Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:12
🕯️ صلیبِ سکوت
از حیات ارتضی S.A
قسط نمبر:12
═══════❖═══════
عروب جیپ میں یارم کے ساتھ بیٹھی تھی اور لگاتار عبیرہ کے لیے رو رہی تھی۔ یارم نے بہت کوشش کی کہ اسے نظر انداز کر دے مگر اپنے پیاروں کو دکھ میں دیکھ کر نظر ہٹانا آسان نہیں ہوتا۔
“پلیز رونا بند کریں، رونے سے مشکلیں آسان نہیں ہوتیں”
گاڑی چلاتے ہوئے یارم نے ایک لمحے کو اسے دیکھا، پھر نظریں سڑک پر جما کر نرمی سے کہا۔
“جانتی ہوں، اگر رونے سے مشکلیں حل ہو جاتیں تو آج میرے اپنے میرے ساتھ ہوتے”
دوپٹے کے پلو سے آنسو صاف کرتے ہوئے اُس نے شکوہ بھری نظر یارم کے چہرے پر ڈالی، نگاہوں میں درد اور بے بسی کی ملی جلی چمک تھی۔
“اپنے پیاروں کو چھوڑ کر بھی آپ ہی آئی تھیں، اُس وقت تو آپ نے قدر نہیں کی۔۔۔ اب یہ سب کہنے کا کوئی فائدہ نہیں”
یارم کے لہجے میں نرمی تھی مگر الفاظ چبھنے والے، جیسے حقیقت سے پتھر اٹھا کر ائینہ دکھا رہا تھا۔
“تم حقیقت نہیں جانتے یارم، تم نے وہی دیکھا جو دشمنوں نے تمہیں دکھایا۔۔۔”
عروب کے لہجے میں درد اور شکوہ تھا، مگر یارم کے خاموش چہرے پر کوئی تاثر نہ ابھرا۔
“آپ دشمن کس کو بول رہی ہیں۔۔۔ میرے بابا کو، مورے کو، یا پھر اپنے بابا اور مورے کو۔۔۔ یارم خان عروب کی جانب دیکھ بھی نہیں رہا تھا، اس کی نظریں شیشے سے باہر سڑک کو گھور رہی تھیں۔۔۔”
“مون میں اتنی برائی ہو گئی ہے کہ تم میری طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کر رہے۔۔۔
ایک بار میری طرف دیکھو، اور بات تو کرو۔۔۔
میں تم سے ملنا چاہتی تھی، تم سے بات کرنا چاہتی تھی، مگر ڈرتی تھی۔۔۔
نہیں جانتی تھی کہ تم مجھ سے ملو گے یا نہیں۔۔۔”
“اچھا ہوا کہ جو نہیں ملنے آئیں۔۔۔
نہ تو میں آپ سے ملنا چاہتا تھا، نہ ہی بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔
ہمارے بیچ سب کچھ ختم ہو چکا ہے، اور ویسے بھی بابا آپ سے بہت ناراض ہیں۔۔۔”
“تمہارے بابا میرے بھائی ہیں، ہمارا معاملہ الگ ہے۔
باسق بھائی کو بیچ میں نہ لاؤ، اپنی بات کرو۔۔۔”عروب کی آواز میں تھوڑی سختی تھی، نظریں یارم کے چہرے پر جم گئی تھیں۔
“میں بابا سے الگ نہیں ہوں۔۔۔”
یا رم کی نظریں شیشے سے باہر سڑک پر جمی ہوئی تھیں، جیسے الفاظ کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہوں۔
“مطلب تم بھی بات کرنے اور ملنے سے انکار کر رہے ہو۔۔۔”
عروب کے لب ہلکے سا کپکپا رہے تھے، اور آنکھیں یا رم کی ہر حرکت پر جمی ہوئی تھیں، جیسے وہ چھوٹی چھوٹی کشمکش پڑھ رہی ہو۔
“یہی سمجھ لیں۔۔یارم کا لہجہ روکا اور بے جان تھا۔یارم کے انداز سے عروب کا دل ٹوٹ کر کے جیوں میں بکھر گیا تھا۔شاید اس سے یا رم سے ایسی امید نہیں تھی۔
“مون، تم کتنے سخت دل ہو گئے ہو۔
میں تو تم سے اتنا پیار کرتی تھی، ہمیشہ تمہیں دل سے چاہا۔
تمہارا بچپن میرے ہاتھوں میں گزرا ہے، تم لوگوں کی باتوں میں آ کر مجھ سے اتنی نفرت کرنے لگے ہو۔۔۔”
یارم کی جانب دیکھتے ہوئے وہ رو رہی تھی۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ چھ فٹ کا نوجوان اس کا مون ہے۔
“میں تو تمہیں بہت عزیز تھی، کبھی تم میرے بنا رہ نہیں پاتے تھے۔
ایک مہینہ ہاسٹل میں میرے رہنے پر تم کتنا رویا کرتے تھے۔
جب میں ہاسٹل میں ہوتی تھی ،وہ دن میرا مون، اپنی انگلیوں پر گن گن کر گزارا کرتا تھا۔
دن میں کئی بار فون کر کے پوچھتے تھے کہ مجھے کب گھر آنا ہے۔
تمہاری تو ہر چھوٹی بڑی خوشی مجھ سے شروع ہوتی تھی اور مجھ پر ہی ختم ہو جایا کرتی تھی۔۔۔
مگر آج تم اجنبی بن کر مجھ سے بات کر رہے ہو، جیسے مجھے جانتے ہی نہیں۔
ڈھنگ سے بات کرنی تھی تو اب میری طرف دیکھ بھی نہیں رہے۔
چلو، بتاؤ۔سخت دل کیسے ہو گئے ہو تم۔۔۔”
وہ خاموش ہو گئی، آنکھیں نم تھیں اور آہستہ آہستہ آنسو بہ رہے تھے، جیسے ہر لفظ نے دل پر گہرا زخم چھوڑا ہو۔
“جب آپ ہمیں چھوڑ کر گئی تھیں۔۔۔
تو آپ نے بھی تو اپنا دل سخت کر لیا تھا۔۔۔
آپ نے کیوں؟ اس پانچ، چھ سال کے بچے کے بارے میں نہیں سوچا کہ اس کے دل پر کیا گزری ہوگی؟
کیوں ایک بار بھی یہ نہیں سوچا، وہ کتنا رویا ہوگا، کتنا تڑپا ہوگا؟
جب سب لوگ اس کی آپی کو غلط کہتے تھے، تو اس بچے کو کتنی تکلیف ہوتی ہوگی۔۔۔
کیوں یہ نہیں سوچا، اس کا چھوٹا سا دماغ دنیا داری کی باتوں کو نہیں سمجھ سکتا تھا۔۔۔
وہ تو بس اتنا جانتا تھا کہ اس کی آپی کبھی غلط نہیں ہو سکتی۔۔۔
وہ چھوٹا سا بچہ، جو بالکل بدتمیز نہیں تھا، مگر اپنی آپی کا دفاع کرنے کے لیے اس نے کتنوں سے بدتمیزی کی ہوگی۔
وہ بچہ کبھی نہ مانتا کہ اس کی آپی غلط ہے۔
جب سب کہتے تھے کہ آپی ہمیشہ کے لیے گھر سے بھاگ گئی، وہ بچہ کسی کی بات پر یقین نہیں کرتا تھا۔
اگر اس بچے کو یقین دلانے والا میرا بابا باسق خان نہ ہوتا۔۔۔
یارم بولنے پر آیا، تو بولتا ہی چلا گیا۔
اپنے معصوم بچپن سے لے کر جوانی تک کا درد، برسوں سے سینے میں چھپا رکھا تھا۔
“جب بابا سے مجھےحقیقت پتا چلی، تب بھی میں تکلیف میں تھا۔
نہ تو میں آپ کے خلاف کچھ بول سکتا تھا،
نہ آپ کے بارے میں غلط سن سکتا تھا،
نہ ہی گواہی دے سکتا تھا کہ میری آپی نے ایسا نہیں کیا۔۔۔
کیونکہ حقیقت تو میرے سامنے تھی، اور میں اسے سمجھنے لگا تھا۔
میری تکلیف کوئی نہیں سمجھ سکتا، آپ بھی نہیں۔
کتنی راتیں آپ کے جانے کے بعد روتے ہوئے گزاری ہیں۔
میں ٹھیک سے سو نہیں پاتا تھا۔
سوتا تو آپ کا چہرہ، آپ کی باتیں یاد آتیں۔
روتے ہوئے خود سے پوچھتا،کیوں میری عروب آپی بھی مجھے چھوڑ کر چلی گئی؟
یہ سوال بار بار کرتا، مگر کوئی جواب نہیں ملتا تھا۔
میں بیمار رہنے لگا، کھانا پینا چھوڑ دیا۔
پھر ایک دن بابا نے سنجیدہ لہجے میں کہا،
‘عروب کو یاد کرنا چھوڑ دو۔ وہ ہمیشہ کے لیے ہمارے لیے مر چکی ہے۔
آج کے بعد اس گھر میں اس کا نام نہیں لیا جائے گا۔
اس وقت مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔
دل چاہا چیخ چیخ کر کہوں کہ میں ایسا نہیں کر سکتا۔
مگر بابا نے زندگی میں پہلی بار بہت سختی سے منع کیا تھا۔
آپ سمجھ نہیں سکتیں کہ اُس وقت مجھ پر کیا گزری ہوگی۔
میں بابا کے فیصلے سے انکاری تو نہیں ہو سکا،
لیکن اُس دن کے بعد میں نے انہیں ‘بڑی’ کہنا چھوڑ دیا۔
کسی کو نہیں معلوم کہ میں نے ایسا کیوں کیا،
مگر میرا دل جانتا ہے۔۔۔مجھے بابا پر غصہ تھا۔جو نام بڑے پیار سے میں نے ان کے لیے رکھا تھا اس نام کو میں نے ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ وہ غلط کر رہے ہیں۔
“وقت گزرتا گیا۔
میں بڑا ہوا، تو سب باتوں کے مطلب سمجھنے لگا۔
مجھے احساس ہوا کہ بابا ٹھیک تھے۔
جس بہن پر انہیں مان تھا، جسے وہ غرور سے یاد کرتے تھے،
اسی بہن نے ان کا مان مٹی میں ملا دیا تھا۔مجھے احساس ہونے لگا ،کہ
ان کی تکلیف بہت بڑی تھی۔
ایک بھائی کا غصہ بالکل جائز تھا۔”
یارم ماضی کے اوراق پلٹتے ہوئے سختی سے ایک کے بعد ایک بات کہتا گیا۔
اور عروب کے آنسو خاموشی سے بہتے رہے۔یارم نے چند لمحے خاموشی سے بیٹھا، سینے میں برسوں سے دبا ہوا درد اس کی سانسوں میں چھپا ہوا تھا، اور آنکھیں خاموش کہہ رہی تھیں کہ یہ زخم وقت کے ساتھ بھی نہیں بھرا
“بولو، مون، میں سن رہی ہوں۔
خاموش کیوں ہو گئے؟
تمہیں اپنا غصہ نکالنے کا پورا حق ہے۔”
یارم کے خاموش ہو جانے پر، عروب نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے نرمی سے کہا۔
“کوئی حق نہیں ہے میرا آپ پر۔۔۔
سالوں پہلے آپ کا اور ہمارا رشتہ ختم ہو چکا ہے۔”
یارم کی آواز مدھم تھی، مگر اس کی سختی میں برسوں کا زخم چھپا ہوا تھا۔
“تو پھر کیوں عبیرہ سے محبت کی؟
“کیوں اس کے لیے اتنا پریشان ہو؟
جبکہ اب تو تم اچھی طرح جانتے ہو کہ وہ میری بیٹی ہے۔”
“میں پولیس والا ہوں۔ سولین کی مدد کرنا میرا فرض ہے۔
میں صرف اپنا فرض نبھا رہا ہوں، غیر ضروری باتیں مت سوچیں۔”
یارم نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔
“مون، جب جھوٹ بولنا نہیں آتا، تو کوشش بھی مت کرو۔
جھوٹ بولنے میں تم بچپن میں بھی فیل تھے، اور آج بھی فیل ہو۔”
عروب نے یارم کا ہاتھ زبردستی اپنے ہاتھ میں تھام رکھا تھا۔
“میں جانتی ہوں تم عبیرہ سے پیار کرتے ہو۔
اور اُس دن تم باسق بھائی اور رتبہ بھابھی کے ساتھ رشتے کے لیے آئے تھے۔
مگر بدقسمتی سے جب تمہیں پتا چلا کہ عبیرہ میری بیٹی ہے،
تو آپ لوگ واپس چلے گئے۔۔۔”
“ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔”
نظریں چراتے یارم نے انکار کیا۔اس کی آواز میں ہلکی سختی تھی، لیکن چہرے اور آنکھوں میں وہ جذبات چھپ نہیں سکے جو اس کے دل میں عبیرہ کے لیے اب بھی موجود تھے۔
یارم کے چہرے سے اس کے دل کے حالات عروب کو صاف نظر آ رہے تھے۔
ویسے بھی عبیرہ کی دوست مائرہ نے واضح طور پر بتا دیا تھا کہ یارم اور عبیرہ ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے تھے، اور یارم ان کے گھر رشتہ بھیجنے والا تھا۔
اس لیے اب عروب کے ذہن میں کوئی شک باقی نہیں رہا تھا۔
اس نے سمجھ لیا تھا کہ اس دن یارم اپنے بھائی اور بھابھی کے ساتھ رشتہ لے کر آیا تھا، مگر تب تک اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ عبیرہ اس کی بیٹی ہے۔
اب یارم کے انکار پر عروب کو حیرت ہو رہی تھی، اور دل میں ایک چھوٹا سا اشارہ جاگ اٹھا تھا کہ شاید کچھ اور بھی چھپا ہوا ہے،مون کے دل میں جس کو شاید وہ زبان تک نہیں لانا چاہتا تھا۔
“اچھا، تو پھر بتاؤ، اُس دن تم عبیرہ سے ملنا کیوں چاہتے تھے؟”
“مجھے نہیں پتہ، آپ کس بارے میں بات کر رہی ہیں۔۔۔”
یارم نظریں چرا رہا تھا۔
یہ سچ تھا کہ عروب کو جھوٹ سے نفرت تھی،
اسی لیے وہ جھوٹ بول نہیں پا رہا تھا،
اور سچ بولنا چاہتا نہیں تھا۔
اسٹیئرنگ پر نظریں جمائے وہ سڑک کو ایسے گھور رہا تھا،
جیسے اگر نظریں ہٹا لیں تو یا سڑک غائب ہو جائے گی، یا اسٹیئرنگ۔
مگر اصل میں، وہ عروب کی باتوں سے بھاگ رہا تھا ….. ان لفظوں سے جو سیدھا دل پر لگ رہے تھے۔
“میرا نہیں خیال کہ میں نے کوئی اتنا مشکل سوال پوچھ لیا ہے جس کا تم سے جواب نہیں بن رہا۔۔۔
میں عبیرہ کے بارے میں بات کر رہی ہوں۔۔۔
عبیرہ تم سے ملنا چاہتی تھی، اور تم بھی اس سے ملنے کے لیے کافی دیر تک کالج کے باہر کھڑے رہے تھے۔
آخر کوئی تو خاص بات کرنی ہوگی تم دونوں نے۔۔۔”
عروب بات کرتے ہوئے نظریں یارم کے چہرے پر جمائے ہوئے تھی۔
وہ جاننا چاہتی تھی کہ اس کے دل میں کیا ہے …
اور یارم کے دل کی بات سمجھنا اس کے لیے کبھی مشکل نہیں رہا۔
آخر یہ وہی “مون” تھا جسے وہ بچپن میں انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتی تھی۔
تو پھر وہ اس کے دل کی بات کیسے نہ پہچانتی؟
“یہ بات آپ سے کس نے کہی؟”
یارم کے چہرے پر تجسس کی لکیر ابھر آئی،
اس نے ایک دم سڑک سے نظریں ہٹائیں،
عروب کی طرف دیکھا،
پھر فوراً نظریں چرا لیں،
اس ڈر سے کہ ،کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اس کی آنکھوں میں لکھی ہوئی محبت کو پڑھ لے،
مگر وہ تو پہلے ہی پڑھ چکی تھی۔
“یہ بات خود کالج کے گارڈ نے مائرہ کو بتائی ہے”
عروب نے پرسکون مگر بھرپور اعتماد کے ساتھ کہا،
جیسے ہر لفظ کے ساتھ وہ یارم کے جھوٹ کے گرد بنے حصار کو توڑ رہی ہو۔
یارم کے لب ذرا سے ہلے، مگر کوئی لفظ نہ نکلا،
خاموشی میں صرف دل کی دھڑکن تھی،جو
بےقابو ہوکر شور مچا رہی تھی۔
“مگر میں نے تو گیٹ پر عبیرہ کے بارے میں کسی سے نہیں پوچھا تھا۔۔۔
تو کیسے کوئی کہہ سکتا ہے کہ میں عبیرہ سے ملنے گیا تھا۔۔۔”
یارم کے لہجے میں الجھن تھی، مگر آنکھوں میں وہی پرانی بچپن والی نمی ۔
جو ہر بار سچ چھپانے کی کوشش میں اُبھر آتی تھی۔اس کے الفاظ نے انکار کیا، آنکھوں نے نہیں۔
“،مانا کہ تم نے کسی سے نہیں پوچھا۔۔۔
مگر مائرہ تو جانتی تھی تم وہاں کس سے ملنے آئے تھے،
جب اسے خبر ملی کہ تم کافی دیر تک گیٹ کے باہر کھڑے اس کا انتظار کرتے رہے،
تو اسے اندازہ ہو گیا کہ عبیرہ اس دن تم ہی سے ملنے کے لیے رکی تھی،
مگر پتہ نہیں کیسے، کب، اور کہاں وہ آریان خان کے جال میں پھنس گئی۔۔۔
کاش وہ تم سے وقت پر مل لیتی، تو شاید سب کچھ یوں نہ بکھرتا،”عروب کے دل میں درد کی ایک تیز سی لہر اٹھی،
جب اس نے اپنی پیاری بیٹی کے بارے میں سوچا۔
“نام بھی مت لیں اُس کا۔۔۔
ایک بار مل جائے تو میں جان لوں گا اُس کی۔۔۔”
یارم نے غصّے سے لفظ چباتے ہوئے گاڑی کے سٹیرنگ پر زور سے مکہ مارا تھا۔۔۔
“کیوں؟ تم اس کی جان کیوں لو گے۔
تمہارا تو عبیرہ سے کوئی لینا دینا تو نہیں۔۔۔”
عروب نے سوچتی نگاہوں سے دیکھا ۔
“آپ کو جو سوچنا ہے سوچیں،
میں آپ کو سوچنے سے تو نہیں روک سکتا۔”
یارم اپنی ہی باتوں میں پھنستا جا رہا تھا،
اور نظریں چرا رہا تھا،
آنکھیں کچھ اور کہہ رہی تھیں، دل کچھ اور، اور الفاظ کچھ اور۔۔۔
عروب کو کسی بھی طرح کا شک باقی نہیں رہا تھا،
وہ اچھی طرح جان چکی تھی کہ یارم عبیرہ سے محبت کرتا ہے۔
کچھ سوچتے ہوئے عروب سیدھی مدے پر آگئی اور بولی،
“مون، اگر عبیرہ واپس آ گئی تو، کیا تم اسے قبول کر لو گے؟”
“اس کا کیا مطلب ہے؟”
یارم نے متلاشی نظروں سے عروب کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“تم بچے تو نہیں کہ تمہیں ہر بات کا مطلب سمجھانا پڑے۔۔۔
محبت کا پتہ تو اس وقت چلتا ہے، نا، جب مرد عورت کو اس حال میں قبول کر لے،
جب اس کے کردار پر انگلیاں اٹھیں۔۔۔
جب عبیرہ گھر واپس لوٹے گی، تو ہر کوئی اس کے کردار پر انگلیاں اٹھائے گا۔۔۔
ہمت ہے لوگوں کی سوالیہ نظروں کو نظر انداز کر کے، عبیرہ کا ہاتھ تھامنے کی۔۔۔”
وہ جاننا چاہتی تھی کہ یارم کی محبت کتنی مضبوط ہے۔
کیا وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ تبریز خان کی طرح مضبوط چٹان کی طرح تھامے گا،
یا شایان کی طرح بڑے بڑے دعوے کرے گا،
اور ایک ہی وار میں محبت کو راکھ کا ڈھیر بنا دے گا۔۔۔
“جب آپ نے میرے دل میں جھانک ہی لیا ہے،
اور دیکھ لیا ہے کہ میں آپ کی بیٹی سے محبت کرتا ہوں،
تو پھر اس سوال کا جواب آپ اپنے دل سے ہی پوچھ لیجیے۔
مانا، آپ نے ہم سے رشتہ توڑ لیا ہے،
مگر کبھی ہمارا رشتہ بہت مضبوط ہوا کرتا تھا۔
میرے دل کی بات، آپ مجھ سے بہتر جان سکتی ہیں۔”
یارم نے ٹھہراؤ سے کہا، عروب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے۔
جہاں خاموشی کے پیچھے کئی برسوں کا دکھ اور سچ چھپا تھا۔
اپنوں سے کبھی رشتہ نہیں ٹوٹتا، بس یہ تو سوچ کا فرق ہوتا ہے۔
غلط فہمیوں کے سمندر میں تم لوگوں نے بہت سال گزار لیے ہیں۔
کبھی موقع ملا تو میں بھی اپنے دل کا درد ضرور بیان کرنا چاہوں گی۔
یک طرفہ سوچ رکھ کر کسی کو مجرم بنا دینا بہت آسان ہوتا ہے۔
کیا کوئی اس بدقسمت سے پوچھے، جس کے پاس نہ اپنے رہے، نہ عزت، نہ سہارا؟
عروب کی آنکھوں سے آنسوں تیزی سے بہنے لگے۔
کسی نے محبت میں رسوا کیا،
مجھے سزا ملی محبت پر یقین کرنے کی۔
میری غلطی یہ تھی کہ میری نظریں پرکھ نہیں سکیں کہ مقابل وقت کی تپتی ریت پر محبت کے راستے کو پار کر پائے گا یا نہیں۔
مجھے شکوہ نہیں اس سے جس نے محبت کے نام پر بے سہارا چھوڑ دیا۔
پاگل تو میں تھی جو بھروسہ کر بیٹھی۔۔۔
خدا کی قسم، ہر شخص کی زندگی میں ایسا بے وقت لمحہ آتا ہے،
جب ارد گرد صرف اندھیرا چھایا ہوتا ہے۔
مگر اسی اندھیرے میں بہت سے لوگوں کے اصلی چہرے واضح ہو جاتے ہیں،
وہ چہرے جو ہم دن کے اجالوں میں بھی کبھی پہچان نہ سکے تھے۔مجھے بھی سب کے اصلی چہرے اس دن صاف دکھائی دے رہے تھے ۔۔
“ہمیں چھوڑ کر آپ گئی اور اب گنہگار بھی ہم پر ٹھہرا رہے ہیں،
یہ ٹھیک نہیں ہے،”
یارم نے کٹے لہجے میں کہا، سٹیرنگ پر ہاتھ جمائے ہوئے، نظریں سڑک پر، مگر دل کہیں اور۔
” جس سے آپ نے محبت کی، اس نے آپ کو دھوکہ دیا، تو یہ آپ کی بدنصیبی تھی،
اور اگر آپ اسے پہچان نہ سکیں، تو یہ بھی آپ کی نظر کا دھوکہ تھا۔
اس میں ہم کہیں بھی قصوروار نہیں ہیں۔”
عروب خاموش بیٹھی تھی، ہاتھ گود میں سمیٹے،
آنکھوں میں آنسو، مگر لبوں پر خاموشی۔
گاڑی گھر کی جانب تیزی سے بڑھ رہی تھی۔۔
“مان لیا، یہ میری بد نصیبی تھی۔
یہ بھی مان لیا کہ میری نظر کا دھوکہ تھا۔
تو سزا بھی مجھے ہی ملنی چاہیے ۔۔۔ اور ملی ہے، بہت کڑی سزا، میرے اپنے مقافات کی۔
مگر جو اپنوں کے بھیس میں بھیڑیا بن کر میرے وجود کو گندی نظروں سے نوچتا رہا،
اسے کسی نے کیوں نہیں دیکھا؟
کیوں کوئی اس سے سوال نہیں کرتا تھا؟
سب دیکھ کر اندیکھا کر دیتے تھے،
کیونکہ وہ گھر کا بیٹا تھا۔
اسی بیٹے نے جھوٹی افواہیں پھیلا کر میرے کردار کی دھجیاں اڑا دیں۔
سب نے آنکھیں بند کر کے یقین کر لیا،
سچائی تک پہنچنے کی کسی نے کوشش ہی نہیں کی۔
اس لیے مجھ پر الزام لگانا بند کرو، مون۔۔۔
مجھے بھی اپنوں سے بہت شکوے ہیں۔”
عروب کے لہجے میں درد تھا،
آنکھوں میں تڑپتے آنسو چیخ چیخ کر اس کی سچائی بیان کر رہے تھے۔
یارم ساکت سا، حیران نظروں سے عروب کو دیکھتا رہا۔
سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ شاید سچ وہ نہیں تھا جو برسوں سے وہ مانتا آیا تھا۔
چند ہی لمحوں میں اسے لگا جیسے برسوں کی غلط فہمیاں ریزہ ریزہ ہو کر اس کے قدموں میں بکھر گئی ہوں۔
“رہی بات تم پر یقین کرنے کی تو، مجھے تم پر یقین ہے،
مگر میں یہ یقین تمہاری زبان سے سننا چاہتی ہوں۔
کیا تم عبیرہ کو محبت کے ساتھ ساتھ تحفظ بھی دے سکتے ہو؟
یاد رکھنا، اس کے کردار پر سوال ضرور اٹھیں گے۔
اگر تم تبریز خان بن کر اس کی حفاظت کر سکتے ہو،ہر اٹھی ہوئی اونگلی کا جواب دے سکتے ہو،
تو قدم بڑھانا،
ورنہ یہیں سے اپنے قدم واپس لے جاؤ۔”
وہ دو ٹوک کہہ کر روتی ہوئی، نظریں اور چہرہ دوسری جانب موڑ چکی تھی۔
اس کے چہرے پر ایک ماں کا خوف، ایک بہن کا درد،
اور ایک عورت کی بے بسی، سب ایک ساتھ بول رہے تھے۔
“آپی، میں آپ کا جواب بعد میں دوں گا،
پہلے میں آپ کے دل کی بات سننا چاہتا ہوں۔”
بے اختیار یہ الفاظ یارم کے منہ سے نکلے۔
عروب کی تکلیف اس کے دل تک پہنچ چکی تھی، اسی لیے اب پیچھے ہٹنا ممکن محسوس نہ ہوا۔
عروب ایک لمحے کے لیے خاموش رہی، نظروں میں بے یقینی تھی،
یارم نے نرمی سے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا، اور آہستہ سے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
سالوں بعد وہ اپنی آپی کو گلے لگا رہا تھا۔
عروب تڑپ کر رو رہی تھی، یارم کی آنکھیں بھی نم ہو چکیں تھیں۔۔۔
“پلیز، مجھے بتائیں، کیا ہوا تھا اس رات؟
آپ نے کیوں گھر چھوڑا؟”یارم کے لہجے میں حد سے زیادہ نرمی تھی اپنائیت تھی۔عروب کو لگا کہ اس کے مون کو شاید اس کے آنسوؤں پر یقین آنے لگا ہے۔مگر باتوں میں پتہ نہیں چلا،سفر کب اور کیسے ختم ہو گیا۔عروب کا گھر آچکا تھا۔
“گھر آ گیا ہے۔”
“اگر تمہیں مناسب لگے تو میرے ساتھ اندر چلو۔”
“آرام سے سب بتا دوں گی۔”
“ورنہ پھر کبھی ملیں گے۔”
“میں تمہارا انتظار کروں گی،
کیونکہ میں اپنی سچائی تمہیں بتانا چاہتی ہوں، مون۔”
“آنا چاہتا ہوں،
مگر اس وقت میرا پولیس اسٹیشن پہنچنا بہت ضروری ہے۔”
گاڑی کے دروازے کی ہلکی سی چرچراہٹ نے خاموشی کو توڑا۔
“کوئی بات نہیں، میں تمہارا پھر سے انتظار کروں گی،
مجھے خوشی ہوئی کہ تم میری بات سننے کے لیے راضی ہو۔۔۔”
عروب کے لہجے میں وہ پرانی ممتا گھل گئی تھی۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر مون کے گال پر رکھا،اور ایک لمحے کو جیسے وقت ٹھہر گیا۔
اُس کے لمس میں وہی پرانی دعا،
وہی بے لفظ پیار بول رہا تھا۔
”پلیز شرمندہ مت کریں۔۔۔
میں نہیں جانتا کہ حقیقت کیا تھی، بہت چھوٹا تھا، اس قابل نہیں تھا کہ خود سے سچ تک پہنچ پاتا۔۔۔
بہت کوشش کی مگر جہاں تک بھی جان پایا، وہاں آپ غلط لگیں۔
اور اگر یہ سب کچھ غلط فہمی تھی تو میں آج بھی شرمندہ ہوں، اور ہمیشہ رہوں گا کہ میں نے آپ پر یقین نہیں کیا۔۔۔
مگر اس سب سے پہلے، میں آپ سے پوری سچائی سننا چاہوں گا۔“
”مون۔۔۔ آج بھی آپ سے بہت پیار کرتا ہے۔۔۔“
یارم نے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ لاتے ہوئے عروب کی جانب دیکھا۔۔
یارم نے عروب کا ہاتھ تھاما، اسکی آنکھوں میں نرمی تھی۔
لبوں کو جھکا کر اس کے ہاتھ پر عقیدت بھرا بوسہ دیا ۔
ایسا لمس جو بیٹے کی محبت میں لپٹا ہوا تھا، برسوں کی دوری کو ایک پل میں مٹا دینے والا۔
”میں بھی بالکل نہیں بدلی، آج بھی تمہاری وہی آپی ہوں جس کے لیے تمہاری خوشیاں سب سے بڑھ کر تھیں، اور مجھے خوشی ہوئی یہ جان کر کہ تم عبیرہ سے پیار کرتے ہو۔ اللہ کرے وہ صحیح سلامت واپس آجائے، میں اس کے بابا کو منا لوں گی، میرے لیے تم سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ اگر تم عبیرہ کا مقدر بنو، تو اس کی خوشی مجھ سے زیادہ کسی کو نہیں ہو سکتی۔ میری خوش قسمتی ہوگی کہ عبیرہ تمہاری بیوی بنے۔
تمہیں یاد ہے نا، بچپن میں کہا کرتی تھی کہ جب میری بیٹی ہوگی تو اس کی شادی تم سے کروں گی، مجھے کیا معلوم تھا کہ بڑا ہو کر میرا یہ خواب سچ ہو جائے گا۔“
عروب کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ اُبھری، جیسے برسوں کی تھکن کے بعد دل نے پہلی بار سکون کا سانس لیا ہو۔
”سب کچھ یاد ہے، کچھ بھی نہیں بھولا، نہ آپ کے ساتھ گزارا ہوا وقت، نہ آپ کی کہی ہوئی باتیں۔ مون کچھ بھی نہیں بھولا، اور نہ کبھی بھول سکتا ہے۔ پریشان مت ہوں، ان شاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ بہت جلد آپ سے ملوں گا، بیٹھ کر آرام سے بات کریں گے۔ اور بے فکر ہو جائیں، میں عبیرہ کو ڈھونڈ لاؤں گا۔“
یارم کی آواز میں یقین تھا، مگر آنکھوں کے اندر چھپی ہوئی نمی بہت کچھ کہہ رہی تھی۔
”مگر تم نے ابھی تک میرے سوال کا جواب نہیں دیا، محبت ہو جانا کوئی بڑی بات نہیں، بڑی بات ہوتی ہے محبت کو نبھانا۔ مرد کی محبت کا اصل امتحان تب آتا ہے جب عورت پر انگلیاں اٹھتی ہیں۔ اُس وقت اکثر لوگ میدان چھوڑ دیتے ہیں۔ بس میں اتنا جاننا چاہتی ہوں، کیا تم وقت آنے پر میری بیٹی کے لیے ایک مضبوط ڈھال بن سکو گے یا نہیں؟“
عروب کے لہجے میں سختی نہیں تھی، بس ایک تھکا ہوا یقین بول رہا تھا۔۔۔جسے زندگی نے بارہا آزمایا تھا۔
“کیا اس سوال کا جواب دینا ضروری ہے؟”
یارم نے ٹھہراؤ سے کہا، نظریں سامنے کھڑی اُس عورت پر تھیں جس کی آنکھوں میں ممتا اور آزمائش دونوں جھلک رہی تھیں۔
“ہاں، ضروری ہے،” عروب نے نرمی سے کہا،
“ایک ماں ہونے کے ناتے چاہتی ہوں کہ تم اُس سوال کا جواب ضرور دو۔۔۔ تاکہ کل میری بیٹی کا دل مطمئن رہے کہ جس کے ہاتھ میں میں نے اُس کا ہاتھ دیا، وہ وقت آنے پر خاموش نہیں رہے گا۔”
“مجھے تو لگا تھا، جتنا آپ اپنے مون کو جانتی ہیں، اب تک اس سوال کا جواب آپ میری آنکھوں میں پڑھ چکی ہوں۔”
یارم نے مدھم لہجے میں کہا، نگاہوں میں ایک عجیب سا ٹھہراؤ تھا۔
“اگر میری نظروں میں دیکھ کر آپ نے یہ یقین کر لیا کہ میں آپ کی بیٹی سے محبت کرتا ہوں،
تو پھر اس کا جواب نہ بھی کہوں، آپ کو خود سمجھ آ جانا چاہیے۔۔۔”
“مگر آپ کی تسلی کے لیے پھر بھی جواب دے کر جاؤں گا۔”
یارم نے ٹھہر کر کہا، لہجے میں یقین کا بوجھ تھا۔
“میری محبت اتنی کمزور نہیں کہ دنیا کی نگاہ سے عبیرہ کو تولے۔
میرے لیے وہ عزت ہے، سکون ہے، ایک دعا کی طرح پاکیزہ۔
میں اس سے محبت کرتا ہوں،۔۔۔سچی، بے غرض، خاموش محبت۔
پہلی ہی نظر میں اس کے چہرے پر آپ کا عکس دیکھا تھا،
“پہلی ہی ملاقات میں، اس کی سادگی دل میں اتر گئی تھی۔
کوئی ادا نہیں تھی، کوئی دکھاوا نہیں۔۔۔بس ایک سکون تھا، جو نظر سے دل تک آ گیا۔
تب ہی جان گیا تھا کہ محبت شور سے نہیں، خاموشی سے پہچانی جاتی ہے۔”
“میں اپنے دل کا حال اسے بتا چکا تھا،
مگر وہ اپنے بابا سے بے پناہ محبت کرتی ہے، اسی لیے اس نے مجھ سے کچھ وقت مانگا تھا… تاکہ بات کو سمجھداری سے آپ سب کے سامنے رکھ سکے۔
مگر اس سے پہلے ہی وہ گھٹیا انسان سب کچھ بگاڑ گیا۔”
یارم کے لبوں پر سختی اُتر آئی، آنکھوں میں خون اُترا غصہ،
اور لہجے میں زہر ایسا کہ عروب نے پہلی بار اس کے اندر کا طوفان محسوس کیا۔
“انشاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا، انشاءاللہ…”
یارم نے عروب کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا۔
عروب نے بھرائی ہوئی آواز میں مسکرا کر سر ہلایا،
“وہ تمہارا ہی نصیب بنے گی، یہی میری دعا ہے۔
مجھے تم پر پورا یقین ہے کہ تم عبیرہ کو خوش رکھو گے۔
تمہاری زبان سے یہ سب کچھ سن کر جو سکون ملا ہے… وہ میں بیان نہیں کر سکتی۔”
“میں چلتا ہوں۔۔۔ آپ نے رونا نہیں، انشاءاللہ عبیرہ بہت جلد مل جائے گی۔ ویسے بھی آپ کے شوہر بات کرنے گئے ہیں، کوئی نہ کوئی راستہ نکل ہی آئے گا۔”
یارم نے نرم لہجے میں کہا، گاڑی کا دروازہ بند کیا اور انجن اسٹارٹ کر دیا۔ لمحہ بھر کو عروب کی آنکھوں میں دیکھا، پھر نظریں جھکائے گاڑی آگے بڑھا دی۔
سڑک پر ٹائروں کی آواز مدھم پڑتی گئی، اور کچھ دیر بعد گاڑی موڑ مڑتے ہی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔
عروب وہیں کھڑی رہ گئی، ہوا کے جھونکے سے اس کی چادر ذرا سی لہرائی، جیسے برسوں کا بوجھ دل سے اتر گیا ہو، مگر ایک انجانا خلا اب بھی باقی تھا۔
عروب، یارم کے نرم لہجے اور مان بھرے رویے پر برسوں بعد جیسے ہلکی ہو گئی تھی۔ دل کا بوجھ جو عرصے سے سینے پر دھرا تھا، آہستہ آہستہ پگھلنے لگا۔
اپنوں کے ساتھ گزرے چند لمحے بھی کتنے قیمتی ہوتے ہیں، یہ احساس انسان کو تب ہوتا ہے جب وہ لمحے بس یاد بن کر رہ جائیں۔
فطرتِ انسان یہی ہے۔جب تک کوئی اپنوں میں شامل رہتا ہے، اُس کی قدر نہیں کی جاتی۔ اور جب وہ دور چلا جائے تو اُس کی ہر ادا، ہر بات، دل پر نقش چھوڑ جاتی ہے۔
عروب کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ اُبھری۔
خیالوں میں اُس نے یارم اور عبیرہ کو ایک ساتھ دیکھا، جیسے تقدیر نے دونوں کے نام پہلے ہی ایک دوسرے کے ساتھ لکھ دیے ہوں۔
آنکھوں میں اُمید کا ساون جھلکنے لگا۔
وہ گہری سانس لے کر گھر کے اندر داخل ہوئی۔
پُر یقین، مطمئن، جیسے برسوں کی ادھوری دعا آج قبول ہونے والی ہو۔
فضا میں ایک عجب سا سکون پھیل گیا تھا، جیسے طوفان گزرنے کے بعد ہوا بھی تھک کر تھم گئی ہو۔
═══════❖═══════
عبیرا صوفے پر بیٹھی تھی، سوچوں میں الجھی ہوئی۔
دل میں بس ایک سوال گونج رہا تھا،
کیا کوئی کبھی مجھ تک پہنچ سکے گا؟
یا میں ہمیشہ اس ظالم شخص کے حصار میں قید رہوں گی۔
آنسو اس کی آنکھوں سے بہہ نکلے۔
وہ نہیں چاہتی تھی کہ آریان اسے کمزور دیکھے مگر کمزوری چھپتی کہاں ہے۔
کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جو دل کے ضبط کو روند کر باہر آ ہی جاتے ہیں۔
آریان سامنے بیٹھا تھا، خاموش مگر مطمئن۔
عبیرا کے آنسو اس کے لیے تسکین بن چکے تھے۔
وہ جانتا تھا کہ وہ جیت رہا ہے کیونکہ وہ اسے ٹوٹتا ہوا، بکھرتا ہوا ہی تو دیکھنا چاہتا تھا۔
اگر تمہارا ماتم ختم ہو گیا ہو تو اٹھو، میرے شوز اتارو، اور سلیپر پہنا دو۔۔۔
آریان خان کی آواز نے عبیرہ کو جیسے پتھر کر دیا۔
اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ واقعی یہ الفاظ اسی کے منہ سے سن رہی ہے۔
،،ک۔۔۔ کیاااا؟،،
عبیرہ نے شاک میں آ کر اٹک کر کہا، آواز میں حیرت اور خوف لرز رہا تھا ۔
،،بہری ہو؟؟ میں نے کہا میرے شوز اُتار کر سلیپر پہناؤ،،
آریان خان نے غصّے سے بھرپور لہجے میں دہراتے ہوئے کہا، آواز میں ایسا جبر تھا کہ فضا بھی جیسے سہم گئی۔
„میں ایسا نہیں کروں گی، میں آپ کی نوکر نہیں ہوں!“
اس نے لرزتی آواز میں مگر پوری ہمت سے کہا۔
آریان کی آنکھوں میں سختی اور رعونت تیرنے لگی۔
عبیرہ جانتی تھی، یہ ضد اسے بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔مگر آج وہ جھکنے کو تیار نہیں تھی۔
مگر آریان کے خوف نے عبیرہ کی آنکھوں کی نمی کو اور بڑھا دیا تھا۔
وہ یہ سب خاموشی سے دیکھ رہا تھا، جیسے اس کی کمزوری پر دل ہی دل میں مسکرا رہا ہو۔
“جس بہادری سے زبان درازی کر رہی ہو، اتنی ہی ہمت سے آنسو بھی روک کر دکھاؤ۔“
آواز اس کی سرد تھی، مگر وار گہرا۔
عبیرہ کی سانسیں بے ربط ہوئیں، آنکھوں سے بہتے آنسو اس کے گالوں پر پھسلنے لگے۔آریان خان کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری تھی،
جو لمحہ بہ لمحہ اور گہری ہوتی جا رہی تھی۔
“مجبور انسان کی آنکھوں میں آنسو آ ہی جاتے ہیں۔۔۔“
وہ آہستہ سے بول کر نظریں جھکا گئی ۔
انگلیاں بے بسی سے مروڑتے ہوئے،
اور تھوک کو مشکل سے نگلتے ہوئے،
جیسے ہر لفظ کے ساتھ اپنی شکست چھپا رہی ہو۔
“خوشی ہوئی یہ جان کر کہ تم خود کو مجبور سمجھتی ہو۔۔۔“
آریان خان کے لبوں پر سرد مسکراہٹ ابھری۔
“چلو، مجبور عورت، آؤ میرے پاؤں صاف کرو، عقیدت پیش کرتے ہوئے جوتے اتارو، پھر سلیپر پہناؤ۔“
عبیرہ کے چہرے کا رنگ اڑ چکا تھا۔
آریان کی آنکھوں میں وحشت نہیں، ایک تسکین تھی۔وہ اس کی خوف زدہ حالت سے محظوظ ہو رہا تھا،
کیونکہ وہ اسے اسی طرح ٹوٹتا ہوا دیکھنا چاہتا تھا۔
“تم سے زیادہ سفاک اور بے حس انسان میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔۔۔“
عبیرہ کی آواز بھاری تھی، آنکھوں میں خوف نہیں، نفرت جھلک رہی تھی۔
الفاظ جیسے زہر بن کر آریان کے سکون پر گر رہے تھے۔
“آج کے بعد دیکھنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔۔۔“
“ہر وقت تمہاری نظروں کے سامنے رہوں گا، تم پر عذاب بن کر نازل ہوتا رہوں گا۔
ان شاءاللہ ، تمہیں ایک لمحے کا سکون نصیب نہیں ہوگا۔
نہ جینے دوں گا، نہ مرنے دوں گا۔
ایسی حالت کر دوں گا کہ مجھ سے زبان لڑانے کے قابل بھی نہیں رہو گی۔
یہ وعدہ ہے تم سے۔۔۔“
“اللہ سے ڈرو! خدا کا قہر نازل ہوگا تم پر…آخر میرا قصور کیا ہے؟“
وہ سسکیوں کے درمیان بولی، آواز رُک رُک کر نکل رہی تھی۔
„جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو خدا خود ظالموں کا صفایا کر دیتا ہے۔۔۔“
آنکھوں سے بہتے آنسو اس کی بات کی تصدیق کر رہے تھے،
درد، خوف اور بے بسی سب ایک ساتھ لبوں پر لرز رہے تھے۔
“تو آج تک تمہارا باپ کیوں زندہ ہے؟ اس سے بڑا ظالم تو میں نہیں ہوں۔۔۔“
آریان کے لہجے میں سرد طنز تھا،
عبیرہ کے چہرے کا رنگ ایک دم اُڑ گیا۔
” مطلب ۔۔؟
عبیرہ نے متلاشی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“پہلے آکر شوز اتارو اس کے بعد سوچوں گا کہ تمہیں بتانا ہے… یا نہیں
“میں ایسا ہرگز نہیں کروں گی۔
“غور سے دیکھو کیا اوقات ہے تمہاری عبیرہ آریان خان۔اس انکار کی سزا جانتی ہو ۔۔۔اس بار انکار کرنے کی جرات کی تو ایسا ٹریٹمنٹ دوں گا کہ زندگی بھر یاد رکھو گی۔۔اس کی دھمکی پر عبیرہ نا چاہتے ہوئے بھی اس کی جانب قدم بڑھانے لگی ۔
کیوں ہوں میں اتنی ڈرپوک؟
کیوں اس شخص کو منہ توڑ جواب نہیں دے سکتی؟
کیوں ہر بار اس کے سامنے آتے ہی دل لرزنے لگتا ہے؟
تھوڑی تو ہمت دکھاؤ عبیرہ… ایسی خوف میں لپٹی زندگی کا کیا فائدہ؟
خود کو ملامت کرتی وہ آہستہ آہستہ آریان خان کے قریب گئی،
جھکی اس کے سامنے مگر دل میں شور مچا تھا۔ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کا ضمیر اسے جھنجھوڑ رہا ہو،
یہ سب غلط ہے، بہت غلط۔
مگر آریان خان کی تیز نظروں کا خوف،
اس کے کڑوے الفاظ
اور یہ دھمکی کہ وہ اس کے گھر والوں کو نقصان پہنچائے گا
عبیرہ کو وہ سب کچھ کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔جو وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
“زیادہ دماغ پر زور مت دو، نیچے بیٹھ کر اپنی گود میں ادب سے میرا پاؤں رکھو، پھر شوز اتارنا۔۔۔”
آریان خان نے انگلی کے اشارے سے عبیرہ کو جھکنے کا حکم دیا۔
عبیرہ کے دل میں نفرت کی لہر دوڑ گئی۔
اس شخص سے پہلے ہی اسے شدید گھن تھی، مگر اب اس کے لہجے، اس کے غرور، اور اس کے بے رحمانہ سکون نے اس نفرت کو مزید گہرا کر دیا تھا۔
بدقسمتی یہ تھی کہ وہ اس وقت مکمل طور پر اس کے رحم و کرم پر تھی۔
فرش پر بیٹھی تو آریان نے اپنے دونوں پاؤں بے دردی سے اس کی گود میں رکھ دیے،
چہرے پر اکڑ، آنکھوں میں تمسخر،
“غور سے دیکھو عبیرہ آریان خان… کیا اوقات ہے تمہاری!”
وہ طنزیہ قہقہہ لگا کر ہنسا،
اور وہ قہقہہ عبیرہ کے دل میں زہریلی کیل کی طرح اترتا چلا گیا۔
“عبیرہ تبریز خان کی اوقات کیا ہے، یہ جا کر میرے بابا سے پوچھو۔۔۔
کسی کو زبردستی قید کر کے نیچا دکھانے سے سامنے والے کی اوقات کم نہیں ہو جاتی۔۔۔”
عبیرہ نے ہمت جمع کر کے سخت لہجے میں کہا، مگر اگلے ہی لمحے آریان خان نے اس کی وہ ہمت چکنا چور کر دی۔
اس کا غرور، اس کی آنکھوں کی چمک،سب لمحہ بھر میں بکھر گئے۔
“آہہہہ!”
آریان خان نے اس کے بالوں کو پیچھے سے پکڑ کر زور سے جھنجھوڑا، سرخ انگاروں جیسی نگاہوں سے اسے دیکھا۔
اچانک کھینچاؤ سے عبیرہ کے ماتھے پر لگی چوٹ میں تیز درد اٹھا۔
درد نے جیسے سارا جسم جلا ڈالا ہو۔
وہ کراہ اٹھی، مگر خاموش رہی۔
کیونکہ چیخنا اسے مزید کمزور دکھاتا۔
„دوبارہ اگر مجھ سے اسی لہجے میں بات کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔“
آریان کی آواز میں خنجر سی تلخی تھی۔
„اور کیا کہا تم نے، عبیرہ؟ تبریز خان۔۔۔ مر گئی عبیرہ تبریز؟ تمہارا نام عبیرہ آریان خان ہے۔“
اس نے دھمکی بھرے لہجے میں کہا، „خبردار۔آج کے بعد اگر میرے سر نیم کو اپنے نام کے ساتھ سے ہٹانے کی کوشش کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔“
„اور رہی بات کہ قید کر کے کسی کی اوقات کم نہیں ہو جاتی، تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ تمہاری اوقات کیا ہے؟ یہ اس وقت تم ہی بہتر سمجھ سکتی ہو جب تم میرے قدموں میں بیٹھی ہو، میرے جوتوں پر، تمہارے ہاتھ ہوں۔اور اب بھی کہہ رہی ہو کہ اوقات کم نہیں ہوئی؟ میری نظر میں تو ویسے بھی تمہاری کوئی اوقات نہیں۔“
آریان نے عبیرہ کے بال سختی سے چھوڑے؛ درد پھر سے اس کے ماتھے کے زخم میں اٹھی۔ وہ ناچاہتے ہوئے ایک مختصر سی آہ نکال بیٹھی۔
عبیرہ کے آنسوں اس کے رخساروں پر بے اختیار بہنے لگے؛ وہ بار بار ایک ہاتھ سے انہیں صاف کر رہی تھی۔
، „دوبارہ مجھ سے زبان درازی کرنے کی ہمت مت کرنا۔“آریان نے سرد لہجے سے کہا۔۔
„یہ رونا دھونا بند کرو۔ مجھے نفرت ہے تم سے، تمہاری شکل سے، تمہارے آنسوں سے، تمہارے وجود سے، اور تمہارے خاندان سے۔۔۔میں تم سے اتنی نفرت کرتا ہوں کہ میرے پاس الفاظ نہیں جن کا استعمال کر کے میں تمہاری کردار کی دھجیاں اڑا سکوں۔“
کمرے میں ایک طویل خاموشی چھا گئی۔لفظوں کا وزن دونوں کے سینے پر ایسا بیٹھا کہ ہوا بھی رک سی گئی۔
عبیرہ روئے جا رہی تھی، اس کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
وہ کیسے چپ رہتی… جب وہ کڑوے لہجے میں اس کی عزت کو روند رہا تھا۔
ہر لفظ تیر بن کر دل میں پیوست ہو رہا تھا،
اور وہ بس خاموشی میں اپنی ٹوٹتی سانسوں کا شور سن رہی تھی۔
ماتم بعد میں منا لینا، پہلے میرے شوز اتارو اور چپل پہناؤ۔۔۔
تمہارے رونے دھونے سے نہ مجھے رحم آتا ہے، نہ تمہاری سزا میں کمی ہو سکتی ہے۔۔۔
اس کے چیخنے پر عبیرہ دبک گئی، کانپتے ہاتھوں سے اس کے شوز کھولنے لگی۔
سر میں اتنا شدید درد تھا کہ لگتا تھا ابھی بے ہوش ہو جائے گی۔
مقابل واقعی سفاک تھا، ظالم حد تک۔
وہ جانتا تھا کہ اسے بخار ہے،
پھر بھی زبردستی ایک اجنبی جگہ پر لے آیا۔
وہ جانتا تھا کہ اس کے سر میں تکلیف ہے،
پھر بھی اس کی حالت پر کوئی اثر نہیں ہوا۔
عبیرہ نے شوز ریک میں رکھ دیے،
پھر آریان خان کے گھر کے چپل اٹھا کر واپس آئی،
اس کے قدموں کے قریب بیٹھ کر روتے ہوئے چپل پہنائے۔
یہ جگہ شاید آریان خان کا اپنا اپارٹمنٹ تھی۔
کمرے میں رکھا اسکا، ذاتی سامان، اس کی موجودگی کی گواہی دے رہا تھا۔
عبیرہ کو اپنی قسمت پر رونا آ گیا۔
وہ، جو اپنے گھر کی لاڈلی بیٹی تھی،
بابا کی جان،
بھائی کی آنکھوں کا تارا،
ماں کی ممتا کا مرکز۔
مگر آج اس سفاک انسان کے ہاتھوں مجبور و بے بس تھی،سوچ سوچ کر اس کا دل پھٹ رہا تھا۔۔۔
“یہ مظلوم شکل کچھ دیر کے لیے میری نظروں سے دور کرو،”
آریان خان نے تھکے ہوئے مگر حکم بھرے لہجے میں کہا، “میرا سکون کرنے کا موڈ ہے۔ جاؤ، رائٹ سائیڈ پر کچن ہے، جا کر میرے لیے بلیک کافی بنا لاؤ، اتنی کڑوی کہ تمہارے آنسوؤں کا ذائقہ بھی اس کے سامنے پھیکا لگے۔۔۔
“اگر اتنی ہی ناپسند تھی تو کیوں مجھے زبردستی لے کر آئے ہو؟ اور کافی کو کڑوا کرنے کے لیے تھوڑا سا زہر نہ ملا دو۔۔۔”
عبیرہ نے گہری سانس لیتے ہوئے یہ سب صرف سوچا تھا، کہا کچھ نہیں۔
خاموشی سے اٹھی اور چل پڑی۔ انکار کی تو گنجائش ہی نہیں تھی۔ اسے اندازہ تھا کہ اس وقت وہ پوری طرح اس کی قید میں ہے، چاہ کر بھی پھڑپھڑانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
بمشکل قدم اٹھاتے ہوئے وہ روم سے باہر نکلی۔ قدم ساتھ نہیں دے رہے تھے، سر میں شدید درد ہو رہا تھا۔
ایک نظر اٹھا کر اس نے چاروں طرف دیکھا۔ نفاست پسند انسان کا اپارٹمنٹ بے حد خوبصورت اور مہنگی آسائشوں سے بھرا ہوا تھا۔
دیوار پر لگی ہوئی الٹی سیدھی پینٹنگز ہی اس بات کی عکاسی کر رہی تھیں کہ آریان خان مہنگی اور قیمتی چیزوں کو بے حد پسند کرتا ہے۔
دائیں طرف دیوار پر وال ہینگنگ کے اندر رکھے ہوئے کرسٹل کے آرٹیفیشل شوپیس دیکھ کر عبیرہ حیران تھی۔ ایک ایک چیز خوبصورتی سے سجائی ہوئی تھی اور ہر چیز دوسری چیز سے مختلف اور حسین تر تھی۔
اس کے قدم لاؤنج میں جا کر رک گئے۔ ٹی وی لاؤنج میں رکھے ہوئے بلیک کے ساتھ لائٹ سکن کلر کے صوفے بے حد خوبصورت لگ رہے تھے۔
کس کس چیز پر عبیرہ کی نظر نہیں رکی تھی۔۔۔ ہر چیز ترتیب اور کلر کمبینیشن کی خوبصورتی کی انتہا کر رہی تھی۔
آخر وہ کچن تک پہنچ ہی گئی۔مگر کچن دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ صاف شفاف کچن، خوبصورت کیبنٹس۔۔۔
چمچماتی ٹائلیں، جیسے وہاں کبھی کسی نے قدم ہی نہ رکھا ہو۔
چیزیں ڈھونڈنے میں زیادہ محنت نہیں لگی۔ کیبنٹس پر ڈیجیٹل انداز میں صاف لکھا تھا کہ کس خانے میں کیا رکھا ہے۔
عبیرہ نے کبھی بلیک کافی نہیں بنائی تھی، مگر ایسا بھی نہیں کہ آتی نہ ہو۔
کافی میکر میں کافی شیک کرتے ہوئے، کیٹل میں پانی گرم کیا، اور چند لمحوں میں خوشبو دار کافی تیار تھی۔
ڈش میں رکھ کر وہ آریان خان کے پاس لے جانے کے لیے ہمت سمیٹنے لگی۔
بخار سے تپتا جسم بوجھل تھا، قدم جیسے زمین سے چپک گئے ہوں۔
آنکھوں اور کانوں سے گرم بھاپ سی اٹھ رہی تھی۔
“آواز لبوں تک آئی مگر نکل نہ سکی، جسم نے جیسے ساتھ دینا چھوڑ دیا تھا، آنکھوں کے سامنے سب کچھ دھندلا سا ہونے لگا۔”
═══════❖═══════
عبیرہ کافی بنانے گئی تو آریان خان سوچوں میں کھویا بیٹھا تھا کہ اچانک فون بجنے لگا۔
بیل تھی کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ اسے فوراً اندازہ ہو گیا کہ یہ کال گھر سے آ رہی ہے۔
ایک لمحے کو اس کے لبوں پر ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ ابھری ….. مطلب صاف تھا، خبر جا چکی تھی۔
عبیرہ کے اغوا کی اطلاع اب اس کے گھر والوں تک پہنچ چکی تھی۔
وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ کام یارم خان کا ہی ہوگا۔
یارم کے ذریعے ہی یہ خبر عبیرہ کے باپ تک پہنچی ہوگی۔اور اسکے باپ نے یہ خبر اس کے گھر تک پہنچائی ہوگی۔
سب کچھ اس کی اپنی لکھی ہوئی چال کا حصہ تھا،
بس ایک کردار نے غیر متوقع انٹری دے کر اس کی کہانی کا بہاؤ بدل دیا تھا ۔
فون کی اسکرین پر “بابا” کا نام جگمگا رہا تھا۔
آریان ٹانگ پر ٹانگ رکھے صوفے کی پشت پر پھیل کر بیٹھا تھا، مگر اس کے پاؤں کی بےچینی ظاہر کر رہی تھی کہ اندر سے گھبرایا ہوا ہے۔
مگر آریان خان اپنے باپ سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔
جانتا تھا، وہ سخت اصولوں والے ہیں۔
تبریز خان سے ان کی ناراضی اپنی جگہ درست تھی ۔۔۔ آخر اسی شخص نے ان کی بہن کی زندگی برباد کی تھی۔
مگر وہ کبھی بھی کسی لڑکی کے اغوا کو جائز نہیں کہہ سکتے تھے۔
آریان ڈرتا تو کسی سے نہیں ڈرتا تھا،
مگر باپ سے بات کرتے ہوئے دل ضرور لرزتا تھا۔بحث سے بہتر وہ خاموشی کو سمجھتا تھا۔
فون کی گھنٹی مسلسل بجتی رہی،
ایک بار، دو بار نہیں ۔۔۔ دس بار۔
پھر آریان نے گہری سانس لے کر آنکھیں بند کیں۔
بالآخر فون بند ہو گیا۔
اللہ کا شکر ہے، کم از کم فون بند ہوا۔ اب دوبارہ کال نہ کرے تو بہتر ہے، ورنہ بحث ہوگی، بحث کے بعد ڈرامہ، اور آخر میں وہی پرانا ڈائیلاگ ۔ “باپ سے بات کرنے کی تمیز نہیں”۔ ہلکی سی طنزیہ ہنسی اس کے لبوں پر آئی، سر جھٹک کر وہ خود سے بولا، “بس میرے سننے کوتویہی رہ گیا ۔”
ابھی وہ شکر ادا ہی کر رہا تھا کہ فون کی رنگ ٹون نے کمرے کا سکون بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔
آریان خان نے سرخ ہوتی آنکھوں سے موبائل کی اسکرین کی طرف دیکھا۔
اس بار اسکرین پر روشانے کا نام چمک رہا تھا۔ لمحہ بھر کو وہ رکا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ فون کان سے لگایا۔
“قسم سے صبر نہیں ہے میرے گھر والوں میں، خیر چھوڑو، لگتا ہے مبارک خبر پہنچ ہی گئی ہے تم تک کہ تبریز خان کی بیٹی اب میرے پاس ہے”
لفظوں میں تکبر کی حد تک ٹھہرا ہوا اطمینان تھا، جیسے جیت کا نشہ لہجے میں اتر آیا ہو۔
“ایسی خبریں چھپائے نہیں چھپتیں مسٹر آریان خان، اگر تمہارا ایسا کوئی پلان تھا تو کم از کم مجھ سے بات تو کر لیتے”
روشانے کی شکوہ بھری آواز آریان خان کے کانوں میں پڑی تو اس کے چہرے پر لمحہ بھر کو سختی چھا گئی۔ آواز میں وہی پرانی تلخی تھی، جیسے کسی نے پرانے زخم پر انگلی رکھ دی ہو۔
“آپ جانتی ہیں کہ آریان خان کو اپنی پلاننگ خود کرنا آتی ہے، مجھے یہ بالکل پسند نہیں کہ میں اپنے پلان میں کسی کو شامل کروں”
الفاظ میں غرور ٹپک رہا تھا۔ لہجہ پرسکون مگر کاٹ دار تھا، جیسے ہر لفظ کے ساتھ وہ اپنی برتری جتلا رہا ہو۔
“آریان۔۔۔ میں کوئی نہیں، تمہاری روشنے ہوں، مجھے سب کی لسٹ میں شامل مت کیا کرو”
اس کے لہجے میں ناراضی کے ساتھ ایک ان کہی اپنائیت تھی، جیسے گلہ بھی کر رہی ہو اور حق بھی جتا رہی ہو۔
،،مجھے نہیں لگتا روشانے کہ آپ کو اپنی حیثیت بتانے کی ضرورت ہے،
آج یہ لڑکی جو سزا بھگت رہی ہے اس کی وجہ آپ ہیں،
آپ کے ساتھ جو زیادتی اس کے باپ ماں نے کی، اسی کی سزا یہ لڑکی بھگت رہی ہے،
اس لیے دوبارہ اپنے بیٹے کے پیار پر شک مت کیجیے گا،
اور شکوہ کرنے سے پہلے بس اتنا سوچ لیا کریں کہ میرے بھی کچھ اصول ہیں جنہیں بدلنا میرے لیے آسان نہیں،،
،،ٹھیک ہے آج کے بعد شک نہیں کروں گی، مگر تم بھی مجھ سے کچھ چھپایا مت کرو، مجھے اچھا نہیں لگتا کہ میرا بیٹا مجھ سے کچھ چھپائے،،
،،نہیں چھپاؤں گا، نہیں کچھ بھی آپ سے، مگر بتاؤں گا صرف وہ جس سے آپ کا تعلق ہوگا، جو آپ کو جاننا ضروری ہوگا، کیونکہ آپ اچھی طرح جانتی ہیں میں وہ وعدے نہیں کرتا جنہیں نبھا نہ سکوں،،
،،مگر آریان۔۔۔،،
،،پلیز روشانے، اب اس بات پر بحث مت کیجیے گا، اچھا یہ بتائیں آپ تک خبر کیسے پہنچی؟،،
آریان نے روشانے کی بات بیچ میں کاٹتے ہوئے سیدھی مدّعے پر آنا مناسب سمجھا،
اسے بحث کرنا پسند نہیں تھا، وہ ہمیشہ سے ایسا ہی تھا،،
،،اس کا باپ آیا تھا یہاں پر، دھمکیاں دے رہا تھا کہ تمہیں چھوڑے گا نہیں،،
روشانے نے گہری سانس بھرتے ہوئے کہا،
“دینے دو دھمکیاں۔ اس کی باتوں سے میں ڈرنے والا نہیں۔”
آریان کی آواز میں غرور اور سکون دونوں کی آمیزش تھی۔
“اسے کہو جو کر سکتا ہے کر لے۔ اب تو اس کی بیٹی میرے نکاح میں ہے۔ چاہ کر بھی وہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔”
الفاظ نہیں، اعلان لگ رہے تھے جیسے اپنی ہی جیت پر مہر لگا رہا ہو۔
„تم نے اس سے نکاح کر لیا؟ اریان، تم میرے پاس ہوتے نا، تو میں تمہارے قدم چوم لیتی۔ تم نے مجھے وہ خوشی دی ہے جو برسوں کے دکھ دھو گئی ہے۔ تمہیں اندازہ نہیں، تم نے میرے دل سے بوجھ اتار دیا ہے۔۔۔“
اس کی آواز روہانسی تھی، مگر لہجے میں عجب سا سرور چھپا تھا ۔ جیسے کسی نے اس کے زخموں پر مرہم رکھ دیا ہو، جیسے اس گھٹیا انتقام نے اسے برسوں بعد سکون دیا ہو۔
„کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ روشانے؟ میں آپ کو اپنی ماں کا درجہ دیتا ہوں، اور آپ یہ کہہ کر مجھے گناہگار بنا رہی ہیں کہ آپ میرے قدم چوم لیں گی۔ قدم تو میں خود آپ کے چوم لوں گا،جب روبرو آپ سے مل کر آپ کے چہرے پر یہ خوشی دیکھوں گا ۔“
آریان کے چہرے پر نرم مسکراہٹ ابھری تھی، جیسے روشانے کے لفظوں نے کہیں دل کو چھو لیا ہو۔
„آپ کو اس طرح خوش دیکھ کر میں کتنا مطمئن ہوں، یہ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔ آپ کی خوشی سے بڑھ کر میرے لیے کچھ نہیں۔“
„تو یہ کون سا مشکل کام ہے آریان، ابھی آ جاتی ہوں تمہارے سامنے۔ دیکھ لو خود میرے چہرے کی خوشی۔“
روشانے کی آواز میں شوق اور جیت کا اعتماد تھا۔
“بتاؤ تم کہاں ہو، میں فوراً آتی ہوں۔ اور ویسے بھی… مجھے اس شاطر ماں کی بیٹی سے، اس لڑکی سے ملنا ہے۔“
„آپ خوش ہیں، یہ جان کر مجھے سکون ہے۔ مگر… آپ یہاں نہیں آ سکتیں، اور نہ ہی اُس لڑکی سے ملاقات ممکن ہے۔“
آریان کے لہجے میں نرمی کے پردے میں چھپی ہوئی ایک سختی تھی، جیسے وہ جانتا ہو کہ یہ حد اگر ٹوٹی تو بہت کچھ بکھر جائے گا۔
“کیوں۔۔۔ کیوں میں اس لڑکی سے نہیں مل سکتی؟ کیسے منع کر سکتے ہو تم مجھے اس سے ملنے سے! وہ میری مجرم ہے، یہ مت بھولنا، آریان!”
روشانے کی آواز پہ غصے کی کپکپاتی گونج تھی۔”غلط، روشانے۔۔۔ آپ کی مجرم وہ نہیں، بلکہ اس کے ماں باپ ہیں۔”
“تو پھر تم اس لڑکی کو کیوں لائے ہو۔
اگر وہی مجرم ہیں، تو پھر یہ تماشہ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔۔۔؟
کیا مجھے ہر لمحے یہ دکھ سہنا ہی پڑے گا، آریان؟
کیا انصاف کے نام پر تم مجھے اور زیادہ زخمی کرنا چاہتے ہو؟”
“میں آپ کو تکلیف دینا تو دور، سوچ بھی نہیں سکتا۔
یہ لڑکی اپنے ماں باپ کے کیے گناہوں کا ازالہ کرنے آئی ہے۔
سزا اسے ضرور ملے گی، مگر سزا دینے کا حق صرف میرا ہے، that’s final.”
“جان سکتی ہوں کہ ایسا کیوں؟
آخر کون سا راز ہے جو تم مجھ سے چھپا رہے ہو، آریان؟”
“غلط مت سوچیں، آپ کے اور میرے درمیان کوئی راز نہیں ہے۔۔۔
چاہے دنیا کو دکھانے کے لیے ہی سہی، اس کا نام میرے نام سے جڑا ہے۔”
“تو۔۔۔!” روشانے کی حیرت زدہ آواز گونجی۔
“تو یہ کہ ….وہ میری بیوی ہے اور میں کبھی allow نہیں کروں گا کہ میرے علاوہ کوئی اور اسے سزا دے۔ سزا دینے کا حق صرف مجھے ہے۔”
“میں حیران ہوں آریان! تمہارے قانون کے مطابق تمہیں اس لڑکی کو سزا دینی ہے، مگر اس کے لیے بھی تمہارے قاعدے قانون ہیں۔
ابھی سے اس کے لیے اتنے نرم جذبات پیدا ہو گئے ہیں۔ دھیان رکھو کہیں اس لڑکی سے محبت ہی نہ کر بیٹھو۔
بعد میں پتہ چلے گا جس کو سزا کا اہل سمجھ کر لائے تھے، اس کے عشق میں دیوانے بن کر گھوم رہے ہوں گے!”روشانے کے لہجے سے غصہ صاف چھلک رہا تھا جسے وہ چاہ کر بھی روک نہ سکی ۔
“روشانے۔۔۔ پلیز۔۔۔ اپنی جلن کم کرنے کے لیے ایسے الفاظ مت کہیے جو مجھے تکلیف دیں۔
اگر عبیرہ خان دنیا کی آخری لڑکی بھی ہو، تب بھی آریان خان کبھی اس کی محبت میں مبتلا نہیں ہو سکتا۔
اس لیے اپنا خون جلانا بند کریں، میرے بیچ میں کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔
بے فکر رہیے۔۔۔”
“یہ تو وقت بتائے گا کہ کون کس کے عشق میں گرفتار ہوگا اور کون نہیں
تم نے تو ابھی سے اپنے رنگ بدل لیے ہیں، یقین کرنا اتنا آسان نہیں ۔
اور ویسے بھی، میں کیسے بھول جاؤں کہ وہ اس عورت کی بیٹی ہے، جس نے میرے ہستے بستے گھر کو چند دنوں میں اجاڑ کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔
میری محبت کی شادی کو بربادی میں بدل دیا۔۔
جس لڑکی کی ماں نے تبریز خان جیسے مضبوط آدمی کو اپنا گرویدہ بنا لیا، تو تم کس کھیت کی مولی ہو۔
“روشانے یہ سب کچھ آپ کے اندر کا غصہ بول رہا ہے، ورنہ اچھی طرح جانتی ہیں آپ مجھے۔۔۔۔آریان خان ہوں، میں اتنی آسانی سے کوئی مجھے اپنا گرویدہ نہیں بنا سکتا۔
اس دنیا میں ایسی کوئی لڑکی نہیں ہے جو مجھے اپنا گرویدہ بنا سکے۔
ہاں وہ بات الگ ہے کہ میرے حسن سے متاثر ہو کر ہزاروں میرے آگے پیچھے گھومتی ہیں۔
چلو، دل بڑا کر کے آپ ان میں ایک نام عبیرہ کا بھی لکھ لو۔۔۔”
روشانے کی آنکھوں میں غصے کی آگ اور دل کے اندر بے چینی کا طوفان تھا، ہر لفظ پر اس کا ہاتھ کانپ رہا تھا۔ دل چاہتا تھا کہ آریان کو اپنی آنکھوں میں اترنے والی نمی دکھا کر خاموش کروا دے۔مگر اس وقت فون پر صرف اپنی دکھی آواز سنا سکتی تھی شکل نہیں۔
“آریان، میں نے تمہارا سر پھاڑ دینا ہے۔
ایسی باتیں، ایسے مذاق، میرے وجود کو آگ لگا دیتے ہیں۔”
ضبط کے باوجود روشانے کی آواز میں لرزش تھی، اور اپنے ہی ہر لفظ کے پیچھے چھپی تلخی اس کے دل کو جلا رہی تھی۔
“اچھا، سر پھاڑنے کی ضرورت نہیں ہے، مذاق کر رہا ہوں۔
بے فکر رہیے، میں اس لڑکی کو صرف اور صرف آپ کا بدلہ لینے کے لیے لایا ہوں، عشق لڑانے کے لیے نہیں۔۔۔
اور ہاں، دوبارہ فون مت کیجئے گا۔
کچھ دن میرا فون بند رہے گا، تو رابطہ نہیں ہو سکے گا۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔”
آریان کے لہجے میں عموماً جو سکون اور خود اعتمادی نظر آتی تھی، وہ اب ہلکی سی اضطراب سے دھندلا گئی تھی۔ دل کے اندر چھپی بے چینی اور توقع، اور شاید ایک نامعلوم کشش، اس کے مضبوط رویے کے بیچ آہستہ آہستہ ہلچل مچا رہی تھی، لیکن وہ اسے ابھی ظاہر کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
“مگر آریان بھائی صاحب بہت غصے میں ہیں، ان سے ایک بار بات تو کر لو۔۔۔”
“بات کرنے سے ان کا غصہ کون سا ختم ہو جانا ہے۔۔۔
اور میں اس وقت کسی کا بھی لیکچر سننے کے موڈ میں نہیں ہوں۔۔۔”
‘پلیز۔۔۔ آریان، ایسے فون بند مت کرنا، اگر رابطہ ختم ہو گیا تو معاملات اور خراب ہو جائیں گے۔۔۔'”
اس کے الفاظ میں ہلکی سی چالاکی اور ہوشیاری چھپی تھی، آواز میں تھوڑی لرزش تھی مگر ہر لفظ میں وہ اپنی حکمت اور محتاط حرکت کو ظاہر کر رہی تھی،
“مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، فی الحال تو مجھے وہ کرنا ہے جو میں نے برسوں سے سوچا ہے۔اور میرے راستے میں جو کوئی بھی رکاوٹ بنے گا، میں اس سے رابطہ ختم کر دوں گا۔۔۔”
آریان کے الفاظ میں پختہ اعتماد اور طاقت جھلک رہی تھی۔ ہر لفظ فیصلہ کن تھا، اور آواز میں وہ سختی تھی جو ظاہر کرتی تھی کہ کوئی بھی رکاوٹ اسے اپنے مقصد سے نہیں روک سکتی۔ اس کا ارادہ لوہیں کے جیسا مضبوط تھو۔۔
آریان مجھے اس طرح کی دھمکیاں مت دو۔ میں کیوں رکاوٹ بنوں گی، میں تو خوش ہوں کہ کوئی تو ہے جسے میری تکلیف کا احساس ہے، کوئی تو ہے جو میرے لیے قدم اٹھا رہا ہے۔ میں بہت خوش ہوں کہ کوئی تو اس لڑکی کو سزا دینے کے لیے تیار ہے ۔
تو پھر ٹھیک ہے، مجھے اپنے مقصد میں کامیاب ہونے دو اور پلیز، اس وقت میں آرام کرنا چاہتا ہوں۔فون بند کر دو۔ذرا سی بھی لچک لیے بنا، سیدھا اور دو ٹوک بول دیا تھا۔ اُسے اس بات کی پرواہ نہ تھی کہ اس کے الفاظ کسی کے دل پر کیا اثر چھوڑیں گے۔
“بہت ہی سٹریٹ فارورڈ ہو تم… بندہ کبھی بات ذرا پیار سے، لحاظ سے بھی کہہ سکتا ہے، مگر نہیں۔تمہیں تو سب کچھ سیدھا کہنا آتا ہے۔ اچھا، فون بند کرو۔
روشانے نے شکوہ کیا ۔
“روشنے میں تو ایسا ہی ہوں… اور آپ تو جانتی ہیں، میں بات گھما کر نہیں کرتا۔”
“جی ہاں، جانتی ہوں جناب کو… دل توڑنے کی عادت ہے۔ کرو تم آرام… بیسٹ آف لک۔”
وہ مدھم لہجے میں بولی، لہجے میں چبھن ابھی باقی تھی۔ آریان چند لمحے اس کے درد کو محسوس کرتا ہوا خاموش رہا، کچھ کہنا چاہا، مگر الفاظ جیسے ہونٹوں تک آکر رکھ گئے تھے ۔۔۔
“تھینک یو، روشانے۔”
چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اس کے لہجے میں نرمی اتر آئی تھی، جیسے اکڑ کے نیچے چھپی انسانیت نے سانس لیا ہو۔
“تھینک یو کس لیے؟”
روشن نے پوچھا۔
آریان کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری،
“مجھے اتنی اچھی طرح سے سمجھنے کے لیے۔”
“اپنا تھینک یو اپنے پاس رکھو… پہلے دل توڑ دیتے ہو اور پھر مسکرا کر تھینک یو اور سوری کہہ کر بات ختم کر دیتے ہو۔”
روشانے نے خفگی سے کہا۔
“ایسا بالکل نہیں ہے۔ آپ جانتی ہیں، میں آپ کا دل کبھی نہیں توڑ سکتا۔ مگر جو میرا لہجہ ہے، میں اسے بدل نہیں سکتا۔ اگر آپ یہ بات نہیں سمجھیں گی تو پھر کون سمجھے گا؟”
“اور ویسے، آپ نے غلط کہا ہے، روشانے…”
“میں سوری اور تھینک یو کہہ کر بات ختم نہیں کرتا۔ مت بھولیے، میرا سوری اور میرا تھینک یو صرف آپ کے لیے ہوتا ہے۔ورنہ میں اتنی آسانی سے نہ کسی کو سوری کہتا ہوں، نہ تھینک یو۔”
آریان خان کے لہجے میں وہی غرور تھا،
جو ہمیشہ اسے پرکشش تو بناتا،
مگر روشانے کے لیے اکثر یہی رویہ ۔ یہی لہجہ ۔تکلیف کا باعث بن جاتا تھا۔
“جانتی ہوں کہ میرا آریان ایسا ہی ہے… جناب کو سوری، تھینک یو کہنا پسند نہیں۔”
“پلیز… جہاں بھی رہنا، اپنا دھیان رکھنا، اور جب بھی موقع ملے، مجھے اپنے بارے میں آگاہ کرتے رہنا۔
تم جانتے ہو، مجھے تمہاری بہت فکر ہوگی…”
“انشاءاللہ، انفارم کرتا رہوں گا… مگر پلیز، کسی کو بتانا مت کہ آپ کے مجھ سے بات ہو رہی ہے۔
“یہ کہنے کی ضرورت نہیں… بے فکر رہو، تم جانتے ہو، تمہاری باتیں میں کسی سے شیئر نہیں کرتی۔
“ٹھیک ہے، اللہ حافظ، جب ممکن ہوگا تو رابطہ کر لوں گا۔
“مگر آریان، مجھے یہ تو بتا دو کہ تم ہو کہاں…فون بند ہونے سے پہلے اس نے آخری بار یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر وہ ہے کہاں۔۔
“فلحال تو پاکستان میں ہوں، مگر آج رات کی فلائٹ سے میں ملک سے باہر جا رہا ہوں، اور کہاں جا رہا ہوں یہ مت پوچھو… کیونکہ میں نہیں بتاؤں گا۔
“ویسے، اگر مجھے بتا دو کہ تم کس کنٹری جا رہے ہو تو کچھ بگڑے گا نہیں…”
روشانے کے لہجے میں نرمی بھی تھی اور ضد بھی۔
“تم اچھی طرح سے جانتے ہو، میں راز رکھنا جانتی ہوں۔
اور میں اس راز کو کسی سے کیوں بتاؤں گی…؟
جس میں فائدہ بھی میرا ہے، اور نقصان بھی میرا۔”
“پلیز… سمجھنے کی کوشش کیا کریں،”
آریان خان کا لہجہ سخت مگر تھکن سے بوجھل تھا۔
“بچوں کی طرح ہر بات پر ضد کرنا اچھی بات نہیں۔ اور آپ جانتی ہیں، جب میں نے کہہ دیا کہ نہیں بتاؤں گا،
تو پھر ہزار کوششوں کے بعد بھی نہیں بتاؤں گا۔”
وہ لمحہ بھر کو رکا، سانس بھری اور لہجے میں ایک سرد ٹھہراؤ آیا۔
“مگر جہاں بھی رہوں گا، آپ کو اپڈیٹ کرتا رہوں گا۔
کچھ دن تبریز خان اور عروب کو اپنی بیٹی کے لیے تڑپنے دو…
انھیں بھی تو احساس ہو کہ جب اپنے ہی تکلیف میں ہوتے ہیں، تو اذیت کیسی لگتی ہے۔”
“چلو ٹھیک ہے، اب میں فون رکھتا ہوں۔ آپ اپنا خیال رکھنا…”
آریان خان نے یہ کہہ کر فون بند کیا اور ساتھ ہی پاور آف کر دیا،
تاکہ کوئی دوبارہ اسے ڈسٹرب نہ کرے۔فون بند ہوتے ہی آریان خان نے ایک لمحے کو سکوت محسوس کیا
پھر اچانک دل میں ایک بےچینی سی جاگی
خیال آیا عبیرہ کافی بنانے گئی تھی مگر اب تک لوٹی کیوں نہیں
پہلے حیرت ہوئی پھر وہی غصہ اس کے حواس پر سوار ہونے لگا۔ وہ ایک گہری، بوجھل سانس لیتا ہوا کمرے سے نکلااور سیدھا کچن کی جانب بڑھ گیا۔
تیز قدموں سے وہ کچن کی طرف بڑھا چند قدموں میں ہی فیصلہ طے کر چکا تھا۔
/
“کافی بنا رہی ہو یا پائے پکا رہی ہو”غصے بھرے لہجے میں پوچھا۔
مگر اگلا منظر دیکھ کر اس کے لب خودبخود خاموش ہوگئے
زمین پر عبیرہ بے ترتیب گری ہوئی تھی
بال فرش پر بکھرے کچھ چہرے سے بکھرے ہوئے تھے
کافی کا مگ ایک طرف گرا ہوا تھا
اور فرش پر پھیلا بھورا داغ گواہی دے رہا تھا۔کہ وہ کافی اس کے ہاتھوں اور جسم پر بھی گری ہوگی۔
شاید سائیڈ کے بل گرتے ہوئے اس کا ماتھا۔کسی کیبنٹ یا فرش سے ٹکرا گیا تھا
کیونکہ سفید پٹی اب خون سے گہری لال ہو چکی تھیوہ بے جان سی بے ہوش پڑی تھی۔
“او مائی گاڈ”
آریان خان کے لبوں سے بے اختیار نکلا
اور وہ جھٹ سے گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا۔اس نے ہاتھوں سے اس کے چہرے سے بال ہٹائے
اور اس کی سانسیں چیک کی جو مدھم چل رہی تھیں ۔۔/
آریان نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر عبیرہ کو بانہوں میں اٹھایا،اس کے وجود کا بوجھ جیسے اس کے اپنے دل پر اتر آیا ہو
۔تیز قدموں سے چلتا ہوا وہ روم میں آیا
نرمی سے بیڈ پر لٹایا اور تکیے پر اس کا سر رکھا
پھر آہستگی سے کمبل اس کے وجود پر پھیلا دیا۔اس کا جسم تپش سے جل رہا تھا
پیشانی پر پسینے کی ننھی بوندیں
دکھ کی کہانی کی مانند چمک رہی تھیں
آریان نے ایک لمحے کو رک کر اسے دیکھا۔ماتھے پر بندھی پٹی مکمل طور پر خون میں بھیگ چکی تھی
گرم کافی اس کے جسم پر گری تھی
شرٹ پیٹ کے پاس سے بھیگی ہوئی تھی
اور نرم ہاتھوں پر جلنے کے نشانات اب سرخی بن کر ابھر آئے تھے۔
آریان خان کے چہرے پر گھبراہٹ صاف جھلک رہی تھی
وہ تقریباً بھاگتا ہوا ساتھ والے کمرے سے فاسٹ ایڈ باکس لے آیا
عبیرہ کے ہاتھوں پر آئنٹمنٹ لگاتے ہوئے
اس کے لبوں سے بے اختیار ہلکی پھونکیں نکل رہی تھیں۔۔۔جیسے ہر پھونک میں کسی ان کہی معذرت کا احساس چھپا ہو۔۔
عبیرہ بے سدھ، بے ہوش پڑی تھی
ایسی کیفیت شاید آریان نے زندگی میں پہلی بار دیکھی تھی
اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ پہلے
ماتھے کے زخم کو سنبھالے یا جلے ہوئے ہاتھوں کا علاج کرے۔یہاں اس کی شرٹ ہٹا کر دیکھیں کہ چائے سے اس کا پیٹ بھی جل گیا ہے ۔مگر جب کچھ سمجھ نہیں آیا اس نے کمرے میں رکھی ہوئی،ٹیبل پر پانی سے بھرا ہوا جگ اٹھایا،ہتھیلی میں کچھ پانی بھرتے ہوئے ،نرمی سے اس کے چہرے پر چھینٹےمارے۔۔
کچھ دیر بعد عبیرہ کی پلکیں ہلنے لگیں
اور وہ ہلکی سی جنبش کے ساتھ گھبرا کر ہوش میں آنے لگی۔ہوش میں آتے ہی اس نےگھبرا کر آریان کی جانب دیکھا ڈر اس کی آنکھوں سے صاف دکھائی دے رہا تھا۔
“مم… مم… میں نے ج… جان بوجھ کر کافی نہیں گرائی… مجھے سچ میں پتہ نہیں چلا…”آریان خان کو اپنے قریب جھکا ہوا دیکھ کر، عبیرہ کے ہوش بحال ہوئے تو ٹوٹتے لفظوں سے بتاتے ہوئے اس نے جھٹکے سے اٹھنے کی کوشش کی، مگر اگلے ہی لمحے اس کا ماتھا آریان کے ماتھے سے ٹکرا گیا۔
آہ ہ ہ۔۔۔۔درد سے چیخ اس کے لبوں سے نکلی، سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ واپس تکیے پر گر گئی۔ خون پہلے سے تیز بہنے لگا تھا، اور باریک سی سرخ لکیر اس کی پیشانی سے بہہ کر آنکھ کے کنارے سے چہرے تک جا پہنچی تھی۔
“ششش…” آریان نے جھک کر اس کے لبوں پر انگلی رکھ دی۔
“خاموش ہو جاؤ۔ اب مجھے تمہاری آواز نہیں سنائی دینی چاہیے، اور اپنی جگہ سے ہلنا مت۔”سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ سختی سے بول رہا ہے یا فکر سے۔
“ق… قسم سے، میں نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا…” وہ سسکیاں لیتے ہوئے بولی، آنکھوں میں ڈر اور لرزتی ہوئی بےبسی صاف جھلک رہی تھی۔
“میں نے کہا چپ!” آریان کے لہجے میں حکم تھا، مگر اس کے اندر کہیں اضطراب بھی چھپا ہوا تھا۔
“میں خود دیکھ لوں گا کہ تم نے کیا جان بوجھ کر کیا ہے، اور کیا نہیں۔”
وہ جھک کر نرمی سے عبیرہ کی پیشانی پر بندھی پٹی کھولنے لگا۔ جیسے ہی پٹی کے کنارے کو چھوا، عبیرہ نے تڑپ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، اور وہ سسکتے ہوئے بولی،
“مجھے درد ہو رہا ہے… پلیز… مت اتاریں۔”
“ہاتھ چھوڑو!” آریان نے مختصر، مگر بھاری آواز میں کہا۔
“نہ… نہیں پلیز، مجھے درد ہوگا!”
“نہیں ہوگا، آرام سے اتاروں گا۔”
“آپ کو نہیں پتہ، مجھے پہلے ہی بہت درد ہے… پلیز، آپ کوئی بھی سزا دے دینا، مگر بینڈج مت اتاریں!”
وہ بچوں کی طرح روتے ہوئے آریان کا ہاتھ روکے کھڑی تھی۔ آریان نے گہرا سانس لیا، چہرے پر ضبط کی لکیر تھی۔
“تمہیں کب اور کیا سزا دینی ہے، یہ تم مجھے مت بتاؤ… ہاتھ چھوڑو، ورنہ میں خود کھینچ کر اتار دوں گا!”
ڈر کے مارے عبیرہ نے ہاتھ تو چھوڑ دیا، مگر سسکیاں مزید تیز ہو گئیں۔
“ششش…” آریان نے انگلی دوبارہ اس کے لبوں پر رکھ دی۔
“چپ۔ ایک دم چپ۔ آواز نہیں آنی چاہیے۔”
اس کی انگلی کی سختی نے عبیرہ کو خاموش کر دیا۔ ڈر سے اس کی آواز حلق میں ہی دب گئی۔
“م… میرے سر میں درد ہو رہا ہے…” وہ آہستہ سے بولی۔۔
“برداشت کرو۔”
“پلیز بینڈج مت اتاریں نا … میں مر جاؤں گی!” عبیرہ کی حالت قابل رحم تھی۔
آریان کی آنکھوں میں لمحہ بھر کے لیے نرمی اتری، مگر لہجہ پھر وہی سخت تھا۔
“اتنی آسانی سے تمہیں مرنے نہیں دوں گا۔”
جیسے ہی پٹی کو ہٹانے لگا، عبیرہ کی چیخ پورے کمرے میں گونج اٹھی۔
“تم بچی ہو کیا؟ جو پاگلوں کی طرح چلائے جا رہی ہو؟ تھوڑا صبر کرو، مجھے بلڈ صاف کرنے دو!”
وہ گھور کر بولا، مگر اس کی آواز میں اضطراب بھی چھپا تھا۔ عبیرہ نے مارے ڈر کےچیخنا بند کر دیا،مگر سسکیوں کو نہیں روک پا رہی تھی۔
درد کے مارے اس نے آریان کے بازو کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اس کی انگلیاں آریان کے بازو کی جلد میں دھنسنے لگیں۔ آریان نے ضبط کرتے ہوئے کچھ نہ کہا، مگر اس کے ماتھے پر رگیں ابھر آئیں۔
عبیرہ کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے، جیسے ہر بوند اس کی تکلیف کا بوجھ کم کر رہی ہو۔ مگر آریان خان نے زخم کو اچھی طرح سے صاف کیا۔
روئی کو نم کر کے اس نے بڑی احتیاط سے عبیرہ کے گال اور آنکھ کے کنارے سے خون صاف کیا،
روئی کو ڈسٹ بین میں پھینکتے ہوئے وہ لمحہ بھر کے لیے اس نے عبیرہ کی حالت کو غور سے دیکھا۔ عبیرہ کے ہاتھ ہلکے ہلکے کپکپا رہے تھے، جیسے وہ خود کو رونے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہو۔
وہ اپنے درد میں نڈھال تھی ۔
مگر ڈریسنگ کرتے ہوئے۔آریان کی نگاہیں اس کے چہرے پر رکیں، مگر بہت جلد آریان خان نے سر کو جھٹکتے ہوئے نظروں کو ہٹا لیا۔ ایک خفیف سا اثر وہاں سے گزرا، ایک مدھم لرزش، جو صرف دل کے اندر محسوس ہوئی۔کوئی آواز یا حرکت نہیں، بس ایک خاموش، گذرتی سی لہر۔ڈریسنگ مکمل ہو چکی تھی۔
مگر اس کے چہرے پر وہ سخت اکڑ اور نفرت چھپی ہوئی تھی، اور پھر بھی کہیں گہری خاموشی میں ایک چھوٹی سی انسانیت کی جھلک، محسوس کی جا سکتی تھی۔
“آرام سے لیٹی رہو…..دو منٹ میرا انتظار کرو، تمہارے لیے فروٹس لے کر آتا ہوں…” آریان نے ہلکے لہجے میں کہا،
“تم نے تو مجھے بہت اچھی کافی پلا دی ہے…” لہجے میں طنز کا تیر عبیرہ کی طرف پھینکا گیا تھا۔
“کافی بناتے بناتے لگتا ہے میڈم، بہت تھک گئی ہیں…” وہ طنزیہ انداز میں بولا اور روم سے نکل گیا۔
عبیرہ اس وقت نہ تو اس کے طنز پر دھیان دے رہی تھی،
نہ اس کی چبھتی ہوئی نظروں کا بوجھ محسوس کر پا رہی تھی۔
اس میں اب بولنے کی ہمت نہیں تھی،
نہ ہی اتنی سکت کہ کچھ سمجھ سکے۔
بخار اور درد نے اس کے شعور کی ساری راہیں جیسے بند کر دی تھیں۔
وہ صرف تکیے پر نیم بے ہوشی میں پڑی
سانسوں کے ہلکے اتار چڑھاؤ کے ساتھ
خاموشی سے اپنی تکلیف میں الجھی ہوئی تھی۔
═══════❖═══════
Ye qist novel “Saleeb Sukoot” ki ek qist hai, takhleeq Hayat Irtaza, S.A ki.Agli qist mutalea karne ke liye isi novel ki category “Saleeb Sukoot” mulaahiza karein, jahan tamaam qistain tartiib war aur baqaida dastiyaab hain.💡 Har nai qist har Itwaar shaam 8:00 baje shaya ki jaayegi.