Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode:23

صلیب سکوت
از حیات ارتضیٰ S. A
قسط نمبر:23
═══════❖═══════

آج آریان نے عبیرہ کے بار بار منع کرنے پر بھی اسکے لیے بہت ساری شاپنگ کی تھی۔ کافی دنوں کے بعد گھر سے نکلنے کے بعد عبیرہ بہت تھکن محسوس کر رہی تھی۔۔۔
ایک دماغ میں افسوس الگ تھا کہ شاپنگ کے چکر میں ،اس ںنماز بھی قضا ہو گئی تھی، اس لیے اس نے عشاء کی نماز کے ساتھ قضا نمازوں کو ادا کیا، جس میں کافی وقت لگ گیا۔بھوک تو ویسے ہی دونوں کو نہیں تھی۔کیونکہ کھانا تو دونوں کھا کر آئے تھے۔نماز سے فارغ ہو کر جیسے ہی وہ کمرے میں آئی تو دیکھا کہ آریان گہری نیند میں سو رہا تھا۔

شاید وہ بھی تھک گیا تھا۔ اس طرح شاپنگ کرنے کی عادت اس کو نہیں تھی، اس لیے بیڈ پر لیٹتے ہی اس کی نیند نے اسے لپیٹ لیا۔۔۔
آریان نے کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ میک اپ کا سامان، ڈریسز، جوتے، جیولری، سب کچھ عبیرہ کے لیے خرید کر دے دیا۔ عبیرہ کچھ خریدنا نہیں چاہتی تھی سوائے کپڑوں کے، مگر آریان نے دل کھول کر خرچ کیا تھا۔
عبیرہ نے ایک نظر سوئے ہوئے آریان خان پر ڈالی، پھر سوچتے ہوئے شاپنگ بیگ سے ایک کیجول سا ڈریس نکالا۔ کافی دن ہو گئے تھے اس کے لڑکیوں جیسے کپڑے پہننے کو۔ دل چاہ رہا تھا ۔آریان خان کی لمبے چوڑے ٹراؤزر شرٹ پین پہن کر وہ تھک چکی تھی۔
ایک کیجول سا لائٹ کلر کا سوٹ نکالا اور اسے پہن کر ڈریسنگ روم کے مرر میں خود کو دیکھا عبیرہ کے چہرے پر خوشی کھل اُٹھی، دل میں نرم سی راحت محسوس ہوئی۔

لائٹ آف کر کے لیمپ جلاتی ہوئی وہ بیڈ کی ایک سائیڈ پر لیٹ گئی۔ آریان خان شاید بہت تھکا ہوا تھا، اس لیے بےترتیب سو رہا تھا۔ اس کی وجہ سے بیڈ پر عبیرہ کے لیے جگہ بہت کم بچی تھی۔ چھوٹی سی جھنجلاہٹ دل میں محسوس ہوئی، مگر وہ خاموش رہی۔
وہ اتنی انکمفرٹیبل لیٹی ہوئی تھی کہ اگر ذرا سا بھی نیند میں ہلتی تو بیڈ سے نیچے گر جاتی۔ دوسری جانب، اگر زیادہ حرکت کرتی تو آریان خان کی نیند خراب ہو جاتی۔
خود کو کنارے سے لگائے ہوئے تسلی دیتی ہوئی کہ کچھ نہیں ہوگا، اور آنکھیں بند کیے ہوئے سو گئی۔۔۔

کمرے کی خاموشی میں صرف آریان کی گہری سانسوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ عبیرہ نے ہلکی سی ہچکچاہٹ محسوس کی، یہ جان کر کہ اگر وہ زیادہ حرکت کرتی تو دونوں کے لیے صورتحال پیچیدہ ہو سکتی تھی۔
وہ ایک طرف جم کر لیٹھی، ہاتھ اور پیر محتاط انداز میں بیڈ کے کنارے کے قریب رکھے، سونے کی کوشش کر رہی تھی۔بیڈ پر جگہ بہت محدود تھی، سونے کی کوشش کے باوجود بھی اسے نیند تو نہیں آرہی تھی۔

“ایسی بھی کیا بے رخی ہے کہ آواز دے کر شوہر کو جگہ دینے کے لیے نہیں بول سکتی، مگر فرش پر گر کر ہڈیاں تڑوانا منظور ہے۔
آریان جو پوری طرح جاگ رہا تھا، اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ، آنکھوں میں نرم سا انداز، جیسے عبیرہ کی شرمیلی حرکت اور محتاط انداز دونوں کو محسوس کر رہا ہو۔

“مطلب آپ سونے کی ایکٹنگ کر رہے تھے۔ عبیرہ نے رخ پلٹ کر ایک نظر دیکھا اور خفاسی ہو کر ایک اٹھ کر بیٹھ گئی۔
“ڈرامہ نہیں کر رہا تھا، سچ میں تھوڑی سی نیند آ گئی تھی۔ مگر جب تم کمرے میں آئی،میری آنکھ کھل گئی تھی۔
“محترم بیوی صاحبہ، اب تک اتنا تو تمہیں پتہ چل جانا چاہیے کہ جب تک تم روم میں نہیں آتیں، میں نہیں سوتا…”
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ نظریں عبیرہ کے نکھرے سے روپ پر جم گئیں،لیمپ کی مدھم لائٹ کے نیچے اس کا لائٹ سے کلر کا فل ڈریس اس پر بہت سوٹ کر رہا تھا۔
“مجھے نہ تو آپ کو جاننے کا کوئی شوق ہے، نہ ہی کوئی ضرورت۔۔۔”
عبیرہ کا لہجہ ٹھنڈا اور روکا ہوا تھا، ہر لفظ صاف لیکن احساسات سے خالی۔

آریان خان نے گہری سانس لیتے ہوئے اپنے پیچھے سے ایک تکیہ نکالا اور گود میں رکھ لیا۔ وہ اپنے دونوں بازو اس پر رکھے، اور اپنی نظر عبیرہ کی جانب اٹھائی۔کمرے میں لیمپ کی نرم روشنی دونوں کے چہروں پر پڑ رہی تھی، عبیرہ کا لائٹ اور پیچ کلر مکسچر کا سوٹ ہلکے رنگ میں چمک رہا تھا، جبکہ آریان کا بلیک ٹراؤزر اور شرٹ کمرے کی دھندلی روشنی میں مضبوط اور خاموش اثر دے رہا تھا۔
بیڈ پر بیٹھے، دونوں ایک دوسرے کی موجودگی کو محسوس کر رہے تھے، الفاظ کے بغیر بھی خاموشی میں کشمکش اور تناؤ واضح تھا۔

“ہر وقت کڑوا بول بول کر تھکتی نہیں ہو تم۔۔۔”

“کیا کروں، مجبوری ہے کہ مجھے آپ سے بات کرنی پڑتی ہے، ورنہ اگر میرے بس میں ہو تو میں کچھ بھی نہ بولوں۔”
عبیرہ کا لہجہ وہی روکا ہوا، صاف مگر بالکل بے احساس تھا۔ چہرے پر کوئی تاثر نہیں، جیسے بس جتنا ضروری ہو اتنا ہی بول رہی تھی۔

آریان سامنے بیٹھا، تکیے پر بازو جمائے، اس کی بات سنتا رہا۔ لیمپ کی روشنی عبیرہ کے چہرے پر پڑ رہی تھی اور اس کے بالوں کے سائے ہلکے ہلکے رخسار پر لرز رہے تھے۔ آریان کی آنکھوں میں ایک پل کے لیے ناگواری سا تاثر آیا، پھر وہ دھیرے سے سانس چھوڑ کر اسے دیکھتا رہ گیا۔
کمرے کی خاموشی اور اس کا بے احساس لہجہ، دونوں کے درمیان فاصلے کو اور نمایاں کر رہے تھے۔

“بس کر دو یار… مجھ میں اور ہمت نہیں ہے کہ میں تمہاری ایسی کڑوی باتیں برداشت کروں… بس کر دو۔”

آریان کی آواز بھاری ہو گئی۔ وہ اب بھی تکیے پر بازو ٹکائے بیٹھا تھا مگر چہرے کی سختی ایک لمحے میں ٹوٹ گئی۔ اس نے نظریں نیچی کر کے سانس بھری، جیسے سارا دن کی تھکن ایک ساتھ اس پر آ گری ہو۔

لیمپ کی ہلکی روشنی میں اس کی بلیک شرٹ پر پڑتے سائے مزید گہرے دکھائی دے رہے تھے، اور عبیرہ کی بے تاثر آواز نے اس کے اندر کہیں دیر سے جمع الجھن کو چھیڑ دیا تھا۔

ایک لمحہ کو دونوں کے درمیان خاموشی پھیل گئی، ایسی خاموشی جو لفظوں سے زیادہ چبھتی ہے۔ آریان کا لہجہ ٹوٹا ہوا نہیں تھا، مگر تھکا ہوا ضرور تھا… جیسے وہ واقعی اب مزید برداشت نہیں کر پائے گا۔

“تو مت بلائیں مجھے… میں کیا کروں… میں بھی تو تھک گئی ہوں۔ جو آپ چاہتے ہیں، وہ مجھ سے نہیں ہو سکے گا۔ میں نفرت کرتی ہوں آپ سے… اور آپ محبت کے طلبگار ہیں…”
عبیرہ کے لفظ کمرے کی نیم روشن فضا میں ٹھہر گئے۔ اس کا لہجہ اب بھی روکا ہوا تھا مگر اس بار اس کی تھکن صاف محسوس ہو رہی تھی، جیسے وہ آخرکار وہ بات کہہ رہی ہو جو مدت سے دل میں دبی پڑی تھی۔
آریان نے آہستہ سے پلکیں اٹھائیں۔ لیمپ کی ہلکی روشنی اس کے چہرے پر پڑی تو اس کے تاثرات پوری طرح نمایاں ہو گئے
کوئی غصہ نہیں…
کوئی طنز نہیں…
صرف ایک گہرا، بے آواز سا دھچکا۔
وہ چند لمحے اسے دیکھتا رہا، جیسے اس یقین پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ عبیرہ نے اتنے سکون کے ساتھ اتنی تلخ بات کہہ دی۔ اس کے ہاتھ اب بھی تکیے پر ٹکے تھے مگر گرفت ڈھیلی پڑ گئی تھی۔

کمرے کی خاموشی اور عبیرہ کے ٹھنڈے جملے، دونوں نے مل کر آریان کے اندر ایک عجیب سی خالی جگہ بنا دی تھی۔
محبت مانگنے والا آدمی…
اور سامنے بیٹھی وہ لڑکی…
جو اسے دیکھ کر بھی اپنا دل سخت کیے بیٹھی تھی۔

        "مسز آریان خان… لفظوں میں تھوڑی شدت پیدا کرو۔ تمہارا یہ اعتراف کہ تم مجھ سے نفرت کرتی ہو، تمہارے لہجے سے میل نہیں کھا رہا۔ ایک خفیف سی مسکراہٹ آریان کے لبوں پر بکھر رہی تھی۔

عبیرہ اس سے نظر چراتے ہوئے رخ دوسری جانب کر کے لیٹ گئی۔
“نظریں پھیر لینے سے…. دل کے حالات خود سے نہیں چھپتے۔۔۔”
آریان کے لہجے میں وہی ہلکی سی شدت تھی،
وہ آہستہ سے تکیے پر کہنی ٹکا کر عبیرہ کی طرف دیکھتا رہا، جو کمفرٹر میں سمٹی پڑی تھی جیسے پورے وجود سے خود کو بند کر دینا چاہتی ہو، جیسے کوئی دروازہ ہے جس پر وہ اندر سے کنڈی لگا کر بیٹھی ہے۔

“چپ کیوں ہو؟” اس نے ہلکی آواز میں کہا۔
“جو کہہ رہی ہو، کیا تمہارا دل اس پر پورا یقین رکھتا ہے؟ کیا سچ میں تم مجھ سے نفرت کرتی ہو؟” آریان بھی شاید ٹھان چکا تھا کہ وہ اپنا جواب لیے بنا پیچھے نہیں ہٹے گا۔
عبیرہ نے آنکھیں زور سے بند کر لیں۔
“پلیز… سو جائیں۔ مجھے نیند آ رہی ہے۔ میری فجر کی نماز قضا ہو جائے گی۔”
اس کی آواز تھکی ہوئی تھی، جیسے کسی نے بار بار ایک ہی جگہ چوٹ ماری ہو۔

آریان نے اس کے الفاظ سنے، مگر اس کے انداز کو زیادہ غور سے دیکھا۔
“یہ اچھا ہے…” وہ مدھم سی ہنسی کے ساتھ بولا، “جب جواب نہ دینا پڑے تو نظریں چرا کر سو جاؤ.”

اس کے بعد کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ صرف سانسوں کی مدھم آواز باقی رہ گئی تھی۔

آریان نے کمبل کے کنارے کو انگلیوں سے چھوا ذرا سا جھک کر اس کے چہرے کو دیکھا۔
“چلو… دیکھتے ہیں کب تک جھوٹ کے پیچھے چھپتی رہو گی۔ حقیقت سے تو تم بھی واقف ہو، اور میں بھی…”
وہ رکا، اس کی آواز میں ٹھہراؤ آ گیا۔

تسلیم تو کرنا پڑے گا کہ تمہیں مجھ سے محبت ہو گئی ہے… مان لو مسز آریان خان کہ میری محبت تم پر اثر دکھا چکی ہے…
وہ آہستہ سے مسکراتے ہوئے اپنے تکیے پر سر رکھ چکا تھا، لہجے میں وہی چھیڑ، وہی یقین… جیسے فیصلہ وہ پہلے ہی کر چکا ہو۔

لیکن اس کے یہ نرم مگر کاٹ دار لفظ عبیرہ کے کانوں تک پوری طرح اترے۔
وہ گہری سانس روکے ساکت لیٹی رہی۔ لمحہ بھر بعد ایک آنسو خاموشی سے اس کی آنکھ سے نکلا، گال سے پھسلا اور تکیے میں جذب ہو گیا…
کوئی ہچکی نہیں، کوئی لرزش نہیں… بس ایک دبی ہوئی تکلیف جو اظہار پانے سے ڈرتی تھی۔

اس نے رخ ذرا سا کمفرٹر میں چھپایا… جیسے خود سے بھی اپنے دل کا راز چھپانا چاہتی ہو۔
اور آریان… اسے خبر بھی نہ تھی کہ اپنی جیت کے اعلان جیسے لفظوں نے اس رات کسی کے دل کا بوجھ اور بڑھا دیا ہے…

وہ تو اپنی اس جیت پر خوشی سے آنکھیں بند کر گیا تھا، جیسے واقعی اس کی محبت بازی لے گئی ہو…
چہرے پر مطمئن سی مسکراہٹ، سانسوں میں نرمی… اسے یقین تھا کہ عبیرہ کے دل کا دروازہ کھولنے میں وہ کامیاب ہو چکا ہے ۔۔

کمرا نیم اندھیرے میں ڈوبا تھا اور وہ بے فکری سے کمفرٹر ٹھوڑی تک کھینچ کر سو گیا… جیسے سب ٹھیک ہو چکا ہو، جیسے اب کچھ بھی مشکل نہیں تھا ۔
مگر عبیرہ…
وہ چند انچ کے فاصلے پر لیٹی ہوئی اپنی ہی خاموشی میں ڈوبتی جا رہی تھی۔
آریان کی اس خوش فہمی نے اس کے دل پر مزید بوجھ رکھ دیا تھا۔
محبت کا الزام سہنا بھی کبھی کبھی نفرت سے زیادہ تھکا دیتا ہے…
اس نے پلکیں زور سے بھینچ لیں، جیسے یوں کرنے سے جذبات بند ہو جائیں۔
ایک اور آنسو اس تکیے میں گم ہو گیا، اور وہ ضبط کی آخری حد تک خاموش رہی۔

کبھی انسان اتنا بے بس ہو جاتا ہے کہ نہ حالات پر قابو پا سکتا ہے، نہ جذبات پر، نہ اپنے خیالات پر۔
اور یہ درد، یہ بوجھ، کسی کے ساتھ شیئر بھی نہیں کیا جا سکتا… بس گھٹ گھٹ کر سانسیں لینا ہی انسان کے بس میں رہ جاتا ہے۔

═══════❖═══════

کھڑکی کے شیشے کے پار اسکاٹ لینڈ کی رات خاموشی سے سانس لے رہی تھی۔ بارش نرم، مسلسل، جیسے اندھیرے میں کسی نے دھیرے دھیرے انگلیاں پھیر دی ہوں۔ لگزری اپارٹمنٹ کی بلند کھڑکی کے سامنے عبیرہ کھڑی تھی۔ عشاء کی نماز کو کچھ ہی دیر گزری تھی، دل ابھی تک ٹھہرا ہوا تھا، آنکھیں باہر کے منظر میں الجھی ہوئی تھیں۔

اس نے بلیک کلر کا سوٹ پہن رکھا تھا۔ سادہ مگر نفیس، کپڑے پر ہلکا سا دھاگے کا کام، جو روشنی پڑنے پر بہت آہستگی سے جھلملاتا تھا۔ گندمی رنگت کے ساتھ وہ سیاہ رنگ عجیب طرح سے نکھر رہا تھا۔ نہ بناوٹ، نہ تصنع… بس ایک خاموش دلکشی، جو خود بھی شاید اپنے اثر سے بےخبر تھی۔ اس کے بال کندھوں پر قدرتی انداز میں گرے ہوئے تھے اور اس کی نظریں بارش کی بوندوں کے ساتھ کہیں دور بہہ رہی تھیں۔

باہر سردی اپنی پوری شدت میں تھی۔ اسکاٹ لینڈ کی وہ کاٹ کھانے والی ٹھنڈ، جو شیشے کے پار سے بھی محسوس ہوتی ہے۔ سڑکوں کی مدھم روشنی، گیلی سیاہ سطح، اور بارش کی آواز… سب مل کر منظر کو حقیقی بنا رہے تھے، جیسے کوئی فلمی فریم نہیں بلکہ جیتی جاگتی رات ہو۔

اسی لمحے اپارٹمنٹ کا دروازہ آہستگی سے کھلا۔

آریان خان اندر آیا۔ جم سے واپسی کی تازہ تھکن اس کے وجود میں صاف جھلک رہی تھی۔ جسم پر وہی ورک آؤٹ کے کپڑے، پسینے کی ہلکی سی خوشبو، اور قد کاٹھ میں وہ فطری پٹھانی وقار۔ لمبا، سیدھا، گورا رنگ، اور چہرے پر ایک خاموش سنجیدگی۔

اس نے جوتے اتارے، ایک لمحے کو رکا… اور پھر اس کی نظر سامنے پڑی۔

کھڑکی کے پاس کھڑی عبیرہ پر۔

بارش، رات، سیاہ سوٹ، اور خاموش کھڑی عبیرہ… اس منظر نے اسے وہیں روک لیا۔ اس کی نظر ٹھہر گئی، جیسے وقت نے چند لمحوں کے لیے چلنا چھوڑ دیا ہو۔
ٹھنڈ خاصی تھی، مگر عبیرہ نے بس وہی دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا جو اس کے سوٹ کے ساتھ تھا۔ نہ وہ موٹا تھا، نہ ہی اس وقت کمرے میں ہیٹر چل رہا تھا۔ شیشے کے پار سردی جمی ہوئی تھی اور اس کے اندر خاموشی… جس میں وہ پوری طرح کھوئی ہوئی تھی۔

آریان خان کی نظریں اس پر ٹھہر گئیں۔ گندمی رنگت پر سیاہ سوٹ واقعی بہت جچ رہا تھا۔ کوئی اضافی ادا، کوئی شعوری کوشش نہیں… بس ایک سادہ سی خوبصورتی، جو نظر کو روک لیتی ہے۔ اس نے ایک لمحے کو بھی اسے ڈسٹرب نہیں کیا۔ آہستگی سے ہیٹر آن کیا، اور خاموشی سے واپس باہر نکل آیا۔

عبیرہ کو بالکل اندازہ نہیں ہوا کہ وہ آیا تھا۔ وہ اس لمحے اتنی محویت میں تھی کہ اردگرد کی دنیا جیسے موجود ہی نہ ہو۔

شاید آریان خان نے اسی لیے بھی اسے نہیں بلایا۔ جم سے آیا تھا، بدن پر ابھی تک تھکن کی ہلکی سی گرفت تھی۔ وہ سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔ فریش ہوا، کپڑے بدلے۔ اسکن اور بلیک کلر کے کمبینیشن والا نائٹ سوٹ نکالا، مہنگے برانڈ کا ٹراؤزر اور شرٹ… سادہ مگر اسٹائلش۔

آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بالوں کو ڈرائر سے خشک کیا، برش سے سیٹ کیا۔ ایک نظر اس شخص نے خود پر ڈالی، جس کی خوبصورتی پر لوگ فدا ہونے میں دیر نہیں لگاتے… پھر نگاہ دروازے کی طرف گئی۔

عبیرہ ابھی تک کمرے میں نہیں آئی تھی۔

وہ آئینے سے ہٹا، کمرے سے باہر نکلا، اور اس کا رخ اسی طرف تھا… جہاں کھڑکی کے سامنے ایک خاموش منظر اس کا انتظار کر رہا تھا۔

کیوں نہیں… ابھی تک آپ لوگ مجھے ڈھونڈ سکے۔ کیا آپ لوگوں کو میری یاد نہیں آتی۔ کیا میں اتنی بے مول تھی کہ آپ لوگ مجھے تلاش ہی نہ کر سکے۔ بابا… کیا سچ میں آپ میرے بابا نہیں ہیں۔ اسی لیے آپ نے مجھے نہیں ڈھونڈا۔ آپ تو میرے بغیر ایک سیکنڈ نہیں رہ پاتے تھے، پھر کیسے رہ رہے ہیں آپ میرے بنا…

آنسو اس کی سوچ کے ساتھ ہی پلکوں کی باڑ توڑتے ہوئے گالوں سے بہے اور ہونٹوں تک آ گئے۔ اس نے فوراً ہاتھ بڑھا کر انہیں پونچھ لیا، جیسے خود سے بھی چھپانا چاہتی ہو کہ وہ رو رہی ہے۔ دل کے اندر ایک شور تھا، مگر چہرے پر خاموشی… اور آنکھوں میں وہ سوال، جس کا جواب ابھی کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔

سر پر پھسلتے ہوئے دوپٹے کو درست کرتے ہوئے اس نے اپنے آنسو خود سے چھپائے اور بالکل خشک کر دیے، جیسے کبھی نکلے ہی نہ تھے۔ مگر دل و دماغ میں سوالات کا شور رہ گیا تھا، اور ہر لمحہ اپنوں کو یاد کرنے کی تکلیف سے گزرتے ہوئے بیت رہا تھا۔

“مسز عبیرہ… آریان خان نے آہستہ مگر واضح لہجے میں کہا،
“کس کے خیالوں میں اس قدر کھوئی ہوئی ہیں کہ یہ احساس بھی نہیں ہوا کہ میں دوسری بار کمرے میں آ چکا ہوں؟وہ کہتے ہوئے ذرا سا جھکا اور غیر ارادی طور پر کچھ زیادہ ہی قریب آ گیا۔اچانک گال پر داڑھی کے ہلکے سے لمس نے عبیرہ کو چونکا دیا۔

عبیرہ کو اس غیر متوقع آواز نے تنہائی میں ڈرا دیا۔ دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے گہری سانس لی۔ “آپ نے….تو مجھے ڈرا ہی دیا۔”
وہ گھبرا کر ایک قدم پیچھے ہوئی، مگر آریان نے فوراً اس کا ہاتھ تھام لیا اور اسے اپنے قریب ہی روک لیا۔ اس کی نظریں گہری تھیں، جیسے وہ اس کے چہرے کے پیچھے چھپی ہر سوچ پڑھ لینا چاہتا ہو۔

“بار بار اس طرح مجھے خود سے دور کر کے پرایا مت بنایا کرو،” اس نے قدرے دھیمے مگر مضبوط لہجے میں کہا۔
“مان لو کہ تم میری ہو اور میں تمہارا… باقی سب کچھ وقت پر چھوڑ دو۔”

عبیرہ کی سانس ذرا سی بے ترتیب ہو گئی۔ اس نے نظریں جھکا لیں، ہاتھ کی گرفت ہلکی پڑ گئی، اور دل کی دھڑکن وہی بات دہرا رہی تھی جو زبان کہنے کی ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔ لمحہ خاموش تھا… مگر اس خاموشی میں دونوں کے دل بہت کچھ کہہ رہے تھے۔

“پلیز مجھ سے دور رہا کریں…”
عبیرہ نے آہستہ مگر بوجھل لہجے میں کہا۔ اس وقت آریان کا اس سے بات کرنا شاید اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا، کیونکہ وہ اپنے گھر والوں کی یاد میں بے حد بے چین تھی۔ اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں اور آواز میں وہ کمزوری صاف جھلک رہی تھی جو دل کے اندر چلنے والے طوفان کی گواہ ہوتی ہے۔

“دور رہنا میرے بس میں نہیں، بہت کوشش کر رہا ہوں…”
نشیلی مگر بوجھل نظروں کی گہرائی میں اسے جکڑتے ہوئے، بھرائی ہوئی آواز میں آریان نے دیکھتے ہوئے کہا۔ اس کی گرفت مضبوط نہیں تھی، مگر موجودگی کا احساس گہرا تھا، جیسے وہ اسے لفظوں سے زیادہ اپنی نظروں سے یقین دلانا چاہتا تھا ۔

“کوشش کرنے سے سب کچھ ہو جاتا ہے…”
یہ کہتے ہوئے وہ ذرا سی دوری بنا کر پیچھے ہوئی اور شیشے کی کھڑکی کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی۔ مگر اس کی سخت نظریں اب بھی آریان پر جمی ہوئی تھیں، جیسے خود کو مضبوط دکھانے کی کوشش کر رہی ہو، حالانکہ اندر سب کچھ بکھرا ہوا تھا۔

“اچھا، اگر کوشش کرنے سے سب کچھ ہو جاتا ہے تو تم کوشش کر کے مجھ سے محبت کر لو، مجھے اپنا پسندیدہ شخص اپنی زبان سے مان لو…”
آریان کے چہرے پر بے بسی، محبت اور درد ایک ساتھ نظر آ رہا تھا۔ اس کی نظریں عبیرہ کے چہرے پر مرکوز تھیں، جہاں اس وقت سخت تاثرات صاف دکھائی دے رہے تھے، جیسے وہ خود بھی اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کی جنگ لڑرہی تھی۔

“مجھے آپ اچھے نہیں لگتے، پلیز مجھ سے دور ہو جائیں…”
عبیرہ نے کافی روکھا لہجہ استعمال کیا۔ الفاظ سخت تھے، مگر آواز کے نیچے چھپی کمزوری صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔ اس نے نظریں چرائیں، جیسے سامنے دیکھنے سے خود ٹوٹ جائے گی۔

مگر اس کا اثر آریان پر نہیں ہوا۔ شاید اس کا دل جانتا تھا کہ وہ اس وقت اپنوں کو یاد کر رہی ہے، یا پھر ہمیشہ کی طرح وہ اپنی محبت میں عبیرہ کے غصے کو نظر انداز کر رہا تھا۔ وہ وہیں کھڑا رہا، خاموش، نظریں اس پر جمائے… جیسے اس کے ہر سخت لفظ کے پیچھے چھپا درد صاف دیکھ رہا ہو۔

“مت مجھ سے دور بھاگو،ہار مان لو کہ تم چاہ کر بھی مجھ سے دور نہیں جا سکتی،۔میں تمہیں اچھا نہیں لگتا یہ جھوٹے دعوے مت کرو۔مجھے اپنا لو۔
اتنی نزاکت سے تمہاری سانسوں میں اتر جاؤں گا کہ میری خوشبو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی۔
آریان خان خود کو اس کے سامنے جھکائے، اس کی محبت کا متلاشی اور طلبگار تھا۔

وہ سنگدل بنی، غصے بھری نظروں سے اسے دیکھتی جا رہی تھی، جیسے اس کے منہ سے نکلا ہر لفظ جھوٹ ہو۔ آنکھوں میں نمی اترنے کو بے چین تھی، مگر اجازت نہیں دے رہی تھی، کیونکہ ایک بار پھر وہ خود کو آریان خان کے سامنے کمزور نہیں دکھانا چاہتی تھی۔
سر پر رکھے ہوئے دوپٹے کو مزید ترتیب سے سیٹ کرتے ہوئے، اس نے اپنی نظروں کا رخ اس کے چہرے سے ہٹا لیا۔

“مت میرے ساتھ دل لگائیں…”
عبیرہ نے سخت لہجے میں کہا، مگر آواز کے آخر میں ہلکی سی لرزش چھپی رہ گئی۔ وہ نظریں چرانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔

“اب تو دل لگا چکا ہوں، قدم پیچھے نہیں لے سکتا۔”
آریان کی آواز پُر سکون مگر فیصلہ کن تھی۔ وہ ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹا، بس اسے دیکھتا رہا۔

“آپ غلط کر رہے ہیں…”
اس نے فوراً کہا، بھنویں تن گئیں اور ہاتھ بے اختیار دوپٹے کی گرفت میں آ گیا۔

“میں پیار کر رہا ہوں…”
آریان نے آہستگی سے کہا۔ اس کے چہرے پر نہ ضد تھی، نہ غصہ… بس سچائی۔

“مجھے یقین نہیں ہے آپ کے پیار پر، وقت آنے پر دھوکہ ہی دیں گے…”
عبیرہ کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی، مگر لہجہ اب بھی دفاعی تھا۔

“مر جاؤں گا، دھوکہ نہیں دوں گا…”
یہ کہتے ہوئے اس کی آواز بھرا گئی۔ نظریں ایک لمحے کو جھکیں، پھر دوبارہ اس پر ٹھہر گئیں۔

“مجھے یقین نہیں ہے…”
وہ فوراً بولی، جیسے خود کو کمزور پڑنے سے روک رہی ہو۔

“آزما کر دیکھ لو…”
آریان نے دھیرے سے کہا۔ لہجے میں درخواست تھی، زبردستی نہیں۔

“نہیں آزمانا مجھے…”
عبیرہ نے منہ موڑ لیا۔ آنکھیں بند ہوئیں، جیسے دل نے وہ بات سن لی ہو جس سے بھاگ رہی تھی۔

“یقین کر کے سانسوں میں اُترنے دو… تمہارے دل کی گواہی خود سامنے آجائے گی۔
تمہارا دل اپنے ارادوں کے ارادے بدل لے گا۔قریب آ کر اس نے سرگوشی کی،سانسوں کی مدھم حرارت، انگاروں کی مانند، سرگوشیوں میں پردے میں رہتے ہوئے اپنے اثر کی گونج چھوڑ رہی تھی۔

آریان خان نے اپنے دل کی دھڑکنیں سنبھالیں، خاموشی سے اس لمحے کی بھرپور شدت کو محسوس کیا۔ ہر پل، ہر لمس، ہر سرگوشی میں ادب، نرمی اور محبت کی زبان تھی، جو لفظوں کے بغیر بھی سب کچھ کہہ رہی تھی۔سرگوشیوں کی نرمی میں وہ آنکھیں بند کیے، بتدریج قریب ہوتا جا رہا تھا۔

“آنکھیں کھولیں اور ہوش کی دنیا میں واپس آئیں…یقین کرنا چاہتی ہوں مگر مشکل ہے۔میرا دل بار بار گواہی دے رہا ہے کہ دھوکہ ہی دو گے…اور میں دھوکے میں نہیں آنا چاہتی۔
نفرت قبول ہے، مگر دھوکا نہیں۔وہ دھڑکتے دل کو سنبھالتے ہوئے بھول کر دو قدم اس سے دور جا کھڑی ہوئی تھی۔
آریان خان، محبت کی گرفت میں جکڑا ہوا، بے دردی سے جھنجھوڑا گیا تاکہ آنکھیں کھولے۔عبیرہ کل لہجہ ہی نہیں الفاظ بھی سخت تھے، مگر وہ کمال کا صبر دکھاتے ہوئے ، آنکھیں کھول کر بھی کڑوا کچھ نہیں بولا۔ خاموشی میں چھپی ایک گہری سچائی اس کے چہرے سے جھلک رہی تھی۔

“کیوں اتنی بدگمان ہو؟ ایک بار بھروسہ کر کے تو دیکھو…”
وہ عبیرہ کو دھیمے لہجے میں سمجھا رہا تھا، چہرے پر سچائی کی روشنی صاف نظر آ رہی تھی، مگر عبیرہ کے دل میں چھپا خوف اسے سچائی کو تسلیم نا کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔دونوں کے بیچ چند لمحوں کی خاموشی چھا گئی تھی۔
مگر خاموشی کے ہر پل میں محبت کی شدت، خوف کی مٹھاس اور دل کی لرزش ایک ساتھ موجود تھی، جیسے لفظوں کے بغیر بھی سب کچھ بیاں ہو رہا ہو۔

بات بدگمانی کی نہیں ہے… آپ پر یقین کرنا آسان نہیں۔
وہ دھیمے مگر ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولی۔ نظریں آریان کے چہرے پر تھیں، مگر آنکھوں میں ایک محتاط فاصلہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔

آپ مجھ سے نفرت کرتے ہیں، بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ اس سوچ کے ساتھ آپ کا دیا ہر دکھ، ہر ظلم میں سہہ سکتی ہوں۔
کہتے ہوئے اس کی انگلیاں بے اختیار دوپٹے کے کنارے کو مسلنے لگیں، جیسے خود کو مضبوطی کا یقین دلانا چاہتی ہو۔

مگر محبت کے جال میں الجھا کر اگر آپ نے مجھے دھوکہ دیا… تو میں مر جاؤں گی۔
یہ جملہ کہتے ہوئے اس کی آواز بھر آئی، مگر اس نے پلکیں جھپک کر آنسو روک لیے۔ چہرہ سپاٹ رکھا، صرف آنکھوں کی نمی سچ بول رہی تھی۔

عورت ہر صدی میں، ہر دور میں محبت کے نام پر رسوا ہوئی ہے۔اور میں کوئی نئی تاریخ رقم نہیں کرنا چاہتی۔
اس بار اس کی آواز میں درد کے ساتھ سچائی کی سختی بھی شامل تھی۔ کمر سیدھی تھی، جیسے ہار ماننے سے انکار کر رہی ہو۔
آخری جملے پر اس نے نظریں ہٹا لیں۔ الفاظ رک گئے، مگر فضا میں ایک بھاری خاموشی چھوڑ گئے، جو آریان کے دل تک اتر چکی تھی۔

“اگر تمہیں دھوکہ دوں گا تو میں خود بھی مر جاؤں گا…”
آریان نے ٹھہرے ہوئے مگر بھاری لہجے میں کہا۔ اس کی آواز میں نہ جوش تھا نہ اداکاری، بس ایک خاموش سچائی۔ نظریں سیدھی عبیرہ پر تھیں، پلکیں تک نہیں جھپکیں، جیسے وہ اس ایک جملے کے ساتھ اپنا سب کچھ داؤ پر رکھ رہا ہو۔

“مگر میں اپنے دل کا کیا کروں جو چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ آپ بھروسے کے لائق نہیں…”
عبیرہ نے نظریں جھکا لیں، آواز بس اتنی سی بدلی کہ سچ صاف سنائی دے رہا تھا۔

“مر جاؤں گا، پلیز مت ایسے کہو… اتنی بے یقینی…”
آریان کی آواز ایک لمحے کو لڑکھڑا گئی۔ وہ اس کے قریب کھڑا تھا، مگر ہاتھ روک لیے، بس نظریں اس پر ٹھہری رہیں، لفظوں سے زیادہ اس کی خاموشی بول رہی تھی۔
“سچائی سے نظریں چرا لینے سے سچائی بدل نہیں جاتی، مت بھولو آریان… ہمارا رشتہ بہت اُلجھا ہوا ہے…”
عبیرہ نے ٹھہرے ہوئے مگر سنجیدہ لہجے میں کہا۔ اس کی نظریں اس پر تھیں، مگر آنکھوں میں کوئی نرمی نہیں تھی، بس حقیقت کا بوجھ تھا،اورجس رشتے کی بنیاد ہی نفرت پر رکھی ہو، اس میں محبت کیسے ہو سکتی ہے؟”
یہ کہتے ہوئے اس نے نظریں ہٹا لیں۔ لہجے میں یقین تھا، جیسے وہ خود کو اور سامنے والے کو ایک ہی حقیقت یاد دلا رہی ہو۔

“مگر مجھے تو محبت ہو گئی ہے…
وہ بھی پوری شدت سے، میرے لگائے ہوئے پہروں کو توڑ کر ہو گئی ہے۔ آخری سانس تک اس محبت کو نبھاؤں گا… مت ٹھکراؤ، اپنا لو مجھے…”
آریان کی آواز میں ضد نہیں تھی، بس ایک گہرا اصرار تھا۔ وہ ایک لمحے کو رکا، سانس سنبھالی، اور نظریں عبیرہ کے چہرے پر جمائے رکھیں، جیسے اس ایک جواب پر اس کا سب کچھ ٹکا تھا۔

“آپ کے منہ سے محبت کی باتیں اچھی نہیں لگتیں… جس شخص نے پہلی نظر میں میری قیمت نفرت کے ترازو میں رکھ کر لگائی ہو۔پر یقین سے کروں۔؟ جس دن آپ کے ہاتھوں سے چھوٹ کر گری، آریان، مر جاؤں گی ، بار بار بول رہی ہوں، دور رہیں مجھ سے… میرے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہے، سوائے میری عزت کے…”
عبیرہ نے ایک ہی سانس میں کہا۔ لہجہ مضبوط تھا مگر آنکھوں میں وہ خوف صاف جھلک رہا تھا جسے وہ چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔ ایک قدم پیچھے ہٹ کر اس نے دوپٹے کو تھاما، جیسے دوپٹے کی صورت میں اپنی عزت اور اپنے فیصلے کو مضبوطی سے پکڑنے کی کوشش کر رہی ہو۔

آریان، شدت بھری گہری سانس چھوڑتے، پلکیں اٹھا کر اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔
اس کی آنکھوں میں محبت اور کشش کے ملے جلے رنگ اس لمحے کو جان لیوا بنا رہے تھے۔

عبیرہ نےکاندھوں کو سہلاتے ہوئے، تھوڑا پیچھے ہٹ کر نظریں دوسری جانب موڑ لیں اور خاموشی سے کھڑکی کے پار دیکھتے ہوئے کھڑی تھی۔

وہ اُٹھ کھڑا ہوا، سینہ اس کی پشت کے ساتھ جکڑ کر، ایک خاموش تحفظ اور سکون کی کیفیت دے رہا تھا۔
ہاتھ اس کے سامنے کی طرف نرمی سے باندھ لیے، ٹھوڑی کندھے پر ٹکی ہوئی۔ ہر لمس، ہر سرگوشی نما اشارہ، اس کی مخملی جلد سے گزرتے ہوئے، اسے اپنے قریب اور محفوظ محسوس کروا رہا تھا۔

“پہلی اور آخری بار مجھ پر بھروسہ کرکے تو دیکھو… تمہیں نہ ٹوٹنے دوں گا، نہ گرنے دوں گا۔”
عبیرہ نے ہلکی سی سانس کے ساتھ قدم پیچھے کھینچ لیے، مگر آنکھیں جھکائے رکھی، ہر حرکت میں اس کی خاموش مزاحمت اور اضطراب نمایاں تھا۔
آریان خان کی ہر حرکت میں احتیاط، ہر لمس میں نرم مہربانی اور محافظت کا اثر تھا، جو الفاظ کے بغیر بھی سب کچھ کہہ رہا تھا۔
خاموشی میں چھپی یہ قربت، دونوں کے دلوں کے درمیان ایک نازک پل کی مانند کھڑی تھی، جہاں محبت اور اعتماد کی نرمی، خوف اور اطمینان کے ساتھ مل رہی تھی۔

“پلیز… اپنے قدم یہیں روک لیں… میرا ساتھ آپ کے لیے صرف مشکل لے کر آئے گا۔”
عبیرہ نے دھیمے مگر صاف لہجے میں کہا۔ اس نے فاصلہ برقرار رکھا، نظریں ایک لمحے کو جھکیں پھر سنبھل گئیں،

“میں مشکلوں سے ڈرنے والا، گھبرا کر پیچھے ہٹ جانے والوں میں سے نہیں ہوں۔ چاہو تو ہر طرح سے آزما کر دیکھ لو۔ ایک بار ہاتھ تھام لو، کبھی جیتے جی نہیں چھوڑوں گا۔”
آریان نے ٹھہرے ہوئے مگر پختہ لہجے میں کہا۔ نظریں عبیرہ پر جمی تھیں، چہرے پر کوئی تذبذب نہیں تھا، جیسے اس نے دل کی بات کہہ کر اب انجام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا ہو۔

آریان خان کا بار بار محبت کی شدت میں بہتے ہوئے قریب آنا، اسے زچ کر رہا تھا۔
عبیرہ کا دل تیز دھڑک رہا تھا،

“جتنا مرضی سمجھائیں، میرا جواب ہاں میں نہیں بدل سکتا… ہاں، اگر اپنی خواہش کی شدت بجھانے کے لیے زبردستی میرے وجود کو نوچ کر محبت کا نام دینا چاہتے ہیں، تو میں آپ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی… آپ کی طاقت کے سامنے میں کمزور ہوں۔”
عبیرہ نے ٹھہرے ہوئے مگر کٹیل لہجے میں کہا۔ نظریں سیدھی تھیں،

یہ جملہ آریان خان کے وجود میں آگ کی طرح بھڑک اٹھا۔ وہ اچانک پیچھے ہٹا، ایک جھٹکے سے خود کو اس سے دور کیا، اور خاموشی میں اپنے اندر اُبھرنے والے احساسات کو قابو میں لانے کی کوشش کرنے لگا۔ چہرہ سخت ہو گیا، جبڑے بھنچ گئے… مگر ہاتھ اس نے وہیں روک لیے۔
بس عبیرہ خان… بس۔ اگر زبردستی کرنی ہوتی تو کسی کی مجال نہ تھی کہ مجھے روک پاتا۔ہر وقت تم میری دسترس میں رہیں، کوئی نہ تھا جو اس لمحے تمہیں یہاں سے بچانے آتا۔
وہ ضبط ٹوٹنے پر قدرے بلند آواز میں بولا۔ آواز میں غصہ بھی تھا اور وہ چوٹ بھی جو اندر کہیں گہری لگی تھی۔
اس کی آنکھوں میں غصے کی سرخی اتر آئی تھی، مگر ہاتھ اب بھی وہیں رکے ہوئے تھے۔

“کیا میں تمہیں اتنا گھٹیا دکھائی دیتا ہوں کہ اپنے نکاح میں بندھی ہوئی عورت کی حرمت پامال کر دوں؟ کیا واقعی تم مجھے ایسا سمجھتی ہو؟
یہ کہتے ہوئے اس کی آواز بھر آئی۔ غصے اور دکھ کے امتزاج سے آریان خان کا سرخ و سفید چہرہ مزید تپ اٹھا تھا، ایک ہی لمحے میں اس کے وقار، اس کی محبت اور اس کی مردانگی پر سوال اٹھا دیا گیا تھا۔

اور کیا کہا تم نے؟ خواہش…؟ سچ میں میں تمہیں خواہش پرست لگتا ہوں؟ افسوس… بہت ہی گھٹیا سوچا ہے تم نے میرے بارے میں۔
یہ کہتے ہوئے آریان خان کی آواز میں غصہ بھی تھا اور وہ ٹوٹن بھی جو صاف محسوس ہو رہی تھی۔ آنکھوں میں قہر کی تپش اتر آئی، جبڑا سختی سے بھنچ گیا، جیسے ضبط کی آخری حد پر کھڑا ہو۔

اس نے ایک لمحے کو بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ قدم تیز، بھاری اور بے قابو تھے۔ ٹیرس کا دروازہ جھٹکے سے کھولا اور باہر نکل گیا، جیسے اندر رک جانا اب اس کے بس میں نہ رہا ہو۔ بند ہوتے دروازے کے ساتھ اس کے بکھرتے ہوئے دل کی آواز بھی جیسے خاموشی میں گم ہو گئی۔

عبیرہ کو اپنے لفظوں کی سختی کا اندازہ ہو چکا تھا، مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا، کیونکہ تیر کمان سے نکل چکا تھا۔

کمرے میں ہیٹر چل رہا تھا، مگر باہر کی ٹھنڈ کا عبیرہ کو بخوبی اندازہ تھا۔ جب وہ لوگ شاپنگ کے لیے گئے تھے تو گاڑی سے باہر قدم رکھتے ہی جسم جم سا گیا تھا، اور اب تو رات کا سماں تھا، سردی اور بھی بڑھ چکی تھی۔

باہر ایسی ٹھنڈ تھی جو چند سیکنڈ میں انسانی جسم کو برف کی طرح جما دے، اور وہ صرف ٹراؤزر شرٹ میں بالکونی میں کھڑا، غصے کی آگ میں جھلس رہا تھا۔
عبیرہ اسے اندر بلانا چاہتی تھی، مگر اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ آریان کے غصے کا سامنا کر سکے۔ وہ جانتی تھی کہ اس نے غلط کہہ دیا ہے۔ سچ وہی تھا جو وہ بول کر گیا تھا۔ اگر وہ چاہتا تو اس کی عزت کو جب چاہے رسوا کر سکتا تھا، مگر اس نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ ہر بار بہت قریب آ کر خود ہی پیچھے ہٹ جاتا تھا۔حیا کی ایک لہر ہمیشہ عبیرہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھی تھی، جسے وہ دکھانا نہیں چاہتا تھا مگر پھر بھی حیا کی جھلک ہمیشہ اس تک پہنچتی رہی۔

“کیوں… کیا میں نے اس کے ساتھ ایسا ؟ جبکہ میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ اس نے میری عزت پر کبھی کوئی زبردستی کا وار نہیں کیا، پھر بھی میں نے اتنے کڑے لفظ کیوں بول دیے؟”
وہ اپنے دل میں سوال کر رہی تھی، مگر جواب بھی خود ہی اپنے آپ کو دے رہی تھی۔ اگر میں ایسا نہ کرتی تو وہ مجھ سے امیدیں لگانے لگا تھا، اور میں نہیں چاہتی تھی کہ ایسی کوئی امید بعد میں ٹوٹ کر اس کے ساتھ ساتھ مجھے بھی تکلیف دے۔
عبیرہ خود کو سمجھا رہی تھی، اپنے دل کو تسلی دے رہی تھی کہ جو کچھ اس نے کیا، وہ درست تھا۔

مگر شاید نہیں جانتی تھی کہ محبت کے لبریز جذبات، چاہے جتنے بھی چھپائے جائیں، کبھی چھپتے نہیں۔

اگر محبت سچی ہو، عقیدت اور عبادت کی مانند ہو، تو اس کی خوشبو خود بخود پھیلنے لگتی ہے۔
جتنا اسے دبایا جائے، وہ اتنی ہی نرمی سے سانسوں میں سرایت کر جاتی ہے۔
مگر محبت میں پاکیزگی اور سچائی لازمی ہیں۔

وہ جس جذبات کو خود سے چھپا رہی تھی، جسے زبان بھی نام نہ دے پاتی،
یہ بھرم بہت جلد ٹوٹنے والا تھا، اور پھر اس کی حقیقت، خاموشی کے پردے سے باہر نکل کر دل پر چھا جائے گی۔
سوچ میں گم وہ اچانک چونک گئی، جب آریان خان دروازہ کھول کر اندر آ گیا۔ وہ غصے سے سرخ چہرہ لیے کمرے میں آیا۔ کچھ سرخی غصے کی تھی اور کچھ ٹھنڈ میں کھڑے رہنے کی۔ عبیرہ کو لگا شاید وہ سردی برداشت نہ کر پایا اور واپس آ گیا ہے۔ عبیرہ نے اسے آتے دیکھا تو دل کو کچھ اطمینان ہوا۔

مگر یہ بھرم اس وقت ٹوٹ گیا، جب اس نے سائیڈ ٹیبل کی دراز کھولی، اس میں سے لائٹر اور سگریٹ کا پیک اٹھایا، پھر نیچے رکھے حصے سے شراب کی بوتل نکالی اور بغیر عبیرہ کی طرف دیکھے دوبارہ ٹیرس کا دروازہ کھولتا ہوا چلا گیا۔وہ اتنی تیزی سے آ کر چلا گیا کہ عبیرہ کو سوچنے سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملا۔
عبیرہ اس کے اس انداز پر حیران رہ گئی۔ اسکاٹ لینڈ آنے کے بعد اس نے کبھی آریان کو شراب پیتے تو بالکل بھی نہیں دیکھا تھا، اور سگریٹ بھی وہ بہت کم پیتا تھا، تقریباً نہ ہونے کے برابر۔ مگر آج وہ دونوں چیزیں بے جھجک اٹھا کر لے گیا تھا۔
عبیرہ چند لمحے ڈری سہمی سی وہیں کھڑی رہی، پھر اسے شراب پینے سے روکنے کا ارادہ کر کے پوری ہمت جمع کی اور دروازے کی طرف لپکی، مگر دروازہ باہر سے لاک تھا۔
“آریان پلیز دروازہ کھولیں… آپ کو مجھ پر غصہ ہے تو مجھ پر نکالیں، شراب پی کر کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟”
وہ دروازے کو پیٹتے ہوئے بولی۔ آواز میں گھبراہٹ بھی تھی اور پچھتاوا بھی، سانس تیز چل رہی تھی، اور ہاتھ کانپتے ہوئے لکڑی پر پڑ رہے تھے، جیسے ہر ضرب کے ساتھ اسے واپس بلا رہی ہو۔

“میں تم سے اس وقت کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔
تم اندر سے دروازہ بند کر کے خود کو محفوظ کر لو۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اپنی ہی حالت پر قابو نہ رکھ سکوں۔
بہتر ہے تم اپنی حفاظت خود کرو… دروازہ بند کر لو۔”
وہ غصے میں بولا تھا، مگر اس آواز میں سختی سے زیادہ،خود سے نفرت اور ٹوٹے ہوئے ضبط کی بازگشت تھی،جیسے ہر لفظ نکلتے ہوئے اسی کے دل کو زخمی کر رہی تھی۔

“آریان پلیز بات کو مت بڑھائیں… آپ روم میں آ کر بھی بات کر سکتے ہیں، یہ کوئی طریقہ نہیں ہے غصہ دکھانے کا…”
عبیرہ نے دروازے کے اس پار کھڑے ہو کر کہا۔ آواز میں التجا تھی، مگر وہ خود کو سنبھالے ہوئے تھی، جیسے حالات کو مزید بگڑنے سے روکنا چاہتی ہو۔

“میں بات بڑھا رہا ہوں؟”

“Wonderful, wonderful, very nice… مس عبیرہ، مجھے خوشی ہوئی جان کر کہ میں بات کو بڑھا رہا ہوں…”
وہ دروازے کے اس پار کھڑا تھا، تنزیہ انداز میں بول رہا تھا، نظریں دروازے پر جم گئی تھیں۔ اندر سے دل ٹوٹ رہا تھا، محبت اور دکھ کے درمیان الجھاؤ میں۔ یہ طنز اس کا واحد ذریعہ تھا کہ وہ اپنی شدت اور جذبات کو چھپا سکے۔

“میں شرمندہ ہوں اپنے الفاظ پر… مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا، مجھے اپنی غلطی کا احساس ہے…”
عبیرہ نے موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فوراً اپنے الفاظ پر شرمندگی ظاہر کی۔ اگر موقع کچھ اور ہوتا تو شاید وہ خاموشی اختیار کر لیتی، مگر کسی کی جان کو تکلیف میں دیکھنا عبیرہ کی فطرت کے خلاف تھا۔
اس وقت شدید ٹھنڈ میں وہ غصے میں خود کو تکلیف دے رہا تھا، اور عبیرہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ مزید اذیت میں مبتلا ہو۔

ٹیرس پر سرد اسکاٹ لینڈ کی ہوا آریان خان کے چہرے پر ٹکراتی تھی۔
شراب کی بوتل ہاتھ میں، سگریٹ کے دھوئیں کی باریک لکیریں رات کی خاموشی میں اوجھل ہو رہی تھیں۔
ہر گھونٹ اور ہر سانس میں وہ خود کو اذیت دے رہا تھا، یا شاید سکون تلاش کر رہا تھا،
مگر اندر سے ٹوٹا ہوا دل، ہر لمحہ اس کے وجود کو دہلا رہا تھا۔

“نہیں، نہیں مس عبیرہ… آپ کیوں شرمندہ ہو رہی ہیں؟
شرمندگی کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

شرمندہ تو میں ہوں…
تم سے محبت کر کے۔
مجھے تم سے محبت نہیں کرنی چاہیے تھی،
اور اگر ہو گئی بھی تھی، تو اظہار نہیں کرنا چاہیے تھا۔
محبت کا اظہار کیا کر دیا، تم نے تو آریان خان کو دو ٹکے کا سمجھ لیا…” آریان خان کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا ،اس کی آواز سے اس کے درد کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔
عبیرہ کے دل کی دھڑکنیں تیز، سانسیں بے ترتیب۔
اس کے اندر خوف اور حیرت کے ساتھ ایک عجیب سکون بھی تھا،
ایک تسلی کہ یہ شخص، جو سامنے کھڑا ہے، اتنا ٹوٹا ہوا، اتنا خالی، اتنا بے بس ہے،
جتنا وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔مگر اس کا دل اس خوشی پر خوش کیوں نہیں تھا ۔

دروازے کی دوسری جانب آریان خان نے بوتل کا ایک اور گھونٹ لیا،
سگرٹ کی آگ دمکتی ہوئی دھواں چھوڑ رہی تھی،
اور اس کے اندر کے جذبات، محبت، شکست اور اختیار کی کشمکش،
ٹیرس کی سرد ہوا میں ایسے بکھر رہی تھی ۔

“کیسے بتاؤں تمہیں اپنے دل کا حال تم مجھے جتنا برا سمجھ رہی ہو میں اتنا برا نہیں ہوں۔۔۔”یہ آریان خان کی سوچ تھی ۔جسے سوچتے ہوئے ہر لفظ میں درد، تلخی اور بے بسی کی جھلک تھی۔

“پلیز… خود کو اس طرح سزا مت دیں۔
یہ آپ کا ہی گھر ہے، روم میں آ جائیں۔
میں خود روم سے چلی جاؤں گی…”

وہ ہمت جمع کر کے، ڈرتی ہوئی بولی تھی۔
آواز میں لرزش تھی، جیسے ایک ایک لفظ دل کے بوجھ سے نکال کر رکھا جا رہا ہو۔

عبیرہ کی آنکھوں میں اس کے اپنے جذبات کی گہرائی چھپی ہوئی تھی۔
محبت کی شدت، خوف، احترام اور وہ الجھن…
کہ وہ آریان خان کو واقعی سمجھ پا رہی ہے یا نہیں۔

اس کے کہے گئے ہر جملے نے
آریان کے وجود میں ہلچل مچائی،
اور عبیرہ کے دل پر بھی
ہر لفظ ایک ننھے زخم کی طرح نقش ہوتا چلا گیا۔

وہ اب جواب کے انتظار میں خاموش کھڑی تھی،
مگر اس کی خاموشی میں بہت کچھ بول رہا تھا۔
وہ سب، جو زبان کہنے کو بے تاب تھی۔
اور دل اجازت نہیں دے رہا تھا۔

“سنگ دل لڑکی… تم نے تو مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا۔
ایسے گھر تو میں ہزاروں تعمیر کروا لوں،
مگر اس دل کا کیا کروں
جس پر تم نے خاموشی سے قبضہ جما لیا ہے؟

تم نہیں تو کچھ بھی نہیں۔
آسائشوں کے بغیر بھی جی لوں گا،
مگر زندگی جینے والے آریان خان سے
تم نے جو چین چھین لیا ہے،
وہ کہاں سے لا کر دوں؟

تم نے مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا ہے۔
افسوس ہے مجھے خود پر…
جسے پوری دنیا میں صرف تم ہی ملی تھی
محبت کرنے کے لیے۔

سچ کہتے ہیں، محبت انسان کو کمزور بنا دیتی ہے۔
میں تو ہمیشہ ایسی کمزوری سے
ہزاروں میل دور بھاگتا رہا،
پھر کیوں یہ کمزوری میرا نصیب بن گئی؟

جس دل پر ہمیشہ میرے دماغ کی حکومت رہی،
تمہاری وجہ سے… صرف تمہاری وجہ سے…
وہ اب میری ایک بھی نہیں سنتا۔
تم نے میرے دل کو
میرے ہی خلاف باغی کر دیا ہے…”

اس کی آواز نشے میں ٹوٹتی اور جڑتی محسوس ہو رہی تھی۔
لفظ بکھر رہے تھے، سانس لڑکھڑا رہی تھی،
اور اس کے لہجے سے صاف ظاہر تھا کہ
اس کا دل ٹوٹ چکا تھا،
اپنی محبت اور اپنی کمزوری کے درمیان وہ خود کو قابو میں رکھنے کی آخری کوشش کر رہا تھا۔

عبیرہ واقعی اس کے لیے پریشان ہو گئی تھی۔
اس پرائے دیس میں، اپنوں سے ہزاروں میل دور، اس کا واحد سہارا آریان خان تھا۔
لفٹ میں پیش آنے والا وہ حادثہ اس کے ذہن میں تازہ ہو گیا،
وہ اجنبی لڑکے،
اور ان کی بھوکی نظریں…

اگر خدانخواستہ اسے کچھ ہو گیا تو وہ کیا کرے گی؟
یہاں وہ کسی کو نہیں جانتی تھی،
کوئی اس کا اپنا نہیں تھا۔

خوف میں مبتلا عبیرہ نے ایک بار پھر دروازے پر ہاتھ مارا۔
“پلیز دروازہ کھولیں، اندر آ جائیں… بہت ٹھنڈ ہے…”

مگر وہ ضدی بنا رہا۔
اب تو جواب دینا بھی چھوڑ چکا تھا۔

“آریان پلیز… میں معافی مانگ رہی ہوں۔
مجھ سے غلطی ہو گئی، میں نے آپ کو بہت غلط بول دیا۔
پلیز دروازہ کھول دیں، اندر آ جائیں…
آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔
باہر بہت ٹھنڈ ہے…
آریان، آپ کے سوا یہاں میرا کوئی نہیں ہے…”

اس کی آواز رونے میں ڈوب رہی تھی۔

“جھوٹ…
میرے ہونے یا نہ ہونے سے تمہیں کیا فرق پڑتا ہے؟
اچھا ہے مر جاؤں گا،
کم از کم تم مجھ سے آزاد ہو جاؤ گی۔
کیونکہ جیتے جی آریان خان
تمہیں کبھی خود سے دور نہیں جانے دے گا…”

وہ ضدی ہو کر چلّایا۔

“تم چاہے مجھ سے محبت کرو یا نفرت،
چاہے ساری زندگی ہمارے درمیان دیواریں کھڑی رکھو،
میں تمہیں خود سے کبھی دور نہیں جانے دوں گا…”

“نہیں جاؤں گی…
پلیز ابھی دروازہ کھول دیں…”

“نہیں کھولوں گا۔
جب تم ضد کر سکتی ہو تو میں کیوں تمہاری بات مانوں؟
جب دل چاہے گا آ جاؤں گا۔
بے فکر رہو، مروں گا نہیں…
کیونکہ اگر میں مر گیا
تو تم کسی اور کی ہو جاؤ گی،
اور میں تمہیں کسی کا ہونے نہیں دے سکتا۔

تم میری ہو…
صرف میری…
آریان خان کی،
اور ہمیشہ آریان خان کی ہی رہو گی…”

اس کی آواز میں کپکپاہٹ تھی۔
حد سے زیادہ پی ہوئی شراب
ہر لفظ کو لڑکھڑا رہی تھی۔

عبیرہ کو اس کی بے حد فکر ہو رہی تھی۔
وہ کچھ کرنا چاہتی تھی،
مگر دروازہ بند تھا
اور چابی کا اسے علم نہیں تھا۔

آج پہلی بار اس کے دل نے مان لیا تھا
کہ وہ واقعی اس سے محبت کرتا ہے۔
یہ احساس اسے کمزور کر رہا تھا۔

وہ گھبراہٹ میں گھر بھر میں چابیاں تلاش کرتی رہی،
مگر کچھ ہاتھ نہ آیا۔

آخرکار وہ دروازے کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔
پیروں میں درد اتر آیا تھا۔
دستک دیتی رہی،
آواز دیتی رہی…

مگر وہ آریان خان تھا۔
نہ دروازہ کھل رہا تھا،
نہ خاموشی ٹوٹ رہی تھی۔
“فضا میں ایک بوجھل سانسوں کا درد پھیل گیا۔
═══════❖═══════

“مجھے تو ایک بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ روشانے پریشے کے پاس سکاٹ لینڈ کیوں جانا چاہتی ہے۔ افضل خان اپنی بیوی سے ناراض ہو رہا تھا جب سے اسے روشانے کے بارے میں پتہ چلا تھا کہ وہ سکاٹ لینڈ جا رہی ہے۔

” آپ میرے ساتھ ناراض کیوں ہو رہے ہیں؟ آپ کو کیا لگتا ہے میں نے اس کو جانے سے نہیں روکا ہوگا؟ میں نے بہت کوشش کی مگر وہ جانا چاہتی ہے تو میں کیا کروں، آپ کی بہن ہے آپ خود اس سے بات کر لیں، ہر بات میں مجھے بیچ میں مت گھسیٹا کریں۔”

“ماشاءاللہ، ساری زندگی تو تم اس کی باڈی گارڈ بن کر گھومتی رہی ہو اور آج تمہیں یہ یاد آگیا ہے کہ وہ میری بہن ہے۔ مجھ سے زیادہ تو اس کے دماغ میں تمہاری بات گھستی ہے۔” افضل خان غصے سے بولا۔

“تو کیا کرتی؟ جوانی میں نند طلاق لے کر بھائی کے گھر آکر بیٹھ گئی تھی تو ہر وقت روک ٹوک کرتی، اس کو باتیں سناتی، تو دنیا والوں نے یہی کہنا تھا کہ بھابھی کتنی بری ہے۔ کسی اور کو تو چھوڑیں، آپ نے ہی کہنا تھا کہ میری بہن اگر میرے گھر آکر بیٹھ گئی ہے تو تمہاری جلن کیوں نہیں ختم ہو رہی؟ پھر آپ کو بھائیوں والے پیار کا بخار چڑھ جانا تھا۔ اگر میں نے اس سے بنا کر رکھی، اسے بیٹیوں کی طرح رکھا، یہ بھی میری غلطی بن گئی ہے۔ آپ کی بہن کتنی خود سر ہے، آپ کو اچھی طرح پتہ ہے۔”

آج افضل خان کی بیوی کے صبر کا بندھ بھی ٹوٹ گیا تھا۔ سچ یہی تھا کہ روشانے شروع سے ہی خود سر تھی، اس لیے کبھی بھی اس کی بھابی نے اسے سخت الفاظوں سے نہیں سمجھایا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ روشانے برداشت کرنے والوں میں سے نہیں ہے اور اس کی بھابی اپنے گھر کا ماحول خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اس لیے اس نے ہمیشہ ایک ماں بن کر اسے پیار سے سمجھایا۔ یہی وجہ تھی کہ جو روشانے اپنی بھابی کی بات مان بھی لیتی تھی اور سن بھی لیتی تھی، مگر ہر بات وہ نہ مانتی تھی نہ سنتی تھی۔ روشانے اپنی مرضی کی مالک تھی، اپنے دل پر دماغ پر صرف اپنی حکومت چلاتی تھی۔ یہ کہنا بالکل غلط نہ ہوگا کہ آریان کی فطرت اپنی پھوپھی جیسی تھی۔

“مامو جان، آپ مامی جان پر فضول میں کیوں ناراض ہو رہے ہیں، جبکہ آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ماما اپنی مرضی چلاتی ہیں؟ انہوں نے کہہ دیا ہے کہ وہ پریشے کے پاس جانا چاہتی ہیں، تو جانے دیں۔ وہ خود مختار ہیں، جو چاہے کر سکتی ہیں۔ آپ ماما کے ٹاپک کو لے کر آپس میں کیوں جھگڑ رہے ہیں؟”

صارم جو اپنے ماموں اور مامی کی اونچی آواز سن کر ان کے روم کی جانب آیا تھا، کیونکہ آوازیں روم سے باہر آ رہی تھی۔

“صارم بیٹا، ہم جھگڑا نہیں کر رہے، آپ پریشان نہ ہو۔” صارم کی مامی شرمندہ سی ہو کر بولی۔ صارم کے ماموں اور مامی اسے اپنا بیٹا ہی سمجھتے تھے۔ بچپن سے لے کر بڑے پیار سے انہوں نے صارم کو پالا تھا اور صارم بھی ان کی عزت بالکل ماں باپ کی طرح کرتا تھا۔ ان کے اپنے بیٹے سے کہیں زیادہ فرمانبردار تھا اور صارم کی عادت بھی ایسی تھی کہ اسے پیار کیا جائے۔ وہ بچپن سے ہی تمیزدار خوش مزاج کا بچہ تھا جو گھر میں رونق لگائے رکھتا تھا۔ جبکہ آریان تو شروع سے ضدی اور ایٹیٹیوڈ والا تھا۔ پتہ نہیں دونوں میں دوستی کیسے ہوئی اور کیسے دونوں بیسٹ فرینڈ بن گئے، ورنہ مزاج میں تو زمین آسمان کا فرق تھا۔

“مامی جان، آپ کو شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ شرمندہ تو مجھے ہونا چاہیے، جس کی ماں کی وجہ سے ہمیشہ گھر میں کوئی نہ کوئی ہنگامہ ہو جاتا ہے۔” صارم اپنی مامی کے پاس بیٹھتے ہوئے بڑے نرم لہجے سے بول رہا تھا۔

“نہیں، نہیں بیٹا، کیسی باتیں کر رہے ہو؟ تمہیں شرمندہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ روشانے تمہاری ماں ہونے سے پہلے اس گھر کی بیٹی ہے اور ان کی بہن ہے۔” افضل خان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

“آپ ان جمیلوں میں مت پڑیئے اور اپنے مائنڈ کو فریش رکھیں۔” وہ پیار سے صارم کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے بولی۔

“کیسے پریشان نہ ہوں؟ میں، میری مامی جان اور میرے ماموں جان دونوں پریشان ہیں، تو صارم سکون سے کیسے رہ سکتا ہے؟ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں پریشان نہ ہوں تو پھر آپ وعدہ کریں کہ آپ لوگ بھی ماما کی وجہ سے پریشان نہیں ہوں گے۔ وہ اپنی مرضی کی مالک ہیں، اپنا اچھا برا جانتی ہیں، تو ان کو جانے دیں۔ ہو سکتا ہے گھومنے پھرنے سے ان کا مائنڈ تھوڑا فریش ہو اور واپس آ کر وہ تھوڑا اچھا فیل کریں، آپ ان کو جانے دیں۔”

“صارم بیٹا، ہمیں اس کے جانے سے کوئی پرابلم نہیں ہے، مگر ہر چیز کا کوئی اصول ہوتا ہے۔ اکیلی منہ اُٹھا کر جانے کی کیا ضرورت ہے؟ تمہیں ساتھ لے جائے، تم دونوں ماں بیٹا، تسلی سے کچھ دن رہنا، گھوم پھر کر واپس آجانا۔ مگر یوں اچانک سے کہہ دیا کہ وہ پریشے کے پاس جا رہی ہے، مجھے یہ بات بالکل سمجھ میں نہیں آئی۔”

“چھوڑیں ماموں جان، مجھے ساتھ لے جانا تو دور کی بات، ماما نے تو ابھی تک مجھے یہ بات بتائی تک نہیں کہ وہ ملک سے باہر جا رہی ہیں۔ خیر، ان کو یہی مناسب لگتا ہوگا۔” صارم افسردہ چہرہ بناتے ہوئے بولا۔ اس کے دل میں بھی اس بات کا دکھ تھا کہ اس کی ماں اپنی من مرضیاں کرتی ہے، مگر صارم نے خاموشی تان لی تھی۔

“ماموں، پلیز، میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ ان کو مت روکیں، روکنے سے وہ نہیں رکیں گی، ضدی ہیں وہ، آپ ہمیشہ سے جانتے ہیں۔ ضد میں آ کر وہ آپ سے بدتمیزی کریں گی اور گھر کا ماحول خراب ہوگا۔” صارم نے بہت سمجھداری سے، ٹھہراؤ سے بات کرتے ہوئے افضل خان کو سمجھایا، تو افضل خان نے گہری سانس لیتے ہوئے ہاں میں سر کو ہلایا دیا، کیونکہ افضل خان جانتا تھا کہ اس کا بھانجا جو کہہ رہا ہے، وہ بات بالکل ٹھیک ہے۔ روشانے کے منہ سے ایک بار جو بات نکل جاتی ہے، اسے پورا کیے بنا روشانے کو سکون نہیں ملتا۔ صارم ٹھیک کہہ رہا تھا کہ گھر کا ماحول خراب ہوگا اور روشانے پھر بھی جائے گی۔ افضل خان نے صارم کی بات مانتے ہوئے خاموشی اختیار کر لی۔

“ٹھیک ہے صارم، تم پریشان مت ہو، آپ کے ماموں کچھ نہیں کہیں گے روشانے سے۔” اس کی مامی نے نرمی سے کہا۔

“ماموں، روشانے سے بھی کچھ نہیں کہیں گے اور آپ سے بھی کچھ نہیں کہیں گے۔” ماموں جان، مامی کی کوئی غلطی نہیں ہے، ان کی سمجھداری اور عقلمندی کی وجہ سے ہی سالوں سے اس گھر کا سکون قائم ہے۔ اگر وہ ماما سے سخت برتاؤ کرتیں تو آج گھر کا نظام درہم برہم ہوتا۔ ان جیسا تو دنیا میں دوسرا کوئی نہیں، جنہوں نے کبھی مجھ میں اور آریان میں فرق نہیں کیا۔”

وہ پیار سے اپنی مامی کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے بولا۔
“مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی، اگر اجازت ہے تو کر سکتا ہوں؟” جبکہ یہ بات تو میں ماما سے کرنا چاہتا تھا، مگر ماما تو شاید اپنی باہر جانے کی تیاریوں میں لگی ہیں، وہ اس وقت گھر پہ نہیں ہیں، تو میں آپ کے ساتھ ڈسکس کرنا چاہتا ہوں۔

“جی جی بیٹا، کرو کرو۔”

“ماموں، میں ایک نیا پروجیکٹ شروع کرنے والا ہوں۔ پاکستان میں بہت سی برانچز ہو گئی ہیں اور الحمدللہ سب کامیاب چل رہے ہیں۔ اب میں دبئی میں اپنی ایک بہت بڑی برانچ لانچ کرنا چاہتا ہوں۔ پروجیکٹ بہت زیادہ بڑا ہے، آپ کی بہت سی دعاؤں کی ضرورت ہے۔”

“بیٹا، ہماری دعائیں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں اور کوئی (financially support) ضرورت ہے تو بلا جھجک بتاؤ۔”
“نہیں مامو جان، کوئی ضرورت نہیں ہے، الحمدللہ سب کچھ کمپلیٹ ہے۔ بس کچھ دن تک میں دبئی جا کر ڈیل سائن کر کے آجاؤں گا، پھر آپ سب کو میری طرف سے زبردست سی ٹریٹ، وہ بھی میرے ہوٹل میں۔”

“یہ بھی کوئی کہنے کی بات ہے، ہم ضرور ٹریٹ لیں گے، آخر ہمارے بیٹے کو اتنی بڑی کامیابی مل رہی ہے۔” اس کے ماموں نے آگے بڑھ کر صارم کو گلے لگایا۔

“تھینک یو سو مچ ماموں۔”

“اب اللہ تعالی تمہیں بہت سی کامیابیاں دے رہا ہے، تو جلدی سے لڑکی دیکھ کر اپنا گھر بساؤ، یہ سب کچھ سنبھالنے والی بھی آنی چاہیے۔” اس کی مامی نے مسکراتے ہوئے کہا۔

“بالکل، میں سو پرسنٹ تمہاری مامی کی بات سے متفق ہوں۔ اب تمہاری شادی کی صحیح عمر ہو چکی ہے، تمہیں شادی کر لینی چاہیے۔”

“جی ماموں، انشاءاللہ شادی بھی جلدی ہو جائے گی۔” صارم کے دماغ میں انشاء کا خیال تھا۔

“کیا بات ہے، ہمارا بیٹا مسکرا رہا ہے؟ مطلب کہ لڑکی تو تم نے دیکھ رکھی ہے؟ ہمیں بھی بتا دو تاکہ ہم وقت سے رشتہ لے جا سکیں۔” اس کی مامی نے اس کے کان کو پیار سے پکڑتے ہوئے کھینچا۔

“جی جی مامی جان، بتا دوں گا، مگر پہلے لڑکی کو راضی تو کر لوں، لڑکی حامی بھرے گی تو پھر ہی اس کے گھر والوں سے بات ہوگی نا۔”

“پختون ہو کر ابھی تک ایک لڑکی کا دل نہیں جیت سکے صارم خان، مجھے تم سے ایسی اُمید نہیں تھی۔” اس کے ماموں نے مصنوعی گھورتے ہوئے کہا۔

“مامو جان، لڑکی کا دل تو ہم جیت چکے ہیں، مگر لڑکی بہت زیادہ شرمیلی اور معصوم ہے، اس میں زبان سے کہنے کی شاید ہمت نہیں، اور جب تک اس کے منہ سے ہاں نہ کہلوا لوں، میں آپ کو اس کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکتا۔ پلیز فورس مت کیجئے گا۔”

“فورس تو ہم بالکل نہیں کریں گے، مگر تم اس لڑکی کو جلدی سے مناؤ کیونکہ ہم تمہیں زیادہ ٹائم نہیں دیں گے۔”

“جی ماموں، انشاءاللہ، بس دعا کیجئے کہ لڑکی کو آپ کا بھانجا پسند آ جائے۔” وہ شرارتی انداز سے مسکرا رہا تھا۔

“کیوں پسند نہیں آئے گا؟ اتنا پیارا ہے ہمارا بیٹا، تو پسند نہ آنے کا تو سوال ہی نہیں اُٹھتا۔”

“انشاءاللہ مامی جان، آپ کے منہ میں گھی شکر۔” صارم کے انداز پر اس کے ماموں اور مامی بھی کھلکھلا کر قہقہ لگاتے ہوئے ہنس دیے…

              ═══════❖═══════

ایزل اور یارم خان کی جانے کی تیاری مکمل ہو چکی تھی، مگر یارم خان کے لیے نیا امتحان ابھی شروع ہونے والا تھا۔ ایزل کا ایموشنل روپ دیکھنا… وہ ہر کسی کو تین تین بار گلے لگا رہی تھی، آنکھوں میں نمی اور دل میں اتھاہ محبت کے جذبات کے ساتھ۔

یارم خان تین انگلیاں ماتھے پر رکھے ہلکے سے مسلا رہا تھا، چڑتے ہوئے اور زچ محسوس کر رہا تھا۔ ہر بار ایزل کو کسی کے قریب جاتے دیکھ کر اس کا دماغ تھوڑا سا گھوم گیا تھا اور دل میں ہلچل مچ رہی تھی۔

“کیا چیز ہے یار! کبھی پٹاخہ، کبھی ایموشنل… سمجھ سے باہر ہے!” وہ منہ میں بڑبڑایا، لیکن نظریں ایزل سے نہیں ہٹ رہی تھیں، جیسے اسے یہ سب دیکھنا بھی عجیب لگ رہا ہو اور وہ خود کو سنبھال بھی نہیں پا رہا تھا۔

“پلیز… چلو جلدی کرو، ہم لیٹ ہو رہے ہیں!”
یارم خان جھنجلا کر بولا، لہجہ تیز اور چڑچڑا سا تھا، اس کی جلدی اور بے صبری ہر لفظ میں جھلک رہی تھی۔
“اب اپنے گھر والوں کو مل تو لینے دیں…”
ایزل نے برا سا منہ بناتے ہوئے یارم خان کی طرف دیکھا، آنکھوں میں شکوہ اور آواز میں ضد تھی۔

“کتنی بار ملنا ہے؟”
یارم خان نے تیکھے لہجے میں کہا۔
“اسلام آباد جا رہی ہو، جہاد پر نہیں، جو آنسو بہا بہا کر مل رہی ہو…”

وہ بالکل تیار کھڑا تھا، کوٹ درست کیے، گھڑی پر نظر ڈالے، مگر ایزل کی ملنیاں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔ اب اس کے چہرے پر صاف غصہ ابھرنے لگا تھا۔
“میں آپ کی طرح سخت دل نہیں ہوں…”
ایزل نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے، بیزار سی ہو کر کہا۔
“مجھے اپنے گھر والوں سے دور جاتے ہوئے رونا آتا ہے، اور مجھے رونے دیجیے…”

وہ اداس تھی، خاص طور پر انشاء کو چھوڑنے کا خیال اس کے دل کو بھاری کر رہا تھا۔ انشاء رو رہی تھی، اور رتبہ کی آنکھوں میں بھی نمی صاف جھلک رہی تھی۔

“یارم، ایزل کا پورا خیال رکھنا…”
باسق خان نے آگے بڑھ کر یارم خان سے ملتے ہوئے کہا۔
“اسے کوئی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔”

“جی بابا…”
یارم خان نے سنبھل کر جواب دیا۔
“میں پورا دھیان رکھوں گا کہ اسے میری طرف سے کوئی تکلیف نہ ہو، مگر ذرا اسے بھی سمجھا دیں کہ اس کی زبان کی وجہ سے مجھے تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔”

“میری بیٹی کسی کو تکلیف پہنچا ہی نہیں سکتی…”
رتبہ نے پیار سے ایزل کو گلے لگاتے ہوئے یارم خان کو آنکھیں دکھائیں۔
“یہ تو ہمارے گھر کی رونق ہے۔”

“جی جی، آپ کی بیٹی کسی کو تکلیف نہیں پہنچا سکتی…”
یارم خان نے طنزیہ انداز میں کہا۔
“میرے تو جیسے ہر طرف پوسٹر لگے ہیں کہ میں سب کو تکلیفیں دیتا رہتا ہوں۔ پتہ نہیں اس نے کیا گھول کر آپ سب کو پلا دیا ہے، اس کا نام لے کر تعریفیں کرتے ہوئے تھکتے ہی نہیں ہیں…”
یہ کہتے ہوئے وہ سب سے ملتا ہوا، ایزل سے پہلے ہی باہر نکل گیا۔

“ہر وقت اس لڑکے کا غصہ ناک پر ہی رہتا ہے…”
باسق خان نے جاتے ہوئے یارم خان کو گھور کر کہا۔

“آپ پریشان نہ ہوں…”
رتبہ نے نرمی سے جواب دیا۔
“ہماری ایزل اسے سنبھال لے گی۔ اللہ تعالیٰ نے بہت پیارا جوڑ بنایا ہے ان دونوں کا، ایک غصیلا ہے تو دوسری چنچل… اور ہمیں اپنی بیٹی پر پورا یقین ہے۔ جب وہ واپس لوٹے گی تو ایک نئے یارم سے ہمیں متعارف کرائے گی…”

“انشاءاللہ…”
باسق خان نے ایزل کے سر پر پیار دیتے ہوئے کہا۔
“اگر یارم تمہارے ساتھ ذرا سی بھی سختی کرے تو فوراً مجھے فون کرنا۔ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے…”
اب باسق خان کو کیا خبر تھی کہ ایزل ڈرنے والی چیز نہیں تھی۔ مگر باسق کے پیار دیکھانے پر وہ معصوم سی شکل بناتے ہوئے ہاں میں سر کو ہلاتے ،سب اس کے ساتھ چلتے ہوئے گاڑی کے پاس پہنچ چکے تھے۔ یارم خان پہلے ہی گاڑی میں بیٹھا، منہ پھلائے کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ نم آنکھوں کے ساتھ ایزل بھی خاموشی سے اس کے ساتھ بیٹھ گئی۔

سیکیورٹی کے ساتھ یارم خان کی گاڑی آہستہ آہستہ گھر سے نکل گئی۔ آگے اور پیچھے پولیس کی نفری کے ڈالے تھے، اور پیچھے رہ جانے والی آنکھیں دیر تک اس گاڑی کو جاتا دیکھتی رہیں۔ رتبہ انشاء اور باسق خان کی دعائیں ان کے ساتھ تھی۔۔۔گاڑی تیزی سے منزل کی جانب دوڑ رہی تھی ۔۔۔
═══════❖═══════

گاڑی کو چلتے ہوئے تقریباً تین چار منٹ گزر چکے تھے، مگر ایزل کی اشک باری رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ وہ بار بار ٹشو سے ناک صاف کرتی، آنکھوں کے کنارے پونچھتی اور پھر بے اختیار آنسو بہا لیتی۔ یارم خان نے اپنی طرف سے صبر دکھانے کی پوری کوشش کی تھی، جبڑے بھینچے، نظریں سڑک پر جمائے رکھیں، مگر اسے اس طرح روتے دیکھ کر آخرکار اس کا ضبط جواب دے گیا۔ اس نے ہلکا سا پہلو بدلا، اسٹیئرنگ پر انگلیاں مضبوط کیں، اور پھر بولنا اس کے لیے لازم ہو گیا تھا۔
یارم خان نے دانت بھینچتے ہوئے کہا، آواز دبی ہوئی مگر سخت تھی۔ اس کی ایک نظر سڑک پر تھی اور دوسری ایزل پر، جیسے خود کو زبردستی قابو میں رکھے ہوئے ہو۔ ایزل نے ٹشو مٹھی میں جکڑ لیا، آنسو روکنے کی ناکام کوشش کی، ہونٹ بھینچے مگر آنکھوں سے بہتا پانی اس کے بس میں نہیں رہا۔ اس نے چہرہ دوسری طرف موڑ لیا، کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی، تاکہ یارم خان کو اس کی کانپتی ہوئی سانسیں اور لرزتی پلکیں اور زیادہ نہ الجھا دیں۔

ایزل کو سچ میں گھر چھوڑنے کا دکھ تھا، مگر یارم خان کے ساتھ جانے کی خوشی بھی دل کے کسی کونے میں موجود تھی… یہی دو ضدی احساسات اس کے آنسوؤں کو روکنے نہیں دے رہے تھے۔

اس نے ٹشو سے آنسو صاف کیے اور پھر خفا نظروں کے ساتھ یارم خان کی طرف پلٹ کر دیکھا۔ آنکھیں سوجی ہوئی تھیں، ناک سرخ، مگر لہجے میں ضد صاف جھلک رہی تھی۔
“کیا مطلب ہے؟ میں کسی کو دکھانے کے لیے رو رہی ہوں؟”
اس نے گھورتے ہوئے کہا۔
“میں ڈرامہ کر رہی ہوں؟”
ایزل نے بچوں کے جیسا منہ بنا لیا۔ گاڑی کے اندر ایک لمحے کے لیے خاموشی پھیل گئی، یارم نے زچ ہوتے ہوئے ایک نظر اس کی جانب دیکھا۔

“میں تمہارے ساتھ بحث کرنے کے موڈ میں نہیں ہوں…”
یارم خان نے گہری سانس لی۔
“بس اتنا چاہتا ہوں کہ تم اس موسلا دھار بارش پر ذرا سا باندھ ڈال کر بیٹھ جاؤ۔”

ایزل نے ٹشو مٹھی میں دبایا اور ناک سوں سوں کرتی ہوئی، تیز نظروں سے اسے دیکھا۔
“اتنا اکتانے کی ضرورت نہیں ہے…”
وہ خفگی سے بولی۔
“میں اپنی آنکھوں سے رو رہی ہوں، آپ تو ایسے پریشان ہو رہے ہیں جیسے میرے آنسوؤں سے آپ کی آنکھوں میں جلن ہو رہی ہو…”

یارم خان نے اسٹیئرنگ سے ایک ہاتھ ہٹایا، پیشانی پر ابھری شکن کو انگلیوں سے دبایا اور پھر بے بسی سے دونوں ہاتھ جوڑ لیے۔ آواز بہت دھیمی تھی، مگر لہجے میں کوفت صاف جھلک رہی تھی۔
“تم اس وقت میری گاڑی میں، میرے ساتھ بیٹھی ہو…”
وہ آہستہ بولا۔

“تو…؟ایزل نے حیرانی اور تجسس سے اس کی جانب دیکھا

“تو مجھے تمہارے رونے سے کوفت ہو رہی ہے۔ برائے مہربانی بحث کے بجائے آنسو روک لو…”

گاڑی خاموشی سے آگے بڑھ رہی تھی، مگر اندر بیٹھے دونوں دلوں میں شور تھا۔ ایزل نے نظریں چرا کر کھڑکی سے باہر دیکھ لیا، ہونٹ بھینچ لیے، اور آنسو روکنے کی ناکام کوشش میں ایک گہری سانس لے کر خود کو سمیٹنے لگی۔

دو چار آنسو بہانے کے بعد ایزل آہستہ آہستہ اپنے ایموشنل موڈ سے نکل کر جھگڑالو روپ میں آنے لگی تھی۔ آنکھوں کی نمی ابھی باقی تھی، مگر لہجے میں اب ضد اور تیوری صاف جھلک رہی تھی۔ اس نے ٹشو مٹھی میں دباتے ہوئے یارم خان کی طرف رخ کیا، کمر سیدھی کی اور بھری ہوئی آواز میں بولی۔

“آپ نے ابھی سے میرے ساتھ جھگڑا کرنا شروع کر دیا ہے…”

یارم خان نے ایک نظر اس پر ڈالی، پھر خاموشی سے سڑک پر نظریں جما لیں۔

ایزل نے ذرا سا جھک کر فون کی طرف ہاتھ بڑھایا، جیسے واقعی اگلا قدم اٹھانے ہی والی ہو۔
“میں کروں انکل کو فون؟”
اس کی آواز میں اب دھمکی صاف سنائی دے رہی تھی۔
“انہوں نے کہا تھا کہ اگر آپ نے ذرا سی بھی میرے ساتھ سختی کی تو میں فوراً ان کو فون کر کے بتاؤں… وہ خود پہنچ جائیں گے…”

گاڑی کے اندر فضا بدل چکی تھی۔ یارم خان نے دانت بھینچ لیے، اسٹیئرنگ پر انگلیاں سخت ہو گئیں، اور ایک لمحے کے لیے اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ آنسو رک چکے ہیں، مگر اب ایک اور آزمائش اس کے سامنے کھڑی تھی۔

یارم خان نے ہلکی سی سانس بھری، گاڑی کی رفتار نارمل رکھی اور گردن ذرا سا ایک طرف جھٹکی، جیسے خود کو کنٹرول کر رہا ہو۔

“تم ایک کام کیوں نہیں کرتی…”
اس نے آدھی جھنجھلاہٹ اور آدھی بے بسی کے ساتھ کہا۔
“ابھی بھی وقت ہے، اُتر جاؤ اور گھر واپس چلی جاؤ، کیونکہ تمہارے ساتھ گزارا کرنا واقعی بہت مشکل ہے…”
ایزل نے فوراً اس کی طرف دیکھا، آنکھیں پھیلی ہوئی، جیسے یقین نہ آیا ہو، مگر اگلے ہی لمحے اس کے ہونٹوں پر خفیف سی ناگواری ابھر آئی۔

“تم خوشی خوشی اپنے انکل آنٹی اور انشاء کے ساتھ رہو…”
یارم خان نے بات جاری رکھی، لہجے میں اب ہلکی سی چِڑچِڑاہٹ تھی، غصہ نہیں۔
“کیوں فضول میں میری جان کو عذاب بنانے کے لیے ساتھ جا رہی ہو…”

گاڑی کے اندر فضا میں ایک ہلکی سی نوک جھونک پھیل گئی۔ ایزل نے ناک سکیڑی، ہینڈ بیگ کو سینے سے لگایا اور منہ بنا کر کھڑکی کی طرف دیکھ لیا، جیسے دل ہی دل میں کوئی جواب تیار کر رہی ہو۔ منظر سنجیدہ ہونے کے بجائے اب ہلکے طنز اور شرارت کی حد میں ہی ٹھہرا ہوا تھا۔

“ہاں جی، تاکہ آپ وہاں جا کر عیش کریں…”
ایزل نے ناک سکیڑتے ہوئے کہا۔
“اور ویسے بھی ایزل اپنی خوبصورت، قیمتی چیزوں کو یوں اکیلا نہیں چھوڑتی…”

یہ کہتے ہی اس نے جیسے ایک دم چینل چینج کیا۔ آنسو ٹشو سے صاف کیے، کمر سیدھی کی اور بالکل دو ٹوک انداز میں بات ختم کی۔

یارم خان نے فوراً اس کی طرف گھور کر دیکھا۔
“قیمتی چیز؟”
اس کی آواز میں ہلکی سی چونک تھی۔
“مطلب میں تمہارے لیے چیز ہوں؟!”

“نہیں…”
ایزل نے فوراً جواب دیا، آواز نرم مگر انداز پُراعتماد تھا۔
“آپ میرے لیے قیمتی ہیں…”

وہ ذرا سا یارم خان کے چہرے کی طرف جھکی، آنکھوں میں شرارت کی ہلکی سی چمک تھی۔ یارم خان نے فوراً خود کو پیچھے کیا، گردن ذرا سی موڑی اور ایک خفیف سا ناگواری بھرا سانس لیا، جیسے اس کی ذاتی اسپیس پر اچانک حملہ ہو گیا ہو۔

گاڑی کے اندر فضا اب ہلکی سی طنزیہ، ہلکی سی شرارتی اور پوری طرح نوک جھونک والی ہو چکی تھی۔

“تو پھر آپ بھی مجھے ڈانٹنا بند کریں…”
ایزل دھمکی آمیز سرگوشی میں بولی۔
“ورنہ یہیں پر آپ کی عزت کا باجو بالا ہو جائے گا۔”

“کیا ہو جائے گا؟”
یارم خان نے اس کی طرف دیکھا، وہ واقعی سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

“باجو بالا؟”
اس کی بھنویں آپس میں جُڑ گئیں۔
“اس کا میننگ کیا ہے؟ اور کہاں سے لاتی ہو تم ایسی لینگویج؟”

ایزل فوراً سیدھی ہو کر بیٹھ گئی، انداز بالکل سنجیدہ ہو گیا، جیسے کوئی اہم وضاحت دینے والی ہو۔
“اس کا میننگ یہ ہے کہ اگر آپ نے مجھے ڈانٹا تو میں آپ کو سب کے سامنے گد گدی کروں گی…”
وہ پورے اعتماد سے بولی۔
“جس سے آپ کی ہنسی چھوٹ جائے گی، عزت کا فالودہ ہو جائے گا، مطلب عزت کا جنازہ نکل جائے …آپ کے سیریس رہنے کا ریکارڈ ٹوٹ جائے گا سب کو پتہ چلے گا آپ کو ہسی بھی آتی ہے ۔۔”

آخر میں اس نے آنکھیں ٹمٹمائیں، ہونٹوں پر معصوم سی مسکراہٹ بکھر گئی۔
یارم خان نے ایک نظر ایزل سے دور کر کے سڑک کی طرف ڈالی، سر تھوڑا سا جھکا ہوا، اور لہجہ سنجیدہ تھا۔
“خبردار، اگر تم نے پبلک پلیس پر کوئی نامناسب حرکت کی…”

ایزل پر رتی برابر بھی اثر نہیں ہوا۔ اس کے ہونٹ بھینچے، آنکھیں چمک رہی تھیں اور چہرے پر ہلکی سی شرارتی مسکراہٹ تھی۔

“کیا پبلک پلیس سے ہٹ کر ایسی نامناسب حرکت کرنے کی اجازت دے رہے ہیں آپ؟” ہینڈ بیک کو گود رکھ کر اس سے کھیلتے ہوئے دانت نکال کر یارم کی بات کو ہوا میں اڑا چکی تھی۔۔

یارم خان نے آنکھیں بڑی کیں اور ایک نظر اس پر ڈالتے ہوئے نفی میں سر کو ہلایا، گاڑی کے اندر سنجیدگی اور تھوڑی چڑچڑاہٹ دونوں محسوس ہو رہی تھیں۔

“مجھے تو لگتا تھا کہ تمہارے عقل والے کچھ سیلز ڈیمج ہیں، مگر افسوس ہوا یہ جان کر کہ تمہارے اندر تو عقل نام کی کوئی چیز ہی نہیں…”اس نے ہلکی سی دھیمی لیکن طنزیہ آواز میں کہا۔

ایزل نے ہنسی کو روکنے کی کوشش کی، ہونٹ بھینچے، اور نظریں یارم جمائے رکھی، مگر آنکھوں میں چمک اور شرارتی مسکراہٹ واضح تھی۔یارم کی سنجیدگی کا ایزل کے چہرے پر ذرا بھی اثر دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

“تمہارے گھر والوں نے خالی ڈبہ میرے ہاتھ میں خالی ڈبہ پکڑا دیا ہے…جس میں عقل نام کی کوئی چیز نہیں ہے…” ایزل کو ہنستے دیکھ کر یارم نے زچ ہو کر کہا اور نظر سائیڈ والے مرر سے باہر مرکوز کر لی۔

“ اگر عقلمند لوگ آپ جیسے ہوتے ہیں ؟تو مجھے عقلمند بننے کی کوئی ضرورت نہیں۔ایزل نے ہونٹ بھینچتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا، ہاتھ ہلکے سے بیگ پر رکھے ہوئے، نظریں سامنے سڑک کی طرف جمائے۔

یارم خان نے سر ہلایا، تھوڑی سی بھنویں چڑھائیں۔
“تم تھکتی نہیں اتنی بک بک کر کے؟”

“آپ تھکتے نہیں اتنا سیریس رہ کر؟” ایزل نے فوراً جواب دیا۔

“خاموش ہو کر بیٹھ جاؤ، ورنہ اُٹھا کر گاڑی سے نیچے پھینک دوں گا…”یارم خان نے جبڑا بھینچا، اسٹیئرنگ پر انگلیاں سخت ہو گئیں۔

ایزل نے منہ کھولا اور لمبا ہااا کہا، تھوڑی حیرانی کے ساتھ، جیسے کہہ رہی ہو: “ہااا… واقعی؟!”

“منہ بند کرو، بہت بری لگ رہی ہو…”
یارم خان نے دھیمی آواز میں کہا اور نظریں سڑک پر جمائے رکھی۔
“آپ کو تو نا… میں منہ کھول کر اچھی لگتی ہوں یا منہ بند کر کے؟ تو کیا فرق پڑتا ہے، پھر منہ بند ہو یا کھلا ہو؟”
ایزل نے شرارت بھرا لہجہ اختیار کیا۔

“مجھے ایک بات ابھی سے بتا دو، کیا تم سارا راستہ ایسے ہی بک بک کرتی جاؤ گی؟”
یارم نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔

“آپ کو تو نا…” ایزل نے شرارت بھرا لہجہ اختیار کیا، “…میں منہ کھول کر اچھی لگتی ہوں یا منہ بند کر کے اچھی لگتی ہوں، تو کیا فرق پڑتا ہے، پھر منہ بند ہو یا کھلا ہو؟”

یارم خان نے دھیرے سے پوچھا، “کیا سارا راستہ تم ایسے ہی بک بک کرتی جاؤ گی؟”

“ہاں، کیونکہ اگر میں خاموش ہو گئی تو پھر مجھے نیند آجائے گی…” ایزل نے اپنی وجہ بتائی، آنکھوں میں ہلکی مسکان کے ساتھ۔

“تو خدا کا واسطہ ہے تم خاموش ہو جاؤ تاکہ تمہیں نیند آئے…” یارم خان نے دونوں ہاتھ جوڑ کر کہا، سنجیدہ لیکن اندر سے پھوٹنے والی ل ہنسی کو روک کر ۔“
“سوچ لیں، اگر میں سو گئی تو میرا سونا آپ کو مہنگا پڑ سکتا ہے۔”
ایزل نے ہلکی مسکان کے ساتھ کہا۔

“مطلب ….یا رم نے حیرانی سے آنکھیں پھیلائیں۔

“مطلب کہ سونے کے لیے مجھے تکیہ چاہیے ہوتا ہے، یا پھر آپ کا کندھا بھی کام چل جائے گا۔”

ایزل پہلی بار یارم کے ساتھ اکیلی جا رہی تھی، اتنی دور اور ایسی صورتحال میں، اور وہ یقینی طور پر اسے تنگ کیے بغیر نہیں رہ سکتی تھی۔

“منہ بند کرو اور سو جاؤ… سیٹ ہے، سر لگا لینا، ساتھ میں تکیہ سمجھ کر…”
یارم نے دھیمی آواز میں کہا، نظریں سڑک پر جمائے رکھی۔
ایزل کی باتیں شرارتی تھیں، لیکن اکتاہٹ بھری نہیں۔ یارم کو شاید یہ باتیں اکتانے والی اس لیے لگ رہی تھیں کہ وہ سنجیدہ مزاج تھا، یا پھر اس کے دل میں عبیرہ کے لیے محبت تھی،وہ اسے ایزل کی شرارتوں اور دل کے قریب جانے سے روک رہی تھی۔

“نہیں، ڈی ایس پی صاحب، مجھے یا تو اوریجنل تکیا پسند ہے، مجھے اسی پر نیند آتی ہے، یا پھر اگر آپ کا کندھا مل جائے تو میں اس پر بھی گزارا چلا لوں گی…”
ایزل نے شرماہٹ کا ڈرامہ کرتے ہوئے انگلی سے دوپٹے کا پلو لپیٹا۔

“قسم سے، میرا دل چاہتا ہے کہ میں…”

“کیا دل چاہتا ہے، مجھ سے پیار بھری باتیں کرنے کو؟”
وہ بیچ میں ہی بول پڑی۔

“کر لیجئے گا، باتیں پوری زندگی پڑی ہیں، باتیں کرنے کے لیے میں کون سا بھاگی جا رہی ہوں۔”
ایزل نے یارم کی بات کو بیچ میں توڑتے ہوئے، اپنے مطلب کا رنگ دے کر خود ہی شرمائے جا رہی تھی۔

یا رم نے نفی میں سر ہلایا، ہنسے بنا نہیں رہ سکا۔
مگر کسی نے نہیں دیکھا، صرف مسکراہٹ تھی جو اس کے ہونٹوں کو چھو کر گزر گئی، اور ایزل اسے دیکھ بھی نہیں سکی تھی۔

یا رم نے نفی میں سر ہلایا، کیونکہ وہ سمجھ چکا تھا کہ ایزل کو چپ کروانا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہے۔ اب وہ بول رہی تھی اور یارم خاموشی سے سنتا رہا۔
ایزل کی اوٹ پٹانگ باتیں، بچوں کی طرح اوپر نیچے ہاتھ کرتے ہوئے اشارے، کہیں سے بھی سنجیدہ شادی شدہ لڑکی نہیں لگ رہی تھیں۔ مگر جو بھی تھا، اس کی یہ حرکتیں، انداز اور باتیں سب یارم پر اثر ڈال رہی تھیں۔

تقریباً ایک گھنٹے کے سفر کے بعد، ایزل خاموش ہوئی۔ یا رم نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا۔

کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ڈرائیونگ کرتے ہوئے یارم بور سا ہونے لگا۔ وہ حیران تھا، کیونکہ وہ ہمیشہ صبر کرنے کا عادی تھا، مگر آج اسے یہ بوریت محسوس ہو رہی تھی۔ اپنے دل پر ذرا سی حیرانی کے بعد اس نے خیالات کو جھٹکا دیا اور ایزل کی جانب دیکھا۔
“کیا سچ میں اسے نیند آگئی ہے؟”
ذرا سا سر جھکاتے ہوئے، ایک ہاتھ اسٹیئرنگ پر رکھ کر اس کی جانب دیکھا۔

نیند میں اس کا سر لڑکھڑا کر اِدھر اُدھر ہو رہا تھا، اور یارم اسے دیکھ رہا تھا۔
اس کے سر کو ہلکا سا ہاتھ کا سہارا دیتے ہوئے، یارم نے اسے سیٹ کے ساتھ سیٹ کر دیا۔
پھر یارم نے اپنا چہرہ کھڑکی کی جانب کر لیا۔

ایک سیکنڈ بعد، ایزل نے اپنا سر یارم کے کندھے پر ٹکا دیا اور ہاتھ، اس کے سینے سے لے جاتے ہوئے، کندھے پر رکھ لیا۔
یارم کو حیرانی ہوئی کہ کیا وہ جاگ رہی تھی۔ اس نے بے اختیار یہ سوچا، پھر اپنا ہاتھ ہٹاتے ہوئے، آہستہ سے کہا،
“ایزل، انسانوں کی طرح بیٹھو۔۔۔”

“میں نے تو کئی ایسے انسانوں کو دیکھا ہے جو اس طرح اپنی بیوی کو کمفرٹیبل کرتے ہوئے سلا لیتے ہیں۔۔۔
میں نے تو ہاتھی گھوڑے کبھی نہیں دیکھے جو ایسے کرتے ہوں۔۔۔”
وہ آرام سے یارم کے گلے لگی ہوئی، کندھے پر سر ٹکائے، آہستہ آواز میں بولی۔
“جب جاگ رہی تھی تو سونے کی ایکٹنگ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟”

“جی نہیں، میں سو رہی تھی، مگر جب آپ نے پیار سے میرے سر کو سیدھا کیا تو میری آنکھ کھل گئی۔”

“تو ٹھیک ہے، اب آپ کھل گئی ہیں تو سیدھی ہو کر اپنی سیٹ پر بیٹھ جاؤ۔ یہ کوئی فلمی شوٹنگ نہیں چل رہی جو میں تمہیں۔۔۔”

“بس کر دیں، پورا راستہ آپ نے مجھے باتیں سنائی، اب بس کر دیں!”
ایزل نے اپنے سر کو کندھے پر رکھتے ہوئے زور سے کہا، آنکھوں میں ہلکی چمک اور شرارت کے ساتھ۔
“چاہے جتنی بھی باتیں سنائیں، میں پیچھے نہیں ہٹوں گی۔ مجھے یہی کندھے پر سر رکھ کر سونا ہے، اور شوہر بیوی کا محافظ اور صاحبان ہوتا ہے۔ چپ کر کے بیٹھیں اور گاڑی چلائیں!”

وہ نیند سے بھری آنکھوں سے ایک نظر دیکھتے ہوئے، ضدی مگر پیار بھرا لہجہ اختیار کیے بولی۔

یارم نے دو تین بار اسے دور ہٹانے کی کوشش کی، مگر وہ سختی سے کندھے سے لگی رہی۔
یارم نےخاموشی اختیار کر لیا۔

کیونکہ اس کے منہ سے نکلے ہوئے جو آخری الفاظ تھے، وہ جھوٹ نہیں تھے۔ وہ اس کا شوہر تھا، اور وہ کچھ بھی غلط نہیں کہہ رہی تھی، نہ ہی اس کا انداز غلط تھا۔ اس بات کی گواہی اس کا اپنا دل دے رہا تھا۔

وہ اس کا سائبان بھی تھا اور محافظ بھی۔۔۔اس بات کو وہ کیسے جھٹلا سکتا تھا؟”وہ ایزل کے بارے میں سوچ رہا تھا، مگر دل پر عبیرہ کی محبت کا سایہ اتنا گہرا تھا کہ جیسے وہ ہمیشہ کے لیے اس کے وجود پر قبضہ جما چکی تھی۔”

اللہ، میرے دل کو صبر عطا کر، تاکہ میں پرسکون رہ سکوں۔ تُو جانتا ہے میرے دل کے حالات، عبیرہ کے لیے میرے جذبات کی شدت، اور اس کی غیر موجودگی کی بے بسی۔ میں نے اسے سچے دل سے چاہا، اسے اپنا ہمسفر بنانا چاہا، مگر وہ مجھ سے دور ہو گئی۔ میری ہر کوشش، ہر قدم، جیسے ہوا میں تحلیل ہو گیا، اور اب نہ وہ میرا مقدر بن سکتی ہے، نہ میں اسے اپنانے کا سوچ سکتا ہوں۔ہر سانس کے ساتھ اس کے لیے دعا گو ہوں،وہ جہاں بھی ہے، اسے اپنی حفاظت میں رکھنا۔

“میرے اللہ ، میرے دل کو ایزل کے لیے نرم کر، جس نے میری زندگی میں اپنی جگہ پائی۔ اب یہ میری ذمہ داری ہے کہ اس کا خیال رکھوں، اسے ہر خوشی میں شریک کروں، اور بروز قیامت تیرے حضور میں شرمندہ نہ ہوں کہ میں شوہر ہونے کے حقوق ادا نہ کر سکا۔ مگر میں انسان ہوں، دل پر جبر نہیں کر پا رہا۔

وہ خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا، دل میں جذبات کا طوفان تھا، اور اس کے کاندھے پر سر رکھے ایزل سکون سے سو رہی تھی۔ کبھی اس کا سر ہلتا تو وہ آہستہ سے اسے اپنی جگہ ٹھیک کر لیتا۔ یہ لمحہ اس کی محبت اور فکر کی خالص شکل کا گواہ تھا۔

ساتھ ہی، عبیرہ کی یاد دل میں موجود تھی، جس کا مقام اب اس کی زندگی میں ممکن نہ تھا۔ اس کے باوجود، وہ دعا کر رہا تھا کہ عبیرہ جہاں بھی ہو، محفوظ اور خوش رہے۔

               ═══════❖═══════

عبیرہ آریان کو آوازیں دیتی ہوئی روتے روتے کب دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے سو گئی، اسے خود بھی خبر نہ ہوئی۔۔۔ آنکھ کھلی تو دل جیسے سینے میں دھڑکنا بھول گیا۔ ایک جھٹکے سے سیدھی ہوئی اور گھبرا کر کمرے کے چاروں طرف دیکھا۔ سب کچھ ویسا ہی تھا۔ خاموش، ساکن، بے حس۔
اور آریان… کمرے میں کہیں نہیں تھا۔

اس کا مطلب صاف تھا۔
وہ اب بھی ٹیرس پر تھا۔
دروازے کے اُس پار… اسی سردی میں۔

اگر وہ اندر آیا ہوتا تو سب سے پہلے اسی دروازے سے گزرتا، اور وہ تو دروازے کی اندرونی جانب ہی بیٹھی تھی۔
اس کے وجود کا احساس اسے ضرور ہوتا۔

عبیرہ نے کانپتی آواز میں دروازے کو تھپتھپایا۔
“آریان… آریان پلیز اندر آ جائیں…”

اس کی نظر گھڑی پر پڑی تو سانس جیسے رک گئی۔
تقریباً تین گھنٹے گزر چکے تھے۔

خود پر شدید غصہ آیا۔
وہ کیسے سو سکتی تھی… کیسے اتنی بے خبر ہو گئی۔

“آریان… آریان… پلیز دروازہ کھولیں…”

اب آواز میں ضبط نہیں رہا تھا۔ آنسو بہتے بہتے ہچکیوں میں بدل چکے تھے۔
مگر باہر… ٹیرس کی طرف سے… مکمل خاموشی تھی۔

اسی خاموشی نے اس کے قدموں تلے سے زمین کھینچ لی۔

وہ ہڑبڑا کر اٹھی اور پورے گھر میں چابیاں تلاش کرنے لگی۔
کبھی ایک دراز، کبھی دوسرا کیبنٹ۔
چابیاں کہیں نہیں مل رہیں تھیں۔

وہ دوڑتی ہوئی واپس دروازے کے پاس آتی، اسے زور زور سے کھٹکھٹاتی، پھر دوبارہ گھر کی طرف بھاگتی۔
مگر باہر سے کوئی جواب نہیں آ رہا تھا۔

“آریان پلیز… دروازہ کھول دیں…
مجھے معاف کر دیں…
میں آئندہ کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہوں گی جو آپ کو تکلیف دے…
پلیز آریان… یہاں آپ کے سوا میرا کوئی نہیں ہے…”

اس کی آواز روتے روتے ٹوٹ رہی تھی۔

اچانک اس کے ذہن میں ایک خیال بجلی کی طرح کوند گیا۔
آریان کی الماری کے اندر، اوپر والی دراز میں…
ایک کی چین۔

وہ تقریباً بھاگتی ہوئی کبرڈ تک پہنچی۔
دراز کھولی… اور وہیں چابیاں موجود تھیں۔
سات آٹھ چابیوں کا ایک گچھا۔

اس نے جیسے کسی قیمتی جان کو پکڑ لیا ہو۔
گچھے کو مضبوطی سے تھامے واپس دروازے کی طرف دوڑی۔

ایک ایک کر کے چابیاں لگاتی رہی۔
ہر بار تالا نہ کھلتا… اور ہر ناکامی کے ساتھ اس کے آنسو تیز ہو جاتے۔

دل ہی دل میں دعائیں…
“یا اللہ… بس کھل جائے…”

آخر…
آخری تین چابیوں میں سے ایک چابی نے تالا گھما دیا۔

دروازہ کھلا۔

اس نے چابیوں کا گچھا زمین پر گرا دیا اور لڑکھڑاتے قدموں سے ٹیرس میں داخل ہوئی۔

سامنے کا منظر دیکھ کر اس کے قدم جیسے جم گئے۔

آریان…
دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے، بے سد پڑا تھا۔
جسم بے ترتیب، سر ایک جانب جھکا ہوا۔

اس کے قدموں تلے سے جان نکل گئی۔

قریب ہی ایک خالی شراب کی بوتل پڑی تھی۔
اردگرد سگریٹ کے جلے ہوئے ٹکڑے بکھرے تھے۔
وہ سب کچھ… سب کچھ ختم کر چکا تھا۔

وہ گھبرا کر اس کے پاس پہنچی۔
اس کے چہرے کو تھپتھپایا۔

“آریان… پلیز آنکھیں کھولیں…
آریان…”

اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
وہ اس کے چہرے کو سہلاتی، تھپتھپاتی رہی۔

اس کا چہرہ…
برف کی طرح ٹھنڈا تھا۔

دل میں ایک خوفناک خیال آیا، جسے وہ مکمل ہونے سے پہلے ہی جھٹک دینا چاہتی تھی۔
آنکھوں سے آنسو بہہ کر اس کے پورے چہرے کو بھگو رہے تھے۔

“آریان پلیز… ہوش میں آئیں…
یہاں آپ کے سوا میرا کوئی نہیں ہے…
مجھے یقین آ گیا ہے کہ آپ مجھے سچ میں پیار کرتے ہیں…
مجھے معاف کر دیں…”

وہ ٹوٹے ہوئے جملوں میں بول رہی تھی۔
اور سامنے آریان… اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ پڑا تھا۔

وہ اسے اٹھا کر اندر لانا چاہتی تھی، مگر اس کا جسم جیسے اپنی جگہ جما ہوا تھا۔

کہاں چھ فٹ کا لمبا چوڑا، بھاری جسامت کا مرد…
اور کہاں نازک سی عبیرہ۔

مگر آج اس کے اندر ایک عجیب سی طاقت آ گئی تھی۔
وہ ہر حال میں اسے بچانا چاہتی تھی۔

بمشکل اسے کھینچتے ہوئے وہ کمرے کے اندر لے آئی۔
سانس پھول چکی تھی۔

کسی طرح اسے بیڈ تک پہنچایا۔
بازؤں کے نیچے سے ہاتھ گزار کر، سینے کے گرد باندھ کر، پوری قوت لگا کر اسے اوپر کھینچا۔

آدھا جسم بیڈ پر آیا، ٹانگیں نیچے لٹک رہی تھیں۔
وہ ہانپتی ہوئی نیچے اتری، جوتے اتارے، پھر دوبارہ زور لگا کر اسے مکمل طور پر بیڈ پر لٹایا۔

تکیہ درست کیا۔
اس کا سر نرمی سے اس پر رکھا۔

وہ خود بھی بری طرح ہانپ رہی تھی۔
اور آریان… بے سد۔

کمرہ ہیٹر کی وجہ سے گرم تھا۔
اس نے اس پر ڈبل کمبل ڈال دیا۔

کبھی اس کے پیروں کو رگڑتی،
کبھی اپنی نازک ہتھیلیاں اس کے مضبوط ہاتھوں پر پھیرتی۔

مگر کوئی اثر نہیں۔

اس کا جسم…
اور ہونٹ…
نیلے پڑ چکے تھے۔

تین گھنٹے…
منفی بائیس ڈگری میں۔

یہ کتنا جان لیوا ہو سکتا ہے، وہ سب جانتی تھی۔

“یا اللہ… میں کیا کروں…
کس کو مدد کے لیے بلاؤں…”

کانپتے ہاتھوں سے اس نے آریان کا فون اٹھایا۔
نمبر ملانے لگی… مگر کال نہیں جا رہی تھی۔

اس نے سوچا کسی آفس والے نمبر پر کال کر لے۔
فون میں نہ کوئی پاسورڈ تھا، نہ فنگر پرنٹ…
پھر بھی وہ فون اس کی اجازت کے بغیر کسی اور کے لیے بے کار تھا۔

وہ تھک کر بیٹھ گئی۔

خیال آیا باہر جا کر کسی پڑوسی سے مدد مانگ لے۔
پھر رک گئی۔

وہ کسی کو نہیں جانتی تھی۔
آریان بھی کسی سے میل جول نہیں رکھتا تھا۔

وہ اکیلی لڑکی…
اپنی حفاظت کیسے کرتی۔

وہ ہزاروں خیالوں میں گھری ہوئی تھی۔

اسی لمحے اسے شدت سے احساس ہوا…
کہ اس بے سد پڑے ہوئے شخص کی موجودگی میں وہ کتنی بے خوف تھی۔

ہر لمحہ…
ہر قدم…

اسے یقین ہوتا تھا کہ کوئی ہے…
جو اسے دیکھ رہا ہے،
جو اس کی حفاظت کر رہا ہے۔

حتیٰ کہ جب آریان آفس جاتا تھا…
تب بھی وہ خوفزدہ نہیں ہوتی تھی۔

کیونکہ وہ جانتی تھی…
گھر میں نصب کیمروں کے ذریعے…
آریان ہر لمحہ اسے دیکھ رہا ہوتا تھا۔

عبیرہ کی نظریں بار بار آریان کے چہرے پر جا ٹھہرتی تھیں۔ سانسیں بہت مدھم تھیں، جیسے ہر لمحہ ٹوٹ جانے کو ہوں۔ دل کے اندر خوف کی ایک سرد لہر دوڑ گئی۔ اس وقت سوچنے کا وقت نہیں تھا، بس اسے بچانا تھا۔

وہ آہستگی سے اس کے قریب بیٹھی۔ ہاتھوں کی لرزش کو قابو میں لاتے ہوئے اس نے آریان کے سرد ہاتھ تھامے، اپنی ہتھیلیوں کے درمیان رکھ کر نرمی سے رگڑنے لگی۔ وہ جانتی تھی کہ جسم میں حرارت لوٹانا کتنا ضروری ہے۔ کبھی اس کے پاؤں سہلاتی، کبھی ہاتھوں کو اپنے گرم ہاتھوں میں دبا کر چہرے تک لے آتی اور پھر وہی حرارت اس کے ٹھنڈے رخساروں پر رکھ دیتی۔

کمبل ایک طرف ہٹ چکا تھا۔ عبیرہ نے بڑی احتیاط سے آریان کی ٹھنڈی شرٹ کو ذرا سا کروٹ دے کر درست کیا، جیسے کسی زخمی وجود کو چھیڑتے ہوئے ڈر لگتا ہو۔ پھر اس پر گرم کمبل ٹھیک طرح اوڑھا، خود بھی بالکل قریب ہو کر بیٹھ گئی تاکہ اس کے وجود سے نکلتی ہوئی معمولی سی گرمی بھی اسے ملتی رہے۔

اس لمحے وہ کسی اور خیال میں نہیں تھی۔ نہ شرم، نہ جھجک، نہ کوئی اور احساس۔ بس ایک ہی فکر… یہ سانسیں چلتی رہیں۔ یہ وجود زندگی کی طرف لوٹ آئے۔

کافی دیر بعد اس نے محسوس کیا کہ آریان کی سانسوں میں ذرا سی روانی آئی ہے۔ سردی کی وہ شدت کم ہوئی، جیسے جسم نے آہستہ آہستہ جواب دینا شروع کر دیا ہو۔ عبیرہ نے شکر کے جذبے سے آنکھیں بند کر لیں۔

وہ اب بھی اس کے بالکل قریب بیٹھی تھی، خاموش، ثابت قدم… ایک محافظ کی طرح۔ اس لمحے اس کے لیے آریان صرف ایک انسان تھا جسے زندگی کی ضرورت تھی، اور وہ اپنی پوری توجہ، پوری ہمت کے ساتھ، اسی ایک مقصد پر قائم تھی۔

═══════❖═══════۔

                Ye qist novel “Saleeb Sukoot” ki aik qist hai.
Mukammal aur agli qist ke liye category “Saleeb Sukoot” dekhein.
Nai qist har Itwaar shaam 8:00 baje publish hoti hai.

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *