Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:18

صلیب سکوت
ازحیات ارتضیٰ.S.A
قسط نمبر:18

                             ═══════❖═══════

کمرے کا ماحول تھوڑا بھاری تھا۔ ایزل ایک طرف کھڑی تھی، چہرے پر چڑچڑا پن صاف نظر آ رہا تھا۔ روشانے نے اسے دیکھا تو گہری سانس لے کر آگے بڑھی۔

ایزل ایزل چپ ہو جاؤ، تم اپنے روم میں جاؤ جا کر فریش ہو جاؤ۔۔۔ اس کے بعد تمہارے موبائل پر میں نے پکچر سینڈ کی ہے اسے دیکھو غور کرنا، اگر پھر بھی اچھا نہیں لگا تو کونسا تمہارے ساتھ کوئی زبردستی کر رہا ہے۔۔۔ اور ویسے بھی تم کونسا زبردستی برداشت کرنے والی چیز ہو، اس لیے بھابھی کا سر مت کھاؤ، جاؤ۔۔۔ اپنے روم میں جاؤ اور پھر آ کر بتانا کہ تمہارا فیصلہ کیا ہے۔۔۔

روشانے اسے سمجھاتے ہوئے ذرا جھک کر بولی۔ اس کے لہجے میں نرمی اور سختی دونوں کا عجیب سا ملاپ تھا۔ ایزل کچھ نہیں بولی، بس ایک لمحے کے لیے روشانے کو دیکھا اور پھر آہستہ سے نظریں جھکا لیں۔
روشانے نے جاتے جاتے اسے دلاسہ دیا تھا ،کہ وہ کسی بھی سختی کو برداشت کرنے والوں میں سے نہیں ہے۔اور شاید اشارہ یہ تھا کہ اسے برداشت کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

فضا میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی، جیسے دونوں کے بیچ کی بات ادھوری بھی تھی اور کافی بھی۔شاید ایزل اشارہ سمجھ چکی تھی۔

گلناز صوفے پر بیٹھی تھی، دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھامے۔ چہرے پر تھکن بھی تھی اور اندر ہی اندر تپش بھی۔ جیسے بڑی مشکل سے خود کو سنبھال رہی ہو۔
اچانک اس نے روشانے کو سرگوشی کرتے دیکھا تو اس کا جھکا ہوا سر اوپر کو اٹھا۔ آنکھوں میں غصہ بھر آیا، اور اس نے دونوں کی طرف سخت نظروں سے دیکھا۔
“زبردستی والی کون سی بات ہے اور کون کر رہا ہے اس کے ساتھ زبردستی جو اس کو برداشت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔گلناز کی کڑکدار آواز پر،روشانے چونکی، جیسے وہ اس ردعمل کی توقع نہیں کر رہی تھی۔جبکہ ایزل کی نظروں میں اب بھی وہی تیور تھے۔
” بھابھی میرا وہ مطلب نہیں میں صرف اسے سمجھا رہی ہوں…… بات کو غلط رنگ مت دیں۔
گلناز کی نظر اس سے نہیں ہٹی۔ وہ خاموش تھی مگر اس کی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ وہ سب سمجھ چکی ہے… اور اس بات نے روشانے کو مزید بے چین کر دیا تھا۔

گلناز اب بھی صوفے پر بیٹھی ایزل کو گھور رہی تھی، ماحول میں کشیدگی بڑھنے تھی کہ روشانے نے بات سنبھالتے ہوئے ایزل کو مخاطب کیا۔

” اور ایزل تم فضول میں رٹا مت لگاؤ کہ شادی نہیں کرنی… لڑکا تو دِکھنے میں بہت خوبصورت ہے اچھی پوسٹ پر ہے۔۔۔ اور بھلا کیا چاہیے ؟اور سب سے بڑھ کر وہ بھائی کے کسی دوست کا بیٹا ہے تو بھائی ظاہر سی بات ہے اچھی طرح سے دیکھ بھال کر ہی بات آگے بڑھائیں گے۔۔۔
روشانے نے بات کرتے ہوئے ایک گلناز کو دیکھا… جیسے اس کے سامنے اپنا مؤقف صاف رکھنا چاہتی ہو… جیسے یہ ثابت کرنا چاہتی ہو کہ وہ کوئی غلط سوچ اس کے دل میں نہیں ڈال رہی۔

ایزل لمحہ بھر کو چپ رہی… اور گلناز نے دونوں کو خاموشی سے دیکھا، مگر اس بار اس کی نظر میں پہلے جیسا غصہ کم اور جانچ زیادہ تھی… جیسے وہ یہ طے کر رہی ہو کہ کون کس نیت سے بات کر رہا ہے۔

“جو مرضی کر لیں، اور شادی تو ابھی بالکل بھی نہیں کروں گی، پیچر دیکھ کر بھی اگر انکار نہ کیا تو میرا نام بھی ایزل نہیں۔۔۔
وہ پاؤں پٹختی ہوئی گئی تھی۔۔۔ایزل کمرے سے باہر نکلتے ہوئے دروازہ زور سے پٹک گئی، جس کی گونج کمرے میں رہ گئی۔

روشانے اور اسے اور اس کی ماں دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ کر رہ گئیں، روشانے نے گہری سانس لیتے ہوئے نفی میں سر کو ہلایا۔
دیکھ لیں، میرے سمجھانے سے کون سا اس کی صحت پر کوئی اثر ہے۔روشانے ،نے ایک بار پھر خود کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی۔

“یا اللہ، اس لڑکی کو ہدایت دے۔۔۔ مجھے تو اس کی آنے والے وقت سے ڈر لگتا ہے۔۔۔”

اس کی ماں گلناز، ایزل کے پیر پٹخنے اور دروازہ جاہلوں کی طرح زور سے پٹکنے پر زچ ہو گئی۔
گلناز کو اپنی بیٹی کے تیکھے مزاج سے خوف تھا۔
ہمیشہ سوچتی، پتہ نہیں سسرال میں گزارا کیسے کرے گی۔۔۔
وہ سر کو تھامے بیٹھی رہ گئی۔
“کچھ نہیں ہوگا بھابھی، پریشان مت ہوں۔ شادی کے بعد وہ خود کو بدل لے گی، ابھی اس میں بچپنا ہے۔۔۔” روشانے نے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بھابھی کو دلاسا دیا، ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ، دل میں یقین کے ساتھ کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔

“اللہ کرے ایسا ہی ہو۔۔۔” گلناز نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے کہا، آنکھوں میں فکر اور ہلکی بےچینی جھلک رہی تھی۔ ” مجھے تو اس لڑکی سے کچھ زیادہ اُمیدیں نہیں، اللہ نے دو بچے دیے ہیں، دونوں ایک سے بڑھ کر ایک طوفان ہیں۔۔۔” گلناز کے ہر لفظ میں مایوسی اور فکر جھلک رہی تھی، دل تھوڑا بوجھل سا محسوس کر رہا تھا۔
روشانے کے لبوں پر بے اختیار ہنسی آگئی، جسے وہ بڑی مشکل سے روک رہی تھی، ورنہ گلناز کو لگتا کہ وہ اس کا مزاق اڑا رہی ہے۔

“سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ ٹینشن نہ لیں، میں آپ کے لیے چائے بھیجواتی ہوں۔” روشانے نے تھوڑا جھک کر دل سے اطمینان دلانے کی کوشش کی، آنکھوں میں نرمائیت اور حوصلہ تھا۔

“مجھے چائے نہیں پینی۔۔۔ تم اس کے پاس جاؤ اور دیکھو کہ اس نے لڑکے کی پیچر دیکھی بھی ہے یا دیکھے بغیر ڈلیٹ کر دی ہے۔” گلناز نے لہجے میں سنجیدگی رکھی، آنکھیں پرکھتی ہوئی، ہر جزئیات کا حساب لگاتی، دل میں ہلکا سا خوف لیے ہوئے تھیں۔

“اچھا، میں دیکھتی ہوں۔۔۔ ہے، تو ایسی کچھ بھی اس سے توقع کی جا سکتی ہے۔” روشانے نے فکر سے دروازہ کھولتے ہوئے کہا،اور پھر کمرے سے باہر نکل گئی، دل میں ہلکی بے چینی اور دلچسپی لیے۔روشانے اس وقت بالکل ایک ماں کی فکر کو نہیں سمجھ رہی تھی۔اس کے لیے سب کچھ نارمل تھا۔

“اللہ اس لڑکی کو عقل دے۔۔۔” گلناز نے منہ بسورتے ہوئے تھوڑی بلند آواز میں کہا،وہ دل میں فکر کی چھاؤں اور مایوسی کی ہلکی دھند لیے، جیسے ہر لفظ سے خاموشی کے بوجھ کو ٹالنے کی کوشش کر رہی ہو۔مایوسی کے بوجھ تلے وہ صوفے سے سر ٹکائے بیٹھی تھی۔۔۔
“بچے جب ضد کرتے ہیں، سرکشی کرتے ہیں، تو بھول جاتے ہیں کہ ماں باپ کے دل پر کیا گزرتی ہے۔۔۔
ہوا کی سرسراہٹ میں، دل کی دھڑکنوں میں، خاموش آنکھوں کے نمی میں، ہر لمحہ چھپے درد کا اندازہ ان کو کیوں نہیں ہوتا۔۔۔؟

             ═══════❖═══════

مورے تو کبھی میرے دل کی بات نہیں سمجھتی۔ ہمیشہ ہی مجھے بےوقوف سمجھتی ہیں۔بندہ سوچ ہی لیتا کہ اب ایزل بڑی ہو گئی ہے، اس کی بھی کوئی پسند ناپسند ہوگی۔ یہ نہیں کہ بابا کو سمجھائیں، الٹا مجھے پر ہی پریشر ڈالنے لگ جاتی ہے۔ بھول جاتی ہیں کہ میں بھی ایزل افضل خان ہوں۔ کبھی بھی اپنی مرضی کے خلاف کوئی چیز برداشت نہیں کروں گی۔
ایزل بڑ بڑاتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب جا رہی تھی، قدم ہلکے مگرتھوڑے جھٹکے دار تھے، جیسے من پسند کھیل کے مزے لے رہی ہو۔
اسکے پاؤں کی تھپتھپاہٹ رک گئی، لاپرواہ سا انداز لیے، چھوٹی چھوٹی حرکتوں میں بچکانہ غرور لیے، کمرے کے دروازے کو شاہی انداز میں کھولا۔

اندر داخل ہوتے ہوئے ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی شہزادی اپنی سنت میں قدم رکھ رہی ہو، ہر حرکت میں وقار کے ساتھ بچکانہ شیطانیت جھلک رہی تھی، لیکن پورا انداز ایک خود اعتمادی کی چادر اوڑھے ہوئے۔ایزل افضل خان ہمیشہ سے ایسی ہی تھی۔ لاپرواہ، زئندہ دل، ضدی، اپنی بات منوانے والی، خود کو ہمیشہ سب سے اعلیٰ اور خوبصورت سمجھنے والی، مگر دل کی بہت نرم اور اچھی تھی۔

“لڑکے کی تصویر دیکھ لو، میں نے کون سا لڑکے کی تصویر دیکھ کر ہاں کر دینی ہے۔۔۔”

“چلو، پھر بھی دیکھ لیتی ہوں، کون سا نمونہ ہے جس نے ایزل خان کے لیے اپنا رشتہ بھجوانے کی جرات کی ہے۔۔۔”
کچھ لمحے پہلے موڑ کچھ اور تھا، کمرے میں آتے ہی سب کچھ بدل گیا۔ دل کی دھڑکن تھوڑی تیز تھی، ہاتھ میں ہلکی سی لرزش۔ ایک نظر تصویر دیکھ لینی چاہیے، یہی سوچ کر جلدی سے موبائل اسکرین انلاک کی اور روشانے کے نمبر سے آئی ہوئی پکس پر نگاہ جمائی۔
مگر تصویر دیکھتے ہی ایزل کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ منہ کھلا سا، پلکیں جھپکنا بھول گئی۔ دل بے قابو، سو کی رفتار سے دھڑک رہا تھا، اور عقل یقین کرنے پر آمادہ نہیں تھی کہ اس کے سامنے واقعی ڈی ایس پی یارم خان کی تصویر ہے۔

ایزل کے ہاتھ ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے، موبائل تھامنے کے انداز میں بچکانہ غرور چھپا ہوا تھا۔ وہ تھوڑی جھکی، تھوڑی اونچی ہو کر تصویر کو دیکھ رہی تھی، کبھی موبائل کے کنارے پر انگلی رکھ کر ہلکی سی حرکت دے رہی تھی، جیسے خود کو سمجھانے کی کوشش کر رہی ہو۔

ہوا میں خاموشی چھا گئی، دل کی دھڑکنیں کانوں میں محسوس ہو رہی تھیں، اور ایزل کے اندر ایک عجیب سی بےچینی کے ساتھ تجسس کی لہر دوڑ گئی تھی۔ دل کچھ الگ سے احساسات کو محسوس کر رہا تھا،وہ لمحہ۔صرف چند لمحے۔ایزل کے لیے ایسے تھے جیسے وقت تھوڑا سست ہو گیا ہو، ہر حرکت اور ہر نظر کے ساتھ ہلکی سی حیرت اور تجسس محسوس ہو رہی تھی۔

“او۔۔۔۔ مائی۔۔۔۔ گاڈ۔۔۔
کہیں میں چکر کھا کے گر ہی نہ جاؤں۔۔۔
اللہ مجھے ہمت دے، اگر میں گر گئی تو کون سنبھالے گا۔۔۔
وہ سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے لہرا کر چکرانے کی اداکاری کر رہی تھی، جیسے خود ہی اپنے نازک ہونے پر یقین رکھتی ہو۔

کیا یہ سچ ہے؟؟
مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا۔۔۔کہیں خواب تو نہیں دیکھ رہی ہوں۔؟
وہ خود کو چٹکی کاٹتے ہی سی سی کرتی اچھل گئی،چٹکی کی جلن سے پتا چلا کہ خواب نہیں ہے۔

“سچ ہے سچ ہے ایزل کی بچی یقین کر لے … خود کو ڈانٹ رہی تھی……اے اللہ میاں، کیا معجزے بھی ہوتے ہیں۔۔۔وہ چھت کی طرف منہ اٹھا کر بولی، بڑا ہی پیارا انداز تھا اپنے رب سے بات کر رہی تھی۔۔۔
بالکل بچے کے جیسا جسے کوئی من پسند کھلونا مل جائے تو اسے اپنی خوشی کا اظہار کرنا نہیں آتا۔

“میں خود کو کیسے یقین دلاؤں کہ سچ میں میرے لیے یارم خان کا رشتہ آیا ہے۔۔۔وہ پورے کمرے میں ٹہل رہی تھی۔
“آج صبح ہی تو ظالم سے ٹکرا کر میں نے شدت سے اس کو خدا سے اس کا ساتھ مانگا تھا۔۔۔
اس کی آنکھوں میں حیرت جھلملائی، دل میں میٹھی سی گھبراہٹ تیر گئی۔

اے اللہ کیا میری اپلیکیشن اتنی جلدی منظور ہو گئی؟؟
وہ پاگلوں کی طرح خود ہی سے باتیں کیے جا رہی تھی، کبھی ہنستی، کبھی کمرے میں چکر لگاتی، کبھی موبائل کو چومتی۔

ہائے اللہ جی کیوں میں نے اپنی پیاری ماں کو رشتے سے انکار کیا،ل۔؟ انسان کو ماں باپ کے فیصلے کے سامنے سر جھکا دینا چاہیے۔۔۔
ابھی فریش ہو کر مورے کو جا کر کہتی ہوں کہ مجھے رشتے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔کہہ دوں گی کہ وہ بھلا میرا کبھی برا سوچ سکتے ہیں وہ خود سے ہی شرما رہی تھی۔۔۔ شرما نہیں رہی تھی ایکٹنگ کر رہی تھی۔۔۔

” ایک کام کرتی ہوں فریش ہو کر کیوں؟۔۔۔ پہلے ہی جا کر کہہ دیتی ہوں کہ مجھے لڑکا پسند ہے۔ اب ماں کو پریشان کرنا کوئی اچھی چیز تھوڑی ہے۔۔۔
وہ دانت نکالتی ہوئی، موبائل کو سینے سے لگائے، بھاگتی بھاگتی سیڑھیوں سے اُتری۔
چہرے پر لالیاں یوں بکھری تھیں جیسے پوری دنیا کی خوشیاں اس کی جھولی میں آ گری ہوں۔۔
═══════❖═══════

پتہ نہیں یہ لڑکی کیا کر رہی ہوگی؟ ایک نظر تصویریں دیکھ لیں، اس کے بعد ناپسند آئیں تو ڈیلیٹ کر دیتی۔۔۔ مگر نہیں، اسے تو وہاں بھابھی کے ساتھ بحث کر کے فضول میں ماحول گرم کرنا تھا۔

روشانے یہ سوچتے ہوئے سیڑھیاں چڑھ رہی تھی، ہر قدم پر دل میں ہلکی فکر اور حیرت کے ساتھ کہ ایزل واقعی کیا کر رہی ہوگی۔ ہاتھ چھوٹے چھوٹے حرکتیں کر رہے تھے، آنکھیں سامنے جانے والی ہر چھوٹی بات پر جمی ہوئی تھیں، اور دماغ مسلسل اس خیال میں مصروف تھا کہ ایزل کا بچکانہ انداز اس موقع پر کیسے نمودار ہو گا۔
آہ اااااا۔۔۔روشانے کے منہ سے چیخ نکلی تھی۔

“ریلیکس۔۔۔۔۔ ریلیکس۔۔۔۔ آپ بالکل ٹھیک ہیں کچھ نہیں ہوا یہ ایزل کی آواز تھی…

تیزی سے سیڑھیاں اترتے ہوئے، ایزل روشانے کے ساتھ بری طرح ٹکرائی۔ ایک پل کے لیے روشانے کو لگا کہ وہ سیڑھیوں سے گر جائے گی،اور اس کی آنکھ قبر میں کھلے گی۔
مگر ایزل نے فوراً اس کا ہاتھ تھام کر اسے سنبھال لیا، ہاتھ ہلکے سے کانپ رہے تھے اور آنکھیں حیرت اور جوش کے ملا جلا احساس لیے چمک رہی تھیں۔

“اللہ کی پناہ ہے! کیا ہو گیا تمہیں ایزل؟ ایسے کون سیڑھیوں سے نیچے اترتا ہے؟ ابھی میں بھی گر جاتی اور تم بھی !” روشانے نے ڈانٹ دیا، لیکن اس کی آنکھوں میں چھپی تشویش اور دل کی دھڑکنیں واضح تھیں۔

“کوئی بھی نہیں گرتا، نہ آپ، نہ میں۔ اور میں تو بالکل نہیں گرتی۔
“آج ایسی خوشی ملی ہے کہ آج میں ہواؤں میں ہوں!”

ایزل نے گانے کا سر لگاتے ہوئے، ہاتھ ہوا میں لہراتے ہوئے کہا، نگاہیں چمکتی ہوئی اور لبوں پر بچکانہ مسکان کے گہرے آثار تھے۔

“دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟ کہیں رشتے کی خبر سن کر غصے سے اپنی جگہ سے کھسک تو نہیں گیا؟” روشانے نے حیرت اور فکر کے ساتھ اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

“ہائے! سب کچھ بتاتی ہوں! دماغ آپ کا بھی کھسک جائے گا جب میں آپ کو خبر سناؤں گی۔ اب چلیں، چلے چلیں، میرے ساتھ چلے نہ!” ایزل نے روشانے کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑتے ہوئے، سیڑھیوں سے دھب پتھر کی طرح پاؤں مارتے ہوئے اسے لے کر نیچے جانا شروع کیا۔۔۔

“ارے پاگل لڑکی! میں ، گر جاؤ گی۔۔۔ کہاں لے کر جانا ہے مجھے؟” روشانے ہانپتے ہوئے بولی، ایزل کے تیز قدم دیکھ کر روشانے کے دل میں فکر پیدا ہوئی۔

“بتاتی ہوں، بتاتی ہوں، سب بتاتی ہوں!” ایزل ہواؤں میں اڑتی ہوئی، ہاتھ ہوامیں لہراتے ہوئے، اپنے جوش و ولولے کے ساتھ اپنی ماں کے کمرے کی جانب بڑھ رہی تھی ، ہر حرکت میں بچکانہ خوشی کی جھلک نظر آرہی تھی ۔

وہ عروب کے ہمراہ واپس اسی جگہ پہنچ گئی وہیں،جہاں اس کی ماں ابھی تک سر پکڑ کر بیٹھی تھی،
“تم پھر سے آگئی۔۔۔” مورے نے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا۔

“تمہیں کہا ہے نا کہ فریش ہو جاؤ، تصویر دیکھ لو، اس کے بعد بات کریں گے۔۔۔ ابھی کے لیے چلی جاؤ۔ جتنا تم نے میرا دماغ کھا کر رکھ دیا ہے، ابھی میں کچھ بھی سننے کے موڈ میں نہیں ہوں۔”

“روشانے، اس کو لے جاؤ، میرے دماغ کی درد سے نسیں پھٹ رہی ہیں۔۔۔” ایزل کی ماں نے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا، آنکھیں تھوڑی سی نم تھیں، اور چہرے پر بے چینی اور غصہ واضح تھا۔

“نہیں… مجھے یہ کہنا تھا کہ مجھے تصویر نہیں دیکھنی۔ جو ماں باپ کا حکم… وہ مجھے منظور ہے…
اس نے پلکیں نیچی کر کے دانستہ ایک معصوم سا وقفہ لیا، پھر ہونٹ دباتے ہوئے آہستہ کہا…
آپ کو اگر لڑکا پسند ہے تو آپ لوگ میرا رشتہ طے کر دیں…
یہ کہہ کر وہ ہلکی شرمیلی ایکٹنگ کے ساتھ آنکھیں ٹمٹماتی ہوئی پلٹ گئی… جیسے ابھی ابھی کوئی بڑی قربانی دے کر جا رہی ہو۔

روشانے اور اس کی ماں تو چند لمحے یونہی خشک نظروں سے دروازے کی طرف دیکھتی رہیں…
گلناز نے ذرا سا جھک کر سر ہلایا…
آخر اس لڑکی نے دو منٹ میں اپنا پورا چینل بدل کیسے لیا؟ ابھی تو یہی لڑکی ناراض ہو کر ہر بات پر تیر چلا رہی تھی…

روشانے نے ماتھے پر ہاتھ رکھا…
روشانے:۔۔۔ اس لڑکی کا میں کیا کروں؟
روشانے گہری ٹھنڈی سانس لی، جیسے اس کی سمجھ بھی جواب دے گئی ہو۔

” بھابھی اب تو اچھا ہے نا… کم از کم رشتے کے لیے مان تو گئی ہے۔
روشانے نے ہلکی سی بے یقینی والی ہنسی چھوڑی…

“ہاں، اچھا تو ہے… لیکن تم نے اس کا انداز دیکھا؟ یہ اتنی فرماں بردار کبھی نہیں رہی جتنی ابھی بن کر دکھا گئی ہے۔گل ناز نے حقیقت بیان کی تھی،
وہ لمحہ بھر رکی… جیسے پوری تصویر ذہن میں واپس چل رہی ہو،

“مجھے تو خطرے کی بو آرہی ہے۔ پہلے تو گھر سر پر اٹھا رکھا تھا، ایک لفظ سننے کو تیار نہیں تھی… اور اب دیکھو، سر جھکا کر ایسے کھڑی تھی جیسے برسوں کی نیک پروین ہو… مجھے تو صاف صاف کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے…
بھابھی، کوئی گڑبڑ نہیں ہوگی۔۔۔
شاید اس نے لڑکے کی تصویر دیکھ لی ہے اور ظاہر سی بات ہے، لڑکا اتنا خوبصورت اور ہینڈسم ہے، اوپر سے ڈی ایس پی بھی ہے، تو اسے پسند آ گیا ہوگا۔۔۔
اسی لیے اس نے آ کر ہاں کہہ دی۔۔۔

اب وہ سیدھے انداز میں بات کرنا نہیں جانتی، اس لیے فرمانبردار بیٹی ہونے کا ڈرامہ کر کے ہاں کہہ دی۔۔۔

ہمارے لیے بس اتنا ہی کافی ہے کہ اس نے ہاں کہہ دی ہے۔ آپ پریشان نہ ہوں، سٹریس لے کر اپنا بی پی ہائی مت کر لیں۔۔۔روشانے تسلی بخش انداز سے کہا جب کہ وہ خود بھی ابھی تک حیران نے اتنی جلدی اس کو ہاں کیسے کردی۔

“روشانے، کیسے سٹریس نہ لوں؟ ایک طرف آریان ہے، جو گل کھلا کر خود تو پتہ نہیں کہاں چلا گیا، مگر اس کا باپ کمرے میں آتے ہی مجھے سنانے لگ جاتا ہے۔۔۔۔ ایسے غصہ نکالتے ہیں، جیسے میں نے کہا ہو کہ وہ یہ کارنامہ سر انجام دے۔خاموشی سے ان کی باتوں کو سنتی ہوں گھر کا ماحول خراب نہیں کرنا چاہتی۔اور دل ہی دل میں سوچتی ہوں کہ آخر میں کس لیے اس سب کا ہدف بنی ہوئی ہوں۔۔۔آخر میرا قصور کیا ہے۔

دوسری طرف، گل آپا کو بھی پتہ چل چکا ہے کہ آریان نے اس لڑکی سے نکاح کر لیا ہے۔۔۔ اب اللہ جانے یہ شوشہ ان تک کس نے پہنچا دیا ہے۔

“اللہ ہی خیر کرے، اب ان تک یہ بات کس نے پہنچا دی ہے؟” روشانے مصنوعی افسوس سے کہا، آواز پرسکون تھی، کیونکہ روشانے ایسی باتوں کو زیادہ دماغ پر سوار نہیں کرتی تھی۔

“مجھے نہیں پتہ کس نے بتایا،ایزل کی ماں نے جھنجھلا کر کہا۔مجھے تو ان کا فون آیا تھا۔ فون پر اتنی باتیں سنائی کہ دل چاہ رہا تھا کہ میں رونا شروع کر دوں۔۔۔ مگر پھر صبر کرتے ہوئے، میں نے ان کی سب کڑی ہوئی باتیں یہ سوچ کر سن لیں۔ کہ وہ اپنی جگہ ٹھیک تھی، کسی بھی بیٹی کی ماں پر ایسی خبر قیامت بن کر ہی ٹوٹے گی۔جب پتہ چلے کہ ہونے والے داماد نے نکاح کر لیا ہے ۔گہری سانس فضا میں چھوڑتے ہوئے، گلناز اپنی بہن کی طرفداری بھی کر رہی تھی اور اپنا دکھ بھی سنا رہی تھی۔

“پھر آپ نے کیا جواب دیا ؟… روشانے کو تجسس ہو رہا تھا کہ آخر دونوں بہنوں کی اپس میں کیا بات ہوئی ہے…

“میں نے بھلا کیا جواب دینا تھا…میں بس رو رو کر سچائی بیان کرتی رہی کہ “آپا، مجھے اس بارے میں کچھ نہیں پتا۔
” مگر آپا کے غصے کا تو تم جانتی ہو، وہ میری کوئی بات سننے کو تیار ہی نہیں تھی۔۔۔ ہر لفظ ان کے غصے میں اور میری خاموشی میں گھل رہا تھا، اور میں بس اندر ہی اندر ٹوٹ رہی تھی۔گلناز اپنے صبر کی کہانی بڑے اچھے انداز سے سنا رہی تھی۔جبکہ روشانے کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی بس چسکے لینے کے لیے سن ضرور رہی تھی۔

آپ ریلیکس ہو جائیں, انشاءاللہ, سب ٹھیک ہو جائے گا..
روشانے نے پیٹھ سہلاتے ہوئے.. بالکل ویسے ہی تسلی دی, جیسی ایک نند اپنی بھابھی کو دے سکتی ہے..

انشاءاللہ..
اللہ کرے سب ٹھیک ہو جائے..
مجھ میں تو اور ہمت نہیں ہے..
گلناز نے اونچی آواز میں کہا..
تھوڑی سی اور تسلی دینے کے لیے۔روشانے کچھ دیر پاس ہی بیٹھ گئی..

          ═══════❖═══════

آریان خان آج بہت خوش تھا۔۔۔
خوش کیسے نہ ہوتا؟ اتنی بڑی ڈیل سائن کر کے آرہا تھا، اتنی بڑی کمپنی خرید کر اسے ٹیک آف کر کے اس کا ہیڈ بن چکا تھا۔۔۔

اور سب سے زیادہ خوشی اسے اس بات کی تھی کہ اس نے پریشے کی انسلٹ کی۔۔۔
وہ منظر اب بھی اس کے ذہن میں تازہ تھا۔ پریشے کا چہرہ، جب وہ میٹنگ روم میں اسے دیکھ کر شاکڈ ہوئی تھی، اور کانٹریکٹ نہ ملنے پر خاموشی سے آگ کا گولا بنی کچھ بولے بغیر، روم سے نکل گئی تھی۔۔۔
آریان خان نے اسے لفٹ میں جاتے ہوئے دیکھا، غصے سے آگ بنی ہوئی۔ ہر قدم، ہر حرکت اس کے لیے تسلی اور فتح کا لمحہ تھی۔
پریشے کو سوچتے ہوئے اس کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی، مگر آنکھوں میں اکڑ اور اطمینان کی چمک تھی، جیسے پریشے کا ہر قدم دنیا جیتنے کے مترادف ہو۔پریشے کو ہارتا ہوا دیکھ اسے عجیب سی خوشی محسوس ہوتی تھی۔اور یہ موقع اسے بہت دنوں کے بعد ملا۔

آریان خان کو بہت دنوں کے بعد دلی سکون ملا تھا۔ اپنی خوشی کسی کے ساتھ بانٹنے کا دل چاہ رہا تھا، مگر کس کے ساتھ؟ یہاں تو اس کا کوئی دوست بھی نہیں تھا، گھر والے بھی موجود نہیں تھے۔۔۔

ویسے بھی وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ خوشی بانٹنے کا عادی نہیں تھا، مگر ایک شخص تھا، گھر میں، صارم خان ۔صارم کے ساتھ وہ ہر چھوٹی بڑی خوشی بانٹتا تھا، ہر کامیابی، ہر فتح کو اُس کے ساتھ مناتا تھا۔ دونوں بیسٹ فرینڈ تھے۔

مگر آج کل تو صارم سے بھی اس نے رابطہ توڑ رکھا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر اس نے صارم سے بات کی، تو صارم اس پر چلائے گا، اور کہے گا کہ عبیرہ کو اس کے گھر والوں کے پاس واپس بھیج دے۔۔۔ یہ کام جو آریان خان کبھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اسی لیے صارم سے بھی اس نے مکمل طور پر رابطہ ختم کر رکھا تھا۔۔۔ مگر خوشی کو سیلیبریٹ تو اس نے ضرور کرنا تھا، یہ بات طے تھی۔میٹنگ روم کے سارے منظر کو سوچتے ہوئے،
آریان نے اپنے مہنگے اور نفیس اپارٹمنٹ کے لکڑی کے سٹائلش دروازے کو نرمی سے دھکیل کر اندر قدم رکھا۔۔۔ ہر حرکت میں طاقت اور تسلط جھلک رہا تھا۔ اُس نے ہاتھ میں پکڑ ہوا لیپ ٹاپ والا بیگ سامنے والی شیشے کی کیبن میں رکھ دیا، جہاں روشنی کی دھندلی کرنیں شیشے پر پڑ کر کمرے میں نرم سا ہلکا سا انعکاس پیدا کر رہی تھیں۔۔۔

چہرے پر ہلکی مسکراہٹ، آنکھوں میں اکڑ اور اطمینان کی چمک لیے، آریان نے ادھر ادھر نظر دوڑائی۔۔۔ مگر عبیرہ کہیں بھی نظر نہیں آئی۔۔۔ ہر شیشے کا عکس، ہر کنارے کا سایہ، اس کے لیے کمرے میں خاموشی کے ساتھ ایک منظر بن گئے، جو جیسے اس کے دل کی کشمکش اور انتظار کو آئینے میں دکھا رہا تھا۔۔۔
ادھر ادھر جھانکتے ہوئے اس نے کچن میں بھی نظر دوڑائی، مگر عبیرہ وہاں نہیں تھی۔ وہ جانتا تھا کہ وہ گھر میں موجود ہے، مگر کون سی جگہ پر، یہ نہیں معلوم تھا۔ یہ انجان سا سکون نہ ملنا اسے بے چینی میں بدل گیا۔ قدم تیزی سے بڑھاتے ہوئے وہ کمرے کے اندر داخل ہوا۔

اندر آتے ہی اطمینان سا ہوا، یہ جان کر کہ جسے وہ ڈھونڈ رہا ہے، وہ کمرے میں ہی ہے۔ واش روم سے اٹھتی ہوئی پانی کی بوندوں کی آواز، جیسے چھپ کر کوئی پیغام دے رہی ہو، اسے بتا رہی تھی کہ عبیرہ واش روم میں ہے۔
اور وہ مسکراہٹ، جو ہوا کے نرم جھونکے کی طرح خود بخود اس کے لبوں پر بکھر گئی، بے اختیار ہی نمودار ہو گئی تھی۔۔۔

“مسسز آریان خان کہاں ہیں؟ آپ جلدی تشریف لے کر آئیں اور میرے جوتے پیار سے اُتارئیے
وہ اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہی بیڈ پر ٹانگیں لٹکائے آرام سے لیٹ گیا۔۔۔
آواز دینے کا انداز تھا جیسے پورے گھر کو بتایا جا رہا ہو کہ وہ گھرآ چکا ہے۔۔۔مگر مقصد عبیرہ کی آواز سننا تھا۔

“دس منٹ صبر کریں شاور لے رہی ہوں پھر آپ کے جوتوں کو لوری سناتے ہوئے اُتار دوں گی۔۔۔
عبیرہ نے واش روم سے اونچی آواز دی۔۔۔
مگر اس کے الفاظ میں جو طنز اور اندر چھپی ناراضگی تھی، وہ بھی صاف سنائی دے رہی تھی۔ لیکن آریان خان کو غصہ نہیں آیا، بس ایک ہلکی مسکراہٹ لبوں پر کھیل گئی، جیسے اس کی آواز سن کر دل کے اندر سکون کی لہر۔

“نہیں، جوتوں کو تو پیار سے اُتار دینا۔۔۔
لوری کی ضرورت مجھے ہے۔ اگر دل چاہے تو آ کر لوری سنا دینا، چاہو تو لمس مبارک سے گال کے کنارے بھی چھو لینا۔۔۔”
وہ آنکھیں بند کیے لیٹا رہا، ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر۔ اس کے لہجے میں نرمی بھی تھی اور اکڑ بھی، جیسے ہر لفظ میں چھپی ہوئی سرگوشی، کھیل اور حکمرانی کا تاثر ایک ساتھ جھلک رہا تھا۔

“آپ کو سوائے چچھوری باتیں کرنے کے اور کچھ آتا ہے؟”وہ غصے سے بولی، آواز میں تیز دھار اور خفگی صاف محسوس ہو رہی تھی۔

“بہت کچھ آتا ہے، مسسز عبیرہ آریان خان… موقع تو فراہم کر کے دیکھو…”
اس کی جھنجھلاہٹ بھری آواز پر آریان خان کے لبوں پر مطمئن سی مسکراہٹ پھیل گئی۔”جیسے عبیرہ کے غصے کو محسوس کر کے ہی اس کے دل میں ایک انوکھی سی طمانیت اُتر آتی ہو۔”

آریان کے جواب سے،دوسری جانب مکمل خاموشی چھا گئی تھی۔

پتہ نہیں کیوں… اس ایک ہفتے میں آریان خان اس حد تک اس کی عادت ڈال بیٹھا تھا کہ جب تک عبیرہ آ کر اس سے کسی بات پر نہ الجھے، کوئی تلخ سا جواب نہ دے…
اسے اپنا دن ادھورا لگنے لگتا تھا۔ جیسے اس کی پوری روٹین عبیرہ کے چند کاٹ دار جملوں کی محتاج ہو گئی ہو۔

اب چپ کیوں ہو گئی مولانا صاحب؟؟
عبیرہ کی خاموشی پر آریان خان نے واش روم گیٹ کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔

واش روم کا دروازہ کھلا تو آریان کی نظریں بے اختیار اس جانب اٹھ گئی۔ عبیرہ آہستہ قدموں سے باہر آئی تھی، جیسے شاور کی نمی اب تک اس کے وجود سے لپٹی ہوئی ہو۔ نکھرا ہوا چہرہ، نمی سے بھری آنکھیں، اور ریشمی بال جو کمر پر نرم لہروں کی طرح بکھر رہے تھے۔۔۔ اس پر سیاہ رنگ کا نفیس ٹراؤزر شرٹ ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کی گندمی رنگت کو مزید نکھار دے۔
آریان خان کے لیے تو جیسے لمحہ ٹھہر گیا ہو، پلکیں جھپکنا تک بھول گیا تھا۔

عبیرہ کی آنکھیں شاور کی بھاپ سے ہلکی سی سرخ ہو گئی تھیں، وہ اس کی مسلسل خاموش نظروں کو محسوس کر کے خود ہی گڑبڑا گئی، سنجیدگی سے پلکیں جھکا لیں۔ سامنے صوفے پر رکھا ہوا نماز والا دوپٹہ اس نے جلدی سے اٹھایا، گلے میں ڈالا اور باادب سر پر اوڑھ لیا۔۔۔ مگر آریان کی نظریں پھر بھی نہ ہٹیں۔

آریان خان نے بے اختیار جھٹکے سے اٹھ کر قدم بڑھائے تھے۔ اس کی نگاہ جیسے سر سے پاؤں تک اس کے وجود کو اپنے اندر سمیٹ رہی ہو۔ لمحے بھر میں وہ اس کے بالکل قریب تھا… “آریان نے بس آہستہ سا ہاتھ اس کی کمر کے پاس رکھا تو عبیرہ ہڑبڑا کر اس کے قریب آ گئی، جیسے لمحے کی اچانکسی نے اسے بے اختیار کر دیا ہو۔”
اس کے ہاتھ کی وہ معمولی سی گرفت بھی عبیرہ کے نازک وجود کے لیے بہت تھی۔ وہ بے اختیار اس کے سینے سے ٹکرا گئی تھی، اور اپنے دونوں ہاتھ اسی سینے پر رکھ کر ہڑبڑاہٹ سے تھوڑی سی دوری بنانے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی… جیسے دل جانتا ہو کہ بچنا نہیں، پھر بھی کوشش کیے جا رہی ہو۔
“چچ… چچ… چھوڑیں…”
وہ گھبراہٹ میں الجھے ہوئے لہجے میں کچھ کہنا چاہ رہی تھی کہ۔آریان خان نے اس کے لبوں پر سختی سے انگلی رکھ دی۔
“شش… خاموش، ایک دم خاموش…”
نظر کی گہرائی میں ایک ایسی ہیبت ناک ٹھہراؤ تھا کہ عبیرہ کے دل کی دھڑکن لمحے بھر کو بے ترتیب ہو گئی۔
آریان کے اس نیم خمار بھرے رعب میں ایک عجیب سی سحر انگیزی تھی۔
عبیرہ کے لب تھرتھرا کر رک گئے، آواز حلق میں اٹک کر رہ گئی، اور وہ اس کی نظروں کے بوجھ تلے خاموشی میں سمٹتی چلی گئی۔

خود کو کس سے چھپا رہی ہو؟
مجھ سے؟
تمہیں کیا لگتا ہے تمہیں دیکھنے کے لیے میں تمہارا پابند ہوں؟

اس کی نظروں میں خماری اور حکمرانی کا تاثر تھا، ہر لمحہ، ہر سانس میں طاقت جھلک رہی تھی۔
“تم مانو یا نہ مانو… بیوی ہو تم، تمہیں دیکھنے، تمہارے قریب ہونے، دل کی دھڑکن کے قریب آنے کا حق ہے میرے پاس…”

ایک بار کان کھول کر سن لو، نہ تو میں تم سے ڈرتا ہوں، اور نہ تمہارے باپ سے…
مجھے یوں تڑپا کر ٹارچر کرنے کی کوشش مت کرنا، عبیرہ… میں وہ کر جاؤں گا جو نہیں کرنا چاہتا…
جو چیز مجھ سے دور کی جائے، یا مجھ سے دور ہونے کی کوشش کرے، وہ میری ضد بن جاتی ہے۔
خود کو میری ضد مت بنانا، عبیرہ… میری ضد کو تم برداشت نہیں کر سکو گی۔

عبیرہ کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں، سانسوں میں ایک لرزش گھل گئی۔
اس کی نظروں میں گھبراہٹ کے کنارے بجھتے، جذبات کے سمندر کی موجیں تھیں، جو عبیرہ کے وجود میں ہلچل مچا رہی تھیں۔
اس کی موجودگی، ہر لمحہ، ہر جنبش، عبیرہ کے لیے اتنی قریب اور طاقتور تھی کہ اس کے دل کی دھڑکن کے ساتھ ساتھ ہر احساس بھی کانپ اٹھتا۔

عبیرہ نے چہرہ موڑا تو آریان نے فوراً سختی سے سر کا رُخ دوبارہ اپنی طرف کر لیا۔
اس کے لہجے میں وہی تیز کاٹ تھی۔
“ایسی حرکت دوبارہ مت کرنا۔ میری بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔”

وہ خود کو نظر انداز ہوتا برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ یہی اس کا درد تھا، اور یہی اس کی ضد۔

“کیا لگتا ہے تمہیں… اس دن تمہاری دلیلوں سے میں پیچھے ہٹ گیا تھا؟
ہاں، اگر تم کوئی اور بات کہتی تو شاید میں تمہیں جواب دینے میں ایک لمحہ نہ لگاتا… مگر تم بیچ میں میرے رب کا نام لے آئیں تھیں۔”
اس کی آواز بھاری تھی، تلخی اور سچائی ساتھ ساتھ بہتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔
“جانتا ہوں… تم خود کو نیک سیرت سمجھتی ہو، اور مجھے ایک برے انسان کے طور پر دیکھتی ہو… مگر میں کیا ہوں، یہ مجھے لفظوں میں ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔
اس رات تم سے دوری کی وجہ صرف میرا رب تھا۔”

وہ آہستہ بولا، مگر ہر لفظ جیسے دل میں اترتا ہوا۔
“میں تمہیں زبردستی اپنی چاہت کے تابع نہیں بنانا چاہتا… لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ تمہیں اس مقام تک لے آؤں گا جہاں تم خود میرے وقت کے لیے تڑپو گی۔ یہ وعدہ ہے… آریان خان کا۔”اس کے لہجے میں وہ یقین تھا جس کو محسوس کرتے ہوئے، عبیرہ کی سانسیں الجھنے لگیں۔
وہ اس کے بالکل سامنے کھڑا تھا، نظروں میں ایک بے آواز سی تپش لیے، جیسے ہر لفظ وہ اس کی سماعت میں نہیں… اس کی دل میں اتار رہا ہو۔وہ خاموش تھی کچھ لمحوں کے لیے جیسے اس کے سوچنے کی سمجھنے کی طاقت کسی نے چھین لی ہو۔

“مسز آریان خان۔۔۔زندگی میں پہلی بار کسی نے مجھے ٹھکرانے کی جرآت کی ہے، اور وہ کوئی اور نہیں تم ہو۔۔۔۔۔ تمہیں اندازہ نہیں کہ میں نے یہ بات کیسے برداشت کی۔
اگر تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا… شاید اس کی جان لے لیتا۔” شدت میں بہتے ہوئے ، ہاتھ اٹھایا، مگر چھوا نہیں۔
صرف فضا میں اُس کے چہرے کے قریب ٹھہرا، جیسے لمس کی جگہ احساس رکھ رہا ہو۔
اتنی قربت کہ اس کے ہاتھ کی حرارت عبیرہ کو دور سے ہی محسوس ہونے لگی۔
ایک ایسی حرارت جو کسی بھی لمس سے زیادہ گہری تھی۔
اس کے لفظ، اس کا لہجہ، سب کچھ ایک گہرے احساس کی طرح وجود میں پھیلنے لگا تھا۔
وہ بس سُن رہی تھی… جیسے آواز نہیں، کوئی گہرا جادو اس کی رگوں میں اتر رہا ہو۔

“تمہاری مرضی کے بغیر پر کوئی حق نہیں جتاؤں گا …. اور اگر قریب بیٹھ کر چند باتیں کر کے چند لمحوں کی قربت سے مجھے سکون مل جاتا ہے تو اس پر خود کو دنیا کی سب سے عظیم عورت مت سمجھا کرو۔”شاید یہ سب کچھ آریان خان بے اختیار بولتا چلا جا رہا تھا ،اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا بول رہا ہے۔

عبیرہ حیرت کے سمندر میں کھڑی تھی۔
اس کے سامنے یہ کون سا آریان تھا؟
کیا وہ واقعی جاگ رہی تھی، یا خواب نے آنکھیں کھول رکھی تھیں؟کیا سچ میں وہ اس کا ساتھ اس کا وقت مانگ رہا ہے ۔؟عبیرہ نے بے اختیار یہ سوچا تھا۔
عبیرہ اس کے سامنے کھڑی رہ گئی… اس کی نظریں گہری تھیں، جیسے کسی کتاب کے اوراق ایک ایک کر کے پڑھ رہی ہوں۔
وہ اس کی صورت نہیں، اس کی کیفیت دیکھ رہا تھا۔
اور اس نظروں کی شدت نے عبیرہ کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کر دیا تھا۔ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر احساس اس کی نظروں کے سامنے بے نقاب ہورہا ہو۔

عبیرہ نے گلے کے قریب سے دوپٹہ تھاما ہوا تھا۔ سر کے پیچھے ہاتھ لے جا کر جب اس نے دوپٹہ ذرا سرکایا تو ریشمی، گھنے، بھیگے ہوئے بال اس کی نظروں میں جیسے ٹھہر گئے۔ آریان خان کی نگاہ ان پر رکی رہی۔ ہاتھ کی پشت سے اس نے بالوں کے کنارے کو چھوا تو نمی اس کی انگلیوں میں اترتی گئی… جیسے لمس میں کوئی خاموش اعتراف چھپا ہو۔عبیرہ اس کے دیکھنے کے انداز سے گھبرا گئی۔

’’شرم نہیں آتی… میرے سر سے دوپٹہ اتارتے ہوئے…؟‘‘

وہ ہلکا سا مسکرایا۔ وہ مسکراہٹ جو زبان سے کچھ نہیں کہتی مگر سب بتا دیتی ہے۔آریان خان نے آہستہ سے سر نفی میں ہلایا۔
’’شرم…؟
بیوی ہو میری۔ تمہیں دیکھنے کا حق… مجھے اللہ نے دیا ہے۔‘‘
اس کی آواز میں وہی ٹھہرا ہوا سکون تھا، جیسے سمجھا نہیں رہا… بس یاد دلا رہا ہو۔
’’مگر میں آپ کو اپنا شوہر نہیں مانتی۔‘‘
یہ الفاظ سیدھے نہیں نکلے۔ جیسے دل نے روکنے کی کوشش کی ہو مگر زبان پھر بھی پھسل گئی ہو۔

آریان خان کی نظریں نیچی ہوئیں۔ جیسے کوئی تلخی اندر اتر کر چپ چاپ بیٹھ گئی ہو۔
’’یہ بات… دوبارہ مت کہنا۔
محبت نہ مانو… یہ برداشت ہو جائے گا۔
مگر یہ کہ میں تمہارا شوہر نہیں… یہ نہیں سُن پاؤں گا۔پیار سے سمجھا رہا ہوں دوبارہ جرآت کے تو سچ میں جان لے لوں گا۔”
اسنےعبیرہ کی گردن کے پاس ہاتھ رکھا۔ گرفت سخت نہیں تھی، صرف اتنی کہ اس کی لرزش محسوس ہو جائے۔ اس کے چہرے پر وہی کم بولتی گہری خاموشی تھی… جیسے بتا رہا ہو کہ اختیار لفظوں کا نہیں ہوتا… رشتوں کا ہوتا ہے۔
آواز میں نمی تھی، سانسیں الجھی ہوئی۔

عبیرہ
’’تو… پھر مار دیں مجھے…
ایک ہی بار ختم کر دیں…
آپ تو جانتے ہیں… قطرہ قطرہ مرنا، ایک بار مرنے سے زیادہ دکھ دیتا ہے۔‘‘

اس کے لہجے میں خوف کم تھا، تھکن زیادہ۔ جیسے لڑنے کی طاقت بھی نہیں رہی اور ماننے کی خواہش بھی نہیں… بس دل چاہتا ہو کہ کوئی بوجھ اتر جائے، کوئی بند دروازہ کھل جائے یا پھر سب ختم ہو جائے۔

آریان خان کے سامنے کھڑی وہ عام لڑکی نہیں لگ رہی تھی… وہ کسی سوچ کی حد پر کھڑی تھی، تھکی ہوئی، ٹوٹی ہوئی۔
بیچ میں بہت سے لفظ تھے جو وہ دونوں کہہ نہیں پائے۔ ناراضی بھی، دکھ بھی…
مگر سب خاموش رہا۔صرف ان کی سانسوں کی رفتار بدل رہی تھی…اور باقی باتیں… پردے کے پیچھے ہی رہ گئیں۔شاید اس کی آنکھوں کی نمی مقابل سے برداشت نہیں ہو رہی تھی۔بطور سزا جو ہاتھ گردن پر رکھا گیا تھا اسے جلدی سے ہٹا لیا گیا ہے۔
چہرہ سائیڈ پر موڑ کر آریان نے گہری سانس لی۔ جیسے سینے میں بھٹکے ہوئے لفظوں کو مٹھی میں بند کر کے اب باہر لانا چاہتا ہو۔ پھر اس نے ایک نظر عبیرہ کی طرف دیکھی… وہ اب بھی نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی، جیسے کسی بڑے فیصلے کی منتظر ہو۔

اس نے رخ دوبارہ عبیرہ کی طرف کیا تو فاصلے وہی تھے مگر لمحہ… جسمانی نہیں، روح کی گہرائیوں میں اُترتا ہوا لگا۔وہ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر،ذرا رکا، جیسے زبان پر رکھا ہوا جملہ نہیں بھاری پتھر ہو۔اس کا ہاتھ اب بھی اس کی کمر کے گرد نرمی سے حسار باندھے ہوئے تھا۔

’’کیا کہا تم نے…؟
ایک ہی بار جان لے لوں…؟
کون روک رہا ہے مجھے…؟
تو…سنو… مجھے روکنے والا کوئی اور نہیں۔‘‘
’’میرا دل…
میرا دل ہے مجھے روکنے والا۔
تمہیں سزا دینا چاہتا تھا… مگر تم تو میرے لیے ہی آزمائش بن گئی ہو…
عبیرہ… میری ہار پر اِترانا مت۔
پتہ نہیں کیسے، مگر تم مجھے الجھا رہی ہو…‘‘

وہ آہستہ سا جھکا۔ اس کی نظریں عبیرہ کے چہرے پر ٹھہری ہوئی تھیں۔ جیسے ہر لرزش، ہر سانس کی گرمی کو محسوس کر رہا ہو۔ یہ کیسا ڈر تھا…؟ جو اسے اظہار کرنے بھی نہیں دیتا تھا اور انکار سے بھی روکتا تھا۔ دل اور دماغ اپنی اپنی سمت دوڑ رہے تھے… اور وہ خود بیچ میں جیسے کسی دھند میں کھڑا تھا۔

عبیرہ اس کی خاموشی اور شدت کو سمجھ نہیں پا رہی تھی۔آریان کے لہجے کی حدت اور آنکھوں کی کشش اسے اپنے دائرے کے مرکز میں کھینچ لائی تھی…
چاہ کر بھی نگاہیں ہٹا نہیں پا رہی تھی۔ جیسے دونوں کے بیچ کچھ ایسا ہو… جو لفظوں میں نہیں… مگر دل کے اندر لہروں کی طرح اٹھ رہا تھا۔
آریان کی آنکھوں میں جو کشش ابھری تھی وہ عبیرہ پر اثر دکھا رہی تھی۔ ایک لمحے کو وہ جیسے اس کھنچاؤ میں بہہ گئی… مگر فوراً خود کو سنبھال لیا۔ نظر پھیر کر اسے یاد آیا کہ وہ اب بھی اس شخص کی قید میں ہے۔

مگر وہ جو باتیں وہ کہہ رہا تھا… وہ اس کے مزاج کے بالکل برعکس تھیں۔ یہی بات عبیرہ کو سوچنے پر مجبور کر رہی تھی کہ کیا واقعی… آریان خان ہار مان رہا ہے…؟
’’پلیز… مجھ سے دور رہیں۔
آپ کے اور میرے درمیان صرف ایک رشتہ ہے… نفرت کا اور بدلے کا۔
آپ کی طرف سے بدلہ… اور میری طرف سے نفرت۔
اس کے علاوہ ہمارے بیچ نہ کوئی رشتہ ہے، نہ بن سکتا ہے…
تو پلیز، خود کو مت الجھائیں۔
مت کریں… یہ سب مجھے اچھا نہیں لگتا۔‘‘
اس کے لہجے میں کانپتی ہوئی تلخی تھی… جیسے لفظ نہیں، زخم بول رہے ہوں۔
نظر نیچے تھی مگر دل کی لرزش صاف سنائی دے رہی تھی۔

آریان کی آنکھوں میں جو کشش تھی، وہ عبیرہ پر چھا رہی تھی… مگر وہ فوراً سنبھل گئی۔ نگاہیں نیچی کر کے خود کو یاد دلایا کہ وہ اس شخص کی قید میں ہے، مگر ہر لفظ جو اس کے لبوں سے نکل رہا تھا، اس کی شخصیت کے برعکس تھا۔ وہ سوچنے پر مجبور تھی کہ کیا یہ ہار کی نشانی ہے یا دل کی خاموش بغاوت؟

’’کیا اچھا نہیں لگتا تمہیں میرا تمہیں دیکھنا۔؟ یا یوں پاس آ کر اپنی ہار تسلیم کرنا۔؟’’
وہ اسے کسی ہارے ہوئے کھلاڑی کی طرح دیکھ رہا تھا، نگاہوں میں خاموشی اور وقار کی لہر، جذبات کی روانی کے ساتھ بہتی ہوئی۔

’’دونوں ہی…’’
وہ نظریں چرا کر بولی تھی، جیسے ہلکی ہچکچاہٹ اور خود پر قابو پانے کی کوشش ایک ساتھ اس کے لہجے میں گھلی ہوئی ہو۔

’’مگر مجھے تو تمہیں دیکھنا، تمہارے قریب رہنا اچھا لگتا ہے۔‘‘آریان خان کے لفظوں میں سکون تھا، نظروں میں اطمینان…شاید یہ یقین تھا کہ ہر بات سامنے والے پر اثر ڈال رہی تھی، مگر یہ بھرم جلد ٹوٹنے والا تھا۔
’’کیوں… کیوں اچھا لگتا ہے آپ کو میری قریب رہنا، میری طرف دیکھنا؟ میں دشمن کی بیٹی ہوں، اپنی سوچ کے دروازے کھولے، اور آپ مجھے بطور بدلا اپنے پاس لائے ہیں، سزا دینے کے لیے۔‘‘
عبیرہ کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ ایسے تھا ثسامنے والا بہرا ہو، اور اسے لمحے بھر میں سمجھایا جا رہا ہو۔

’’دل پر زور نہیں چل رہا۔‘‘
’’دل کے ہاتھوں مجبور ہوں،
آریان خان تلخ جملوں کو بھی برداشت کیا گیا، جو اس کی شخصیت کے بالکل خلاف تھے۔
صاف گوئی اس کی آنکھوں سے نظر آ رہی تھی، مگر عبیرہ نے اسے نظر انداز کر دیا گیا، جیسے دیکھی ہی نہ دی ہو۔

’’ اپنے باتیں اپنے دل کو سمجھائیں کہ آپ دنیا کو اپنے اشاروں پر چلاتے ہیں، تو بالکل اسی طرح اپنے دل کو بھی اپنے اشاروں پر چلنے کا حکم دیں ۔‘‘
عبیرہ کے لہجے میں لچک نہیں …کڑک تھی، تنز تھا، کڑوا زہر تھا، اور اس نے محسوس کیا کہ آریان خان کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا تھا ،شاید عبیرہ کی باتیں اس کی برداشت کی آخری حدوں کو چھو گئی تھیں۔

’’خود پر اترا رہی ہو، اچھی طرح سے جانتا ہوں… اور اترانہ بھی چاہیے۔‘‘
’’غلطی تمہاری نہیں، جب عورت جان لیتی ہے کہ مرد اس کے جال میں پھنس کر کمزور پڑ رہا ہے، تو وہ اسی طرح اتراتی ہے۔‘‘خود کو سنبھالنے کی کوشش کے باوجود آریان خان کا لہجہ تلخ ہونے لگا تھا۔

’’میں نے کسی کے لیے کوئی جال نہیں بنایا، اور نہ ہی مجھے کسی کو پھنسانے کی ضرورت ہے۔‘‘
’’خود کو سمجھائیں، مت کمزور پڑیں۔ کس نے کہا ہے راستے سے بھٹکنے کے لیے؟ مضبوط رہیں۔ سزا دینا چاہتے تھے نا؟ اب ذہنی طور پر تیار ہوں، سزا قبول کر لی ہے۔ تو پھر یہ کون سا نیا جال ہے میرے لیے؟ مجھے تو یہ آپ کی کوئی نئی چال لگ رہی ہے۔‘‘

عبیرہ کے لہجے میں ایسا وقار اور کڑک تھی کہ آریان خان کو اپنی روح تک لہو لہان ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی، آنکھوں میں غصے کی شدت سے ایسا خون اتر آیا جیسے ہر رگ میں آگ بھڑک اٹھی ہو۔
ایک جھٹکے میں دھکیل دیا گیا، خود سے دور، جیسے سامنے دہکتی ہوئی آگ ہو جس سے جل جائے گا ۔

“چال…میں چالیں نہیں چلتا ….دشمنی نبھانے کے لیے، سیدھا وار کرنے کا حوصلہ ہے مجھ میں، سمجھی؟
ہر لفظ ایسے نکل رہا تھا جیسے دانتوں تلے پیس کر، لفظوں کی جان نکال دے۔

’’یہ بات خود کو سمجھائیں… مجھے سمجھانے کی ضرورت نہیں۔‘‘عبیرہ لہجے میں ٹھہراؤ تھا، مگر بات میں ایسا ذہر چھپا ہوا تھا جس نے دوبارہ سے آریان خان کے تیش بھڑکا دیا۔

’’دفع ہو جاؤ۔‘‘
عبیرہ کے سامنے اس کی آواز تیز ہوئی تھی
’’میں تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتا‘‘
ہاتھ کے اشارے سے اسے باہر جانے کو کہہ کر جیسے آخری حد بھی پار کر دی تھی… اس جملے نے آریان خان کے دل میں ایک ناگوار سی لہر دوڑا دی تھی‘‘
اس کے احساسات کی یوں سرِ عام توہین… یہ تلخی وہ کیوں کر برداشت کرتا جسے بچپن سے ہر جگہ سراہا گیا ہو۔

وہ آریان خان تھا… ہمیشہ تعریفوں کے حصار میں رکھا جانے والا شخص۔ اس کی خوبصورتی، اس کا اعتماد، اس کی شخصیت… ہر چیز کو تحسین ملی تھی۔
اور اب عبیرہ کا یوں اسے نظر انداز کرنا… یہ بے رخی اس پر گراں گزر رہی تھی۔ اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس رویے کو دل میں رکھے یا دل سے نکالنے کی کوشش کرے… دل اور دماغ الگ سمت چل رہے تھے۔لیکن تکلیف تھی کہ کسی کروٹ کم ہونے کو تیار نہیں تھی۔
عبیرہ نے ایک لفظ بھی نہیں کہا… اس کے حکم پر قدم خاموشی سے دروازے کی سمت بڑھ گئے۔ رکنے کی وجہ ہی نہیں تھی، کیونکہ سامنے کھڑے شخص کا رویہ اس کی سمجھ سے باہر نکل چکا تھا۔
دشمن سے لڑ لینا آسان ہوتا ہے، دوست کے ساتھ رہنا بھی… مگر دھندلے اور گدلے پانی جیسے شخص کو سمجھنا کبھی آسان نہیں ہوتا۔ اور اس وقت آریان خان کی شخصیت عبیرہ کے لیے بالکل ایسے ہی الجھے ہوئے، بے تہہ پانی جیسی ہو چکی تھی۔ وہ یہ طے ہی نہیں کر پا رہی تھی کہ اس کے دل میں آخر چل کیا رہا ہے…
تیز قدموں سے وہ کمرے سے باہر نکلنے لگی… مگر صوفے کے کونے سے پاؤں ہلکا سا اٹکا، بدن لڑکھڑایا، اور وہ سنبھلنے سے پہلے ہی فرش پر جا گری۔ سر زمین سے ٹکرایا تو درد کی ایک تیز لہر پھیل گئی… اور اس کے منہ سے بے اختیار چیخ نکل گئی۔

اس نےپلٹ کر دیکھا… اور اگلے ہی لمحے وہ اپنی کہی ہوئی سخت بات بھول کر تیزی سے عبیرہ کی طرف لپک گیا۔ اس کے چہرے کی رنگت یوں اڑی ہوئی تھی جیسے تکلیف عبیرہ کو نہیں بلکہ خود اسے ہو رہی ہو۔

’’دیکھ کر کیوں نہیں چلتی تم؟ کیا تمہیں عادت ہو گئی ہے خود کو نقصان پہنچانے کی؟‘‘
آواز میں غصہ نہیں تھا… صرف وہ ہڑبڑاہٹ تھی جو اس کے دل میں اچانک جاگی تھی۔

آریان اپنے اندر کے اس بدلاؤ کو سمجھ ہی نہیں پا رہا تھا۔
ایک لمحہ پہلے وہ اپنی توہین کے احساس میں سخت لہجے میں بات کر گیا تھا، اور اب وہی سب بھول کر اس کے لیے گھبرا رہا تھا۔
کیا وہ واقعی دشمن کی بیٹی کے لیے کمزور پڑ رہا تھا…؟
یا پھر یہ کوئی ایسی کیفیت تھی جسے وہ خود بھی نام نہیں دے پا رہا تھا…؟

ادھر عبیرہ اپنی جگہ حیران تھی۔
جس شخص نے ابھی کچھ دیر پہلے اسے کمرے سے باہر نکال دینے تک کی بات کی تھی، وہ اتنی جلدی کیسے بدل سکتا تھا؟
آریان کی اس اچانک فکر نے اسے مزید الجھا دیا تھا۔

’’چھوڑ دیں، میں اپنا خیال خود رکھ سکتی ہوں۔‘‘
سر پر ہاتھ رکھے وہ جھنجھلا کر بولی، کیونکہ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آریان اپنی ہی بات سے یوں پلٹ کیسے گیا۔

’’چپ کر کے لیٹ جاؤ، ڈریسنگ کرنے دو…پتہ نہیں تم نے اس زخم کو ٹھیک ہونے بھی دینا ہے یا نہیں۔؟جب بھی ٹھیک ہونے لگتا ہے پھر سے چوٹ لگا کر پتہ نہیں کون سا عالمی ریکارڈ بنانا چاہتی ہو۔ ‘‘

عبیرہ کے ماتھے پر دھڑکتا درد اور ہلکی سی کانپش اس کے پورے چہرے پر ظاہر تھی۔ آنکھیں تھوڑی سی بند، ہونٹ اندر سے دبے، اور ہاتھوں کو اور دوسرے میں میچتے ہوئے سینے پر باندھ رکھا تھا۔۔ جب آریان نے اپنا ہاتھ اس کے قریب بڑھایا تو وہ نفی میں سر ہلا گئی۔ جیسے خوف اور درد کی ایک لہر اس کے جسم کو جھنجھوڑ رہی ہو۔

آریان نے اس لمحے اس کی ہر حرکت کو غور سے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں نرمی تھی، لبوں پر ایک چھوٹی سی مسکان، اور ہاتھوں میں احتیاط… ہر چیز یہ بتا رہی تھی کہ وہ اس کے درد کو چھونے کے بجائے سنبھالنا چاہتا ہے۔ کمرے کی مدھم روشنی، خاموشی، اور ہوا میں بکھری نرم خوشبو۔۔۔سب کچھ اس لمحے کو گہرا اور حساس بنا رہا تھا۔

’’آرام سے ڈریسنگ کروں گا… درد نہیں ہوگا، تم یقین رکھو۔‘‘
آریان کے لہجے میں سکون اور یقین تھا، اور یہ یقین عبیرہ کے دل میں ایک چھوٹی سی کرن کی طرح پھیل گیا۔ اس نے دیکھا کہ آریان کے ہاتھ کتنے نرمی سے حرکت کر رہے ہیں، جیسے ہر لمس میں درد کم کرنے کی کوشش ہو۔ درد کے باوجود عبیرہ نے سر ہلایا، ایک لمحے کے لیے خوف اور درد کے درمیان خود کو سنبھال کر۔

آریان کے ہاتھ اس کے ماتھے پر، زخم پر، اس لمحے کو خاموش محبت اور حفاظت کا احساس دے رہے تھے۔ وہ اتنے نرم اور پر سکون تھے کہ عبیرہ کی ہچکچاہٹ جیسے کچھ دیر کے لیے ختم ہونے لگی۔

’’آرام سے لیٹی رہنا، اٹھنے کی ضرورت نہیں… میں ابھی میڈیسن لے کر آتا ہوں۔‘‘

آریان نے ڈریسنگ کا سامان واپس باکس میں رکھا، ہاتھ صاف کیا اور واش روم کی جانب بڑھ گیا۔ عبیرہ حیرت سے اسے دیکھتی رہی۔ وہ بالکل نارمل لگ رہا تھا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو، لیکن چہرے پر وہ نرم فکر چھپی تھی جو اس کے دل کو چھو گئی۔

عبیرہ خاموش سوچتی رہی، دل میں الجھن اور حیرت لیے، ہر لمحے آریان کی حرکات، ہر نظر، اس کے لیے محبت اور خیال کی زبان بن رہی تھی۔
’’یہ کیا کر رہا ہے؟ کیا یہ اس کی کوئی نئی چال ہے؟’’
’’ظاہر سی بات ہے، چال ہی ہوگی… ورنہ اس جیسے شخص کا یوں بدلنا حقیقت تو نہیں ہو سکتا۔‘‘
عبیرہ نے سوچتے سوچتے آنکھیں بند کر لیں،

آریان کو فون اٹھائے ہوئے باہر جاتے ہوئے دیکھا۔ اس کی نظریں اس پر جم گئی تھیں، دل میں ہلکی سی کشمکش اور حیرت کے ساتھ۔

’’میڈیسن ہیں لانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
وہ مغرور لہجے میں بولی، لیکن اندر چھپی تشویش اور خوف کو چھپانا چاہ رہی تھی۔ اس کے ہونٹ تھوڑے دبے، آنکھیں فوراً پھیرنے کو تیار تھی۔

آریان نے پلٹ کر اس کی جانب دیکھا۔ اس کی نظروں میں ایک عجیب سی کشش تھی، اور آنکھوں میں وہ خاموش فکر چھپی تھی جو بس عبیرہ کی حفاظت چاہتی تھی۔ اس کا چہرہ نرم، لبوں پر ہلکی سی مسکان، اور حرکات میں احتیاط… ہر چیز یہ بتا رہی تھی کہ وہ اس کے درد اور خوف کو سنبھالنا چاہتا ہے، بغیر اسے مزید تکلیف پہنچائے۔

’’غافل نہیں ہوں… تم سے زیادہ، تمہارے بارے میں مجھے پتہ ہے۔ اگر تمہارا بھی خود پر دھیان ہوتا تو تمہیں اندازہ ہوتا کہ میڈیسن ختم ہو چکی ہے، اور تمہیں مجھے بتانا چاہیے تھا کہ میں میڈیسن لے کر آؤں، مگر نہیں… تم میں سے سوائے مجھ پر نظر رکھنے کے اور کچھ نہیں آتا۔‘‘آریان کے الفاظ خاموش محبت اور فکر کے امتزاج کے ساتھ دل سے نکلے۔ نظریں اور انداز الجھا دینے والا تھا۔ایک پل کو لگتا کہ وہ سچ میں بدل گیا ہے اور دوسری ہی نظر میں لگتا کہ وہ کوئی جال بچھا رہا ہے سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا بہت مشکل ہو گیا تھا۔
عبیرہ فوراً چہرہ پھیر گئی، دل کی دھڑکن تیز، اور غرور کے ساتھ جواب دیا۔
’’مجھے کوئی ضرورت نہیں… آپ پر نظر رکھنے کی۔‘‘

“مگر میں چاہتا ہوں کہ تم مجھ پر نظر رکھو…. صرف دل میں سوچا تھا…آریان خاموش رہا، ایک نظر عبیرہ پر ڈالی، اور دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھتے ہوئے باہر نکل گیا۔ عبیرہ اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی، دل میں حیرت اور الجھن لیے۔۔۔وہ دروازے کو گھور رہی تھی۔

═══════❖═══════

باسق خان، رتبہ خان اور انشاء….. افضل خان کے گھر پہنچ چکے تھے۔
گیسٹ روم میں افضل خان، اس کی بیوی گلناز اور بہن روشانے میزبان کی حیثیت سے مہمانوں کا استقبال کرنے کے لیے تیار، کھڑے تھے،
انشاء، رتبہ اور باسق خان آرام سے اندر داخل ہوئے، میزبانوں کے خوش آمدید کے ساتھ ماحول میں نرم اور دوستانہ خوشبو اور نفاست چھا گئی تھی۔
افضل خان نے مسکرا کر کہا ‘موسٹ ویلکم۔افضل خان نے سب کو خوش امدید کہا۔
“افضل خان اور باسق خان نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملا کر ملاقات کی، جبکہ گلناز اور روشانے نے خواتین کو گلے ملا کر خوش آمدید کہا ۔۔۔پھر رتبہ اور انشاء اپنی اپنی نشستوں پر آرام سے بیٹھ گئے۔”رسمی سی سلام دعا کے بعد۔ اب چائے یہ رسم ادا ہونے لگی تھی۔

“’پلیز، آپ لوگ چائے لیجیے۔۔۔
افضل خان نے چائے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ملازمہ، جو پاس ہی کھڑی تھی، روشانے کے اشارے پر سب کے لیے چائے پیش کرنے لگی۔
سامنے ٹیبل پر نفیس کپ، اسٹائلش پلیٹس میں مختلف قسم کے بسکٹ، خشک میوہ جات، چاکلیٹ کے چھوٹے ٹکڑے، کیک کے سلائسز اور سنیکز سجائے گئے تھے۔چائے اور کافی کے اسٹائلش کپ اور چھوٹے برتن ماحول کو ماڈرن اور خوشگوار بنا رہے تھے۔
کمرے کی روشنی نرم اور خوشگوار تھی، دیواروں پر ہلکی پینٹنگز اور کچھ آرٹ ڈیکور کے ٹکڑے موجود تھے، جبکہ چند خوبصورت پلانٹس کمرے میں تازگی اور زندگی کا احساس دے رہے تھے۔
فرش پر نرم قالین بچھا ہوا تھا اور کرسیوں کی ترتیب اور میز کی پر سجاوٹ سے واضح تھا کہ ہر چیز مہمانوں کے آرام، نفاست اور مہذب ملاقات کے لیے خاص طور پر رکھی گئی ہے۔سب نے چائے کے ساتھ اپنی سہولت کے مطابق ہلکا پھلکا جو بھی کھانا تھا اُٹھا لیا۔”

عورتیں بھی آپس میں رسمی سی باتیں کر رہی تھیں، جبکہ افضل خان اور باسق خان کافی کھل کر بات کر رہے تھے، کیونکہ وہ ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے تھے اور اچھے دوست بھی تھے۔

“افضل صاحب، ہم معذرت خواہ ہیں کہ یارم ہمارے ساتھ نہیں آسکا، اس کی ڈیوٹی واقعی بہت زیادہ مصروف ہے۔۔۔صبح سے جاتا ہے اور رات دیر گئے ہی گھر لوٹتا ہے۔اور ہم انتظار نہیں کر سکتے تھے ہمیں اپنی بیٹی کو دیکھنے آنا تھا۔ انشاءاللہ بہت جلد یارم کو آپ سب سے ملوا دیا جائے گا۔۔۔”
یہ بات باسق خان نے خود ہی یارم کا ذکر کرتے ہوئے شروع کی۔ وہ بات کو آگے بڑھانا چاہتا تھا۔ساتھ ہی انہوں نے چائے کا ایک سپ لیتے ہوئے کپ کو سامنے ٹیبل پر رکھ دیا۔

“آپ کو نہ معذرت کرنے کی ضرورت ہے، اور نہ ہی یارم کو لا کر فارمیلٹی پوری کرنے کی۔ فیملی والوں کو میں یارم کے بارے میں سب بتا چکا ہوں۔”افضل خان نے پرخلوص لہجے میں کہا۔

“جناب، یہ تو آپ کی نوازش ہے، ورنہ چاہتے تو اس پر اعتراض بھی کر سکتے تھے۔آخر آپ کے بھی کچھ سوال ہوں گے جو آپ یارم سے پوچھنا چاہتے ہونگے۔”باسق خان نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،اس کے انداز میں وہی وقار تھا جو ہمیشہ اس کی شخصیت کو نمایاں کرتا تھا۔

“باسق خان، آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں؟ اعتراض غیروں میں دیا جاتا ہے، اپنوں میں نہیں۔ اور آپ ہمارے اپنے بھی ہیں، بہت خاص بھی۔” افضل خان نے نرم انداز میں کہا۔
“اور جہاں تک یارم کی بات ہے، اس کی پہچان کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ آپکا بیٹا ہے۔ اور ویسے بھی، میں یارم سے مل چکا ہوں، اسے کئی بار آن ڈیوٹی دیکھ بھی چکا ہوں۔ایک ذمہ دار اور ایماندار پولیس آفیسر ہے۔اس کی اچھائی اس کے ہر انداز سے چھلکتی ہے۔

“اور ہم اور آپ ایک دوسرے کو کئی سالوں سے جانتے ہیں، تو اس فارمیلٹی کی ضرورت ہی نہیں۔ باقی تصویر ایزل کو بھی دکھا دی ہے، ایزل کو کوئی اعتراض نہیں۔”افضل خان کا لہجہ مطمئن کرنے والا تھا۔

“یہ تو آپ کی نوازش ہے کہ آپ نے ہمیں اتنی عزت دی باسق خان نے خوشگوار مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔۔

“ہماری طرف سے تو ہاں ہے …..باقی آپ ایزل کی تصویر یارم کو دکھا دیں، اگر دونوں بچے آپس میں پسند کرتے ہیں تو بسم اللہ کریں۔ شادی میں زیادہ تاخیر کرنے کی ضرورت نہیں۔”

افضل خان کی بات سن کر ،باسق خان نےجیسے اطمینان کا سانس لیا تھا “تاخیر تو میں بھی نہیں کرنا چاہتا، آپ نے میرے منہ کی بات چھین لی ہے۔ اور رہی بات یارم کی تو یارم کی طرف سے ہاں ہے، اسے اس رشتے سے کوئی اعتراض نہیں۔ انشاءاللہ، یہ رشتہ ہمارے لیے باعث فخر ہوگا۔”باسق نے ان کو اطمینان دلایا کہ یارم کی طرف سے بھی یہ رشتہ قبول ہے۔

“پلیز، آپ لوگ سارے فیصلے خود کر لیں گے یا پھر ہمیں ہماری ہونے والی بہو کو بھی ملوائیں گے؟” رتبہ خان نے بڑی اپنائیت سے کہا، “تصویر میں تو ہم اسے دیکھ چکے ہیں، اصل میں دیکھنا چاہتے ہیں۔۔۔”

“جی جی، ابھی بلاتے ہیں۔” ایزل کی ماں نے فورا سے جواب دیا ۔
“روشانے، تم جاؤ ایزل کو لے کر آؤ۔”

“جی، میں ابھی لے کر آتی ہوں۔” روشانے فوراً سے وہاں سے اٹھتی ہوئی چلی گئی۔
“آپ کا بیٹا کہیں نظر نہیں آ رہا۔” رتبہ خان نے ہلکی سی فکر کے ساتھ پوچھا۔ وہ باسق سے پہلے ہی جان چکی تھیں کہ فیملی میں کتنے لوگ ہیں، باسق نے بتایا تھا کہ وہ دو بہن بھائی ہیں۔تو اس خاص موقع پر ان کے بیٹے کو نہ دیکھ کر رتبہ خان کی حیرانی چھپی نہیں رہی تھی۔
افضل خان اور گلناز ایک دوسرے کی جانب دیکھ کر خاموشی سے ہنس دیے، مگر اس ہنسی کے پیچھے چھپی ہلکی سی گھبراہٹ دونوں کے چہروں پر واضح تھی۔

“دراصل ہمارا بیٹا زیادہ تر ملک سے باہر ہی رہتا ہے، اس کا بزنس اتنا بڑا ہے کہ پاکستان میں اس کے قدم بہت کم پڑتے ہیں۔ اکثر بڑے فنکشنز میں وہ شامل نہیں ہو پاتا۔ اسے اپنے کام سے بے حد لگاؤ ہے، تو ہم چاہتے ہیں کہ وہ اپنے شوق اور جذبوں کو پوری آزادی کے ساتھ نبھائے۔”

افضل خان نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “آدھی بات تو یہ سچ ہے کہ آریان خان کو اپنے بزنس سے گہرا لگاؤ ہے اور وہ زیادہ تر وقت ملک سے باہر ہی رہتا ہے۔۔۔”
اس کے لہجے میں وہ چھوٹی سی ہچکچاہٹ تھی، جیسے دل میں چھپی فکر فوراً ظاہر نہ ہو۔ گلناز نے بھی اپنے ہاتھ تھوڑا دبائے اور نظریں نیچی کر لیں، دل میں ہلکی گھبراہٹ لیے۔

مگر آدھی بات کچھ اور تھی، جو اس وقت افضل خان کو اپنی بیٹی کے سسرال والوں کو بتانا مناسب نہیں لگ رہی تھی۔ بے شک باسق خان اس کا بہت اچھا دوست تھا، مگر کچھ باتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو دوستوں سے بھی چھپانی پڑتی ہیں۔ دل میں ایک ہلکا سا خوف بھی تھا کہ کہیں آریان کی وجہ سے اس کی بیٹی کی آنے والی زندگی میں کوئی مشکل نہ پیدا ہو جائے۔

“ماشاءاللہ، یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ اللہ تعالی اسے اور ترقی دے۔۔۔” رتبہ خان نے مسکرا کر کہا۔

“آمین ثم آمین۔۔۔”افضل خان اور گلناز دونوں نے ایک ساتھ ہم ان کہا تھا۔

رتبہ کو محسوس تو ہوا ۔جیسے وہ کچھ چھپا رہے ہیں مگر پھر اپنا وہم سمجھ کر وہ اپنے خیال کو جھٹک چکی تھی۔

“مگر آپ ہمارے دوسرے بیٹے سے بھی ملیں، صارم، جو میری سسٹر کا بیٹا ہے، مگر میرے لیے اپنے بیٹے سے بڑھ کر ہے۔”
افضل خان نے صارم کے بارے میں تفصیل سے بات کی، جسے باسق خان اور رتبہ نے بڑے غور سے سن کر سراہا،

” اب اتنی تعریف کی ہے تو ملاقات تو کرنی پڑے گی۔” باسق خان نے مسکراتے ہوئے کہا۔”مگر کیا بات ہے، وہ بھی کہیں نظر نہیں آ رہا؟

“جی جی، کیوں نہیں، صارم سے تو آپ کی ملاقات ضرور کروائیں گے۔ وہ کچھ ہی دیر میں گھر پہنچتا ہوگا،” افضل خان نے بتایا اور ساتھ ہی صارم کے بارے میں مزید تفصیل دینے لگے، کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ مہمانوں کا دھیان دوبارہ آریان کی جانب جائے اور وہ آریان کے بارے میں کچھ پوچھ بیٹھیں۔بار بار انہیں جھوٹ کہنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔خود میں ہی شرمندہ محسوس کر رہے تھے۔

گلناز اور رتبہ بھی آپس میں باتیں کر رہی تھیں، اور افضل خان اور باسق خان باتوں میں مصروف تھے۔انشاء کافی بور ہو رہی تھی۔

انشاء بیچاری سب کے باری باری منہ دیکھ رہی تھی، جیسے ہر کسی کے چہرے پر کچھ لکھا ہوا ہو جسے وہ بڑے غور سے پڑھنے کی کوشش کر رہی ہو۔ اس کے دل میں ہلکی سی شرارت اور تجسس بھی جاگ رہا تھا۔
“ہائے اللہ، کب آئے گی میرے بھائی کی ہونے والی دلہن ؟” وہ خاموشی سے سوچ رہی تھی، اور ساتھ ہی اپنے ہاتھ ہلکے سے رگڑ رہی تھی ۔

اس کی نظر ہر کسی کے ہر ہلکے سے اشارے، ہلکی مسکراہٹ اور باتوں کے اتار چڑھاؤ پر ٹھہر رہی تھی۔ کبھی وہ گلناز اور رتبہ کے چہروں پر، کبھی افضل اور باسق کی باتوں میں چھپی ہنسی پر جھانکتی، اور دل ہی دل میں چھوٹی چھوٹی قیاس آرائیاں کر رہی تھی کہ کب ایزل آئے گی اور یہ بوریت ختم ہوگی۔

کمرے کا ماحول نرم روشنی اور ہلکی خوشبو کے ساتھ خوشگوار تھا، مگر انشاء کے لیے یہ سب کچھ کچھ زیادہ دیر تک صبر کرنے کے مترادف لگ رہا تھا۔

مگر امتحان کی گاڑیاں آخر کار ختم ہو گئیں، اور گلناز نے دروازے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا،
“لیجیے، آپ کی ہونے والی بہو آگئی۔۔۔”

روشانے نے اسے اپنے ساتھ لے کر گیسٹ روم میں داخل ہوئی۔۔۔ انشاء کی نظریں بھی فوراً دروازے کی جانب اٹھ گئی۔

“ماشاءاللہ، ماشاءاللہ! ہماری بیٹی تو تصویر سے کہیں زیادہ پیاری ہے۔۔۔”
رتبہ بے اختیار بول پڑیں۔

ایزل واقعی بہت پیاری لگ رہی تھی۔ نازک سی گڑیا کی مانند، دبلی پتلی، خوبصورت سی شارٹ فراک کے نیچے کیپری پہنے ہوئے، جس پر نفیس ہلکا سا دھاگے کا کام تھا۔ سر پر بڑے تہذیب سے دوپٹہ تھا، اور ہلکے میک آپ میں وہ چودھویں کے چاند کی مانند چمک رہی تھی۔

“ادھر آؤ، ہمارے پاس بیٹھو۔۔۔”
رتبہ خان نے اسے اپنے پاس ہی بٹھا لیا۔

ایزل تو اتنی شریف بچی بن کر بیٹھی ہوئی تھی کہ جیسے اس کے منہ میں زبان ہی نہ ہو۔

ایزل کی ماں حیران تھیں کہ ایزل نے کون سی دوائی کھا لی ہے۔ ایزل کو یارم اتنا پسند تھا کہ وہ کسی صورت بھی اس رشتے کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی تھی۔
ایزل تو خود پر حیران تھی۔ مسکراہٹیں چھپائے نہیں چھپ رہی تھی۔ وہ جو ہر لڑکے میں نقص نکالتی تھی، ہر لڑکے میں کوئی نہ کوئی کمی نظر آتی تھی، آج وہ اس “مسٹر پرفیکٹ” کے لیے اس قدر بے قراری سے تیار ہوئی تھی کہ وقت ہی نہیں گزر رہا تھا۔
کتنی بار اس نے دل ہی دل میں کہا تھا:
“اللہ! میں اس کے گھر والوں کو پسند آجاؤں، یا اللہ! میں اسے پسند آجاؤں۔”
وہ خود پر سوچ کر بار بار ہنستی، اور دل ہی دل میں یہ سوچتی رہی کہ یہ میں کیا کر رہی ہوں! شاید ایزل کو پہلی نظر میں یارم خان سے محبت ہو گئی تھی۔

کتنا عجیب ہے محبت کا فلسفہ… یارم کو پہلی نظر میں عبیرہ سے محبت ہو گئی تھی، دل اس کے لیے ایک لمحے میں جاگزیں ہو گیا۔ مگر نصیب کی بازی کچھ اور تھی… آریان خان نے عبیرہ کو زبردستی اپنا مقدر اور نصیب بنا لیا۔

اور ایک ہی لمحے میں ایزل افضل خان، نٹ کھٹ، شرارتی اور خود سے محبت کرنے والی، اپنی خوبصورتی پر فخر کرنے والی لڑکی، یارم پر دل ہار گئی۔ وہ لڑکی، جو اپنی دنیا میں خود کو سب سے زیادہ پسند کرتی تھی، آج اپنی محبت میں اس قدر بےقرار تھی کہ دل کی دھڑکنیں سنبھالی نہیں جا رہی تھیں، اور اندر ہی اندر وہ خوشی اور تجسس کے چھوٹے چھوٹے جھونکوں میں جھوم رہی تھی۔

یہ لمحہ بتاتا ہے…
محبت کے بہت سے رخ ہوتے ہیں۔ محبت اپنی اصل میں ایک ہی ہے، مگر جس رُخ پڑ جائے اُس کا نام بدل جاتا ہے۔ خالق سے جُڑے تو عبادت ہے، محبوب میں سمٹ آئے تو عشق ہے، غلط سمت مڑ جائے تو گناہ ہے، دوست کے ساتھ ہو تو وفا ہے، والدین کے قدموں میں جھکے تو احترام ہے، اور بچوں پر برسے تو شفقت ہے۔ محبت دراصل ایک دریا ہے جو ہر ظرف کے مطابق اپنا رنگ بدل لیتا ہے۔

رتبہ، باسق اور انشاء سب کی نظریں پہلی ہی لمحے سے ایزل پر جم گئی تھیں۔ وہ اپنی نفیس، سنورے ہوئے انداز اور ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ ہر نظر کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔
یارم خان، لمبے قد، چوڑے کندھوں اور دلکش وجاہت کو سوچتے ہوئے سب کے ذہنوں میں یہی خیال آیا کہ واقعی، یہ جوڑی ایک ساتھ بہت خوبصورت لگے گی۔

انشاء بھی بڑے پیار سے اپنی ہونے والی بھابی کو دیکھ رہی تھی، مگر دل کے کسی کونے میں ایک ہلکا سا دکھ بھی چھپا ہوا تھا کہ اس کے بھائی کی پسند عبیرہ ہے، جو اسے نصیب نہیں ہوئی تھی۔اسے دل سے دکھ تھا کہ وہ عبیرہ کو دیکھ بھی نہیں سکی ، مگر جانتی تھی کہ اس کا لالہ اسے بے حد پسند کرتا ہے، اس کے دل میں عبیرہ کے لیے محبت کی شدت موجود ہے۔ کبھی اس نے اپنے لالہ کو کسی لڑکی کے لیے اتنی شدت سے تڑپتے ہوئے نہیں دیکھا تھا، جتنی شدت اور تڑپ اس کے لالہ کی نظروں میں عبیرہ کے لیے تھی۔

لالہ اور عبیرہ کی سوچوں میں گم انشاء سے بے دھیانی میں ہاتھ میں پکڑی ہوئی کولڈ ڈرنک اس کے ڈریس پر گر گئی۔ وہ لمحے کے لیے چونک گئی، اور دل میں ہلکی سی شرمندگی اور گھبراہٹ کے ساتھ خود کو سنبھالنے لگی۔

“انشاء ،بیٹا، کیا کرتی ہو؟ تمہارا دھیان کہاں ہے بیٹا؟”
رتبہ نے ناراض نظروں سے انشاء کی طرف دیکھا۔

“سوری… انشاءاللہ شرمندگی سے کہا!

“پلیز، ڈانٹیے مت، کوئی بات نہیں بچی ہے، اس نے جان بوجھ کر تھوڑی گرائی ہے۔ چلو بیٹا، میرے ساتھ، میں آپ کے ڈریس صاف کروا دیتی ہوں۔”
روشانے نے بڑے پیار سے کہا۔

“نہیں، نہیں، آپ کو زحمت کرنے کی ضرورت نہیں، یہ خود کر لوں گی۔ آپ بس بتا دیجیے کہ کس طرف جانا ہے۔ پلیز، آپ بیٹھیں ہمارے ساتھ۔”
رتبہ کو اچھا نہیں لگا کہ انشاء کی وجہ سے ان کی فیملی کے ممبران ڈسٹرب ہوں۔

“نہیں، نہیں، اس میں زحمت کی کیا بات ہے؟ میں چلتی ہوں ساتھ میں۔”
روشانے نے اصرار کیا۔

“نہیں آنٹی، آپ بیٹھیں، میں چلی جاؤں گی۔”
انشاء نے بڑے پیارے انداز میں انکار کیا۔

“Are you sure?? بیٹا، آپ چلے جاؤ گے؟”

“جی جی آنٹی، میں چلی جاؤں گی۔”

“اوکے، ٹھیک ہے۔ آپ سیڑھیوں سے چڑھتے ہوئے لیفٹ سائیڈ والے روم میں چلے جائیں، وہ روم گیسٹ روم ہے۔ وہاں آپ آرام سے اپنا ڈریس واش کر لیں گی۔”
انشاء نے سر ہلاتے ہوئے گیسٹ روم کی جانب چل پڑی۔۔
رتبہ خان ایزل سے باتیں کرتے ہوئے پوچھ رہی تھیں کہ اس کی شوق،کیا ، کیا ہیں اور گھرداری میں اسے کیا آتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔

دوسری جانب گلناز سانس روکے بیٹھی تھی، خوفزدہ کہ کہیں اس کی طوفانی بیٹی کچھ ویسا نہ کر دے جس سے اس کی منچلی طبیعت مہمانوں کے سامنے ظاہر ہو جائے۔

مگر ہر لمحے گلناز حیران ہوتی جا رہی تھی۔ اس کی بیٹی، ایزل، ہر سوال کا سوچ سمجھ کر جواب دے رہی تھی، نظر نیچی رکھ کر بات کر رہی تھی، اور ہر حرکت میں سلیقہ اور نفاست نظر آ رہی تھی۔ گلناز کے لیے یہ سمجھنا مشکل تھا کہ یہ وہی ایزل ہے جو گھر کے اندر نٹکھٹ اور شرارتی مزاج کی مالک تھی۔

صرف گلناز ہی نہیں، روشانے بھی حیران رہ گئی تھی۔ اپنی نٹکھٹ ایزل کی پرفیکٹ ایکٹنگ دیکھ کر وہ دنگ رہ گئی، کیونکہ گھر کی خواتین کو معلوم تھا کہ ایزل اتنی باریک بینی سے نہیں ڈھل سکتی، یہ سب کچھ اس کے نیچر کے بالکل خلاف تھا۔

باسق اور افضل خان آپس میں باتوں میں مصروف تھے، مگر کبھی کبھار وہ دونوں بھی رتبہ اور انشاء کی طرف دیکھ کر مسکرا دیتے۔

بھابھی… اب تو مجھے بھی فکر ہونے لگی ہے کہ آخر اس لڑکی کے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔ تیری شریک تو یہ بالکل نہیں ہے جتنی پر سکون اور خوش نظر آ رہی ہے، اور یہ پہلے تو اس رشتے کے لیے خوش بھی نہیں تھی، پھر ایک دم سے اتنی خوش ہو گئی۔ چلو، یہ بات میں نے ہضم کر لی، مگر اب یہ جو اداکاری کر رہی ہے، میری سمجھ سے بالکل باہر ہے۔

روشانے ۔ے ذرا سا جھک کر گلناز کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے حیران نظروں سے سامنے بیٹھی ایزل کو دیکھ رہی تھی، جو رتبہ سے باتوں میں مصروف تھی۔

’’روشانے… تو مجھے حوصلہ دے، میں خود بھی حیران ہوں کہ یہ لڑکی کیا کر رہی ہے۔ یہ نہ ہو کہ یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کی نوید ہو،‘‘ گلناز نے گھبراہٹ میں سرگوشی کی۔ ’’اتنی نیک پروین بن کر بیٹھی ہے اور بعد میں معلوم ہو کہ اس کے دماغ میں کوئی شیطانی بات چل رہی ہے، جس کے لیے یہ ساری اداکاری کر رہی ہو، اور پھر کچھ ایسا کر دے جس سے ہماری نظریں جھک جائیں۔ مجھے تو اس کے باپ کے غصے سے بھی ڈر لگتا ہے… پھر سے کہہ دیں گے کہ تم بچوں کی تربیت کرنے میں ناکام رہی، گلناز بیگم۔‘‘
بیچاری گلناز اپنے ڈر کو سرگوشی میں بیان کر رہی تھی۔

’’اللہ نہ کرے کہ ایسا کچھ ہو… سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے، اللہ کرے کہ ایسے ہی رہے۔ بس میں حیران ہوں کہ آخر ایزل کے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔ اللہ کرے خیر خیریت سے سب کچھ ہو جائے، پھر اس سے بیٹھ کر پوچھوں گی۔‘‘
گلناز کو پریشان دیکھ کر روشانے نے اس کے کاندھے پر ہلکا سا ہاتھ رکھا اور نرم لہجے میں کہا

’’آپ پریشان نہ ہوں… سب ٹھیک ہو جائے۔کمرے میں باتیں جاری تھیں، مگر گلناز کے کانوں میں ہر طرف خاموشی سنائی دے رہی تھی… اس کی نظریں بار بار ایزل پر ٹک جاتی اور ایک ڈر دل میں چھوڑ رہیں تھی۔

             ═══════❖═══════

’’حد ہے یار! آج پھر نل خراب ہے، پتہ نہیں یہ پلمبر لوگ گھر کے نل ٹھیک کرنے آتے ہیں یا خراب کرنے۔۔۔‘‘
صارم اپنے روم کے بیسن کے نل کو غصے سے گھماتے ہوئے بولا۔ کافی دنوں سے نل تنگ کر رہا تھا اور بار بار ٹھیک کروانے کے باوجود وہ دوبارہ خراب ہو جاتا تھا۔

جب کوشش کے بعد بھی نل نہیں چلا۔ نہیں چلا، تو صارم کا غصہ اور بڑھ گیا۔ وہ فریش ہونے کے لیے تیزی سے گیسٹ روم کے واش روم میں آ گیا، بغیر یہ دیکھے کہ وہاں پہلے سے کوئی موجود ہے۔ بیڈ پر شرٹ پھینکتے ہوئے وہ اتنی رفتار سے واش روم کے اندر داخل ہوا کہ سامنے کھڑی لڑکی سے زور سے ٹکرا گیا۔

انشاء جو اپنے ڈریس پر لگے کولڈ ڈرنک کے نشان کو صاف کر کے باہر نکل رہی تھی۔لڑکھڑاتی ہوئی زمین پر گرنے لگی، مگر صارم نے فوراً اس کی کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے گرنے سے بچا لیا اور اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تاکہ اس کی چیخیں پورے گھر میں نہ سنائی دیں۔کیونکہ لڑکی کی گھبرائی ہوئی شکل دیکھ کر صاف پتہ لگ رہا تھا کہ وہ زور سے چلانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
’’یہ لڑکی کون ہے؟ کہاں سے آئی ہے؟‘‘ صارم کے ذہن میں سوال گردش کر رہا تھا، مگر جو بھی تھی، اس کی معصومیت ہر زاویے سے صاف نظر آ رہی تھی۔ وہ اس وقت چیخ نہیں سکتی تھی، مگر اس کے خوفزدہ نظریں سب کچھ بیان کر رہی تھیں۔

صارم نے نرمی سے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے اسے کھڑا کیا۔ ’’پلیز، شور مت مچائیے ، میں شریف بندہ ہوں…‘‘ سارم کے نرم سے لہجے نے لڑکی کے خوف کو کچھ حد تک کم کر دیا۔
لڑکی کے معصوم اور خوف زدہ چہرے پر نظر پڑی تو صارم ایک لمحے کو ٹھٹک گیا۔ دل کی رفتار بے اعتدال ہوئی مگر اس نے خود کو فوراً سنبھال لیا۔

کک… ک… کون ہیں آپ… اور یہاں کیا کر رہے ہیں؟
وہ لرزتی ہوئی آواز میں بولی، چہرے پر صاف گھبراہٹ تھی اور آنکھوں میں بے یقینی۔

’’جی میں انسان ہوں اور بے فکر رہیں آپ کو کھاؤں گا نہیں کیونکہ میں آدم خور تو بالکل نہیں ہوں۔‘‘
صارم کا انداز شوخ تھا، مگر لہجہ ایسا نرم جیسے سامنے کھڑی گھبرائی ہوئی لڑکی کو سنبھالنا چاہتا ہو۔

’’مائی سیلف صارم خان… اور میں اس فیملی کا حصہ ہوں۔ یہ میرا گھر ہے، اور جہاں تک میرا خیال ہے آپ لڑکے والوں کی فیملی ممبر ہیں…‘‘

انشاء ابھی تک پوری طرح سنبھل نہیں پائی تھی۔ اس کے چہرے پر خوف کی ہلکی سی پرچھائی تھی، سانسیں بے ربط تھیں، جیسے وہ خود کو سمجھا رہی ہو کہ سب ٹھیک ہے۔

’’پلیز آپ یہاں پر بالکل محفوظ ہیں، ریلیکس ہو جائیں…‘‘
صارم نے ہاتھ کے ہلکے اشارے سے اسے پرسکون ہونے کو کہا، اس کا لہجہ اب زیادہ سیدھا اور عام سا تھا، جیسے وہ حقیقت میں بس اس کی گھبراہٹ کم کرنا چاہتا ہو۔مگر اس کی کوشش کوئی خاص فرق نہیں لا سکی۔

’’پپ… پلیز مجھے جانے دیں۔۔۔‘‘
انشاء کی آواز میں گھبراہٹ اور خوف دونوں واضح تھے،
’’جی، جائیے جائیے۔۔۔’’
صارم نے ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے راستہ دکھایا۔ انشاء کی نظریں جھکی رہیں، شرم کے سرخ لچھے اس کے گالوں پر کھیل رہے تھے، اور دل کی دھڑکنیں اس کے خوف اور معصومیت کو ظاہر کر رہی تھیں۔

صارم کو جیسے ہی احساس ہوا کہ اس نے شرٹ نہیں پہن رکھی، اس لیے فوراً سے راستہ چھوڑ دیا۔وہ انشاء کے خوفزدہ چہرے اور لرزتے جسم کو دیکھ کر ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ پیچھے ہٹا،’’بیوٹی فل گرل۔۔۔‘‘
یہ سوچ اس کے دل میں چھپی مسکراہٹ کی طرح تھی۔جسے زبان سے نہیں صرف دل سے سوچا گیا۔ اور پھر جلدی سے فریش ہونے لگا۔اسے جلد از جلد مہمانوں کے پاس پہنچنا تھا۔۔۔
═══════❖═══════

کچھ ہی دیر میں صارم ریڈی ہو کر گیسٹ روم میں پہنچ گیا، جہاں سب لوگ تقریباً رشتہ طے کر چکے تھے۔

صارم نے باسق خان سے ہاتھ ملایا اور باقی سب سے ہیلو ہائے کرنے کے بعد مرد حضرات کے ساتھ بیٹھ گیا۔

اس کی نظریں انشاء پر جم گئی تھیں، جو ابھی بھی ڈری اور سہمی ہوئی بیٹھی تھی۔ شاید صارم کے ساتھ ہونے والا ٹکر والا واقعہ اس کے ذہن سے ابھی تک نکلا نہیں تھا۔

صارم بظاہر سب کے ساتھ باتیں کر رہا تھا، مگر نظریں مسلسل انشاء پر تھیں۔ اس کی معصومیت صارم کے دل کو چھو گئی، اور وہ ہر لمحے اسے زیادہ خوبصورت محسوس کر رہا تھا۔

انشاء کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے تھے، وہ صارم کی تپتی نظریں محسوس کر کے مسلسل کنفیوز ہو رہی تھی۔ چار لوگ سامنے بیٹھے دیکھ کر اس کے ہاتھ مزید مروڑنے لگے۔

صارم، جو اس کے چہرے پر نظریں جمائے بیٹھا تھا، انشاء کی گھبراہٹ محسوس کر رہا تھا۔ گھر سے باہر نکلنے کی کم اجازت اور مردوں سے ملاقات نہ ہونے کا اثر اسے پہلے ہی دباؤ میں مبتلا کر چکا تھا، اور صارم کے ساتھ یہ چھوٹا سا حادثہ اس کے لیے مزید خوف اور ہچکچاہٹ لے آیا تھا۔

’’چلیے پھر منہ میٹھا کرتے ہیں۔ جب ہم دونوں گھر راضی ہیں، بچے راضی ہیں، تو بس پھر دیر نہیں کرنی چاہیے۔۔۔‘‘
باسق خان نے رشتہ فائنل کرتے ہوئے کہا۔

’’جی جی۔۔۔ بالکل بالکل، بسم اللہ کریں بسم اللہ۔۔۔
اللہ تعالی اس رشتے کو کامیاب کرے۔۔۔‘‘
افضل خان خوشی سے کہتے ہوئے مٹھائی کی جانب اشارہ کیا۔
سب کا منہ میٹھا کروانے کے لیے مٹھائی تقسیم کی گئی اور سب ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے۔

“ہماری بیٹی اب آپ کے پاس امانت ہے…..۔ آپ لوگوں کے پاس ایک ہفتے کا ٹائم ہے، جلدی سے تیاری کر لیجئے۔ مجھے رشتے کر کے لٹکانا بالکل پسند نہیں۔۔۔‘‘باسق خان نے واضح کرتے ہوئے کہا۔کہ وہ شادی کے لیے زیادہ ٹائم نہیں دے گا۔

’’باسق خان، مجھے تمہاری بات بہت پسند آئی۔ میں خود بھی جلد از جلد اپنے فرض سے سرخرو ہونا چاہتا ہوں۔ تم نے کچھ زیادہ ہی کم ٹائم دیا ہے، مگر کوئی بات نہیں، میں تمہارے فیصلے کے خلاف نہیں جاؤں گا۔۔۔‘‘افضل خان نے خوشی خوشی باسق خان کا فیصلہ مان لیا۔

افضل خان یہی چاہتے تھے کہ ان کی بیٹی باعزت طریقے سے اپنے گھر چلی جائے، کیونکہ اپنے بیٹے کی حرکت کی وجہ سے انہیں تبریز سے خوف تھا کہ کہیں غصے کی آگ میں ان کی بیٹی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

دوسری جانب، باسق خان یہ چاہتے تھے کہ یارم جلد از جلد اپنی زندگی میں آگے بڑھ جائے۔ وہ اپنے بیٹے کو ٹوٹتا یا بکھرتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ باسق خان کی جان بستی ہے اپنے بیٹے میں۔ بے شک انہوں نے ایک سخت فیصلہ لیا تھا، مگر اس فیصلے میں کبھی بھی وہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ یارم کی زندگی میں ویرانیاں چھا جائیں۔ وہ چاہتے تھے کہ یارم کی زندگی خوشحالی کی جانب مڑے، اور اسی لیے شادی کا فیصلہ جلد از جلد لیا گیا۔

اب یہ فیصلہ کتنا درست یا غلط ثابت ہوگا، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ والدین اپنی جانب سے بہتر فیصلہ کر رہے تھے، مگر بعض فیصلے وقت کی چادر میں چھپے ہوتے ہیں، اور ان کی درستگی یا غلطی فوراً ظاہر نہیں ہوتی۔
ایزل کی تو ایڑیاں زمین پر نہیں لگ رہی تھیں، یہ سوچ کر کہ جس شخص کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے وہ بے قرار ہو جاتی تھی… اب وہ شخص ہمیشہ کے لیے اس کا ہو جائے گا۔
وہ جب چاہے اسے دیکھ سکتی ہے، محسوس کر سکتی ہے۔ دل کی دھڑکنیں اتنی تیز تھیں کہ ہر لمحہ خوشی کے اثر سے لرز رہی تھیں۔ وہ تو خوشی سے دیوانی ہوتی جا رہی تھی، ہر سانس میں بس ایک ہی خیال گھوم رہا تھا: یہ لمحہ اس کی زندگی کا سب سے حسین لمحہ ہے۔

دوسری طرف، باسق خان اور رتبہ اپنی نشستوں پر بیٹھے سوچ رہے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ جب ایزل یارم کی زندگی میں شامل ہو جائے گی، تو وہ اپنے پیار کے رنگ یارم کی زندگی میں بھر کر اندھیروں کو مٹا دے گی۔ ہر چھوٹی خوشی، ہر ہنسی، ہر مسکراہٹ یارم کے دل میں امن اور سکون لے آئے گی۔

سب اپنی اپنی جگہ پر کتنا صحیح یا غلط ثابت ہوتے ہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ کون کس کے لیے صحیح ثابت ہوتا ہے اور کون کس کے لیے غلط، یہ کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔
مگر اس لمحے، ہر دل میں ایک امید اور بے صبری کی لہر دوڑ رہی تھی، ایک چھوٹی سی خوشی کے ساتھ کہ شاید یہ رشتہ سب کے لیے خوشیوں کا پیام بنے۔

═══════❖═══════
سکاٹ لینڈ کے اس مہنگے اپارٹمنٹ میں شام کی خنکی اور روشنی کی نرم ہلکی چمک نے ہر چیز کو پرسکون کر دیا تھا۔ عشاء کی نماز کے بعد کا وقت، ہوا میں ہلکی ٹھنڈک، کھڑکیوں سے گزرتے نرم جھونکوں کے ساتھ، ہر لمحے کو سکون اور وقار دے رہا تھا۔

عبیرہ آج آریان خان کی قربت سے غیر معمولی طور پر گھبرا گئی تھی۔ نماز کی لمبی ادائیگی کے بعد، وہ خاموشی سے بیڈ پر لیٹ گئی اور رخ موڑ کر اپنی دنیا میں چھپ گئی، کیونکہ آریان کی موجودگی اور باتیں ہمیشہ اسے اندر سے الجھا دیتی تھیں۔

آریان خان لیپ ٹاپ پر مصروف تھا، کچھ ضروری ای میلز بھیج رہا تھا، لیکن جیسے ہی اس کی نظر نیند میں کروٹ لی ہوئی عبیرہ پر پڑی، دل میں ایک نرمی اور حیرت کی لہر دوڑ گئی۔ عبیرہ کی گہری نیند، اس کے لیے ایک خاموش اشارہ تھی کہ وہ بالکل محفوظ اور بے فکر ہے۔

اس کی کروٹ نے بے اختیار اس کا ہاتھ آریان کے سینے پر ڈال دیا۔ وہ لمحہ، اس کی معصومیت اور خاموش اعتماد، آریان کے دل میں ایک نرم طوفان پیدا کر گیا۔ لبوں پر ایک ہلکی مسکراہٹ آ گئی، اور اس کی نظریں اس کے چہرے کی ہر نازک کیفیت پر ٹھہریں۔ آہستہ سے، انگلی کے ہلکے اشارے سے اس کے رخسار کو چھوا، جیسے اپنی موجودگی کی ضمانت دے رہا ہو۔

’’کیوں… کیوں تم میرے صبر کا امتحان لے رہی ہو؟‘‘ آریان خان نے دل ہی دل میں سوچا۔ وہ جانتا تھا کہ اسے دور رہنا چاہیے، اپنی جبلت پر قابو پانا چاہیے، مگر عبیرہ کی معصوم موجودگی، اس کے ہر ارادے کو خاموشی سے توڑ رہی تھی۔

آہستہ جھک کر، سر اس کے بازو کے قریب رکھ دیا ۔

اور پھر آریان کے دل کی گہرائی سے ایک بے قابو خیال نکلا۔
’’تم میرے دشمنوں میں سے ہو… پھر بھی کیوں تمہیں سزا دینے سے میرا دل مجھے روک دیتا ہے؟ کیوں میں وہ سب کر ہی نہیں پا رہا جو سوچ کر یہاں آیا تھا؟ تمہاری یہ خاموش معصومیت، مجھے خود میں الجھا رہی ہے… میری یہ الجھن مجھے میرے اپنوں سے دور کر دے گی، مگر تم کیسے جانو گی میرے دل کا حال؟ تمہاری نظر میں تو میں ایک بدترین شخص ہوں… اور مجھے ثابت بھی نہیں کرنا کہ میں اچھا ہوں، کیونکہ شاید میں واقعی اچھا نہیں ہوں۔‘‘

یہ سب سوچتے ہوئے، آریان کی نظریں عبیرہ پر جمی رہیں۔ اس کی دل کی دھڑکنیں، اس لمحے عبیرہ کی قربت میں، قید ہونے کے پورے ارادے کے ساتھ تیز ہو گئی تھیں۔

عبیرہ، گہری نیند میں، خاموشی سے آریان کے قریب سمٹ گئی، گردن کی جانب تھوڑا جھکی، سینے کے قریب سر رکھ کر سو گئی۔ ہر لمحہ، ہر ہلکی سانس، ہر نرم حرکت، آریان کے دل کی دھڑکنوں میں ایک مدھم طوفان کی مانند محسوس ہو رہی تھی۔

اور اسی خاموشی کے پہر میں، آریان نے ایک آخری نظر اس کے چہرے پر ڈالی، اپنے دل کے ہر الجھے ہوئے احساس، ہر محبت بھرے جذبات، اور ہر بے اختیار کشمکش کے ساتھ۔ اس لمحے، وہ دونوں اپنی اپنی خاموش دنیاؤں میں گم تھے، مگر ایک دوسرے کے قریب، ایک دوسرے کی موجودگی میں، ہر دھڑکن نے دل کی زبان سے کہہ دیا تھا کہ یہ رشتہ، یہ قربت، ایک نرمی اور خیال کی چادر میں محفوظ ہے۔

’’محترمہ، اپنی نیند پر بھی قابو رکھ لیا کریں، ورنہ اگر مجھ سے کوئی گستاخی ہو گئی تو پھر الزام دیں گی کہ میں نے اللہ تعالی اور اس کے نبی کے بنائے ہوئے قوانین کی خلاف ورزی کی۔ اور پھر نماز میں، لمبی لمبی بددعائیں کرو گی میرے لیے۔‘‘
سوچتے ہوئے آریان گہری سانس لیتا ہوا اپنے تکیے پر سر رکھ گیا، مگر نظریں پھر بھی خاموشی سے عبیرہ پر جمی رہیں، جیسے ہر لمحہ اس کی حفاظت اور فکر کا احساس دلانے کے لیے موجود ہوں۔۔۔
دیکھنے کا انداز کچھ ایسا تھا جیسے نظروں سے صدقے اتارے جا رہے ہوں… اور یہ منظر، دشمن کی بیٹی کی یہ خاموش حسینت، واقعی دل کو چھو رہا تھا۔

═══════❖═══════

Ye qist novel “Saleeb Sukoot” ki ek qist hai, takhleeq Hayat Irtaza, S.A ki.Agli qist mutalea karne ke liye isi novel ki category “Saleeb Sukoot” mulaahiza karein, jahan tamaam qistain tartiib war aur baqaida dastiyaab hain.💡 Har nai qist har Itwaar shaam 8:00 baje shaya ki jaayegi.

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *