Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:10
رازِ وفا
از قلم :حیات ارتضیٰ ✍️S.A
قسط نمبر 10
°°°°°°°°°°
“مجھے بہت درد ہو رہا ہے، کچھ کرتے کیوں نہیں؟”
“کیوں میرا تماشہ دیکھ رہے ہو یہاں بیٹھ کر؟”
“شہرام” درد سے کراہتے ہوئے بے بسی سے بولا۔
“کیا کریں؟ مر جائیں؟ زہر کھا لیں؟ چھت پر چڑھ کر نیچے کود جائیں؟”
“کیا کریں، بتاؤ؟”
“قدسیہ”، جو پاس ہی بیٹھی تھی،مسلسل “شہرام” کے کراہنے اور چیخنے سے تنگ آ کر، جھنجھلا کر بولی۔
“شہرام” نے تکلیف میں کراہتے ہوئے آنکھیں کھولیں۔ اسے اپنی ماں پر اور باپ پر غصہ آ رہا تھا۔
“آپ لوگوں کو میری پرواہ ہی نہیں ہے!”
“ارے بھائی! دوائی مل گئی ہے، اب اگر تھوڑا بہت درد ہے تو برداشت کرو۔ ہم اس درندے کے منہ میں دوبارہ ہاتھ نہیں ڈالنے والے!”
“قدسیہ” بیزار ہو کر بولی تھی۔
“کس درندے کی بات کر رہی ہیں؟”
درد کی وجہ سے “شہرام” کا دماغ کام کرنا چھوڑ گیا تھا اس لیے اسے سمجھ نہیں آئی تھی کہ اس وقت اس کی ماں کس کی بات کر رہی ہے۔
“زیغم” کی!”
“توقیر” جو اب تک خاموش بیٹھا تھا جلدی سے بولا۔
“ابھی ابھی آیا ہے، اپنے کمرے میں گیا ہے۔ اگر اب اس وقت اس کے سامنے جا کر دوا کی فرمائش کی، تو بندوق لے کر چل دوڑے گا ہمارے اوپر۔ اور اس ناس پیٹے ڈاکٹر نے تو وہی کرنا ہیں جو “زیغم” کہے گا!”
“قدسیہ” افسوس سے بتا رہی تھی۔
“شہرام” نے بے بسی سے سر پکڑ لیا۔
“یعنی میں یہاں درد میں تڑپتا رہوں اور تم لوگ خاموش بیٹھے رہو؟”
“وہ ڈاکٹر ہے کہاں اس کو بولو کوئی مجھے درد کی گولی دے دے۔”
“قدسیہ” نے سرد آہ بھری۔
“ڈاکٹر تو اس وقت باہر ٹہلنے کے لیے گیا ہے۔ جب تک اس کے باپ کا حکم نہیں ملے گا اس نے کون سی ہماری سن لینی ہے!”
“صبر کرو کرتی ہوں کچھ…… جاتی ہوں اس کے پاس کہ ڈاکٹر کو بولے کہ کوئی تمہیں درد کا انجکشن دے دے––––دعا کرو کہ اس کا موڈ اچھا ہو، ورنہ دوا تو دور کی بات، اور مصیبت نہ آ جائے ہمارے سر پر!”
“اس کے موڈ کا تو پتہ نہیں چلتا ہر وقت خراب ہی رہتا ہے، بہتر ہے کہ تُو نہ جا۔”
“توقیر” نے مشورہ دیا تھا۔
“آپ کی بلا سے آپ کا بیٹا درد سے مر جائے مگر آپ لوگوں کو تو صرف اپنی فکر ہے نا!”
“شہرام” اپنے باپ پر برس پڑا تھا، نہ کوئی تمیز تھی نا لحاظ……… اور یہ ماشاءاللہ سے “قدسیہ” اور “توقیر لغاری” کی کی ہوئی پرورش کا نتیجہ تھا۔
ایک مشہور کہاوت ہے کہ: “پیڑ بوئے بَبُول کے تو آم کَہاں سے کھائے؟”
یہ کہاوت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جو کچھ انسان بوتا ہے، وہی کاٹتا ہے۔ اگر کوئی برے اعمال کرے گا، تو اچھے نتائج کی امید نہیں رکھ سکتا۔
“کوئی نہ ملے تو میرے سر پر چڑھ جایا کرو!”
“مجھ سے نہیں ہوتی حل تم لوگوں کی مصیبتیں!”
“توقیر” غصے سے چلایا۔
“وہ عذاب بن کر میرے سر پر چڑھا ہوا ہے!”
“کرسی چھین لی میری، جرگے کی سرپنچی چھین لی، کچھ بھی نہیں بچا میرے پاس!”
“سارا دن نوکروں کی طرح گھر میں کام کرواتا ہے! باہر نکلنے نہیں دیتا! کیا کروں؟ تم لوگوں کے سر پر خاک ڈالوں؟”
“قدسیہ” نے بیزاری سے “شہرام” کی طرف دیکھا۔
“میں جاتی ہوں۔۔۔اس سے کچھ نہیں ہونے والا، یہ بس ہم پر چلا سکتا ہے اور ہمارے ہی سر میں خاک ڈال سکتا ہے۔ اس “زیغم” نے کوئی کسر چھوڑ دی ہے تو تم ڈال لو خاک۔”
“توقیر” کو تانہ مارتے ہوئے وہ باہر جانے لگی تھی۔
“ہاں ہاں میں نے تو زندگی میں کبھی تم لوگوں کے لیے کچھ نہیں کیا۔ آج دو دنوں میں تم لوگ بیزار ہو گئے ہو، سالوں تم لوگوں کو عیش کروائی ہے وہ تم لوگوں کو نظر نہیں آتی……… نافرمان لوگ، آج تھوڑا وقت کیا بدلا تم سب کے اصلی رنگ باہر آگئے ہیں!”
“توقیر” تو برس پڑا تھا۔
“بس کرو بابا غلطی ہو گئی تمہارے احسان لے کر، اب تمہارے کیے گئے احسان اور عیش و عشرت کی ہم جتنی سزا کاٹ رہے ہیں اس سے تمہارا دل نہیں بھرا جو خود کھری کھوٹی سنانی شروع کر دی ہے؟”
“قدسیہ” جاتے ہوئے بھی بڑبڑ کرنے سے باز نہیں آئی تھی۔
“صحیح کہتے ہیں برے وقت میں بیوی کے اصل رنگ سامنے آتے ہیں، تمہارے اصلی رنگ تو بہت جلد سامنے آگئے ہیں…… تم میری سگی تب تک تھی جب تک تمہاری ہتھیلی گرم کرتا رہا!”
“توقیر” نے بھی اپنے دل کی بھڑاس پوری طرح سے نکال لی تھی جبکہ “قدسیہ” منہ کے زاویے بگاڑتے ہوئے روم سے نکل گئی۔ “شہرام” نے باپ کی طرف دیکھا، مگر اسے اس پر ترس نہیں اسے غصہ آ رہا تھا۔
“آپ لوگوں کو تو اپنے جھگڑوں سے فرصت نہیں، میری کیا خاک فکر ہوگی!”
وہ منہ میں بڑبڑاتے کروٹ لینے کی کوشش کر رہا تھا جو ٹانگ درد کی وجہ سے اس سے لی نہیں جا رہی تھی۔
“اتنی تکلیف میں بھی تمہیں منہ ماری کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے؟”
“کم از کم اس وقت تو زبان میں مٹھاس پیدا کر لو۔”
“توقیر” نے “شہرام” پر طنز مارا۔
“خدا کے واسطے میرے کمرے سے باہر چلے جائیں اگر اس طرح بیٹھ کر عورتوں کی طرح طعنے مارنے ہیں تو کوئی ضرورت نہیں میرے پاس بیٹھنے کی!”
“شہرام” غصے سے چلایا تھا۔
“جا رہا ہوں، پڑے رہو یہاں اکیلے، تم جیسی نمک حرام اولاد سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہونے والا۔ میں ہی پاگل تھا جو خواہ مخواہ سالوں تک تم لوگوں کی سیوا میں مصروف رہا!”
“تم لوگوں نے تو دو دن میں ہی رنگ بدل لیے ہیں!”
وہ غصے سے بولتا ہوا اٹھ کر روم سے باہر نکل گیا۔
“کوئی احسان نہیں کیا ہم پر، ہر باپ اپنی اولاد پر خرچ کرتا ہے ان کا خیال رکھتا ہے!”
“شہرام” نے “توقیر” کو جاتے ہوئے دیکھ غصے سے اونچی آواز میں کہا تھا۔
“ہاں ہر باپ اپنی اولاد پر خرچ کرتا ہے مگر وہ اولاد باپ کا کھا کر حلال کرتی ہے۔ یہاں میری اولاد تو کھا کر حرام کرنے پر تلی ہوئی ہے۔”
وہ بولتے ہوئے دروازے کو غصے سے ٹھک کر کے باہر نکل آیا تھا جبکہ “شہرام” اندر غصے سے دو چار حالت لیے لیٹا تھا۔ ان لوگوں کی محبت اتنی مطلبی تھی کہ “زیغم” کے کچھ دنوں کی سختی نے ہی ان کے اوپر سے سارے بناوٹی رنگ اتار دیے تھے اور اصلی رنگ اتنے بھیانک تھے یہ خود ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنا گوارا نہیں کر رہے تھے۔
°°°°°°
“کیا بات ہے آج میری “ملیحہ” کا موڈ کیوں خراب ہے؟”
“ملیحہ” کی خالہ نے فروٹ چاٹ کا پیالہ اس کے سامنے بڑھاتے ہوئے نرم لہجے میں پوچھا۔
“نہیں خالہ…… ایسی تو کوئی بات نہیں ہے، میں ٹھیک ہوں۔”
“ملیحہ” نے نظر اٹھائے بغیر مدھم آواز میں جواب دیا۔
“بھئی موڈ تو ہمارا خراب ہونا چاہیے! سالوں سے ہمارے سر پر سوار کر کے اس کے ماں باپ خود تو سکون سے بیٹھے ہیں!”
“ملیحہ” کے خالو نے طنزیہ لہجے میں کہتے ہوئے پکوڑا منہ میں ڈالا۔
“ملیحہ” کے ہاتھ میں پکڑا چمچ رک گیا تھا مگر اس نے کچھ نہیں کہا، چپ چاپ پلیٹ میں نظریں جمائے رکھی۔
“کیا ہو گیا ہے آپ کو؟”
“خدا کا واسطہ ہے کم از کم افطاری کے وقت تو طنزبازی سے باز آجایا کریں!”
خالہ کا لہجہ سخت تھا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ بات “ملیحہ” کو کتنی تکلیف دے رہی ہوگی۔
“اچھا…… تمہیں بڑی درد آتی ہے اس کی! میں نے کیا غلط کہا ہے؟”
“اب ساری زندگی ہم نے اس کا ٹھیکا تو نہیں لے رکھا نا!”
“اس کے ماں باپ کو فکر ہونی چاہیے اپنی بیٹی کی۔ کل کو کہیں گے جہیز دے کر ہم ہی اس کی شادی بھی کروائیں اور اس کی شادی کے سارے اخراجات بھی اٹھائیں۔ تو ہم سے نہیں ہوگا یہ سب! اپنے گھر کا چولہا چوکا پتہ نہیں کتنی مشکل سے چلا رہے ہیں!”
“ملیحہ” کی نظریں پلیٹ پر جمی رہیں۔ اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی مگر وہ ضبط کیے بیٹھی تھی۔ یہ الفاظ اس کے لیے نئے نہیں تھے۔
“کیا کھا رہی ہے وہ ہمارا؟”
“اپنی فیسیں وہ خود ادا کرتی ہے، اپنا کپڑا جوتی خود لیتی ہے، اور گھر کے راشن میں بھی حصہ ڈالتی ہے! تو مسئلہ کیا ہے آپ کو؟”
خالہ نے تلخی سے جواب دیا تھا۔
“فاریہ”، جو “ملیحہ” کے ساتھ بیٹھی تھی، چپ چاپ اپنے بابا کو گھور رہی تھی۔ اسے ہمیشہ برا لگتا تھا جب اس کے بابا “ملیحہ” پر طنز کرتے تھے مگر وہ بھی جانتی تھی کہ ان کے سامنے کچھ بولنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ پھر ان کی بندوق کا رخ “فاریہ” کی جانب ہو جاتا تھا اور اسے اپنے بابا سے جان چھڑوانی مشکل ہو جاتی تھی۔ دسترخوان پر سفید پوشی جھلک رہی تھی۔ سامنے چند پکوڑے، چنے کی چاٹ، فروٹ چاٹ اور کھجوریں رکھی تھیں۔ چاروں طرف خاموشی چھا گئی تھی۔ صرف گھڑی کی ٹک ٹک اور دور کہیں سے آتی اذان کی آواز ماحول میں گونج رہی تھی۔ “ملیحہ” نے گہرے سانس کے ساتھ چمچ پلیٹ میں چلانا شروع کر دیا، جیسے ان ساری باتوں سے بے نیاز ہو مگر دل میں کہیں کوئی کرب تھا جو صرف وہی جانتی تھی۔
“اس گھر میں پانی کا بل بھی آتا ہے، گیس کا بل بھی آتا ہے، اور بجلی اس کے باپ کی نہیں ہے جو فری میں چل رہی ہے۔ اس گھر کا کرایہ بھی دینا ہوتا ہے!”
“اگر اتنا ہی برا لگ رہا ہے میری باتوں کا، تو پھر ان سب میں بھی حصہ ڈال دیا کرے، میں کچھ نہیں کہوں گا!”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ “ملیحہ” نے بے یقینی سے اپنے خالو کو دیکھا، جو سختی سے لفظوں کا وار کر رہے تھے۔ ان کا لہجہ کاٹ دار تھا، جیسے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہوں۔
“کچھ شرم کر جائیں، بیٹیوں سے کرایہ کون لیتا ہے؟”
“جیسی “فاریہ” ہے، ویسی ہی “ملیحہ!” تو کیا ہم “فاریہ” سے کرایہ لیتے ہیں؟”
اس کی خالہ نے بے بسی سے کہا مگر وہ شخص جیسے سننے کے موڈ میں ہی نہیں تھا۔
“فاریہ” میری اپنی بیٹی ہے، اور یہ اپنے باپ کی بیٹی ہے!”
خالو کا لہجہ اور سخت ہو گیا۔
“اپنی بیٹی کے اخراجات اٹھانا، اس کی چیزوں کو پورا کرنا میرا فرض ہے، جبکہ اسے ہمارے سر پر فرض کی طرح تھوپ دیا گیا ہے!”
سخت الفاظ “ملیحہ” کے دل پر ہتھوڑے کی طرح برس رہے تھے۔ وہ ضبط کرتے کرتے بھی مزید برداشت نہ کر سکی۔ خاموشی سے آنسو چھپاتے ہوئے دسترخوان سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی مگر آنکھوں میں جمع پانی رخساروں پر بہنے لگا۔
“آگیا سکون؟”
“چلی گئی ہے وہ……کم از کم بچی کو روزہ تو سکون سے کھول لینے دیتے!”
اس کی خالہ نے دل برداشتہ ہو کر کہا، مگر کوئی اثر نہ ہوا۔ اس شخص کی آنکھوں میں ہمیشہ سے “ملیحہ” کھٹکتی تھی۔ “ملیحہ” پر ایسے لفظوں کا تیر برسانا اس کا فیورٹ کام تھا۔
“بابا کہاں کسی کو سکون سے کھانے پینے دیتے ہیں۔ بابا کا ہمیشہ سے یہی طریقہ رہا ہے! پتہ نہیں، کیا ملتا ہے ان کو “ملیحہ” کا دل دکھا کر!”
“فاریہ” تلخی سے بولی اور پھر جلدی سے “ملیحہ” کے پیچھے چلی گئی۔
“اس لڑکی کو میرے گھر سے نکالو!”
“اس کی وجہ سے میری بیٹی خراب ہو رہی ہے۔ میں اس سے زیادہ اسے برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ میرا فائنل ڈسیژن ہے!”
وہ غصے سے دھاڑا، جبکہ “فاریہ” کے قدم تیزی سے “ملیحہ” کے پیچھے جا رہے تھے۔
“وہ نہیں کر رہی ہماری بیٹی کو خراب–––ہماری بیٹی کو خراب کر رہی ہیں آپ کی باتیں!”
“آپ میں خدا ترسی نہیں ہے، ہر وقت، ہر وقت سناتے رہتے ہیں!”
خالہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔
“وہ بچی کبھی پلٹ کر آپ کو جواب نہیں دیتی، پھر بھی آپ کو ٹھنڈ نہیں پڑتی!”
“کوئی شوق سے نہیں رہتا رشتے داروں کے ہاں، اس بچی کی مجبوریاں ہیں!”
“اگر اس کے بس میں ہوتا، تو وہ فوراً یہاں سے چلی جاتی۔ ایسے جہنم میں کون رہنا چاہتا ہے یہاں تو ہماری سانس گھٹتی ہے!”
“تُو اب چپ کرتی ہے یا دو تیرے کان کے نیچے لگاؤں؟”
“بڑ بڑ کیے جا رہی ہے! دفع ہو جا اٹھ کر یہاں سے!”
“بڑی آئی اس کی طرفداری کرنے والی! یہ میرا گھر ہے، اور یہاں میرے قاعدے قوانین کے مطابق چلنا پڑے گا! میں اسے اب یہاں نہیں رہنے دوں گا! بات ختم!”
“تمہیں بھی رہنا تو رہو، نہیں تو نکلو تم بھی میرے گھر سے!”
خالہ بھی وہاں سے اٹھ کر غصے سے چلی گئی تھی کیونکہ اس شخص کی زبان ہمیشہ سے زہر اگلتی تھی۔ سالوں سے وہ اس شخص کی کڑوی زبان کو برداشت کر رہی تھی مگر انسان کی کوئی حد ہوتی ہے اس شخص کی کوئی حد ہی نہیں تھی۔ اٹھ کر باہر جاتے ہوئے اپنا غصہ دروازے پر نکال کر گئی تھی۔ دروازہ زور سے بند ہونے کی آواز آئی، اور کمرے میں صرف سناٹا رہ گیا۔
“یہ تمہارے باپ نے نہیں لگوا کر دیا جو اس کو توڑنے پر تلی ہو اگر ٹوٹ گیا تو اس کا ہرجانہ کون بھرے گا پاگل عورت؟”
زور سے دروازہ بند کرنے کی دھاڑ سے وہ دبک کر اونچی آواز میں چلایا تھا مگر “ملیحہ” کی خالہ نے پلٹ کر اس کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔ اب وہ اکیلا دسترخوان پر بیٹھا، آرام سے سب کچھ کھا کر اطمینان سے روزہ افطار کر رہا تھا جبکہ باقی سب کی افطاری کا بیڑا غرق کر چکا تھا مگر مجال ہے جو اس کے چہرے پر ذرا سی بھی شکن ہو۔
°°°°°°°°°
“ملیحہ” تیزی سے کمرے میں داخل ہوئی، دروازہ بند کیا اور دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر زمین پر بیٹھ گئی۔ اس کے کندھے ہلکے ہلکے لرز رہے تھے، آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہنے لگے۔ سسکیاں اتنی مدھم تھیں کہ شاید صرف فرشتے ہی ان کی گواہی دے سکتے تھے۔خالو کی باتوں نے اس کے دل میں زہر سے لبریز تیر پیوست کر دیے تھے۔
“کیوں؟ آخر کیوں میری قسمت ایسی ہے؟”
“کیوں میرا اپنا گھر نہیں ہے؟”
“کیوں میں اپنوں کے ہوتے ہوئے بھی لاوارثوں کی طرح زندگی گزار رہی ہوں؟”
“اے اللہ! کیا میرا کوئی ٹھکانہ نہیں؟”
“کیا میں اتنی بری ہوں کہ مجھے کوئی بھی قبول نہیں کر رہا؟”
درد اور رونے کی شدت سے اس کی آواز ٹوٹ رہی تھی۔ لفظ بھی اس کے دکھ کے بوجھ تلے دب کر ٹکڑے ٹکڑے ہو رہے تھے۔ وہ ہتھیلیاں چہرے پر رکھ کر بے بسی سے رو رہی تھی۔
“اے میرے پروردگار! رمضان کے اس مقدس مہینے کے صدقے، مجھ پر رحم فرما۔ یا تو میرے دل کو صبر دے دے، یا میری دعاؤں کو قبول کر لے!”
“میں بھی یہاں نہیں رہنا چاہتی۔ مجھے نہیں معلوم میری آزمائش کب ختم ہوگی، مگر تُو تو سب جانتا ہے نا؟”
اس کا دل یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔ ہر گزرتا لمحہ اس کے وجود کو مزید بوجھل کر رہا تھا۔
“اے اللہ!میں جانتی ہوں، تجھ سے موت مانگنے والے تجھے پسند نہیں… مگر یہ زندگی بھی تو میرے جینے کے لائق نہیں رہی!”
“آخر کس گناہ کی سزا کاٹ رہی ہوں میں؟”
اسی لمحے دروازے کی ہلکی سی آواز آئی۔ “ملیحہ” نے رخ موڑ کر دیکھا، “فاریہ” خاموشی سے اندر آئی اور اس کے قریب بیٹھ کر نرمی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“ملیحہ…”
“فاریہ” کی آواز میں بے حد محبت تھی، مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی، “ملیحہ” نے تیزی سے سر جھٹکا اور آنکھیں بند کر لیں۔
“فاریہ”، پلیز… پلیز، مجھے رو لینے دو!”
اس کی آواز میں اتنی ٹوٹ پھوٹ تھی کہ “فاریہ” کا دل بھیگ گیا۔
“پلیز تم ابا کی باتیں دل پر نا لو، تم جانتی تو ہو وہ بولنے سے پہلے کچھ سوچتے کہاں ہیں، میری طرف دیکھو!”
“فاریہ” اس کا دل ہلکا کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔
“میں بھی انسان ہوں، مجھے بھی درد ہوتا ہے… تم لوگوں کا اس میں کوئی قصور نہیں، مگر پلیز! اس وقت مجھے اکیلا چھوڑ دو… بس تھوڑی دیر کے لیے…”
“فاریہ” خاموش ہو گئی، اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے اگر وہ کچھ اور بولی تو “ملیحہ” مزید ٹوٹ جائے گی۔ اس نے ایک نظر اس پر ڈالی، پھر آہستہ سے اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ کمرے میں سسکیوں کی بازگشت رہ گئی۔ “ملیحہ” نے آنکھیں بند کر کے آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا، سحر زدہ سی آواز میں دعا مانگنے لگی۔ آنسو اس کے رخساروں پر بہتے جا رہے تھے، اور دل میں ایک ہی سوال گونج رہا تھا—’کیا میری دعائیں عرش تک نہیں پہنچ رہیں؟’
“میرے پیارے اللہ! کہتے ہیں کہ افطار کے وقت تمام دعائیں قبول ہوتی ہیں، تو پھر کیوں…؟ کیوں میری دعائیں تیری بارگاہ تک نہیں پہنچ رہیں؟”
اس کا دل جیسے کسی بوجھ تلے دب گیا تھا۔ وہ گھٹنوں میں سر دے کر سسک رہی تھی۔
“اے اللہ! میری صدا بھی سن لے… میں تھک گئی ہوں، ہار گئی ہوں… اب مجھ سے مزید برداشت نہیں ہوتا!”
کمرے میں خاموشی تھی، مگر اس خاموشی میں “ملیحہ” کے آنسوؤں کی زبان تھی، جو صرف وہی سمجھ سکتی تھی۔
“اے میرے رب! رمضان کے اس مبارک مہینے کے صدقے، مجھ پر رحم فرما… میری دعائیں رد نہ کر، مجھے صبر دے یا کوئی راستہ دکھا، میں نہیں جانتی کہ اور کتنی دیر یہ آزمائش سہنی ہوگی!”
دیوار کے سائے میں بیٹھی وہ دعا کرتی رہی، اور مغرب کی اذان کے ساتھ اس کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو اپنے رب سے درد بیان کر رہے تھے۔ مغرب کی اذانیں ہو چکی تھی۔ “ملیحہ” خاموشی سے اٹھی، آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو دامن سے پونچھا اور وضو کے لیے چل دی۔ ہر قطرہ جو اس کے چہرے سے بہہ رہا تھا، اس کی بے بسی کی گواہی دے رہا تھا۔ وضو کے پانی نے جیسے اس کے درد کو دھو ڈالنے کی کوشش کی، مگر دل کا بوجھ وہی تھا۔ اس نے جائے نماز بچھائی، ہاتھ باندھے اور مغرب کی نماز کے لیے قیام کیا۔ جیسے ہی سجدے میں گئی، ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ وہ بلک بلک کر رو رہی تھی، الفاظ ہچکیوں میں گم ہو رہے تھے، اس کا دل رو رو کر اللہ سے سب کچھ کہہ رہا تھا۔
“اے میرے رب! تُو تو ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے… تو اپنے بندوں کو بے یار و مددگار کیسے چھوڑ سکتا ہے؟ میں جانتی ہوں، تُو میری دعاؤں کو سن رہا ہے، میری تکلیف دیکھ رہا ہے۔ اے اللہ میری آزمائشوں کو ختم کر دے۔”
اس کے لرزتے لبوں سے سسکیاں نکل رہی تھیں، مگر یقین بھی تھا کہ اس کا رب سن رہا ہے۔
“اے اللہ! بے شک تُو اپنے بندے کو اتنی ہی آزمائش دیتا ہے جتنی وہ برداشت کر سکے… مگر میں کمزور ہوں، میرا دل دکھ سے بوجھل ہو چکا ہے، مجھے ہمت دے، مجھے ثابت قدمی عطا کر!”
اللہ جو ماں سے بھی زیادہ محبت کرنے والا ہے، جو رات کے پچھلے پہر اپنے بندوں کو پکارتا ہے، جو کہتا ہے کہ “میری رحمت سے نا امید نہ ہو”، وہ رب کیسے اسے بے آسرا چھوڑ سکتا تھا؟ نماز کے بعد اس نے ہاتھ اٹھائے، دل کی گہرائیوں سے دعا مانگی۔ آنکھوں سے بہتے آنسو، اس کی ہر فریاد کا گواہ تھے۔
“اے میرے رب! تُو رحیم ہے، کریم ہے، تجھ سے بڑھ کر سننے والا کوئی نہیں۔ میں نہیں جانتی کہ میرا امتحان کب ختم ہوگا، مگر مجھے اتنا یقین ہے کہ تُو مجھے تنہا نہیں چھوڑے گا۔ مجھے صبر عطا کر، میری دعا قبول کر لے!”
اس کا دل جیسے ہلکا ہونے لگا تھا۔ وہی رب جو آزمائش دیتا ہے، وہی اس کا حل بھی دیتا ہے۔ وہ جو دعا کے لیے ہاتھ اٹھانے کا حوصلہ دیتا ہے، وہ دعا کو قبول بھی کرتا ہے۔ “ملیحہ” نے آنکھیں بند کیں، دل میں ایک سکون سا اترنے لگا تھا۔ آزمائش کا وقت ضرور تھا، مگر وہ جانتی تھی کہ اس کا رب اس کے ساتھ ہے، اور جب رب ساتھ ہو، تو کوئی بھی اکیلا نہیں ہوتا۔ پرسکون سی ہو کر نماز کے بعد، دعا کرنے کے بعد وہ جائے نماز پر نہ جانے کتنی دیر سجدے کی حالت میں پڑی رہی تھی۔
جب انسان ٹوٹ جاتا ہے، جب اسے ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے، جب کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا، جب بے بسی روح کو چیرنے لگتی ہے، تو بس ایک بار اس رب کے حضور جھک کر تو دیکھو۔ ایک بار سجدے میں گر کر دل کی فریاد بیان کر کے تو دیکھو۔ وہی رب جو تمہیں تمہاری ماں سے زیادہ چاہتا ہے، جو تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، وہ تمہارے دل کی ہر دھڑکن سے واقف ہے۔
جب اس کے سامنے پیشانی ٹکتی ہے، جب آنسو بہتے ہیں، جب دل بوجھل ہو کر کہتا ہے “یا اللہ، میں تھک گیا ہوں!”— تو وہ رب تمہیں ٹوٹنے نہیں دیتا، وہ تمہارے ہر درد کو ایسے سمیٹ لیتا ہے جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ نماز میں، سجدے میں، دل کی گہرائیوں سے پکار کر دیکھو۔ ایسا سکون ملتا ہے کہ ہر غم جیسے مٹ جاتا ہے، ہر زخم جیسے بھر جاتا ہے، ہر دکھ جیسے ختم ہو جاتا ہے۔ وہ ذات اتنی رحیم، اتنی کریم، اتنی شفیق ہے کہ جب بھی اس کا بندہ اس کی طرف پلٹتا ہے، وہ اسے اپنی رحمت میں لپیٹ لیتا ہے۔
ہم ہی نافرمان ہیں، ہم ہی اس سے دور بھاگتے ہیں۔ پانچ وقت کی نماز ادا کرنا بوجھ لگتا ہے، مگر وہ پھر بھی ہم سے محبت کرتا ہے، ہمیں سنبھالتا ہے، ہمیں معاف کرتا ہے۔ جب بھی کوئی ٹوٹے دل کے ساتھ اس کے در پر آتا ہے، وہ اسے جھولی بھر کر رحمتیں عطا کر دیتا ہے، سکون دیتا ہے، راحت دیتا ہے۔ یہی تو ہمارے رب کی شان ہے!
کتنا عظیم ہے وہ رب! کتنا پیارا ہے ہمارا دینِ اسلام! جہاں توبہ کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں، جہاں دعا کبھی رد نہیں ہوتی، جہاں ایک سجدہ انسان کے سارے بوجھ اتار دیتا ہے۔
“اے میرے رب! ہم بھول جاتے ہیں، مگر تُو نہیں بھولتا۔ اے اللہ! ہمیں اپنی محبت کی مٹھاس عطا کر، ہمیں اپنے قریب کر لے، ہمارے دلوں کو ہدایت کے نور سے منور کر دے!”
°°°°°°°°°°
اگر یہ تحریر آپ کے ساتھ چل پڑی ہے
تو اگلے ایپیسوڈ میں یہ ساتھ اور گہرا ہو جائے گا۔