Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:17

راز وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر:17

کچن کی ٹائلوں پر پانی کی ہلکی ہلکی بوندیں گری ہوئی تھیں۔ قدسیہ روز کی طرح جھکے ہوئے برتن دھونے میں مصروف تھی، جیسے وہ ایک عام ملازمہ ہو۔ پانی کے چھینٹے اس کے لباس پر گر رہے تھے، لیکن اسے کوئی پرواہ نہیں تھی۔ اس کی آنکھوں میں غصہ اور مایوسی ایک ساتھ جھلک رہے تھے۔ وہ سوچ سوچ کر جل رہی تھی، مگر اپنے گناہوں کو اب بھی ہلکا محسوس کر رہی تھی۔

“زیغم سلطان ہی ظالم ہے! بس ہم پر ظلم کیے جا رہا ہے۔”
وہ دل ہی دل میں بڑبڑا رہی تھی۔ اس کی عادت بن چکی تھی کہ ہر وقت زیغم کو کوستی رہنا۔ اگر کبھی کوئی ملازم اس کے آس پاس ہوتا تو وہ اپنا غصہ اس پر نکالنے سے بھی نہیں چوکتی تھی۔ جیسے جیسے اس کے دل میں غصہ بڑھتا، ویسے ویسے وہ برتن زیادہ زور سے دھونے لگتی۔ برتن دھو کر کچن سے باہر نکلی تو نایاب جھکی ہوئی ڈسٹنگ کر رہی تھی، اس کے چہرے پر تھکن نمایاں تھی۔ قدسیہ کی کمر میں آج درد تھا، تو اس نے کہہ دیا تھا کہ آج وہ صفائی نہیں کر سکے گی۔ نایاب منہ میں بڑبڑا رہی تھی۔

“ہر بار بس میں ہی بچتی ہوں۔”
نایاب صفائی جاری رکھے ہوئے تھی، لیکن اندر ہی اندر چڑچڑی ہو رہی تھی۔ زیغم سلطان نے صحیح ان کی زندگی اجیرن کر رکھی تھی۔
باہر صحن میں توقیر گاڑیوں پر کپڑا پھیر رہا تھا۔ زیغم کے حکم پر روز کی طرح آج بھی گاڑیاں چمکا رہا تھا۔ زرام کے آنے پر ان سب کو امید تھی کہ شاید ان کی سزائیں کم ہو جائیں گی، مگر ایسا نہیں ہوا تھا۔ زرام نے واضح کہہ دیا تھا، “جو کچھ انہوں نے کیا ہے، اس کی جو بھی سزا زیغم دے گا، میں کچھ نہیں بولوں گا۔” اب ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا، سوائے اپنی سزا برداشت کرنے کے۔ اس وقت یہ لوگ خود کو دنیا کے سب سے مظلوم ترین انسان سمجھ رہے تھے۔
دوسری طرف، شہرام جو اب تک بستر پر تھا، وہ بھی آہستہ آہستہ چلنے کے قابل ہو رہا تھا۔ بے ساکھی کے سہارے وہ ہمت کر کے اپنے قدم آگے بڑھا رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اسے کھڑا ہونا ہے، کیونکہ ایک دن اسے زیغم سلطان کا سامنا کرنا تھا، اس کے ٹیپو سلطان جیسے بچے کو زیغم کا مقابلہ کرنا تھا۔ قدسیہ نے ہاتھ پونچھتے ہوئے ایک نظر اوپر کھلے ہوئے کمرے کی طرف ڈالی۔ اس کی آنکھیں تھوڑا سکڑیں، ماتھے پر شکن ابھری۔ ملازمہ ہاتھوں میں برتن اٹھائے اندر سے باہر آ رہی تھی۔

“یہ روم تو ہمیشہ بند ہی رہتا تھا!”
قدسیہ کے دل میں تجسس کی لہر دوڑ گئی۔ اگر اس کمرے سے برتن آ رہے ہیں، تو اس کا مطلب تھا کہ اندر کوئی ہے۔ اس کی آنکھوں میں حیرت اور بے چینی ایک ساتھ ابھری۔ اس نے بے اختیار قدم آگے بڑھائے کیونکہ وہ گھر کے کسی فرد کے استعمال میں نہیں تھا۔ اس گھر میں زیغم سلطان کی اجازت کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا تھا، تو پھر یہ کمرہ اچانک کیوں کھلا؟ اور اس میں کون ہے؟ اس کے ذہن میں ہزاروں سوالات سر اٹھانے لگے تھے۔ وہ تیزی سے نیچے آتی ملازمہ کے قریب پہنچی۔

“اوئے سن! رک جا!”
قدسیہ نے سخت لہجے میں اسے روکا۔ ملازمہ جو تیزی سے نیچے آ رہی تھی، فوراً ٹھٹک گئی اور گھبرا کر قدسیہ کی طرف دیکھا۔

“کیا کر رہی تھی تُو اوپر؟”
قدسیہ نے ہاتھ اس کے سامنے لہرایا۔
“یہ برتن کہاں سے لائی ہے؟”

ملازمہ ایک لمحے کے لیے گڑبڑا گئی۔
“وہ… وہ بی بی جی، وہ اوپر سے لا رہی ہوں…”

“اوپر سے؟ مگر وہاں تو کوئی نہیں رہتا!”
قدسیہ نے فوراً بات کاٹی، اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

“ہمیں حکم تھا کہ سوال نہ کریں، بس کام کریں۔”
ملازمہ نے آہستہ سے جواب دیا اور نظریں جھکا لیں۔

“حکم؟ کس کا حکم؟”
قدسیہ کی پیشانی پر شکنیں گہری ہو گئیں۔

“زیغم سائیں کا…”
ملازمہ نے ہچکچاتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی قدم پیچھے کر لیے جیسے قدسیہ اس پر برس پڑے گی۔
قدسیہ نے غصے سے ہونٹ بھینچ لیے۔ زیغم نے کسی کو اس کمرے میں ٹھہرایا تھا اور اس نے کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دی؟ وہ فوراً تیزی سے سیڑھیوں کی طرف بڑھی۔ روم میں کون ہے یہ جاننے کے تجسس سے قدسیہ کے قدم تیز ہو گئے۔ اس کے چہرے پر تیز غصہ اور تجسس ایک ساتھ جھلک رہا تھا۔ وہ زیرِ لب بڑبڑائی:
“دیکھوں تو صحیح، زیغم نے کسے کمرے میں ٹھہرایا ہوا ہے اور کیسے نخرے اٹھائے جا رہے ہیں۔ گھر والوں کو تو کتا بنا کے رکھا ہوا ہے!”
اس کی آنکھیں شکوک و شبہات سے بھری ہوئی تھیں، اور وہ غصے میں تنی ہوئی روم کے قریب جا پہنچی۔ ہلکی سی دستک دی، مگر دروازے کے پیچھے سے کوئی جواب نہیں آیا۔ قدسیہ کی بے صبری بڑھ گئی، اور تمیز سے دور دور تک کوئی واسطہ نہ ہونے کے باعث اس نے خود ہی دروازہ کھول دیا۔ اسے معلوم کرنا تھا کہ اندر کون ہے۔ جیسے ہی دروازہ کھلا، اس کی نظریں زمین پر بچھی ہوئی کلین پر بیٹھے وجود پر جا ٹھہریں۔ چادر سر پر ترتیب سے لی ہوئی تھی،آلتی پالتی مار کر بیٹھی ہوئی “مہرو النساء” نے ویران سی نظریں اٹھا کر قدسیہ کی جانب دیکھا۔ اس کے لباس، انداز اور بیٹھنے کے طریقے سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ کسی بہت ہی نچلے طبقے سے تعلق رکھتی تھی، مگر جیسے ہی قدسیہ کی نظر اس کے چہرے پر پڑی، اس کا دماغ شیطانی سوچوں سے بھر گیا۔

“افف! یہ تو…”
اس کے اندر حسد کی ایک تیز لہر اٹھی۔
وہ لڑکی غیر معمولی طور پر حسین تھی۔ موٹی موٹی سیاہ آنکھیں، جن پر گہری، گھنی پلکوں کا سایہ تھا۔ دودھیا شفاف رنگ، جیسے ملائی کی تہہ۔ مخملی سرخ گال، جو قدرتی طور پر بلش کیے لگ رہے تھے۔ اور بلیک چادر میں لپٹا ہوا اس کا چھوٹا سا نازک سا وجود۔ قدسیہ عورت ہو کر بھی اس کے حسن سے نظر نہ ہٹا سکی تھی۔

ماتھے پر بل ڈالے، وہ ایک جھٹکے سے آگے بڑھی، ہاتھ کمر پر رکھا اور اونچی آواز میں بولی:
“کون ہے تُو؟”
“مہرو النساء”، جو پہلے ہی سہمی ہوئی تھی، ایک دم گھبرا کر کھڑی ہو گئی۔ اس کی معصوم آنکھوں میں حیرت اور خوف کے سائے تھے۔ یہاں کی چیزیں، ماحول، سب اس کے لیے اجنبی تھا۔ صبح سے وہ منہ دھونے کے لیے بھی پریشان تھی، مگر اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔ وہ صبح کے وقت دروازہ کھول کر باہر جھانک رہی تھی کہ ایک ملازمہ نظر آئی، شاید وہی جس نے رات کو اسے کھانا دیا تھا۔

“باجی، مجھے وضو کرنا ہے، میں کہاں جاؤں؟”
اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا تھا۔
ملازمہ نے اندر آ کر روم میں بنا ہوا واش روم دکھایا، مگر یہ تو “مہرو النساء” کے لیے ایک اور مصیبت بن گئی۔ جہاں سے وہ آئی تھی، وہاں کمرے کے اندر واش روم ہونے کا تصور بھی نہیں تھا مگر اصل مشکل تب ہوئی جب وہ وضو کے لیے اندر گئی۔ جدید ٹچ سسٹم دیکھ کر اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ نل کھولنے کے لیے وہ بار بار ہاتھ گھما رہی تھی، مگر پانی نہیں آ رہا تھا۔

“یا اللہ! یہ کس مصیبت میں ڈال دیا!”
چمچماتی ہوئی ٹائلوں پر وہ اتنے دبے دبے قدم رکھ رہی تھی جیسے کسی کھائی کے کنارے کھڑی ہو۔ اس کے پیروں میں کپکپاہٹ تھی کہ کہیں گر نہ جائے۔ باہر کھڑی ملازمہ نے جب اسے بتایا کہ نل کو ہاتھ سے نہیں بلکہ سینسر سے پانی آتا ہے، تو “مہرو النساء” سہم گئی۔

“یہ کیا چیز ہے؟”
اس نے کانپتے ہوئے سوچا مگر ملازمہ نے اسے ٹچ کرتے ہوئے وضو کروا دیا تھا یہ اس کا احسان تھا جسے “مہرو النساء” نے اپنے دل میں محفوظ کر لیا مگر جیسے ہی نل میں چھپاک سے پانی آیا پانی کی آواز سے وہ یک دم پیچھے ہٹی، جیسے کسی نے اسے ڈرا دیا ہو۔ دل میں ہلچل مچ گئی، مگر وضو مکمل کر کے باہر آئی اور ابھی وہ سکون کا سانس لے کر تھوڑی دیر کے لیے بیٹھی تھی اور ملازمہ نے اسے ناشتہ دیا تو اس میں صرف ناشتے میں چائے پی تھی اور ایک ٹوس لیا تو ملازمہ برتن باہر لے گئی تھی اور اب قدسیہ نام کی مصیبت اس کے سر پر سوار تھی۔

“میں نے پوچھا محترمہ، کون ہو تم؟”
“یہاں اس کمرے میں کیا کر رہی ہو؟”
“اور زیغم سلطان کا تمہارے ساتھ کیا رشتہ ہے؟”
قدسیہ نے ایک دم سے اتنے سارے سوال کر ڈالے کہ “مہرو النساء” کے لیے ان کا جواب دینا ممکن ہی نہ تھا۔ وہ تو کبھی کسی کے ایک سوال کا جواب بھی نہ دے پائی تھی۔ اس کی دنیا میں تو بس ایک اس کی اماں تھی، جس کے ساتھ وہ اپنی تمام کہانیاں، اپنی ہر بات، اپنی تنہائی کی ہر داستان شیئر کرتی تھی لیکن اس وقت؟ اس وقت تو وہ صرف رو ہی سکتی تھی۔ قدسیہ کی اونچی آواز پر “مہرو النساء” کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہنے لگے۔

“میں نے پوچھا، کون ہو تم؟ اور یہ رونے کا مطلب؟”
قدسیہ کی بلند، چیختی ہوئی آواز سن کر نایاب، جو نیچے ہال میں ڈسٹنگ کر رہی تھی، تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اوپر آئی۔ سامنے ایک بوسیدہ سے کپڑوں میں کھڑی لڑکی تھی، جس کا حسن ان پرانے، اڑے ہوئے رنگ کے کپڑوں میں بھی چھپ نہ پایا تھا۔ وہ سیاہ چادر میں لپٹی چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہی تھی۔ نایاب کے ہاتھ میں ڈسٹنگ والا کپڑا تھا اور وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے “مہرو النساء” کو دیکھ رہی تھی۔

“کون ہے یہ؟”
نایاب نے کھا جانے والی نظروں سے اس لڑکی کو گھورتے ہوئے پوچھا، کیونکہ اس کی خوبصورتی اسے کھٹک رہی تھی۔

“میں بھی یہی پوچھ رہی ہوں کہ یہ کون ہے مگر یہ تو منہ کھولنے کے بجائے آنکھوں سے گنگا جمنا بہا رہی ہے!”
قدسیہ نے جھنجھلا کر کہا۔
“مہرو النساء” کا پورا وجود خوف سے کانپ رہا تھا۔ اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی جنگ کے میدان میں کھڑی ہو۔

“کون لایا تمہیں یہاں؟”
نایاب نے اگلا سوال جڑ دیا۔

“مم… میں… آپ کی…”
“مہرو النساء” کے حلق سے آواز ہی نہیں نکل رہی تھی۔

“میں مہرو… مہرو النساء…”
اس نے بمشکل اپنا نام بتایا۔

“میں نے تمہارا نام نہیں پوچھا! میں نے یہ پوچھا ہے کہ تم یہاں کیسے آئیں؟ کون لے کر آیا تمہیں؟”
نایاب نے چیختے ہوئے کہا۔

“سائیں… سائیں لے کر آئے ہیں… آپ کی… آپ کی خدمت کے لیے…”
اس نے بڑی مشکل سے الفاظ ادا کیے۔
نایاب کا انداز دیکھ کر جانے کیوں “مہرو النساء” کو لگا کہ یہی بیگم صاحبہ ہیں، جن کی خدمت کا حکم اس کی اماں اسے دے کر گئی تھی۔

“میری خدمت کے لیے؟”
نایاب نے حیرت سے اسے دیکھا۔

“جی… جی بی بی جی…”

“اماں، اب یہ کھیل میں مزید برداشت نہیں کروں گی!”
“ہر سزا زیغم کی محبت میں سہہ رہی ہوں، مگر اب جو نیا ڈرامہ کیا ہے، وہ ناقابل قبول ہے! میری خدمت کے لیے زیغم، کبھی ہو ہی نہیں سکتا کہ میری خدمت کے لیے کسی کو یہاں لائے۔ یقیناً اس کی خوبصورتی پر فدا ہو گیا ہوگا اور اپنی ضرورت کا سامان بنا کر لے آیا ہے، اور نام دے دیا ہے میری خدمت کا!”
نایاب نے زہر بھرے الفاظ اگلے۔
یہ سن کر “مہرو النساء” کے پورے وجود میں زہر سا گھل گیا۔ آتے ہی اس کی شخصیت پر کیچڑ اچھال دیا گیا تھا۔

“نن… نہیں، نہیں بی بی جی! ایسا نہیں ہے! میرا سائیں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں! میں بس آپ کی خدمت کے لیے ہوں!”

“چپ کر! زیغم کے پاس ملازموں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اس پوری حویلی میں جتنے افراد نہیں، اس سے زیادہ ملازم ہیں! تمہیں میں پاگل لگتی ہوں؟”
نایاب کے وجود میں تو جیسے آگ لگ گئی تھی۔ زیغم کسی لڑکی کو لے آیا تھا؟ اور وہ بھی اتنی خوبصورت؟ نایاب جو خود ہمیشہ سب پر ظلم ڈھاتی آئی تھی، چالاکیاں کرتی آئی تھی، مگر یہاں صبر دکھانے کی ہمت ہی نہ تھی۔ فوراً وہ آگے بڑھی اور ایک زور دار تھپڑ “مہرو النساء” کے گال پر جڑ دیا۔ “مہرو النساء” کا نازک سا وجود لڑکھڑا کر نیچے گرا اور بیڈ کے کنارے سے اس کا ماتھا زور سے جا ٹکرایا، جس سے تیزی سے خون بہنے لگا۔ “مہرو النساء” کا کمزور سا وجود، جسے اس کی اماں نے غربت میں بھی بے حد محبت سے پالا تھا، یہ سب سہہ نہ سکا۔ اس کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا۔ وہ بے ہوش تو نہیں ہوئی تھی، مگر اس کے جسم میں جان باقی نہ رہی تھی۔ نایاب کے تھپڑ کی چھاپ اس کے مخملی گال پر واضح ہو چکی تھی، مگر اس پر بھی نایاب کو صبر نہ آیا۔ وہ غصے میں اس کی چادر کھینچنے لگی۔

“بڑا لچکیلا وجود ہے تمہارا!”
“اپنی لچکوں دھچکوں سے ہی تم نے میرے زیغم کو پھنسایا ہوگا!”

“نہیں! نہیں بی بی جی!”
“مہرو النساء” سسک پڑی اور سہم کر پیچھے ہٹ گئی۔
جس “مہرو النساء” نے کبھی اکیلے میں اس گھر کے اندر بھی دوپٹہ نہیں اتارا تھا جہاں اس کی اور اس کی اماں کی ذات کے علاوہ کوئی تیسرا نہ تھا۔ جو خود کو ہمیشہ شرم و حیا کے پردے میں رکھتی آئی تھی، آج اس حویلی میں اس کا پہلا دن تھا کہ اس کا پردہ کھینچ لیا گیا تھا۔ رات تو خاموشی سے گزر گئی تھی، مگر چڑھتے دن کے ساتھ ہی سب سے پہلے اس کی چادر چھین لی گئی تھی۔ وہ تو کبھی آئینے میں خود کو دیکھنے کی عادی بھی نہ تھی کیونکہ گھر میں کبھی آئینہ تھا ہی نہیں۔ نہ ہی اسے یہ علم تھا کہ آئینہ بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ اتنی غربت کہ دو وقت کی روٹی کے سوا کچھ دستیاب نہ تھا۔ اماں کبھی سال بعد اس کے سوٹ پھٹ جانے پر اسے ایک جوڑا لا دیا کرتی تھیں، جو اس کے لیے سب کچھ ہوتا تھا۔ اور آج؟ آج وہی چادر، جس میں وہ ہمیشہ لپٹی رہتی تھی، اس سے چھین لی گئی تھی۔ اس کی موٹی سی چوٹی، جس میں سیاہ، گھنے، ریشمی بال قید تھے، کمر پر ناگن کی طرح جھول رہی تھی۔

“میں تمہیں یہاں ٹکنے نہیں دوں گی!”
“زیغم میرا ہے صرف میرا!”
نایاب غرائی۔ اس نے آگے بڑھ کر “مہرو النساء” کی چوٹی کو ہاتھ پر لپیٹا اور زور سے کھینچ کر اسے کھڑا کر دیا۔ “مہرو النساء” کو لگا کہ اس کے بال جڑ سے اکھڑ جائیں گے۔ بے اختیار اس کے منہ سے ایک دل دہلا دینے والی چیخ نکل گئی۔ یہی چیخ تھی جو سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آتے زیغم سلطان کے کانوں سے ٹکرائی۔ وہ ابھی ابھی ہسپتال سے واپس آیا تھا۔ مائد کے آغا جان کی طبیعت کی وجہ سے وہ پوری رات ہسپتال میں تھا اور ابھی گھر میں داخل ہوا ہی تھا کہ یہ چیخ اس کے کانوں میں گونجی۔ یہ آواز کس کی تھی؟
وہ نہیں جانتا تھا، مگر جیسے ہی اس نے روم کی جانب دیکھا، فوراً “مہرو النساء” کا خیال آیا اور پھر…… پھر وہ تیزی سے سیڑھیاں بھاگتے ہوئے روم تک پہنچا تھا۔

“کیا ہو رہا ہے یہاں؟”
زیغم سلطان کی دھاڑتی ہوئی آواز سن کر پہلے سے ہی سر پر چوٹ کے درد سے نڈھال “مہرو النساء” کا دل مزید کانپ گیا۔ ماتھے پر ہاتھ رکھے، وہ نایاب کی سخت گرفت میں تھی، جس نے اس کے بالوں کو اپنی مٹھی میں جکڑ رکھا تھا۔ سر میں شدید چکر آ رہے تھے، اور زیغم سلطان کی چنگھاڑتی آواز نے اس کے وجود کو مزید لرزا دیا۔ اسے لگا کہ وہ یہاں سے زندہ نہیں بچ پائے گی، کیونکہ یہاں کے لوگوں کا رویہ دیکھ کر اندازہ ہو چکا تھا کہ یہ جگہ اس کے لیے جہنم سے کم نہیں۔ زیغم سلطان نے جیسے ہی سامنے کا منظر دیکھا، اس کا دماغ غصے سے پھٹنے لگا۔ وہ لڑکی، جسے ایک بزرگ ہستی نے اپنی آخری سانسوں میں اس کے سپرد کیا تھا، یہ کہہ کر کہ وہ اس کی حفاظت کرے، آج اسی پر ظلم ڈھایا جا رہا تھا۔ زیغم کے اندر خون کھولنے لگا، اور ایک ہی جھٹکے میں اس نے نایاب کے چہرے پر ایک زوردار طمانچہ دے مارا۔ نایاب لڑکھڑاتے ہوئے قالین پر جا گری، اور قدسیہ کے تو طوطے ہی اڑ گئے۔ ابھی کچھ دیر پہلے وہ منظر سے لطف اندوز ہو رہی تھی، مگر اب جب بیٹی پر آفت آئی، تو وہ ہڑبڑا گئی۔

“جاہل عورت! تمہیں اور کوئی کام نہیں آتا سوائے مار پیٹ کے؟”
“آج تم نے مجھ سے وہ کروایا، جو میں کبھی کرنا نہیں چاہتا تھا!”
زیغم کا اشارہ تھپڑ کی طرف تھا۔

“مار لو، جتنا مار سکتے ہو، مگر میں یہ ظلم ہرگز برداشت نہیں کروں گی!”
نایاب نے انگلی “مہرو النساء” کی طرف اٹھاتے ہوئے کہا، جو دیوار کے ساتھ سہمی کھڑی تھی، اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھے۔ جیسے ہی اس نے کچھ ہوش سنبھالا، جھٹ سے زمین پر پڑی اپنی چادر اٹھا کر سر پر رکھ لی اور رخ دوسری طرف کر لیا۔ زیغم نے ابھی تک اس کی طرف دیکھا نہیں تھا، کیونکہ اس کا سارا غصہ نایاب پر تھا۔

“میں تمہارے حکم کا غلام نہیں ہوں، نہ ہی تمہاری مرضی کا پابند!”
“میں زیغم سلطان ہوں، جو چاہوں گا، جیسے چاہوں گا کروں گا، سمجھی تم؟”
“تم ہوتی کون ہو مجھے حکم دینے والی؟”
“اور تم سے رائے مانگی کس نے کہ میں اس گھر میں کس کو رکھوں گا اور کس کو نہیں؟”
زیغم سلطان کی گرجدار آواز کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ رہی تھی، جو خوفناک حد تک خطرناک محسوس ہو رہی تھی۔

“اچھا! دوسروں کو تبلیغ دیتے دیتے تو تم تھکتے نہیں ہو، ہیں نا؟”
نایاب کی آواز میں زہر گھلا ہوا تھا۔
“میرے باپ اور بھائی پر تو دن رات انگلیاں اٹھاتے ہو، کہ وہ بے غیرت ہیں، وہ عورتوں کی عزت نہیں کرتے، فلاں فلاں فلاں… اور آج جو تم خود کر رہے ہو، وہ جائز ہو گیا؟”
وہ زمین سے اٹھتے ہوئے ایک قدم آگے بڑھی، اس کی آنکھوں میں غصے کی چنگاریاں دہک رہی تھیں۔زیغم کے مقابل ہوتے ہوئے چیخی۔

“خود ایک لڑکی کو رات کے اندھیرے میں ایک جوان لڑکی کو رکھیل بنا کر لے آئے ہو، یہ ٹھیک ہے؟ یہ انصاف ہے؟”
زیغم سلطان کی آنکھوں میں خطرناک حد تک غصے کی لہریں دوڑ گئی تھیں۔ اس کا بس چلتا تو اسی وقت اس بدزبان لڑکی کی زبان کاٹ دیتا اور وہ تھی بھی اسی لائق۔

“اپنی حد میں رہو، نایاب!”
اس کے لہجے میں وارننگ تھی۔
“دوبارہ اگر اس کے بارے میں غلط الفاظ بولا تو تمہاری زبان کاٹ دوں گا!”
زیغم سلطان حلق کے بل چلایا تھا۔

“میں نے کیا ہے، کیا نہیں، اس کی وجہ جاننے کی تمہیں ضرورت نہیں، اور جسے میں نے اس گھر میں قدم رکھنے دیا ہے، وہ یہاں رہے گی، چاہے تمہیں پسند ہو یا نہ ہو۔۔سمجھی تم !”
نایاب زیغم کے غصے سے دھاڑنے پر تنزیہ مسکراہٹ لبوں پر سجائے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔ نایاب کے انداز سے نایاب پاگل لگ رہی تھی جبکہ قدسیہ وہاں سے غائب ہو چکی تھی شاید وہ اپنے شوہر نامراد یا اپنے لنگڑے بیٹے کو بلوانے گئی تھی کیونکہ اس کے حساب سے اس کی بیٹی پر ظلم ہو رہا تھا۔

“واہ زیغم سلطان! تمہاری منافقت کو سلام ہے!”
وہ چیخی۔
“دوسروں کے لیے اصول اور اپنے لیے مزے ؟”
نایاب زہر اگلنے سے باز نہیں آرہی تھی۔
“مہرو النساء” نے اپنی چادر کو اور مضبوطی سے تھام لیا، اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ جنگ کیسے ختم ہوگی، مگر ایک بات واضح تھی—یہاں زندگی گزارنا اس کے لیے آسان نہیں تھی۔ بے اختیار اسے اپنی اماں یاد آرہی تھی جس نے اسے پرسکون ماحول دیا تھا جہاں غربت ضرور تھی مگر دکھ نہیں تھے یا دکھ تھے انہوں نے کبھی “مہرو النساء” تک پہنچنے ہی نہیں دیے۔”مہرو النساء” کو مسلسل چکر آ رہے تھے اور ماتھے سے خون بہہ رہا تھا وہ دیوار سے ہاتھ جمائے با مشکل کھڑی ہوئی تھی۔ زیغم سلطان کی گرفت اتنی سخت تھی کہ نایاب کو لگا، اگر وہ ایک لمحہ اور یونہی رہا تو شاید اس کا جبڑا چٹخ جائے گا۔ اس کے نازک چہرے پر تکلیف کے آثار نمایاں ہونے لگے، مگر زیغم کی آنکھوں میں اس کے لیے کوئی نرمی نہیں تھی۔

“زیغم سلطان منافقت نہیں کرتا، منافقت تمہارے خون میں ہے!”
وہ زہر آلود لہجے میں بولا:
“کیونکہ تمہاری رگوں میں توقیر لغاری کا خون دوڑتا ہے!’
‘سلطان لغاری کی اولاد منافقت کرنا جانتی ہی نہیں، سمجھی تم؟”
نایاب کی آنکھیں غصے اور بے بسی سے سرخ ہو رہی تھیں، مگر وہ اس مضبوط گرفت سے خود کو آزاد نہ کروا سکی۔

“چھوڑو مجھے زیغم!”
وہ غرائی، مگر اس کی آواز میں پہلے جیسا طنز نہیں تھا۔
“مہرو النساء” کی حالت اور بھی خراب ہو رہی تھی۔ وہ دیوار کے ساتھ لگی، سہمی ہوئی کھڑی تھی۔ خوف نے اس کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب کر دی تھیں۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ لوگ کون ہیں، مگر جو کچھ وہ دیکھ رہی تھی، اس سے بس ایک ہی نتیجہ نکلتا تھا—یہاں سب ظالم تھے اور اس وقت، زیغم سلطان بھی اسے کسی ظالم سے کم نہیں لگ رہا تھا۔

“گھٹیا انسان! چھوڑو میری بہن کو!”
توقیر لغاری، قدسیہ اور شہرام دروازے سے ایک ساتھ اندر داخل ہوئے تھے۔ شہرام کی غیرت جیسے جوش میں کھول رہی تھی، وہ بیساکھی کے سہارے چلتا ہوا اندر بڑھا، اس کی گرجدار آواز کمرے میں گونجی۔ اس کی نظروں کے سامنے نایاب کا جبڑا زیغم سلطان کی مضبوط گرفت میں تھا، اور یہ منظر برداشت کرنا اس کے بس میں نہیں تھا۔ ماحول بد سے بدتر ہوتا جا رہا تھا۔ جیسے ہی شہرام کی آواز گونجی، زیغم نے ایک جھٹکے سے نایاب کا چہرہ چھوڑا۔ نایاب نے فوراً اپنے جبڑے پر ہاتھ رکھا، اس کی آنکھوں میں شدید غصہ اور بے بسی ایک ساتھ جھلک رہی تھی۔

“شہرام، تم اپنی حدود میں رہو!”
زیغم کی گہری، خوفناک آواز پورے کمرے میں گونجی۔
“یہ میرا معاملہ ہے، اور اس میں تمہاری مداخلت برداشت نہیں کروں گا!”

“تیرا معاملہ؟”
شہرام تلخی سے ہنسا۔
“تُو کون ہوتا ہے میری بہن پر ہاتھ اٹھانے والا؟”
“بڑی غیرت ہے نا تجھ میں، تو بتا! تو کیا یہی ہے تیری غیرت کہ ایک کمزور لڑکی کو اپنے ظلم کے نیچے روند دے؟”
شہرام چنگاڑتے ہوئے قریب آیا تھا جبکہ توقیر لغاری خونخوار نظروں سے زیغم کو دیکھ رہا تھا جیسے ابھی کھا جائے گا۔ زیغم کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے چنگاریاں لپکیں، مگر اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا، “مہرو النساء” کی حالت مزید بگڑ گئی۔ وہ دیوار سے لگی ہوئی سہمی کھڑی تھی، اس کا پورا وجود خوف سے لرز رہا تھا۔ اس کا سر پہلے ہی درد سے چکرا رہا تھا، اور اب یہ منظر دیکھ کر جیسے اس کے قدموں تلے زمین کھسکنے لگی تھی۔

“بس… بس کریں…!”
“مہرو النساء” کی کانپتی ہوئی آواز کمرے میں گونجی۔
“یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ میری وجہ سے مت لڑیں مجھے یہاں سے جانے دیں۔ مجھے یہاں نہیں رہنا…!”
اس کی آواز اس ہنگامے میں دب کر رہ گئی۔ کمرے میں موجود ہر شخص کسی نہ کسی جنگ میں الجھا ہوا تھا، اور وہ… وہ بس ایک معصوم تماشائی بن کر کھڑی تھی، جو اس ظالم دنیا میں ایک نئی آزمائش سے گزر رہی تھی۔ اس کی آواز کسی نے سنی تک نہیں تھی کیونکہ روم میں شہرام اور زیغم کی چنگارتی ہوئی آوازیں اس معصوم سی آواز کو ابھرنے ہی نہ دے رہی تھی مگر قدسیہ برابر دیکھ رہی تھی کہ “مہرو النساء” کی حالت بہت خراب ہے اور اس نے یہ آواز بھی سنی تھی، مگر ظالم عورت نے ذرا بھی آگے بڑھ کر اس پر رحم نہیں کھایا تھا۔ اس کے ماتھے سے بہتا ہوا خون اس کے پورے گال کو بھگوتا ہوا گردن تک پہنچ رہا تھا۔

“تمہاری بہن عورت کے نام پر دھبہ ہے، اور میں تمہاری بہن پر کبھی ہاتھ نہیں اٹھانا چاہتا، نہ ہی اپنے ہاتھ گندے کرنا چاہتا ہوں مگر اپنی بہن کو حد میں رہنا سکھاؤ۔ ظلم کرنے کا وقت گزر گیا، اب کوئی لحاظ نہیں رکھا جائے گا اور اس حویلی میں کون رہے گا اور کون نہیں، اس کا فیصلہ صرف زیغم سلطان کرے گا، سمجھے تم؟”
وہ سرد لہجے میں بولتا شہرام کو گھورتے ہوئے اپنے لہجے کی سختی مزید بڑھا چکا تھا۔

“یہ اس حویلی میں نہیں رہ سکتی!”
نایاب غصے سے چلائی، آنکھوں میں شدت لیے زیغم کو چیلنج کر رہی تھی۔

زیغم سلطان نے پلٹ کر اس کی جانب زہر الود نظروں سے دیکھا تھا۔
“یہ میری حویلی ہے، اور یہ اسی حویلی میں رہے گی۔”
دوٹوک انداز میں کہہ کر اس نے نایاب کی بات جڑ سے اکھاڑ دی۔

“زیغم، تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے!”
وہ بپھری ہوئی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے غرائی۔

زیغم سلطان،اس کو تڑپتا ہوا دیکھ تنزیہ مسکراہٹ مسکرایا۔
“زیغم اپنے دل اور دماغ کی سنتا ہے،یہ تو یہیں رہے گی، اسی حویلی میں اسی کمرے میں، تم جو کر سکتی ہو کر لو۔”
اس کا لہجہ سخت اور دوٹوک تھا، اس پر نایاب کی کسی بھی بکواس کا کوئی اثر نہیں تھا۔ اکیلا شیر ان سب کے بیچ میں کھڑا دھاڑ کر اپنی الگ پہچان رکھتا تھا۔

“میں بھی دیکھتی ہوں کیسے رہتی ہے یہ اس گھر میں…… میرے بھائی اس کے ٹکڑے کر دیں گے!”
وہ دھمکی دیتے ہوئے غصے میں آگے بڑھی۔ اس کا نشانہ “مہرو النساء” تھی۔

زیغم سلطان نے اس کے بازو سے کھینچ کر اسے پیچھے کی جانب دھکیلا تو وہ دیوار سے زور سے ٹکرائی تھی۔
“اور میں تمہارے بھائیوں کے ٹکڑے کر دوں گا، پھر اپنی زمینوں میں بطور کھاد ان کے مردہ وجود استعمال کروں گا!”
زیغم کی چنگھاڑتی ہوئی آواز حویلی کی دیواروں سے ٹکرا کر گونجی، اور پورے ماحول پر خاموشی چھا گئی۔

“آخر یہ تمہاری لگتی کیا ہے؟”
نایاب آپے سے باہر ہوتے ہوئے چلائی۔

“میں تمہیں بتانا ضروری نہیں سمجھتا۔”
زیغم سلطان نے سرد لہجے میں کہا، اس کی آنکھوں میں بے نیازی تھی۔ وہ نایاب کو تڑپتا دیکھ کر بھی خاموش رہا، کیونکہ وہ کسی کے باپ سے بھی ڈرنے والا نہیں تھا۔

“سمجھ گئی! اس کی خوبصورتی اور کمسنی نے تمہیں متاثر کر لیا ہے، ٹھیک ہے! جاؤ، وڈیروں کو ایسے چونچلے سوٹ کرتے ہیں۔ دے دی میں نے اجازت! مٹا لو اپنی بھوک، اور جب دل بھر جائے تو اسے اٹھا کر باہر پھینک دینا۔ میں اس کا وجود برداشت نہیں کر سکتی، مگر تمہاری محبت میں یہ سب کر سکتی ہوں۔”
نایاب نے طنزیہ ہنسی کے ساتھ تیز لہجے میں کہا۔

“اس سے زیادہ گھٹیا سوچ تم سوچ بھی نہیں سکتی!”
“تم عورت ہو کر اتنا گندا سوچتی ہو کہ میں مرد ہو کر شرما جاتا ہوں۔”
زیغم سلطان نے سخت لہجے میں کہا، اس کی آنکھوں میں تیز چمک ابھری۔

“اچھا! میری سوچ گندی ہے، اور تم جو اپنی حفاظت میں اسے حویلی تک لے آئے ہو، وہ پاکیزہ ہے؟”
“تم اسے رکھیل بنا کر رکھ سکتے ہو، اور میں بول بھی نہیں سکتی؟”
نایاب نے حقارت سے ہنستے ہوئے زہریلے انداز میں کہا۔
زیغم سلطان کا ہاتھ ایک بار پھر ہوا میں لہرایا، اور زور دار تھپڑ نایاب کے اسی گال پر پڑا جس پر پہلے بھی اس کا ہاتھ برس چکا تھا۔ نایاب کے منہ پر زیغم سلطان کے بھاری ہاتھ کا نشان پہلے ہی واضح تھا، اور اب تو وہ مزید گہرا ہو چکا تھا۔ وہ لڑکھڑاتے ہوئے اپنے باپ کے ساتھ جا ٹکرائی، اور شہرام، توقیر اور قدسیہ ایک ساتھ چلا اٹھے۔

“تمہیں شرم نہیں آتی! ہماری بیٹی پر ہمارے سامنے ہاتھ اٹھا رہے ہو، جلاد!”
قدسیہ چلاتے ہوئے بولی، اس کی آنکھوں میں دہکتے شعلے تھے۔

“گھٹیا انسان! میری بیٹی پر اس کے باپ کے سامنے ہاتھ اٹھانے کی تیری جرات کیسے ہوئی؟”
توقیر نے غصے میں چنگھاڑتے ہوئے کہا اور نایاب کو سینے سے لگا لیا۔

“میں تیری جان لے لوں گا، کمینے!”
شہرام بیساکھی کے سہارے آگے بڑھتے ہوئے شدید غصے میں بولا، وہ لنگڑاتا ہوا زیغم کی طرف بڑھا۔

“لنگڑے! پہلے ٹھیک سے چل تو لے، کیوں اپنی دوسری ٹانگ بھی میرے ہاتھوں تڑوانا چاہتا ہے؟”
زیغم سلطان نے طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہا، اس کی آنکھوں میں حقارت تھی۔ زیغم نے اسے دھکا دیا، اور شہرام زمین پر گرنے ہی والا تھا کہ قدسیہ نے جلدی سے سنبھال لیا، ورنہ جو ٹانگ مشکل سے جڑی تھی، وہ بھی دوبارہ فریکچر ہونے کا خدشہ تھا۔

“اور سائیں، تم نے کیا کہا؟”
“میں باپ کے سامنے بیٹی کو ہاتھ لگا رہا ہوں، مجھے شرم نہیں آتی؟”
“تمہارے بیٹے کو، تمہاری بیٹی کو، تمہاری بیوی کو شرم آئی تھی جب یہاں کوئی دیکھنے والا نہیں تھا اور میری بہن پر ظلم ڈھائے جا رہے تھے تب شرم کہاں تھی؟”
“اپنی باری تم لوگوں کو شرم آ جاتی ہے! اپنی باری تم لوگ تڑپ جاتے ہو! واہ!”
زیغم سلطان نے قدسیہ کو گھورتے ہوئے تلخی سے کہا، اس کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔

“اور تم نے کیا فرمایا؟ میری ہمت کیسے ہوئی کہ تمہاری شریف اور معصوم بیٹی پر ہاتھ اٹھاؤں؟ میں جلاد ہوں؟ اور یہ کیا ہے؟”
زیغم نے نایاب کا بازو پکڑ کر ہلکا سا مروڑا۔ نایاب کی چیخیں نکل گئیں۔

“یہ سب پر ظلم کرے تو ٹھیک، اس پر ظلم کیا جائے تو غلط؟”
“دفع ہو جاؤ اس کمرے سے! میں جان لے لوں گا سب کی!”
زیغم سلطان نے دھاڑتے ہوئے کہا، اس کے پورے وجود میں طوفان تھا۔
زیغم کی دہاڑتی ہوئی آواز نے حویلی میں خوفناک ماحول پیدا کر دیا۔ اس کے دھاڑنے کی شدت سے جیسے ہوا میں لرزش پیدا ہو گئی تھی۔ “مہرو النساء” دروازے کے قریب کھڑی تھی، اور اس کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔ اس کے کانوں میں گونجتی ہوئی آوازیں جیسے کسی اور ہی دنیا سے آ رہی تھیں۔ وہ زمین بوس ہونے ہی والی تھی، مگر نجانے کیسے ہمت کر کے کھڑی تھی۔

“میں نہیں جاؤں گی! میں تمہاری بیوی ہوں، اور یہ تمہاری کچھ نہیں لگتی!”
“جب دل چاہے گا تب جاؤں گی، مجھے زبردستی یہاں سے کوئی نہیں نکال سکتا!”
نایاب پھر سے چلائی، اس کے چہرے پر ضد اور غصہ نمایاں تھا۔
زیغم نے اسے تڑپتے ہوئے دیکھا، مگر اس بار وہ خود کچھ نہیں بولا۔ زیغم کے لبوں پر ایک معنی خیز مسکراہٹ آئی۔ ایک ایسی چال اس کے دماغ میں آئی تھی جس سے نایاب کو خود ہی اپنی سزا ملنے والی تھی۔ زیغم کو محنت کرنے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ ابھی زیغم اپنی چال کو زبان پر لانے ہی والا تھا کہ اچانک “مہرو النساء” خود پر قابو نہ رکھ سکی۔ اس کے ماتھے سے تیزی سے خون بہہ رہا تھا، اور وہ بے جان ہو کر زمین پر گر گئی۔ کمرے میں ایک دم سناٹا چھا گیا۔ سب کی نظریں اس پر جا ٹھہریں۔ زیغم کا دھیان اس کے ماتھے کی چوٹ پر پر تو بالکل بھی نہیں گیا تھا، کیونکہ وہ جب کمرے میں داخل ہوا تو ہلچل مچی ہوئی تھی لیکن جیسے ہی اس نے “مہرو النساء” کو زمین پر گرتے دیکھا، وہ بے اختیار تیزی سے اس کی طرف لپکا۔ “مہرو النساء” نے چادر کا پلو اپنے چہرے پر ڈال رکھا تھا، جیسے وہ اپنا درد چھپانے کی کوشش کر رہی ہو مگر جب زیغم کے ہاتھ پر خون لگا، تو زیغم کے حواس ایک دم بحال ہوئے۔ اس نے جھٹکے سے چادر ہٹائی، اور منظر دیکھ کر اس کے منہ سے بے اختیار نکل گیا: “اوہ مائی گاڈ!”

زیغم کی آنکھوں میں وحشت ابھر آئی۔ وہ آگ بگولہ ہو کر نایاب کی طرف گھوما اور دھاڑا:
“گھٹیا عورت! یہ دیکھو ظلم کسے کہتے ہیں! اس کی سزا تو میں تمہیں ضرور دوں گا!”
پھر وہ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر “مہرو النساء” کے نازک وجود کو اپنے مضبوط بازوؤں میں اٹھا چکا تھا۔ “مہرو النساء” بے ہوش ہو چکی تھی، اس کا وجود زیغم کے سینے سے جا لگا۔

“سائیڈ پر ہو جاؤ! دفع ہو جاؤ یہاں سے! تم سب کو میں دیکھ لوں گا!”
زیغم چنگاڑا، اس کی آواز حویلی کی دیواروں سے ٹکرا کر گونجنے لگی۔ باہر کھڑے ہوئے ملازموں پر خوف طاری تھا۔ وہ “مہرو النساء” کو لے کر تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھا، مگر دروازے سے نکلنے سے پہلے وہ پلٹا۔ اس کی نظریں خونخوار ہو چکی تھیں۔ گہری نیلی آنکھوں میں لال ڈورے دہشت زدہ لگ رہے تھے۔

“جاننا چاہتے ہو یہ کون ہے؟”
“تو سن لو! یہ میری بیوی ہے! نکاح کیا ہے میں نے اس سے!”
“اور زیغم سلطان کے نکاح میں ہوتے ہوئے اگر آج کے بعد کسی نے اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھا، تو تمہاری آنکھیں نوچ لوں گا!”
وہ دھاڑتے ہوئے بولا اور “مہرو النساء” کو لے کر اپنے روم کی طرف بڑھ گیا۔جیسے ہی اس نے اندر جا کر دروازہ بند کیا، تو اس کے پیچھے ایک زوردار آواز گونجی۔ یہ سب کچھ دیکھ کر توقیر کی فیملی سکتے میں آ گئی تھی۔ نایاب تو جیسے زمین میں دھنس گئی۔ اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی۔ ایسا تو اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ زیغم سلطان ایک دن یوں اچانک نکاح کر کے آ جائے گا!
°°°°°°°°°°
زیغم سلطان نے “مہرو النساء” کے نازک وجود کو اپنے مضبوط بازوؤں میں تھام رکھا تھا۔ بیڈ کے قریب آ کر نرمی سے اسے اپنے مخملی بستر پر لٹایا، سر تکیے پر رکھتے ہوئے اس کی چادر کو بھی احتیاط سے درست کر دیا۔ وہ تیزی سے سائیڈ ٹیبل کے نچلے حصے کی طرف بڑھا، دراز کھولا اور فرسٹ ایڈ باکس نکال لیا۔ ضروری سامان نکالتے ہوئے وہ بیڈ پر بیٹھ گیا، پاؤں نیچے لٹکائے۔ اس کی نظریں “مہرو النساء” کے زخم پر تھیں، جو کافی گہرا لگ رہا تھا۔ نرمی سے اس کی چادر کو چہرے سے ہٹایا اور ماتھے پر نگاہ ڈالی۔ زخم دیکھ کر اس نے جلدی سے روئی پر پائیوڈین لگایا اور خون صاف کرنے لگا۔ ایک سائیڈ سے چہرہ مکمل طور پر خون سے بھیگا ہوا تھا، مگر جیسے جیسے وہ صاف کر رہا تھا، شفاف دودھیا رنگت ظاہر ہو رہی تھی۔ ساتھ ہی اس نے موبائل اٹھایا اور رفیق کا نمبر ڈائل کر دیا۔

“جلدی سے ڈاکٹر کو بلاؤ!”
بس اتنا کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔ زخم پر نرمی سے پٹی کی، اوپر میڈیکل ٹیپ لگائی تاکہ خون رک سکے۔ باقی چہرے پر لگا خون بھی روئی سے صاف کرنے لگا، مگر اس دوران اس کی نظریں بے اختیار “مہرو النساء” کی خوبصورتی پر جا ٹکیں۔ زیغم کا دل زور سے دھڑکا۔ بے ہوشی میں بند آنکھوں پر گھنی پلکیں جیسے سائے کی طرح پھیلی ہوئی تھیں۔ آنکھیں بند ہونے کے باوجود ان کی گہرائی اور کشش کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ دودھ کی طرح کھلتی رنگت، جو شاید کبھی کسی بیوٹی پروڈکٹ سے آشنا نہ ہوئی ہو، بلیک چادر کی اوٹ سے چودھویں کے چاند کی مانند دمک رہی تھی۔ لب نرم، جیسے گلاب کی پنکھڑیاں ہوں، قدرتی گلابی رنگ لیے ہوئے، خوبصورتی نرماہٹ اور معصومیت سے بھرپور تھی۔ یہ پہلی بار تھا کہ زیغم نے کسی کو اتنی توجہ سے دیکھا تھا اور یہ سب بے اختیار ہو رہا تھا! یہ کیا تھا؟
اس کا مضبوط دل اچانک زور سے دھڑک اٹھا۔ یہ کیسا احساس تھا؟ 30 سال کی عمر تک وہ کبھی ایسا محسوس نہیں کر پایا تھا۔ اس کے دل کی دھڑکنیں ایک عجیب طرز پر چلنے لگی تھیں، ایک ایسا ارتعاش جو اس نے پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ بے اختیار اس کے منہ سے ایک ٹھنڈی سانس نکلی۔ اپنا بھاری ہاتھ ماتھے پر رکھا اور وہاں پسینے کی بوندیں محسوس کیں۔

“What is this feeling? What is this state of mind?”
“یہ کیسا جذبہ ہے؟ یہ کیسی کیفیت ہے؟”
بے اختیار اس نے سوچا تھا۔ “مہرو النساء” اس کے سامنے بے خبر بے ہوش پڑی تھی، ایک نازک سی لڑکی، جو طاقت، ہائٹ، اور عمر میں اس سے کہیں کم تھی، مگر خوبصورتی میں وہ زیغم کی ٹکر کی تھی۔ زیغم سلطان، جو ہمیشہ مضبوط اور سخت مزاج رہا تھا، آج کسی انجانے احساس کے شکنجے میں جکڑا جا رہا تھا۔ اسی لمحے ڈاکٹر صاحب پہنچ گئے تھے۔
جیسے ہی روم کا دروازہ کھٹکا، زیغم نے پہلے “مہرو النساء” کے نازک وجود کو چادر سے اچھی ڈھانپا، یہ یقینی بنانے کے لیے کہ اس کا لباس بے ترتیب نہ ہو۔ چادر اس کے سر پر موجود تھی، اور زیغم سمجھ چکا تھا کہ “مہرو النساء” دوپٹہ سر پر رکھنے کی عادی ہے۔ وہ اپنی عزتِ نفس کو بہت عزیز رکھتی تھی، جس کا ثبوت یہ تھا کہ تکلیف میں بھی اس نے خود کو چادر میں چھپا رکھا تھا۔ یہ اس کی سچائی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ زیغم، جو اب اس سے نکاح کے بندھن میں بندھ چکا تھا، کیسے برداشت کرتا کہ کوئی نامحرم اس کی بے ہوشی کی حالت میں اس پر نظر ڈالے؟

“آ جائیں۔”
زیغم نے اجازت دی اور اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔

“السلام علیکم۔”
ڈاکٹر نے اندر داخل ہوتے ہی سلام کہا اس کے ساتھ ہی رفیق بھی اندر داخل ہوا تھا۔ جو دروازے کے قریب ہی نظریں جھکائے کھڑا تھا۔

“وعلیکم السلام۔”
زیغم نے ڈاکٹر کے سلام کا جواب دیا اور ایک طرف ہٹ گیا تاکہ وہ زخم کا معائنہ کر سکے۔

ڈاکٹر نے ڈریسنگ کا معائنہ کرنے سے پہلے بی پی چیک کیا اور قدرے سنجیدگی سے بولا:
“ان کا بلڈ پریشر کافی لو ہو رہا ہے۔”
اس نے جلدی سے انجکشن لگایا، جس پر “مہرو النساء” بے ہوشی میں بھی ہلکی سی کراہ اٹھی۔

ڈاکٹر نے زیغم کی کی گئی ابتدائی ڈریسنگ کو ہٹایا اور زخم کا بغور جائزہ لیا۔
“زخم کافی گہرا ہے، بھرنے میں وقت لگے گا۔”
اس نے دوبارہ سے زخم کی اچھی طرح ڈریسنگ کی اور کچھ دوائیوں کی لسٹ بنا کر زیغم کی طرف بڑھائی، جسے زیغم نے فوراً رفیق کے حوالے کر دیا۔ رفیق تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا تاکہ جلد از جلد دوائیاں لا سکے۔

“کوئی خطرے کی بات تو نہیں؟”
زیغم نے فکر مندی سے پوچھا۔

“نہیں، زیادہ فکر کی ضرورت نہیں، بس ان کا بلڈ پریشر بہت لو تھا، اس لیے بے ہوشی ہو گئی۔ انجیکشن دے دیا ہے انشاءاللہ کچھ دیر میں ہوش آ جائے گا، مگر ان کی صحت کا خاص خیال رکھیں۔ وہ پہلے سے ہی کمزور ہیں، اور خون بھی کافی بہہ چکا ہے۔ میں نے ضروری دوائیاں دی ہیں، کل دوبارہ آ کر چیک اپ اور ڈریسنگ کر دوں گا۔”

“جی، ٹھیک ہے۔ شکریہ ڈاکٹر!”

“یہ میرا فرض ہے۔”
کہتے ہوئے ڈاکٹر باہر کی جانب بڑھ گیا، جبکہ زیغم کی نظریں ابھی بھی “مہرو النساء” کے چہرے پر جمی تھیں۔ ٹانگ پر ٹانگ رکھے، ایک ہاتھ صوفے کی پشت پر جمائے اور دوسرا سائیڈ پر رکھے، زیغم سلطان کی نظریں مہرالنساء پر جمی ہوئی تھیں۔عجیب سی کشش تھی جو اسے بار بار اس نازک چہرے کی جانب متوجہ کر رہی تھی۔ آج کا احساس مختلف تھا، ایک ایسا احساس جسے اس کے مضبوط اور سخت دل نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ بے شک وہ بہت حسین تھی، شاید اس قدر کہ زیغم سلطان کی نظریں پہلی بار کسی پر جا کر ٹھہری تھیں مگر یہ صرف اس کی خوبصورتی تھی جو اسے اپنی جانب کھینچ رہی تھی، یا پھر اس کی معصومیت؟ وہ اس راز کو سمجھنے سے قاصر تھا۔ سوچیں جیسے کہیں جامد ہو چکی تھیں، اور دماغ کی جگہ صرف جذبات اس کے اندر طوفان برپا کیے ہوئے تھے۔ اس کے لب بے اختیار سختی سے بھینچ گئے۔ کیا تھا یہ سب؟ کیوں آج پہلی بار کوئی چہرہ اس کی نظروں میں ٹھہر گیا تھا؟ کیوں اس کا دل بے ترتیب دھڑک رہا تھا؟ زیغم سلطان نے گہرا سانس لیا، مگر اس کے اندر کی بے چینی بڑھ چکی تھی۔ وہ جو ہمیشہ جذبات پر قابو رکھنا جانتا تھا، آج خود پر قابو پانے میں ناکام ہو رہا تھا۔ یہ ایک نیا احساس تھا، انوکھا، غیر متوقع، اور سب سے بڑھ کر۔۔۔۔ناقابلِ انکار!
°°°°°°°°°°°

اگلا ایپیسوڈ ملاحظہ کیجیے

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *