Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:6
رازِ وفا
از قلم :حیات ارتضیٰ ✍️S.A
قسط نمبر 6
°°°°°°°°
رات کی خاموشی کمرے میں ایک پُرسکون سا احساس بھر رہی تھی۔ کمرہ چھوٹا مگر خوبصورت تھا، جہاں دو سنگل بیڈ کے بالکل سامنے رکھے ہوئے تھے۔ کھڑکیوں پر لگے پردے ہلکے ہلکے ہل رہے تھے، جن کی خوبصورت ڈیزائننگ کمرے کی سادگی میں ایک خاص دلکشی بھر رہی تھی۔ بیڈ پر بچھے ہوئے نرم، پھولوں والے بیڈ شیٹس ماحول کو مزید خوشگوار بنا رہے تھے۔ “فاریہ” اور “ملیحہ” اپنے اپنے بیڈز پر نیم دراز بیٹھی تھیں۔ دونوں نے بیڈ کے ہیڈ بورڈ سے سر ٹکایا ہوا تھا، جیسے دن بھر کی تھکن کے بعد سکون کا لمحہ تلاش کر رہی ہوں۔ “ملیحہ” کے چہرے پر ایک گہری سنجیدگی تھی، جبکہ “فاریہ” کی آنکھوں میں شرارت مچل رہی تھی۔ کمرے میں مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی، جو ان دونوں کے تاثرات کو اور بھی واضح کر رہی تھی۔ “فاریہ” کی اماں نماز ادا کرنے کے بعد اپنے روم میں جا چکی تھی۔ “ملیحہ” اور “فاریہ” ایک ہی روم میں سوتی تھی۔ جب دونوں گول گپے کھا کر اس حادثے کے بعد گھر لوٹی تو گھر آنے سے پہلے ہی “فاریہ” کا بابا آ چکا تھا اور ان کے سامنے اس حادثے کے بارے میں بات کرنا ان کو مناسب نہیں لگا تھا، اس لیے دونوں خاموش رہی تھی۔ ایک تو وہ اس حادثے کی وجہ سے گھر آتے ہوئے وہ سامان لانا بھول گئی تھی جو “فاریہ” کی اماں نے کہا تھا۔ “فاریہ” کو کچھ نہیں سوجھا تو جلدی سے بول دیا کہ “ملیحہ” کے پیٹ میں بہت درد ہو رہا تھا اس لیے ہم جلدی گھر واپس آ گئے۔ “ملیحہ” کو اتنا عجیب سا لگا تھا جب پیٹ درد کے بارے میں اس کے خالو کے سامنے ہی بتا دیا مگر شکر تھا کہ آج پہلی بار انہوں نے کوئی سوال نہیں کیا تھا۔ معمول کے مطابق سب کے بیچ بیٹھی رہی کھانا کھایا اور اس کے بعد رات ڈھلنے لگی تھی۔ عشاء کی نماز کے بعد وہ دونوں اپنے روم میں آگئی تھیں ان دونوں کو موقع ہی نہیں ملا تھا اس مدے پر بات کرنے کا۔ “ملیحہ” تو کافی پریشان لگ رہی تھی مگر “فاریہ” “ملیحہ” کی نسبت خوش مزاج اور چھوٹی چھوٹی چیزوں سے ٹینشن نہ لینے والے لڑکی تھی اس لیے اسے اس حادثے سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔
“ویسے یار، تمہیں اسے تھپڑ نہیں مارنا چاہیے تھا۔”
“فاریہ” نے ٹیڈی سی آنکھ کر کے “ملیحہ” کی جانب دیکھا۔
“تو کیا، اس کو پھولوں کا ہار پہناتی؟”
“بیچ بازار میں میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ جو حرکت اس نے کی ہے اس سے تو تین چار اور چپیٹے پڑنی چاہیے تھی۔ شکر کرو کہ سستے میں چھوٹ گیا!”
“ملیحہ” نے خفا نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“کیا ہوا یار، اگر اس نے تمہارا ہاتھ پکڑ لیا؟”
“تم نے دیکھا نہیں تھا، بندہ کتنا خوبصورت تھا اور بہت امیر بھی لگ رہا تھا۔ اس کی بڑی سی چمچماتی ہوئی گاڑی دیکھی تھی، تم نے کبھی سوچا ہے وہ کتنی مہنگی ہوگی؟”
“نہیں میں نے نہیں سوچا اور نہ ہی مجھے فضول میں کچھ سوچنے کی ضرورت ہے!”
“ملیحہ” نے دو ٹوک بات ختم کرنے والے انداز میں کہتے ہوئے منہ پر کمبل اوڑھ لیا کیونکہ اسے مزید اس مدے پر بات نہیں کرنی تھی۔
“کیا یار ہر وقت سڑی ہوئی رہتی ہو۔ کبھی کچھ اچھا بھی سوچ لیا کرو۔ کیا پتہ اسے تم پسند آ جاتی اور تمہارا لک ہی لگ جاتا!”
“فاریہ” نے جوش سے کہتے ہوئے اس کے منہ سے کمبل کھینچ کر اتار دیا تھا اور اٹھ کر اسی کے بیڈ پر آ بیٹھی تھی۔
“تم ایک کام کرنا، کل اسی گول گپوں کی ریڑھی پر جانا اور اس کا ویٹ کرنا۔ ہو سکتا ہے وہ آئے، اگر آئے تو اسے کہنا کہ وہ تمہارا ہاتھ پکڑ لے اور تم سے ہو سکے تو محبت بھی کر لے۔ تمہارا لک لگ جائے گا اور تم اس کی بڑی سی گاڑی میں پورا شہر گھومنا۔”
“پلیز میرے ساتھ ایسی باتیں کرنے کی کوشش بھی مت کرنا۔ مجھے نہ تو اس میں دلچسپی ہے نہ ہی اس کی گاڑی میں––––چھچھورا کہیں کا!”
“ملیحہ” نے زچ ہو کر کہتے ہوئے “فاریہ” کو گھورا۔
“حد ہے یار! کیا چھچھورا پن کیا ہے بیچارے نے؟”
“وہ تم سے بات کرنا چاہتا تھا اور تم ہیکڑی دکھا رہی تھی!”
“اب بندہ اتنا ڈیشنگ تھا، تو ہاتھ تو پکڑ سکتا تھا نا!”
“ہائے کتنا خوبصورت تھا یار۔۔۔”
وہ ٹھنڈی آہیں بھرتے ہوئے ٹھوڑی کے نیچے دونوں ہاتھ رکھے ہوئے اس کا عکس سوچ رہی تھی۔
“شرم کے ناخن لو، وہ سرِ عام میرا ہاتھ پکڑ رہا تھا اور تم ہو کہ اس کی تعریفوں کے پل باندھ رہی ہو۔ تم میں کوئی شرم حیا ہے یا نہیں؟”
“نہیں مجھ میں شرم و حیا نہیں ہے!”
“شرم و حیا کرتے کرتے ہم لوگوں نے کوئی بوڑھا تھوڑی ہونا ہے۔ آخر شادی تو کرنی ہے اور اگر قسم سے اماں اور ابا ہمارے لیے لڑکے ڈھونڈ کے لائے تو ساتھ والی “سمینہ” آنٹی کے بیٹوں کی شکل والے ہوں گے۔ ہمیں نہیں کرنی ان جیسے نمونوں سے شادی!”
“فاریہ” منہ کے زاویے بگاڑتی ہوئی بول رہی تھی۔
“ذرا سوچو، اگر کہیں اسے تم سے پیار ہوگیا ہو، اور وہ تم پر مر مٹا ہو، تو تمہاری تو لاٹری نکل آئے گی! واہ واہ واہ!”
“فاریہ” نے شوخی سے کہا اور خوشی کے مارے تکیے پر ہاتھ مارا۔
“کتنی اچھی بکواس کر لیتی ہو تم، “فاریہ!”
“ملیحہ” نے جھنجھلا کر کہا اور تکیہ سر کے نیچے سے نکالتے ہوئے زور سے اس کی طرف اچھالا۔
“مجھ سے اسے پیار ہو جائے گا؟ عشق ہو جائے گا؟”
“کیوں، پوری دنیا کی امیر لڑکیاں مر گئی ہیں، جو اسے مجھ سے عشق اور پیار ہوگا؟”
“میری پیاری بہن جھوٹے خواب سجانا بند کرو اور سو جاؤ!”
“صبح کالج بھی جانا ہے اور ٹائم سے کال سینٹر بھی پہنچنا ہے۔ پرسوں بھی ہم لوگ لیٹ ہو گئے تھے، ہماری تنخواہ کٹے گی اور اسی طرح روز روز تنخواہ کٹتی رہی، تو کالج کی فیس کیسے ادا کریں گے؟”
“ملیحہ” نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا اور کمبل سر تک تان لیا۔
“ذرا سوچو اگر وہ امیر لڑکا تمہیں پسند کر لیتا ہے تو تمہیں نہ تو کال سینٹر میں جا کر جاب کرنے کی ضرورت ہے، نہ ہی کالج کی فیس لینے کی ٹینشن ہے۔ تمہارے تو مزے ہی مزے ہو جائیں گے اگر تمہاری اس کے ساتھ شادی ہو جائے، تمہیں کتنا خوش رکھے گا اور کتنا خوبصورت ہے وہ یار تمہاری اس کی جوڑی بہت اچھی لگے گی!”
“فاریہ” نے تو ذہن میں ساری پلاننگ کر لی تھی۔
“فاریہ” پلیز خدا کے واسطے سو جاؤ اور مجھے بھی سونے دو اگر اس طرح کی بے تکی باتیں خالو نے سن لی تو خواہ مخواہ تماشہ ہو جائے گا!”
“بہت ہی کھڑوس ہو اللہ کرے سچ میں اسے تم سے پیار ہو جائے اور وہ میری پیاری بہنا کو یہاں سے لے جائے!”
وہ ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہی تھی۔
“ہاں اور جب اسے پیار ہو جائے تو اسے پھر میری حقیقت بھی بتانا کہ میرے گھر والے کہاں ہیں اور کیوں وہ مجھے اپنے پاس نہیں رکھتے وغیرہ وغیرہ……”
“ملیحہ” نے کمبل سے ہلکا سا چہرہ باہر نکال کر سرد نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا اور واپس منہ چھپا لیا۔
“جب بھی منہ کھولو گی برا ہی بولو گی۔ تم سے تو بات کرنی فضول ہے سو جاؤ!”
“فاریہ” غصے سے منہ بناتے ہوئے “ملیحہ” کے قریب سے اٹھی اور آ کر اپنے بیڈ پر لیٹ گئی تھی۔ “فاریہ” نے منہ پر کمبل اوڑھ لیا تھا۔ “ملیحہ” نے ترچھی نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا اور شکر کا کلمہ پڑھا کہ وہ سو گئی، ورنہ جاگتے ہوئے وہ اور بھی کئی سوال کرتی، جن کا جواب دینا مشکل ہو جاتا لیکن “ملیحہ” کی آنکھوں میں نیند کہاں تھی۔ اس کا دماغ مسلسل اسی لڑکے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ یہ ان کی پہلی ملاقات نہیں تھی۔ اس دن جب وہ اپنی عزت بچاتے ہوئے اس فارم ہاؤس سے بھاگی تھی، تب بھی وہی تھا جس نے بروقت پہنچ کر اس کی مدد کی تھی۔ اگر وہ راستے میں نہ ملتا، اگر اس نے لفٹ نہ دی ہوتی، تو شاید آج وہ اس عزت کے ساتھ یہاں نہ ہوتی، جو اس کے پاس تھی۔
“جو کچھ بھی تھا، اس لڑکے کا مجھ پر احسان تو تھا…”
وہ دل ہی دل میں سوچنے لگی۔
“کیا میں نے اس کے ساتھ یہ سب کر کے غلط کیا؟ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا…”
ایک پل کے لیے وہ خود کو غلط محسوس کرنے لگی، مگر فوراً ہی اس کے اندر کی آواز نے اسے جھنجھوڑا:
“نہیں! میں نے بالکل ٹھیک کیا۔ اگر اس نے میری مدد کی ہے، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بیچ بازار میں میرا ہاتھ پکڑے! اور پھر، کیا پتہ اس کی نیت کیا تھی؟”
وہ خود ہی اپنے خیالات سے الجھ رہی تھی، کبھی خود کو غلط ٹھہراتی، کبھی اپنے فیصلے پر مطمئن ہونے کی کوشش کرتی۔ آخرکار، ایک گہری سانس لی، اپنی سوچوں کو جھٹکنے کی کوشش کی، اور آہستہ آہستہ نیند کی وادی میں کھو گئی۔
°°°°°°°°°°
“عاشق صاحب، خدا کا واسطہ ہے کھانا کھا لو اور مجھے بھی کھانے دو!”
“تم خود تو مجنوں بن گئے ہو، مجھے بھی بھوکا پیاسا رکھنے کا ارادہ ہے؟”
“فیصل” نے زچ ہو کر “ذرام” کے کندھے پر ہاتھ مارا۔ وہ کھانے کی ٹیبل پر بیٹھا تھا، مگر کھانے کے بجائے کہیں اور ہی کھویا ہوا تھا، نظریں خلا میں تھیں، جیسے وہاں بھی اسے وہی چہرہ دکھائی دے رہا ہو۔
“صبح ہمیں اس کے کالج جانا ہے۔”
“ذرام” نے “فیصل” کی بات سنی ہی نہیں تھی، اپنے خیالات میں مگن وہ اپنے ہی فیصلے کا اعلان کر رہا تھا۔
“حد ہے یار! میں تم سے کھانے کا کہہ رہا ہوں اور تم ہو کہ جاسوسی کے پلانز بنا رہے ہو!”
“فیصل” نے بے یقینی سے اسے دیکھا، اسے تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ اس کا دوست واقعی اس حد تک پہنچ چکا ہے۔ اس کی قابلِ رحم حالت کو دیکھتے ہوئے، وہ بے بسی سے سر ہلا کر نوالہ توڑ کر منہ میں ڈال چکا تھا۔
“صبح مجھے اس سے ملنا ہے، تم اس کے کالج کا پتہ لگاؤ گے۔”
“ذرام” نے اس کا جواب سنے بغیر اپنا حکم پوری طرح سے “فیصل” پر صادر کر دیا تھا۔
“جی بالکل، صبح میں آپ کو اس کے کالج لے چلوں گا میرا تو کام ہے تمہارا حکم بجا لانا۔”
“ایکٹنگ بعد میں کر لینا۔”
“ذرام” اس کی ایکٹنگ سے چڑھتے ہوئے کہا۔
“ویسے ایک بات بتاؤ۔۔۔تمہیں کیسے پتہ چلا کہ وہ کالج میں پڑھتی ہے؟”
“فیصل” نے نوالہ چباتے ہوئے الجھن سے پوچھا، اس بار سنجیدگی سے، کیونکہ اسے اندازہ تھا کہ “ذرام” اس لیے لڑکی کے معاملے میں کافی سیریس ہو چکا تھا۔
“جب وہ میری گاڑی سے ٹکرائی تھی، تب اس نے کالج کا یونیفارم پہنا ہوا تھا۔ میں نے جلدی میں دھیان نہیں دیا، لیکن اس کی شرٹ پر شاید ‘جناح کالج’ لکھا تھا۔”
“ذرام” نے کرسی سے ہلکا سا ٹیک لگائی۔ جیسے یادوں میں اس کے یونیفارم پر لکھے ہوئے نام کو یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ آنکھوں میں وہی لمحہ گھوم گیا جب وہ لڑکی اچانک سامنے آئی تھی۔ “اللہ خیر کرے پہلی نظر میں ہی تمہیں مجنوں بنا دیا ہے آگے پتہ نہیں کیا ہوگا!” “فیصل” نے معنی خیز نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے دل میں سوچا۔ “فیصل” نے ہنستے ہوئے نوالہ توڑا، اسے “ذرام” کی حالت پر ہنسی بھی آ رہی تھی اور ہلکی سی ہمدردی بھی ہو رہی تھی۔ “یہ بندہ واقعی محبت کے دریا میں ڈوب چکا ہے۔ اب تو یہ اپنی محبوبہ کو ڈھونڈ کر لانے کے بعد ہی دم لے گا۔” وہ دماغ میں سوچتے ہوئے نفی میں سر ہلاتے کھانے میں سپیڈ پکڑ چکا تھا کیونکہ اسے تو سچ میں بہت بھوک لگی تھی۔ بھوک تو “ذرام” کو بھی لگی ہوئی تھی کیونکہ اس نے بھی تو اس کے ساتھ ہی کھانا کھایا تھا مگر اس وقت وہ عشق میں مبتلا تھا تو عشق میں لوگوں کی بھوک پیاس سب مٹ جاتی ہے اس حقیقت کو آج “فیصل” نے تسلیم کر لیا تھا۔ وہ خود کھانا کھاتے ہوئے وقفے وقفے سے “ذرام” کو بھی یاد کروا رہا تھا کہ کھانا کھانا ضروری ہے کیونکہ “ذرام” تو بار بار کہیں کھو جاتا تھا۔
°°°°°°°°°°
“زیغم” تمہیں کیا لگتا ہے؟ اس طرح کرکے تم مجھے خود سے دور کر پاؤ گے؟”
“نایاب” اس بستر پر بےتابی سے ہاتھ پھیر رہی تھی، جہاں کچھ دیر پہلے “زیغم سلطان” لیٹا ہوا تھا۔ تکیے پر سر رکھتے ہی جیسے اس کی خوشبو سانسوں میں گھلنے لگی۔
“نہیں “زیغم!” تمہارے لیے ہر درد منظور ہے، سب کچھ سہہ لوں گی، بس تمہیں پانا ہے۔ تم میرے بچپن سے جوانی تک کا وہ خواب ہو، جسے ہر پل میری آنکھوں نے دیکھا ہے۔”
اس کی آواز میں ضد، جنون اور التجا تھی۔
“تمہیں پانے کی چاہت نے مجھ میں صحیح اور غلط کی تمیز ختم کروا دی اور جو کچھ میں نے “دانیہ” کے ساتھ کیا، وہ اسی غصے میں کیا کیونکہ تم کہہ کر گئے تھے کہ تم کبھی لوٹ کر نہیں آؤ گے…… لیکن اب جب تم واپس آ گئے ہو، تو میں “نایاب زیغم سلطان لغاری” کچھ بھی کر جاؤں گی، صرف تمہیں حاصل کرنے کے لیے!”
“نایاب” نے مسکراتے ہوئے “زیغم” کا سرنیم اپنے ساتھ لگایا، جیسے یہ نام اس کی پہچان، اس کی ضد اور اس کا جنون بن چکا تھا۔ وہ نجانے کتنی دیر دیوانگی کے عالم میں اسی بستر پر بے ترتیب پڑی رہی جہاں سے “زیغم” اٹھ کر گیا تھا۔ وقت کا احساس جیسے مٹ چکا تھا۔ ہوش تب آیا جب دروازہ زور سے کھلا اور “زیغم” واش روم سے نکلا۔ اس کے ہاتھ میں ٹاول تھا، جس سے وہ اپنے بھیگے بال رگڑ رہا تھا۔ “نایاب” پر نظر پڑتے ہی اس کے چہرے پر ناگواری چھا گئی۔
“تم نے ابھی تک روم صاف نہیں کیا؟”
وہ غصے سے چنگھاڑا۔
ٹاول بیڈ پر پھینکا اور آگے بڑھا۔ اس کے قدموں کی چاپ کمرے کی خاموشی چیرتی جا رہی تھی، جبکہ “نایاب” کی مٹھیوں میں بے بسی سے چادر بھینچتی جا رہی تھی۔ “زیغم” تیزی سے “نایاب” کی جانب آرہا تھا۔ اسے دیکھتے ہی “نایاب” کو جیسے بجلی کا جھٹکا لگ گیا تھا۔ جھٹکے سے بستر سے اٹھی، نظریں جھکائے جلدی سے چادر درست کرنے لگی۔
“ابھی کرتی ہوں…… سوری…… سوری……”
اس کی آواز میں گھبراہٹ تھی اور گھبراہٹ کے مارے اس کے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔
“یہ نمک حرامیاں نہیں چلیں گی، کام، کام اور بس کام چاہیے مجھے!”
“زیغم” سختی سے بولتے ہوئے بیڈ کے قریب آ رکا تھا۔ اس کی آواز میں سرد مہری اور غصہ واضح تھا۔
“یہ جو خیالی دنیا میں کھوئی ہوئی ہو، اس سے باہر نکلو “نایاب توقیر!”
اس نے تمسخر سے کہا۔”نایاب” کی عاشقانہ سی حالت کو وہ اچھی طرح سے سمجھ رہا تھا۔”زیغم” کے لیے اس کی حالت فضول خواب سے زیادہ کچھ نہیں تھی۔
“جو خواب تم سجا رہی ہو، وہ کبھی پورے نہیں ہو سکتے۔ اپنی اوقات اور حیثیت کے مطابق خواب سجاؤ۔ میں نہ تو کل تمہارے خوابوں کی حقیقت بن سکتا تھا اور نہ ہی آج اور نہ ہی آنے والا کل!”
اس کا لہجہ حد سے زیادہ کٹیلا، کرخت تھا۔ “نایاب” کی آنکھوں میں ایک پل کو مایوسی اتری، مگر اس نے جلدی سے خود کو سنبھالتے ہوئے سر جھکا لیا۔ اس کا انداز صاف بتا رہا تھا کہ “زیغم” کی باتوں کا اس پر کوئی اثر نہیں ہو رہا اور یہ چیز “زیغم” کو زہر لگ رہی تھی۔
“اور اگر تم نے پھر بھی خواب دیکھنے کی جرات کی، تو یاد رکھنا، میں تمہاری آنکھوں سے وہ خواب نوچ لوں گا!”
“اتنے بے رحمی سے خواب کھینچوں گا دھیان رکھنا کہ کہیں آنکھوں کی پتلیاں بھی باہر نہ آ جائیں!”
اس کی آواز اتنی سرد تھی کہ “نایاب” کو لگا، جیسے پورے کمرے کا درجہ حرارت یکدم گر گیا ہو۔”نایاب” کا دل کسی انجانے خوف سے لرزا۔ وہ چادر ٹھیک کرنے کے بہانے سر مزید جھکاتے ہوئے خاموش ہو گئی، مگر “زیغم” کی نظریں اس کے جھکے وجود کو حقارت سے دیکھ رہی تھیں۔”زیغم” آخری بار غصے سے “نایاب” کو گھورتے ہوئے دروازہ کھول کر باہر نکل آیا۔ اس کے لیے اس عورت کے ساتھ ایک کمرے میں مزید کھڑا رہنا ممکن نہ تھا۔ وہ ہمیشہ سے اس سے گھٹن محسوس کرتا آیا تھا، اور آج سالوں بعد بھی وہی احساس برقرار تھا۔”نایاب” کی بے باکی اسے کبھی پسند نہیں آئی تھی۔ وہ قدموں کی سختی کے ساتھ سیدھا “مائد” کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
°°°°°°°°
“مائد” ابھی روم میں آیا ہی تھا۔ وہ پوری رات جاگتا رہا تھا کیونکہ وہ یہاں صرف “زیغم” کی حفاظت کے لیے آیا تھا۔ سونا تو دور کی بات تھی۔ اب جب “زیغم” جاگ چکا تھا، تو “مائد” نے بھی بس تکئے پر سر رکھ کر کمر سیدھی کرنے کی کوشش کی، مگر نیند کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اتنے میں “زیغم” طوفان کی طرح روم میں داخل ہوا اور زور سے دروازہ بند کر دیا۔
“اللہ خیر کرے، کیا ہوا؟”
“مائد” چونک کر اٹھ بیٹھا۔
اس کے سینے پر اب بھی پسٹل رکھا تھا، مطلب وہ ہر وقت اپنے یار کی حفاظت کے لیے تیار تھا۔
“کیا ہونا ہے! اس منحوس عورت کو میں برداشت نہیں کر سکتا۔ اسے اپنی بےعزتی محسوس ہی نہیں ہوتی۔ اس کو ذلیل کیے جا رہا ہوں مگر اسے احساس ہی نہیں ہوتا۔ کس مٹی کی بنی ہوئی ہے؟”
“زیغم” صوفے پر دھڑام سے بیٹھتے ہوئے غصے کی شدت سے لال ہو رہا تھا۔
“کس کی بات کر رہے ہو؟”
“کس کی کروں گا؟”
“نایاب” کی! میں اس کے ساتھ ایک روم میں نہیں رہ سکتا۔ کل سے میں تمہارے ساتھ اسی روم میں سوؤں گا!”
“ماشاءاللہ! میرے ساتھ کیوں؟”
“بیوی ہے تمہاری، اسی کے ساتھ سونا۔”
“مائد” نے شرارت سے کہا کیونکہ اس وقت “زیغم” بہت زیادہ غصے میں تھا اور اس کا موڈ لائٹ کیسے کرنا ہے یہ “مائد خان” سے زیادہ اچھا کون جان سکتا تھا۔
“مائد!” میں تمہارے سر پر کوئی چیز دے ماروں گا اگر غیر ضروری بکواس کی تو!”
“زیغم” نے چڑ کر گھورتے ہوئے کہا۔ غصے کی شدت سے وہ مسلسل اپنی ٹانگ کو ہلا رہا تھا۔
“نہیں، میرا مطلب تھا کہ یار، اس کے ساتھ رہ کر اسے تھوڑی سی اذیت تو دو، آخر بیوی ہے تمہاری!”
“مائد” نے فری مشورہ دیا، حالانکہ اسے بھی “نایاب” زہر لگتی تھی۔
“نہ وہ میری بیوی ہے، نہ میں اسے اپنی بیوی مانتا ہوں!”
“تم ہر چیز جانتے ہو، اور اگر فضول مشورہ دیا تو ابھی کے ابھی تمہیں گاڑی میں لوڈ کروا کر گھر بھیج دوں گا، سمجھے؟”
“اچھا اچھا، اتنا غصہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایک تو تمہارا بی پی بات بات پر شوٹ کر جاتا ہے۔ پتہ نہیں کیا سلاجیت کھاتے ہو۔ ریلیکس ہو جاؤ، میرے ساتھ ہی سونا۔ دونوں دوست بانہوں میں بانہیں ڈال کر سوئیں گے، خوش!”
“نہیں مجھے تمہارے ساتھ جھپیاں ڈالنے کا کوئی شوق نہیں!”
“زیغم’ نے ناک چڑھائی۔
“چلو، مجھے تو ہے نا!”
“مائد” نے شرارت سے آنکھ دبائی۔
“شرم کر!”
“زیغم” کی ہنسی چھوٹ گئی تھی۔
“شرم کی کیا بات ہے؟”
“مائد” نے شریر مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
“ظاہر سی بات ہے، اگر تمہیں اپنی بیوی کے ساتھ نہیں سونا، اور میرے ساتھ سوؤ گے، تو میں کچھ نہ کچھ تو تمہارا فائدہ اٹھاؤں گا نا!”
“شرم کرو! کتنی بےہودہ باتیں کر رہے ہو!”
“زیغم” نے خفگی سے گھورا۔
“فائدہ اٹھاؤں گا! اب تمہیں شادی کر لینی چاہیے، مجھے لگتا ہے تمہیں اس کی سخت ضرورت ہے!”
وہ “مائد” کی بے تکی باتوں پر اپنی ہنسی روک نہیں پایا تھا۔
“نہیں، شادی کا تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ تمہاری شادی ہوئی ہے، کوئی فائدہ ملا؟ نہیں نا؟”
“تو ظاہر ہے، مجھے بھی شادی نہیں کرنی چاہیے، فائدہ تو مجھے بھی نہیں ملے گا!”
“مائد” نے کندھے اچکائے۔
“منہ بند کرو! تمہاری ماں نے کتنے سپنے سجائے تمہاری شادی کے لیے، اور کیسی ہے ہماری ہونے والی بھابھی؟”
“کتنے سالوں سے تم نے منگنی کر رکھی ہے، شادی بھی کرو۔ اب تو میں بھی واپس آ گیا ہوں، خوب ہلا گلا ہوگا!”
یہ سنتے ہی “مائد” کی ہنسی غائب ہو گئی تھی۔ ایک پل کے لیے اس کے چہرے کے تاثرات بدلے، جیسے کسی ناپسندیدہ حقیقت نے اسے گھیر لیا ہو۔
“ناشتہ بنواؤ، بھوک لگی ہے!”
“مائد” نے فوراً بات بدل دی۔ شاید وہ اس موضوع پر بات ہی نہیں کرنا چاہتا تھا۔
“خیریت ہے؟ شادی کیوں نہیں کرنی؟”
“زیغم” نے “مائد” کے بدلے ہوئے تاثرات کو دیکھتے ہوئے تجسس سے سوال کیا۔
“ناشتہ مل سکتا ہے؟”
“مائد” نے بات بدلنے کی کوشش کی۔
“میں ناشتے کا بولتا ہوں، مگر پہلے سوال کا جواب تو دو۔”
“زیغم” کی نظریں اس پر جمی تھیں۔
“مجھے کسی سوال کا جواب نہیں دینا، مجھے ناشتہ دو!”
“مائد” نے سنجیدگی سے کہا۔
“میں جلدی ناشتہ کرنے کا عادی ہوں، تو بہتر ہے کہ مجھے بھوکا مت رکھو۔”
“یا پھر سیدھا بتا دو کہ نہیں کروانا ہے۔میں حویلی جا کر ناشتہ کر لیتا ہوں!”
“مائد” نے دھمکی دی۔
“حد ہے یار، جذباتی ہو گئے ہو!”
“زیغم” نے گہرا سانس لیا۔
“ٹھیک ہے، ناشتہ بنوا رہا ہوں، حویلی جانے کی بات کہاں سے آ گئی؟”
“زیغم” روم میں لگے انٹرکام سے ناشتہ آرڈر کرنے لگا، مگر اس کا ذہن اب بھی “مائد” کے بدلے ہوئے انداز پر الجھا ہوا تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ اس کے دماغ میں کیا چل رہا ہے، مگر “مائد” بات گھمانے میں ماہر تھا۔
“جلدی سے ناشتہ لگاؤ!”
“زیغم” نے انٹرکام پر کہا اور واپس صوفے پر بیٹھ گیا۔
“مائد” کو اندازہ ہو گیا تھا کہ “زیغم” ایک بار پھر سوال کرنے کے موڈ میں ہے، اسی لیے وہ جلدی سے پسٹل بیڈ پر رکھتے ہوئے خود کو واش روم میں بند کر گیا۔”زیغم” نے صوفے سے ٹیک لگاتے ہوئے گہری سانس لی اور خود سے بولا:
“مائد خان دورانی!” ایسا نہیں چلے گا۔ اگر تمہیں میری ہر بات پتہ ہے، تو مجھے بھی حق ہے جاننے کا کہ تمہارے دماغ میں کیا چل رہا ہے!”
°°°°°°°°°
“دانیہ” بے چین رات گزارنے کے بعد کب سے کھڑکی کے سامنے کھڑی تھی۔ باہر وسیع لان میں چلتے فوارے کا منظر بے حد حسین تھا، مگر اتنی خوبصورتی بھی اس کے اندر کی ویرانی کم نہ کر سکی تھی۔ کمرے کا دروازہ کھٹکا، اور چند لمحوں بعد “مائد” کی اماں اندر داخل ہوئیں۔ چہرے پر نور اور مسکراہٹ لیے وہ اسے محبت سے دیکھنے لگیں۔
“میری بیٹی اٹھ گئی؟”
“جی، السلام علیکم! میں اٹھ گئی ہوں۔”
“دانیہ” نے نرمی سے جواب دیا۔
“وعلیکم السلام! ماشاءاللہ! تو پھر آؤ، ناشتہ کر لیتے ہیں۔”
“جی، آتی ہوں۔”
“چلو میرے ساتھ ہی چلو۔ تمہارا بھائی “درخزائی” کب سے تمہارا انتظار کر رہا ہے۔ میں نے اسے بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ دنوں کے لیے ہمیں ایک خوبصورت مہمان عطا کی ہے، تو وہ بے چین ہو گیا۔ آج اس نے اسکول سے چھٹی بھی لی ہے، بس تم سے ملنے کے لیے۔”
“مائد” کی مورے اتنی محبت اور اپنایت سے بول رہی تھی تو “دانیہ” اپنے ویران دل کی ویرانی کو کچھ دیر کے لیے ختم کرتے ہوئے اس ماں کا دل رکھنے کے لیے ساتھ چل پڑی تھی۔
“دانیہ” مسکرا دی۔
“جی، چلیں۔”
“چلو!”
وہ خوشی سے “دانیہ” کے ساتھ چلتے ہوئے اپنی بڑی سی حویلی کے شاندار ٹیبل پر پہنچی تھی۔”دانیہ” جیسے ہی “مائد” کی مورے کے ساتھ ٹیبل کے قریب پہنچی، سامنے ایک خوش شکل، پندرہ سولہ سالہ لڑکا بیٹھا تھا۔ اس نے “دانیہ” کو دیکھتے ہی مسکرا کر اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے خوش دلی سے ہاتھ آگے بڑھایا۔
“السلام علیکم! مائی سیلف، “درخزائی خان دورانی۔”
اس کی آنکھوں میں بے ساختہ چمک تھی، لہجے میں اپنائیت۔
“دانیہ” عام طور پر کسی سے اتنی جلدی گھلتی ملتی نہیں تھی، نہ ہی کسی کے ساتھ ہاتھ ملانے کی عادی تھی مگر پتہ نہیں کیوں، اس بچے کی معصوم مسکراہٹ اور خوش اخلاقی دیکھ کر بے اختیار اس کا ہاتھ خودبخود اٹھ گیا۔
“مائی سیلف، “دانیہ سلطان لغاری۔”
وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بولی۔
“اوہ مائی گاڈ! یہ آپ کے ہاتھوں کو کیا ہوا؟”
“درخزائی” کی نظروں نے فوراً “دانیہ” کے ہاتھوں پر لپٹی پٹیوں کو دیکھا۔ چہرے پر پڑے بے تحاشہ نشان، آنکھوں کے نیچے گہرے ہلکے۔ سب کچھ دیکھ کر اس کا دل بے چین ہو گیا۔ وہ واقعی پریشان ہو گیا تھا۔بس اس کے اتنا کہنے کی دیر تھی کہ “دانیہ” کا کانفیڈنس لیول زمین بوس ہونے لگا۔ وہ جواب دیے بغیر فوراً پلٹی اور تیزی سے بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر لیا۔
“کتنی غلط بات ہے، “درخزائی!” تمہیں کیا ضرورت تھی اس سے یہ پوچھنے کی؟”
“اب بچی کو اور پریشان کر دیا تم نے۔ ایسے سوال نہیں کرتے، بیٹا۔”
مورے نے فکرمندی سے کہا۔
“درخزائی” نے معصومیت سے مورے کی طرف دیکھا۔
“مورے، میں نے کیا کوئی غلط سوال کر دیا؟”
“میں نے تو بس اتنا ہی پوچھا تھا کہ انہیں چوٹ کیسے لگی۔ اگر میں نے کچھ غلط کہا ہے تو میں ان سے معافی مانگ لیتا ہوں۔”
مورے نے گہری سانس لی اور نرمی سے کہا:
“نہیں، ابھی چپ ہو جاؤ۔ اسے کچھ دیر اکیلا رہنے دو۔ وہ بچی پہلے ہی بہت پریشان ہے۔”
“درخزائی” کا چہرہ اداسی میں گھِر گیا۔
“سوری مورے، مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنی پریشان ہو جائیں گی۔ میں نے بہت غلط کر دیا نا، ان کا دل دکھا کر؟”
مورے نے اس کے سر پر پیار بھرا ہاتھ رکھا۔
“نہیں، کوئی بات نہیں، بیٹا۔ ناشتہ کرو، اللہ سب بہتر کرے گا۔”
°°°°°°°°°
“دانیہ” کمرے میں آتے ہی دروازہ بند کر کے دیوار سے ٹیک لگا گئی۔ سانس بے ترتیب ہو رہی تھی، آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔
“مجھے کیوں نشانِ عبرت بنا دیا؟”
“کیوں مجھے ہر جگہ سوالوں کا جواب دینا پڑتا ہے؟”
وہ زیرِ لب بڑبڑائی۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔ چہرے پر پڑے نشان، آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے…… ہر چیز اسے خود پر ترس کھانے پر مجبور کر رہی تھی۔
“کیوں تم نے میری یہ حالت کر دی؟”
“ہر جگہ میرا مذاق بنایا! کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا!”
اس کی آواز کانپ گئی۔ غصے اور بے بسی میں وہ دونوں مٹھیوں کو بھینچ گئی۔
“خدا تمہیں غرق کرے!”
وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی، جیسے دل کا سارا بوجھ آنسوؤں میں بہا دینا چاہتی ہو۔
وہ درد کے دریچے کھول بیٹھی، سمندر جیسا بوجھل دل لیے دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر نیچے بیٹھتی چلی گئی۔ یادوں کے ہر دریچے میں صرف زخم ہی زخم تھے، اتنے گہرے کہ جیسے صرف جسم پر نہیں، روح پر بھی ثبت ہو چکے ہوں۔
“کیسے بتاؤں کہ یہ زخم صرف میرے جسم پر نہیں، میری روح پر بھی لگے ہیں……”
وہ خود سے کہتی، سوچتی چلی گئی۔ اس کے وجود پر وہ نشان تھے، جنہیں دیکھنے کی بھی ہمت نہ تھی۔ اسے خود سے نفرت تھی، خود سے گھن آتی تھی۔ یہ ایسا راز تھا جو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا۔”شہرام” نے اسے ایسے زخموں سے نوازا تھا، جو کبھی بھر نہیں سکتے تھے۔ یہ وہ راز تھا، جو وہ اپنے بھائی سے بھی نہیں کہہ سکتی تھی۔ کوئی بھی تو نہیں تھا ایسا، جس کے سامنے وہ اپنے دل کے زخم پوری طرح دکھا پاتی۔ بہن بھائی کے رشتے میں کچھ پردے، کچھ لحاظ ہوتے ہیں۔ سب کچھ نہیں کہہ سکتے، کچھ درد کہنے کے باوجود بھی باقی رہ جاتے ہیں۔ یہی چیزیں تھیں، جو اسے اندر ہی اندر سسکنے پر مجبور کر رہی تھیں۔ اس کی خوبصورتی، اس کا حسن…… “شہرام” نامی درندہ نوچ چکا تھا! اس کا سوچنا تھا کہ جیسے سانسیں رکنے لگیں، وہ بے بسی سے گھٹنے میں سر دے کر تڑپنے لگی۔ سسکیاں ہوا میں تحلیل ہوئیں، اور کمرے میں اذیت زدہ ماحول پھیل گیا۔
°°°°°°°°°
“توقیر لغاری”، جو کبھی بڑے بڑے جلسوں کی شان تھا، سیاست کی دنیا میں اس کا بول بالا تھا، جرگوں میں سب سے آگے بیٹھ کر فیصلے کرتا، اور لوگوں پر حکم چلاتا تھا۔پورا گاؤں اس کی سفاکی کی وجہ سے اس سے ڈرتا تھا، آج “توقیر لغاری” اپنی حیثیت کھو چکا تھا۔ وہ جو دوسروں سے مشقت لیتا تھا، آج خود ہاتھ میں کپڑا لیے گاڑیوں کے بیچ میں ملازم بنا کھڑا تھا۔ سامنے قطار میں سجی قیمتی گاڑیاں چمک رہی تھیں، مگر ان میں ایک ایسی بھی تھی جس پر “توقیر” کی قسمت کی طرح میل جمی ہوئی تھی، اور وہ بار بار اسے رگڑنے کے باوجود چمکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ ادھر “دانیہ” کے ملازمین گاڑیاں “توقیر” سے دھلوا کر مزے سے گرم گرم چائے پی رہے تھے اور “توقیر” کو یوں جھکتے دیکھ کر دبی دبی ہنسی ہنس رہے تھے، جیسے کسی پرانے مغرور شیر کو پنجرے میں تماشا بنتے دیکھ رہے ہوں۔ “زیغم” کے ملازمین یہ سب کچھ “زیغم” کے کہنے پر ہی کر رہے تھے اس لیے انہیں کسی طرح کا کوئی ڈر نہیں تھا “زیغم” صرف ایک نام نہیں تھا۔ وہ ایک نڈر شیر تھا، جس کے آنے سے پوری کایا پلٹ چکی تھی۔
“ہنسی بند کرو، تم سب کے سب!”
“توقیر” نے غصے سے جھاڑنے کی کوشش کی، مگر پانی کے چھینٹے ایسے منہ پر پڑے کہ وہ خود ہی کھانستا رہ گیا، اور ملازمین نے قہقہے لگا دیے۔
“تھوڑا زور لگا لو، “توقیر” سائیں، ایسے تو چمکنے میں رات ہو جائے گی!”
ایک نے طنز کیا تو دوسرا ہنسا۔
“جلدی کر لیں ورنہ چھوٹے سائیں آگئے تو آپ کی خیر نہیں۔”
“ویسے ہم اُن کو چھوٹے سائیں کیوں بول رہے ہیں اصل میں تو بڑے سائیں وہی ہیں……آخر بڑے سائیں “سلطان لغاری” کے اصل وارث تو وہ ہیں اور یہ ساری جائیداد تو انہی کی ہے تو اس حساب سے وہ تو بڑے سائیں ہوئے نا……”
ایک ملازم دوسرے ملازم کو دلیل دیتے ہوئے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے توقیر لغاری کی ذات پر ہنس رہا ہو۔ “توقیر” کی آنکھوں میں خون اتر آیا، کپڑا مروڑ کر ہاتھ میں بھینچا، مگر پھر “زیغم” کی دھمکی یاد آئی—
“جب تک سارا کام مکمل نہیں ہوگا، تمہارا بیٹا درد سے تڑپتا رہے گا مگر اس کو دوا نہیں ملے گی!”
اس نے جھٹکے سے گاڑی پر کپڑا مارا، جیسے گاڑی نہیں، “زیغم” کا چہرہ سامنے ہو۔ اندر غصے کی آگ دہک رہی تھی، مگر یہ آگ جتنی بھی بھڑکتی، “زیغم” کے فیصلے کے سامنے راکھ ہونے کے سوا کچھ نہ کر سکتی۔
“بس ایک بار……… ایک بار میرا رابطہ ہو جائے میرے بندوں سے، پھر میں دیکھوں گا، “زیغم!” تمہاری ایک ایک دی ہوئی تکلیف کا حساب لوں گا!”
وہ غصے سے بڑبڑایا، مگر اگلے لمحے اس کے ہاتھ سے صابن بھری پانی کی بالٹی چھلک گئی اور سارا گندا پانی اس کے ہی جوتوں پر گر گیا۔
“افف! یہ دن بھی دیکھنے تھے!”
“توقیر” نے دانت پیسے، اور پیچھے کھڑے ملازمین کا قہقہہ گونج اٹھا۔
“سائیں دھیان سے کہیں خود بھی دھل نہ جانا!”
ایک اور طنز اچھالا گیا تھا۔
“توقیر” نے خون کے گھونٹ پی کر رہ چپ رہنا ہی بہتر سمجھا۔ تیز طرار سیاست دان تھا اسے اچھی طرح پتہ تھا کہ ایسے وقت میں بولنا اس کے لیے بہت نقصان دہ ہو سکتا ہے اس لیے خون کے گھونٹ پیتے ہوئے صحیح وقت کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو چیخ و پکار کرتا مگر وہ چلاک اور شیطانی فطرت کا مالک تھا اس لیے صحیح وقت کے لیے خاموش ہو کر بیٹھ گیا تھا۔
°°°°°°°°
“قدسیہ” بیگم، جو ہمیشہ نوکروں پر رعب جماتی، ذرا سی بات پر طمانچہ جڑ دینا یا ملازمہ کو دھکا دینا اس کے لیے معمولی سی بات تھی، آج خود جھاڑو پکڑے زمین پر رگڑ رہی تھی۔ کبھی ہاتھ میں جھاڑو آتا تو کبھی کپڑا، اور کبھی خود ہی صفائی کرتے کرتے۔لڑکھڑا کر زمین پر جا لگتی۔ دوسری طرف “نایاب”، جو خود کو ہمیشہ حویلی کی مالک سمجھتی تھی، آج اپنی ماں کے ساتھ وہی کام کر رہی تھی جسے کرنے پر وہ دوسروں کو حقیر سمجھتی تھی۔ یہ سب “زیغم” کے حکم کا کمال تھا۔ رمضان کی آمد تھی اور “زیغم” نے سختی سے کہا تھا کہ “پورے حویلی کو چکا چک کر دیا جائے!” اور نگرانی “سلمہ” پھوپھو کو سونپ دی گئی تھی، جو ہمیشہ باتوں کی عقل مند بنی رہتی تھیں، مگر آج تو جیسے پوری فوج کی کمانڈر بن چکی تھیں!
“جلدی کرو! چمک نظر آنی چاہیے!”
“سلمہ” پھوپھو نے ہاتھ میں لکڑی پکڑ کر زمین پر ماری، تو “قدسیہ” گھبرا کر مزید تیزی سے ہاتھ چلانے لگی۔
“ارے اماں! یہ سب تمہاری وجہ سے ہو رہا ہے!”
“نایاب” نے غصے میں صفائی کرتے ہوئے ماں کو گھورا۔
“میری وجہ سے؟”
“اگر تُو چپ کر کے اپنی شادی نبھا لیتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا!”
“تمہیں ہی تو عشق کے دورے پڑ رہے تھے۔”
“قدسیہ” نے ہانپتے ہوئے صفائی جاری رکھتے۔ اپنی لاڈلی بیٹی کو طعنہ مارا تھا۔
“اللہ کی قسم تم جیسی ماں خدا کسی کو نہ دے۔ جب بھی منہ کھولتی ہو کڑوائی بولتی ہو!”
“نایاب” نے آگ بگولا ہوتے ہوئے کہا۔
“میں تو جا رہی ہوں، جو کرنا ہے تم کرو!”
“نایاب” نے جھاڑو پھینکنے کی کوشش کی، مگر “سلمہ” پھوپھو نے تیوری چڑھائی۔
“اگر یہ جھاڑو دوبارہ پھینکے کی کوشش بھی کی تو اگلے ہی پل تجھے اسی پر بٹھا کر اڑاؤں گی!”
“اگر تمیز کی زبان سمجھ میں آرہی ہے تو چپ چاپ کام کرو لڑکی ورنہ ابھی کے ابھی “زیغم” کو بلواؤں گی اور پھر وہ تم لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گا یہ تو تم لوگ اچھی طرح سے جانتے ہو!”
“سلمہ” پھوپھو نے اچھی خاصی دھمکی دے ڈالی تھی۔
“زیغم” کا نام سنتے ہی “نایاب” نے جلدی سے جھاڑو اٹھائی اور صفائی جاری رکھی۔ “قدسیہ” ایک ہاتھ سے پسینہ صاف کر رہی تھی، دوسرے ہاتھ سے فرش پر کپڑے سے رگڑ لگا رہی تھی۔ موسم اچھا خاصا ٹھنڈا تھا مگر نمک حراموں کو کام کرتے ہوئے پسینے چھوٹ رہے تھے۔
“یہ صفائی ہو رہی ہے یا دو نالائق ایک دوسرے کی بربادی کے منصوبے بنا رہی ہیں؟”
“سلمہ” پھوپھو نے گھورا۔
“دونوں ماں بیٹی نمک حرام، پھوہڑ ہو۔ ڈھنگ سے صفائی نہیں کرنی آتی تم لوگوں کو۔”
“بد قسمتی ہے کہ اب یہ ہم کو کام سکھائیں گی!”
“نایاب” منہ میں بڑبڑ ائی تھی۔
“قدسیہ” جواب دینے کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ کر مڑی تھی مگر جیسے ہی ایک طرف جھکی، پھسل کر سیدھا پانی کی بالٹی میں جا گری!
“اماں!”
“نایاب” نے آنکھیں پھاڑے دیکھا، اور پیچھے کھڑے ملازمین کے قہقہے گونج اٹھے۔
“سلمہ” پھوپھو نے بے زاری سے کہا:
“چلو چلو، اٹھو! آج تمہیں وہ سب کچھ کرنا پڑے گا جو تم نے نوکروں سے کروایا ہے!”
“قدسیہ” گیلے کپڑے دیکھ کر غصے سے لال پیلی ہو رہی تھی۔ اوپر سے وہ نوکر اس پر ہنس رہے تھے، وہ ملازمہ ہنس رہی تھی جو کل تک اس کے گھونسے کھاتی رہی تھی۔ “قدسیہ” بھیک کر بڑی فنی لگ رہی تھی گھر میں ہر وقت اجرک کندھے پر ڈالے ہوئے گھومنے والی کی اس وقت حالت ملازموں سے کہیں زیادہ بدتر ہو رہی تھی۔ بکھرے بال، بے ترتیب حلیہ، وہ ایک فنی پیس لگ رہی تھی۔ بڑی مشکل سے وہ پانی سے بھری بالٹی جس کے اندر ڈٹرجنٹ ڈالا ہوا تھا اسی کا سہارا لیتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی جبکہ “نایاب” اسے بچانے کے بجائے اپنی ہنسی روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔ بہت ہی سفاک بیٹی تھی جو اپنی ماں کی ایسی حالت پر ہنس رہی تھی مگر انسان جو بیجتا ہے وہی کاٹنا پڑتا ہے “قدسیہ” کی اپنی کرتوتیں کون سی اچھی تھیں تو اولاد تو ایسی ہی ملنی تھی۔ حویلی کے وہ در و دیوار، جو کبھی ان کے رعب کے عادی تھے، آج انہیں زمین پر رینگتا دیکھ کر جیسے مزے لے رہے تھے!
سچ کہتے ہیں دنیا مکافات عمل ہے ہر کسی کو اپنا بویا ہوا کاٹ کر جانا پڑتا ہے۔ ان لوگوں نے کل تک کہاں سوچا تھا کہ “زیغم” واپس آ سکتا ہے اور آ کر ایسی تباہی بھی بچا سکتا ہے۔”قدسیہ” کی کمر میں بالٹی لگنے سے بیچاری سے کھڑا نہیں ہوا جا رہا تھا مگر پھر بھی فرش کی صفائی جاری تھی کیونکہ “سلمہ” ان کے سر پر سوار ہو کر کھڑی تھی ان کے سر پر سوار ہونا “سلمہ” کی مجبوری تھی ورنہ یہ سب کچھ “سلمہ” کو کرنا پڑے گا یہی سوچ کر وہ سفاک بنی کھڑی تھی۔
°°°°°°°
“شہرام” تکلیف سے بے حال بیڈ پر پڑا تھا۔ ٹانگ میں گولی لگنے کی وجہ سے درد ناقابلِ برداشت ہو چکا تھا۔ چہرہ پسینے سے تر، مٹھی سختی سے بھینچی ہوئی، اور آنکھوں میں وہی غصہ جو ہمیشہ اس کی فطرت میں شامل تھا۔اسے اپنی بے بسی پر غصہ آ رہا تھا۔ دل کر رہا تھا کہ وہ ایک جھٹکے سے یہاں سے اٹھے اور “زیغم” کو چیر پھاڑ کر رکھ دے مگر وہ ایسی حالت میں کہاں تھا۔ “زیغم” نے تو آتے ہی اس سے ڈھیر کر کے بستر پر لٹا دیا تھا۔ سامنے کرسی پر میڈیکل اٹینڈنٹ، آرام سے بیٹھا موبائل دیکھ رہا تھا۔ وہ اتنے پرسکون آرام سے بیٹھا ہوا تھا جیسے یہاں پر صرف فن کرنے کی تنخواہ لے رہا ہو۔
“ابے بہرے ہو کیا، میرا درد دکھائی نہیں دے رہا اندھے کہیں کے؟”
“مجھے دوائی دو! بہت زیادہ درد ہو رہا ہے، پین کلر دو، یا کم از کم کوئی انجکشن لگا دو!”
“شہرام” غصے سے بولا، مگر اٹینڈنٹ نے موبائل کی سکرین سے نظریں تک نہ ہٹائیں۔
“ایک ہی بار میں بات سمجھ نہیں آتی تم لوگوں کو؟”
“شہرام” نے زخمی ٹانگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے تکیے پر سر پٹخا۔اسے ٹانگ میں بہت زیادہ پین ہو رہا تھا۔ اسے ابھی کچھ گھنٹوں پہلے ہی ہوش آیا تھا اور ہوش میں آتے ہی شدید درد کا احساس اسے اندر ہی اندر مار رہا تھا، وہ درد سے تڑپ رہا تھا۔
اٹینڈنٹ نے ایک لمبی سانس لی، جیسے بہت صبر کا مظاہرہ کر رہا ہو، اور پھر کندھے اچکاتے ہوئے بولا:
“ہم نے کہا ہے نا، جب تک “زیغم” سائیں کا حکم نہیں آئے گا، دوا نہیں ملے گی۔”
“یہ کیا بکواس ہے؟”
‘میں مر جاؤں گا تب دو گے؟”
“شہرام” غرایا۔
اٹینڈنٹ نے لاپرواہی سے موبائل کو گھمایا۔
“آپ جتنا مرضی چیخیں، چلائیں، مجھے فرق نہیں پڑتا۔ موبائل میرے ہاتھ میں ہے، جب “زیغم” سائیں کا میسج آئے گا، تبھی دوا ملے گی۔ ابھی نہیں۔ ہمیں تنخواہ “زیغم” سائیں نے دینی ہے تو حکم بھی انہی کا مانوں گا۔”
“شہرام” نے اس کا جواب سن کر غصے اور درد کی شدت سے مٹھیاں بھینچیں،اس کا خون کھول رہا تھا، مگر اس وقت وہ کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں تھا۔ درد کی شدت بڑھتی جا رہی تھی، اور سامنے بیٹھا یہ آدمی جیسے تماشہ دیکھنے آیا ہو!
“تمہیں مزہ آ رہا ہے نا مجھے تڑپتا دیکھ کر؟”
“شہرام” نے سرد نظروں سے گھورا۔
اٹینڈنٹ نے ایک چھوٹی سی مسکراہٹ دبائی اور بولا:
“میں تو “زیغم” سائیں کے حکم کا غلام ہوں!”
“زیغم” کی حکومت صرف اتنی دیر ہے جب تک میں اٹھ کر پیروں پر کھڑا نہیں ہو جاتا۔ مجھے ایک بار پیروں پر کھڑا ہو لینے دو پھر تم سب کو دیکھ لوں گا۔”
“شہرام” غصے سے غرایا تھا۔
“ٹھیک ہے پھر آپ ٹھیک ہونے کا انتظار کریں اور مجھے آرام سے ٹک ٹاک انجوائے کرنے دیں۔”
“اتنے سفاک انسان ہو میں یہاں پر درد سے مر رہا ہوں اور تمہیں ٹک ٹاک دیکھنی ہے کتے۔”
“دیکھیں سائیں گالی گلوچ مت کرنا “زیغم” سائیں کا حکم ہے کہ اگر زیادہ بدزبانی کریں گے تو مجھے “زیغم” سائیں کی طرف سے پوری اجازت ہے کہ زہر کا ٹکا لگا کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش کروا دوں۔”
“شہرام” یہ سنتے ہی خاموش ہو گیا تھا۔ اسے اپنی جان بہت پیاری تھی مگر درد اسے کہیں سکون نہیں لینے دے رہا تھا۔ “مجھے ایک بار ٹھیک ہول لینے دو تمہیں چھوڑوں گا نہیں، خود کو سمجھتے کیا ہو؟” وہ دماغ میں سوچ کر درد سے تڑپ رہا تھا۔
°°°°°°°°°
ناشتے کی لمبی ٹیبل پر ہر چیز نہایت نفاست سے سجی ہوئی تھی۔ سفید چمکدار پلیٹوں میں گرم، سنہری رنگت والے پراٹھے رکھے تھے، جن سے خوشبو اٹھ رہی تھی۔ ایک طرف ہلکے براؤن ٹوسٹ ترتیب سے رکھے تھے، ان کے ساتھ بٹر، شہد، اور مختلف فلیورز کے جام کے جار سلیقے سے لگے ہوئے تھے۔ تازہ دودھ سے بنی ہوئی مکھن کی تہہ ابلی ہوئی انڈوں کے ساتھ ایک علیحدہ پلیٹ میں رکھی تھی۔ ٹیبل کے درمیان میں پنیر اور زیتون کا ایک دلکش پلیٹر رکھا تھا، جس میں نرم چیز، چیڈر، اور فیٹا چیز کے ساتھ ہلکے کٹے ہوئے زیتون رکھے تھے۔ کرسپی فرائز کے ساتھ مسالے دار آملیٹ بھی ایک طرف رکھا تھا، جس میں ہری مرچ، ٹماٹر، اور ہلکے مصالحے شامل کیے گئے تھے۔ آملیٹ کے برابر میں اسکرمبلڈ ایگز بھی موجود تھے، جو مزید نرمی اور خوشبو لیے ہوئے تھے۔ ایک جانب تازہ اور خوشبو دار کافی کے مگ رکھے تھے، جبکہ مختلف جوسز—مالٹے، انار، اور اسٹرابیری—کے جگ شفاف گلاسوں کے ساتھ رکھے گئے تھے۔ “زیغم” کا یار اس کی حفاظت کی خاطر رکا ہوا تھا۔تو “زیغم” نے اس کے لیے ناشتے کا بہترین انتظام کروایا تھا۔ “زیغم” اپنی پلیٹ میں آرام سے کھانے میں مصروف تھا، جبکہ “مائد” کے ہاتھ میں چمچ تھا، مگر وہ کسی گہری سوچ میں گم بیٹھا تھا۔ کھانے کی خوشبو ہوا میں گھلی ہوئی تھی، مگر اس کا دھیان کہیں اور تھا۔ “زیغم” نے ایک نظر اس پر ڈالی، مگر خاموشی برقرار رکھی۔ وہ اس کے چہرے کے زاویے کو پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“جناب، ناشتہ کرو، اتنی گہری سوچ میں نہ پڑو اور جس سوال سے تم بھاگنے کی کوشش کر رہے ہو، اس کا جواب تو تمہیں دینا ہی ہوگا!”
“زیغم” نے نوالہ توڑتے ہوئے ایک بار پھر”مائد” کے کان میں سرگوشی کی۔
“مائد” نے براؤن بریڈ کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہوئے گہری سوچ سے نکلتے اسے گھورا۔
“کیا مصیبت ہے یار! آرام سے ناشتہ کرنے دو۔”
سچ میں وہ “زیغم” کے سوالوں سے بچنے کی پوری کوشش کر رہا تھا۔ اس کے سوالوں کو نظر انداز کرنے کے لیے تو وہ کتنی دیر تک باتھ روم میں بند رہا تھا مگر باہر ناشتے کی ٹیبل پر آتے ہی “زیغم” کا وہی سوال پھر سے اس کے گلے کی ہڈی بن چکا تھا۔
“ناشتہ کرو میں کون سا تمہارے منہ سے نوالہ چھین رہا ہوں مگر پہلے یہ بتاؤ کہ شادی کے نام سے اتنا کیوں بھاگ رہے ہو؟”
“کہیں کوئی گڑبڑ تو نہیں؟––––کوئی میڈیکل پرابلم؟”
“زیغم” نے آہستگی سے رازداری کے ساتھ کہا، مگر اس کی نظریں صاف بتا رہی تھیں کہ وہ پیچھے ہٹنے والا نہیں۔ بظاہر نارمل اور سیریس انداز میں بول رہا تھا جبکہ اس کے اندر شرارت ابل رہی تھی۔ وہ یہ سب “مائد” کا منہ کھلوانے کے لیے بول رہا تھا۔ “مائد” کا نوالہ حلق میں ہی اٹک گیا۔ اس نے پانی کا گھونٹ لیا اور جھنجھلا کر اس کی جانب دیکھا۔
“منہ بند کر کے بیٹھو!”
“الحمدللہ میں بالکل فٹ ہوں۔ اللہ نہ کرے کہ مجھے کوئی میڈیکل پرابلم ہو، اور کچھ نہیں ملا تو میڈیکل رپورٹ پر آ گئے؟”
“خدانخواستہ مجھے کیا ہوگا، ہٹا کٹا مرد ہوں!”
“مائد” گھبراہٹ کے ساتھ ساری باتیں ایک ساتھ ہی کہہ گیا تھا اور ایک بار پھر سے پانی کا گلاس اٹھا کر لبوں سے لگا لیا۔ اس کی حالت اور گھبراہٹ دیکھ “زیغم” نے اپنی مسکراہٹ بڑی مشکل سے دبائی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ “مائد خان دورانی” اپنی باتیں چھپانے میں ماہر تھا، مگر وہ بھی اسی کا دوست تھا۔ بات تو اُگلوائے بنا اسے سکون نہیں آنے والا تھا۔ یہ تو کنفرم تھا کہ “مائد” شادی کے نام سے بھاگ رہا تھا مگر کیوں؟ یہ سوال “زیغم” کو چین نہیں لینے دے رہا تھا اور اس کا جواب صرف “مائد” دے سکتا تھا۔
“اگر تم سچ میں فٹ ہو تو پھر بتاؤ، شادی کے نام سے بھاگ کیوں رہے ہو؟”
“زیغم” نے چائے کا کپ لبوں سے لگاتے ہوئے ایک اور وار کیا۔
“مائد” نے نوالہ پلیٹ میں رکھتے ہوئے کرسی سے ٹیک لگا کر سانس خارج کی۔ اس کے حلق سے نوالہ “زیغم” اترنے کہاں دے رہا تھا۔
“زیغم”، تم باز نہیں آ سکتے نا؟”
“جب تک تم نہیں بتاؤ گے، بالکل نہیں!”
“زیغم” نے مزے سے ناشتہ جاری رکھا۔
“مائد” نے سر جھٹکا۔ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ “زیغم” کے سوالوں سے کس طرح بچے۔ آج کے ناشتے میں چائے کم، اور “زیغم” کی انکوائری زیادہ تھی!
“تمہیں اچانک میری شادی کا دورہ کیوں پڑ گیا ہے؟”
“کیا پرابلم ہے تمہاری؟”
“مائد” نے جھنجھلا کر “زیغم” کو گھورا۔
“اتنے سالوں سے تم اپنی مرضی کی زندگی گزار کر رہے ہو، میں نے کبھی تم سے سوال کیا؟”
“اور ویسے بھی، تم جب تک خود نہ چاہو، کچھ نہیں بتاتے، تو مجھ پر بھی یہ زور زبردستی مت کرو، پلیز!”
“مائد” نے دو ٹوک بات ختم کرنے والے انداز میں کہا تھا۔
“زیغم” نے چائے کی چُسکی لی اور کندھے اُچکائے۔
“بات زور زبردستی کی نہیں، مجھے لگا کہ تم شادی کرنا ہی نہیں چاہتے۔ اب یہ سوال تو ڈینجرس ہو سکتا ہے نا کہ کہیں تمہارے اندر کوئی پرابلم تو نہیں؟”
“زیغم” پھر سے وہیں آ گیا تھا، جہاں سے “مائد” بھاگنا چاہ رہا تھا۔
“مائد” نے ہاتھ میں پکڑا چمچ پلیٹ میں پھینکا اور طنزیہ انداز میں بولا:
“تو ایک کام کر، صبح مجھے ہسپتال لے کر چل، میرے تمام ٹیسٹ کروا، ایکسرے، ایم آر آئی، سب کچھ! اور اچھی طرح چیک کروانا کہ میں فٹ ہوں یا نہیں۔ جب تسلی ہو جائے، تب یہ ٹاپک دوبارہ چھیڑنا۔ ابھی مجھے ناشتہ کرنے دے، ورنہ میں اُٹھ کر جا رہا ہوں!”
“زیغم” نے قہقہہ لگایا۔
“اب آیا نا اونٹ پہاڑ کے نیچے!”
وہ دماغ میں سوچ کر خوش ہو رہا تھا مگر “مائد” نے اسے مزید گھورنے کی زحمت بھی نہ دی اور خاموشی سے ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گیا۔ “مائد” نے نوالہ توڑا مگر ہاتھ وہیں رک گیا۔ وہ سر جھکا کر ناشتہ کر نے ہی لگا تھا اور “زیغم” کی باتوں سے بچنا چاہ رہا تھا مگر “زیغم” نے ایک اور جملہ اچھالا تو “مائد” کا تو جیسے خون کھول اٹھا تھا۔
“ویسے “مائد خان دورانی” پاگل سمجھ رکھا ہے کیا؟”
“تم فٹ ہو یا نہیں، یہ چیک کروانے کے لیے ایم آر آئی کروانے کی ضرورت کیا ہے؟”
“میں تو سیدھا مردانہ ٹیسٹ کرواؤں گا!”
“کل کو شادی ہو جائے اور تُو باپ بننے کے قابل نہ نکلا تو میری تو ناک ہی کٹ جائے گی!”
“مائد” نے حیرت زدہ نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے سر اٹھایا۔
“بہت بڑا کمینہ ہے تُو، تھوڑی شرم کر لیا کر بولنے سے پہلے!”
“زیغم” جان بوجھ کر وار کر رہا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ پٹھانی کھوپڑی والے “مائد” کا پارہ کہاں کہاں چڑھ سکتا ہے، اور یہی وہ باریک رگ تھی جسے چھیڑ کر وہ مزہ لے رہا تھا اور بہت جلد اسی نس کو دباتے ہوئے وہ اصلیت تک پہنچ سکتا تھا مگر “مائد” بھی ڈھیٹ نکلا، بس گھور کر رہ گیا، ایک لفظ نہ بولا۔
“زیغم” نے شرارت سے لب بھینچ کر نوالہ منہ میں ڈالا۔
“چلو، خیر ہے! پھر بھی ٹیسٹ تو کروانے پڑیں گے، آخر تسلی ہونی چاہیے نا؟”
“تم شرماؤ مت میڈیکل میں شرم و حیا والی کوئی بات نہیں ہوتی۔ بعض دفعہ انسان شرم و حیا میں پڑ کر کسی بہت بڑی مصیبت میں پڑ سکتا ہے، اس لیے میں اپنے یار کے سارے ٹیسٹ خود ساتھ جا کر کرواؤں گا۔”
“مائد” نے ایک گہرا سانس لیا اور غصے سے چمچ دوبارہ پلیٹ میں ڈالتے ہوئے بولا:
“خدا کی قسم زبان بند کر لے ورنہ تیرے ٹیسٹوں کی ایسی کی تیسی کر دوں گا!”
“بڑا آیا میرے ٹیسٹ کروانے والا۔”
“ایک لفظ اور بولا تو میں اٹھ کر چلا جاؤں گا اور اب کی بار خدا کی قسم اٹھ کر چلا جاؤں گا۔”
“اوکے اوکے ناشتہ کر۔”
“زیغم” نے ہاتھ اٹھا کر ہار مانتے ہوئے کہا۔
وہ اچھی طرح سے جانتا تھا کہ “مائد خان” کی کھوپڑی جتنی گھوم چکی ہے اس سے زیادہ گھومی تو وہ سچ میں اٹھ کر چلا جائے گا اور “زیغم” ایسا بالکل نہیں چاہتا تھا۔ اس نے تو “مائد” کے لیے بڑے دل سے اس کا من پسند ناشتہ بنوایا تھا، اب ایسا کیسے ہو سکتا تھا کہ اس کا یار اٹھ کر چلا جائے۔ ہاں مگر یہ سچ تھا کہ اسے حقیقت ضرور جاننی تھی کہ آخر وہ شادی سے دور کیوں بھاگ رہا ہے۔ “مائد” کی منگنی بہت پہلے ہو چکی تھی اور اس کا رشتہ تو بچپن سے طے تھا۔ رشتے میں اس کی کوئی دور کی کزن ہی لگتی تھی جس سے “مائد” کا رشتہ طے تھا۔ “مائد” اور “زیغم” میں صرف ایک سال کا فرق تھا۔ “مائد” “زیغم” سے بھی ایک سال بڑا تھا۔ “زیغم” کی تو جس طرح سے بھی ہوئی مگر “نایاب” سے شادی ہو گئی۔ “زیغم” کے حالات “مائد” سے بہت ڈفرنٹ تھے۔ “زیغم” دماغ میں بہت کچھ سوچتے ہوئے ناشتہ کر رہا تھا، نظریں بار بار “مائد” کے خاموش چہرے کو دیکھ رہی تھی۔
°°°°°°°°°
“دانیہ” سوچوں کے دریا میں ڈوبتی ہوئی بہت دور نکل آئی تھی، جہاں پر تکلیف اور دکھ کے سائے اتنے گہرے تھے کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہوئے اس کے رخساروں کو بھگو رہے تھے۔ سوچوں کا تسلسل دروازے کی ٹھک ٹھک کرتی آواز سے ٹوٹ گیا تھا۔
دروازے کے باہر مورے کی میٹھی سی آواز گونجی:
“دانیہ” بیٹا، پلیز دروازہ کھولو…… کیا اپنی مورے کے کہنے پر بھی نہیں کھولو گی؟”
اندر بیٹھی “دانیہ” کی سماعت سے یہ الفاظ ٹکرائے۔ وہ فرش پر دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھی تھی، آنسو گالوں پر رواں تھے۔ اس نے تیزی سے ہاتھوں کی پشت سے اپنے آنسو صاف کیے اور لرزتے قدموں کے ساتھ دروازے کی طرف بڑھی۔ آہستہ سے کنڈی کھولی اور دروازہ کھول دیا۔ سامنے مورے اسے ممتا بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ ان کے چہرے پر محبت کی تاثرات دیکھ کر نہ چاہتے ہوئے بھی ہلکا سا مسکرائی تھی۔
“دانیہ” ، میں جانتی ہوں کہ “درخزائی” کی بات سے تمہیں دکھ ہوا، مگر وہ معصوم ہے۔ اس کا وہ مطلب نہیں تھا۔ وہ تو بس تمہارے چہرے اور ہاتھوں پر اتنے سارے نشان دیکھ کر پریشان ہو گیا تھا۔ میں اس کی طرف سے معافی مانگتی ہوں۔”
وہ دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے نرمی سے بول رہی تھی۔ “دانیہ” نے ان کے جوڑے ہوئے ہاتھوں کو فورا سے اپنے ہاتھوں سے تھام کر نیچے کر دیا۔
“پلیز ایسا نہ کریں۔ کیوں مجھے گنہگار کر رہی ہیں۔ اماں سائیں قسم سے میں آپ لوگوں سے ناراض نہیں ہوں۔”
اس نے جلدی سے کہا اور اپنے زخمی، پٹیوں سے لپٹے ہوئے ہاتھوں کو آگے بڑھا کر مورے کے ہاتھ تھامنے کی کوشش کی، مگر درد کے باعث گرفت نہ بنا سکی۔ انگلیاں لرزتی رہیں۔
مورے کی نظریں فوراً اس کے زخموں پر گئیں۔ اس کی آنکھوں میں ایک لمحے کو درد اترا، مگر وہ مسکرائی۔
“کیا کہا تم نے؟”
“ایک بار پھر سے کہو؟”
“دانیہ” نے پلکیں جھپکیں۔
“میں نے کہا، میں آپ سے ناراض نہیں ہوں۔”
“نہیں، نہیں، اس سے پہلے تم نے مجھے کیا کہہ کر بلایا؟”
مورے کی آنکھوں میں خوشی کی چمک تھی۔
“اماں سائیں……”
“دانیہ” نے جھجھکتے ہوئے جواب دیا۔
مورے کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں۔ وہ “دانیہ” کے زخموں کو نظرانداز کرتے ہوئے اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگائے بولی:
“مجھے بہت اچھا لگا ہے!”
“آج سے تم مجھے اماں سائیں کہہ کر بلایا کرو!”
ممتا بھری آغوش میں “دانیہ” نے سکون ہی سکون کو محسوس کیا تھا۔ مورے نے “دانیہ” کے چہرے کو ہاتھوں میں تھامتے ہوئے ماتھے پر لب رکھ کر محبت بھرا لمس بکھیرتے اسے محفوظ ہونے کا احساس دلایا تھا۔
سچ کہتے ہیں کہ ماں کسی کی بھی ہو، ماں تو ماں ہوتی ہے نا۔ ماں کے ساتھ جو سکون ملتا ہے، وہ دنیا کے کسی مہنگے بستر پر بھی نہیں مل سکتا۔ “دانیہ” بھی اس وقت اسی سکون کو محسوس کر رہی تھی۔ مورے نے “دانیہ” کا ہاتھ تھاما اور آہستہ آہستہ اسے ٹیبل کی طرف لے آئی، جہاں ناشتے کی ٹیبل پر “درخزائی” پریشان ہو کر بیٹھا ہوا تھا۔ “دانیہ” نے ایک نظر اسے دیکھا اور خاموشی سے ٹیبل پر بیٹھ گئی۔
“خور جان…” پلیز مجھے معاف کر دیں، مجھے نہیں پتہ تھا کہ میرے سوال سے آپ کو اتنا دکھ ہوگا۔”
“درخزائی” نے پریشان نظروں سے “دانیہ” کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“نہیں، نہیں، میں آپ سے ناراض نہیں ہوں، اور آپ کو مجھ سے معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے۔”
“دانیہ” نے فوراً نرمی سے جواب دیا۔ وہ معصوم سے “درخزائی” کو یوں شرمندہ دیکھ کر خود ہی شرمندہ ہوگئی تھی۔ آخر اس نے کچھ غلط تو نہیں کہا تھا، بس وہ خود ہی زیادہ حساس ہوگئی تھی۔
“میرا نام “دانیہ” ہے۔”
اس نے دھیرے سے کہا۔
“مگر آپ مجھ سے بڑی ہیں، میں تو آپ کو “خور جان” کہہ کر ہی بلاؤں گا، میں آپ کا نام تھوڑی لے سکتا ہوں۔”
“درخزائی” نے معصومیت سے وضاحت کی۔
“خور جان مطلب؟”
“دانیہ” نے حیرانی سے پوچھا۔
“آپ کو “خور جان” کے بارے میں نہیں پتہ؟”
“درخزائی” نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“نہیں، مجھے نہیں پتہ، میں نے تو یہ پہلی بار سنا ہے۔”
“دانیہ” نے سادگی سے جواب دیا۔
“درخزائی” نے مسکراتے ہوئے دانیا کی جانب دیکھا۔
“جیسے ہر زبان میں بڑی بہن کے لیے مخصوص الفاظ ہوتے ہیں۔فار ایگزمپل
پشتو میں: ‘خور جان’
سندھی میں: ‘واڑی آپی’
پنجابی میں:’باجی’
بلوچی میں: ‘گُل جان’
سرائیکی میں: ‘آپی’ یا ‘دیدی’
اردو میں: ‘باجی’ یا ‘آپّا’
اسی طرح پشتو میں بڑی بہن کو “خور جان یا “لویہ خور” کہا جاتا ہے۔”
“درخزائی” نے تو جیسے پوری ڈکشنری کھول کر رکھ دی تھی، جبکہ “دانیہ” حیرت سے اس کی باتیں سن رہی تھی۔ وہ بہت پیارا بولتا تھا “دانیہ” کچھ دیر کے لیے تو اپنا آپ ہی بھول گئی تھی۔
“اچھا تو مطلب کہ تم مجھے بڑی بہن کا رتبہ دے رہے ہو؟”
“دانیہ” “درخزائی” کی بات سن کر ہلکا سا مسکرائی۔
“جی بالکل! آپ مجھ سے بڑی ہیں، تو پھر آپ کو “خور جان” کا رتبہ ملنا چاہیے اور آج سے آپ میری “خور جان” ہیں!”
“میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں کبھی بھی آپ کو کوئی ایسی بات نہیں کہوں گا جس سے میری “خور جان” کی آنکھوں میں آنسو آئیں۔”
“درخزائی” کی آنکھوں میں سچائی جھلک رہی تھی۔
“اور یہ لیجیے، مورے کے ہاتھ کا بنا ہوا ناشتہ!”
“میری مورے بہت مزیدار آلو کے پراٹھے بناتی ہیں۔”
وہ خوش دلی سے پراٹھا اور رائتہ “دانیہ” کے سامنے رکھتے ہوئے بولا۔
“ہمم…… ٹھیک ہے، آج سے تم بھی میرے چھوٹے بھائی ہو، اور مجھے لگتا ہے کہ ہم دونوں بہت اچھے دوست بن سکتے ہیں!”
“دانیہ” نے مسکرا کر کہا۔
“درخزائی” خوشی سے مسکرایا اور اپنی پلیٹ میں پراٹھا رکھتے ہوئے سر ہلا دیا۔ مورے، جو ٹیبل پر بیٹھی ان کی باتیں سن رہی تھی، بے حد خوش تھی۔ “دانیہ” کے آنے سے گھر میں ایک عجیب سی رونق آ گئی تھی۔ “درخزائی” جو ہمیشہ اکیلا محسوس کرتا تھا، آج اسے ایک بڑی بہن مل گئی تھی۔
“خور جان”، آپ کو پتہ ہے، میں نے پچھلے ہفتے ایک نئی گیم انسٹال کی تھی، اس میں بندہ جتنا زیادہ سمارٹ کھیلے، اتنے زیادہ پوائنٹس ملتے ہیں!”
“درخزائی” جوش سے بتانے لگا۔
“اچھا؟ پھر تم نے کتنے پوائنٹس لیے؟”
“دانیہ” نے دلچسپی سے پوچھا۔
“ارے میں نے تو پورے 5000 پوائنٹس لے لیے تھے لیکن پھر موبائل خراب ہوگیا اور سب ڈیلیٹ ہوگیا!”
وہ افسردگی سے بولا۔
“دانیہ” ہنسی روک نہ سکی۔
“تو پھر کیا ہوا؟ دوبارہ انسٹال کر لو، تم تو ماہر ہو نا!”
“درخزائی” نے فخر سے سینہ چوڑا کیا۔
“بس “خور جان”، پھر دیکھیں، میں نیا ریکارڈ بنا دوں گا!”
مورے نے محبت بھری نظروں سے دونوں کو دیکھا اور مسکرا کر بولی:
“چلو، اب زیادہ باتیں نہیں، ناشتہ ختم کرو، ورنہ ٹھنڈا ہو جائے گا!”
“دانیہ” نے نرمی سے سر ہلایا اور ناشتہ کرنے لگی۔ اسے عجیب سا سکون محسوس ہو رہا تھا، جیسے مدتوں بعد کسی نے اسے اپنائیت دی ہو۔
°°°°°°°
“توقیر” سائیں، شاباش! بہت اچھی گاڑیاں چمکائی ہیں۔”
“زیغم” ناشتہ کر کے “مائد” کے ساتھ باہر آیا تو “توقیر” ساری گاڑیاں صاف کر چکا تھا مگر اس کی اپنی حالت کافی خراب تھی جسے دیکھ کر “مائد” اور “زیغم” دونوں کو ہنسی آ رہی تھی۔
“اب جلدی سے تیار ہو جاؤ۔ میرے ساتھ چلنا ہوگا۔”
“کہاں جانا ہے؟”
“تمہارے ساتھ مجھے کہیں نہیں جانا!”
وہ خود سے ہی سوال کرتے ہوئے خود سے جواب دے گیا۔
“انکار کرنے کی اتھارٹی تمہارے پاس نہیں ہے “توقیر سائیں!”
“ہر حال میں میرا حکم ماننا تم پر واجب ہے۔”
“زیغم” گاڑی سے ٹیک لگائے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے ہوئے کھڑا کرخت لہجے میں بولا تھا۔
“میرے ساتھ پورے گاؤں کا چکر لگانا پڑے گا ، اور تم سب کو جا کر بتاؤ گے کہ تمہارا بھتیجا، تمہارے بڑے بھائی کا بیٹا “زیغم سلطان” واپس آچکا ہے، وہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔”
وہ ایک ایک لفظ کو اس انداز سے بول رہا تھا “توقیر” کے سینے میں آگ لگ رہی تھی۔
“اور سب سے اہم بات۔ سب کو جا کر بتانا کہ اب سے سب کچھ “زیغم” سنبھالے گا!”
“توقیر” سائیں اپنی ہر سیٹ سے دستبردار ہو رہے ہیں!”
“ایسا کچھ نہیں ہوگا!”
“میں اپنی سیٹیں نہیں چھوڑوں گا!”
“بڑی محنت سے میں نے سیاست میں اپنی جگہ بنائی ہے!”
“توقیر” کا چہرہ سرخ ہونے لگا تھا مگر وہ اپنی جگہ پر آرام سے کھڑا تھا۔ “زیغم” کے چہرے پر سکون تھا، جیسے وہ پہلے سے جانتا ہو کہ یہ ردِعمل ملے گا۔
“کون سی جگہ بنائی ہے تُو نے “توقیر سائیں؟”
“سیاست کی دنیا میں قدم میرے بابا سائیں نے رکھا تھا!”
“یہ سب کچھ میرے بابا سائیں کا ہے، جس پر تم قبضہ جما کر بیٹھے ہو اور آج واپس کرتے ہوئے بڑی تکلیف ہو رہی ہے، ہے نا؟”
“زیغم” نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ قدم آگے بڑھایا۔ لہجے میں زہر گھلا تھا۔
“کھاتے ہوئے تکلیف نہیں ہوئی تو اب اگلتے ہوئے بھی نہیں ہونی چاہیے۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا جتنی مرضی تکلیف ہو، یہ سب کچھ تو واپس کرنا پڑے گا! ورنہ۔۔۔”
“زیغم” نے لمحہ بھر کے لیے توقف کیا، جیسے کچھ سوچ رہا ہو، پھر ایک خنجر کی طرح تیز الفاظ سے وار کیا۔
“ورنہ میں حلق میں ہاتھ ڈال کر انتڑیاں تک کھینچ کر مار ڈالوں گا!”
“توقیر” کی مٹھی بھینچ گئی مگر اسے “زیغم” سے ڈر لگ رہا تھا۔ اچھی طرح سے جانتا تھا کہ وہ جو کچھ بول رہا ہے وہ کرنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہے۔ “زیغم” نے جو آتے ہی ان لوگوں کو ٹریٹمنٹ دیا تھا اس ٹریٹمنٹ کے بعد تو ان کو “زیغم” کی ہر بات پر یقین تھا کہ وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اس کے خاموش چہرے پر “زیغم” نے ایک نظر غور سے ڈالی، جو ابھی بھی ملازموں جیسے بھیگے حلیے میں کھڑا تھا۔
“جلدی سے جا، انسانوں والا حلیہ بنا!”
“یہ بھیگا ہوا، نوکروں جیسا حلیہ دیکھ کر کہیں لوگ ڈر ہی نہ جائیں!”
اس کی حالت پر ہاتھ کے اشارے سے طنز کرتے ہوئے اسے چینج کرنے کا بول رہا تھا جبکہ “مائد” مسکراتے لبوں سے “توقیر” کی درگت بنتے دیکھ رہا تھا۔
“میں نہیں جاؤں گا!”
اس نے سختی سے جواب دیا۔ ڈرنے کے باوجود “توقیر” کی اکڑ ابھی برقرار تھی۔ اس کا جواب سن کر “زیغم” کی آنکھوں میں چمک آئی، ایک شیطانی مسکراہٹ ابھری، اور وہ آرام سے، دھیمے مگر سنگین لہجے میں اس کے تھوڑا قریب ہوتے ہوئے سرگوشی میں بولا:
“تو ٹھیک ہے، نہ جا۔ میں بھی ابھی تمہارے بیٹے کو زہر کا انجکشن لگوا کر ختم کروا دیتا ہوں۔ نہ رہے گا بانس، اور نہ بجے گی بانسری!”
“توقیر” کا رنگ فق ہو گیا، اس کے اندر جیسے ایک زلزلہ آ گیا ہو۔ اس نے غصے سے دانت پیسے اور بمشکل الفاظ نکالے۔
“بہت ہی کمینہ ہے! جا رہا ہوں، کپڑے بدلنے!”
اس نے پیر پٹختے ہوئے رخ موڑ لیا، مگر “زیغم” ہنوز مسکراتا رہا۔
“بولنے کو تو یہی الفاظ پلٹ کر میں بھی کہہ سکتا ہوں، مگر ویسے تو تُو کسی لحاظ کے لائق نہیں۔ صرف میری تربیت آڑے آ جاتی ہے!”
“زیغم” جاتے ہوئے “توقیر لغاری” کو احساس دلایا تھا کہ بولنے کو وہ بھی اسے کمینہ بول سکتا ہے، اگر نہیں بولا تو اس میں اس کی تربیت ہے ورنہ وہ اس لائق بالکل نہیں ہے۔ “زیغم” کا ایک ایک جملہ “توقیر” کے لیے برداشت کرنا ممکن نہیں تھا مگر وہ کر رہا تھا صرف اپنے بیٹے کے لیے۔
“سارے اختیارات جلدی سے لے تاکہ اسے احساس ہو کہ اس کی اوقات کیا ہے!”
“مائد” نے کڑی نظروں سے جاتے ہوئے “توقیر” کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
“بے فکر رہ، اگر ان کو دھول نہ چٹوا دی تو میرا نام بھی “زیغم سلطان” نہیں!”
فون مسلسل بج رہا تھا، مگر “زیغم” گاڑی سے ٹیک لگائے “مائد” سے بات کرنے میں مصروف تھا۔ بار بار فون کو سائلنٹ پر لگا دیتا، مگر اٹھا نہیں رہا تھا۔
“فون کیوں نہیں اٹھا رہے؟”
“مائد” نے سوال کیا۔
“ضروری نہیں ہے۔”
“زیغم” نے مختصر جواب دیا۔
“کیا مطلب ضروری نہیں ہے؟”
“اتنی بار اگر کوئی کال کر رہا ہے تو کوئی ضروری بات ہوگی!”
“مائد” نے سنجیدگی سے کہا۔
“کہا نا یار، ضروری نہیں ہے، تو کیوں پیچھے پڑ گئے ہو؟”
“زیغم” کی آواز میں چڑچڑاہٹ تھی۔ وہ غصے سے کہتا ہوا حویلی کے اندر کی طرف بڑھ گیا، جبکہ “مائد” حیران نظروں سے اسے جاتا دیکھ رہا تھا۔ اس نے تو کوئی اتنی بڑی بات نہیں کی تھی، پھر “زیغم” کا یوں چڑ جانا کس بات کی نشاندہی کر رہا تھا۔ “مائد” سوچ میں پڑ گیا۔
°°°°°°°°°°
رازِ وفایہ صرف ایک کہانی نہیں، ایک فکری سفر ہےجہاں جاگیردار کے ظلم پر سے پردہ اٹھتا ہےاور انصاف اپنی پوری ذمہ داری کے ساتھ سامنے آتا ہے۔اگر یہ تحریر آپ کو سوچنے پر مجبور کرےتو آگے کے ابواب اسی احساس کا تسلسل ہیں۔