Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:22
صلیب سکوت
از حیات ارتضیٰ S.A
قسط نمبر:22
═══════❖═══════
سکاٹ لینڈ کی پرسکون اور ٹھنڈی صبح تھی۔
وہی وقت جب باہر کی گلیوں میں ہلکی سی نمی، دور کہیں چلتی ہوئی ہوا کی مدھم سرسراہٹ اور گھروں کے اندر ناشتے کی خوشبو پھیلتی ہے۔
آریان خان کے لگزری اپارٹمنٹ کا کمرہ نیم روشن تھا۔
پردوں کے پیچھے سے آتی ہلکی سنہری روشنی پورے کمرے میں نرمی سے بکھری ہوئی تھی۔
کمرے کی خاموشی میں صرف دور کہیں سڑک پر سے گزرتی ایک دو گاڑیوں کی آواز سنائی دیتی تھی، باقی ماحول اتنا پرسکون تھا کہ سانس لینے کی آواز بھی واضح لگتی۔
آریان بستر پر سیدھا لیٹا ہوا تھا۔
سردی کی وجہ سے موٹے کمفرٹر میں دبا ہوا، آنکھیں ابھی پوری طرح نہیں کھلی تھیں۔
اس کے پاس ہی تکیے پر اس کا موبائل رکھا ہوا تھا، بالکل قریب، جیسے رات کو تھکاوٹ میں رکھتے ہی نیند آ گئی ہو۔
اچانک موبائل پر رنگ ہونے لگی۔
خاموش کمرے میں موبائل کی وائبریشن اور ہلکی سی رنگ ٹون صاف سنائی دینے لگی۔
آریان نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں،
تکیے کی طرف ہاتھ بڑھایا،
اور نیم نیند میں موبائل اٹھا کر کان سے لگایا۔
“ہیلو…”
اس کی آواز ہلکی بھاری، صبح کی تازہ نیند سے بھری ہوئی تھی۔
ہیلو… آریان خان نے فون کان سے لگاتے ہوئے کہا۔
اس کی آواز میں وہی رعب تھا جو ہمیشہ ہوتا ہے، مگر انداز ذرا بھر بھی بکھرا نہیں تھا۔ وہ ہلکے سے جھکتے ہوئے سیدھا ہو کر بیٹھا، پھر ایک چھوٹی سی جمائی دباتے ہوئے سر بیڈ کی پچھلی جانب ٹکا دیا۔
گڈ مارننگ سر… دوسری طرف اس کا خاص آدمی مؤدبانہ لہجے میں بولا۔
گڈ مارننگ… آریان نے جواب دیا، مگر اب اس کی توجہ پوری طرح فون پر تھی۔
سوری سر، آپ کو ڈسٹرب کیا… مگر ایک مسئلہ ہے۔ کسی نے آپ کے بارے میں انفارمیشن نکلوانے کی کوشش کی ہے…
آریان کی نظریں ایک لمحے کو ٹھہر گئیں۔
وہ آہستہ سا سیدھا ہوا، انگلیاں فون کے گرد مضبوطی سے بند گئیں۔
کون…؟
کس کی اتنی اوقات ہو گئی کہ آریان خان کی نجی زندگی تک پہنچنے کی کوشش کرے؟
اُس کے لہجے کی ٹھنڈک لمحہ بھر میں کمرے کی فضا بدل گئی…
آنکھوں میں سرخی اب تھکن کی نہیں۔غصے کی تھی،
“سر، آپ کی منگیتر، مس پریشے خان، جاننا چاہتی ہیں کہ آپ اس وقت کہاں ہیں۔۔۔”
“کیسے بھول گیا، ایسی گھٹیا حرکت کرنے کی اوقات صرف اس کی ہو سکتی ہے۔۔۔”
آریان خان نے یہ سوچتے ہوئے ہونٹ اندر کی طرف دبائے، آنکھوں میں ہلکی سختی اور غصے کی جھلک تھی۔ موبائل اب بھی کان کے قریب تھا، لیکن ہاتھ ہلکے سے تکیہ پر ٹکا ہوا تھا، جسم کا پورا انداز پرسکون لیکن قابو میں غصے کا تاثر دے رہا تھا۔
فون کی طرف سے سنائی دینے والی آواز میں ہلکی اضطراب اور عاجزی تھی، جیسے کہ بات کرتے ہوئے سامنے والے شخص کو معلوم تھا کہ وہ سنجیدہ اور پراعتماد آریان خان سے بات کر رہا ہے۔ آریان خان کے تاثرات نے فوراً یہ ظاہر کر دیا کہ وہ نہ صرف سن رہا ہے بلکہ ہر لفظ کو دل میں تول رہا ہے، لیکن کسی بھی حرکت میں گھبراہٹ یا جلدبازی نہیں تھی۔
“ہمم۔۔۔ اور کیا پوچھ رہی تھی؟
“سر، پہلے تو ان کی پی اے کا فون آیا تھا، میں نے آپ کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
تو پھر پریشے میم نے خود فون کیا۔ وہ بہت ناراض ہو رہی تھی اور کہہ رہی تھی کہ ان کے لیے کوئی مشکل کام نہیں، آپ کے گھر کا پتہ لگوانا۔۔۔”
آریان خان نے موبائل کان کے قریب رکھا، آنکھیں آدھی کھلی، سر ہلکا سا ٹکا ہوا اور جسم پرسکون مگر پوری توجہ کے ساتھ تھا۔
ہونٹوں پر ہلکی چپتی ہوئی سنجیدگی، ہاتھ تکیے پر آرام سے پڑا ہوا، اور ہر لفظ پر غور کرتے ہوئے آنکھوں میں ہلکی سختی کی جھلک تھی۔
“ہمم۔۔۔ ٹھیک ہے، میں دیکھ لوں گا۔۔۔
کسی کو میرے بارے میں انفارمیشن دینے کی ضرورت نہیں۔۔۔”
آریان خان کے لہجے میں پرسکون پن تھا، لیکن اندرونی طور پر غصہ شدت اختیار کر رہا تھا۔
آنکھوں میں ہلکی سختی اور سوچ کا تاثر تھا۔
“جی سر۔۔۔”
آریان خان غصے سے فون بند کرتے ہوئے پریشے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
“پریشے تمہاری یہی حرکتیں مجھے زہر لگتی ہیں… تمہارا مردوں کے ساتھ مقابلے بازی کرنا، خود کو مردوں کے برابر سمجھنا… اسی چیز نے کبھی مجھے تمہارے ساتھ کنیکٹ نہیں ہونے دیا، اور نہ ہی کبھی تم میرے ساتھ کنیکٹ ہو سکو گی… تمہارا اور میرا رشتہ ہمیشہ بے جوڑ اور زبردستی رہے گا…
وہ غصے سے سیخ پا ہوتے ہوئے سوچ رہا تھا، آنکھوں میں سختی، ہونٹ کسے ہوئے، اور دل میں ہر لفظ کا اثر واضح تھا۔
“آپ کا ناشتہ بنا دوں؟”
عبیرہ جیسے ہی روم میں داخل ہوئی، آریان خان کے اندر اچانک سکون کی لہر دوڑ گئی، جیسے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اسے چھو گیا ہو۔
اس کی آنکھیں نرم ہو گئیں، دل میں ہلکی راحت محسوس ہوئی، اور وہ دھیما، میٹھا سا لہجہ جو اس کی شخصیت کا بہترین اثاثہ تھا، ذہن میں گونجنے لگا۔
عبیرہ کے قدم محتاط مگر خوداعتماد تھے، اور اس کی موجودگی نے روم کی سختی میں ہلکی نرمی پیدا کر دی۔
“نہیں، ناشتہ باہر کرنے چلتے ہیں۔۔۔”
آریان خان کے لہجے میں نرمی تھی، غصہ مدھم ہو چکا تھا۔
“مگر کیوں؟”
عبیرہ نے ہلکی شکوہ بھری نظروں سے دیکھا۔
“میں ابھی آپ کا ناشتہ بنا دیتی ہوں۔۔۔”
“کیوں باہر جا کر کھانے میں کیا مضائقہ ہے؟”
آریان خان نے پرسکون لہجے میں کہا۔
“ٹھیک ہے، اگر گھر پہ ناشتہ نہیں کرنا تو آپ جا کر باہر کر لیجئے، مجھے نہیں جانا۔۔۔”
عبیرہ نے سر ہلکا سا جھکایا، تھوڑی ناراضگی کے ساتھ۔
“کیوں تمہیں میرے ساتھ جانے میں کیا مسئلہ ہے؟
جلدی سے ریڈی ہو جاؤ، میرے ساتھ جانا پڑے گا۔۔۔”
آریان خان کی آواز میں زور اور نرمی دونوں تھے۔
“کیا پہن کر ریڈی ہو جاؤں؟ سوائے آپ کے کپڑوں کے اور ایک گاؤن کے، میرے پاس کچھ نہیں۔۔۔”
عبیرہ نے مختصر شکوہ بھری نظروں سے آریان کو دیکھا۔
“سوری، یہ میرا فرض تھا کہ میں تمہاری ضروریات کا خیال رکھتا۔۔۔”
“ایک کام کرو، گاؤن پہن لو، ناشتے کے بعد شاپنگ بھی کروا دوں گا۔۔۔”
آریان خان بیڈ سے اٹھ کر چلتے ہوئے عبیرہ کے قریب آ کھڑا ہوا، نرم اور محبت بھری نظر سے اسے دیکھتے ہوئے۔
اس دن کے بعد، یعنی پرے ایریا کے واقعے کے بعد، ان کے بیچ کوئی خاص بات نہیں ہوئی تھی، لیکن آریان کا انداز ہمیشہ محبت اور خلوص سے بھرپور رہتا تھا۔
وہ جان بوجھ کر عبیرہ کو وقت دے رہا تھا، تاکہ وہ دل سے اس کو قبول کر سکے۔
عبیرہ گہری سوچ میں مبتلا تھی… اسے دیکھتے ہوئے آریان خان نے نفی میں سر ہلایا، لبوں ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
“اتنا سوچنے کی ضرورت نہیں ہے، جہاد پر نہیں لے کر جا رہا… ناشتہ کرنا ہے۔ اور اس کے بعد شاپنگ کر کے اپنے لیے تمام ضروری سامان خرید لینا…
اس نے گہری نظروں سے عبیرہ کے ناراض، اُداس چہرے کو دیکھا جو خاموشی میں کچھ کہہ رہا تھا۔
“مجھے کچھ نہیں چاہیے…
“ٹھیک ہے، اپنے لیے نا خریدنا… مگر میرے لیے خرید لینا، مجھے کافی کچھ چاہیے…
وہ ایک قدم قریب آیا۔ عبیرہ ایک لمحے کو پیچھے ہوئی تھی مگر آریان نے اس کی کمر میں نرمی سے دونوں ہاتھ ڈالے، کھینچ کر بہت آرام سے اپنے قریب کیا۔ جھک کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
عبیرہ پلکیں جھکائے کھڑی تھی، دونوں ہاتھ آریان کے سینے پر رکھ کر ہلکا سا فاصلہ برقرار رکھے ہوئے… چہرے پر شرم اور ہلکی سی الجھن ایک ساتھ تھی۔
“آپ نے اپنے لیے جو کچھ خریدنا چاہتے ہیں خود خرید لیجئے، پہلے آپ کی شاپنگ میں تھوڑی کرتی تھی…
“پہلے میرے پاس تم نہیں تھی تو میں اپنی شاپنگ خود کرتا تھا…
اب میرے پاس ایک عدد سگھڑ بیوی موجود ہے تو پھر میں اپنی شاپنگ خود کیوں کروں؟
“میں سگھڑ نہیں ہوں!!عبیرہ کی پلکوں کے نیچے لالہ رنگ ٹھہر گیا تھا، آریان کے لب بے اختیار مسکرا رہے تھے۔
“تو کیا رومینٹک ہو؟؟اس کے چہرے پر نظریں جمائے ۔عبیرہ کی آنکھوں میں اترتے شرم کے رنگ دیکھ رہا تھا۔
“استغفر اللہ۔۔۔ میں نے ایسا کب کہا؟؟
عبیرہ نے فوراً نظریں اٹھا کر اسے دیکھا، جیسے اس پر اچانک الزام لگا دیا گیا ہو۔
آنکھوں میں ہلکی سی حیرت، اور لہجے میں گھبراہٹ کی خفیف جھلک تھی۔
آریان اس کے ردعمل پر آہستہ سے ہنسا… وہ ہنسی جو زیادہ آواز نہیں نکالتی مگر چہرے پر پوری طرح پھیل جاتی ہے۔
قریب جھکتے ہوئے بولا،
”چوہیا۔۔۔ یہی تو مسئلہ ہے۔“
آریان نے نیم مسکراہٹ کے ساتھ سر جھٹکا، جیسے اُس کی خاموشی اسے پاگل کر رہی ہو۔
”کچھ کہتی ہی تو نہیں ہو۔ کچھ کہو تو زندگی میں خوشحالی آجائے گی۔۔۔“
وہ اس کے سامنے ذرا جھکا، نظریں تھوڑی سنجیدہ ہوئیں۔
”اتنی قسموں کے بعد بھی کیا میرا کردار مشکوک ہے؟؟“
عبیرہ نے آہستہ سے سانس بھرا۔
چہرہ ایک پل کو مضبوط لگا، مگر آنکھوں کی نمی اندر ہی اندر ہلکی سی لرزی۔
”میرے پاس ابھی ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے۔۔۔“
آریان کی بھنویں سست انداز میں سکڑیں، جیسے وہ اس جواب کی توقع نہیں کر رہا تھا۔
”اگر آپ اپنے کردار کی حد تک بات کر رہے ہیں
تو ہاں
آپ کے کردار پر یقین آگیا ہے
کیونکہ میرا ایمان ہے کہ جو اپنے رب کی پاک کلام کی قسم کھا لیتا ہے
تو مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ ہم اس پر یقین کریں۔۔۔“
وہ رکی… ہونٹ سختی سے بند کیے…
دل جیسے سینے میں پھر سے دکھ اٹھا لایا ہو۔
”مگر میں آپ کو معاف نہیں کر سکتی۔۔۔“
آریان کی نظریں لمحے بھر کو تھم گئیں۔
وہ سیدھا ہوا، مگر کچھ بول نہ سکا۔
”آپ شاید بھول گئے ہیں مگر میں کچھ نہیں بھولی۔۔۔“
عبیرہ نے نظریں اوپر اٹھائیں۔
آواز نرم تھی، مگر تلخی چھپی نہ تھی۔
”آپ نے جو میری تذلیل کی ہے
…جو کچھ میرے ساتھ کیا
اس میں میرا کوئی قصور نہیں تھا۔۔۔“
اس کے کہنے پر کمرے کی فضا چند سیکنڈ کے لیے خاموش ہوگئی۔
آریان کے چہرے سے شرارت اور غصہ دونوں ایک لمحے میں اتر گئے۔
صرف بھاری سی سانس باقی رہ گئی… اور ایک پچھتاوا جو وہ چھپانا چاہ کر بھی نہیں چھپا سکا۔
“میں نے کہا تھا، صرف ایک یہ بات سائیڈ پر رکھنا۔۔۔ اور پھر جواب دینا۔
اور اگر تم اپنے قصور کی بات کر رہی ہو تو پھر، قصور تو میری روشانے کا بھی نہیں تھا۔۔۔”
روشانے کے بارے میں سوچتے ہی آریان کے لہجے میں غصے کی شدید لہر اُتری۔
چہرے پر سنجیدگی، آنکھیں تیز، اور ہونٹ ہلکے سے کسے ہوئے تھے، جیسے ہر لفظ کو دل میں تول رہا ہو۔
”تو ٹھیک ہے… آپ اپنی روشانے کا بدلہ لیں۔
جب آپ مجھے بدلے کے لیے لائے ہیں، سزا دینے کے لیے لائے ہیں، تو اپنے مقصد سے پیچھے مت ہٹیں۔
مت بھٹکیں اپنے مقصد سے… مت یہ بھولیں کہ میں سزا کے لیے لائی گئی ہوں۔
اس بات کو یاد رکھیں… ہمیشہ۔“
عبیرہ کے لہجے میں لرزش تھی، مگر آنکھوں میں عجیب سی مضبوطی اُتر آئی تھی۔
وہ آریان کو دیکھ رہی تھی، جیسے پہلی بار دل کی ساری تلخی کھول کر سامنے رکھ رہی ہو۔
آریان پل بھر کو خاموش رہ گیا…
جیسے اس کے ہر لفظ نے سیدھا دل پر ضرب لگائی ہو۔
“تو ٹھیک ہے، آپ اپنی روشانے کا بدلہ لیں۔۔۔
جب آپ مجھے بدلے کے لیے لائے ہیں، سزا دینے کے لیے لائے ہیں، تو پھر اپنے مقصد سے پیچھے مت ہٹیں، مت بھٹکیں اپنے مقصد سے۔۔۔ یہ مت بھولیں کہ میں سزا کے لیے لائی گئی ہوں، اس بات کو یاد رکھیں۔۔۔
آریان نے اسے دیکھا تو لہجے میں پختگی اور عزم کی جھلک تھی، جیسے وہ اپنے سخت فیصلے کے سامنے خود بھی بے بس کھڑا ہو۔ اس کی آنکھوں میں ملے جلے جذبات تیر رہے تھے، کچھ روکنے والے، کچھ مزید سخت بنا دینے والے۔۔۔
“مقصد سے تم نے مجھے بھٹکا دیا ہے۔۔۔ اب تو کچھ نہیں ہو سکتا”
وہ گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔
“اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔۔۔ واپس اپنے مقصد پر توجہ کریں اور اپنے آپ کو سمجھائیں کہ میں آپ کے لیے صرف سزا اور نفرت ہوں”
وہ دو ٹوک لہجے میں بولی اور چہرے کا رخ پھیر لیا۔
“عبیرہ… کیوں اتنی ظالم بن رہی ہو؟؟”
آریان خان بیڈ کے کنارے سے اٹھا، آہستہ آہستہ عبیرہ کے گرد گھومتا ہوا اس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ آنکھوں میں شدت، لہجے میں ٹوٹے رومانوی جذبات، اور دل کی تڑپ واضح تھی۔
“زندگی میں پہلی بار… آریان خان کسی کے سامنے جھکا ہے…
میرے اس جھکنے کو میری غلطی مت بنا دینا…”
اس نے ایک لمحے کے لیے پلکیں جھکائیں، ہاتھ آہستہ ہوا میں تھامے، پھر اپنی گرفت میں عبیرہ کی موجودگی کو محسوس کیا۔
“مجھے پچھتانے پر مجبور مت کرنا…
کہ کیوں میں نے دشمن کی بیٹی سے محبت کی…
کیوں میں تمہارے لیے بدل گیا…”
آواز میں لرزش تھی، دل کی شدت اور احساس واضح، جیسے ہر لفظ دل سے نکل رہا ہو، اور آنکھیں ہر حرکت میں تڑپ کی جھلک دکھا رہی ہوں۔
“تو… مت پچھتائیں… ابھی بھی وقت ہے…
اپنے قدم پیچھے لے لیجئے، میرے دل میں آپ کے لیے سب کچھ ہو سکتا ہے مگر محبت نہیں…”
عبیرہ کی آنکھوں میں فیصلہ اور دل میں چھپی نرمائی تھی۔
یہ زبردستی بنا رشتہ اب کسی اور رخ کی طرف جا رہا تھا، مگر وہ خود کو مضبوط رکھے ہوئے تھی۔
“آریان خان جب ایک بار قدم بڑھا لیتا ہے تو کبھی پیچھے نہیں ہٹتا… پھر چاہے وہ قدم بزنس کے لیے ہو یا دشمنی کے لیے۔
منزل کو حاصل کیے بغیر نہیں لوٹتا…”
وہ آہستہ آہستہ اس کے گرد چلتا ہوا اُس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
آنکھوں میں وہی تیز چمک، وہی ضد، مگر لہجے میں عجیب سا ٹوٹا ہوا درد شامل تھا۔
“تو یہاں تو بات میری محبت کی ہے…
تمہارے انکار نے میری محبت کو جنون میں بدل دیا ہے۔
اور جب بات محبت سے جنون تک پہنچ جائے… تو قدم پیچھے نہیں لیے جاتے۔”
وہ رکا، عبیرہ کی آنکھوں میں جھانکا، جیسے اس کے اندر تک دیکھ رہا ہو۔
“تمہاری محبت کو حاصل کرنا میرا جنون بن چکا ہے۔
اور جس چیز کا جنون آریان خان کے حواسوں پر طاری ہو جائے…
اُسے تو میں ہر حال میں پا کر رہتا ہوں۔”
اس کا لہجہ گہرا ہوا، سانس بھاری، اور فاصلے کی لکیر تنگ۔
“تم جتنا مجھے نظر انداز کرو گی… جتنا مجھ سے دور بھاگو گی…
میں اتنا ہی تڑپ کر تمہارے اور قریب آؤں گا۔”
آریان خان کی ضد اس کی نظروں سے صاف جھلک رہی تھی۔
وہ چند لمحوں کے لیے اندر سے گھبرائی، مگر خود کو مکمل پرسکون دکھاتی رہی۔
ہمت جمع کرتے ہوئے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا:
“سب کر کے دیکھ لیجیے، میں پھر بھی آپ کی حسرتوں کو لا حاصل رہوں گی۔
عبیرہ کو آپ کبھی اس کی مرضی سے حاصل نہیں کر سکیں گے…
زبردستی کا میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔”
وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے، کچھ غصے اور کچھ مغرورانہ انداز کے ساتھ بولی۔
“اففف… اتنا غرور؟” آریان خان ہلکا سا جھک کر عبیرہ کی آنکھوں میں گھور گیا، چہرے پر شدت اور قابو پائی ہوئی تڑپ صاف نظر آ رہی تھی۔
“یہ غرور نہیں، اس کو سیلف رسپیکٹ کہتے ہیں…
مت بھولیں کہ آپ نے میری رسپیکٹ کی دھجیاں اُڑائیں…
مجھے اپنے اپنوں کو منہ دکھانے کے لائق نہیں چھوڑا…
اب اس دل میں محبت پیدا ہونے کے امکانات بہت کم ہیں…”
عبیرہ کی آنکھیں تھوڑی سی نم ہوئیں، لیکن چہرے پر سختی برقرار رہی، جیسے اندر کچھ درد محسوس ہو رہا ہو مگر وہ اسے چھپا رہی ہو۔
“چلو، تم نے یہ تو تسلیم کیا کہ امکانات کم ہیں…
مگر ہیں ضرور…
مقابلہ تو ٹکر کا رہے گا…”
“تم لگا لو اپنے دل پر پابندیاں…
تمہارے دل کے حالات سے کچھ کچھ واقف میں بھی ہوں۔
زبان سے جھوٹ بول کر، نظریں پھیر کر دھوکہ دے لیتی تم بڑے آرام سے،
اگر مقابل آریان خان نہ ہوتا…”
آریان خان کے لبوں پر زخمی سی مسکراہٹ تھی، آنکھیں تھوڑی سی نم اور پھیلی ہوئی، جیسے ہر لمحہ اپنے جذبات کے زور سے لڑ رہا ہو۔
چہرے پر تھوڑی سی تھکن اور درد واضح تھا، آنکھیں نشے میں ڈوبی، مکمل طور پر عبیرہ پر مرکوز، دل کی گہرائی سے نکلتی ہوئی تڑپ کو ظاہر کر رہی تھیں۔
عبیرہ نے آنکھیں تھوڑی سی نیچی کر لیں، ہونٹ ہلکے سے دبائے، جیسے اپنے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے بھی اندر سے ہلکی سی تڑپ محسوس ہو رہی ہو۔
“آریان خان کی پہلی اور آخری محبت…
تیرا ہر انداز اچھا ہے…
سوائے نظر انداز کرنے کے، اففف، بہت جان لیوا ہے ۔
مگر ، تم ابھی واقف نہیں میری محبت اور میری جنونیت سے۔
تم اتنا جان لو کہ تم میری زندگی میں حقیقت سے زیادہ حسرت بن کر آئی ہو…
اور انسان کی فطرت ہے، کوئی چیز جب حسرت بن جاتی ہے، تو انسان اسے حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد سے گزر جاتا ہے…”
آریان خان کے چہرے پر شدت اور اندرونی درد صاف جھلک رہا تھا، لبوں پر ہلکی سی زخمی مسکراہٹ، آنکھیں تھوڑی سی نم اور پھیلی ہوئی، ہر لمحہ عبیرہ کی طرف مرکوز۔
“غلط میں آپ کی زندگی میں حسرت نہیں، نفرت بن کر آئی ہوں…
ارادہ تو آپ نے بدلہ ہے اپنا…
میں تو قائم ہوں، آج بھی آپ کی نفرت بن کر رہنے کے لیے…”
آریان خان کے جذبات سے بھرا یہ بیان سن کر، عبیرہ کی آنکھوں میں ہلکی سی سختی اور اندر سے اٹھتی ہوئی تلخی نظر آ رہی تھی۔
“سنا تھا کہ لوگ کسی کی محبت بن کر مغرور ہو جاتے ہیں…
آج تجھے دیکھ کر اس حقیقت سے واقف ہو گئے ہیں…”آریان خان نے یہ کہتے ہوئے گہری نظروں سے عبیرہ کو گھورتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ دی، جیسے دل کی شدت اور جذبات کو ایک لمحے کے لیے قابو میں رکھ رہا ہو۔
“ہم نے بھی سنا تھا کہ کبھی کبھی آپ کو ان گناہوں کی سزا ملتی ہے، جو آپ نے کیے ہی نہیں ہوتے…
آپ نے ہمیں اس حقیقت سے واقف کروا دیا…
کبھی اپنے عیبوں سے بھی پردہ اُٹھانے کی ہمت کریں، مسٹر آریان خان…”
عبیرہ نے یہ کہتے ہوئے تنزیہ نگاہوں سے آریان کو دیکھا تھا ۔خوبصورت آنکھوں میں تنز بھی تھا شکوہ بھی اور درد بھی سب ایک ساتھ امڑ آیا تھا۔
“اپنے گناہوں کو زندگی میں پہلی بار، میں نے پورے دل سے خدا کی پاک کتاب کے اوپر ہاتھ رکھ کر قسم کھا کر تمہارے سامنے تسلیم کیا…
آریان خان کی وہ حقیقت جو سوائے اس کے کوئی نہیں جانتا تھا، اسے پورے دل سے تمہارے سامنے تسلیم کیا…
جو گناہ میں نے کیے، وہ بھی تسلیم کیے، جن کے بارے میں صرف افواہیں تھیں، وہ بھی تسلیم کیے…
ایسا عاشق پوری دنیا میں ڈھونڈنے سے بھی تمہیں نہیں ملے گا، مس عبیرہ آریان خان…”
آریان خان نے یہ کہتے ہوئے تڑپتے دل کی شدت کو قابو میں رکھتے ہوئے عبیرہ کا نام لبوں پر آہستہ آہستہ ادا کیا۔
عبیرہ نظریں ہلکی سی جھکی ہوئی، خاموش کھڑی تھی،
دل میں اداسی، حیرت اور چھپی ہوئی نرمائش کے ملے جلے احساسات لیے، جیسے ہر لفظ کو دل کے اندر جذب کر رہی ہو۔
کچھ دیر، وہ اس کے جواب کا انتظار کرتے خاموش کھڑا رہا، نظریں اس پر جمائی ہوئی تھیں،
عبیرہ خاموش، لا تعلق انداز میں، جیسے کچھ کہنا ہی نہ چاہتی ہو، کھڑی تھی۔
“مطلب کہ جواب نہیں دینا چاہتی؟ کوئی بات نہیں… ریڈی ہو جاؤ، ہم باہر چل رہے ہیں…”
وہ گہری سانس لیتے ہوئے، نرم مگر پراثر لہجے میں بولا،
” ایک بات ضرور کہوں گا… میری محبت بن کر تم مغرور ہو گئی ہو…”
“مگر کوئی بات نہیں، آریان خان کی محبت ہو، اتنا غرور تو تم پر جچتا ہے…”آریان خان نے ہلکا سا جھک کر اس کے کندھے کے قریب آ کر، اپنی سانس کی ہلکی گرمائش اور قریب ہونے کا اشارہ دیا، جیسے خاموش محبت کی شدت صرف لمحے میں محسوس ہو، پھر احترام کے ساتھ پیچھے ہٹا۔
عبیرہ اپنی تیز دھڑکنیں سنبھالنے کے لیے تیز قدم اٹھاتے ہوئے چند لمحوں کے لیے روم سے باہر چلی گئی، دل میں ہلکی سی گرمائش اور الجھن کے ملے جلے احساسات لیے۔
“مسز اریان خان…… میں بھی دیکھتا ہوں کہ ،کب تک تم مجھے نظر انداز کرتی رہو گی…”
وہ دل ہی دل میں سوچتے ہوئے اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا، ہلکی مسکراہٹ لبوں پر لپٹی ہوئی تھی، اور سر کے پیچھے بالوں کو نرم ہاتھ سے پھیرتے ہوئے،
وہ ناشتے کے لیے فریش ہونے چلا گیا، قدموں میں ہلکی سی تیزی، لیکن دل میں ابھی بھی عبیرہ کی موجودگی کی گونج لیے ہوئے۔۔۔
═══════❖═══════
ایزل کو اس گھر میں آئے ہوئے صرف دس دن گزرے تھے، مگر انشاء اور ایزل کی آپس میں بہت اچھی دوستی ہو گئی تھی۔ ایزل کے آنے سے انشاء کے چہرے پر ہمیشہ خوشی کے رنگ رہنے لگے تھے۔
پہلے وہ گھر میں اکیلی بور ہو جاتی تھی، اب اسے گھر میں ایک بہن اور ایک دوست مل گئی تھی۔
ایزل کی چنچل اور خوش مزاجی کی وجہ سے گھر میں ہر وقت رونق کا سماں لگا رہتا تھا۔
ظاہر میں ایزل چنچل، شوخ اور لاپرواہ لگتی تھی، مگر حقیقت میں وہ نہایت ہوشیار اور محتاط تھی۔
گھر کے کاموں میں اس کی خوش دلی اور خود سے حصہ لینے کا انداز رتبہ کو حیران کر دیتا۔
اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایزل اتنی جلدی گھر کے ماحول میں گھل مل جائے گی۔
مگر جیسے ہی یارم کام پر جاتا، ایزل خود بخود رتبہ کے پاس کچن میں آ جاتی۔
انشاء اور رتبہ ایزل کو کوئی خاص کام تو کرنے نہیں دیتی تھیں، مگر انہیں ایزل کا یہ خود سے آنے اور باتیں کرنے کا انداز بہت پسند تھا۔
ایزل نے خود سے باسق خان کی دوائیوں کا اور کھانے پینے کا خیال رکھنا شروع کر دیا۔
اکثر وہ فروٹس کاٹ کر رتبہ اور باسق خان کے لیے روم میں لے جاتی۔
ان دس دنوں میں اس نے گھر کے ہر فرد کا دل جیت لیا تھا، اور ہر کسی کی نظریں ایزل کو ڈھونڈتی رہتی تھیں، سوائے یارم کے۔
یارم کے لیے ایزل ابھی تک ٹارچر کا سامان تھی۔
وہ خاموش اور تنہائی پسند تھا، جبکہ ایزل ہر وقت روم میں طوفان برپا کیے رکھتی۔وہ چپ رہنے کا عادی تھا وہ بولنے پر مجبور۔
نہ یارم کی ڈانٹ پر اثر ہوتا، نہ اس کے غصے کا۔
ڈی ایس پی صاحب بھی اس لڑکی کے انداز سے کافی تنگ تھے۔
آج سنڈے کا دن تھا، تو یارم نے رات کو ہی سختی سے ایزل کو کہا تھا کہ اسے ڈسٹرب نہ کرے، اسے سونے دے۔
کافی دنوں سے اس کی نیند پوری نہیں ہوئی تھی، مگر ایزل نے صبح سے اپنے شیطانی کیڑے کو کس طرح چپ کروا رکھا تھا، یہ تو صرف وہ خود جانتی تھی۔
آنکھیں فجر کے بعد بھی نہیں لگی، اور یارم فجر کی نماز ادا کر کے واپس سو گیا تھا۔
ایزل بوریت سے بچنے کے لیے نیچے انشاء کے پاس
آ گئی، تب سے وہ بیٹھی ہوئی آپس میں گپے ہانک رہی تھی ۔
“ایزل!”
رتبہ نے کچن سے جھانکتے ہوئے پیار بھرے انداز میں آواز دی۔
“جی آنٹی!”
ایزل جو صوفے پر انشاء کے ساتھ بیٹھی ہنستی بولتی تھی، فوراً چونک کر سیدھی ہوئی۔
“بیٹا، یارم کہاں ہے؟”
“سو رہے ہیں!”
ایزل نے معصومیت سے بتایا۔
رتبہ اس کے پاس آ کر ذرا نرم لہجے میں بولیں،
“اسے اٹھاؤ بیٹا… ٹائم کافی ہو گیا ہے۔ ہم آپ لوگوں کا انتظار کر رہے ہیں، ناشتہ بالکل ریڈی ہے۔”
ایزل نے اثبات میں سر ہلایا، مگر پھر بھی وہ اور انشاء باتوں میں لگ گئیں۔
رتبہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ دونوں کو دوبارہ دیکھ کر کہا،
“بیٹا، تم دونوں باتیں بعد میں آرام سے کر لینا… جاؤ ذرا جلدی۔
آپ کے بابا بھی ناشتے کے لیے یارم کے اٹھنے کا انتظار کر رہے ہیں۔”
“جی… میں اٹھاتی ہوں”
وہ ہلکے سے مسکرائی.. اور یہ مسکراہٹ اس لیے تھی کہ اب یارم اٹھ جائے گا اور اسے دیکھنے کے لیے اپنے پیارے شوہر کی شکل مبارک مل جائے گی۔عجیب جھلی لڑکی تھی۔
“انشاء پلیز… باقی سٹوری یہیں سے کنٹینیو کرنا، میں تمہارے بھائی کو اُٹھانے کی کوشش کرتی ہوں”ہنسا دینے والی شرماہٹ کو چہرے پر سجائے ہوئے بولی تھی۔
انشاء نے اسے مصنوعی خفگی سے دیکھا
مگر ایزل کی فنی سی شرمانے والی ایکٹنگ دیکھ لبوں کے کنارے خود بخود تھوڑے سے اوپر اٹھ گئے
“بیسٹ اف لک دونوں کو”ایزل نے انگوٹھے اوپر کرتے ہوئے شوخی سے انداز میں کہا ۔
وہ مسکراتی ہوئی ڈھیر سارا اعتماد اور تھوڑی سی گھبراہٹ دھڑکنوں میں لیے ، سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اوپر گئی
قدم تیز تھے جیسے کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہو۔
کمرے کے نزدیک پہنچ کر اُس نے ایک لمحے کو سانس لیا
پھر بغیر کچھ سوچے طوفان کی طرح دروازہ کھول دیا
یہ دیکھے بغیر کہ سامنے کون کھڑا ہے
اور دروازہ کھلتے ہی فضا جیسے لمحہ بھر کو رک گئی…
ایزل روم کا دروازہ کھول کر سپیڈ سے اندر داخل ہوئی تھی،یارم جو تیار ہو کر روم سے باہر آرہا تھا،دونوں کے بیچ میں زور کا تصادم ہوا۔۔۔
یارم لڑکھڑاتا ہوا فرش پر گرا اور ایزل بھی اس کے اوپر گرتی چلی گئی۔۔۔
“یا اللہ مجھے صبر عطا فرما۔۔۔
یارم خان کی بھاری غصیلی آواز ایزل کی سماعت سے ٹکرائی۔۔۔
تمہارا مسئلہ کیا ہے صبح صبح تم انسانوں کی طرح کیوں بیہیو نہیں کر سکتی؟؟
یارم نے غصے سے دانتوں کو پیستے ہوئے کہا۔۔۔
“اب میں نے کیا کیا ہے؟؟
دروازے کے سامنے آپ کھڑے تھے میری اس میں کوئی غلطی نہیں ہے۔۔۔ہاتھ جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی تھی اور یارم بھی اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔
“شٹ اب صبح صبح میرے ساتھ بحث مت کرنا۔۔۔”
ایزل کے جواب پر یارم کی آنکھوں میں چڑچڑاہٹ کی وہ تیز چمک اُبھری جیسے ضبط کی آخری گرہ بھی کھلنے کو تھی، جبڑے اکڑ گئے اور سانس بھاری سی نکلتی محسوس ہوئی، مگر وہ پھر بھی کسی طرح خود کو قابو میں رکھے کھڑا تھا ۔
ہائے ہائے، کتنے اچھے لگتے ہیں آپ صبح صبح یوں غصہ کرتے ہوئے۔
وہ بڑی دلکش ادا سے مسکراتی ہوئی بولی تھی، جیسے یارم کی چڑچڑاہٹ بھی اس کے لیے کوئی مزاحیہ سا منظر ہو۔
میر ا بس چلے تو میں تمہیں۔۔۔
یارم نے دانت بھینچ کر کہنا چاہا مگر جملہ ادھورا رہ گیا۔
آپ کا بس چلے تو اب کچھ کریں، مگر بدقسمتی سے آپ کا بس نہیں چل رہا۔
اور وہ اس لیے کہ ظاہر سی بات ہے، جب جب آپ کو مجھ پر غصہ آتا ہے تو ساتھ ہی یہ بھی خیال آتا ہے کہ، یار بندی ہے تو خوبصورت… اب اِس کو برداشت تو کرنا پڑے گا۔
وہ کھل کھلا کر ہنستے ہوئے بولی، دونوں ہاتھ کمروں پر رکھ کر ایسے اکڑ کر گویا اپنی بات پر مہر لگا رہی ہو۔
“اگر تم میں خوبصورتی کے ساتھ ذرا سی عقل بھی ہوتی تو میں متاثر ہونے کی ضرور کوشش کرتا۔”
یارم نے بھنویں چڑھا کر کہا، جیسے ہر لفظ کے ساتھ اس کی برداشت مزید گھٹ رہی ہو، مگر لہجے میں وہی دبی ہوئی بے بسی بھی تھی جو ہر بار ایزل کے سامنے ہار مان جاتی تھی۔
“ہر وقت کڑوا کریلا بنے رہنا ضروری ہے؟ کبھی کبھی ہنس بھی لیا کریں، صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے دیر ہسبینڈ۔۔۔
وہ بچگانہ سا انداز اپناتے ہوئے اس کے ذرا قریب آئی، دونوں ہاتھ آہستہ سے اس کے گلے میں ڈالے۔ انداز میں رومانس کم تھا، شرارت اور معصومیت زیادہ تھی۔۔۔
یارم نے ایک لمحہ چونک کر اسے دیکھا۔ فوراً سےاپنے دونوں ہاتھ پیچھے ضلع پیچھے کی جانب لے جا کر کمر پر باندھ لیے، جیسے خود کو روک رہا ہو۔
وہ نہیں چاہتا تھا کہ ایک لمحے کی بھی نرمی اسے چھو لے، یا دل میں کوئی ایسا احساس جاگ اٹھے جسے وہ جنم ہی نہیں دینا چاہتا تھا۔۔۔
ایزل نے اس کا یہ اچانک بچاؤ دیکھ کر آنکھیں پھیلا دیں، حیرت اور ہلکی سی شرارت اس کی نظروں میں اکٹھی جھلک رہی تھی۔
“قسم سے، کتنا شرماتے ہیں … مجھے تو کبھی کبھی آپ کے دفاع پر حیرانی ہوتی ہے،
وہ بے اختیار ہنس رہی تھی، جیسے اس کی گھبراہٹ اسے صاف دکھائی دے گئی ہو۔۔۔
“مجبوری ہے نا… جب لڑکی ہو کر تمہیں شرم نہیں آتی تو مجبوراً یہ رول مجھے ہی پلے کرنا پڑتا ہے۔ اور اب مہربانی کر کے مجھ سے دور رہو۔ مجھے تمہارا یہ انداز بالکل اچھا نہیں لگتا۔”
وہ لفظوں کو سمیٹ کر، پوری با وقار سنجیدگی کے ساتھ اپنا غصہ ظاہر کر رہا تھا، جیسے حد کھینچنے کی آخری کوشش ہو۔۔۔
“کیوں ….کیوں ….پیچھے ہٹوں…؟ شوہر ہیں میرے، پورا حق بنتا ہے میرا۔ اور ہاں، مجھے نہیں آتا فضول میں شرمانا، کیا کروں…
وہ اب بھی ڈھیٹ سی معصومیت لیے یارم کے گلے میں بازو ڈالے کھڑی تھی۔ آنکھوں میں وہی چمک، وہی بے خوف سا بھولا پن…
اگر یارم کے دل میں عبیرہ کی محبت تنی ہوئی دیوار کی طرح موجود نہ ہوتی تو شاید ایزل کی یہ سادگی، یہ بے تکلفی اسے اچھی بھی لگتی۔ آخر وہ کچھ غلط کر بھی تو نہیں رہی تھی…
لمحہ بھر کے لیے وہ اسے دیکھتا رہا۔ اس کی آنکھوں میں ایک حق تھا، یقین تھا، سادگی، شرارت، معصومیت، بے تکلفی…سب کچھ ایک ساتھ چھلک رہا تھا۔
“حق تب حاصل ہوتا ہے جب حق دینے والا حق دینا چاہے۔۔۔”یارم نے نرمی سے اس کے بازو گلے سے نکال دیے۔
“فضول کا مجھ پر حق مت جمایا کرو۔۔۔”
وہ ایک قدم پیچھے ہٹا، اپنی آواز میں ہلکی سنجیدگی کے ساتھ۔
“تمہاری ایسی حرکتیں مجھے زہر لگتی ہیں۔۔۔”
اس کی آنکھوں میں عتاب اور دل میں چھپی عجیب سی بے بسی تھی۔خود کو سنبھالتے ہوئے، وہ ایک بار پھر سے معمول پر آیا، مگر دل کی دھڑکن ابھی بھی تھمی نہیں تھی۔
ایزل نے ہلکے سے سر اٹھایا، اس کی نظروں میں وہی ضد جھلک رہی تھی۔
“آپ حق دیں یا نہ دیں، مجھے رتی برابر بھی فرق نہیں پڑتا۔۔۔
آپ میرے ہیں، اور میں آپ پر پورا حق رکھتی ہوں، میرے لیے اتنا ہی کافی ہے۔۔۔”
وہ اپنے انداز میں پوری یقین دہانی کے ساتھ بولی، پھر تھوڑا سا اور قریب ہوئی۔
“آپ کو میری باتیں، میری حرکتیں زہر لگتی ہیں، اس کا بھی میں کچھ نہیں کر سکتی۔۔۔”
اس نے پلکیں اٹھا کر یارم کے تاثرات پڑھنے کی کوشش کی، ہلکی سی شرارتی سنجیدگی کے ساتھ۔
“اور یہ آنکھیں جو آپ مجھے کمرے میں دکھاتے ہیں؟
اتنی ہمت ہے تو کمرے سے باہر آنکھیں دکھائیں۔۔۔”
وہ مسکرائی، لبوں پر ہلکی اکڑ، آنکھوں میں چمک۔
“پھر مانو ڈی ایس پی صاحب، میں کتنی ہمت رکھتی ہوں۔۔۔”
ایزل پوری دلیری سے یارم کی آنکھوں میں سیدھا دیکھ رہی تھی، جیسے اسے چیلنج دے رہی ہو اور ساتھ ہی اس کی جھنجھلاہٹ کو انجوائے بھی کر رہی تھی۔
“یہ تمہاری غلط فہمی ہے کہ میں روم کے باہر تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ صرف بابا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، جس کی وجہ سے لحاظ رکھتے ہوئے، تمہیں باہر تھوڑی سی عزت کی نظر سے دیکھتے ہوئے خاموش رہتا ہوں۔۔۔”
“چلو، کوئی ڈر تو ہے، جس کی وجہ سے آپ مجھے عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور میرے سامنے خاموش رہتے ہیں۔۔۔”
تھوڑی سی شرارت اور پر اعتماد انداز میں اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
“عزت بھی اپنے بابا کی کرتا ہوں اور ان کی خاطر ہی تمہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، اور ان کے احترام میں ہی خاموش رہتا ہوں۔ اس میں تمہارے لیے کچھ نہیں ہے، تم خوش فہمی میں مبتلا مت ہوا کرو۔۔۔”
یارم نے ہلکی بھنویں سکڑاتے ہوئے، نظریں جمی رکھی تھیں، اور چہرے پر سنجیدہ مگر نرم انداز تھا۔
یارم تیزی سے باہر نکل کر جانے والا تھا کہ ایزل نے اس کے ہاتھ کو تھام کر واپس کھینچ دیا۔ گرنے سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے وہ دونوں بیڈ پر گِرے۔ ارادہ تو ایزل کا ایسا کچھ نہیں تھا، مگر غیر ارادی طور پر یہ ہو چکا تھا۔
یارم کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ ایسا بھی کر سکتی ہے۔ اس لمحے وہ کافی گھبرا گیا، ہاتھ پھیرنے کی کوشش کی، مگر ایزل نے دانت نکال کر شرارت بھری مسکراہٹ دکھاتے ہوئے اسے دوبارہ اٹھنے نہیں دیا۔
“اب یہ کیا بدتمیزی ہے؟”
یارم نے گھور کر دیکھا، لبوں پر سنجیدگی اور تھوڑی سی چڑچڑاہٹ چھائی ہوئی تھی۔
“ڈیئر ہسبینڈ، اس کو رومانس کہتے ہیں۔۔۔”
ایزل نے دانت نکالتے، آنکھ کو شرارتی انداز میں وِنگ کرتے ہوئے کہا، کیونکہ یارم کا گھبرا کر زچ ہونا اسے دلچسپ لگ رہا تھا۔
“شٹ اپ۔۔۔ مجھے اس طرح کی چھچھوڑی حرکتیں بالکل پسند نہیں۔۔”
یارم نے غصے سے نظریں جمائے کہا، بازو سخت کیے اور اپنے موقف پر قائم تھا۔
“ہائے۔۔۔ مگر میں کیا کروں، مجھے تو چھچھوری حرکتیں بہت اچھی لگتی ہیں۔۔۔
کاش آپ بھی کبھی ایسی چھچھوری حرکتیں کریں۔۔۔”
ایزل کی آنکھوں میں شرارت جھلک رہی تھی، ہونٹوں پر نرم مسکراہٹ تھی، اور وہ تھوڑا سا آگے جھک کر یارم کو چیلنج کر رہی تھی، دل میں اس کے لئے ہلکی سی کھیلتی ہوئی خوشی چھپی ہوئی تھی۔
“میرا۔۔۔ دماغ ابھی تک ٹھکانے پر ہے۔ تمہاری طرح پاگل نہیں ہوا کہ بے وقوفوں والی حرکتیں شروع کر دوں۔
جس طرح کی حرکتیں تم کرتی ہو نا، اگر مجھے بابا کی عزت کا خیال نہ ہو تو میں تمہارا گلا دبا دوں۔۔۔
یارم دونوں ہاتھ سائڈ پر ٹکا کر پیچھے کی طرف جھکا بیٹھا تھا۔
کندھے سخت تھے، جیسے سکتہ سا طاری ہو۔
سانس ہلکی سی گڑگڑاہٹ کے ساتھ چل رہی تھی، جیسے قربت کا دباؤ اسے بے چین کر رہا ہو۔
وہ نظریں ایزل پر ٹکانا چاہتا تھا مگر ہر دو سیکنڈ بعد نگاہ پھیر لیتا، جیسے اس کی موجودگی ہی اس کے حواس پر حملہ کر رہی ہو۔
اس کے چہرے پر جھنجھلاہٹ صاف تھی مگر آنکھوں میں ایک عجیب سی گھبراہٹ بھی، جو وہ چھپانے کی پوری کوشش کر رہا تھا۔
“تو دبا دیجئے گلا۔۔۔ کس نے تمہیں روکا ہے؟ حق کے استعمال میں ڈرتے کیوں ہو؟”ایزل نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا، آنکھوں میں پیارے، کیوٹ اور تھوڑے سے کھلے ڈلے تاثرات لیے،چھیڑا ۔
“تمہیں پتہ ہے تم بہت بے شرم ہو۔۔۔”یارم نے نفی بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا،
ایزل نے شرارتی سی مسکراہٹ کے ساتھ آنکھیں ذرا سا سکیڑتے ہوئے کہا، “ہائے… اور آپ کو پتہ ہے کہ آپ بہت ہی شرمیلے ہیں جیسا کہ آپ کو بالکل نہیں ہونا چاہیے۔۔۔
آپ کی پرسنیلٹی پر تو یہ شرمیلا پن سوٹ ہی نہیں کرتا، میں تو سوچتی تھی کہ ڈی ایس پی صاحب مجھ پر پیار کی ایسی بارش برسائیں گے کہ میں اپنی دوستوں کو بتاتے ہوئے شرما جایا کروں گی۔۔۔”
اس کے انداز میں وہی مخصوص کیوٹ سی بے تکلفی تھی، لہجے میں ہلکی سی شوخی… جیسے واقعی اس کے ذہن میں یہ سب فلمی سین چلتے رہتے ہوں۔
یارم کی طرف تھوڑا سا جھک کر بڑے معصوم مگر کھلے ڈلے انداز میں آنکھیں جھپکی تھیں، جیسے وہ خود ہی اپنے خوابوں پر ہنس بھی رہی ہو اور چڑا بھی رہی ہو۔
شٹ اپ۔۔۔ شٹ اپ۔۔۔ ہمارے درمیان ہونے والی باتیں تم اپنی دوستوں کو کیوں بتاؤ گی؟
میاں بیوی کی پرسنل باتیں صرف میاں بیوی تک محدود رہنی چاہئیں۔
یارم نے غصے میں آنکھیں سمیٹیں، انداز میں سختی کے ساتھ۔
ڈی ایس پی صاحب، بعد میں چلا لیجیے گا، پہلے بتائیں، ہمارے درمیان ایسا کیا ہے جو صرف ہمارے لیے محفوظ رہے؟
ایزل شرما کر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولی، اور یارم کو اپنی حد سے زیادہ بولنے کا احساس ہونے لگا۔
بنا جواب دیے، وہ نظروں کا رخ پھیر گئی۔
اب وہ ایزل کے ساتھ مزید بحث نہیں کرنا چاہتا تھا، اسے لگ رہا تھا کہ پہلے ہی بہت کچھ ہو چکا ہے۔
ایک نظر ایزل کی جانب دیکھا، جو بیڈ پر بچکانہ انداز میں پڑی تھی، ہاتھ ہلکے سے لپٹے، آنکھوں میں شرارت کی چمک۔
یارم قدموں میں احتیاط رکھتے ہوئے، بالکل خاموش، روم کے دروازے کی طرف بڑھا۔ ہر قدم میں سنجیدگی اور نظم محسوس ہوتا تھا، جیسے ہوا کے جھونکے بھی اسے محسوس نہ کر پائیں۔
“اگر تمہارا بک بک کرنے والا صبح کا کوٹا پورا ہو گیا ہو تو چلو، ناشتے کے لیے سب لوگ ہمارا انتظار کر رہے ہوں گے۔۔۔”
وہ دروازہ کھولتے ہوئے بولا، آواز میں قدرتی وقار اور تسلسل تھا۔
“ہاں۔۔۔ ہاؤ روڈ۔۔۔
میں گری ہوئی ہوں اور آپ روم سے جا رہے ہیں۔۔۔
پلیز مجھے اُٹھائیں۔۔۔”
ایزل بیڈ پر پڑی، دونوں ہاتھ بڑھائے ہوئے، آنکھوں میں ہلکی چمک اور ہلکی سی شرارتی مسکراہٹ لیے، پوری طرح یارم کی توجہ کھینچ رہی تھی، ہر لمحہ اس کے انداز میں چھوٹی سی ضد اور بے ساختگی نمایاں تھی۔
“جتنی زبان چلتی ہے اتنی ہمت کرکے اُٹھ آجانا۔۔۔
تمہارا ملازم نہیں ہوں جو تمہیں اُٹھاؤں۔۔۔”
یارم یہ کہہ کر روم سے باہر نکل گیا، قدم تیز اور پرعزم، لیکن ہر قدم میں اس کی ضبط شدہ ناراضگی اور فیصلہ واضح تھی، جیسے اس منظر سے فوری طور پر دور ہونا چاہتا ہو۔
اسے جاتا دیکھ کر ایزل ایک نرم، ٹھنڈی سانس بھری اور ہلکی شرارتی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر کھل گئی۔
“آپ کو ملازم کون بنانا چاہتا ہے، ڈی ایس پی صاحب؟ آپ تو ہمارے لیے جان ہیں۔۔۔ اگر آپ اپنے جان والے فرائض کی انجام دیں، تو کافی ہے۔”
وہ دلکش مسکراہٹ لیے اپنے قدموں پر خود ہی اُٹھ کھڑی ہوئی۔
“اگر آپ اتنے دلکش اور پرکشش نہ ہوتے، تو ایزل کبھی آپ کے نخرے برداشت نہ کرتی۔
کیا کروں اس دل کا، جسے آپ کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا؟”
وہ آنکھوں میں شرارتی چمک لیے بولی، ہلکی سی لرزہ خیز مسکان کے ساتھ۔
“جانتی ہوں، میں تھوڑی سی شرارتی، اور آپ کی نظر میں بےوقوف ہوں،مگر اپ بھی کم نہیں ہیں۔۔۔ ظالم ہیں، ہر بار میرا چھوٹا دل توڑ دیتے ہیں،
مگر کیا کریں۔۔۔ یہ اکڑ آپ پر بے حد جچتی ہے، میرے ڈیشنگ ڈی ایس پی صاحب۔”
آنکھیں بند کر کے ایک لمحے کے لیے اپنے جذبات میں کھو گئی، نرم جھرجھری کے ساتھ، اور روم سے باہر قدم بڑھا دیا، دل میں ہلکی سی تڑپ، شرارت اور محبت کے سرگوشیوں کے ساتھ۔
وہ تیزی سے دھپ دھپ کرتی ہوئی سیڑھیوں سے نیچے اتر رہی تھی۔۔
═══════❖═══════
“اسلام وعلیکم۔۔۔
یارم نے ڈائننگ ٹیبل پر آتے ہی سب کو ہمیشہ کی طرح سلام کیا۔۔۔
“واعلیکم اسلام۔۔۔”
باسق خان نے سب سے پہلے خوش دلی سے سلام کا جواب دیا، پھر رتبہ اور انشاء نے باری باری سلام کا جواب دیا۔
یارم اپنی کرسی کو پیچھے کھینچ کر آرام سے بیٹھ گیا، نظریں میز پر رکھی ہوئی تھیں۔
“یارم، ایزل نہیں آئی؟”
یارم کی ماں نے اکیلے یارم کو دیکھتے ہوئے پوچھا، نظریں تھوڑی پر توقع اور دلچسپی سے بھری ہوئی تھیں۔
“آنٹی، میں آگئی ہوں۔۔۔”
ایزل یارم کے بولنے سے پہلے ہی تیزی سے سیڑھیاں اتر کر ڈائننگ روم میں داخل ہو گئی تھی، قدموں کی نرم ہلچل سے پورے کمرے میں چنچل اور خوشگوار ماحول پیدا ہو گیا۔ وہ اپنی کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی، چہرے پر ہلکی شرارتی مسکراہٹ، اور آنکھوں میں چمک، جیسے کوئی من پسند گیم کھیلنے کے لیے بالکل تیار ہو۔
یارم نے نظریں اٹھا کر ایزل کی طرف گھورتے ہوئے سوچا، “آگئی آفت کی پُڑیا۔۔۔”
“آپ نے کچھ کہا؟ایزل نے جان بوجھ کر اس سے سوال کیا تھا جب کہ اچھی طرح سے جانتی تھی کہ وہ اس وقت کوئی بھی جواب نہیں دے گا۔
“نہیں، میں نے تو کچھ نہیں کہا۔۔۔یار ہم نے ہلکی سی گہری ڈالتے ہوئے کہا۔
“اچھا، مجھے لگا شاید آپ نے کچھ کہا۔۔۔بڑی معصومیت سے کیسے دیکھ رہی تھی..
یارم نے نفی میں سر کو ہلایا۔۔۔اچھی طرح سے جانتا تھا کہ اس نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔
ایزل بیٹا، یارم کو ناشتہ دو ،اور خود بھی شروع کرو۔۔۔
“جی۔۔۔
رتبہ کے کہنے پر ایزل یارم کے آگے ناشتہ صرف کرنے لگی۔۔۔
سب لوگ ناشتہ کر رہے تھے، اور چند لمحوں کی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ ٹیبل پر برتنوں کی ہلکی ہلکی کھٹ پٹ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ ایسے میں باسق خان کے دماغ میں ایک گہری سوچ اُبھر آئی تھی۔باسق خان نے چائے کا سپ لیتے ہوئے سوچ کر یارم کو پکارا
“یارم۔۔۔
“جی۔۔۔
تم ایزل کو کہیں گھمانے لے جاؤ، ابھی شادی کے نئے نئے دن ہیں، یہی تو وقت ہے گھومنے پھرنے کا۔۔۔باسق خان لہجہ نرم اور پرسکون سا تھا۔۔
“فی الحال میں مصروف ہوں، وقت نہیں ہے۔۔۔
یہ کہتے ہوئے یارم نے ہاتھ روکے بغیر ناشتہ جاری رکھا۔ نظر تک نہ اٹھائی۔ چہرے پر وہی روکھاپن، آنکھوں میں معمولی سا اکتاہٹ۔ لہجہ بالکل سیدھا، بے لچک ۔۔۔ جیسے اس بات کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔
“یہ کیا بات ہوئی، وقت نہیں ہے؟ میں کب سے ہنی مون کے پلین سوچے جا رہی ہوں اور نواب صاحب کے پاس وقت ہی نہیں۔۔۔
ایزل نے دل ہی دل میں منہ کے زاویے بگاڑتے ہوئے سوچا۔ حلق میں جاتا ہوا ٹوس جیسے ایک دم اٹک گیا تھا، اور اس نے چائے کا سپ لیتے ہوئے خود کو سنبھالا۔۔۔ایزل کو یارم کا یہ کہنا ذرّہ بھر اچھا نہیں لگا کہ اس کے پاس وقت نہیں ہے۔ وہ کب سے ہنی مون کے پلان بنا رہی تھی ۔
مگر ایزل کون سی عام لڑکیوں جیسی تھی جو اس بات پر دکھی ہو جاتی۔ وہ تو اپنی ہر بات کا حساب لینا خوب جانتی تھی۔لبوں کی ہلکی مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ اس کے دماغ میں کچھ نہ کچھ چل رہا ہے ۔۔
“یہ کیا بات ہوئی، یا رم… تمہاری شادی کو ابھی ٹائم ہی کتنا ہوا ہے اور تم کہہ رہے ہو کہ تمہارے پاس وقت نہیں۔ تھوڑا وقت نکالو اور اسے گھمانے لے جاؤ، یہ فرض ہے تمہارا۔۔۔
باسق خان نے سخت اور ناراض لہجے میں کہا، ناشتہ کرتے ہوئے نگاہیں ٹیبل پر ہی جمائے رکھیں۔
رتبہ اور انشاء خاموشی سے ناشتہ کرتی رہیں، مگر دونوں باپ بیٹے کی یہ باتیں غور سے سن رہی تھیں۔۔۔
یارم نے اپنی ساتھ کی صفائی دینے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ ایزل نے شرارت بھری مسکراہٹ کے ساتھ اس کا ہاتھ ہلکے سے چھو لیا۔
پورے بدن میں ایک ہلکی سی لرزش دوڑ گئی، وہ لمحے کے لیے جامد سا رہ گیا، لب بند کر کے آنکھیں بند کر کے مٹھیوں کو تھوڑا زور سے دبانے لگا۔
ایزل کی آنکھوں میں چھپی چالاکی اور شرارت نے فضا کو ہلکی سی کھیلتی ہوئی کشمکش سے بھر دیا، جو دونوں کے درمیان خاموش ہنسی کی طرح محسوس ہوئی۔
یارم میں تم سے بات کر رہا ہوں۔۔۔
باسق خان نے جواب نہ پا کر ناراضگی سے کہا۔۔
“جج۔۔جی۔۔ بابا، میں آپ کی بات سن رہا ہوں۔۔۔
یارم کے الفاظ آگے پیچھے ہو گئے، دل دھڑک رہا تھا۔
ایزل نے ہلکی سی شرارت سے پھر سے یارم کو چھیڑ دیا، اور یارم لمحے کے لیے رک گیا۔ وہ چاہتا تو فوراً اپنی بات درست کر دیتا، مگر اتنے لوگوں کی موجودگی اور بابا کی نظریں اسے روک رہی تھیں۔
ایزل کی چالاکی نے یارم کے لیے ایک لمحے کے لیے راستہ محدود کر دیا، اور وہ اپنے جذبات پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگا۔
بیچارہ یارم، نہ کھل کر جواب دے سکتا تھا، نہ ایزل پر غصہ دکھا سکتا تھا۔
ایزل اس منظر سے لطف اندوز ہو رہی تھی، ناشتہ کھا کر بھی وہ کھیل جاری رکھے ہوئے تھی۔
بابا کی نظریں اور انشاء کی خاموش نگرانی یارم کے دل میں ہچکچاہٹ پیدا کر رہی تھیں۔ وہ بڑی مشکل سے اپنے آپ کو قابو میں رکھتے ہوئے بات کرنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر ایزل پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔
“اپنے کام سے ٹائم نکالو اور ایزل کو کہیں گھمانے پھرانے کے لیے لے کر جاؤ۔۔۔
باسق خان جیسے حکم دے رہے تھے۔
“مگر۔۔۔ بابا، اس وقت میں نہیں لے جا سکتا۔ اگلے چار سے پانچ مہینے میری پوسٹنگ اسلام آباد میں ہے۔۔۔
بہت دیر سے ایک کیس میرے پاس ہے، اسے سالو کرنے کے لیے مجھے اسلام آباد جانا پڑے گا۔۔۔
یارم نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا۔
“تم اپنا ٹرانسفر رکوا دو۔۔۔
“فلحال نئی نئی شادی ہوئی ہے، تم ایزل کو گھمانے کے لیے کہیں لے کر جاؤ۔۔۔
باسق خان کے لہجے میں حکم اور ہلکی سختی دونوں محسوس ہو رہی تھی، لیکن محبت اور فکر بھی چھپی ہوئی تھی۔
“سوری بابا، پوسٹنگ رکوا نہیں سکتا، میرا جانا ضروری ہے۔”
“بہت دیر سے یہ کیس لٹکا ہوا ہے۔ جب واپس آؤں گا تو اسے گھمانے لے جاؤں گا۔ یہ کون سا کہیں جا رہی ہے۔۔۔”
“یارم، مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ تم خودسر ہوتے جا رہے ہو، اپنی مرضی کے مالک ہوتے جا رہے ہو؟ میرے فیصلوں کی، میری باتوں کی کوئی اہمیت نہیں رہی اب؟”
باسق خان کے لہجے میں غصہ اور فکر دونوں واضح تھے۔ جب سے ان کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا، ڈاکٹر نے بھی بتایا تھا کہ یہ سب میجر ہارٹ اٹیک کے سائیڈ ایفیکٹ ہیں، جو شاید ہمیشہ اثر انداز رہ سکتے ہیں، اور وقت کے ساتھ کم بھی ہو سکتے ہیں، مگر زیادہ غصہ ان کی صحت کے لیے خطرناک تھا۔
“خدانخواستہ ، بابا، اللہ نہ کرے کہ کبھی ایسا ہو کہ میرے لیے آپ کے فیصلے کی کوئی اہمیت نہ رہے۔۔۔ یہ کیسی باتیں ہیں؟”یارم کو اپنے بابا کس بات سے تکلیف ہوئی تھی وہ تو ایسا کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
“ویسی باتیں کر رہا ہوں جیسا تم مجھے محسوس کروا رہے ہو۔”باسق خان نے ناراض لہجے میں دیکھتے ہوئے کہا۔
“بابا، میں نے انکار کب کیا ہے کہ میں اس محترمہ کو گھمانے نہیں لے جاؤں گا؟ بس تھوڑا سا وقت مانگ رہا ہوں۔ قسم سے، میرا اسلام آباد جانا بہت ضروری ہے، ورنہ میں کبھی انکار نہیں کرتا۔”
یارم نے دھیمے لہجے میں اپنے بابا کو سمجھانے کی کوشش کی، الفاظ میں سنجیدگی اور سیدھا پن واضح تھا۔
ایزل اب بھی ہلکی شرارت کے ساتھ یارم کے ہاتھ کو تھام رکھا تھا۔
یارم نے بڑی مشکل سے اپنی توجہ ہاتھ سے ہٹاتے ہوئے اپنے بابا کی طرف دی، کیونکہ ان کی صحت پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یارم خان کی جان بستی تھی اپنے بابا میں، اور ہر لفظ میں اس کا احترام اور فکر جھلک رہی تھی۔
“کب پوسٹنگ ہے تمہاری؟”
باسق خان نے سوچتی ہوئی نظروں سے یارم کو دیکھ کر کہا۔
“اسی ہفتے کے اینڈ میں۔۔۔”
“تو ٹھیک ہے، ایزل کو اپنے ساتھ لے کر جاؤ۔
بچی اکیلی ہمارے ساتھ رہ کر کیا کرے گی؟”
باسق خان نے فیصلہ کن انداز میں کہا، الفاظ میں سنجیدگی اور حکم صاف محسوس ہو رہا تھا۔
یارم خان نے دل ہی دل میں سوچا، “کیسے بتاؤں بابا، یہ بچی نہیں، آفت ہے،افت آفت کو ساتھ لے جا کر تو میں عذاب میں پڑ جاؤں گا؟”
اپنے بابا کی ناراضگی کا سوچ کر یہ کہنے کی ہمت نہیں تھی۔
ایزل کو یہ بات سن کر دلی تسکین ملی۔ اس کی خوشی کی کوئی حد نہیں تھی۔ اگر ممکن ہوتا تو وہ اٹھ کر ناچنے لگتی، مگر مجبور تھی۔
وہ ایسے معصوم انداز میں ناشتہ کر رہی تھی، جیسے ارد گرد کی آوازیں اس کے لیے موجود ہی نہ ہوں، ہر حرکت میں چھپی خوشی صاف محسوس ہو رہی تھی۔
“بابا، میں اسے اپنے ساتھ کیسے لے جا سکتا ہوں؟”
یارم نے افسوس زدہ، بیچارہ سا منہ بناتے ہوئے کہا۔
“کیا مطلب، کیسے لے جا سکتے ہو؟
پلین میں تمہارے ساتھ جائے گی اور جہاں تم رہو گے، تمہارے ساتھ رہے گی۔ تمہارا خیال رکھے گی۔۔۔”
“یارم، تمہارے بابا بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں، تم ایزل کو ساتھ لے کر جاؤ۔ وہ تمہارے کھانے پینے اور پہننے کا خیال رکھے گی۔۔۔”
ساری بات میں پہلی بار رتبہ نے کچھ کہا تھا۔
انشاء افسوسزدہ منہ بنا کر بیٹھی ہوئی تھی، کیونکہ اس کا دل تو ایزل کے ساتھ لگ گیا تھا۔ ایزل کے جانے کی خبر سن کر وہ کافی پریشان تھی۔
“سوری بابا، وہ میرے ساتھ جا کر بور ہو جائے گی۔۔۔
سارا دن میں کام کے سلسلے میں گھر سے باہر رہوں گا، وہ کیا کرے گی وہاں میرے ساتھ؟”
“رات کو تو گھر آیا کرو گے یا رات بھی تھانے میں گزارو گے؟
سونے کے لیے ٹائم تو دیا جائے گا نا، یا تمہارا اپارٹمنٹ رات کو بھی وہیں تھانے میں ہوگا؟”
اگر وہ یارم خان تھا تو باسق خان بیٹھے ہوئے تھے، اپنے بیٹے کی ہر بات اور ہر انداز سے بخوبی واقف۔
باسق خان اچھی طرح جانتے تھے کہ یارم ایزل سے جان چھڑوانے کے لیے ٹرانسفر کروا رہا ہے۔ وہ جان بوجھ کر ایزل کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا تھا، ورنہ یارم کے لیے کچھ بھی مشکل نہ تھا۔
ایسا کیسے ہو سکتا تھا کہ ڈی ایس پی صاحب اپنی شادی کے فوراً بعد اپنا ٹرانسفر نہ رُکوا سکیں؟
مگر باسق خان نے اپنے ارادے کو پوری طرح سے عملی جامہ پہنا کر ایزل کو یارم کے ساتھ لے جانے کا حکم دے دیا
“بابا، آپ کیوں ضد کر رہے ہیں میں۔۔۔”
“یاررررررررم۔۔۔”
“سوری بابا، ٹھیک ہے، جو آپ کا حکم ہے، لے جاؤں گا۔۔۔”
یارم کی بات بیچ میں ٹوک کر باسق خان نے اس کا نام کھینچتے ہوئے کہا، تو یارم سمجھ گیا کہ اس کے بابا کا غصہ لبریز ہو رہا ہے۔
“رتبہ۔۔۔”
“جی۔۔۔”
“بچی کی جانے کی تیاری کروا دینا اور اپنے بیٹے کو سمجھا دینا کہ خوشی سے ایزل کو اپنے ساتھ لے جائے۔ بیوی بوجھ نہیں ہوتی، میں کوئی شکایت نہیں سننا چاہتا۔
اپنے بیٹے سے کہہ دینا کہ ایزل کو کوئی بھی تکلیف نہیں ہونی چاہیے ۔میں ذرا سی بھی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا ۔”
باسق خان اپنی جگہ سے اٹھ کر جاتے ہوئے رتبہ کو حکم دیتے ہوئے اپنے روم میں جا چکے تھے۔
“پلیز، آپ ناشتہ تو اچھی طرح کر لیں۔۔۔”
رتبہ نے پیچھے سے آواز دی۔
“میں نے کر لیا ہے، باقی اپنے بیٹے کو کروا دینا۔۔۔”
باسق خان جاتے ہوئے بغیر پلٹے بولے۔
“کیا گھول کر پلایا ہے تم نے میرے بابا کو؟”
یارم نے غصے سے ایزل کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
“پیار۔۔۔”
ایزل نے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے بڑے کیوٹ انداز میں کہا۔
اس کے انداز پر انشاء اور رتبہ دونوں کی ہنسی چھوٹ گئی۔
پلیز آپ لوگ ہنسیں مت …..پوری دنیا میں آپ لوگوں کو میرے لیے یہ بے وقوف لڑکی ملی تھی۔۔۔
یارم اپنی جگہ سے اُٹھ کر کھڑے ہوتے ہوئے اپنا ہاتھ چھڑوا چکا تھا۔۔۔
“یارم بیٹا بری بات ہے بیوی ہے تمہاری ایسے نہیں کہتے۔۔۔
رتبہ نے نرمی سے کہا۔۔۔
“کچھ غلط نہیں کہا مصیبت لا کر میرے گلے ڈال دی ہے جس کا مزاج ذرا برابر مجھ سے نہیں ملتا۔۔۔
پتہ نہیں کون سی خطا ہو گئی جس کے بدلے یہ میری قسمت میں آئی ہے۔۔۔یارم بولتا ہی چلا جا رہا تھا اپنے بابا کا سارا غصہ وہ اب ظاہر کر رہا تھا۔
“جیسی بیوی دعاؤں میں،میں نے ہمیشہ مانگی تھی اس میں ایک بھی گن ویسا نہیں ہے۔۔۔
یارم کا لہجہ بہت زیادہ خراب تھا غصے سے اس نے جو کچھ کہا تھا وہ سن کر انشاء اور رتبہ ایزل کے سامنے بہت شرمندہ ہو رہی تھی۔۔۔
وہ کرسی پیچھے دھکیلتے ہوئے تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا سیڑھیاں چڑھنے لگا…
“ڈی ایس پی صاحب، آپ کی دعاؤں میں دم نہیں تھا اس لیے آپ کو آپ کی پسند کے مطابق بیوی نہیں مل سکی، مگر میری دعاؤں میں بہت اثر تھا۔ میں نے آپ کو دعاؤں میں مانگا اور پا لیا، اور پوری زندگی کا ساتھ ہے، جان، چھوڑنے والی نہیں ہوں۔ اس لیے پھڑپھڑانا چھوڑ دیں۔۔۔”
ایزل نے اونچی آواز میں، جاتے ہوئے یارم سے کہا۔
یارم، بغیر جواب دیے، تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا ہوا اپنے روم میں چلا گیا۔
اس نے ٹھیک سے ناشتہ بھی نہیں کیا تھا،
“سوری بیٹا، اس کا مزاج تھوڑا تلخ ہے۔۔۔”
رتبہ شرمندہ سا ہو کر بولی۔
“او ہو۔۔۔ آنٹی، آپ کیوں شرمندہ ہو رہی ہیں؟ مجھے عادت ہو گئی ہے دس دنوں میں آپ کے اکڑو بیٹے کو ایسے ہی دیکھنے کی۔
آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، میں سنبھال لوں گی، آپ بیٹھیں آرام سے ناشتہ کریں۔”
ایزل نے اتنے ریلیکس انداز سے کہا کہ انشاء اور رتبہ دونوں حیران رہ گئیں۔
ایزل کے ریلیکس انداز نے رتبہ کے دل کو سکون دے دیا۔ اسے خوشی ہوئی یہ جان کر کہ ایزل یارم سے بہت پیار کرتی ہے۔ تجربہ کار نظروں کو یہ جانچنے میں دیر نہیں لگی کہ ایزل کے دل میں یارم کی محبت کا سمندر زوروں پر ہے۔
یارم کا رویہ، جو انشاء اور رتبہ کو بہت برا لگا تھا، ایزل نے آرام سے اگنور کر دیا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
“یہ تو صرف پیار میں ہی کیا جا سکتا تھا۔۔۔”
رتبہ پوری طرح مطمئن ہو گئی، یہ دیکھ کر کہ اب اس کے بیٹے کی زندگی، انشاللہ، بہت جلد خوشحال ہو جائے گی۔
ایزل کی آنکھوں کی چمک بتا رہی تھی کہ وہ یارم سے اپنی ذات سے بھی زیادہ محبت کرتی ہے، اور عورت اپنی محبت کی طاقت سے بڑے سے بڑے پہاڑ جیسے مرد کو بھی زیر کر لیتی ہے۔
عورت کی محبت میں وہ طاقت ہوتی ہے کہ پتھر کو موم بنا دیتی ہے۔
رتبہ خان ناشتہ کرتے ہوئے بار بار اپنی بہو کی جانب دیکھ رہی تھی، اور اس کے دل کو پورا یقین تھا کہ ایزل یارم کو بدل دے گی۔
اسے یقین تھا کہ وہ یارم کے دل میں اپنی محبت جگا لے گی۔ ابھی یارم شاید اپنی پرانی محبت عبیرہ کے اثر سے باہر نہیں آیا تھا، اور اس نے شاید نظر بھر کر نہیں بیوی کو دیکھا کہ وہ کتنی خوبصورت ہے، اس کی ادائیں کتنی دلکش ہیں۔
مگر وہ زیادہ دیر ایزل کی محبت سے بھاگ نہیں سکے گا، اس بات کی گواہی رتبہ کے دل دے رہا تھا۔ اسے باسق کا فیصلہ بالکل درست لگا کہ ایزل کو یارم کے ساتھ ہی جانا چاہیے۔
“ایزل، جب تم چلی جاؤ گی، میں ایک بار پھر سے اکیلی اور بور ہو جاؤں گی۔۔۔”
انشاء نے منہ بسورتے ہوئے کہا۔
“ارے، ایسے کیسے؟ ہماری انشاء بور ہو جائے گی؟ میں تمہیں روز فون کروں گی، ہم بہت سی باتیں کریں گے۔۔۔
آپ کے بھائی صاحب نے بتایا ہے کہ پورے پولیس ڈیپارٹمنٹ کا بوجھ انہوں نے اپنے سر پر اٹھا کر رکھنا ہے، مطلب کہ وہ سارا دن مصروف ہوں گے، تو میں سارا دن فری رہوں گی۔
پھر سارا دن ہم گپیں ماریں گے، بس تم اپنی پڑھائی کا وقت نکال لینا، اس کے بعد ہم لوگ دل کھول کر باتیں کریں گے، ویڈیو کال کریں گے اور ترکش ڈرامے بھی ڈسکس کریں گے۔۔۔”
ایزل نے اتنے خوشگوار اور پُر اعتماد انداز سے کہا کہ انشاء بھی خوش ہو گئی۔
رتبہ اپنی بہو کی باتوں سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔
═══════❖═══════
آریان خان نے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے عبیرہ کے آگے ہاتھ پھیلایا۔
“چلیں۔۔۔”
جو لوگ آریان خان کو جانتے تھے، ان کے لیے یہ منظر بہت حیران کن تھا۔ جس آریان خان کے آگے پیچھے ہمیشہ نوکروں کی فوج رہتی تھی، اور جس کے لیے دروازہ کھولنے والے پہلے سے موجود رہتے تھے، آج وہ کسی اور کے لیے دروازہ کھول رہا تھا۔
اس کے اپنے ہی گارڈز بھی حیران تھے۔
“میں خود چل سکتی ہوں، خود کو میری عادت مت بنائیں۔۔۔”
عبیرہ نے بغیر آریان کا ہاتھ تھامے گاڑی سے نیچے اتر آئی۔ اس نے گاؤن پہن رکھا تھا اور خوبصورت سا حجاب کیا ہوا تھا۔ اتنی سی سادگی اور نزاکت پر بھی آریان اس پر فدا ہو رہا تھا۔
اگر کوئی اور اس انداز سے آریان کے ہاتھ کو ہٹا دیتا اور اسے توہین سمجھا دیتا، تو شاید آریان غصے میں آ کر ہاتھ ہی توڑ دیتا۔ مگر یہ کوئی اور نہیں، عبیرہ تھی، جس پر آریان خان نے اپنا دل ہار دیا تھا۔
مرد جب کسی عورت پر دل ہارتا ہے، تو سمجھنے کی صلاحیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔
اس عورت کو وہ سب سے حسین سمجھتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے، اور یہ بات آریان خان کے لیے دیکھ کر یقین میں بدل گئی تھی۔
“میں تمہاری عادت بنوں یا نہ بنوں، مگر تم میری عادت بن چکی ہو۔ اور مجھ سے دور جانے کے بارے میں سوچنا بھی مت۔۔۔”
“تمہارا ہر وقت مجھے نظر آنا
علاج ہے میرے دل کا،
میسر رہا کرو، میری جان،
تاکہ میں کھل کر سانسیں لے سکوں۔۔۔”
اریان خان کے دل میں یہ الفاظ صرف شاعری نہیں تھے، بلکہ ہر لفظ اُس کی محبت اور شدت کا عکس تھے۔ وہ محسوس کر رہا تھا کہ عبیرہ کی موجودگی اُس کے دل کی دھڑکن کو مکمل کرتی ہے، اُس کے سانسوں کو راحت بخشتی ہے، اور زندگی کے ہر لمحے کو روشن بنا دیتی ہے۔ یہ دل کی وہ زبان تھی جو صرف اُس کی آنکھوں، اُس کی نگاہوں اور اُس کے سکوت میں بھی چھپی ہوئی تھی، عبیرہ کے لیے ہر لمحے ایک خاموش اعتراف محبت کے طور پر۔
“واہ، مسٹر آریان خان، میں تو حیران ہوں آپ پر۔۔۔
آپ تو بدلتی ہواؤں کے رخ سے بھی زیادہ تیزی سے بدل رہے ہیں۔۔۔”
عبیرہ کی نگاہوں میں ہلکی سی حیرانی اور طنز چھپا ہوا تھا، جیسے وہ آریان کی سنجیدگی اور جذبے کو ایک ساتھ پرکھ رہی ہو۔
“کیوں دل توڑنے والی باتیں کرتی ہو؟ کیوں یقین نہیں کرتی ہو؟”
آریان کے الفاظ میں درد بھی تھا اور محبت بھی۔
“کیا کروں، آپ کی محبت بھی مجھے دھوکہ لگتی ہے۔۔۔
نہیں کر پا رہی یقین آپ کی محبت پر۔ مجھے لگتا ہے کہ ابھی آپ ہنس کر کہیں گے، ‘دیکھا عبیرہ، تمہاری یہ اوقات ہے، آخر میں نے تمہیں اپنے قدموں پر لا کر دکھا ہی دیا۔۔۔’
اگر قدم بڑھانا چاہوں بھی، تو نہیں بڑھا سکتی۔۔۔”
وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی ہوئی، تنزیہ بھرے انداز سے، عبیرہ کی نگاہوں سے کچھ گہرے الفاظ بول گئی تھی۔۔۔
آریان خان نے مسکراتی نظروں سے چند لمحے زمین کی جانب دیکھا، گہری سانس لیتے ہوئے نچلے ہونٹ کو زور سے دبایا۔
کچھ دیر بعد پلکیں اٹھاتے ہوئے، اس کی نگاہیں دوبارہ عبیرہ کی طرف مرکوز ہو گئیں، اور ان میں چھپی شدت اور محبت واضح تھی۔۔۔
دونوں گاڑی سے تھوڑی دوری پر کھڑے، باتیں کرتے ہوئے ارد گرد کے منظر کو بھول چکے تھے۔
وہ ایک دوسرے میں اس قدر کھوئے ہوئے تھے کہ دنیا کی ہر چیز عارضی لگ رہی تھی۔
آریان نے دھیرے سے نظریں اٹھائیں۔ اس کی آنکھوں میں بھیگی ہوئی سی نرمی تھی، جیسے کوئی ضدی سا دکھ اندر کہیں چھپا بیٹھا ہو۔
“سمجھ گیا میں… تمہارے دل کا ہر شکوہ، تمہاری ہر تلخی… سب جائز ہے۔ لیکن کچھ چیزیں انسان کے بس میں نہیں ہوتیں، عبیرہ۔ تم سے محبت کرنا میرے اختیار میں نہیں تھا۔ تم جتنے بھی تنز کے تیر چلا لو، محبت رکے گی نہیں۔”
وہ ایک قدم قریب آیا، مگر پھر خود ہی رک گیا، شاید اس کی ہچکچاہٹ بھی اسی کی طرح زخمی تھی۔
“میری محبت کو پیمانے سے مت ناپو… پیمانے کم پڑ جائیں گے۔ سب کچھ جھوٹ ہو سکتا ہے، مگر آریان خان کی محبت نہیں۔ شکوہ تم سے نہیں… ہمارا کردار ہی مشکوک تھا تمہاری نظر میں۔”
پھر جیسے دل کے کسی گوشے سے لفظ خود بہہ نکلے
“کبھی لفظ بھول جاؤں کبھی بات بھول جاؤں
تجھے اس قدر چاہوں کہ اپنی ذات بھول جاؤں
اٹھ کر کبھی جو تیرے پاس سے چل دوں
جاتے ہوئے خود کو تیرے پاس بھول جاؤں
کیسے کہوں تم سے کہ کتنا چاہا ہے تمہیں
اگر میری جان یہ کہنے پہ آؤں تو الفاظ بھول جاؤں”
آریان نے گہری سانس لی، جیسے فیصلہ دل سے نکال کر زبان پر رکھ رہا ہو۔
“میں نے ہار نہیں مانی، عبیرہ… اور نہ کبھی مانوں گا۔ جب تمہارے دل کو یقین آ جائے… میں ہر موڑ پر تمہیں تمہارے ساتھ ہی ملوں گا۔ تم سے دور رہنا میرے بس میں نہیں۔”
“تمہارے دل کی حسرت ہے کہ تم مجھ سے دور چلی جاؤ،
میرے دل کی حسرت ہے کہ تم ہمیشہ میرے پاس رہو۔۔۔
ہوگا وہی جو میرا دل چاہتا ہے، تم میری تھی، میری ہو اور ہمیشہ میری ہی رہو گی۔
تم مجھ سے نفرت کرو یا محبت، تم ہمیشہ میری پناہوں میں رہو گی۔۔۔”
وہ نرمی سے کہتے ہوئے عبیرہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامے، اسے آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتے ہوئے ہوٹل کے اندرونی راستے کی جانب لے جا رہا تھا۔
آریان عبیرہ کو سکاٹ لینڈ کے ایک مشہور اور مہنگے ہوٹل میں لے آیا تھا۔
گھر سے نکلے کافی دیر ہو چکی تھی، اور اب ارادہ لنچ کرنے کا بن چکا تھا۔ ہوٹل کے نام سے ہی معلوم تھا کہ یہ جگہ کتنی شاندار اور مہنگی ہے۔
سکاٹ لینڈ کے مشہور ہوٹلز (Luxury boutiques)
میں اس کی خاص بات یہ تھی کہ یہاں کھانے کے ساتھ شاپنگ بھی ممکن تھی، اور آریان نے آج عبیرہ کو شاپنگ کے لیے بھی یہاں لانے کا فیصلہ کیا تھا۔
عبیرہ کو خود پر شرمندگی ہوئی کہ اس نے اپنی بیوی کی ضروریات کا خیال نہیں رکھا۔
وہ ایک دو بار اپنا ہاتھ آریان کے ہاتھ سے نکالنے کی کوشش بھی کر رہی تھی، مگر آریان کی مضبوط گرفت کے آگے وہ ناکام رہی۔
ہوٹل کے اندر لوگوں کا ہجوم تھا، اس لیے عبیرہ نے مناسب سمجھا کہ زیادہ ردعمل نہ دے اور خاموشی سے اس کے ساتھ چلتی ہوئی لفٹ میں آ کر کھڑی ہو گئی۔
ہوٹل اوپر کی منزل پر تھا، جبکہ نیچے شاپنگ سینٹر۔
پہلے وہ کھانا کھانا چاہتا تھا، کیونکہ بھوک نے پیٹ میں سخت بے چینی پیدا کر دی تھی۔
عبیرہ اور آریان ابھی لفٹ میں داخل ہوئے ہی تھے کہ ان کے پیچھے تین لڑکے لفٹ میں آئے، جن کے انداز اور لباس سے لگ رہا تھا کہ وہ کچھ شرارتی اور شور مچانے والے ہیں۔ بازوؤں پر ٹیٹو بنے ہوئے تھے اور نظریں کچھ بھوکے کتے جیسی تیز تھیں۔
جیسے ہی وہ لفٹ میں داخل ہوئے اور دروازہ بند ہوا، عبیرہ اچانک گھبرا گئی۔
پتہ نہیں ان لڑکوں کی نظروں میں ایسا کیا تھا کہ وہ بے اختیار پلٹ کر آریان کے سینے سے لگ گئی۔
آریان خان نے دونوں ہاتھ اس کی کمر پر رکھے،اور نرمی سے سہلایا۔
“ریلیکس ہو،میں ہوں یہاں ۔۔۔پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔”
بڑے پیار سے کہا، اپنے ساتھ لگائے کھڑا، جیسے کوئی اپنے بچے کو حفاظت کا احساس دلا رہا ہو۔
آریان خان نے گھور کر ان لڑکوں کی جانب دیکھا، تو وہ نظریں جھکاتے ہوئے ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگے۔
چند لمحوں بعد لفٹ کا دروازہ کھلا اور لڑکے آریان اور عبیرہ سے پہلے نکل گئے، اور عبیرہ نے آہستہ سانس لیتے ہوئے اپنی گرفت تھوڑی کم کی۔
“چوہیا، ریلیکس ہو جاؤ، میرے سامنے تو شیر بن کر آنکھیں دکھاتی ہو، کیا ہو گیا تھا؟”
آریان نے نرمی سے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے کہا۔”وہ لوگ جا چکے ہیں۔۔۔”
آریان نے ہلکے سے آئی برو کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“ڈارلنگ، رومینس کا موڈ ہے، تو گھر واپس چلیں؟”
وہ شرارتی انداز میں سرگوشی کر رہا تھا۔
عبیرہ نے گھبرا کر اس کی جانب نظریں اٹھائیں۔
“سس۔۔ سوري۔۔۔”
عبیرہ شرمندہ سی ہو کر پیچھے ہٹ گئی۔وہ اپنی حرکت پر خود ہی شرمندہ سی ہو گئی ۔
“سوری کی ضرورت نہیں، مجھے تو اچھا لگا، میری بیوی نے مجھے اپنا محافظ سمجھا۔۔۔”
آریان نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھامے، لفٹ سے باہر قدم رکھا۔
ہوٹل بہت خوبصورت تھا، اور آریان خان شاید اکثر یہاں آتا رہا تھا، اس لیے سٹاف اسے دیکھ کر پہچانتے اور بہت احترام کے ساتھ پیش آ رہا تھا۔
آریان عبیرہ کو لے کر ایک خوبصورت ٹیبل پر بیٹھ گیا۔
اس نے عبیرہ کے سامنے مینو کارڈ رکھا، مگر عبیرہ نے نفی میں سر ہلایا، یعنی وہ کچھ بھی آرڈر نہیں کرنا چاہتی تھی۔
آریان نے خود سے کافی کچھ آرڈر کر دیا۔
دونوں نے خوبصورت ہوٹل کے ماحول سے لطف اٹھاتے ہوئے کھانا کھایا، اور عبیرہ وہاں کے ماحول کو غور سے دیکھ رہی تھی۔
وہ کافی دنوں بعد باہر آئی تھی، جیسے کسی قید سے آزاد ہوئی ہو۔
اسے باہر کا ماحول بہت اچھا لگ رہا تھا، مگر کچھ لڑکیوں نے ایسی ڈریسنگ کی تھی کہ عبیرہ شرم سے نظریں نہیں اٹھا پا رہی تھی۔
اس کے لالی زدہ گال دیکھ کر آریان کو ہنسی آ رہی تھی،
“یہ کلچر ہے یہاں کا… تم ایزی فیل کرو۔”
آریان نے نرمی سے کہا۔ رفتار بھی دھیمی رکھی تاکہ عبیرہ گھبرا نہ جائے۔
عبیرہ نے ارد گرد نظر دوڑائی۔
کچھ لڑکیاں چھوٹے سے ٹاپ میں، کچھ گھٹنوں سے اوپر اسکرٹس میں، کچھ نے تو ایسے کپڑے پہن رکھے تھے جیسے کپڑا کم اور ہوا زیادہ ہو۔۔۔
چال ڈھال بھی ایسی جیسے پورا ہوٹل انہی کو دیکھنے آیا ہو۔
عبیرہ کا ماتھا ایک لمحے میں ہی تیور بدل کر تیخا ہو گیا۔
وہ آریان کی طرف جھک کر آہستہ مگر غصے سے بولی۔۔۔۔
“لعنت بھیجو ایسے کلچر پر، جہاں کپڑے پہننے کا بھی ڈھنگ نہیں ہے عبث سا فیشن اور بے حیائی کو سٹائل کہتے ہیں۔۔۔”
آریان نے اس کی بات سن کر ہنسی روکنے کی ناکام کوشش کی، پلکیں نیچی کرتے ہوئے سر ہلایا۔۔۔
“چوہیا تم بس اپنی آنکھیں میری طرف رکھو، باہر دیکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے”
وہ شرارتی سے انداز میں بولا مگر لہجے میں ایک عجیب سا پیار اور سادگی تھی۔۔۔
═══════❖═══════
کمرے میں مدھم سی لائٹ جل رہی تھی۔ یارم تیز قدموں سے آگے پیچھے ٹہل رہا تھا۔ اس کے قدموں کی آواز فرش پر ایک بے چینی کے ساتھ گونج رہی تھی۔ وہ بار بار اپنی سانس سنبھالنے کی کوشش کرتا مگر غصہ جیسے لفظ بن کر باہر آنے کو تیار کھڑا تھا۔
دروازہ آہستہ سے کھلا تو ایزل پرسکون چہرے کے ساتھ اندر آئی، جیسے اسے پہلے ہی اندازہ ہو کہ طوفان کس شدت کا ہے۔
یارم ایک دم رکا، تیزی سے پلٹا اور بغیر کچھ سوچے آگے بڑھا۔
اس نے ایزل کا بازو تھاما اور اسے دیوار کے ساتھ روک لیا۔
،،کیا تھا یہ سب جو تم نے نیچے کیا؟،،
اس کے لہجے میں سختی تھی، مگر کہیں اندر گھبراہٹ بھی چھپی ہوئی تھی۔
ایزل نے اس کی آنکھوں میں سیدھا دیکھتے ہوئے بے ساختہ کہا۔
،،کک کیا ہو گیا ہے آپ کو… بغیر کسی وجہ کے آپ کا دماغ انجن اتنا گرم کیوں ہو جاتا ہے ڈی ایس پی صاحب؟،،
یارم کی گرفت لمحہ بھر کو اور سخت ہو گئی۔
جس طرح اس نے پکڑا، کسی اور لڑکی ہوتی تو آنسو نکل آتے، مگر یہ ایزل تھی… وہ ذرا بھی نہیں ہلی۔ چہرے پر وہی دلیری… وہی اپنی سی بے فکری۔
،،تمہیں شرم نہیں آتی؟ نیچے تمہاری وجہ سے میں بابا سے سیدھی بات نہیں کر پایا۔ تم اپنی بچگانہ حرکتوں سے باز کیوں نہیں آتیں؟؟،،
وہ غصے سے جھکتے ہوئے بولا۔
ایزل نے ہونٹ پھولاتے ہوئے جواب دیا۔
،،کیونکہ آپ… وہ حرکتیں نہیں کرتے… اس لیے مجھے مجبوراً کرنی پڑتی ہیں،،
یارم نے نظریں تنگ کیں، جیسے اسے یقین نہ آیا ہو کہ یہ لڑکی اب بھی اسی بے ساختگی سے جواب دے رہی ہے۔
ایزل نے آہستہ سے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا جو اب بھی یارم کی گرفت میں تھا، پھر نرم لہجے میں بولی۔
ایزل
،،اور ویسے… آپ جتنا غصہ کرتے ہیں نا… اتنے برے نہیں ہے ،،
یارم کی سانس ذرا دھیمی ہوئی۔
اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی مگر نظر ابھی تک ایزل سے نہیں ہٹی تھی۔
غصے کی جگہ اب کچھ اور آ کر ٹھہر گیا تھا… شاید حیرانی… شاید بے بسی… شاید وہ احساس جو وہ خود بھی ماننا نہیں چاہتا تھا۔
یارم نے گہری سانس لی اور جھنجلاہٹ بھری آواز میں بولا
،،تمہیں پتہ ہے کہ تم لاعلاج ہو۔ تمہارا کوئی علاج نہیں۔‘‘
ایزل نے فوراً چہرہ اٹھایا، جیسے یہی جملہ سننے کا انتظار تھا۔
،،مجھے بہت اچھی طرح سے پتہ ہے کہ میرا کوئی علاج نہیں… بس آپ ہی ہر بار نئی نئی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔‘‘
وہ شرارت سے مسکرائی
،،ڈی ایس پی صاحب، ہار تسلیم کر لیں… میرا کوئی علاج نہیں۔‘‘
اس کی آنکھوں کی سیدھی، بے جھجک نظر… اس کی مسکراہٹ… دھیرے دھیرے یارم کی برداشت کو چکھنے لگی۔
،،ڈسکسٹنگ… کوئی اتنا ڈھیٹ کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘
اس کا لہجہ سخت تھا
،،جسے اپنی عزتِ نفس کا بھی خیال نہ رہے… میرے اتنے تلخ الفاظ بھی تم پر اثر نہیں کرتے۔ ضرورت سے زیادہ بے پروا ہو تم…‘‘
“اگر یہ بات کوئی اور کہتا… ایزل کی اسکی جان لے لیتی اور ایسا جواب دیتی کہ سننے والے کے ہوش اڑ جاتے۔
ایسے تیکھے الفاظ بولتی کہ اگلی بار کوئی سوچ کر بھی ایزل کو بے شرم کہنے کی ہمت نہ کرتا۔
مگر سامنے یارم خان تھا…
اس کے لفظ کتنے بھی کڑوے کیوں نہ ہوتے… ایزل کے چہرے پر تلخی نہیں آئی، صرف نرمی اترتی گئی۔
ایزل نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نرمی سے کہا
،،یہ بات آپ کے سوا کوئی اور کہتا تو میں اس کا منہ توڑ جواب دیتی۔ایسا جواب دیتی کہ۔ لوگ کانوں پر ہاتھ رکھ لیتے… مگر کچھ لوگ زندگی میں اس قدر عزیز ہوتے ہیں کہ ان کی کڑوی باتیں بھی میٹھی لگتی ہیں… جانتے ہیں کیوں؟‘‘
وہ لمحہ بھر رکی، آنکھوں میں سچائی کی چمک تھی
،،کیونکہ دل میں ان کے لیے محبت ہوتی ہے۔ بہت سی۔ ان کے کڑوے لفظ بھی دل کی محبت لپیٹ کر نرم کر دیتی ہے۔‘‘
یارم نے نظریں جھکائیں۔ ایزل بولتی رہی
،،آپ میرے لیے کیا ہیں… یہ میں لفظوں میں نہیں بتا سکتی۔ مگر میں آپ کے لیے کیا ہوں… وہ آپ روز مجھے جتاتے ہیں۔‘‘
کمرے کی فضا تھم گئی۔
ایزل آخری جملہ پورے ٹھہراؤ کے ساتھ بولی
،،اب دیکھتے ہیں… آپ کی لاپرواہی اور ناپسندیدگی جیتتی ہے… یا میری محبت۔
اس کے لہجے میں وہی سکون… وہی اعتماد… جیسے اسے اپنے دل کی طاقت پر پورا یقین ہو۔
یارم کا غصہ جیسے دھویں کی طرح ہوا میں تحلیل ہونے لگا۔
وہ اس سچائی، اس بے خوف محبت، اس اعتماد سے انکار نہیں سکتا تھا۔
ایزل نے ہلکی سی سانس لے کر پرسکون لہجے میں کہا
،،اور کچھ نہیں کہیں گے؟ بس اتنا ہی تھا آپ کا غصہ؟‘‘
،،میں نے تو اس سے کہیں زیادہ کی امید رکھی تھی۔‘‘کی آواز میں نرمی تھی مگر چھیڑ بھی تھی۔
یارم ایک لمحے کو جیسے جم سا گیا۔
اگلے ہی پل اس نے نظریں چرائیں، موبائل جیب سے نکالا اور خود کو مصروف دکھانے لگا۔
جیسے اس کی باتوں نے دل کے اندر کہیں ہلچل مچا دی ہو اور وہ اسے چھپانے کی کوشش کر رہا ہو۔
اس کے پاس جواب نہیں تھا۔
کہنے کو کچھ نہیں تھا۔
ایزل نے پیچھے ہٹنے کے بجائے ایک قدم اور قریب آ کر اس کی پشت کے پاس رک گئی۔
آہستہ سے اپنے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر باندھ کر کھڑی ہو گئی، جیسے وہ اس کی خاموشی کو بھی پڑھ رہی ہو۔
فضا ایک لمحے کو ٹھہر گئی۔
یارم کی سانس تھوڑی بھاری ہوئی، مگر اس نے چہرہ نہیں موڑا۔
ایزل کی قربت… اس کی سکون بھری آواز… اور اس کے لفظ… سب مل کر یارم کے بچ جانے والے غصے کو بھی خاموش کرتے گئے۔
ایزل نے اس کے جملے سنے تو لمحہ بھر کو آنکھیں جھپکیں، جیسے اس کے الفاظ نے ایک ہلکی سی چبھن دی ہو۔
یارم نے آہستہ سے اس کے ہاتھ اپنے سینے سے ہٹائے اور تھوڑا سا پیچھے ہوا۔
اس کے لہجے میں سختی نہیں تھی، بس ایک تھکن سی، ایک سچائی تھی۔
“ایزل… مجھے اس طرح کی بچکانہ حرکتیں پسند نہیں ہیں۔
پلیز گریز کیا کرو۔
مجھے نہ تو تمہاری توہین کرنا اچھا لگتا ہے… اور نہ ہی میں اس مزاج کا انسان ہوں۔
پلیز… جتنا ہو سکے مجھ سے دور رہا کرو۔”
وہ یہ کہتے ہوئے نظریں چُرا گیا تھا۔
ایسا لگا جیسے وہ اپنے ہی کہے ہوئے جملوں سے خود بھی خوش نہیں تھا، مگر کہہ دینا ضروری سمجھتا تھا۔
ایزل نے اسے دیکھا… اس کا چھوٹا سا دل لمحے بھر کو جیسے سکڑ گیا ہو۔
وہ ہلکی سی تلخی کے ساتھ مسکرائی، مگر وہ مسکراہٹ اندر سے ٹوٹی ہوئی تھی۔
“آپ مجھے دور رکھنا چاہتے ہیں… ٹھیک ہے۔
مگر ایک بات کان کھول کر سن لیں ڈی ایس پی صاحب…
جو لوگ دل کے اندر جگہ بنا لیتے ہیں نا، ان کو دل سے نکال پھینکنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔”
اس کے لہجے میں سچائی کی کشش تھی کہ یارم کے چہرے پر پھیلی تھکن لمحے بھر کو ٹھہر گئی۔
ایزل کے انداز میں کوئی بے باکی نہیں تھی، صرف اعتماد اور سچائی تھی۔ وہ اس کے سامنے آ کر رکی اور دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھے، بالکل سنجیدہ نگاہوں کے ساتھ۔
“آپ میری توہین کریں یا تذلیل… مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں آپ کی ہوں۔ آپ میرے ساتھ جیسا چاہیں رویہ رکھیں، یہ آپ کا حق ہے۔”
اس کی آواز میں کوئی لرزش نہیں تھی۔ یہ ایسی بات تھی جو کچھ لوگ برسوں میں بھی نہیں کہہ پاتے، اور وہ اسے ایک سانس میں کہہ گئی تھی۔
یارم نے نظریں ہٹانے کی کوشش کی، مگر ایزل کی نگاہوں میں عجيب ٹھہراؤ تھا۔ وہ نہ رو رہی تھی، نہ شکوہ کر رہی تھی، صرف اپنی بات پوری سچائی سے رکھ رہی تھی۔
ایزل نے ہاتھ پیچھے نہیں ہٹائے، مگر لہجہ مزید نرم ہو گیا۔
“سب سے پہلے اپنی عزت کرو۔ باقی سب رشتے بعد میں آتے ہیں…”یارم سخت لہجے میں بات کرنا چاہتا تھا مگر نہیں کر سکا۔
کمرے میں چند لمحے خاموشی چھا گئی۔
ایزل کے ٹھہرے ہوئے لہجے نے اس کے غصے کی آگ بجھا دی تھی۔ وہ جو ضد اس کے چہرے پر تھی، آہستہ آہستہ پگھلنے لگی۔
یہ لمحہ رومان نہیں تھا…
دو سچائیوں کا سامنا تھا۔
اور آج ایزل پھر سے جیت گئی تھی…
بغیر شور کیے۔
ایزل چند لمحوں تک اسے دیکھتی رہی۔ یارم اس کی نظروں سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر نظر نہیں بچ سکی۔
“آپ نے کہا میں اپنی عزت کروں؟ میں اپنی عزت کرتی ہوں۔” اس نے آہستہ اور صاف لہجے میں کہا۔
“اب صرف اتنا چاہتی ہوں کہ آپ بھی مجھے ایمانداری سے دیکھیں۔ شاید کبھی آپ کے دل میں میرے لیے وہ جگہ بن جائے جس کا میں انتظار کرتی ہوں۔”
ایزل… محبت کوئی زبردستی یا خیرات میں دینے والی چیز نہیں ہوتی۔۔۔ محبت جن سے ہونی ہوتی ہے اپنے آپ ہو جاتی ہے…
یارم کا لہجہ اسے سمجھانے والا تھا… نہ زیادہ سخت نہ زیادہ نرم، بس اتنا کہ وہ بات دل میں اُتر جائے۔
“اوریہ بات مجھ سے بہتر کون جانتا ہے؟ مجھے آپ سے محبت ہونی تھی، اور ہو گئی، وہ بھی پہلی نظر میں۔ایزل کی نگاہوں میں محبت اور سچائی کی جھلک تھی، جو یارم خان بخوبی سمجھ رہا تھا۔
آج پہلی بار یارم کو اپنے آپ پر شرمندگی محسوس ہوئی، کیونکہ وہ جان رہا تھا کہ کہیں نہ کہیں وہ اس لڑکی کے ساتھ انصاف نہیں کر رہا۔
اگر اسے عبیرہ کی محبت نٹہ ملی، تو اس میں اس لڑکی کا کوئی قصور نہ ہوتا، پھر یہ سب کچھ وہ برداشت کیوں کر رہی تھی؟
وہ بار بار اس کے قریب آ کر چھوٹی چھوٹی شرارتیں کر کے، اپنے شوہر کی محبت اور توجہ طلب کر رہی تھی۔
اگر وہ چاہتی، تو یہ سب کچھ بلند آواز میں بیان کر سکتی تھی کہ اس کا کوئی قصور نہیں، پھر بھی اسے سزا کیوں دی جا رہی ہے؟ وہ سب کچھ ظاہر کیے بغیر، خاموشی سے برداشت کر رہی تھی۔
، وہ اپنے رشتے کو سنبھالنے میں اپنی عمر سے کہیں زیادہ سمجھدار نظر آ رہی تھی۔
کچھ دیر خاموشی رہی۔ یارم صرف اسے دیکھتا اور سوچتا رہا، پھر لب ہلے، اور کچھ کہنا چاہا۔
“ایزل، پلیز مجھے تھوڑا سا وقت دو۔۔۔”
آج یارم نے پہلی بار یہ الفاظ کہا تھے، اور ایزل کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ یارم اس سے محبت کے لیے وقت مانگ رہا ہے۔ یارم کے عشق میں ایزل مکمل طور پر مسحور ہو چکی تھی، دل اس کی محبت سے جھوم رہا تھا۔
“جتنا چاہے وقت لے لو، ایزل بھی آپ کی ہے اور ایزل کا سارا وقت بھی آپ کا ہے۔۔۔”
اس کے لہجے میں خوشی اور اطمینان کی ہلکی سی کانپن تھی، آنکھیں چمک رہی تھیں، اور ہونٹوں پر مختصر مگر پُر اثر مسکراہٹ تھی۔
“بہت شکریہ۔۔۔”
پھر میں تیاری کروں، آپ کے ساتھ چلنے کی؟
وہ فوراً اپنا چینل چینج کرتے ہوئے بولی، اور پلکیں ہلکی سی شرارت کے ساتھ جھپک رہی تھیں۔
“ہمم۔۔۔ کرو، لے جانا تو پڑے گا۔
میرے چاہنے یا نہ چاہنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ جب بابا کا حکم ہے تو میں کیا کر سکتا ہوں؟”
اس کے لہجے میں ہلکی ضد اور مزاح دونوں محسوس ہو رہے تھے، لیکن آنکھوں میں نرمی تھی۔
“پریشان نہ ہو، آپ کو مجھے لے جا کر کوئی افسوس نہیں ہوگا، میں آپ کے کھانے، پینے، نہانے دھونے، ہر چیز کا خیال رکھوں گی۔۔۔”
وہ انگلیوں پر گناتے ہوئے، خوشی کے چھوٹے چھوٹے اشارے دے کر بول رہی تھی، ہر لفظ اس کے دھیما مگر یقین بھرا تھا۔
“نہیں، تھینک یو سو مچ، میں خود نہا دھو لیا کرتا ہوں۔
کھانے پینے کا خیال رکھ لیا کرنا اتنی ہی مہربانی ہوگی۔۔۔”
“چھی۔۔۔ میرے کہنے کا مطلب یہ نہیں تھا۔۔۔”
آج پہلی بار ایزل کو یارم کی بات پر شرم آئی تھی۔ دل کی دھڑکن تیز تھی، لیکن وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اندرونی خوشی محسوس کر رہی تھی۔
ایزل دل میں بہت خوش تھی کہ وہ یارم کے ساتھ جا رہی ہے، جبکہ یارم اس وقت اپنے جذبات، سوچوں اور انصاف کے بیچ میں گرا ہوا تھا۔ وہ ایزل کو اس وقت کچھ نہیں دے سکتا تھا کیونکہ اپنی ساری محبت تو وہ عبیرہ کے نام کر چکا تھا۔
یارم اس وقت ایزل کو اسلام آباد اپنے ساتھ لے جانے کے حق میں نہیں تھا۔ وہ اپنے رشتے کو وقت دینا چاہتا تھا، اسی لیے اپنا ٹرانسفر اسلام آباد کروایا تھا۔
اب تو چاہ کر بھی وہ انکار نہیں کر سکتا تھا، کیونکہ اس کے بابا جان کا حکم تھا، تو یارم کے لیے انکار کرنا ممکن ہی نہیں تھا۔
اور نہ ہی یارم ایزل کو خود سے دور رکھنے کے لیے اس سے زیادہ تکلیف دینے کی ہمت رکھتا تھا۔
جتنا اس لڑکی کو ٹارچر کیا گیا تھا، اس سے زیادہ کرنے کی اس میں ہمت نہیں تھی، کیونکہ اس کا انصاف پسند دل بار بار یہ گواہی دے رہا تھا کہ لڑکی کا تو کوئی قصور نہیں ہے۔
“میں آپ کے لیے ناشتہ روم میں لے کر آؤں؟
آپ نے ناشتہ نہیں کیا۔۔۔”
ایزل محبت سے بولی، تو یارم انکار نہیں کر سکا، کیونکہ ابھی ابھی تو اس نے اپنے دل سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی طرف سے اس رشتے کو نبھانے کی پوری کوشش کرے گا۔
“ہمم، لے آؤ۔۔۔”
آج دس دن بعد دونوں کے درمیان یہ پہلی تھوڑی سی نارمل بات ہوئی تھی۔
“میں ابھی لے کر آتی ہوں۔۔۔”
ایزل چہکتی ہوئی روم سے گئی۔
وہ بھی تو یارم کے سب کام اپنے ہاتھوں سے کرنا چاہتی تھی، نارمل کپل کی طرح اس کے ساتھ رہنا چاہتی تھی، یار بھری باتیں کرنا چاہتی تھی، اور اسی لیے وہ یارم کے کڑے الفاظ بھی دل سے قبول کر رہی تھی۔آج یارم کی ذرا سی توجہ پا کر وہ کس قدر خوش ہو کر گئی تھی یہ تو یار ہم خود دیکھ چکا تھا۔
═══════❖═══════
“کیا کہا تم نے؟ آریان سکاٹ لینڈ میں ہے؟”
روشانے کے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا، دل تیز دھڑک رہا تھا۔۔۔
“آہستہ بات کرو، اگر کسی نے سن لیا تو سب خراب ہو جائے گا۔۔۔”
پریشے کی آواز میں سنجیدگی اور ایک خفیہ ہنر چھپا ہوا تھا۔
“آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا، کہ اگر میں آریان کے بارے میں بتاؤں گی تو بدلے میں آپ ہمیشہ کے لیے میرا رشتہ ختم کروائیں گے۔ اپنا وعدہ یاد رکھنا۔۔۔”
پریشے نے ایک ہی سانس میں سب کچھ بول دیا، آج اس نے صرف اسی لیے فون کیا تھا۔۔۔ آریان خان کی خبر دینے کے لیے۔
“مجھے اپنا وعدہ یاد ہے، بس تم بتاؤ، خبر سچ ہے؟ آریان واقعی سکاٹ لینڈ میں ہے؟”
“اگر خبر جھوٹی ہوئی تو پریشے، مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔۔۔”
روشانے کی آنکھوں میں دھمکی اور حیرت دونوں جھلک رہے تھے۔۔
“نیوز سو پرسنٹ سچ ہے۔ پورا پتہ لگانے کے بعد ہی میں نے آپ کو بتایا۔۔۔”
“اس کے گھر کا ایڈریس بھی نکلوا لیا ہے، اور یہ کام آسان نہیں تھا۔”
پریشے کی آواز میں غرور اور خود اعتمادی صاف سنائی دے رہی تھی۔
“اب مجھے اس کا پورا پورا انعام چاہیے، جو میں چاہتی ہوں۔۔۔”
“پریشے، تم جو چاہتی ہو وہ ہو جائے گا۔۔۔ مگر تھوڑا صبر رکھو، ہر بات میں جلد بازی مت کرو۔۔۔”
“تم اچھی طرح جانتی ہو کہ ہمارے خاندان میں رشتہ توڑنے کو بھی انا کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔۔۔”روشانے نے ہلکی جھنجلاہٹ اور فکر کے ساتھ کہا،
“میں جانتی ہوں، مگر مجھے نہیں پتہ کہ آپ اس رشتے کو کیسے ختم کروائیں گے۔۔۔”
پریشے کی آواز میں بے صبری اور عزم دونوں جھلک رہے تھے۔
“میں نے آپ کو اتنی بڑی نیوز بتائی ہے، اور مجھے اس کا پورا انعام چاہیے۔۔۔”
پھر اس نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے دھیرے مگر شدید انداز میں کہا،
“اب آپ جلد از جلد اپنے لاڈلے بھتیجے کے پاس پہنچ جائیں، اس سے پہلے کہ وہ یہاں سے بھی چھومنتر ہو جائے۔۔۔”
“نہیں… نہیں، تمہیں اس پر نظر رکھنی ہے۔۔۔
میں پوری کوشش کروں گی کہ آج رات کی فلائٹ سے ہی نکل پڑوں، نہیں تو پھر کل تو کنفرم ہے۔۔۔
پلیز، میری خاطر اس پر نظر رکھنا، اور جو تم چاہتی ہو وہ ہو جائے گا، مگر اس کے لیے مجھے تھوڑا سا ٹائم دو۔۔۔”
روشانے اپنے مطلب کے لیے پریشے کو جھوٹی تسلی دے رہی تھی، مگر اچھی طرح جانتی تھی کہ پریشے اور آریان خان کا رشتہ تڑوانا اس کے بس کی بات نہیں۔ ان کے خاندان میں اپنی منگنی چھوڑنا ایسے تھا جیسے موت کو گلے لگانا ہو۔۔۔
اگر وہ پریشے کو رشتہ تڑوانے کا جھانسا نہ دیتی، تو آریان خان کی خبر کبھی نہیں مل سکتی تھی۔ کافی دنوں سے روشانے کھوج میں لگی ہوئی تھی کہ آخر آریان گیا تو گیا کہاں۔۔۔
فون بند کرنے کے بعد روشانے نے اپنے کاغذات اکٹھے کیے اور اپنی ٹکٹ کا بندوبست کرنے لگی۔ اسے ہر حال میں آریان تک پہنچنا تھا، اور عبیرہ کو سزا دینی تھی، جس کی ماں کی وجہ سے اس کا گھر تباہ ہوا تھا۔۔۔
جب سے روشانے نے تبریز خان کو اپنے سامنے دیکھا تھا، اسے گزرے ہوئے سب لمحے یاد آ رہے تھے، وہ لمحات جب تبریز خان اسے اپنی پلکوں پر بٹھا کر رکھتا تھا۔ کتنی خوشحال زندگی تھی ان کی، جسے روشانے نے اپنے ہاتھوں سے تباہ کر دیا تھا۔۔۔
مگر آج بھی وہ عروب کو قصوروار مانتی تھی، اور عروب کے کیے کی سزا اس کی بیٹی کو دینے، دشمنی کی بھینٹ عبیرہ پر چڑھانے کے عزم کے ساتھ، وہ سکاٹ لینڈ جا رہی تھی۔۔۔
═══════❖═══════
Ye qist novel “Saleeb Sukoot” ki aik qist hai.Mukammal aur agli qist ke liye category “Saleeb Sukoot” dekhein.Nai qist har Itwaar shaam 8:00 baje publish hoti hai.