Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:11

رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر 11
°°°°°°°°°°°
کمرے کے دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ “دانیہ” نیند میں تھی، مگر دستک کی آواز پر آہستہ سے آنکھیں کھولتے دروازے کی جانب دیکھا۔

کون۔۔۔”

“خور جان، میں اندر آ جاؤں؟”
دروازے کے پیچھے سے “درخزائی” کی پیاری سی آواز آئی۔

“دانیہ” نے نیند سے بوجھل آنکھوں کو جھپکے گہری سانس لی اور دروازے کی طرف دیکھا۔
“جی، آ جائیں۔”
“درخزائی” اندر مسکراتا چہرہ لیے روم میں آیا تھا۔ وہ بےتابی سے بیڈ کے قریب آکر کھڑا ہوگیا۔ اس کی آنکھوں میں “دانیہ” کے لیے فکر جھلک رہی تھی۔ اس کی نظریں “دانیہ” کے ہاتھوں پر مرکوز تھی جن سے اب پٹیاں تو اتر چکی تھی مگر ان پر زخم واضح دکھائی دے رہے تھے جن کے اوپر دوا لگائی گئی تھی۔

“اب کیسی طبیعت ہے آپ کی؟”
“درخزائی” نے فکر مندی سے پوچھا تھا۔

“میں ٹھیک ہوں۔”
“دانیہ” نے بیڈ سے اٹھ کر بیٹھتے ہوئے سرہانے سے ٹیک لگاتے دھیمے لہجے میں بولی۔

“اب آپ کو درد تو نہیں ہو رہا؟”

“نہیں، اب نہیں ہو رہا۔”
“دانیہ” نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ “دانیہ” کو اس کے چہرے پر فکر مندی نظر آرہی تھی۔ وہ حیران بھی تھی۔ اپنوں نے اسے یہ زخم دیے اور یہاں پرآئے اس کی فکر کر رہے تھے۔

“چلیں پھر باہر آئیں! مورے نے آج بہت مزے کا کھانا بنایا ہے۔ آپ کو پتہ ہے؟ مورے نے آپ کے لیے خاص طور پر ڈرائی فروٹس والا حلوہ تیار کیا ہے۔ مورے کہہ رہی تھیں کہ اس سے آپ کو بہت طاقت ملے گی اور آپ جلدی ٹھیک ہو جائیں گی!”
“درخزائی” کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی یہ سن کر کے “دانیہ” کو درد نہیں ہو رہا۔
اس کے چہرے پر ایک معصوم سی ہمدردی سے بھری ہوئی سچائی تھی جو اتنی خالص تھی کہ “دانیہ” کو اس وقت سچ میں ایک چھوٹے بھائی کی طرح لگ رہا تھا۔ “دانیہ” نے “درخزائی” کی خوشی سے چمکتی آنکھوں کو دیکھا، اس کے جذبے کو محسوس کرکے ہلکے سے مسکرا دی۔

“اچھا؟ پھر میں ضرور کھاؤں گی۔ اب اس میں اتنے ڈرائی فروٹس ہیں پھر تو مجھے کھانا پڑے گا۔”
“تم بیٹھو میں ابھی منہ دھو کر آتی ہوں!”
بیڈ سے اتر کر چپل پہنتے ہوئے وہ واش روم کی جانب بڑھ گئی تھی مگر اس کے ہاتھوں سے پٹیاں تو اتر چکی تھی۔ زخموں پر اس وقت صرف مرہم لگی ہوئی تھی کیونکہ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ اب اس زخم کو کھلا چھوڑنا ہوگا ورنہ زخم خراب ہو جائے گا۔ ہاتھوں پر زخم اتنے زیادہ تھے کہ وہ اپنا منہ نہیں دھو پا رہی تھی اور جیسے ہی نل کھولا ہاتھوں پر پانی گرتے ہی اس کے منہ سے درد اور جلن سے سسکنے کی آواز نکلی، جس کو “درخزائی” نے بخوبی کمرے میں بیٹھے ہوئے سن لیا تھا۔ “درخزائی” بہت انٹیلیجنٹ اور سمجھدار بچا تھا فوراً سے وہ دروازہ کھول کر باہر بھاگتے ہوئے مورے کے پاس گیا تھا۔

“مورے۔۔ خور جان کے ہاتھوں میں بہت درد ہو رہا ہے، ان سے منہ نہیں دھویا جا رہا، پلیز آپ جا کر ان کو دیکھیں۔”
مورے جو ملازمہ کو ہدایت دے رہی تھی اور ٹیبل پر کھانا لگوا رہی تھی، “درخزائی” کی بات سنتے ہی فوراً اس کے ساتھ روم میں آئی تھی۔ سیدھا روم میں آتے ہی واش روم کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

“دانیہ” بیٹا، دروازہ کھولو، مجھے اندر آنا ہے۔”
“دانیہ” نے فوراً دروازہ کھول دیا تھا کیونکہ اس کے ہاتھوں میں شدید جلن کا احساس تھا، جس کی شدت سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اسے روتا دیکھ کر مورے کا دل تڑپ اٹھا، وہ آگے بڑھ کر ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بے اختیار بولی۔

“بیڑا غرق ہو ان لوگوں کا، دل نہیں کانپتا ان کا؟ میری بچی کی یہ حالت کر دی ہے!”
“ادھر آؤ، میں اپنی بیٹی کا منہ دھلواتی ہوں۔”
مورے نے بڑی محبت اور رحم دلی سے خود اس کا چہرہ دھلوایا، نرمی سے ٹاول سے خشک کیا اور پھر اس کی کمر سہلاتے ہوئے اپنے ساتھ روم میں لے آئی۔ “درخزائی” باہر روم میں ٹہل رہا تھا۔

“آپ کو بہت پین ہو رہا ہے، ڈاکٹر کو بلوا لیں؟”

“نہیں، اس کی ضرورت نہیں ہے، بہتر ہے۔ بس پانی ہاتھوں پر گرنے کی وجہ سے بہت زیادہ جلن ہو رہی تھی۔”
دانیا نے نرمی سے کہا۔

“ہمم۔۔۔ آپ کو پہلے ہی مورے کو بلا لینا چاہیے تھا۔ جب تک آپ کا ہاتھ ٹھیک نہیں ہوگا، آپ اکیلے کچھ نہیں کریں گی۔ مورے، آپ کسی کو ان کے ساتھ ہر وقت رکھیں گی، یہ زخم ٹھیک نہیں ہوں گے، پانی سے زخم خراب ہو جاتا ہے۔”

“جی جی ڈاکٹر صاحب، ہم پورا خیال رکھیں گے۔ ابھی چلو، تمہاری خور جان کو کھانا کھلا دیں، میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہوا لذیذ اور طاقت والا حلوہ کھلانا ہے، اس کے بعد ہم انہیں میڈیسن دیں گے۔ تمہاری خور جان کے ہاتھوں کی جلن ٹھیک ہو جائے گی۔”
مورے اس کی فکر مندی پر مسکراتے ہوئے بولی تو ماحول نرم ہو گیا اور “درخزائی” کے ساتھ ساتھ “دانیہ” بھی مسکرا دی۔

“جی جی، چلیں۔”
“درخزائی” جلدی سے دروازہ کھولتے ہوئے باہر نکلا اور ان کے لیے راستہ بنایا۔ سیدھے وہ لوگ ٹیبل پر پہنچے تھے۔ “درخزائی” نے بڑی محبت سے کرسی پیچھے کرتے ہوئے “دانیہ” کو بیٹھنے کو کہا اور مورے جلدی سے کھانے کو ترتیب دیتے ہوئے “دانیہ” کو کھانا پیش کرنے لگی۔

“میں نے خاص “زیغم” بچے کو فون کیا تھا اور پوچھا تھا کہ میری بیٹی کو کیا پسند ہے، تو مجھے اس نے بتایا کہ “دانیہ” کو بریانی بڑی پسند ہے۔ دیکھو، میں نے تمہارے لیے چکن والی بریانی بنوائی ہے، ساتھ میں اسپیشل پشاوری کباب بھی ہیں اور تمہیں پتہ ہے؟ یہ کباب میں نے اپنے ہاتھوں سے بنائے ہیں۔ “مائد” اور “درخزائی” تو دیوانے ہیں ان کے۔ اب تم ٹیسٹ کر کے بتاؤ کہ تمہاری مورے کے ہاتھ کا ذائقہ کیسا ہے؟”
مورے کی زبان اتنی میٹھی تھی کہ “دانیہ” کا دل بھر آیا تھا۔ پتہ نہیں کیوں، مگر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ شاید اس لیے کہ سالوں بعد اسے ایسی محبت دیکھنے کو ملی تھی۔ اسے تو ہمیشہ کھانے کی میز پر دھتکار دیا جاتا تھا۔ سب لوگ کھانے میں مصروف ہوتے اور وہ سب کو کھانے پروس رہی ہوتی۔ سب کے آخر میں اسے کھانا نصیب ہوتا۔ ٹیبل پر ایک ساتھ بیٹھنے کی تو اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی۔ اس کے ہاتھ سے کھانا بنوا کر اسی پر تنقید کی جاتی تھی، کبھی کہا جاتا نمک زیادہ ہے، کبھی مرچ تیز ہے، کبھی اسے بے وقوف کہا جاتا۔ ایسے جملے سننے کی اسے عادت ہوگئی تھی اور آج یہاں، وہی “دانیہ”، اتنی خاص تھی کہ اس کے لیے الگ سے کھانا بنوایا گیا تھا۔ اتنی محبت دیکھ کر اس کا دل بھر آیا۔

مورے نے جیسے ہی “دانیہ” کی آنکھوں میں آنسو دیکھے، وہ گھبرا گئی۔
“کیا ہوا؟ میں نے کچھ غلط کہہ دیا؟”
مورے گھبرا کر اس کی جانب بڑھی تھی۔

“نہیں، نہیں، اماں سائیں، آپ نے کچھ غلط نہیں کہا۔ بس…… بس آپ کی اتنی محبت دیکھ کر میرا دل بھر آیا۔”

مورے نے فوراً اسے پاس آ کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔
“تم میرے لیے “مائد” اور “درخزائی” سے بھی زیادہ پیاری ہو اور تم اتنی خاص ہو کہ تم سے محبت کی جائے۔ آج کے بعد تمہاری آنکھوں میں میں کوئی آنسو نہیں دیکھنا چاہتی، سچ میں اگر تم مجھے اپنی اماں سائیں مانتی ہو، تو آج کے بعد رونا نہیں ہے۔”

“دانیہ” نے نم آنکھوں کے ساتھ اثبات میں سر ہلایا۔
“جی… پوری کوشش کروں گی۔”

“کوشش نہیں کرنی، ہمت کرنی ہے۔ ٹھیک ہونا ہے۔ آنسو بہانے نہیں، ان لوگوں کے ظلموں کا منہ توڑ جواب دینا ہے۔ اب تو تمہارا بھائی بھی واپس آگیا ہے، تمہارے لیے حفاظت کا دائرہ بھی بنا سکتا ہے اور تم پر اٹھنے والی انگلیوں کو کاٹ بھی سکتا ہے اور ظالموں کا قیمہ بھی بنا سکتا ہے۔ تمہیں ہمت کرنی ہے۔”
مورے کی ٹھوس پنجابی لہجے اور اردو کے مکسچر میں کی گئی بات بہت طاقتور لگ رہی تھی مورے کا لب و لہجہ آج بھی پٹھانی تھا۔

“زیغم” کا ذکر آتے ہی “دانیہ” کے ذہن میں اپنے بھائی کا خیال گھومنے لگا۔
“بھائی نہیں آئے دوبارہ؟”

مورے نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھاما۔
“تم نے جب پہلے مجھ سے پوچھا تھا، میں نے اسی وقت “مائد” کو فون کر دیا تھا کہ “زیغم” کو رات کے کھانے پر لے آئے۔ ابھی کچھ دیر پہلے مجھے “مائد” کا میسج آیا تھا کہ وہ دونوں بس پہنچنے ہی والے ہیں۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ میری بیٹی کچھ کہے اور وہ نہ ہو؟”

“دانیہ” نے گہرا سانس لیا اور اپنی پلیٹ تھوڑی پیچھے کھسکا دی۔
“ٹھیک ہے، پھر ہم “زیغم” بھائی کا انتظار کر لیتے ہیں، ان کے آنے پر ہی کھانا کھائیں گے۔”

“چلو ٹھیک ہے یہ بھی اچھا ہے ہم مل کر ہی کھانا کھائیں گے!”
مورے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے جا کر اپنی کرسی پر بیٹھ گئی تھی۔ “درخزائی” بھی اپنی کرسی سنبھال چکا تھا۔ وہ دل ہی دل میں خود پر غصہ کر رہی تھی کہ کیوں اپنے بھائی سے اتنا کچھ کہہ دیا۔ وہ اپنے درد میں یہ بھول گئی تھی کہ اس کے بھائی نے ایسا کچھ نہیں کیا جس کی اسے سزا دی جائے۔ ہاں، وہ دشمنوں کی چال میں آکر اس سے بدظن ہوا تھا، مگر اس کے علاوہ اس کی کوئی غلطی نہیں تھی مگر اس نے غصے میں اپنے بھائی کو کتنا کچھ سنا دیا تھا۔ وہ شرمندگی سے نظریں جھکائے بیٹھی رہی۔ ابھی وہ یہی سب سوچ رہی تھی کہ گیٹ کھلا، اور “زیغم” اور “مائد” نے ایک ساتھ اندر قدم رکھا۔ دونوں ایک ساتھ چلتے ہوئے ٹیبل کی طرف بڑھ رہے تھے، اور “دانیہ” کے دل کی دھڑکنیں خوشی اور شرمندگی کی ملی جلی کیفیت سے تیز ہونے لگیں۔ دونوں ایک ساتھ چلتے ہوئے شہزادوں کی مانند لگ رہے تھے۔ “زیغم” نے سفید سوٹ کے اوپر سندھی اجرک گلے میں ڈال رکھی تھی، جو اس کی مردانہ وجاہت میں مزید اضافہ کر رہی تھی۔ دوسری طرف “مائد” نے سیاہ رنگ کا کرتا اور شلوار پہن رکھی تھی، جو اس کے پٹھانی انداز کو نمایاں کر رہا تھا۔ کہنا مشکل تھا کہ ان دونوں میں سے زیادہ دلکش کون لگ رہا تھا۔ دونوں کی اپنی الگ پرسنلٹی تھی، اپنا رعب، اپنی دبنگ موجودگی۔
“زیغم” کی گندمی، پرکشش رنگت میں ایک ایسی مقناطیسیت تھی جو دیکھنے والے کو جکڑ لیتی تھی۔ اس کی گہری نیلی آنکھیں ایک پراسرار کشش رکھتی تھیں، ایسی آنکھیں جو ایک ہی نظر میں دل پر نقش چھوڑ جاتی تھیں جبکہ “مائد” کا گورا پٹھانی رنگ اپنی جگہ بے حد دلکش تھا۔ اس کی ڈارک براؤن آنکھوں میں وہ گہرائی تھی جو سامنے والے کو پلک جھپکانا بھلا دیتی تھی۔ دونوں کی قد و قامت تقریباً برابر تھی، چھ فٹ کے قریب چھوتی ہائٹ، چوڑی اور مضبوط چھاتی، اور مضبوطی سے فولڈ کیے گئے آستینوں سے جھانکتے طاقتور بازو، جو مردانگی کا مکمل عکس پیش کر رہے تھے۔ ان کے بھاری، سخت ہاتھ اور کلائیوں تک ابھری ہوئی نسیں، ان کی مضبوطی اور دبدبے کا اعلان کر رہی تھیں۔ ہلکی ہلکی داڑھی اور گھنی مونچھیں ان کے چہروں کو مزید پرکشش بنا رہی تھیں۔ “زیغم” کی مردانہ وجاہت اور “مائد” کی پٹھانی کشش ایک ساتھ، کسی بھی منظر کو شاہکار بنا سکتی تھی۔ یہ دونوں محض عام شخصیت کے مالک نہیں تھے، بلکہ اپنی الگ پہچان رکھتے تھے، ایسی شخصیت جو سامنے والے کو متاثر کیے بغیر نہیں رہ سکتی تھی۔ جیسے ہی وہ ٹیبل کی طرف بڑھے، ان کے انداز میں بلا کی خود اعتمادی اور ایک غیر محسوس مگر زبردست رعب تھا، ایسا رعب جو کسی بھی طاقتور مرد کی پہچان ہوتا ہے۔

“بسم اللہ کروں میں، بسم اللہ! میرے بیٹے آئے ہیں!”
مورے نے بڑی محبت سے خوش آمدید کہا، اور محبت بھری نظروں سے دونوں کو دیکھنے لگی۔ “زیغم” اور “مائد” نے عقیدت سے ان کے سامنے سر جھکایا، اور قریب ہو کر پیار لیا۔ مورے نے مسکرا کر دونوں کے ماتھے چوم لیے، جیسے برسوں کی محبت ان لمحات میں سمٹ آئی تھی۔

“زیغم” نے پیار لیتے ہی پاس بیٹھے “درخزائی” کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
“کیسے ہو؟”

“درخزائی” نے گرمجوشی سے ہاتھ ملایا۔
“میں ٹھیک ہوں، آپ کیسے ہیں؟”

“میں بھی ٹھیک ہوں!”
“زیغم” ہنستے ہوئے آگے بڑھا، اور نظریں جھکا کر بیٹھی “دانیہ” کی جانب دیکھنے لگا، جو اپنے بھائی کی آمد پر خوش بھی تھی اور شرمندہ بھی، شاید اپنی کہی باتوں کی بازگشت اسے بے چین کر رہی تھی۔

دوسری جانب “مائد” ہمیشہ کی طرح مورے کے ہاتھوں کو چوم کر اپنے ماتھے سے لگاتا ہوا بولا:
“مورے، اپنی دوا کھائی آپ نے؟”

“ہاں جی، کھا لی تھی، تمہیں تو بس میری دوا کی فکر رہتی ہے!”
مورے نے ہنستے ہوئے کہا۔

“کیونکہ آپ لاپرواہ رہتی ہیں!”
وہ مسکراتے ہوئے بولا اور “درخزائی” کی طرف متوجہ ہوا۔

“ہاں بھئی، کیسی چل رہی ہے پڑھائی؟”
“مائد” نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے محبت سے بال بکھیر دیے۔

“درخزائی” فورا جھنجھلایا۔
“ارے، آتے ہی آپ میرے بالوں کے دشمن بن گئے! پلیز، یہ مت کیا کریں!”

“مائد” نے شرارت سے آنکھیں گھمائیں۔
“میں تو ایسا ہی کروں گا! ذرا اپنا ہیئر اسٹائل دیکھو، لگتا ہے پونی بنا لو گے! شرم نہیں آتی، مرد ہو کر اتنے لمبے بال رکھتے ہو؟”

“درخزائی” نے فوراً وضاحت دی۔
“کتنے لمبے ہیں؟ بس تھوڑے سے ہی ہیں! اور ویسے بھی، یہ فیشن میں ہے، ٹرینڈنگ میں چل رہا ہے!”

“مائد” نے طنزیہ ہنسی چھوڑی۔
“ہاں ہاں! فیشن کے پیچھے پاگل ہو جاؤ، مرد اور عورت کا فرق ہی مٹا دو!”
“درخزائی” کے بال واقعی کچھ لمبے تھے، مگر اتنے بھی نہیں کہ عجیب لگتے، بس “مائد” کو کبھی بھی اس کا یہ اسٹائل پسند نہیں آیا تھا، جبکہ “درخزائی” کو اپنے بالوں پر ناز تھا۔ دونوں کے درمیان معمول کی نوک جھونک جاری تھی۔

اسی دوران، “زیغم” خاموشی سے “دانیہ” کے پاس آ کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس نے بغور اپنی بہن کو دیکھا، جو ندامت اور جذبات کی شدت میں آنکھیں جھکائے بیٹھی تھی۔ “زیغم” نے آہستگی سے کہا:
“معاف نہیں کیا بھائی کو؟ بات نہیں کرو گی؟”

“دانیہ” نے فوراً سر اٹھایا۔
“کیا ہو گیا بھائی! آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہیں!”
اس کی آواز بھیگی، اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

“زیغم” نے فوراً اسے اپنے قریب کرتے ہوئے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“بس بس، رونا نہیں! شرمندگی کی کیا بات ہے؟”
“میری بہن کو مجھ پر غصہ تھا، تو کیا ہوا؟ میں تو تمہارا موڈ ٹھیک کرنا چاہ رہا تھا، اور تم نے رونا شروع کر دیا۔ روندو کہیں کی! بچپن میں بھی روتی رہتی تھی، اب بھی روتی رہتی ہو! میری طرف دیکھو!”
“زیغم” کی باتوں میں محبت تھی، اپنائیت تھی، اور “دانیہ” کے آنسوؤں کو مسکراہٹ میں بدلنے کی بھرپور کوشش تھی۔

“سوری…”
وہ روتے ہوئے آہستہ سے بولی تھی۔
“زیغم” نے چونک کر “دانیہ” کے آنسوؤں سے بھیگے چہرے کی طرف دیکھا، جہاں معصومیت اور ندامت کے ملے جلے رنگ بکھرے ہوئے تھے۔

“کس لیے؟”
وہ نرم لہجے میں بولا۔

“دانیہ” نے بھیگی آنکھوں سے “زیغم” کو دیکھا۔
“میں نے آپ کے ساتھ بدتمیزی سے بات کی…… اس کے لیے!”

“کوئی بدتمیزی نہیں کی تم نے! تمہیں پورا حق ہے مجھ پر، اگر غصہ تھا تو بول دیا، اس میں غلط کیا ہے؟”
“دوبارہ کبھی سوری مت کہنا، کوئی ضرورت نہیں اس سوری کی!”
“آنسو صاف کرو، پاگل!”
اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے نرمی سے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے، “دانیہ” اپنے بھائی کے ساتھ لگی ہوئی رو رہی تھی۔

“نہیں، میں نے آپ کا دل دکھایا تھا، مجھے آپ سے اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے تھی!”

“زیغم” نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا۔
“تم جیسے چاہو، ویسے بات کرو! یہ تم سے کس نے کہہ دیا کہ تم مجھ سے اس طرح بات نہیں کر سکتی؟”
“اور غلطی میری تھی کہ میں اپنی پیاری بہن سے غافل رہا!”

“دانیہ” نے فوراً انکار میں سر ہلایا۔
“نہیں، میرے بھائی کی کوئی غلطی نہیں تھی!”
“زیغم” “دانیہ” کی محبت پر حیران تھا۔ کتنی پیاری ہوتی ہے بہنوں کی محبت، بھائیوں کی خطاؤں کو بھی آسانی سے معاف کر دیتی ہیں۔ وہ دل میں سوچ رہا تھا۔

“تو پھر میری بہن کی بھی کوئی غلطی نہیں ہے!”
یہ محبت بھری گفتگو سنتے ہوئے “مائد”، مورے اور “درخزائی” بے اختیار مسکرا دیے۔ ان کے چہروں پر ایک اطمینان تھا، ایک سکون تھا۔ کتنی بے پناہ محبت تھی ان دونوں بہن بھائیوں کے درمیان، جو ظالموں نے توڑنے کی کوشش کی، مگر رشتے جن کی بنیاد سچے جذبات پر ہو، ان میں پڑی دراڑیں وقت بھر دیتا ہے، دل پھر سے جڑ جاتے ہیں۔ بس ان ظالموں کا کچھ نہیں بنتا، جو ایسی دراڑیں ڈالنے کی وجہ بنتے ہیں۔

“بس، اب چپ کر جاؤ! رونا بند کرو! بہت بھوک لگی ہے۔ روزہ افطار کرنے کے بعد کچھ بھی نہیں کھایا اور اب میں اماں سائیں کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا کھا کر پیٹ بھرنا چاہتا ہوں اور اگر تم روئی، تو میں کھانا نہیں کھاؤں گا!”
“زیغم” نے محبت بھری دھمکی دی تو “دانیہ” نے فوراً آنسو صاف کرتے ہوئے خود کو سنبھال لیا۔ اس کی آنکھوں میں نمی اب بھی تھی، مگر بھائی کی بات نے اسے خاموش رہنے پر مجبور کر دیا تھا۔ “مائد” نے بے اختیار دانیا کی طرف دیکھا، جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو، مگر پھر پلکیں جھکا لیں۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی اس کی نظروں میں چھپی بے بسی کو پڑھ لے۔

“چلو جی، شروع کریں! مجھ سے تو اب انتظار نہیں ہو رہا۔”
“او مائی گاڈ! مورے کے ہاتھ کے بنے ہوئے پشاوری اسپیشل کباب! یہ تو لاجواب ہیں!”
“مائد” نے جیسے ہی نظر ڈالی، اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔ “مائد” اور “درخزائی” دیوانے تھے مورے کے ہاتھ کے بنے ہوئے ان سپیشل کباب کے۔

“چلو بھئی، شروع کرو مجھ سے صبر نہیں ہو رہا!”
“مائد” نے ہنستے ہوئے کہا، تو “زیغم” کو بھی شدت سے بھوک کا احساس ہوا۔ وہ جلدی سے اپنی پلیٹ میں کھانا ڈالنے لگا۔ “دانیہ” کی پلیٹ پہلے سے بنی ہوئی تھی، مگر اس نے ابھی تک کھانے کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔

سب کھانے میں مصروف تھے، اور ہر طرف کھانے کی تعریفیں ہو رہی تھیں مگر “زیغم” کی نظر جیسے ہی “دانیہ” پر پڑی، اس نے الجھن سے پوچھا:
“تم کیوں نہیں کھا رہی؟”

“دانیہ” نے نظریں چرائیں اور دھیرے سے بولی:
“مجھ سے چمچ پکڑا نہیں جا رہا!”
سب کی نظریں اس کے ہاتھوں پر گئیں، جہاں زخم واضح تھے۔ وہ چمچ اٹھا نہیں پا رہی تھی، مگر بھوک تو اسے بھی شدت سے لگ رہی تھی۔ اس کے یہ الفاظ وہاں موجود ہر شخص کے دل میں تیر کی طرح اترے۔ ظالموں نے اسے کتنا بے بس کر دیا تھا۔

“زیغم” نے بغیر کچھ کہے چمچ ہاتھ میں لیا اور نرمی سے بولا:
“تو کوئی بات نہیں، میں کھلاتا ہوں! جیسے بچپن میں کھلایا کرتا تھا۔”
اس نے خود اپنے ہاتھوں سے “دانیہ” کو کھلانا شروع کر دیا۔ ایک نوالہ “دانیہ” کے منہ میں ڈالتا اور ایک خود کھا لیتا۔ کتنا خوبصورت منظر تھا یہ! ایسا لگ رہا تھا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ اگر اس محبت پر ایک پوری تحریر لکھی جائے تو شاید وہ بھی کم پڑ جائے۔ بھائیوں کی محبت انمول ہوتی ہے، وہ محبت جو کسی بھی رشتے سے بڑھ کر ثابت ہوتی ہے۔ بھائی وہ محافظ ہوتے ہیں، جن کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔ ان کے دم سے ہی بہنوں کی زندگیاں روشن ہوتی ہیں۔ خدا ہر بہن کے بھائی کو سلامت رکھے آمین ثم آمین۔
ٹیبل پر خوشگوار ماحول تھا۔ “درخزائی” اور “مائد” کی ہلکی پھلکی نوک جھونک قہقہوں میں بدل رہی تھی۔ مورے کی محبت اور شفقت سب پر برس رہی تھی، اور کوئی کسی سے کمتر نہیں لگ رہا تھا۔ مورے کی محبت سب کے لیے ایک جیسی تھی۔ “دانیہ” اور “زیغم” کے رشتے کی رونق سب کے چہروں پر نظر آ رہی تھی مگر اس سب کے بیچ میں دو نظریں بار بار کسی کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں…… اور وہ جس پر نظریں تھیں، وہ ان سب باتوں سے پوری طرح بے خبر تھا۔
°°°°°°°°°
“کیا ہوا “ملیحہ”؟ تو رو کیوں رہی ہے؟”
“ملیحہ” کی ماں نے فون اٹھاتے ہی اس کی سسکیاں سن کر بے چینی سے پوچھا۔

“خدا کے لیے مجھے واپس بلا لیں!”
“مجھے آپ کے پاس آنا ہے، بس میرے آخری دو پیپر رہ گئے ہیں، اس کے بعد مجھے گھر بلا لیجیے، پلیز! اب مجھ سے اور دور نہیں رہا جاتا!”
وہ تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی، جیسے ضبط کی تمام حدیں پار کر چکی ہو۔

“بلا لیں گے…… اب بہت جلد اپنی بچی کو اپنے پاس بلا لیں گے!”
ماں کی یہ بات سنتے ہی “ملیحہ” کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ اس نے کتنی ہی بار فون پر یوں رو کر فریاد کی تھی، مگر ہمیشہ یہی جواب ملا تھا کہ “ہم مجبور ہیں!” مگر آج…… آج اس کی امید کے برعکس جواب ملا تھا۔ وہ سکتے میں آگئی۔

“ملیحہ؟” “ملیحہ”، تو سن رہی ہے نا؟”

“ج…… جی! سن رہی ہوں، سن رہی ہوں! آپ سچ میں مجھے اپنے پاس بلا لیں گی؟”

“ہاں، میری بچی! ہاں، سچ میں! وقت بدل گیا ہے… ظالموں کا راج ختم ہو گیا ہے… صبح کا سویرا ہو گیا ہے، سورج طلوع ہو چکا ہے، خوشیاں آگئی ہیں!”
“گاؤں میں ظلم کا راج ٹوٹ چکا ہے! اب تو ہمارے پاس رہے گی، اپنے ابا کے پاس! بس پیپر دے اور واپس آ جا!”

“اماں…! مجھ سے یقین نہیں ہو رہا… یہ آپ ہی ہیں؟”
“آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟”

“ہاں، میرا بچہ! یقین کر، میری بچی، یقین کر!”
“اب ہماری بچی ہمارے ساتھ رہے گی۔ اچھا، میں فون بند کرتی ہوں، تیرے ابا سائیں کو دوائی دینی ہے، بعد میں بات کریں گے۔”
فون بند ہو چکا تھا، مگر “ملیحہ” کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔ کبھی وہ ہنستی، کبھی اپنی ہی حالت پر رو دیتی۔ یہ لمحہ خواب جیسا تھا، اور اسے خوف تھا کہ کہیں یہ خواب نہ ٹوٹ جائے مگر نہیں، یہ حقیقت تھا۔ “ملیحہ” کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ آج اس کی دعائیں بارگاہِ الٰہی میں قبول ہو چکی تھیں۔ خدا نے اس کی فریادیں سن لی تھیں، اس کا رونا رائیگاں نہیں گیا تھا۔ اس پیارے رب نے اس کی مشکلات کو آسان کر دیا تھا، اس کے صبر کے بندھن ٹوٹنے لگے تھے، تو خدا نے اسے آسانیاں عطا فرما دی تھیں۔ وہ بےحد خوش تھی، اتنی کہ دو پیپرز کا انتظار کرنا بھی اس کے لیے مشکل ہو گیا تھا۔ وہ جلدی جلدی اپنے کپڑے اٹھا کر بیگ میں رکھنے لگی۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کی بےچینی بڑھتی جا رہی تھی، خوشی کے آنسو اس کے رخساروں پر مسلسل بہہ رہے تھے۔ اسی وقت دروازہ کھلا اور “فاریہ” نے اندر قدم رکھا۔ وہ “ملیحہ” کو یوں بےتابی سے سامان سمیٹتے دیکھ کر ٹھٹک گئی۔ آج کالج سے “ملیحہ” سیدھا گھر آگئی تھی کیونکہ روزے کی حالت میں اس کے سر میں بہت زیادہ درد تھا جبکہ “فاریہ” ابھی ابھی کال سینٹر سے واپس آئی تھی۔

“ملیحہ!” یہ کیا کر رہی ہو؟”
“فاریہ” نے حیرانی سے کمرے میں داخل ہوتے ہی “ملیحہ” کو بے تابی سے کپڑے سمیٹتے دیکھا تو فوراً پوچھ بیٹھی۔

“فاریہ!” میری دعا قبول ہو گئی……!”
“ملیحہ” خوشی سے روتے ہوئے بولی۔

“کون سی دعا؟”
“فاریہ” نے قریب آ کر اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھا۔

“اماں نے کہا ہے کہ میں واپس جا سکتی ہوں!”
“وہ کہہ رہی ہیں کہ گاؤں میں ظلم کا راج ختم ہو گیا ہے!”
“میرے ابا سائیں مجھے اپنے پاس بلا رہے ہیں!”
“ملیحہ” کی آواز میں خوشی اور بے یقینی ملی جُلی تھی، جیسے ابھی بھی یقین نہ آ رہا ہو کہ وہ واقعی واپس جا سکتی ہے۔

“سچ؟ اوہ میرے خدا، “ملیحہ”، یہ تو بہت بڑی خوشخبری ہے!”
“فاریہ” نے بے اختیار اسے گلے لگا لیا۔

“ہاں “فاریہ”، بس اب مجھ سے دو دن کا انتظار نہیں ہو رہا، بس یہ پیپرز ختم ہوں اور میں فوراً نکل جاؤں۔”

“لیکن، “ملیحہ”، ابھی کچھ دن پہلے تک تو حالات بہت خراب تھے…… کیا واقعی سب ٹھیک ہو گیا ہے؟”
“فاریہ” کی آواز میں ہلکی سی پریشانی تھی۔

“ہاں، اماں کہہ رہی تھیں کہ سب بدل گیا ہے…… اب وہاں کوئی خطرہ نہیں، میں اپنے گھر جا سکتی ہوں!”
“ملیحہ” نے چمکتی آنکھوں سے کہا، جیسے روشنی کا ایک نیا دروازہ اس کے لیے کھل گیا ہو۔

“تو پھر میرے خیال میں تمہیں جلدی سے تیاری کرنی چاہیے، اور ہاں، وعدہ کرو کہ وہاں جا کر بھی رابطے میں رہو گی۔ پلیز مجھے بھول مت جانا۔”
وہ کہتے ہوئے رو پڑی تھی۔

“فاریہ”، پاگل ہو گئی ہو یار؟”
“میں تمہیں بھول سکتی ہوں؟”
“یار، میں نے سارا بچپن تمہارے ساتھ گزارا ہے۔ پاگل، تُو تو میری جان، میری بیسٹ فرینڈ، میری بہن، سب کچھ ہے! میں تجھے کیسے بھول سکتی ہوں؟”
“مگر یار، میں بہت خوش ہوں۔ میرا بہت بڑا خواب پورا ہونے جا رہا ہے۔ میں اپنے اماں ابا کے ساتھ رہوں گی۔”

“یار، میں تمہارے لیے دل سے بہت خوش ہوں۔ تمہیں ہمیشہ روتے ہوئے دیکھتی تھی تو مجھے بہت تکلیف ہوتی تھی۔ یار، میں تمہیں ہمیشہ یاد کروں گی، مجھے تمہاری عادت ہو گئی ہے اور جو کچھ ابا نے کل کہا، اس کے بعد تو میری خود سے دعا تھی کہ تم اپنے گاؤں واپس چلی جاؤ۔”
“میں واقعی تمہارے لیے خوش ہوں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے اماں ابا کے پاس ہمیشہ خوش رکھے۔”
“فاریہ” اس کے کپڑے ساتھ میں سمیٹ رہی تھی، وہ دل سے خوش بھی تھی اور رو بھی رہی تھی۔ دونوں آپس میں اپنے گزرے وقت کی باتیں یاد کرتے ہوئے دل برداشتہ ہو رہی تھیں۔
°°°°°°°°°°°°°°
گاڑی میں ہلکی مدھم روشنی تھی، باہر ڈھلتی ہوئی رات کا منظر خاموشی میں لپٹا ہوا تھا۔ “مائد” ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا گاڑی چلا رہا تھا، مگر اس کی نظریں بار بار بیک مرر میں پڑ رہی تھیں، جہاں باپ اور بیٹی کے درمیان برسوں کی جدائی سمٹ رہی تھی۔

“ارمیزہ”، “زیغم” کی گود میں سمٹی بیٹھی تھی، بڑی معصومیت سے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی:
“آپ کو میری یاد نہیں آتی تھی؟”

“زیغم” نے بیٹی کو اور قریب کر لیا، اس کی پیشانی چومتے ہوئے نرم لہجے میں کہا:
“بہت زیادہ آتی تھی، ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ بابا کو اپنی گڑیا کی یاد نہ آئے؟”

“ارمیزہ” نے ضدی انداز میں لب بھینچے۔
“نہیں، جھوٹ! اگر آپ کو یاد آتی تو آپ مجھے ملنے آتے، میں جب بھی کال کرتی تھی، کہتی تھی بابا مجھے ملنے آئیں، آپ ہمیشہ کہتے تھے۔۔۔ آؤں گا، آؤں گا، پھر آپ نہیں آتے تھے…”
اس کی چھوٹی سی ناک غصے سے سرخ ہو رہی تھی۔
“میں آپ سے ناراض ہوں!”

“نہیں، میرا پیارا بچہ غصہ نہیں ہوتے، بابا اپنی سب غلطیوں کی کان پکڑ کر معافی مانگتے ہیں۔ آئندہ ایسی غلطی کبھی نہیں ہوگی۔ میں ہمیشہ تمہارے پاس رہوں گا!”
وہ فوراً سے کان پکڑتے ہوئے اپنی بیٹی کے سامنے شرمندہ تھا۔

“زیغم” کی بات پر “ارمیزہ” کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
“پکا پرومس؟”

“زیغم” نے گہری سانس لیتے ہوئے اس کے ماتھے کو چوم لیا۔
“پکا پرومس!”

“کبھی نہیں جائیں گے؟”

“کبھی بھی نہیں جاؤں گا، ہمیشہ تمہارے ساتھ، تمہارے پاس رہوں گا!”

ننھی گڑیا نے خوش ہو کر تالی بجائی اور فوراً اگلی فرمائش پیش کر دی۔
“اور پھر مجھے آج کے بعد کبھی ہاسٹل تو نہیں چھوڑنے جائیں گے؟”
“مجھے وہاں رہنا اچھا نہیں لگتا، مجھے گھر جانا ہے، پلیز آپ مجھے گھر پر ہی رکھیں گے نا؟”

“بالکل! آج کے بعد تمہیں ہاسٹل نہیں جانا پڑے گا، یہ تمہارے بابا کا وعدہ ہے!”
“زیغم” کی آنکھوں میں نمی اتر آئی، اس نے بیٹی کے چھوٹے ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لیتے ہوئے مضبوط لہجے میں اس کو یقین دلایا۔ “ارمیزہ” نے خوشی سے بابا کے گلے میں بانہیں ڈال دیں اور زور سے ان کے ساتھ چمٹ گئی۔ “مائد” جو یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا، بے اختیار مسکرا دیا۔ گاڑی رات کے سائے میں آگے بڑھ رہی تھی، مگر “زیغم” اور “ارمیزہ” کے دلوں سے دوری کی وہ سیاہی اب چھٹ چکی تھی۔ “زیغم سلطان” کی نظریں سڑک پر جمی تھیں، مگر دماغ میں بس ایک ہی سوچ گونج رہی تھی—”نایاب!”

“کتنی گھٹیا عورت ہے… کتنی سنگدل ماں ہے۔ کم از کم اپنی اولاد کی تو بن جاتی!”
“زیغم” کے دل میں طوفان اٹھ رہا تھا۔

“ارمیزہ” جیسے معصوم پھول کو اپنے پاس رکھنے کی ہمت تک نہ ہوئی، اپنی ممتا اس پر نہ لٹا سکی، اور پھر بھی محبت کے دعوے کرتی ہے؟”

“زیغم” نے بے اختیار اپنی مٹھیاں بھینچ لیں۔
“اسے باپ کی محبت اور سایہ چھیننے والی تم ہو۔ تم عورت کہلانے کے لائق نہیں ہو۔ تمہاری سچائی اتنی غلیظ ہے جسے سوچتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔”
“اگر تم نے نفرت کے اور بدگمانیوں کے جال نا پھیلائے ہوتے، تو میں اس معصوم گڑیا کی ہر خوشی پر پہرا دیتا، ہر آنسو اپنی ہتھیلی پر روک لیتا… اس کی لبوں سے نکلنے والی ہر خواہش کو اس کے بولنے سے پہلے پورا کر دیتا–––مگر “نایاب؟”
اس کا نام لیتے ہوئے ماضی کے زخموں سے چور ہو رہا تھا۔

“تم نے جو کرنا تھا کر لیا میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں–––میں ایسی سزا دوں گا، ایسے تڑپاؤں گا کہ نہ جینے کے لائق چھوڑوں گا، نہ مرنے کے لیے… یہ وعدہ ہے “زیغم سلطان” کا!”
وہ دل میں عہد کرتے ہوئے سفر طے کر رہا تھا۔ کچھ دیر اپنے بابا کے ساتھ باتیں کرتے کرتے کب “ارمیزہ” اپنے بابا کے سینے پر سر رکھے ہوئے سو گئی پتہ ہی نہیں چلا تھا۔ وہ حویلی کے قریب پہنچ چکے تھے۔
°°°°°°°
“یہ سب کچھ “زیغم” بھائی نے کیا ہے؟”
وہ بے یقینی سے بولا، نظریں “شہرام” کی زخمی ٹانگ پر جمی تھیں۔

“ہاں ہاں! تمہیں کچھ پتہ بھی نہیں…… وہ یہاں آتے ہی ظلم پر ظلم کیے جا رہا ہے۔ اپنی بہن کو کہیں لے گیا، پتہ نہیں کہاں چھوڑ آیا ہے، اور خود “مائد” خان کو ساتھ ملا کر ہمارے گلے کی ہڈی بن گیا ہے!”
“قدسیہ” نے روتے ہوئے جواب دیا، آواز میں دکھ اور بے بسی واضح تھی۔

“ہمیں گھر سے نکلنے نہیں دیتا، تمہارے باپ سے کرسی چھین لی، جرگے میں بیٹھنے کا حق بھی ختم کر دیا!”
“سارا کاروبار، سب کچھ اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ ہم پر ایسے حکم چلاتا ہے جیسے ہم اس کے نوکر ہیں! تیرے باپ سے گاڑیاں دھلواتا ہے، ہم سے گھر کی صفائیاں کرواتا ہے…!”
وہ درد بھرے لہجے میں بول رہی تھی، آنکھوں سے آنسو بہتے جا رہے تھے۔
وہ حیرت سے سب سنتا جا رہا تھا، دل میں ایک بھونچال سا آ گیا تھا۔ کیا یہ سب واقعی “زیغم” بھائی نے کیا تھا؟ وہ “زیغم” جو ہمیشہ اس کے لیے دیوار بن کر کھڑا رہا تھا؟ وہ “زیغم” بھائی جو خاندان کے وقار کی قسمیں کھاتا تھا؟ اسے یقین نہیں آ رہا تھا۔
°°°°°°°°°°
“زیغم سلطان” کی گاڑی جیسے ہی حویلی کے اندر داخل ہوئی، حویلی کہ اندر ایک اور چمچماتی ہوئی بڑی سی گاڑی کھڑی تھی۔ “زیغم” نے گڑیا کو بازوؤں میں سنبھالے حیرانی سے پوچھا۔

“کون آیا ہے؟”
وہ گڑیا کو سنبھالتے ہوئے گاڑی کی طرف دیکھ رہا تھا۔

“جی، چھوٹے سائیں آئے ہیں۔”
“رفیق” نے دروازہ کھولتے ہی جلدی سے جواب دیا، جیسے اسے پہلے ہی اندازہ ہو کہ “زیغم” یہ سوال ضرور کرے گا۔

“کون؟ “زرام؟”
اس کے ماتھے پر شکنیں ابھریں، لہجے میں حیرت نمایاں تھی۔ وہ “زرام” کی آمد پر الجھن کا شکار تھا، مگر خود کو سنبھالتے ہوئے خاموشی سے اندر بڑھ گیا۔ گڑیا نیند میں تھی، اس لیے سب سے پہلے اس نے جا کر اسے اپنے کمرے میں آرام سے بستر پر لٹایا۔

“مائد”، تم بیٹھو، میں ذرا دیکھ کر آتا ہوں کہ “زرام” آیا ہے اور مجھے اطلاع کیوں نہیں دی۔”
“زیغم” اپنے کمرے سے نکل کر “زرام” کے کمرے کی جانب بڑھا، مگر راستے میں ٹھہر گیا۔ کچھ لمحوں تک وہ خاموشی سے سننے لگا، پھر اندازہ ہوا کہ آوازیں “شہرام” کے کمرے سے آ رہی ہیں۔

“قدسیہ” کی آواز آرہی تھی۔
“بس کیا بتاؤں،”زرام” ہم نے تو صرف محبت کی، اور بدلے میں ہمیں کیا ملا؟ ذلت اور بربادی!”
“قدسیہ” کی مصنوعی مظلومیت سے بھری آواز اس کے کانوں میں پڑی، تو “زیغم” کے چہرے پر سختی در آئی۔ اس کی مٹھیاں سخت ہونے لگیں، غصے سے اس کی رگیں تن گئیں، اور وہ تیزی سے دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوا۔

“زرام!” تم کب آئے؟”
“اور مجھے کیوں نہیں بتایا؟”
وہ آگے بڑھا “زرام” کو گلے لگانے کے لیے، مگر “زرام” نے قدم پیچھے ہٹا لیے۔

“کیوں؟ آپ نے آ کر مجھے بتایا تھا؟”
“اور یہ بھی نہیں بتایا کہ اتنے سالوں بعد واپس آ کر میرے گھر والوں پر یہ ظلم کر رہے ہیں؟”
“زرام” کی نظریں “زیغم” پر جمی تھیں، مگر اس کے لہجے میں تلخی اور دکھ نمایاں تھا۔

“میں جانتا ہوں کہ یہ لوگ زیادہ اچھے نہیں ہیں، میں جانتا ہوں کہ ان میں رحم نہیں ہے، مگر جو سلوک آپ نے ان کے ساتھ کیا، کیا وہ جائز تھا؟ کیا یہ رحم تھا؟ کیا یہ انسانیت تھی، “زیغم” بھائی؟ مجھے آپ سے ایسی کوئی توقع نہیں تھی!”
“زیغم” کی نظریں مزید سخت ہو گئیں۔ اس نے مٹھیاں بھینچتے ہوئے “زرام” کو سخت لہجے میں ٹوکا۔

“زرام!” اپنی آواز نیچے رکھو، اس لہجے میں مجھ سے دوبارہ بات مت کرنا!”

“کیوں؟ ہمارا بیٹا ہم سے اس زبان میں بات نہیں کر سکتا، مگر تم ہم سے بدتمیزی کر سکتے ہو؟ ظلم کر سکتے ہو؟”
“توقیر” غصے میں اپنی جگہ سے اٹھا، وہ مزید خاموش نہیں رہ سکتا تھا۔ وہ کسی بھی طرح حویلی سے نکلنا چاہتا تھا اور اسے لگتا تھا اس سب میں “زرام” ان کی مدد کر سکتا ہے اسی لیے تو “زرام” کو فون کر کے بلوایا گیا تھا۔

“آپ کے ساتھ میں بدتمیزی کر رہا ہوں؟”
“آپ پر ظلم کر رہا ہوں؟”
‘اوہ مائی گاڈ! آپ لوگ تو مظلوم ہیں، بے بس ہیں، مسکین ہیں! کیا ڈرامہ باز فیملی ہو تم لوگ! پہلے ہمت ہے تو بیٹے کو اپنی حقیقت بتاؤ، پھر کوئی بات کرنا!”
“زیغم” کی خون برساتی نظروں میں ان کے لیے آگ ہی آگ تھی۔ اسکے لفظوں میں طنز تھا، مگر حقیقت بھی تھی۔

“زیغم” بھائی! آپ اس انداز سے بابا سائیں سے بات نہیں کر سکتے!”
“وہ آپ سے بڑے ہیں!”
“زرام” کی آواز میں التجا تھی اور شدید غصہ بھی، مگر “زیغم” کے چہرے پر کوئی نرمی نہیں آئی۔

“زرام”، میرے ساتھ چلو! پہلے ساری حقیقت جانو، پھر اچھلنا!”

“نہیں! میرا بیٹا کہیں نہیں جائے گا تمہارے ساتھ!”
“پہلے تم نے میرے ایک بیٹے کو یہاں پر ڈال دیا، بے بس کر دیا! اب اس کو لے جا کر بدظن کرنا چاہتے ہو؟”
“قدسیہ” نے “زرام” کا ہاتھ کھینچ لیا۔ “زیغم” کے پاس ایک ہی حل بچا تھا “زرام” کو ساتھ لے جانے کا۔ اس نے پسٹل نکالتے ہوئے “قدسیہ” کو سخت نظروں سے دیکھا۔

“اگر ایک قدم آگے بڑھایا، تو گولی چلا دوں گا! مجھے کوئی دقت نہیں ہوگی!”
“زیغم” نے پسٹل تانتے ہوئے سرد لہجے میں کہا۔

“زیغم” بھائی! آپ اماں سائیں پر— میری اماں سائیں پر بندوق تان رہے ہیں؟”
“آپ کیا کر رہے ہیں؟”
“یہ میں آپ کا کون سا روپ دیکھ رہا ہوں؟”
“زرام” کی آنکھوں میں بے یقینی تھی، مگر “زیغم” کے چہرے پر سرد مہری چھائی رہی۔

“میرا روپ بعد میں دیکھنا! پہلے چلو، تمہیں ان کے اصل روپ دکھاتا ہوں!”
وہ زبردستی “زرام” کو کھینچتے ہوئے باہر لے آیا۔ “نایاب”، جو اپنے کمرے میں تھی، شور سن کر باہر لپکی۔

“زیغم” پلیز چھوڑ دو! پلیز “زرام” کو کچھ مت کرنا!”
اسے لگا کہ “زیغم” “زرام” کو گولی مارنے والا ہے، کیونکہ “زیغم” کے ہاتھ میں پسٹل تھی۔ اس کے ذہن میں وہی منظر گھوم گیا۔ جب “زیغم” نے آتے ہی “شہرام” کی ٹانگ پر گولی مار دی تھی۔

“شٹ اپ! جا کر “ارمیزہ” کو دیکھو!”
“اپنی بیٹی کی حفاظت تو تم سے کی نہیں گئی، بھائی کی حفاظت کرے گی؟”
“زیغم” نے “نایاب” کو غصے سے پیچھے جھٹک دیا۔ “ارمیزہ” کے نام پر “نایاب” نے چونک کر اس کی جانب دیکھا۔

“ارمیزہ؟” “ارمیزہ” کب آئی؟ کیسے آئی؟”
اس کے لہجے میں حیرت تھی، مگر “زیغم” نے بے نیازی سے جواب دیا۔

“میں لے کر آیا ہوں! کوئی اعتراض ہو تو بھی مجھے فرق نہیں پڑتا!”
“اور آج کے بعد “ارمیزہ” ہاسٹل نہیں جائے گی!”
“میں زندہ ہوں، واپس آ گیا ہوں، اور اپنی بیٹی کی ذمہ داری خود اٹھاؤں گا!”
اس کے الفاظ میں فیصلہ کن سختی تھی۔
اسی لمحے “مائد” “زیغم” کے کمرے سے نکلا۔ اس نے ایک نظر “زیغم” پر ڈالی اور “زیغم” نے سر کے اشارے سے سمجھا دیا کہ انہیں فوراً نکلنا ہوگا۔

“زیغم” بھائی! چھوڑیں مجھے! میں کہیں نہیں جاؤں گا!”

“گاڑی میں بیٹھو!”
“جانا تو تمہیں پڑے گا ہر صورت!”
“زیغم” نے زبردستی “زرام” کو گاڑی میں دھکیلا، “مائد” ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا، اور گاڑی حویلی سے باہر نکال لی۔ دوسری طرف، “نایاب” تیزی سے “ارمیزہ” کے کمرے کی طرف گئی۔ “ارمیزہ” بستر پر لیٹی تھی، “نایاب” نے اسے غور سے دیکھا۔ وہ سوچنے لگی کہ اب ان کا رشتہ مضبوط ہو جائے گا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔ دوسری جانب، “زیغم سلطان” کی گاڑی حویلی سے نکل چکی تھی۔
°°°°°°°°°°°
“یہ سمجھتا کیا ہے خود کو؟”
“قدسیہ” غصے سے بولی تھی۔

“تم سے کچھ نہیں ہوگا، دیکھ لینا، وہ ہم سے ہمارا سب کچھ چھین لے گا۔ ہمیں سڑک پر لے آئے گا، ہمارے بیٹوں کو بھی ہم سے دور کر دے گا۔ تم بس دیکھتے رہ جانا!”
“قدسیہ” “زرام” کے جاتے ہی “توقیر” پر چڑھ دوڑی تھی۔

“بس کرو قدسیہ۔۔۔میری جان چھوڑو میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں۔”
“تم جو اتنی ٹیں ٹیں میرے سامنے کر رہی ہو تم روک لیتی!”
“توقیر” جھنجھلا کر بولا تھا، مگر “قدسیہ” تلخی سے ہنسی دی۔

“کم از کم میں نے کوشش تو کی، تم نے تو کوشش بھی نہیں کی۔ کھڑے رہے عورتوں کی طرح!”
“اس کا تو پہلے ہی کام تمام کر دیا ہے!”
“شہرام” کی جانب ہاتھ کرتے ہوئے کہا۔

“اب “زرام…” وہ “زرام” کو بھی لے گیا ہے!”
“جانتا ہے کہ وہ ہماری سب سے کمزور کڑی ہے، اسے توڑ دے گا، اپنے ساتھ ملا لے گا، اور ہم دیکھتے ہی رہ جائیں گے!”
“قدسیہ” کی آواز میں بے بسی اور غصہ دونوں شامل تھے۔

“میں کچھ کرتا ہوں!”
“توقیر” نے بے چینی سے کہا تھا، مگر “شہرام” جو کب سے یہ سب سن رہا تھا، آخرکار ضبط کھو بیٹھا تھا۔

“خدا کا واسطہ چپ ہو جاؤ!”
“جان کا عذاب بن گئے ہو تم لوگ!”
وہ زور سے چلایا تھا۔
“اگر کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم میرے کمرے سے نکل جاؤ!”
کمرے میں خاموشی چھا گئی تھی۔ جن رشتوں میں کبھی محبت تھی، وہ آج نفرت اور بے یقینی میں بدل چکے تھے۔

محبت اگر محبت ہوتی تو بکھرتی نہیں، ٹوٹتی نہیں، آزمائشوں میں کمزور نہ پڑتی مگر یہاں تو محبت لالچ تھی، غرض تھی، ایک دوسرے سے مطلب نکالنے کا ذریعہ تھی۔ ایسے رشتے کب تک چلتے؟ کب تک قائم رہتے؟
یہاں سب خونی رشتے تھے، ماں باپ، بہن بھائی، میاں بیوی… مگر سب کے سب بے وقعت۔ کیونکہ ان کی محبت میں اخلاص نہیں تھا، ان کے رشتے مفاد کے اسیر تھے۔ جب محبت کا معیار دولت، طاقت اور انا بن جائے تو پھر رشتے صرف نام کے رہ جاتے ہیں۔
جب ماں باپ ہی حلال اور حرام میں فرق نہ جانتے ہوں، جب ماں باپ خود رشتوں کا تقدس نہ سمجھیں، تو وہ اولاد کو کیا سکھائیں گے؟ جس گھر کی بنیاد ظلم، دھوکہ اور مفاد پرستی پر ہو، وہاں پلنے والی نسل بھلا کیسی ہوگی؟
“قدسیہ” اور “توقیر” کی اولاد بھی تو وہی عکس تھی جو انہیں دکھایا گیا تھا۔ آج اگر سر پیٹنے سے سب کچھ ٹھیک ہو سکتا تو شاید وہ بھی کر لیتے، مگر نہیں، جو فصل انہوں نے خود بوئی تھی، وہ اب تناور درخت بن چکی تھی۔
اللہ نے رشتوں میں محبت، قربانی اور اخلاص رکھا ہے، مگر جب انسان انہیں اپنی خواہشات اور انا کے تابع کر لیتا ہے، تو یہی رشتے بوجھ بن جاتے ہیں۔ جو محبت اللہ کے لیے ہو، وہ کبھی زوال پذیر نہیں ہوتی، اور جو محبت دنیا کے لیے ہو، وہ ایک دن دنیا کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہے۔

“میں نے کہا نکل جاؤ! نکل جاؤ میرے کمرے سے!”
“شہرام” غصے سے چیخ رہا تھا۔
“قدسیہ” اور “توقیر” اس کی بلند آواز پر جھنجھلا کر کمرے سے باہر نکل گئے تھے۔
کتنا ہولناک منظر تھا! جہاں نہ اولاد ماں باپ کی سگی بن رہی تھی، نہ ہی ماں باپ اپنے ہونے کا حق ادا کر رہے تھے۔ رشتے تھے، مگر ان میں احساس نہیں تھا۔ خون کا رشتہ تھا، مگر دل میں محبت نہیں تھی۔

جب حلال و حرام کی پہچان نہ رہے،
تو رشتوں میں اخلاص کی جان نہ رہے۔
جہاں محبت بھی مفاد میں بٹ جائے،
وہاں خونی رشتوں کی پہچان نہ رہے۔
°°°°°°°°°°°
“ارمیزہ”، میری پیاری بیٹی، تم جانتی ہو نا کہ تم مجھے کبھی اچھی نہیں لگی؟”
“زہر لگتی ہو تم!”
“نایاب” کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی، مگر آنکھوں میں عجیب سا جنون جھلک رہا تھا۔

“لیکن آج… آج پہلی بار پتہ نہیں کیوں، تم مجھے پیاری لگ رہی ہو، شاید اس لیے کہ تمہاری وجہ سے تمہارا بابا مجھے مل سکتا ہے۔”
وہ آہستہ سے “ارمیزہ” کے گال کو چھوتے ہوئے بولی، جیسے کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہو۔

“تیرے بابا کے لیے تو میں پوری دنیا کو آگ بھی لگا سکتی ہوں… اور پوری دنیا کے سامنے جھک بھی سکتی ہوں۔”
اس کی سرگوشی کسی خطرناک منصوبے کا اعلان کر رہی تھی۔
“ارمیزہ” گہری نیند میں تھی، معصوم، بے خبر کہ کوئی اس کے وجود کو ایک مہرے کی طرح استعمال کرنے کا سوچ رہا تھا۔

“بہت پیار کرتے ہو نا اس سے؟”
“نایاب” نے ہلکی سی ہنسی کے ساتھ سرگوشی کی۔
“اب میں اسی کو مہرا بناؤں گی اور تمہارے قریب آؤں گی، “زیغم!” کیونکہ تم میرے ہو… بس میرے!”
اس کی انگلیاں سوئی ہوئی “ارمیزہ” کے ماتھے پر نرمی سے رقص کر رہی تھیں، کسی سوچ میں کھوئی ہوئی شاطر کھلاڑی کی طرح تانے بانے بن رہی تھی۔

“کیا کروں؟ تم نشہ بن کر میری رگوں میں دوڑتے ہو۔ ہزار بار دل سے کہا کہ تم سے نفرت کروں گی، تمہیں کبھی یاد نہیں کروں گی، مگر مجبور ہوں، کر نہیں پاتی… تم سے محبت کرنے کے لیے مجھے تمہاری اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔”
وہ خود سے بول رہی تھی، اس کی نظریں خلا میں گم تھیں۔

“زیغم” سالوں سے اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر تمہیں چاہتی آئی ہوں، اب بھی ویسے ہی چاہتی رہوں گی… تم نے نہ کبھی مجھے خود سے محبت کرنے کی اجازت دی تھی اور نہ دو گے مگر مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بھلا سانس لینے کے لیے بھی کوئی کسی سے اجازت لیتا ہے؟”
اس نے ایک نظر “ارمیزہ” پر ڈالی، ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر در آئی، اس مسکراہٹ میں چالاکی اور دیوانگی دونوں شامل تھے۔

“تب سے چاہا ہے تمہیں، جب محبت کا مطلب بھی نہیں پتہ تھا۔ بہت بھاگ لیا تم نے مجھ سے، “زیغم…” لیکن اب اور نہیں۔ اب تمہیں میرے قریب آنا ہی ہوگا، کیونکہ اب یہ کھیل میرے اصولوں پر چلے گا!”
اس نے جیسے خود سے عہد کر لیا تھا، اس کی آنکھوں میں ایک خطرناک ارادوں کی چمک تھی۔
°°°°°°°°
“میرے ساتھ زبردستی مت کریں! بچہ نہیں ہوں میں!”
“زرام” غصے سے بولا، اس کی آواز گاڑی کے اندر گونجی۔

“میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں کیونکہ آپ مجھ سے بڑے ہیں، مگر جب آپ خود عزت کرنا بھول جائیں، تو میں کیوں رکھوں؟”
“مجھے گاڑی سے اترنے دیں، آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے! جتنا کچھ کر لیا، وہ کافی ہے!”
وہ دھاڑا۔

“زرام” آرام سے بیٹھے رہو، پوری حقیقت جان لو، اس کے بعد جو تمہارا فیصلہ ہوگا، مجھے منظور ہوگا۔ اگر میدان میں آ کر فضول میں لڑائی کرنے کا شوق ہے، تو تمہارا یہ شوق بھی پورا کر دوں گا مگر پہلے سچائی کو سمجھو اور جانو!”
“زیغم” کی آواز سخت تھی، آنکھوں میں ضبط کی ایک جنگ جاری تھی۔

“سنی سنائی باتوں پر مت بھڑکو، مت بھولو کہ مجھے فون کر کے واپس بلوانے والا کوئی اور نہیں تم خود تھے!”
“زیغم” کب سے برداشت کر رہا تھا مگر وہ کب تک برداشت کرتا۔ “زیغم” میں اس سے زیادہ برداشت نہیں تھی۔ آخرکار صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو وہ دھاڑ اٹھا، اس کی گرجدار آواز نے جیسے گاڑی میں زلزلہ برپا کر دیا۔ شیشے کے اندر سے “مائد” نے پیچھے کو دیکھا مگر خاموش رہا کیونکہ اسے بولنا مناسب نہیں لگ رہا تھا۔

“ہاں، میں نے فون کیا تھا! غلط کیا میں نے؟”
“زرام” نے غصے میں پلٹ کر جواب دیا۔
“میں نے تو صرف یہ کہا کہ گھر میں کچھ غلط ہو رہا ہے!”
“مجھے پورا آئیڈیا نہیں تھا، اور ہاں، میرے اپنے بھی ان کے ساتھ حالات اچھے نہیں، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ میری فیملی نہیں ہے! آپ جس طرح ان پر ظلم کر رہے ہیں، کہاں گئی آپ کی انسانیت؟”
“زرام” کی آواز میں غصے اور بےبسی کا امتزاج تھا۔
“ہمیشہ ایمانداری سچائی کا درس دینے والے “زیغم” بھائی خود ناانصافی کریں گے خود ظلم کریں گے بڑوں سے بدتمیزی کریں گے یہ تو میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔”

“چلاؤ مت!”
“زیغم” نے سخت لہجے میں کہا:
“خاموشی سے چلو اور جا کر خود فیصلہ کرو کہ تمہارے بھائی، تمہاری ماں، تمہاری بہن نے جو سلوک میری معصوم بہن “دانیہ” کے ساتھ کیا، وہ ٹھیک تھا؟”
“تم ہی تھے جس نے مجھے فون کر کے کہا تھا کہ “دانیہ” بھابی میرے سامنے نہیں آتی، “دانیہ” بھابی کو میرے پاس بیٹھنے نہیں دیا جاتا، گھر میں کچھ غلط ہو رہا ہے…’ یہ سب تم نے ہی کہا تھا نا؟”
“زیغم” کی آنکھیں غصے کی شدت سے دہک رہی تھیں، جبکہ “زرام” نظریں چراتے ہوئے گہری سانس لے کر رہ گیا۔ وہ لوگ “مائد” کی حویلی پہنچ چکے تھے۔ حویلی کا گیٹ کھلتے ہی گاڑی اندر آ کر رکی، گاڑی سے نیچے اترتے ہی “زیغم” “زرام” کا ہاتھ کھینچتے ہوئے اسے اپنے ساتھ اندر لے کر آچکا تھا۔ رات تقریباً ساڑھے نو بجنے والے تھے اور مورے شاید نماز پڑھ کر اپنے روم میں جا چکی تھی۔ ہال میں کوئی بھی نظر نہیں آیا تھا مطلب کہ سب اپنے روم میں جا چکے تھے۔ “زیغم” “زرام” کا ہاتھ تھامے سیدھا “دانیہ” کے روم کی جانب کیا تھا جبکہ “مائد” اپنی مورے کے روم کی طرف بڑھ گیا۔ زور سے “دانیہ” کا دروازہ کھٹکھٹایا تو دانیا جو ابھی جاگ رہی تھی ڈر گئی۔

“ککک۔۔۔کک۔۔۔کون ہے؟”

“دانیہ” بیٹا دروازہ کھولو!”
“زیغم” کی آواز سنتے ہی “دانیہ” جلدی سے بیڈ سے اترتے ہوئے دروازہ کھول چکی تھی۔

“ذرام” بھائی… خیریت ہے؟”
“دانیہ” کی گھبرائی ہوئی آواز نکلی، جیسے وہ کسی انہونی کے خوف میں مبتلا ہو۔

“ہاں خیریت ہے… “زرام” بھائی تم سے ملنے آئے ہیں!”
“زیغم” کے لہجے میں عجیب سی تلخی تھی، ایک طنزیہ مسکراہٹ اس کے لبوں پر تھی، مگر آنکھوں میں شدید سختی تھی۔ “زرام” نے الجھ کر “زیغم” کی طرف دیکھا، مگر جیسے ہی اس کی نظریں “دانیہ” پر پڑیں، اس کے قدم وہیں رک گئے۔ “دانیہ” کا حلیہ… دل دہلا دینے والی کہانی سنا رہا تھا۔ اس کے چہرے پر جگہ جگہ نیل پڑے تھے، آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے، ہاتھوں پر زخموں کے نشان… “زرام” کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں، سانس رکنے لگا تھا۔ یہ سب کیا تھا؟ وہ صرف ایک مہینہ پہلے گھر سے گیا تھا، اور وہ محض ایک رات کے لیے واپس آیا تھا۔ تب اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا مگر یہ… یہ سب کیسے ہو گیا؟

“دانیہ…” بھابھی… آپ کو کیا ہوا ہے؟”
“زرام” کے لبوں سے بے ساختہ نکلا۔

“ہاں بتاؤ “دانیہ”، کیا ہوا ہے؟”
“زیغم” نے سختی سے لفظوں کو چباتے ہوئے کہا:
“اسے بتاؤ کہ اس کے بھائی، اس کی بہن، اس کی ماں نے تمہارے ساتھ کیا کیا؟”
“اسے حقیقت سے روشناس کرواؤ، “زرام” کو تو لگتا ہے کہ میں ظالم ہوں، مجھے انسانیت سکھانے آیا تھا نا۔ تو لو، اب حقیقت خود سن لو!”
“زیغم” کے الفاظ “زرام” کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو رہے تھے۔

“بھائی… پلیز… اندر آ کر بیٹھیں!”
“دانیہ” نے بمشکل کہا، اس کی آواز میں ایک عجیب سی لرزش تھی۔
“زرام” “دانیہ” کی بہت عزت کرتا تھا، ہمیشہ اس کے ساتھ نرمی سے پیش آتا تھا۔ اسے تو معلوم ہی نہیں تھا کہ “دانیہ” کے ساتھ اس گھر میں اس طرح کا سلوک ہو رہا تھا۔ وہ گھر پر زیادہ نہیں رہتا تھا، زیادہ تر وقت ہاسٹل میں گزارتا، اسی لیے اسے ان معاملات کی خبر نہیں ہوتی تھی۔ “شہرام” اور “توقیر” کا مزاج ہمیشہ ایک جیسا رہا تھا، دونوں کی زیادہ دوستی تھی، جبکہ “زرام” کا رویہ ان سے مختلف تھا اور شاید اسی لیے “زرام” کی گھر والوں کے ساتھ زیادہ بنتی نہیں تھی۔ جب اسے گھر میں کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا، سیدھا “زیغم” کو فون کر کے بتا دیا۔ بہت ہمت چاہیے تھی اپنوں کے خلاف بولنے کی مگر اس میں سچائی کا سامنا کرنے کی ہمت تھی۔ ایک دن اچانک فون کر کے اطلاع دی کہ گھر میں کچھ ٹھیک نہیں چل رہا… مگر اس کے بعد اسے تو یہ بھی نہیں پتہ چلا کہ “زیغم” کب آیا، اور یہ سب کیسے ہوا… “زرام” اور “زیغم” “دانیہ” کے سامنے ہی صوفے پر بیٹھ گئے تھے۔ کمرے میں گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی، صرف “دانیہ” کی لرزتی ہوئی آواز اس سکوت کو توڑ رہی تھی، جو آہستہ آہستہ ظلم کی داستان سناتی چلی جا رہی تھی۔ کچھ باتیں وہ ٹھیک سے بیان نہیں کر پا رہی تھی، تو “زیغم” خود وضاحت کرتا چلا گیا۔ “زرام” کے چہرے پر شرمندگی اور ندامت کے شدید رنگ تھے۔ اسے یوں لگ رہا تھا جیسے زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے۔ یہ سب… اتنی سفاکیت؟ وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کے اپنے گھر والے ایسا کر سکتے ہیں۔ ہر سچائی سنتے ہی وہ اور زیادہ اندر سے ٹوٹتا جا رہا تھا۔ آخر میں، اس سے کچھ اور برداشت نہ ہوا، وہ بے اختیار “دانیہ” کے سامنے ہاتھ جوڑے بیٹھ گیا، آنکھیں شرمندگی سے جھکی ہوئی تھیں۔

“مجھے معاف کر دو…”
اس کی آواز لرز رہی تھی۔

“نہیں “زرام” بھائی، آپ کی اس میں کوئی غلطی نہیں، تو پھر آپ کیوں معافی مانگ رہے ہیں؟ آپ نے تو کچھ بھی نہیں کیا!”
“دانیہ” نے جلدی سے کہا، آنکھوں میں سچائی تھی۔

“میرے گھر والوں نے تو کیا ہے نا! اور میں کتنا بے وقوف تھا کہ ان کی خاطر “زیغم” بھائی سے جھگڑا کر رہا تھا…!”
“زرام” نے دکھ سے کہا۔

“کوئی بات نہیں، جھگڑا کرنا تمہارا حق ہے!”
“زیغم” نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے نرمی سے کہا:
“میں نے ہمیشہ تمہیں اپنے چھوٹے بھائی کی طرح سمجھا ہے۔”
“زیغم” جانتا تھا کہ “زرام” ایک اچھا انسان ہے۔ اس کا بچپن زیادہ تر “زیغم” کے بابا سائیں کے ساتھ گزرا تھا۔ ہمیشہ وہ کہا کرتا تھا، “بابا سائیں، میں آپ کا بیٹا ہوں، اور آپ اپنے نام کے ساتھ میرا نام بھی لگایا کریں۔ جیسے “زیغم سلطان” ہے، مجھے بھی “زرام سلطان” بننا ہے!”
“زیغم” کا “زرام” سے رشتہ ہمیشہ ہی باقی سب سے مختلف رہا تھا، ایک ایسا رشتہ جس میں عزت اور اپنائیت کی خوشبو تھی۔

“بھائی، مجھے معاف کر دیں…!”
“زرام” کی آواز میں شرمندگی سے کپکپاہٹ طاری تھی، نظریں جھکی ہوئی تھیں۔

“جب اتنا کچھ انہوں نے کیا ہے، تو وہ جس سزا کے مستحق ہیں، آپ دیں، میں بیچ میں نہیں آؤں گا!”
“زیغم” خاموشی سے “زرام” کو دیکھ رہا تھا، اس کی آنکھوں میں جذبات کی شدت تھی، مگر لب سختی سے بھینچے ہوئے تھے۔

“انصاف اور حق پر کھڑا رہنا مجھے بھی آتا ہے!”
“زرام” نے گہری سانس لی، وہ اندر ہی اندر کسی جنگ سے گزر رہا تھا۔

“میری رگوں میں بھی اسی خاندان کا خون دوڑ رہا ہے، مگر پتہ نہیں “شہرام” بھائی اور بابا سائیں کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں… کیسے اتنا ظلم کر سکتے ہیں؟”
وہ خود پر ہی شرمندہ ہوتا جا رہا تھا، اس کی آواز میں بے بسی تھی۔

“زیغم” نے ایک نظر “زرام” پر ڈالی۔
“وقت ہر چیز کا جواب دے گا، “زرام…” ہر ظلم کا حساب ہوگا۔ میں معاف نہیں کر سکتا اور اس کے لیے تم مجھے معاف کر دینا!”

“نہیں بھائی، مجھے آپ سے کوئی شکوہ، کوئی شکایت نہیں!”
“زرام” کا لہجہ پرسکون تھا، مگر آنکھوں میں ایک عجیب سی ویرانی تھی۔

“یہ دنیا مکافاتِ عمل ہے… جو بویا ہے، وہ کاٹنا تو پڑے گا!”
اس نے سر جھٹکا، جیسے خود کو ہی کوس رہا ہو۔

“مجھے اندازہ تو تھا کہ یہ لوگ بے رحم ہیں، ظالم ہیں…”
“زرام” کی آواز بھاری ہوگئی، جیسے اندر کہیں کچھ ٹوٹا ہو۔

“مگر اس قدر ظالم اور سفاک ہیں، یہ نہیں جانتا تھا!”
اس کی مٹھیاں سختی سے بھینچ گئیں، آنکھیں نمی سے لبریز تھیں مگر لہجے میں مضبوطی تھی۔

“آپ جانیں اور ان کا کام… میں آپ کے بیچ میں نہیں آؤں گا!”
“زرام” کے الفاظ میں پہلی بار ٹھہراؤ تھا، جیسے برسوں کی لاعلمی کے بعد آج حقیقت اس پر پوری شدت سے آشکار ہوئی ہو۔

“بھائی، میں ہاسٹل واپس جا رہا ہوں!”
“زرام” نے باہر نکلتے ہی مدھم مگر مضبوط لہجے میں کہا۔

“بالکل نہیں! ہاسٹل والا سسٹم اب نہیں چلے گا!”
“زیغم” نے دوٹوک لہجے میں کہا۔

“سیدھا جایا کرو اور شام کو حویلی واپس آیا کرو، میں اپنے بھائی کو خود سے دور نہیں جانے دوں گا… دیٹس اِٹ! یہ میرا فیصلہ ہے!”
“زیغم” کی محبت، اپنے پن اور بے پناہ حق جتانے والے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ “زرام” کی آنکھیں نمی سے بھر گئیں۔ بے اختیار وہ “زیغم” سے لپٹ گیا، جیسے برسوں کی تھکن اور تکلیف سمیٹنے کے لیے بڑے بھائی کے حصار میں پناہ لے رہا ہو۔

“ریلیکس… ریلیکس ہو جاؤ!”
“زیغم” نے شفقت سے اس کی پشت تھپتھپائی۔

“میرے لیے آج بھی وہی زرام ہو تم، جو میری انگلی تھام کر میرے ساتھ چلتا تھا… میرے لیے تم وہی چھوٹا بھائی ہو، جس کی میں ہر جگہ حفاظت کرتا تھا!”
“زیغم” کی باتوں میں جو خلوص تھا، وہ “زرام” کے اندر کے دکھ کو مزید بڑھا رہا تھا۔

“آج بھی میں نہیں بدلا، بس شرط یہ ہے کہ تم بھی مت بدلو!”
“زیغم” نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھاما۔

“حویلی جتنی میری ہے، اتنی ہی تمہاری بھی ہے، اور تم وہاں میرے ساتھ رہو گے!”
“مجھے بھی تو حوصلہ ہونا چاہیے کہ کوئی ہے جو میرے ساتھ کھڑا ہے… انصاف کے تقاضے تولنے کے لیے!”
“بات صرف گھر کی حد تک نہیں ہے، تمہارے بابا نے گاؤں میں اتنا ظلم کیا ہے کہ تم سن نہیں پاؤ گے!”
“زیغم” گاڑی میں بیٹھتے ہی ایک کے بعد ایک حقیقت “زرام” پر آشکار کر رہا تھا۔
“زرام” کے پاس الفاظ نہیں تھے، وہ کن الفاظ میں اپنی شرمندگی کا اظہار کرے؟ اس کا دل چاہا، کاش وہ “توقیر” کا بیٹا نہ ہوتا، ورنہ شاید وہ اسی وقت جا کر اپنے باپ اور بھائی کو گولیوں سے اڑا دیتا۔ وہ لوگ گاڑی میں بیٹھ چکے تھے، اتنے میں “مائد” بھی باہر آ گیا۔ “مائد” بہت سمجھدار تھا، اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ اب “زیغم” کو سنبھالنے کے لیے “زرام” آ چکا ہے اور یہی سب سے بہتر ہے۔ وہ تو صرف اپنے یار کی حفاظت کے لیے ساتھ تھا، ورنہ فیملی معاملات میں گھسنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا۔

“مائد” نے “زیغم” کے لیے فرنٹ سیٹ خالی چھوڑ دی، اور دوسری جانب سے کھڑکی کے پاس آ کر بولا:
“یار، اب تمہارا بھائی آ گیا ہے، اس کا وہاں ہونا زیادہ بہتر ہے!”
“تم دونوں جاؤ، اور میری جب بھی ضرورت ہو، صرف ایک آواز لگا دینا، “مائد” خان حاضر ہو جائے گا!”

“اب اس بات کا کیا مطلب ہے؟”
“زیغم” نے اسے گھور کر دیکھا۔

“کوئی مطلب نہیں! مجھے بھی اپنا کام دھندا دیکھنا ہے، زمینوں پر کافی معاملات خراب ہو رہے ہیں، تو میرے خیال سے مجھے وہ دیکھنا چاہیے!”
“مائد” نے کندھے اچکائے۔
“اور جب تم حکم کرو گے، میں حاضر ہو جاؤں گا، اور ابھی تو بھائی صاحب ہیں نا تمہارے ساتھ!”
اس نے “زرام” کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا۔
“زرام” نے بھی سلام کے لیے ہاتھ بڑھایا، کیونکہ پہلے غصے میں دونوں کی بات ہی نہیں ہو پائی تھی۔

“ٹھیک ہے، مرضی ہے تمہاری! اب تم نے کام کا بہانہ بنایا تو میں کچھ کہہ نہیں سکتا!”
“زیغم” نے ہلکا سا مسکرا کر سر جھٹکا۔

“ٹھیک ہے، اللہ حافظ! خیال رکھنا اپنا!”
“زیغم” نے الوداعی انداز میں کہا۔

“اللہ حافظ!”
“مائد” نے بھی ہاتھ ہلایا، اور گاڑی حویلی سے نکل گئی۔
“مائد” ایک نظر جاتا ہوا دوست دیکھ کر اندر کی طرف بڑھ گیا تھا، جبکہ “زیغم” اور “زرام” کے لیے ایک نیا امتحان شروع ہو چکا تھا۔
°°°°°°°°°°
“زیغم” “زرام” دونوں گھر پہنچے تو کافی رات ہونے کو تھی۔
“قدسیہ” اور “توقیر” ابھی تک جاگ رہے تھے، جیسے اپنے بیٹے کا انتظار کر رہے ہوں، مگر “زرام” نے ایک نظر ان پر ڈالی اور بغیر کچھ کہے غصے میں تیزی سے اپنے کمرے میں جا کر دروازہ لاک کر لیا۔ اس کے اس انداز کا مطلب واضح تھا، وہ کسی سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ “قدسیہ” اور “توقیر” نے “زیغم” کو دیکھا مگر ان میں کچھ کہنے کی ہمت نہیں تھی، وہ خاموشی سے اٹھے اور اپنے کمروں میں چلے گئے مگر “زیغم” کا دماغ تو اس وقت بھک سے اڑ گیا جب اس نے اپنے کمرے میں قدم رکھا۔ “نایاب” نرم و ملائم بستر پر، خوبصورت سی نائٹی پہنے لیٹی ہوئی تھی، جیسے اس کا انتظار کر رہی ہو۔

“نایاب!”
“زیغم” کی آواز دبی ہوئی تھی، مگر لہجے میں ایک تیز کاٹ واضح تھی۔ وہ اونچی آواز میں اس لیے نہیں بولا کہ “ارمیزہ” نہ جاگ جائے۔

“نایاب” مسکراتے ہوئے “زیغم” کے قریب آئی، آنکھوں میں شرارت اور ہونٹوں پر ادا تھی۔
“قربان آپ پر، جی حکم کریں؟”
وہ نرمی سے بولی اور اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے بالکل قریب کھڑی ہو گئی۔
“زیغم” کی نظروں میں غصے کی چنگاریاں تھیں، مگر اس کی نظر بے اختیار “نایاب” کے لباس پر جا کر رک گئی۔

“بدتمیز عورت! بچی اس کمرے میں سو رہی ہے اور تم نے یہ کیا پہن رکھا ہے؟”
اس کا لہجہ سخت تھا، نظریں جھکانے کی کوشش کے باوجود بےچینی سے بھٹک رہی تھیں۔

“نایاب” نے ہلکا سا قہقہہ لگایا، جیسے اس کے غصے کی پروا نہ ہو۔
“اپنے شوہر کے سامنے خوبصورت لگنے کے لیے ایسا لباس پہننا کہاں لکھا ہے کہ غلط ہے؟”
وہ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے ہوئے “زیغم” کے سینے پر ہاتھ رکھنے لگی، مگر “زیغم” نے جھٹکے سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور اسے دھکا دے کر خود سے دور کر دیا۔

“اگر اس وقت “ارمیزہ” روم میں نہ سو رہی ہوتی تو میں تمہیں تھپڑ رسید کر چکا ہوتا!”
اس کی آنکھوں میں شدید غصہ تھا، آواز دھیمی مگر اتنی سخت کہ “نایاب” کو پسپائی اختیار کرنی پڑی۔

“گھٹیا عورت! اب یہ ہتھکنڈے آزماؤ گی؟”
“زیغم” نے دانت پیستے ہوئے کہا، چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔ وہ بہت کم آواز میں بول رہا تھا کہ اس کی بیٹی نہ جاگ جائے۔

“نایاب” نے پل بھر کے لیے اسے دیکھا، پھر ہونٹ چباتے ہوئے پیچھے ہٹی۔
“ہتھکنڈے––––؟ میں تو اپنے آپ کو سنبھال کر تمہارے سامنے کھڑی ہوں مگر مجھے لگتا ہے کہ تم خود کو سنبھال نہیں پا رہے تو قصور میرا کیسے ہوا؟”
وہ طنزیہ بولتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی۔ “زیغم” نے ایک زہریلی نظر اس پر ڈالی اور رخ موڑ لیا۔

“اپنی یہ حرکتیں بند کرو “نایاب”، ورنہ یاد رکھنا، میں وہ “زیغم” نہیں رہا جو چپ کر جاؤں گا۔۔۔۔تم کل بھی گھٹیا سوچ کی مالک تھی، آج بھی ویسی کی ویسی ہو!”
“مگر یاد رکھنا میں “زیغم سلطان” ہوں! تمہاری چالوں میں آجاؤں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا!”
وہ سخت لہجے میں کہتے ہوئے وارڈروب سے اپنے کپڑے نکالنے لگا، جبکہ “نایاب” خاموشی سے ہونٹ بھینچ کر کھڑی رہی، اس کی آنکھوں میں کچھ چمکا، شاید ایک نیا حربہ آزمانے کا خیال۔ “زیغم” کی آنکھوں میں آگ بھڑک رہی تھی، لب سختی سے بھینچے ہوئے تھے۔ “نایاب” کی موجودگی اسے جیسے زہر لگ رہی تھی۔

“میرے کمرے سے دفع ہو جاؤ!”
“زیغم” سختی سے بولا تھا۔ وہ مسلسل خود پر “نایاب” کی نظروں کی تپش کو محسوس کر رہا تھا۔

“اگر نہ جاؤں تو آپ مجھے نکال نہیں سکتے!”
وہ بے باقی سے “زیغم” کی پشت سے سر ٹکاتے ہوئے اس کے قریب ہوئی تھی۔

“کتنا گرو گی––––کتنا گرو گی تم میری نظروں میں؟”
جھٹکتے ہوئے غرایا تھا۔

“زیغم سلطان” وہ پہاڑ ہے جو خود کو سنبھال بھی سکتا ہے اور سامنے کھڑی تم جیسی عورت کو جلا کر راکھ بھی کر سکتا ہے!”
اس کی آواز مدھم مگر گرجدار تھی۔ اسے “نایاب” پر غصہ بھی آرہا تھا مگر اس بات کا لحاظ بھی تھا کہ اس کی بیٹی روم میں سو رہی ہے، کہیں وہ جاگ نہ جائے۔ “نایاب” نے ایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا، مگر “زیغم” کا غصہ کم ہونے کے بجائے مزید بھڑک اٹھا۔

“میرے اوپر تمہارے ان بےہودہ ہتھکنڈوں کا نہ پہلے کوئی اثر تھا اور نہ آج ہو سکتا ہے!”

“میں تمہاری بیوی ہوں اور تم مجھے میرے حق سے محروم نہیں کر سکتے!”

“شٹ اپ–––کیا تم اور کیا تمہارے ڈائیلاگ۔۔۔۔”
“مجھے یہ مت سکھاؤ کہ تمہارے حقوق کیا ہیں!”
“میں جب تمہیں اپنی بیوی سمجھتا ہی نہیں تو بات ختم!”
“زیغم” کی زہریلی نظر “نایاب” پر تھی، اس کا بس چلتا تو اپنی نظروں سے ہی اس سامنے کھڑی عورت کا قتل کر دیتا۔ وہ ایک لمحہ بھی اسے اپنے سامنے برداشت نہیں کر سکتا۔

“سالوں پہلے بھی تم یہی حرکت کر رہی تھی! ہتھکنڈے آزما کر میرے قریب آنا چاہتی تھی، اور آج بھی وہی کر رہی ہو۔ کوئی فرق نہیں پڑا، آج بھی تم ویسی کی ویسی ہو!”
اس کے لہجے میں کراہیت تھی۔
“نایاب” نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے، مگر “زیغم” کا اگلا جملہ کسی تازیانے کی طرح اس پر برسا۔

“تمہیں پتہ ہے تم عورت کے نام پر ایک دھبہ ہو، تمہارا کردار واضح کر کے اگر عورتوں کو دکھا جائے تو وہ تمہیں عورت کہنا توہین سمجھے گی۔ دفع ہو جاؤ میرے کمرے سے!”
الفاظ کا زہر گھول کر “زیغم” نے دروازہ کھولا، “نایاب” کو بازو سے پکڑا اور دھکیل کر کمرے سے باہر نکال دیا۔ “نایاب” کے قدم لڑکھڑائے، مگر وہ خود کو سنبھال گئی۔ “زیغم” نے ایک پل بھی ضائع کیے بغیر دروازہ بند کر لیا، جیسے اس وجود کی موجودگی کو بھی وہ اپنی دہلیز پر برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ کتنی ڈھیٹ عورت تھی ہستی ہوئی وہ اپنے روم کی جانب چلی گئی تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو جبکہ “زیغم” اپنا غصہ ٹھنڈے کرنے کے لیے اپنے کپڑے لے کر واش روم میں جا کر بند ہو چکا تھا۔
°°°°°°°°
چند دن بعد گاؤں کی فضاؤں میں خوشحالی کی مہک گھل چکی تھی۔ وہی گاؤں، جہاں پہلے غربت اور پریشانیوں کا راج تھا، اب وہاں “زیغم” کی کوششوں سے روشنی پھیل چکی تھی۔
ہر صبح دسترخوانوں پر لوگوں کا رش ہوتا، جہاں سحر اور افطار کے لیے عام و خاص سب کے لیے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ غریبوں کی آنکھوں میں شکرگزاری کی چمک تھی، ہر کوئی دعاؤں میں مصروف تھا۔ “زیغم” نے گاؤں کے ہر گھر تک راشن پہنچانے کا بندوبست کیا تھا، تاکہ کوئی بھوکا نہ سوئے۔ سڑکوں کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری تھا۔ وہ راستے جو پہلے کچے اور دشوار گزار تھے، اب ہموار ہو رہے تھے۔ بچوں کے چہروں پر ایک بار پھر سے خوشحالیاں پھیل چکی تھی کیونکہ اب انہیں معلوم تھا کہ سکول کے دروازے دوبارہ ان کے لیے کھل چکے ہیں۔

گاؤں کے تینوں سرکاری سکول، جو برسوں سے بند پڑے تھے، “زیغم” کے حکم سے دوبارہ کھل چکے تھے۔ ہر کلاس روم میں ہنسی اور علم کی روشنی بکھری تھی۔ “زیغم” نے خاص طور پر گاؤں کی بچیوں کو ٹیچنگ کے مواقع فراہم کیے تھے، تاکہ وہ نہ صرف تعلیم حاصل کریں بلکہ دوسروں کو بھی سکھا سکیں۔
کھیتوں میں ایک نیا جوش تھا۔ کسانوں کو جدید اور آسان طریقوں سے قرضے فراہم کیے گئے تھے، جس سے ان کی محنت کے پھل بہتر ہونے لگے۔ سبز کھیتوں میں جھومتی فصلیں، ہوا میں بکھرتی خوشبو، اور کسانوں کے چہروں پر طمانیت کا عکس—سب گواہ تھے کہ گاؤں ایک نئی زندگی کی طرف بڑھ رہا تھا۔
پرسکون ہواؤں میں ہر دل سے دعائیں نکل رہی تھیں۔ گاؤں کے بوڑھے، جوان، عورتیں، سبھی “زیغم” کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہے تھے۔ جو کبھی ویرانیاں تھیں، وہاں اب خوشحالی کا دور تھا۔ “زیغم” نے ایک بار پھر ثابت کر دیا تھا کہ وہ صرف نام کا سردار نہیں، بلکہ اپنے لوگوں کا اصل محافظ تھا۔
لوگ کہنے پر مجبور تھے کہ “سلطان” کا بیٹا بالکل “سلطان” کی کاپی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔
°°°°°°°°°°

اگلا ایپیسوڈ ملاحظہ کیجیے

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *