Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:3

رازِ وفا
از قلم زویا علی شاہ
قسط نمبر 3
°°°°°°°°°
“دانیہ۔۔۔”دانیہ۔۔۔” پلیز آنکھیں کھولو!”
وہ بے بسی سے اس کے چہرے کے زخموں کو روئی سے صاف کر رہا تھا، اس کی آواز لرز رہی تھی، “زیغم” کا دل درد سے پھٹ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کو یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کی نظروں کے سامنے بے جان کمزور وجود “دانیہ” کا ہے۔ “دانیہ” بچپن میں کافی ہیلدی تھی مگر اس وقت تو وہ ایک ہڈیوں کا ڈھانچہ لگ رہی تھی۔

“یہ۔۔۔۔ یہ کیا کر دیا ان ظالموں نے تمہارے ساتھ، “دانیہ؟”
اس کی نظریں دانیا کے جھلسے ہوئے ہاتھوں پر جا ٹکیں، جہاں سے جلد اترنے لگی تھی۔کے ہاتھوں کی حالت دیکھ کر تو “زیغم سلطان” کی سانسیں بے ترتیب ہو گئیں، دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا تھا۔

“مائد خان!”
وہ اچانک دھاڑا، آواز میں بے چینی اور غصہ تھا، جیسے اب مزید ایک پل بھی انتظار کرنا مشکل ہو گیا ہو۔زیغم کی ایک آواز پر “مائد” فوراً سے روم کے اندر آیا تھا۔

“مائد”، جلدی سے ڈاکٹر کو بلواؤ، اسے ہوش نہیں آ رہا!”
وہ گھبراہٹ میں بول رہا تھا، اس کی آنکھوں میں خوف تھا، بہن کو یوں بے جان دیکھ کر اس کے حواس جواب دے رہے تھے۔ “دانیہ” اس کی بہن تھی اس کا خونی رشتہ تھا اس کے ساتھ مگر وقت کی دھند میں یہ رشتہ بری طرح سے روند کر دب چکا تھا۔

“ہمم، میں ابھی فون کرتا ہوں!”
بغیر نظریں اٹھا کر سامنے لیٹے ہوئے وجود کو دیکھے، اس نے فوراً سے فون نکالا اور جلدی سے باہر نکل گیا، قدموں کی رفتار میں ایک عجلت تھی، جیسے وقت ہاتھ سے نکل رہا ہو۔کچھ دیر بعد ہی ڈاکٹر کو لے کر “مائد” پہنچ چکا تھا۔ “مائد” خود بار ہی رک گیا اور ڈاکٹر اندر آ چکی تھی۔

ڈاکٹر “دانیہ” کا کا ٹریٹمنٹ کرتے ہوئے بولی:
“میں پوچھ سکتی ہوں کہ ان کی یہ حالت کیسے ہوئی ہے؟”
وہ “زیغم” کو گہری نظر سے دیکھتے ہوئے بولی، جیسے امید کر رہی ہو کہ وہ کچھ بتائے گا۔

“فی الحال مجھے خود نہیں پتہ، آپ ان کا ٹریٹمنٹ کریں۔”
اس کا لہجہ سخت تھا، جیسے وہ اپنی بے بسی چھپانا چاہتا تھا، جیسے ہر سوال اس کے ضبط کا امتحان لے رہا تھا۔

“سائیں، آپ جس حویلی میں رہتے ہیں، اس کے بارے میں ہم سب کو پتہ ہے کہ آپ یہاں کے مائی باپ ہیں اور ہمیں بولنے کی اجازت نہیں ہے مگر ڈاکٹر ہونے کے ناطے میں ضرور بولنا چاہوں گی کہ ان کی حالت دیکھ کر صاف پتہ چل رہا ہے کہ کئی مہینوں سے مسلسل تشدد سہہ رہی ہیں۔”
ڈاکٹر صاحبہ زخموں کو صاف کرتے ہوئے رک گئی تھی۔ اس کے الفاظ بھی “دانیہ” کے تشدد زدہ زخموں کی شدت سے کانپ رہے تھے۔

“یہ زخم صرف تازہ نہیں ہیں، ان کے پرانے زخم بھی ہیں، جو مدھم ہو چکے ہیں، مگر نئے زخم… ایسے جلائے گئے ہیں جیسے کوئی رشتہ ہی نہ ہو کسی کا ان کے ساتھ، جیسے ان کے درد کی کوئی قیمت ہی نہ ہو۔”
“مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اتنا تشدد ہونے کے باوجود، اتنے نشانات کے باوجود آپ آرام سے کہہ رہے ہیں کہ آپ کو اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں پتہ۔”
ڈاکٹر کا لہجہ افسوس اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں تھا کیونکہ “دانیہ” کی حالت واقعی قابلِ رحم تھی۔ “زیغم” خاموشی سے ڈاکٹر کی بات سن رہا تھا کیونکہ وہ اچھی طرح سے جانتا تھا کہ ڈاکٹر غلط نہیں کہہ رہی۔ اگر کوئی اور اس طرح سے “زیغم” کے سامنے بولتا تو “زیغم” فوراً سے پہلے اس کی زبان بند کروا دیتا مگر ڈاکٹر اس کی بہن کے لیے جو بول رہی تھی وہ بالکل صحیح تھا ایسے میں “زیغم” خاموشی سے کمر پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔

“یہ زخم صرف جسم پر نہیں ہیں، یہ روح پر لگے زخم ہیں… جو بظاہر تو بھر جائیں گے، مگر اندرونی زخموں کو مندمل ہونے میں بہت وقت لگے گا، کتنا، یہ میں بھی نہیں بتا سکتی۔”
وہ ایک سلپ پر دوائیاں لکھتے ہوئے “زیغم” کے سامنے کرتے ہوئے بولی تھی۔

“کتنی دیر میں ان کو ہوش آ جائے گا؟”
وہ ڈاکٹر کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے سیدھا سوال پر آیا، اس کی نظریں “دانیہ” کے بے جان چہرے پر جمی ہوئی تھیں، جیسے وہ کسی بھی لمحے اس کی آنکھوں کے کھلنے کا انتظار کر رہا ہو۔

“یہ کہنا مشکل ہے، مگر زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ جیسے ہی دوا اثر کرے گی، وہ ہوش میں آ سکتی ہیں مگر ذہنی اور جسمانی کمزوری کے باعث کچھ وقت لگ سکتا ہے۔”
وہ “زیغم” کے چہرے پر پھیلی بے چینی کو دیکھتے ہوئے محتاط لہجے میں بولی۔

“کیا کوئی ایسا طریقہ ہے کہ یہ جلدی ہوش میں آ جائے؟”
اس کی آواز میں بے صبری اور اضطراب واضح تھا، جیسے وہ ایک لمحہ بھی مزید انتظار نہیں کر سکتا تھا۔

“میں نے ان کا بلڈ پریشر اور دیگر علامات چیک کر لی ہیں، جیسے ہی ان کا جسم ریکور کرے گا، وہ خود ہوش میں آ جائیں گی۔”
وہ نرم لہجے میں بولی، مگر “زیغم” کی بے چینی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔

“اس کی جان کو خطرہ تو نہیں ہے؟”

“نہیں بظاہر تو ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں۔۔۔ مگر جو زخم ان کی روح پر لگے ہیں، ان کی انا پر لگے ہیں، ان کے کانفیڈنس پر لگے ہیں اس کے بارے میں میرے میڈیکل ڈیپارٹمنٹ میں کوئی بھی علاج موجود نہیں ہے۔”
“معذرت چاہتی ہوں شاید آپ کو میری باتیں بری لگ رہی ہوں مگر ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے یہ کہنا بہت ضروری تھا۔”

“مجھے اجازت دیجیے دوبارہ جب بھی آپ حکم کریں گے میں حاضر ہو جاؤں گی۔۔۔ اور پریشان نہ ہوں یہ کچھ ہی دیر میں ہوش میں آ جائیں گی، صرف بلڈ پریشر اور شوگر لیول اوپر آنے کی دیر ہے جو کہ بہت جلد ہو جائے گا۔

“ٹھیک ہے ابھی آپ فلحال جا نہیں سکتی۔ آپ گیسٹ روم میں بیٹھیے جب تک یہ ہوش میں نہیں آجاتی آپ کو جانے کی اجازت نہیں ہے!”
“زیغم” نے حکم دیتے ہوئے کہا۔
ڈاکٹر خاموشی سے ہاں میں سر کو ہلاتے ہوئے روم سے نکل گئی تھی کیونکہ اس حویلی کا گاؤں والوں پر بہت ڈر اور دبدبہ تھا “زیغم” نہیں رہتا تھا مگر اس حویلی میں “زیغم” کا ہونا ہی اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ بھی ان سب میں سے ہی ایک ہے۔ “زیغم” زیادہ تر پاکستان میں نہیں رہا تھا تو اس لیے “زیغم” کے نیچر سے زیادہ لوگ واقف بھی نہیں تھے۔
°°°°°°
“توقیر لغاری” حویلی کے مین گیٹ پر پہنچا تو ملازمین کے چہروں کی خوشی بتا رہی تھی کہ “زیغم” کے آنے پر وہ بےحد مسرور تھے۔ اس نے سخت نظروں سے سب کی طرف دیکھا، مگر آج کسی کے چہرے پر اس کا خوف نظر نہیں آ رہا تھا۔ یہ ایک بہت بڑی خطرے کی علامت تھی۔ مطلب واضح تھا— “زیغم” کے آنے سے سب یا تو دل میں سکون محسوس کر رہے تھے یا پھر یہ سوچ رہے تھے کہ اب زیادہ ظلم برداشت نہیں کرنا پڑے گا، کیونکہ “زیغم سلطان” حویلی آ چکا تھا۔ “توقیر” کو شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ “زیغم” ایک سخت امتحان بن کر آیا ہے، اور آج پہلی بار اس کے اندر حویلی میں قدم رکھنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ کچھ دیر وہ دروازے پر ہی کھڑا نوکروں کو کھا جانے والی نظروں سے گھورتا رہا، مگر وہاں کھڑے کسی بھی شخص پر اس کی دھاک نہیں بیٹھی۔
اتنے میں “شہرام” کی جیپ گیٹ پر آ کر رکی۔ جیسے ہی “توقیر” نے گاڑی کو آتے دیکھا، اس کے اندر کی بےچینی کچھ کم ہوئی۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا۔ اسی لمحے کا تو انتظار کر رہا تھا، کیونکہ آج، حویلی کے اندر جانے کا حوصلہ وہ خود میں نہیں پا رہا تھا، حالانکہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اندر اس کی بیوی اور بیٹی موجود ہیں، مگر پھر بھی وہ آدمی اندر نہیں جا پایا تھا۔

“آپ ابھی تک اندر کیوں نہیں گئے؟”
“شہرام” نے گاڑی سے قدم باہر رکھتے ہی گھبراہٹ زدہ چہرے سے اپنے باپ کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“توقیر” نے کوئی جواب نہیں دیا، بس ایک نظر “شہرام” پر ڈالی، جیسے خود بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ ابھی تک گیٹ کے باہر کیوں کھڑا ہے۔ باپ بیٹے دونوں کے چہروں کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں، اور حویلی کے کچھ وفادار نوکر ان کی بدلی ہوئی رنگتوں کو غور سے دیکھ رہے تھے۔ ان نوکروں کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی، جیسے وہ کسی بڑے طوفان کے آنے کا انتظار کر رہے ہوں۔ “توقیر لغاری” نے گہرا سانس لیا اور نظریں چرا کر ایک بار پھر حویلی کے بلند و بالا دروازے کو دیکھا، جو آج اسے پہلے سے زیادہ بھاری لگ رہا تھا۔

“چلو، یہاں سوال جواب کر کے ان کتوں کو خوش ہونے کا موقع مت دو۔ کتے خود کو شیر سمجھنے لگیں گے۔”
“توقیر” نے ایک نظر اپنے ملازمین پر گھور کر ڈالتے ہوئے سرگوشی میں کہا۔
ملازمین، جو خاموشی سے کھڑے تھے، مگر ان کے چہروں پر ایک عجیب سی تسلی تھی، جیسے انہیں یقین ہو کہ اب بہت کچھ بدلنے والا ہے۔ “توقیر” نے نظریں چرائیں اور “شہرام” کے ساتھ قدم تیز کرتے ہوئے حویلی کے اندر داخل ہو گیا۔ گھر کے اندر مکمل خاموشی تھی۔ “زیغم” اور “شہرام” دبے قدموں سے “قدسیہ” کے کمرے کی طرف بڑھے۔ جیسے ہی دروازہ کھولا، “قدسیہ” اور اس کی بیٹی خوفزدہ ہو کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔ ان کے چہروں پر صاف لکھا تھا کہ وہ کسی طوفان کے لیے تیار تھیں۔ انہیں لگ رہا تھا کہ شاید “زیغم” ان کے روم میں آیا ہے مگر جب سامنے “توقیر” اور “شہرام” کو دیکھا تو “قدسیہ” کی آنکھوں میں حیرت اور بے یقینی چھا گئی۔

“شکر ہے سائیں، آپ آئے ہیں۔ مجھے تو لگا تھا کہ وہ پھر سے آ گیا ہے!”
“قدسیہ” کی آواز لرز رہی تھی، رنگت زرد پڑ چکی تھی، وہ اب تک پوری طرح خوف کی گرفت میں تھی۔

“کہاں ہے وہ؟”
“شہرام” نے سخت لہجے میں پوچھا، ماں کی طرف دیکھتے ہوئے کمرے کے اندر قدم رکھا۔ وہ خود بھی اضطراب میں تھا۔

“اس منحوس کو لے کر کمرے میں گیا ہے۔”
“قدسیہ” نے تیزی سے جواب دیا، مگر اس کے انداز میں بے بسی واضح تھی۔

“تم لوگوں سے وہ سنبھالی نہیں گئی؟”
“آتے ہی اس منحوس کے ساتھ اس کا سامنا کروا دیا۔ اسے غائب کروا دیتیں، کہہ دیتیں کہ وہ میرے ساتھ کہیں گئی ہے، بعد میں میں سب کچھ سنبھال لیتا!”
“شہرام” نے غصے میں ماتھے پر بل ڈالتے اپنی ماں پر چیختے ہوئے کہا۔
“توقیر” فی الحال خاموش کھڑا سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ “شہرام” کی زبان تلخ تھی، مگر سچ یہی تھا کہ وہ خود بھی پریشان تھا۔ “زیغم” کے آنے سے اس کی اپنی ہمت جواب دے چکی تھی۔ “زیغم” صرف ایک نام نہیں تھا، “زیغم” ان کے لیے پورے کا پورا عذاب تھا۔ “شہرام” سارا غصہ اپنی ماں اور بہن پر نکال رہا تھا۔

“بھائی، ہم اسے کہاں لے جاتے اور کیسے اس کا منہ بند کرواتے؟”
“اور ویسے بھی وہ ہمیں بتا کر تھوڑی آیا ہے۔۔۔ اچانک عذاب بن کر نازل ہو گیا!”
“ہمیں تو امید بھی نہیں تھی کہ “زیغم” اس طرح واپس آ سکتا ہے!”
“اگر ذرا سا بھی پہلے پتہ ہوتا، تو ہم کچھ نہ کچھ کر لیتے، مگر جب وہ آیا تو ہمارے تو اپنے ہوش اڑ گئے تھے۔۔۔ ہم کیا “دانیہ” کو چھپاتے!”
“نایاب” تیز تیز بولتی جا رہی تھی، غصے اور بے بسی سے اس کے ہاتھ لرز رہے تھے۔ “زیغم” کا ڈر اس کے بھی سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ بے شک وہ “زیغم” کو بہت پسند کرتی تھی، مگر “زیغم” کے غصے سے ہمیشہ اسے ڈر لگتا تھا۔

“تم لوگوں سے صرف باتیں ہو سکتی ہیں، تمہیں اور کچھ کرنا آتا بھی ہے؟”
“ایک پدی بھر کی لڑکی تم لوگوں سے سنبھالی نہیں گئی؟”
“شہرام” نے غصے سے دھاڑتے ہوئے حلق کے بل چلا کر کہا، مگر “زیغم” کا سوچ کر فوراً آواز نیچی کر لی۔

“جو آپ ہمیں آنکھیں دکھا رہے ہیں، یہ آنکھیں جا کر اسے دکھائیں اسے ڈرائیں!”
“وحشی درندہ بن کر آیا ہے، پہلے ہی اس کا دماغ ساتویں آسمان پر رہتا تھا، اور آج تو جو کچھ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، اللہ ہی خیر کرے!”
“نایاب” مزید بپھرتی جا رہی تھی۔

“کیا دیکھ لیا ہے اس نے؟”
“توقیر لغاری” صوفے پر بے جان وجود کے ساتھ بیٹھا، جیسے کسی گہری سوچ میں گم، آہستہ سے بولا۔

“آپ کے بیٹے نے اسے خوب مار پیٹ کر بھیجا ہے۔”
“قدسیہ” نے بڑی ہوشیاری سے سارا مدعا “شہرام” پر ڈال دیا، اپنی بیٹی اور اپنا کردار بالکل چھپا لیا، جیسے وہ تو اس معاملے میں شامل ہی نہ تھی۔

“اففف۔۔۔ تیرے بھی ہاتھ نہیں رکتے!’
“کتنی بار کہا ہے، اگر تجھے پسند نہیں تو منہ نہ لگا، مگر ہاتھ چالاکی نہ کیا کر!”
“توقیر” نے گہری نظر اپنے بیٹے “شہرام” پر ڈالتے ہوئے سخت لہجے میں کہا۔

“بس کر دیں اب۔ سب مدعا مجھ پر ڈالنے کی ضرورت نہیں!”
“دیکھ لوں گا اسے، اتنا بھی کوئی بڑا نواب نہیں کہ ہم سب ڈر جائیں!”
“میں بھی سینہ پھاڑنے کی صلاحیت رکھتا ہوں!”
“شہرام” کے چہرے پر غصے کے آثار مزید نمایاں ہو گئے۔

“شہرام”، جوش سے کام مت لینا!”
“مت بھولنا کہ وہ تیرا کاکا سائیں نہیں ہے اور نہ ہی “بہرام”، جنہیں ہم آسانی سے چکمہ دے سکیں گے۔ یہ “زیغم” ہے!”
“یہ وہی 18 سال کا لڑکا ہے، جس کا دماغ ضرورت سے زیادہ چلتا تھا۔۔۔ اور اب، وہ 30 سال کا بھرپور مرد ہے۔”
“ذرا خود سوچ، وہ کیا کر سکتا ہے۔”
“توقیر” نے سخت لہجے میں سمجھایا۔

“تو کیا مطلب، اب ہم اس کے پیروں تلے دب جائیں؟”
“شہرام” نے طنزیہ لہجے میں کہا۔

“دبنے کی نہیں، ہوش کے ناخن لینے کی بات کر رہا ہوں!”
“توقیر” نے غراتے ہوئے کہا۔

“اوہو! چپ کر جائیں، آپ لوگوں نے اس جنگلی کا کیا سامنا کرنا ہے، باپ بیٹا تو خود ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے کو تیار ہیں!”
“قدسیہ” نے بیچ میں پڑتے ہوئے بات کو رفع دفع کرنا چاہا۔

“میں کہاں لڑ رہا ہوں، اسے ذرا تمیز نہیں ہے کہ اپنے ہی باپ پر طعنہ کشی کر رہا ہے!”
“توقیر” نے “قدسیہ” کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔

“اب بس کریں! خدا کے واسطے اس وقت آپس میں الجھنا چھوڑ دیں اور یہ سوچیں کہ اس کا کیا کرنا ہے!”
“نایاب” نے اپنے باپ کی جانب دیکھتے ہوئے پریشان کن لہجے میں کہا۔

“مجھے تو اس وقت کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کرنا چاہیے، اور اوپر سے وہ پورا تیار ہو کر آیا ہے۔ وہ اپنے ساتھ “مائد خان” کو بھی لایا ہے، تو مطلب صاف ہے کہ اسے ہم پر بھروسہ نہیں۔ کچھ تو سوچ کر آیا ہے!”
“اس کا اچانک آنا، “مائد” خان اور اس کے آدمیوں کو ساتھ لانا، ہر چیز ہمارے خلاف اشارہ دے رہی ہے!”
“توقیر لغاری” نے گہری سوچ میں مبتلا ہوتے ہوئے ایک لمبی سانس فضا میں چھوڑی۔

“نایاب”، مجھے ایک گلاس پانی دو، میرا تو گلا خشک ہو رہا ہے!”
وہ گلے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔
کمرے میں ماحول حد سے زیادہ تناؤ بھرا ہو چکا تھا۔ سب کی شکلیں ایسی تھی جیسے موت پل پل ان کے قریب آرہی ہو۔
°°°°°°°°
ڈاکٹر کے جانے کے بعد سے لے کر “زیغم سلطان” اپنی بہن کے قریب ہی بیٹھا، نرمی سے اس کا سر دباتے ہوئے محبت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس وقت “زیغم” کی آنکھوں میں اپنی بہن کے لیے حد سے زیادہ پیار جھلک رہا تھا۔ دل سے محبت تو کبھی ختم نہیں ہوئی تھی، مگر وقت اور اپنوں کی پھیلائی گئی سازشوں کی زد میں آ کر ان کی محبت ماند پڑ گئی تھی۔ کچھ اپنوں سے شکووں کی وجہ سے “زیغم” یہاں سے دور ملک چھوڑ کر گیا تھا، مگر آج “دانیہ” کو اس حال میں دیکھ کر اس کے ساتھ گزارے بچپن کے سارے لمحے آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے۔ ‘کتنے خوبصورت تھے وہ دن’ وہ دماغ میں سوچتے ہوئے لبوں پر مسکراہٹ بکھیرے کسی اور ہی دنیا میں مگن تھا۔ “زیغم” “دانیہ” کو دیکھتے ہوئے ماضی کی یادوں میں کھو گیا۔”زیغم” ان حسین لمحوں کو دل میں پھر سے تازہ کر رہا تھا۔

(ماضی)
“اماں سائیں، دیکھیں نا! “زیغم” بھائی مجھے تنگ کر رہے ہیں!”
“دانیہ” نے بے بسی سے شکایت کی۔

“کیا تنگ کر رہا ہوں، چڑیل!”
“صحیح تو کہہ رہا ہوں، بالوں کے الٹے سیدھے اسٹائل بناتی رہتی ہو، بالکل چڑیل لگتی ہو!”
“زیغم” شرارت سے “دانیہ” کے خوبصورت ہیئر اسٹائل کو بکھیرتے ہوئے بولا۔

“اماں سائیں، دیکھ لیں “زیغم” بھائی نے میرے بالوں کا بیڑا غرق کر دیا ہے!”
“پلیز، آئیے نا!”
“دانیہ” اپنے بکھرے بالوں کو دیکھ کر زور سے چلائی۔
“زیغم” کی ماں، “مریم سلطان”، مسلسل “دانیہ” کی آوازیں سنتے ہوئے ہاتھ میں تسبیح تھامے ہوئے تھیں۔ سر پر سلیقے سے رکھا ہوا دوپٹہ اور کندھے پر بڑی سی اجرک ان کی شخصیت میں وقار کا اضافہ کر رہی تھی۔ وہ پُرسکون مگر شاندار انداز میں ٹی وی لاؤنج کی طرف بڑھیں۔

“زیغم کیوں بہن کو تنگ کر رہا ہے؟”
“مریم سلطان” نے مسکراتے ہوئے محبت بھری نظروں سے اپنے بچوں کی طرف دیکھا۔
سامنے ٹی وی لاؤنج میں، “زیغم” اور “دانیہ” صوفے پر بیٹھے آپس میں ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ “زیغم” کی شرارتوں پر “دانیہ” کبھی روٹھتی، ، اور کبھی قہقہہ لگا دیتی۔ “مریم سلطان” بچوں کی معصوم شرارتیں دیکھ کر بے اختیار محبت سے لبریز ہو گئیں۔

“اماں سائیں! یہ دیکھیں، “زیغم” بھائی نے میرے ہیئر اسٹائل کو خراب کر دیا ہے!”
“دانیہ” نے شکوہ کرتے ہوئے اپنی ماں کی طرف دیکھا، مگر لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ جیسے وہ شکایت کم اور شرارت زیادہ کر رہی ہو۔

“میں نے خراب نہیں کیا، یہ پہلے سے ہی خراب تھا!”
“بھوتنی لگ رہی تھی، بھوتنی!”
“زیغم” نے ہنستے ہوئے اس کے بالوں کی طرف اشارہ کیا، جبکہ “دانیہ” نے غصے سے اپنی اماں سائیں کی اوٹ لے لی۔ اماں سائیں محبت بھری نظروں سے اپنے بچوں کو دیکھ کر بے اختیار مسکرا اٹھیں۔

“اب تم دونوں بڑے ہو رہے ہو، سمجھدار بھی ہو جاؤ۔ ہر وقت شرارتی بچوں کی طرح ہنگامہ مچائے رکھتے ہو۔”
اماں سائیں نے نرمی سے سمجھایا، مگر چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔

“اماں، ایک کام کریں۔۔۔ اس کی شادی کر دیں! گھر میں سکون آ جائے گا۔”
“زیغم” نے شرارت سے ایڈوائس دی، تو “دانیہ” نے غصے سے اسے گھورا۔ اماں سائیں نے ہنستے ہوئے “زیغم” کی طرف دیکھا، جبکہ “دانیہ” نے فوراً کشن اٹھا کر اس پر وار کر دیا۔ “زیغم” نے کشن بڑی مہارت سے کیچ کر لیا تھا اور فاتحانہ انداز میں مسکراتے ہوئے “دانیہ” کو چڑانے لگا۔

“کتنا بدقسمت ہوگا تمہارا دلہا، جس کو تم جیسی جنگلی بیوی ملے گی!”
اس کے لہجے میں بھرپور شرارت تھی۔

“زیغم بھائیییی!!!”
“دانیہ” نے غصے سے چلاتے ہوئے دوسرا کشن اٹھایا، مگر اس بار اماں سائیں نے درمیان میں آ کر ہاتھ اٹھا کر روک دیا۔

“بس کرو تم دونوں!”
“تم لوگوں کے بابا سائیں آنے والے ہیں خاموش ہو جاؤ، شور شرابہ بند کرو۔ “زیغم”، تم اپنی بہن کو تنگ کرنا بند کرو!”
اماں سائیں نے مصنوعی خفگی سے گھورا تو “زیغم” نے ہنستے ہوئے اماں سائیں کے سامنے ہاتھ جوڑ دیا جبکہ “دانیہ” نے منہ چڑاتے ہوئے فاتحانہ انداز میں بھائی کو دیکھا۔

“ایسی شکلیں مت بنایا کر، بندریا لگتی ہے!”
“زیغم” نے “دانیہ” کو چڑاتے ہوئے کہا اور خود ہنسی روکنے کے لیے لب بھینچ لیے۔

“زیغم بھائییی!!!”
“دانیہ” نے غصے سے پیر پٹخا اور کشن اٹھا کر اس کی طرف اچھالا، مگر “زیغم” پہلے ہی جھک کر بچ گیا۔ “مریم سلطان” یہ منظر دیکھ کر ہلکی مسکراہٹ دباتے ہوئے ماتھے پر ہاتھ مارتی ہیں۔

“تم دونوں کا کچھ نہیں ہو سکتا!”
وہ بے بس لہجے میں کہتی ہوئی کچن کی طرف بڑھ گئیں، مگر دل میں بچوں کی یہ نوک جھونک خوشی کا باعث تھی۔ سچ تو یہ تھا کہ “زیغم” اور “دانیہ” کے دم سے ہی تو اس گھر میں رونق تھی، ان کے قہقہوں اور چھوٹی چھوٹی شرارتوں کے بغیر سب کچھ ویران لگتا۔

“بھائی، آئس کریم کھانے چلیں؟”
“دانیہ” نے “زیغم” کے قریب آ کر فرمائش کی۔

“جی نہیں، مجھے تمہاری شکل پر اتنا پیار نہیں آ رہا۔”
“زیغم” نے بے نیازی سے کہا اور بازو باندھ کر کھڑا ہو گیا۔

“زیغم” بھائی، چلیں نا، پلیز!”
“دانیہ” نے ضدی انداز میں کہا۔

“چل ٹھیک ہے، مگر ایک شرط پر… پہلے میں تیرے بال اور بکھیر لوں!”
“زیغم” نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

“زیغم” بھائی! آپ پہلے ہی میرے بال خراب کر چکے ہیں، اب اور نہیں کر سکتے!”
“دانیہ” نے فوراً پیچھے ہٹتے ہوئے اعتراض کیا۔

“تو ٹھیک ہے، پھر میں آئس کریم بھی نہیں کھلا سکتا۔”
“زیغم” نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔

“آپ کو شرم نہیں آتی مجھے تنگ کرتے ہوئے؟”
“دانیہ” نے مصنوعی خفگی سے کہا۔

“تمہیں شرم نہیں آتی اپنے بھائی کی خواہش رد کرتے ہوئے؟”
“زیغم” نے فوراً جواب دیا۔

“اب بہن کے بال خراب کرنا، یہ بھی کوئی خواہش ہوتی ہے؟”
“دانیہ” نے حیرانی سے پوچھا۔

“ہاں، یہ “زیغم سلطان” لغاری کا اسٹائل ہے!”
“بولو، اگر آئس کریم کھانی ہے تو بال خراب کروانے پڑیں گے!”
“زیغم” نے شرارت سے کہا۔

“ٹھیک ہے، جلدی سے خراب کر لیں، پھر میں جا کر سیٹ کر لوں گی، پھر ہم آئس کریم کھانے چلیں گے۔”
“دانیہ” نے جلدی جلدی سودا طے کر لیا۔

“بڑی بھوکی ہے! آئس کریم کے لیے بال خراب کروانے کو تیار ہے!”
“زیغم” نے قہقہہ لگایا اور ہاتھ بڑھایا، مگر “دانیہ” فوراً پیچھے ہٹ گئی۔

“اماں سائیں! “زیغم” بھائی پھر سے میرے بال خراب کر رہے ہیں!”
“دانیہ” نے ڈرامائی انداز میں شور مچایا۔

“جا، جا کر بال ٹھیک کر کے آ!”
“مجھے تجھ پر ترس آ گیا، اب اور نہیں بکھیرنے۔”
“زیغم” نے ہنستے ہوئے ہاتھ جوڑ کر اس کو چلانے سے منع کر دیا تھا۔
“زیغم سلطان” خیالوں کے سمندر میں غرق، وقت کے پنے الٹتے ہوئے ماضی کے حسین لمحوں میں کھویا ہوا تھا۔ وہ دن، جب بے فکری تھی، جب ہنسی کی گونج پورے گھر میں بکھری رہتی تھی۔ مگر اچانک—––

“زیغم بھائی!”
“دانیہ” کی چیختی ہوئی آواز نے جیسے اس کے خیالات کی دنیا کو چیر کر رکھ دیا۔ وہ چونک کر حال میں لوٹا۔ “دانیہ” کو ہوش آ چکا تھا، اور وہ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔اس کی نظروں میں خوف اور ڈر کی گہری جھلک تھی۔

“دانیا۔۔۔”دانیا”، میں ہوں یہاں!”
“زیغم” نے بےقراری سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگا لیا، اس کے دل میں بہن کے لیے بے پناہ شفقت تھی۔

“زیغم” بھائی۔۔۔ آپ سچ میں آ گئے ہیں، نا؟”
“دانیہ” نے کانپتے ہاتھوں سے “زیغم” کے چہرے کو چھوا، زخمی انگلیوں کی نرمی میں درد کی شدت تھی، جیسے وہ یقین کرنا چاہتی ہو کہ یہ کوئی خواب نہیں۔

“میں سچ میں آ گیا ہوں، “دانیہ” تمہارے پاس ہوں۔ میری پیاری بہن، میں شرمندہ ہے کہ وہ تمہاری حفاظت نہیں کر سکا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم پر یہ سب کچھ بیت رہا ہے!”
“زیغم” بے بسی سے اس کے زخموں سے بھرے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں گہرے دکھ کی پرچھائیاں تھیں، مگر آنسو نہیں۔

“زیغم بھائی۔۔۔”
“دانیہ” نے اتنی ٹوٹے ہوئے لہجے میں اس کا نام لیا کہ “زیغم” کا دل جیسے خون کے آنسو رو دیا۔ وہ ایک معصوم بچی کی طرح اس کے سینے میں منہ چھپا کر رونے لگی، سسکیاں لیتی رہی، آنسو بہاتی رہی مگر “زیغم” اسے شفقت بھرے بازوؤں میں گھیرے ہوئے، اندر ہی اندر غصے کی شدت سے پھٹ رہا تھا۔ اس کا دل زخمی تھا، مگر اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے۔ وہ جانتا تھا کہ رونا کمزور لوگوں کی نشانی ہے، اور “زیغم سلطان” کمزور نہیں تھا۔ کچھ دیر “زیغم” نے خاموشی کے ساتھ “دانیہ” کو رونے دیا تھا کیونکہ “دانیہ” کا ایک بار کھل کر رونا ضروری تھا تاکہ اس کے اندر کا غبار باہر آ سکے۔

“زیغم” بھائی! اس رات جو کچھ ہوا، وہ سب غلط تھا۔ بھائی، میں نے کچھ نہیں کیا تھا!”
دانیا “زیغم” کے سینے سے لگ کر روتی رہی، اپنا غبار نکالتی رہی، اور پھر آنسو بھری آنکھوں سے “زیغم” کی طرف دیکھتے ہوئے بے بسی سے اپنی صفائی دینے لگی۔

“زیغم” نے سرد لہجے میں دو ٹوک کہا:
“مجھے اس رات کے بارے میں بات نہیں کرنی۔”

“بھائی، آپ کو سننا ہوگا! بھائی، پلیز۔۔۔ آج مت روکیے گا!”
“دانیہ” نے تڑپ کر التجا کی، اس کی سسکیاں مزید گہری ہوگئیں۔

“اس دن بھی آپ نے میری بات نہیں سنی تھی، بابا سائیں نے میری بات پر یقین نہیں کیا تھا! اگر آپ میری بات سن لیتے، تو یہ سب نہیں ہوتا!”
وہ ہچکیوں کے درمیان بولتی گئی، “زیغم” کی جانب دیکھتی گئی۔

“اگر اس وقت میری بات سن لی ہوتی یقین کر لیا ہوتا تو آج بابا سائیں، اماں سائیں۔۔۔ ہمارے ساتھ ہوتے۔۔۔”
اس کے کپکپاتے ہونٹ درد کی شدت سے لرز رہے تھے۔ وہ “زیغم” کے چہرے کو تک رہی تھی، جیسے امید ہو کہ آج وہ اس کی سچائی کو سن لے گا، قبول کر لے گا۔

“کیا مطلب؟”
“زیغم” کے ماتھے پر شکنیں ابھریں، نظریں “دانیہ” کے بھیگتے چہرے پر جم گئیں۔

“اماں سائیں اور بابا سائیں ہمارے ساتھ ہوتے؟”
“زیغم” نے دانیا کی بات دہراتے ہوئے حیرانی سے پوچھا، اس کا دل اچانک کسی انہونی کی طرف اشارہ دینے لگا تھا۔

“مطلب۔۔۔ اماں سائیں اور بابا سائیں کی موت حادثہ نہیں تھی؟”
“زیغم” کے لہجے میں بے یقینی اور ایک انجانا سا خوف تھا۔ اس کے الفاظ جیسے ہی “دانیہ” کے کانوں میں پڑے، وہ ہچکیوں کے درمیان مزید زور سے رو پڑی۔

“نہیں بھائی! وہ حادثہ نہیں تھا۔۔۔ وہ قتل کیے گئے تھے!”
“دانیہ” کی لرزتی آواز کمرے میں گونجی، اور “زیغم” کی آنکھوں میں ایک دم اندھیرا چھا گیا۔

“دانیا!” بابا سائیں اور اماں سائیں کے ساتھ اتنا سب کچھ ہو گیا، اور تم نے مجھے اس وقت کیوں نہیں بتایا جب میں تدفین کے لیے پاکستان آیا تھا؟”
“زیغم” کا کلیجہ جیسے پھٹ گیا تھا۔ اس کی آواز غصے، دکھ اور بے بسی کے ملے جلے جذبات سے بھاری ہو چکی تھی۔ “دانیہ” نے سوجی ہوئی آنکھوں سے “زیغم” کو دیکھا، اس کے لب کانپے، جیسے وہ کچھ کہنا چاہتی ہو، مگر الفاظ گلے میں اٹک گئے۔

“بھائی… میں… میں بے بس تھی… میں نے کوشش کی تھی، مگر…”
وہ ہچکیاں لیتی، خود کو سنبھالتی بولی، مگر “زیغم” کی آنکھوں میں صرف ایک ہی سوال تھا— “کیوں چھپایا؟”

“کیسے بتاتی؟ بتائیے، کیسے بتاتی؟”
“دانیہ” کی آواز میں ٹوٹ پھوٹ تھی، اس کی آنکھیں برس رہی تھیں، اور ہر لفظ میں وہ اذیت جھلک رہی تھی جو برسوں سے اس کے دل میں دبی ہوئی تھی۔

“آپ میرے پاس اجنبیوں کی طرح آئے تھے، مگر آپ نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ میں کتنی تکلیف میں تھی۔ آپ نے تو اس حادثے کے بعد، اس رات کے بعد، میرے ساتھ ہر رشتہ، ہر ناتا ہی ختم کر لیا تھا۔ اجنبیوں کی طرح بات کرتے رہے، اور آپ نے یہ بھی نوٹ نہیں کیا کہ مجھے ایک پل کے لیے بھی آپ کے قریب اکیلے نہیں رہنے دیا گیا! میں ڈر گئی تھی، “زیغم” بھائی! آپ میری بات سنتے ہی کہاں تھے؟”
“اور آئے بھی آپ کون سا مہینوں کے لیے تھے۔ اس دوران دو بار آئے تھے بس ایک دن کے لیے، تدفین کر کے اجنبیوں کی طرح چلے گئے، اور پلٹ کر نہیں دیکھا کہ “دانیہ” کے ساتھ کیا ہو رہا ہوگا۔ ایک بار نہیں دیکھا کہ “دانیہ” زندہ ہے کہ مر گئی۔ ایک بار نہیں سوچا کہ “دانیہ” کے ساتھ کوئی انہونی تو نہیں ہو رہی!”
وہ روتے ہوئے اپنے بھائی کی نظروں میں دیکھ رہی تھی، جیسے برسوں کا شکوہ ایک ہی پل میں نکال رہی ہو۔آنکھوں سے ٹپ ٹپ کر کے گرتے ہوئے آنسو اس کے درد کی داستان اور دل کی سچائی کا عکاس تھے۔ “زیغم” کی آنکھوں میں اضطراب بڑھتا جا رہا تھا، اس کی مٹھیاں بھینچ گئی تھیں۔

“دانیہ”، میں وہاں سے فون بھی تو کرتا تھا… تم تب بھی تو مجھے بتا سکتی تھی!”

“کیسے بتاتی؟”
“دانیہ” کی ہچکیاں شدت اختیار کر گئیں۔
“وہ لوگ میرے سر پر بندوق تانے کھڑے رہتے تھے، دھمکاتے تھے کہ اگر میں نے کوئی ایسی بات کہی جو ان کی مرضی کے خلاف ہوئی، تو مجھے مار دیں گے!”
“مار تو وہ مجھے روز ہی دیتے تھے، ہر رات زخموں کی اذیت سہنی پڑتی تھی… مگر پھر بھی، بچ جانے کی امید ایسی تھی کہ میں چاہ کر آپ کو کچھ نہیں بتا پاتی تھی، بھائی!”
اس کی لرزتی ہوئی آواز اور زخموں کی کہانی نے “زیغم” کے دل میں طوفان برپا کر دیا تھا۔

“میں ان کو چھوڑوں گا نہیں!”
“زیغم” کی آواز میں ایسی شدت تھی کہ کمرے کی فضا میں جیسے بجلی کوند گئی۔ اس کی مٹھیاں غصے سے بھینچ چکی تھیں، آنکھوں میں شعلے دہک رہے تھے۔

“مجھے صرف یہ بتاؤ کہ “شہرام” کا رویہ تمہارے ساتھ کیسا ہے؟”
“دانیہ” نے نم آنکھوں سے اپنے بھائی کی طرف دیکھا، جیسے الفاظ کھو گئے ہوں۔ اس کے لب کانپے، مگر آواز نہ نکل سکی۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اس نے نظریں جھکا کر مدھم مگر کانپتی ہوئی آواز میں کہا:
“وہ… کسی گھر کے باہر کے فرد کے سامنے بہت اچھا ہونے کا ناٹک کرتا ہے، بھائی، لیکن حقیقت… حقیقت بہت بھیانک ہے…”
“زیغم” کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔ اس کی سانسیں بھاری ہو گئیں۔

“کیا کرتا ہے وہ؟”
“دانیہ”، مجھے سب کچھ سچ سچ بتاؤ!”
“دانیہ” کی آنکھوں میں ایک نیا خوف ابھرا، جیسے وہ کچھ کہنے سے پہلے بھی ڈر رہی ہو۔

“دانیہ”، مجھے معاف کر دو…!”
“زیغم” کی آواز بھرّا گئی تھی۔ اس کے لیے یہ سوچنا بھی ناقابلِ برداشت تھا کہ اس کی بہن اس سے کچھ کہنے میں ڈر محسوس کر رہی ہے۔ اسے خود پر غصہ آ رہا تھا کہ وہ اپنی اکلوتی بہن کو یہ تحفظ نہیں دے سکا کہ وہ کھل کر اپنے بھائی کو سچائی بتا سکتی اور اس میں غلطی ان کی اپنی تھی کیونکہ جب “دانیہ” کو یقین کی ان کے ساتھ کی ضرورت تھی اس وقت دانیا کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔ وہ اپنے مضبوط ہاتھوں سے “دانیہ” کے شانے تھامے، بے بسی سے اسے دیکھ رہا تھا۔

“میرے لیے یہ بہت تکلیف دہ ہے کہ تم مجھ سے سچ چھپانے پر مجبور ہو۔ جو کچھ ہوا، اس کے لیے اپنے بھائی کو معاف کر دو۔ کاش میں پہلے سب کچھ جان سکتا…!”
“دانیہ” نے تڑپ کر “زیغم” کی آنکھوں میں دیکھا، جہاں شدید دکھ کے ساتھ بے پناہ محبت بھی جھلک رہی تھی۔

“بھائی، وہ انسان کہلانے کے لائق نہیں ہے!”
اس کے الفاظ میں نفرت، بے بسی اور درد سب شامل تھے۔
“ہر روز مجھے طعنے دیے جاتے ہیں… اس گناہ کے، جو میں نے کبھی کیا ہی نہیں!”
“بھائی، مجھے آپ کی قسم، بابا سائیں کی قسم، اللہ کی قسم… میں نے اس رات کوئی غلطی نہیں کی تھی!”
“زیغم” کے ہاتھ سختی سے بھینچ گئے، آنکھوں میں غصے اور بے بسی کی شدت بڑھ گئی۔

“بھائی، میں تو سو رہی تھی… لائٹیں بند تھیں… مجھے نہیں پتہ کہ کمرے میں کون آیا تھا اور بھائی، میرے ساتھ کچھ غلط نہیں ہوا تھا۔ بس جو بھی تھا، اس نے ایسی صورتِ حال بنا دی کہ میں سب کی نظروں میں غلط ثابت ہو جاؤں!”
“دانیہ” کی آواز آنسوؤں میں بھیگ گئی۔ وہ کانپتی ہوئی بول رہی تھی، جیسے وہ سچ بولنے کی اجازت چاہتی ہو۔

“میں نے یہ بات بابا سائیں سے بھی کہی تھی مگر…”
وہ رک گئی، جیسے یادیں ایک زخم کی صورت میں اسے مزید بولنے سے روک رہی ہوں۔ “زیغم” کی سانسیں تیز ہو گئیں، وہ اپنی بہن کے دکھ کے وزن کو اپنے دل پر محسوس کر رہا تھا۔ وہ لمحہ “زیغم” کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ اس کی آنکھوں میں آگ بھڑک اٹھی تھی، ماضی کی ہر ایک تلخ یاد جیسے کسی زخم کی طرح ہری ہو گئی تھی۔

“بس “دانیہ” مجھے اور کچھ مت بتاؤ!”
“زیغم” نے مٹھیاں بھینچتے ہوئے کہا، اس کی آواز میں ایک ایسا ٹھہراؤ تھا جو آنے والے طوفان کی خبر دے رہا تھا۔”زیغم” کا چہرہ غصے کی تپش سے لال سرخ ہونے لگا تھا۔

“نہیں بھائی، آج میں سب کچھ کہوں گی!”
“دانیہ” نے زخمی لہجے میں کہا، آنکھوں میں برسوں کی بے بسی تھی۔

“آج بھائی مجھے سب کچھ بول لینے دیں، پتہ نہیں دوبارہ کبھی موقع ملے گا یا نہیں۔”
“شاید بابا سائیں اور اماں سائیں مجھ پر یقین کرنا چاہتے تھے، مگر چچی سائیں نے ایسا ہونے ہی نہیں دیا۔ جیسے ہی کمرے کا دروازہ کھلا، چچی سائیں نے ولولہ مچا دیا۔ وہ کہنے لگیں کہ ہماری حویلی میں نہ کوئی بنا اجازت آ سکتا ہے، نہ جا سکتا ہے، تو پھر اس کے کمرے میں کون اور کیسے آیا؟”
“وہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر توبہ استغفار کرنے لگی تھیں، جیسے میں کوئی بہت بڑا گناہ کر بیٹھی تھی۔ “نایاب” نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، وہ تو نجانے کس بات کا بدلہ لے رہی تھی۔ اس نے اپنی اماں سائیں کا بھرپور ساتھ دیا۔”
“دانیہ” نے سسکیاں بھرتے ہوئے سر جھکا لیا، اور “زیغم” کی آنکھوں میں خون اترنے لگا تھا۔

“رہی سہی کسر آ کر توقیر چاچا نے پوری کر دی..”
وہ بولنے پر آئی تو بتاتے ہی چلی جا رہی تھی۔آج “دانیہ” کچھ بھی چھپانا نہیں چاہتی تھی ہر چیز ہر بات وہ “زیغم” تک پہنچانا چاہتی تھی جو برسوں سے وہ اپنے دل میں دبائی بیٹھی تھی کیونکہ کچھ دیر پہلے اس کے ساتھ ہونے والا حادثہ اس کی روح تک کو جھنجھوڑ گیا تھا۔اگر “زیغم” دو سیکنڈ بھی لیٹ ہو جاتا تو دانیا کبھی اس قابل نہ رہ جاتی کہ وہ اپنے بھائی کو سچائی بتا سکتی اور رب قسمت نے موقع دیا تھا تو اس موقع کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔”دانیہ” کی سچائی سے بھری باتیں سنتے سنتے “زیغم” کا سانس رکنے لگا تھا ۔اس نے “دانیہ” کے چہرے کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں سوال تھا، ایک ایسا سوال جس کا جواب شاید اسے معلوم تھا، مگر وہ سننا نہیں چاہتا تھا۔ “زیغم” کی نظریں “دانیہ” کے چہرے پر جمی تھیں، مگر اس کی آنکھوں میں جیسے دیکھنے کی سکت نہیں تھی۔ دل پر پڑنے والا ہر لفظ ایک نشتر کی طرح چبھ رہا تھا، مگر وہ چپ تھا۔ سن ہو چکا تھا۔

“آپ جانتے ہیں، بھائی ان سب کی باتوں، ان کے الزامات، ان کے ظلم کی وجہ سے ہی بابا سائیں کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔۔۔ مگر ابا سائیں نے آپ کو یہ بات بتانے سے منع کر دیا تھا۔”
“دانیہ” کی آواز کانپ رہی تھی، آنسو اس کے چہرے پر بے دردی سے بہہ رہے تھے، مگر وہ رکی نہیں۔

“ابا سائیں کہتے تھے کہ گھر کی عزت گھر میں رہنی چاہیے۔ بابا سائیں نے مجھے کہہ دیا کہ جو ہو گیا، سو ہو گیا، اب اس پر کوئی صفائی نہیں چاہیے۔۔۔ بس خاموشی اختیار کر لو۔”
“اماں سائیں کو بتانا چاہا تو اماں سائیں نے یہ کہہ کر چپ کروا دیا کہ ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے!”
“زیغم” کی مٹھی سختی سے بند ہو گئی۔ وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کہہ پا رہا تھا۔

“میں نے بابا سائیں کی خاطر “شہرام” سے شادی کرنے کی ہامی بھر لی، لیکن مجھے امید تھی کہ جب آپ واپس آئیں گے، تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ “شہرام” نے جو شرط رکھی تھی کہ آپ “نایاب” سے شادی کریں، میں جانتی تھی کہ آپ انکار کر دیں گے، مگر۔۔۔ مگر آپ نے تو ابا سائیں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے۔۔۔ اور “نایاب” سے نکاح کر لیا!”
“دانیہ” کی آواز میں دکھ، بے بسی، اور ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں بکھری پڑی تھیں۔

“میری کسی نے ایک نہیں سنی، بھائی! آپ نے بھی نہیں۔۔۔ آپ تو نکاح کے دوسرے دن ہی واپس چلے گئے، اور “نایاب” سے کہہ دیا کہ کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے!”
“آپ نے کہہ دیا کہ وہ پوری زندگی آپ کا انتظار کرتے رہے گی تب بھی آپ اسے میسر نہیں ہوں گے۔ اس بات کا بدلہ اس نے ہر دن ہر رات آپ کی بہن سے لیا ہے۔۔۔کم از کم ایک بار سوچ لیتے کہ یہاں پر “دانیہ” ان کے رحم و کرم پر اکیلی ہے۔”
“زیغم” کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا تھا۔ “دانیہ” کی باتیں اس کے اندر زہر بن کر اتر رہی تھیں۔

“آپ چلے گئے تھے، بھائی مگر آپ نےایک بار نہیں سوچا کہ آپ نے مجھے بھوکے شیروں کے سامنے ڈال دیا!”
اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے، آنکھوں میں برسوں کی اذیت سمٹی ہوئی تھی۔

“ہر دن، ہر رات، ہر گھڑی “نایاب” مجھ سے اپنی دشمنی نکالتی رہی، بھائی!”
“وہ بہت ظالم ہے، بھائی۔۔۔ بہت ظالم!”
“انہوں نے مجھے ہر طرح سے اذیت دی!”
“میرے جسم پر جو نشان ہیں نا، یہ صرف زخم نہیں ہیں، یہ میرے ٹوٹنے کی گواہیاں ہیں، بھائی!”
ان کے زخموں نے میری روح کو چھلنی کر دیا ہے۔
“زیغم” کا سانس اٹک گیا۔ وہ جیسے ساکت ہو گیا تھا۔

“بابا سائیں اور اماں سائیں۔۔۔ وہ جی سکتے تھے، بھائی!”
“زیغم” نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔

“ہاں بھائی! اماں سائیں اپنے آخری وقت میں سب کچھ جان گئی تھیں۔۔۔وہ آپ کو حقیقت بتانا چاہتی تھی مگر اس سے پہلے کہ اماں سائیں آپ کو حقیقت بتاتی۔۔۔ ظالموں نے مل کر اماں سائیں کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ کروا دیا۔”
“ایکسیڈنٹ کے پیچھے بھی چچا سائیں تھے، “شہرام”، “قدسیہ” چچی، سب ملوث تھے۔۔۔ “نایاب” بھی سب کچھ جانتی تھی، بھائی!”
“زیغم” کا دل جیسے پھٹنے کو تھا۔ مٹھیاں میچے، چہرے کی رگیں تن چکی تھی آنکھیں لال انگارہ ہو رہی تھی۔ وہ اس وقت آتش فشاں پہاڑ بنا ہوا تھا۔

“بابا کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا، مگر ان لوگوں نے انہیں غلط دوائیاں دیں، جس کی وجہ سے۔۔۔”
“دانیہ” کی آواز رندھ گئی۔ اس کا ضبط ٹوٹ چکا تھا۔

“بابا سائیں بھی چلے گئے۔۔۔ اماں سائیں بھی۔۔۔ ان لوگوں نے چھین لیے بھائی!”
“مجھ سے میرے ماں باپ چھین لیے!”
پورے کمرے میں سسکیوں کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ “دانیہ” کا وجود لرز رہا تھا، مگر “زیغم”۔۔۔ “زیغم” تو جیسے پتھر کا ہو چکا تھا۔ “زیغم” کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ “دانیہ” کو کس طرح سے دلاسہ دے۔ اس کا تو اپنا دل پھٹنے کی کاغار پر تھا۔ ظلم کی انتہا ہو گئی تھی۔ “زیغم سلطان” کے مضبوط دل کے اندر ایک آگ دہک چکی تھی، ایک ایسی آگ جو سب کچھ جلا کر راکھ کر دینے کے لیے کافی تھی۔ “زیغم” تو جیسے سن ہو کر رہ گیا تھا۔ وہ بے یقینی سے “دانیہ” کو دیکھ رہا تھا، جیسے اس کے لفظوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو مگر دماغ مفلوج ہو چکا تھا۔

“یہ سب۔۔۔ یہ سب سچ ہے؟”
“زیغم” کی آواز اتنی مدھم تھی جیسے سانس بھی لینا مشکل ہو رہا ہو۔

“بھائی! میں جھوٹ کیوں بولوں گی؟”
“دانیہ” نے زخمی دل کے ساتھ سوال کیا، آنسو اس کے گالوں پر بہہ رہے تھے۔
“زیغم” کی مٹھیاں سختی سے بھینچ گئیں۔ اس کے دل میں جلتی ہوئی آگ مزید بھڑک اٹھی تھی۔

“انہوں نے بابا سائیں اور اماں سائیں کو مجھ سے چھین لیا۔۔۔”
وہ جیسے خود سے بات کر رہا تھا، ہر لفظ کے ساتھ درد اور غصہ گہرا ہو رہا تھا۔

“میں ان سب کو نہیں چھوڑوں گا، دانیا!”
“یہ ظلم کرنے والوں کو ایک ایک کر کے انجام تک پہنچاؤں گا!”
“زیغم” کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا، اس کا چہرہ سخت ہو چکا تھا، جیسے وہ ابھی اٹھے گا اور سب کو تہس نہس کر دے گا۔ “دانیہ” نے اپنے آنسو صاف کیے، مگر اس کی آنکھوں میں ابھی بھی خوف تھا۔

“بھائی! یہ سب اپنوں کے بھیس میں بھیڑیے ہیں۔ بہت خطرناک لوگ ہیں!”

“اور میں “زیغم سلطان لغاری” ہوں!”
“زیغم” کی آنکھوں میں ایسی چنگاریاں تھی کہ جیسے اب انتقام کے سوا کچھ نہ بچا ہو۔

“ان سب کو اگر دردناک انجام تک نہ پہنچایا، تو میرا نام بھی “زیغم سلطان لغاری” نہیں ہے!”
“زیغم” کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔ آواز میں ایسی سختی تھی کہ دیواریں تک کانپ جاتیں۔ اس نے “دانیہ” کو اپنے سینے سے لگاتے ہوئے تسلی دی۔

“میرے ہوتے ہوئے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ میں آ گیا ہوں نا!”
مگر “دانیہ” کا خوف ختم نہیں ہو رہا تھا۔ وہ بری طرح کانپ رہی تھی، اس کی سانسیں بے ترتیب ہو رہی تھیں۔

“نہیں! نہیں “زیغم” بھائی! میں یہاں نہیں رہوں گی!”
“پلیز، مجھے کہیں دور لے جائیں۔ “زیغم” بھائی، میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں، آپ کے پاؤں پڑتی ہوں، بس مجھے یہاں مت چھوڑیں! پلیز، “زیغم بھائی!”
“زیغم” کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے لیا ہو۔ وہ اسے سنبھالنا چاہتا تھا، تسلی دینا چاہتا تھا، مگر “دانیہ” کا خوف اس قدر شدید تھا کہ وہ کچھ بھی سننے کے لیے تیار نہیں تھی۔ “زیغم” نے “دانیہ” کی حالت کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کر لیا۔ اس وقت اسے بہن کی بات ماننی ہی تھی، کیونکہ وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھی۔

“ٹھیک ہے۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ میری طرف دیکھو، “دانیہ!”
“زیغم” نے اس کے چہرے کو تھام کر اپنی سخت مگر شفقت بھری آواز میں کہا:
“تم جو کہو گی، ویسا ہی ہوگا!”
“تمہارا بھائی لوٹ آیا ہے۔ تم جہاں جانا چاہتی ہو، وہاں جاؤ گی!”
“تم یہاں نہیں رہنا چاہتی؟”
“ٹھیک ہے، نہیں رہو گی مگر اپنے آنسو صاف کرو۔۔۔ تم “زیغم سلطان لغاری” کی بہن ہو، کمزور نہیں ہو!”
“دانیہ” کی ہچکیاں تھوڑی مدھم ہوئیں، مگر خوف ابھی بھی آنکھوں میں زندہ تھا۔ “زیغم” نے اسے مضبوطی سے تھام کر اپنی مٹھی بھینچ لی۔

“مجھے بس تھوڑا سا موقع دو۔۔۔ بس ایک بار انہیں میرے سامنے آ لینے دو۔۔۔ میں انہیں بتاؤں گا کہ ان سب کا باپ واپس آ گیا ہے!”
“زیغم” کے لہجے میں وہی جلال تھا، جو دشمنوں کے لیے قیامت بن سکتا تھا۔

“ارمیزہ” کہاں ہے؟”
ایک دم سے “زیغم” کو معصوم سی گڑیا “ارمیزہ” کا خیال آیا تھا۔

“دانیہ” نے سر جھکا لیا۔
“بورڈنگ اسکول میں ہے۔۔۔ اور کہاں ہوگی؟”
“نایاب” کے پاس تو “ارمیزہ” کے لیے وقت ہی نہیں ہے۔۔۔ وہ ننھی سی جان دو دو مہینے بعد گھر کی شکل دیکھتی ہے!”
“زیغم” کے لب سختی سے بھینچ گئے۔ اس کی آنکھوں میں آگ دہک اٹھی تھی۔

“گھٹیا عورت۔۔۔ اپنی اولاد کی بھی سگی نہیں ہے!”
“زیغم” نے غصے سے مٹھیاں بھینچتے ہوئے سرد لہجے میں کہا۔ اب وہ خاموش نہیں رہ سکتا تھا۔ اب وقت تھا۔۔۔ حساب برابر کرنے کا!
°°°°°
“میں نے “زیغم” سے ملنا ہے!”
“توقیر لغاری” اپنی شیطانی فطرت کو اندر دبائے، چہرے پر محبت بھرا ملمع چڑھائے، بڑے رعب کے ساتھ “زیغم” کے دروازے پر کھڑا تھا۔ اس کی آنکھوں میں مصنوعی نرم مزاجی تھی، جیسے وہ صرف اپنے بھتیجے سے ملنے آیا ہو۔ انداز ایسا جیسے دل میں بے پناہ محبت ہو، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو مگر “مائد” کو اس شخص کی حقیقت کا بخوبی علم ہو چکا تھا۔ “مائد” نے ایک نظر اس پر ڈالی، پھر “زیغم” کے دروازے کے قریب ہو کر بازو باندھ لیے۔

“ٹھنڈ رکھیے۔۔۔”
وہ گویا ہوا، لہجے میں استہزائیہ سختی تھی۔

“اگر “زیغم” حویلی آ گیا ہے تو فکر نہ کریں، آپ لوگوں سے ملے گا ضرور، مگر تب۔۔۔ جب اس کی مرضی ہوگی!”
“اس کی مرضی کے بغیر کوئی اندر نہیں جا سکتا!”
“مائد” کی آواز میں ایسی کڑک تھی کہ “توقیر لغاری” کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے چمک بجھی تھی۔ “توقیر لغاری” کے لیے “مائد” بھی کوئی چھوٹا خطرہ نہیں تھا۔ “مائد خان دورانی” کوئی معمولی گھرانے سے تعلق نہیں رکھتا تھا پٹھان برادری سے تعلق رکھتا تھا اور بیک گراؤنڈ بہت مضبوط تھا۔ چاہ کر بھی “توقیر” اس سے سخت انداز میں بات نہیں کر سکتا تھا۔ وہ گہری سوچ میں مبتلا ہونے لگا تھا کہ تبھی، “مائد خان دورانی” نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ چھ فٹ کا خوبرو، دبنگ جوان، جس کے لہجے میں پٹھانوں والا روایتی سخت ایٹیٹیوڈ صاف جھلک رہا تھا۔ اس کی آنکھیں سرمئی تھیں، مگر ان میں برف سی ٹھنڈک کے ساتھ ساتھ، خطرناک دھمکی بھی تھی۔

“زیغم سلطان لغاری” کا دروازہ ہے یہ۔۔۔ عام بے بس مجبور انسان کے کمرے کا راستہ نہیں، جہاں جو چاہے آ کر چل دے!”
“مائد” کے تیور دیکھ کر “توقیر لغاری” نے ضبط سے اپنی مٹھیاں بھینچی، مگر چہرے کی مسکراہٹ برقرار رکھی۔

“ہم تو اپنے بیٹے “زیغم” سے ملنے آئے ہیں، دشمنی کرنے تو نہیں آئے جو تم اس انداز سے بات کر رہے ہو۔”
وہ دھیرے سے مسکرایا، مگر سامنے کھڑے جوانوں کے تاثرات میں ذرا بھی لچک نہ آئی۔

“زیغم” سے ملنے کے لیے “زیغم” کی اجازت چاہیے، اور وہ۔۔۔ فی الحال، اجازت دینے کے موڈ میں نہیں ہے!”
“مائد” نے جتاتے ہوئے کہا، جیسے آخری فیصلہ سنا رہا ہو۔
“توقیر لغاری” نے ایک آخری بار “مائد” کی سرد آنکھوں میں جھانکا، مگر وہاں کوئی نرمی نہیں تھی، بس برف جیسی سختی اور ایک چبھتا ہوا سکوت۔

“ٹھیک ہے۔۔۔”
اس نے مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا اور قدم پیچھے کر لیے، جیسے اپنی بے عزتی کو ضبط کے ملبوس میں چھپانے کی کوشش کر رہا ہو۔

“ٹھیک ہے، جب “زیغم” باہر آئے تو اسے کہہ دینا کہ میں ملنے آیا تھا۔”
اس کے لہجے میں ہلکی سی بے بسی تھی، جیسے وہ اپنی ہار تسلیم کر رہا ہو، مگر “مائد” کا جواب سنتے ہی اس کے چہرے کے تاثرات مزید بگڑ گئے۔

“اس کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی، کیونکہ “زیغم” خود بھی تو آپ لوگوں سے ملنے کے لیے بے قرار ہے۔۔۔”
“مائد” کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی، مگر آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی چمک رہی تھی۔

“جتنی محبت آپ کے دل میں اس کے لیے ہے، اتنی ہی محبت اس کے دل میں بھی آپ کے لیے چھلک رہی ہے۔۔۔ ظاہر سی بات ہے، اس محبت کو آپ لوگوں پر برسانے کے لیے وہ آپ لوگوں کے ساتھ ملے گا تو ضرور۔۔۔ آپ بے فکر رہیں، وہ کمرے سے باہر قدم رکھتے ہی آپ سے ملنے آئے گا!”
“مائد” کی بات بظاہر نرم اور سادہ تھی، مگر اس میں چھپا طنز ایسا تھا جیسے کسی نے ننگی تلوار سے ضرب لگائی ہو۔”توقیر لغاری” کو اس طنز کی کاٹ بخوبی محسوس ہوئی تھی مگر وہ خاموش رہا۔ “مائد” کے چہرے پر بھی ایک عجیب سا تمسخر تھا، جیسے کسی جنگ کے میدان میں دشمن کو بے بس دیکھ کر سپہ سالار محض اپنی نظریں جھکا لے۔ “توقیر لغاری” نے ایک بار پھر اپنی مصنوعی مسکراہٹ کو برقرار رکھتے ہوئے سر جھکایا، جیسے اس کے اندر اٹھنے والا طوفان دب گیا ہو مگر حقیقت میں، اس کی آنکھوں میں بھڑکتی چنگاریاں بتا رہی تھیں کہ وہ اس توہین کو بھولنے والا نہیں تھا۔

“دیکھتے ہیں، “زیغم” کب اور کیسے ہم سے ملتا ہے۔۔۔”
وہ دل ہی دل میں بڑبڑایا اور خاموشی سے وہاں سے پلٹ گیا۔

“جو کچھ تم لوگوں نے کیا ہے، تم لوگوں کو زندہ درگور کر دینا چاہیے۔ مجھے بھی انتظار ہے “زیغم” کے فیصلے کا۔”
“مائد” دماغ میں سوچ رہا تھا۔
دوسری طرف، “توقیر لغاری” قدم قدم پر اپنی بے بسی کا غصہ ضبط کرتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا مگر اس کی چال بتا رہی تھی کہ وہ ابھی ہارا نہیں تھا۔ وہ پلٹ کر وار کرنے والا تھا۔ گھٹیا فطرت کے لوگ اپنی ہار کو اتنی جلدی تسلیم نہیں کرتے۔
°°°°°°
“سائیں! آپ گئے تھے نا؟”
“زیغم” نے صحیح موڈ سے بات کی یا ہمیشہ کی طرح دماغ خراب تھا؟”
کمرے میں قدم رکھتے ہی “قدسیہ” نے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔
“توقیر لغاری” جو پہلے ہی غصے سے دہک رہا تھا، خونخوار نظروں سے “قدسیہ” کو گھورتا رہ گیا۔

“تم صبر کر لو گی یا سوالوں کی برسات برسات کرتی رہو گی؟”
وہ غصے سے صوفے پر پھونکاتے ہوئے بیٹھ گیا تھا۔

“سائیں! مجھے تو پہلے ہی پتہ تھا کہ الٹی کھوپڑی کا انسان ہے۔ اس سے اچھے کی امید لگانی ہی نہیں چاہیے؟”
“قدسیہ” سینے پر ہاتھ باندھے اپنی ذہانت کے حساب سے اپنے شوہر کو مشورہ دے رہی تھی۔”توقیر” جو پہلے ہی غصے کی آگ میں جھلک رہا تھا قہر برساتی نظروں سے “قدسیہ” کی جانب دیکھا۔

“اس وقت مسئلہ صرف “زیغم” کا ہی نہیں، اس کے بد دماغ دوست “مائد خان” کا بھی ہے!”
“اس نے تو جیسے قسم کھا رکھی تھی کہ مجھے “زیغم” کے روم اندر قدم نہیں رکھنے دے گا۔اس کے تیور “زیغم” سے بھی بڑھ کر تھے!”

“قدسیہ” نے طنز سے آنکھیں گھما کر کہا:
“تو پھر اب کیا ارادہ ہے؟”
“کچھ کریں گے یا بس مجھے ہی سناتے رہو گے؟”
“توقیر” نے غصے سے ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنساتے ہوئے جھنجھلا نظروں سے ایک بار پھر “قدسیہ” کو دیکھا تھا۔

“میں بھی “زیغم” سے ملے بغیر پیچھے ہٹنے والا نہیں ہوں۔ جب تک ملوں گا نہیں کیسے پتہ چلے گا کہ وہ کیا سوچ رہا ہے؟”
“سمندر میں اترے بغیر گہرائی کا اندازہ کیسے لگایا جا سکتا ہے!”
سنجیدہ نظروں سے دور گہری سوچ سوچتے ہوئے بول رہا تھا۔
“قدسیہ” نے غصے سے لب بھینچ لیے، مگر اگلے ہی لمحے طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر پھیل گئی۔

“کمال ہے۔ آپ وہاں “زیغم” سے ملنے گئے تھے اور اس کے دوست سے ڈر کر واپس آگئے۔ واہ “توقیر” سائیں پورے علاقے میں راج کرنے والا ایک لڑکے سے ڈر کر واپس آگیا ہے!”
وہ طنزیہ انداز میں آنکھوں کو گھماتے ہوئے بولی۔

“قدسیہ” تُو میرا دماغ مت خراب کر!”
“ایک تو ویسے ہی میرا دماغ گھوما ہوا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اپنے پسٹل کی ساری گولیاں تیری کھوپڑی میں اتار دوں!”
“توقیر لغاری” نے خونخوار نظروں سے “قدسیہ” کو گھورا اور غصے سے دھاڑا۔
“قدسیہ”، جو عام طور پر دوسروں پر تانے برسانے میں مہارت رکھتی تھی، اس وقت “توقیر” کے خطرناک ارادے دیکھ کر ٹھٹھک گئی۔ وہ جانتی تھی کہ آج معاملہ کچھ زیادہ ہی سنگین ہے اور “قدسیہ” کو اپنی جان بہت عزیز تھی۔ حد سے زیادہ فریبی اور خود غرض عورت اپنی جان کی حفاظت بہت اچھے سے کرتی تھی۔ کمرے میں “توقیر لغاری” کی پھونکارتی ہوئی آواز سے روم کا ٹمپریچر کافی ہائی ہو چکا تھا مگر “شہرام” اور “نایاب” اس وقت وہاں موجود نہیں تھے، ورنہ شاید منظر مزید سنگین ہو جاتا۔ “قدسیہ” نے بے زار سی شکل بناتے ہوئے صرف کچھ سیکنڈ کے لیے ہی زبان بند کی تھی کیونکہ “قدسیہ” کے لیے اپنی زبان کو بند کرنا بہت مشکل تھا۔

“یہ اچھا ہے جب کوئی نہیں ملتا تو غصہ آ کر مجھ پر نکال دو!”
“توقیر” نے غصے سے دانت پیسے۔ پسٹل پر انگلیاں سخت ہو گئیں۔

“قدسیہ” اب کچھ دیر کے لیے اپنا منہ بند کر لو میں تمہاری بک بک سننے کے موڈ میں نہیں ہوں۔ اگر ایک لفظ بھی اور بولا تو ساری گولیاں تمہاری کھوپڑی کے اندر اتار دوں گا۔”
“توقیر لغاری” نے غراتے ہوئے کہا تو “قدسیہ” چپ تو نہیں ہو سکتی تھی مگر کچھ دیر کے لیے وہاں سے اٹھ کر چلی گئی کیونکہ اس خاتون کے لیے خاموش رہنا بہت مشکل کام تھا اور دوسری جانب “توقیر لغاری” مسلسل سوچوں میں گم تھا۔ پہلے تو “زیغم” کے بارے میں سوچ سوچ کر اس کا دماغ پھٹ رہا تھا کہ وہ کیا کرے گا اور اب جو تیور وہ “مائد خان دورانی” کے دیکھ کر آیا تھا، اس سے تو حالات اس کی سوچ سے بھی کہیں زیادہ خراب ہونے کا اندیشہ تھا۔وہ خاموش بیٹھا ہوا نجانے کون سے منصوبے بنا رہا تھا۔
°°°°°°°°
“زیغم” نے سختی سے “دانیہ” کو اپنے بازوؤں میں بھینچ رکھا تھا، مگر اس کے خوف کی شدت کم نہیں ہو رہی تھی۔ وہ کسی بھی طرح “زیغم” کو روم سے باہر نہیں جانے دینا چاہتی تھی۔ عجیب سا ڈر اس کی آنکھوں میں تیر رہا تھا۔

“پلیز، “دانیہ” اگر تم مجھے باہر نہیں جانے دو گی، تو میں ان سے بدلہ کیسے لوں گا؟”
“زیغم” نے نرمی سے کہا، مگر اس کی آنکھوں میں انتقام کی آگ تھی۔

“دانیہ” تڑپ کر رو دی۔
“نہیں بھائی۔۔۔ آپ نہیں جائیں گے!”
“اگر انہوں نے آپ کو کچھ کر دیا تو میں کیا کروں گی؟”
“میرا تو اور کوئی نہیں ہے!”
وہ سسکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔

“زیغم” نے اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں تھاما۔
“اتنی اوقات نہیں ہے ان کی کہ مجھے کچھ کریں!”
“اتنا تو اپنے بھائی پر بھروسہ رکھو، دانیا!”
“ان سب کے چیتھڑے اُڑانے کے لیے میں اکیلا کافی ہوں!”

“نہیں بھائی!”
“دانیہ” نے التجا کی۔
“وہ گروپ کی صورت اتنے زیادہ ہیں،اور آپ اکیلے ہیں!”
“وہ آپ کو نقصان پہنچائیں گے! بھائی، پلیز، ہمیں یہاں سے کہیں دور لے جائیں، ہم کبھی واپس نہیں آئیں گے، پلیز!”

“زیغم” کی آنکھیں قہر برسا رہی تھیں، اس نے ایک جھٹکے سے “دانیہ” کے لرزتے ہاتھ نیچے کیے۔
“ہاتھ نیچے کرو، دانیا!”
“پاگل ہو گئی ہو؟”
“کیا تمہیں لگتا ہے تمہارا بھائی اتنا کمزور ہے کہ میں ان درندوں سے ڈر کر بھاگ جاؤں گا؟”
“کبھی نہیں! میں ان کا سامنا کروں گا، اور تم دیکھنا، میں ان کا کیا حشر کرتا ہوں!”
“بے فکر رہو جب دشمنوں کی اوقات کا پتہ چل جائے اس کے بعد خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ویسے بھی تیرا بھائی اکیلا نہیں ہے !”
“دروازے کے باہر مجھ پر جان نچھاور کرنے والا “توقیر”مائد خان” کھڑا ہے۔۔۔ جو ان کو ناکوں چنے چبوانے کے لیے کافی ہے۔”
“زیغم” نے ایک نظر باہری دروازے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔ اسے اپنے دوست پر، یار پر یقین تھا کہ وہ اس کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ بے شک “زیغم” زبان سے یہ بات “مائد” کو نہیں بول کر آیا تھا مگر کچھ لوگ بول کر نہیں دل ہی دل میں مقابل کی ریسپیکٹ کرتے ہیں۔”زیغم” بھی ان لوگوں میں سے تھا۔ اپنی بہن کہ خوف کو کم کرنے کے لیے دل میں اٹھتے طوفانوں کی زد میں بھی وہ اپنی آواز دھیمی کرتے مگر ٹھوس لہجے میں بول رہا تھا۔

“جو بھی ہو آپ مجھے یہاں اکیلا چھوڑ کر نہیں جا سکتے اور نہ ہی میں آپ کو بھی جانے دوں گی۔۔۔ پلیز آپ یہاں سے دور جانے کی تیاری کریں، ہمیں ان سے کوئی بدلہ نہیں لینا۔”
“دانیہ” اس وقت کچھ بھی سمجھنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ اسے صرف اپنے بھائی کی زندگی چاہیے تھی، وہ اپنے بھائی کو کھونے سے ڈر رہی تھی۔ “دانیہ” نے حویلی والوں کا جو روپ دیکھا تھا اس کے بعد “دانیہ” کا اتنا خوف زدہ ہونا بالکل صحیح تھا۔
دوسری جانب “زیغم” تھا، جسے نہ تو کل ان لوگوں سے ڈر لگتا تھا اور نہ آج، اور نہ ہی وہ ڈرنے والی چیز تھا۔ “زیغم سلطان” تو خود دوسروں کے سینے نوچ لینے والا شیر تھا مگر اس وقت اپنی بہن کو مضبوط کرنا، اسے یہ یقین دلانا کہ وہ اس کے ہوتے ہوئے محفوظ ہے، یہ “زیغم” کے لیے بہت مشکل ہو رہا تھا ،کیونکہ “دانیہ” کی حالت ایسی نہیں تھی کہ اس پر کوئی سختی کی جاتی اور نرمی سے وہ نہیں سمجھ پا رہی تھی۔ “دانیہ” کا خوف “زیغم” کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا تھا۔ وہ دشمنوں پر جھپٹنے کے لیے بے تاب تھا، مگر “دانیہ” کسی بھی طرح اسے باہر جانے نہیں دے رہی تھی۔ “زیغم” کا خون کھول رہا تھا، مگر “دانیہ” کی ضد اسے مزید بے قابو کر رہی تھی۔

“دانیہ”، پلیز! میری بات سمجھنے کی کوشش کرو!”
“زیغم” نے “دانیہ” کے کندھوں کو تھام کر جھنجھوڑا۔
“یہاں روم میں رکو، باہر “مائد” کھڑا ہے، تمہیں کوئی ہاتھ تک نہیں لگا سکتا!”
“مجھے بس ایک بار جانے دو۔اس کے بعد جو کہو گی وہی ہوگا۔تم یہاں نہیں رکنا چاہتی؟”
“ٹھیک ہے آکر یہ سب بعد میں دیکھوں گا!”

“نہیں! آپ نہیں جا سکتے!”
“دانیہ” نے سختی سے انکار کر دیا، اس کی آنکھوں میں خوف ہی خوف تھا۔
“زیغم” کی آنکھیں قہر برسا رہی تھیں، صبر کا بندھن ٹوٹنے کے قریب تھا۔ وہ ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹا، ہاتھ دیوار پر مارا اور گرج دار آواز میں بولا:
“دانیہ” تمہیں میری بات سمجھ میں کیوں نہیں آ رہی؟”
“میں نے کہا کہ مجھے جانا ہے تو مطلب جانا ہے!”
“میرے ضبط کا امتحان مت لو!”
وہ دھڑام سے میز پر مکا مار کر آگے بڑھا۔

“کیا چاہتی ہو کہ یہاں آکر دشمنوں کے سامنے، دشمنوں کے ڈر سے دبک کر بیٹھ جاؤں؟”
“ان درندوں کو کھلا چھوڑ دوں، جنہوں نے ہم سے ہمارا ماں باپ چھین لیا اور تمہاری یہ حالت کر دی کہ آج تم اتنی خوفزدہ ہو کہ تمہیں اپنے بھائی کی بہادری پر بھی یقین نہیں رہا؟”
“وہ سالوں تک ہمیں روندتے رہیں اور میں سب کچھ جان کر بھی خاموش ہو جاؤں؟”
“ہرگز نہیں۔۔۔ ایسا بالکل نہیں ہو سکتا!”
“مجھے تب تک سکون نہیں آئے گا جب تک میں ان لوگوں کو انجام تک نہ پہنچا دوں۔ جب تک مجھے حقیقت نہیں پتہ تھی، تب تک انہوں نے جتنی حکمرانی کرنی تھی کر لی۔”
“زیغم” کے غصے سے بولنے پر “دانیہ” خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹی، “زیغم” کی آنکھوں میں وہ طوفان تھا جو سب کچھ جلا کر راکھ کر دینے کی طاقت رکھتا تھا۔”دانیہ” کو اس وقت اپنے بھائی سے بھی عجیب سا ڈر محسوس ہو رہا تھا۔

“میں “زیغم” ہوں، نہ پیچھے ہٹنے والا، نہ جھکنے والا!”
“اور اگر تم نے مزید ضد کی، تو یاد رکھو، مجھے زبردستی تمہیں یہاں روکنا بھی آتا ہے!”
“دانیہ” نے آنسو بھری نظروں سے بھائی کو دیکھا، مگر وہ جان چکی تھی، آج “زیغم” کو روکنا ناممکن تھا۔ “زیغم” کے قدموں میں وہ طوفان تھا جو سب کچھ بہا لے جانے کے لیے کافی تھا۔ وہ نرم لہجے کا اس وقت استعمال کرنا بھی نہیں چاہتا تھا کیونکہ اسے پتہ تھا کہ اگر وہ ایک لمحے کے لیے بھی رک گیا، تو “دانیہ” کی ضد اس کی کمزوری بن کر اسے پھر جکڑ لے گی۔ اس نے ایک آخری بار “دانیہ” کے سر پر ہاتھ رکھا، مگر اب کی بار لمس میں شفقت کے بجائے ایک حکم تھا، ایک یقین دہانی کہ وہ محفوظ ہے، اور وہ پلٹ کر تیز قدموں سے دروازے کی جانب بڑھا۔ جیسے ہی دروازہ کھولا،”مائد” نے فوراً پلٹ کر دیکھا۔ اس کے ہاتھ میں پسٹل تھا، اور وہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی وہاں سے نہیں ہٹا تھا۔ وہ چوکس نظروں سے اپنے یار کی حفاظت کو یقینی بنائے ہوئے تھا۔ “زیغم” نے بغیر ایک لفظ کہے سیڑھیاں اترنی شروع کیں۔ اس کے قدموں کی دھمک سن کر “مائد” نے آگے بڑھنے کا ارادہ کیا، مگر “زیغم” کی ایک نظر کافی تھی۔ “یہ میرا بدلہ ہے، “مائد” تم پیچھے رہو!” “مائد” نے ایک لمحے کے لیے غور سے اسے دیکھا، پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سیڑھیوں کے اوپر رک کر کھڑا ہو گیا۔ وہ جانتا تھا کہ “زیغم” کا غصہ دشمنوں کو تڑپانے کے لیے کافی ہے۔ دل ہی دل میں یہ بھی سوچ لیا تھا کہ اگر کسی نے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو وہ سب کی چھاتیاں چیر کر رکھ دے گا۔ دونوں کی دوستی اتنی مضبوط تھی کہ کئی سال دور رہنے کے باوجود بھی ایک دوسرے میں دونوں کی جان بستی تھی۔”مائد” “زیغم” کو شیر کی طرح جھپٹنے کے لیے تیار تیز قدموں سے نیچے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا۔

“توقیر لغاری!” باہر نکل!”
اس کی آواز دیواروں سے ٹکرا کر گونجی۔
“اور کہاں ہے تیرا وہ بے غیرت بیٹا، جو ایک عورت پر ہاتھ اٹھا کر خود کو مرد سمجھتا ہے؟”
نیچے پہنچ کر “زیغم” نے کھلے ہال کے بیچ کھڑے ہو کر حلق کے بل دھاڑتے ہوئے سب کو آواز دی۔ پوری حویلی میں صرف “زیغم” کی آواز گونج رہی تھی۔ حویلی کے ملازمین ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ زیادہ تر ملازمین “زیغم” کے آنے پر خوش تھے بس کچھ ہی ایسے نافرمان اور “توقیر لغاری” کے پالتو کتے تھے جو “زیغم” کے آنے پر خوش نہیں تھے۔
اپنے کمرے کے دروازے کے اس پار موجود “لغاری” کے پورے خاندان کو پتہ چل چکا تھا کہ قیامت دروازے پر آ چکی ہے۔ “زیغم” کی مٹھیاں سختی سے بند تھیں، چہرے پر خون سوار تھا۔

“جلدی کرو مجھے انتظار کرنا پسند نہیں ہے، اور آتے ہوئے اپنی اس بیٹی کو بھی لے آنا، جو خود کو اس گھر کی مالک سمجھتی ہے!”
“کیونکہ آج فیصلہ ہوگا کہ کون مالک ہے اور کون غلام!”
“زیغم” کی دھاڑ نے پوری حویلی میں زلزلہ برپا کر دیا تھا۔ دشمنوں کے دل دھڑک اٹھے، اور ایک ایک کر کے سب اپنے کمروں سے باہر آ گئے۔ ان کے چہروں پر خوف اور حیرت کے سائے تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ “دانیہ” ہر راز اگل چکی ہے، اور جو شخص سامنے کھڑا تھا، وہ کسی کی چالاکیوں میں آنے والا نہیں تھا۔ “شہرام” خود کو مضبوط ظاہر کرتے ہوئے تیز قدموں سے نیچے اترا، مگر حقیقت میں اس کے قدموں میں ہلکی سی لرزش تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ “زیغم” کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا رہے، مگر یہ بھول گیا تھا کہ یہاں نیچے “سلطان لغاری” نہیں، “زیغم سلطان” کھڑا ہے!
جیسے ہی “شہرام” نے آخری سیڑھی پر قدم رکھا، “زیغم” آگے بڑھا، اس کے کالر کو دبوچا اور پوری طاقت سے اسے زمین پر پٹخ دیا۔ “شہرام” کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ اوپر کھڑے “توقیر لغاری” اور “قدسیہ” کی چیخیں گونج اٹھیں۔ حویلی کے ہر گوشے میں ان چیخوں کی بازگشت پھیل گئی۔ نیچے، ہال میں “زیغم” “شہرام” پر ٹوٹ پڑا تھا۔ جیسے ہی “شہرام” نے خود کو اٹھانے کی کوشش کی، “زیغم” کے گھونسے اور لاتوں کی بارش نے اسے پھر سے زمین پر گرا دیا۔ “زیغم” کی پرکشش نیلی آنکھیں خون برسا رہی تھیں۔ “شہرام” اس کے سامنے کسی شکستہ کھلونے کی طرح نظر آ رہا تھا۔ اوپر کھڑا “مائد” دلچسپی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا، اس کی آنکھوں میں اطمینان تھا کہ انصاف ہوتا دیکھ رہا ہے!
تبھی، “توقیر لغاری” آگے بڑھا، بیٹے کو بچانے کے لیے۔

“چھوڑ دو اسے،آتے ہی ظلم شروع کر دیا ہے!”
مگر “زیغم” کی نظر جیسے ہی اس پر پڑی، اس نے پوری طاقت سے اسے دھکا دیا!
“توقیر” فٹ بال کی طرح اچھلتا ہوا پیچھے جا گرا اور دیوار سے ٹکرا کر زمین پر گر پڑا۔ “زیغم” آگے بڑھا، اس پر جھکتے ہوئے، گرج دار آواز میں “توقیر لغاری” کے کانوں کے پردے پھاڑنے کی حد تک اونچی اواز میں دھاڑا۔

“چاچا سائیں! ظلم کی بات مجھے نہ سکھا، یہ میری تربیت نہیں کہ میں آپ پر ہاتھ اٹھاؤں۔۔۔۔ لیکن ہاں، اگر ضرورت پڑے، تو آپ کا انجام بھی اسی زمین پر بکھرا ہوا نظر آئے گا!”
“زیغم” کا اشارہ اس کے بیٹے “شہرام” کی جانب تھا۔
پورے ہال میں صرف “زیغم” کی غصے سے بھری تیز سانسوں کی گونج اور دھاڑ کی آواز باقی رہ گئی تھی۔ “زیغم” کی توجہ لمحہ بھر کے لیے “توقیر لغاری” کی طرف ہوئی تھی، اور یہ لمحہ “شہرام” کے لیے موقع بن گیا۔ اس نے تیزی سے اپنی پسٹل نکالی اور “زیغم” پر تاننے ہی والا تھا کہ اوپر کھڑے “مائد” نے ٹریگر کھینچ لیا مگر “زیغم” “شہرام” سے کہیں زیادہ حاضر دماغ اور ذہین تھا۔ وہ پیچھے پڑے ہوئے دشمن سے غافل نہیں تھا۔ اس نے پلٹ کر اپنی پسٹل نکالی اور گولی چلا دی!

“ٹھاہ!”
“زیغم سلطان” کا نشانہ بالکل پرفیکٹ جگہ پر لگا تھا۔ گولی سیدھا “شہرام” کی ٹانگ میں جا لگی۔ “زیغم” اسے آسان موت دینا نہیں چاہتا تھا، تڑپا تڑپا کر مارنا چاہتا تھا۔

“آہہہ!”
“شہرام” کی چیخ پورے ہال میں گونجی، خون اس کی ٹانگ سے بہہ کر فرش کو لال کرنے لگا وہ زمین پر گرا درد سے کراہ رہا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر اوپر کھڑی “قدسیہ” اور “نایاب” کی چیخیں نکل گئیں۔ “قدسیہ” تیزی سے نیچے اتری، جبکہ “توقیر لغاری” ہاتھ جوڑ کر، بے بسی سے تڑپ اٹھا۔

“میرے بیٹے کو مت مارو!اور جو بھی سزا دینی ہے، ہمیں قبول ہے!”
یہ وہی درندے تھے، جو خود کو زمینی خدا سمجھتے تھے، مگر آج اپنے انجام کے خوف میں ہاتھ جوڑ رہے تھے۔ “قدسیہ” نیچے پہنچ کر چیخ و پکار کرنے لگی، جبکہ “نایاب” “شہرام” کی طرف لپکی مگر “زیغم” نے اسے موقع نہیں دیا۔ اس کے ہاتھ فضا میں بلند ہوئے، اور ایک زوردار تھپڑ “نایاب” کے چہرے پر پڑا!

“چٹاخ!”
“نایاب” سیڑھی کے ساتھ جا ٹکرائی، اس کے لبوں سے سسکی نکلی، مگر “زیغم” نے ایک پل بھی ضائع نہیں کیا۔

“چل!”
“زیغم” نے اس کا بازو کھینچا، اور زبردستی گھسیٹتے ہوئے اسے اس کے ہی کمرے میں لے گیا۔ “قدسیہ” اور “توقیر” چیختے رہ گئے، مگر ان کے پاس کچھ بھی کرنے کی طاقت نہ تھی۔”شہرام” زمین پر تڑپ رہا تھا، مگر اب “توقیر” یہ نہیں سمجھ پا رہا تھا کہ اپنے بیٹے کو ہسپتال لے کر جائے یا “زیغم” کے ہاتھوں اپنی بیٹی کو بچائے۔ “زیغم” دروازہ بند کر چکا تھا، اور اوپر کھڑا “مائد” یہ سب بڑے سکون سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، جو “توقیر لغاری” کو اور بھی زیادہ تپا رہی تھی، مگر اس وقت وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ حالات ان کے خلاف ہو چکے تھے۔ حویلی کے ملازمین خاموش کھڑے سب کچھ دیکھ رہے تھے۔اور کچھ ڈر کے مارے وہاں سے غائب ہو چکے تھے۔ یہ سچ تھا کہ یہاں سب “زیغم” کے ساتھ نہیں تھے، “توقیر لغاری” نے بھی بہت سے وفادار بنا رکھے تھے، مگر “زیغم” کے والد “سلطان” کی ایمانداری اور رحم دلی نے آج بھی کئی سچے لوگ اس حویلی میں چھوڑ رکھے تھے۔ “سلطان” چاہے دنیا میں نہیں تھا، مگر اس کی اچھائی آج بھی زندہ تھی۔
°°°°°°°°°

Raaz-e-wafa Epi 3 part 2

“توقیر لغاری” کی سانسیں اٹکنے لگیں، اس نے فون کان سے چپکاتے ہوئے زور سے دھاڑ کر پوچھا:
“مراد بخش!” کہاں ہے تُو؟”
“اندر ہمارا گھر اجڑ رہا ہے، اور تو باہر مر گیا ہے؟”
دوسری جانب سے “مراد بخش” کی گھٹی گھٹی، بے بسی میں لپٹی آواز ابھری۔

“سائیں… میں تو مجبور ہوں، مجھے تو گیٹ پر ہی باندھ رکھا ہے!”
“زیغم” سائیں کے ساتھ جو بندے آئے ہیں، انہوں نے آپ کے خاص بندوں کو قابو کر لیا ہے… ہم کچھ نہیں کر سکتے!”
“توقیر” کا چہرہ زرد پڑ گیا، ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہوئے۔ ہاتھ کی گرفت اتنی سخت ہوگئی کہ فون ٹوٹنے کو تھا۔ اوپر کھڑے “مائد” نے سگریٹ کے دھویں کا دائرہ بنایا اور مسکرا کر نیچے جھانکا۔

“کسی پر ظلم اتنا کرنا چاہیے جتنے کی برداشت کرنے کی خود میں ہمت ہو۔”
“ہر کسی کو اپنے کیے کا حساب دینا پڑتا ہے اب جتنے ظلم کیے ہیں حساب دو۔ چیخنے کی ضرورت نہیں بہادری سے سامنا کرو!”
“مائد” نے چند لفظوں میں ہی آگ پر تیل چھڑکنے والا کام کیا تھا۔
“مائد” کے جملوں سے “توقیر لغاری” کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا مگر ہائے قسمت اس وقت وہ کر کچھ نہیں سکتا تھا۔ اس نے بے اختیار مڑ کر “شہرام” کی طرف دیکھا، جو پہلے ہی نیم مردہ پڑا تھا۔ اس کا وجود جیسے یکدم بوجھل ہونے لگا۔ تھا۔ لالچی “قدسیہ” دن رات معصوم “دانیہ” پر ظلم کرنے والی اب چیخیں مار مار کر رو رہی تھی پہلے اپنے بیٹے کی حالت کو رو رہی تھی اور رب جو “زیغم” اس کی بیٹی کو لے کر روم میں بند ہو چکا تھا اس پر چلا رہی تھی۔
آج کی رات “توقیر لغاری” کے زوال کا آغاز تھی… اور “زیغم سلطان” کی فتح کا سورج طلوع ہونے والا تھا!
“مائد” خان ان کی بے بسی کو دیکھ کر سگریٹ کے دھویں کو چھلے بنا کر ہوا میں اڑاتے ہوئے ہاتھ میں پسٹل گھماتے ہوئے محظوظ ہو رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں اپنے یار کی جیت کی چمک تھی، وہ “توقیر لغاری” کے زوال کا تماشا دیکھ رہا تھا۔ “مائد” خان سیڑھیوں کے اوپر پسٹل تھامے کھڑا تھا، اس کی نظریں نیچے بے بسی میں کھڑے “توقیر لغاری” اور اس کی بیوی پر جمی تھیں۔جو کبھی تڑپتی ہوئی اپنے بیٹے کے پاس آرہی تھی اور کبھی جا کر “زیغم” جس روم میں “نایاب” کو لے کر گیا تھا اس کا دروازہ کھٹکھٹا رہی تھی۔ اس وقت وہ پاگل لگ رہی تھی اور “توقیر لغاری” بے بس حالت لیے کھڑا تھا۔ ان کے حالت کو دیکھ کر “مائد خان دورانی” کے چہرے پر زہرخند مسکراہٹ تھی، مگر آنکھوں میں ایک عجیب سا ٹھہراؤ تھا۔

“سائیں، ظلم کی فرعونیت ہمیشہ نہیں چلتی…”
“بندہ خود کو زمین کا خدا سمجھ بیٹھے، تو اللہ اسے وہیں روند دیتا ہے، جہاں وہ سب سے زیادہ طاقتور محسوس کرتا ہے!”
اس نے پسٹل کی نال کو ہلکا سا جنبش دی اور اوپر دیکھتے ہوئے گہری سانس لی، جیسے آسمان سے کوئی اشارہ لے رہا ہو۔

“یہ جو آج آپ کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں، سانس اٹک رہی ہے، یہ کسی کی بددعا ہے سائیں… رب کے معصوم بندوں پر ہاتھ اٹھا کر کوئی بچا ہے کیا آج تک؟”
“فرعون بھی یہی سمجھتا تھا کہ وہ بچ جائے گا، نمرود بھی یہی گمان رکھتا تھا، مگر سائیں، اللہ نے ان سب کو مٹی میں دفنا دیا!”
“مائد” خان نے سگریٹ کا آخری کش لے کر زمین پر پھینکا اور جوتے سے مسل دیا، جیسے کسی گناہگار کا انجام دکھا رہا ہو۔

“آج تمہارے چہروں پر جو زردی ہے، جو خوف ہے، یہ ابھی کم ہے سائیں… اللہ کا انصاف بہت سخت ہوتا ہے، اور تم جیسے ظالموں کے لیے تو یہ دنیا بھی جہنم بن جایا کرتی ہے!”
نیچے “توقیر لغاری” اور “قدسیہ” کی حالت دیکھنے لائق تھی۔ ان کے چہروں پر وہی وحشت ابھر آئی تھی، جو کبھی وہ دوسروں کے دلوں میں بٹھاتے تھے مگر آج، وقت بدل چکا تھا… اور اوپر کھڑا “مائد” خان اس زوال کا گواہ تھا!
“مائد” خان نے “زیغم” کی سکیورٹی کا ایسا بندوبست کیا تھا کہ کوئی پر بھی نہیں مار سکتا تھا۔ اس کے ساتھ خاص گارڈز کی پوری فورس تھی، ہر راستہ سیل ہو چکا تھا۔ گیٹ پر “مراد بخش” اور “توقیر” کے خاص بندے بے بسی کی تصویر بنے بندھے ہوئے تھے۔ “مائد” خان کا تعلق پٹھان خاندان سے تھا، خون میں بہادری کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ وہ “زیغم” کی طرح نڈر اور بے خوف تھا۔ دونوں کی بچپن کی دوستی کسی آزمائش میں کمزور نہیں ہوئی تھی، بلکہ وقت کے ساتھ اور مضبوط ہو چکی تھی۔ اسی لیے آج بھی وہ “زیغم” کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا تھا، جیسے ہمیشہ کھڑا رہا تھا۔

“سائیں، یہ تو ابھی شروعات ہے… آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا!”
“مائد” نے ہاتھ میں گھومتی پسٹل کو مضبوطی سے تھام لیا۔
°°°°°°°°°
“زیغم” کی آنکھوں میں غصے کی چنگاریاں تھیں، وجود میں طوفان برپا تھا۔

“چھوڑو مجھے!”
“نایاب” نے مزاحمت کی، مگر “زیغم” کے مضبوط ہاتھ کی گرفت نے اسے بے بس کر دیا۔ وہ اسے بازو سے گھسیٹتے ہوئے اندر تک لایا اور جھٹکے سے چھوڑتے ہی دروازے کی کنڈی چڑھا کر لاک لگا دیا۔اس کی دہکتی ہوئی نظریں یہ بتانے کے لیے کافی تھی کہ وہ “نایاب” کے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہے۔ باہر “قدسیہ” دروازہ پیٹ رہی تھی، چلا رہی تھی، مگر “زیغم” پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس کے کانوں میں بس اپنی بہن کے سسکنے کی آوازیں گونج رہی تھیں، اس پر کیے گئے ہر ظلم کا منظر اس کے ذہن میں تازہ تھا۔ ایک بھائی کے لیے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے جب اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کی بہن کے ساتھ اس قدر ظلم کیا گیا کہ انسانیت بھی شرما جائے۔ “نایاب” نے زمین پر سنبھلتے ہی دروازے کی طرف دوڑ لگائی، مگر “زیغم سلطان” نے پلٹ کر اس کی چالاکی دیکھتے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا۔ “نایاب” جانتی تھی کہ “زیغم” اسے پیار بھرے ارادے سے تو اندر نہیں لا رہا تھا۔ جس طرح سے وہ اسے اندر لایا تھا اس انداز کو دیکھتے “نایاب” کے اندر خوف کی لہر دوڑ رہی تھی۔ وہ کانپتے ہاتھوں سے کنڈی کھولنے ہی لگی تھی کہ کسی بھی طرح سے وہ روم سے باہر بھاگ جائے۔ “زیغم” نے جھٹکے سے اس کا بازو پکڑا اور پوری طاقت سے اسے واپس زمین پر دھکیل دیا۔ “نایاب” زمین پر گری، ہانپتی ہوئی اٹھنے لگی، مگر “زیغم” نے کمر سے بیلٹ نکالی، اسے ہاتھ پر لپیٹتے ہوئے ایک خطرناک نظر اس پر ڈالے، غصے کی تپش میں دہکتا چہرہ انگارے کی طرح سرخ ہوئی آنکھیں لیے جب اس کی جانب بڑھا تو اپنے گناہوں کی سزا کو سامنے دیکھ کر “نایاب” کو اپنی سانسیں بند ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔

“اپنے ہی بچھائے ہوئے کھیل سے خوفزدہ کیوں ہو؟”
“اتنا آسان نہیں ہے یہ کھیل۔ جس آگ کو بھڑکایا ہے، اس کی تپش اب خود بھی سہنی پڑے گی!”
“زیغم” کی آواز برف سے بھی زیادہ سرد تھی، مگر اس کے اندر دہکتی آگ “نایاب” کے وجود کو جھلسانے کے لیے کافی تھی۔ “نایاب” کی سانسیں اٹک رہی تھیں، آنکھوں میں خوف کا سمندر تھا۔ “زیغم” کے ہاتھ میں پکڑا بیلٹ اس کے لیے کسی تلوار سے کم نہیں لگ رہا تھا۔ وہ جلدی سے زمین سے اٹھتی، بیڈ پر بیٹھتی ہوئی پیچھے کو ہوتی، بیڈ کے دوسرے کونے تک سرکتی گئی۔ “زیغم” کے تیور دیکھ کر اس کے پیروں میں جیسے جان نکل رہی تھی۔ “زیغم” پر مر مٹنے والی “نایاب” اس وقت “زیغم” کی نظروں کے سامنے سے فوراً سے پہلے غائب ہونا چاہتی تھی۔

“ز۔ززیغم۔۔۔ پلیز، یہ مت کرو۔۔۔ مجھے مت مارو۔۔۔”
“زیغم” کے لبوں پر زہریلی مسکراہٹ ابھری، مگر اس کے چہرے پر ایک عجیب ٹھہراؤ بھی تھا۔ “زیغم” نے مضبوط ہاتھ میں جکڑی بیلٹ کو جھٹکے سے پھینک دیا۔ “نایاب” کو لمحے بھر کے لیے لگا کہ شاید وہ بچ گئی، مگر اگلے ہی پل “زیغم” نے بجلی کی تیزی سے اس کا جبڑا دبوچ لیا۔”نایاب” کو لگا جیسے اس کے جبڑے کی کرچیاں کرچیاں کر کے ہی “زیغم” پیچھے ہٹے گا۔جبڑے کو دبوچنے سے “نایاب” کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔

“کیوں؟ کیوں نہ ماروں؟ درد ہوگا؟ تکلیف ہوگی؟”
“زیغم” کی آواز زہر میں بجھی ہوئی تھی، آنکھوں میں وحشت تھی۔ “نایاب” نے گھبرا کر نفی میں سر ہلایا، مگر “زیغم” نے گرفت مزید سخت کر دی۔”زیغم” کا دل کر رہا تھا کہ اس وقت وہ “نایاب” کی سانسوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کر دے مگر “نایاب” کی سزا اتنی آسان نہیں ہو سکتی تھی۔

“جب میری معصوم بہن پر ظلم کر رہی تھی۔۔۔ تب یہ خوف کہاں تھا؟”
اس کی انگلیاں “نایاب” کے جبڑے میں جیسے پیوست ہو گئیں۔بیڈ کراؤن کے ساتھ دبوچے ہوئے ایک گھٹنا بیڈ پر رکھے وہ انگار برساتی نظروں سے اسے گھورتے ہوئے دھاڑا۔

“جب تمہارا بھائی ظلم کر رہا تھا، جب تمہاری ماں ظلم کر رہی تھی۔۔۔ تب خدا کا خوف کیوں نہیں آیا؟”
“نایاب” کا دل حلق میں آ چکا تھا۔ “زیغم” کی گرفت لوہے کی مانند سخت ہو رہی تھی۔

“کیوں یہ نہیں سوچا کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے؟”
“کیوں یہ نہیں سوچا کہ جب “زیغم” کو پتہ چلے گا، جب “زیغم” واپس آئے گا، تو تم سب کے لیے زمین تنگ کر دے گا؟”
وہ غصے سے دھاڑا اور “نایاب” کا جبڑا جھٹکے سے چھوڑ دیا۔ “نایاب” بیڈ کے کنارے پر گری، ہانپ رہی تھی، آنکھوں میں خوف کے سائے تیر رہے تھے۔

“تمہارے لیے میرا ہاتھ اٹھانا سزا نہیں۔۔۔ تمہیں میں ایسی سزا دوں گا، جو تمہاری روح تک کو ہلا کر رکھ دے گی۔”
“میں ایسی سزا دوں گا، نہ تمہیں جینے دوں گا نہ مرنے دوں گا۔”
وہ لفظوں کو چباتے ہوئے ایک ایک لفظ میں اپنے غصے کی شدت کا اظہار کر رہا تھا۔

“اور ویسے بھی تمہارے ساتھ بہت سے پرانے حساب کتاب باقی ہیں “نایاب توقیر لغاری۔۔۔۔”
“دھوکہ فریب تمہاری فطرت میں شامل ہے۔”
“زیغم” کی گرجدار آواز نے کمرے کی دیواروں کو لرزا کر رکھ دیا۔ “نایاب” جو پہلے ہی خوف سے کانپ رہی تھی، بیڈ کے کونے میں سمٹ کر رہ گئی۔ “زیغم” کی آنکھوں میں وہی خونی لہر آنے والی بربادی کا اعلان کر رہی تھی۔

“تم پر ہاتھ نہیں اٹھایا، اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تمہیں معاف کر دیا ہے۔”
“زیغم” نے سرد لہجے میں کہتے جبڑے پر اپنا ہاتھ اور مضبوطی سے جماتے ہوئے بولا:
“اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ “زیغم سلطان”، تیرے بھائی کی طرح نامرد اور بے غیرت نہیں ہے!”
“اصلی مرد وہ ہوتا ہے جو کسی بھی حالت میں عورت پر ہاتھ نہیں اٹھاتا، اور تیرا بھائی؟”
“وہ تو مرد کہلانے کے لائق بھی نہیں۔ ہزار بار میری بہن پر ہاتھ اٹھایا۔ اپنی بیوی کو نکاح میں رکھتے ہوئے تحفظ نہیں دے سکا، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک بے غیرت اور کمزور انسان ہے!”
“زیغم” کی کاٹ دار دھاڑتی ہوئی آواز “نایاب” کو ڈرنے پر مجبور کر رہی تھی۔”زیغم” کے ڈر سے “نایاب” کے چہرے پر پسینے کی بوندیں ابھرنے لگی تھی۔

“جو ظلم تم لوگوں نے “دانیہ” پر کیا، اس کا حساب تو میں لے کر رہوں گا۔ ویٹ اینڈ واچ، “نایاب!”
“اگر میں نے اس حویلی کو تمہارے لیے قبرستان نہ بنایا، تو میرا نام بھی “زیغم سلطان لغاری” نہیں!”
اس کی آواز اتنی اونچی اور گرجتی ہوئی تھی کہ “نایاب” کے جسم میں جھرجھری دوڑ گئی۔ “نایاب” جھٹپٹا کر اپنا جبڑا چھڑوانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے “زیغم” کے غصے کو مزید تیش دلاگئی تھی۔

“بہت درد ہو رہا ہے۔۔ہاں بہت درد ہو رہا ہے تمہیں؟”
“زیغم” کے جبڑے کو دبوچتے ہوئے غرایا تھا۔
“میری معصوم بہن کو تم لوگوں نے کانٹوں پر گھسیٹا، زخموں سے چور کیا، مارنے کی کوشش کی… اگر میں اس کے آنسوؤں کا حساب نہ لے سکا، تو میں خود کو اس کا بھائی کہلوانے کے لائق نہیں سمجھوں گا!”
“تم لوگوں کا جینا عذاب کر دوں گا۔ تم لوگوں نے جتنے کھیل کھیلنے سے کھیل لیے، جتنے ظلم کرنے تھے کر لیے۔ ہماری باری ہے۔”
“زیغم” نے غصے سے بیڈ کو زور دار ٹھوکر ماری۔ “نایاب” کو یوں لگا جیسے کمرے میں زلزلہ آ گیا ہو۔

“خود کو گھر کی مالک سمجھنے والی کو اگر گھر کی نوکرانی بنا کر نہ رکھا تو میرا نام بدل دینا۔”
“اور اپنے باپ اور بھائی سے کہنا، تمہیں میرے قہر سے بچا کر دکھائیں۔”
“اصلی مرد کی پہچان ہے۔ جو بھی کرنا ہو سب کے سامنے کرنے کا جگر رکھتا ہوں۔”
“تم لوگوں نے میری غیر موجودگی میں میری بہن پر ظلم ڈھائے۔ میں تمہارے باپ اور بھائی کے سامنے تمہیں سزا دوں گا۔”
“اب اٹھ جا… جا کے اپنے باپ کو بول کہ اپنی پوری طاقت لگا لے، تمہیں میرے شکنجے سے نکالنے کے لیے۔ اپنے اس زخمی، لنگڑے بھائی کو دیکھے جو اب چلنے کے قابل بھی نہیں رہا… اور ہاں، اسے کہہ دینا کہ جلدی اپنی لنگڑی ٹانک کو ٹھیک کرے تاکہ میں دوبارہ سے اسے توڑ سکوں!”
“زیغم” نے ایک آخری زہریلی نظر “نایاب” پر ڈالی اور دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ “نایاب” لرزتی ہوئی بیڈ سے نیچے گری، اس کا پورا جسم خوف سے شل ہو چکا تھا۔ “زیغم” کا خوف “نایاب” کے حواسوں پر طاری تھا۔ “زیغم” ضدی، خودسر اور نڈر تو ہمیشہ سے تھا، اور اس کا یہی روپ اس کی شخصیت کو مزید پرکشش بناتا تھا مگر اس بار “نایاب” نے “زیغم” کا جو روپ دیکھا، وہ پہلے سے بہت مختلف تھا۔ “زیغم” کے اندر حد سے زیادہ سفاکی نظر آ رہی تھی۔ “نایاب” نے ہمیشہ “زیغم” کو چاہا تھا۔ “زیغم” کو پانے کی خاطر اس نے صحیح اور غلط کی ہر دیوار گرا دی تھی، کوئی لکیر بھی باقی نہیں رکھی تھی مگر بدقسمتی یہ تھی کہ وہ “زیغم” کو پا کر بھی نہیں پا سکی تھی۔ “زیغم سلطان” کل بھی اسے ناپسند کرتا تھا، آج بھی اسے ناپسند کرتا تھا اور اس سے بے انتہا نفرت کرتا تھا۔ وہ کبھی بھی “زیغم” کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت نہیں دیکھ پائی تھی۔ اب جا کر تو اس نے خود کو سمجھانا شروع کیا تھا کہ “زیغم” اس کا نہیں ہو سکتا مگر اسے ایک بار پھر اپنی نظروں کے سامنے دیکھ کر “نایاب” کے دل میں محبت کی جڑیں تازہ ہونے لگی تھیں۔ وہ “زیغم سلطان” سے خوفزدہ تو تھی، مگر “زیغم” جتنا اس کے قریب آ کر اس کا جبڑا تھامے ہوئے تھا، اس کا اتنا قریب ہونا، اس کے وجود سے اٹھتی ہوئی تیز پرفیوم کی خوشبو، “نایاب” کی سانسوں میں اترتے ہوئے، “زیغم” کی قربت پانے کو بے تاب کرنے لگی تھی۔دشمنِ جاں خوبصورت بھی تو جان لیوا حد تک تھا۔ “زیغم” کی آنکھیں گہری نیلی تھیں، ایسی کہ ایک بار کوئی دیکھ لے تو ان میں کھو جائے۔ وہ صرف نیلی نہیں تھیں، بلکہ سمندر کی اتھاہ گہرائیوں جیسی— جہاں سکون ہی تھا اور طوفان بھی۔ روشنی میں ان کا رنگ بدلتا، کبھی گہرا نیلا، تو کبھی نیوی بلیو کی جھلک دیتا، جیسے کسی خوابیدہ سمندر میں چھپے رازوں کا عکس تھی۔ چھ فٹ سے زائد قد، چوڑا شانہ، اور کسرتی جسم— اس کی شخصیت مکمل مردانہ وجاہت کا نمونہ تھی۔ وہ جب چلتا تو اس کی لمبی قامت اور مضبوط جسامت ایک ہیبت ناک دبدبہ قائم کر دیتی۔ ریگولر جم جانا اس کی عادت تھی، جس کا اثر اس کے سخت بازوؤں اور کشادہ سینے سے صاف جھلکتا تھا۔ چہرے پر ہلکی ہلکی داڑھی، جو اس کی پرکشش مسکراہٹ کے ساتھ مزید دلکش لگتی، جیسے برف پوش پہاڑوں پر ہلکی دھوپ کی مدھم چمک۔ سنہری گندمی رنگ، اور ہونٹ— جیسے شفاف گلابی، بالکل قدرتی۔ مردوں میں کم ہی ایسا حسن پایا جاتا ہے۔ “زیغم سلطان” کی گھنی مونچھوں تلے گلابی ہونٹ ہمیشہ سے ہی “نایاب” کے لیے کڑا امتحان رہے تھے۔ “زیغم سلطان” کی خوبصورتی اپنی مثال آپ تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سحر تھا، جو دیکھنے والے کو پلک جھپکنا بھلا دیتا تھا۔ وہ آنکھیں جو خاموشی سے بولتی تھیں، جو سامنے والے کی روح تک میں اتر جانے کی قدرت رکھتی تھیں۔

“تمہیں پانے کے لیے، تم پر اپنا سارا خاندان نچھاور کر سکتی ہوں۔۔۔ تمہیں پانے کی حسرت میں، میں ہر حد پار کر سکتی ہوں۔۔۔”
“نایاب” نے گہری سانس لی اور دل میں سوچا۔ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی، اس کے لبوں پر ایک مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔”نایاب”، “زیغم” سے تقریباً پانچ سال بڑی تھی۔ کوئی اس وقت اسے دیکھتا تو اسے پاگل سمجھتا۔
°°°°°°°
“کک۔۔۔ کیا کیا ہے تم نے میری بیٹی کے ساتھ؟”
جیسے ہی “زیغم” نے دروازہ کھولا، “قدسیہ” نے جھپٹ کر اس کا گریبان پکڑ لیا۔ “قدسیہ” کے چہرے پر شدید غصہ، آنکھوں میں خوف اور لبوں پر لرزش تھی۔ “زیغم” نے قہر آلود نظروں سے “قدسیہ” کی جانب دیکھتے ہوئے، دونوں ہاتھوں کو سختی سے پکڑ کر اپنے گریبان سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔

“ہوش میں رہ کر بات کریں۔ میرے گریبان پر دوبارہ ہاتھ ڈالنے کی جرات مت کیجیے گا۔”
اس کے لہجے میں ایسا ٹھہراؤ تھا کہ “قدسیہ” ایک قدم پیچھے ہٹ گئی۔

“دوسری بار موقع نہیں دوں گا۔ ہاتھ زمین پر کٹے ہوئے تڑپتے ہوئے دکھائی دیں گے سمجھی۔۔۔”
وہ دھاڑ سن کر “زیغم” سے دو قدم پیچھے ہوتے ہوئے آنکھیں میچ گئی تھی۔

“کیا لگا تھا “زیغم” بھی وہی کرے گا جو تیرا بیٹا میری معصوم بہن کے ساتھ کرتا آیا ہے؟”
“تم تو بہت خوش ہوتی تھی نا جب میری بہن پر تمہارا وحشی جاہل بیٹا ظلم کرتا تھا؟”
“زیغم” کے چلانے کی آواز نیچے تک جا رہی تھی سیڑھیوں سے نیچے اپنے بیٹے کو بے ہوشی اور تکلیف میں خون میں لت پت دیکھ کر “توقیر لغاری” کو سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا کرے۔ “قدسیہ” کی آنکھوں میں بے یقینی تھی۔اسے امید نہیں تھی کہ “زیغم” اس طرح سے چلائے گا۔ “زیغم” کی سرد مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی۔

“کیا ہوا میرا یہ روپ برداشت نہیں ہو رہا؟”
“میں تو ہمیشہ سے ہی ایسا تھا۔ اگر بابا سائیں کی دی ہوئی تربیت اور ان کے وعدوں کی پاسداری نہ کرنی پڑتی تو اپنا یہ روپ بہت پہلے ہی تم لوگوں کو دکھا چکا ہوتا۔”
وہ دو قدم اٹھا کر “قدسیہ” کے قریب ہوا تھا جبکہ “قدسیہ” دیوار کے ساتھ چپٹی ہوئی کھڑی تھی۔

“کاش اپنے بیٹے کو اچھا انسان بنایا ہوتا۔ اپنے بیٹے کو سکھایا ہوتا کہ کسی پر صرف اتنا ظلم کرو کہ جتنا خود پر برداشت کر سکو۔۔۔۔ بے فکر رہو تمہاری بیٹی کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا جو تمہارا بیٹا میری معصوم بہن کے ساتھ کرتا تھا۔”
“میری نظر میں مرد وہ نہیں ہوتا جو عورت پر ہاتھ اٹھائے، مرد وہ ہوتا ہے جو اپنی بہن کی عزت پر ہاتھ ڈالنے والے کو زمین میں گاڑ دے۔”
“زیغم” کے لبوں پر زہریلی مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔
“قدسیہ” کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ “زیغم” کی آنکھوں میں خونی لہر بہت گہری تھی۔دوسری جانب سیڑھیوں پر پسٹل تھامے کھڑا “مائد خان دورانی” اپنے یار کی دہشت پر قربان ہو رہا تھا اور خوش تھا اپنے یار کے فیصلے پر کہ اس نے ایک اصلی مرد ہونے کا ثبوت دیا۔ اپنی بہن کو اتنی زخمی حالت میں دیکھ کر بھی اس نے اپنے وقار کو خراب نہیں کیا۔

“میں نے تیری بیٹی پر ہاتھ نہیں اٹھایا،جانتی ہو کیوں؟”
“کیونکہ میں تمہارے خاندان جیسا نہیں ہوں مگر میں نے اسے چھوڑا بھی نہیں!”
“اور کبھی چھوڑوں گا بھی نہیں۔۔۔میرے اگلے وار کا انتظار کرو۔”
وہ ایک ایک لفظ کو دانتوں تلے پیستے ہوئے دھمکی آمیز لہجے میں بول رہا تھا۔
“قدسیہ” کی سانسیں اٹکنے لگی تھی۔ “زیغم” نے ایک سخت نظر اس پر ڈالی اور تیزی سے سیڑھیوں سے اترتے ہوئے نیچے جہاں “شہرام” پڑا تھا وہاں پر جا کھڑا ہوا تھا۔ حویلی کی فضا میں صرف “زیغم سلطان” کی دھاڑ گونج رہی تھی۔ باقی ہر کسی کو سانپ سونگ گیا تھا۔

“اس زندہ لاش کو اٹھاؤ اور اس کے روم میں لے کر جاؤ۔ جانوروں کے ڈاکٹر کو ابھی کچھ ہی دیر میں بلوا رہا ہوں وہ اس کا علاج کرے گا۔”

“بس کر دے “زیغم” انسان ہے میرا بیٹا،تُو کس حساب سے اس کا علاج جانوروں کے ڈاکٹر سے کروائے گا؟”
“توقیر” نے چچا ہونے کی دھونس جمانے کی پوری کوشش کرتے ہوئے خود اس کے مقابل ہوتے، نظروں میں نظریں ڈالے ہوئے اونچی آواز میں کہا۔

“آواز نیچے۔۔۔”

“دوبارہ اس ٹون میں میرے ساتھ بات مت کیجئے گا، “توقیر لغاری!”
“زیغم” کی سرخ ہوتی آنکھیں سیدھا اس کی آنکھوں میں جمی تھیں، جن کی شدت نے “توقیر” کو دو قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

“صرف تمہارا بیٹا ہی نہیں، پوری فیملی جانور ہے!”
“تو جس نسل سے تعلق ہو، اسی طرح کے ڈاکٹر کو دکھایا جاتا ہے۔ تم لوگوں نے جتنا ظلم کیا ہے، میرے باپ کو مروا دیا، میری ماں کو مار دیا، میری بہن پر ظلم کی انتہا کر دی! نوکر بنا کر رکھا! اور اس سب کے بعد بھی تم لوگوں کو لگتا ہے کہ تم انسان ہو؟”
“تم لوگوں کے لیے انسانی ڈاکٹر بلایا جانا چاہیے؟”
“واہ واہ، “توقیر” سائیں، واہ!”
“زیغم” کا لہجہ زہر میں بجھا تھا۔ اس کے ماتھے کی رگیں تن گئی تھیں۔ وہ آگے بڑھا، “شہرام” کی خون میں لت پت ٹانگ پر ایک زوردار ٹھوکر ماری۔ “شہرام” بے ہوشی میں بھی درد سے کراہ اٹھا۔

“اس کی مردانگی تو دیکھ!”
“گولی لگی ہے اور بے ہوشی میں چلا گیا ہے۔ لعنت ہے ایسے مرد پر!”
“تھوڑا سا تو برداشت کرے!”
“اس سے زیادہ تو میری بہن نے اس کے ظلم سہہ لیے!”

“پاگل ہو گئے ہو؟”
“توقیر” تڑپ اٹھا۔
“زخمی حالت میں اس پر ہاتھ اٹھا رہے ہو۔ اس کی حالت دیکھو!”
“زیغم” نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ ایک قدم آگے بڑھایا۔

“پاگل؟ ہاں، اتنا پاگل ہوں کہ اگر پاگل پن پر آ گیا، تو پوری حویلی پر تیل چھڑک کر آگ لگا دوں گا مگر ابھی نہیں۔ ابھی یہ سب اس لیے نہیں کر رہا، کیونکہ میری بہن یہ منظر دیکھنے کے لیے تیار نہیں۔”
“مجھے یہ سب کچھ اسے دکھانا ہے، تاکہ جو تم لوگوں نے اس کے دماغ میں جو ڈر بٹھایا ہے، وہ ختم ہو سکے!”
وہ ایک نظر “شہرام” پر ڈال کر حقارت سے سر جھٹک چکا تھا۔

“زیادہ چِلاّنے کی ضرورت نہیں، اسے اٹھاؤ اور کمرے میں لے جاؤ۔ ہسپتال میں میں اسے نہیں جانے دوں گا کیونکہ میرے باپ کا روپیہ پیسہ بہت لُوٹ لیا ہے تم لوگوں نے۔ اب اور نہیں!”

**********

رازِ وفایہ محض ایک کہانی نہیں، ایک فکری سفر ہےجہاں جاگیردار کا ظلم بھی بے نقاب ہوتا ہےاور جاگیردار کا انصاف بھی اپنے وزن کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔اگر یہ تحریر آپ کو سوچ میں ڈال گئی ہےتو اگلے ابواب اسی سوال کو آگے بڑھاتے ہیں

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *