Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:5

رازِ وفا
از قلم :حیات ارتضیٰ ✍️S.A
قسط نمبر 5
°°°°°°°°°
“زیغم” نے “نایاب” کو بازو سے تھام کر دروازہ بند کیا اور تیز قدموں سے اسے کمرے کے اندر لے آیا۔ “نایاب” کے قدم زمین پر لڑکھڑا گئے، دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی، لیکن وہ بس خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے، اپنی قسمت پر رشک کرے کہ جس “زیغم” پر وہ بچپن سے دل و جان سے مرتی تھی، وہ آج خود اسے اپنے ساتھ اس کے کمرے میں لے آیا تھا یا پھر اس بات پر خوفزدہ ہو کہ “زیغم” جس انداز میں اس کے ماں باپ کو وہاں چھوڑ کر آیا تھا اور جس لہجے میں وہ بات کر رہا تھا، اس کے پیچھے چھپے طوفان سے ڈرے؟
“زیغم” کے چہرے پر سرد مہری اور آنکھوں میں ایک وحشت تھی۔ اس نے ایک نظر “نایاب” پر ڈالی، جو بے یقینی سے کھڑی تھی۔ پھر وہ آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھا، جیسے کسی شکار کو اپنے جال میں جکڑنے والا شکاری ہو۔

“خواب سجا رہی ہو کہ میں تمہیں پلکوں پر بٹھاؤں گا؟”
اس کے زہریلے الفاظ ہوا میں گونجے۔ “زیغم” نے ایک تلخ ہنسی ہنستے ہوئے، اسے مزید قریب ہوتے ہوئے دیکھا۔
“یہ سوچ رہی ہو کہ میں تمہیں اپنے پہلو میں لٹاؤں گا؟”
“یا پھر یہ سوچ رہی ہو کہ میں تم پر مر مٹا ہوں اور تمہاری تمام خطاؤں کو معاف کر کے اپنے قریب لے آؤں گا؟”
“نایاب” کی سانسیں رکنے لگیں، اس کی آنکھوں میں بے یقینی چھلکنے لگی۔ “زیغم” نے اس کی حالت سے محظوظ ہوتے ہوئے ایک قدم اور قریب لیا، اس کے کان کے قریب جھک کر زہریلے لہجے میں بولا:
“یا پھر یہ سوچ رہی ہو کہ میں تمہیں بطور سزا اپنی قربت دوں گا؟”
اس کے ہر لفظ میں ایک کاٹ تھی، ایک ایسا زہر جو سیدھا “نایاب” کی روح میں اتر رہا تھا۔

“چچچ۔۔۔ افسوس!”
“زیغم” نے تمسخر سے سر جھٹکا۔
“ان میں سے کچھ بھی نہیں ہونے والا۔ جہاں پر تمہاری گھٹیا سوچ ختم ہوتی ہے، وہاں سے “زیغم سلطان” کی سوچ شروع ہوتی ہے۔”
“نایاب” نے لب کھولنا چاہے، مگر “زیغم” نے اپنی انگلی اٹھا کر اسے خاموش کرا دیا۔

“مجھے پانے کے لیے تم نے سالوں پہلے بھی بے ہودہ کوششوں کا جال پھیلایا تھا، جس میں میرے قیمتی رشتے ضائع ہو گئے مگر افسوس، نہ تو تم اُس وقت مجھے حاصل کر سکی تھی، اور نہ آج کر سکو گی!”
“نایاب” کے وجود میں جیسے سردی سی دوڑ گئی۔ “زیغم” کی آنکھوں میں وہی نفرت تھی، جسے دیکھنے کی وہ کبھی توقع نہیں رکھتی تھی۔

“زیغم” نے ایک سخت سانس لی اور اپنی بات کا آخری وار کیا:
“زیغم سلطان” خود پر تمہیں حرام سمجھتا ہے!”
“نایاب” کا دل جیسے کسی نے نوچ کر نکال دیا ہو۔ وہ سانس بھی لینا بھول گئی، اس کے لب لرزنے لگے، اور آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے مگر “زیغم” نے ایک پل کے لیے بھی نرمی نہیں دکھائی۔ وہ بس ایک فاتح کی طرح کھڑا اسے ٹوٹتے دیکھ رہا تھا۔

“زیغم” تم میری انسلٹ کر رہے ہو اور سالوں سے یہی کرتے آئے ہو۔”

“تم تو انسلٹ سے کہیں زیادہ کی حقدار ہو!”
“زیغم” نے زہر آلود لہجے میں کہا، آنکھوں میں بھڑکتی نفرت مزید گہری ہوئی۔
“شکر کرو کہ صرف انسلٹ کر رہا ہوں، ورنہ جو کچھ تم نے میری معصوم بہن کے ساتھ کیا، اس کے بدلے تو اگر میں تمہارے ٹکڑے کر کے کتوں کو بھی ڈال دوں تو وہ کم ہی پڑے گا!”
“زیغم” کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا، اس کا بدن غصے سے کانپ رہا تھا۔ وہ ایک جھٹکے سے آگے بڑھا اور “نایاب” کے جبڑے کو سختی سے دبوچ لیا۔

“زی… زیغم!”
“نایاب” کی سانسیں بےترتیب ہوئیں، آنکھوں میں خوف پھیل گیا، لیکن “زیغم” کی گرفت میں کوئی نرمی نہ آئی۔

“خاموش!”
“زیغم” دھاڑا، اس کی انگلیوں کی سختی “نایاب” کے نازک چہرے پر گھڑنے لگی۔
“تمہیں بولنے کا کوئی حق نہیں!”
“تمہاری سچائی اتنی گندی ہے کہ اگر میں چیخ چیخ کر بھی دنیا کو بتاؤں، تو بھی کم لگے گا!”
“نایاب” کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے، مگر “زیغم” کی سخت نظریں اسے مزید توڑنے لگیں۔ وہ اپنی تکلیف کو الفاظ میں ڈھالنا چاہتی تھی، مگر “زیغم” کے بے رحم غصے کی شدت نے اسے بولنے کی اجازت ہی نہ دی۔ “نایاب” کا دل “زیغم” کی محبت سے لبریز تھا مگر “زیغم” کے دل میں “نایاب” کے لیے نفرت ہی نفرت تھی۔ “زیغم” نے اس کے جبڑے کو جھٹکے سے چھوڑ دیا اور خود اوندھے منہ بیڈ پر گر گیا۔ “نایاب” کی سانسیں بے ترتیب تھی، مگر درد سے زیادہ اس کے دل میں کچھ اور دھڑک رہا تھا—”زیغم” کا لمس، اس کی قربت، جو چاہے سزا کی صورت میں ہی سہی، مگر “نایاب” کے لیے محبت کا احساس لیے ہوئے تھی۔ اس کے لیے تو یہ کافی تھا کہ دشمنِ جان نے اسے چھوا، پھر چاہے وہ سزا کے طور پر ہی کیوں نہیں تھا۔”زیغم” کے لیے یہ انتقام تھا، مگر “نایاب” کے لیے یہ وہ لمحات تھے جو وہ ہمیشہ سے چاہتی تھی۔ “زیغم” کے چھونے کی خواہش، اس کے قریب ہونے کی چاہت، یہ سب وہ کسی بھی طرح حاصل کرنا چاہتی تھی، چاہے وہ پاؤں دبانے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو۔ وہ دبے قدموں بیٹھ کے بیڈ کے کنارے پر آ بیٹھی تھی۔ “زیغم” کے وجاہت بھرے مردانہ وجود کو حسرت سے دیکھتے اس کی پشت پر ٹھہر کر نظریں اس کے قدموں کی طرف لے آئی۔ ایک لمحے کے لیے وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھتی رہی، جیسے اس قربت کو محسوس کرنا چاہ رہی ہو، لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھیرے آہستہ آہستہ “زیغم” کے پاؤں دبانے لگی لیکن جیسے ہی “زیغم” کے پاؤں کو اس نے چھوا اگلے ہی لمحے “زیغم” نے ایک جھٹکے سے اپنا پاؤں کھینچا۔ “نایاب” کے ہاتھ ہوا میں معلق رہ گئے، اور وہ بیڈ کے کنارے پر اپنا توازن کھو کر نیچے جا گری۔

“بیڈ پر بیٹھنے کی اجازت کس نے دی؟”
“زیغم” کا سخت لہجہ بجلی بن کر “نایاب” کے کانوں میں گرا۔ وہ ابھی خود کو سنبھال بھی نہ پائی تھی کہ “زیغم” کی دھاڑ نے اسے مزید ساکت کر دیا۔”نایاب” نے ہلکی لرزتی ہوئی آنکھوں سے اوپر دیکھا۔ “زیغم” کی آنکھوں میں وہی وحشت، وہی نفرت تھی۔

“نیچے بیٹھو! زمین پر!”

“ز… زمین پر؟”
“نایاب” کی آواز سرگوشی کی مانند نکلی۔

“ہاں، بالکل زمین پر!”
“جیسے تم نے میری بہن کو پیر دبواتے ہوئے زمین پر بٹھا کر رکھتی تھی!”
“زیغم” کی آواز میں زہر گھل چکا تھا، اس کی نظریں تپ رہی تھیں۔ “زیغم” کا دل تو چاہ رہا تھا کہ “نایاب” کو مار مار کر ایسی سزا دے کہ اس کا گوشت ہڈیوں سے الگ ہو جائے مگر وہ “زیغم سلطان” تھا جس کے لیے عورت پر ہاتھ اٹھانا کمزور مرد کی نشانی تھا۔ اسے بچپن سے ہی وہ مرد زہر لگتے تھے جو عورتوں پر ہاتھ اٹھاتے تھے۔ دوسری جانب “زیغم” کے غصے سے، اس کی قہر ڈھاتی نظروں کو دیکھ، اپنی توہین کو محسوس کرتے ہوئے، “نایاب” کا وجود جیسے سُن ہو گیا تھا۔ اس کے ہاتھ، جو ابھی چند لمحے پہلے “زیغم” کے لمس کو محسوس کر رہے تھے، اب بے جان ہو کر اس کی گود میں آ گئے۔ آنکھوں میں ایک چبھن، ایک ٹوٹا ہوا خواب آنسو بن کر جھلک رہا تھا۔ “نایاب” کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے، مگر اکڑ اور ضد ابھی باقی تھی۔ وہ ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھی، اپنی توہین کو کبھی بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہو سکتی تھی۔ اس نے نم آنکھوں کے ساتھ، مگر مضبوط لہجے میں “زیغم” کی جانب دیکھتے ہوئے کہا:
“میں زمین پر نہیں بیٹھوں گی!”
“زیغم” کی آنکھیں بھڑک اٹھیں، جیسے کسی سلگتے انگارے پر ہوا دے دی گئی ہو۔ اس نے ایک جھٹکے سے بیڈ چھوڑا اور زمین پر بیٹھتے ہی “نایاب” کی گردن سختی سے دبوچ لی۔

“زمین پر تو بیٹھنا ہی پڑے گا!”
اس کا لہجہ برف سے بھی زیادہ ٹھنڈا تھا، مگر آنکھوں میں چنگاریاں دہک رہی تھیں۔

“ٹھیک اسی طرح جیسے تم نے میری بہن کو بٹھایا کرتی تھی!”
“نایاب” کی سانسیں لرزنے لگیں، “زیغم” کی انگلیاں کسی شکنجے کی طرح اس کی گردن پر جم چکی تھیں۔ وہ تکلیف میں تھی، مگر نظریں جھکانے کو تیار نہیں تھی۔

“تمہیں ہر وہ کام کرنا پڑے گا جو تم “دانیہ” سے کرواتی تھی!”
“زیغم” کا زہر میں لتھڑا ہوا لہجہ دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ رہا تھا۔

“اور تمہیں انکار کرنے کی اجازت کس نے دی؟”
وہ غصے سے بھڑکتے اس کی گردن پر گرفت اور مضبوطی سے گاڑتے، اس کی سانسیں بند کرنے کو تھا۔

“تمہاری حیثیت ایک ملازمہ سے زیادہ کچھ نہیں، اور ملازم مالک کے سامنے زبان نہیں کھولتے،سمجھی تم؟”
وہ حلق کے بل چلاتے ہوئے بولا تو “نایاب” کے پورے وجود میں ڈر اور خوف کی لہریں دوڑ گئی تھیں۔”زیغم” کی آواز سے اور گردن پر اس کے ہاتھ کی گرفت سے “نایاب” کو لگ رہا تھا کہ وہ کچھ ہی پلوں کی مہمان ہے۔وہ جھٹپٹا رہی تھی مگر جھٹپٹانے سے وہ شیر کے شکنجے سے آزاد نہیں ہو سکتی تھی۔”نایاب” کی آنکھوں میں بے بسی تھی، مگر “زیغم” کے چہرے پر ایک زہریلی مسکراہٹ ابھری۔

وہ جھکا، اس کے کان کے قریب ہوتے ہوئے، اس کے دل پر چھری کی طرح چلتی آواز میں بولا:
“حکم ماننے سے انکار کرنے کی جرات مت کرنا ورنہ وہی سلوک ہوگا جو اس گھر میں انکار کرنے والے ملازمین کے ساتھ ہوتا ہے!”
“نایاب” کی سانس اٹکنے لگی، لیکن “زیغم” کی گرفت میں کوئی نرمی نہیں آئی تھی۔

“ویسے بھی تمہارا باپ، تمہاری ماں اور تمہارا بھائی گھر کے ملازمین کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرتے ہیں تو تمہیں تو تجربہ ہوگا نا کہ تمہارے ساتھ کیا ہونے والا ہے!”
“اور بھائی سے یاد آیا………”
“زیغم” نے ایک پل کے لیے رکا، جیسے بات کو مزید اثر دینے کے لیے وقفہ لے رہا تھا۔

“تمہارا وہ لنگڑا بھائی!”
“نایاب” کا چہرہ فق ہو گیا، رنگ جیسے کسی نے نچوڑ دیا ہو۔

“اسے ابھی دوا اور ڈاکٹر کی بہت ضرورت ہے!”
“زیغم” کی آواز کا سفاک طنز “نایاب” کے دل پر نشتر کی طرح لگا۔ وہ مزید جھکا، اس کی سانسیں “نایاب” کے لرزتے لبوں سے ٹکرا رہی تھیں۔

“تمہارا انکار… تمہارے بھائی کی جان لے سکتا ہے!”
وہ زہریلی سرگوشی میں بولا۔
“نایاب” کے لب ہلکے ہلکے کانپے، مگر “زیغم” کی آنکھوں میں شیطانی چمک مزید بڑھ گئی۔

“پتہ ہے کیسے؟”
وہ سرگوشی جیسی سرسراہٹ سے بولتے ہوئے “نایاب” کو خوف زدہ کر رہا تھا۔

“زہر کا انجیکشن لگوا دوں گا اور قصہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دوں گا!”
“نایاب” کا دل کسی گہرے اندھیرے میں ڈوبنے لگا۔ “زیغم” نے ایک نظر اس کے ویران چہرے پر ڈالی اور کٹے لفظوں کے ساتھ آخری ضرب لگائی:
“ویسے بھی، اس گھر میں حرام کھانے والے، نمک حرام بہت زیادہ ہو گئے ہیں… اب مجھے ان کی چھانٹی کرنی ہے!”
“زیغم” نرم دل تو کبھی بھی نہیں تھا یا پھر یوں کہا جائے کہ “نایاب” کے لیے “زیغم” کے دل میں نرمی کبھی بھی نہیں تھی مگر اب کی بار تو زیادہ طوفان بن کر واپس آیا تھا۔ اس کے ایک ایک لفظ سے “نایاب” کے لیے نفرت ہی نفرت چھلک رہی تھی۔اسے کچھ زیادہ امیدیں تو “زیغم” سے نہیں تھی مگر یہاں تو اس کی سوچ سے زیادہ سفاک بن چکا تھا۔ “نایاب” کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے، مگر “زیغم” کے اندر کی برفانی سفاکی کو یہ پگھلا نہیں سکے تھے۔

وہ خونخوار نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے، زہر میں بجھے لفظوں کے ساتھ دھاڑا:
” آنسو بہانا بند کرو!”
“مگرمچھ کے آنسو بہانے والی عورتیں مجھے زہر لگتی ہیں!”
اس کے لہجے میں نفرت گھلی ہوئی تھی۔

“اور تم تو عورت کے نام پر ویسے ہی ایک دھبہ ہو!”
“زیغم” کی چنگھاڑتی آواز “نایاب” کی سماعتوں سے ٹکرا کر اس کے دل پر نشتر بن کر چل رہی تھی۔

“میں تو تمہیں چھوڑ کر چلا گیا تھا کہ تمہیں سزا خدا دے گا، مگر مجھے کیا پتہ تھا کہ میرے خدا نے تمہاری سزا کے لیے مجھے ہی چن لیا ہے!”
“زیغم” کی آنکھوں میں سرخی تھی۔ وہ اپنوں کو کھو دینے کے درد، کے تیز طوفان کی زد میں تھا۔

“اب اگر خدا نے چن لیا ہے، تو میں، ایک بندہ بشر، انکار کرنے والا کون ہوتا ہوں؟”
“نایاب” کی آنکھوں میں ایک پل کے لیے خوف جھلکا، مگر “زیغم” کے چہرے پر ہنوز سختی برقرار تھی۔

“کل سے رمضان شروع ہونے والا ہے… اور تم–––– تم اس گھر کے تمام ملازمین کے لیے بہترین سحری اور افطاری تیار کرو گی!”
“نایاب” کی آنکھیں بے یقینی سے پھیلیں۔

“مَیں…… میں کیسے بنا سکتی ہوں؟”
“مجھے تو کچھ بھی پکانا نہیں آتا!”
وہ جھٹ سے بولی۔اس کے لہجے میں بے بسی تھی۔ “زیغم” نے ایک کڑوا قہقہہ لگایا، نظریں اس پر گاڑتے ہوئے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ دیکھا۔

“کیسے بناؤ گی؟”
“ہاتھوں سے بناؤ گی!”
اس کی آواز میں تحقیر تھی۔
“جیسے ٹھونسنا آتا ہے، ویسے بنانے کی اوقات بھی رکھو!”
“زیغم” کا ہر جملہ اس پر کوڑے کی طرح برس رہا تھا۔

“تمہیں کیا لگا میں تمہیں سستے میں چھوڑ دوں گا؟”
وہ مزید جھکا، جیسے اسے اپنے الفاظ کی تپش محسوس کروانا چاہتا ہو۔

“نہیں “نایاب!” میں تمہارا وہ حشر کروں گا کہ تم مرنے کی دعائیں کرو گی!”
“نایاب” نے بمشکل آنکھیں بند کر کے اپنے آنسو روکے۔

“زیغم” نے ہاتھ جھٹکا اور بیڈ کی طرف بڑھا، مگر جاتے جاتے ایک آخری دھمکی اس کے دل میں اتار دی:
“اور مجھے نیند آ رہی ہے!”
وہ بے رحمی سے بولا:
“اگر تم نے سونے کی کوشش کی…… یا روم سے باہر نکلنے کی کوشش کی…… یا بیڈ سے اٹھ کر صوفے یا بیڈ پر بیٹھنے کی کوشش کی……”
“زیغم” نے رخ موڑا، اس کے قریب آ کر آنکھوں میں مزید سفاکی بھرتے ہوئے سرگوشی کی:
“تو تمہارا وہ حشر کروں گا کہ تمہاری روح کانپ اٹھے گی!”
“نایاب” کی سانسیں اٹک گئیں، مگر “زیغم” اب بھی اپنی دھمکی مکمل کرنا چاہتا تھا۔

“اور اپنے لنگڑے بھائی کا ضرور خیال کرنا…”
وہ زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ بولا:
“آئی ہوپ…… تم ایسا کچھ نہیں چاہو گی کہ وہ وقت سے پہلے مر جائے!”
“زیغم” یہ کہتے ہی بیڈ پر جا گرا مگر اس بار وہ پہلے کی طرح بکھر کر نہیں، بلکہ مکمل ترتیب سے لیٹا تھا، جیسے یہ بھی “نایاب” کے لیے ایک واضح پیغام تھا۔ وہ بلینکٹ اوڑھ چکا تھا، اور “نایاب” کی جانب دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی۔ اس کی موجودگی بھی اس کے لیے ناگوار تھی مگر سونے سے پہلے ایک آخری زہر سے بھری چبھن اس کی روح میں اتار گیا۔

“اور سنو دوبارہ میری نیند کا فائدہ اٹھا کر میرے پاؤں کو ہاتھ لگانے کی کوشش مت کرنا!”
“زیغم” کی آواز اس قدر سخت تھی کہ “نایاب” کی روح لرز گئی۔

“زیغم سلطان” اپنے جسم کی حفاظت اچھی عورتوں کی طرح کرتا ہے!”
وہ نفرت سے اسے گھورتے ہوئے بولا:
“مجھے بالکل پسند نہیں کہ کوئی میری مرضی کے بغیر مجھے چھوئے!”
“زیغم” کے زہر میں بجھے لفظ “نایاب” کے دل کو چیر رہے تھے مگر اس کی باتوں کو خاموشی سے سننے کے علاوہ اس کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔

“میں نے خود کو چھونے کا حق ابھی تک یہ کسی کو نہیں دیا… اور جسے یہ حق ملے گا، وہ بہت خاص اور خوش قسمت ہوگی!”
یہ محض الفاظ اور جملے نہیں تھے یہ “نایاب” پر جلتے ہوئے شعلے انگارے پھینکے جا رہے تھے۔ وہ “نایاب” کو “نایاب” کی اوقات بتا رہا تھا۔ وہ اسے بتا رہا تھا کہ اسے “زیغم سلطان” کو چھونے کا حق نہیں ہے اور جو “زیغم سلطان” کے قریب آئے گی، اسے چھونے کا حق رکھتی ہوگی، وہ بہت خوش قسمت اور بہت خاص ہوگی۔ وہ زہریلی نظر “نایاب” پر ڈالتے بلینکٹ اوڑھ چکا تھا مگر “نایاب” وہیں زمین پر بیٹھی، بے بس نظروں سے اس مرد کو دیکھ رہی تھی، جو اس کے وجود پر نفرت اور سزا کا حکم صادر کر چکا تھا۔ “نایاب” کی آنکھوں میں سرخی تھی، نیند اور آنسو دونوں نے اس پر قبضہ جما رکھا تھا۔ وہ زمین پر بیٹھی، زخموں سے چور دل کے ساتھ، بس “زیغم” کو دیکھ رہی تھی۔ وہ کمبل میں چہرہ چھپائے،بے حس و حرکت پلنگ پر پڑا تھا۔

“تم میرے ہو، “زیغم!”
اس نے دل میں خود سے کہا، جیسے اپنے ہی جذبات پر مہر ثبت کر رہی تھی۔

“میں تمہیں کسی اور کا کبھی نہیں ہونے دوں گی!”
اس کے اندر جیسے ایک ضد جاگ اٹھی تھی، ایک جنون، جو کسی بھی قیمت پر “زیغم” کو اپنے ہونے کا یقین دلا دینا چاہتا تھا۔

“میں نے تمہیں پانے کے لیے بہت کچھ کھویا ہے…”
“اگر تم واپس نہ آتے، تو شاید میں دل پر پتھر رکھ کر جینا سیکھ لیتی… مگر اب نہیں!”
اس کے لب بھیگے، آنکھوں میں ایک شعلہ سا بھڑکا، مگر پھر بھی وہ خاموش تھی، صرف خود سے بات کر رہی تھی۔

“سزا دو یا میری جان لے لو، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا!”
یہ جملہ اس کے دل کے اندر سے نکلا تھا، لیکن ہونٹوں پر نہ آ سکا۔

“ہاں، مگر تم میرے ہو، اور میرے ہی رہو گے اور تمہیں چھونے والی خوش قسمت میرے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتی!”
یہ سوچ اس کے اندر کسی پختہ عہد کی طرح گونجی، جیسے اس نے اپنی قسمت خود لکھ لی ہو۔

“تمہارے پاؤں کی جوتی بن کر بھی رہ لوں گی، مگر کسی اور کو تمہارے دل کی ملکہ کبھی نہیں بننے دوں گی!”
“زیغم” بے حس و حرکت تھا، مگر “نایاب” کو لگ رہا تھا کہ وہ سب سن رہا ہے، سب محسوس کر رہا ہے۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ جاگ رہا ہے، یا اس سزا کو مزید سخت کرنے کے لیے خود کو بے حس بنا رکھا ہے۔ روم میں گہری خاموشی تھی، ٹھنڈے فرش پر بیٹھی ہوئی “نایاب” کی حالت خراب ہو رہی تھی مگر دماغ پر “زیغم سلطان” کی محبت چھائی ہوئی تھی۔
°°°°°°°°
“اماں، میں ٹھیک ہوں… مگر آپ بتائیں نا، میں گاؤں کب واپس آؤں؟”
“میں آپ سب سے بہت اداس ہو گئی ہوں۔”
فون کے دوسری طرف گہری خاموشی چھا گئی، جیسے اماں کے پاس الفاظ ہی نہ ہوں پھر اچانک ان کی کپکپاتی، گھبرائی ہوئی آواز سنائی دی۔

“نہیں! تم گاؤں واپس نہیں آ سکتی!”
“چپ چاپ شہر میں رہ، تیری خالہ تیرا دھیان رکھے گی۔ میرا بچہ، تو یہاں نہیں آ سکتی… ورنہ وہ درندہ تجھے نوچ کھا جائے گا!”
“ملیحہ” کی آنکھوں میں وحشت ابھری، وہ جانتی تھی ماں کس کی بات کر رہی ہے، جانتی تھی کہ وہ شخص کس قدر ظالم اور سفاک ہے مگر پھر بھی، دل میں ایک بے چینی تھی، ایک اضطراب جو اسے پل پل کاٹ رہا تھا۔

“اماں، آپ کیوں رو رہی ہیں؟”
“میں ٹھیک ہوں نا!”
وہ دھیرے سے بولی، مگر ماں کے الفاظ زخموں کی طرح گہرے تھے۔

“تُو نہیں جانتی وہ کتنا ظالم ہے!”
“پتہ نہیں میری بچی، تیری قسمت نے کیسے تجھے بچا لیا… ورنہ وہ سفاک انسان، جو تجھے اپنے ڈیرے تک لے گیا تھا، وہ تیری عزت کو تار تار کیے بغیر کبھی تجھے واپس نہ آنے دیتا!”
“ملیحہ” کے ہاتھ لرز گئے، سانس جیسے اٹکنے لگی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی خوش قسمتی نے اسے بچا لیا تھا، مگر ماں کے الفاظ نے اس کے اندر ایک خوف کو اور گہرا کر دیا تھا۔

“اماں…!”
وہ بے بسی سے بولی، مگر دوسری طرف اماں کی سسکیاں سنائی دیں۔

“میری بچی مجھے بھی تیری بڑی یاد اتی ہے مگر جس دن تو گاؤں میں قدم رکھے گی وہ درندہ تجھے نوچ کھائے گا۔ پورے گاؤں میں تجھے ڈھونڈتا پھر رہا ہے۔”
“ملیحہ” نے ایک دم آنکھیں بند کر لیں۔ ایک بار پھر وہ سب کچھ ذہن میں گھوم گیا، وہ تاریک رات، وہ خوف، وہ بچ جانے کا لمحہ… وہ جانتی تھی کہ وہ بچ گئی تھی، مگر سوال یہ تھا کہ کب تک؟

“میں فون بند کرتی ہوں، تیرے ابا کو دوا دینی ہے…”
ماں کی آواز میں تھکن اور دکھ کی آمیزش تھی، جیسے وہ ہر لفظ کے ساتھ بوجھ اٹھا رہی ہو۔ “ملیحہ” نے لب بھینچ لیے، دل چاہا کہ ماں کو روک لے، ان سے اور بات کرے، مگر وہ جانتی تھی کہ ان کے پاس وقت نہیں تھا… اور شاید ہمت بھی نہیں۔

“اچھا اماں… اپنا خیال رکھیں، اور ابا کو میرا سلام کہیے گا۔”
دوسری طرف سے ہلکی سی سسکی سنائی دی، پھر فون کٹ گیا۔ “ملیحہ” نے ہاتھ میں پکڑا موبائل نیچے رکھ دیا، نظریں خلا میں جم گئیں۔ دل میں ایک انجانا سا خوف تھا، ایک بےچینی، جیسے کوئی طوفان اندر ہی اندر اٹھ رہا ہو، مگر وہ اسے روک نہیں پا رہی تھی۔

“ملیحہ۔”

“ہمم؟”

“فاریہ” کی آواز پر “ملیحہ” نے پلٹ کر دیکھا تھا۔

“یہ کیا؟ تو پھر سے خالہ سے بات کرتے ہوئے دکھی ہو رہی ہے؟”

“تو اور کیا کروں؟”
“تمہیں پتہ ہے میرا اماں ابا کو ملنے کو کتنا دل چاہتا ہے؟”
اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔

“اپنوں سے دور، یہ بھی کوئی زندگی ہے؟”
“اپنے ماں باپ ہوتے ہوئے کتنے سالوں سے میں ان سے دور ہوں۔”
“ہمیشہ اماں نے ان ظالم لوگوں کے ڈر سے مجھے خود سے دور رکھا۔”
“ملیحہ” کی آنکھوں میں آنسو بہتے ہوئے اس کے رخساروں کو بھگونے لگے تھے۔

“پلیز، رونا بند کر۔ مجھے تُو روتی ہوئی اچھی نہیں لگتی۔ ہم بھی تیرے اپنے ہیں!”
“فاریہ” نے اسے گلے لگاتے ہوئے پیار سے کہا۔

“تم لوگ میرے اپنے ہو اور مجھے بہت پیارے بھی ہو مگر اماں ابا کی مجھے بہت یاد آتی ہے!”
وہ سسکتے ہوئے بول رہی تھی۔

“ملیحہ” خالہ یہ سب کچھ تمہاری عزت کے لیے ہی تو کر رہی ہیں۔ تمہیں کیا لگتا ہے کہ ان کے لیے تم سے دور رہا آسان ہے؟”
“ان کی مجبوری کو سمجھنے کی کوشش کرو۔”

“سالوں سے وہی تو کر رہی ہوں۔۔۔”

“آگے بھی یہی کرنا ہو گا۔”
“ایک بار اپنی مرضی سے جا کر نتیجہ دیکھ لیا ہے نا؟”

“تو کیا میں کبھی بھی اماں اور ابا کے ساتھ نہیں رہ سکتی؟”
وہ سسکتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔

“اللہ تعالیٰ سب بہتر کرے گا۔تم پریشان ہونا چھوڑ دو، پریشانی کسی چیز کا حل نہیں ہے۔”
“چلو، گول گپے کھا کے آتے ہیں۔”
“ملیحہ” کا موڈ کرنے کے لیے اس نے جلدی سے ترکیب بنائی۔

“نہیں، مجھے نہیں کھانے۔”

“ارے، کیسے نہیں کھانے؟”
“چل، گول گپے کھلاتی ہوں، چل نا!”
“فاریہ” اسے زبردستی گھسیٹنے لگی۔

باہر صحن میں فاریہ کی ماں بیٹھی مٹر کے دانے نکالتے دونوں کی باتیں سن رہی تھی۔ نظر جیسے ہی بچیوں پر پڑی، نرمی سے بولیں:
“اچھا، جاؤ دھیان سے جانا، اور آتے ہوئے مارکیٹ سے یہ تھوڑا سودا بھی لے آنا۔”
“فاریہ” کی ماں بہت محبت کرنے والی عورت تھیں۔ ان کی اپنی اکلوتی بیٹی صرف “فاریہ” تھی، مگر وہ “ملیحہ” اور “فاریہ” میں کوئی فرق نہیں کرتی تھیں۔ شہر میں رہنے کے باعث ان کی سوچ بھی کافی وسیع تھی۔ حالات زیادہ خوشحال تو نہیں تھے، مگر “ملیحہ” کے اصل گھر کے مقابلے میں کہیں بہتر تھے۔ “فاریہ” کا باپ ایک پرائیویٹ مل میں جاب کرتا تھا، جس سے گھر کا گزارا اچھا ہو جاتا تھا۔ “فاریہ” اور “ملیحہ” دونوں کالج میں پڑھتی تھیں اور شام میں ایک کال سینٹر میں کام کرتی تھیں، جس سے وہ اپنے زیادہ تر اخراجات خود ہی اٹھا لیتی تھیں۔ گھر میں اچھا اور خوشحال ماحول تھا، جہاں محبت کی چادر ہر وقت تنی رہتی تھی۔

“اچھا، دھیان سے جانا اور جلدی گھر آ جانا۔”
“ملیحہ” اور “فاریہ” کو سامان کی پرچی تھماتے ہوئے “فاریہ” کی ماں نے نرمی سے تاکید کی۔ وہ ہمیشہ ان کو خوش دیکھنا چاہتی تھی۔ روک ٹوک نہیں کرتی تھی مگر ہمیشہ ان کے لیے فکر مند ضرور رہتی تھی۔

“جی اماں، فکر نہ کریں، ہم جلدی آ جائیں گے۔”
“فاریہ” نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور “ملیحہ” کا ہاتھ پکڑ کر باہر نکل گئی۔
بازار کی رونقیں اپنے عروج پر تھیں کیونکہ کل سے رمضان شروع ہونے والا تھا، اس لیے لوگ ہر طرف خریداری میں مصروف تھے۔ کوئی کھجوریں خرید رہا تھا، تو کوئی افطاری کے لیے پھلوں کے اسٹال پر بھاؤ تاؤ کر رہا تھا۔ ہر دکان پر رش تھا، بازار میں ایک الگ سی چہل پہل تھی۔

“چل نا، پہلے گول گپے کھاتے ہیں، پھر سودا لے کر چلیں گے۔”
“فاریہ” نے “ملیحہ” کا بازو پکڑ کر اسے کھینچتے ہوئے کہا۔

“نہیں یار، پہلے سودا لے لیتے ہیں اور ویسے بھی میرا دل نہیں کر رہا گول گپے کھانے کو۔”
“ملیحہ” نے نرمی سے کہتے نظریں بازار میں بھاگتے دوڑتے لوگوں پر مرکوز کر رکھی تھیں۔دل میں اداسی کے ڈیرے تھے۔ دل اپنے ماں باپ کو ملنے کے لیے بے چین تھا مگر بدقسمتی کہ ایسا ہو نہیں سکتا تھا۔ نہ وہ آ سکتے تھے، نہ وہ جا سکتی تھی اور ایک بار زبردستی جانے کا نتیجہ وہ دیکھ چکی تھی۔

“اوہو، تُو تو ہمیشہ بورنگ ہی رہا کر۔۔۔۔ چل پہلے گول گپے، پھر سودا!”
“فاریہ” نے ضد کی اور دونوں قریبی گول گپے کے ٹھیلے کی طرف بڑھ گئیں، جہاں پہلے ہی رش لگا ہوا تھا۔

“انکل! جلدی سے گول گپے کی دو پلیٹیں بنا دیں، وہ بھی چٹخارے دار!”
“فاریہ” نے حسبِ معمول شوخ انداز میں کہا اور ٹھیلے کے پاس رکھے بینچ پر بیٹھ گئی۔

ٹھیلے والا جو پہلے ہی رش میں الجھا ہوا تھا، فاریہ کی آواز سنتے ہی مسکرا دیا۔
“ارے بیٹا، تم۔۔۔۔”
ٹھیلے والا انکل مسکرا دیا تھا۔

“میں ابھی اسپیشل آپ لوگوں کی پسند کی چٹخارے دار دو پلیٹیں بنا دیتا ہوں!”
“ملیحہ” اور “فاریہ” بہت عرصے سے اسی ایک ٹھیلے سے گول گپے کھاتی آرہی تھی، تو انکل دونوں کو اچھی طرح سے پہچانتے تھے۔ اس لیے سب کچھ چھوڑ کر پہلے ان کی پلیٹیں تیار کرنے لگے۔

“بس انکل، ذرا تیز بنا دیجیے گا، ویسے بھی کل سے رمضان شروع ہونے والا ہے، پھر سارا دن روزہ رکھ کر شام میں ہی کچھ کھانے کو ملے گا!”
“فاریہ” نے شرارت سے آنکھ دباتے ہوئے کہا اور “ملیحہ” کی طرف دیکھا، جو خاموشی سے اردگرد کے ہجوم کو دیکھ رہی تھی۔ بازار میں چہل پہل تھی، ہر طرف لوگ خریداری میں مصروف تھے۔ کہیں کھجوریں بک رہی تھیں، کہیں سموسے اور پکوڑوں کے اسٹال لگے تھے، اور کہیں افطار کے لیے ضروری سامان خریدا جا رہا تھا۔

“ملیحہ”، تم کیوں چپ ہو؟”
“دیکھو، رمضان کیسا رونق بھرا لگ رہا ہے!”
“فاریہ” نے اسے کہنی ماری۔

“بس ایسے ہی، کچھ یاد آ گیا تھا۔۔۔”
“ملیحہ” نے اداس سے لہجے میں کہتے ہوئے “فاریہ” کی جانب دیکھا۔ وہ دل میں سوچ رہی تھی کہ کیوں وہ نارمل لوگوں کی طرح رمضان اور عید اپنے ماں باپ کے ساتھ نہیں گزار سکتی۔ “فاریہ” اس کی اداسی سمجھ چکی تھی۔

“پلیز اداسی ختم کرو نا، مجھے تم ایسی اچھی نہیں لگ رہی۔”
“دیکھو انکل نے گول گپے بنا دیے ہے ، اب تو خوش ہو جاؤ!”
“فاریہ” نے جلدی سے پلیٹ اٹھائی اور “ملیحہ” کو پکڑاتے ہوئے۔ خود گول گپے میں پانی بھرتے ہوئے چٹخارے لے کر مزے سے کھانے لگی۔ “ملیحہ” بھی “فاریہ” کی خاطر اپنے موڈ کو بہتر کرنے کی پوری کوشش کرتے ہوئے گول گپے تو کھانے لگ گئی تھی مگر اس کے ذہن میں اب بھی اداسی کے گہرے رنگ تھے۔
°°°°°°°
“یار تمہیں منع کیا تھا نا اس طرف سے مت آنا، اس طرف بہت رش ہوتا ہے۔ اچھا بھلا ہم قیوم آباد والی سائیڈ سے جا رہے تھے، مگر تمہیں ہی پتہ نہیں کیا شوق چڑھا تھا یہ بائی کٹ کر کے آنے کا؟” “
“ذرام” نے غصے سے ٹریفک کو دیکھتے ہوئے کہا۔

“محلوں کے شہزادے، کبھی کبھی غریب لوگوں کو بھی دیکھ لیا کر، کہ بیچارے کتنی کٹھن جگہوں میں پھنسے ہوئے ہوتے ہیں۔”
“فیصل” نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔ اسے اچھی طرح پتہ تھا کہ “ذرام” کو رش والی جگہوں سے گھٹن محسوس ہوتی ہے، مگر “فیصل” اب اس کو تنگ نہ کرے، ایسا تو ہو نہیں سکتا۔

“منہ بند رکھ، مجھے غریبوں کا بھی احساس ہے اور غریب لوگوں کی محنت مشقت کا بھی احساس ہے، مگر یہ ٹریفک میں پھنس کر میں لوگوں کی کون سی ہیلپ کر دوں گا، یہ تو ذرا بتاؤ؟”
“ذرام” نے بیزاری سے کہا۔

“فیصل” نے مسکرا کر گردن گھمائی۔
“ہیلپ تو خیر کیا کرنی، مگر یہ دیکھنے کا موقع تو ملے گا کہ اصل میں ان بیچاروں کی زندگی کیسے چل رہی ہے۔”

“فیصل” مجھے فضول میں تمہاری بک بک نہیں سننی ہے اور نہ ہی رش میں پھنسنا ہے گاڑی نکالو یہاں سے کسی بھی طریقے سے۔”
“ذرام” نے بیزاری سے کہا تھا۔

“کیا کروں گاڑی کو ہوا میں اڑانا شروع کر دوں؟”
“فیصل” نے ریلیکس انداز میں ہنستے ہوئے کہا۔ جب بھی گاڑی اس طرح رش پہ پھنس جاتی تھی، “ذرام” بہت زیادہ پینک ہونے لگتا تھا اور “فیصل” کو ایسے حالات میں “ذرام” پر بہت ہنسی آتی تھی۔ اس وقت بھی پوچھتے ہوئے اس کا دماغ خراب کر رہا تھا۔

“تمہیں شرم نہیں آتی؟”
“جب تمہیں اچھی طرح سے پتہ ہے کہ اس طرح کی رش والی جگہوں پر مجھے گھٹن ہوتی ہے تو پھر جان بوجھ کر کیوں ایسی حرکتیں کرتے ہو؟”
“ذرام” نے غصے سے کہا تھا۔

“اچھا غصہ مت کر چل گول گپے کھاتے ہیں!”
“فیصل” نے اس کا موڈ لائٹ کرنے کے لیے گاڑی کو تھوڑا سا سائیڈ پہ کرتے ہوئے پارکنگ کے لیے روک دیا تھا۔

“یہ لڑکیوں والے شوق تمہیں مبارک میں نہیں کھاتا گول گپے!”

“حد ہے یار۔ کیا گول گپوں کے اوپر لکھا ہوا ہوتا ہے کہ لڑکے گول گپے نہیں کھا سکتے؟”
“تمہاری بھی اپنی ہی فلاسفی ہے!”
“فیصل” کو گول گپے اچھے لگتے تھے اس لیے اس کا تو کھانے کا پورا ارادہ بن چکا تھا اور اب اس کے ارادے کو ختم کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔ اس لیے فلحال کے لیے ذرام نے خاموش ہو جانا ہی بہتر سمجھا تھا۔ اتنے میں “ذرام” کی نظریں سامنے ٹھیلے پر پڑیں، جہاں کچھ لڑکیاں کھڑی گول گپے کھا رہی تھیں۔ وہ بے دھیانی میں ہی وہاں دیکھنے لگا، مگر اگلے ہی لمحے اس کی آنکھیں ٹھہر گئیں۔ وہ چہرہ…… وہ معصومیت…… اس نے پہچان لیا تھا کہ یہ وہی لڑکی ہے جو اس رات اس کی گاڑی سے ٹکرائی تھی۔ “فیصل” نے فوراً نوٹ کیا کہ “ذرام” کی نظریں ایک ہی جگہ پر رکی ہوئی ہیں اور چہرے پر حیرت زدہ تاثرات تھے۔

“کیا ہوا بھائی، کیا ننگے گول گپے دیکھ لیے؟”
“فیصل” نے اسے حیرت زدہ دیکھ کر جوک مارا تھا۔
“ذرام” نے ایک لمحے کے لیے نظریں جھپکائیں۔اسے خود ہی اپنی نظروں پر یقین نہیں آرہا تھا۔

فیصل کے بے وقت جوک پر “ذرام” نے تیور چڑھا کر فیصل کو گھورا۔
“شٹ اپ، گاڑی سے نیچے اترو۔”

“مگر کیوں؟”
“وہ ٹھیلے والا ہمیں یہیں پر پلیٹ پکڑا دے گا تو پھر گاڑی سے اترنے کی کیا ضرورت ہے؟”
“فیصل” نے الجھن سے پوچھا۔

“تم بحث کیے بغیر کچھ کر سکتے ہو یا نہیں؟”
ذرام نے ناگواری سے کہا، اور گاڑی کا دروازہ کھول کر نیچے اتر آیا۔
“فیصل” کندھے اچکاتے ہوئے پیچھے پیچھے آ گیا، مگر اس کے چہرے پر شرارت بھری مسکراہٹ تھی۔

“لگتا ہے گول گپے کھانے کا پلان نہیں، کسی اور ہی چیز کا ارادہ ہے۔”
وہ زیرِ لب بولا، مگر “ذرام” نے اسے مکمل نظرانداز کر دیا۔
وہ اب سیدھا ٹھیلے کی طرف بڑھ رہا تھا۔

“السلام علیکم!”
“ذرام” نے رسمی انداز میں سلام کیا۔

“وعلیکم السلام…… جی فرمائیں۔”
“فاریہ” نے نرمی سے جواب دیا، مگر وہ ابھی کچھ اور کہتی کہ “ذرام” کی اگلی بات نے اس کی زبان روک دی۔

“مجھے آپ سے نہیں، ان سے بات کرنی ہے۔”
“ذرام” کی نظریں سیدھی “ملیحہ” پر جمی تھیں، جو اپنی سوچوں میں کھوئی بیٹھی تھی۔ اس کی آواز پر وہ چونکی، نظریں اٹھا کر دیکھیں اور حیرت سے پلکیں جھپکائیں۔

“آپ یہاں؟”

“ہاں، میں یہاں ہوں……… کیا تم؟ کیا یہاں رہتی ہو؟”
“فیصل” اور “فاریہ” دونوں حیرت سے اس عجیب اتفاق کو دیکھ رہے تھے۔ انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ “فیصل” ان لڑکیوں کو نہیں جانتا تھا، نہ ہی “فاریہ” ان دونوں لڑکوں کو۔ دونوں سوچ میں مبتلا تھے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کو کیسے جانتے تھے؟

“میں یہاں ہوں تو اس سے آپ کو کیا تکلیف؟”
“ملیحہ” نے تڑخ کر سخت لہجے میں جواب دیا، جس پر “فیصل” کی ہنسی چھوٹ گئی۔

“او تیری خیر!”
“فیصل” نے قہقہہ لگایا، مگر اگلے ہی لمحے “ذرام” کی تیز نظروں نے اسے خاموش ہونے پر مجبور کر دیا۔

“تم کچھ دیر کے لیے اپنے دانت بند رکھ سکتے ہو؟”
“ذرام” نے سختی سے کہا۔

“بالکل کر سکتا ہوں…… اگر یہ محترمہ کوئی فنی جملہ نہ بولیں تو۔”
“فیصل” نے شرارت سے کندھے اچکائے۔

“کیوں؟ ہم آپ کے لیے کوئی جوکر ہیں جو فنی جملے بولیں گے؟”
“ملیحہ” نے غصے میں “فیصل” کی طرف بھی وار کر دیا۔

“ذرام” نے ان دونوں کی نوک جھونک کو نظر انداز کرتے ہوئے “ملیحہ” کی طرف دیکھا اور واضح لہجے میں بولا:
“میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں…… مجھے تم سے بات کرنی ہے۔”
“ملیحہ” کے دل کی دھڑکن جیسے بے ترتیب ہوئی۔ اس کے لب ہلکے سے لرزے، آنکھوں میں بے یقینی تھی۔

“ک……کیا؟ کیا کرنی ہے آپ کو مجھ سے بات؟”
وہ الجھ کر گھبراہٹ سے بولی، اس کی پریشانی دیکھ کر “فاریہ” بھی پریشان ہو گئی۔

“دیکھو مسٹر! تم دونوں جو بھی ہو، ہمیں تم سے کوئی بات نہیں کرنی!”
“فاریہ” نے مضبوط لہجے میں کہا۔

“میں نے تم سے بات کرنے کا کہا بھی نہیں، مجھے تو ان سے بات کرنی ہے۔”
“ذرام” نے سنجیدگی سے “فاریہ” کو دیکھا، جس کا چہرہ اب بھی تذبذب میں تھا۔
سامنے کھڑی ہوئی لڑکی کی سادگی میں ایک الگ ہی کشش تھی، جیسے چودھویں کا چاند بادلوں میں چھپا ہو مگر پھر بھی روشنی بکھیر رہا ہو۔ سیاہ عبایا اور سادگی سے لپٹا ہوا حجاب، اس کے گورے رنگ کو مزید نمایاں کر رہے تھے۔ وہ “ذرام” کی گہری نظروں کے حصار میں تھی، مگر وہ اس بات سے پوری طرح سے بے خبر تھی۔ “ذرام” کی الجھنوں میں کئی دنوں سے ایک بے نام سا اضطراب تھا، جو اب ختم ہونے کو تھا۔ اس لمحے اسے کسی وضاحت کی ضرورت نہیں تھی، کسی دلیل کی حاجت نہیں تھی۔ وہ سمجھ چکا تھا—یہی وہ احساس تھا جسے وہ پچھلے کئی دنوں سے نظر انداز کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ سامنے کھڑی یہ انجان لڑکی، جس کا وہ نام تک نہیں جانتا تھا، مگر جس کی موجودگی نے اس کے دل کی بے چینی کو نام دے دیا تھا۔ یہ محبت تھی، بے ساختہ، بے وجہ، مگر پوری شدت کے ساتھ۔جس کو روکنا اس وقت ناممکن ہو چکا تھا۔ اب مزید تاخیر نہیں، مزید کشمکش نہیں………وہ دو ٹوک الفاظ میں اپنی بات کہنے کے لیے تیار تھا۔
کبھی کبھی تقدیر ہماری قسمت کے فیصلے ایک ہی نظر میں، یک طرفہ کر دیتی ہے۔ ہم تقدیر اور محبت کے فیصلوں میں الجھ کر کمزور پڑ جاتے ہیں، بے بس ہو جاتے ہیں۔ کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جن کے جواب صرف وقت کے پاس ہوتے ہیں، مگر دل بے صبری سے فوراً ہی سب کچھ جان لینا چاہتا ہے۔
جیسے اس وقت “ذرام………”وہ جو ہمیشہ اپنی عقل، اپنے فیصلوں پر بھروسہ کرتا آیا تھا، آج تقدیر کے ایک لمحے کے سامنے بے بس کھڑا تھا۔ ایک انجان لڑکی کی جھلک نے اس کے دل میں ایسا ہلچل مچا دی تھی کہ وہ خود کو سنبھالنے میں ناکام ہو رہا تھا۔ یہ کیسا فیصلہ تھا جو صرف ایک نظر میں ہو چکا تھا؟
کیا یہ محبت تھی، یا بس ایک پل کی کشش؟
مگر نہیں……… یہ عام جذبہ نہیں تھا۔ یہ وہ احساس تھا جس نے کچھ دنوں سے اس کے دل میں بے چینی پیدا کر رکھی تھی اور آج، اس لمحے، اس بے نام کشش نے محبت کا نام لے لیا تھا۔

“چلو “فاریہ” ہمیں چلنا چاہیے، خالہ ہمارا انتظار کر رہی ہوں گی!”
“ملیحہ” کے لہجے میں بے چینی تھی، وہ فوراً یہاں سے جانا چاہتی تھی۔ وہ کسی نئی مصیبت میں نہیں پڑنا چاہتی تھی، کسی نئی الجھن میں نہیں الجھنا چاہتی تھی۔ زندگی نے اسے ایسے تلخ سبق سکھائے تھے کہ اب وہ کسی پر، خاص طور پر کسی مرد پر بھروسہ کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ یہی سوچ اسے وہاں سے نکلنے پر مجبور کر رہی تھی۔ وہ “فاریہ” کا ہاتھ تھامے تیزی سے آگے بڑھنے لگی، مگر “ذرام” بھی تو وہ شخص تھا جس کے اندر غرور اور انا کا خون دوڑ رہا تھا۔ اپنی اتنی توہین، وہ کیسے برداشت کر سکتا تھا؟
بے شک وہ نرم لہجے اور نرم دل کا مالک تھا، مگر خون میں جو چیز رچ بس جائے، اسے بدلنا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہوتا ہے۔

“میں نے کہا، میں نے تم سے بات کرنی ہے!”
“کھا نہیں جاؤں گا تمہیں، فضول میں ڈرامہ کری ایٹ مت کرو!”
“ذرام” کا لہجہ سخت ہو چکا تھا۔

“اس دن تو میری گاڑی میں لفٹ لینے کے لیے تم مجھے ‘سائیں سائیں’ بول کر روک کر، میرے ساتھ خود میری گاڑی میں آ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔ اور اب آنکھیں دکھا رہی ہو؟”

“ہاتھ چھوڑو میرا!”
“ملیحہ” نے غصے سے کہا۔

“نہ چھوڑوں تو؟”
“ذرام” نے چیلنجنگ انداز میں کہا۔

“کاٹ کر رکھ دوں گی!”

“ہمم……… اچھا، ٹھیک ہے، کاٹ ڈالو اور چھڑوا لو ہاتھ!”
“ذرام” نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، مگر “فیصل” کو اندازہ تھا کہ معاملہ خراب ہو سکتا ہے، اس لیے وہ فوراً آگے بڑھا۔

“ذرام”، چھوڑو! لوگ دیکھ رہے ہیں!”
“فیصل” نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

“دیکھنے دو! میں کسی سے نہیں ڈرتا!”
“ذرام” کے لہجے میں جنون تھا۔

“کیوں؟ یہ ملک، یہ قانون تمہارے باپ کا ہے؟”
“چھوڑو میرا ہاتھ!”
“ملیحہ” نے چیخ کر کہا اور اگلے ہی لمحے، زوردار تھپڑ “ذرام” کے چہرے پر رسید کر دیا۔
“ذرام” کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا۔ اس کے لیے یہ سب سے بڑی توہین تھی کہ کسی نے، وہ بھی ایک لڑکی نے، بیچ بازار میں اس پر ہاتھ اٹھایا تھا۔ اردگرد کھڑے کچھ لوگ موقع کا فائدہ اٹھانے کے لیے آگے بڑھے، جیسے وہ “ذرام” کا مذاق اڑانے والے تھے، مگر اگلے ہی لمحے، “ذرام” نے کمر سے پسٹل نکال کر سیدھا سامنے کر دیا۔ یکدم خاموشی چھا گئی۔ وہ جو ابھی تک بڑھ بڑھ کر بول رہے تھے، سب کے قدم پیچھے ہٹ گئے۔

“ذرام”، بس کرو!”
“فیصل” نے تیزی سے آگے بڑھ کر اس کا بازو پکڑا اور زبردستی اسے گاڑی میں دھکیل دیا۔ دروازہ زور سے بند کرتے ہوئے وہ خود بھی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا تھا۔ “ذرام” کی نظریں اب بھی “ملیحہ” پر مرکوز تھیں، کیسی دیوانگی تھی یہ۔ وہ اب تک اس لڑکی کا نام بھی نہیں جانتا تھا، مگر اسے کھونے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اپنی بےعزتی اور اسے کھو دینے کا احساس اسے تڑپا رہا تھا۔ “ملیحہ” اور “فاریہ” جلدی سے سڑک کراس کر رہی تھیں۔ “فیصل” نے گاڑی اسٹارٹ کی تو “ذرام” نے نظریں اٹھا کر “ملیحہ” اور “فاریہ” کو دیکھتے ہوئے کہا۔

“گاڑی ان کے پیچھے لے جاؤ!”

“چھوڑ دو یار، فضول میں تماشہ مت کرو، آلریڈی بہت ہنگامہ ہو چکا ہے!”
“فیصل” نے سمجھانے کی کوشش کی۔

“فیصل”، میں نے کہا نا! گاڑی ان کے پیچھے لے جاؤ، مجھے جاننا ہے کہ وہ کہاں رہتی ہے!”
“ذرام” کے لہجے میں ضد تھی۔

“فیصل” نے گہرا سانس لیا۔
“کیا یہ وہی لڑکی ہے جو تمہاری گاڑی سے ٹکرائی تھی؟”

“ہاں!”
“ذرام” نے نظریں ان پر ہی جمائے ہوئے جواب دیا۔

“تو کیا میں یہ سمجھوں کہ تمہیں اس سے محبت ہو گئی ہے؟”
“فیصل” نے اس کے چہرے کے تاثرات کو دیکھتے ہوئے سوال کیا۔

“ہاں!”
“ذرام” نے بلا جھجک جواب دیا۔ “ذرام” ایسا ہی تھا جو دل میں تھا اسے زبان پر لانے کی ہمیشہ سے اس کی عادت تھی۔ اس کے جواب پر “فیصل” حیرت سے اسے دیکھنے لگا تھا۔

“تو کیا تم اس سے شادی کرنا چاہتے ہو؟”

“میرے خیال سے جس کو پسند کیا جاتا ہے، محبت کی جاتی ہے، اس کے ساتھ شادی ہی کی جاتی ہے اور باقی کے فضول کے سوال راستے میں کر لینا گاڑی ان کے پیچھے لگاؤ!”

“سوچ لو تمہارے گھر والے اس اسٹیٹس کو قبول کریں گے؟”
“فیصل” نے گاڑی کا اسٹیئرنگ گھماتے ہوئے گاڑی روڈ پر ڈالتے ہوئے کہا۔

“مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا!”
“ذرام” کے لہجے میں فیصلہ کن سختی تھی۔

“یار، اس کے اور تمہارے اسٹیٹس میں بہت فرق ہے۔ کہاں تم، کہاں وہ لڑکی!”
“وہ ایک عام گھرانے سے تعلق رکھتی ہے، مانتا ہوں کہ وہ بہت خوبصورت ہے، مگر………”

“میں نے تم سے اس کی خوبصورتی کی گواہی نہیں مانگی!”
“ذرام” نے سخت لہجے میں دو ٹوک کہا۔
“میں نے کہا، گاڑی ان کے پیچھے لے جاؤ، مجھے جاننا ہے کہ وہ کہاں رہتی ہے!”
“فیصل” نے ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالی، پھر سر جھٹک کر گاڑی کا رخ بدل دیا۔

“ٹھیک ہے بھائی، جو تمہاری مرضی!”
تھوڑی ہی دوری طے کرنے کے بعد، “ملیحہ” ایک گلی کی جانب مڑ گئی۔ “فیصل” نے گاڑی بھی احتیاط سے اسی گلی میں موڑ دی، مگر انہیں زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی۔ صرف چار پانچ گھروں کا فاصلہ طے کرنے کے بعد، وہ ایک گھر کے اندر داخل ہو گئی۔ مطلب، یہ ان کا ہی گھر تھا۔

“ذرام” نے گہری سانس لی اور گاڑی کے شیشے سے باہر دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا:
“نیچے اترو، اور اردگرد سے پتہ لگاؤ کہ یہ کس کا گھر ہے اور یہاں کون رہتا ہے؟”
“فیصل” نے ایک نظر “ذرام” پر ڈالی، جیسے اس کی بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ مطلب کہ وہ دوستی کا صحیح فائدہ اٹھا رہا تھا اور یہ انوکھا کام تھا جو “ذرام” اس سے کروانے کا ارادہ رکھتا تھا مگر بحث کرنا فضول تھا۔ وہ نفی میں سر کو ہلاتے ہوئے خاموشی سے گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے اترنے لگا۔
“ٹھیک ہے جناب، جو حکم!”
وہ نیچے اترا اور اردگرد کے ماحول کا جائزہ لینے لگا۔
گلی زیادہ بڑی نہیں تھی، مگر کافی آبادی محسوس ہو رہی تھی۔ گھروں کے سامنے چند بچے کھیل رہے تھے اور کچھ خواتین سروں پر دوپٹہ لیے دروازوں پر کھڑی باتیں کر رہی تھیں۔ “فیصل” نے زیادہ شک پیدا کیے بغیر معلومات حاصل کرنے کے لیے ایک مناسب جگہ تلاش کی۔ گلی میں دو گھر پیچھے ہٹ کر، ایک چھوٹی سی دکان نظر آئی۔ دکان پر پرانے طرز کی لکڑی کی الماریاں رکھی تھیں، جن میں کھانے پینے کا سامان سجا ہوا تھا۔ دکاندار ایک درمیانی عمر کا آدمی تھا، جو بے دلی سے گاہکوں کو دیکھ رہا تھا۔”فیصل” نے موقع غنیمت جانتے ہوئے دکان پر جا کر کہا:
“مجھے ایک پیپسی کی بوتل دے دیجیے گا۔”
دکاندار نے سر ہلایا اور فریج سے بوتل نکال کر اس کے سامنے رکھی۔ “فیصل” نے پیسے نکالتے ہوئے اردگرد کا جائزہ لیا، پھر موقع دیکھ کر کےیولی بات چھیڑی۔

“چاچا، وہ دو گھر چھوڑ کر سامنے جو گھر ہے، وہاں کون رہتا ہے؟”
“دراصل، انہوں نے بینک سے قرضہ لیا ہے، تو ہمیں محلے سے جانکاری کرنی ہے۔”

دکاندار نے ذرا حیرانی سے “فیصل” کو دیکھا، پھر لاپرواہی سے کندھے اچکاتے ہوئے بولا:
“اوہ، وہ گھر؟”
“وہاں دو لڑکیاں رہتی ہیں اور ان کے والدین۔ میاں بیوی اچھے لوگ ہیں، شریف گھرانہ ہے۔ ان کی ایک اپنی بیٹی ہے، اور دوسری شاید کسی رشتہ دار کی ہے، مگر کئی سالوں سے یہیں رہتی ہے۔”

“فیصل” نے سر ہلایا اور مزید کریدا۔
“اچھے لوگ ہیں، تو مطلب کوئی مسئلہ نہیں؟”

دکاندار نے ہاتھ جھاڑ کر کہا:
“بھائی، ہمیں زیادہ نہیں پتہ، بس جو دیکھا وہی بتایا۔”
“فیصل” نے اثبات میں سر ہلایا، بوتل کا ڈھکن کھولا اور ایک گھونٹ لیتے ہوئے دکان سے باہر نکل آیا۔ “ذرام” گاڑی میں بےچینی سے بیٹھا تھا، “فیصل” کے جواب کا منتظر تھا۔ “فیصل” نے گاڑی میں بیٹھتے ہی مختصر الفاظ میں ساری معلومات دے دیں۔

“بس، ایک عام مگر شریف فیملی ہے۔ ایک ان کی اپنی بیٹی اور ایک کوئی رشتہ دار ہے، جو سالوں سے ان کے ساتھ ہے۔”
“ذرام” نے گہری سانس لی، پھر “ملیحہ” کے گھر کے دروازے پر ایک نظر ڈال کر سوچ میں ڈوب گیا۔

“فیصل” نے مسکرا کر کہا:
“تو جناب، محبت میں اگلا قدم کیا ہے؟”
“ذرام” نے رخ موڑ کر سنجیدگی سے فیصل کو دیکھا۔

“پہلے تو صرف محبت تھی، مگر تمہاری ہونے والی بھابھی نے یہ تھپڑ رسید کر کے خود کو میرا جنون بنا دیا ہے۔ اب تو اس محبت سے بھرے ہوئے جنون کو حاصل کیے بنا “ذرام” کو کہیں چین نہیں آنے والا!”

“فیصل” نے حیرت سے “ذرام” کو دیکھا اور ہنستے اسٹیئرنگ گھما دیا۔
“ابے بھائی، محبت ہوئی ہے یا بدلہ لینا ہے؟”

“ذرام” کی نظریں ابھی بھی اس دروازے پر جمی ہوئی تھیں جہاں وہ لڑکی غائب ہو چکی تھی۔
“یہ محبت ہے، لیکن اب یہ ایک چیلنج بھی بن چکی ہے۔تھپڑ مار کر “ذرام” کو للکار کر گئی ہے۔ اب اس کا انجام تھوڑا سخت بھی ہو سکتا ہے مگر جن سے محبت کی جاتی ہے ان سے بدلہ نہیں لیا جاتا–––––یہ محبت کا پہلا رول ہوتا ہے۔”

“ماشاءاللہ ماشاءاللہ! جناب تو شاعر ہونے لگے ہیں، مطلب کہ سچ میں تم عشق میں گوڈے گوڈے ڈوب چکے ہو!”
“اللہ تعالیٰ خیر کرے… اے اللہ، میرے یار کو منظرِ مقصود پر پہنچا دینا!”
“فیصل” دانت نکالتے ہوئے گاڑی گھما کر سڑک پر ڈال چکا تھا۔
“ذرام” کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے جانے کس سوچ میں تھا، جیسے دماغ میں کچھ نیا پلین ترتیب دے رہا ہو۔

“فیصل” نے ایک نظر اس پر ڈالی اور حیرت سے بولا:
“مجھے یقین نہیں آ رہا کہ تم ایک لڑکی سے تھپڑ کھانے کے بعد مسکرا رہے ہو!”
“اللہ کی قسم، محبت میں لوگ مینٹل ہو جاتے ہیں، کھسک جاتے ہیں، یہ سچائی مجھے آج پتہ چلی!”
“ذرام” نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اپنی ہی دنیا میں تھا، جہاں صرف ایک ہی سوچ گردش کر رہی تھی— وہ لڑکی، اس کی تیز نظریں، وہ سخت لہجہ، اور وہ تھپڑ…… جو “ذرام” کے لیے شکست نہیں بلکہ ایک نیا جنون بن چکا تھا۔
°°°°°°°°°
“تمہاری جرأت کیسے ہوئی کہ تم میری اجازت کے بغیر سو گئیں؟”
“زیغم” کی چنگھاڑتی ہوئی آواز نے “نایاب” کی روح تک جھنجھوڑ کر رکھ دی تھی۔ وہ جو بیڈ کے ساتھ ہلکی سی ٹیک لگائے “زیغم” کے حکم کے مطابق فرش پر بیٹھی تھی، پتہ نہیں کب آنکھ لگ گئی، مگر “زیغم” کی دھاڑ نے اسے جیسے کسی اندھیرے غار سے باہر کھینچ لیا تھا۔ اس نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں، سامنے “زیغم” غصے سے سرخ آنکھوں کے ساتھ کھڑا تھا، اس کا چہرہ غصے سے تنا ہوا تھا اور مٹھیاں سختی سے بھینچی ہوئی تھیں۔

“م۔۔۔ میں۔۔۔ مجھے پتہ نہیں چلا۔۔۔”
“نایاب” کی کانپتی ہوئی آواز نکلی، مگر “زیغم” نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے اسے مزید لرزا دیا۔

“پتہ نہیں چلا؟”
وہ طنزیہ ہنسا۔
“میری اجازت کے بغیر نہ تم سانس لے سکتی ہو اور نیند!”
“نایاب” نے بے بسی سے نظریں جھکا لیں۔ اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ “زیغم” کے لیے حکم عدولی کسی جرم سے کم نہیں تھی، اور آج اس نے یہ جرم کر دیا تھا… بے اختیار، نادانستہ، مگر کر دیا تھا۔ “نایاب” کی آنکھوں میں خوف اور بے بسی تھی۔ وہ گھبرا کر جلدی سے سیدھی ہو کر بیٹھی۔

“پلیز……… معاف کر دیں، آئندہ ایسا نہیں ہوگا!”
اس کی آواز لرز رہی تھی۔
“زیغم” نے قہر بھری نظروں سے اسے گھورا، جبڑے غصے سے سخت ہو گئے۔

“معاف کر دوں؟ معاف کر دوں تمہیں؟”
وہ قدم بڑھاتے ہوئے جھکا، جیسے اس کی بے بسی کو مزید قریب سے دیکھنا چاہتا ہو۔

“اٹھو! اور فوراً جا کر واش روم دھو کر آؤ، مجھے فریش ہونا ہے!”
اس کا لہجہ حکم دینے والا تھا۔

“نایاب” نے کانپتی آواز میں کہا:
“میں……… میں کیسے؟ گھر میں ملازم ہیں……”

“زیغم” طنزیہ ہنسا۔
“ہاں تو میں ملازم کو ہی بول رہا ہوں، ملازمہ!”
وہ تیز نظروں سے اسے گھورتے ہوئے بولا:
“فوراً جاؤ اور جا کر باتھ روم چمکا دو!”
“دیوار، فلش، بیسن، فرش—سب کچھ چمکنا چاہیے اور میرے لیے گرم واٹر ٹب بھی تیار کر دو، مجھے شاور لینا ہے!”
“نایاب” نے ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالی، جہاں سختی اور ضد کے سوا کچھ نہ تھا۔ وہ بےبس سی اٹھنے لگی، آنکھوں میں نمی تھی، مگر جانتی تھی کہ “زیغم” کے سامنے کوئی فریاد کام نہیں آئے گی۔ “نایاب” جو صبح صبح اٹھ کر واش روم دھونے میں، بےحد کراہیت محسوس کر رہی تھی۔ اس نے اپنے پائنچے اوپر کیے، مگر سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ صفائی کہاں سے شروع کرے۔ حالانکہ واش روم پہلے ہی صاف تھا، لیکن “زیغم” کا حکم تھا اور اس کے لیے اب یہ سب کرنا لازم تھا۔ وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ کہاں سے آغاز کرے کہ اچانک دروازے پر “زیغم” آ کھڑا ہوا۔ وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے، سخت نظریں جمائے اسے دیکھ رہا تھا۔

“موٹی کھوپڑی! کھڑے رہنے سے باتھ روم نہیں دھلے گا، جلدی سے باہر جا اور دھونے کا سامان لے کر آ!”
“ماں نے ذرا سلیقہ نہیں سکھایا، بس بٹھا کر ٹھونسنا سکھایا ہے، دوسروں پر روپ جھاڑنا سکھایا ہے!”
وہ طنز کرتے ہوئے بولا۔

“نایاب” نے بےبسی سے لب بھینچے۔
“پلیز! کچھ بھی کروا لیں مگر باتھ روم دھونا—”
وہ ہاتھوں کو مروڑتے ہوئے ایک طرح سے انکار کر رہی تھی۔

“یہاں کوئی فرمائشی پروگرام نہیں چل رہا!”
“ملازمین کو یہ حق نہیں ہوتا کہ صبح اٹھ کر بک بک کریں!”
“جا اور فوراً جا کر سامان لے کر آ!”
“زیغم” نے فوراً بات کاٹ دی۔
وہ غصے سے چنگاڑا تو “نایاب” ایک جھٹکے سے بھاگتی ہوئی باہر نکلی۔ اسے تو یہ تک معلوم نہیں تھا کہ باتھ روم دھونے کا سامان کہاں رکھا ہے، مگر باہر نکلتے ہی جو منظر دیکھا، وہ اس سے بھی زیادہ حیران کن تھا۔ “زیغم” اس کے پیچھے پیچھے آیا تھا، اور وہیں “شہرام” کے دروازے کے سامنے “قدسیہ” اور “توقیر” کھڑے تھے۔ دونوں کی حالت قابلِ دید تھی۔ وہ کمر پر ہاتھ رکھے کبھی اِدھر جاتے تو کبھی اُدھر، جیسے بےبسی میں کوئی راہ تلاش کر رہے ہوں۔ دونوں کی حالت کافی ٹائٹ لگ رہی تھی۔ سامنے سیڑھیوں پر “مائد” کھڑا تھا، ہاتھ میں پسٹل گھماتے ہوئے جیسے پہرہ دے رہا ہو۔ “زیغم” کے لبوں پر ایک مسکراہٹ ابھری، مگر فوراً ہی اس نے سنجیدگی اوڑھ لی۔ “مائد” نے واقعی اپنی ڈیوٹی خوب نبھائی تھی۔

“کیا ہوا؟ تھک گئے ہو دونوں؟”
“زیغم” کی سخت آواز پر “قدسیہ” اور “توقیر” نے سر اٹھایا۔

“ایک کام کرو، گھر کی صفائی شروع کر دو، ہڈیوں میں جان آ جائے گی!”
“قدسیہ” نے گھبرا کر اس کی جانب دیکھا۔ کمر کی درد سے بے حال “قدسیہ” کی تو جیسے سن کر ہی جان نکل گئی تھی۔

“زیغم” بیٹا، ہم دونوں سے صفائی نہیں ہوگی!”
“توقیر” نے غصے سے “زیغم” کو دیکھا، مگر “زیغم” کے چہرے پر سرد طنزیہ مسکراہٹ تھی۔

“مجھے بیٹا مت کہو، میں تمہارا بیٹا نہیں ہوں اور صفائی تو ہوگی!”
“جیسے ملازمین پر ظلم کرنا آتا ہے، ویسے ہی خود کام کر کے ان کے درد کو محسوس کرنا بھی سیکھو، “قدسیہ توقیر لغاری!”
“قدسیہ” اور “توقیر” کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں تھی۔

“تجھے شرم نہیں آتی اپنے سگے چچا سے تُو گھر کی صفائیاں کروائے گا؟”
“اور تیری ہمت کیسے ہوئی کہ میری بیوی کو کہے کہ وہ صفائی کرے؟”
“توقیر” غصے سے چلاتے ہوئے آگے بڑھا۔

“زیادہ تڑپنے کی ضرورت نہیں ہے!”
“شکر کرو، ابھی تو صرف گھر کی صفائی کرنے کو کہا ہے۔ وہ دن دور نہیں جب تم دونوں سے میں سڑک کی صفائی کرواؤں گا، سمجھے؟”
“زیغم” نے ہاتھ جیب میں ڈالے، لاتعلقی سے کہا، جیسے کوئی عام بات کر رہا ہو۔

“اور ویسے بھی، گھر کی صفائی کے لیے دو لوگ کافی ہیں، تو چچا سائیں، تمہارے لیے بھی ایک کام ہے—چلو، باہر جا کر گاڑیاں دھو۔”
وہ ہلکا سا مسکرایا، مگر اس مسکراہٹ میں سختی تھی۔

“میں تیرا چچا ہوں، یہ کام نہیں کروں گا!”
“توقیر” نے مٹھی بھینچ لی، آنکھوں میں آگ تھی۔

“چچا اور چچی جیسے رشتے مجھے مت سکھاؤ، تم لوگ ان کے قابل نہیں۔ میری بہن پر ظلم کرتے رہے، اس سے دن رات محنت کرواتے رہے، اور اب جب اپنی باری آئی ہے تو تکلیف ہو رہی ہے؟”
“زیغم” کے لہجے میں زہر گھل گیا تھا، اس کی آنکھوں میں تحقیر تھی۔

“اگر اپنے بیٹے کی زندگی چاہتے ہو، تو چلو!”
“نیچے جاؤ اور گاڑیاں دھونا شروع کرو۔”
“اور محترمہ، تم میرا واش روم صاف کرنے کے بعد اپنی ماں کے ساتھ پوری حویلی کی صفائی کرو، اچھے بچوں کی طرح!”
اس نے “نایاب” کی طرف دیکھا، جو سہم کر پیچھے ہٹ گئی تھی۔

“ورنہ ایسا نہ ہو کہ پیروں پر کھولتا ہوا پانی ڈال دوں!”
“زیغم” نے سرد لہجے میں دھمکی دی، جس سے “قدسیہ” اور “توقیر” کے چہروں پر خوف کے سائے مزید گہرے ہو گئے۔”سلمہ” پھپھو رات بھر نیند کی گولیاں لے کر گہری نیند میں تھیں۔ صبح جب باہر سے شور کی آوازیں سنائی دیں تو آہستہ آہستہ ہوش میں آئیں۔ کچھ دیر دروازے سے کان لگا کر سننے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ “زیغم” واپس آ چکا ہے اور “توقیر” اور “قدسیہ” پر برس رہا ہے۔ صورتِ حال کو بھانپتے ہوئے، “سلمہ” پھپھو نے جلدی سے خود کو سنبھالا اور دروازہ کھول کر باہر نکلیں۔ بازو پھیلا کر، محبت بھری نظروں سے “زیغم” کو دیکھتے ہوئے بانہیں پھیلا کر آگے بڑھتی چلی گئی۔

“میرو پُت، میرو پُت واپس آیو، میرو شہزادو واپس آیو!”
اور تیزی سے “زیغم” کی طرف بڑھ کر اسے گلے لگا لیا۔ “زیغم” کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا، جبکہ سیڑھیوں کی دوسری جانب کھڑا “مائد” یہ منظر دیکھ کر اس کی ڈرامے بازی پر مسکرا رہا تھا۔

“بس کریں پھپھو، اس سے زیادہ پیار مجھ سے برداشت نہیں ہوگا۔”
“زیغم” نے سخت لہجے میں کہتے ہوئے خود کو پیچھے کیا۔

“کیسی باتیں کر رہے ہو؟”
“میں نے تمہیں پال پوس کر اپنے ہاتھوں سے بڑا کیا ہے۔”
“سلمہ” پھوپو کا لہجہ شیرے کی طرح میٹھا تھا۔

“نہیں، مجھے میری اماں سائیں نے پال پوس کر بڑا کیا ہے۔”
“زیغم” نے سپاٹ لہجے میں طنز کیا۔ نظروں میں محبت نام کی کوئی چیز رہی تھی۔ صرف نفرت تھی اور بیزاری تھی۔

“ہاں، ہاں، تو میں بھی تو ساتھ ہی–––”
“سلمہ” پھپھو نے جلدی سے بات کو کور کیا تھا۔

“نہیں، آپ کبھی بھی ہمارے ساتھ نہیں تھیں!”
“آپ سب لوگ کبھی بھی ہمارے اپنے نہیں تھے اور یہ ڈرامے بازیاں مجھ پر نہیں چلیں گی۔ جانتی ہیں کیوں؟”
“کیونکہ میں آپ کا بھائی “سلطان” نہیں، جس کا دل سادہ تھا، جو سب پر یقین کر لیتا تھا، جسے اپنوں اور پرائیوں میں فرق نظر نہیں آتا تھا۔ پتہ ہے وہ کیوں مات کھا گئے؟”
“کیونکہ وہ صاف دل نیک انسان تھے۔”
“اُنہیں کھرے اور کھوٹے کی پہچان نہیں تھی۔”
“ان کی نیک دلی، ان کی سچائی ان کو لے ڈوبی۔”
“وہ کبھی سمجھ ہی نہیں پائے کہ اپنوں کے بھیس میں یہاں سب غیر گھوم رہے ہیں، اس لیے میرے ساتھ تو اس طرح کی ڈرامے بازی کرنے کے بارے میں سوچیئے بھی گا مت۔”
“زیغم” کی باتیں اتنی کاٹ دار اور زہریلی تھی کہ “سلمہ” کی محبت کا پارہ فوراً سے پہلے اترتا چلا گیا اور وہ خاموش ہو گئی تھی۔

“چلیں جلدی کریں مجھے پوری حویلی چکا چک صاف ستھری چاہیے سب ملازمین کی چھٹی ہے اور اگر دیر ہوئی تو سوچ لینا کہ میں تم لوگوں کا انجام کیا کرتا ہوں!”
“کل پہلا روزہ ہے تو مجھے گھر چکا چک چاہیے!”
“زیغم” حکم دیتے ہوئے چٹکی بجا کر “نایاب” کو باتھ روم صاف کرنے کا سامان لانے کا بول کر روم میں چلا گیا تھا۔

“اللہ کی پناہ یہ تو کیا عذاب بن کر آیا ہے!”
اس کے جاتے ہی “سلمہ” منہ میں بڑبڑائی تھی۔

“کوشش کرنا کہ پھپھو جان یہ عذاب آپ پر نازل نہ ہو!”
“زیغم” نے جب اندر سے آواز دی تو “سلمہ” تو فوراً سے پہلے وہاں سے نو دو گیارہ ہو گئی۔”توقیر” کے پاس سوائے “زیغم” کی بات ماننے کے اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ وہ بے دلی سے باہر گاڑیاں دھونے جا رہا تھا جبکہ “قدسیہ” گھر کی صفائی کرتے ہوئے خون کے آنسو بہانے کو تیار تھی اور “نایاب” تو کہیں سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر واش روم کا سامان لے کر واش روم صاف کرنے جا چکی تھی۔ “زیغم سلطان” سب کے سروں پر قیامت بن کر چھایا ہوا تھا۔
°°°°°°°°
“نایاب”، جو ہمیشہ سے گھر کے کاموں سے دور رہی تھی، آج “زیغم” کے حکم پر واش روم صاف کرنے پر مجبور تھی۔ اس نے اپنے شلوار کے پائنچے اوپر کیے اور جھجکتے ہوئے فرش پر جھاڑو لگانے لگی۔ ہر لمحہ اس کے چہرے پر کراہت اور بے زاری نمایاں تھی۔

“جلدی کرو، “نایاب!” مجھے آج ہی فریش ہونا ہے!”
“زیغم” نے غصے سے کہا۔
“نایاب” نے جلدی سے صفائی جاری رکھی، لیکن پانی کی بالٹی اٹھاتے ہوئے اس کا توازن بگڑ گیا اور وہ تقریباً پھسل گئی۔ خود کو سنبھالتے ہوئے اس نے دل میں سوچا: “یا اللہ! یہ کس مصیبت میں پھنس گئی ہوں؟”

“احتیاط سے کام کرو! اگر کچھ ٹوٹا تو اس کی قیمت بھی تمہیں ہی چکانی پڑے گی!”
“زیغم” نے تنبیہ کی۔

“نایاب” سر ہلاتے ہوئے دوبارہ کام میں مصروف ہو گئی۔ دیواریں صاف کرتے ہوئے اس نے ناک سکیڑی اور کہا:
“اُفف! یہ کیسا بدبو ہے؟”

“زیغم” نے آنکھیں گھماتے ہوئے جواب دیا:
“یہ تمہاری اپنی سوچ ہے۔ کام پر دھیان دو اور شکایتیں بند کرو۔”
کچھ دیر بعد، “نایاب” نے فلش صاف کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کا ڈھکن بار بار بند ہو رہا تھا۔
“یہ فلش بھی میری دشمنی پر اتر آیا ہے!”
اس نے بڑبڑاتے ہوئے کہا۔

“زیغم” نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا:
“فلش نہیں، تمہاری قسمت تم سے ناراض ہے۔”

آخر کار، “نایاب” نے تھکی ہوئی آواز میں کہا:
“زیغم”، میں نے واش روم صاف کر دیا ہے۔ اب میں جا سکتی ہوں؟”
“زیغم” نے باتھ روم کا معائنہ کرتے ہوئے “نایاب” کی جانب دیکھا۔

“بالکل نہیں–––جلدی سے روم کی صفائی کرو اور اس کے بعد تمہیں باہر نکل کر باقی کام سمجھاتا ہوں۔”
“نایاب” کی حالت رو دینے والی ہو رہی تھی۔ صبح صبح اٹھ کر بیڈ کافی پینے والی “نایاب” کو کام کرنے پڑ رہے تھے۔

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

رازِ وفایہ صرف ایک کہانی نہیں، ایک فکری سفر ہےجہاں جاگیردار کے ظلم پر سے پردہ اٹھتا ہےاور انصاف اپنی پوری ذمہ داری کے ساتھ سامنے آتا ہے۔اگر یہ تحریر آپ کو سوچنے پر مجبور کرےتو آگے کے ابواب اسی احساس کا تسلسل ہیں۔

°°°

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *