Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:10

🕯️ صلیبِ سکوت
قسط نمبر:10
✍︎ حیات ارتضی S.A
═══════❖═══════
عبیرہ کا بخار تھوڑا کم ہوا تو اس کی آنکھ اچانک سے کھلی گئی۔۔۔ کمرے میں اس قدر ٹھنڈ تھی کہ اس کا پورا وجود برف ہو رہا تھا۔۔۔ اس پر اب بھی کپکپی طاری تھی۔۔۔

ایک تو صبح سے بھوکی پیاسی اس نے کچھ کھایا نہیں تھا، اوپر سے اتنا سارا بلڈ ضائع ہو گیا۔۔۔ صرف اس نے وہی فریش جوس کا ایک گلاس پیا تھا جو ڈاکٹر نے انجیکشن لگاتے ہوئے کہا تھا کہ خالی پیٹ انجیکشن نہیں لگ سکتا، مریض کو فریش جوس کا ایک گلاس دیں۔۔۔

اس بے حس انسان کو تو یہ تک بھی نہیں تھا کہ جیتی جاگتی انسان کو لے کر آیا ہے تو کم سے کم کھانے کو دیں۔۔۔

اب تو عبیرہ کو شدید بھوک بھی لگ رہی تھی۔۔۔ وہ سوچتے ہوئے رو پڑی کہ وہ کس بے رحم انسان کے ہاتھ آگئی ہے۔۔۔ گرم آنسو اس کی آنکھوں اور رخساروں کو جلا رہے تھے۔۔۔

عبیرہ کو تو کبھی بھوکے پیٹ نیند نہیں آتی تھی اور نہ ہی وہ اتنے ٹھنڈے روم میں سوتی تھی۔۔۔ اسے ہمیشہ سے سردی ضرورت سے زیادہ لگتی تھی۔ مگر یہاں تو یہ شخص روم کو فریزر بنا کر سو رہا تھا، اور اتنی گہری نیند میں کہ اسے بالکل بھی ٹھنڈ کا احساس نہیں تھا۔۔۔

عبیرہ کے ہونٹ تھوڑے سفید پڑ گئے تھے اور سانس آہستہ آہستہ ٹوٹ رہی تھی۔ وہ کپکپی سے لرز رہی تھی، ہر سانس کے ساتھ روم کی ٹھنڈ اس کے جسم میں گزر رہی تھی۔ آنکھیں ابھی ابھی کھلی تھیں مگر دماغ دھندلا سا لگ رہا تھا، ہر لمحہ بے ہوشی کی حالت میں لوٹ جانے کا خوف محسوس ہو رہا تھا۔

اب اس کے دل میں بھوک کی شدت تھی، پیٹ درد سے جکڑا ہوا تھا۔ اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا اور بلڈ کے اتنے نقصان کے بعد اس کا وجود مزید کمزور محسوس کر رہا تھا۔ وہ چھوٹے چھوٹے سانس لینے کی کوشش کر رہی تھی، مگر ہر سانس کے ساتھ کپکپی بڑھ رہی تھی۔

آنکھوں میں آنسو تھے، رخساروں پر گر رہے تھے، ہر قطرہ اس کے اندرونی درد کا عکس تھا۔ اسے کبھی اتنے شدید سردی میں سوتے ہوئے محسوس نہیں ہوا تھا، اور کبھی بھوکے پیٹ نیند نہیں آئی تھی۔ لیکن یہاں، اس بے رحم شخص نے روم کو فریزر بنا دیا تھا، اور اتنی گہری نیند میں سو رہا تھا کہ ٹھنڈ کا ایک لمحہ بھی اسے نہیں جھنجھلا رہا تھا، جبکہ عبیرہ کا ہر خلیہ کانپ رہا تھا۔

وہ گہری نیند میں فل اے سی آن کیے ہوئے سو رہا تھا! اسے عادت تھی بہت ٹھنڈے کمرے میں سونے کی۔۔۔ کچھ تو اس سے ٹھنڈے کمرے میں سونے کی عادت تھی، دوسرا آج اس نے پنکھا بھی آن کر کے اپنے غصے کو کم کرنے کی کوشش کی تھی۔

جب کہ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ عبیرہ کو بخار ہے اور وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں بھی کانپ رہی تھی۔۔۔

مگر وہ آریان خان تھا، جو اپنے غصے پر قابو نہیں پا سکتا تھا۔ اس سے غصہ تھا تو بس تھا۔۔۔

ویسے بھی اس کے اوپر بیڈ کور ہے، ایسی کون سی برف باری ہو رہی ہے۔ اور مجھے اس لڑکی سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ اگر ٹھنڈ سے مرتی ہے تو مر جائے۔۔۔ یہی سوچ کر وہ اپنے دل کو تسلی دیتے ہوئے آرام سے بیڈ کور اوڑھے ہوئے بیڈ کی دوسری سائیڈ پر گہری نیند سو رہا تھا۔۔۔

عبیرہ کا دیا بالکل نہیں چاہ رہا تھا، وہ اس خروف اور بد دماغ انسان کو اٹھا کر دوبارہ مصیبت کو گلے لگاتی مگر مجبوری تھی، ٹھنڈ اس سے برداشت نہیں ہو رہی تھی، اسے لگ رہا تھا کہ وہ مر جائے گی اس ٹھنڈ اور درد سے
ہمت کرتے ہوئے اسے اے سی بند کرنے کے لیے حلق سے آواز نکالی
„پپ پل پلیز اے سی بند کر دیں…“
اس سے بولا نہیں جا رہا تھا، اٹھنا تو دور کی بات تھی
عبیرہ کی مری سی آواز پر جواب نہیں آیا، مطلب آریان خان گہری نیند میں مزے لوٹ رہا تھا
اس کو اتنی پرسکون نیند سوئے دیکھ کر عبیرہ کو شدید غصہ اور رونا آ رہا تھا
پتہ نہیں میں نے اس کا کیا بگاڑا ہے جو میرے پیچھے عذاب بن کر لگ گیا ہے
وہ دل میں سوچتے ہوئے بامشکل تھوڑا سا اپنی جگہ سے سرک کر آگے ہاتھ کر پائی تاکہ اسے ہلا کر اٹھا سکے، عبیرہ میں اٹھنے کی ہمت نہیں تھی ورنہ خود ہی اٹھ کر اے سی بند کرنے کی کوشش کرتی
پتہ نہیں بد دماغ انسان نے ریموٹ کہاں رکھا تھا، اس نظر دوڑانے پر کہیں نظر نہیں آیا
„پلیز اے سی بند کر دیں…“

“کیوں؟؟
بغیر چہرہ اس کی جانب کیے ایٹیٹیوڈ سے فریش جواب دیا مطلب گھٹیا شخص گہری نیند میں نہیں تھا جان بوجھ کر جواب نہیں دینا چاہتا تھا۔۔۔

مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے!!

تو میں کیا کروں؟؟

آپ کو رحم نہیں آتا؟؟

نہیں !!

آپ ظالم اور سفاک ہیں!!
ظالم صفاک بے رحم تینوں لفظ میری نفرت کے سامنے بہت چھوٹے ہیں!!

کروٹ لیتاہوا جھٹکے سے چہرہ اس کے قریب کر گیا، عبیرہ گھبرا گئی تھی، اس اچانک آفات کے بارے میں بالکل اندازہ نہیں تھا

اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایسے کھور رہا تھا جیسے اسے کچا کھا جائے گا۔ دشمنِ جاں کروٹ لے کر قریب ہوا تو اس قدر پیاری خوشبو عبیرہ کی سانسوں میں اتری جیسے کسی نے پرفیوم کی پوری بوتل اس کے اوپر الٹ دی ہو۔۔۔

غوراتے ہوئے اس کی سانسیں اس قدر مہک رہی تھیں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی عبیرہ اس کی سانسوں کو محسوس کرنے لگی تھی۔ اس کی وجاہت اور خوشبو میں ایک سحر تھا جس نے عبیرہ کو خود میں جکڑ لیا۔۔۔

عبیرہ کو خود پر حیرت ہوئی تھی۔۔۔

وہ شخص قابلِ نفرت ہے، مگر کیوں وہ اس کے سحر میں کچھ لمحوں کے لیے جکڑی گئی، عبیرہ نے آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔۔۔
,,عبیرہ، آنکھیں کھولو، میری اجازت کے بغیر تمہیں آنکھیں بند کرنے کی اجازت نہیں…“
آریان کی آواز میں سختی اور نفرت تھی، ہر لفظ میں غصے کی شدت جھلک رہی تھی۔ عبیرہ کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی، سانس بے ترتیب ہو گئیں، اور وہ اچانک دباؤ میں گھبرا گئی۔

„مجھے دیکھو اور ہر پل میری نفرت کو محسوس کرو… تمہیں میری اجازت کے بغیر کوئی قدم اٹھانے سانس لینے تک کا حق نہیں…“
آریان کا لہجہ ایسا تھا جیسے ہر لفظ عبیرہ کے اندر خوف اور عدم آزادی پیدا کر رہا ہو۔

,, میں تم سے تمہاری ہر آزادی چھین لوں گا… تمہیں ہر لمحہ میری مرضی کے مطابق رہنا ہوگا…“
عبیرہ کی آنکھیں خوف سے بند ہوگئیں، سانسیں مختصر اور تیز تھیں، مگر وہ خاموشی میں اپنے اندر کی طاقت کو جمع کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

آریان نے قریب آ کر سرگوشی کی، ,,میں تمہیں اتنا تڑپاؤں گا کہ میری ہر چھوٹی حرکت تمہیں یاد دلائے گی کہ میں تمہیں کس قدر نفرت کرتا ہوں…“
اس کے الفاظ میں شدت اور دھونس تھی، عبیرہ کے دل میں خوف اور ہچکچاہٹ پیدا ہو گئے۔
عبیرہ خاموش رہی، سانسیں دبی ہوئی، آنکھیں بند، اور ہر لمحہ آزادی کی دعائیں کر رہی تھی۔
„آنکھیں کھولو ورنہ یہ آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند کر دوں گا…“
عبیرہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، سانسیں چھوٹی ہو گئیں، وہ بے بسی میں آنکھیں کھول گئی، کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا۔

„ویری گڈ، آرام سے بات مان لیا اور خود کو مجبور سمجھا کرو تاکہ میرا حکم ماننے میں تمہیں آسانی ہو۔“
چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ تھی، اور آریان اپنے غصے اور عبیرہ کے خوف سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔

„کتنا اچھا لگتا ہے تمہاری چہرے پر یہ ڈر…“
عبیرہ اندر سے کانپ رہی تھی، آنکھیں خوف سے پھیلی ہوئی، سانسیں دبی ہوئی، مگر خاموشی سے اس کا حکم مانتے ہیں اور کوئی چارہ نہیں تھا۔
“آپ کی میرے ساتھ دشمنی کیا ہے…؟ کیا بگاڑا ہے میں نے آپ کا، جو آپ نے میرے لیے یہ سب سزائیں تجویز کر کے رکھی ہیں…!”
وہ ڈر سے کانپتے ہوئے، بمشکل بول رہی تھی، ہر لفظ کے ساتھ اس کی بے بسی واضح تھی۔

“اتنی بھی جلدی کیا ہے جاننے کی… ہر دن اور ہر رات تمہیں اپنی شدتوں کا احساس دلاتا رہوں گا، اور تم ہر دن یہ سوچو کہ تمہاری غلطی کیا ہے۔”

عبیرہ کے ہاتھ آہستہ سے اس کے مضبوط ہاتھوں میں الجھ گئے، دل کی دھڑکن تیز اور سانس بے ترتیب۔ بے بسی نے اسے سسکنے پر مجبور کر دیا تھا۔

وہ بھول چکی تھی کہ وہ صرف آریان خان کی بڑی سی شرٹ میں ملبوس ہے، مگر خوف اور اضطراب نے اس حقیقت کو مٹا دیا تھا۔

آریان کے قریب آنے اور اس کی گرفت میں لینے سے عبیرہ کے دل میں شرم اور غصہ ایک ساتھ اُبھرا۔ آنکھیں کھولنے کی ہمت نہیں تھی، اور ہر لمحہ اس کی بے بسی اور اندرونی اضطراب کو مزید گہرا کر رہا تھا۔
,,تمہیں کہا ہے کہ آنکھیں کھولو ایک بار ہی بولتا ہوں۔۔۔سننے کی عادت ڈالو، دوبارہ تشریح کرنا آریان خان کو انتہائی ناپسند ہے“
آریان کی آواز میں سختی اور حکمیت تھی، عبیرہ کے دل میں ایک ٹھنڈی لہر دوڑ گئی

,,اور دوسری بار کہوں گا نہیں ۔۔۔ ایسی شدت بھری سزا دوں گا کہ تم تڑپنے پر مجبور ہو جاؤ گی“
اس میں دھونس کا سناٹا تھا، الفاظ نے ہوا کو بھی دم گھٹانے والا کر دیا تھا ۔

„پپ۔۔ پ۔۔ پلیز اے سی بند کر دیں مجھے بہت ٹھنڈ لگ رہی ہے۔۔۔“
اس کی مری سی، کانپتی ہوئی آواز میں خوف اور جسمانی تکلیف دونوں جھلک رہے تھے

„تمہاری جرات کیسے ہوتی ہے میری بات کو رد کرنے کی۔۔۔ میں نے کہا پہلے آنکھیں کھولو“
آریان کا لہجہ تیز تھا، الفاظ میں دباؤ اور کنٹرول واضح تھا، وہ قریب آ کر سرگوشی سا کر رہا تھا۔۔

وہ اس کے کان پر جھکتا، غرایا ۔۔۔ عبیرہ کی سانسیں رک گئیں؛ ناچار، اُس نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں
آنکھوں کے سامنے جو چہرہ تھا، دیکھنے کی ہمت اس کے پاس نہ تھی، شرم اور خوف نے اسے جکڑا ہوا تھا۔
وہ حد سے زیادہ قریب تھا، غصے اور دباؤ سے بھرپور، عبیرہ پر اپنی ناراضی ظاہر کر رہا تھا کہ اس نے اس کے حکم پر آنکھیں نہیں کھولیں
چشم پوشی اور بے بسی کے درمیان، اس نے اپنا ماتھا آہستہ سے عبیرہ کے زخم والے ماتھے سے ٹکرایا
درد اور صدمے کی شدت سے عبیرہ کی سانسیں رک سی گئیں، دل کے اندر ایک جھنجھلاہٹ اور خوف نے جگہ بنا لی۔

آہ۔۔۔ آہ۔۔۔ عبیرہ کی سانسیں پھول گئیں، وہ سسکیاں لے کر رونے لگی
ظالم رویہ اس کے آنسوؤں کو خشک نہیں ہونے دے رہا تھا؛ کبھی وہ لفظوں سے تکلیف پہنچاتا، کبھی آنکھوں کی سخت نظر سے، اور کبھی اس کے زخم شدہ وجود کو چھو کر
ہر سسکی کے ساتھ اس کا دل اور جسم کمزور ہوتے گئے، ہر لمحہ خوف اور درد کی شدت میں گھرا رہا۔۔۔
اب رونے اور تڑپنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ جب کہہ رہا تھا آنکھیں کھولو، تو پھر ضد کرنے کی جرات کیسے ہوئی؟
“جان لے لوں گا تمہاری، اگر دوبارہ میری بات کو رد کر کے بیچ میں اپنے بات شروع کی۔۔۔”

چڑیا جتنی تمہاری جان آریان خان کے غصے کے سمندر کو سہنے کے لیے بھی کافی نہیں تھی۔
“کوشش کرو کہ مجھ سے مزید غصہ مت دلانا، ورنہ تم مر جاؤ گی”
قہر زدہ نظروں سے اس کے درد زدہ چہرے کو دیکھتے ہوئے غرایا۔ آریان خان کی مہکتی، گرم، شعلہ بار سانسیں عبیرہ کے چہرے کو جھلسا رہی تھیں۔

وہ سسک کر دبی دبی آواز میں رو رہی تھی۔
بے شک اس کے چہرے پر جو معصومیت تھی، اسے اگنور کرنا آریان خان کے بس کی بات نہیں تھی، مگر وہ ضدی تھا۔ وہ اس لڑکی کو سزا دینا چاہتا تھا۔ آریان خان کے دل میں عبیرہ کے لیے محبت یا کوئی نرم گوشہ نہیں تھا، آج بھی اس لڑکی سے شدید نفرت تھی۔

اب وہ کبھی لفظوں سے تکلیف پہنچاتا، کبھی اپنی نظر کی شدت سے، اور کبھی اس کے زخم شدہ وجود کو چھو کر اسے تڑپنے پر مجبور کرتا۔ ہر سسکی کے ساتھ عبیرہ کا دل اور جسم کمزور ہوتا گیا، خوف اور درد کے درمیان وہ الجھی رہی۔

عبیرہ آریان خان کے مقابل زیادہ خوبصورت نہیں تھی، عام سے نقش و نگار کے ساتھ۔ مگر اس کی گندمی رنگت، ریشمی سلکی کمر سے نیچے تک جھولتے ہوئے بال، اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے تھے۔
اس کی موٹی موٹی خوبصورت آنکھیں، جن کے اندر جھیل جیسی گہرائی تھی، گھنی پلکوں کے سائے میں اور بھی دلکش لگتی تھیں۔ پلکیں اٹھائیں تو ایک لمحے کے لیے مقابل کا دل اپنی جگہ سے ہل جاتا تھا۔

چہرے پر معصومیت اس قدر تھی کہ دیکھنے والوں کو اس پر صرف پیار آتا تھا، سوائے آریان خان جیسے پتھر دل انسان کے، جو اس کی معصومیت کو دیکھ کر بھی نظر انداز کر دیتا تھا۔

اللہ کرے تم مر جاؤ۔۔۔!
ظالم انسان نے اتنی زور سے سر پر سر مارا تھا کہ زخم کی ٹیس اس کے وجود تک پھیل گئی
عبیرہ آنسو بہاتے ہوئے دل ہی دل میں بددعائیں دے رہی تھی اور وہ آریان خان اسے خاموشی سے دیکھ رہا تھا

وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ لڑکی اتنی تکلیف کے باوجود اس کے لیے دوا نہیں مانگے گی۔
اس کی بد دعاؤں سے اسے رتی برابر فرق نہیں پڑتا تھا، جیسے آریان خان کے اندر اب احساس نام کی کوئی چیز باقی نہ رہی ہو

اور ویسے بھی عبیرہ کچھ بول کہاں رہی تھی۔
لب خاموش تھے مگر دل اپنی پوری شدت سے چیخ رہا تھا۔۔۔لفظوں کے بغیر، صبر کی حدوں کے اندر۔
آریان خان گورا چٹا پٹھان عبیرہ کے سامنے کسی مصری شہزادے کی طرح لگتا تھا۔ ہر زاویے سے کامل، ایسا شہزادہ جس میں کہیں کمی نہ ہو۔ خدا نے اسے اتنا دلکش بنایا تھا کہ دیکھنے والے رشک کرنے پر مجبور ہو جاتے۔

رشک کرنے والی نظریں صرف عورتوں یا لڑکیوں تک محدود نہ تھیں۔ مرد حضرات بھی اس کی خوبصورتی دیکھ کر سر جھکانے پر مجبور ہو جاتے اور دل ہی دل میں کہتے کہ یہ کتنا حیران کن مرد ہے۔

اوپر سے شہزادے کو خود کو سنوارنے کا بے حد شوق تھا۔ اپنے حسن پر ناز، اتنا کہ نواب کی اولاد لڑکیوں سے فلڈ بھی بڑی خوشی خوشی کر لیتا، کیونکہ اسے تسکین ملتی جب کوئی لڑکی اس کے لیے دل بہلاتی۔

مگر کسی کو اجازت نہیں تھی کہ وہ آریان خان کے لبوں کو چھو سکے۔

مگر عبیرہ کے معاملے میں سب کچھ الٹ ہو گیا۔ اس کی موجودگی نے آریان خان کے دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیا، جیسے سب قوانین، سب حدود، سب عادتیں ایک لمحے میں بکھر گئی ہوں۔

جس لڑکی سے وہ دنیا میں سب سے زیادہ نفرت کرتا تھا، اس کی موجودگی نے اس کے دل میں ایک عجیب کشمکش پیدا کر دی۔

اس دشمن لڑکی کی ہر حرکت، ہر نظر، ہر سرکشی اس کے اندر بے قراریاں اور شدت بھڑکاتی۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کی طاقت اور اختیار کی پہچان اسے ہر لمحہ محسوس ہو، اور یہ عبیرہ کے دل میں خوف اور حیرت کے ساتھ گھل مل جائے۔

آریان خان گورا، چٹا اور ہر لحاظ سے مکمل انسان تھا۔ اس کی موجودگی میں ہر شخص خاموشی سے سر جھکانے پر مجبور ہو جاتا۔ ہر لفظ، ہر حرکت اس کی سلطنت کی طرح مضبوط اور قابلِ احترام تھی۔

مگر اس کا دل سخت تھا، اور نفرت اس کی ہر سوچ میں رچ بس چکی تھی۔ عبیرہ کے سامنے اس کی نگاہیں مسلسل اس کی ہر کیفیت کو پڑھ رہی تھیں۔ اس کی چڑچڑاہٹ، سختی اور شدت عبیرہ کے دل میں خوف اور بے بسی کے ساتھ جواب دے رہی تھی۔

اتنی نازک مزاج بننے کی ضرورت اور اتنی سی سختی عبیرہ کی برداشت سے باہر تھی۔ وہ اپنی کمزوری اور خوف کے باوجود خاموش رہی، اپنے اندر کے اضطراب کو محسوس کرتی ہوئی۔

شش۔۔۔ ش۔۔۔ شرم نہیں آتی ایک لڑکی کو اتنا ذلیل کرتے ہوئے؟
کیا بگاڑا ہے میں نے آپ کا، جو مجھے یوں رسوا کر رہے ہیں؟

عبیرہ لفظوں کو توڑتی ہوئی بولی۔
نہیں، مجھے شرم نہیں آتی۔ میرے ساتھ شرم کا گزارا نہیں ہوا، کئی بار آتی ہے مگر خود ہی شرما کر چلی جاتی ہے۔ دوبارہ مجھے شرم کا حوالہ مت دینا۔
اور تم نے میرا کیا بگاڑا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تمہاری اتنی اوقات نہیں کہ تم میرا کچھ بگاڑ سکو۔

آریان خان نے اپنی سرد اور سخت حقیقت کو واضح کیا:
میں کسی کو ذلیل یا رسوا کرنے کے لیے مجبور نہیں کرتا۔ لڑکیاں خود میرے پاس ذلیل ہونے آتی ہیں۔
شکر ادا کرو کہ تمہیں میں نے اپنے قریب لایا، ورنہ تم سے کہیں زیادہ شاندار لوگ بھی میرے آس پاس ہوتے اور میں اپنی راہ بدل لیتا ہوں۔

عبیرہ کو اپنے اندر شدید نفرت اور خوف کا ایک عجیب ملاپ محسوس ہو رہا تھا۔ وہ خود سے نفرت کرنے لگی کہ وہ شخص اس کے اتنے قریب ہو کر اتنی شدت اور نفرت ظاہر کر رہا تھا۔۔

تو کیوں مجھے اپنے قریب لایا؟ عبیرہ اپنے اندر خاموش سوالات کے ساتھ اپنی توہین برداشت کر رہی تھی، دل میں بے بسی اور اضطراب کے ساتھ۔

عبیرہ خاموش تو ہو گئی، مگر اس کے چہرے کے بدلتے رنگ اور غصے کی شدت آریان خان کی نگاہوں سے چھپی نہیں تھی۔
چچ۔۔۔ چچ۔۔۔ چچ۔۔۔ غصہ آ رہا ہے، آنا بھی چاہیے، اس کے لہجے میں چپکے سے دھواں سا اڑ رہا تھا۔
جب کسی کی اوقات دکھائی جاتی ہے تو غصہ آ ہی جاتا ہے۔

دشمنِ جاں اس کے غصے سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔
کیا کہا تم نے، کہ اگر میں تمہیں اس قابل نہ سمجھتا تو کسی اور سے نکاح کر لیتا؟
بی بی، نکاح کیسے کر لیتا، آریان خان کے لیے لڑکیوں کی کمی نہیں، مگر تمہیں ہمیشہ اپنے پاس رکھنے کے لیے نکاح کیا ہے۔

تاکہ تمہیں اپنی نفرت بھری شدتوں سے توڑ کر، تمہارے دل کے زخموں پر مرہم رکھ سکوں۔

تمہیں ہمیشہ اپنے ساتھ رکھنے کے لیے نکاح ضروری تھا، ورنہ قانونی طور پر تمہیں اپنی نوکرانی یا پاؤں کی جوتی بنا کر رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔

ڈارلنگ، تمہیں کس نے کہا کہ میں تمہیں بیوی ہونے کا درجہ دوں گا؟
آریان خان کی بیوی اسی خاندان سے ہوگی، تم تو صرف نفرت کے قابل ہو۔
تمہارے قریب آنا بھی ایک نفرت ہے، اور تمہاری بے بسی دیکھو، تم سب کچھ جانتے ہوئے بھی اتنی اوقات نہیں رکھتی کہ مجھے خود سے دور کر سکو۔

اس کی نفرت بھری باتیں سن کر عبیرہ کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ چیخ چیخ کر روئے۔
وہ شخص زہر الود لفظوں سے اس کی روح کو چھلنی کر رہا تھا۔

مگر سچ ہی تو بول رہا تھا۔ عبیرہ میں اتنی ہمت کہاں تھی کہ اس سے خود کو دور کر سکتی۔
وہ پہاڑ کی مانند مضبوط تھا، اور وہ تنکے کی طرح کمزور۔ وہ فولاد تھا، عبیرہ موم کی گڑیا تھی۔

کیسے بچائے خود کو؟ عبیرہ کو کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا۔
وہ اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پا رہا تھا۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اس وقت عبیرہ پر اپنا غصہ نکال رہا ہے یا اپنی کسی اندرونی تڑپ کو دبا رہا ہے۔
عبیرہ کی سانسیں اٹک رہی تھیں۔ جیسے کوئی نازک جان صبر اور خوف کے بیچ لٹک گئی ہو۔
فضا میں ایک گھٹن سی پھیل گئی تھی۔ آریان کے چہرے پر سختی تھی، مگر اس کے اندر کچھ ٹوٹ رہا تھا۔

اتنے میں انٹرکام بار بار بجنے لگا۔
آریان نے غصے سے رخ موڑا، جیسے اس مداخلت نے اس کے ضبط کو بھڑکا دیا ہو۔

“کیا تکلیف ہے!”
اس کی آواز غصے سے لرز رہی تھی۔ مگر اگلے ہی لمحے، انٹرکام پر ملنے والی خبر نے جیسے منظر بدل دیا۔

آریان کی نظریں عبیرہ پر جم گئیں۔ وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں خوف اتر آیا تھا۔

“ہمم۔۔۔ ٹھیک ہے، اسے کہو کہ روم کے اندر صرف لیڈی کانسٹیبل ہی آ سکتی ہے۔ اگر اس کے پاس وارنٹ ہیں، تب بھی آریان خان کی بیوی کو صرف عورت ہی ہاتھ لگا سکتی ہے!”

وہ غصے سے انٹرکام بند کرتا ہوا دھاڑا۔

“سیلوٹ کرتا ہوں تمہارے عاشق کی عقل کو۔۔۔ تمہارے عاشق نے آخر تمہارا بند فون بھی ٹریس کروا ہی لیا۔”
وہ کہتا ہوا قدم بڑھا چکا تھا۔

عبیرہ کے دل میں ایک لرزتی سی خوشی اٹھی تھی۔ یارم خان آ گیا ہے۔۔۔
اس کے چہرے پر لمحاتی اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔

“تمہارے چہرے پر جو خوشی ہے نا کہ تمہارا عاشق تمہیں بچانے آ گیا ہے۔۔۔”
آریان کے لہجے میں زہر تھا۔
“آریان خان کی بیوی ہو کر تمہارے چہرے کی لالی کسی اور کے نام کی وجہ سے؟ خدا کی قسم، اگر حساب برابر نہ کیا تو میرا نام آریان خان نہیں!”

وہ سخت لہجے میں بولا۔
اس کا چہرہ غصے سے سرخ، آنکھوں میں چنگاریاں، نسیں ابھری ہوئی۔ عبیرہ کو لگا جیسے وہ کسی جنگلی درندے کے سامنے کھڑی ہے۔

“مت بھولو، میرا نام آریان خان ہے۔ مانتا ہوں وہ بھی شاطر ہے، بالکل میری طرح۔۔۔ مگر وہ ایماندار ہے، اور میں نہیں۔”
وہ طنزیہ مسکرایا۔
“وہ قانون کے اندر رہ کر کھیلتا ہے، اور مجھے قانون توڑنے میں مزہ آتا ہے۔ تمہاری جان لے لوں گا، مگر تمہیں کبھی اس کے پاس نہیں جانے دوں گا۔ میں ہی تمہارا راستہ ہوں، میں ہی تمہاری منزل۔ ہنس کر رہو یا رو کر، رہنا تمہیں ساری زندگی میرے ساتھ ہے۔”

عبیرہ کی آواز لرز رہی تھی،
“پ۔۔پ۔۔ پلیز، مجھے جانے دو۔۔۔ مجھے معاف کر دو۔
مجھے نہیں معلوم تم میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہو، مگر خدارا، مجھے جانے دو۔”

واہ، کیا بات ہے ڈارلنگ۔۔۔ عاشق کے آنے کی خبر ملتے ہی “آپ” سے “تم” پر آ گئی ہو؟
عبیرہ، تمہیں یہ سب کچھ بہت مہنگا پڑے گا۔ آریان خان کچھ بھی بولتا نہیں ہے۔۔۔
نہ تمہیں معاف کر سکتا ہوں، نہ اس یارم کے پاس جانے دوں گا۔

میں پٹھان ہوں، اپنی منگ چھوڑ دینا ہمارے ہاں بے غیرتی کی علامت ہے،
اور تم تو میرے نکاح میں ہو، میری بیوی ہو۔
سوچنا بھی مت کہ میں تمہیں جانے دوں گا۔

آریان خان کا گورا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا،
آنکھوں سے انگارے برس رہے تھے۔

“جو تم خوش ہو رہی ہو اس کے آنے سے،
تو یہ جان لو عبیرہ، کہ اس کے ساتھ تم کبھی نہیں جا سکو گی۔”

“بات کان کھول کر سنو۔۔۔ کچھ دیر میں لیڈی کانسٹیبل اندر آئے گی،
اور جو کچھ وہ پوچھے، اس کا جواب سوچ سمجھ کر دینا۔

تمہارے پیارے بھائی کے ہاتھ میں جو گھڑی بندھی ہے،
اس کے اندر منی بم ہے، اور اس کا ریموٹ میرے آدمی کے ہاتھ میں۔
بس میرے ایک اشارے کا منتظر ہے۔۔۔
جب میں کہوں گا، وہ بٹن دبائے گا،
اور تمہارا بھائی۔۔۔ ٹھااااااااا۔۔۔”
آریان نے بم پھٹنے کی آواز منہ سے نکالی۔
عبیرہ جو دہشت سے اس کی ہر بات سن رہی تھی،
اچانک “ٹھا” کی آواز پر اچھل کر چیخ پڑی۔

آریان خان اس کی حالت سے محظوظ ہو کر مسکرایا۔۔۔
برسوں سے عبیرہ کی آنکھوں میں یہی خوف تو دیکھنا چاہتا تھا۔

پھر اس نے موبائل کی اسکرین اس کے سامنے کی،
جہاں ماحد کے ہاتھ میں ایک نئی، چمکتی ہوئی گھڑی بندھی تھی۔۔۔
ایسی گھڑی، جو عبیرہ نے اس کے ہاتھ پر پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔
نن۔۔۔ نن۔۔۔ نہیں، میرے بھائی کو کچھ مت کہنا، پلیز، تم جو کہو گے میں وہی کروں گی، بس میرے بھائی کو کچھ مت ہونا۔۔۔
وہ روتے ہوئے ہاتھ جوڑ رہی تھی۔

“مائی ڈارلنگ، نہیں کروں گا، کچھ بھی نہیں کروں گا تمہارے بھائی کو،”
آریان نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
“مجھے بدلہ تم سے لینا ہے، تمہارے بھائی سے نہیں۔
اگر چاہتی ہو کہ تمہارا بھائی ٹھیک رہے،
تو لیڈی کانسٹیبل کو خوشی خوشی بتانا کہ تم میرے ساتھ خوش ہو۔
اور یہ نکاح تمہاری اپنی مرضی سے ہوا تھا۔
یہ بھی کہنا کہ ہم اس وقت پرسکون لمحات گزار رہے تھے،
خوامخواہ آ کر سب کا مزہ کرکرا کر دیا گیا۔”

وہ جھک کر، ابرو اٹھائے، شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
“بولے گی نا میری بیوی ایسا؟”

عبیرہ نے لرزتے ہونٹوں سے کہا،
“ہا۔۔۔ ہاں، بولوں گی۔”

“گڈ، ویری گڈ،”
وہ مسکرایا۔
“تو پھر میں ذرا تمہارے عاشق سے مل کر آتا ہوں۔”

یہ کہہ کر آریان بیڈ سے اٹھا اور آہستہ آہستہ اس سے دور چلا گیا۔
افف… یہ کیا، ڈارلنگ، میری شرٹ تو تمہارے پاس ہے۔ کاش تمہارا عاشق اس وقت نہ ٹپکتا تو میں یہ شرٹ خود واپس لینے کا ارادہ رکھتا تھا۔

وہ طنزیہ ہنسی ہنس رہا تھا۔ آنکھوں میں بےباکی تھی، چہرے پر وہی بےخوفی جیسے باہر کھڑی پولیس اس کے لیے کچھ بھی نہ ہو۔
الماری سے شرٹ نکالی، آرام سے پہنی، اور پلٹ کر دوبارہ اس کے قریب آیا۔

“لیڈی کانسٹیبل بس پہنچتی ہوگی، ڈارلنگ، ذرا حلیہ درست کر لو۔ مطلب یہ کہ خود کو بیڈ کور میں کر لو، بتا دینا بخار تھا، آرام کر رہی تھی… ورنہ فضول میں یہ سمجھے گی کہ ہم کوئی فلمی منظر بنا رہے تھے۔”

وہ ہلکی سی ونگ مار کر بولا، جیسے ساری دنیا کا کھیل اسی کے قابو میں ہو۔

عبیرہ بیڈ کے سہارے نیم بیٹھی تھی۔ چادر اپنے گرد لپیٹے، خوف اور شرم کے ملے جلے احساس میں ڈوبی ہوئی۔
اس کی نظریں نیچی تھیں، مگر آریان کی نگاہیں ایک پل کو بھی ہٹنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔

آہستہ سے اس کے قریب آیا، اس کے بالوں میں انگلیاں پھیریں، الجھے بال درست کیے۔
“ڈارلنگ، آنسو صاف کر لو، ورنہ تمہارے یہ آنسو تمہارے بھائی کی جان لے سکتے ہیں۔”
یہ کہہ کر وہ رخ موڑ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔

عبیرہ نے ہاتھوں کی پشت سے آنکھیں صاف کیں۔ دل میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔
وہ جانتی تھی، آریان خان کی دھمکیاں مذاق نہیں ہوتیں۔ جو لفظ اس کے منہ سے نکلتا، وہ پورا کر کے ہی دم لیتا۔

وہ اپنے بھائی سے بےحد محبت کرتی تھی۔ کیسے اسے خطرے میں ڈال سکتی تھی۔

دروازہ کھلا۔ ایک لیڈی کانسٹیبل اندر داخل ہوئی۔
“اسلام علیکم، مس عبیرہ تبریز خان۔”
“وعلیکم السلام،” عبیرہ نے کمزور لہجے میں جواب دیا، جیسے طبیعت ٹھیک نہ ہو۔

“میم، ہمیں ڈی ایس پی یارم خان نے بھیجا ہے۔ آپ سے بس اتنا پوچھنا ہے کہ آپ کو یہاں زبردستی تو نہیں رکھا گیا؟ گھبرائیں مت، ہم آپ کو بچانے آئے ہیں۔ سر خود باہر موجود ہیں۔”

عبیرہ نے پلکیں جھپکائیں، دل کی دھڑکن بےترتیب تھی۔
جھوٹ زبان پر آنا چاہتا تھا، مگر سچ دل کے اندر قید پڑا کانپ رہا تھا۔

“نہیں، مجھے کسی نے یہاں زبردستی نہیں رکھا۔ میں خود اپنی مرضی سے آریان خان کے ساتھ آئی ہوں، اور ہم نے نکاح کر لیا ہے۔ اپنے سر سے جا کر کہیں کہ میری ذاتی زندگی میں دخل نہ دیں۔”

عبیرہ کے لبوں سے یہ الفاظ اتنے اعتماد سے نکلے کہ ایک لمحے کو خود اسے اپنے ہی جھوٹ پر یقین ہونے لگا۔
کیا ہی انمول رشتہ ہے بہن اور بھائی کا۔
۔۔۔جو اپنے پیاروں کی حفاظت کے لیے خود قربان گاہ پر چڑھ جاتے ہیں۔

لیڈی کانسٹیبل نرمی سے بولی، “میم، آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ سر نے کہا ہے پوری ٹیم باہر موجود ہے، مگر وہ خود اندر نہیں آسکتے۔ مسٹر آریان خان نے صاف کہہ دیا ہے کہ ان کی اہلیہ سے صرف لیڈی آفیسر ہی بات کر سکتی ہیں۔ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہم مجبور ہیں۔”

عبیرہ کے ہونٹ ہلکے سے لرزے، مگر اس نے خاموشی سے سر ہلایا۔
وہ کیسے بتاتی کہ دل کے اندر طوفان برپا ہے، کہ اگر اختیار ہوتا تو وہ اسی لمحے ان کے ساتھ چلی جاتی۔
مگر اس شخص کی دی ہوئی دھمکی۔۔۔اس کے بھائی کا نام، وہ گھڑی، وہ ریموٹ۔۔۔سب کچھ اس کے ذہن پر جیسے زنجیر بن چکے تھے۔
اس وقت یا تو وہ اپنی جان بچا سکتی تھی، یا اپنے بھائی کی۔
سو اس نے اپنی زندگی کو سولی پر ٹانگ کر بھائی کی جان محفوظ کر لی۔

جب لیڈی کانسٹیبل دروازے سے باہر نکلی تو عبیرہ کا ضبط ٹوٹ گیا۔
وہ بیڈ کور میں منہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
اپنی آئی ہوئی نجات کو خود ٹھکرا دیا تھا اس نے۔
کتنی بےبسی تھی۔۔۔ایک ایسی قید جس کا دروازہ کھلا تھا، مگر قدم اٹھانے کی ہمت مر چکی تھی۔

دل ہی دل میں اس نے سوچا۔۔۔
کیا یارم اب کوئی اور قدم اٹھائے گا؟
کیا یہ خبر بابا تک پہنچے گی؟
یا پھر وہ ہمیشہ کے لیے آریان کی قید میں رہتے ہوئے، چپ چاپ مٹ جائے گی؟

کمرے میں بس اس کی سسکیوں کی آواز گونج رہی تھی، جیسے دیواریں بھی اس کے دکھ میں شریک ہوں۔
═══════❖═══════

یہ قسط ناول “صلیب سکوت” کی ایک قسط ہے، تخلیق حیات ارتضی، ایس۔اے کی۔اگلی قسط مطالعہ کرنے کے لیے اسی ناول کی category “صلیب سکوت” ملاحظہ کریں، جہاں تمام اقساط ترتیب وار اور باقاعدگی سے دستیاب ہیں۔💡 ہر نئی قسط ہر اتوار شام 8:00 بجے شائع کی جائے گی۔

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *