|

Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:16

صلیب سکوت
از حیات ارتضیٰ
قسط نمبر:16
═══════❖═══════
یہ جملہ عبیرہ کے دل پر گہری چوٹ کی طرح اتر گیا۔

عبیرہ نے ضبط کو مٹھیوں میں بھینچتے ہوئے کہا،
“سن چکی ہوں… کہ وہ میرے بابا نہیں ہیں… بار بار یاد دلانے کی ضرورت نہیں…”
وہ ضبط کا سہارا لے رہی تھی، ورنہ اس کے دل کی آگ تو سامنے کھڑے شخص کو راکھ کر دیتی۔

آریان کے ہونٹوں پر پھر وہی طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی…
جسے دیکھ عبیرہ کے دل میں ایک گھٹتی ہوئی ہوا کی طرح درد اٹھا ۔جس کو ساری زندگی اپنا باپ سمجھا ، وہ دراصل اس کا باپ ہی نہیں تھا؟
اس بے بسی کا مذاق اڑایا جا رہا تھا، رحم یا احساس کا کوئی نام و نشان نہیں…
ہر طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اس کی روح پر ایک چپ چاپ بھاری چھاپ پڑتی گئی، اور عبیرہ اپنے آنسو چھپانے کی ناکام کوشش میں مزید لرزتی رہی۔وہ جانتی تھی کہ اس کے آنسوں سامنے کھڑے شخص کو بہت سکون دے رہے ہیں۔مگر تکلیف اس قدر تھی کہ آنسوں خود با خود نکل رہے تھے۔

‘‘پلیز یار یہ رونا بند کرو… مجھے رونے والی عورتیں زہر لگتی ہیں… خیر تم تو مجھے ہر صورت زہری لگتی ہو… مگر بھر بھی رویا مت کرو… میرے گھر میں منحوسیت مت پھیلاؤ…’’لہجہ زہر سے زیادہ کڑوا مگر لبوں پر تنزیہ سی بے اواز مسکراہٹ سجائے ہوئے تھا۔

عبیرہ لمحہ بھر کو ساکت ہوئی…
جیسے اس کے اندر کہیں سے آواز اُٹھی ہو کہ بس… اب اور نہیں سہنا چاہیے… مگر پھر وہی پرانی سانس، وہی گھٹن…اس کی قید میں ہے یہ مجبوری اسے چپ رہنے پر مجبور کر گئی۔

“ایسے کیا آنکھیں پھاڑ کر دیکھ رہی ہو؟رونے سے گھر میں منحوصیت آتی ہے اسی لیے منع کر رہا ہوں….
آریان کی آواز میں وہی سفاک طنز…
ایسا لہجہ جیسے کسی پتھر نے کسی نازک شیشے کا مذاق اڑایا ہو…
اس کے لفظوں میں ذرا سا بھی ٹھہراؤ نہیں تھا، ذرا سا بھی احساس نہیں…
ایک ڈانٹ… ایک زہر… اور ایک حکم… سب ایک ساتھ اس کے اوپر انڈیلا گیا۔

گھر کے گرم کمرے میں، اس کی روح پر کہر اتر آیا…
عبیرہ نے دھیرے سے نظریں نیچی کیں…
جیسے اپنے اندر کی لرزش چھپانے کے لیے وہ اپنے وجود کو ہی اوڑھ رہی ہو…
رونا اس کے اختیار میں کب تھا…؟
وہ تو خود کو سنبھالنے کی ہر کڑی کوشش سے تھک چکی تھی…
مگر آریان…
وہ اس کی تھکن بھی نہیں سمجھ سکتا تھا…
یا شاید
سمجھ کر بھی سمجھنا نہیں چاہتا تھا۔

” فرمانبردار بیویوں کی طرح شوہر کا حکم ماننا سیکھ….میری عزت، میرا احترام…اور میرا حکم ماننا… تم پر فرض ہو چکا ہے…

شوہر… اس لفظ پر زور دیتے ہوئے، آریان خان نے جان بوجھ کر عبیرہ کی آنکھوں میں گھورتے ہوئے مسکراہٹ پھیلائی۔
ایک مسکراہٹ جس میں چھپی تھی طاقت، اختیار اور ہلکی سی طنزیہ چمک…
عبیرہ کے دل میں ایک سرد لہر دوڑ گئی، جیسے ہر ضرب، ہر مسکراہٹ اس کے اندر چھپی نفرت اور اضطراب کو مزید جھنجھوڑ رہی ہو۔

عبیرہ کے دل میں ایک کڑواہٹ پھیل گئی۔
“عزت…؟ تمہاری عزت کا مقبرہ بنا کر اس پر پھول نہ چڑھا دوں…”
وہ منہ میں بڑبڑائی، ایک خاموش غصے کے ساتھ، جو بس اس کے سینے میں اُبل رہا تھا۔

آریان فوراً بولا،
“کیا سوچ رہی ہو…؟”

وہ لمحہ بھر کے لیے خاموش ہوئی، مگر آریان فوراً اس کے خیال تک پہنچ گیا۔
عجیب آدمی… عبیرہ کے ذہن کی ہر آہٹ، ہر لرزش تک اس کی رسائی تھی۔

“کیوں…؟ سوچنے پر بھی پابندی ہے…؟ سوچنے پر بھی پہرے ہیں…؟”
عبیرہ نے آنسوؤں کی نمی میں بھیگی، سرخ آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا…
اس کی بھیگی پلکیں، سرخ آنکھیں… رو کر اور بھی حسین لگ رہی تھیں…
درد میں بھی ایک خاموش سی روشنی جل رہی تھی، جیسے دل کے زخم اپنی کہانی سنانے لگے ہوں۔

عبیرہ کی بھیگی ہوئی پلکوں پر کھڑے آنسوں کے قطروں کو دیکھتے ہوئے، آریان خان نے محسوس کیا کہ اس کے حلق سے تھوک گلٹی کی طرح نیچے اتر گئی، جیسے گلا خشک ہو گیا ہو۔

ایک لمحے کے لیے اس نے خود کو مضبوط سمجھا اور اپنی نظروں کو عبیرہ کے چہرے سے ہٹا لیا… مگر ابھی اس کی بات کا جواب دینا باقی تھا۔

اس لیے رخ واپس اس کی جانب موڑا، اپنے آپ کو مضبوط دکھاتے ہوئے…
“تمہاری سوچوں پر بھی میرے پہرے ہیں… اس لیے دماغ میں بھی میرے لیے اچھا سوچنا تم پر فرض ہے، سمجھی؟”

عبیرہ کے دل کی دھڑکن تیز تھی، آنکھیں بھیگی اور ہلکی سی لرزش ان کے ہونٹوں تک آ رہی تھی۔
اس کے اندر نفرت، خوف اور اضطراب کے ایک ساتھ طوفان کھڑا تھا…
ہر لفظ، ہر نظریہ اسے یاد دلاتا تھا کہ یہ رشتہ اس کی مرضی کے بغیر ہے، اور یہی زبردستی اس کے دل میں مزید غصہ اور نفرت پیدا کر رہی تھی۔

چل… یہ رونی شکل پر…. مسکراہٹ لاؤ…
تمہارے لیے خوشخبری ہے کہ مجھے فکر ہے کہ تمہیں بھوک لگی ہوگی۔
اس لیے میں کہنے آیا ہوں کہ کھانے کے معاملے میں بالکل بھی لاپرواہی مت کرنا۔
بھئی… شوہر ہو تمہارا… تمہارے کھانے کا خیال رکھنا تو میرا فرض ہے، نا؟

کچھ دیر بعد جو تم نے کہنا ہے، اس کا انتظام میں نے سوچا ابھی کر دوں…
تم مانو یا نہ مانو، میں تمہارا شوہر ہوں… اس لیے تمہیں پیٹ بھر کھانا فراہم کرنا میری ذمہ داری ہے۔

وہ بات کو جتنے سیدھے انداز میں بول رہا تھا بات اتنی سیدھی لگ نہیں رہی تھی۔ اس کی نظروں میں چھپی تھی ہلکی سی شیطانیت…
اور لبوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ… جو عبیرہ کے دل میں سرد لہر دوڑا رہی تھی۔کچھ نہ کچھ تو وہ ضرور سوچ کر آیا تھا۔جو اس کی آنکھوں سے ظاہر ہو رہا تھا۔
مگر اس وقت وہ اس انسان سے بحث نہیں کرنا چاہتی تھی۔
اسے شدید بھوک کا احساس ہو رہا تھا، اور اس کے لیے یہی غنیمت تھی کہ وہ اسے کھانا فراہم کرنے والا تھا…مگر اگلے ہی پل، اس کے سارے بھرم ٹوٹ کر چور ہو گئے…

‘‘چلو شاباش… اچھی بیویوں کی طرح کچن میں اپنی تشریف کا ٹوکرا لے کر جاؤ۔ کچن میں سب کچھ پڑا ہے، ذرا اپنے خوبصورت ہاتھوں کو زحمت دیتے ہوئے ناشتہ تیار کرو…’’

وہ جیسے فیصلہ سنا رہا تھا۔
جملے میں طنز بھی تھا، حکم بھی، اور اپنی مرضی کی وہی سختی بھی۔

وہ کہہ کر پلٹا…
عبیرہ کی طرف دوبارہ دیکھنے کی زحمت تک نہ کی…
بس سیدھا روم کی طرف چل دیا، قدموں میں وہی غرور، وہی بے نیازی۔

عبیرہ تو چند لمحے پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہ گئی۔
اسے یقین ہی نہیں آیا تھا کہ اس نے یوں کہا ہے۔
دل میں ایک ہلکا سا دھچکا لگا، مگر وہ خاموش رہی…
سانس ایک لمحے کو اٹک گئی۔

‘‘مگر… میرے ہاتھوں پر کافی گرنے کی وجہ سے… میرے ہاتھوں میں درد ہے… مجھ سے ناشتہ نہیں بنے گا…’’
اس کی آواز میں سچائی تھی، بے بسی تھی…
اور شاید تھوڑا سا ڈر بھی… کہ پتہ نہیں اب وہ پلٹ کر کیا بولے گا۔

‘‘It’s not my matter… it’s your matter…’’

وہ ایک ابرو اٹھا کر بے پروا لہجے میں بولا اور بغیر اس کی طرف دیکھے اپنے روم کی طرف بڑھ گیا۔
ایسے جیسے اسے واقعی کوئی فرق نہیں پڑتا۔
حالانکہ اسے اچھی طرح پتہ تھا کہ عبیرہ کے ہاتھ جلے ہوئے ہیں۔
اور وہ ناشتہ نہیں بنا سکتی۔

عبیرہ چند لمحے خاموش کھڑی رہی، پھر جلدی سے اس کے پیچھے گئی۔مجبوری تھی ورنہ وہ کبھی اس شخص کی جانب اپنے قدم نہ بڑھاتی۔

‘‘پلیز میری بات سنیں… مجھ سے سچ میں ناشتہ نہیں بنے گا… آپ میرے ہاتھ تو دیکھیں…’’

وہ اس کے سامنے آکر رک گئی۔
دونوں ہاتھ آگے کیے ہوئے…
کافی سے جلی ہوئی ہتھیلیاں واضح تھیں۔
آواز میں ہلکی سی بے بسی… جیسے شاید وہ اس پر ایک نظر ڈال لے۔

مگر وہ اس کے جلے ہوئے ہاتھوں کو دیکھ کر بھی مسکرا رہا تھا۔
جیسے عبیرہ کی تکلیف اس کے دل تک پہنچی ہی نہ ہو۔
‘‘میں جانتا ہوں تمہارے ہاتھ جلے ہوئے ہیں…’’
وہ آہستہ سے بولا، مگر لہجے میں نرمی کا ایک ذره نہیں تھا۔
‘‘یہ بھی جانتا ہوں کہ تم سے ناشتہ نہیں بنے گا…’’

ایک پل کو وہ رکا، مسکراہٹ جیسے اور گہری ہو گئی۔

‘‘مگر مجھے اس سب سے کوئی لینا دینا نہیں۔
مجھے ناشتہ چاہیے… تو چاہیے۔
سمجھی تم۔’’

اس کے لفظ ٹھنڈے تھے۔ سخت بھی۔
کمرے کی خاموشی لمحہ بھر کو ٹھہر گئی…
جیسے دیواروں نے بھی یہ بے رحمی سن لی ہو۔

‘‘آپ کتنے بے حس اور سفاک انسان ہیں…’’
عبیرہ کے لہجے میں کانپتی ہوئی آگ تھی۔
‘‘آپ کو کسی کی تکلیف کا احساس کیوں نہیں ہوتا؟’’

وہ غصے سے بولی…
مگر اس غصے کے پیچھے خوف، تکلیف اور بے بسی سب ایک ساتھ لرز رہے تھے۔

عبیرہ کے ہاتھ اب بھی اس کے سامنے تھے…
جلے ہوئے… سرخ… اور دکھ سے بھرے ہوئے۔
مگر آریان کے چہرے پر کوئی ہلچل نہیں آئی۔

اس نے بس ایک نظر اس پر ڈالی
وہی ٹھنڈی، وہی بے نیازی والی گہری نظر…
جیسے کسی نے اس کے دل سے احساس نکال کر دل کو سائلنٹ موڈ پر کر دیا ہو۔۔
وہ ذرا سا کان کے قریب جھکا جیسےسرگوشی کر رہا ہو۔

“ڈارلنگ احساس ہوتا …..اگر تم مجھے رات کو اسلامی طرزِ عمل پر جینے کے لیکچر نہ دیتی تو۔۔۔
سرگوشی کرتے ہوئے واپس اس کے سامنے ہی دونوں ہاتھ باندھے ہوئے کھڑا ہو گیا تھا۔

مطلب ۔۔؟عبیرہ نے حیرانی سے پوچھا۔

“مطلب! یہ کہ اگر اسلام میں بیوی کے لیے اتنا کچھ کہا گیا ہے جس پر مجھے چلنے کی ضرورت ہے تو میرے خیال سے تمہیں بھی پتہ ہونا چاہیے کہ بیوی ہونے کے ناطے تمہارا فرض ہے کہ تم اپنے شوہر کی خدمت کرو اور اپنے ہاتھوں سے میرے لیے کھانا بناؤ۔۔۔

اور میرے خیال سےتو تمہیں اسلام کی بات ماننے میں تو کوئی دقت نہیں ہے۔۔۔اب اس میں تو کوئی زور زبردستی والا معاملہ نہیں ہے۔؟ اس کی سوچ نے عبیرہ کو اندر سے جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا مطلب کہ وہ رات والی بات کو اپنی انا کا مسئلہ بنا چکا تھا اور یہ ٹارچر کرنے کا اس کا نیا انداز تھا۔

“آپ یہ سب جان بوجھ کر کر رہے ہیں؟؟
وہ اُداس لہجے سے بولی۔۔۔

“بالکل جان بوجھ کر کررہا ہوں۔
وہ صاف گوئی سے بولا، آنکھوں میں اکڑ، لہجے میں وہی ایٹیٹیوڈ، جیسے ہر لفظ اس کی طاقت اور اختیار دکھا رہا ہو۔

“آپ کو مجھ پر رحم نہیں آتا؟

نہیں!
فرض نبھاؤ مظلوم مت بنو!!
وہ دو ٹوک بولا، ہر لفظ میں دباؤ، ہر حرف میں دھونس، جیسے بس اسے ذلیل کرنے کے لیے بول رہا ہو۔

“میں نے کب انکار کیا ہے کہ میں کھانا نہیں بناؤں گی۔۔۔
میں کھانا بھی بناؤں گی اور اپنی ہر ذمہ داری نبھاؤں گی بے شک میں دل سے آپ کو شوہر تسلیم نہیں کرتی مگر آپ کے نکاح میں ہوں۔۔۔
میرا خدا جو حکم دیتا ہے میں اس ہر حکم کو مانوں گی مگر پلیز میرے زخم ٹھیک ہو لینے دیں۔۔۔

“میں تمہیں کوئی مہلت نہیں دوں گا… تمہارے پاس صرف دو آپشن ہیں۔؟
عبیرہ کی آنسوؤں سے بھیگی آنکھوں میں حیرت تھی… اور دل میں ایک ہلکی سی گھبراہٹ۔
وہ جانتی تھی کہ اب وہ ضرور کچھ ایسا کہے گا جس کی وہ توقع بھی نہیں کر رہی تھی۔
جتنا وہ ان چند دنوں میں اسے سمجھ پائی تھی… آریان خان ایک الجھی ہوئی، گہری شخصیت کا مالک تھا۔
وہ کب کیا سوچ لے، کب کیا کہہ دے… اس کا اندازہ لگانا ناممکن تھا۔مگر اب کی بار اس نے کچھ پوچھا نہیں ۔خاموش خالی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

“ابھی بھی دو راستے ہیں تمہارے سامنے۔
یا تو بیوی بن کر وہ حق نبھا دو جو رشتے میں رکھا جاتا ہے… وہ ذمہ داریاں… وہ قربتیں… جن سے ایک گھر چلتا ہے… تاکہ جذبات کو قرار آ جائے…”

وہ رُکا… اس کا لہجہ بہت نرم نہیں تھا، مگر سفاک بھی نہیں… بس عجیب سا بوجھ لیے ہوئے۔

“…یا پھر نوکر بن کر میرے آگے پیچھے گھومو۔
تمہاری مرضی۔ ملازمہ بننا چاہتی ہو… یا بیوی۔”

یہ کہتے وقت اس کی آنکھوں میں کوئی مذاق نہیں تھا۔
صرف برہمی… اور ایک ایسی سنجیدگی جو عبیرہ کے دل میں سرد لہر بن کر اتری۔

وہ جانتی تھی کہ وہ اسے تکلیف دینے کے لیے ہی یہ سب کہہ رہا تھا۔
قربت کا اشارہ، ذمہ داری کا دباؤ، اختیار کی سختی،اس کا ہر لفظ عبیرہ کے اندر موجود خوف کو جھنجھوڑنے کے لیے تھا۔

آریان نے آنکھیں چند لمحے اس کے چہرے پر روکے رکھیں، پھر بہت ہی دھیمے لہجے میں کہا،
“سوچ لو… کیونکہ دونوں ہی راستے آسان نہیں ہیں۔”

عبیرہ نے ہونٹ بھینچ لیے…عجیب سی گھٹن ہو چکی تھی ۔کمرے کی ہوا جیسے کچھ لمحوں کے لیے بالکل ساکت گئی ہو۔
اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ بھوک کا مسئلہ چھوٹا تھا…
اصل بھوک تو اس آدمی کے دل اور میں چھپی ہوئی تھی۔

افسوس ہے مجھے آپ کی سوچ پر… اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتی…
عبیرہ نے نفی میں سر ہلایا۔
اس کے لہجے میں تھکن تھی… جیسے کسی بھاری دروازے کو بند کرنے کی آخری کوشش۔

لفظ کم تھے، مگر چیخ بہت تھی…
آنکھوں کی نمی پلکوں پر رکی ہوئی تھی، جیسے ضبط نے اسے تھام رکھا ہو۔

آریان نے اسے دیکھا…
ایک لمحے کو اس کی سختی میں ہلکی سی دراڑ پڑی
جیسے یہ ایک جملہ اس کے اندر کہیں گہرائی میں لگا ہو۔
کمرے میں خاموشی تھی…
وہی خاموشی جو دل کی شکست کا سچ بتاتی ہے۔
“افسوس بعد میں کر لینا… پہلے میری بات پر غور کر لو ڈارلنگ۔
اب بھی وقت ہے تمہارے پاس… بیوی ہو کر جو ذمہ داری تم پر آتی ہے، اسے تسلیم کرنے میں آخر دیر کیسی؟
خوشی سے میرا حق مان لو… اور بدلے میں میں تمہیں فائیو سٹار ہوٹل لے چلوں گا، کھانا بھی باہر کھائیں گے…”
اس کے لہجے میں ایک ایسا مفہوم چھپا تھا جسے لفظوں کی ضرورت نہیں تھی۔
نگاہوں میں ایک بے باکی تھی… ایک ایسا مطالبہ جو عبیرہ کے دل پر چبھا۔
وہ ہلکی سی چونکی اور حیا کی چادر میں خود کو لپیٹ کر نظریں جھکا لیں… جیسے اپنی روح کو پردہ دینا چاہتی ہو۔

“جی نہیں… بہت شکریہ۔ میں خود بنا لوں گی کھانا۔
اور آپ کے لیے بھی بنا دوں گی۔
آپ کا اختیار… آپ کو مبارک۔”

اس نے آہستگی سے کہا۔
لہجے میں شائستگی تھی، مگر اس کے پیچھے ایک تھکن، ایک ضد اور ایک ٹوٹا ہوا یقین خاموش کھڑا تھا۔
“سوچ لو… میں اپنی طرف سے پوری رحم دلی دکھا رہا ہوں، بعد میں الزام مت دینا۔”
اس نے زبان کو دانتوں سے ہلکا سا اوپر کی جانب ٹکراتے ہوئے ایک چھوٹی سی طنزیہ آواز نکالی، ایک بار پھر اس کی بے بسی کو محسوس کرتے ہوئے اسکا مذاق اڑایا۔
ایسے نرمی… جس میں لپیٹ کر کسی کی عزت کا سودا کیا جاتا ہے… عبیرہ کی آنکھوں میں سکوت اور دل میں تلخی کے درمیان ایک ہلکی سی لرزش بھی چھپی تھی۔

اوکے… ایز یو وش۔
اب میں نے تو اپنی طرف سے کوشش کی تھی کہ تمہارے لیے کچھ کر سکوں…
اگر تمہیں اپنے ہی زخموں کا احساس نہیں تو میں کیا کر سکتا ہوں؟

وہ دونوں ہاتھوں کو آہستہ آہستہ ملاتے ہوئے رکا… جیسے کوئی بہت بڑا افسوس دل سے محسوس کر رہا ہو، مگر اس کے چہرے پر وہ افسوس ایک تماشے کی طرح کھیل رہا تھا۔
اور اسے دیکھ کر… عبیرہ کے دل میں جیسے ایک شعاع جل کر بھڑک اٹھی…سچ کبھی کبھی پوری حقیقت کے ساتھ سامنے کھڑا ہو جائے تو آنکھیں جلا دیتا ہے۔
“آپ کو تو… خدا پوچھے گا…”
وہ یہ لفظ اپنے ہونٹوں سے ادا کرتے ہوئے رک گئی، ہر حرف میں اُس کا یقین چھپا تھا کہ رب ضرور دیکھے گا اور انصاف قائم کرے گا۔

رات سے سجدے میں گر کر اتنی لمبی چوڑی میرے لیے بددعائیں کی ہیں… تو بے شک… خدا مجھے پوچھے گا۔۔۔
خدا کو دکھانا… میرے وہ گناہ بھی… جو میں نے کبھی نہیں کیے… عالمہ صاحبہ…
آریان خان کی نگاہیں غصے سے بھری ہوئی تھیں… ہونٹوں پر ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ… جیسے ہر لفظ پر زور دیتے ہوئے… ہر سانس میں چھپی نفرت اور حقارت…
اس کی آنکھوں کی گہرائی میں وہ چھوٹا سا لرز… وہ روشنی کا جھلک جو درد کے ساتھ جل رہا تھا… اور خاموشی میں بھی ایک دھڑکن، جو عبیرہ کے دل کے ساتھ ٹکرانے لگی تھی۔۔۔

“نہ تو میں کسی کو بددعا دیتی ہوں… نہ مجھے دینے کی ضرورت ہے… میرا رب سب کچھ دیکھ رہا ہے…
جو جتنی سزا کا حقدار ہے… اسے اس کے گناہوں کی سزا خود مل جائے گی۔۔۔
آواز نرم تھی، مگر اس نرمی کے پیچھے ایک ٹھہری ہوئی سچائی تھی… جیسے دل کی تھکن لفظوں میں اُتر آئی ہو۔

“آپ روم میں تشریف لے جائیے… کچھ دیر میں آپ کے لیے ناشتہ بنا کر لاتی ہوں…”
عبیرہ نے اسی ٹھہرے ہوئے سکون کے ساتھ کہا… مگر سکون کے پیچھے چھپا دکھ آنکھوں کی تہہ میں لرز رہا تھا۔
اس بار عبیرہ نے بھی ہلکی سی طنزیہ چبھن اپنے لہجے میں رکھ دی تھی… جیسے جواب دینا ضروری تھا، مگر وقار رکھنا ضروری تھا۔

وہ مُڑی… اور کچن کی طرف چل دی…
قدم مضبوط تھے… مگر اندر کہیں ایک خالی سا گھاؤ بول رہا تھا۔

پیچھے کھڑا آریان خان اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا…
“مجھے یوں اگنور کر کے جانا… تمہیں بہت مہنگا پڑے گا…”
یہ سوچ اس کے ذہن میں لپک کر آئی… اور اس نے مٹھیاں سختی سے بھینچ لیں…
غصہ… انا… اور اس کا مخصوص بے قابو تڑپتا ہوا جذبہ… سب ایک ساتھ اس کے چہرے پر لوٹ آئے۔

“جلدی لے کر آنا… ویٹ کرنا آریان خان کو پسند نہیں…”
وہ بلند آواز میں بولا… حکم کے غرور کے ساتھ…
جیسے تنبیہ دے رہا ہو… یا شاید… خود کو یاد دلا رہا ہو کہ اس گھر میں کون حکم اس کا چلتا ہے۔

آپ کہیں تو میں چولہے پر انڈا ڈال کر آپ کے آگے رکھ دوں… تاکہ آپ وہیں سے ہی ناشتہ شروع کر دیں۔۔۔” عبیرہ کو آریان کے اس انداز پر غصہ آیا، جیسے وہ کوئی ملازمہ ہو، اور وہ ایسے حکم دینے والا لہجہ اختیار کر رہا تھا ۔
عبیرہ کے پلٹ کر جلے بھنے جواب پر آریان کو بے اختیار ہنسی تو آئی، مگر اس نے فوراً خود پر قابو پا لیا۔
“نہیں، چوہیا، چولہا اُٹھایا نہیں جائے گا…
چوہیا، اپنی اوقات دیکھ کر بات کیا کرو، چولہا اُٹھاتے ہوئے اگر تم بے ہوش ہو گئیں تو میں تمہاری مرہم پٹی کرنے کے لیے آنے والا نہیں…”

“مجھے آپ سے مرہم پٹی کروانے کا کوئی شوق بھی نہیں ہے۔۔۔”
وہ کچن میں جا چکی تھی اور بلند آواز میں، کچن سے ہی جواب دیا۔۔۔

“شوق تو تمہیں بہت ہے، اسی لیے کبھی ہاتھ جلا لیتی ہو۔۔۔اور کبھی۔۔۔۔؟”
وہ کچھ کہتے ہوئے رک گیا،مگر اس کی نظروں میں چھپی شیطانی سے عبیرہ سمجھ چکی تھی کہ یہاں وہ کافی کے گِرنے کا ذکر کر رہا ہے۔۔۔۔ بڑا ہی لعنتی قسم کا انسان ہے، عبیرہ نے صرف دل میں سوچا۔

“اب تمہیں درد کتنا ہے، مجھے تو نہیں پتہ، مگر تمہاری رونے والی شکل دیکھ کر مجھے مرہم لگانا پڑتا ہے۔ پہلے اپنی ادائیں دکھا کر مجھے لبھاتی ہو، پھر جب بندہ اپنی راہ سے بھٹک جاتا ہے تو تم مولانا صاحب بننے کی اداکاری شروع کر لیتی ہو۔ اب میرے جیسا شریف بندہ تمہارے جال سے کیسے بچے۔۔۔”

وہ کچن کے گیٹ پر کھڑا ہو گیا، اور یہ سب باتیں عبیرہ کو سبق دینے کے لیے کہ رہا تھا۔ کسی بھی طرح سے وہ عبیرہ کو سکون کا سانس لینے نہیں دے رہا تھا، اور اس کی باتوں سے بیچاری عبیرہ شرمندہ ہو گئی۔
“مجھے کوئی شوق نہیں ہے اپنی اداؤں سے آپ کو لبھانے کا۔۔۔
اور کیا کہا؟؟
بچارے اور شریف۔۔۔ وہ بھی آپ۔۔۔
استغفراللہ۔۔۔ وہ جملہ بولیں جو آپ پر سوٹ کرتا ہو۔۔۔”

“ادائیں تو تم مجھے دکھاتی ہو، اب ماننا نہیں چاہتی تو تمہاری مرضی۔۔۔”
دونوں ایک دوسرے پر طنز بازی کر رہے تھے۔

“خیر….باقی کی ادائیں بعد میں دکھا لینا، جلدی سے میرے لیے ناشتہ ریڈی کر دو۔۔۔”
اور یہ لسٹ ہے۔۔۔ جو کچھ میں ناشتے میں کھاتا ہوں۔
ہاتھ بڑھا کر وہ عبیرہ کو لسٹ تھما گیا۔ عبیرہ کو شدید غصہ آ رہا تھا، وہ بالکل اس سے ملازمہ کی طرح برتاؤ کر رہا تھا۔

“سر، اور کوئی حکم میرے لائق؟” عبیرہ نے دانت پیستے ہوئے کہا۔

“نہیں، فلحال کے لیے تم یہی پورا کر دو تو کافی ہے۔۔۔”

غصے کو ضبط کرتے ہوئے، جب عبیرہ نے لسٹ کھول کر دیکھی تو اس کے ہوش و حواس قائم نہیں رہے۔
لسٹ میں نہ جانے کون کون سی مخلوق کے کھانے پینے کی چیزوں کے نام لکھے ہوئے تھے، جن کا نام آج سے پہلے کبھی عبیرہ نے نہیں سنا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک رنگ آ رہا تھا اور دوسرا جا رہا تھا۔۔۔

“سر، پلیز ایک بات کا جواب دیجیے۔۔۔”

“جی فرمائیے، لیکچرار صاحبہ، اب کیا لیکچر دینے والی ہو؟”

“میں نے یہ پوچھنا تھا کہ یہ سب اسی دنیا کے کھانے پینے کی چیزوں کے نام ہیں یا کسی اور سیارے کی مخلوق سے یہ لسٹ بنوائی ہے؟” عبیرہ نے لسٹ سامنے لہراتے ہوئے کہا۔

“یہ میرے ناشتے کی لسٹ ہے، اور میں ناشتے میں یہی سب کچھ کھاتا ہوں۔ روز ٹائم سے تم میرے لیے یہ سب کچھ بنا دیا کرو۔۔۔”

“جی، جو حکم میرے آقا، بس ٹائم سے مجھے لسٹ دے دیا کریں، آپ کو شکایت کا کوئی موقع نہیں دوں گی۔۔۔”
عبیرہ سینے پر ہاتھ رکھ کر ادب سے جھکتی ہوئی بولی۔

“کاش اتنی فرمانبرداری کمرے میں بھی دکھائی ہوتی۔۔۔” آریان خان منہ میں بڑبڑایا۔

“کچھ کہا آپ نے؟” عبیرہ کو سمجھ آ چکی تھی کہ وہ کیا بولا تھا۔

“کچھ نہیں، میں نے کہا، جلدی سے میرے لیے ناشتہ لے کر آؤ۔ میرا کوئی بھی کام لیٹ ہونے پر، میں نے تمہارے لیے ایک سزا تجویز کی ہے۔
جب بھی میرا کام لیٹ ہوگا، سزا کے لیے تیار رہنا۔۔۔”
وہ دھمکی دینے والے انداز سے کہہ رہا تھا۔

“کان کھول کے سن لو۔۔۔
اس سزا کو دینے کے لیے میں تمہاری کسی بھی دلیل سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔۔۔
صرف دس منٹ ہیں تمہارے پاس۔۔۔”
وہ کم کی طرح کہتا ہوا جا چکا تھا۔

“سزا کے لیے تیار رہنا۔۔۔”
وہ منہ چراتے ہوئے بڑبڑائی ۔

“نواب کی اولاد، پتہ نہیں خود کو سمجھتا کیا ہے۔۔۔”
وہ بڑبڑاتے ہوئے ایک بار پھر لسٹ کو دیکھنے لگی، مگر اسے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آخر وہ کیا کھانا چاہتا تھا۔۔۔

پتہ نہیں کون سی مخلوق کا ناشتہ تیار کروا کے کھانا چاہتا ہے اور کون سی زبان میں لسٹ بنا کر دے کر گیا ہے کروں بھی تو کیا کروں۔۔۔میرے تو پلے نہیں پڑ رہی یہ چیزیں وہ لسٹ کو پڑھتے ہوئے ۔غصے سے الجھ رہی تھی مگر پھر،کچھ سوچتے ہوئے تیزی سے عبیرہ اس کے کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔ ہینڈل پر ہلکے سے ہاتھ رکھتے ہوئے وہ بنا کھٹکھٹائے بغیر آواز کیے اندر داخل ہوئی۔۔۔ سامنے ہی آریان خان بے ترتیب انداز میں بستر پر اُلٹا لیٹا ہوا تھا، اس کی بغیر شرٹ پہنی ہوئی پشت عبیرہ کی نظروں کے سامنے تھی۔۔۔
وہ گھبرا کر بہت جلدی سے مُڑ گئی اور اپنا رخ دوسری طرف کر لیا۔۔۔

کمرے کی خاموشی میں عبیرہ پلکیں تک اٹھانے کی ہمت نہ کر سکی۔۔۔ اس کی نظریں نیچے جمی رہیں، جیسے ایک جھلک بھی اسے مزید شرمندہ کر دے۔۔۔ آریان خان نے بھی ہلکی سی کروٹ لی، مگر عبیرہ کی جھکی ہوئی آنکھیں اپنی جگہ ٹھہری رہیں۔۔۔

بے شرم انسان، شرٹ نہیں پہن سکتا۔۔۔
وہ دل ہی دل میں سوچتے ہوئے دانت پیس کر رہ گئی۔۔۔

بے شرمی کا لقب تب دینا جب میں نے کچھ بھی نہ پہنا ہو۔۔۔

استغفر اللہ۔۔۔
وہ یہ سنتے ہی سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ اس شخص کی چھٹی حس کتنی تیز ہے۔۔۔
مقابل لوگوں کے دماغ پڑھنے کا ہنر رکھتا تھا۔۔۔

وہ کب عبیرہ کے دبے قدموں کی آہٹ بھانپ کر سیدھا ہو گیا، عبیرہ کو اندازہ ہی نہ ہوا۔۔۔
کب اس نے اس کے ذہن میں چلتی سوچ کو پڑھ لیا، وہ خود حیران رہ گئی اس شخص کی تیز دماغی پر جو منٹوں، سیکنڈوں میں لوگوں کے خیالات تک کو سمجھ لیتا تھا۔۔۔

عبیرا آریان خان کے بارے میں ایک بات نہیں جانتی تھی آریان خان کا آئی کیو لیول بہت ہائی تھا۔۔۔
جس کی وجہ سے ہمیشہ وہ ہر چیز میں ٹاپر رہا۔۔۔
بچپن میں اس کے سکول کے ٹیچر حیران ہوا کرتے تھے کہ اتنے چھوٹے بچے کا آئی کیو لیول اتنا اچھا ہے۔۔۔سکول کی ہر کلاس میں آریان خان ٹاپ کرنے والا بچہ تھا۔۔۔
وقت کے ساتھ ساتھ آریان خان کندن بنتا چلا گیا،جس فیلڈ میں قدم رکھا وہ خود کا لوہا منوا کر وہاں سے نکلا۔۔۔
بہت سی زبانوں پر اسے عبور حاصل تھا اس وقت اس نے ناشتے کی لسٹ بھی کسی اور زبان میں بنائی تھی اسی لیے تو عبیرہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کھانا چاہتا ہے۔۔۔
جبکہ ناشتے میں انڈا ٹوسٹ اور بلیک کافی کے بارے میں اس نے لکھا تھا ۔
اور نیچے تحریر میں یہ لکھا تھا کہ اگر میرا ناشتہ لیٹ ہوا تو آریان کو شوخی بھرا میرا انداز برداشت کرنا پڑے گا۔۔۔
یہ سزا ہر بار کام دیر سے ہونے پر اسے ملا کرے گی اور اس کے کہنے پر آریان رکے گا نہیں۔۔۔
لاسٹ میں آریان کے سگنیچر تھے۔۔۔
مگر کسی اور زبان کی وجہ سے عبیرہ بیچاری کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا تھا۔۔۔
“ویسے… مجھے، بے شرم سوچنے کے بجائے، اگر تھوڑے سے مینرز استعمال کرتی تو تمہیں دروازہ کھٹکھٹا کر آنا چاہیے تھا۔۔۔”
آریان کی آواز نرم مگر واضح اس کے کانوں تک پہنچی۔

“مینرز تو آپ کو بھی استعمال کرنے چاہیے تھے… آپ بھی تو دروازہ بند کر کے لیٹ سکتی تھیں، یا پھر شرٹ پہن کر رک سکتی تھیں۔۔۔”
وہ تھوڑا سا تڑک کر بولی، لیکن شرم و حیا کے ساتھ۔

“میں نے دروازہ اس لیے بند نہیں کیا کیونکہ ضروری نہیں لگا، اور شرٹ بھی اسی لیے نہیں پہنی کیونکہ مجھے ضروری نہیں لگی۔۔۔”

“کیوں ضروری نہیں لگی؟ آپ کے علاوہ گھر میں کوئی اور بھی موجود ہے، یہ بھی دھیان رکھا کریں…”
وہ چہرے پر ہاتھ رکھے، دوسری جانب منہ کرتے ہوئے بول رہی تھی۔

“گھر میں میرے علاوہ جو دوسرا موجود ہے، وہ میری بیوی ہے… اس لیے مجھے ضرور نہیں لگا۔۔۔”

“چلو اب منہ کھولو… کہ میرے دیے گئے مقرر ٹائم پر ناشتہ لانے کے بجائے منہ اٹھا کر کمرے میں کیوں آئی ہو۔۔۔”
“مم… مجھے کچھ دیر کے لیے اپنا فون دے سکتے ہیں؟”
وہ تھوڑا سا جھجکتے ہوئے، آریان کی جانب دیکھے بغیر بولی۔

“وجہ… میں تمہیں اپنا فون کیوں دوں؟”
آریان نے نرم مگر تھوڑا طنزیہ انداز میں کہا۔

“میں آپ کا فون کھا نہیں جاؤں گی، کچھ دیر کے لیے چاہیے… یوز کر کے واپس دے دوں گی۔۔۔”
اس نے شرم و حیا کے ساتھ جواب دیا۔

“کھانا ہے تو مجھے کھاؤ، فون کھا کر تمہیں کیا حاصل ہوگا؟”
آریان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ طنز بھرا لہجہ استعمال کیا۔

“کیاااااا…”
اس نے حیرت اور تھوڑا سا اصرار بھری آواز میں کہا۔

“کچھ نہیں…
میں اپنا فون نہیں دوں گا، مجھے اپنی چیزیں کسی ایرے غیرے کو دینا بالکل پسند نہیں۔۔۔”
آریان کے لہجے میں پختگی اور تھوڑی سختی تھی، مگر نرم نکتہ بھی موجود تھا۔

ایک لمحے کے لیے تو عبیرہ کا دل چاہا کہ کمرے میں رکھے ہوئے سامنے بھاری گلدان کو اٹھائے اور اس شخص کے سر پر اتنی زور سے مارے کہ وہ چیخ اٹھے، جو اسے ایرے غیرے کہہ رہا تھا۔
وہ دانت پیستے، مٹھی زور سے دبائے، اپنا غصہ ضبط کر رہی تھی۔
آریان خان بیڈ پر لیٹا، خاموشی سے ہر عمل دیکھ رہا تھا… غافل نہیں تھا کہ وہ کیا کر رہی ہے، کیا سوچ رہی ہے۔

وہ آریان خان کی جانب رخ پھیرے کھڑی، خود میں صبر پیدا کرتے ہوئے ایک بار پھر بات کو سنبھال رہی تھی۔۔۔
“تو ٹھیک ہے، فون نہ دیں… صرف اس لسٹ پر جو لکھا ہے وہ بتا دیں، آپ کی بے تکی لسٹ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہی۔۔۔”

“تو سمجھنے کی کوشش کرو… جتنی زبان چلتی ہے اتنا دماغ استعمال کرو، تو سمجھ میں آ جائے گی۔۔۔”

آریان خان کو اسے پریشان کرنے میں سکون محسوس ہو رہا تھا، بالکل ویسا سکون،جیسے کسی خاموش سمندر کی سطح پر ہلکی لہر چل رہی ہو۔۔۔

“اور ویسے بھی، تمہیں میں نے صرف اونلی دس منٹ دیے تھے، جس میں سے چھ منٹ گزر چکے ہیں۔ باقی بچے ہیں صرف چار منٹ، اور اس کے بعد میں انتظار نہیں کروں گا… اس کے بعد تمہیں ملے گی سزا۔۔۔”

وہ بستر سے اٹھ کر ٹہلتا ہوا اس کے قریب آ کھڑا ہوا تھا…
اس کے مخصوص پرفیوم کی تیز خوشبو کے جھونکے نے عبیرہ کو فوراً احساس دلایا کہ آریان خان اس کے بہت قریب کھڑا ہے…
عبیرہ کو یہ لمحہ ایسا محسوس ہوا جیسے کمرے میں ہر آواز، ہر حرکت رک گئی ہو، اور صرف اس کی اپنی دھڑکن سنائی دے رہی ہو۔۔۔
“اور …مجھے…. پوری اُمید ہے کہ میری سزا تمہیں پسند نہیں آئے گی۔۔۔”

آریان خان نے عبیرہ کے قریب آ کر، اس کے چاروں جانب ایک ہلکا سا حصار بناتے ہوئے، سرگوشی میں کہا۔۔۔
اس کے قریب ہونے کا احساس عبیرہ کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کر رہا تھا، اور ہر لمحہ اس کی گھبراہٹ میں اضافے کا سبب بنتا چلا گیا، جیسے کمرے کی ہوا خود اس کے اضطراب کو اپنے ساتھ بہا رہی ہو۔۔۔

“چچ… چھ… چھوڑیں مجھے۔۔۔
میں اپنا ٹارگٹ کمپلیٹ کر کے آؤں گی، آپ کا دیا گیا ٹائم ختم نہیں ہوا…
ابھی چار منٹ باقی ہیں۔۔۔”

وہ لفظوں کو توڑتی ہوئی، آریان خان کی موجودگی کے اثر سے اپنی جگہ ہٹنے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن اس کے قریب ہونے کا احساس اس کی دھڑکن تیز کر رہا تھا اور سانسوں میں ہلکا سا لرز پیدا کر رہا تھا۔۔۔

کچن میں بھاگ کر آتے ہوئے عبیرا کی سانس پھول چکی تھی۔۔۔
“ایسی کوشش مت کیا کرو، چوہیا، جو مکمل نہ ہو۔۔”
آریان کا اشارہ اس کی جھٹپٹاہٹ اور ہلکی سی بے قراری کو واضح کر رہا تھا۔۔۔

“اور چار منٹ میں جو تم پریزینٹیشن دینا چاہتی ہو، دے دو… اب تو تین منٹ رہ گئے ہیں۔ اس کے بعد سزا لازم ہوگی، تیار رہنا۔۔”
وہ دھمکی خیز انداز سے کہتا ہوا اپنے مقام سے ہٹ گیا۔۔۔

آزادی پاتے ہی عبیرہ تیز قدموں سے واپس کچن کی طرف گئی، جیسے اس کے جاتے ہی وہ لسٹ خود بخود ٹرانسلیٹ ہو کر اس کے سامنے آ جائے گی۔۔۔

آریان خان نے اس کی رفتار کو دیکھ کر ہلکی سی مسکراہٹ دکھائی، جو کسی خاموش تسکین اور چھپی ہوئی خوشی کا پتہ دے رہی تھی۔۔۔
وہ مسکرا رہا تھا، اور اس لمحے اس کی موجودگی اتنی جاذب نظر تھی کہ اگر کوئی دیکھ رہا ہوتا تو یقیناً اس پر فدا ہو جاتا۔۔۔

عمومی طور پر اس کا کھل کر مسکرانا پسند نہیں تھا، اور جب کبھی وہ اسی انداز میں مسکراتا، عبیرہ اس کی جاذب نظر مسکراہٹ دیکھ کر فوراً گھبرا جاتی تھی۔۔۔

عبیرہ کی ہارتے ہوئے کیفیت اسے بے حد تسکین دے رہی تھی، اس نے ہلکے اشارے میں خود سے خوشی کا اظہار کیا۔۔۔
وہ اپنی جیت کے لمحے سے لطف اندوز ہو رہا تھا، جانتا تھا کہ عبیرہ ان تین منٹوں میں اس کے لیے ناشتہ تیار نہیں کر سکتی۔۔۔
عبیرہ کی ہار اسے تسکین دے رہی تھی، زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی نے اسے چیلنج کیا تھا۔۔۔
آریان خان کے دل میں اس بات کی شدت اب بھی موجود تھی، ایک خاموش آگ کی طرح جلتی ہوئی۔۔۔
وہ اس کا محرم ہو کر بھی اس کی قربت سے محروم تھا۔۔۔۔
عبیرہ نے ایسے مضبوط دلائل پیش کیے کہ وہ چاہ کر ان کو جھٹلا نہیں سکا۔۔
آریان خان جس بھی لڑکی کے قریب آیا، اسے کبھی مایوسی نہیں ملی۔۔۔
اپنی شاندار شخصیت کی بدولت، وہ ہر لڑکی کے لیے مثال بن چکا تھا۔۔۔
اور پہلی لڑکی جو اس کی زندگی میں واقعی منفرد رہی، عبیرہ تھی، جو اپنے وقار کے باوجود اس کے نکاح میں آ کر بھی اپنے حدود قائم رکھے ہوئے تھی۔۔۔

عورت جب دامن سمیٹ لے تو مرد کے دل میں کچھ نہ کچھ ضرور جاگ اٹھتا ہے، کبھی خواہش اور کبھی انا کی کوئی خاموش چنگاری۔۔۔ عبیرہ بھی اب آریان کی اسی بے نام سی ضد اور چنگاری کا مرکز بن چکی تھی۔۔۔ بظاہر یوں لگتا تھا جیسے وہ صرف اپنی انا کو مطمئن کرنے کے لیے اسے تنگ کرتا ہے مگر حقیقت اس پر بھی پوری طرح روشن نہیں تھی۔۔۔ شاید ضد تھی، شاید دل کا کوئی اشارہ، یا پھر کوئی انجانی کشش جس سے وہ خود بھی بے خبر تھا۔۔۔

یہی مفہوم رکھتے ہوئے اسے زیادہ باوقار، رواں اور ادبی رنگ میں کچھ یوں سنوارا ہے:

عبیرہ کو پانا اب اس کی ضد بنتا جا رہا تھا، اور اسی ضد کی تسکین کے لیے وہ اسے ہار کے دہانے تک لانے پر تلا ہوا تھا۔
وہ انگلیوں کے پوروں پر وقت تول رہا تھا کہ کب تین منٹ پورے ہوں اور کب وہ اپنی مقررہ سزا نافذ کر سکے، وہ سزا جو شاید اسے لمحہ بھر کی کوئی عجیب سی راحت دے دیتی۔

نگاہ گھڑی پر ٹکائے، وہ آہستگی سے کچن کی طرف بڑھا۔۔۔
قدموں میں بے چینی تھی، نظروں میں جیت کی ایک چمک تھی اور دل میں کیا تھا، یہ شاید وہ خود بھی ٹھیک سے نہ سمجھ پایا۔۔۔ احساس کسی ضد کی دھند میں لپٹا ہوا سا تھا، کچھ ایسا جو اس کی اپنی سمجھ سے بھی آگے نکلتا جا رہا تھا۔۔۔
جیسے کوئی اَن دیکھا سا خیال دل کی دہلیز پر بار بار آ کر ٹھہرنے سے انکار کر رہا ہو۔۔۔

═══════❖═══════

“اللہ جی۔۔۔ کیا کروں، کیسے سمجھوں کہ اس میں آخر لکھا کیا ہے۔۔۔؟
عبیرہ ہاتھ میں لسٹ لیے کچن میں چکر کاٹ رہی تھی۔ اس وقت وہ شاید اپنے دردِ سر اور ہاتھ کی تکلیف بھی بھول بیٹھی تھی۔ ساری توجہ اسی الجھی ہوئی تحریر پر اٹکی ہوئی تھی جو جتنی بار بھی پڑھے، عقل پر بھاری ہی محسوس ہوتی۔

“جاہل ۔۔۔ انسان، شکل سے تو اتنا پڑھا لکھا لگتا ہے، مگر ایک لسٹ بھی ڈھنگ سے نہیں لکھ سکا۔۔۔
وہ جھنجھلاہٹ میں ذرا بلند بول گئی، اور یہی بلند آواز آریان خان نے کچن کی جانب آتے ہوئے صاف سنی۔ اپنی تعریف کے نام پر یہ طنز سن کر اس کے اندر ایک ٹھہرا ہوا غصہ یکدم بھڑک اٹھا۔

وہ بھلا اپنی توہین کیسے برداشت کر سکتا تھا۔ جس شخص نے کبھی کسی کی اونچی آواز گوارا نہیں کی، اس کی آنکھوں میں لمحے بھر میں شعلے لپکے، جیسے لفظوں کی یہ گستاخی اس کی برداشت کی آخری لکیر کو چھو گئی ہو۔۔۔

“تمیز کے دائرے میں رہ کر میرے بارے میں سوچا کرو کڑکدار اواز ابیرہ کی سماج سے ٹکرائی بیچاری کے ہاتھ سے ناشتے والی لسٹ گرنے کو تھی۔۔۔اور ویسے بھی اب اس کو سمجھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔میرا دیا ہوا ٹائم پورا ہو چکا ہے۔۔۔

سزا کے لیے تیار ہو جاؤ کہیں مر ہی نہ جانا سزا کو بھگتے ہوئے۔۔۔آریان خان آگے بڑھتے ہوئے اپنی جیت کا اعلان کرتے ہوئے بولا۔۔۔
وہ وہ ایک ایک قدم اُٹھاتا ہوا اس کے قریب جا رہا تھا۔۔۔

پلیز، کوئی گھٹیا سزا دینے کی کوشش مت کیجئے گا۔۔۔
وہ انگلی اُٹھا کر چلاتے ہوئے بولی۔۔۔
عبیرہ کو سمجھ میں آ رہا تھا کہ وہ اس کے قریب آ کر کیا کرنے والا ہے، اور وہ اپنی نظریں صرف اس کے اشارے پر مرکوز رکھے ہوئے تھی۔۔۔

اوں ہوں۔۔۔
رات کو جب تم نے میرے سامنے دین کی بات چھیڑی تھی تو میں چپ ہو گیا۔۔۔ اس لیے نہیں کہ تم جیت گئی تھیں بلکہ اس لیے کہ تم بڑی صفائی سے اپنے اور میرے بیچ اللہ اور اس کے رسول کی ذات لے آئیں تھیں۔۔۔ اس مقام پر میں خاموشی اختیار کر گیا۔۔۔ اور تم یہی سمجھ بیٹھیں کہ میں تم سے ڈر گیا ہوں۔۔۔ مگر تمہاری زبان تو خاصی لمبی ہو رہی ہے۔۔۔اس کو تو کاٹنا پڑے گا۔

وہ دو قدم تیزی سے بڑھاتا ہوا اس کے اتنے قریب آ چکا تھا کہ عبیرہ کے دل کی دھڑکن بھی اس کی سماعت میں محسوس ہونے لگی۔۔۔ کمر کے گرد ہاتھ رکھتے ، اپنے درمیان فاصلہ کم کرتے ہوئے، آہستہ، مگر سخت لہجے میں بولا۔۔۔

تم جو سوچ رہی ہو بالکل ٹھیک سوچ رہی ہو۔۔۔ میں تمہیں تمہاری ہی سوچ کے مطابق سزا دینے کا ارادہ رکھتا ہوں۔۔۔

یہ سن کر عبیرہ کا دل جیسے ایک لمحے کو اٹک گیا۔۔۔ سانس گلے میں اٹکتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔ اسے یوں لگا جیسے کمرے کی فضا یکایک بوجھل ہو گئی ہو اور وہ خود اس فضا میں پلک جھپکتے قید ہوتی جا رہی ہو۔۔۔

“آ۔۔آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے۔۔”
وہ گھبرائی ہوئی تھی۔۔۔
آریان خان اس کے قریب تھا۔ عبیرہ کو اس کی موجودگی سے نفرت تھی، وہ ضرور ڈری ہوئی تھی، مگر یہ خوف اپنی جان کا نہیں، بلکہ اپنی عزت کو برقرار رکھنے کی فکری تھی۔۔۔
“میں جو چاہوں کر سکتا ہوں، اور اگر نہیں کر رہا تو تمہیں میرا شکر گزار ہونا چاہیے…”
آریان خان کی آواز میں ایک الگ ہی شدت تھی، جیسے خاموش آگ چپکے سے جل رہی ہو، اور عبیرہ اس کے انداز سے لرز گئی تھی، دل کی دھڑکنیں خوف اور اضطراب میں جیسے باہر نکلنا چاہ رہی ہوں۔

“جب تم اپنی اوقات سے باہر نکلو گی، میں یہی سلوک کروں گا…”
وہ خود شاید نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ کیا بول رہا ہے، اور غصہ عبیرہ پر نکل رہا تھا، مگر صرف احساس اور اضطراب کے طور پر، جیسے ہوا کے جھونکے کسی درخت کی شاخوں کو جھکا رہے ہوں۔

“کب میں اوقات سے باہر نکلی ہوں؟ نہ میں اوقات سے باہر نکلنا چاہتی ہوں، نہ تم سے کوئی بحث کرنا چاہتی ہوں۔ تم نے مجھے قید میں رکھا ہے، تم اپنا بدلہ لے سکتے ہو، مگر انسانیت کے مقام سے مت گِرو، اتنا مت گِرو کہ کل کو خود کو اپنی ہی نظروں میں دیکھنا مشکل ہو جائے…”
عبیرہ کی آنکھوں میں غصے کی شدت جھلک رہی تھی، جیسے آگ کی چھوٹی چنگاریاں کسی دھندلے اجالے میں جل رہی ہوں۔

عبیرہ نے دونوں ہاتھ آریان کے سینے پر رکھے اور ہلکی سی قوت سے اسے پیچھے دھکیلا، جیسے نرم ہوا کسی درخت کی شاخ کو ہلکے سے جھکائے۔ وہ دو قدم پیچھے ہٹی اور خوبصورت شیلف کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑی ہو گئی۔

آریان خان غصے کی شدت سے اسے دیکھ رہا تھا، اور عبیرہ اس شدت کے سامنے گھبرا اور ڈری ہوئی محسوس ہو رہی تھی، جیسے پانی کی لہریں کسی چٹان سے ٹکرا کر ادھر ادھر چھلک رہی ہوں۔
فضا میں خاموش کشیدگی تھی، جیسے ہر سانس اور ہر نظریہ اپنے جذبات کی گہرائی بیان کر رہا ہو۔۔۔

“تمہارا باپ تو انسان تھا، پھر اس نے انسانیت کیوں نہیں دکھائی…”
آریان خان دو قدم آگے بڑھا، اور اس کی جانب جھکا،جبڑے پر تھا، اثر ا زیادہ جذباتی اور کشیدگی سے بھرپور تھا، جسمانی جارحیت کے بغیر۔

“مجھے نہیں پتہ کہ میرے بابا نے کیا کیا، اور کیوں کیا…”
عبیرہ کی آواز میں سختی اور تاثیر تھی، “اور اگر تم اچھے ہو تو اچھے بن کر رہو۔ سزا دینے کا حق کسی کی ذات کو روندنے میں نہیں ہوتا…”
اب کی بار وہ زور سے، پختہ ارادے کے ساتھ بولی۔

“اگر تمہیں لگتا ہے کہ میں سزا کی حقدار ہوں، تو سزا دو، مگر ایسے نہیں جیسے تم دینا چاہتے ہو…”

اپنے جبڑے سے اس کا ہاتھ جھنجھوڑتے ہوئے ہٹا کر پیچھے ہٹ گئی، یا شاید آریان نے خود اسے چھوڑ دیا، کیونکہ اس کی باتیں اس پر اثر ڈال رہی تھیں، مگر وہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھا۔آریان لمحہ بھر کے لیے اس سے نظر چرا کر رخ پھیر گیا۔۔

“میری طرف دیکھو، نظریں مت چراؤ… اگر میرے بابا نے غلط کیا،اس بارے میں مجھے نہیں پتہ، مگر تم جو کر رہے ہو، وہ بھی غلط ہے۔ ایک دن جب تمہیں احساس ہوگا، شرمندگی تمہارے اندر ہوگی، اور اپنی نظریں خود سے نہیں ملا پاؤ گے، آریان خان…”

“شٹ اپ! مجھے لیکچر دینا بند کرو…”
آریان خان خاموشی توڑتے ہوئے اس کی جانب دیکھ کر بولا، “مجھے تمہاری نظروں میں اچھا بننے کا کوئی شوق نہیں۔ اچھا بن کر تمہارے منہ سے واہ واہ سن کر، تم سے سرٹیفکیٹ لے کر خود کو ثابت کرنے کی بھی ضرورت نہیں… سمجھ گئی؟”

عبیرہ کے لہجے میں شدت اور تاثیر تھی، اور آریان کے لیے اسے نظر انداذ کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ غصہ اس کی اندرونی کش کش کو ظاہر کر رہا تھا۔۔

صحیح راستے پر صرف اس لیے نہیں چلا جاتا کہ لوگ آپ کی واہ کریں، صحیح راستے پر چلنے کا مقصد جب خدا کی رضا بن جائے تو دل کو جو سکون ملتا ہے اسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاتا… کامیابی اگر صحیح راستے پر چلتے ہوئے ملے تو اس کی لذت برائی کی کامیابیوں سے کہیں زیادہ خوبصورت اور پرسکون ہوتی ہے، جہاں یہ اطمینان ہوتا ہے کہ میرا رب مجھ سے راضی ہے۔ رب راضی ہو تو دنیا راضی نہ بھی ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

صرف اتنی سی بات سمجھ لو، تو ہزار برائیوں سے بچا جا سکتا ہے۔

آریان خان اس کی باتوں کو سن رہا تھا مگر خاموش تھا اور خود پر حیران بھی۔۔۔۔ کوئی جواب کیوں نہیں آ رہا تھا، خود پر حیرت اور غصے کے درمیان وہ الجھ رہا تھا۔۔۔
حاضر دماغ انسان ہوتے ہوئے بھی، دل کے اندر ایک طوفان سا اٹھ رہا تھا۔ ایک طرف عبیرہ کی باتیں اسے الجھا رہی تھیں، دوسری طرف ہر بار اس کے سامنے کمزور ہو جانا اس کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ جب بھی وہ اسے سزا دینے کے لیے آتا، دل بغاوت کرنے لگتا؛ دل کے اشاروں کو سمجھ کر وہ پیروں تلے روند دیتا،

مگر دل ہر بار پھر اسے اس راستے پر چلانے کی کوشش کر رہا تھا جس پر وہ خود جانا نہیں چاہتا تھا۔ یہ کشمکش اسے اندر سے جکڑ رہی تھی، جیسے ایک بند کمرے میں گھومتی ہوا دیواروں سے ٹکرا کر ہر چیز کو لرزا دے۔

عبیرہ اب بھی کچھ کہہ رہی تھی، مگر اس کا دھیان اس کی باتوں پر نہیں تھا۔ وہ خود بھی الجھا ہوا تھا، اور غصے کی شدت سے قدم اٹھاتے ہوئے، کچن سے باہر نکلا۔ تیز قدموں سے کمرے تک آیا، ہر قدم جیسے اندرونی طوفان کی بازگشت ہو، زمین پر پڑتے قدموں کی دھڑکن اس کے اضطراب کی گہرائی بیان کر رہی ہو۔

کمرے میں قدم رکھتے ہی اس نے دروازہ زور سے بند کر دیا۔ واش روم کا دروازہ کھولتے ہوئے، پانی کے نل سے ٹھنڈے پانی کی چھینٹے منہ پر پھینکتے ہوئے خود کو پر سکون کرنے میں ناکام ہو رہا تھا۔۔۔

ہر بوند جیسے اس کے اندر کے الجھے جذبات کو چھو رہی تھی، اور آئینے میں اپنی ہی صورت اجنبی اور نڈھال لگ رہی ہو، جیسے کوئی خود سے بچھڑ کر اپنی روح کے سامنے آ کھڑا ہوا ہو۔انسان پوری دنیا سے جھوٹ بول سکتا ہے، مگر اپنے ضمیر سے جھوٹ بولنا، نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہی ہوتا ہے۔اور جو ایسی کوشش کرتے ہیں تڑپنا ان کا مقدر بن جاتا ہے۔

آریان کے اندرونی تضاد کی شدت اور عبیرہ کی موجودگی سے پیدا ہونے والا اضطراب، دونوں کے بیچ کشمکش کے ہر لمحے کو محسوس کیا جا سکتا تھا، اور ہر سانس، ہر نظریہ اس فضا میں بوجھ کی طرح محسوس ہو رہا تھا، جیسے وقت بھی اس لمحے کو روک کر دیکھ رہا ہو۔

آریان خان پانی کی چھینٹیں مارنے کے بعد اپنی خوبصورت بڑے سے کمرے کی ایک پرسکون سی کھڑکی کے سامنے کھڑا ہو گیا، ٹھنڈی بوندیں اس کے چہرے پر گر رہی تھیں، ہر قطرہ اس کے اندر کے اضطراب اور الجھے جذبات کو اجاگر کر رہا تھا۔ آنکھیں گہری سوچ میں ڈوبی، سانس بے قاعدہ، ہر حرکت فضا میں کشیدگی کی لو جگا رہی تھی۔

دوسری جانب، کچن میں کھڑی عبیرہ، خود کو خود میں ہی سمیٹے، آنکھیں رب کی طرف اٹھائے خاموش دعا کر رہی تھی، خوف اور امید کے درمیان جھولتی ہوئی، ہر سانس اور ہر لمحہ اس کے اندر کی بے چینی کو ظاہر کر رہا تھا۔

“بابا، کیا کیا ہے آپ نے اور کیوں کیا ہے…؟ وہ سوچ رہی تھی، پوچھ رہی تھی، اور کسی سے نہیں جانتی تھی، بس آنکھوں سے آنسو بہا رہی تھی۔

بابا… میرا دل نہیں مانتا کہ آپ میرے بابا ہیں، اور نہ ہی میرا دل مانتا ہے کہ آپ دونوں نے کچھ غلط کیا ہے۔
“مگر اس کی اتنی نفرت کی کوئی نہ کوئی وجہ تو ضرور ہوگی… کیوںیہ شخص اس قدر زہر میں ڈوبا ہوا ہے؟ وہ آریان کے بارے میں سوچ رہی تھی۔

“سچ… کیا ہے؟مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا… میں پاگل ہو جاؤں گی…

وہ بچوں کی طرح کچن کے فرش پر بیٹھ گئی، گھٹنوں میں چہرہ چھپائے، سسکیاں لے کر رو رہی تھی، جیسے ایک معصوم بچہ اپنی ماں یا گھر والوں سے بچھڑ کر روتا ہے۔ ایسا بچہ جسے کوئی راستہ نظر نہ آئے، اور جتنا ہاتھ بڑھاتا ہے، اتنا ہی دلدل میں پھنستا جاتا ہو۔ بالکل یہی کیفیت اس وقت عبیرہ کی تھی۔۔۔
═══════❖═══════

(ایک ہفتے بعد)

یارم سائیڈ ٹیبل سے اپنا موبائل اٹھا کر قدموں میں سنجیدگی لیے، اپنے کمرے سے باہر نکلا۔ گھر سے باہر آتے ،جاتے ہوئے اس کی عادت تھی کہ وہ سب سے پہلے اپنے ماں باپ سے ملتا، ان کے چہرے کا دیدار کرتا، جیسے یہ کوئی عبادت ہو۔ اس کے چہرے پر سنجیدگی، آنکھوں میں پڑے ہوئے لال ڈورے بتا رہے تھے کہ آج بھی نیند ادھوری رہی ہے۔

دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھتے ہوئے، لکڑی کے دروازے کو آہستہ سا اندر کی طرف دھکیلا۔ کمرے میں باسق خان بیڈ پر نیم بیٹھے ہوئے، پرسکون مگر پر پرکھتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہے تھے۔ پاس ہی صوفے پر رتبہ سر پر دوپٹہ لپیٹے، تسبیح ہاتھ میں لیے، خاموشی کے عالم میں بیٹھی تھی۔

“السلام علیکم”
“وعلیکم السلام”

باسق خان اور رتبہ نے ایک ساتھ محبت بھرا جواب دیا۔ یارم کو دیکھ کر ان کے چہرے پر خوشی کی ہلکی لہر دوڑ گئی، مگر اس کے چہرے کی سنجیدگی، خاموشی اور ویران آنکھوں نے دل کو چبھتے ہوئے پریشانی میں بدل دیا۔ یارم، ان کا چاند، ایسا ویران تو اسے کبھی دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔

یارم نے احترام سے سلام کرتا ہوا اپنی اماں کے آگے سر جھکایا۔
“جیتے رہو، اللہ تعالی تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔” رتبہ نے اپنے بیٹے کا ماتھا چوما، دونوں ہاتھوں سے چہرے کے کنارے تھامتے ہوئے، زرد چہرہ اور ویران آنکھیں غور سے دیکھی، دل ایک پل کے لیے رک سا گیا۔

اپنی ماں کے بعد یارم کے قدم باسق خان کی جانب بڑھے،خاموشی سے کے سامنے بھی سر جھکایا۔۔۔یارم کے قدم بے تاب تھے کمرے سے باہر جانے کو… اور یہ بات اس کے بابا کی نظروں سے چھپی ہوئی ہرگز نہ تھی۔

“یارم، بیٹھو، ہمیں تم سے ضروری بات کرنی ہے۔۔۔” باسق خان نے گہرے اور محتاط لہجے میں کہا۔

یارم ان کی طرف سوچتی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ دل میں عجیب سی پیشگوئی جاگ رہی تھی، جیسے ہوا کی سرسراہٹ سے پہلے ہی بارش کا پتہ چل جائے، پتہ نہیں کیوں اسے ایک گہری، سنجیدہ بات کی آمد محسوس ہو رہی تھی۔۔۔اور وہ ان باتوں کے بوجھ سے خود کو بچانا چاہتا تھا۔

“سوری بابا، مجھے جلدی جانا ہے۔۔۔”اس کی گھبراہٹ اور تیز لہجے میں جواب دینا صاف بتا رہا تھا کہ وہ رکنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور کسی بھی سنجیدہ بات سے خود کو بچا لے جانا چاہتا ہے۔

“آرام سے بیٹھ جاؤ، بات کرنے کے بعد چلے جانا۔ آج کل تمہیں ایسی کیا جلدی ہے کہ ناشتہ اور رات کا ڈنر ہمارے ساتھ نہیں کرتے؟” باسق خان نے شکوہ بھری نظروں سے اپنے بیٹے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔

“بابا، اس وقت کام زیادہ ہے، ٹائم نہیں ملتا، انشاءاللہ جلد روٹین ٹھیک ہو جائے گی، آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔” یارم نے کہا، اس کے لہجے میں بظاہر پابندی تھی، مگر اس کی نگاہیں ادھر ادھر حرکت کر رہی تھیں، اور آواز میں مدھم لرزش تھی، جیسے کوئی قفل بند دروازہ زور لگا کر کھولنے کی کوشش کر رہا ہو… بظاہر تو وہ نارمل لہجے میں بات کہہ رہا تھا، مگر اندر سے دل کے سروں میں ناراضگی کی لہریں اُٹھ رہی تھیں۔

باسق خان اور رتبہ اپنے بیٹے کی پریشان، الجھی ہوئی نگاہوں میں جھانکتے رہے اور خاموشی اختیار کیے ہوئے بیٹھے رہے۔ یارم نظریں جھکائے، اپنے بابا کے پاس آہستہ سے بیٹھ گیا۔ کمرے کی فضاء میں چند لمحوں کے لیے گہری خاموشی چھا گئی، جیسے ہر سانس اور ہر پل وقت کے بہاؤ میں رک گیا ہو۔

وہ اپنے بابا کے پاس ہی بیڈ پر پاؤں لٹکائے ہوئے بیٹھا تھا،مگر خاموش نظر جھکائے ہوئے،سامنے رتبہ سنگل صوفے پر بیٹھی ہوئی تسبیح پر کچھ پڑ رہی تھی،رتبہ مکمل طور پر خاموش تھی نہ تو وہ اپنے شوہر کے خلاف جا کر اپنے بیٹے کے زخموں کی مرہم بن سکتی تھی اور نہ ہی بیچ میں بول کر اپنے بیٹے کی دل آزاری کر سکتی تھی،اس نے خاموش رہنا ہی بہتر سمجھا۔۔۔

یارم اگر اپنی ناراضگی کا اظہار زبان سے کرتا تو شاید اس کے بابا اسے سمجھانے کی کوشش کرتے، مگر اس نے خاموشی تان لی تھی۔
یارم کا یوں خاموش ہو جانا، باسق خان کے دل میں اپنے بیٹے کے لیے فکر کی لہر دوڑا رہا تھا۔ یارم اس نیچر کا مالک نہیں تھا؛ وہ اپنے بابا کے ساتھ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات بانٹتا، مگر اب اپنے بڑے دکھ کو خاموشی سے اپنے اندر جذب کر چکا تھا۔ یہ بات باسق خان کے لیے ہضم کرنا آسان نہیں تھا۔

یارم زبان سے کچھ نہیں کہتا تھا، مگر اس کی روٹین میں واضح بدلاؤ آچکا تھا۔ وہ اکثر گھر لیٹ آنے لگا، کھانے کے ٹائم بھی اکثر غائب رہتا۔ اگر گھر میں موجود بھی ہوتا تو کمرے سے باہر نہیں آتا تھا۔ کئی دنوں سے وہ اپنی فیملی کے ساتھ مل کر کھانا نہیں کھا رہا تھا، حالانکہ ہمیشہ ڈنر کے وقت سب مل کر بیٹھتے تھے۔

باسق خان اور رتبہ کو یارم آج کل بالکل اجنبی لگ رہا تھا۔ وہ کبھی بھی اس طرح چپ چاپ ان کے کمرے میں نہیں بیٹھتا تھا۔رونق تو جیسے اس کے قدموں کے ساتھ ہی کمرے میں آجاتی تھی،
مگر اب تو وہ یوں چپ چاپ بیٹھ جاتا جیسے دل کے دروازے اندر ہی کہیں بند کر دیے ہوں۔ باسق اور رتبہ محسوس کر رہے تھے کہ وہ آہستہ آہستہ ان سے دور جا رہا ہے، جیسے خاموشی نے اس کے گرد کوئی دیوار سی کھڑی کر دی ہو۔

یارم تو ہمیشہ آ کر اپنے بابا کے سینے پر سر رکھ دیتا تھا، وہی بچپن والی ضد، وہی بچپن والی محبت… باتیں کرتے کرتے کبھی ہنستا، کبھی اپنے بابا کے ساتھ مذاق مذاق میں زور آزمائی کرنے لگتا۔۔۔۔ یہ عادت اس کے بچپن سے اس کی شناخت تھی۔

مگر اب یہ عادت بدل رہی تھی، اور یہی بدلاؤ دونوں کے دل میں چبھ رہی تھی۔ جیسے کوئی اپنے ہی گھر میں اپنا بچہ کھو دے… آہستہ آہستہ، بنا آواز کے۔

“کچھ کہو گے نہیں؟”
آخر کار خاموشی کو باسق خان نے ہی توڑا۔ انہوں نے آہستہ سے اپنا ہاتھ یارم کے ہاتھ پر رکھا، پھر اسے دبا لیا۔
یہ وہی ہاتھ تھا جو بچپن سے یارم کے سر پر سایہ بن کر رہتا تھا۔ تحفظ بھی، شفقت بھی… ہر گرنے سے پہلے تھام لینے والی طاقت بھی یہی تھی۔

بس فرق اتنا تھا کہ اب یارم کا ہاتھ جوانی کی سختی لیے ہوئے تھا، اور باسق خان کا ہاتھ… وقت کی لکیروں میں بدل چکا تھا۔

“نہیں بابا… مجھے تو کچھ نہیں کہنا۔”
یارم نے آہستہ سے کہا، آواز میں وہی ٹوٹا پن تھا جیسے بڑی ہمت کر کے وہ لفظوں کو زبان تک لایا ہو۔
“آپ کو کچھ کہنا ہے تو… بس حکم کریں۔”

اس کی آواز میں ایک عجیب سی کھڑکھڑاہٹ تھی، جیسے اندر کہیں کوئی دکھ دبایا گیا ہو۔
اس نے نظریں نہیں اٹھائیں، جیسے اپنے بابا پر کوئی حق ہی نہ رہا ہو۔ ، جیسے بولنے کا اختیار بھی اس نے اپنے دل کے ساتھ کہیں بند کر دیا ہو۔

“ہمارا بیٹا ہم سے ناراض ہے؟”

“نہیں بابا!”
جواب چھوٹا تھا، سیدھا تھا، مگر اندر ایک لرزش دبی ہوئی تھی۔
یارم کا لہجہ اوپر سے پرسکون لگ رہا تھا، جیسے سب ٹھیک ہو، مگر رتبہ اور باسق خان کے دل میں وہی جواب تیر کی طرح اتر گیا۔

یہ ان کا یارم نہیں بول رہا تھا۔
یہ اس کے اندر دبے ہوئے درد کی آواز تھی، وہ درد جسے اس نے سینے کے کسی اندھیرے گوشے میں بند کر رکھا تھا، اور باہر ایک خاموش مضبوطی کا خول اوڑھ لیا تھا۔

لیکن ماں باپ کی آنکھیں…
وہ تو اپنے بیٹے کی مسکراہٹ میں بھی لرزش دیکھ لیتی ہیں۔
یہ چھپا ہوا دکھ وہ کہاں چھپا سکتا تھا؟

“میرا بیٹا تو کبھی جھوٹ نہیں بولتا… یہ جھوٹ بولنے والی عادت میرے بیٹے میں کہاں سے آگئی ہے؟”ناراض تو تم ہو زبان پر نہیں لا رہے وہ الگ بات ہے۔
یہ کہہ کر باسق خان نے نرم نگاہوں سے یارم کی طرف دیکھا۔
یارم نے بھی سر اٹھایا، چند لمحوں کے لیے اپنے بابا کی آنکھوں میں جھانکا… پھر فوراً نظریں جھکا لیں۔
اس کی آنکھوں میں ایک نہیں، ہزاروں شکوے لپکے تھے، جیسے سب کچھ ایک لمحے میں کہنا چاہیں، مگر زبان تک آ کر ٹھہر جائیں۔

وہ شکوے، جو ایک بیٹا صرف اپنے بابا سے ہی کر سکتا ہے۔
مگر یارم… اس نے ایک بھی شکوہ زبان پر نہ آنے دیا۔

فرمانبردار بیٹا تھا۔
اپنے دل پر پتھر رکھ کر بھی وہ اپنی زبان کو قابو میں رکھے بیٹھا تھا۔
ڈاکٹر کی سخت تاکید تھی کہ باسق خان کو کسی بھی قسم کا دباؤ نہیں لینا… اور اگر ڈاکٹر نہ بھی کہتے تو یارم کے دل میں اپنے ماں باپ کی صحت، ان کی زندگی کا خوف اتنا گہرا تھا کہ وہ کبھی ایسا قدم نہ اٹھاتا جس سے انہیں ذرا سی بھی تکلیف پہنچے۔

وہ یہ سب برداشت کر رہا تھا…
اپنے اندر دبا رہا تھا…
صرف اس لیے کہ اس کے بابا کی سانس ہلکی رہے، دل پرسکون رہے۔
اپنے بابا کی زندگی اس کی پہلی ذمہ داری تھی۔
اور اپنی محبت… وہ تو وہ پہلے ہی قربان کر چکا تھا۔

“بابا، آپ پریشان نہ ہوں… میں بالکل ٹھیک ہوں۔”

یارم نے آہستہ سے کہا، مگر اس کی آواز میں وہ خالی پن تھا جو کسی کے بھی دل کو کاٹ کر رکھ دے۔

“جھوٹ… تم ٹھیک نہیں ہو۔”
باسق خان نے گہری سانس لی، جیسے لفظوں کو سنبھال کر چبانا پڑ رہا ہو۔
“ناراض ہو تو جتاؤ، ناراضگی تو پھر بھی سمجھ آ جاتی ہے… مگر یہ خاموشی؟ یہ زیادہ دیر میں نہیں سہہ پاؤں گا، یارم…”

ان کی آواز میں عجیب سی لرزش تھی۔
وہ لرزش جو ایک مضبوط باپ تب محسوس کرتا ہے جب بیٹا اسے دل سے دور ہوتا ہوا دکھائی دے۔

رتبہ نے یہ کپکپاہٹ سنی تو پلکیں بھیگ گئیں۔
اس نے دھیرے سے سر جھکا لیا، تسبیح پر انگلیاں چلتی رہیں مگر دل بیچ سے ٹوٹ رہا تھا۔
وہ جانتی تھی کہ اس کے شوہر کے ہر لفظ کے پیچھے کتنی بےبسی ہے…
اور اس کے بیٹے کے ہر جواب کے پیچھے کتنی نارضگی۔

” یارم… مجھے پتہ ہے تم مجھ سے ناراض ہو۔ پھر اپنی ناراضگی کا اظہار کیوں نہیں کر رہے ہو؟”
باسق خان کی آواز تھکی ہوئی بھی تھی اور لرزتی ہوئی بھی۔

یارم نے سر اٹھایا، ایک لمحہ باپ کو دیکھا… پھر نظریں جھکا لیں۔
اس نے گہری سانس لی، لہجے میں وہی پرانا احترام تھا، مگر دل میں بھاری سا بوجھ بھی۔

“بابا… ماں باپ سے ناراض نہیں ہوا جاتا۔”

“آپ کا اور مورے کا حق مجھ پر سب سے پہلا ہے… آپ کہیں تو یارم خوشی سے اپنی جان دے دے گا۔”

وہ لمحہ بھر کو رکا، جیسے لفظوں کو چن کر رکھ رہا ہو۔

“آپ نے تو مجھ سے صرف اپنی زندگی کے بدلے میری محبت مانگی ہے… تو میرے خیال سے یہ سودا برا نہیں۔”سننے میں سادہ مگر اس کے الفاظ بہت گہرے تھے جو سیدھے ماں باپ کے دل پر چوٹ کر رہے تھے۔

رتبہ کے ہاتھ تسبیح پر جم گئے۔
باسق خان نے پلکیں بند کر لیں، جیسے دل کے بیچ کہیں کچھ چبھ گیا ہو۔

یارم نے خاموشی کو توڑا، بات آگے بڑھائی۔

“میں آپ سے ناراض نہیں ہوں… ہاں، تھوڑا دکھی ضرور ہوں۔”
اس کی آواز میں وہ ٹھہراؤ تھا جو ٹوٹے ہوئے لوگ سیکھ لیتے ہیں۔

“عبیرہ… میری زندگی میں کیا معنی رکھتی تھی، یہ میں لفظوں میں نہیں بتا سکتا۔”
اس نے سر جھکا کر خود کو سنبھالا۔
“اور نہ ہی میں اسے کبھی بھول سکتا ہوں…”

کمرے میں ایک لمحے کو ہوا بھی رک گئی، جیسے سب نے یارم کے دل کا بوجھ محسوس کر لیا ہو۔

رتبہ کی آنکھوں سے ایک خاموش آنسو تسبیح پر گرا…
اور یارم کے دل میں اپنی ادھوری محبت کا زخم تازہ ہو گیا کہ جسے وہ روز سہتا تھا مگر کسی سے کہتا نہیں تھا۔۔
کے لفظ پورے اعتماد اور باپ والی نرمی کے ساتھ نکلے تھے۔

“بھول جاؤ گے ایک دن تم اس لڑکی کو… ضرور بھول جاؤ گے۔ کیونکہ میں نے تمہارے لیے جس کا انتخاب کیا ہے وہ تمہاری زندگی میں خوشیوں کے ایسے رنگ بھر دے گی کہ تمہیں یہ بھی یاد نہیں رہے گا کہ کبھی تم نے کسی سے محبت کی تھی…”

یارم نے چونک کر اپنے بابا کی طرف دیکھا۔اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ فیصلہ اتنی جلدی کر لیا گیا ہے.. اسے تو اپنے ٹوٹے دل کی کرچیاں سمیٹنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔
نچلا ہونٹ دانتوں کے نیچے دب گیا، آنکھیں چند لمحوں کے لیے بند رہیں، پھر اس نے گہری سانس باہر نکالی اور دوبارہ نگاہیں اپنے بابا کے چہرے پر جما دیں۔

“بابا… آپ نے ہمیشہ مجھے بہت پیار دیا۔ میری ہر خواہش، ہر ضد… آپ نے میرے قدموں میں رکھ دی۔ آپ دنیا کے سب سے بہترین بابا ہیں۔”
اس کی آواز میں وہی پرانی نرمی تھی، مگر اندر کہیں چبھن بھی تھی۔

“آپ کے فیصلے کے سامنے سر نہیں اٹھاؤں گا… آپ کا فیصلہ، آپ کا حکم، سر آنکھوں پر… یارم اُف تک نہیں کرے گا۔”

وہ رکا، نگاہیں نیچی کیں،اور پھر سے سر اٹھایا۔جیسے ضبت کی آخری حدوں پر کھڑا ہو۔

“مگر بابا… ایک بات ضرور کہوں گا۔”
اس کے لہجے میں کرب کی بھاری سی لکیر آ گئی۔
“آپ نے ایک ہی بار اپنی ساری محبتوں کا حساب پورا کر دیا ہے۔ ایک ہی بار اتنی بڑی قربانی مانگ لی۔ ایسا کبھی سوچا بھی نہیں تھا…”

ان لفظوں میں چھپا طنز اتنا واضح تھا کہ کمرے کی فضا بدل گئی۔

باسق خان نے اسے گہری، زخمی نظروں سے دیکھا۔باسق خان یہی تو چاہتا تھا کہ وہ کچھ ہے تاکہ وہ اسے پیار سے سمجھا سکے۔

“ہمارا بیٹا ہم پر طنز کر رہا ہے؟”
آواز میں بوجھ محسوس ہورہا تھا۔

یارم نے نظریں نہیں چرائیں۔ اس کے اندر کا درد جیسے ہرحال میں باہر آنا چاہتا تھا۔

” اتنا حق تو دے دیجیے بابا… کہ اپنے دل کا تھوڑا سا درد ہی طنز میں نکال سکوں۔”
اس نے آہستگی سے کہا۔
“معاف کیجیے گا… درد بہت زیادہ ہے۔ نہ تو آپ سے گستاخی کر سکتا ہوں… نہ ہی ہمت کر کے خود کو سمیٹ پا رہا ہوں۔ ڈرتا ہوں کہیں درد بڑھ نہ جائے… کہیں ایسا نہ ہو کہ دل ہی پھٹ جائے…”

رتبہ کی سانس رکی، تسبیح ہاتھ میں کانپ اٹھی۔

“یارم… اللہ تعالی تمہیں لمبی زندگی دے۔ دوبارہ ایسا لفظ منہ سے مت نکالنا!”
رتبہ خان نے تڑپ کر کہا، اس کی آواز میں خوف اور ماں والا درد گھلا ہوا تھا۔

باسق خان کی آواز میں دکھ بھی تھا، تھکن بھی اور برسوں پرانی چبھن بھی… جیسے ہر لفظ کے ساتھ اس کے سینے کا بوجھ باہر نکل رہا ہو۔

“یارم… ایسا بول کر تم ہمیں تکلیف پہنچا رہے ہو۔”
وہ آہستہ سے بولا، جیسے بیٹے کے دل کو سہلا بھی رہا ہو اور سمجھا بھی رہا ہو۔
“جانتا ہوں تم نے اس لڑکی سے انجانے میں محبت کی تھی۔ اگر وہ عروب کی بیٹی نہ ہوتی… میں ہر حالت میں تم دونوں کا رشتہ جوڑ دیتا۔”

یارم نے پلکیں اٹھائیں مگر کچھ نہ کہا۔ باسق خان کے چہرے کی لکیروں میں وہی پرانی تکلیف تھی جو وقت کے ساتھ گہری ہوتی گئی تھی۔

“یارم… اس وقت یا تو تمہارے دل کے درد کو سمجھ لوں یا پھر اپنے دل کے درد کو…”
اس کا لہجہ بکھرا ہوا سا تھا۔
“بہت کوشش کی میں نے کہ تمہاری خوشیوں کے لیے خود کو جھکا دوں… مگر میں نہیں جھک پا رہا۔”

وہ لمحہ بھر رکا، جیسے کوئی زخم دوبارہ سرخ ہو گیا ہو۔

“پختون ہوں… بات غیرت پر آ گئی ہے۔”
چہرے پر سختی نہیں… بلکہ ایک دبی ہوئی بے بسی تھی۔
“عروب جو ہمارے ساتھ کر کے گئی، میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ اور نہ ہی اس شخص کو معاف کر سکتا ہوں جس کی وجہ سے عروب نے وہ قدم اٹھایا…”

کمرے میں لفظ جیسے ہوا میں ٹھہر گئے۔
رتبہ نے خاموشی سے یارم کو دیکھا۔
اور یارم… وہ دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے آپس میں جکڑے بیٹھا تھا۔
تینوں کے دل اپنے اپنے درد میں الجھے ہوئے تھے، مگر کسی کے پاس دوسرے کو سمجھانے کے لیے مکمل لفظ نہیں تھے۔

“مگر بابا، وہ جس کے ساتھ ہے اس نے عروب آپی کی عزت بچائی ہے، ہمیں عروب آپی کی بات سننی چاہیے، ان کے ساتھ بہت کچھ غلط ہوا ہے، ایک بار تو آپ جاننے کی کوشش کریں کہ آخر وہ شایان کے ساتھ کیوں نہیں ہے، کیوں ان کی شادی تبریز خان کے ساتھ ہوئی…”

“یارم، تم پھر سے وہیں باتیں دہرا رہے ہو… میرے لیے عروب مر چکی ہے، میرے لیے وہ اسی دن مر گئی تھی جس دن اس نے ہمارے گھر کی چار دیواری پامال کرتے ہوئے دہلیز سے قدم باہر نکالا…”
باسق خان نے اپنے دل والے مقام کو مسلتے ہوئے کہا۔

“سوری… سوری، سوری بابا، پلیز سٹریس نہ لیجیے گا، آپ کا حکم میرے لیے سب سے بڑھ کر ہے، میں صحیح اور غلط میں اپنے بابا کو نہیں کھونا چاہتا…”
یارم اپنے بابا کی بگڑتی حالت دیکھ کر گھبرا گیا تھا،

“باسق، پلیز خود کو سنبھالیں، آرام سے، پرسکون رہیں…”
رتبہ کچھ دعائیں پڑھتی ہوئی ان کے چہرے پر ہلکے پھونکے مار رہی تھی، جیسے محبت اور فکر کا ایک ہلکا سا پردہ ان کے دل پر چھا رہا ہو۔

یارم اپنے بابا کو تکیہ دے کر سیدھا لیٹا رہا تھا،دل میں گھبراہٹ تھی ۔

“ٹھیک ہوں، کچھ نہیں ہوا مجھے…

باسق نے تسلی دی۔

” بس، یارم، میں جلد از جلد تمہاری شادی کر کے تمہیں خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔ جب کوئی تمہاری زندگی میں تمہیں سنبھالنے والی آ جائے گی، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا…”

“تمہارے لیے میں نے لڑکی دیکھی ہے، میرا دوست ہے… کافی عرصے سے جانتا ہوں اسے۔
اس کی ایک ہی بیٹی ہے، پڑھی لکھی ہے، بہت خوبصورت ہے، اور تمہارے ساتھ اس کی جوڑی بہت خوبصورت لگے گی…”

“تو آج شام کو تھوڑا جلدی آنا، ہم ان کے گھر جا کر لڑکی کو دیکھ لیں گے، اگر تم لڑکی کو پسند کرو تو پھر شادی میں دیر نہیں ہوگی…”باسق خان نے اپنا فیصلہ سنا دیا تھا۔یارم کو اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہوا تھا،مگر اس نے خود کو سنبھال لیا۔

“بابا، مجھے لڑکی دکھانے کی ضرورت نہیں… آپ لڑکی کو میری تصویر دکھا دیجیے۔ اگر وہ مجھے پسند کرتی ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ جس کو آپ نے میرے لیے پسند کیا ہے، میں اسے قبول کرتا ہوں۔ جب عبیرہ نہیں تو پھر کوئی بھی ہو، کیا فرق پڑتا ہے…”

وہ ٹوٹے ہوئے انداز سے بولا، جانے کے لیے تیار، دل درد سے بھرا ہوا، رکنا نہیں چاہتا تھا۔ مگر باسق خان کی آواز میں ایک بار پھر ایسا اثر تھا کہ وہ رکنے پر مجبور ہو گیا۔

“یارم، اس لڑکی کے ساتھ کچھ غلط نہیں ہونا چاہیے، مجھے اپنے فیصلے پر شرمندہ مت کروانا…”

“بابا، یارم مر سکتا ہے مگر آپ کا سر نہیں جھکا سکتا۔ اس لڑکی کو اس کے تمام حقوق ملیں گے، مگر اسے عبیرہ کی جگہ کبھی نہیں دے سکتا۔ اس کے لیے مجھے معاف کر دیجیے، اور اس سے زیادہ دباؤ مت ڈالیے، بابا… میں بھی انسان ہوں، دل میرا بھی ٹوٹا ہے، تکلیف مجھے بھی ہو رہی ہے، مجھے خود کو سمیٹنے کا موقع تو دیجیے…”

یارم اس قدر تکلیف میں تھا کہ بولتے ہوئے روم سے نکل گیا، کیونکہ اگر رکتا تو حالات بگڑ سکتے تھے۔ باسق خان نے گہری سانس لیتے رتبہ کو آواز دی جو قریب ہی کھڑی تھی ۔

“رتبہ…

“جی…

“آج شام تیاری کرو، ہم یارم کے لیے لڑکی کو ڈن کرنے جا رہے ہیں۔ یارم کی تصویر میں پہلے ہی بھجوا چکی ہوں۔ مجھے پوری اُمید ہے کہ وہ لوگ انکار نہیں کریں گے۔ ہمارے بیٹے میں ایسی کوئی کمی نہیں جس کی وجہ سے رشتے سے انکار کیا جائے…”

رتبہ کی نگاہیں باسق خان کی طرف اُٹھیں، تھوڑی سی فکر اور سوالات کے ساتھ۔

“مگر باسق، کیا اس طرح رشتہ طے کرنا مناسب ہوگا؟ وہ تو لڑکی دیکھنے کو تیار نہیں ہے…”
رتبہ کی آواز میں نرم محتاط تشویش تھی، جیسے کسی درخت کی ہلکی ہلچل ہوا میں۔

“رتبہ، تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے؟”
“باسق، کیسی باتیں کر رہے ہیں! مجھے آپ پر پورا یقین ہے، آپ اپنے بیٹے کے بارے میں کچھ غلط نہیں سوچ سکتے…”

“تو پھر تم میرا ساتھ دو۔ مجھے یقین ہے کہ میرا فیصلہ غلط نہیں ہوگا…”

رتبہ نے گہری سانس لی، اور آنکھیں نیچی کرتے ہوئے کہا۔
“میں تو صرف یہ کہہ رہی تھی کہ آپ یہ فیصلہ بہت جلدی کر رہے ہیں، اسے تھوڑا سا سنبھلنے کا موقع تو دیں، اس کے بعد شادی کر دیں گے…”

باسق خان نے نظریں جھکا کر خاموشی اختیار کی، پھر کہا۔
“رتبہ… یارم کو اس وقت شادی کے بندھن میں باندھنا بہت ضروری ہے، ورنہ یہ خود کو کبھی سمیٹ نہیں سکے گا۔ نہ تو میں اس کی جھولی میں اس کی محبت ڈال سکتا ہوں، اور نہ ہی اپنے بیٹے کو ٹوٹتا ہوا دیکھ سکتا ہوں۔ اس کا واحد حل شادی ہے۔ ایک بار شادی ہو جائے گی تو اپنے آپ اپنی زندگی میں مصروف ہو کر اس لڑکی کو بھول جائے گا…”

رتبہ کی آواز میں دعا جیسی نرمی اور فکر تھی۔
“اللہ کرے ایسا ہی ہو…”

“انشاء کو ساتھ لے کر چلیں گے…”
“جی، ٹھیک ہے۔ میں تیاری کرواتی ہوں، آپ سٹریس نہ لیں، آپ نے ابھی دوا لی ہے۔ کچھ دیر آرام کیجیے، میں شام تک جانے کی تیاری کر لوں گی…”

“ہمم… ٹھیک ہے، جاتے ہوئے لائٹ آف کر کے جانا، میں کچھ دیر آرام کروں گا…”
“جی…”

باسق خان نے گہری سانس لی اور اپنی جگہ پر لیٹ گیا، جبکہ رتبہ اپنے بیٹے کے لیے دعا کرتے ہوئے روم سے باہر نکلی۔
اس کے ہاتھ میں اب بھی تسبیح تھی، جیسے کسی خاموش شمع کی روشنی، جو گھر کے امن و سکون کے لیے روشنی بانٹ رہی تھی۔رتبہ ذہنی طور پر بہت پریشان تھی اپنے بیٹے کو اس طرح دیکھنا اسے بہت تکلیف دے رہا تھا اور وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ باسق آرام نہیں کرے گا ۔وہ بھی پریشان ہے بس اپنی پریشانی شاید اس وقت کسی کو دکھانا نہیں چاہتا تھا ۔
عجیب سا درد ہوتا ہے، جب دل کی محبت اور ماں باپ کی محبت میں سے کسی ایک کو چننا پڑے۔ یہ درد اکثر ماں باپ سمجھ نہیں پاتے… یا پھر سمجھ بھی جائیں، تب بھی خاموشی سے اپنی سوچ کے مطابق قدم اٹھا جاتے ہیں۔ شاید یہی ان کی محبت کا انداز ہے، شاید یہی طریقہ ہے کہ وہ ہمارے لیے بہتر سوچتے ہیں، چاہے یہ فیصلہ ہمارے دل کو توڑ دے، مگر ان کی نیت ہمیشہ ہماری بھلائی کی ہوتی ہے۔

═══════❖═══════

Ye qist novel “Saleeb Sukoot” ki ek qist hai, takhleeq Hayat Irtaza, S.A ki.Agli qist mutalea karne ke liye isi novel ki category “Saleeb Sukoot” mulaahiza karein, jahan tamaam qistain tartiib war aur baqaida dastiyaab hain.💡 Har nai qist har Itwaar shaam 8:00 baje shaya ki jaayegi.

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *