Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:1

رازِ وفا
از قلم: زویا علی شاہ
قسط نمبر: 1
°°°°°°°°
وسیع و عریض حویلی کے آنگن میں اس وقت خاموشی کا راج تھا۔ رات کے پہر میں بھی یہ حویلی جگمگا رہی تھی، مگر اس روشنی میں چھپے اندھیرے کو کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ وہ اندھیرے، جو یہاں کے مکینوں کے دلوں میں طوفان کی صورت پنپ رہے تھے۔

“ابا سائیں! میں کبھی بھی “نایاب” کو قبول نہیں کروں گا!”
“زیغم سلطان” کی دھاڑتی ہوئی آواز حویلی کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آئی۔ سامنے، قدیم لکڑی کی بنی ہوئی کرسی پر بیٹھے “سلطان لغاری” نے بیٹے کی یہ سرکشی سنی تو اس کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے حیرت ابھری، مگر اگلے ہی پل وہی پرانی سختی چہرے پر لوٹ آئی۔ وہ شخص، جس کے ایک اشارے پر پورا علاقہ سر جھکا دیتا تھا، آج اس کا اپنا بیٹا اس کے فیصلے کے خلاف کھڑا تھا۔

“زیغم!” آواز نیچے رکھ!”
“سلطان لغاری” کی گرجدار آواز میں ایسی دھاک تھی کہ حویلی کے ملازمین تک سہم کر رک گئے۔

“ہم نے تیری یہ تربیت نہیں کی کہ تُو ہمارے فیصلوں کے آگے زبان چلائے!”
“زیغم” کی مٹھیاں سختی سے بھینچ گئیں، مگر وہ اپنی جگہ ڈٹا رہا۔ آنکھوں میں بغاوت کی چنگاری ضرور تھی، مگر وہ سرکش نہیں تھا۔ وہ “نایاب” سے رشتہ جوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ “نایاب”، جسے اس نے کبھی بھی پسند نہیں کیا، اس کے ساتھ نکاح کے لیے اسے مجبور کیا جا رہا تھا۔۔۔۔ اور اسے مجبور کرنے والا کوئی اور نہیں، اس کا اپنا باپ تھا۔
“سلطان لغاری” نے ایک گہری سانس لی، جیسے خود کو قابو میں لانے کی کوشش کر رہا ہو۔ کچھ دیر خاموش رہا، پھر اگلے ہی لمحے اپنی پگڑی اتار کر “زیغم” کے قدموں میں رکھ دی۔

“نایاب” کو قبول نہ کرنے کا مطلب ہے کہ تیری بہن کی عزت پر “شہرام” کبھی چادر نہیں ڈالے گا۔ میری اس پگ کی لاج رکھ لے، “زیغم!”
وہ لمحہ جیسے وقت کو منجمد کر گیا تھا۔”زیغم” نے قدموں میں پڑی اس پگڑی کو دیکھا، وہی پگڑی جو اس کے باپ کی غیرت، اس کے خاندان کی عزت کی پہچان تھی۔
“زیغم” کی سانسیں بے ترتیب ہو گئیں، اس نے پلکیں موند لیں، اپنے صبر، اپنے غصے پر بند باندھنے کی کوشش کی۔ آج وہ اس مقام پر کھڑا تھا جہاں سے نہ آگے بڑھ سکتا تھا، نہ پیچھے ہٹ سکتا تھا۔ نہ تو وہ اپنے باپ کی نافرمانی کر سکتا تھا اور نہ ہی فرمانبردار بیٹے کی طرح “نایاب” کو قبول کر سکتا تھا۔ چند لمحوں کے توقف کے بعد، ایک تلخ ہنسی اس کے ہونٹوں پر بکھر گئی۔

“ابا سائیں، اس سے اچھا تھا کہ آپ کہہ دیتے “زیغم” زہر پی لے!”
اس کے لہجے میں کڑواہٹ تھی، آنکھوں میں بے بسی کی اذیت تھی۔

“آپ کی عزت، آپ کی خوشی کی خاطر، “زیغم” اُف کیے بغیر زہر کے پیالے کو گلے سے اتار دیتا!”
“سلطان لغاری” نے آنکھیں بند کر کے ایک گہری سانس لی۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا بیٹا تکلیف میں ہے، مگر اس وقت وہ یا تو اپنی بیٹی کی عزت بچا سکتا تھا یا پھر “زیغم” کے ٹوٹے دل پر مرہم رکھ سکتا تھا۔ بیٹی کی عزت کے سامنے “زیغم” کا دل توڑنا پڑ رہا تھا۔ “زیغم” نے ایک جھٹکے سے قدموں میں پڑی پگڑی اٹھائی اور اپنے باپ کے ہاتھ میں تھما دی۔

“قبول ہے، ابا سائیں۔ آپ کی عزت کی خاطر، قبول ہے!”
حویلی کے صحن میں موجود ہر فرد نے یہ منظر دیکھا، مگر کسی میں کچھ کہنے کی ہمت نہ تھی۔ “زیغم” کہیں دور نکل گیا تھا، جیسے اس لمحے سے فرار چاہتا ہو، مگر حقیقت سے بھاگنا ممکن نہیں تھا۔
°°°°°°°°°
چار سال بعد__
وقت کے بے رحم پہیے نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا تھا۔
چار سال بعد، “زیغم سلطان” ایک بار پھر پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھ چکا تھا۔ یہ وہی زمین تھی جہاں ایک وقت میں اس کے ہر خواب کی جڑیں تھیں، مگر آج یہ زمین اجنبی محسوس ہو رہی تھی۔ گاڑی کے اندر بیٹھے، وہ خاموشی سے کھڑکی کے پار تیزی سے بدلتے مناظر کو دیکھ رہا تھا۔ وہی سڑکیں، وہی گرد و غبار، وہی منظر، مگر کچھ بھی پہلے جیسا نہیں تھا۔ دل کے کسی کونے میں اب بھی وہ چبھتی ہوئی یادیں تازہ تھیں—وہی نکاح، جو اس کی مرضی کے خلاف ہوا تھا، وہی لمحہ جب اس کے باپ نے اپنی پگ اس کے قدموں میں رکھ دی تھی، وہ بے بسی، وہ بغاوت، وہ زخم جو چار سال میں بھی نہیں بھرے تھے مگر آج وہ “زیغم سلطان”، جو اپنے خوابوں کے تعاقب میں ملک چھوڑ کر چلا گیا تھا، اب ایک بدلا ہوا شخص تھا۔ وہ جانتا تھا کہ حویلی میں اب نہ وہ ماں تھی جو جاتے ہی اس کا ماتھا چومتی، نہ وہ باپ جس کی گرجدار آواز کبھی اس کے لیے دنیا کی سب سے بڑی طاقت تھی۔ سب کچھ بدل چکا تھا۔ ایک بہن تھی، مگر بدنامی کے داغ کے ساتھ۔۔۔ رشتے تھے، مگر بے وفائی کی مٹی میں لتھڑے ہوئے۔ وہی لوگ جو کبھی اپنے کہلاتے تھے، آج دولت کی چمک میں اندھے ہو کر دشمنی پر اتر آئے تھے اور——— انہی دشمنوں کے گھر کا داماد تھا “زیغم سلطان۔”
گاڑی حویلی کی طرف بڑھ رہی تھی، اور زیغم وقت کے پنوں سے لفظوں کو پڑھتے ہوئے، گزرے لمحات کی تلخیوں کو دل میں سموتے ہوئے، خاموشی سے اپنے ماضی کی دہلیز پر قدم رکھنے والا تھا۔
°°°°°°°
وسیع و عریض حویلی کے در و دیوار اس رات ایک نئی کہانی کے گواہ بن رہے تھے۔
زمین پر گری وہ 18 سالہ معصوم لڑکی، جس کا وجود خوف سے لرز رہا تھا، جس کے آنسو اس کے دامن میں جذب ہو رہے تھے، وہ اپنے لرزتے ہاتھ جوڑ کر التجا کر رہی تھی۔

“ہاتھ جوڑتی ہوں، سائیں! ایسے مجھے ذلیل نہ کریں، میں ایسی نہیں ہوں!”
“میں غریب ضرور ہوں، مگر عزت دار ہوں!”
اس لڑکی کی گھٹی گھٹی آواز حویلی کی بڑی دیواروں میں دب کر رہ گئی تھی۔
سامنے کھڑا وہ 60 سالہ شخص، جس کے چہرے پر دولت اور اختیار کا گھمنڈ سایا کیے ہوئے تھا، ایک مکروہ ہنسی کے ساتھ آگے بڑھا۔

“اِدھر آ، تیرے کو نوٹوں کے ساتھ تول دوں گا!”
“تُو اتنی حسین ہے، اتنی خوبصورت۔۔۔تُو اپنی اداؤں کو بیچ، اپنے جسم کو بیچ!”
“تُجھے کیا ضرورت ہے یوں ہاتھ جوڑنے کی؟”
اس لڑکی نے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑانے کی کوشش کی، دوپٹہ مضبوطی سے اپنے وجود کے گرد لپیٹ لیا، اور پیچھے ہٹ گئی۔

“نہ کریں، سائیں! میں آپ کے پیر پڑتی ہوں۔۔۔”
مگر وہ درندہ ایک زہریلی ہنسی ہنسا۔

“چل چپ کر! تیرے جیسیوں کے منہ سے غیرت کی بات اچھی نہیں لگتی!”
اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں، وہ لڑکھڑاتی ہوئی دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔ مگر جانتی تھی، یہ بھاگنا صرف لمحوں کا ہے۔۔۔ کیونکہ غریب ہونا، اس معاشرے میں سب سے بڑا جرم تھا!
°°°°°°°°
کمرے میں جلتے بلب کی مدھم روشنی ماحول کو اور بھی بوجھل بنا رہی تھی۔ فرش پر گری “دانیا” کے گال پر “شہرام” کی انگلیوں کے نشان واضح ہو چکے تھے۔ وہ ہلکی ہلکی سسکیاں لے رہی تھی، مگر “شہرام” کی آنکھوں میں کوئی نرمی نہیں تھی۔

“تمہیں آتا کیا ہے؟”
“کچھ آتا بھی ہے یا نہیں؟”
“شہرام” کا زہریلا طنز میں گھلا لہجہ “دانیا” کو مزید خوفزدہ کر رہا۔
“دانیا” نے لرزتے لبوں سے کچھ کہنے کی کوشش کی، مگر “شہرام” نے قدم بڑھا کر اس کے بالوں کو سختی سے جکڑ لیا اور جھٹکے سے اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا۔

“شہرام سائیں…” میرے ہاتھ میں زخم ہے، اس لیے ٹھیک سے پاؤں نہیں دبائے جا رہے… میں جان بوجھ کر ایسا تو نہیں کر رہی…”
وہ بے بسی سے آنکھوں میں آنسو لیے التجا کر رہی تھی مگر “شہرام” کے چہرے پر مکروہ ہنسی پھیل گئی۔ اس نے جیب سے لائٹر نکالا اور آگ جلاتے ہوئے سرخ آنکھوں سے دانیا کو گھورا۔

“زبان تو بہت اچھے سے چل رہی ہے نا؟
“اس پر بھی زخم ہونے چاہیے!”
وہ غرایا۔
“دانیا” خوف کے مارے دیوار سے جا لگی، اس کے ہاتھ جوڑے کانپ رہے تھے۔

“پلیز سائیں، مجھ پر رحم کریں… ایسے ظلم نہ کریں…”
اس کی سسکیاں “شہرام” کو مزید وحشی بنا رہی تھیں۔جانوروں کی طرح اس کی تکلیف پر قہقہے لگا کر ہنس رہا تھا۔”شہرام” انسان کہلانے کے لائق تو بالکل نہیں تھا۔

“ظلم؟ میں ظلم کرتا ہوں؟”
“ظالم ہوں میں؟”
“شہرام” نے ایک زہریلا قہقہہ لگایا اور ایک جھٹکے سے آگے بڑھ کر “دانیا” کو دوبارہ بالوں سے کھینچ کر زمین پر پٹخ دیا۔
اس کا نازک سا وجود زمین پر گرتے ہی جیسے ٹوٹ کر بکھر گیا تھا۔ وہ درد سے تڑپ گئی۔ صبح ہی تو “قدسیہ” بیگم نے اس کے ہاتھوں پر گرم چائے گرا دی تھی، ابھی ان زخموں کی جلن کم بھی نہیں ہوئی تھی کہ شوہر نے بھی ظلم کی انتہا کر دی۔ وہ درندوں میں قید ایک بے بس پرندے کی مانند تھی، جس کے پاس نہ ماں کا سایہ تھا، نہ باپ کا سہارا۔ ایک بھائی تھا، مگر وہ بھی ملک سے باہر تھا، اور ظالموں نے اسے بدزن کر کے دور کر دیا تھا۔ وہ اپنے بھائی کو سب کچھ بتانا چاہتی تھی، مگر اسے بتانے بھی کب دیا جاتا تھا۔ جب بھی “زیغم” کا فون آتا، “شہرام” پستول کان پر رکھ دیتا، اور وہ چاہ کر بھی کچھ نہ کہہ پاتی۔
اوپر سے ان کی پھیلائی ہوئی بدگمانیاں ایسی تھیں کہ “زیغم” خود بھی “دانیا” سے کھنچا کھنچا رہنے لگا تھا۔ وہ بے بسی کی انتہا پر تھی، مگر شاید اس ظلم کی رات کے بعد کوئی نیا سورج طلوع ہونے والا تھا۔ “دانیا” کا وجود زمین پر گرتے ہی جیسے کرچیاں کرچیاں ہو گیا تھا۔ آنکھوں میں آنسو، بدن پر زخم، اور دل میں ٹوٹنے کا شدید احساس… وہ بے بسی کی تصویر بنی زمین پر پڑی رہی، مگر “شہرام” کی درندگی ابھی باقی تھی۔

“اٹھ!”
“شہرام” نے گھٹنوں کے بل جھک کر اس کے بال مٹھی میں جکڑ لیے۔ وہ درد سے تڑپ گئی، مگر زبان پر کوئی شکوہ نہ آیا۔ جانتی تھی، شکوہ کرنے کا حق بھی نہیں تھا اس کے پاس۔

“زبان باہر نکال!”
“شہرام” کے لہجے میں وحشت تھی۔ ہاتھ میں پکڑے لائٹر کی چمک اس کے وحشی ارادوں کی عکاسی کر رہی تھی۔

“نہیں… پلیز نہیں!”
“دانیا” نے کانپتے ہوئے سر نفی میں ہلایا، آنکھوں میں بے پناہ خوف تھا۔

“حد سے زیادہ باتیں کرنے لگی ہے تُو!”
“زبان جلا دوں گا، پھر خود ہی چپ ہو جائے گی!”
“شہرام” کے چہرے پر درندگی ناچ رہی تھی۔
“دانیا” دیوار سے لگی، لرزتی ہوئی کانپنے لگی۔”اتنا ظلم؟ کیا یہی اس کی قسمت تھی؟” اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ “شہرام” نے غصے سے “دانیا” کو جھٹکا دے کر چھوڑا اور دروازے کی طرف بڑھا۔ “قدسیہ” بیگم اندر داخل ہوئیں۔ چہرے پر سختی، آنکھوں میں زہر بھرا تھا۔

“یہ لڑکی ابھی تک زندہ ہے؟”
وہ نفرت سے “دانیا” کو گھورتے ہوئے بولی۔

“ماں جی، بس ابھی اس کی زبان بند کر رہا تھا۔”
“شہرام” نے مکروہ ہنسی ہنسی۔

“زبان بند کرنے کی ضرورت نہیں، یہ خود ہی بولنا بند کر دے گی۔ کل رات کے بعد۔”
“قدسیہ” کے لہجے میں پراسراریت تھی۔”دانیا” نے خوفزدہ نظروں سے ساس کو دیکھا۔

“کل رات؟”
اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔

“ہاں، کل رات تمہارا نصیب بدلنے والا ہے۔”
“قدسیہ” نے ایک شیطانی مسکراہٹ دانیا پر اچھالی۔
دروازہ بند ہو چکا تھا، مگر دانیا کی سانسیں اب بھی بے ترتیب تھیں۔ “قدسیہ” اور “شہرام” کے لفظوں کی بازگشت اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔
“منہوس شکل اور منہوس رونا…”
اس کے زخموں سے ٹپکتے درد سے زیادہ یہ الفاظ دل پر لگے تھے۔ وہ بے بسی کی تصویر بنی زمین پر بیٹھ گئی، اپنا وجود سمیٹ کر دیوار سے ٹیک لگا لی۔ آنکھوں میں بے اختیار آنسو آ گئے۔

“آخر میری خطا کیا ہے؟”
وہ خود سے سوال کر رہی تھی، مگر جواب دینے والا کوئی نہیں تھا۔ “کل رات…؟” “قدسیہ” کے کہے گئے الفاظ اسے مسلسل بے چین کر رہے تھے۔ “کل رات کیا ہونے والا ہے؟” وہ خوف میں گھری سوچتی رہی، مگر ذہن کے پردے پر صرف اندھیرا تھا۔

(سندھی لینگویج)
(” زيغم پائي، خُدا جي واسطي واپس اچو…! ڏسو، هيءُ ماڻهو مونکي بہ مارڻ جو منصوبو ٺاهي رهيا آھن…!“)
(اردو ٹرانسلیٹ)
(” زیغم بھائی، خدا کے واسطے واپس آجائیں…! دیکھیں، یہ لوگ مجھے بھی مارنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں…!”)
“دانیا” تنہائی میں، ظلم و ستم سہتے ہوئے، دل میں اپنے بھائی “زیغم” کو پکار رہی تھی۔ آنکھوں میں آنسو، دل خوف اور بے بسی سے بھرا ہوا تھا۔ وہ دل ہی دل میں دعا کر رہی تھی کہ اس کا بھائی واپس آ جائے اور اسے اس ظلم سے بچا لے لیکن اسے معلوم تھا کہ “زیغم” کو حقیقت کا علم نہیں۔ نہ ہی یہ لوگ چاہتے تھے کہ اسے حقیقت کا پتہ چلے۔ “دانیا” کی خاموش چیخیں بس دل میں ہی دب کر رہ گئی تھی، کیونکہ جب بھی وہ “زیغم” سے بات کرنے کی کوشش کرتی ، اسے دھمکیوں سے خاموش کر دیا جاتا۔
پتہ نہیں کیوں، مگر آج “دانیا” نے ہمت ہار دی تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ یہ اس کی زندگی کی آخری رات ہے۔ آنکھوں سے آنسو بہتے جا رہے تھے، اور سسکیاں حلق میں گھٹتی جا رہی تھیں۔ جسم درد سے ٹوٹ رہا تھا، مگر اب یہ تکلیف بھی بے معنی لگنے لگی تھی۔فرش کی ٹھنڈی سطح پر بے بسی سے لیٹی، وہ دیوار سے سر ٹکائے بس خلا میں گھور رہی تھی۔ آنکھوں میں ویرانی تھی، دل میں مایوسی۔ شاید صبح ہونے سے پہلے ہی اس کی قسمت کا فیصلہ ہو جانا تھا۔ شاید اب کوئی معجزہ بھی اسے ان درندوں سے نہ بچا سکتا تھا…

“بابا سائیں… دیکھ لیں، آپ کی لاڈلی کا اختتام کیا ہو رہا ہے۔”
“دانیا” نے فرش پر پڑے پڑے آنکھیں موند لیں، آنسو بہتے جا رہے تھے، مگر کوئی دیکھنے والا نہیں تھا، کوئی سننے والا نہیں تھا۔
“بہت جلد میں بھی آپ کے پاس آ جاؤں گی… اچھا ہی ہوگا، ان تکلیفوں سے جان چھوٹ جائے گی…”
ہونٹ کپکپائے، دل میں ایک کسک اٹھی، اور “زیغم” کا چہرہ آنکھوں میں گھوم گیا۔
“مگر “زیغم” بھائی کا کیا ہوگا…؟”
وہ تو بے خبر تھا، اسے تو کچھ معلوم ہی نہ تھا کہ اس کی بہن پر کیا قیامت ٹوٹ رہی ہے۔ اگر جان بھی گیا تو… کیا وہ اسے بچا پائے گا؟
کیا وہ وقت پر پہنچ سکے گا؟
اندھیرے میں آنکھیں بند کیے وہ دل ہی دل میں اپنے بھائی کو پکارنے لگی، شاید اس کی صدا کسی معجزے کا سبب بن جائے… شاید “زیغم” واپس آ جائے… شاید یہ ظلم رک جائے… مگر امید کی آخری کرن بھی مدھم پڑتی جا رہی تھی۔

(سندھی لینگویج)
“زیغم” ڀائي، غلط فهميءَ جا پردا هٽايو، هڪ ڀيرو مون سان ملي ته صحيح، مان اوهان کي ٻڌائيندس ته ڪهڙا ڪهڙا ظلم ڪيا ويا آهن. “زیغم” ڀائي، خدا لاءِ واپس اچو!”
(اردو ٹرانسلیٹ)
“زیغم” بھائی، غلط فہمی کے پردے ہٹائیں، ایک بار مجھ سے ملیں تو سہی، میں آپ کو بتاتی کہ مجھ پر کیا کیا ظلم کیے گئے ہیں۔ “زیغم” بھائی، خدا کے لیے واپس آ جائیں!”
یہ الفاظ “دانیا” کے دل سے نکل رہے تھے، اس کی آواز چاہے باہر نہ آ رہی ہو، مگر اس کا دل بار بار اپنے بھائی کو پکار رہا تھا۔ آنکھوں میں آنسو، دل میں درد، اور ذہن میں بے شمار سوالات… کیا “زیغم” بھائی واپس آئیں گے؟ کیا وہ سن بھی سکیں گے کہ اس کی بہن کس حال میں ہے؟ اگر وہ آ بھی گئے، تو کیا تب تک بہت دیر ہو چکی ہوگی؟
کبھی کبھی انسان اتنا بے بس ہوتا ہے ہزاروں سوال ہوتے ہیں مگر ان کا جواب دینے والا کوئی نہیں ہوتا ایسی بے بسی کی زندگی “دانیا” گزار رہی تھی؟
°°°°°°°°°
رات کی خاموشی میں سندھ کی اس وسیع و عریض حویلی کا حسن اپنی پرانی روایات کے ساتھ اور بھی گہرا محسوس ہو رہا تھا۔ پرانی اینٹوں سے بنی ہوئی دیواریں، لکڑی کے بڑے دروازے، اور آنگن میں لگے دیسی قمقمے ایک الگ ہی منظر پیش کر رہے تھے۔ حویلی میں آج بھی وہی قدیم رواج قائم تھے، جو نسلوں سے چلے آ رہے تھے۔
“سلمہ” بیگم اپنی چپلوں کی کھٹ کھٹ کے ساتھ صحن میں ٹہلتی جا رہی تھیں۔ ان کے ہاتھ میں ایک بڑا سا روایتی ہاتھ کا بنا ہوا پنکھا تھا، جسے وہ زور زور سے جھل رہی تھیں۔ ان کی نظریں ہر چیز پر تھیں، ہر کام کا معائنہ ان کی عادت میں شامل تھا۔

“او ماسی “زہرہ!” یہ برتن کیا یہاں دھو رہی ہے؟”
“دس بار کہا ہے کہ برتن صحن میں نہیں، باہر والے چبوترے پر دھونا!”
ماسی “زہرہ” نے جلدی سے ہاتھ جوڑ دیے۔ وہ جانتی تھی کہ “سلمہ” بیگم کو پرانی روایتوں کے خلاف ایک لفظ بھی سننا گوارا نہیں۔ چبوترہ حویلی کے بیرونی حصے میں تھا، جہاں بڑے بڑے مٹی کے گھڑے رکھے رہتے، اور پانی کی بڑی ناند میں برتن دھوئے جاتے تھے۔
ماسی “زہرہ” جلدی سے دوپٹہ درست کرتی، برتن اٹھا کر باہر کی طرف بھاگ گئی۔ “سلمہ” بیگم نے فخر سے سر جھٹکا، جیسے کوئی بہت اہم کام انجام دیا ہو۔ حویلی کے ایک کونے میں، لکڑی کے تخت پر دو نوکر بیٹھے سبزی کاٹ رہے تھے، ان کے پاس ہی ایک دیسی چکی رکھی تھی، جس میں آٹا پسنے کا کام رات کو ہی مکمل ہوتا، تاکہ صبح تازہ روٹیاں پک سکیں۔ “سلمہ” بیگم کی نظر جیسے ہی ان پر پڑی، وہ رُک گئیں۔

“اوہ ہو! ارے یہ ٹماٹر کیسے کاٹ رہے ہو؟ بڑا بڑا ٹکڑا؟”
“ہائے اللہ! بس میرے ہوتے ہوئے یہ ناچاکی نہیں چلے گی۔”
وہ خود جا کر بیٹھ گئیں، اور ایک ٹماٹر اٹھا کر اس کے باریک ٹکڑے کر دیے۔ دونوں نوکروں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا اور سر جھکا لیا۔

“سندھ کی بیٹیاں عقل میں تیز ہوتی ہیں، سمجھے؟”
“اب دیکھو، کھانے کا مزہ کیسے دوبالا ہوگا!”
وہ پنکھا جھلاتے ہوئے پھر سے اپنے مخصوص انداز میں چلنے لگیں۔ باورچی خانہ ایک کھلی جگہ پر بنا تھا، جہاں پرانے مٹی کے چولہے جل رہے تھے، اور دھوئیں کی خوشبو ہوا میں گھلی ہوئی تھی۔

“ارے بہراں! ہانڈی کو چمچ سے ہلاؤ، ایسے نہیں جیسے بھینس کو نہلا رہے ہو!”
“کھانے میں محبت ہو تو مزہ آتا ہے۔”
باورچی گھبرا کر جلدی سے ہانڈی کو چمچ سے صحیح طریقے سے ہلانے لگا۔ “سلمہ” بیگم نے ایک بار پھر فخر سے سر جھٹکا اور آگے بڑھ گئیں۔
ان کے قدم جیسے ہی اندرونی حصے کی طرف بڑھنے لگے، تو ایک پل کو رُک گئیں، جیسے کچھ محسوس ہوا ہو۔ ان کی نظریں صحن میں لگے دیسی لالٹینوں پر پڑیں، جو روشنی پھیلا رہی تھیں۔ حویلی کے روایتی رواج اور اس کی شان و شوکت برقرار رکھنے میں انہیں فخر محسوس ہو رہا تھا۔

“بس! میرے جیتے جی یہ روایات نہیں بدل سکتیں!”
یہ کہتے ہی وہ اپنی چپلوں کی کھٹ کھٹ کے ساتھ اندرونی حصے میں غائب ہو گئیں، اور حویلی کی روایتی شام ایک بار پھر رات کے سائے میں ڈھلنے لگی۔
“سلمہ لغاری” خود کو بہت سمجھدار خاتون سمجھتی تھی۔ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی سلمہ طلاق لے کر مائکے واپس لوٹ آئی تھی۔ اس وقت سے لے کر وہ اپنے آپ کو گھر کی مالکن ہی سمجھتی تھی، جبکہ سب کو پتہ تھا کہ “سلمہ” میں کتنی عقل ہے۔ اپنی کم عقلی کو بھی وہ عقلمندی میں ڈھالنے میں ماہر تھی۔
°°°°°°°°
سرد ہوا کے ہلکے جھونکوں کے ساتھ کراچی کی رات اپنے سحر میں تھی۔ ایئرپورٹ کے باہر گاڑیوں کا شور، لوگوں کی گہما گہمی اور شہر کی روشنیوں کے درمیان ایک شخص خاموشی سے کھڑا تھا، جیسے اس زمین کو پھر سے محسوس کرنا چاہتا ہو، جیسے اس ہوا میں وہ کچھ ڈھونڈ رہا ہو جو برسوں پہلے چھوڑ آیا تھا۔ گاڑی اب بائی روڈ سندھ کے اندرونی حصے کی طرف جا رہی تھی۔ پاکستان کی مٹی پر قدم رکھتے ہی اس نے ایک طویل سانس بھری، جیسے برسوں کا بوجھ دل سے اتار رہا ہو۔ اس کی نظریں بے چینی سے چاروں طرف گھومیں، مگر کوئی بھی چہرہ جانا پہچانا نہیں تھا۔ کوئی اسے پہچاننے والا نہیں تھا۔ نہ وہ پہلے جیسا تھا، نہ شاید یہ زمین ویسی رہی تھی۔ گاڑی پہلے سے ہی انتظار میں تھی۔ “زیغم” نے بغیر کسی کو اطلاع دیے، بنا کسی کو خبر کیے، خاموشی سے اپنا سامان اٹھایا اور آگے بڑھ گیا۔
گاڑی میں “مائد” اس کا انتظار کر رہا تھا۔ “زیغم” کے پرانے دوستوں میں سے ایک، جو آج بھی اس کے ساتھ تھا۔ جیسے ہی وہ گاڑی میں بیٹھا، “مائد” نے حیرت سے پوچھا۔

“یار، تو نے واقعی کسی کو کچھ نہیں بتایا؟”

“زیغم” نے سامنے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے جواب دیا۔
“نہیں۔ مجھے جو خبر ملی ہے، میں پہلے خود دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ سچ ہے یا جھوٹ۔”
گاڑی خاموشی سے رات کے اندھیرے میں آگے بڑھنے لگی۔
چند ہی لمحوں میں “زیغم” کی نظریں اچانک ایک طرف ٹھہر گئیں۔ وہیں، فٹ پاتھ پر، جہاں پہلے بھی وہ کئی بار دیکھ چکا تھا، آج بھی وہی ضعیف عورت بیٹھی تھی۔ اجرک میں لپٹی، وقت کے ساتھ مزید جھک چکی تھی، ہاتھ میں ایک پرانا سا پیالہ لیے، خاموشی سے نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔ “زیغم” کی سانس ایک پل کو رک گئی۔

“گاڑی روکو۔”

“مائد” نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور حیرت سے پوچھا:
“یہاں رک کر کیا کرنا ہے؟”

“بس روکو۔”
“زیغم” کے لہجے میں ایک عجیب سی مضبوطی تھی۔
“مائد” نے کچھ کہے بغیر گاڑی سائیڈ پر لگا دی۔ “زیغم” دروازہ کھول کر باہر نکلا اور سیدھا اس بوڑھی خاتون کے قریب جا کر رک گیا۔ عورت نے نظریں نہیں اٹھائیں، بس عادت کے مطابق اپنا ہاتھ تھوڑا سا آگے بڑھا دیا، پیالہ تھامے، جیسے ہر دن کرتی تھی۔

“زیغم” نے ایڑھیوں کے بل زمین پر بیٹھتے ہوئے دھیرے سے کہا:
“ماں جی۔۔۔”
یہ نام جیسے کسی پرانی یاد کی طرح اس بوڑھی عورت کے کانوں میں پڑا۔ وہ تھوڑا چونکی، پھر آہستہ آہستہ نظریں اٹھائیں۔ چند لمحے تک وہ صرف “زیغم” کو دیکھتی رہی، جیسے یقین نہیں کر پا رہی ہو۔ پھر اس کے لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی اور کپکپاتے ہاتھوں سے “زیغم” کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھ دیا۔

“سائیں۔۔۔! صدائیں سلامت رہو، کئی سال بعد دیکھ رہی ہان توکھیں۔ ٹھیک آہیں؟”
(بیٹا، صدا سلامت رہو، کئی سال بعد دیکھ رہی ہوں تمہیں، ٹھیک ہو؟)

“زیغم” نے اس کا ہاتھ تھاما۔
“جی، میں بالکل ٹھیک ہوں، پر ماں جی، آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔”

بوڑھی عورت نے تھکی ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا۔
“سائیں، بھلا عمر جو خیال کئیوں؟”
(بیٹا، بھلا عمر کا کیا خیال رکھوں؟)
“پیٹ پالڻا آ، بھوک ختم کرڻی آ، محنت کرڻی آ…”
(پیٹ پالنا ہے، بھوک مٹانی ہے، محنت کرنی ہے…)
“پر ہمت کوں آ۔”
(مگر ہمت نہیں رہی۔)
“ہانے، ہتھ میں وٹھیے آ، پر مجبوری آ…”
(اب ہاتھ خالی ہیں، اور یہ سب میری مجبوری ہے…)
“زیغم” کا دل جیسے مٹھی میں بند ہو گیا۔

“ماں جی، میں ہمیشہ کے لیے پاکستان آ گیا ہوں۔ اب آپ کو یہاں نہیں بیٹھنا پڑے گا۔”
بوڑھی نے آنکھیں موند لیں، جیسے کچھ سوچ رہی ہو۔

“زیغم” نے نرمی سے کہا:
“آپ کے جتنے بھی اخراجات ہوں، میں سب پورے کروں گا۔ بس آپ یہاں مت بیٹھیں۔ مجھے اچھا نہیں لگتا۔ آپ میرے لیے جنت ہیں۔ میرے پاس سب کچھ ہے، پر ماں باپ نہیں جن کی خدمت کر سکوں۔”

بوڑھی عورت نے آہستہ سے سر نفی میں ہلایا:
“بیٹا، مڱھیں تو پانھنجے گھر میں نہ بلو۔”
(بیٹا، مجھے اپنے گھر مت بلاؤ۔)
“مڱھیں تو هی ن، پر…”
(میں تمہاری احسان مند ہوں، پر…)

“زیغم” نے گہرا سانس لیا۔
“آپ مجھے اپنا گھر نہ دکھائیں، میں آپ کو فون لے کر دے دیتا ہوں۔ آپ اس سے مجھ سے رابطے میں رہیں، جو کچھ چاہیے ہو، میں آپ کے گھر بھجوا دوں گا۔”

بوڑھی عورت نے چند لمحے سوچا، پھر سر جھکا کر بولی:
ٹھیک آ، پر سائیں… جترو کئیوں، تو هی تے بھلا کئیوں۔
(ٹھیک ہے، پر بیٹا، جتنا بھی کر رہے ہو، بھلا کر رہے ہو۔)
“پر مڱھیں یہیں وی ن…”
(مگر میں اپنی جگہ نہیں چھوڑوں گی۔۔۔)
“فون تے رابطو کئیوں، پر مڱھیں پنھنجي جاءِ تے…”
(فون پر رابطہ رکھ لینا، پر میں یہیں رہوں گی۔۔۔)
“زیغم” نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ وہاں خوف تھا، کوئی ایسا خوف، جو وہ چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور “مائد” کو بلایا۔

“والٹ دو۔”
“مائد” نے بنا سوال کیے اپنا والٹ نکال کر اس کے حوالے کر دیا۔ “زیغم” نے اس میں جتنی رقم تھی، سب نکال کر ضعیف عورت کے ہاتھ میں رکھی۔
بوڑھی نے چونک کر “زیغم” کو دیکھا۔

“بیٹا، مڱھیں ایترے جی ضرورت کائي آ…”
(بیٹا، مجھے اتنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔)
“زیغم” نے نرمی سے اس کے ہاتھ پر دباؤ ڈالا۔

“ماں جی، رکھیں۔ مجھے بیٹا سمجھ کر رکھ سکتی ہیں۔ یہ بس میری محبت ہے، کوئی احسان نہیں اور آپ جیسی بزرگ ہستی سے مجھے کیا مفاد ہو سکتا ہے؟”
بوڑھی کی آنکھوں میں نمی جھلکنے لگی۔

“بہت نیک ماں باپ جو پُٽ آھی تو، سائیں…!”
(بیٹا، تم بہت نیک ماں باپ کی اولاد ہو۔۔۔!)
“ہتھوں نہ ملیو، اڄ ڪل جي دنیا میں تو جهڙو ڪو نہ آھی!”
(آج کل کی دنیا میں تم جیسا کوئی نہیں ہے!)
“زیغم” خاموش رہا، مگر اس کے دل میں ایک عجیب سا احساس تھا۔ شاید یہ عورت کچھ جانتی تھی، شاید یہ وہی تھا جو “زیغم” جاننا چاہتا تھا مگر ابھی نہیں۔ ابھی وہ بس اس کی مدد کرنا چاہتا تھا۔

“ماں جی، آپ فکر نہ کریں، اب میں ہمیشہ کے لیے واپس آ گیا ہوں۔”
بوڑھی نے ہاتھ اٹھا کر دعا دی، مگر “زیغم” کو لگا کہ اس دعا کے پیچھے کوئی راز چھپا ہے، جو وقت کے ساتھ کھلے گا۔
بوڑھی عورت نے “زیغم” کے دیے ہوئے نوٹ ہاتھ میں تھام لیے، مگر اس کے چہرے پر خوشی سے زیادہ کوئی چھپا ہوا خوف جھلک رہا تھا۔ “زیغم” نے گہری نظروں سے اسے دیکھا، جیسے اس کے دل میں چھپے راز پڑھنے کی کوشش کر رہا ہو مگر وہ کچھ کہے بغیر اٹھا۔
آہستہ قدموں سے پیچھے ہٹا، ایک نظر اس پر ڈالی، جو ابھی بھی نظریں جھکائے بیٹھی تھی، اور پھر گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ دروازہ کھول کر اندر بیٹھا، سیٹ بیلٹ لگائی اور “مائد” کو اشارہ کیا۔
گاڑی آگے بڑھنے لگی، مگر “زیغم” کی نظریں اب بھی سائیڈ مرر میں اس بوڑھی عورت پر تھیں، جو ابھی بھی اسی جگہ بیٹھی تھی، ہاتھ میں پکڑے نوٹوں کو دیکھتی ہوئی، جیسے سوچ رہی ہو کہ یہ پیسے اس کی قسمت بدل سکتے ہیں یا مزید کسی مصیبت میں ڈال سکتے ہیں۔
°°°°°°°°°°
“شہرام” اس کو ہمارے راستے سے ہٹانا ہوگا، ورنہ یہ لڑکی ہمارے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اور ویسے بھی یہ تمہیں پسند نہیں ہے، تو تم کیوں فضول میں اسے اپنے ساتھ چپکائے ہوئے ہو؟”
“خود بھی ہر وقت ٹارچر ہوتے رہتے ہو!”
قدسیہ نے “شہرام” کو اپنے کمرے میں بلا کر پانی کا گلاس تھمایا اور نرمی سے سمجھانے کے انداز میں بولی، مگر اس کی آنکھوں میں واضح سختی تھی۔

“اماں سائیں، کیسی باتیں کر رہی ہیں؟”
“یہ مت بھولیں کہ وہ “زیغم” کی بہن ہے، اور “زیغم” “نایاب” کا شوہر ہے۔”
“اگر “زیغم” کو معلوم ہو گیا کہ اس کی بہن کو مروانے میں میرا ہاتھ ہے، تو وہ میری بہن کے ساتھ کچھ غلط کر دے گا اور آپ جانتی ہیں، میں “نایاب” سے بہت پیار کرتا ہوں… میں اسے دکھی نہیں دیکھ سکتا!”
“شہرام” نے گلاس میز پر رکھا اور سنجیدگی سے “قدسیہ” کی طرف دیکھا، جیسے وہ اس کے الفاظ کے اثر کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔

“چھوڑو، اس نے آ کر کیا کر لینا ہے؟”
“آج تک ہم نے اتنا کچھ کیا، وہ واپس آیا؟”
“نہیں نا! نہ وہ واپس آئے گا اور نہ ہی کچھ کرے گا۔ تو بس اس لڑکی کو راستے سے ہٹا دو، مجھے زہر لگتی ہے یہ!”
“قدسیہ” نے غصے سے ہاتھ جھٹک کر کہا، جیسے وہ کوئی فضول بحث سننا ہی نہ چاہتی ہو۔

“اماں، “شہرام” بھائی جتنی آؤ بھگت اس کی کرتے ہیں، وہ کم تو نہیں ہے!”
“مار کے کیا مل جائے گا؟”
“اچھی خاصی ایک ملازمہ ملی ہوئی ہے! آپ کو پتہ ہے، جب تک وہ رات کو میرے پاؤں نہ دبائے، مجھے نیند نہیں آتی!”
“نایاب”، جو لاپرواہی سے اپنے ناخن تراش رہی تھی، بے نیازی سے بولی، اس کے چہرے پر غرور اور خود غرضی واضح تھی۔

“دیکھیے، میری بہن کو نیند نہیں آتی جب تک وہ اس کے پاؤں نہ دبائے، تو کیوں اس کی ملازمہ کو آپ جان سے مروانا چاہتی ہیں؟”
“اور کبھی نہ کبھی، میرے بھی کام آ ہی جاتی ہے!”
“شہرام” کے ہونٹوں پر ہلکی سی شیطانی مسکراہٹ آ گئی، چہرے کے زاویے ایسے تھے جیسے وہ کوئی شرمناک حقیقت قبول کر رہا ہو۔ “نایاب” اور “قدسیہ” اس بات پر کھل کر ہنس پڑیں، جبکہ حقیقت میں یہ ہنسی نہیں تھی… بلکہ انسانیت کے مر جانے کی نشانی تھی۔
گزرے ہوئے چار سالوں میں ان لوگوں نے ظلم کی انتہا کر دی تھی۔ خوفِ خدا نہیں تھا ان میں۔۔۔ مگر اللہ کی لاٹھی بڑی بے آواز ہوتی ہے جب پڑتی ہے تو بڑوں بڑوں کی چیخیں نکل جاتی ہیں۔ خود کو زمینی خدا سمجھنے والے یہ بھول بیٹھے تھے کہ اوپر ایک سچے خدا کی ذات ہے جو سب کچھ دیکھ رہی ہے۔ ہر کسی کو ظلم کا حساب دینا پڑتا ہے۔
°°°°°°°°
“شہرام” سائیں کہاں جا رہے ہیں؟”
“دانیا”، جو زخمی وجود کے ساتھ دیوار سے لگی بے بس پڑی تھی، کمزور آواز میں بولی۔
اس کے چہرے پر نیل تھے، ہونٹ سوجے ہوئے، اور آنکھوں میں وہی پرانی اداسی بسیرا کیے ہوئے تھی مگر سامنے کھڑے “شہرام” سائیں کو اس کی حالت سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ وہ سفید اجرک کے کنارے کو سنوارتے ہوئے، سندھی کڑھائی والے کُرتے کو درست کرتے ہوئے، آئینے میں خود کو دیکھنے میں مصروف تھا۔

“پوچھنے کی ہمت کہاں سے لائی تُو؟”
“شہرام” نے آئینے میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے “دانیا” کی طرف پلٹ کر سندھی انداز میں غرور سے تیوری چڑھائی۔ اس کی بھاری چمکدار زنجیریں سینے پر پڑی تھیں اور ہاتھ میں چمکتے عقیق کی انگوٹھیاں اس کی شان بڑھا رہی تھیں۔ “دانیا” نے زخمی لبوں سے ہلکی سی سرسراہٹ کے ساتھ بولنے کی کوشش کی، مگر جیسے ہی “شہرام” کے جوتے کی آواز اس کے قریب آتی گئی، اس کی سانسیں اٹکنے لگیں۔

“سائیں سے سوال کرنے کی عادت ڈال لی ہے تُو نے؟”
“شہرام” کی آواز میں زہر تھا۔ اگلے ہی لمحے، ایک زور دار گھونسا دانیا کے نازک چہرے پر پڑا۔ اس کا چہرہ ایک جھٹکے سے دیوار کی طرف مڑا، اور ہونٹوں سے خون کی سرخ بوندیں فرش پر ٹپکنے لگیں۔

“چُپ چاپ اپنی اوقات میں رہ!”
“دانیا” کے آنسو تھم چکے تھے۔ شاید رونے کی سکت بھی ختم ہو چکی تھی۔ وہ زمین پر گرتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھے بے یقینی سے خون کو دیکھ رہی تھی۔ “شہرام” نے کلف لگی سندھی شال کندھے پر ڈالی، جوتے کی نوک سے “دانیا” کی چادر کو پرے دھکیلا اور زبردست سندھی غرور کے ساتھ آئینے میں ایک آخری نظر ڈالتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ باہر اس کا ڈرائیور جیپ کا دروازہ کھولے کھڑا تھا۔ “شہرام” نے صحن میں رکھے ہوئے بڑے سے قدیم سٹائل کے حقے کو مسکرا کر دیکھا، ایک ادا سے حقے کا کش لیا اور ایک زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ باہر قدم رکھ دیا۔ آج پھر حسن محل جانا تھا، جہاں “ماہ رخ” اس کی راہ تک رہی تھی۔ “ماہ رخ” کا نام یاد کرتے ہی “شہرام توقیر لغاری” کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔وہ جیسے ہی جیپ میں بیٹھا ڈرائیور دروازہ بند کر چکا تھا۔ جیپ اڑتی ہوئی حسن محل تک کا سفر طے کر رہی تھی۔
°°°°°°°°°
“اللہ سائیں، مجھے موت دے دے۔۔۔ اے اللہ سائیں، مجھے مار دے!”
“دانیا” کی سسکیاں کمرے کی خاموش فضا میں گونج رہی تھیں۔ خون آلود ہونٹوں کو ہتھیلی سے دباتے ہوئے وہ بے بسی کے عالم میں خود سے ہی مخاطب تھی۔

“تھک گئی ہوں میں۔۔۔ کب تک؟ کب تک سہوں یہ ظلم؟”
اس کے آنسو رخساروں پر بہتے جا رہے تھے، مگر وہ جانتی تھی کہ زیادہ رونے کا مطلب تھا مزید تکلیف، مزید سزا۔
ہمت کر کے وہ زمین پر ہاتھ رکھ کر خود کو اوپر اٹھانے لگی۔ ہر قدم پر درد کی ایک نئی لہر اس کے جسم میں دوڑ جاتی، مگر وہ پھر بھی بمشکل کھڑی ہو گئی۔ آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ کر دل مزید بجھ گیا۔ پھٹے ہونٹ، نیل زدہ عارض، آنکھوں کے گرد پڑے سیاہ حلقے۔
روئی پر پائیوڈین لگا کر زخموں کو دھیرے دھیرے صاف کرنے لگی۔

“سی سی۔۔۔”
ہلکی چیخ اس کے لبوں سے نکلی، مگر وہ جلدی سے ہونٹ بھینچ گئی۔ یہ درد شاید اب اس کی زندگی کا حصہ تھا۔ ٹھیک اُسی وقت—دروازہ دھڑاک سے کھلا اور “نایاب سلطان لغاری” اندر داخل ہوئی۔ چہرے پر غرور، آنکھوں میں تحقیر، اور قدموں میں نواب زادیوں والا انداز۔ وہ ایک نظر دانیا پر ڈالے بغیر، کمرے میں چلتی آئی، جیسے اس کے وجود کی کوئی وقعت ہی نہ ہو۔

“جلدی سے میرے کمرے میں آ، اور میرے پاؤں دبا!”
اس کی آواز میں سختی اور حکم تھا، جیسے بی بی سائیں کسی ملازمہ کو بلا رہی ہو۔ “دانیا” نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا، مگر “نایاب” نے ایک پل کے لیے بھی رحم یا ترس نہیں کھایا۔ وہ تو جیسے اپنی چادر جھاڑتی ہوئی بس اپنا حکم سنا کر جانے کو تھی مگر دروازے تک پہنچ کر رک گئی۔ پلٹ کر ایک زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
“اگر وقت پر نہ آئی، تو یاد ہے نا، “شہرام” بھائی آ کر تمہارا کیا حال کریں گے؟”
یہ کہہ کر “نایاب” طنز برساتی نظروں سے دیکھ کر دروازہ بند کر کے باہر نکل گئی۔ “دانیا” نے ایک بار پھر آئینے میں خود کو دیکھا۔ زخموں سے چور، بے بس، مگر پھر بھی زندہ۔۔۔!

“زندہ۔۔۔؟”
یہ لفظ آج اسے اپنے لیے سب سے بڑا طعنہ لگا۔
خود کی تکلیفوں کو کوستے ہوئے درد میں چور، پھر بھی وہ “نایاب” کے روم میں جانے پر مجبور تھی۔یہ کیسی بے بسی تھی؟
مشکل سے قدم اٹھاتے ہوئے وہ “نایاب” کی روم کی جانب بڑھ رہی تھی۔
“نایاب” ہمیشہ کی طرح غرور اور شاہانہ انداز میں بیڈ پر نیم دراز ہو گئی۔ ایک ہاتھ فون پر چل رہا تھا، دوسرا زلفوں کو نرمی سے پیچھے لے جارہا تھا۔ پاؤں آگے بڑھاتے ہوئے اس نے بے نیازی سے ایک نظر اسے دیکھا۔اس کے زخموں زدہ چہرے کو دیکھ کر بھی پوری طرح سے نظرانداز کر دیا۔

“شروع کرو، دیر مت کرو!”
حکم دینے والے انداز میں وہ “دانیا” کو حکم دے رہی تھی جبکہ اس گھر میں “دانیا” کا بھی وہی مقام تھا جو “نایاب” کا تھا۔ وہ بھی اس گھر کی بیٹی اور اسی گھر کی بہو تھی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ “دانیا” کے سر پر کوئی ہاتھ رکھنے والا کوئی محافظ نہیں تھا۔جو محافظ تھا وہ خود جلاد بنا ہوا تھا۔ “شہرام” شوہر کے نام پر ایک ایسا دھبہ تھا جو خدا کسی عورت کے نصیب میں نہ لکھے۔
“دانیا” نے ایک نظر بیڈ کی طرف دیکھا۔وہ جانتی تھی کہ بی بی سائیں کی نوکرانیوں کو بیڈ پر بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ وہ آہستہ سے زمین پر بیٹھ گئی، فرش کی ٹھنڈک نے اس کے وجود میں سرایت کرنا شروع کر دیا۔ ہاتھ لرز رہے تھے، مگر پاؤں دبانا فرض تھا۔اپنا جسم زخموں سے چور تھا مگر سامنے پڑی ہوئی بی بی سائیں خود کو گھر کی مالکن سمجھنے والی “نایاب” کی خدمت کرنا “دانیا” پر فرض تھا۔ “نایاب” کی نظریں فون پر جمی تھیں، انگلیاں اسکرین پر رقص کر رہی تھیں، اور ہونٹوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی۔ دنیا اس کے لیے ایک چٹپٹا کھیل تھی۔”دانیا” کو تکلیف میں دیکھ کر “نایاب” کو خوشی محسوس ہوتی تھی۔اپنی پاور پر ناز ہوتا تھا۔
“دانیا” کے آنسو خاموشی سے بہہ رہے تھے۔ نہ وہ انہیں روک سکتی تھی، نہ چھپا سکتی تھی، اور نہ ہی کسی کو دکھا سکتی تھی۔ یہ آنسو اس کی حقیقت تھے، اس کی بے بسی، اس کی زندگی ان لوگوں کی محتاج تھی۔ ایسے سفاک لوگ تھے نہ جینے دیتے تھے، نہ مرنے دیتے تھے۔
°°°°°°°°°°
“میرے عزیز عوام!”
“توقیر لغاری” کی گرجدار آواز پورے پنڈال میں گونجی۔ چمچماتے کپڑوں میں ملبوس، مہنگے پرفیوم کی خوشبو میں بسا، ایک مسکراہٹ چہرے پر سجا کر وہ تقریر کر رہا تھا۔

“میں وعدہ کرتا ہوں، سندھ کے ان حصوں میں جہاں غربت نے پنجے گاڑ رکھے ہیں، وہاں راشن پہنچاؤں گا۔ میں ہر غریب کو روزگار دوں گا، میں ان بیٹیوں کے سر پر ہاتھ رکھوں گا جو لاوارث ہیں، میں تعلیم کو ہر در پر عام کروں گا۔”
تالیاں بجنے لگیں، نعرے بلند ہوئے، لوگوں نے اس کی تقریر پر یقین کر لیا مگر اگر کوئی “توقیر لغاری” کی حقیقت دکھا سکتا، تو ضرور دکھاتا۔ یہ وہی “توقیر لغاری” تھا جس کے محل نما حویلی میں کئی بیٹیوں کے دوپٹے تار تار ہو چکے تھے۔ وہ غریبوں کے لیے مسیحا نہیں، بھیڑیا تھا!
طاقت کے سامنے سب کے منہ بند تھے۔ کوئی کچھ بول نہیں سکتا تھا، کوئی سچائی سامنے نہیں لا سکتا تھا کیونکہ یہاں طاقت کا راج تھا، انصاف بس ایک کہانی تھی!

“اگر کوئی کسی کی کوئی بات نہ سنے تو آپ لوگوں نے گھبرانا نہیں۔ سیدھا میرے دفتر میں آئے، مجھ سے رابطہ کریں!”
“توقیر لغاری” کی آواز میں زبردست اعتماد تھا۔
“میں ہر خاص و عام سے ملوں گا، ہر کسی کی پریشانی دور کروں گا۔ میرے در سے کوئی خالی نہیں جائے گا! یہ “توقیر لغاری” کا وعدہ ہے!”
سامنے بیٹھے لوگ تالیاں بجا رہے تھے، نعرے لگا رہے تھے، جیسے ان کے مسائل واقعی حل ہونے والے ہوں مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ بھیانک تھی۔
وہ دروازہ جو سب کے لیے کھلا تھا، درحقیقت بس ان کے لیے تھا جو اس کی مرضی کے مطابق جھکنے کو تیار تھے۔ جو اسے خوش رکھتے، جو اس کی خواہشات کے مطابق چلتے۔ غریب اور مجبور کی فریاد یہاں دب جاتی، عزتیں نیلام ہو جاتیں، مگر کوئی ثبوت دینے والا نہیں تھا۔
یہ وعدہ نہیں، ایک دھوکہ تھا!
یہ امید نہیں، ایک فریب تھا!
یہ سیاست نہیں، ایک مکروہ کھیل تھا!

“یہ 25 کروڑ کی گرانٹ! میرے اس حلقے کے لیے میں نے منظور کروائی ہے!”
“توقیر لغاری” کی آواز مائیک میں گونجی، مجمع میں تالیاں بجنے لگیں۔
“اس کا ایک ایک روپیہ تم لوگوں پر حلال ہے، اور مجھ پر حرام!”
لوگوں نے نعرے لگائے، خوشی سے ہاتھ بلند کیے مگر یہ سب جانتے تھے کہ یہ الفاظ صرف تقریر کا حصہ ہیں، حقیقت کچھ اور ہے۔
وہی پرانی چالاکی، وہی پرانی سیاست!
یہ پیسہ عوام کے لیے نہیں، اس کے اپنے لیے تھا۔ کاغذوں میں ترقی لکھی جاتی، حقیقت میں جیبیں بھری جاتیں۔ یہ وعدہ بھی باقی وعدوں کی طرح تھا… ایک جھوٹ!

“بچیوں کے لیے میں نے فری لیپ ٹاپ، فری سولر پلیٹیں اور لائٹس دینے کا جو وعدہ کیا تھا، انشاءاللہ وہ بہت جلد ہر جگہ عام ہو جائے گا!”
“توقیر لغاری” نے جوش سے مائیک تھاما، چہرے پر ایک بناوٹی مسکراہٹ تھی۔
سامنے بیٹھے لوگ تالیاں بجا رہے تھے، کچھ امیدوں سے بھرے، تو کچھ جانتے تھے کہ یہ بھی ایک نیا فریب ہے۔

“ہم ترقی کے نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں!”
اس کے الفاظ ہوا میں گونجے، مگر حقیقت زمین پر کچھ اور تھی۔
یہ وعدے پہلے بھی کیے گئے تھے، اور پہلے بھی دھوکہ ثابت ہوئے تھے۔
“توقیر لغاری” بڑی شان و شوکت کے ساتھ تقریر کو اختتام دیتے ہوئے تالیوں کی گونج میں نیچے اُترا، دونوں ہاتھ فضا میں بلند کیے، جیسے کوئی فاتح میدان مار کر آیا ہو۔ چہرے پر مصنوعی عاجزی، آنکھوں میں وہی پرانی مکاری، مگر ہجوم اس کے وعدوں کے سحر میں جکڑا تالیاں بجاتا رہا۔

“یہ میرا وعدہ ہے، یہ میرا عہد ہے!”
وہ مسکراتے ہوئے مجمعے کی طرف دیکھ کر بولا، جیسے واقعی عوام کی فکر اسے کھائے جا رہی ہو۔
آگے بڑھتے ہوئے اُس نے اپنے خاص حمایتیوں سے ہاتھ ملایا، چند بزرگوں کے کندھوں پر شفقت سے ہاتھ رکھا، اور کچھ معصوم بچوں کے سروں پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے آگے بڑھا مگر سچ تو یہ تھا کہ اس کے نرم ہاتھوں کے پیچھے، کتنے ہی دوپٹے روندے جا چکے تھے، کتنی ہی مظلوم آنکھوں کے آنسو بہہ چکے تھے۔
°°°°°°°°°
حسن محل کا نیم روشن ماحول، دیواروں پر جھلملاتی مدھم لائٹیں، اور ہلکی ہلکی موسیقی کا شور چاروں طرف پھیلا ہوا تھا۔ “شہرام توقیر لغاری” کی چمچماتی گاڑی حسن محل کے باہر رکی۔ دروازہ کھلتے ہی اس کے چمکدار کالے کھسے زمین سے ٹکرائے تھے۔ سفید کڑھائی دار شلوار قمیض اور اجرک کندھے پر ڈالے، وہ شاہانہ انداز میں اندر کی طرف بڑھ رہا تھا۔چلنے کے انداز سے ہی اس کی بے قراری کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔وہ چل کر نہیں شاید اڑ کر اپنی منزل تک پہنچنا چاہتا تھا۔ تیزی اور بے قراری سے کوٹھے کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے، سامنے سے آتی ہوئی ایک ملازمہ نے مؤدبانہ جھک کر سلام کیا۔

“ماہ رخ” کہاں ہے؟”
“شہرام توقیر لغاری” نے بڑی بے چینی سے بغیر سلام کا جواب دیے پوچھا۔

“سائیں، “ماہ رخ” آپ کا انتظار کر رہی ہے۔”
“شہرام” کی لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری، جیسے بے قراریوں کو سکون مل گیا ہو۔
کوٹھے کے اندر کی جانی پہچانی خوشبو نے اس کی سانسوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ وہ قدم بہ قدم چلتا ہوا اندر داخل ہوا، جہاں پردوں کی اوٹ میں بیٹھی “ماہ رخ”، چوڑیاں کھنکاتے ہوئے، ایک طرف نظریں جھکائے کھڑکی کے پاس کھڑی تھی۔”شہرام” مسکراتی نظریں اس پر ڈالتے ہوئے۔ نرمی سے دروازہ بند کرتے اس کی جانب بے چینی سے بڑھ رہا تھا۔

“میری جان انتظار میں اتنی بے چین کھڑی ہے کہ سارا غصہ چوڑیاں پر نکالا جا رہا ہے؟”
“شہرام” نے قریب جا کر نرم سی سرگوشی کی۔
“ماہ رخ” نے پلکیں اٹھائیں، گہری خوبصورت میک اپ اور کاجل سے سجی آنکھیں کئی کہانیاں سموئے، ہوئے تھیں مگر لب خاموش تھے۔چہرے پر ناراضگی تھی۔
اس کا خوبصورت ناراض چہرہ نہارتے ہوئے ، “شہرام” کے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ پھیلنے لگی۔

“ادھر آؤ میرے پاس!”
مسکراتے ہوئے، حکم صادر کیے، چہرے پر مسکراہٹ سجائے، صوفے پر نیم دراز ہو گیا۔
اس نے سگریٹ سلگاتے ہوئے گہری نظروں سے “ماہ رخ” کو دیکھتے ہوئے اپنی جانب اشارہ کیا تھا جو منہ پھلائے ہوئے خاموش کھڑی تھی۔

“دنیا میں اگر کوئی چیز میری مرضی کے بغیر چل سکتی ہے، تو وہ تمہاری یہ نظریں ہیں، جو ہر بار مجھے الجھا دیتی ہیں۔”
“سمجھ نہیں آتی۔کہتی کچھ اور ہیں اور نظر کچھ اور آتی ہیں۔۔۔”
“ماہ رخ” نے مدھم مسکراہٹ سے نظر چرائے کھڑکی سے باہر کی جانب دیکھا جبکہ باہر گلی میں رات مزید گہری ہو رہی تھی۔

“سائیں کی جان میں نے کہا پاس آؤ۔”
“شہرام توقیر” نے ایک بار پھر سے ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے اسے اپنے قریب آنے کو کہا تھا۔وہ اسے مناتے ہوئے، پاس بلاتے ہوئے سنگھار سلگا کر لبوں سے لگا چکا تھا۔

“سائیں! میں آپ سے ناراض ہوں۔مجھے آپ سے بات نہیں کرنی۔”
وہ منہ بسورتے ہوئے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اپنی جگہ کھڑے ہوتے ہوئے انکار کر رہی تھی۔اسکے ناراض چہرے اور ناراض لہجے کو سن کر “شہرام توقیر” کھلا کر ہنس دیا تھا۔

“جتنا مرضی ناراض ہو لو، مگر میرے قریب آ کر بیٹھو، میں منا لوں گا۔”
“شہرام توقیر” کو اپنی جان کو منانا خوب آتا ہے۔”
ہاتھ اس کی طرف بڑھایا تو “ماہ رخ” نے نخرے سے نظریں چرائیں، پھر آہستہ سے اپنا نرم ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ “شہرام” نے فوراً کلائی تھام کر ایک جھٹکے سے اپنی طرف کھینچ لیا۔ گہرے رنگ کی فراک پہنے، بالوں کو کھلا چھوڑے، ان میں پن کے ساتھ گلاب کا پھول ٹکائے ہوئے، تیز خوشبو میں لپٹے ہوئے وجود کے ساتھ لڑکھڑاتی ہوئی “شہرام” کے سینے پر آ گری تو وہ مسکرا دیا تھا۔ نرمی سے اس کے ریشمی بالوں کو کانوں کے پیچھے کرتے ہوئے اس کے دلکش چہرے کو اپنی نظروں کے سامنے پوری طرح سے واضح کرتے ہوئے بولا:
“اب بھی ناراض ہو؟”
کان کے قریب لب رکھتے ہوئے مدھم سرگوشی کی، سانسوں کی جنبش “ماہ رخ” کے وجود میں سنسنی پھیلا گئی۔ “شہرام” نے نرمی سے ہاتھ اس کی کمر پر باندھ دیا، مگر گرفت میں وہی سختی تھی جو اس کی چاہت کی شدت کو بیان کر رہی تھی۔

“اتنی لیٹ کیوں آئے ہیں؟”
“ماہ رخ” نے ناراض چہرہ بناتے ہوئے پوچھا۔

“شہرام” نے مسکراتے ہوئے سگار لبوں سے ہٹایا اور دھواں ہوا میں چھوڑتے ہوئے لاپرواہی سے جواب دیا:
“سائیں کی مرضی، جب چاہے آئے۔”

“مطلب کہ میرا آپ پر کوئی حق نہیں ہے؟”
“ماہ رخ” نے شکوہ بھری نظروں سے دیکھا۔

“شہرام” نے اسے مزید قریب ہوتے ہوئے اس کی ٹھوڑی کو نرمی سے اٹھایا، لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ سے دیکھا۔
“سائیں کے دل پر صرف تمہارا حق ہے، باقی ساری دنیا فضول ہے۔”

“جھوٹ! اگر ایسا ہوتا تو پھر آپ مجھے اس طرح انتظار کی سولی پر نہ لٹکاتے۔”
“ماہ رخ” نے شہرام کے چہرے پر اپنا چہرہ نرمی سے رگڑتے ہوئے مدہوشی بھری سرگوشی کی۔ “شہرام” تو پہلے ہی اس کا دیوانہ تھا، اس کی قربت، اس کی مہک، وہ پوری طرح بہک رہا تھا۔

“کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں ورنہ سائیں 24 گھنٹے تمہاری آغوش میں لیٹا رہے، تمہارے وجود کی خوشبو سے سکون حاصل کرتا رہے۔”
اس کے چہرے کو لبوں سے چومتے ہوئے وہ بے خودی میں کھو رہا تھا۔

“”ماہ رخ” صدقے جاؤں! “شہرام توقیر لغاری” صاحب آ چکے ہیں؟”
“اگر آ چکے ہیں تو ان سے کہو پہلے “حسینہ” بائی کی جیب گرم کریں، اس کے بعد بستر گرم ہو سکتا ہے، ورنہ نہیں۔”
دروازے کے باہر سے “حسینہ” کی شاطرانہ آواز سن کر “شہرام” نے نفی میں سر ہلایا۔

“جا، یہ لے جا کر اس کے منہ پر مار، اور اسے بولنا—خبردار! اگر پوری رات مجھے ذرا سا بھی ڈسٹرب کیا۔ مجھے اپنی جان کے ساتھ رہنا ہے۔”
“شہرام” نے پرس سے نوٹوں کا بنڈل نکال کر “ماہ رخ” کے ہاتھ میں تھمایا، پھر اس کے چہرے کو قریب کرتے ہوئے سرگوشی کی:
“بہت جلد تمہیں یہاں سے لے جاؤں گا… تم ہمیشہ کے لیے میری بن کر میرے ساتھ رہو گی۔”
“ماہ رخ” بڑی ادا سے اپنی جگہ سے اٹھ کر باہر کھڑی کوٹھے کی مالک “حسینہ” بائی کو نوٹوں کی گڈی تھماتے ہوئے ایٹیٹیوڈ سے دروازہ بند کر چکی تھی۔

“ہائے ہائے، ماشاءاللہ! میری بچی اب اپنی ماں کو ہی ادائیں دکھانے لگی ہے!”
“چلو، کوئی بات نہیں، دکھا سکتی ہو… آخر تمہاری بولی لگانے والا تمہاری اوقات سے زیادہ بولی لگا دیتا ہے، تو اتنا غرور تو تم پر سجتا ہے!”
“حسینہ” بائی جاتے ہوئے بھی اپنی زہر بھری باتوں سے باز نہیں آئی تھی۔

“بہت جلدی اس کی زبان بند کروا دوں گا، تجھے اپنا موڈ خراب کرنے کی ضرورت نہیں۔”
“شہرام” نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتے ہوئے اسے دوبارہ اپنے سینے پر گرا لیا تھا۔

“موڈ خراب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بہت خوبصورت لگ رہی ہو… یہ تمہارا صدقہ ہے، صبح “حسینہ” بائی کے منہ پر مار دینا۔”
“شہرام” نے نوٹوں کی گڈی نکال کر اس کے سر سے وار کرتے ہوئے لاپرواہی سے ٹیبل پر پھینک دی۔

“یہ روپیہ پیسہ سب تمہارے قدموں کی دھول ہے۔ اتنا پیسہ ہے کہ ساری زندگی بھی تم پر بیٹھ کر لٹاؤں تو کبھی ختم نہ ہوگا۔ بدلے میں مجھے تمہارے چہرے پر مسکراہٹ چاہیے یہ گلاب سا چہرہ مرجھایا ہوا مجھے اچھا نہیں لگتا۔
“ماہ رخ” کے چہرے کو ہاتھوں میں تھامے ہوئے “شہرام” خمارزدہ نظروں سے دیکھتے، سرگوشیوں میں بول رہا تھا۔ لبوں کی جنبش وہ اپنے چہرے پر محسوس کر رہی تھی۔ گرم سانسیں اس کے دل کی دھڑکنوں کو تیز کر رہی تھیں۔

“کیا میں آپ کو اتنی پیاری لگتی ہوں؟”
“ماہ رخ” نے نرمی سے مسکراتے ہوئے سرگوشی کی۔

“بہت پیاری لگتی ہو۔ اپنی جان سے بھی زیادہ پیار کرتا ہوں تم سے۔ کیا میری جان کو شک ہے؟”
ہاتھ کی پشت اس کی گال سے گردن اور گردن سے دھڑکنوں کے نیچے لے جاتے ہوئے خمار زدہ نظر سے بہکے ہوئے لہجے میں سرگوشیوں میں بول رہا تھا۔

“ہر ایک رات تمہاری آغوش میں گزارتا ہوں، اس سے بھی تمہیں پتہ نہیں چلتا کہ میں تمہیں کتنا چاہتا ہوں؟ تمہیں کتنا پسند کرتا ہوں؟”
“شہرام” نے مدھم لہجے میں کہا، اس کی نظریں “ماہ رخ” کے چہرے پر ٹھہری ہوئی تھیں۔

“تم حسن کی مورت ہو، یہ تم کبھی میری نظروں سے، میرے دل سے پوچھو… تمہارے وجود کی خوشبو کے بغیر مجھے نیند نہیں آتی۔”

“ہائے سائیں، آپ تو بن پئیے ہی بہکے ہوئے ہیں۔”
“ماہ رخ” نے ادا سے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما اور اپنی نرم انگلیاں “شہرام” کی گردن سے نیچے تک سہلانے لگی۔

“کمبخت! شراب سے زیادہ نشہ تو تم میں ہے، “ماہ رخ!”
“شہرام” نے مدہوشی سے سرگوشی کی، اس کی آنکھوں میں ہمیشہ کی طرح ایک عجیب دیوانگی تھی۔

“تم نے مجھے اپنے عشق میں ایسا گرفتار کر لیا ہے کہ سکون ہی نہیں آتا تمہارے بغیر۔”
وہ مدہوش سا بولا، اپنی گرفت مزید سخت کرتے اس کے بالوں کی خوشبو کو سانسوں میں اتارتے ہوئے مدہوش سا ہو رہا تھا۔

“اپنے ہی گھر میں اجنبی بن کر پھرتا ہوں، سارا دن یونہی بیت جاتا ہے، بس رات ہونے کا انتظار کرتا ہوں۔”
اس کی آواز میں خماریوں کا محلول گھل چکا تھا، جیسے الفاظ کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی بہک رہا ہو۔”ماہ رخ” روز کی طرح “شہرام توقیر لغاری” کو بہکتے ہوئے دیکھ مسکراتی نظروں سے اس کے گرفت میں پوری طرح سے قید ہوتی جا رہی تھی۔

“میری ہر رات تیری آغوش میں ہوتی ہے، اور یہ چیز مجھے ایسا سکون دیتی ہے کہ میں لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا!”
“شہرام” نے دھیرے سے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی، اور مدہوشی میں اس کی گردن پر چہرہ ٹکا دیا۔ “ماہ رخ” اس کے مضبوط ہاتھوں کے حرارت بھرے لمس کو شدت سے محسوس کرتے اس کی سرگوشیاں سنے جا رہی تھی۔ اس کے لمس میں محبت بھی تھی اور ایک بے قرار جنون بھی۔آج بھی بالکل ویسا ہی تھا جیسے وہ ہمیشہ اس کی قربت کے لیے بے چین ہوتا تھا۔ “ماہ رخ” نے ہاتھ بڑھا کر قریبی شیشے کی ٹیبل سے روز کی طرح شیشے کی ٹیبل سے گلاس اٹھایا، نرم انگلیوں سے اس کے کنارے چھوتے ہوئے، ہی قریب رکھی بوتل سے شراب شیشے کے گلاس میں انڈلتے ہوئے، نظریں “شہرام توقیر” پر گاڑے ہوئے تھی۔”شہرام” بہکی سی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے ہاتھوں کی حرارت اس کے نازک وجود پر بکھیرتے ہوئے اسے دیکھے جا رہا تھا۔

“میرا نشہ تو تم ہو، یہ اگر مجھے نہ بھی دو تو کوئی فرق نہیں پڑتا!”
“شہرام” نے گہری نظروں سے اسے دیکھا، آنکھوں میں خماریوں اور مدہوشیوں کے گہرے رنگ واضح دکھائی دے رہے تھے۔ “ماہ رخ” نے ایک لمحے کے لیے رک کر “شہرام” کی طرف دیکھا، پھر مسکراتے ہوئے گلاس اس کے لبوں سے لگا دیا۔

“میرے پیارے سائیں ،نشہ تو آپ میں بھی کم نہیں!”
وہ ادا سے بولی اور آہستہ سے اس کی طرف جھک کر گلاس سے کچھ گھونٹ اپنے حلق میں اور انڈیلتے ہوئے، وہ پھر سے گلاس “شہرام توقیر” کے لبوں سے لگائے داؤں سے دیکھ رہی تھی۔اس کی ادائیں بہت جان لیوا تھی۔ “شہرام” نے ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھوں میں جھانکا، پھر مدہوشی سے گلاس لبوں سے لگا کر پورے کا پورا اپنے اندر انڈیل لیا تھا۔ یہ شراب کا گلاس اس کے اور “ماہ رخ” کے بیچ میں رکاوٹ تھا۔

“نشہ شراب کا ہو یا تمہاری قربت کا، دونوں کے بغیر اب گزارا نہیں ہوتا، “ماہ رخ!”
وہ مدھم لہجے میں بولا، نظریں اس کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔
“شہرام” نے مضبوط بازوؤں میں “ماہ رخ” کو سمیٹا، ایک ہی جھٹکے میں اٹھایا اور نرمی سے بیڈ پر لٹایا۔ مدہوشیوں کے سائے میں بہکتے ہوئے وہ اس پر پوری شدت سے جھکا، جیسے اسے اپنی پناہوں میں قید کر لینا چاہتا ہو۔

“تمہیں اندازہ بھی ہے “ماہ رخ”، تمہاری قربت کا نشہ کس قدر بے قابو کر دیتا ہے؟”
اس کی آواز مدھم مگر گہری تھی، جیسے جذبات کی شدت لفظوں میں سمو گئی ہو۔ “ماہ رخ” نے اس کی آنکھوں میں جھانکا، جہاں جنون کی چمک نمایاں تھی۔ وہ کچھ کہنے ہی والی تھی کہ “شہرام” کے لمس نے اسے لفظوں کی قید سے آزاد کر دیا۔ وہ بے قراری سے اس کی دھڑکنوں پر سختیوں کے وار کر رہا تھا، جیسے رات کے لمحے تھم گئے ہوں اور رنگینیوں کے سمندر میں ڈوبنے کے سوا کوئی راستہ نہ بچا ہو۔ ہر رات کی طرح “ماہ رخ” قطرہ قطرہ اس کے جذبات کے آگے کمزور پڑتی جا رہی تھی، “شہرام” کی مضبوط حراست میں قید، جیسے اس کی سانسوں پر بھی اسی کا اختیار ہو۔ باہر سے “حسینہ” بائی کی کھنکتی آواز اب بھی آ رہی تھی، کسی اور کے سودے بازی میں مصروف، مگر اس وقت “ماہ رخ” کے لیے یہ کوٹھا، اس کی چمکتی روشنیاں، ساز و آواز سب بے معنی ہو گئے تھے۔

“یہ جگہ تیری نہیں ہے “ماہ رخ”، بہت جلد تجھے یہاں سے نکال لے جاؤں گا۔”
“شہرام” کی سرگوشی اس کے کانوں میں سرایت کرتی گئی، اس کی گرفت مزید سخت ہوتی گئی۔

“کب؟”
“ماہ رخ” نے مدہوشی میں سوال کیا، جیسے یقین کرنا چاہتی ہو کہ وہ خواب نہیں دیکھ رہی۔

“بہت جلد… اتنی جلد کہ یہ رات آخری ہو سکتی ہے۔”
“شہرام” نے اس کی تھوڑی کو نرمی سے اٹھاتے ہوئے کہا، مگر اس کے لہجے میں کچھ ایسا تھا جو “ماہ رخ” کی دھڑکنوں کو اور بے ترتیب کر گیا۔

“میں انتظار کروں گی کہ آپ مجھے جلدی سے یہاں سے لے جائیں!”

“جتنی رقم کے لیے “حسینہ” بائی نے منہ کھولا ہے بہت جلد وہ رقم اس کے منہ پر مار دوں گا۔۔۔ اور لے جاؤں گا اپنی جان کو یہاں سے!”
اس کی محبت میں گم ہوتے ہوئے سرگوشیوں میں بولتے اس کی سانسوں کو سانسوں میں الجھاتے ہوئے پوری طرح سے مدہوش ہو رہا تھا۔
°°°°°°°

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *