Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:16
رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر 16
°°°°°°°°°°°
مائد خان جیسے ہی افطاری کے ٹیبل پر پہنچا، اسے وہاں پر بیٹھے ہوئے گھر کے تمام افراد نظر آئے تھے سوائے دانیہ کے۔ مگر مائد خان نے کوئی سوال نہیں کیا اور کرسی کھینچ کر سلام کہتے ہوئے ٹیبل پر بیٹھ گیا۔
“تمہارے ہونے والے سسرال سے فون آیا تھا، شادی کی تاریخ مانگ رہے ہیں۔ بتاؤ، کون سی ڈیڑھ فکس کی جائے؟”
آغا جان نے افطاری کی کھجور منہ میں ڈالتے ہی بات شروع کر دی تھی اور مائد کے حلق میں تو کھجور جیسے پھنسی گئی تھی، بامشکل اسے حلق سے نیچے اتارا۔ مورے خاموشی کے ساتھ روزہ افطار کر رہی تھی کیونکہ جب آغا جان بولتے تھے تو مطلب صرف آغا جان ہی بولتے تھے، اور کوئی نہیں بولتا تھا۔ یہ اس گھر کا اصول تھا۔
“آغا جان، میں فلحال شادی نہیں کرنا چاہتا۔ جب کرنی ہوگی، آپ کو بتا دوں گا اور اتنی جلدی کیا ہے ان لوگوں کو مجھے تو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔”
مائد خان کی آواز میں اضطراب تھا، مگر اس نے بات احترام سے کہی۔ جیسے ہی اس کے الفاظ ختم ہوئے، ڈائنگ روم میں سناٹا چھا گیا۔ آغا جان کا چہرہ غصے سے تپ رہا تھا، اور اس کی نظریں مائد خان پر ٹکی ہوئی تھیں۔
“پھر سے وہی بات؟ اتنی جلدی کیا ہے؟ تم 31 سال کے ہو گئے ہو، تو کیا تم 60 یا 70 سال کے ہونے کے بعد شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہو؟”
“اور شادی نہ کرنے کی وجہ بتا دو، میں سمجھ جاؤں گا۔ ایسا کون سا تم نے قلعہ فتح کرنا جس کے بعد تمہاری شادی ہوگی؟”
آغا جان کی آواز میں تنقید تھی، اور ہر لفظ میں حکم تھا۔ مائد خان کے ہاتھ افطاری کے لیے رک گئے، اس سوال سے بچنے کی وہ سالوں سے کوشش کرتا آ رہا تھا۔ مائد خان نے سر جھکایا، اس کے اندر غم اور بے بسی کا مکسچر تھا۔ اس نے جان بوجھ کر اپنی نظریں نہیں اٹھائیں۔ وہ جانتا تھا کہ آغا جان کا مزاج سخت ہے اور ان کے سامنے زیادہ بولنا یا ٹوکنا خود کو مشکل میں ڈالنا ہوتا ہے۔ آغا جان کی شخصیت دبدبے اور روب والی تھی اور مائد اپنے آغا جان سے بہت محبت بھی کرتا تھا اور ان کی عزت میں کبھی نگاہ اور آواز اونچی کرنے کی جرات بھی نہیں کی تھی۔ یہ ڈر نہیں ایک بیٹے کا اپنے باپ کے لیے ادب تھا جو کہ آج کل کے وقت میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ درخزائی، جو پہلے ارمیزہ کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے ہنسی مذاق کر رہا تھا، اب چپ ہو چکا تھا، نوالے لیتے ہوئے وہ نظر جھکائے بیٹھا آغا جان کی نظر سے بچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اور ارمیزہ، جو کچھ وقت پہلے تک افطاری کی چیزیں دیکھ کر خوشی سے چہک رہی تھی،اب خاموشی سے چپ ہو کر بیٹھ گئی تھی۔ وہ ننھی پری جب سے آئی تھی آج پہلی بار گھر میں اس نے کسی کو غصہ کرتے ہوئے دیکھا تھا۔
“منہ میں دہی جما کر مت بیٹھو مائد خان، مجھے جواب چاہیے!”
مائد کی خاموشی پر آغا جان نے ایک بار پھر سخت لہجے میں کہا۔
“مجھے بتاؤ کیا بات ہے؟”
“جب بھی شادی کی بات کی جائے تو تم فوراً بات ٹال دیتے ہو۔ اب اور نہیں ٹالا جا سکتا، بچپن سے مونا تمہارے ساتھ منسوب ہے اور تم اب 31 سال کی عمر میں ہو، تم شادی کے لائق ہو۔ تو کس بات کا انتظار کر رہے ہو؟”
آغا جان کی آواز میں غصہ اور گہری تنقید تھی، اور مائد خان کے اندر ایک اور لہر اُٹھی۔ اس کے دل میں گہری بے چینی تھی، مگر وہ ان کے سامنے کچھ نہیں کہہ سکا۔ اپنی بات آغا جان کے سامنے کیسے رکھتا، جب دل میں چھپی ہوئی بات کو وہ خود سے ہمیشہ سے چھپاتا اور جھوٹ بولتا آیا تھا۔
“آغا جان، میں اس وقت شادی کے بارے میں نہیں سوچ رہا ہوں۔ جب دل کرے گا، آپ کو بتا دوں گا۔”
مائد خان نے سر جھکائے، عزت سے جواب دیا۔ اس کی آواز میں نرمیت تھی، مگر مائد خان کے جواب پر آغا جان کا چہرہ غصے سے لال ہو چکا تھا۔ ان کی نظریں مائد خان پر ٹکی ہوئی تھیں، جیسے وہ اس کے اندر کی سچائی کو جانچ رہیں ہوں۔
“جب کرنی ہو، اس سے کیا مراد ہے؟”
“تمہارے دل میں کیا ہے تم مجھے یہ بتاؤ، تمہاری عمر کے لڑکے شادی کے لیے اتاولے ہو رہے ہوتے ہیں اور تمہیں شادی نہیں کرنی، کیوں نہیں کرنی؟”
“آج تمہیں اس بات کا جواب دینا ہوگا!”
آغا جان نے سختی سے نظریں اس پر مربوط کیے ہوئے پوچھا۔
“خان، آرام سے افطاری کر لیں، اس کے بعد بات کر لیجئے گا۔”
مورے نے بڑے ادب سے نظریں نیچے کرتے ہوئے آغا جان سے کہا تھا۔
“آپ چپ رہیں، میرے لیے یہ وقت بالکل صحیح ہے اور مجھے ابھی جواب چاہیے۔ بہت ہو گئی اس کی من مرضی، جب بھی پوچھا جائے ‘ابھی نہیں شادی کرنی، ابھی نہیں شادی کرنی’، ابھی نہیں شادی کرنی، شادی کیوں نہیں کرنی؟ مجھے وجہ بتاؤ!”
آغا جان کا غصہ بہت بڑھ چکا تھا۔
“منہ کھولو اور بتاؤ کہ کیوں تم نے سالوں سے اس بچی کو انتظار کی سولی پہ لٹکا رکھا ہے؟”
“منگ ہے وہ تمہاری، صرف یہی اس کی غلطی ہے کہ وہ تمہارا انتظار کرتی رہی؟”
“کیا تم اللہ تعالی کے حکم کے بارے میں نہیں جانتے؟”
“اللہ تعالی نے کہہ دیا ہے کہ جوان بچوں کی شادی جلد از جلد کر دینی چاہیے۔”
آغا جان کی آواز میں غصہ تھا، اور ان کی باتوں نے ماحول میں ایک سنگینی پیدا کر دی تھی۔ مائد خان خاموش تھا مگر وہ لمحوں کے لیے وہ خاموش ہوئے پھر سے اپنی بات جاری رکھی۔
“اللہ تعالی نے فرمایا ہے: ‘اور تم میں سے جو اکیلا ہے اور تمہاری غلاموں اور باندیوں میں سے جو اچھے ہیں، ان کی شادی کر دو، اگر وہ غریب ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کر دے گا’۔ یہ حکم ہمارے لیے واضح ہے کہ جب تک انسان بالغ نہ ہو، اس کی زندگی میں ذمہ داریوں کا آغاز نہیں ہوتا، اور شادی ان ذمہ داریوں میں سب سے پہلی ہے۔”
“یاد رکھو! اللہ تعالی نے جوانوں کے لیے فوراً شادی کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ان کی خواہشات اور جذبات قابو میں رہیں، اور یہ معاشرتی فتنوں سے بچاؤ کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ جب تم اپنے فرض کو نظر انداز کرتے ہو، تو تم اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہو۔ اور یہ اللہ کی رضا کے خلاف ہے، تمہیں سوچنا چاہیے کہ کیا تم اپنے آپ کو اس گناہ سے بچا پاؤ گے؟”
آغا جان کی آواز میں گہری تشویش اور سختی تھی، جیسے وہ مائد خان کو نہ صرف اس کی بے عملی کی طرف بلکہ دین کی حقیقت کی طرف بھی متوجہ کرنا چاہتے تھے۔
“تو آغا جان، اللہ تعالی نے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ جب بچوں کی شادی کرو تو ان کی رضامندی کو مدِ نظر رکھو، کیا آپ نے اس بارے میں سوچا؟”
مائد خان نے آج پہلی بار اپنے بابا کے سامنے اپنے دل کی بات رکھنے کی جرات کی تھی۔ اس کی آواز میں تھوڑی سی جرات تھی، مگر دل میں ڈر اور اضطراب بھی تھا۔ وہ جانتا تھا کہ آغا جان کے سامنے اپنی بات رکھنا کبھی آسان نہیں رہا، مگر آج وہ اپنی رائے کا اظہار کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔
“اسلام میں شادی کے معاملے میں دونوں طرف کی رضا اور اطمینان کو انتہائی اہمیت دی گئی ہے۔ اللہ تعالی نے یہ فرمایا ہے کہ کسی بھی رشتہ میں، خاص طور پر شادی میں، دونوں افراد کی رضامندی ضروری ہے تاکہ وہ رشتہ خوشگوار اور کامیاب ہو۔”
“باتوں کو گھماؤ مت، جو کہنا ہے سیدھا سیدھا کہو اور جہاں تک رضامندی کی بات ہے، تو وہ بچی رضا مند ہے تو سالوں سے تمہارا انتظار کر رہی ہے۔”
آغا جان نے سر اٹھا کر مائد پر نظر مرکوز کرتے ہوئے کہا۔
مائد خان گہری سانس لے کر نظر جھکائے ہوئے بولا:
“کیا اسلام میں صرف لڑکی کی رائے کو اہمیت دی گئی ہے؟”
“کیا لڑکے کی کوئی رضامندی نہیں؟”
“اور جب بچپن میں ہمارا رشتہ طے کیا گیا تھا، تب کیا ہم سے ہماری رضامندی پوچھی گئی تھی؟”
“اس وقت ہم بچے تھے۔ شادی کیا ہوتی ہے، رشتہ کیا ہوتا ہے، کسی کو پسند ناپسند کرنا کیا ہوتا ہے، ہم تو اس بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ صرف بچوں کی طرح تھے، تو کیا تب آپ نے ہماری رضامندی کو مدِ نظر نہیں رکھا؟”
“آپ نے تب کیوں نہیں سوچا؟”
“اس وقت یہ کیوں نہیں سوچا کہ اگر بڑے ہو کر ہم ایک دوسرے کو پسند نہ کر پائے تو اس کا انجام کیا ہوگا……اسلام میں لڑکے اور لڑکی دونوں کی رضامندی کو اہمیت دی گئی ہے۔”
مائد خان نے پہلی بار اپنے دل کی بات کھل کر آغا جان کے سامنے رکھی تھی۔
“میرا دل پہلے ہی کہہ رہا تھا کہ تم کچھ نہ کچھ غلط اور برا ہی سوچ رہے ہو، اسی لیے تو سالوں سے رشتہ منسوب ہونے کے باوجود، نہ کبھی عام لڑکوں کی طرح خوش ہو کر اپنے سسرال جاتے ہو، نہ ان کے گھر والوں سے میل جول رکھتے ہو۔ اگر وہ گھر میں آ جائیں، تو تمہارے کام اور سر درد ختم نہیں ہوتے!”
“میرے دل میں ہمیشہ ایک دھڑکا لگا رہتا تھا کہ مائد خان، تمہارے دل میں چور ہے! آج وہی بات زبان پر آ ہی گئی!”
آغا جان غصے سے لال ہو کر آگ بگولا ہو گئے تھے۔
مورے کا تو نوالہ حلق میں ہی اٹک گیا تھا، وہ خاموشی سے نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔ درخزائی کو وہاں بیٹھنا مناسب نہیں لگا، اس لیے وہ ارمیزہ کو لے کر خاموشی سے وہاں سے نو دو گیارہ ہو گیا۔
“مائد بیٹا، یہ کیا بول رہے ہو؟ بولنے سے پہلے سوچ تو لو!”
مورے نے افسوس زدہ نظروں سے مائد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
“سوچ کر ہی بولا ہے، مورے! بس بولنے اور ہمت کرنے میں بہت وقت لگا دیا، مگر حقیقت یہی ہے کہ میں شادی نہیں کرنا چاہتا! سالوں سے آپ کے پریشر کی وجہ سے میں یہ بات کہہ نہیں پایا، مگر میں شادی کر کے دو زندگیاں خراب نہیں کرنا چاہتا اور شادی کے بعد اس کی زندگی برباد کرنے سے بہتر ہے کہ آج ہی اس رشتے کو ختم کر دوں!”
مائد کی یہ بات سن کر مورے اور آغا جان کے چہرے فق ہو گئے، یہ الفاظ ان کے لیے کسی ہارٹ اٹیک سے کم نہیں تھے۔
“مائد خان! اپنی منگ کو خاندان میں چھوڑنے والے کو بے غیرت کہتے ہیں۔ کیا سمجھوں کہ میرا بیٹا بے غیرت ہو گیا ہے؟”
آغا جان کی آواز گونجی تو پورا ڈائننگ روم لرز گیا۔ ان کی نظریں مائد پر جمی ہوئی تھیں، جن میں صرف غصہ ہی نہیں، صدیوں پرانی روایات کا بھاری بوجھ بھی تھا۔
“پٹھانی روایات میں ‘منگ’ صرف ایک وعدہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ ایک عزت، غیرت اور خاندان کی جڑوں سے جُڑی ہوئی ایک مقدس ذمہ داری ہوتی ہے۔ جس لڑکی کی منگ خاندان میں ہو، اس کی تربیت اس یقین کے ساتھ کی جاتی ہے کہ وہ اسی گھر کا حصہ بنے گی، اسی چھت کے نیچے اس کی تقدیر لکھی جا چکی ہے۔ اس کے خواب، اس کی امیدیں، اس کا ہر انتظار اسی ایک نام سے جُڑا ہوتا ہے جس کے ساتھ اس کا رشتہ طے کیا گیا ہو۔”
“یہ صرف دو لوگوں کے بیچ کا معاملہ نہیں ہوتا، بلکہ پورے خاندان کی عزت کا سوال ہوتا ہے۔ منگ توڑ دینا صرف ایک وعدہ توڑنا نہیں، بلکہ صدیوں پرانی روایات اور خاندان کی غیرت کو روند ڈالنے کے مترادف ہوتا ہے۔ ہم پٹھانوں میں مرد وہی کہلاتا ہے جو اپنے دیے گئے وعدے کا مان رکھے، چاہے زمین و آسمان بھی الٹ جائیں۔”
مائد خان کے لیے آغا جان کے الفاظ صرف ایک سوال نہیں تھے، بلکہ وہ اسے آئینہ دکھا رہے تھے کہ اگر اس نے یہ رشتہ توڑا، تو وہ اپنے قبیلے، اپنی شناخت، اپنی روایات، سب کچھ پیروں تلے روند ڈالے گا۔
“آغا جان! کب تک ہم یہ دقیانوسی سوچ لیے بیٹھے رہیں گے؟”
“کب تک روایات کے بوجھ تلے اپنی خوشیوں کا گلا گھونٹتے رہیں گے؟”
“کب تک ہزاروں لڑکیاں اور لڑکے اپنی پسند کے ہمسفر کے ساتھ زندگی گزارنے کے حق سے محروم رہیں گے؟”
“آخر کب تک ہمیں ان بندشوں میں باندھ کر رکھا جائے گا؟”
مائد خان کا لہجہ مؤدب تھا، مگر اس کی آواز میں دبے ہوئے سالوں کا بوجھ جھلک رہا تھا۔ وہ آغا جان کی طرف دیکھ رہا تھا، جن کی پیشانی شکن آلود ہو چکی تھی، مگر وہ اب بھی خاموشی سے اسے سن رہے تھے۔
“بچپن میں ایک رشتہ طے کر دیا جاتا ہے، جب نہ لڑکے کو سمجھ ہوتی ہے، نہ لڑکی کو۔ جب ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ زندگی کا مطلب کیا ہے، تو ہم کسی اور کے ساتھ زندگی کیسے گزاریں گے؟”
“صرف چند بڑے بیٹھتے ہیں، فیصلے ہوتے ہیں، اور ہم پر تھوپ دیے جاتے ہیں۔ کوئی محبت میں رشتے جوڑ دیتا ہے، تو کوئی اپنی ضد اور انا کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ کیا یہی انصاف ہے؟ کیا یہی ہمارا دین سکھاتا ہے؟”
مائد کے ہر لفظ میں تلخ حقیقت چھپی تھی، مگر اس کا لہجہ ابھی بھی دھیما تھا، مؤدب تھا، وہ اپنے آغا جان کو قائل کرنا چاہتا تھا، بحث کرنا ان کو تکلیف دینا ہرگز اس کا مقصد نہیں تھا۔
“آغا جان! ہمارے دین نے نکاح کو محبت اور رضا پر رکھا ہے، زبردستی اور مجبوری پر نہیں۔ میں آپ کا بیٹا ہوں، میں آپ کی عزت کرتا ہوں، آپ کی ہر بات کو سر جھکا کر مانا ہے، مگر اس بار میں اپنے دل کے خلاف نہیں جا سکتا۔ میں ایک نکاح کر کے دو زندگیاں برباد نہیں کر سکتا۔ کیا میرا یہ فیصلہ واقعی بے غیرتی ہے؟ کیا میری سوچ واقعی اتنی غلط ہے۔تھوڑا سا غور کر کے بتائیے؟”
کمرے میں ایک پل کے لیے سکوت چھا گیا۔ آغا جان کی نظریں مائد پر جمی تھیں، جیسے وہ اس کی باتوں کا وزن تول رہے ہوں۔ مورے کی آنکھوں میں حیرانی تھی،مورے اپنے بیٹے کی سوچ دیکھ کر حیران تھی انہیں تو کبھی یہ احساس ہی نہیں ہوا تھا کہ اس کے بیٹے کے دماغ میں یہ چل رہا ہے۔ مورے سیدھی سادھی سی خاتون تھی اور روایات کے بارے میں وہ بھی بہت اچھی طرح سے جانتی تھی مائد کا یہ فیصلہ قیامت لے آئے گا مورے کی آنکھوں میں خوف تھا۔
“تم… تم ایسا نہیں کر سکتے! نہیں کر سکتے، مائد خان!”
آغا جان کا لہجہ لرز رہا تھا، آنکھوں میں بے یقینی اور دکھ کی گہری پرچھائیاں تھیں۔ وہ جو ہمیشہ مضبوط نظر آتے تھے، جن کی آنکھوں میں کبھی کمزوری جھلکتی تک نہ تھی، آج شکستہ محسوس ہو رہے تھے۔ ان کا سینہ بے ترتیب انداز میں اوپر نیچے ہو رہا تھا، جیسے الفاظ کے ساتھ ساتھ سانسیں بھی اٹک رہی ہوں۔
“میرا سر یوں برادری میں نہیں جھکا سکتے!”
یہ کہتے ہوئے وہ اچانک اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کی طرف جھکنے لگے۔ ان کا جسم جیسے اپنی طاقت کھو رہا تھا۔ ان کی آنکھوں میں ضبط کی شدت تھی، مگر چہرے پر درد کی گہری لکیریں نمایاں ہو چکی تھیں۔ ماتھے پر پسینے کی بوندیں ابھر آئیں، ہاتھ بے بسی سے دل پر جمے ہوئے تھے، اور وہ ایک طرف کو ڈھلکنے لگے۔
“آغا جان! آغا جان…!”
مائد خان کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا تھا۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا، مگر اس سے پہلے ہی آغا جان کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں۔
“خان! کیا ہوا ہے آپ کو؟ خان! آنکھیں کھولیں!”
مورے کی گھبرائی ہوئی آواز بھی ابھری۔ اس کے چہرے پر شدید پریشانی تھی، وہ لرزتے ہاتھوں سے آغا جان کا بازو پکڑ چکی تھی، مگر وہ کسی ردعمل کے بغیر بے ہوشی کی کیفیت میں جا چکے تھے۔ مائد خان کے ہاتھ کانپ گئے۔ اس نے ایک پل میں فیصلہ کیا اور آغا جان کو سہارا دیتے ہوئے اپنے مضبوط بازوں میں اٹھا کر گاڑی کی طرف بڑھا۔ گاڑی کے پچھلے دروازے کی آواز تیزی سے کھلنے کی گونج سنائی دی۔ مائد نے اپنے باپ کو اپنے مضبوط بازوؤں سے جلدی سے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹایا۔ مورے بھی تیزی سے پیچھے آ کر بیٹھ چکی تھی۔ اس نے آغا جان کا سر اپنی گود میں رکھا، اور بڑی سی چادر میں لپٹی ہوئی وہ بے چینی سے دعائیں پڑھ کر ان پر پھونکنے لگی۔ سامنے بیٹھے مائد کے ہاتھ اسٹیئرنگ پر پسینے سے بھیگ چکے تھے۔ اس کی سانسیں بے ترتیب ہو چکی تھیں، اور دل دھڑکنے کے بجائے جیسے سینے میں ہتھوڑے برسا رہا تھا۔ اس نے گاڑی پوری رفتار سے آگے بڑھا دی۔ مورے کی آنکھوں میں آنسو جھلک رہے تھے، مگر وہ پھر بھی ہمت سے اپنے بے ہوش شوہر کے چہرے کو تھپک رہی تھی۔ مائد کی نظر بار بار ریئرویو مرر میں پیچھے جاتی، جہاں اس کا باپ بے سدھ پڑا تھا۔ اس کا دل کانپ رہا تھا، اور وہ خود کو کوس رہا تھا کہ وہ کیوں اپنی بات کو اس حد تک لے آیا کہ اس کے آغا جان کو یہ دن دیکھنا پڑا؟
گاڑی ہوا سے باتیں کر رہی تھی، اور ہاسپٹل جاتے ہوئے ہر گزرتا لمحہ مائد خان کے لیے صدیوں پر بھاری لگ رہا تھا۔
°°°°°°°°°°
“مہرو النساء” نے کھانے کے چند نوالے ہی لیے تھے، اماں کو کھونے کا درد اتنا شدید تھا کہ تیز بھوک بھی چند ہی لقموں میں مٹ گئی۔ وہ خاموشی سے بیٹھی، خوبصورت کمرے کی ہر چیز کو تکتے ہوئے گم صم ہو کر بیٹھی تھی۔ ہر شے اس کی سوچ سے مختلف تھی—ایسی چیزیں، جو اس نے پہلے کبھی دیکھی تک نہیں تھیں۔ روتے روتے آنکھیں بوجھل ہونے لگیں، نیند کا خمار طاری ہونے لگا۔ اس نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں، مگر اسے اپنے سونے کے لائق کوئی جگہ نظر نہیں آئی۔ بیڈ بے حد خوبصورت تھا، اس پر بچھی مخملی چادر، نرم و ملائم تکیے—سبھی کچھ اتنا قیمتی لگ رہا تھا کہ اس کا دل خوف سے سمٹنے لگا۔ وہ اپنی اوقات بھولی نہیں تھی۔ ایک عجیب سا خوف طاری تھا کہ اگر زیغم سائیں کی بیگم کو پتہ چلا تو نجانے کیا ہوگا؟
پھر اس نے سوچا کہ صوفے پر سو جائے، مگر وہ بھی اتنا مخملی اور نفیس تھا کہ ہمت نہیں ہوئی۔ اسے لگا کہ وہ وہاں بھی سو نہیں سکے گی۔ تبھی اس کی نظر زمین پر بچھے ہوئے کلین پر پڑی، جو اسے اپنی حیثیت کے مطابق لگا۔ خاموشی سے وہ وہیں لیٹ گئی۔
ویسے بھی موسم بدلنے لگا تھا، زیادہ ٹھنڈ نہیں تھی، اور روم کے اندر کھڑکیاں بند ہونے کی وجہ سے بھی سردی زیادہ محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ اس نے اپنے سر پر اوڑھنے والی چادر کو اچھی طرح لپیٹ لیا اور زمین پر ہی سونے کی کوشش کرنے لگی۔ کب نیند نے اسے درد سے رہائی دے کر اپنی آغوش میں لے لیا، اسے خود بھی خبر نہ ہوئی تھی۔
“زندگی خوشیوں کا نام ہے تو کہیں بے بسی کی تصویر”
“کہیں یہ روشنیوں سے جگمگاتی ہے تو کہیں اندھیروں میں ڈوبی رہتی ہے”
“کہیں خواب حقیقت میں ڈھلتے ہیں تو کہیں حقیقتیں خوابوں کو روند دیتی ہیں”
“کہیں زندگی مسکراہٹیں بکھیرتی ہے تو کہیں آنکھوں میں نمی چھوڑ جاتی ہے”
“کہیں قسمت مہربان ہوتی ہے تو کہیں تقدیر کے فیصلے دل توڑ دیتے ہیں”
“کہیں چالاکیوں کے جال بچھائے جاتے ہیں تو کہیں معصومیت سسک سسک کر دم توڑتی ہے”
“زندگی کبھی بہار کی نرمی ہوتی ہے تو کبھی خزاں کی تلخی”
“کبھی راحتوں کا پیغام تو کبھی آزمائشوں کا سفر”
“اس کے رنگ بڑے ہی انوکھے اور ناقابلِ سمجھ ہیں۔”
°°°°°°°°°°
“مائد، اگر تمہارے آغا جان کو کچھ ہوا تو میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی!”
مورے مائد کے سینے سے لگی روئے جا رہی تھی، اس کی سسکیاں مائد کے دل میں چبھ رہی تھیں۔ آغا جان کو ایمرجنسی میں اندر لے جایا جا چکا تھا، اور ان کا علاج جاری تھا۔
“کچھ نہیں ہوگا، انشاءاللہ آغا جان ٹھیک ہو جائیں گے۔”
“مورے… میں ایسا کبھی نہیں چاہتا تھا۔”
مائد کی آواز میں بے بسی تھی، مگر آنکھوں میں کوئی نمی نہیں تھی۔
“آغا جان کے لیے ہی میں نے اتنے سالوں تک اپنی زبان بند رکھی… ان کے لیے ہی خاموش رہا۔”
وہ پٹھان تھا، آنسو بہانا اپنی توہین سمجھتا تھا، مگر آنسو ہمیشہ آنکھوں سے ہی نہیں بہتے، بعض دفعہ کچھ لوگ اپنی آنکھوں کو خشک رکھتے ہیں، مگر اندر ہی اندر ان کا دل دھاڑیں مار مار کر رو رہا ہوتا ہے۔ مائد کا بھی حال ایسا ہی تھا، درد اس کے وجود میں سرایت کر چکا تھا، مگر وہ ضبط کیے کھڑا تھا۔
“تم جانتے ہو اور اچھی طرح سے سمجھتے ہو کہ تمہارے آغا جان کے لیے روایات کتنی اہمیت رکھتی ہیں، پھر بھی تم نے انکار کرنے کی جرات کی… اور اس کا نتیجہ دیکھ لیا!”
مورے کی آواز غصے اور آنسوؤں میں بھیگی ہوئی تھی، وہ بے بسی سے مائد کو دیکھ رہی تھی۔
“مورے، میں بھی تو بے بس ہوں…!”
مائد کی آواز بوجھل تھی۔
“بہت کوشش کی میں نے خود کو اس رشتے کے لیے منانے کی، مگر میرا دل آمادہ ہی نہیں تو میں کیا کروں؟ زبردستی کر بھی لوں تو کیا وہ رشتہ نبھ سکے گا؟”
“کیا کسی کی زندگی برباد کر دینا بہتر ہے یا آج سچ بول کر خود کو اور اسے بچا لینا؟”
اس کی نظریں نیچی تھیں، مگر لہجہ مضبوط تھا۔ وہ اندر سے ٹوٹ رہا تھا، مگر اپنے فیصلے پر قائم تھا۔
“مطلب کہ تم اپنا فیصلہ نہیں بدلو گے؟”
مورے کی آواز میں بے یقینی اور خفگی تھی۔ وہ چند قدم پیچھے ہٹ گئی، وہ ناراضگی میں مائد سے فاصلہ پیدا کرنا چاہتی تھی۔
“مورے پلیز میری بات سمجھنے کی کوشش کریں۔ اپنی مرضی سے اپنا ہم سفر چننے کا حق سب کو ہوتا ہے پھر مجھے کیوں نہیں؟”
“اگر آپ ٹھنڈے دماغ سے میری بات سمجھیں تو میں غلط نہیں ہوں!”
“انشاءاللہ آغا جان ٹھیک ہو جائیں گے!”
مائد نے بے بسی سے کہا، مگر اس کے لفظ مورے کے دل کو چھو نہ سکے۔
“افسوس مائد! مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔ مت کہو مجھے ‘مورے’… جب تمہاری وجہ سے خان کی جان خطرے میں ہے تو مجھ سے ہمدردی کی امید مت رکھو!”
مورے کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر اس کی آواز میں پختگی تھی۔
“وہ تمہارے دشمن تو نہیں ہیں، بہت محبت کرتے ہیں تم سے، اور یہ بات تم بھی جانتے ہو! ہاں، مگر وہ اپنی روایتوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ آج میرے لیے سب سے مشکل لمحہ ہے… شوہر یا بیٹا؟ اگر مجھے چننا پڑے، تو میں بڑے فخر سے کہوں گی کہ میرا انتخاب میرا شوہر ہوگا۔ میں ان سے ہٹ کر نہیں چل سکتی، مائد… مجھے معاف کر دینا!”
یہ کہہ کر وہ رخ موڑ گئی۔ مائد کی آنکھوں میں اداسی تھی، مگر وہ جانتا تھا، آج وہ جو بھی کہے، مورے کا فیصلہ نہیں بدلے گا۔ دونوں ماں بیٹا خاموش کھڑے تھے، دل جیسے مٹھی میں جکڑا ہوا تھا۔ جان سولی پر لٹکی ہوئی تھی، کیونکہ جب تک ڈاکٹر باہر آ کر کوئی خبر نہ دیتے، سکون کیسے آ سکتا تھا؟
تبھی زیغم سلطان کو اطلاع مل چکی تھی۔ وہ تیز قدموں سے آتے ہی مائد کے قریب پہنچا اور اس کے کندھے پر مضبوطی سے ہاتھ رکھا۔
“انشاءاللہ، آغا جان ٹھیک ہو جائیں گے… ویسے اچانک سے ہوا کیا ہے، ماشاءاللہ سے آغا جان ٹھیک تھے!”
زیغم سلطان کی آواز میں فکر مندی واضح تھی۔
زیغم، مائد کے رشتوں کو بہت اہمیت دیتا تھا، اسی لیے وہ انہیں انہی ناموں سے پکارتا تھا جو مائد خود استعمال کرتا تھا۔
“آغا جان کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے… اور سچویشن کا بھی کچھ پتہ نہیں… ڈاکٹر نے بھی ابھی تک کچھ نہیں بتایا…”
مائد کی آواز میں بے بسی تھی۔
“انشاءاللہ، سب بہتر ہو جائے گا۔ اللہ پاک صحت والی زندگی عطا فرمائے۔”
زیغم نے تسلی دی اور پھر مورے کی طرف بڑھا۔
“یہاں بیٹھیں… انشاءاللہ، اللہ تعالی سب بہتر کرے گا۔”
زیغم نے نرمی سے کہتے ان کو قریبی کرسی پر بیٹھا دیا۔
مورے جو مسلسل بے چین کھڑی تھی، زیغم کی تسلی پر ایک بار پھر سے زور و قطار رونے لگی۔ وہ نظریں جھکائے بس دل ہی دل میں دعائیں مانگ رہی تھی۔
“پلیز مورے روئیں مت، آپ کے آنسو آپ کے بیٹوں کو بہت تکلیف پہنچا رہے ہیں۔ انشاءاللہ، اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیوں آپ نے دل چھوٹا کر لیا ہے؟”
مائد نے مورے کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے انہیں اپنے ساتھ لگا لیا اور خود بھی ان کے قریب ہی کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔
“سب کچھ اس کی وجہ سے ہوا ہے!”
مورے نے مائد کی طرف انگلی اٹھائی۔
“اس کی وجہ سے؟ مطلب؟”
زیغم نے حیرانی سے پوچھا۔
“اس نے اپنی بچپن کی منگ سے شادی کرنے سے انکار کر دیا، اور خان یہ بات برداشت ہی نہیں کر سکے۔ انہوں نے اتنا صدمہ لیا کہ یہاں ہسپتال کے بستر پر آ کر لیٹ گئے ہیں، زندگی اور موت کے بیچ میں جول رہے ہیں۔ کیا ماں باپ اولاد کو اسی دن کے لیے پال پوس کر بڑا کرتے ہیں؟”
مورے کی آنکھوں میں مائد کے لیے شکوہ تھا، جبکہ زیغم حیرانی سے کبھی مورے اور کبھی مائد کی جانب دیکھ رہا تھا۔
یہ خبر زیغم کے لیے بھی بہت حیران کن تھی، مگر یہ وقت سوالات کرنے کا نہیں تھا۔ وہ بغیر کچھ کہے مورے کو دلاسہ دیتے ہوئے ڈاکٹر سے بات کرنے کے لیے بڑھ گیا، جبکہ مائد خاموش کھڑا تھا۔ مورے اس وقت مائد سے سخت ناراض تھی۔ کچھ ہی دیر بعد زیغم اور ڈاکٹر ایک ساتھ چلتے ہوئے ان کی جانب آئے۔ ان کے چہروں پر ہلکی مسکراہٹ تھی، مطلب کہ کوئی خوشخبری تھی۔
“پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، پیشنٹ اب بالکل خطرے سے باہر ہیں۔”
ڈاکٹر نے نرمی سے کہا۔
مورے نے فوراً شکر ادا کیا، جبکہ مائد نے سکون کا سانس لیا۔دل ہی دل میں اللہ تعالی کا شکر ادا کیا۔ زیغم نے بھی گہری سانس لی، مگر ڈاکٹر کے تاثرات اب بھی مکمل مطمئن نہیں تھے۔
“لیکن…”
ڈاکٹر کی سنجیدہ آواز نے سب کو ایک بار پھر چونکا دیا۔
“خان صاحب کو ایک مائلڈ ہارٹ اٹیک ہوا تھا، خوش قسمتی سے فوری طبی امداد ملنے کی وجہ سے ان کی حالت سنبھال لی گئی ہے۔ مگر…”
ڈاکٹر نے ایک لمحے کے لیے توقف کیا۔
“مگر کیا ڈاکٹر صاحب؟”
مائد نے بےچینی سے پوچھا۔
“مگر ان کے دل کی ایک کورونری آرٹری (شریان) پہلے ہی کمزور ہے، اور یہ ایک سیریس کنڈیشن ہے۔ اگر آئندہ انہیں کسی قسم کا شدید ذہنی دباؤ یا صدمہ پہنچا، تو یہ حالت مزید بگڑ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں ان کے لیے صورتحال جان لیوا بھی ہو سکتی ہے۔”
“یا اللہ! یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ؟”
مورے کے لبوں سے بے اختیار نکلا، جبکہ مائد کی نظریں جھک گئیں۔
“دیکھیں، ہم نے ان کی طبیعت کو فلحال مستحکم کر دیا ہے، مگر اب انہیں خاص احتیاط کی ضرورت ہوگی۔ ان کا بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول لیول مستقل چیک کرنا ہوگا۔ انہیں ہر قسم کے ذہنی دباؤ سے دور رکھنا ہوگا، کیونکہ کسی بھی طرح کا شدید صدمہ ان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔”
“تو ہمیں کیا کرنا ہوگا؟”
زیغم نے فکرمندی سے پوچھا۔
“فلحال انہیں مکمل آرام دینا ہوگا۔ انہیں صرف مثبت اور خوشگوار ماحول فراہم کریں، کسی بھی قسم کی ٹینشن یا پریشانی ان سے دور رکھیں۔ ہم کچھ دوائیں بھی دے رہے ہیں جو ان کی دل کی شریانوں کو مزید کمزور ہونے سے بچائیں گی، لیکن آپ سب کو محتاط رہنا ہوگا۔ اگر خدا نخواستہ دوبارہ انہیں کسی قسم کا بڑا صدمہ پہنچا، تو صورتحال سنبھالنا بہت مشکل ہو جائے گا۔”
ڈاکٹر کی بات نے جیسے سب کی سانسیں روک دی تھیں۔ مورے کی آنکھیں بھیگ گئیں،مائد نے بےچینی سے ڈاکٹرز کی طرف دیکھا، جبکہ زیغم مائد اور مورے کے درد کو سمجھتے ہوئے فکر مند انداز سے بات سن رہا تھا۔
“پلیز، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ بس انہیں اچھا ماحول دیں، تو سب ٹھیک ہو جائے گا!”
ڈاکٹر ان کے اترے ہوئے چہرے دیکھ کر انہیں ریلیکس کرنے کے لیے بولا۔ڈاکٹر کے کہنے پر سب نے تھوڑا سکون کا سانس لیا۔
“ڈاکٹر، ہم انہیں کب تک مل سکتے ہیں؟”
زیغم نے سوال کیا۔
“ابھی فلحال نہیں، کچھ ہی دیر میں انہیں ہوش آ جائے گا، پھر آپ ایک ایک کر کے ان سے مل سکتے ہیں۔ پریشانی کی کوئی بات نہیں، اسٹاف ان کے ساتھ موجود ہے!”
ڈاکٹر نے تسلی دی۔
“اور ہم انہیں گھر کب تک لے جا سکیں گے؟”
زیغم نے مزید پوچھا۔
“کم از کم 24 گھنٹے تک انہیں انڈر آبزرویشن رکھنا پڑے گا۔ اس کے بعد ان کی حالت کے مطابق ہم فیصلہ کریں گے کہ انہیں کب ڈسچارج کیا جا سکتا ہے!”
ڈاکٹر نے پیشہ ورانہ انداز میں جواب دیا۔
“جی ٹھیک ہے، تھینک یو ڈاکٹر!”
زیغم نے مؤدبانہ لہجے میں کہا۔ ڈاکٹر نے اثبات میں سر ہلایا اور وہاں سے چلا گیا۔ چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔ مورے مائد سے سخت ناراض تھی بات بھی نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے دور جا کر کرسی پر بیٹھ گئی اور تسبیح پر کچھ پڑھنے لگی تھی۔
“میں آپ لوگوں کے لیے کچھ کھانے کو لے کر آتا ہوں۔”
زیغم نے ماحول کو ہلکا کرنے کے لیے کہا۔
“نہیں بھوک نہیں ہے!”
زیغم اور مورے دونوں نے ایک ساتھ کہا۔
“جب کھانا آئے گا تو بھوک لگ جائے گی… اور تم چلو میرے ساتھ۔ مورے ہم ابھی کھانا لے کر آتے ہیں۔”
زیغم مائد کو اپنے ہمراہ لے کر باہر کی طرف بڑھ گیا، جبکہ مورے وہیں گہری سوچ میں بیٹھی تھی۔
“خدا کرے، زیغم بیٹا کے سمجھانے پر مائد، تمہارے دماغ میں یہ بات آ جائے کہ تمہارے آغا جان یہ رشتہ توڑنے والا صدمہ برداشت نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آغا جان کا فرمانبردار بنائے!”
مورے نے دل میں سوچتے ہوئے دعا کی۔
وہ بے بسی سے آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی، آنکھوں میں نمی تھی۔
°°°°°°°°°°°
“مائد، سچ میں مجھے یقین نہیں آ رہا کہ تم نے اپنے بچپن کے رشتے سے انکار کر دیا ہے! ایسا کیوں کیا یار؟”
“مورے کتنی تکلیف میں تھی، آغا جان ہسپتال میں آ گئے!”
“میں جانتا ہوں کہ تم ان سے بہت محبت کرتے ہو اور تم جان بوجھ کر ایسا کبھی نہیں کرو گے۔ پلیز یار، میری اس کشمکش کو ختم کرو، مجھے ریزن جاننا ہے۔ تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟ کیا یہ سچ ہے جو مورے نے کہا ہے؟”
زیغم جیسے ہی مورے سے تھوڑا دور ہوا، اس نے فوراً مائد سے سوال کیا، آواز میں بے چینی اور اضطراب واضح تھا۔ زیغم کی آنکھوں میں الجھن تھی، چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ وہ مائد کے جواب کا منتظر تھا، جو بس خاموشی سے زمین کو گھورے جا رہا تھا۔
“پلیز مجھے بتاؤ کہ آخر سچ کیا ہے؟”
‘تم نے انکار کیا ہے تو کیوں کیا ہے؟ کیا ریزن ہے؟”
مائد کی خاموشی پر زیغم نے ایک بار پھر سوال کیا، اس کی نظریں مائد کے چہرے پر جمی تھیں، جیسے کسی پوشیدہ سچ کو پڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ مائد نے گہری سانس لی، مگر لب اب بھی سلے ہوئے تھے۔
“میں کیا سمجھوں؟ کہ تم مجھے نہیں بتانا چاہتے؟”
“مجھ سے کچھ شیئر نہیں کرنا چاہتے تو منہ سے بول کر کہہ دو، میں دوبارہ نہیں پوچھوں گا!”
مائد کی خاموشی سے الجھ کر زیغم نے کہا تھا، اس کی آنکھوں میں بےچینی تھی، لہجے میں ناراض۔ مگر مائد اب بھی خاموش تھا۔
“کبھی کبھی بتانے کے لیے انسان کے پاس الفاظ نہیں ہوتے… تو ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟”
مائد نے گہری سانس لیتے ہوئے زیغم کے ناراض چہرے کی جانب دیکھا۔
“تو الفاظ تلاش کرنے چاہیے، کیونکہ بغیر ڈسکس کیے مسئلے حل نہیں ہوتے!”
زیغم کا لہجہ سخت تھا۔
“اور یہ کوئی چھوٹا مسئلہ نہیں جسے تم خود ہی حل کر لو گے!”
“تمہارے انکار نے آغا جان کو ہسپتال کے بستر پر لٹا دیا ہے! مورے کی آنکھوں میں کتنا درد ہے، اسے تم نے غور سے دیکھا؟”
“بالکل دیکھا ہوگا، کیونکہ تم ان سے بہت پیار کرتے ہو! تو پھر کیوں دے رہے ہو ان کو یہ تکلیف اور اگر تمہیں انکار کرنا تھا تو سالوں پہلے کر دینا چاہیے تھا! اس طرح ایک لڑکی کو اتنے سال خود سے منسوب کیوں رکھا؟”
زیغم کی آواز میں بےچینی اور خفگی تھی، مگر مائد اب بھی خاموش تھا، جیسے الفاظ کی تلاش میں ہو یا شاید حقیقت کا سامنا کرنے سے کترا رہا ہو۔
“سالوں سے ہمت ہی جمع کر رہا تھا… ہمت نہیں تھی۔ جانتا تھا جس دن یہ بات زبان سے نکالوں گا، اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔”
مائد کی آواز دھیمی مگر بوجھل تھی، جیسے وہ خود کو صفائی دینے کے لیے نہیں، بلکہ اندر کے انتشار کو بیان کرنے کے لیے بول رہا ہو۔ زیغم نے گہری سانس لی، اس کے چہرے پر بےچینی اب بھی نمایاں تھی مگر مائد کی آنکھوں میں بےبسی صاف جھلک رہی تھی، جیسے وہ خود کو کسی مشکل میں پھنسا ہوا محسوس کر رہا ہو۔ اس کے لہجے میں ایک عجیب سی تھکن تھی، جیسے یہ الفاظ ادا کرنا بھی اس کے لیے آسان نہ تھے۔
“جب جانتے تھے کہ نتائج ایسے ہوں گے، تو پھر جیسے سالوں پہلے خاموش تھے، اب بھی خاموش رہنا چاہیے تھا! کیوں ان کو تکلیف دے رہے ہو جن کی تکلیف تمہیں بھی تکلیف پہنچاتی ہے؟”
زیغم کو مائد کا درد سمجھ آ رہا تھا، مگر اس وقت کوئی اچھی اور صحیح رائے دینا بہت مشکل ہو گیا تھا۔ ایک طرف مائد کا انکار تھا، جس سے زیغم اتنا تو سمجھ سکتا تھا کہ مائد اس رشتے سے خوش نہیں تھا، کیونکہ جب بھی زیغم نے اس موضوع پر اس سے بات کرنے کی کوشش کی، مائد ہمیشہ کتراتا رہا تھا اور دوسری طرف وہ ہستیاں تھیں جنہیں زیغم ہمیشہ ماں باپ کا درجہ دیتا تھا، وہ ہستیاں جن کا دکھ زیغم سے بھی برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ ایسے میں زیغم کسی فیصلے پر نہیں پہنچ پا رہا تھا کہ وہ مائد خان درانی کو کیا مشورہ دے۔
“اگر میں کہوں کہ میں نے اپنی طرف سے ممکن کوشش کی ہے کہ آج بھی ان کی تکلیف کا باعث نہ بنوں، جن کی ہستی مجھے اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے۔ میں کبھی آغا جان اور مورے کا دل دکھانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا، مگر کیا کروں جب بھی مونا کے ساتھ اپنی لائف کا تصور کرتا ہوں، مجھے گھٹن محسوس ہوتی ہے۔ وہ اچھی ہے، مگر اچھا ہونا کافی نہیں ہوتا۔ جو بھی اچھا ہو، ضروری تو نہیں کہ اس سے شادی کرنا چاہیں، اسے ہم سفر بنانا چاہیں۔”
مائد کا لہجہ سپاٹ اور تھکا ہوا تھا، جیسے یہ سب کہنا بھی اس کے لیے آسان نہ ہو۔
“اگر تمہیں کوئی اعتراض نہ ہو اور تم مجھے بتانا بہتر سمجھو، تو صرف اتنا بتا دو کہ مسئلہ صرف یہی ہے کہ تم اسے بطور ہم سفر قبول نہیں کر سکتے، یا وجہ کچھ اور بھی ہے؟”
زیغم نے اس کی نظروں میں نظریں گاڑتے ہوئے تجسس سے پوچھا، جیسے وہ کسی گہری حقیقت تک پہنچنا چاہتا ہو۔
“کیا تم کسی اور میں انٹرسٹڈ ہو؟”
“ایسا کچھ نہیں ہے! اگر ہوتا تو سب سے پہلے تمہیں بتاتا۔”
مائد فوراً بولا، مگر زیغم اس کی آنکھوں میں دیکھ کر الجھ گیا تھا۔
“اچھا؟ مگر تمہارا چہرہ اور تمہاری بات، دونوں الگ الگ ڈائریکشن میں جا رہے ہیں۔ دوست ہو میرے۔ تم منہ سے نہ بھی کچھ کہو، تب بھی تمہارے چہرے کے زاویے تمہاری اندرونی کیفیت کو بہت حد تک بیان کر رہے ہیں۔ تم نہیں بتانا چاہتے، وہ الگ بات ہے، مگر انٹرسٹڈ تو ہو… مگر مجھے نہیں بتا رہے کیوں؟”
“ہم دونوں کے درمیان ایسی کیا پرائیویسی ہے جو چھپانے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے؟”
زیغم کے لہجے میں خفگی نہیں، بلکہ مائد کے لیے فکر جھلک رہی تھی۔
“اگر بتانے کے لیے کچھ ہوتا، تو ضرور بتاتا!”
“اب تم مزید بال کی کھال اتارنا بند کرو!”
مائد خان سوالوں سے جھنجھلا گیا تھا، اس کے لہجے میں تلخی اور بےزاری نمایاں تھی۔
زیغم نے گہری سانس لی اور کندھے اچکائے۔
“ٹھیک ہے، چھوڑ دی بال کی کھال اتارنا! مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں نے تمہاری بات پر یقین کر لیا ہے۔ جب تمہیں لگے کہ تم مجھے بتانے میں کمفرٹیبل ہو، تو بک دینا! کم از کم ٹینشن فری ہو جاؤ گے اور اس وقت آغا جان کی جو حالت ہے، خدا کا واسطہ ہے، گھر جا کر کوئی مزید انکار کرنے کی حکامت مت کرنا! وہ برداشت نہیں کر سکیں گے، ڈاکٹر صاحب کلیئر بتا چکے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ آنے والے وقت میں تم کبھی خود کو معاف نہ کر سکو۔”
زیغم نے ٹھوس انداز میں سمجھایا، اس کا لہجہ سخت تھا مگر نیت خالص۔
مائد نے خفگی سے اسے دیکھا۔
“تو مطلب کیا ہے؟ آغا جان جو چاہتے ہیں، وہ کر دوں؟”
“عید کے بعد شادی کروا دینا چاہتے ہیں!”
زیغم نے ایک لمحے کو سنجیدگی سے اس کی طرف دیکھا، پھر اچانک کندھے اچکادیے۔
“ہاں، تو کر لو! مرد کو ویسے بھی چار شادیاں جائز ہیں، اور تُو تو ویسے بھی پٹھان کا بچہ ہے! تیرے لیے ایسے کام کرنا مشکل بھی نہیں ہونا چاہیے، تو بس کر لے شادی! ایک روایت کے حساب سے، اور ایک جس میں انٹرسٹڈ ہے، اس کے ساتھ بھی کر لینا!”
زیغم کی بات پر مائد نے ناگواری سے اسے گھورا، مگر زیغم کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ وہ جانتا تھا کہ مائد کو سنجیدہ باتوں میں الجھائے رکھنے سے بہتر ہے کہ ماحول کو ہلکا کر دیا جائے۔
“مگر ایک بات یاد رکھ، آغا جان کا دل مت دکھا! کیونکہ وہ سہہ نہیں پائیں گے!”
زیغم نے بات کو فنی ٹچ دیتے ہوئے مائد کو نارمل کرنے کی کوشش کی، مگر اس کی آنکھوں میں سنجیدگی اب بھی باقی تھی۔ دونوں کچھ دیر تک یونہی باتیں کرتے رہے، کبھی سنجیدہ تو کبھی ہلکے پھلکے انداز میں۔ زیغم جانتا تھا کہ مائد کے اندر ایک طوفان برپا ہے، مگر وہ زیادہ سوالات کر کے اسے مزید الجھانا نہیں چاہتا تھا۔ کچھ دیر بعد، وہ دونوں کینٹین کی طرف بڑھ گئے۔ چائے کے ساتھ کچھ بسکٹ اور سینڈوچ لیتے ہوئے زیغم نے مائد کی طرف دیکھا، جو اب بھی گہری سوچ میں تھا۔
“چائے لے کر چلیں؟”
زیغم نے نارمل انداز میں پوچھا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ مائد نے ایک گہری سانس لی اور اثبات میں سر ہلا دیا۔ وہ دونوں خاموشی سے چلتے ہوئے مورے کی طرف بڑھ گئے، جہاں ان کے دلوں میں بےشمار سوالات اور جذبات تھے، مگر زبانیں خاموش تھیں۔
بچوں کی زندگیوں سے مت کھیلیں، انہیں جینے دیں!
اللہ نے ماں باپ کو بچوں کا محافظ بنایا ہے، ان کا رہنما بنایا ہے، نا کہ ان پر مسلط ہونے والا حاکم! ہمارے دین نے ہمیں یہ حق دیا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے فیصلے خود کریں، تو پھر ہم کون ہوتے ہیں ان سے یہ حقوق چھیننے والے؟
جب دو صحیح رشتے جڑتے ہیں، تو خوشیاں آتی ہیں مگر جب دو غلط لوگ زبردستی ملائے جاتے ہیں، تو صرف تباہی ہوتی ہے!
فیصلہ اپنوں کے حق میں کیجیے، دنیا کے نہیں!
اللہ نے نکاح کو ایک خوبصورت بندھن بنایا ہے، جس میں سکون اور محبت ہونی چاہیے، نا کہ جبر اور مجبوری۔ یہ صرف لڑکیوں کا نہیں، بلکہ لڑکوں کا بھی حق ہے کہ وہ اپنی پسند اور خوشی سے شریکِ حیات کا انتخاب کریں۔ آج کل اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ بس لڑکی کی مرضی ضروری ہے، مگر کیا اسلام نے مرد کو مجبور ہونے کا درس دیا؟
نہیں! نکاح کا مطلب ہے دو راضی دلوں کا ملن، نا کہ کسی ایک پر زبردستی کا بوجھ ڈالنا۔
رسول اکرم ﷺ نے نکاح میں رضامندی کو لازم قرار دیا ہے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔ پھر ہم کون ہوتے ہیں کسی بیٹے کو یہ کہنے والے کہ ‘ماں باپ کی عزت رکھنی ہے تو شادی کرلو’؟ عزت تو اس میں ہے کہ اولاد کی خوشی دیکھی جائے، نا کہ ان کی زندگی کو بوجھ بنا دیا جائے۔ اگر ایک لڑکا کسی لڑکی کے ساتھ خود کو خوش نہیں دیکھتا تو کیا صرف روایات اور ‘لوگ کیا کہیں گے’ کے خوف سے وہ اپنی پوری زندگی اذیت میں گزار دے؟
شادی ایک ایسا فیصلہ ہے جو انسان کی پوری زندگی بدل سکتا ہے، اور جب اللہ نے ہمیں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت دی ہے، تو کیا ہمیں یہ حق نہیں کہ ہم اپنے لیے بہتر فیصلہ کریں؟ جبر اور زبردستی سے بننے والے رشتے صرف گھر کے ماحول کو برباد کرتے ہیں، جہاں ماں، باپ، بیوی اور بچے سب ہی ذہنی دباؤ میں آجاتے ہیں۔ خدارا، شادی کو خوشی کا سبب ہی رہنے دیں، اسے زبردستی کا قید خانہ نہ بنائیں!
°°°°°°°°°°
ملیحہ ناشتہ کرنے کے بعد جلدی جلدی تیار ہو رہی تھی، اپنے بیگ کے اندر بورڈ مارکر اور کاپیاں رکھ کر اسے ٹھیک سے سیٹ کرنے لگی۔ آج اس کے بچوں کے ٹیسٹ تھے، اور وہ کسی صورت دیر نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اس کے بابا ویل چیئر پر بیٹھے محبت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سا سکون تھا، جیسے برسوں کی تھکن کے بعد راحت نصیب ہوئی ہو۔ وہ سوچ رہے تھے کہ آخرکار وقت نے ان پر خوشیوں کے دروازے کھول ہی دیے تھے۔ وہی بیٹی جسے برسوں پہلے وہ اپنے آنسو دل میں چھپا کر دور بھیجنے پر مجبور ہو گئے تھے، آج پھر سے ان کے پاس تھی، ان کی آنکھوں کے سامنے، ان کے گھر کی رونق بنی ہوئی۔
“اللہ میری بچی کے نصیب اچھے کرے، ہمیشہ خوش رکھے!”
انہوں نے دل ہی دل میں دعا کی، اور مسکرا کر ملیحہ کو دیکھا، جو اب جلدی سے حجاب ٹھیک کرتے ہوئے اسے پن اپ کر رہی تھی۔ اس کی اماں بھی پیار بھری نظروں سے اپنی بیٹی کو دیکھ رہی تھی۔ فضا میں خوشیوں کی ٹھنڈک تھی اور یہ سب کچھ زیغم سلطان کی بدولت ممکن ہو پایا تھا، جس نے اپنی جان پر کھیل کر اس گاؤں کو ظلم و جبر کے اندھیروں سے نکالا تھا۔ ملیحہ کے بابا کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو تیر رہے تھے، جو انہوں نے ضبط کر لیے۔ ان کی بیٹی آج ایک باوقار استانی تھی، گاؤں کی بیٹیوں کو تعلیم دے رہی تھی، اور سب سے بڑھ کر، وہ ایک محفوظ اور خوشحال زندگی گزار رہی تھی۔ ایک ایسی زندگی جس میں کسی کا ڈر کسی کا خوف نہیں تھا۔
کچھ سال پہلے یہ سب ایک خواب تھا۔ گاؤں میں ہر طرف خوف کا سایہ تھا، بچیاں سکول جانے سے ڈرتی تھیں، مائیں اپنی بیٹیوں کو دہلیز کے اندر رکھنے پر مجبور تھیں، اور باپ اپنی ہی زمین پر غیر محفوظ تھے مگر جب زیغم سلطان نے ظالموں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا، تو سب کچھ بدل گیا۔ وہ صرف ایک فرد نہیں، بلکہ روشنی کی وہ کرن تھا، جس نے گاؤں کے باسیوں کو اندھیروں سے نکالا تھا۔
ملیحہ نے جلدی جلدی ناشتہ کیا اور دروازے کی طرف بڑھی، مگر جاتے ہوئے اس کی نظر اپنے بابا کے چہرے پر پڑی، جہاں آج سکون تھا۔ وہ جانتی تھی کہ یہ سب معمولی نہیں تھا، یہ آزادی، یہ امن، یہ تحفظ—یہ سب زیغم سلطان کی جدوجہد اور قربانیوں کا نتیجہ تھا۔کچھ ہی عرصے میں گاؤں میں خوشحالی کا سورج چمک رہا تھا۔
“ابا آپ کو پتہ ہے کہ بہت جلد چھوٹے سائیں ہمارے گاؤں میں ایک فیکٹری کا افتتاع کرنے والے ہیں۔ جب فیکٹری قائم ہو جائے گی، تو گاؤں کی عورتیں بھی اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں گی۔ ملیحہ کے لبوں پر مسکراہٹ آئی، اسے لگا جیسے اس کے خواب بھی پورے ہونے والے ہیں۔ وہ خوشی سے اپنے بابا کو قریب آ کر بتا رہی تھی۔
“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں ابا؟”
“میں دیکھ رہا ہوں کہ بے شک اللہ تعالیٰ ایک نہ ایک دن ظلم کو ختم کرنے کے لیے کوئی فرشتہ صفت انسان کو بھیج دیتا ہے، اور ہمارے لیے وہ انسان سلطان سائیں کے بیٹے زیغم سلطان نے کیا ہے!”
“اس کی وجہ سے آج ہماری بیٹی گھر پر ہمارے ساتھ رہ سکتی ہے، ورنہ کیسے سات سال کی عمر میں ہم نے تمہیں خود سے دور کیا اور ہمارا دل کیسے خون کے آنسو روتا تھا، یہ تو صرف ہمارا دل ہی جانتا ہے!”
“ابا، اللہ تعالیٰ زیغم سائیں کو خوش رکھے، انہوں نے جو کچھ گاؤں کے لیے کیا ہے، سچ میں وہ قابلِ تعریف ہے۔ میں بے شک یہاں نہیں تھی، مگر یہاں پر ہر کسی کے منہ میں اسی کا نام ہے اور آپ کو پتہ ہے بڑے تو بڑے، بچے تک دعائیں دیتے ہیں۔ میرے سکول کا ہر بچہ زیغم سائیں کا نام لیتے ہوئے مسکرا اٹھتا ہے۔ وہ سب کا ہیرو بن چکا ہے، ہر بچہ ان کی طرح سوچنا چاہتا ہے، رول ماڈل ہیں وہ اس گاؤں کے لیے۔”
” امریکہ سے وکالت پڑھ کر اتنے بڑے وکیل بن کر آئے اور اتنے بڑے گھرانے میں پیدا ہونے کے باوجود ان میں انا، غرور، اکڑ ذرا بھی نہیں ہے!”
“اچھا تمہیں کیسے پتہ کہ چھوٹے سائیں وکالت پڑھ کر آئے ہیں؟”
اس کے ابا نے تجسس سے پوچھا۔
“ابا بچے جو سکول میں آتے ہیں انہی نے بتایا کیونکہ ان کی زمینیں جو توقیر سائیں نے زبردستی ضبط کی ہوئی تھی وہ سب زیغم سائی نے خود کیس لڑتے ہوئے ان کو واپس دلوا دی ہیں!”
“اور بچے یہ بتا رہے تھے کہ افطار کا دسترخوان جب لگتا ہے تو اکثر زیغم سائیں وہاں جا کر اپنے گاؤں والوں کے ساتھ بیٹھ کر افطاری کرتے ہیں، انہی برتنوں میں کھاتے ہیں، روزہ افطار کرتے ہیں جن میں ان کے گاؤں والے کر رہے ہوتے ہیں۔”
اس کے بابا نے حیرانی سے دیکھا تھا۔
“کیا سچ کہہ رہی ہو بیٹا؟”
“جی بابا، گاؤں کے بچے سکول میں پڑھنے آتے ہیں، وہ اکثر ان کی باتیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ خود پورے گاؤں کا راؤنڈ لیتے ہیں، جگہ جگہ اپنی بڑی سی گاڑی کھڑی کر کے سب کسانوں اور دیگر لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ کسی کو کوئی پریشانی ہے، کسی کو کوئی دقت ہے؟ تو مجھے بتائیں۔ اور گاؤں میں اپنے ڈیرے پر روز بیٹھتے ہیں اور سب کی شکایت سنتے ہیں اور تو اور ان کی آنکھ میں اتنی حیا ہے کہ ہر غریب کی بیٹی کو اپنی بہن، بیٹی سمجھتے ہیں۔ آج کے وقت میں، ابا، ایسا انسان کیسے اس گاؤں میں آ گیا؟ یہاں تو ہمیشہ دلدل ہی دلدل تھی!”
“بس بیٹا، اللہ تعالیٰ اگر دنیا میں برے لوگ بھیجتا ہے تو ان برے لوگوں کا خاتمہ کرنے کے لیے اچھے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں۔ سالوں پہلے سلطان سائیں ایسے تھے، گاؤں خوشحال تھا، پھر برائی نے جنم لیا۔ انہی کا بھائی اور انہی کا بھتیجہ گاؤں میں قہر بن کے ٹوٹے اور گاؤں کی خوشیوں کو تہس نہس کر دیا، مگر پھر وقت بدلا اور اچھائی واپس آئی، اور سلطان سائیں کے بیٹے نے باپ سے بھی بڑھ کر گاؤں کو اچھے طریقے سے سنبھالا۔”
ملیحہ کے بابا کی آنکھوں میں شکرگزاری کے آنسو تیرنے لگے، انہوں نے لرزتے ہاتھوں سے اپنی بیٹی کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا۔
“بیٹا، اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو آزمائش میں ڈالتا ہے، تو پھر اس آزمائش سے نکالنے کے لیے بھی کسی نہ کسی کو بھیج دیتا ہے۔ زیغم سلطان ہمارے لیے وہی روشنی کی کرن ہے۔”
ملیحہ مسکرا دی۔
“ابا! آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ بچے ان سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ ان کے لیے زیغم سائیں بس ایک نام نہیں، ایک امید کی علامت بن چکے ہیں۔ ان کی کہانیاں سن کر ہر بچہ بڑا ہو کر ان جیسا بننا چاہتا ہے۔”
بابا نے ایک گہرا سانس لیا۔
“یہی تو اصل لیڈر کی پہچان ہوتی ہے بیٹا۔ جو لوگوں کے دل میں عزت پیدا کرے، جو بڑوں کا سہارا بنے اور چھوٹوں کے لیے مثال!”
“مجھے آج فخر ہو رہا ہے کہ میں اپنی زندگی میں کسی کو سلطان سائیں جیسا دیکھ رہا ہوں، بلکہ ان سے بھی بڑھ کر! زیغم سلطان نے تو وہ کر دکھایا جو شاید کوئی اور نہ کر پاتا۔”
ملیحہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
“ابا، میں جب اپنے سکول کے بچوں سے سنتی ہوں کہ زیغم سائیں افطاری کے وقت سب کے ساتھ بیٹھتے ہیں، انہی جیسے برتنوں میں کھاتے ہیں، اور پورے گاؤں کا خود چکر لگاتے ہیں، تو مجھے لگتا ہے کہ یہ وہی کردار ہے جو کہانیوں میں ہوتا ہے، مگر حقیقت میں بھی پایا جاتا ہے!”
اس کے بابا نے آسمان کی طرف دیکھا، جیسے دعا دے رہے ہوں۔
“اللہ تعالیٰ اسے سلامت رکھے، ظالموں سے بچائے۔ یہ لوگ کم ہوتے ہیں، جو اپنی بڑائی کو غرور نہیں، بلکہ لوگوں کے لیے سہارا بنا لیتے ہیں۔”
ملیحہ نے نم آنکھوں کے ساتھ سر جھکایا۔ آج واقعی، ان کے گاؤں میں ایک نیا دور شروع ہو چکا تھا، وہی گاؤں جو کبھی خوف میں جیتا تھا، اب وہاں خوشیاں تھیں، امید تھی، اور سب سے بڑھ کر—زیغم سلطان جیسے مسیحا کا سایہ تھا۔
“اچھا، میں چلتی ہوں اماں، اور آپ کو کسی کام کی ضرورت نہیں، میں واپس آ کر سب کر لوں گی۔”
وہ جاتے ہوئے اپنے ابا کے سینے سے لگ کر ملی، ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا، جیسے ان کی دعائیں سمیٹ رہی ہو۔ پھر ماں کے قریب آئی، ان کی پیشانی پر عقیدت سے بوسہ دیا اور تیزی سے باہر نکل گئی۔ گاؤں کی کچی زمین پر اس کے قدم تیزی سے بڑھ رہے تھے، مگر انداز وقار سے بھرا تھا۔ گاؤن میں لپٹا ہوا بدن، اور حجاب میں چھپا چہرہ—ایسا لگ رہا تھا جیسے چاندنی کے ہالے میں کوئی روشنی کا ٹکڑا چل رہا ہو۔ اس کے وجود میں حیا کی چمک تھی، آنکھوں میں وقار، اور کردار میں وہ پاکیزگی جسے دیکھ کر ہر نظر جھک جائے۔
“اللہ میری بچی کے نصیب اچھے بنا، اے اللہ! کوئی اچھا رشتہ عطا فرما، تاکہ ہم اپنی بیٹی کا فرض ادا کر سکیں۔ آمین، ثم آمین!”
ملیحہ کی ماں کی دعا پر اس کے بابا نے بھی سر جھکا کر آمین کہا مگر اس کی اماں کے دل میں ایک عجیب سی اداسی اتر آئی، آنکھیں نم ہو گئیں۔
“ملیحہ کےابا، اب پھر سے ہماری بیٹی ہم سے دور چلی جائے گی…”
وہ افسردہ لہجے میں بولی۔
اس کے بابا نے محبت سے اسے دیکھا اور نرمی سے بولے:
“ملیحہ کی اماں! یہ تو دنیا کی ریت ہے، جب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لاڈلی بیٹی فاطمہؓ بھی ان کے پاس ہمیشہ کے لیے نہیں رہ سکیں، تو ہم کون ہوتے ہیں روکنے والے؟”
“اور دیکھ، یہ تو خوشی کا لمحہ ہوگا نا جب ہم اپنی بیٹی کو رخصت کریں گے، وہ خوشی خوشی ہمارے گھر آیا کرے گی، اور ہم بھی اس کے پاس جایا کریں گے۔ یہ جدائی نہیں، ہمارے لیے سکون کا باعث ہوگا خوشیوں کا باعث ہوگا۔ بیٹی کا فرض ادا کرنا ماں باپ پر فرض ہوتا ہے اور خوش نصیب ہوتے ہیں وہ ماں باپ جو اس فرض کو ٹائم سے ادا کر دیتے ہیں۔ تُو اداس نہ ہوا کر، بلکہ دعا کر کہ اللہ اسے ہمیشہ خوش رکھے!”
ملیحہ کی ماں نے اپنے آنسو پونچھے اور دل میں بیٹی کی خوشیوں کے لیے مزید دعائیں کرنے لگے۔
°°°°°°°°
اگلا ایپیسوڈ ملاحظہ کیجیے