Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:8
رازِ وفا
از قلم :حیات ارتضیٰ ✍️S.A
قسط نمبر 8
°°°°°°°°
گاڑی رات کے سنّاٹے میں سڑک پر دوڑ رہی تھی، مگر “زیغم” کا دماغ وہیں رُکا ہوا تھا۔ “دانیہ” کی سوجی ہوئی آنکھیں، لرزتے ہاتھ، اور اُس کی درد بھری سسکیاں جیسے اس کے اعصاب پر سوار ہو گئی تھیں۔ وہ برابر والی سیٹ پر خاموش بیٹھا تھا، نظریں مسلسل کھڑکی سے باہر جمائے، مگر سوچوں میں وہ کہیں اور تھا۔ “مائد” نے گاڑی چلاتے ہوئے ایک نظر “زیغم” پر ڈالی، جو بالکل خاموش تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اسے خود ہی بات شروع کرنی پڑے گی۔
“زیغم”، اس طرح کیسے چلے گا؟”
“تم تو ابھی سے ہمت ہارنے لگے ہو!”
“مائد” نے سنجیدگی سے کہا۔
“زیغم” نے کھڑکی سے نظریں ہٹائے بغیر، مٹھیاں سخت کرتے ہوئے کہا:
“ہار نہیں مانی اور نہ کبھی مان سکتا ہوں… مگر مجھ سے “دانیہ” کی یہ حالت دیکھی نہیں جا رہی، “مائد” تم نے دیکھا تھا نا وہ کتنی تکلیف میں تھی، کیسے رو رہی تھی… اور یہ سب ان کتوں کی وجہ سے ہوا!”
“مجھے خود پر غصہ آ رہا ہے، کہ کیسے میں اپنی بہن کی تکلیف کو محسوس نہیں کر سکا، کیسے میں ان کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کی زد میں آ کر “دانیہ” سے بدگمان ہو گیا… مجھے خود پر غصہ آ رہا ہے!”
“زیغم” کا لہجے میں دکھ اور غصے کا امتزاج تھا۔
“مائد” نے گہری سانس لی، پھر مضبوط لہجے میں بولا:
“دیکھ “زیغم”، اس طرح پریشان ہونے سے کچھ نہیں ہوگا، اور خود کو کوسنا بند کر۔ تم نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا۔ کوئی بھی بھائی جان بوجھ کر اپنی بہن کو ایسے درندوں کے بیچ نہیں چھوڑ سکتا۔ کبھی کبھی وقت اندھا کر دیتا ہے، انسان کو لوگوں کی نیت اور فطرت سمجھنے میں دیر ہو جاتی ہے۔ یہ سب اللہ کی طرف سے آزمائشیں ہوتی ہیں، اور تُو بھی انسان ہے، فرشتہ نہیں کہ تجھ سے کوئی غلطی نہ ہو۔ اس طرح خود کو الزام دے کر تُو کمزور پڑ جائے گا، اور میں تجھے کمزور ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔”
“زیغم” نے سر جھٹکا، مگر اس کے اندر کی آگ بجھنے والی نہیں تھی۔ وہ جس طرح سے اپنی روتی ہوئی ناراض بہن کو چھوڑ کر آیا تھا یہ تو صرف اس کا دل جانتا تھا۔ حویلی جا کر اگر گھٹیا لوگوں کو سزا دینے کا ارادہ نہ ہوتا تو وہ رات “دانیہ” کے پاس رکنے کا پورا ارادہ رکھتا تھا۔
“مجھے “دانیہ” کی وہ چیخیں سنائی دے رہی ہیں، “مائد…” میرا دل کر رہا ہے کہ ان پر کھولتا ہوا پانی ڈال دوں، تیزاب سے جلا دوں!”
“اگر رمضان کے مہینے کی عزت اور ادب کا لحاظ نہ ہوتا تو میں کچھ ایسا ہی کرتا!”
“زیغم” کے لہجے میں بے بسی اور غصہ تھا۔
“مائد” نے گاڑی کی رفتار تھوڑی کم کی، وہ “زیغم” پرسکون کرنا چاہتا تھا اور حویلی پہنچتے ہی “زیغم” کا پارہ اس سے زیادہ ہائی ہونے کے پورے امکان تھے، اس لیے گاڑی کی رفتار تھوڑی کم کر دی۔
“تمہیں پتہ ہے “زیغم” تم اب بھی غلطی کر رہے ہو۔ تمہیں پرسکون رہ کر ان کو ٹارچر کرنا ہے نا کہ خود غصہ کر کے اپنا دماغ خراب کرنا۔”
“یار! اگر دشمن کو سزا دینی ہے تو ایسا وار کر، جو وہ ساری زندگی یاد رکھیں، مگر ایسا کہ انہیں موقع نہ ملے کہ وہ تجھے موردِ الزام ٹھہرا سکیں۔ یہ جنگ ہے، اور جنگ ہمیشہ عقل سے لڑی جاتی ہے۔ تیرا پر سکون رہنا ان کے لیے سب سے بڑی سزا ہوگا!”
“زیغم” نے ایک گہری سانس لی، پھر سامنے دیکھا۔
“اب وہ تڑپیں گے، “مائد…” ایک ایک پل تڑپیں گے۔ میں جانتا ہوں کہ میں ہائپر ہو رہا ہوں، میں یہ بھی جانتا ہوں کہ میرا غصہ میرے لیے نقصان دہ ہے مگر تھوڑی دیر کے لیے خود کو میری جگہ رکھ کر دیکھ––––تجھے سمجھ میں آئے گی کہ میں اس وقت اپنی بہن کو دیکھ کر کتنی تکلیف میں ہوں۔”
“اگر تم میری جگہ ہوتے تو کیاکرتے؟”
“معصوم ہے میری بہن، اگر معصوم نہ ہوتی تو ان کا ظلم سہتے ہوئے خاموش نہ رہتی۔ کوئی نہ کوئی طریقہ نکال لیتی جس سے وہ میرے ساتھ رابطہ کر سکتی تھی مگر چالاکی تو “دانیہ” میں شروع سے نہیں تھی اور میں یہ سب کچھ اچھی طرح سے جانتا تھا پھر بھی جب اس پر الزام لگے تو میں نے کیسے مان لیا کہ “دانیہ” ایسا کچھ کر سکتی ہے کیوں نہیں سوچا کہ یہ دشمنوں کی سازش ہو سکتی ہے کیوں کیوں–––––”
“زیغم” نے غصے سے اپنے بالوں میں انگلیاں پھنساتے ہوئے نوچ ڈالا تھا۔
“کبھی کبھی وقت جب ہمارے ہاتھ سے نکل جاتا ہے پھر اس پر پچھتانے کی بجائے ہمیں نئے فیصلے لینے چاہیے۔ پرانی چیزوں کو سوچتے سوچتے ہم اکثر آج پر توجہ نہیں دے پاتے!”
“مائد” گہری سوچ میں مبتلا سوچتے ہوئے “زیغم” کو سمجھا رہا تھا۔
گاڑی رات کے اندھیرے میں آگے بڑھ رہی تھی، اور “زیغم” کے انتقام کی چنگاری شعلہ بننے کو تیار تھی۔
“تم نے پوچھا کہ اگر میں تمہاری جگہ ہوتا تو کیا کرتا؟”
“میں تمہاری جگہ ہوتا تو شاید اب تک سب کو کاٹ کر رکھ دیتا کیونکہ میں پٹھان ٹھہرا، میں تو کرتا پہلے ہوں، سوچتا بعد میں ہوں!”
“مجھے بھی یہی کرنا چاہیے اور اب میں یہی کروں گا۔ تم ہو جو مجھے جذباتی ہونے سے روکتے آ رہے ہو، جب تم یہ کرتے تو میں بھی یہی کروں گا اور مجھے یہی کرنا چاہیے!”
“زیغم” تو جیسے فیصلے پر پہنچ چکا تھا۔ “مائد” کو احساس ہوا کہ اس نے غلط بول دیا ہے کیونکہ “زیغم” تو پہلے ہی آگ بگولا بنا ہوا تھا۔ پتہ نہیں کتنی مشکل سے اسے سمجھاتے ہوئے ٹھہراؤ کے ساتھ چلنے کا بول رہا تھا اب اس نے خود ہی آگ کو ہوا دے دی تھی۔
“میرا وہ مطلب نہیں تھا ریلیکس ہو جاؤ پلیز اب اس بات کو دماغ پر سوار مت کرنا؛!”
“زیغم” ہمیں سب کچھ کرنا ہے مگر پلاننگ کے ساتھ، اگر اتنی آسان موت دے دی تو ان کی سزا تو ختم ہو جائے گی۔ ہمیں سزا ختم نہیں ہونے دینی۔”
اب “مائد” کو جان کے لالے پڑ گئے تھے۔ وہ کسی بھی طرح سے “زیغم” کو سمجھا کر گھر تک لے جانا چاہتا تھا ورنہ “زیغم” تو پہلے ہی غصے کا تیز تھا، اس کا کوئی بھروسہ نہیں تھا کہ جاتے ہی سب پر بندوق تان کر ان کو ہمیشہ کے لیے گہری نیند سلا دیتا۔
گاڑی میں صرف “مائد” کے سمجھانے کی آواز آرہی تھی۔ “زیغم” پوری طرح سے خاموش تھا۔ اب اللہ ہی بہتر کرے مگر امید تھی کہ “مائد” سمجھانے میں کامیاب ہو ہی جائے گا۔
°°°°°°°
“مجھ سے اب اور خریداری نہیں ہوتی، تم کرو!”
“توقیر” نے غصے سے سبزیوں سے بھری ٹوکری زمین پر پٹخی اور “رفیق” کو گھورا۔
“سائیں! خریداری تو آپ کو کرنی پڑے گی، کیونکہ “زیغم” سائیں کا حکم ہے، اور ہم “زیغم” سائیں کا حکم نہیں ٹال سکتے۔ ہاں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ بات ان تک پہنچے، تو میں ابھی فون گھما دیتا ہوں!”
“رفیق” نے جیب سے موبائل نکالا اور شرارت سے آنکھ ماری۔
“کیونکہ مجھے تو یہی آرڈر ہے… دوسرا آرڈر تو آپ نے سن ہی لیا تھا کہ آپ کو گولی سے اُڑا دیا جائے!”
یہ سنتے ہی “توقیر” کی جان نکل گئی۔
“ارے بھائی، یہ ٹماٹر کیسے دیے؟”
اس نے فوراً سبزی والے کی طرف رخ موڑا اور جلدی جلدی خریداری میں مصروف ہو گیا۔ گاؤں کے زیادہ تر لوگ اسے جانتے تھے، سبزی خریدتے دیکھ کر چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔ کچھ لوگ ہنس رہے تھے، کچھ حیرت سے دیکھ رہے تھے، اور کچھ قریب آ کر پوچھے بغیر نہ رہ سکے۔
“سائیں! یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ خود خریداری؟”
ایک آدمی نے حیرت سے سوال کیا۔
“ارے بھائی، زمانے ہو گئے خود خریداری کیے!”
“بچپن کا شوق تھا، مگر سیاست میں کبھی ٹائم ہی نہیں ملا۔ آج موقع ملا تو سوچا، کیوں نہ خود سبزی خرید کر دیکھوں؟”
“توقیر” نے مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، جیسے سب کچھ اپنی مرضی سے کر رہا ہو۔
“رفیق” اور گارڈز کو ہنسی دبانا مشکل ہو گیا۔
“واہ سائیں! کیا سیاست کھیلی ہے!”
“رفیق” نے سرگوشی میں کہا۔ “توقیر” نے گھور کر اسے دیکھا اور جلدی جلدی تھیلے اٹھانے لگا، تاکہ کوئی مزید کوئی سوال نہ کرے! گولی کی دھمکی کے بعد “توقیر لغاری” کو جیسے چنگاری لگا دی گئی تھی۔ بڑی سپیڈ کے ساتھ اس نے ساری خریدداری مکمل بھی کر لی تھی۔ “توقیر” خریداری مکمل کر چکا تھا، ہاتھ میں سبزیوں اور پھلوں کے تھیلے اٹھائے جب گاڑی کی طرف بڑھا تو پسینے سے شرابور تھا، حالانکہ موسم سرد تھا۔ “رفیق” نے دروازہ کھولا تو وہ دھپ سے سیٹ پر گرا اور لمبی سانس لی۔
“سائیں! لگتا ہے پہلا تجربہ کافی یادگار رہا؟”
“رفیق” نے ہنسی دبانے کی ناکام کوشش کی۔
“خریداری نہیں، بھئی! یہ تو باقاعدہ مشقت ہے، میں کہہ رہا ہوں یہ جو سبزی والے بیٹھے ہیں، یہ اصل بادشاہ ہیں!”
“توقیر” نے اپنی گردن سیدھی کرتے ہوئے کہا اور جیب سے رومال نکال کر ماتھے کا پسینہ پونچھا۔
گاڑی حویلی کی جانب بڑھ رہی تھی، اور “رفیق” مسکراتے ہوئے بولا:
“چلو سائیں! کم از کم آج آپ کو پتہ تو چلا کہ عوام کیسے جیتی ہے!”
“ارے، عوام جئیے جیسے جیتی ہے، مگر مجھ سے دوبارہ یہ عوامی خدمت مت کرانا!”
“توقیر” نے بےزاری سے کہا اور اگلی سانس میں چونک کر بولا:
“ویسے، وہ ٹماٹر کہیں پیچھے تو نہیں رہ گئے؟”
“اگر کوئی چیز رہ گئی تو وہ جلاد جاتے ہی دھاڑنا شروع کر دے گا۔”
“رفیق” اور گارڈز ایک ساتھ قہقہہ لگا کر ہنس پڑے، جبکہ “توقیر” نے سر پکڑ لیا کیونکہ وہ سچ میں ٹماٹر بھول کر آیا تھا۔
“اوہ سائیں! آپ کا سیاسی کیریئر تو خطرے میں پڑ سکتا ہے اگر لوگوں کو پتہ چل گیا کہ آپ سبزی خرید کر بھی آدھی بھول آئے!”
“بکواس بند کرو تم سب کو بہت مزہ آرہا ہے؟”
“کوئی نہ یہ تھوڑے وقت کا کھیل ہے اس کے بعد دیکھنا “توقیر لغاری” کی حکومت ہوگی اور تم سب کو تو میں کاٹ کر کتوں کے سامنے ڈلواؤں گا!”
وہ کب سے برداشت کرتا آیا تھا آخر کار چیخ ہی پڑا۔
گاڑی میں ڈر تو کسی کو نہیں لگ رہا تھا مگر پھر بھی خاموش ہو گئے کیونکہ کسی وقت میں وہ ان کا بڑا سائیں رہا تھا جس کی آج ڈیمانڈ زیرو ہو چکی تھی۔ گاڑی تیزی سے حویلی کی طرف جا رہی تھی، اور “توقیر” سوچ رہا تھا، “خدا کی قسم،اتنی ذلالت سے تو اچھا تھا کہ ہمیں جیل بھیج دیتا!”
°°°°°°°°°
“زیغم” اور “مائد” “توقیر” سے پہلے حویلی پہنچ چکے تھے۔ “زیغم” کا پارہ فل ہائی تھا۔ ایک تو “دانیہ” کو اتنی تکلیف میں دیکھ کر وہ پہلے ہی غصے میں تھا، اوپر سے “مائد” نے جو یہ کہا تھا کہ: “اگر وہ اس کی جگہ ہوتا، تو وہ تو ان سب کو کاٹ کے رکھ دیتا!” یہ جملہ جلتی پر تیل کا کام کر گیا تھا۔ “مائد خان” نے یہ بات بولنے کے بعد ،اپنی طرف سے تو “زیغم” کو سمجھانے کی بہت کوشش کی، مگر “مائد خان دورانی” یہ بھول گیا تھا کہ اس کے مقابل کوئی عام ہستی نہیں بلکہ “زیغم سلطان لغاری” ہے—وہ شخص، جس کے دماغ میں کوئی بات ایک بار بیٹھ جائے، تو اسے نکالنا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہوتا ہے۔ اب تو “مائد” خان بھی ڈرا ہوا تھا۔ اس کا دل انجانے خدشات میں گھرا ہوا تھا۔ اسے اب احساس ہو رہا تھا کہ اس نے یہ جملہ بول کر شاید غلطی کر دی ہے۔ وہ خود کو کوس رہا تھا کہ نجانے “زیغم” گھر جا کر کیا کرے گا۔ جیسے ہی “زیغم” حویلی کے اندر داخل ہوا، تو مانو اسے پر لگ گئے تھے۔ “مائد” کے گاڑی سے نکلنے سے پہلے ہی وہ اندرونی دروازہ دھکیل کر اندر جا چکا تھا۔
“ابے یار رک!”
“کیا کھا لیا جو ہوا میں اُڑتے جا رہے ہو؟”
“مائد” نے گھبراہٹ سے اسے پکارا۔ “زیغم” تیزی سے گاڑی سے نکل کر تقریباً دوڑتے ہوئے دروازے کے اندر جا گھسا تھا۔
“زیغم”، سن تو لے!”
“مائد” نے ایک آخری بار روکنے کی کوشش کی، مگر “زیغم” کا دماغ اس وقت کسی اور ہی رخ پر تھا۔ اس کے چہرے پر جو طوفان نظر آ رہا تھا، وہ کسی بھی لمحے تباہی مچا سکتا تھا۔ سونے پہ سہاگہ، گھر کے اندر داخل ہوتے ہی “قدسیہ” “شہرام” کے ڈاکٹر پر برس رہی تھی۔
“اگر میرے بیٹے کو کچھ ہوا تو میں جان لے لوں گی تمہاری!”
“کیوں تم میرے بیٹے کو وقت پر دوائی نہیں دے رہے؟”
“تمہارا فرض ہے کہ تم اس کا خیال رکھو!”
“اتنی موٹی تنخواہ تمہیں اسی کے لیے دی جا رہی ہے!”
بیچارہ میل نرس، جو “شہرام” کی دیکھ بھال کے لیے رکھا گیا تھا، خاموش کھڑا تھا۔ وہ کیا بولتا۔ ایک تو پہلے ہی اس پر چیخ و پکار ہو رہی تھی، اور دوسرا وہ جانتا تھا کہ اس خاتون سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔
“اسے تنخواہ تمہارے باپ یا بھائی کی کمائی سے نہیں دی جاتی، جو اتنا تڑپ اور چیخ رہی ہو!”
“زیغم” کی گرجدار آواز سن کر “قدسیہ” کی زبان اچانک بند ہو گئی۔
“زیغم” کی آواز سنتے ہی–––– الٰہ دین کے چراغ سے جن نہیں، بلکہ بھوتنی کی طرح “نایاب” فوراً اپنے کمرے سے بھاگتی ہوئی نکلی تھی۔ ابھی کچھ دیر پہلے ہی وہ سارے کام ختم کر کے بے حال ہو چکی تھی، اسی لیے شاور لینے گئی تھی مگر “زیغم” کی آواز سنتے ہی اس کا سکون غارت ہو چکا تھا، وہ بنا کچھ سوچے فوراً باہر آ گئی۔
“کیوں چلا رہی ہیں اس پر؟”
“یہ وہی کرے گا جو میرا حکم ہوگا!”
“زیغم” سیڑھیاں چڑھتے ہوئے غضبناک انداز میں دھاڑا، تو “قدسیہ” کے تو جیسے رنگ ہی اڑ گئے۔
“نن۔۔۔ بیٹا، میں تو بس یہ کہہ رہی تھی کہ “شہرام” کو بہت درد ہو رہا ہے، اور یہ اسے انجیکشن نہیں لگا رہا۔ بول رہا ہے کہ جب تک تم خود نہیں کہو گے، یہ نہیں لگائے گا۔ میں تو بس اسی لیے تھوڑا سا غصے میں آ گئی تھی!”
اب “قدسیہ” بھیگی بلی بنی میاؤں میاؤں کرتی صفائی دینے لگی۔
“اچھا! تمہارے بیٹے کی ٹانگ میں درد ہے؟”
“میں ابھی ختم کر دیتا ہوں!”
“زیغم” نے کمر پر لٹکتے پسٹل کو نکالا اور “شہرام” کے کمرے کا دروازہ زور سے پاؤں مار کر کھول دیا۔ “قدسیہ” کی تو جان نکل گئی تھی۔ “نایاب” بھی دوڑتی ہوئی آئی، اور “مائد” تو سو کی اسپیڈ سے سیڑھیاں چڑھتا ہوا “زیغم” کے پیچھے پہنچا۔ جیسے ہی اس نے دروازہ دھکیلا، ہال میں ایک عجیب سا سکوت چھا گیا۔ “مائد” نے ایک گہری سانس لی، دل ہی دل میں خود کو کوس رہا تھا کہ آخر اس نے وہ جملہ کیوں کہہ دیا؟
“تو، تمہیں درد ہو رہا ہے؟”
“تمہارے درد کا علاج کرنے آیا ہوں!”
“زیغم” نے دروازہ دھاڑ سے کھولا۔ “شہرام” درد سے کراہ رہا تھا، مگر جب اس نے “زیغم” کے ہاتھ میں پسٹل دیکھی، تو اس کے تو طوطے ہی اُڑ گئے۔
“نہیں! نہیں! پلیز! “زیغم”، گولی مت چلانا!”
“خدا کا واسطہ ہے، مت چلانا!”
“سچ میں بہت درد ہو رہا ہے!”
“شہرام” بلبلا اٹھا۔ وہ جانتا تھا کہ “زیغم” دھمکیاں دینے والا شخص نہیں، جو کہتا ہے، وہ کر گزرتا ہے۔ وہ گھبرا کر بیڈ پر دبک گیا، آنکھوں میں خوف اور جسم میں کپکپاہٹ تھی۔ “قدسیہ” اور “نایاب” چیختی ہوئی آگے بڑھی کہ “زیغم” کو روکے مگر اس سے پہلے ہی “مائد” خان “قدسیہ” کو ایک طرف ہٹاتے ہوئے بجلی کی تیزی سے آگے بڑھا۔ ایک لمحے کی بھی تاخیر ہو جاتی تو “زیغم” واقعی “شہرام” کی دوسری ٹانگ بھی اڑا چکا ہوتا، بلکہ ممکن تھا کہ وہ سیدھا اس کے سینے میں گولی اتار کر قصہ ہی تمام کر دیتا مگر عین وقت پر “مائد” نے عقلمندی سے “زیغم” کا ہاتھ گھما دیا، اور گولی سیدھا کھڑکی کے شیشے سے جا ٹکرائی۔
“دھڑ! دھڑ! دھڑ!”
شیشے کی کرچیاں ہوا میں بکھر گئیں، اور پورے کمرے میں دھوئیں کی ہلکی سی تہہ پھیل گئی۔ “قدسیہ” اور “نایاب” نے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے۔ “شہرام” کی آنکھیں خوف سے باہر نکلنے کو تھیں، وہ صدمے میں چلا گیا۔ “زیغم” غصے میں پاگل ہو رہا تھا، “مائد” نے اس کے پسٹل والے ہاتھ کو پیچھے سے جکڑ رکھا تھا، دونوں ایک دوسرے سے زور آزمائی کر رہے تھے۔
“چھوڑ مجھے، چھوڑ! آج میں اس کا قصہ تمام کر دوں گا!”
“زیغم” دھاڑا، “مائد” کو جھٹکنے کی کوشش کی۔
“اس کتے کی وجہ سے میری بہن تڑپ رہی ہے، درد میں بلک رہی ہے!”
“اسے جینے کا کوئی حق نہیں! میں مار دوں گا اسے!”
دونوں اپنی طاقت آزما رہے تھے۔ “زیغم” جھٹپٹا کر آزاد ہونا چاہتا تھا تاکہ “شہرام” کو ختم کر سکے، جبکہ “مائد” اسے قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“پلیز! “زیغم”، میری بات سنو، ایک بار روم میں چلو!”
“مائد” نے زبردستی اسے کھینچنے کی کوشش کی۔
“میں نہیں جاؤں گا! میں اسے نہیں چھوڑوں گا! تم نے خود دیکھا ہے، “دانیہ” کس تکلیف میں ہے! میری بہن تڑپ رہی ہے، اور یہ چین سے کیسے رہ سکتا ہے؟”
“زیغم” کی آنکھیں خون اُگل رہی تھیں۔
“ہم اسے چین سے نہیں رہنے دیں گے، لیکن اس وقت نہیں! پلیز! صبح رمضان کا پہلا روزہ ہے، ہم اس مقدس مہینے کی شروعات خون خرابے سے نہیں کر سکتے!”
“اللہ راضی نہیں ہوگا، “زیغم” پلیز!”
“مائد” نے پوری طاقت سے اسے کھینچا اور زبردستی گھسیٹ کر روم سے باہر لے گیا۔
“ہائے! میرا بچہ!”
“زیغم” کے جاتے ہی “قدسیہ” منہ پھاڑ کر روتے ہوئے “شہرام” سے لپٹ گئی۔
“اب ہمیں یہاں سے چلے جانا چاہیے!”
“یہ ہمیں نہیں چھوڑے گا!”
“کون جانے کب یہ پاگل پھر پسٹل لے کر آ جائے۔ ہم یہاں نہیں رہ سکتے!”
“ہائے میرا بچہ! اگر دو منٹ کی بھی دیر ہو جاتی، تو میرا بیٹا مر جاتا!”
وہ بین کرتے ہوئے مسلسل رو رہی تھی۔ بین کرتے ہوئے اپنے بیٹے کا چہرہ چوم رہی تھی۔
“خدا کے لیے چپ ہو جائیں!”
“آپ مجھے اور ڈرا رہی ہیں، پہلے ہی درد سے مرا جا رہا ہوں!”
“شہرام” جھنجھلا کر انہیں خود سے الگ کرتے ہوئے بولا۔
“نایاب” کی حالت بھی کافی غیر ہو رہی تھی۔ وہ آنکھیں پھاڑے ساکت کھڑی تھی، جیسے کسی اور ہی دنیا میں گم ہو۔ “زیغم” کے اس وحشیانہ روپ کو اس نے کبھی پہلے نہیں دیکھا تھا۔ وہ غصے والا تو ہمیشہ سے تھا، مگر اب تو ہر چھوٹی بات پر بندوق تان لینا جیسے اس کے لیے عام سی بات ہو گئی تھی۔
“تُو کیوں سکتے کی عالم میں کھڑی ہے؟”
“جا، جا کر بھائی کے لیے دودھ گرم کر، اس میں ہلدی ڈال کر لا!”
“دیکھ نہیں رہی، بھائی کتنی تکلیف میں ہے؟”
“قدسیہ” نے غصے سے “نایاب” کو جھنجھوڑا۔
“جا رہی ہوں! میرا یہی کام رہ گیا ہے،صبح صبح اٹھ کر باتھ روم صاف کروں۔ سارا دن گھر کی صفائیاں کروں، اور اس کے بعد آپ کا حکم بجا لاؤں!”
“مجھے تو بالکل نوکرانی بنا کر رکھ دیا ہے!”
“نایاب” بڑبڑاتی ہوئی روم سے باہر نکل گئی۔
“یہ––––یہ میری بہن ہے؟”
“اس کے لیے میں نے کیا کچھ نہیں کیا؟”
“اور اب اس کی باری آئی ہے، تو کیسے بک بک کرتی ہوئی جا رہی ہے؟”
“شہرام” اپنی زخمی ٹانگ پکڑ کر درد سے کراہتے ہوئے بولا۔
“تُو چپ کر! زیادہ ٹینشن نہ لے!”
“بس تُو اپنے ابا سائیں کے آنے کا انتظار کر، ہمیں یہاں نہیں رکنا!”
“کسی بھی طرح یہاں سے نکلنا ہے، ورنہ وہ ہمیں مار ڈالے گا!”
“پتہ نہیں کس دن سوتے میں تکیہ رکھ کر میرا دم ہی نہ گھوٹ دے۔ ہائے اللہ! ہم کہاں پھنس گئے؟”
“اے اللہ! بچا لے ہمیں۔ مجھے نہیں مرنا مجھے نہیں مرنا!”
“ہائے میرا بیٹا–––ہائے اللہ جی میرا بیٹا۔”
“قدسیہ” خوف سے کانپ رہی تھی۔
“خدا کا واسطہ ہے، آواز تو نیچے رکھیں!”
“ایسے بول رہی ہیں، جیسے میں مر چکا ہوں!”
“شہرام” چڑ کر بولا۔
“اللہ نہ کرے! اللہ نہ کرے کہ تجھے کچھ ہو!”
“قدسیہ” فوراً اپنے الفاظ کا اثر زائل کرنے لگی۔
“ابا سائیں کہاں ہیں؟”
“شہرام” نے درد سے کراہتے ہوئے پوچھا۔
“کہاں ہوں گے؟”
“بیچارے سبزیاں لینے گئے ہیں، سحری اور افطاری کا سامان لینے!”
“پتہ نہیں، کیا کیا خرید رہے ہیں–––ظالم انسان نے سب کی حالت خراب کر رکھی ہے!”
“تُو تو یہاں روم میں آرام سے پڑا ہے تجھے کیا پتہ، صبح سے ہم سے پوری حویلی کی صفائیاں کروائے جا رہا ہے اور حکم جاری کر دیا ہے کہ صبح اٹھ کر سحری ہم نے بنانی ہے اور تیرے بابا سائیں بیچارے اس عمر میں گاڑیاں دھو رہے ہیں۔ پوری ایک لمبی قطار گاڑیاں دھو کر آئے ہیں، ابھی آ کر سانس بھی نہیں لیا تھا کہ اس کو بازار بھیج دیا۔”
“قدسیہ” تھکی ہوئی آواز میں “شہرام” کو اپنی دکھ بھری کہانی بتا رہی تھی۔ ظالم عورت کو بھول گیا تھا کہ خود کتنے ظلم کیے ہیں، اب اپنی باری آئی تو تڑپ رہی تھی۔ “شہرام” کی تو آنکھیں پھٹی ہوئی تھی اور “قدسیہ” کی باتیں سن سن کر کچھ دیر کے لیے تو اپنا درد بھی بھولنے لگا تھا۔
“صحیح کہہ رہی ہیں، یہاں سے چلے جانا بہتر ہے! جب تک میں ٹھیک نہیں ہوتا، بابا سائیں کو بولیں کہ ہمیں یہاں سے نکالیں، ورنہ وہ ہمیں جان سے مار ڈالے گا! اور میں ابھی اس کتے کا سامنا کرنے کے قابل نہیں ہوں!”
“شہرام” نے بے بسی سے ایک بار پھر اپنی ٹانگ کو پکڑ کر ہلکا سا کراہ کر کہا۔
“قدسیہ” ‘ہاں’ میں سر کو ہلاتے ہوئے پتہ نہیں کیا کیا پڑھ کر اپنے بیٹے پر پھونک رہی تھی۔ “قدسیہ” “شہرام” کی شکلیں دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے دونوں نے موت کا فرشتہ دیکھ لیا ہو۔
°°°°°°°°°
“زیغم” کو زبردستی کمرے میں لا کر دروازہ بند کرتے ہوئے “مائد” خان نے کتنی مشکل سے اسے صوفے پر بٹھایا تھا، یہ تو صرف وہی جانتا تھا۔ “زیغم سلطان” نے راستے بھر جھپٹے مارے تھے، خود کو اس کی گرفت سے آزاد کرنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔”مائد” خان کو اسے قابو میں رکھنے کے لیے اپنی پوری طاقت لگانی پڑی تھی، تب جا کر وہ کسی نہ کسی طرح اسے روم تک کھینچ لایا تھا۔
“کیوں روکا تم نے مجھے؟”
“زیغم” دھاڑا، آنکھوں میں وحشت اور جنون کی شدت تھی۔
“تمہیں کیا لگتا ہے صرف تم میں غصہ ہے؟”
“تم نے خود ہی کہا تھا کہ اگر تمہارا سامنا ایسے درندوں سے ہوتا، تو تم انہیں کب کا ختم کر چکے ہوتے!”
“تو پھر میرے لیے رولز نئے فٹ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟”
“مائد” خان نے گہرا سانس لیا، وہ جانتا تھا کہ اگر اس نے ایک لمحے کی بھی کوتاہی کی، تو “زیغم” قابو سے باہر ہو جائے گا۔ وہ اس کے قریب بیٹھتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام کر نرم مگر مضبوط لہجے میں بولا:
“میری بات سن، مجھے پتہ ہے کہ تجھے اس وقت کتنا غصہ ہے، مگر غصے میں کیا رمضان کی شروعات تُو خون خرابے اور گولیوں سے کرے گا؟”
وہ اس کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا، کیونکہ اسے بھروسہ نہیں تھا کہ یہ شیر کسی بھی وقت اس کے ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ رمضان اور روزے کی بات سن کر “زیغم” کچھ دیر کے لیے خاموش تو ہوا تھا مگر ابھی تک غصے کی شدت سے “زیغم” کی سانسیں بے ترتیب تھیں، ہاتھ مٹھی میں بھینچے ہوئے تھے، آنکھوں میں خون کے لال ڈورے اس کی آنکھوں کو پرکشش بنا رہے تھے۔
“تو کیا کروں ان کو آزاد گھومنے دوں؟”
“اپنے ماں باپ کے قاتلوں کو، اپنی بہن پر ظلم کرنے والوں کو آزاد گھومنے دوں، کچھ نہ کہوں ان کو؟”
“نہیں یار۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن میں فرمایا ہے کہ ظالم کے ساتھ نرمی برتنا ظلم کو بڑھاوا دینا ہے۔ میں تمہیں اللہ کے حکم کے خلاف کیسے بول سکتا ہوں۔ ظلم کرنے والے کو سزا ملنی چاہیے۔”
“مائد” کے لہجے میں ٹھہراؤ اور نرمی کا محلول بہت گہرا تھا۔
“زیغم” نے غصے سے سر جھٹکا۔
“تو پھر مجھے روک کیوں رہے ہو؟”
“میں اسے اس کے کیے کی سزا کیوں نہ دوں جن کی وجہ سے میرا ہنستا کھیلتا گھر تباہ ہو گیا؟”
“زیغم” کی آواز میں ٹھہراؤ تھا، مگر غصے کی شدت بہت زیادہ تھی۔الفاظ چٹان کی طرح مضبوط تھے۔
“اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ زیادتی کا بدلہ لینا تمہارا حق ہے، لیکن اگر صبر کرو، تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے مگر یاد رکھو! اگر تم بدلہ لو، تو انصاف کے دائرے میں رہو، کیونکہ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔”
“مائد” نے نرمی اور دلائل کے ساتھ “زیغم” کو سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کیونکہ “مائد” کے مقابلے “زیغم” کو اس کی بات سے ہٹانا اور کوئی بات اس سے زبردستی منوانا ناممکن سی بات تھی۔ ایک اچھے دوست ہونے کے ناطے “مائد” خان کو اچھی طرح سے پتہ تھا کہ “زیغم” کو کس طرح سے پٹڑی پر لانا ہے، ورنہ اس وقت وہ بے قابو ہو کر سب دشمنوں کی ہستیاں نیست و نابود کر سکتا تھا۔ “مائد” کی دلائل بھری باتیں سن کر بھی “زیغم” کی آنکھوں میں بے قراری تھی۔ وہ اپنی بہن کو تڑپتے ہوئے دیکھ کر آیا تھا، اس کے لیے آسان نہیں تھا اس وقت اپنے دشمنوں کو معاف کرنا۔ دشمنوں کی وجہ سے اس نے اپنے بہت سے قیمتی رشتے گنوائے تھے۔ “زیغم” کا دل اندر سے پوری طرح سے چھلنی تھا۔ پورا کنبہ ان گندے حسد کرنے والے لوگوں کی وجہ سے تباہ ہو گیا تھا۔ ایک بہن بچی تھی تو اس وقت دردوں سے چور تھی۔ ایسے میں “زیغم” کا غصہ اپنی جگہ بالکل ٹھیک تھا مگر وہ اپنے رب کی باتوں کو بھی نہیں جھٹلا سکتا تھا۔ مسلمان ہونے کے ناطے اس کا عقیدہ تھا اس کے رب نے جو فرما دیا وہ اٹل ہے۔
“مگر “مائد” میں اسے یونہی چھوڑ نہیں سکتا۔”
“زیغم” کے اس جملے پر، اس کے درد کو سمجھتے ہوئے “مائد” نے گہری سانس لی۔
“کس نے کہا ہے کہ تم ان کو چھوڑ دو؟”
“اللہ نے یہ بھی کہا ہے کہ جو ظلم کا ساتھ دے، وہ بھی ظالموں میں شمار ہوگا۔”
“میں جانتا ہوں کہ “شہرام” نے جو کیا، وہ معافی کے لائق نہیں، مگر ہمیں انصاف سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، نہ کہ اندھے انتقام میں ڈوبنے کی۔”
“زیغم” نے “مائد” کی بات پر غور کرتے سوچا۔ اس کا سانس کچھ حد تک بحال ہوا مگر اندر کا طوفان ابھی بھی تھما نہیں تھا۔ “زیغم” “مائد” کی بات کو جھٹلا نہیں سکتا تھا۔ مسلمان ہونے کے ناطے روزے اور رمضان کی فضیلت سے وہ بے خبر نہیں تھا۔ اسے معلوم تھا کہ یہ مہینہ صبر، بردباری، اور اللہ کی رحمت کو سمیٹنے کا وقت ہے مگر اس کے دل میں جو آگ جل رہی تھی، وہ آسانی سے بجھنے والی نہیں تھی۔
“زیغم” نے سر جھٹکا، ہاتھوں کی مٹھی سختی سے بھینچتے ہوئے گہری سانس لی۔
“مائد!” میں جانتا ہوں کہ رمضان کا مہینہ رحمت اور برکت کا مہینہ ہے، مگر میں کیسے سکون سے بیٹھ سکتا ہوں جب میری بہن تکلیف میں ہے؟”
“تم نے اسے تڑپتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ کتنا تڑپ رہی تھی، اتنی تو اس کی جان نہیں کتنی تکلیف سے وہ گزر رہی تھی۔تم نے اس کی درد بھری چیخیں سنی تھیں!”
“زیغم” جتنی تکلیف سے “دانیہ” کی بات کر رہا تھا اگر اس وقت “زیغم” کی جگہ کوئی نرم دل انسان ہوتا تو شاید رو پڑتا مگر “زیغم سلطان” رونے کو اپنی توہین سمجھتا تھا مرد ہونے کے ناطے وہ رویا تو نہیں مگر اس کے الفاظوں کا درد بخوبی مائد تک پہنچ رہا تھا۔ “مائد” نے نرمی مگر مضبوطی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“زیغم”، اللہ نے رمضان کو صبر، ضبط اور عبادت کے لیے مقرر کیا ہے۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں شیطان کو قید کر دیا جاتا ہے، مگر اگر ہم اپنے نفس کے ہاتھوں مجبور ہو گئے، تو ہم شیطان کے قید ہونے کے باوجود اس کے راستے پر چلنے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔”
“زیغم” کی آنکھوں میں شدید کشمکش تھی۔ وہ جانتا تھا کہ “مائد” سچ کہہ رہا ہے، مگر انتقام کی آگ اسے بے چین کیے ہوئے تھی۔کبھی کبھی انسان سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی اپنے دل میں جلی ہوئی آگ کو بجھانے میں کمزور پڑ رہا ہوتا ہے، یہی حالت تھی اس وقت “زیغم سلطان” کی۔ “مائد” نے اسے گہری سوچ میں مبتلا دیکھ اس کی خاموشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جلدی سے اسے سمجھانے کے لیے ایک اور مضبوط دلائل دیا۔
“تمہیں اپنی بہن کے لیے انصاف لینا ہے، تو طریقہ بھی وہی اختیار کرو جو ہمارے نبیﷺ نے سکھایا۔ ظلم کے خلاف کھڑے ہونا جہاد ہے، مگر جذبات میں آ کر حدود پار کرنا خود کو ظالموں کی صف میں شامل کر لینا ہے۔”
“زیغم” نے گہری سانس لی، پھر صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔
“میں اس وقت صحیح اور غلط میں فیصلہ نہیں کر پا رہا۔ میں برداشت نہیں کر سکتا “مائد……”میری بہن کی اذیت، میرا ضبط توڑ رہی ہے!”
“زیغم” تُو کمزور نہیں ہے۔ رمضان کا مقصد یہی تو ہے، اپنے نفس پر قابو پانا۔ اگر تُو آج اپنے غصے پر قابو پا لے، تو یہ سب سے بڑی جیت ہوگی۔”
“زیغم” نے کچھ پل خاموشی اختیار کی، پھر آہستہ سے سر ہلایا۔
“ٹھیک ہے، میں ابھی کچھ نہیں کروں گا… مگر یہ معاملہ ختم نہیں ہوا۔”
“رمضان کے بعد میں ان کو سکون سے نہیں بیٹھنے دوں گا!”
“زیغم” فیصلہ کن انداز میں بولتے ہوئے “مائد” کی جانب دیکھ رہا تھا۔
“مائد” نے اطمینان سے اس کے کندھے پر ہاتھ مارا۔
“بس یہی تو چاہیئے تھا۔ باقی کا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دو۔”
یہی تو ہوتا ہے ایک سچے دوست کا کمال، جو غصے کی تپش میں جھلستے ہوئے اپنے دوست کو صبر اور برداشت کی ٹھنڈی چھاؤں میں لے آئے۔ “مائد” خان کے علاوہ “زیغم” کو اس وقت دنیا کا کوئی بھی شخص نہیں سمجھا سکتا تھا کیونکہ دوست وہی ہوتا ہے جو برے وقت میں صرف ساتھ نہ دے، بلکہ صحیح اور غلط کا فرق بھی دکھائے۔ “زیغم” کا غصہ اندھا تھا، انتقام کی آگ نے اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مفلوج کر دیا تھا مگر “مائد” نے جبراً اس پر کوئی فیصلہ نہیں تھوپا، نہ ہی زبردستی اسے روکنے کی کوشش کی بلکہ وہی راستہ دکھایا، جسے “زیغم” خود بھی جانتا تھا مگر جذبات کی شدت نے اسے بھلا دیا تھا۔
“غصہ عقل کو کھا جاتا ہے، “زیغم!”
“مگر ایمان کی روشنی اور محبت کا لمس اسے ٹھنڈا کر دیتا ہے۔”
“مائد” نے نرمی سے کہا تھا، اور یہی الفاظ “زیغم” کے کانوں میں کسی پرسکون بارش کی بوندوں کی طرح گرے تھے۔ آج “مائد” نے نہ صرف اپنے دوست کو بچا لیا، بلکہ اس کے دل میں صبر اور حکمت کا بیج بھی بو دیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ “زیغم” جیسا شخص آسانی سے نہیں مانے گا، مگر آج وہ اپنے یار کو پرسکون کرنے میں کامیاب رہا تھا۔
°°°°°°°°
جیسے ہی “زیغم” ہال میں داخل ہوا، نظریں سیدھا “رفیق” پر جا ٹھہریں۔
“سب خرید لیا؟”
آواز میں کرختگی واضح تھی۔
“رفیق” نے فوراً سر ہلایا۔
“جی سائیں، سب کچھ۔ بس……”
پل بھر کو رکا، پھر مدھم آواز میں بولا:
“آخر میں ٹماٹر والا شاپر وہیں رہ گیا۔”
“زیغم” کی نظریں فوراً سامنے کھڑے تھکن سے چور “توقیر” پر جم گئیں، جو بوجھل سانسیں لے رہا تھا، جیسے مزید سننے کی ہمت نہ ہو۔
“کیا––––بھول گیا؟”
“مطلب، اتنی لاپرواہی؟”
“زیغم” کی آواز میں ایک دم تناؤ بڑھا۔
“توقیر” نے تھکے تھکے انداز میں سر اٹھایا۔
“بس ایک شاپر ہی تو––––باقی سب تو لے آیا ہوں۔”
یہ کہنا تھا کہ “زیغم” کی آنکھوں میں غصے کی چنگاریاں بھڑک اٹھیں، جیسے موقع مل چکا ہو برسنے کا۔
“پیسے درختوں پر نہیں اُگتے!”
“جتنی میرے باپ کی جائیداد لٹانی تھی، لٹا لی، اب ایک روپیہ بھی ضائع نہیں ہونے دوں گا۔ فوراً جاؤ اور وہی سے ٹماٹر لے کر آؤ!”
“توقیر” کے چہرے پر بے بسی واضح تھی، بدن کی ساری ہمت جیسے ختم ہو چکی تھی۔
“میں اس وقت نہیں جا سکتا، بہت تھک گیا ہوں۔”
“زیغم” کے قدم آگے بڑھے، آنکھوں میں ایسی وحشت کہ “توقیر” کے ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑنے لگے۔
“انکار مت کرنا––––ورنہ یہیں زمین میں دفن کر دوں گا!”
“توقیر” کی آواز برف جیسی سرد اور تلوار جیسی کاٹ دار تھی۔
“پہلے ہی میرا دماغ بہت خراب ہے، میں نہیں چاہتا کہ رمضان کی شروعات تمہارے خون سے ہاتھ رنگ کر کروں۔ اگر زندگی چاہتے ہو تو فوراً جا کر ٹماٹر لے کر آؤ!”
“رفیق” نے خاموشی سے “توقیر” کا بازو تھاما اور باہر لے گیا۔ دروازہ بند ہونے کی آواز کے ساتھ ہی “زیغم” کی نظریں صحن میں رکھے سحری اور افطاری کے سامان پر جا ٹھہریں۔
“نایاب!”
دھاڑتی ہوئی آواز گونجی۔
“نایاب” بھاگتی ہوئی آئی۔
“جی؟”
“زیغم” نے صحن کی طرف اشارہ کیا۔
“یہ سارا سامان کچن میں لے جاؤ۔ اپنی ماں کو بھی بلاؤ، صبح کی سحری ابھی سے تیار کرو۔ اگر کسی ملازم کی سحری لیٹ ہوئی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا!”
“نایاب” نے حیرانی سے سامان کے ڈھیر کو دیکھا۔
“یہ سب میں اکیلی کیسے–––؟”
“زیغم” کی نظریں اٹھیں، چنگاریاں برس رہی تھیں، لبوں پر زہر خندہ مسکراہٹ آئی۔
“نہیں، تمہارے باپ نے جو اپنی محنت کی کمائی پر اتنے نوکر پالے ہیں، انہیں بلوا لیتا ہوں!”
سامان کے بھاری شاپر اٹھاتے ہوئے “نایاب” کی حالت بری ہو رہی تھی۔ اگلی پکار پر “قدسیہ” بھی وہاں آ چکی تھی۔ “قدسیہ” بھی خاموشی سے ساتھ اپنی بیٹی کے ساتھ لگ چکی تھی انکار کرنے کی گنجائش ہی نہیں تھی۔ “زیغم” نے ٹانگ پر ٹانگ رکھی، پشت پر بازو پھیلائے، اور تسلی سے منظر دیکھ کر کچھ پرسکون ہو رہا تھا۔ ان پر کڑی نگرانی کرنے کے لیے وہ خود ہی وہیں پر بیٹھا تھا۔ اوپر کھڑی “سلمہ” سب دیکھ رہی تھی، مگر جیسے ہی “مائد” کی نظر اٹھنے کا خدشہ ہوا، دبے پاؤں واپس پلٹ گئی۔ آخر بڑی مشقت کے بعد ماں بیٹی سارا سامان کچن تک لے جانے میں کامیاب ہو گئیں، مگر ان کی آزمائش ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ “زیغم” نے “نایاب” کو گھورتے ہوئے کہا:
“صبح وقت پر سحری نہ بنی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ آج تو تمہارے بھائی تک ڈاکٹر کی دوائی پہنچ گئی، کل ایسی امید مت رکھنا۔ کوئی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا اور صرف سحری نہیں، افطاری بھی تم لوگوں کو ہی بنانی ہے۔”
یہ کہہ کر وہ اٹھا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا، اس کے پیچھے “مائد” بھی چل پڑا۔
ماں بیٹی تھکن سے نڈھال وہیں صوفے پر بیٹھ گئیں۔ “قدسیہ” نے “نایاب” کی طرف دیکھا اور آہ بھری۔
“یہ رمضان ہے یا ہماری آزمائش؟”
“نایاب” نے بے بسی سے سر جھٹکا۔
“اماں جتنا یہ ہم سے کام لے رہا ہے مجھے تو لگتا ہے عید سے پہلے ہم نے تو مر جانا ہے!”
دونوں ماں بیٹی خون کے آنسو بہاتے ہوئے کچھ دیر وہیں پر بیٹھی رہی تھی۔
°°°°°°°
“قدسیہ” نے جیسے ہی گھڑی پر نظر ڈالی، اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“یااللہ! ہمیں لیٹ ہو گئی ہے!”
وہ سر تھام کر رہ گئی۔
“کیا ہوا؟”
“توقیر”، جو آنکھیں ملتا ہوا کروٹ لے رہا تھا، اس کی ہڑبڑاہٹ دیکھ کر حیران ہو گیا۔
“کیا ہوا؟ تمہیں ہوش بھی ہے کہ وقت کیا ہو رہا ہے؟”
“اٹھو، جلدی کرو، ورنہ وہ “زیغم” ہمیں زندہ نہیں چھوڑے گا!”
“قدسیہ” جھنجھلا کر بولی اور تیزی سے نایاب کے کمرے کی طرف دوڑی۔
“نایاب” بے خبر، گہری نیند میں تھی، چادر اوڑھے ایسے سکون سے سو رہی تھی جیسے اسے دنیا و مافیہا کی کوئی فکر نہ ہو۔ “قدسیہ” نے ایک نظر اس پر ڈالی، پھر گھڑی کی طرف دیکھا، اور پھر بغیر کسی وارننگ کے زوردار تھپڑ اس کے کندھے پر مارا۔
“اٹھ جا، بدبخت! مرنا ہے کیا آج؟”
“نایاب” ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی، آدھی بند آنکھوں سے ماں کو دیکھا۔
“اماں، خیریت؟ زلزلہ آیا ہے کیا؟”
“زلزلہ نہیں، قیامت آنی ہے اگر سحری لیٹ ہوئی تو!”
“قدسیہ” نے جھنجھلا کر کہا:
“اٹھ، جلدی کر، نہیں تو “زیغم” ہمیں دفن کر دے گا!”
“نایاب” نے سستی سے آنکھیں کھولیں۔
“لگتا ہے پہلے روزے کی صبح ہی اماں پاگل ہو گئی ہے۔ صبح صبح کوئی کسی کو اس طرح اٹھاتا ہے؟”
“قدسیہ” نے صبر کا گھونٹ بھرا اور اگلے ہی لمحے دھپ سے “نایاب” کے بازو پر تھپڑ رسید کر دیا۔
“پاگل میں نہیں، تُو ہے! اٹھ جا، ورنہ سحری لیٹ ہونے کی صورت ہمارا روزہ نہیں، نمازِ جنازہ ادا ہو گی!”
“قدسیہ” کی گھبراہٹ اور باتوں کو سن کر تھپڑ کھانے کے بعد “نایاب” کے اوسان اب کچھ حد تک بحال ہوئے، اسے یاد آیا کہ آج کی سحری ان کے ذمے تھی۔
“او مائی گاڈ!”
وہ بستر سے کود کر اٹھی اور سیدھا واش روم کی طرف بھاگی۔
ادھر “توقیر” بھی جلدی جلدی منہ دھوتے ہوئے نکل آیا، اور ماں بیٹی کو کچن میں بھاگتے دوڑتے دیکھ کر ماتھے پر ہاتھ مار لیا۔
“یہ جو ہو رہا ہے، اسے سحری بنانا کہتے ہیں یا سرکس لگانا؟”
“قدسیہ” اور “نایاب” نے گھور کر اسے دیکھا، مگر اس وقت کوئی بحث نہیں ہو سکتی تھی کیونکہ آلریڈی ان کے پاس ٹائم کم تھا۔
“سائیں آپ کھڑے کھڑے ہمارا تماشہ مت دیکھو آپ بھی کچھ کر لو۔”
“جا کر دودھ ہی گرم کر لو!”
“قدسیہ” نے “توقیر” کو کھڑے دیکھ کر کڑک حکم دیا۔
“ہاں ہاں میں ابھی جا کر کھیتوں سے دودھ دھو کر، تازہ تازہ لے کر آتا ہوں، پھر اس سے چائے بنا کر دوں گا۔ مجھے تو مزدور بنا کر رکھ دیا ہے!”
“فرج میں رکھا ہے دودھ اسی سے کام چلا لو!”
“قدسیہ” نے اس کے طنز پر طنز مارا تھا۔
“توقیر” جو تھکن سے بے حال تھا زبردستی خود کو کام میں لگایا۔ “توقیر لغاری” صاحب اس وقت چائے بنا رہے تھے واہ واہ واہ۔۔۔کیا منظر تھا۔ ادھر “قدسیہ” اور “نایاب” نے جیسے ہی چولہا جلایا، تو “نایاب” کو آٹے کا حال دیکھ کر جھرجھری سی آ گئی۔
“اماں، میں بتا رہی ہوں، روٹیاں تم بیل لو، میں ان پر گھی لگاؤں گی!”
“ہاں۔۔سارے کام مجھ سے ہی کروا لو۔”
“میں تو سالوں سے ملازمت کرتی آئی ہوں حویلی میں، میرا بڑ ا تجربہ ہے!”
“قدسیہ” نے جھلا کر کہا اور خود بیلن سنبھال لیا۔ ادھر “توقیر” نے دودھ گرم کرنے کے چکر میں چولہا اتنا تیز کر دیا کہ دودھ نے فوراً ہی جوش مارا اور چولہا بجھا دیا۔
“یااللہ، یہ بندہ سحری بنانے آیا ہے یا ہمارے لیے اور کام بڑھانے؟”
“قدسیہ” نے غصے سے دیکھا۔
“چپ کر کے تُو اپنا کام کر میں صاف کر لوں گا!”
“توقیر” نے غصے سے کہا۔
“نایاب” نے جلدی سے پراٹھے سینکنے شروع کیے، مگر ناتجربہ کاری کے باعث پہلا پراٹھا تو جیسے کوئلہ ہی بن گیا۔
“توقیر” تیرا بیڑا غرق ہو، ان کو ذرا پھیلا بھی لے۔ پہلا پراٹھا جلا کر رکھ دیا ہے، ہم کیسے سب کی سحری بنائیں گے؟”
“لیٹ ہونے کی صورت میں اب وہ پتہ نہیں کیا کرے گا؟”
“قدسیہ” اسے کوستے ہوئے پراٹھے کو اتار کر دوسرا پراٹھا اوپر ڈالتے ہوئے، اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ صبح صبح “نایاب” پر تھپڑوں کی بارش کر دے۔
“اب یہ کھا کر روزہ رکھنا۔ میرے دودھ گرنے پر بڑی باتیں آرہی تھی۔ خود عورتیں ہو کے تم لوگوں کو پراٹھے بنانے نہیں آتے!”
“توقیر” نے جلتے پراٹھے کو دیکھ کر طنزیہ تبصرہ کیا۔
“بس آپ کو تو موقع چاہیے جو آپ کو مل گیا ہے!”
“قدسیہ” نے دانت پیسے۔
اسی اثنا٫ میں، “زیغم” کی آواز آ گئی۔
“سحری تیار ہے؟”
“قدسیہ”، “نایاب” اور “توقیر” نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔سب کے قدموں تلے سے جان نکل گئی تھی۔ بیک وقت سب کے منہ سے صرف ایک ہی لفظ نکلا:
“آگیا موت کا فرشتہ!”
“ماشاءاللہ، یہ جلے ہوئے، آدھے ادھورے پراٹھے بنائے ہیں؟”
“اور چائے کے نام پر دودھ چولہے پر گرا دیا ہے!”
“صبح صبح رزق کی بربادی شروع کر دی ہے تم لوگوں نے!”
“تم لوگوں کو چھوڑوں گا نہیں!”
“زیغم” غصے سے گرجا۔
“قدسیہ”، “نایاب” اور “توقیر” سر جھکائے کھڑے تھے۔
“جب رات کو کہا تھا کہ سحری کی تیاری کر لو، تب تو تمہیں سمجھ نہیں آئی۔ اب یہ کیا حال بنا دیا ہے؟”
“میں تم سب کو دیکھ لوں گا!”
“ملازمین پر یہ ظلم میں نہیں کر سکتا، مگر تم لوگوں کو میں ایسا سبق سکھاؤں گا کہ یاد رکھو گے!”
وہ غصے میں بول کر باہر نکل گیا۔
باہر آ کر اس نے فوراً “رفیق” کو فون کیا۔
“فوراً ملازمین کے لیے بہترین سحری کا انتظام کرو!”
کچھ ہی دیر میں “رفیق” سحری کی ہر چیز لے کر پہنچ چکا تھا۔ باہر “زیغم” اور “مائد” آرام سے سحری کر رہے تھے، جبکہ اندر کچن میں بیٹھ کر “توقیر”، “قدسیہ” اور “نایاب” خون کے آنسو روتے ہوئے اپنے ہی ہاتھوں کی بنائی سحری کھانے پر مجبور تھے۔ آج تک زندگی میں انہوں نے کبھی اتنی بدمزہ سحری نہیں کی تھی جتنی آج کر کے وہ اپنی جان کو کوس رہے تھے۔
°°°°°°°°°°°
سحری کے وقت، “درخزائی” اور مورے پہلی بار ایک ساتھ اکیلے بیٹھے سحری کر رہے تھے کیونکہ نہ تو آغا جان رات کو فوتگی والے گھر سے واپس لوٹے تھے، ان کو کوئی ضروری کام تھا تو وہ وہیں رک گئے اور نہ ہی اس وقت “مائد” تھا۔ اس لیے سحری کے ٹائم صرف “درخزائی” اور مورے ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ ٹیبل پر مختلف پکوان سجے تھے، مگر “مائد” کی بھوک جیسے کہیں کھو گئی تھی۔ وہ چمچ سے پلیٹ میں ہلکی سی ضرب لگا رہا تھا، نظریں جھکی ہوئی تھیں، دل کسی اور خیال میں الجھا ہوا تھا۔
“مورے، خور جان ٹھیک ہو جائے گی نا؟”
“ہم سب مل کر اسے ٹھیک کر لیں گے نا؟”
“درخزائی” نے دھیمی آواز میں کہا، جیسے اپنے دل کی بے چینی کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہو۔
“بیٹا، انشاءاللہ۔ تم پریشان نہ ہو اور ٹھیک سے سحری کرو۔ روزہ رکھنا ہے نا تو صحیح سے سحری کرنی پڑے گی!”
مورے نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھپتھپایا، مگر وہ جانتی تھی کہ اس کا بیٹا بے حد پریشان ہے۔
“مورے، ان لوگوں نے خور جان کو کتنی تکلیف دی۔ وہ کتنی اچھی ہے، کتنی پیاری ہے۔ ہم اسے ہمیشہ کے لیے اپنے پاس رکھ لیتے ہیں، ہم اسے کبھی واپس نہیں جانے دیں گے!”
“درخزائی” کی آنکھوں میں بے بسی تھی، وہ شدید اضطراب میں تھا۔
“بیٹا، ہمیشہ کے لیے نہیں رکھ سکتے نا۔ اس کا بھائی اکیلا ہوگا، اسے اپنی بہن کی ضرورت ہے۔ ہاں، ہم اسے بلایا کریں گے، خود بھی اس سے ملنے جائیں گے۔”
مورے نے اسے پیار سے سمجھایا، مگر “درخزائی” کو یہ بات قبول نہیں تھی۔
“نہیں، وہ ان گندے لوگوں کے بیچ واپس نہیں جا سکتی، آپ کوئی حل نکالیں نا، اسے ہمیشہ کے لیے یہیں رکھیں!”
“درخزائی” ضد میں آ گیا، اس کی آواز میں عجیب سا دکھ تھا۔
“ایسا نہیں ہو سکتا، “درخزائی” اس کا اپنا گھر ہے، اس کا بھائی ہے، وہ کیسے اپنی بہن کو چھوڑ دے گا؟”
“اور اب جب وہ آ گیا ہے، وہ ان دشمنوں کو منہ توڑ جواب دے گا۔ دیکھنا، وہ اپنی بہن کو بہت اچھے سے رکھے گا۔”
مورے نے اس کے بالوں میں نرمی سے ہاتھ پھیرا، جیسے اس کے دل کو تسلی دے رہی ہو۔
“بس کریں، مجھے اور نہیں کھانا۔”
“درخزائی” نے ہاتھ پیچھے کر لیا، اس کی آنکھوں میں اداسی تیر رہی تھی۔ مورے نے ہلکی سی نفی میں سر ہلایا، بڑی مشکل سے اسے چند نوالے اور کھلائے، اتنے میں اذان ہونے لگی۔ وہ نماز کے لیے چلی گئیں۔
“تُو بھی جلدی سے اٹھ کر نماز پڑھ لے!”
وہ جاتے ہوئے بول کر گئی تھی مگر “درخزائی” ابھی بھی ٹیبل پر بیٹھا “دانیہ” کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ رات کو “دانیہ” کو بہت تکلیف تھی، اس لیے اسے پین کلر اور نیند کی دوا دی گئی تھی۔ “زیغم” سختی سے منع کر کے گیا تھا کہ وہ روزہ نہیں رکھے گی۔ اس لیے وہ ابھی تک بے خبر سو رہی تھی مگر “درخزائی” کے ننھے دل میں بے چینی اب بھی جاگ رہی تھی۔ وہ اسی کے بارے میں سوچتے ہوئے ٹیبل پر دونوں ہاتھ چہرے کے گرد رکھے ہوئے بیٹھا تھا۔
°°°°°°°°
“یار حد ہے! رمضان کا پہلا روزہ ہے اور ہم کن فضول کاموں میں پڑ گئے ہیں۔ روزہ رکھوا کر اب تم نے مجھے کالج کے گیٹ پر کھڑا کر دیا ہے۔ پورے دو گھنٹے ہو گئے ہیں، اور محترمہ کا کچھ پتہ نہیں۔”
“فیصل” بےزاری سے ہاتھ میں پکڑی گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے بولا۔ “زرام” خاموشی سے گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا، اس کے چہرے پر سکون تھا، جیسے اسے وقت کا کوئی احساس نہ ہو۔
“تم کچھ بولو گے بھی یا بس خاموش کھڑے رہو گے؟”
وہ “زرام” کی طرف دیکھتے ہوئے بولا، مگر “زرام” بدستور گیٹ کی طرف دیکھنے میں مصروف تھا۔
“تم منہ بند کر کے کھڑے رہ سکتے ہو یا نہیں؟”
“اگر نہیں تو رکشہ پکڑو یا کیب بک کرواؤ اور دفع ہو جاؤ۔”
“اپنی گرل فرینڈز کے لیے تم کہیں بھی جا کر دھکے کھا لیتے ہو، مگر میرے ساتھ کھڑے ہونا اتنا مشکل لگ رہا ہے تو جا سکتے ہو!”
اس کے لہجے میں مصنوعی غصہ تھا، مگر “فیصل” چڑ گیا۔ وہ گاڑی کے دوسری طرف جا کر دروازہ کھول کر ٹیک لگا کر کھڑا ہو گیا۔
“حد ہے، بندہ تھوڑی سی منت سماجت تو کر ہی لیتا ہے۔ تم یہ بھی تو کہہ سکتے تھے: “فیصل” یار پلیز، تھوڑی دیر میرے ساتھ رک جا، وہ تمہاری ہونے والی بھابھی ہے” مگر نہیں! تم تو “زرام” ہو، تمہاری شان میں کمی آ جائے گی نا؟”
وہ خفگی سے بولا، مگر “زرام” نے سر جھٹک دیا۔
“اگر دوستوں کی بھی منت سماجت کرنی پڑے، تو پھر لعنت ہے ایسی دوستی پر۔ پھر بندہ کرائے کے ٹٹو رکھ لے اور انہیں ساتھ لے کر گھومے۔”
وہ دھیمے مگر ٹھوس انداز میں بولا، “فیصل” نے جھنجھلا کر لمبی سانس لی۔
“بڑے سڑو ہو۔۔۔ نہیں، بلکہ ہو گئے ہو!”
اس نے سامنے کالج گیٹ کی طرف دیکھا، جہاں کچھ لڑکیاں باہر نکل رہی تھیں۔
“اچھا بتاؤ، یہ میری ہونے والی بھابھی جی کب نکلیں گی؟”
اس نے “زرام” کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“جاؤ، اندر جا کر پوچھ کر آؤ، کب تک نکلیں گی؟”
وہ چڑ کر بولا، مگر نظریں بدستور گیٹ پر ہی تھیں۔ “فیصل” نے اسے گھورا، مگر “زرام” کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔ یہ تو عشق تھا، جو اسے یوں بے صبری سے انتظار کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔ وہ ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہوئے الجھ رہے تھے کہ نظر سڑک دوسری پار گئی تو وقت ٹھہر گیا۔ انتظار کی گھڑی ختم ہوچکی تھی۔ جیسے ہی وہ گیٹ سے باہر نکلی، سڑک کے پار چلتی ہوئی دکھائی دی، لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ وہ کل منہ پر پڑے ہوئے تھپڑ کو بھی بھول چکا تھا۔ وہ گاڑی میں بیٹھتے ہی گاڑی کو گھما کر دوسری جانب لے گیا، جہاں وہ دونوں شاید بس اسٹاپ کی طرف جا رہی تھیں۔ بس اسٹاپ کچھ ہی فاصلے پر تھا۔ اچانک گاڑی سامنے رکتے دیکھ کر دونوں گھبرا گئیں۔
“گاڑی میں بیٹھو، بات کرنی ہے۔”
وہ گاڑی کا شیشہ نیچے کرتے ہوئے آنکھوں سے چشمہ اتارتے ہوئے دو ٹوک بولا۔ نوابزادے کا انداز ایسا تھا، جیسے کوئی حکم دے رہا ہو۔
“تمہیں شرم نہیں آتی کسی لڑکی کو اس طرح تنگ کرتے ہوئے؟”
“ملیحہ” اسے اور اس کے انداز کو دیکھتے ہی وہ بھڑک اٹھی۔
“اس کا جواب تو میں گاڑی میں بیٹھنے کے بعد دوں گا۔ گاڑی میں بیٹھو، اپنا اور میرا تماشہ مت بناؤ۔”
انداز اب بھی حکم دینے والا تھا۔ یہ چیز اس کی فطرت اور خون میں تھی، اس لیے وہ چاه کر بھی اپنے لہجے کو نرم نہیں کر پا رہا تھا جبکہ دل میں محبت کا سمندر ٹھاٹھے مار رہا تھا۔
“دیکھو مسٹر، تم نے اس دن میری ہیلپ کر کے مجھ پر احسان کیا، اس کے لیے میں بہت شکر گزار ہوں۔ یہ دیکھو، ہاتھ جوڑ کر تمہارا شکریہ ادا کرتی ہوں، اب میرا پیچھا چھوڑو، جان چھوڑو میری، اور چلے جاؤ یہاں سے۔”
“تم ٹھہرے امیرزادے اور ہم عام گھر کی لڑکیاں، ہماری بھی کوئی عزت ہے۔ یوں سرِ عام ہماری عزت کو نیلام مت کرو، خدا کا واسطہ ہے۔!”
وہ دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے جان چھڑانے کو تھی۔
“او محترمہ، عزت میری بھی ہے، مگر یہ بندہ میری عزت خراب کروانے پر تلا ہوا ہے۔”
“فیصل” نے گاڑی کے اسٹیئرنگ پر ہاتھ مارتے ہوئے اپنی بے بسی دکھائی جبکہ وہ صرف ڈرامہ کر رہا تھا اور کچھ نہیں۔
“ہاں تو سمجھاؤ اسے کہ دوسروں کی بیٹیوں کی بھی عزت ہوتی ہے۔ اس طرح لچے لفنگوں کی طرح بیچ راستے میں لڑکیوں کو روک کر کہنا کہ نواب کی اولاد کو بات کرنی ہے یہ کوئی اچھے لچھن نہیں ہیں!”
وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ہوئے “فیصل” کی طرف دیکھ کر کڑک لہجے میں بولی۔
“تمہیں کہیں سے بھی، میں کوئی آوارہ یا لچا لگتا ہوں جو تمہاری عزت خراب کرنا چاہوں گا؟”
“اگر میں اتنا ہی گھٹیا ہوتا تو اس دن تمہاری مدد نہ کرتا۔”
وہ ذرا سرد نظریں اس کے چہرے پر مرکوز کرتے ہوئے بولا تھا۔ اسے سچ میں بہت برا لگ رہا تھا “ملیحہ” کا اسے لچا لفنگا کہنا۔
“بہت مہربانی کہ اس دن تم نے میری مدد کی، اب مجھ پر رحم کھاؤ اور میرا پیچھا چھوڑ دو!”
“دیکھو––––تمہارا نام کیا ہے؟”
غصے سے انگلی اٹھاتے ہوئے کچھ بولنے والا تھا مگر رک گیا، یاد آیا کہ وہ تو نام جانتا ہی نہیں۔
“ملیحہ!” “ملیحہ” نام ہے اس کا!”
“فاریہ” جلدی سے بولی۔ چہرے پر مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔ “فاریہ” کو یہ کوئی فلمی سین لگ رہا تھا۔ وہ تو پوری طرح سے “زرام” کی چمچماتی گاڑی اور اس کی شخصیت پر فدا تھی۔
“ملیحہ……”ملیحہ زرام خان………”اچھا لگے گا تمہارے نام کے ساتھ میرا سر نیم۔”
زیر لب بڑبڑاتے ہوئے مسکرا دیا۔
“تم اپنا منہ بند نہیں رکھ سکتی تھی؟”
“میں نے کہا تھا میرا نام بتانے کو؟”
“ملیحہ” “فاریہ” پر برس پڑی۔
“ارے یار، نام ہی تو بتایا ہے، کون سا تمہارا نکاح کروا دیا ہے جو اتنی بھڑک رہی ہو؟”
“فاریہ” دانت نکالتے ہوئے بولی۔ “فاریہ” کے چہرے پر ذرا سی بھی شکن نہیں تھی۔ اسے کچھ بھی غیر معمولی اور حیران کن نہیں لگ رہا تھا۔
“انشاءاللہ۔۔بہت جلد یہ بھی ہو جائے گا۔”
“زرام” دھیمے لہجے میں بولا، مگر آنکھوں میں گہری محبت اور شرارت کی جھلک تھی۔ اس کی بڑبڑاہٹ اور “فاریہ” کے نکلتے ہوئے دانت کو دیکھ کر “ملیحہ” کا صبر جواب دینے لگا تھا۔
“دیکھو، میں تمہارا سر پھاڑ دوں گی، مجھے کمزور مت سمجھنا، سمجھے تم؟”
وہ نکاح والی بات پر غصے سے بھڑک اٹھی تھی۔ سچ میں اس وقت اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ “زرام” کے ساتھ ساتھ “فاریہ” کا بھی سر پھاڑ دیتی، جو آرام سے کھڑی دانت نکال کر دلچسپی سے سب کچھ سن رہی تھی۔
“میں کیسے مان لوں؟”
“مجھے تو تم کمزور ہی لگ رہی ہو۔ اگر کمزور نہیں ہو تو بیٹھ جاؤ گاڑی میں، صرف تم سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ بات کے بعد تمہیں باعزت تمہارے گھر چھوڑ دوں گا۔”
“او ہیلو! میں تمہیں پاگل لگتی ہوں جو تم جیسے اجنبی کی گاڑی میں بیٹھ جاؤں؟”
“مجھے تم پر کوئی بھروسہ نہیں!”
دو ٹوک انداز میں بولی اور کندھے پر لٹکے بیگ کا اسٹریپ درست کیا۔
“اچھا؟ اس دن تو میری گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے یہ خیال نہیں آیا تھا کہ میں اجنبی ہوں؟”
“عذاب ہو گیا اس دن تمہاری گاڑی میں لفٹ لے لی، تم تو سر کا درد بن گئے ہو!”
“نہیں بیٹھوں گی تو مطلب نہیں بیٹھوں گی!”
وہ صاف انکار کرتے ہوئے زبردستی “فاریہ” کا ہاتھ پکڑ کر تیزی سے آگے بڑھنے لگی تھی کہ “زرام” نے تیزی سے گاڑی سے نکل کر “ملیحہ” کا ہاتھ تھام لیا۔
“یا اللہ خیر کرنا یہ بندہ کہیں جوتے ہی نہ پڑوا دے۔”
“فیصل” ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے ہوئے بڑبڑایا تھا۔
“اتنی جرات رکھتا ہوں کہ تمہیں اٹھا کر لے جاؤں گا۔ اپنا اور میرا تماشہ مت بناؤ، سمجھی؟”
“یقین رکھو، کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا تمہیں!”
“زرام” کی نظریں سنجیدہ اور لہجہ سخت تھا۔ وہ دبے الفاظوں میں دھمکی دے رہا تھا۔
“دیکھیں، سختی کرنے کی ضرورت نہیں، ہم گاڑی میں بیٹھنے کے لیے تیار ہیں!”
“بات کرنے کے بعد آپ ہمیں کسی اچھے سے ریسٹورنٹ سے افطاری بھی کروائیں گے!”
“فاریہ” نے جلدی سے بیچ میں پڑھتے ہوئے حالات کو سنبھالنے کی کوشش کی اور بڑی سی گاڑی میں گھومنے کا اپنا شوق بھی پورا کرنے کو تیار تھی۔ “ملیحہ” نے گھور کر دیکھا مگر “فاریہ” نے اس کی نظروں کو اگنور کرتے۔ زبردستی دھکا دے کر گاڑی میں بٹھایا اور خود بھی ساتھ بیٹھ گئی۔ “ملیحہ” کو “فاریہ” کی یہ چالاکی بلکل بھی اچھی نہیں لگی تھی۔
“فاریہ” کی بچی نیچے اترو پاگل ہو گئی ہو؟”
“ہمیں نہیں جانا ان کے ساتھ!”
مگر دیر ہو چکی تھی کیونکہ “زرام” بھی فورا سے گاڑی میں بیٹھ چکا تھا۔ جیسے ہی گاڑی کا دروازہ بند ہوا، فوراً گاڑی لاک کر دیا گیا۔ “ملیحہ” کے تیور بتا رہے تھے کہ کسی بھی لمحے دروازہ کھول چلتی ہوئی گاڑی سے باہر کود سکتی ہے۔
“چپ کر کے بیٹھی رہو انسان ہے کھا نہیں جائیں گے!”
“فاریہ” نے نظریں بڑی سی گاڑی میں گھما کر پوری گاڑی کا جائزہ لیتے ہوئے اسے چپ رہنے کو کہا تھا۔
“فاریہ” کی بچی تم سے تو بعد میں بات کروں گی پاگل لڑکی!”
“ملیحہ” چلائی تھی۔
“دیکھو مسٹر!”
“ذرا م۔۔۔۔”ذرام” نام ہے میرا۔۔۔”
“تمہارا جو بھی نام ہے میں نے کون سا تمہارے نام کا اچار ڈالنا ہے۔ گاڑی روکو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا!”
“جو کر سکتی ہو کرو۔ چلانا چاہتی ہو؟ چلاؤ۔ دھمکیاں دینا چاہتی ہو؟ دو––––مگر گاڑی سے تم نہیں اتر سکتی اور تمہاری آزادی اسی صورت میں ہے جب تمہاری اور میری بات مکمل ہو جائے گی۔”
“زرام” پرسکون انداز سے سامنے نظر سڑک پر مرکوز کیے ہوئے بول رہا تھا۔
“شکل سے بھی غنڈے لگتے ہو اور حرکتیں بھی گنڈے موالیوں جیسی ہی ہیں!”
“گڈ پھر تو مسئلہ کلیئر ہو گیا۔ اب چپ کر کے بیٹھی رہو اس سے پہلے کہ میرے تیور بھی غنڈے موالیوں جیسے ہو جائیں!”
“زرام” لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ سجائے ہوئے بول رہا تھا۔
“چپ کر کے بیٹھ جا میری بہن، کچھ نہیں کرے گا اس بات کی میں گارنٹی دیتا ہوں!”
“فیصل” نے اپنی طرف سے معاملات ٹھیک کرنے چاہے تھے مگر “ملیحہ” کی بندوق کا رخ اس کی جانب ہو چکا تھا۔
“جیسا دوست، ویسے تم! تم کیا گارنٹی دو گے؟”
“تو تم تو خود گارنٹی کے قابل نہیں ہو!”
“تم میں ذرا بھی غیرت ہوتی تو ایک لڑکی کو کڈنیپ کرنے کے لیے یوں ڈرائیور بن کر ساتھ نہ گھومتے!”
اس کی بات پر وہ تلملا کر رہ گیا، مگر زبان نہیں کھولی۔
“لو جی، میری تو اچھی خاصی عزت افزائی ہو رہی ہے!”
ساتھ بیٹھے “فیصل” نے بے بسی سے “زرام” کی طرف دیکھا، جس کی وجہ سے ساری باتیں سننی پڑ رہی تھیں۔ “زرام” ایسے پرسکون انداز میں بیٹھا تھا جیسے اسے کچھ نہ سنائی دے رہا ہو نہ دکھائی دے رہا ہو اور دوسری جانب “ملیحہ” کے ساتھ بیٹھی ہوئی “فاریہ” کو “فیصل” کی درگت بنتے ہوئے دیکھ مزہ آ رہا تھا، وہ دبی دبی ہنسی روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ باقی راستے میں بھی یہی سلسلہ جاری رہا۔ وہ طنزیہ جملے اچھالتی رہی۔کبھی “فاریہ” کبھی “فیصل” تو کبھی “زرام”––––سب کو آڑے ہاتھ لے رہی تھی۔ “زرام” کو ایک بات تو پتہ چل گئی تھی کہ اس نے کافی تیکھی مرچی پسند کی ہے۔ بندی اس کی ٹکر کی تھی۔ وہ مسلسل جھگڑا کر رہی تھی مگر گاڑی میں بیٹھے ہوئے تینوں لوگ پرسکون تھے کیونکہ گاڑی لاک تھی، وہ چاہ کر بھی نیچے تو نہیں اتر سکتی تھی۔
°°°°°°°°°°
رازِ وفایہ صرف ایک کہانی نہیں، ایک فکری سفر ہےجہاں جاگیردار کے ظلم پر سے پردہ اٹھتا ہےاور انصاف اپنی پوری ذمہ داری کے ساتھ سامنے آتا ہے۔اگر یہ تحریر آپ کو سوچنے پر مجبور کرےتو آگے کے ابواب اسی احساس کا تسلسل ہیں۔