم نہ تھا۔
اس نے خاموشی سے پلاسٹک کور اس کے سر پر چڑھایا، تاکہ زخم گیلا نہ ہو، اور پھر نل کھول دیا۔
ٹھنڈے پانی کے چھینٹے جیسے خنجر بن کر عبیرہ کے بدن پر گرتے، تو اس کے لبوں سے سسکیاں نکل جاتیں۔ وہ کپڑوں سمیت بھیگ گئی تھی۔
آریان خان کی آنکھوں میں بے رحمی تھی۔ اس کے انداز میں جیسے کوئی سزا دینے کا غرور چھپا ہو۔ وہ اسے بار بار جھٹک کر سیدھا کرتا، گویا اسے احساس دلانا چاہتا ہو کہ اس کی مرضی کا نہ ہونا، سب سے بڑا جرم ہے۔
عبیرہ روتی جا رہی تھی، سرد، ٹوٹتی ہوئی سسکیوں کے ساتھ۔ مگر اس کے آنسو، اس شخص کے پتھر دل پر کوئی اثر نہ کر سکے۔
واش روم میں بہتا پانی، اس کی سسکیوں، اور آریان کے غرور کی بازگشت ایک ساتھ گھل کر ایسی فضا بنا رہے تھے، جس میں انسانیت دم توڑتی محسوس ہو رہی تھی۔
ہاتھ پر فیس واش ڈالتے ہوئے اس نے شاور کے نیچے کھڑے رہ کر نرمی سے اس کے چہرے پر لگایا۔ آنکھوں کے قریب پہنچتے ہی ذرا سا ٹھہرا، جیسے لمحہ بھر کے لیے انسانیت جاگ اٹھی ہو۔
پانی بہتا گیا، خون کے نشانات دھلتے گئے۔ عبیرہ کے چہرے پر اب صرف آنسو باقی تھے۔
لال آنکھوں سے وہ مسلسل اسے دیکھ رہی تھی، جیسے ہر سوال، ہر شکوہ انہی آنکھوں میں سمٹ آیا ہو۔
آریان کے ہونٹوں پر ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ آئی،
’’ کیا غصہ آ رہا ہے؟‘‘
اس نے بالوں میں انگلیاں پھیر کر انہیں پیچھے کیا، اور ایک آنکھ دبا کر ونگ کرتے ہوئے دونوں ہاتھ دیوار کے قریب اس کے اطراف رکھ دیے۔
پانی کی بوندیں ان کے بیچ بہہ رہی تھیں، فضا میں ایک عجیب سا سکوت پھیل گیا تھا۔
’’اب بتاؤ، کیسا ہے تمہارا ڈی ایس پی؟‘‘
اس کی آواز میں زہر گھلا ہوا تھا،
’’وہ تو تمہارے جتنا قریب آنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا، اور میں… میں تمہارے اتنا قریب کھڑا ہوں کہ تم میری سانسیں سن سکتی ہو۔‘‘
وہ تلخی سے بولا، ’’کیونکہ میں آریان خان ہوں۔ اپنی بات کو حقیقت میں بدلنا مجھے آتا ہے۔‘‘
پھر ذرا سا جھک کر بولا،
’’تم کل بھی میری تھی… اور آج بھی میری ہی ہو۔‘‘
’’میں کوئی پراپرٹی نہیں ہوں،‘‘ عبیرہ کی آواز لرز رہی تھی، ’’میں جیتی جاگتی انسان ہوں۔‘‘
اس کے لہجے میں ایسی خاموش طاقت تھی کہ لمحہ بھر کو آریان کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔
پانی کے قطرے اس کے بالوں سے بہتے ہوئے زمین پر گر رہے تھے، مگر اندر جیسے سناٹا اتر آیا تھا۔
’’تم چاہو تو میرا جسم قید کر لو، مگر میری روح پر اختیار نہیں پا سکو گے۔‘‘
آریان کے قدم زمین میں جیسے جڑ گئے۔
پہلی بار اسے لگا، شاید وہ اتنا طاقتور نہیں جتنا خود کو سمجھتا تھا۔
,, میرے نزدیک تم انسان نہیں، صرف میری ملکیت ہو۔
آریان خان نے سخت لہجے میں کہا اور دونوں ہاتھوں سے اسے دیوار کے ساتھ جما دیا۔
پانی کے نیچے جھلملاتی روشنی میں اس کے چہرے پر سفاکی اور غرور کا سایہ تھا۔
عبیرہ کے لبوں کو انگوٹھے سے چھوتے ہوئے وہ اس کی بے بسی کا تماشہ دیکھ رہا تھا، جیسے اس کے سکوت میں بھی اپنے غصے کی تسکین ڈھونڈ رہا ہو۔
وہ شرم سے پانی میں سمٹتی جا رہی تھی، مگر اس کے چہرے پر پھیلتی نرمی کو دیکھ کر آریان کے تیور اور سخت ہو گئے۔
فی الحال تمہارے لیے کپڑے نہیں ہیں، میرے کپڑوں سے کام چلا لو۔
اس نے خشک لہجے میں کہا اور قدم اٹھا کر باہر چلا گیا۔
شاید وہ کپڑے لینے گیا تھا، مگر عبیرہ نے اسی لمحے موقع غنیمت جانا۔
چکراتے سر اور لرزتے ہاتھوں سے دروازہ بند کرنے کو بڑھی، مگر جیسے ہی دروازے کی کنڈی پکڑی، اس کی آواز گونجی ۔۔۔
جرأت مت کرنا۔ ورنہ انجام وہی ہوگا جو میں چاہوں گا۔
یہ میرا گھر ہے، اس کے در و دیوار میرے حکم کے پابند ہیں۔
اگر میں چاہوں تو تمہارا یہ دروازہ ایک لمحے میں کھول سکتا ہوں، اور پھر جو حشر ہوگا، تم خود سے نظریں نہ ملا سکو گی۔
عبیرہ کے قدم وہیں جم گئے۔
سانسیں بند، دل میں خوف کی ایک اور لہر دوڑ گئی۔
چند لمحوں بعد وہ واپس آیا، ہاتھ میں ایک نائٹ سوٹ لیے۔
چہرے پر وہی بے تاثر سکون، مگر آنکھوں میں دھمک تھی۔
خود کو عقل مند سمجھنے کی کوشش مت کرنا۔
جہاں تمہاری سوچ ختم ہوتی ہے، وہاں سے آریان خان کی سوچ شروع ہوتی ہے۔
جہاں بھی جاؤ گی، خود سے چند قدم آگے مجھے پاؤ گی۔
اس کے الفاظ کی گونج ہر طرف پھیل گئی۔
پانی ابھی تک بہہ رہا تھا، مگر اس لمحے فضا میں صرف خوف کی نمی باقی رہ گئی تھی۔
اگر عبیرہ کے بس میں ہوتا تو شاید وہ اسی لمحے زمین میں دفن ہو جاتی، یا کھڑکی سے کود جاتی، یا کم از کم اس ظالم شخص کی نظروں سے اوجھل ہو جاتی۔
مگر کچھ بھی اس کے بس میں نہ تھا
نہ اپنے قدموں پر اختیار، نہ اپنے آنسوؤں پر، نہ اپنی تقدیر پر۔
بس ایک راستہ تھا اس کے پاس ۔۔۔
اس سفاک شخص کے حکم کے سامنے سر جھکانا، اور وہ سر جھکانا اس کے دل میں ایک چِلا نے کی صورت بن کر گونج رہا تھا۔
“یہ میرے کپڑے ہیں، انہی سے کام چلاؤ”
آریان نے ٹھہرے لہجے میں کہا۔
عبیرہ کے لب کانپے، دل میں بے شمار خوف اور شرمندگی اتر آئی۔
چند لمحے خاموش رہی، پھر مدھم آواز میں بولی،
“میں اپنے کپڑوں میں ٹھیک ہوں، مجھے آپ کے کپڑوں کی ضرورت نہیں۔”
“تمہاری مرضی کی یہاں کوئی گنجائش نہیں۔”
وہ بے تاثر لہجے میں کہہ کر دروازے کے باہر، دوسری سمت منہ موڑ کر کھڑا ہو گیا۔
عبیرہ نے لرزتے ہاتھوں سے کپڑے تھامے۔
دل میں آیا، کاش زمین پھٹ جائے اور وہ سما جائے۔
مگر ساتھ ہی دل نے شکر ادا کیا،
“کم از کم اس میں اتنی تمیز تو باقی ہے کہ پیٹھ پھیر کر کھڑا ہوا ہے۔”
آنسو گالوں سے بہہ نکلے، اور اس کے دل سے بددعائیں بھی اٹھیں،
“اللہ کرے تجھے بھی کسی دن ایسا لمحہ محسوس ہو جو روح کو توڑ دے، دل کو روند دے…”
کپڑے بدل کر اس نے گہرا سانس لیا، جیسے قید سے نکل آئی ہو۔
دروازے کے پار سے وہی مانوس آواز ابھری،
“اب محترمہ روم میں تشریف لے جاؤ، اور بالوں کو ڈرائی اور کنگھی کرو۔
مجھے الجھے ہوئے بال بالکل پسند نہیں، مجھے بھی فریش ہونا ہے۔”
،،بال میرے ہیں مگر تکلیف اسے ہو رہی ہے عذاب کہیں کا
عبیرہ دانت پیستے ہوئے دل ہی دل میں سوچتی رہ گئی
مجبوری نے قدموں کو خاموش کر رکھا تھا، آہستہ آہستہ چلتی ہوئی وہ دروازے سے باہر آئی
،،سر سے پاؤں تک آریان خان کی نظریں اس پر جمی رہیں
ایسا لگا جیسے اس کی نگاہیں کسی ایکسرے مشین کی طرح اس کے آرپار دیکھ رہی ہوں
عبیرہ نظریں جھکائے خاموشی سے ڈریسنگ روم میں جا کر خود کو چھپا لیا
ورنہ وہ شخص تو بے شرمی سے اسے دیکھتا ہی رہتا
جیسے ہی وہ اندر پہنچی آریان واش روم میں جا چکا تھا
دروازہ بند ہونے کی آواز آئی تو عبیرہ کے لبوں سے ایک ہلکا سا سانس نکلا
گویا برسوں کی قید کے بعد ذرا سی آزادی ملی ہو۔
اس کے حکم کے مطابق اس نے سامنے رکھی ہوئی ڈرائر اٹھائی
حالانکہ سر پر پلاسٹک کور ہونے کے باعث بالوں پر پانی نہ ہونے کے برابر تھا
مگر ظالم نے کہا تھا کہ ان چند بوندوں کو بھی سکھاؤ
اس لیے وہ انھی خشک بالوں پر ڈرائر چلاتی رہی
پھر اس نے آہستہ آہستہ کنگھی کی
سر میں شدید درد تھا، چکر آ رہے تھے
مگر کیا کرتی، اس بے بسی کی حالت میں
اسے وہ سب کچھ بھی کرنا پڑ رہا تھا جو اس کے اختیار میں نہیں تھا۔
،،اگر تمہارا سنگھار مکمل ہو گیا ہو تو باہر آ جاؤ، مجھے انتظار کرنا ہرگز پسند نہیں ہے۔‘‘
شاید وہ روم میں آچکا تھا، اور اب نوابزادے کے لہجے میں عبیرہ کو پکار رہا تھا۔
وہ لرزتے قدموں سے چلتی ہوئی، دل کی دھڑکنوں کو سنبھالتی روم میں داخل ہوئی تو وہ سیاہ ٹراؤزر میں ملبوس، ننگے سینے کے ساتھ آئینے کے قریب کھڑا تھا۔
اس کے بدن سے باڈی اسپرے اور پرفیوم کی ملی جلی خوشبو پھیل کر پورے کمرے میں رچ بس گئی تھی، یوں لگتا تھا جیسے وہ خود کو نہیں، فضا کو خوشبوؤں میں نہلا آیا ہو۔
عبیرہ کو سانس لینا دشوار ہو رہا تھا، خوشبو اچھی ضرور تھی مگر اتنی تیز کہ دم گھٹنے لگے۔ وہ شخص ہر بات میں حد سے بڑھ کر ہی کرتا تھا۔
،،نفاست کا دیوانہ، بالوں کی ایک ایک لٹ درست کر کے باہر نکلا تھا، گویا سامنے عبیرہ نہیں بلکہ اس کی عدالت ہو، جہاں وہ اپنے وجود کے غرور کے ساتھ پیش ہونے والا ہو۔‘‘
عبیرہ جیسے ہی ڈریسنگ روم سے باہر آئی، آریان نے ایک نظر اس پر ڈالی۔
اس کی آنکھوں میں وہی جیتی جاگتی سختی، وہی ضبط میں لپٹی برتری تھی۔
„اچھی لگ رہی ہو میرے استعمال شدہ لباس میں، عبیرہ آریان خان۔“
وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بول رہا تھا۔ یہ جملہ تعریف نہیں، تضحیک تھی۔
اس کے لہجے میں وہ نرمی نہیں تھی جو کسی عورت کے لیے سراہی جانے والی نگاہ میں ہونی چاہیے۔
وہ جان بوجھ کر اسے احساس دلا رہا تھا کہ جو لباس اس نے پہنا ہے، وہ اس کے زیرِ استعمال رہ چکا ہے،
اور اب اس کے نام کے ساتھ اس کا سر نیم جڑ چکا ہے۔
یہ الفاظ عبیرہ کے دل پر کسی نوکیلی دھار کی مانند پیوست ہو رہے تھے۔
اسے محسوس ہوا جیسے ہر حرف اس کی خودداری کو کاٹتا جا رہا ہو۔
آریان کی زبان سے نکلے ہوئے یہ جملے اُس کے وجود میں ایسی چبھن پیدا کر رہے تھے جو الفاظ سے بیان نہیں ہو سکتی۔
عبیرہ کے چہرے پر ناگواری صاف جھلکنے لگی۔
„میرا نام صرف عبیرہ خان ہے۔“ وہ دبے لبوں میں بولی۔
آریان کے ہونٹوں پر ایک مدھم، بے آواز سی مسکراہٹ اُبھری۔
„نام میں کیا رکھا ہے، عبیرہ؟ جب تمہاری سانسیں، تمہاری خاموشیاں، تمہارا وجود سب میرے اختیار میں ہیں تو لفظ بدلنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔“
وہ ایک قدم آگے بڑھا۔ اس کی آواز میں چیخ نہیں تھی، مگر ایک ایسی دھمک تھی جو مکمل یقین سے پیدا ہوتی ہے۔
عبیرہ کا دل چاہا کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے،
مگر اب اس کے بس میں کچھ بھی نہیں تھا۔
سوائے اس کے کہ وہ نظریں جھکائے، خاموشی سے کھڑی رہے۔
عبیرہ نے نظریں جھکائیں تو آنسو اس کے رخساروں پر ڈھلکنے لگے۔
اسے لگا جیسے اس کا ہر آنسو اپنی بے بسی کی گواہی دے رہا ہو۔
دل کے اندر کوئی چیز ٹوٹ کر بکھر گئی تھی، مگر زبان گنگ تھی،
خاموشی اس کے گرد دیوار بن گئی تھی۔
آریان ایک لمحے تک اسے دیکھتا رہا، پھر سرد لہجے میں بولا،
„یہ آنسو تمہیں کمزور نہیں بناتے، عبیرہ…
یہ صرف یاد دلاتے ہیں کہ تمہارے اختیار میں اب کچھ بھی باقی نہیں رہا۔“
اس کے الفاظ نے جیسے ہوا میں لرزہ سا پیدا کر دیا۔
عبیرہ کے لب کپکپائے، مگر وہ کچھ نہ بولی۔
دل کے اندر ایک ہی فریاد گونجی ۔۔۔
یا رب! اس عذاب سے رہائی دے دے۔
وہ اپنے دل ہی دل میں آریان کے لیے بددعائیں مانگتی رہی،
مگر ساتھ ہی ایک تلخ احساس اسے کچوکے دینے لگا
کہ شاید بددعائیں بھی اس تک نہیں پہنچتیں۔
کیونکہ اس شخص کے گرد جیسے کوئی ظالمانہ حصار کھنچا ہوا تھا،
جس میں نہ دعا داخل ہو سکتی تھی، نہ فریاد۔
آریان بیڈ پر نیم دراز تھا، ایک ٹانگ دوسری پر رکھے، آنکھوں میں بے نیازی اور چہرے پر وہی رعونت بھری مسکراہٹ۔
انگلی کے ہلکے سے اشارے سے اس نے عبیرہ کو بلایا۔
„آؤ، میرے پیر دباؤ۔“
عبیرہ کے قدم جیسے وہیں زمین میں دھنس گئے۔
„کیا کہا آپ نے؟“ وہ حیران اور خوف زدہ لہجے میں بولی۔
„جو سنا ہے، وہی کہا ہے،“ آریان نے رخ موڑتے ہوئے انگلی دوبارہ اپنی جانب موڑی۔
„آؤ، میرے پیر دباؤ۔“
اب کے لہجے میں ایک ایسا سکوت تھا جو شور سے زیادہ خطرناک لگتا تھا۔
عبیرہ کے اندر بے بسی اور نفرت کی ایک لہر اٹھی۔
اس نے آنکھیں اٹھا کر دیکھا — وہ شخص جو خود کو سب کچھ سمجھتا تھا،
جس کی رگ رگ میں اقتدار کا زہر دوڑ رہا تھا۔
,, سمجھ آئی یا نہیں،
„نہیں، مجھے سمجھ نہیں آئی!“
وہ تڑپ کر بولی، آواز میں لرزش تھی مگر دل میں ایک چنگاری۔
آریان کے چہرے پر غصے کی لکیریں ابھر آئیں،
رگیں تن گئیں، آنکھوں میں سرد لو دہکنے لگی۔
„سمجھاؤ تمہیں… یا یاد دلاؤں کہ یہاں فیصلے کون کرتا ہے؟“
کمرے میں ہوا کا بوجھ بڑھ گیا۔
عبیرہ کا دل چاہا وہ اس لمحے کہیں غائب ہو جائے ۔۔۔
مگر قسمت نے جیسے اس کے پاؤں زنجیر سے باندھ رکھے تھے۔
„چلو ٹھیک ہے، اگر سمجھ نہیں آئی تو دوبارہ بتا دیتا ہوں۔
مگر اس بار میرے الفاظ نہیں، میری خواہشات بولیں گی۔“
وہ بیڈ پر لیٹا ہوا تھا، مگر اب اٹھ کر بیٹھ گیا۔
چہرے پر وہی اطمینان بھری سفاک مسکراہٹ تھی۔
„آؤ میرے پاس، اور وہ حق ادا کرو جو تم پر لازم ہے۔
تم بیوی ہو، محض نام کی نہیں… حقیقت میں بھی۔“
عبیرہ کے قدم جیسے زمین سے جکڑ گئے۔
دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
اس کی آنکھوں میں خوف کے ساتھ نفرت بھی اتر آئی تھی۔
اس نے تھوک نگلا، مگر کچھ نہ بولی۔
آریان نے تلخی سے کہا،
„خاموش کیوں ہو گئی؟ ابھی تو بڑی اکڑ دکھا رہی تھی۔ اب چپ کیوں لگ گئی؟“
وہ اس کے چہرے پر نظریں گاڑھے، ہولے ہولے بولا،
„ڈرو مت، آج صرف تمہیں تمہارا مقام یاد دلاؤں گا۔“
,,میں نے اپنی زندگی میں آپ سے زیادہ کمینہ انسان نہیں دیکھا‘‘
عبیرہ کے لبوں سے لفظ نہیں، آگ برسی تھی۔”اور میں نے تم سے زیادہ ڈرامے باز لڑکی اپنی زندگی میں نہیں دیکھی”
“جب بات سمجھ آ گئی تھی تو پھر ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی”
“دوبارہ اسی لہجے میں مجھ سے بات کی تو زبان منہ سے نکال کر باہر جلا دوں گا”
“مجھے آپ کے منہ لگنا بھی مناسب نہیں”
“آریان خان، اپنی اوقات میں رہو۔ کسی کی بے بسی کا مذاق مت اڑاؤ، ورنہ وقت آنے پر سزا بھی برداشت کرو گے”
اس کی دھمکی میں سردی تھی مگر آواز پرسکون رہی۔ عبیرہ شدید کانپ رہی تھی، حالت کی کمزوری اور اندر کا غصہ دونوں ساتھ تھے۔
آریان نے پھر طنزیہ انداز اپنایا اور کہا، “مگر ڈارلنگ، مجھے تو تمہارے منہ بھی لگنا ہے”۔
اور میری اوقات کیا ہے وہ تو ابھی تمہیں پتہ چل جائے گا۔۔ویٹ اینڈ واچ !! میری اوقات یہ ہے کہ اب تم ہر سانس میری مرضی میرے حساب سے لو گی۔۔
تم چاہو یا نہ چاہو۔۔۔
اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر جھٹکے سے اپنے قریب کرتے ہوئے آریان نے اپنی سرد حکمرانی جتائی۔
,,مجھے تم سے نفرت ہے آریان خان، تمہاری باتوں سے مجھے گھن آتی ہے‘‘
عبیرہ نے خود کو اس کی گرفت سے آزاد کرنے کی بھرپور کوشش کی، مگر وہ شخص جیسے پتھر کا بنا تھا۔
,,جس کے وجود سے تمہیں نفرت ہے، اسی کے سائے میں، اسی کے حکم کے تابع تم رہو گی‘‘
اس کی آواز میں ایک خالص زہریلا سکون تھا۔
,,اور میری حیثیت؟ اتنی ہے کہ تمہیں دکھا سکتا ہوں، میرے اختیار کی وسعت کہاں تک ہے‘‘
یقین نہ آئے تو شیشے میں دیکھ لینا، تمہیں میری موجودگی کا احساس خود نظر آ جائے گا۔
وہ جاتے جاتے اپنا نقش ایسا چھوڑ گیا تھا جو عبیرہ کے دل تک کو چیر گیا۔
اندھیرا اس کی آنکھوں کے سامنے لہرانے لگا،
آریان کے قریب آتے سانسوں کی تپش اسے جلانے لگی تھی۔
وہ لرزتی ہوئی، نڈھال سی اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی، اور اس کے بازوؤں میں جھول گئی۔
آریان نے اسے گرنے سے بچایا۔
ایک لمحے کو اس کے چہرے پر نرمی کی ہلکی سی لکیر ابھری جب اس نے اس کا تپتا ہوا ماتھا چھوا۔
,,اس کوبخار ہے‘‘ وہ آہستہ سا بولا۔
اسے بستر پر لٹا کر چادر اوڑھائی۔
,,جتنا چاہو ڈرو، تڑپو، مگر انجام وہی ہو گا جو میں چاہوں گا‘‘
اس کی آواز میں سرد فولاد گھلا تھا۔
پھر عبیرہ کے سر کو سہارا دیتے ہوئے اسے دوا دی،
اور سگریٹ سلگا کر ٹیرس پر چلا گیا،
جہاں دھوئیں کے ساتھ اس کے ارادے بھی سلگ رہے تھے۔
═══════❖═══════
آریان ٹیرس پر کھڑا تھا، مٹھیاں بھینچی ہوئی، آنکھوں میں سرخ لہریں دوڑ رہی تھیں۔
’’مس عبیرہ خان…‘‘ وہ سرد آواز میں بڑبڑایا، ’’ابھی سے اتنی کمزور پڑ گئی ہو؟‘‘
ہونٹوں کے کنارے ایک کڑوی مسکراہٹ ابھری۔
’’ابھی تو شروعات ہے۔ آگے دیکھنا، میں تمہیں اتنا تڑپاؤں گا کہ درد کو بھی تمہاری تڑپ پر رونا آ جائے۔‘‘
سگریٹ کے دھوئیں کے ساتھ جیسے اس کے الفاظ بھی جل اٹھے تھے۔
وہ سر جھٹک کر ہنسا، وہی ہنسی جس میں سکون نہیں، صرف انتقام تھا۔
وہ کافی دیر تک اپنے ہی اندرونی کشمکش میں سلگتا رہا۔ تقریباً آدھی ڈبی سگریٹ کے دھوئیں میں اڑانے کے بعد وہ واپس روم میں آیا تھا۔
سب سے پہلے جا کر واش روم میں اس نے برش کیا۔
یہ شخص عجیب نفاست پسند تھا۔ سگریٹ پیتا تھا شراب بھی پی لیتا تھا مگر اسے یہ ہرگز منظور نہ تھا کہ اس کے ہاتھوں جسم یا سانسوں سے کسی قسم کی بدبو آئے۔
اور نہ ہی یہ گوارا تھا کہ اس کے روم میں سگریٹ کے دھوئیں کی بُو باقی رہے۔
اسی لیے وہ ہمیشہ یا تو ونڈو پر کھڑا ہو کر سگریٹ پیتا یا پھر باہر نکل کر اپنے اس شوق کو پورا کرتا تھا۔
واپس آ کر اس نے عبیرہ کے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔ فیور پہلے سے کم تھا مگر اب بھی وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں تیز تیز سانسیں لے رہی تھی۔
اس حالت میں اسے مزید تکلیف دینے کا کوئی اور راستہ نظر نہ آیا تو وہ چپ چاپ فل ایسی کے ساتھ پنکھا بھی اون کر گیا۔
عبیرہ پر ایک طویل لمحے تک نگاہیں گاڑ کر دیکھتا رہا۔ پھر بیڈ کور کا کونا اٹھایا اور خود بھی لیٹ گیا۔
کمرہ خاموش تھا مگر اس کی آنکھوں میں وہی طوفان جل رہا تھا جو بجھنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔
غصہ، ضبط اور انتقام۔۔۔ تینوں نے اس کے وجود کو جکڑ رکھا تھا۔
وہ ساکت لیٹا تھا، مگر اس کے اندر کچھ اب بھی دہک رہا تھا، جیسے کسی لمحے وہ خاموشی خود چیخ بن کر پھٹ پڑے گی۔
═══════❖═══════
ڈی ایس پی یارم خان نے ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا تھا عبیرہ کو ڈھونڈنے کے لیے، مگر اس کا کہیں بھی پتہ نہیں چل رہا تھا، زمین نے اسے چھپا لیا یا آسمان نے اسے چھپا رکھا تھا، کچھ بھی پتہ نہیں تھا۔
وہ اپنے دوست نعمان کے ساتھ دفتر میں بیٹھا، اور اسی مدے پر بات کر رہا تھا۔
نعمان، یارم خان کا پرانا اور وفادار دوست تھا۔ یارم خان جب بھی دل کے بوجھ تلے دب جاتا، صرف نعمان سے ہی اپنے خیالات بانٹتا۔ برسوں کی یہ دوستی ایک مضبوط رشتہ بن چکی تھی، جو وقت کی ہر آزمائش سے گزری اور مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئی۔
“یارم۔
“ہمم۔
“مجھے ایک بات کا صاف سچ جواب دو،
یارم خان نے اس کی جانب حیرانی سے دیکھا۔
“اس بات کا کیا مطلب ہے۔ آج تک میں نے تم سے کبھی جھوٹ کہا؟ اور دوسری بات، یارم خان، کبھی کسی بھیذڈع بات کے لیے جھوٹ کا سہارا نہیں لیتا۔
“بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں، مگر آج جو میں پوچھنے والا ہوں، اس کا صحیح جواب دو،تاکہ میری کشمکش ختم ہو جائے۔۔
“ہمم۔۔۔”پوچھو۔۔
یارم خان اپنی کرسی پر بیٹھا، پینسل انگلیوں میں گھماتے ہوئے، سوچتی نظروں سے نعمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔اسے اندازہ تھا کہ نعمان کیا سوال کرنے والا ہے۔
“یارم، کیا تم اس لڑکی کے معاملے کو صرف اپنا فرض سمجھ کر ہینڈل کر رہے ہو، یا بات کچھ اور ہے؟
“تمہیں کیا لگتا ہے؟
“یارم، میں تمہاری سوال پر سوال کرنے والی عادت سے بہت تنگ ہوں۔تم مجھے صاف جواب دو، آخر وہ لڑکی تمہارے لیے اتنی خاص کیوں ہے۔؟
“کیونکہ مجھے یہ صرف ایک کیس نہیں لگ رہا تمہاری فیلنگ بہت الگ نظر آرہی ہیں۔
“مطلب کہ میں عام لوگوں کا کیس اچھی طرح ہیڈل نہیں کرتا یہ کہنا چاہتے ہو یارم میں سرد لہجے میں کہا۔۔۔
“میرا ایسا کوئی مطلب نہیں مجھے اچھی طرح سے پتہ ہے کہ تم اپنا کام ایمانداری سے کرتے ہو مگر مجھے کچھ الگ جذبات تمہارے اندر نظر آرہے ہیں، بس مہربانی کر کے تم اس کا جواب دے دو مجھے الجھانے کے کوشش مت کرنا۔۔۔
“میں اس سے محبت کرتا ہوں، اور شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔
یارم خان نے دوٹوک انداز میں جواب دیا۔۔۔
“ماشاءاللہ، اور یہ کب ہوا؟ مجھے بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا؟
نعمان نے شکوہ بھری نظروں سے دیکھا۔
“جب بات کسی منزل پر پہنچتی، سب سے پہلے تمہیں ہی بتاتا۔ ابھی تو میں نے اسے صرف پروپوز کیا تھا، اس کی جانب سے جواب تک نہیں آیا، تو پہلے تمہیں کیا بتاتا۔۔
,,اچھا۔۔۔ تو اس کا جواب آنے سے پہلے ہی یہ سب کچھ ہو چکا گیا۔،،
,,تو یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ لڑکی اپنی مرضی سے کسی کے ساتھ گئی ہو، تم اتنا یقین کے ساتھ کیسے کہہ سکتے ہو کہ اس کے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے،،
,,تمہیں کیا میں بچہ نظر آتا ہوں جو ایسے ہی کسی پر یقین کر لوں گا،،
,,بے شک اس نے صاف لفظوں میں محبت کا اعتراف نہ کیا ہو، مگر وہ مجھ سے پیار بھی کرنے لگی تھی اور رشتے پر بھی راضی تھی،،
,,ورنہ یارم اتنا بے وقوف نہیں ہے کہ ایسے ہی کسی کے پیچھے بھاگتا پھرے،،
,,وہ بہت پریشان تھی، وہ مجھ سے ملنا چاہتی تھی۔۔۔ بس راستے میں ایک حادثے کی وجہ سے میں رک گیا اور تھوڑا سا لیٹ ہو گیا، جب تک میں وہاں پہنچا وہ وہاں نہیں تھی،،
,,یہ ساری باتیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ اس کے ساتھ کچھ غلط ہوا ہے، اگر اس سے اپنی مرضی سے کہیں کسی کے ساتھ جانا ہوتا تو وہ مجھے انفارم نہیں کرتی، مجھ سے ملنے کا کیوں کہتی،،
,,ہاں بھائی، یہ بھی بات ٹھیک ہے۔ ویسے بھی جس طرح ڈی ایس پی یارم خان سوچ سکتا ہے، وہاں تک تو ہمارا سوچنا بہت مشکل ہے۔۔۔ ہم ٹھہرے عام شہری، پولیس والوں کی طرح سوچنا مشکل ہے،
,, اچھا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اب بتاؤ، آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے؟،،نعمان نے ٹھنڈی سانس فضا میں چھوڑتے ہوئے کہا،،
,,نعمان، تمہیں پتہ ہے چاہے انسان کسی بھی پیشے سے تعلق رکھتا ہو، اس کے لیے قریبی رشتوں کو سنبھالنا بہت مشکل ہوتا ہے،،
,,اگر کوئی ڈاکٹر ہے تو وہ ہزاروں لوگوں کے آپریشن کرتے ہوئے نہیں گھبراتا، اس کے ہاتھ کٹ لگاتے ہوئے نہیں کانپتے،،
,,مگر جب وہی ڈاکٹر اپنے کسی قریبی رشتے کا آپریشن کرتا ہے تو اس کا دل بھی گھبراتا ہے اور اس کے ہاتھ بھی کانپتے ہیں،،
,,اسی طرح میں ہزاروں کیس بآسانی سنبھال لیتا ہوں، مگر عبیرہ کے ساتھ جو محبت کا رشتہ بن گیا ہے، وہ رشتہ اور وہ جذبات مجھے کمزور کر رہے ہیں،،
,,میرا دماغ بند ہو رہا ہے، میں بہت پریشان ہوں، مجھے ہزاروں راستے نظر آتے ہیں مگر ہر راستے پر چلتے ہوئے میں گھبرا جاتا ہوں کہ کہیں اس لڑکی کی بدنامی نہ ہو جائے،،
,,اس لیے تمہیں بلوایا ہے، مجھے بتاؤ مجھے کیا کرنا چاہیے،،
,,اگر اس کے گھر والوں کے پاس جاؤں گا تو ظاہر سی بات ہے پوچھیں گے کہ مجھے عبیرہ کے بارے میں سب کچھ کیسے پتہ ہے، میرا اور اس کا کیا رشتہ تھا،،
,,میں نہیں چاہتا کہ کہیں اس کے کردار پر کوئی انگلی اٹھائے، وہ لڑکی بہت معصوم اور نیک ہے، اس کی معصومیت اور نیک فطرت نے ہی تو مجھے اس کی طرف متوجہ کیا تھا،،
,,لڑکی کی عزت بہت نازک معاملہ ہوتی ہے، ذرا سی بھی غفلت ایک لڑکی کی عزت پر داغ لگانے کے لیے کافی ہوتی ہے،،
,,مگر یارم، جب تک تم اس کے گھر والوں سے نہیں ملو گے تو میں کیسے پتہ لگاؤں گا کہ آخر مسئلہ کیا ہے، ایسے تو تم پتھر سے سر مارتے پھرو گے،،
,,حقیقت کا پتہ تو اس کے گھر والوں سے مل کر ہی چلے گا کہ وہ اپنی مرضی سے گئی ہے یا سچ میں اسے کچھ ہوا ہے،،
,,نہیں نعمان، اتنی جلدی تو میں اس کے گھر والوں سے رابطہ نہیں کروں گا، آخری حد تک کوشش کروں گا کہ میں اپنے طریقے سے پتہ لگا سکوں کہ ماجرہ کیا ہے،،
,,مگر یارم، اس کے گھر والوں کو اب تک تو پتہ چل چکا ہوگا کہ عبیرہ گھر نہیں پہنچی، تو اس کے ساتھ کچھ تو غلط ہوا ہے،،
,,ہمم، شاید چل چکا ہو، مگر ابھی تک انہوں نے کوئی رپورٹ درج نہیں کروائی،،
,,ویسے بھی 24 گھنٹے کے بعد ہی رپورٹ درج کروائی جاتی ہے، شاید اسی کا انتظار کر رہی ہوں،،
نعمان نے سوچتے ہوئے کہا،،
,,ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو، یا ہو سکتا ہے وہ بھی اپنی بیٹی کی عزت کے لیے پروسیس کر رہے ہوں اور انڈر گراؤنڈ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہوں، اور ابھی تو اسے کو کالج سے غائب ہوئے دس گھنٹے گزرے ہیں،
“اگر کسی طرح اس کا فون ٹریس ہو جائے تو میں اس تک پہنچ سکتا ہوں،
“میری ٹیم پوری کوشش میں ہے۔ کام مشکل ضرور ہے، مگر مجھے امید ہے کہ ایک گھنٹے کے اندر اندر کوئی نہ کوئی سراغ ضرور مل جائے گا۔”
یارم کے لہجے میں عزم اور امید دونوں جھلک رہے تھے۔
،،انشاءاللّٰہ، اللّٰہ تعالیٰ سب بہتر کرے گا۔۔ مجھے پورا یقین ہے کہ تم عبیرہ کو ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جاؤ گے،،
،،آخر یارم خان نے مشکل سے مشکل کیس سلجھائے ہیں۔۔ اس کیس میں بھی جیت یارم کے مقدر میں ہی لکھی ہے،،
نعمان نے اپنے دوست کی حوصلہ افزائی کی، مگر اس کے بولے گئے سب الفاظ حقیقت تھے۔۔۔
،،ان شاءاللہ، اللہ تعالیٰ سب بہتر کرے گا۔۔۔ کیونکہ اس بار یارم کے لیے یہ صرف ایک کیس نہیں ہے، یہ میری محبت، میری زندگی اور میرا جینے مرنے کا مسئلہ ہے۔۔۔ وہ لڑکی میری زندگی کا سب سے اہم حصہ بن چکی ہے۔۔۔،،
،،یارم خان کا لہجہ ٹوٹنے لگا تھا، مگر اُس نے فوراً ضبط کرتے ہوئے خود کو سنبھال لیا۔۔۔ اگرچہ نعمان، جو اُس کا گہرا دوست تھا، اُس کے دل کی کیفیت کو خوب سمجھ رہا تھا کہ یارم اندر ہی اندر بکھر رہا ہے،،
،،یارم، اللہ پر بھروسہ رکھو۔۔۔ اللہ پاک تمہیں تمہاری محبت سے ضرور مِلائے گا۔۔۔ تمہارے لیے جو بہتر ہے، وہ تمہیں مل کر رہے گا۔۔۔،،
نعمان نے تسلی بھری نرمی سے کہا، اس کے لہجے میں یقین اور دعا کا امتزاج تھا۔ وہ دل سے اپنے دوست کے لیے بے قرار تھا، جیسے اس کے درد کی لرزش اپنے دل میں محسوس کر رہا ہو۔۔۔
،،انشاءاللہ۔۔۔ بس، اللہ ہی سے امید ہے۔۔۔ وہ اگر چاہے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔،،
،،نعمان ایک بات تو طے ہے، عبیرہ جہاں بھی ہے، جس کسی کی قید میں ہے، وہ شخص ہم سے کہیں زیادہ شاطر ہے۔۔۔
پہلی بار یارم خان کے سامنے کوئی ایسا آیا ہے، جس کی سوچ یارم کی سوچ سے ٹکرا گئی ہے۔۔۔
اس نے عبیرہ کے فون پر سیکیورٹی پاس ورڈ لگا رکھا ہے، اور وہ پاس ورڈ ایسا ہے کہ اتنی جدوجہد کے باوجود بھی میری ٹیم اسے توڑ نہیں سکی۔۔۔ وہ جو بھی ہے، بہت دور تک سوچنے اور دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔۔۔ ہماری سوچ سے کئی گنا تیز اور شاطر دماغ والا انسان ہے۔۔۔
خیر، میرا نام بھی یارم خان ہے۔۔۔ ہار مان لینا تو میری فطرت میں شامل ہی نہیں۔۔۔
یارم جب کوئی عام سا کیس ہاتھ میں لیتا ہے تو اسے سلجھائے بغیر اسے چین نہیں آتا۔۔۔ یہاں تو بات میری محبت کی ہے، تو کیسے میں ہار کر قدم پیچھے ہٹا سکتا ہوں۔۔۔
وہ گہری، سوچتی ہوئی نظروں سے سامنے میز پر نظریں گاڑے بولا۔۔۔،،
،،انشاءاللہ یارم، اللہ تعالیٰ سب بہتر کرے گا، بس تم پریشان مت ہونا۔۔۔ میں ہوں نا ہمیشہ تمہارے ساتھ۔۔۔ جب کبھی کہیں میری ضرورت پیش آئے تو آواز دینا، تمہارا یار حاضر ہو جائے گا۔۔۔‘‘
وہ اٹھتے ہوئے مسکرایا، ہاتھ بڑھا کر نرمی سے یارم کا ہاتھ تھاما، جیسے خاموشی سے اپنے عزم کی مہر ثبت کر رہا ہو۔۔۔
،،ہمم۔۔۔ ٹھیک ہے، اللہ حافظ۔۔۔‘‘
نعمان وہاں سے جا چکا تھا، مگر یارم خان کے دل میں اس کے الفاظ دیر تک گونجتے رہے۔۔۔ جیسے کسی نے تھکے دل پر امید کی نرم سی چادر ڈال دی ہو۔۔۔
،،عبیرہ۔۔۔ کہاں ہو تم۔۔۔؟
آئی مس یو یار۔۔۔
تم اتنے کم عرصے میں یارم کے لیے اتنی خاص ہو گئی ہو کہ نہ رات کو سکون ہے نہ دن کو چین۔۔۔‘‘
،،اب تو اپنے سکون اور چین کو میں دنیا کے کسی کونے سے بھی ڈھونڈ لوں گا۔۔۔ تم محبت ہو میری، اتنی آسانی سے جانے نہیں دوں گا۔۔۔‘‘
یارم خان سوچوں میں ڈوبا، میز پر ہاتھ کا مکہ بنا کر زور سے مارتا رہا، جیسے اپنے ہی دل کے طوفان کو روکنے کی کوشش کر رہا ہو۔۔۔
کہیں عبیرہ کے ساتھ کچھ غلط نہ ہو گیا ہو، یہ خیال اس کے اندر دہکتے انگاروں کی طرح جل رہا تھا۔۔۔
پچھلے دس گھنٹوں میں اس نے اپنے حلق سے پانی کا ایک قطرہ تک نہیں اتارا تھا، کھانے کا تو سوال ہی نہیں تھا۔۔۔
عبیرہ کو دل سے اس نے اپنی عزت مان لیا تھا۔۔۔ خانوں کے لیے عزت اور غیرت اپنی جان سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔۔۔
اور اسی لمحے، یارم خان کے لیے عبیرہ کی عزت، اس کی اپنی سانسوں سے بھی زیادہ قیمتی ہو چکی تھی۔۔۔
وہ ہر قیمت پر اسے ڈھونڈنا چاہتا تھا، اسی جذبے کے تحت اس نے اپنی پوری ٹیم کو ایک ٹانگ پر کھڑا کر رکھا تھا۔۔۔
،،کیسے بتاؤں تمہیں یارا،
سکونِ قلب تم سے ہے،
سکونِ جاں بھی تم ہو۔۔۔
تعجب ہے کہ سینے میں،
جہاں کبھی دل دھڑکتا تھا،
وہاں پر بھی یارا تم ہو۔۔۔‘‘
وہ اپنے فون کی ڈائری میں جھکی نظریں جمائے،
دل کی گہرائیوں سے اٹھنے والے جذبات کو
الفاظ کا روپ دے رہا تھا۔۔۔
یہ اس کا پرانا شوق تھا،
جب بھی زندگی کی دوڑ میں
چند لمحے سکون کے میسر آتے،
وہ اپنے احساسات کو لفظوں میں قید کر لیا کرتا تھا۔۔۔
,,اللہ اکبر، اللہ اکبر‘‘ کی صدا فضاؤں میں گونجنے لگی، اذان کی آواز نے لمحوں میں سارے ماحول کو روحانیت سے بھر دیا۔۔۔
یارم خان، جو پانچ وقت کا نمازی تھا،
آہستہ سے اٹھا، وضو کیا، اور مصلے پر جا کھڑا ہوا۔۔۔
دل میں ایک ہی فریاد تھی،
ایک ہی التجا ۔۔۔
,,یا رب، میری عبیرہ کی عزت و عصمت کی حفاظت فرمانا‘‘
وہ سجدے میں جھکا تو اس کے آنسو مصلے کی بُنائی میں جذب ہو گئے،
اور الفاظ خاموش ہو کر بھی بہت کچھ کہہ گئے۔۔۔
═══════❖═══════
,,خان۔۔۔ مجھے میری بیٹی لا کر دیں، میں مر جاؤں گی اگر عبیرہ کو کچھ ہوا تو،،
وہ تبریز خان کے سینے سے لگی، ہچکیوں میں ڈوبی جا رہی تھی، جیسے دل کے زخم لفظوں میں بہہ نکلے ہوں۔
,,خانم صبر کریں، اللہ پر توکل رکھیں، میں اپنی بیٹی کو ڈھونڈ لاؤں گا۔۔۔ کچھ نہیں ہونے دوں گا ہماری بیٹی کو۔۔۔ میری بیٹی، میری جان ہے۔۔۔ میرا ساتھ دیں، خدارا یوں رو کر مجھے کمزور مت کریں،،
تبریز خان کے لہجے میں درد اور حوصلے کا ملا جلا رنگ تھا۔۔۔
,,خانم کو جب سے خبر ملی تھی کہ عبیرہ کالج سے غائب ہو گئی ہے، اُس نے رو رو کر اپنا برا حال کر لیا تھا،،
,,نہیں ہو رہا مجھ سے صبر۔۔۔ اور صبر صرف میرے ہی حصے میں کیوں آیا ہے۔۔۔ آخر کتنی آزمائشیں باقی ہیں جن پر ابھی مجھے صبر کرنا ہے،،
خانم کے لب کانپ رہے تھے، آنسوؤں سے چہرہ بھیگا ہوا تھا، اور دل میں بس ایک ہی صدا گونج رہی تھی ۔۔۔ “میری بیٹی، میری عبیرہ۔۔۔”
,,اللہ سے توبہ کرو خانم۔۔۔ ایسے الفاظ منہ سے مت نکالو کہ کہیں ہم ربِ ذوالجلال کی بارگاہ میں گنہگار نہ ٹھہریں،،
,,وہ ہمارا رب ہے، وہ جتنی چاہے ہم پر آزمائشیں ڈال سکتا ہے،،
,,ہمیں تو اس سے بس اتنی دعا مانگنی چاہیے کہ وہ ہمیں اپنے حفظ و ایمان میں رکھے، اور ہر آزمائش پر پورا اترنے کی ہمت عطا فرمائے،،
تبریز خان کے لبوں سے نکلی ہر بات میں صبر، یقین اور ایمان کی خوشبو گھلی ہوئی تھی۔
,,خدا اپنی رحمت کے صدقے ہمیں ہر اندھیری گھڑی میں ثابت قدم رکھے۔۔۔ آمین، ثم آمین،،
,,خان میں ایسا کچھ نہیں کہنا چاہتی تھی۔۔۔ مگر دکھ نے ایسے جکڑ لیا ہے کہ الفاظ خود بخود لبوں سے نکل گئے،،
اس کی آواز کپکپا رہی تھی، آنکھوں سے بہتے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
,,اللہ مجھے معاف کرے۔۔۔ میں تو بس اپنی بیٹی کے خیال میں بے بس ہو گئی تھی،،
شرمندگی کے ساتھ خوفِ خدا نے اس کے دل میں ایک لرزہ سا پیدا کر دیا، وہ دونوں ہاتھ اٹھا کر خاموشی سے اپنے رب سے معافی مانگنے لگی۔۔۔
,,خانم، مجھے تمہارے دکھ کا احساس ہے،،
,,مگر دکھ کی گھڑی میں خدا ہمارے ایمان کو آزماتا ہے،،
,,خدارا ایسے کفریہ کلمات بول کر خود کو جہنم کی آگ کی مستحق مت بناؤ،،
,,الفاظ کا چناؤ سوچ سمجھ کر کرو، کبھی کبھی ایک کمزور لمحے کا جملہ ہمیں راہِ ہدایت سے بھٹکا دیتا ہے،،
خان کا لہجہ نرم تھا، مگر اس کی باتوں میں ایک عجیب سا درد اور وقار چھپا ہوا تھا، جیسے وہ خود بھی اندر سے ٹوٹ رہا ہو، مگر ایمان کے سہارے اپنے اور اپنی بیوی کے حوصلے کو تھامے کھڑا تھا۔
,,مجھے معاف کر دیں،،
,,خانم، معافی اللہ سے مانگیں،،
,,اور پریشان نہ ہوں، میں وعدہ کرتا ہوں، ہماری بیٹی کو ڈھونڈ کر ضرور لے آؤں گا،،
خان نے نرمی سے اس کے آنسو صاف کیے،
اس کے لہجے میں بیٹی کے لیے ٹپکتی ہوئی محبت اور بے قراری تھی،
چہرے پر ضبط کی ایک تہہ تھی، مگر آنکھوں میں طوفان بپا تھا،
اسے فکر تھی۔۔۔ اپنی بیٹی کی، اپنی عزت کی، اپنے دل کے ٹکڑے کی۔
,,میری جان، تم ماں ہو، رو کر دل کا غبار ہلکا کر سکتی ہو،،
,,میں باپ ہوں، تم سے زیادہ تڑپ رہا ہوں، مگر رو نہیں سکتا۔۔۔ کہ مرد ہوں،،
,,جب میں ہی ٹوٹ گیا تو تمہیں کون سنبھالے گا،،
خان نے خانم کے آنسو پونچھتے ہوئے گہری سانس لی،
لمحہ بھر کو خاموشی چھا گئی،
پھر اس نے نظریں جھکائیں، مٹھیاں بھینچ لیں،
اور ضبط کے بوجھ تلے اپنے آنسوؤں کو قید کر لیا۔۔۔
,,اسی لمحے ماحد اندر داخل ہوا،،
,,بابا، میں مائرہ کے گھر گیا تھا مگر اسے نہیں پتہ کہ عبیرہ آپی کہاں گئی ہیں،،
,,بس اس نے اتنا بتایا کہ وہ بہت پریشان تھیں اور کہہ رہی تھیں کہ کسی سے ملنے جا رہی ہوں، آدھے گھنٹے میں واپس آ جاؤں گی اور آ کر سب کچھ بتا دوں گی،،
,,مگر اس کے بعد آپی واپس نہیں آئیں، مائرہ کالج میں ان ہی کا انتظار کرتی رہ گئی۔۔۔‘‘
,,تھوڑی دیر میں مائرہ اپنے بابا اور امی کے ساتھ ہمارے گھر آ رہی ہے،،
ماحد جو عبیرہ کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے مائرہ کے گھر تک پہنچ گیا تھا، اس امید پر کہ شاید وہاں سے کوئی سراغ ملے گا،
مگر وہاں سے بھی وہ خالی ہاتھ ہی لوٹا۔۔۔
ماحد کی یہ خبر سن کر عبیرہ کے والدین کی پریشانی مزید بڑھ گئی تھی۔
تبریز خان کے چہرے پر فکر کی لکیریں گہری ہو گئیں،
,,آخر عبیرہ کس سے ملنے گئی ہوگی؟‘‘ وہ بے چینی سے بولے،
,,ہم نے تو اپنے بچوں کو ہمیشہ پوری آزادی دی ہے،
پھر ایسا کون تھا جس سے ملنے کے لیے ہماری بیٹی ہمیں بتائے بغیر کالج کے وقت میں چلی گئی۔۔۔‘‘
تبریز خان نے گہری سانس لیتے ہوئے،
پریشان نظروں سے عروب اور ماحد دونوں کی طرف دیکھا۔۔۔
,,خان… مجھے تو اس بارے میں کچھ علم ہی نہیں،،
,,کبھی اُس نے ایسی کوئی بات مجھ سے نہیں کی، اگر کچھ بتاتی تو میں اُن ماؤں میں سے نہیں ہوں جو اپنی اولاد کی بات چھپائیں،،
,,اور خان، میں آپ سے کیوں چھپاؤں گی؟ مجھ سے کہیں زیادہ آزادی تو آپ ہی نے اسے دے رکھی ہے،
مجھ سے زیادہ یقین تو آپ ہی کو اس پر ہے،
میں چاہ کر بھی آپ سے کچھ نہیں چھپا سکتی۔۔۔‘‘
عروب کی آواز میں دکھ کا بوجھ، دل کی گھبراہٹ اور ایک مان زدہ شکوہ شامل تھا۔
,,خان کی آنکھوں میں جو سوال لرز رہا تھا، وہ اُس نے محسوس کر لیا،
سو اُس نے نرمی سے، مگر تھکے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔‘‘
,,خانم، میں اس بات پر بالکل خوش نہیں ہوں… آپ اُس کی ماں تھیں، پوچھنا چاہیے تھا کہ اُس کی زندگی میں کوئی پریشانی یا کوئی مسئلہ تو نہیں؟ ہو سکتا ہے کچھ تکلیف ہو مگر وہ بتا نہ سکی ہو،،
,,خان، آپ سے وہ دل کی ہر بات کر لیتی ہے، مجھے کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی کہ میں اُس سے کچھ الگ پوچھوں،،
,,بیٹی ہر بات اپنے باپ سے نہیں کر سکتی… بے شک باپ اور بیٹی کا رشتہ جتنا بھی کھلا، جتنا بھی محبت بھرا ہو جائے،
مگر ایک پردہ ہمیشہ رہتا ہے، اور یہی پردہ اُس رشتے کی خوبصورتی ہے،،
,,آپ کو اس بات کا دھیان رکھنا چاہیے تھا… میں آپ سے ناراض نہیں ہوں خانم،
بس اپنی بیٹی کے لیے فکر مند ہوں،،
,,اپنے لہجے کی سختی خود محسوس کر کے، خان نے آہستہ سے سانس لی اور وضاحت دی…‘‘
,,مگر بابا، میں نے آپی کے رویّے میں بدلاؤ محسوس کیا تھا… وہ کچھ دنوں سے الجھی الجھی سی اور بہت خاموش رہنے لگی تھی،،
,,ماحد نے سوچتی ہوئی نظروں سے اپنے ماں باپ کو دیکھتے ہوئے آہستہ سے کہا…‘‘
,,ماحد کے بولنے پر خانم کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی… دل جیسے کسی انجانے خوف سے سہم گیا ہو،،
,,تبریز خان کے چہرے پر ایک لمحے کو گہری خاموشی چھا گئی… اس خاموشی میں فکر، دکھ، اور پشیمانی کے سب رنگ گھل گئے تھے،،
,,بیٹی کے بدلتے رویّے نے جیسے اچانک انہیں احساس دلایا ہو کہ کہیں وہ واقعی کوئی اشارہ تو نظر انداز نہیں کر گئے…‘‘
,,ماحد۔۔۔ تمہیں اس سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آخر اسے کیا پریشانی ہے۔۔۔ یا پھر ہمیں فوراً اطلاع دینی چاہیے تھی۔۔‘‘
,,تم اب بچے نہیں رہے ماحد۔۔۔ اپنی بہن کی حفاظت نہ کر پانا کوئی چھوٹی بات نہیں۔۔۔‘‘
,,تبریز خان کا لہجہ بلند ہوا مگر آنکھوں میں غصے سے زیادہ خوف اور دکھ بول رہا تھا۔۔۔ جیسے اپنے ہی لہجے کی سختی پر دل اندر ہی اندر لرز گیا ہو،،
,,بابا، میں نے کئی بار پوچھا مگر وہ کچھ نہیں بتاتی تھیں۔۔۔‘‘
,,ہاں، مگر کبھی کبھی اُن کی باتوں سے محسوس ہوتا تھا کہ شاید وہ کسی کو لائک کرتی ہیں۔۔۔ جیسے وہ آپ کو سب کچھ بتانا چاہتی ہوں مگر کسی بات کے خوف سے رک جاتی ہوں۔۔۔‘‘
,,مگر پھر کیوں نہیں بتایا؟ مجھے اس بارے میں کچھ سمجھ نہیں آئی۔۔۔‘‘
ماحد نے جو کچھ دیکھا، جو محسوس کیا، سب اپنے بابا کو بتا دیا تاکہ عبیرہ کو ڈھونڈنے کا کوئی سرا ہاتھ لگ جائے۔۔۔
وہ خود بھی اپنی بہن کے لیے حد درجہ پریشان تھا۔ دل ہی دل میں خود پر غصہ کر رہا تھا کہ وقت رہتے کیوں نہ بہن کی پریشانی سمجھ سکا۔۔۔
گھر میں خاموشی چھا گئی تھی۔۔۔ فضا میں ایک ایسا بوجھ تھا جیسے سب کے دل کسی ان دیکھے خوف سے دب گئے ہوں۔۔۔
سب پریشان تھے۔۔۔ انہیں کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا، جس پر چلتے ہوئے وہ عبیرہ تک پہنچ سکیں۔۔۔
„سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ میری بیٹی کو کوئی پسند تھا اور اسے ہمیں بتانے میں ڈر یا چھچک محسوس ہو رہی تھی میں نے تو بیٹی کو ہر طرح سے آزادی دے رکھی ہے پھر یہ خیال دل میں کیسے آ گیا کہ اس نے کچھ چھپایا ہو تبریز خان کے لہجے میں یقین بھی تھا اور بے یقینی بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی خود سے سوال کر رہا تھا یا گھر والوں سے“
„خان آپ تھانے جا کر رپورٹ درج کروا دیں اب ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں اور کتنا انتظار کرنا ہے حقیقت کا پتہ تب ہی چل سکتا ہے جب عبیرا ہم سے ملے گی“
„کروا دیتا ہوں، خانم۔ میں اپنی بیٹی کی عزت کی خاطر خاموش ہوں۔ بیٹی کی عزت ایک نہایت نازک شے ہے، اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر میری بیٹی بےقصور بھی ہو تو لوگ تہمتیں لگانے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔۔۔“
„تو کیا خان، ہم لوگوں کے ڈر سے اپنی بیٹی کو ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کریں گے؟ خان کیوں نہیں سمجھ رہے آپ۔۔۔ کوئی چارہ نہیں، تقریباً دس گھنٹے گزر چکے ہیں۔ اب ہمیں رپورٹ درج کروانی پڑے گی۔۔۔ اس سے پہلے کہ ہم اپنی بیٹی کو ہمیشہ کے لیے کھو دیں، کچھ کریں خان۔۔۔“
عروب اپنی بیٹی کے لیے تڑپتے ہوئے، رو کر بول رہی تھی۔
„اللہ نہ کرے ہماری بیٹی کو کچھ ہو۔۔۔“ تبریز خان تڑپ کر بولا۔
„آپ پریشان نہ ہوں، میں مائرہ اور اس کے والدین سے ملنے کے بعد رپورٹ درج کروانے چلا جاؤں گا۔۔۔ ہو سکتا ہے مائرہ بیٹی کی باتوں سے ہمیں کچھ سوراخ مل جائے اور ہم اپنی بیٹی تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں۔ بس آخری چانس لینا چاہتا ہوں، تھوڑا سا پر جوش عمل کریں۔۔۔ نماز پڑھیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں، سب بہتر ہوگا۔“
„ما حد، تم میرے ساتھ آؤ، مجھے تم سے کوئی ضروری بات کرنی ہے۔۔۔“
تبریز خان خانم کو بھروسہ دیتے ہوئے ماحد کو لے کر روم سے نکل گیا، جبکہ خانم وضو کر کے جائے نماز پر کھڑی اپنی بیٹی کے لیے بے تحاشہ دعاؤں میں سجدہ ریز تھی۔
عروب، تبریز خان کی ممتا، کہیں سکون نہیں پا رہی تھی۔ اسے ہر لمحہ اپنا گزرا ہوا وقت یاد آ رہا تھا، جب وہ شایان خان کی محبت میں لٹ کر، پوری طرح برباد ہو کر، رات کی تاریکیوں میں بھٹکتی ہوئی بھاگ رہی تھی۔ اسے محبت کی اتنی بڑی قیمت چکانی پڑی تھی، اپنے سب سے پیارے رشتے، اپنی ماں، اپنے باپ کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے آنا پڑا۔ اپنے چھوٹے معصوم مون کو سوتا چھوڑ کر گھر سے بھاگنا پڑا۔
جس مون کو ملے بغیر وہ گھر سے قدم نہیں رکھتی تھی، اس نے اٹھ کر اپنی عروب آپی کے بارے میں ضرور پوچھا ہوگا۔ اور گھر والوں نے مون کو عروب کے بارے میں کیا بتایا ہوگا؟ کئی دن تک گھر نہ آنے سے چھوٹے مون کے دماغ پر عروب کا کیا عکس چھپا ہوگا۔۔۔
آج بھی سوچ کر عروب کی روح کانپ جاتی تھی۔ اپنے پیارے چھوٹے مون کے بارے میں سوچتے ہوئے دل میں شدید درد ہوتا تھا۔ کہیں اس کی بیٹی سے وہی غلطی تو دہرا نہیں گئی جو سالوں پہلے عروب سے ہوئی تھی۔
عروب نے بھی شایان خان پر دل سے بھروسہ کیا، بے حد پیار کیا، مگر شایان خان وقت کی کسوٹی پر کھرا نہ اتر سکا اور عروب کو وقت کے بے رحم سہاروں پر چھوڑ دیا۔ عروب کو آج بھی خود پر شرمندگی ہوتی تھی۔ اس نے محبت پانے کے لیے بہت سے قیمتی رشتوں کی قربانی دی۔
جن میں ایک بہت پیارا نام تھا، اس کا باسق بھائی، جس نے ہمیشہ عروب کو چھوٹی بہن کی طرح بے انتہا پیار دیا، ہر بار اس کے ساتھ کھڑا رہا، مگر کوشش کی کہ عروب کا رشتہ داؤد سے نہ ہو۔
ان سب محبتوں کا صلہ وہ نہیں دے سکی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی عروب سے بہت غلط ہو گیا۔ جب عروب کے گھر سے بھاگنے کی افواہ پھیلی، تو لوگوں نے کس طرح اس کے باپ اور باسق بھائی جیسے رشتوں پر کیچڑ اچھالا ہوگا؟ اس کی مورے نے کس طرح لوگوں کے سوالیہ نظروں کا سامنا کیا ہوگا؟ کس طرح اپنی بیٹی کی زندگی بچانے کے لیے اپنی سادہ سی مورے نے چچی کے طعنوں کو برداشت کیا ہوگا؟ کس طرح پیار کرنے والے باپ کا سر جھک گیا ہوگا۔۔۔
کاش عروب نے شایان سے محبت کرنے کی جرات نہ کی ہوتی تو شاید داؤد جیسے درندے سے بھی گزارا کر لیتی۔ آج بھی یہ سب سوچیں عروب اور تبریز خان کو اندر سے ہلا کر رکھ دیتی تھیں۔ وہ ماضی کو بھولنے لگی تھی، مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
پہلے اچانک مون، باسق اور رتبہ کا اس کے سامنے آجانا اس کی یادوں سے پردہ اٹھا گیا۔۔۔**
**اور آج، سالوں بعد، شاید تاریخ وہی لمحات دہرا رہی تھی۔۔۔ عروب کا دل ڈر رہا تھا کہ کہیں اس کی بیٹی نے اپنی نادانی میں کسی کی محبت میں مبتلا ہو کر کوئی غلط قدم تو نہیں اٹھا لیا۔
اس کا دل اسے گواہی دے رہا تھا کہ عبیرہ، اپنی ماں کی محبت اور اپنے باپ کے دیے ہوئے عزت و مان کے ساتھ، ایسا قدم کبھی نہیں اٹھا سکتی۔
تبریز خان، پختون ہوتے ہوئے بھی، ایک وسیع نظر اور بڑی سوچ کا مالک تھا۔ اس نے اپنی بیٹی کو دائرے میں رہتے ہوئے پوری آزادی دی تھی تاکہ وہ اپنے بارے میں خود فیصلہ کر سکے۔
اگر عبیرہ نے کوئی غلط قدم اٹھایا ہے، تو اس نے اپنے باپ کا غرور توڑا ہے۔ تبریز خان جیسا باپ ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔۔۔
“کبھی کبھی سوچتی ہوں… خطا محبت کرنا تھی یا محبت پر اعتبار کرنا؟””کبھی کبھی سوچتی ہوں… خطا محبت کرنا تھی یا محبت پر اعتبار کرنا؟”
میرے خدا میری بیٹی کو سیدھا راستہ دکھانا اے میرے اللہ اس کے پاؤں سیدھے راستے سے ڈگمگانے مت دینا۔۔
„اے میرے اللہ میری بیٹی وہ غلطی نہ کرے جو غلطی مجھ سے ہوئی تھی
اے میرے رب تو میرے ماضی کو میرے سامنے لا کر مت کھڑا کر
اے اللہ میں شرمندہ ہوں کہ میں نے کیوں محبت کی کیوں تجھ پر توکل نہیں رکھا“
عروب کے آنسو اس کی ہتھیلیوں پر گر رہے تھے وہ آنکھیں بند کیے اپنے رب کے روبرو اپنے دل کی ہر بات رو رو کر کہہ رہی تھی جب انسان بہت زیادہ پریشان ہو تو غافل سے غافل دل بھی سکون اپنے رب کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھا کر ہی پاتا ہے
„اے میرے رب تیری حکمتیں تو ہی جانتا ہے تو اپنے بندے کے لیے ہمیشہ اچھا ہی کرتا ہے بس تیرا غافل بندہ ہی نہیں سمجھ پاتا
تونے میری قسمت میں تبریز خان کو لکھا تھا اور میں شایان خان کی چمکتی محبت کے پیچھے بھاگتی چلی گئی
وہ صحیح تھا یا غلط میں کچھ نہیں کہنا چاہتی مگر آج مجھے یہ کہنا مشکل نہیں کہ میرے لیے تبریز خان ہی صحیح ہے جس نے میری عزت کو بچایا جس نے مجھے اپنی حفاظت میں لیا جس نے ہر قدم پر میرا ساتھ دیا
کبھی میرے کردار کی گواہی نہیں مانگی وہ ویڈیو تبریز خان تک بھی پہنچی تھی مگر اس نے مجھے بدکردار نہیں سمجھا اس نے مجھ پر یقین کیا کیونکہ میرے رب اس کو میرے لیے چنا تھا
اور شایان کو میں نے اپنے لیے چنا تھا بے شک تو صحیح کہتا ہے اے میرے بندے ایک تیری رضا ہے ایک میری رضا ہے تو میری رضا پر چل اور مجھے راضی کر میں وہی کر دوں گا جو تیری رضا ہے“
„میں وہی چاہتی تھی کہ مجھے ایک ایسا شوہر ملے جو مجھے پیار کرے عزت دے مجھے جینے کا حق دے مجھے داؤد خان جیسا شخص نہیں چاہیے تھا تو مجھے کیا پتہ تھا کہ میرے رب نے میرے نصیب میں تبریز خان کو لکھا ہے
میری ہاتھوں کی لکیروں میں انمول محبت کا گہرا سمندر تھا اور میں پاگل صحراب کے پیچھے بھاگتی چلی گئی“
وہ اپنے ماضی کی تلخ یادوں کو یاد کرتے ہوئے رو رہی تھی شدت سے اپنے رب سے دعا کر رہی تھی کہ خدا اس کی بیٹی کو سیدھا راستہ دکھائے عبیرہ کسی کے پیار کے چکر میں پڑ کر خود کو برباد نہ کر لے
سب سے تکلیف دہ لمحہ وہ ہوتا ہے جب ماں کے سامنے اسی کے ماضی کو اس کی بیٹی دہرائے اسی تکلیف سے عروب اس وقت گزر رہی تھی جبکہ اس کا وہم پوری طرح ٹھیک نہیں تھا۔
„عبیرا، میرا بچہ، وقت رہتے صحیح فیصلہ کرنا۔ محبت خواہش ہے، ماں باپ سہارا۔ خواہش کے بغیر جیا جا سکتا ہے، مگر سہارا ٹوٹ جائے تو زندگی نہیں سنبھلتی۔ مجھے یہ بات بہت دیر میں سمجھ آئی تھی، تو ایسا مت کرنا۔“
„یا اللہ، میری خطاؤں کو معاف کر دے۔ میں نے محبت کا دامن تھامنے کے لیے اپنے پیاروں کی آنکھوں میں آنسو بھر دیے۔ یا اللہ، میری بیٹی کو ازمائش میں نہ ڈال۔“
عروب خاموش بیٹھی رہی، دعاؤں کی مالا جبتے جا رہی تھی، آنسو کی لڑیاں اس کے دل کی گہرائی کا عکس تھیں۔ ہر سانس خدا پر بھروسے اور امید کا ایک نرم پھول تھا۔
خاموشی میں سکون چھا گیا، جیسے دعا نے دل کی بھاگ دوڑ کو درد کو تھام لیا ہو۔
═══════❖═══════
Ye qist novel “Saleeb Sukoot” ki ek qist hai, takhleeq Hayat Irtaza, S.A ki.Agli qist mutalea karne ke liye isi novel ki category “Saleeb Sukoot” mulaahiza karein, jahan tamaam qistain tartiib war aur baqaida dastiyaab hain.💡 Har nai qist har Itwaar shaam 8:00 baje shaya ki jaayegi.