Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:12
رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر 12
°°°°°°°°°°°
“زیغم!” “زیغم!” میری جان!”
“نایاب” نیم دراز انداز میں بیڈ پر لیٹی تھی، آنکھوں میں دیوانگی، ہونٹوں پر ضد بھری مسکراہٹ۔”زیغم” نے اسے اپنے روم سے نکال دیا تھا، مگر وہ کہاں پیچھے ہٹنے والی تھی؟ وہ چھت کو گھور رہی تھی، جیسے وہاں اس کے سوالوں کے جواب لکھے ہوں۔
“اگر تمہیں لگتا ہے کہ یہ سب کر کے تم مجھے خود سے دور کر سکتے ہو، تو تم غلط سوچ رہے ہو! میں تم سے دور نہیں جا رہی “زیغم!” تم جتنا مجھے دھتکارو گے، نکالو گے، نظر انداز کرو گے… میں اتنی ہی شدت سے تمہاری طرف لپکوں گی!”
وہ ایک جھٹکے سے اٹھی، موبائل اسکرین اٹھائی، اور “زیغم” کی تصویر پر نظریں جما دیں۔ آنکھوں میں وحشت مزید گہری ہو گئی۔
“تمہیں اندازہ بھی نہیں کہ تم کیا کر رہے ہو!”
“تم نہیں جانتے کہ جنونیت میں میں کیا کر سکتی ہوں!”
اسے کسی بھی طرح سے محبت تو نہیں کہا جا سکتا تھا “نایاب” “زیغم” کو پا لینے کی چاہت میں جنونی ہو رہی تھی۔ اس کی انگلیاں اسکرین پر پھسل رہی تھیں، چہرے کے تاثرات ایسے تھے جیسے وہ “زیغم” کے چہرے کو چھو رہی ہو، اسے محسوس کر رہی ہو۔ پھر ایک پل کو ٹھہری، اور جھک کر تصویر پر لب رکھ دیے، جیسے وہ “زیغم” کی موجودگی کو حقیقت میں بدل رہی ہو۔ انداز سمجھ سے باہر تھا، وہ “زیغم” سے محبت کرتی تھی یا “زیغم” کو پا لینے کی وحشت نے اسے پاگل کر رکھا تھا یہ سمجھنا مشکل تھا۔
“مت بھولو “زیغم”، میری رگوں میں بھی وہی خون دوڑ رہا ہے جو تمہاری رگوں میں ہے!”
“میں بھی اسی خاندان کا حصہ ہوں! اگر میں کسی بات پر ڈٹ جاؤں تو پیچھے قدم نہیں لیتی! اور اگر تمہیں حاصل کرنے کی ہمت رکھتی ہوں تو تمہیں قریب بھی لا سکتی ہوں!”
وہ دوبارہ بیڈ پر نیم دراز ہو گئی، سانسوں میں حدت تھی، نظروں میں خواب۔
“جانتی ہوں، یہ کام بہت مشکل ہے… مگر ایک دن، ہاں! ایک دن تم میرے ہوگے “زیغم!”
“نایاب” کی آنکھیں دیوانگی سے چمک رہی تھیں۔ “زیغم” نے اسے ٹھکرا کر شاید سب سے بڑی غلطی کر دی تھی، کیونکہ اب… اب “نایاب” اسے حاصل کرنے کے لیے ہر حد پار کرنے کے لیے تیار تھی۔ موبائل سینے پر رکھے، آنکھیں بند کیے “نایاب” ایک عجب سرشاری میں مسرور تھی، جیسے “زیغم” کی بانہوں نے اسے اپنی حصار میں لپیٹ رکھا ہو۔ وہ ہر احساس کو اپنی روح میں اتار رہی تھی، جیسے “زیغم” کی قربت کو حقیقت میں محسوس کر رہی ہو۔
کبھی کبھی کسی کو پا لینے کی چاہت انسان کو صحیح اور غلط، اچھے اور برے کی تمیز ختم کروا دیتی ہے، اور یہیں سے محبت کی توہین شروع ہوتی ہے۔ محبت کو جسموں کا کھیل سمجھنے والے لوگ اس کی اصل روح کو مسخ کر دیتے ہیں۔ محبت ایک خوشنما پھول کی طرح ہے، جسے دور سے محسوس کرو تو اس کی خوبصورتی برقرار رہتی ہے، مگر اگر اسے زبردستی مٹھی میں قید کرنے کی کوشش کرو، تو نہ اس کی تازگی باقی رہتی ہے اور نہ خوشبو۔
مگر آج کل لوگوں نے محبت کو صرف اور صرف قربت کا نام دے دیا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ محبت صرف ان لمحات کا نام ہے جو دو جسم ایک ساتھ گزارتے ہیں، مگر اصل محبت تو وہ ہوتی ہے جو بنا چھوئے، بنا کسی دعوے کے، بنا کسی زبردستی کے دل میں پنپتی ہے۔ وہ محبت جو دلوں میں عبادت کی طرح بسی رہتی ہے، جو لمس کے بغیر بھی مکمل ہوتی ہے، جو روح کے رشتے کو پروان چڑھاتی ہے۔
محبت اگر سمندر ہے، تو قربت اس کی ایک چھوٹی سی لہر ہے۔ مگر لوگ لہر کو ہی سمندر سمجھ بیٹھے ہیں، حالانکہ اصل محبت وہ ہے جو وقت کی آزمائشوں میں بھی اپنی گہرائی برقرار رکھے، جو بنا کسی شرط کے ہمیشہ قائم رہے، اور جو صرف پاس ہونے میں نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی روح میں اترنے میں مکمل ہو۔ “محبت وہ لمس نہیں، جو ہاتھوں سے محسوس کیا جائے، بلکہ وہ سرگوشی ہے جو بنا کہے دلوں میں سنائی دیتی ہے!” اور “نایاب” کی محبت میں بھی یہ تمام خصوصیات پائی جاتی تھیں۔ اس کے نزدیک محبت کا مطلب “زیغم” کی قربت تھا، اس کا ساتھ، اس کا لمس، اس کی موجودگی۔ وہ محبت کو اسی طرح سمجھتی تھی جیسے ایک دیوانہ اپنی چاہت کو دیکھتا ہے۔۔۔بس پا لینا، کسی بھی قیمت پر۔
مگر “زیغم” کے نزدیک محبت کیا تھی؟ کیا وہ بھی اسے اسی شدت سے چاہتا تھا؟ یا اس کے لیے محبت کسی اور مفہوم کی حامل تھی؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، مگر اس لمحے، “نایاب” ان سوالوں سے بے نیاز تھی۔ وہ صرف اپنے دل کی سرزمین پر کھلنے والے خوابوں میں کھوئی ہوئی تھی، جہاں صرف “زیغم” تھا، صرف اس کی محبت تھی، اور صرف وہ احساس تھا جو اسے جیتا جاگتا محسوس ہوتا تھا۔ وہ آنکھیں موندے، موبائل اسکرین کو سینے سے لگائے، ایک ایسی دنیا میں تھی جہاں “زیغم” صرف اس کا تھا۔ وہ اسے دیکھتی، اس سے باتیں کرتی، اس کی تصویر کو چھوتی، اور خود کو اس کے قریب محسوس کرتی۔ یہ لمحے اس کے لیے ضد کی مانند تھے، کسی خواب کے رنگوں جیسے، جنہیں وہ حقیقت میں بدلنے کے لیے ہر حد پار کرنے کو تیار تھی۔
کچھ محبتیں صرف خوابوں میں جیتے ہیں، اور کچھ محبتیں خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی ضد کر بیٹھتی ہیں! اور ایسی محبتیں زیادہ تر تباہی کا سبب بنتی ہیں۔
اب “نایاب” کی “زیغم” کے لیے محبت ہے یا جنون یہ تو آنے والا وقت بتائے گا اور یہ تباہی لاتا ہے یا محبت کا پیغام یہ بھی وقت کی گہری چادر میں چھپا ہوا تھا۔
°°°°°°°°°°°°
“زرام” شاور لے کر آیا اور اپنے روم میں آ کر بیڈ پر نیم دراز ہو گیا، مگر اس کا دماغ ابھی تک بے سکون تھا۔ “زیغم” کی کہی ہوئی ہر بات اس کے ذہن میں گونج رہی تھی۔ آج اسے اپنے وجود سے نفرت محسوس ہو رہی تھی۔۔۔یہ سوچ کر کہ وہ “توقیر” اور “قدسیہ” کا بیٹا ہے۔ دل میں ایک بار پھر شدید خلش ابھری تھی، ایک سوال جو ہمیشہ اس کے وجود میں چبھتا رہا تھا: “کیوں؟ کیوں وہ “زیغم” کا سگا بھائی نہیں؟ کیوں وہ “سلطان لغاری” کا بیٹا نہیں؟ کیوں اس کے نام کے ساتھ ‘سلطان’ بطور سر نیم نہیں لگتا؟”
اور “دانیہ…” جسے “زرام” نے ہمیشہ ایک بہن کا درجہ دیا تھا، جس کے لیے اس کے دل میں “نایاب” جیسا سافٹ کارنر تھا، آج اس کی جو حالت دیکھی تھی، اس نے “زرام” کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ وہ “دانیہ”، جو اپنے ماں باپ کی لاڈلی تھی، جسے کبھی ایک کانٹا تک چبنے نہیں دیا گیا تھا، آج وہی “دانیہ” زندگی کے سب سے دردناک کانٹوں پر باندھ دی گئی تھی۔۔۔اور یہ سب اسی کے گھر والوں نے کیا تھا!
“زرام” بے چینی سے ایک ایک لمحہ یاد کر رہا تھا، ہر زخم کو محسوس کر رہا تھا۔ اس کی روح تک اس درد کی حدت کو سہہ رہی تھی۔ بے قراری کے عالم میں وہ بیڈ پر لیٹنے کے باوجود ایک بار پھر اٹھ بیٹھا۔
اسی لمحے، اس کے فون کی سکرین جگمگائی—”فیصل” کالنگ……
“السلام علیکم! یار کہاں ہو؟ واپس کیوں نہیں آئے؟ اور اچانک بغیر بتائے یوں ہی منہ اٹھا کر چل دیے؟ ایک بار بھی نہیں سوچا کہ جب میں آؤں گا تو پریشان ہو جاؤں گا؟”
“زرام” کے فون اٹھاتے ہی “فیصل” نے بے تابی سے بولنا شروع کر دیا۔
“زرام” خاموشی سے سنتا رہا، اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، یا شاید وہ کچھ کہنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔ اسے اندازہ تھا کہ “فیصل” ضرور پریشان ہوگا، کیونکہ جب وہ اچانک اپنی ماں “قدسیہ” کے فون پر واپس آیا تھا، تو “فیصل” روم میں موجود نہیں تھا۔
“زرام”، کچھ تو بولو! کیا ہوا تھا؟”
“فیصل” کی آواز میں اب فکر کے ساتھ بے چینی بھی تھی۔
“زرام” نے ایک گہرا سانس لیا، وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“بس یار، اچانک اماں کا فون آیا تھا، ضروری کام تھا، اسی لیے جانا پڑا…”
اس کی آواز مدھم تھی، جیسے وہ خود کو قائل کر رہا ہو کہ سب کچھ ٹھیک ہے، مگر “فیصل” کو اندازہ ہو چکا تھا کہ معاملہ کچھ اور ہے۔
“مطلب کہ کچھ ہوا ہے، مگر تم بتانا نہیں چاہتے…؟”
“فیصل” کی آواز میں خفگی اور بے بسی واضح تھی۔
“اٹس اوکے یار، کوئی بات نہیں! مت بتاؤ… میں ہی بے وقوف ہوں جو خواہ مخواہ فون اٹھا کر تمہیں تنگ کر رہا ہوں!”
“زرام” نے آنکھیں موند لیں، اسے “فیصل” کی ناراضی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ “فیصل” اس کا سب سے قریبی دوست ہے، جو اس کی ہر پریشانی کو بنا کہے سمجھ لیتا ہے مگر آج… آج وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں بتا سکتا تھا۔
“فیصل…” ایسا نہیں ہے یار، بس کچھ باتیں الفاظ میں بیان نہیں کی جا سکتیں…”
“زرام” نے تھکے تھکے لہجے میں کہا۔
“فیصل” نے ایک لمحے کو خاموشی اختیار کی، پھر آہستہ سے بولا:
“چلو، ٹھیک ہے… جب دل کرے، تو خود ہی بتا دینا… بس اتنا یاد رکھنا، میں ہوں تمہارے ساتھ!”
“زرام” نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ آنکھیں کھولیں، مگر دل کی بے چینی کم نہ ہوئی…
“اور یار، جلدی واپس آ جانا… تیرے بغیر میرا دل نہیں لگتا!”
“فیصل” کی آواز میں بےچینی تھی۔
“یار، رکنے کے لیے نہیں آ سکتا… اب مجھے حویلی میں ہی رہنا ہوگا!”
“زرام” نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
“کیوں؟”
“فیصل” کی حیرت بڑھ گئی تھی۔
“زیغم” بھائی کا حکم ہے…”
“زرام” کے لہجے میں بےبسی تھی۔
“یار، ایسے تو نہ کر… میرا تیرے بغیر دل نہیں لگتا!”
“فیصل” نے خفگی سے کہا۔
“مجبور ہوں یار… حویلی میں میری ضرورت ہے، مگر روز تو ہم ملا کریں گے نا!”
“زرام” نے نرمی سے سمجھایا۔
“مطلب تُو روز تین سے چار گھنٹے کا سفر طے کر کے آیا اور جایا کرے گا؟”
“فیصل” کو یقین نہیں آ رہا تھا۔
“اب “زیغم” بھائی نے کہا ہے، تو میں انکار نہیں کر سکتا… اور شاید یہی بہتر ہے!”
“زرام” نے گہرا سانس لیتے ہوئے فیصلہ کن انداز میں کہا۔
“اور ہونے والی بھابھی کا کیا؟ جس سے تم پوری طرح بات بھی نہیں کر کے گئے ہو؟”
“فیصل” نے چوٹ کی۔
“روز یار آیا کروں گا، تو مطلب تمہاری بھابھی سے بھی ملاقات ہوگی!”
“زرام” کے لبوں پر “ملیحہ” کے نام سے ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ “زرام” سچ میں “ملیحہ” سے بہت محبت کرنے لگا تھا۔
“وہ تو میری ہے، انشاءاللہ! اُسے میں پورے حق اور حقوق کے ساتھ اپناؤں گا… مگر پہلے اس کے دماغ کا تھوڑا فطور اترنے دو!”
اس کے لہجے میں ایک یقین تھا۔
“پتہ نہیں کیوں، اُسے لگتا ہے کہ میں کوئی چالاک آدمی ہوں، کوئی چال کھیل رہا ہوں!”
“زرام” نے ہلکے طنزیہ انداز میں کہا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی سنجیدگی تھی۔
“انشاءاللہ–––اللہ تعالیٰ میرے یار کی محبت کو قائم رکھے، اور میری دل سے دعا ہے کہ میری ہونے والی پیاری سی بھابھی کا دل تمہارے لیے نرم پڑ جائے!”
“فیصل” نے دل سے دعا دی۔
“خیر، آج کی رات کانٹوں پر گزرے گی… کمینے! تیرے بغیر میرا دل نہیں لگتا، اور یہ بات تو تُو اچھی طرح جانتا تھا!”
وہ جھنجھلا کر بولا۔
“خود تو چل دیا، میں کیا کروں؟ کمینے انسان !”
وہ غصے میں گالی گلوچ کر کے اپنا غبار نکالنے لگا۔
“کبھی کبھی انسان بہت بے بس اور مجبور ہوتا ہے… اور آج میں بھی انہی حالات سے گزر رہا ہوں!”
“زرام” کا لہجہ بوجھل ہو چکا تھا۔
“میرے لیے بہت سی دعائیں کرنا، یار!”
“دوستوں کی دعائیں ہمیشہ دوستوں کے لیے ہوتی ہیں، “ذرام!”
“جب بھی، کہیں بھی تمہیں “فیصل” کی ضرورت پڑے، “فیصل” نہ رات دیکھے گا نہ دن، تیری ایک پکار پر دوڑا چلا آئے گا اور یہ گزرا ہوا خوبصورت وقت بہت یاد آئے گا جو ہم نے ایک ساتھ گزارا ہے۔”
کافی دیر تک دونوں کے بیچ باتیں ہوتی رہیں، پھر فون بند ہوتے ہی “زرام” ایک بار پھر سے اپنے گھر والوں کی گھناؤنی حقیقت کو سوچتے ہوئے گھبرا اٹھا تھا۔
“زرام” کو دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ “توقیر” اور “قدسیہ” کا بیٹا ہے۔ سچ میں، “چنگے گھراں وچ وی کج کمینے ہون تے کمنیاں گھراں وچ وی کج چنگے”—یہی کہاوت “زرام” پر بالکل فٹ بیٹھتی تھی۔ اتنی گھٹیا سوچ رکھنے والے ماں باپ کا بیٹا ایسا ہو سکتا ہے، یہ تو اللہ تعالیٰ کا کرشمہ ہی ہے۔
“توقیر” اس کا باپ تھا اور “شہرام” اس کا بڑا بھائی، دونوں ہی شراب کے عادی تھے، دونوں ہی بازار کی عورتوں میں بھرپور دلچسپی رکھتے تھے، دونوں ہی لوگوں کی عزتوں پر گندی نظریں رکھنے والے تھے۔ ان کے لیے ہر عورت کا ایک ہی مطلب تھا—پاؤں کی جوتی! عزت کی نگاہ سے دیکھنا تو انہیں آتا ہی نہیں تھا۔
مگر “زرام؟” وہ تو جیسے ان سے بالکل الگ سانچے میں ڈھلا تھا۔ وہ شراب نوشی کو حرام سمجھتے ہوئے کبھی ہاتھ بھی نہیں لگاتا تھا، نہ ہی کبھی کسی عورت میں غیر ضروری دلچسپی رکھی، نہ کبھی بھائی اور باپ کی طرح بازار کی عورتوں کے پاس گیا۔ پہلی اور آخری بار شاید اس کی نظروں نے “ملیحہ” کو ہی چاہا تھا، اور اسے بھی وہ باعزت طریقے سے، اپنی محرم بنا کر اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا تھا۔
یہی وہ فرق تھا، جو باپ، بھائی اور “زرام” کے بیچ ایک گہری لکیر کھینچتا تھا—ایسا فرق، جسے چاہ کر بھی ہضم کرنا مشکل تھا مگر یہی تو اللہ تعالیٰ کا کرشمہ ہے کہ وہ جسے چاہے نیک اولاد عطا کر دے!
°°°°°°°°°°
سورج ڈھلنے کے قریب تھا، ہوا میں گرمی کی حدت کچھ کم ہو چکی تھی۔ یہ “زیغم سلطان” کے اپنے گاؤں کے جرگہ میں نہیں تھا بلکہ پاس والے گاؤں کا ایک کھلا میدان تھا جہاں درختوں کے سائے تلے چٹائیاں اور لکڑی کے بینچ رکھے گئے تھے۔ جرگے کے بڑے بزرگ، گاؤں کے سرکردہ لوگ، اور فریقین کے اہلِ خانہ سب وہاں موجود تھے۔اس سے خاص کر ساتھ والے گاؤں میں اس اہم جرگہ کے فیصلے میں اپنی مضبوط رائے رکھنے کے لیے بلوایا گیا تھا۔ یہ جرگہ معمولی نہیں تھا۔ ایک کسان کی بیٹی اور نچلی ذات کے لڑکے کی محبت گاؤں کے اصولوں سے ٹکرا گئی تھی، اور ان کے خاندان والے ہر حال میں انہیں الگ کرنا چاہتے تھے مگر یہاں معاملہ بگڑنے سے پہلے “زیغم سلطان” کو بلایا گیا تھا۔
“زیغم سلطان” کا نام سنتے ہی لوگوں کے چہروں پر ایک احترام سا ابھرا تھا۔ وہ اپنے فیصلوں میں اتنا مضبوط تھا کہ اس کی بات کے آگے کسی اور کی آواز زیادہ دیر ٹک نہیں سکتی تھی۔ کم عرصے میں ہی “زیغم سلطان” کے فیصلے اتنے انصاف پر مبنی اور مضبوط تھے کہ ساتھ والے گاؤں تک بھی “زیغم” کی سچائی کی دھوم مچنے لگی تھی۔ جب وہ جرگے میں پہنچا، تو سب کی نظریں اسی پر تھیں۔ وہ سادہ مگر وجیہہ لباس میں تھا، لائٹ براؤن کلر کا سوٹ زیب تن کیے ہوئے، گلے میں اجرک ڈالے ہوئے تھا۔ ایک رعب دار مگر ٹھہری چال کے ساتھ اپنی جگہ پر آ کر بیٹھا۔ اس کے انداز میں وہی سنجیدگی تھی جو “سلطان لغاری” کی جھلک دکھاتی تھی۔
جرگہ شروع ہوا۔ دونوں طرف سے دلائل دیے گئے، جذباتی باتیں ہوئیں، روایتوں اور غیرت کے قصے چلے۔ کسی نے کہا کہ ایسا رشتہ قبول کرنا گاؤں کی روایتوں کے خلاف ہے، تو کسی نے ذات برادری کا مسئلہ اٹھایا۔ “زیغم سلطان” خاموشی سے سب سنتا رہا، اس کے چہرے پر کوئی سختی یا جھنجھلاہٹ نہیں تھی، مگر آنکھوں میں وہی ٹھہراؤ تھا جو برسوں کے تجربے سے آتا ہے۔ یہ سب کچھ تجربے سے نہیں اسے اپنے بابا سے وصیت کی طرح ملا تھا۔ یہ پرسکون انداز اس کے خون میں رچا ہوا تھا کیونکہ یہ سب کچھ اس کے بابا کی شخصیت میں شامل تھا۔ “زیغم” کا ہر انداز اپنے بابا سائیں سے مشابہت رکھتا تھا۔
“فیصلہ تم سب نے کرنا ہے یا انصاف بھی لینا ہے؟”
“زیغم” کی آواز پہلی بار گونجی، اور سب خاموش ہو گئے۔ ماحول میں سناٹا چھا گیا تھا۔
“یہ زمین سب کی ہے، یہ ہوا سب کے لیے ہے، تو پھر محبت کو قید کیوں کرنا چاہتے ہو؟”
“زیغم” نے ایک گہری نظر سب پر ڈالی۔
“محبت کو روکنا انصاف نہیں، ظلم ہے اور میں ظلم کے حق میں کبھی نہیں تھا!”
جرگے میں کچھ سر اثبات میں ہلنے لگے، کچھ چہروں پر ہچکچاہٹ تھی، مگر “زیغم” کی بات کو رد کرنے کی ہمت کسی میں نہیں تھی۔
“یہ رشتہ عزت اور حلال طریقے سے جوڑا جائے گا۔ نکاح ہو گا، سب کے سامنے عزت کے ساتھ!”
“زیغم” کا فیصلہ سن کر جرگے کے بڑے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ یہ فیصلہ وہی کر سکتا تھا جو خود کو ذات پات اور جھوٹی روایات سے اوپر لے آیا ہو، جو حقیقت میں انصاف کرنا جانتا ہو۔
“سلطان لغاری” کی جھلک نظر آتی ہے اس میں!”
ایک بزرگ نے آہستہ سے کہا، اور باقی لوگ خاموش ہو گئے۔
“زیغم سلطان” نے ایک بار پھر ثابت کر دیا تھا کہ انصاف صرف نام نہیں، عمل کا تقاضا بھی رکھتا ہے۔ جرگے میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی تھی، مگر یہ سکوت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ لڑکے کا باپ اپنی جگہ سے اٹھا، چہرے پر سختی اور لہجے میں تندی تھی۔
“زیغم” سائیں، ہم نیچ ذات میں اپنے بیٹے کا رشتہ ہرگز نہیں دیں گے!”
“ہم اپنے بیٹے کی شادی ایسے لوگوں میں نہیں کر سکتے جن کی ذات بتاتے ہوئے ہمیں شرم محسوس ہو۔ ہمارا بیٹا وہاں نہیں جائے گا!”
یہ سنتے ہی “زیغم سلطان” نے ایک گہری سانس لی، اس کی نظریں ایک لمحے کے لیے نیچے جھکیں، پھر مضبوط فیصلے کے ساتھ دوبارہ اٹھیں۔ وہ اپنی نشست سے ذرا آگے ہوا، اس کی آواز میں وہی ٹھہراؤ تھا جو گرج سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔
“اچھا؟ اور یہ بات—یہ ذات پات کا فرق—یہ اونچ نیچ مقرر کرنے والے تم لوگ کون ہوتے ہو؟”
“جب اللہ کے نبیﷺ نے ذات کا فرق نہیں بتایا، جب اللہ کی پاک ذات نے کسی کو کسی سے برتر یا کم تر نہیں بنایا، تو پھر تم کون ہوتے ہو یہ فیصلہ کرنے والے؟”
اس کی آواز جرگے میں گونجی تو جیسے در و دیوار بھی سننے لگے۔ کچھ لوگوں نے سر جھکا لیے، کچھ نے ایک دوسرے کی طرف نظریں دوڑائیں۔ “زیغم” نے اپنی بات جاری رکھی۔
“عزت کردار میں ہوتی ہے، دل کی نیکی میں ہوتی ہے، ذات میں نہیں!”
“یہ جو تم اپنی برتری جتانے بیٹھے ہو، یہ جھوٹا غرور ہے! نکاح وہی افضل ہے جہاں دین اور محبت ہو، نہ کہ وہ جہاں زبردستی اور جھوٹی انا ہو!”
جرگے کے چند بزرگوں نے آپس میں سرگوشیاں کیں، مگر اب کسی میں بھی ہمت نہیں تھی کہ “زیغم سلطان” کی بات کو رد کرتا۔ وہ جانتے تھے کہ جو فیصلہ “زیغم” نے کیا، وہ عدل پر تھا، اور عدل کے خلاف بولنا آسان نہیں ہوتا۔
“یہ نکاح ہو گا! عزت کے ساتھ، سب کے سامنے!”
“اور اگر کوئی اس کے خلاف گیا، تو یاد رکھو! ظلم کرنے والا ہمیشہ پچھتاتا ہے!”
فضا میں ایک خاموشی چھا گئی تھی۔
“زیغم سلطان” کا فیصلہ—جرگے میں گونجتی حق کی آواز سب کے دلوں پر چوٹ کر رہی تھی مگر کچھ لوگ ڈھیٹ بن جاتے ہیں سچائی کو سمجھ کر بھی سمجھنے کو تیار نہیں ہوتے ایسے ہی تھے لڑکی اور لڑکے کے ماں باپ۔ لڑکی کا باپ غصے سے اپنی بیٹی کو دیکھتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہو ، چہرے پر سختی اور لہجے میں ضد تھی۔
“سائیں! میں اپنی بیٹی کی شادی اس لڑکے سے نہیں کرنا چاہتا!”
“زیغم سلطان” نے ایک گہری سانس لی، مگر خاموش رہا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ آخر اس لڑکی کے باپ کے دماغ میں کیا چل رہا ہے وہ کیا چاہتا ہے۔
“میری بیٹی کو کبھی یہ لوگ سکون سے نہیں رہنے دیں گے! میں اپنی بیٹی کو تانوں سے بھری ہوئی زندگی نہیں دینا چاہتا! جب یہ لوگ خود کو اونچی ذات سمجھتے ہیں تو ہمیں بھی اپنی ذات پر فخر ہے! مجھے یہ رشتہ قبول نہیں!”
لڑکی کے باپ کا انداز ایسے تھا جیسے فیصلہ سنا رہا ہو۔ “زیغم سلطان” نے اپنی گہری نظریں سامنے موجود لوگوں پر دوڑائیں۔
“دونوں بچوں کو کھڑا کرو، جن کا یہ معاملہ ہے!”
“زیغم” کا انداز سخت اور فیصلہ کن تھا۔
“زیغم” کے کہنے پر لڑکا اور لڑکی آہستہ آہستہ کھڑے ہو گئے۔ لڑکی نے اپنا چہرہ پلو میں چھپا رکھا تھا، جیسے زمانے کی سختیوں سے خود کو چھپانا چاہتی ہو۔ جرگے میں ایک لمحے کے لیے سنّاٹا چھا گیا، سب کی نظریں “زیغم” پر جمی تھیں۔
“زیغم سلطان” نے نرمی مگر مضبوطی سے پوچھا:
“بیٹا، تم اس لڑکے کے ساتھ نکاح کرنا چاہتی ہو؟”
یہ سوال عام نہیں تھا۔ جرگے کے وڈیرے اکثر لڑکی کو محض “لڑکی” کہہ کر پکارتے تھے، مگر “زیغم سلطان” کا انداز اپنے باپ “سلطان لغاری” جیسا تھا۔ وہ ہمیشہ بیٹیوں کو عزت دیتے تھے، انہیں “بیٹا” کہہ کر پکارتے تھے۔ یہی خاندانی اصول “زیغم” کے لہجے میں جھلک رہا تھا۔
لڑکی نے ہلکی مگر مضبوط آواز میں کہا:
“جی سائیں، میں کرنا چاہتی ہوں!”
“زیغم” نے سر ہلایا، پھر اس نے لڑکے کی طرف رخ کیا۔
“اور تم بتاؤ، کیا تم اسے خوش رکھ سکو گے؟”
“اس کی ضروریات اور آسائشوں کا خیال رکھو گے؟”
“جی، جی سائیں! میں اپنی جان لگا دوں گا اسے ہر خوشی دینے کے لیے!”
لڑکے کی آنکھوں میں سچائی تھی اس لڑکی کے لیے محبت تھی جسے “زیغم” بخوبی دیکھ سکتا تھا۔
“زیغم سلطان” نے ایک نظر دونوں پر ڈالی، پھر بلند آواز میں گویا ہوا۔
“تو بس بات ختم! جب یہ دونوں راضی ہیں، تو کسی کو کوئی حق نہیں کہ ان کی خوشیاں چھینے۔”
جرگے میں مکمل خاموشی تھی۔ “زیغم” کی آواز وڈیروں کے درمیان گونج رہی تھی۔
“مجھے ایک بات بتاؤ، تم دونوں گھرانوں کو یہ رشتہ قبول نہیں ہے، جبکہ اللہ اور اس کے نبیﷺ کا یہ حکم ہے کہ اپنے بچوں کو ان کے فیصلے کا حق دو! یہ زندگی ان کی ہے، شادی کرنا اور نبھانا ان کا حق ہے! تم کون ہوتے ہو ان کی قسمت کا فیصلہ کرنے والے؟”
“ماں باپ اولاد کے لیے جنت ہیں مگر اولاد کے حقوق اللہ تعالی نے واضح کر کے قران و حدیث کی روشنی میں بتائے ہیں جن کی پاسداری کرنا ماں باپ کا بھی فرض بنتا ہے۔”
جرگے میں موجود کچھ بزرگوں نے سر اٹھا کر “زیغم” کی طرف دیکھا، مگر وہ اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھا۔
“کیا تمہیں رسول اللہﷺ کی وہ حدیث یاد نہیں؟”
“جب تمہارے پاس کوئی ایسا شخص نکاح کا پیغام لے کر آئے، جس کا دین اور اخلاق تمہیں پسند ہو، تو اس کا نکاح کر دو۔ اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور فساد پھیل جائے گا!”
“کیا تمہیں نہیں معلوم کہ نبی اکرمﷺ نے اپنی عزیز بیٹی فاطمہؓ کا نکاح حضرت علیؓ سے کروایا تھا، جو کہ نہ کسی قبیلے کے سردار تھے، نہ مال و دولت کے مالک… کہ اللہ کے نبی نے ایسی کوئی بات کہی جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ نکاح صرف اپنی ذات میں کرنا چاہیے اونچ نیچ دیکھ کر کرنا چاہیے اگر کہا ہے تو مجھے بتاؤ!”
سب لوگ خاموش تھے۔
“اسلام نے ذات پات کو ختم کیا، تم نے دوبارہ زندہ کر دیا!”
“اسلام نے برابری سکھائی، تم نے اونچ نیچ پیدا کر دی!”
“اگر اللہ کے نبیﷺ نے غلاموں کو آزاد کر کے قریشیوں کے برابر کھڑا کر دیا تھا، تو تم کون ہو جو اللہ کے حکم کو رد کرو؟”
جرگے میں مکمل خاموشی تھی۔ کسی میں بھی اتنی ہمت نہیں تھی کہ اس دلیل کا انکار کرتا۔ “زیغم” کی نظریں ایک بار پھر لڑکی کے باپ پر جمی تھیں۔
“یہ نکاح ہو گا! عدل کے ساتھ، اللہ کے حکم کے مطابق!”
“اور اگر کسی نے اس میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی، تو یاد رکھو—ظلم کرنے والا ہمیشہ نقصان اٹھاتا ہے!”
“زیغم” نے ایک لمحے کے لیے ارد گرد موجود لوگوں پر نظر دوڑائی اور پھر ایک ٹھوس لہجے میں حتمی بات کہی:
“اور سن لو! اگر کسی نے ان بچوں کے نکاح میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی یا نکاح کے بعد ان کی زندگی اجیرن بنانے کی سازش کی، تو مجھ سے برا کوئی “سلطان” نہ ہوگا! میں تم دونوں گھرانوں کی زندگی میں ایسی تباہی لے آؤں گا کہ تمہاری نسلیں یاد رکھیں گی! اگر ان بچوں کو سکون سے جینے نہ دیا، تو پھر “زیغم سلطان” تمہیں چین سے جینے نہیں دے گا!”
جرگے میں سنّاٹا چھا گیا۔ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے، مگر “زیغم” کی آنکھوں میں جو فیصلہ تھا، وہ اٹل تھا۔
“پرسوں جمعہ کے دن ان کا نکاح مقرر ہے! جرگے میں سب بڑے بزرگوں کے بیچ میں ان کا نکاح ہوگا، اور سب انہیں دعائیں دیں گے۔ اگر میں اس دن جرگے میں نہ بھی پہنچا، تب بھی یہ نکاح ہوگا! اور ایک بار پھر سے یاد کروا دوں کہ اگر کسی نے اونچ نیچ کرنے کی کوشش کی، تو “زیغم سلطان” سے برا کوئی نہ ہوگا!”
اس کے آخری الفاظ میں ایک واضح دھمکی تھی۔ جرگے میں بیٹھے لوگوں کے چہروں پر پسینہ جھلکنے لگا۔ کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ “زیغم سلطان” کے فیصلے کو رد کرتا۔
“یہ یاد رکھنا! میں صرف کہوں گا نہیں، کر کے دکھاؤں گا!”
یہ کہہ کر “زیغم سلطان” اپنی جگہ سے اٹھا، اس کی نظریں سیدھی اس شخص پر جمی تھیں جو اپنی بیٹی کے حق میں فیصلہ کرنے کے بجائے اپنی انا کے پیچھے چھپ رہا تھا۔ اس کی آواز میں ٹھہراؤ تھا، مگر ہر لفظ وزن رکھتا تھا۔ “زیغم سلطان” اپنے خاص بندوں کے ہمراہ گاڑی میں بیٹھ کر وہاں چلا گیا۔
°°°°°°°°°
“زیغم” جرگہ سے واپس آ رہا تھا، راستے میں اس کی نظر گاؤں کے اسکول پر پڑی۔ بچے خوشی خوشی اسکول سے نکل رہے تھے، ان کے چہروں پر معصومیت بھری مسکراہٹ تھی۔ کچھ بچے دوڑتے ہوئے اپنے گھروں کی طرف جا رہے تھے، تو کچھ اپنے بیگ کندھے پر ڈالے آرام سے چل رہے تھے۔ ٹیچرز بھی اسکول سے باہر آ رہی تھیں، آپس میں ہنسی مذاق کرتے ہوئے، جیسے دن کا کام مکمل کر کے سکون محسوس کر رہی ہوں۔
“زیغم سلطان” نے گاڑی کی رفتار آہستہ کی اور ایک نظر اس منظر پر ڈالی۔ یہ وہی گاؤں تھا جہاں کچھ عرصہ پہلے خوف اور اندھیرے کا راج تھا، جہاں اسکول جانا ایک خواب لگتا تھا، مگر آج یہ منظر ایک بدلے ہوئے گاؤں کی عکاسی کر رہا تھا۔
“شاید میرے باپ کا خواب حقیقت بننے لگا ہے!”
“زیغم” نے دل میں سوچا اور ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیل گئی۔
یہ دیکھ کر کہ اس کے گاؤں میں تعلیم عام ہو رہی ہے، امن کی فضا قائم ہو رہی ہے، اسے ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوئی۔ یہ امن، یہ سکون، یہ ہنسی خوشی—یہ سب وہی چیزیں تھیں جن کے لیے “سلطان لغاری” نے زندگی بھر جدوجہد کی تھی، اور اب “زیغم” اس مشن کو آگے بڑھا رہا تھا۔ گاڑی آگے بڑھتی رہی، مگر “زیغم” کی سوچیں پیچھے ان بچوں کی ہنسی میں گم ہو گئی تھیں۔
°°°°°°°°°°°
“مورے پلیز! میں آپ کی ہر بات ماننے کو تیار ہوں، پر پلیز دوا مت لگوائیں! اس سے مجھے بہت جلن ہوتی ہے، خدا کی قسم بہت درد ہوتا ہے!”
“دانیہ” نے بےبسی سے مورے کو انکار کیا، مگر اس کے انداز میں لجاجت تھی، وہ مورے کا دل نہیں توڑنا چاہتی تھی۔ اس کی آنکھوں میں بے بسی تھی، چہرہ آنسو ضبط کرتے ہوئے لرز رہا تھا۔ “مائد” جو خاموشی سے بیٹھا تھا، اس نے پہلی بار ایک بھرپور نظر اٹھا کر “دانیہ” کے چہرے کی طرف دیکھا، جہاں ڈر ہی ڈر تھا۔ وہ جانتا تھا کہ “زیغم” یہاں ہوتا تو “دانیہ” کی ضد کو خود سنبھال لیتا اور ڈریسنگ کروا لیتا مگر اس وقت اسے راضی کرنا مورے کے بس کی بات نہیں تھی۔
“پلیز ضد مت کریں، دوا لگوانی پڑے گی۔ زخموں کو ٹھیک کرنے کے لیے درد سہنا پڑتا ہے، اور آپ “زیغم” کی بہن ہیں، کمزور نہیں پڑ سکتیں۔ ہمت کیجیے اور دوا لگائیے!”
“مائد” کا انداز سنجیدہ اور ٹھوس تھا، آواز میں مضبوطی تھی۔
“میں نہیں لگاؤں گی!”
“دانیہ” نے ایک بار پھر سختی سے بغیر “مائد” کی جانب دیکھے انکار کر دیا، مگر اس کی آواز میں خود اعتمادی نہیں تھی۔
“پلیز ضد مت کریں ، لگوانی پڑے گی۔ “زیغم” کا فون آیا تھا، وہ آج بزی تھا، نہیں آ سکا، مگر آپ کے ہاتھوں کی ڈریسنگ ہونا ضروری ہے۔ یہ سب اسی کے کہنے پر ہو رہا ہے، تو پلیز ضد مت کریں۔”
“مائد” نے نرمی سے سمجھایا، مگر “دانیہ” کی آنکھیں ضد سے چمک رہی تھیں۔ یا پھر یہ ضد نہیں تھی سچ میں اسے درد کا ڈر تھا جس درد کو وہ اتنے دنوں سے جھیل رہی تھی۔ دوا تیزی سے اثر تو دکھا رہی تھی مگر جب لگایا جاتا تو کچھ دیر تک ہاتھوں میں شدید جلن کا احساس رہتا تھا۔
“میں ضد نہیں کر رہی ہے! آپ کر رہے ہیں!”
“دانیہ” نے بغیر دیکھے “مائد” کی بات کا جواب آہستہ سے بڑبڑاہٹ کی صورت میں دیا گیا مگر خاموشی کی وجہ سے “مائد” سن چکا تھا۔ بے اختیار “مائد” کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی، مگر فوراً ہی اس نے خود کو سنبھالا، دانتوں سے لب کے کنارے دباتے ہوئے مسکراہٹ روک لی۔
“ہم ضد نہیں کر رہے، آپ کے بھائی کا پیغام آپ تک پہنچا رہے ہیں۔”
“مائد” کی آواز میں ٹھہراؤ تھا، مگر انداز مضبوط تھا۔
“ان کا حکم ہے کہ ان کی بہن کے ہاتھوں کی ڈریسنگ کروائی جائے، تاکہ زخم خراب نہ ہو۔ تو آپ کو اپنے بھائی کے لیے یہ دوا لگوانی پڑے گی۔ پلیز بات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔”
اس کے الفاظ نرم تھے، مگر ان میں وہی سختی تھی جو “زیغم” کے لہجے میں ہوتی تھی۔
“دانیہ” نے لب بھینچ لیے، آنکھوں میں بے بسی اور ناراضی کا امتزاج تھا۔ وہ پل بھر کو چپ رہی، جیسے دل کو منانے کی کوشش کر رہی ہو۔ مورے نے پیار بھری نظروں سے اسے دیکھا، جیسے کہہ رہی ہو کہ بات مان لے۔
“یہ بس چند لمحوں کی تکلیف ہے، مگر اگر دوا نہ لگی تو زخم زیادہ تکلیف دیں گے۔ آپ ہمت والی ہیں، اپنے بھائی کے لیے اتنا تو کر ہی سکتی ہیں، ہے نا؟”
“دانیہ” نے ایک نظر “مائد” کو دیکھا، پھر مورے کو، اور آخرکار آہستہ سے سر ہلا دیا۔ یہ اس کی خاموش اجازت تھی، اور اسی لمحے مورے نے جلدی سے ڈاکٹر کو اشارہ کر دیا کہ وہ دوا لگانے کے لیے آگے بڑھے۔ مورے نے “دانیہ” کے ہاتھ قریب بیٹھتے ہوئے پکڑ لیے تھے۔ سب کو اندازہ تھا کہ “دانیہ” کو دوا لگواتے ہوئے کتنی تکلیف ہوگی، اس لیے پہلے سے حکمتِ عملی طے کی جا چکی تھی۔ ڈاکٹر نے جیسے ہی ڈریسنگ کا سامان نکالا اور زخموں کو صاف کرنا شروع کیا، تو اندر ہلکی ہلکی پیپ تھی۔ جیسے ہی دوائی لگی، “دانیہ” کی بے اختیار چیخ نکل گئی۔
“آہ… نہیں! بس بس! مجھے نہیں دوا لگوانی!”
“چھوڑ دیں پلیز چھوڑ دیں مجھے درد ہو رہا ہے!”
وہ چلاتے ہوئے۔ مورے کے بوڑھے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ کھینچ کر اٹھی اور بے ساختہ وہاں سے اٹھ کر بھاگتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف لپکی۔ دروازہ زور سے بند کرنے ہی والی تھی کہ پیچھے سے تیزی سے اٹھتے ہوئے “مائد” نے اسے روک لیا۔ اس نے دروازے پر مضبوطی سے ہاتھ رکھ دیا، تاکہ وہ بند نہ ہو سکے۔
“پلیز آپ۔۔”
“دانیہ” نے بے چینی سے دروازہ بند کرنے کی کوشش کی، مگر “مائد” کی گرفت مضبوط تھی۔ وہ بے بسی سے پلٹی، آنکھوں میں آنسو تھے اور چہرہ درد کی شدت سے سرخ ہو چکا تھا۔
“مجھے نہیں دوا لگوانی! بہت جلن ہو رہی ہے، پلیز جانے دیں!”
اس کے لہجے میں التجا تھی۔
“مائد” نے ایک پل کو اسے دیکھا، جیسے اس کے ضبط کو پرکھ رہا ہو، پھر نرم مگر مضبوط لہجے میں بولا:
“پلیز آپ سمجھنے کی کوشش کریں۔ جانتا ہوں کہ اس وقت آپ کو بہت تکلیف ہو رہی ہے مگر زخموں پر دوا لگے گی تو ہی وہ ٹھیک ہوں گے۔ اگر تمہارے بھائی یہاں ہوتے، تو کیا ان کے سامنے بھی یوں ہی بھاگ جاتیں؟”
“جی بھاگ جاتی!”
“دانیہ” نے دو ٹوک صاف ستھرے انداز میں روتے ہوئے جواب دیا۔
“دانیہ” کے آنسو پلکوں کی باڑھ توڑ چکے تھے، وہ اور بھی بہت کچھ کہنا چاہتی تھی مگر الفاظ گم ہو چکے تھے۔
“پلیز ضد مت کریں، یہ آپ کے لیے ضروری ہے۔ ہمت کریں، تھوڑی تکلیف سہی، مگر یہ آپ کو جلد ٹھیک کر دے گی۔”
“مائد” نے آہستہ سے دروازے پر اپنی گرفت ڈھیلی کی، جیسے اسے موقع دے رہا ہو کہ وہ خود فیصلہ کرے۔ مورے پیچھے کھڑی بے بسی سے “دانیہ” کو دیکھ رہی تھی، اس کے چہرے پر ممتا بھری التجا تھی۔ “دانیہ” نے ایک لمحے کے لیے “مائد” کو دیکھا، پھر مورے کو، اور آخرکار گہری سانس لے کر پلٹ آئی۔ اس نے خاموشی سے اپنی جگہ پر جا کر ہاتھ آگے بڑھا دیے۔ “مائد” کے ہونٹوں پر ہلکی سی تسلی بخش مسکراہٹ ابھری۔ “دانیہ” کے واپس آکر بیٹھتے ہی۔ ڈاکٹر نے جلدی سے کام شروع کیا، اور اس بار “دانیہ” نے آنکھیں سختی سے بند کر لیں۔ جیسے ہی ڈاکٹر نے دوبارہ ڈریسنگ شروع کی، “دانیہ” کی بے اختیار چیخیں اور سسکیاں گونجنے لگیں۔
“نہیں… بس! پلیز مت کریں… مجھے بہت درد ہو رہا ہے!”
اس نے جلدی سے ہاتھ پیچھے کھینچنے کی کوشش کی، مگر اس بار “مائد” نے اس کی کلائیوں کو مضبوطی سے تھام لیا تھا۔
“پلیز یہ تھوڑی دیر تکلیف برداشت کرنی پڑے گی، “دانیہ!”
“مائد” کا لہجہ سخت مگر ٹھوس تھا اور بولنے کے انداز میں “دانیہ” کے لیے عزت و احترام تھا۔ نظریں ہاتھوں پر مرکوز تھی “دانیہ” پر نہیں اور یہی اس کی غیرت کی دلیل تھی۔ آخر کچھ تو خاص تھا اس میں جو “زیغم سلطان” نے اپنی بہن، اپنی عزت کو یہاں چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ “دانیہ” نے اپنی کلائیاں چھڑوانے کی پوری کوشش کی، مگر “مائد” کے مضبوط ہاتھوں میں وہ بالکل بے بس تھی۔ اس کی نازک کلائیاں اس کی گرفت میں کانپ رہی تھیں جبکہ مورے تڑپتے ہوئے “دانیہ” کو اپنے سینے سے لگا چکی تھی۔
“مورے… پلیز! مجھے بہت درد ہو رہا ہے!”
“کیوں آپ لوگوں کو سمجھ نہیں آ رہا، خدا کے واسطے بس کر دیں مجھ سے اور برداشت نہیں ہو رہا!”
وہ سسک سسک کر آنسوؤں کے ساتھ دہائی دے رہی تھی۔
مورے نے بے بسی سے اس کے آنسوؤں کو صاف کیا، اس کے بالوں کو سہلایا، وہ “دانیہ” کو اپنے ساتھ لگا کر چپ کرواتی ہوئی خود بھی رو رہی تھی۔ مورے کا دل بہت سوفٹ تھا اس سے اس بچی کا دکھ دیکھا نہیں جا رہا تھا۔
“بیٹا، برداشت کر… یہ ضروری ہے، یہ زخم ٹھیک ہو جائیں گے۔”
“مائد” نے بے اختیار ایک نظر “دانیہ” کی طرف دیکھا، جو تکلیف کے مارے بری طرح کانپ رہی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ یہ لمحہ آسان نہیں تھا، مگر وہ بھی جانتا تھا کہ ہار ماننے کا مطلب “دانیہ” کے زخموں کو مزید خراب کرنا تھا۔ درد کی شدت سے “دانیہ” کے آنسو مزید تیزی سے بہنے لگے، مورے نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا، اور ضبط کے ساتھ “دانیہ” کو اپنے ساتھ لگائے کھڑی رہی جبکہ ڈاکٹر نے جلدی سے ڈریسنگ مکمل کی۔ پورا کمرہ “دانیہ” کی سسکیوں سے گونج رہا تھا، مگر اب اس کے زخموں پر دوا لگ چکی تھی اور ساتھ ہی، “مائد” کی گرفت بھی آہستہ آہستہ نرم ہو گئی تھی۔ “دانیہ” کا درد ابھی کم نہیں ہوا تھا کہ اس درد کو کم کرنے کے لیے، جیسے ہی ڈاکٹر نے انجیکشن بھرنا شروع کیا، “دانیہ” کی آنکھیں خوف سے پھیل گئیں۔
“پلیز… پلیز! خدا کے لیے، نہیں! اب انجیکشن مت لگائیں!”
وہ بے بسی سے چلائی، آنسوؤں سے بھیگا چہرہ خوف اور درد سے سرخ ہو چکا تھا۔
“میں ٹیبلٹ کھا لوں گی… پلیز، بس انجیکشن مت لگائیں!”
“مائد” نے اس کی منتیں سنی، مگر اس کی گرفت میں کوئی نرمی نہیں آئی۔ وہ جانتا تھا کہ یہ انجیکشن ضروری ہے، چاہے “دانیہ” جتنا بھی چیخ لے، جتنا بھی رو لے۔
“یہ ضروری ہے اس سے آپ کو درد میں آرام ملے گا… ہمت کریں!”
“مائد” کا لہجہ سخت تھا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک انجانی سی نرمی تھی، جیسے وہ “دانیہ” کی تکلیف کو خود محسوس کر رہا ہو۔ “دانیہ” نے خود کو چھڑانے کی پوری کوشش کی، مگر بے سود! ڈاکٹر نے موقع دیکھ کر جلدی سے انجیکشن لگا دیا، اور وہ چیخ بھی نہ سکی، بس زور سے آنکھیں میچ کر بے بسی سے تڑپ گئی۔
“آہ…! پلیز… بس، بس! میں مر جاؤں گی!”
وہ سسکیوں میں بولی، مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔سوئی اس کے بازو میں لگ چکی تھی۔مورے نے جلدی سے آگے بڑھ کر اسے اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا۔ “دانیہ” کے آنسو مورے کے سینے میں جذب ہو رہے تھے، وہ نڈھال ہو چکی تھی، مگر اس کا رونا اب بھی بند نہیں ہوا تھا۔ ڈاکٹر نے مزید دوائیاں لکھ کر “مائد” کی طرف بڑھائیں، پھر ایک نظر “دانیہ” پر ڈال کر باہر نکل گیا۔ “مائد” بھی خاموشی سے کمرے سے باہر چلا گیا، جبکہ “دانیہ” وہیں مورے کے سینے سے لگے ہوئے سسک کر روئے جا رہی تھی۔
“چپ کر میری بچی، چپ کر…!”
مورے نے اسے سینے سے لگاتے ہوئے نرمی سے کہا، مگر اس کی اپنی آواز بھی لرز رہی تھی۔
“اللہ ظالموں سے حساب لے گا، بیٹا! جنہوں نے تجھ پر یہ ظلم کیا، اللہ کے قہر سے وہ بچ نہیں سکیں گے!”
مورے کی آنکھوں میں آنسو تھے، وہ اپنی بیٹی کو اس حال میں دیکھ کر اندر سے ٹوٹ چکی تھی۔
“بیڑا غرق ہو ان لوگوں کا جنہوں نے پھول جیسی بچی کی کیا حالت کیا کر دی ہے… اللہ انہیں برباد کرے!”
وہ ہولے ہولے اسے جھُلاتے ہوئے بددعائیں دے رہی تھی۔
“دانیہ” مورے کے سینے سے لگی سسک رہی تھی، اس کا جسم اب بھی ہلکے ہلکے کانپ رہا تھا، مگر وہ کچھ کہہ نہیں پا رہی تھی۔ اس کے آنسو مورے کی چادر میں جذب ہو رہے تھے، اور مورے بے بسی سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔
°°°°°°°°°
“قدسیہ” نے موقع دیکھتے ہوئے “زرام” کے روم کے دروازے پر زور سے دستک دی۔
“ذرام! بیٹا، دروازہ کھولو۔”
“قدسیہ” نے نرمی سے، رازداری سے پکارا۔
“قدسیہ” موقع دیکھ کر آئی تھی، کیونکہ “زیغم” گھر پر نہیں تھا۔ اسے اپنے بیٹے سے بات کرنی تھی، اس کی ہمدردی سمیٹنی تھی، کیونکہ اب واحد وہی سہارا تھا جو ان کے لیے رہائی کا بندوبست کر سکتا تھا مگر جیسے ہی دروازہ کھٹکھٹایا، دروازہ ہلکے سے کھلتا چلا گیا۔
“یہ کیا؟”
“قدسیہ” نے چونک کر اندر جھانکا۔
کمرہ خالی تھا! بیڈ پر کل کے بدلے ہوئے کپڑے پڑے تھے، جس کا مطلب تھا کہ وہ چینج کر کے کہیں جا چکا تھا۔ “قدسیہ” گھبرا کر جلدی سے باہر نکلی۔
“زرام” سائیں کہاں ہیں؟”
نظر آتی ملازمہ کو دیکھ کر سخت لہجے میں پوچھا۔
ملازمہ نے ایک نظر “قدسیہ” پر ڈالی، پھر دوٹوک انداز میں جواب دیا:
“ویسے تو “زیغم” سائیں نے ہمیں آپ کی کسی بات کا جواب دینے سے منع کیا ہے، مگر “زرام” سائیں کے بارے میں کوئی سخت حکم نہیں دیا، اس لیے بتا دیتی ہوں کہ وہ سحری کے بعد ہی چلے گئے تھے۔”
“کہاں گئے ہیں؟”
“یہ تو آپ کو پتہ ہونا چاہیے، آپ ان کی ماں ہیں یا پھر “زرام” سائیں کو پتہ ہوگا کہ وہ کہاں گئے ہیں!”
یہ کہہ کر وہ آرام سے چلتی بنی، جبکہ “قدسیہ” کا چہرہ غصے سے لال ہوگیا۔
“سمجھتی کیا ہو خود کو؟”
“دیکھ لوں گی تم سب کو! تم سب کی ہیکڑی نہ نکالی تو میرا نام بھی “قدسیہ” نہیں!”
“چار دن کی سردارنیاں بنی پھرتی ہو… نمک حرام لوگ!”
وہ ہاتھ اٹھا کر غصے سے چلاتی رہی، مگر ملازمہ بنا کوئی جواب دیے جا چکی تھی۔
“آئے ہائے! کیا ہو گیا “قدسیہ؟” کیوں چلا رہی ہو؟”
“سلمہ” پھوپھو کمر پر ہاتھ رکھے باہر آ گئیں۔
کافی دن بیمار رہنے کا ناٹک کرنے کے بعد اب وہ تھک چکی تھیں، اس لیے باہر نکل آئی تھیں۔ ان کے چہرے پر زبردستی کی فکر مندی تھی، جیسے ابھی ابھی نیند سے جاگی ہوں اور حالات سے بے خبر ہوں۔
“کیا بتاؤں ! گھر کے ملازم بھی اب زبان چلانے لگے ہیں۔ ان کی زبانیں تو کینچی سے کاٹنی پڑیں گی اپنی اوقات بھول گئے ہیں اور اوپر سے “زرام” پتہ نہیں کہاں غائب ہو گیا ہے!”
“قدسیہ”، جو ابھی تک ملازمہ پر غصہ نکال رہی تھی، “سلمہ” کی آواز سن کر تیز کاٹدار لہجے میں بولی۔
“ہائے۔۔۔ یہ سب “زیغم” کی سختیوں کا نتیجہ ہے!”
“اب دیکھو، اپنے سگے چچا، پھوپھو، کسی رشتے کی عزت ہی نہیں رہنے دی اس نے۔”
“سلمہ” پھوپھو نے ایک لمبی آہ بھری اور چادر کو درست کرتے ہوئے بولیں۔ “سلمہ” بھی بظاہر معصوم نظر آنے والی مگر اندر سے پوری ڈرامے باز، پھپھے کٹن عورت تھی۔
“زیغم” تو “زیغم” کم تو آپ بھی نہیں ہیں۔ کیسے ڈنڈا لے کر سارا دن ہمارے پیچھے گھومتی رہتی ہیں صفائیاں کروانے کے لیے۔ ذرا سا ہم پر ترس نہیں آتا، خود کو حکمران بنا رکھا ہے اور ہم کو ملازم!”
“قدسیہ” نے بھی سیدھا اس کے دل پر وار کیا تھا۔
“استغفراللہ، استغفراللہ! کیسی باتیں کر رہی ہو؟”
“سلمہ” پھوپھو نے سینے پر ہاتھ مارا اور چادر کو درست کرتے ہوئے بے یقینی سے “قدسیہ” کو گھورا۔
“تمہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ میں تو مجبور تھی! اس “زیغم” کا کوئی پتہ نہیں، کب گولی سے اڑا دے! گھومے دماغ والا انسان ہے، اس لیے مجبوری کے مارے تم لوگوں کے ساتھ سختی کرنی پڑی، ورنہ تم لوگ تو مجھے جان سے بھی زیادہ عزیز ہو۔”
ان کا لہجہ بے بسی اور معصومیت کا تاثر دے رہا تھا، جیسے واقعی وہ مجبور تھیں۔ جبکہ “قدسیہ” بھی اچھی طرح سے “سلمہ” کی ڈرامے باز فطرت سے واقف تھی۔
“ہاں ہاں، بڑی محبت جاگ رہی ہے آپ کی، جب ہمارے پیچھے ہاتھ میں ڈنڈا لے کر گھوم رہی تھیں، تب تو یہ محبت کہیں دب گئی تھی۔ صفائی کرواتے ہوئے آپ کا رعب دیکھ کر تو لگتا تھا کہ بس کسی دن اس “زیغم” کے ساتھ مل کر ہمیں کوڑے کے ڈھیر میں ڈال دو گی!”
“قدسیہ” نے طنزیہ نظریں اس پر مرکوز کر رکھی تھی۔
“قدسیہ”، تم میری نیت پر شک کر رہی ہو؟ میں تو خود بیچاری مجبور تھی، ورنہ…”
“سلمہ” نے فوراً چہرے پر مظلومیت طاری کر لی، جیسے واقعی میں وہ بہت مظلوم ہو اور اسے سچ میں یہ سب کرتے ہوئے مزہ نہیں آ رہا تھا جبکہ حقیقت اس سے مختلف تھی اسے خود بھی قدسیہ اور “نایاب” سے بدلہ لینے کا اچھا موقع مل گیا تھا۔ سب کے سب ایک جیسے تھے ایک ہی تھالی کے چٹے وٹے۔ کسی میں بھی ہمدردی اور انسانیت نہیں تھی۔
“ورنہ کیا؟”
“قدسیہ” نے تیزی سے بات کاٹی۔
“ورنہ آپ بھی “زیغم” کے ساتھ ہمیں قید کروا کر ہماری بوٹیاں نوچواتیں!”
اس کی آنکھوں میں غصے کی گہری چمک تھی، جبکہ “سلمہ” پھوپھو برا سا منہ بنا کر خاموش ہو گئیں۔
“ٹھیک ہے بھئی، جو دل میں آئے کرو! بھلے کا تو زمانہ ہی نہیں رہا!”
“سلمہ” پھوپھو بڑبڑاتی ہوئی خفگی سے واپس مڑیں اور پیر پٹختے ہوئے اپنے کمرے میں جا گھسیں۔
“بھلا؟ اور تم! اپنا بھلا تو کر نہیں سکیں، شادی کے چند مہینوں بعد طلاق لے کر ہمارے سر پر آ بیٹھیں! عذاب نہیں تو اور کیا ہو؟”
“قدسیہ” نے زہر خند لہجے میں کہتے ہوئے ناک چڑھایا اور جھنجھلاتے ہوئے “نایاب” کے کمرے کی طرف بڑھ گئی، دروازہ زور سے بند کرتے ہوئے جیسے ساری جھنجھلاہٹ دروازے پر نکال رہی ہو۔
“اف! کیا مصیبت ہے، اس طرح کوئی دروازہ بند کرتا ہے؟”
“نایاب” بدتمیزی کرتے ہوئے اپنی ماں پر چلا اٹھی۔
“تم ذرا ہوش میں آ جاؤ! گدھے گھوڑے بیچنے کے بعد کیا تمہیں زیادہ منافع ہو گیا ہے جو کمرے میں آ کر پڑی ہو؟”
“ابھی وہ آنے والا ہے، اور شاید تم بھول گئی ہو کہ افطاری کا انتظام ہمیں کرنا ہے۔ نکلو کمرے سے باہر!”
“قدسیہ” جاتے ہی چلائی تھی۔
“میں نہیں جا سکتی، میری بیٹی آئی ہے، میری اس کے لیے کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ آپ جائیں اور بنائیں۔”
“نایاب” نے بغیر کسی لحاظ کے اپنی ماں کو دو ٹوک سفاکی سے جواب دیا تھا۔
“اچھا جی! تمہاری بیٹی آ گئی ہے اور اس کو تمہاری ضرورت ہے؟ تمہاری ذمہ داریاں ہیں؟ چل اٹھ اور باہر آ!”
“قدسیہ” نے زہر خندہ لہجے میں کہا۔
“میں سب کی ملازم نہیں ہوں!”
“اتنا افطاری کا سامان مجھ سے نہیں بنتا۔”
“قدسیہ” دھڑام سے صوفے پر بیٹھ گئی تھی۔
“ساری سبزیاں ہمیں کاٹنی پڑتی ہیں۔ میرے ہاتھوں کا حشر دیکھو!”
ہاتھ پھیلاتے ہوئے اپنے زخم دکھائے۔
“تم تو بس ساتھ میں بیٹھی رہتی ہو، سبزیاں کاٹتے ہوئے تمہیں موت پڑتی ہے!”
“اب اس سے زیادہ میں تمہاری ڈرامے بازیاں برداشت نہیں کر سکتی۔ آ کر سبزیاں بناؤ اور پھل فروٹ کاٹو!”
“وہ جو ٹپ بھر کر نوکروں کے لیے فروٹ چاٹ بنتی ہے، اس کے لیے فروٹ کاٹتے کاٹتے تو ہاتھ تھک جاتے ہیں۔”
“قدسیہ” کو اپنے ہاتھ دیکھتے ہوئے رونا آ رہا تھا۔
“میں نہیں جاؤں گی تو مطلب نہیں جاؤں گی!”
“ارمیزہ” واش روم میں ہے، مجھے اس سے دیکھنا ہے، اسے پڑھانا ہے!”
“آپ جا کر بنائیں، اب آپ کے ہاتھ خراب ہوں یا نہ ہوں، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا! مجھے اپنی بیٹی کو دیکھنا ہے!”
“کتنی سیلفش ہے تُو! بیٹی کا ڈرامہ تو اس “زیغم” کو دکھانا، ہمیں تو تیرا اچھی طرح پتہ ہے!”
“آج تک تو تُونے اپنی بیٹی کو کبھی منہ نہیں لگایا! گھر آتی تھی تو تُو اسے دیکھنا گوارا نہیں کرتی تھی، اور اب تمہیں بیٹی پر محبت آ رہی ہے؟ ممتا جاگ اٹھی ہے تمہاری؟”
“یہ ڈرامے کسی اور کو دکھانا!”
“قدسیہ” نے اس کا پردہ اچھی طرح سے فاش کرتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا۔
“مہربانی کر کے میرے کمرے سے تشریف لے جائیں اور مجھے ڈسٹرب مت کریں!”
“مجھے اپنی فیملی پر توجہ دینی ہے!”
“نایاب” کے رنگ اچھے خاصے بدلے ہوئے تھے۔
“خیر تو ہے؟ یہ راتوں رات کون سے تمہیں سرخاب کے پر لگ گئے ہیں جو تمہارے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے؟”
“قدسیہ” نے آئی برو اٹھا کر غصے سے گھورا اور تجسس سے پوچھا۔
“جو بھی ہے، آپ کو بتانا ضروری نہیں سمجھتی!”
“نایاب” نے بلا تاثر لہجے میں کہا۔
“او ہو! بڑی آئی، مجھے بتانا ضروری نہیں سمجھتی! آج تک تو نے جتنی کرتوتیں کی ہیں، سب کی سب پتہ ہیں! آج کون سا ایسا گل کھلا لیا ہے جو مجھے نہیں بتا سکتی؟”
“میں نے کہا، میرے کمرے سے جائیں!”
“نایاب” نے سخت لہجے میں دو ٹوک کہا۔
“بہت ہی بدتمیز قسم کی بیٹی ہے تُو! ایسے کوئی اپنی ماں سے بات کرتا ہے؟”
“ہاں، میں کرتی ہوں!”
“نایاب” نے بلکل بے لحاظی سے کہا۔
“خبردار اگر ماضی کے قصوں کا تذکرہ چھیڑا! ورنہ آپ کے بھی بہت سے ایسے ‘خوبصورت چرچے’ ہیں، جن کو میں بھی منظرِ عام پر لا سکتی ہوں!”
دونوں ماں بیٹی اب ایک دوسری پر کیچڑ اچھال رہی تھیں، اور یہی تھی ان کی اصلیت!
یہ ہوتا ہے نتیجہ جب آپ اولاد کی اچھی پرورش نہیں کرتے، ساری زندگی چاپلوسیوں اور چالاکیوں میں گزار دیتے ہیں۔ ہمیشہ دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے والوں کی اپنی اولادوں کا یہ حشر ہوتا ہے۔ ہمیشہ دوسروں کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کی اپنی اولاد خود ان کے لیے عبرت کا نشانہ بن سکتی ہے۔ وقت رہتے جو سمجھ جائے، وہی بہتر ہے!
رشتے حفاظت اور خلوص سے پلتے ہیں، صرف ضرورت اور مفاد کے سائے میں نہیں۔ جو ماں باپ اپنی اولاد کو منفی چالاکیوں کا ہنر سکھاتے ہیں، وقت آنے پر وہی اولاد انہیں آئینہ دکھانے میں دیر نہیں کرتی!
زبان کی تیزی اور بدگمانیوں کے زخم کبھی نہیں بھرتے، خون کے رشتے اگر ایغو کی بھینٹ چڑھ جائیں، تو پھر ان کا ماتم عمر بھر ہوتا ہے!
کسی کی زندگی اجاڑ کر خوش رہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ قسمت کا پہیہ ہمیشہ ایک جیسے نہیں گھومتا، آج جو تماشا دکھا رہے ہو، کل وہی تماشا تم بھی بن سکتے ہو!
°°°°°°°°°
“یار تُو جب سے آیا ہے، اتنا ڈپریشن میں کیوں ہے؟”
“فیصل” کی نظریں “زرام” کے اترے ہوئے چہرے پر جمی تھیں۔ صبح سے وہ اسے چپ چاپ دیکھ رہا تھا، مگر “زرام” ہر بار بات ٹال دیتا تھا۔ کچھ ایسا تھا، جو وہ زبان پر لانے کے لیے تیار نہیں تھا۔
“گھر میں کوئی مسئلہ ہے؟”
“فیصل” نے نرمی سے پھر سے سوال دھرایا شاید اس بار “زرام” بول پڑے۔
“ایک نہیں، بہت سے مسئلے ہیں، جنہیں تمہیں بتاتے ہوئے شرمندگی ہو رہی ہے۔ کچھ سچ اتنے کڑوے ہوتے ہیں کہ ہم انہیں کسی کو بتانے کی ہمت ہی نہیں کر پاتے۔”
“زرام” کے لہجے میں بے بسی تھی، جیسے وہ خود کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہو۔
“ہمارے درمیان ایسا کچھ نہیں ہے، جو ہم ایک دوسرے سے شیئر نہ کر سکیں۔ مگر اگر تمہیں مناسب نہیں لگتا، تو مت بتاؤ، لیکن یار، خود کو تھوڑا نارمل کرو! میں تمہیں اس حال میں نہیں دیکھ سکتا۔”
“فیصل” نے اس کا کندھا تھپتھپایا، اس کی پیٹ تھپتھپا کر حوصلہ دے رہا تھا۔
“اچھا، ایک کام کرتے ہیں، بھابھی کے کال سینٹر چلتے ہیں؟”
اس نے “زرام” کا موڈ بہتر کرنے کے لیے وہی بات کی، جو اس کے مزاج کے مطابق تھی۔ “زرام” کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔
“ہمم… مطلب کہ مجنوں صاحب بھابھی سے ملنے کو تیار ہیں۔ تو چلو پھر، دیر کس بات کی؟”
مسکراتے ہوئے “فیصل” نے اس کی ٹانگ کھینچی تھی۔ اور وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ دونوں سیدھا کال سینٹر پہنچے تھے۔ فیصل اس دن فاریہ سے اس کا نمبر لے چکا تھا اس لیے کال سینٹر کے باہر کھڑے ہو کر “فاریہ” کو کال کی۔ کچھ ہی دیر میں وہ باہر آ گئی۔
“کیسی ہیں آپ؟”
“فیصل” نے مؤدبانہ لہجے میں پوچھا۔
“جی، میں بالکل ٹھیک ہوں۔ آپ کیسے ہیں؟”
“فاریہ” نے خوش اخلاقی سے جواب دیا۔
“میں بھی ٹھیک ہوں۔”
“اگر آپ محترمہ سے ملاقات کروا دیں، تو میرا دوست بھی ٹھیک ہو سکتا ہے!”
“فیصل” نے شرارتی نظروں سے “زرام” کی جانب دیکھتے ہوئے اشارہ کر کے کہا تھا جو خاموشی سے دونوں کی بات سن رہا تھا۔
“سوری مگر یہ تو ممکن نہیں ہے!”
“فاریہ” نے منہ کو بسورتے ہوئے کہا۔
“فاریہ” کا جواب سن کر “زرام” کے ماتھے پر شکنیں ابھریں۔
“کیوں؟”
“زرام” نے حیرت سے پوچھا۔
“کیونکہ اب وہ نہ تو اس کال سینٹر میں کام کرتی ہیں اور نہ میں آپ کی ملاقات کروا سکتی ہوں۔”
“فاریہ” کا جواب “زرام” کے دل میں دھماکے کی طرح گونجا۔
“تو کوئی بات نہیں، آپ ہمارے ساتھ چلیں، ہم گول گپوں کی ریڑھی پر ٹھہر جاتے ہیں۔ آپ اپنی اس بہن یا دوست کو وہیں لے آئیں۔”
“فیصل” نے چالاکی سے لقمہ دیا۔
“نہیں، وہ وہاں بھی نہیں مل سکتی۔”
“فاریہ” کا لہجہ سنجیدہ تھا۔
“کیوں نہیں مل سکتی؟”
“زرام” کے لہجے میں سختی اتری کیونکہ جواب اس کی سوچ سے برعکس تھے۔
“کیونکہ اب وہ یہاں پر ہمارے ساتھ نہیں رہتی۔ وہ اپنے ماں باپ کے پاس واپس جا چکی ہے۔”
یہ سن کر “زرام” کے اندر ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ “ملیحہ” سے دور ہونے کا وقت سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ “ملیحہ” تھوڑے سے عرصے میں ہی اس کے دل میں ایک بہت خاص مقام رکھتی تھی۔
“مطلب وہ کبھی واپس نہیں آئے گی؟”
“زرام” کے لہجے میں بےچینی اور بےیقینی تھی۔
“فلحال تو نہیں، کیونکہ وہ سالوں بعد اپنے ماں باپ کے ساتھ رہنے گئی ہے، تو اب واپسی مشکل ہے۔ اس کی پڑھائی بھی پوری ہوچکی ہے تو–––اب آنے کا جواز بھی نہیں ہے اس کے پاس۔۔۔۔”
“فاریہ” نے صاف گوئی سے کہا۔
“تو پھر آپ مجھے ان کے گھر کا ایڈریس دے دیں!”
“زرام” نے فوراً مطالبہ کیا، جیسے یہ آخری حل ہو۔ اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ بتا رہے تھے اس کے اندر “ملیحہ” کو کھو دینے کا خدشہ طوفان مچائے ہوئے ہے۔
“سوری، میں آپ کی ہر طرح سے مدد کرنے کو تیار ہوں اور دل سے چاہتی ہوں کہ آپ دونوں ایک ہو جائیں۔ آپ مجھے “ملیحہ” کے لیے بہت پسند ہیں، آپ کی جوڑی بہت پیاری لگے گی، میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں مگر پھر بھی “زرام” بھائی، میں ان کے گھر کا ایڈریس نہیں دے سکتی، جب تک “ملیحہ” سے اجازت نہ لوں۔”
“آئی ہوپ کہ آپ میری بات سمجھیں گے؟”
“فاریہ” نے نرمی اور محبت بھرے انداز میں کہا، اور “زرام” لاجواب ہو کر رہ گیا۔
“کب تک آپ اس سے اجازت لیں گی؟ اور کب مجھے بتائیں گی؟”
“میں زیادہ انتظار نہیں کر سکتا!”
“زرام” کے لہجے میں بےچینی اور بےقراری واضح تھی، وہ ایک لمحہ بھی مزید انتظار کے لیے تیار نہیں تھا۔
“آج گھر جاتے ہی اس سے فون پر بات کروں گی، اور جو بھی جواب آئے گا، آپ کو بتا دوں گی۔”
“فاریہ” نے نرمی سے جواب دیا، مگر “زرام” کی بےچینی کم نہ ہوئی۔
“پلیز جلدی کیجیے گا!”
“زرام” نے التجا بھرے انداز میں کہا۔
“اور اگر اس نے اپنا ایڈریس بتانے سے منع کر دیا، تب بھی آپ کو مجھے اس کا ایڈریس دینا پڑے گا!”
“زرام” کے لہجے میں ضد اور دھمکی کا امتزاج تھا۔
“اس کی میں کوئی گارنٹی نہیں دے سکتی۔ دیکھیں، ہر چیز کے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ آئی ہوپ کہ آپ عزت کے اصولوں کو سمجھیں گے۔”
“فاریہ” کے لہجے میں سختی در آئی، جیسے وہ اسے سمجھانے کی آخری کوشش کر رہی ہو۔
“ملیحہ” نے اپنی زندگی میں بہت کچھ فیس کیا ہے، بہت دکھ برداشت کیے ہیں۔ پلیز، اس کی زندگی کو اور مشکل مت بنائیے گا!”
اس کی آنکھوں میں سچائی جھلک رہی تھی، مگر “زرام” کی بےچینی برقرار رہی۔
“میں پوری کوشش کروں گی کہ وہ آپ سے ملنے کے لیے مان جائے، لیکن اگر وہ نہ مانی، تو پلیز اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر بھول جائیے گا۔ زبردستی اس تک پہنچنے کی کوشش مت کیجیے!”
“فاریہ” نے سنجیدگی سے کہا، اور “زرام” خاموش ہو کر رہ گیا۔
“پلیز، اسے سمجھانے کی کوشش کریں! میں اسے عزت سے اپنانا چاہتا ہوں۔”
وہ بےچینی سے “فاریہ” کی طرف دیکھ رہا تھا، جیسے اس کے الفاظ میں ہی کوئی امید تلاش کر رہا ہو۔
“زرام” بھائی، میں پوری کوشش کروں گی، مگر فیصلہ تو “ملیحہ” کا ہوگا نا!”
“آپ کو اس کے فیصلے کی عزت کرنی چاہیے!”
“فاریہ” نے نرم لہجے میں سمجھانے کی کوشش کی، مگر “زرام” کی آنکھوں میں صرف ایک ہی ضد تھی۔۔۔”ملیحہ” کو حاصل کرنا۔ “ملیحہ” “زرام” کی پہلی محبت تھی۔
“میں ایسا کچھ بھی نہیں کروں گا جس سے اس کی عزت پر آنچ آئے۔ اس کی انسلٹ، اس کی توہین… سب کچھ میرے ساتھ جڑ چکا ہے۔ ایک سچائی اور بھی ہے کہ میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا!”
اس کے ہاتھ اسٹیئرنگ پر مضبوطی سے گرفت جمائے ہوئے تھے۔ وہ کسی بھی لمحے گاڑی کو رفتار دے سکتا تھا۔
“فاریہ” کو اس کی آنکھوں میں جنون صاف دکھائی دے رہا تھا۔
“محبت صرف پانے کا نام نہیں، کبھی کبھی چھوڑنے میں بھی سکون ہوتا ہے!”
“خاص کر تب جب سامنے والا آپ کو قبول نہ کرے!”
“زرام” نے گہری نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔
“یہ فلسفے مجھے مت سکھاؤ، میں صرف اسے اپنی زندگی میں دیکھنا چاہتا ہوں اور میرا نہیں خیال کہ مجھ میں کوئی ایسی خرابی ہے جس کی بنا پر وہ میری زندگی میں آنے سے انکار کرے!
اس نے جھنجھلا کر گاڑی کا ایکسیلیریٹر دبایا، غصے کی شدت سے اس کے اندر طوفان امڈ آیا تھا۔
“میں اپنی طرف سے پوری کوشش کروں گی۔ اگر اس نے پھر بھی انکار کر دیا تو؟”
“میری پہلی کوشش ہوگی کہ میں اس کی مرضی سے اس تک پہنچوں لیکن اگر انکار ہوا تو شاید میں خود کو روک نہ پاؤں!”
اس کے لہجے میں بے بسی بھی تھی اور شدت بھی۔ جنونیت بھی تھی، عاجزی بھی۔ وہ خود کو سنبھالنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔
“زرام” بھائی پلیز–––زبردستی کا کوئی فائدہ نہیں، محبت میں ضد نہیں، صبر ہوتا ہے۔ آپ بھی صبر رکھیں اللہ بہتر کرے گا!”
“صبر…؟ صبر تب ہوتا ہے جب امید ہو، میں اس کے بغیر اپنی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ آپ مجھے امید دلا دینا، میں کئی سال تک صبر کر کے اس کے لیے انتظار کرتا رہوں گا–––مگر اس سے زیادہ کی امید مجھ سے نہیں رکھنا۔”
اللہ حافظ کہتے ہوئے “زرام” گاڑی کی سپیڈ بڑھاتے ہوئے وہاں سے نکل چکا تھا اس کے اندر ایک عجیب سا طوفان اٹھ رہا تھا۔ ہزاروں سوال تھے جن کے ابھی کوئی جواب نہیں مل رہے تھے۔
“پلیز یار آہستہ گاڑی چلا میرا تو دل بیٹھا جا رہا ہے، اوپر سے میرا روزہ ہے یار!”
“فیصل” بیچارا عجیب و غریب شکلیں بنا رہا تھا۔ کچھ تو اس سے ہائی سپیڈ سے گھبراہٹ ہو رہی تھی کچھ اور ڈرامہ کر کے اپنے دوست کا موڈ ٹھیک کرنا چاہ رہا تھا جو کہ ابھی ممکن نہیں تھا۔
“زرام”، ریلیکس ہو جاؤ! اللہ پاک سب بہتر کرے گا۔”
“فیصل” نے اسے سمجھانے کے لیے اس کے کندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھا تھا۔
“پلیز، تھوڑی سی سپیڈ کم کرو! جان ہے تو جہان ہے!”
وہ فکرمندی سے بولا، مگر “زرام” کے چہرے پر بےچینی اب بھی واضح تھی۔
“فیصل”، تم مجھے جانتے ہو نا؟ میں کبھی کسی لڑکی کی انسلٹ نہیں کر سکتا، کسی کی عزت نہیں اچھال سکتا۔”
“ہاں یار، مجھے پتہ ہے، مجھے تم پر یقین ہے مگر۔۔۔ میں تمہارے سوال کا مطلب نہیں سمجھ پایا۔”
“مطلب یہ کہ اگر “ملیحہ” نہیں مانی، تو میں خود کو سنبھال لوں گا یا نہیں؟”
“فیصل” کچھ دیر خاموش ہو گیا تھا، کیونکہ اس سوال کا جواب دینا اس کے لیے مشکل تھا۔
“پلیز یار، جواب دو! گونگے بن کر بیٹھنے کو نہیں کہا!”
“دیکھو “زرام”، اگر تمہارا پہلے کا نیچر دیکھا جائے تو ہاں، سچ میں، تم نے کبھی ایسا کچھ نہیں کیا مگر اس وقت تم “ملیحہ” کے لیے جتنے جنونی ہو رہے ہو، میری دل سے دعا ہے کہ وہ مان جائے اور تمہیں مل جائے۔ اس وقت میں تمہارے بارے میں کوئی رائے نہیں قائم کر سکتا، مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ خود کو سنبھالنا یار، کوئی بھی غلطی مت کرنا، حتیٰ کہ غلطی سے بھی نہیں۔”
“خدا کی قسم، میں خود بھی ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتا، مگر مجھے “ملیحہ” چاہیے! میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا، یہ بات فائنل ہے۔”
“فیصل” خاموش ہو گیا تھا، کیونکہ اس وقت “زرام” کو سمجھانا مشکل ہی نہیں، ناممکن تھا۔
°°°°°°°°°
“ارمیزہ”، میرے پاس آؤ۔”
“نایاب” نے شاید زندگی میں پہلی بار اتنی مٹھاس اور محبت سے “ارمیزہ” کو اپنے پاس آنے کو کہا تھا، مگر وہ خوفزدہ نظروں سے دور ہی کھڑی رہی۔ وہ بچی معصوم ضرور تھی مگر اپنی ماں کی حقیقت سے واقف تھی۔ اس کی ماں نے کبھی اسے محبت اور شفقت سے دیکھا تک نہیں تھا۔ جب وہ چھوٹی تھی تو نوکروں کے رحم و کرم پر تھی، اور جیسے ہی ہوش سنبھالا، اسے اٹھا کر بورڈنگ اسکول میں پھینک دیا گیا۔ وہ اپنے گھر کو یاد کر کے کتنی راتوں تک روتی رہی تھی، مگر آج اچانک اپنی ماں کے بدلے رویے کو دیکھ کر وہ خوفزدہ ہو گئی۔ بھاگتے ہوئے وہ “نایاب” کے قریب سے گزر کر اس کے کمرے سے باہر نکل گئی۔
“ارمیزہ!” “ارمیزہ!” یہ بدتمیزی تمہیں بہت مہنگی پڑے گی، واپس آؤ!”
“نایاب” اس کے پیچھے لپکی، اس کی نظروں میں شدید غصہ تھا، مگر خوفزدہ “ارمیزہ” بھاگتے ہوئے کسی زوردار ہستی سے ٹکرا گئی، جو کوئی اور نہیں بلکہ اس کے اپنے بابا، “زیغم سلطان” تھے۔
“ارمیزہ”، میری گڑیا! کیوں بھاگ رہی ہو؟ کیا ہوا ہے؟”
“بابا… آپ!”
وہ گھبرا کر اپنے بابا کے سینے سے جا لگی تھی۔
“کیا ہوا ہے؟”
“کیا کہا ہے تم نے اسے؟ کیوں اتنی خوفزدہ ہے یہ؟”
“زیغم” نے آنکھیں دکھا کر دھاڑتے ہوئے پوچھا تو “ارمیزہ” اور بھی زیادہ خوفزدہ ہو کر “زیغم” کے سینے میں چھپ گئی۔
“تمہیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں، میرا بچہ… میری گڑیا… بابا ہیں تمہارے پاس۔ کیا ہوا ہے؟”
“میری طرف دیکھو۔”
“بابا، مجھے ان کے پاس مت چھوڑیں… ماما گندی ہیں!”
“مجھے تو پتہ ہے، بیٹا، مگر میں یہ نہیں جانتا تھا کہ تم اپنی ماں کی اصلیت سے بھی واقف ہو!”
“زیغم” نے تند و تیز نظروں سے “نایاب” کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
“خبردار! میری بیٹی کے دماغ میں میرے لیے زہر بھرنے کی کوشش مت کرنا!”
“نایاب” بھڑکتے ہوئے بولی۔
“تم اس کا ڈر، اس کی کپکپاہٹ دیکھ کر یہ اندازہ لگا لو کہ اس کے دماغ میں تمہارے لیے زہر بھرنے کی ضرورت بھی ہے؟”
“تم پہلے ہی اس کے ذہن کو زہر آلود کر چکی ہو۔ کسی کو تو بخش دو، خدا کا واسطہ ہے، کسی ایک کو تو معاف کر دو!”
“کس قسم کے انسان ہو تم لوگ؟ انسان بھی ہو یا درندے؟”
“زیغم” کا لہجہ زہر میں بجھا ہوا تھا۔ وہ مزید کچھ کہنے ہی والا تھا کہ اپنی گڑیا کی ننھی جان پر کسی منفی اثر سے بچنے کے لیے خود پر قابو پا گیا۔
“مت رہو اس کے پاس!”
“جو میری بیٹی چاہے گی، وہی ہوگا!”
“مجھے “دانیہ” پھوپھو کے پاس جانا ہے!”
“ارمیزہ” نے معصومیت سے کہا۔
“بیٹا، وہ بھی تمہاری طرح ان سے ڈر گئی ہیں۔ انہیں بھی معلوم ہو گیا تھا کہ یہ لوگ کیسے ہیں، اسی لیے وہ چلی گئیں۔ جہاں وہ ہیں، میں تمہیں بھی وہیں چھوڑ دوں گا۔ تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں۔”
“زیغم” نے “نایاب” کو گھورتے ہوئے “ارمیزہ” کو خود سے لگایا اور باہر کے دروازے کی جانب بڑھنے لگا۔ “نایاب” کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو گئیں۔
“تم میری بیٹی کو لے کر نہیں جا سکتے، “زیغم!” میری بات سنو!”
“نایاب” گھبرا کر اس کے پیچھے بھاگی تھی۔
“تمہیں اپنی بیٹی سے اتنی محبت تھی، اسی لیے اسے بورڈنگ سکول میں چھوڑ دیا تھا؟”
“تمہیں اس کی بہت فکر تھی؟”
“نایاب”، یہ سب ڈرامہ مت کرو، بچی کے دماغ پر منفی اثر مت ڈالو!”
“زیغم” کا لہجہ سخت مگر قابو میں تھا، اس کی نظریں غصے سے چمک رہی تھیں۔
“تمہاری حقیقت کیا ہے، یہ تم بھی جانتی ہو، میں بھی اور یہ بچی بھی!”
وہ دبی آواز میں غرایا تھا، اس کا صبر اب جواب دے رہا تھا۔
“جو بھی کہنا ہے کہو، مگر نہ تو تم میری بیٹی کو لے جا سکتے ہو اور نہ ہی مجھے اپنی بیٹی کے ساتھ محبت ثابت کرنے کی ضرورت ہے!”
“نایاب” “زیغم” کا بازو پکڑ کر اسے روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔
“میں اپنی بیٹی کو لے کر جا بھی سکتا ہوں اور تمہیں میرے سامنے سب کچھ ثابت بھی کرنا پڑے گا! یہ رویہ میرے سامنے مت دکھانا!”
“زیغم” نے غصے سے کہا اور جھٹکے سے اسے پرے دھکیل دیا۔ وہ آگے بڑھنے لگا تو “نایاب” پیچھے سے بھاگنے لگی تھی مگر “زیغم” نے تیز نظروں سے گھورتے ہوئے انگلی اٹھا کر اسے روک دیا۔ “نایاب” کے قدم وہیں رک گئے، اس کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو چکی تھی، اور “زیغم” بنا پلٹے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ کچن کے دروازے پر کھڑی “قدسیہ” یہ سب دیکھ رہی تھی۔
“قدسیہ” نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ تالیاں بجائیں۔
“واہ بھئی واہ! بڑی آئی ماں بننے والی! تمہاری بیٹی جس کے لیے تم ابھی تماشا بنا رہی تھیں، دیکھو تو سہی، کیسے تمہیں دھتکار کر چلی گئی!”
“نایاب” کی آنکھیں غصے سے سرخ ہوگئیں۔
“اماں! بس کریں! “زیغم” میری بیٹی کو زبردستی لے کر گیا ہے!”
“قدسیہ” نے ایک زوردار قہقہہ لگایا۔
“ہاہاہاہا! زبردستی؟ واقعی؟ اور وہ جو بچی چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ تم گندی ہو، وہ بھی زبردستی تھی؟ خود سوچو، “زیغم” تم سے بہتر باپ نکلا یا تم ماں؟”
“نایاب” کا ضبط جواب دے رہا تھا۔
“زیغم” کو میں اچھی طرح جانتی ہوں، وہ میری بیٹی کو میرے خلاف بھڑکائے گا!”
“قدسیہ” نے طنزیہ انداز میں سر جھٹکا۔
“بیٹی کے خلاف کوئی نہیں بھرتا، جیسے کو تیسا ہی ملتا ہے! تمہیں لگتا تھا کہ تم ہمیشہ اپنی ہی چالیں چلا کر جیت جاؤ گی۔ وہ مرد ہے، تمہاری چالاکیاں زیادہ دیر نہیں چلیں گی اس پر!”
“نایاب” نے سختی سے مٹھیاں بند کر لیں۔
“اماں، مجھے آپ سے کسی ہمدردی کی امید نہیں ہے، کم از کم تماشہ نہ بنائیں!”
“قدسیہ” نے کندھے اچکائے۔
“تماشہ؟ جو عورت اپنی ہی اولاد کے دل میں اپنے لیے نفرت پیدا کر لے، اس سے بڑا تماشہ اور کیا ہوگا؟”
“زیغم” صحیح کر رہا ہے، وہ تمہیں تمہاری اوقات دکھا رہا ہے!”
“نایاب” نے دانت پیس کر “قدسیہ” کی طرف دیکھا۔
“میری بیٹی میری ہے، “زیغم” اسے جتنا بھی ورغلا لے، وہ ایک دن میرے پاس واپس آئے گی!”
“قدسیہ” نے طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے کہا۔
“چلو، دیکھتے ہیں! پر ابھی کے لیے تو تمہارے ہاتھ کچھ نہیں آیا!”
یہ کہہ کر وہ سکون سے اپنے ہاتھ جھاڑتے ہوئے کچن میں سبزیاں کاٹنے اور افطاری بنانے کے لیے بڑھ گئی جبکہ “نایاب” کا پورا وجود غصے سے لرز رہا تھا۔
“تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے، تم ہر بار مجھے نہیں چوٹ پہنچاتے ہو!”
وہ دانتوں کو پیستے ہوئے دماغ میں سوچ رہی تھی۔
°°°°°°°°
حویلی کے گیٹ پر “مائد” بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔
“زیغم” کی گاڑی رکی تو “مائد” نے فوراً آگے بڑھ کر دروازہ کھولا۔ جیسے ہی اس نے “زیغم” کو اترتے دیکھا اور اس کے ساتھ “ارمیزہ” کو، اس کی پیشانی پر فکر کی لکیریں گہری ہوگئیں۔
“خیریت ہے؟ سب ٹھیک ہے؟”
“مائد” نے بے چینی سے پوچھا۔
“زیغم” نے گاڑی سے “ارمیزہ” کو اتارتے ہوئے پُرسکون انداز میں کہا:
“ہاں، سب خیریت ہے۔ میری بیٹی وہاں نہیں رہنا چاہتی تھی، وہ اپنی پھوپھو کے ساتھ رہنا چاہتی ہے، تو میں نے سوچا اسے یہاں چھوڑ دوں۔ اگر تمہیں کوئی اعتراض نہ ہو—”
“شٹ اپ یار!”
“مائد” نے بات کاٹتے ہوئے خفگی سے کہا:
“کیا ہو گیا ہے تمہیں؟ یہ تمہارا اپنا گھر ہے، یہاں آنے یا گڑیا کو لانے کے لیے تمہیں اجازت لینے کی ضرورت نہیں!”
“زیغم” نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھٹکا۔
“یار، مجھے تمہارے خلوص پر کوئی شکوہ نہیں، نہ ہی کوئی گلہ، مگر میں اپنی بیٹی کو غیر ضروری کشمکش میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ وہ یہاں خوش رہے گی، اپنی پھوپھو کے پاس، جہاں اسے سکون ملے گا۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ اس ماحول میں رہے جہاں اس کے دل میں خوف پیدا ہو۔”
“مائد” نے ایک گہری سانس لی اور “ارمیزہ” کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“گڑیا، تم بے فکر رہو، یہاں تمہاری پھوپھو بھی ہیں اور تمہارے بابا بھی جب چاہیں تم سے ملنے آسکتے ہیں۔”
“یہی تو میں چاہتا ہوں!”
“زیغم” نے نرمی سے کہا:
“میری بیٹی سکون میں رہے، اور اپنی پھوپھو کے پاس وہ بالکل محفوظ رہے گی۔”
“مائد” نے اثبات میں سر ہلایا اور دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے بولا:
“چلو اندر چلتے ہیں، افطار کا وقت ہونے والا ہے۔”
“ارمیزہ” نے ایک نظر اپنے “مائد” کو دیکھا، جو محبت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ رہا تھا، پھر اس نے دھیرے سے اپنے بابا کا ہاتھ تھام لیا۔ اندر کہیں “دانیہ” بےچینی سے ان کا انتظار کر رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلا ایپیسوڈ ملاحظہ کیجیے