Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:19
رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر 19
°°°°°°
“خیریت ہے؟ صبح صبح یہ گھر میں کیسا ماتم کا ماحول بنا رکھا ہے؟”
ذرام نے جیسے ہی اندر قدم رکھا، سامنے نایاب کو چیختے چلاتے دیکھ کر حیرت سے آنکھیں سکیڑ لیں۔ پورے گھر میں جیسے ماتم کا سماں تھا، ہر طرف غصے اور دکھ کی فضا بکھری ہوئی تھی۔
“ماشاءاللہ، ماشاءاللہ! یہ میرا بھائی ہے، کیا ہی کہنے!”
“بہن پر سوتن لا کر بٹھا دی ہے اور اب معصومیت سے پوچھ رہے ہیں کہ گھر میں کیسا ماتم پھیلا رکھا ہے؟”
نایاب نے تڑک کر کہا، اس کی آنکھوں میں نمی اور چہرے پر بے بسی کا ایسا اظہار تھا جیسے وہ سب کی ستائی ہوئی ہو۔
“مجھے تو افسوس ہوتا ہے تم لوگوں کے بھائی ہونے پر!”
اس نے اپنے بھائی کو غصے سے گھورا اور خود کو مظلوم ظاہر کرتے ہوئے اپنی بے بسی کا ایسا ڈھونگ رچایا کہ پورے کمرے میں ایک بار پھر تناؤ کی کیفیت چھا گئی۔
“سوتن؟ مطلب زیغم بھائی نے شادی کر لی ہے؟”
ذرام نے حیرت سے نایاب کو دیکھا، تجسس اس کے چہرے پر نمایاں تھا۔ اسے تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ یہ سچ ہے۔
“ہاں جی! تمہارے سگے زیغم بھائی نے، جس پر تم جان چھڑکتے ہو، جو تمہارے لیے ہم سب سے بڑھ کر ہے، جس سے آگے تمہیں نہ کچھ دکھائی دیتا ہے نہ سنائی دیتا ہے، اس نے چپ کر کے پتہ نہیں کہاں کی جھونپڑی سے ایک کم سن حسینہ کو اٹھا کر لے آیا ہے!”
قدسیہ نے طنزیہ لہجے میں کہا، ساتھ ہی زہر بھرے جملے بھی اچھال دیے۔
“اور لا کر بتایا بھی نہیں! وہ تو جا کر ہم نے خود بھانڈا پھوڑا، خود دیکھا! رات سے لا کر کمرے میں رکھی ہوئی تھی! اب اللہ ہی جانے نکاح کیا ہے یا نکاح کا ڈھونگ رچا رہا ہے!”
قدسیہ نے جلتے کٹتے انداز میں نہ صرف ذرام کو طنز مارا بلکہ زیغم کے کردار پر کیچڑ بھی اچھال دیا۔ کمال عورت تھی، جو اپنی باتوں میں زہر گھولنے کا ہنر خوب جانتی تھی۔
“اللہ تیرا شکر ہے کہ میرے بھائی کے نصیب میں بھی خوشیاں آئی ہیں!”
ذرام نے ہاتھ اٹھا کر زیغم کے لیے دعا کی، جیسے سچ میں خوش ہو۔ وہ جس سے یہ توقع کر رہے تھے کہ وہ ان کے دکھ میں شریک ہوگا، مگر وہ تو ان کی سوچ کے برعکس الٹا حق کا ساتھ دے رہا تھا۔ نایاب اور قدسیہ کے پورے وجود میں غصے کی شدت سے آگ لگ گئی تھی۔
“تو سچ میں میرا بیٹا ہے؟”
“مجھے یقین نہیں آتا!”
قدسیہ نے دانت پیستے ہوئے کہا، جیسے ابھی ذرام اس کے ہاتھ آ جائے تو وہ اسے چبا ڈالے گی۔
“مجھے بھی یقین نہیں ہوتا کہ سچ میں یہ میرا بھائی ہے!”
“اگر بھائی ایسے ہوتے ہیں تو دشمنوں کی کیا ضرورت ہے؟”
نایاب نے گہری، جلتی ہوئی نظروں سے ذرام کی طرف دیکھا،انداز ایسا تھا جیسے وہ اس کے وجود ہی سے نفرت کرنے لگی ہو۔
“میرا نہیں خیال کہ میں نے کچھ غلط کہا ہے۔ سب کو اپنی زندگی جینے کا حق ہے!”
ذرام نے نرمی مگر مضبوط لہجے میں کہا، وہ نایاب اور اپنی ماں کی غلط فہمی کو دور کر رہا تھا مگر اس وقت اپنی ماں اور بہن کو وہ زہر لگ رہا تھا۔
“زیغم بھائی آپ کے ساتھ نہ کبھی خوش تھے، نہ ہیں، اور نہ کبھی رہ سکتے ہیں، کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ آپ نے انہیں زبردستی اپنے ساتھ باندھنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔”
اس نے ایک گہری سانس لی، نایاب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اسے آئینہ دکھا رہا تھا۔
“مگر آپ کی لاکھ کوششوں کے باوجود بھی زیغم بھائی ہمیشہ آپ سے دور تھے، دور ہیں، اور دور ہی رہیں گے! کیونکہ آپ کبھی زیغم بھائی کے سانچے میں فٹ نہیں ہو سکتیں۔”
ذرام کے لہجے میں دو ٹوک سچائی تھی، جس نے نایاب اور قدسیہ کے وجود کو آگ کی لپٹو میں لے رکھا تھا۔ زرام کے الفاظ ان کے کانوں میں پگھلتے ہوئے سیسے کی طرح اذیت دے رہے تھے۔
“تم دونوں مختلف سوچ کے لوگ ہو!”
“ایک مشرق ہے، تو دوسرا مغرب!”
“ایک ایماندار ہے، تو دوسری کی تربیت میں ہی بے ایمانی شامل ہے!”
“ایک جھوٹ سے نفرت کرتا ہے، تو دوسرے نے جھوٹ کو گود لے رکھا ہے!”
ذرام نے اپنے الفاظ نپے تلے انداز میں کہے، مگر ان جملوں کا وار سیدھا قدسیہ اور نایاب کے دل پر ہوا تھا۔
“ذرام! تم میرے کمرے سے دفع ہو جاؤ!”
“میں تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتی! تم بھائی نہیں، میرے دشمن ہو!”
نایاب کا غصہ آسمان کو چھو رہا تھا، اس کی آنکھیں خون اگل رہی تھیں۔
“میں نے زیغم سے اتنی محبت کی، اتنا چاہا، اور تم… میری محبت کی قدر کرنا تو دور، الٹا مجھے ہی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہو؟”
وہ آپے سے باہر ہو کر چلائی، مگر ذرام نے کوئی جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔ اپنی ماں اور بہن کی گھورتی ہوئی نظروں کو نظر انداز کرتا، وہ خاموشی سے کمرے سے باہر آ گیا مگر اس کے لبوں پر مسکراہٹ تھی، ایک مطمئن مسکراہٹ! کیونکہ وہ دل سے خوش تھا کہ زیغم بھائی، جسے وہ اپنا حقیقی بھائی مانتا تھا، جسے وہ اپنا رول ماڈل سمجھتا تھا، جس کی فیملی کا حصہ بننے کی وہ ہمیشہ سے خواہش رکھتا تھا، فائنلی اس کی زندگی میں کوئی لڑکی خوشی بن کر آئی تھی۔ یہ سن کر ہی ذرام کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ بے اختیار اس کے قدم اس کے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے، جہاں وہ اطمینان سے بیٹھ کر اس خوشی کو محسوس کرنا چاہتا تھا۔
“یہ بھائی ہے؟”
“کتنا زہر اگل کر گیا ہے!”
نایاب نے زرام کے جاتے ہی اپنی ماں کی طرف دیکھ کر کہا، جو سر پکڑے صوفے پر بیٹھی تھی جیسے ماں بیٹیوں پر کوئی بہت بڑا ظلم ہو گیا ہو۔
“چل چپ کر جا! میرے سر میں پہلے ہی درد ہو رہی ہے!”
قدسیہ نے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا، مگر نایاب کا غصہ کسی طور کم ہونے والا نہیں تھا۔
“آپ بھی میرے کمرے سے چلی جائیں، مجھے اس وقت کسی کی شکل نہیں دیکھنی!”
$اگر آپ لوگ میرے دکھ میں شریک نہیں ہو سکتے، تو ایسی صورتیں لے کر میرے سامنے آ کر میرے زخموں پر نمک چھڑکنے کی ضرورت نہیں!”
بدتمیز اور بدتہذیب نایاب نے اپنی ماں کے ساتھ بھی بدتمیزی کرتے ہوئے دو ٹوک انداز میں کمرے سے جانے کا کہہ دیا۔
“تیری اسی گز بھر کی زبان کو دیکھ کر ہی زیغم تجھے منہ نہیں لگاتا!”
“صحیح کہہ رہا تھا زرام، جو بھی کہہ رہا تھا!”
قدسیہ بھی نایاب کی ماں تھی، وہ کہاں طنز بازی میں پیچھے رہنے والی تھی۔ جھٹکے سے صوفے سے اٹھی اور کھری کھری سناتے ہوئے کمرے سے نکل گئی۔
“کر لو! کر لو جتنی باتیں کرنی ہیں، مجھے کر لو! مگر ایک دن اس گھر میں میری حکومت ہوگی! زیغم بھی میرا ہوگا، اور اس گھر میں میرے اور زیغم کی اولاد کی کلکاریاں گونجیں گی!”
نایاب پاگلوں کی طرح چیختی ہوئی بیڈ پر دھپ سے بیٹھ گئی، جیسے کسی نظر نہ آنے والے سامع کو اپنی فریاد سنا رہی ہو حالانکہ کمرے میں اس وقت کوئی بھی نہیں تھا۔
کبھی کبھی انسان سچائی کو آنکھوں کے سامنے دیکھ کر بھی تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے، اور یہی اس کی سب سے بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اگر انسان یہ سمجھ لے کہ محبت کا رشتہ کسی زبردستی یا ضد سے نہیں بنایا جا سکتا، تو شاید کئی زندگیاں برباد ہونے سے بچ جائیں۔ محبت کوئی خونی رشتہ نہیں، مگر یہ خون کے رشتوں سے بھی زیادہ گہرا، زیادہ مضبوط اور زیادہ خالص ہوتا ہے۔ محبت وہ پاکیزہ احساس ہے جو خدا کی طرف سے دل کی زرخیز زمین میں بیج کی مانند بو دیا جاتا ہے۔ یہ وقت کے ساتھ پروان چڑھتا ہے، جڑیں پکڑتا ہے اور اپنی ایک الگ دنیا بسا لیتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبصورتی یہی ہے کہ یہ کسی دنیاوی کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ خالصتاً خدا کی رضا سے کسی کے دل میں اتارا جاتا ہے۔ محبت کو زبردستی حاصل کرنے والے ہمیشہ خالی ہاتھ رہتے ہیں، اور محبت کو قید کرنے والے ہمیشہ ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔
محبت کوئی سودا نہیں جس میں فائدہ نقصان کا حساب رکھا جائے، نہ ہی کوئی جنگ ہے جسے جیتنے کے لیے چالاکیوں سے کام لیا جائے۔ محبت تو وہ مقدس جذبہ ہے جس میں دوری بھی قربت کی مانند محسوس ہوتی ہے، جس میں فاصلوں کے باوجود دل ایک دوسرے کی دھڑکنوں کو سن سکتے ہیں۔ جہاں کسی کو پا لینے کا لالچ حد سے بڑھ جائے، وہاں محبت ختم ہو جاتی ہے اور اس کی جگہ انا اور ضد لے لیتی ہے۔ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں رشتے ٹوٹ جاتے ہیں، دل زخمی ہو جاتے ہیں، اور محبت اپنی اصل روح کھو دیتی ہے۔
محبت پانے کا نام نہیں، محبت تو دینے اور قربان ہو جانے کا دوسرا نام ہے۔ یہ وہ خوشبو ہے جو بکھر کر بھی مہکتی ہے، وہ روشنی ہے جو بجھ کر بھی راستہ دکھاتی ہے۔ جو محبت کو زبردستی قید کرنا چاہتے ہیں، وہ آخر میں خود ہی تنہائی کی قید میں چلے جاتے ہیں۔
“کسی کے جذبات کو اتنی چوٹ مت دو”
“کہ جب بھی تمہاری یاد آئے، زخم ہرے کر جائے!”
“محبت نام ہے مرہم بننے کا”
“یہ وہ آگ نہیں جو ہر چیز جلا کر راکھ کر جائے!”
“دلوں کو توڑ کر، خوابوں کو روند کر”
“کبھی کسی نے خوشی کا چراغ نہیں جلایا!”
“محبت کو قید کرنے کی خواہش میں”
“بہت سوں نے اپنا ہی دل گنوا دیا!”
“یاد رکھو! محبت زخم نہیں دیتی، یہ تو شفا کا راز ہوتی ہے!”
“جو دل کو روشنی دے، جو روح کی آواز ہوتی ہے!”
“مگر جب اسے ضد، انا اور دھوکے میں بدل دیا جائے”
“تو یہی محبت سزا بن کر ہر سانس میں لہو بن جائے!”
“اس لیے! کسی کے دل کو اس قدر نہ روندو”
“کہ جب بھی تمہارا نام آئے، وہ اپنے درد سے لڑنے لگے!”
“محبت کا موسم خزاں میں نہ بدلو”
“کہ کوئی ساری عمر بہار کو ترسنے لگے!”
°°°°°°°°°°
مائد گھر پر آیا تھا، کپڑے تبدیل کرنے اور آغا جان کے لیے گھر کا بنا ہوا کھانا لینے کے لیے۔
“پلیز، جلدی سے آغا جان کے لیے کھچڑی بنا دیں اور ساتھ میں سوپ بھی، میں آدھے گھنٹے تک نکلوں گا۔”
گھر میں قدم رکھتے ہی اس نے ملازمہ کو ہدایت دی اور آگے بڑھنے لگا۔
دانیہ، جو آغا جان کی طبیعت کے باعث فکرمند تھی، فون پر پہلے ہی اپنی ماں سے ان کی خیریت معلوم کر چکی تھی، مگر اسے لگا کہ مائد سے براہِ راست پوچھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ آخر ان کی فیملی اس مشکل گھڑی میں اتنا ساتھ دے رہی تھی، اور اس طرح خاموش رہنا بے مروتی ہوتی۔
“السلام علیکم!”
اس نے دھیرے سے کہا۔
“وعلیکم السلام!”
مائد نے سرسری انداز میں جواب دیا۔
“اب آغا جان کی طبیعت کیسی ہے؟”
دانیہ نے نظریں جھکاتے ہوئے پوچھا۔
“الحمدللہ، بہتر ہیں، اور انشاءاللہ اب ٹھیک ہی رہیں گے۔”
وہ دانیہ کی جانب دیکھے بغیر بولا۔
“میں سمجھی نہیں؟”
دانیہ نے الجھن سے کہا۔
“کچھ نہیں… اچھی بات ہے کہ آپ سمجھی نہیں، میں نے سمجھ کر کون سا ہواؤں کا رُخ بدل لیا؟”
مائد نے مدھم آواز میں کہا اور ہونٹوں پر زبردستی مسکراہٹ سجائے کچن سے نکل گیا۔
دانیہ وہیں کھڑی اس کے الفاظ پر غور کرتی رہی۔ مائد کیا کہہ کر گیا تھا؟ وہ کیا کہنا چاہتا تھا؟ اس کی باتیں تو اس کے سر کے اوپر سے گزر گئیں، مگر ایک بات واضح تھی—آج مائد عام دنوں کی نسبت بہت بوجھل لگ رہا تھا، اس کے چہرے پر ویرانی اور بے زاری چھائی تھی، وہ پہلے جیسا نہیں تھا۔ اس نے ملازمہ کو ارمیزہ کے ناشتے کے لیے کہہ کر خاموشی سے اپنے کمرے کا رخ کر لیا مگر ذہن مائد کی الجھی ہوئی کیفیت میں ہی اٹکا ہوا تھا۔
“دانیا پھوپھو!”
“جی؟”
“میری طرف تو دیکھیں نا!”
دانیہ مائد کی باتوں میں الجھی ہوئی تھی۔ وہ جیسے ہی کمرے میں آئی، بے خیالی میں صوفے پر بیٹھ گئی۔ اس کے ذہن میں ابھی تک مائد کے الفاظ گونج رہے تھے۔ ‘کچھ نہیں… اچھی بات ہے کہ آپ سمجھی نہیں، میں نے سمجھ کر کون سا ہواؤں کا رُخ بدل لیا؟’ اس جملے کا مطلب کیا تھا؟ وہ کیا کہنا چاہ رہا تھا؟ دانیہ انہی خیالات میں گم تھی جب اچانک نرم سی آواز نے اس کی توجہ کھینچی۔ سامنے ارمیزہ کھڑی تھی، معصومیت سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“آپ سن بھی رہی ہیں؟”
ارمیزہ نے ہلکے سے اس کا ہاتھ پکڑ کر ہلایا۔
دانیہ نے چونک کر اسے دیکھا اور مدھم مسکراہٹ لبوں پر سجا دی۔
“ہاں، بولو میری جان کیا ہوا؟”
“میں کب سے بلا رہی ہوں، آپ کہاں کھوئی ہوئی ہیں، کیا ہوا ہے؟”
ارمیزہ نے تجسس سے پوچھا۔
دانیہ نرمی سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسے اپنے قریب پیار سے بٹھاتے ہوئے اس کے معصوم سے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔
“کچھ بھی نہیں، ہوا بس یونہی۔ تم بتاؤ،پھوپھو کی جان نے کیا کہنا تھا؟”
“میں کہہ رہی تھی کہ آپ میرے ساتھ بیٹھیں نا، مجھے کہانی سنائیں۔”
ارمیزہ نے پیار سے دیکھتے ہوئے ضدی لہجے میں کہا۔
دانیہ نے ایک لمحے کو مائد کی الجھن کو پسِ پشت ڈالا اور ارمیزہ کے چمکتے چہرے کو دیکھ کر مسکرا دی۔
“چلو، آج تمہیں ایک دلچسپ کہانی سناتی ہوں۔”
ارمیزہ خوشی سے اس کے ساتھ لپٹ گئی۔
“تھینک یو پھوپھو آپ بہت اچھی ہیں!”
دانیہ نے اس پل اپنے دل کی الجھنوں کو ذرا سا کنارے رکھتے ہوئے کہانی کا آغاز کیا۔
°°°°°°°°°°
مائد سے بات کرکے وہ فون بند کرتا ہوا واپس پلٹا تھا۔ آنکھوں میں ایک عجیب سی سنجیدگی تھی، جیسے کوئی اندرونی کشمکش چل رہی ہو۔ سامنے مہرالنساء بیڈ پر بیٹھی تھی، ہاتھ میں وہی سیب کا ٹکڑا تھا جو زیغم اسے تھما کر گیا تھا، مگر وہ کھانے کے بجائے ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لینے میں مصروف تھی۔
زیغم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔ فون کو ٹیبل پر رکھتے ہوئے وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا۔
“یہ چڑیا کی طرح کھانے سے کچھ نہیں ہوگا، اچھی طرح پیٹ بھر کر کھاؤ تاکہ دوائی دی جا سکے، ورنہ ٹیکے کا اثر جیسے ہی اُترے گا، تمہارے سر میں درد ہونے لگے گا۔”
بیڈ پر بیٹھتے اس کے چہرے پر نظر مرکوز کرتے ہوئے کہا۔
وہ اس کی بات پر چونک کر سیدھی ہوئی۔
“مجھے… مجھے ٹیکہ لگا تھا؟”
زیغم نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا۔
“ہاں، ٹیکا لگا تھا، اور اب لگ چکا ہے۔ اب گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔”
“اللہ میاں! کہاں لگایا ہے؟”
وہ فوراً اپنے بازو دیکھنے لگی۔
زیغم ہنسی دبائے اسے دیکھنے لگا۔
“بازو میں لگا ہے، اور اب جو ہونا تھا، وہ ہو چکا۔”
وہ منہ بسورتے ہوئے بولی:
“مجھے ٹیکے سے بہت ڈر لگتا ہے! میں اماں سے کہتی تھی، دوائی لے آئیں، مگر ٹیکا نہ لگوائیں۔ وہ سوئی پوری اندر گھسا دیتے ہیں، بہت درد ہوتا ہے!”
زیغم اس کی معصومیت پر بے اختیار مسکرا دیا۔
“دوسرا یہ کہ… ڈاکٹر میرا بازو پکڑ کر کپڑا اوپر کرتا ہے، تو مجھے اچھا نہیں لگتا!”
وہ جھینپ کر بولی۔
زیغم سلطان نے گہری سانس لی، اس کی سادگی اور پاکیزگی پر وہ واقعی فدا ہو چکا تھا۔ وہ نایاب موتی تھی۔
“تم نے کبھی انجیکشن نہیں لگوایا؟”
زیغم نے حیرانی سے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں، دو بار لگوایا تھا۔ ایک بار اماں کہتی ہیں جب میں بہت چھوٹی تھی، اور دوسری بار جب میں پندرہ سال کی تھی۔ اماں مجھے بخار میں ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی تھیں، مگر اس کے بعد میں کبھی ڈاکٹر کے پاس نہیں گئی۔ اماں میرے لیے گھر پر ہی دوائی لے آتی تھیں، اور مجھے ایسا کچھ بھی کھانے نہیں دیتی تھیں جس سے میری طبیعت خراب ہو۔”
وہ معصومیت سے سیب کا ٹکڑا چباتے ہوئے بتا رہی تھی۔
“مجھے اچھا نہیں لگتا جب ڈاکٹر میرے بازو کو ہاتھ لگاتا ہے۔”
وہ جیسے شکایت کر رہی تھی، اس کے نزدیک ڈاکٹر کا بازو پکڑنا اور کپڑا ہٹانا بہت ہی گندی اور غلط بات تھی جس کی کراہت اس کے چہرے پر نظر آرہی تھی۔
زیغم بغور اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ وہ ایک الگ ہی دنیا کی مخلوق تھی، سادہ، بے نیاز۔ نہ کسی سے جلن، نہ حسد، نہ کسی کے لیے برا، نہ کسی کے لیے اچھا۔ بس اپنی ہی دھن میں مگن۔ وہ مہرالنساء ایک معصوم پری تھی، جس کی معصومیت اور پاکیزگی پر زیغم سلطان بے اختیار ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا۔
“سائیں! اس طرح مت دیکھیں، جو اچھا نہیں لگ رہا…”
وہ مدھم آواز میں بولی، نظریں جھک گئیں، اور دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگیں۔
“اور مجھے یہاں سے جانے دیں…”
شرم سے پلو ہونٹوں پر رکھتے ہوئے اس نے بمشکل کہا، زیغم کی گہری نظریں اس کے حواس پر چھا رہی ہوں۔
“مہرو!” میں نے پیار سے سمجھایا ہے نا کہ تم اس کمرے سے نہیں جا سکتیں؟”
زیغم کی نگاہیں اس کے چہرے پر ٹھہر گئی تھیں، جیسے کسی قیمتی شے کو محفوظ کر رہا ہو۔
“تم اب اسی کمرے میں رہوں گی… ہمیشہ ہمیشہ کے لیے…”
دھیمے لہجے میں کہا، مہرو نظریں جھکائیں ہوئے تھی مگر جھکی ہوئی گھنی پلکوں کے نیچے آنکھوں میں شرم و حیا کی لالیاں بکھری ہوئی تھی۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہو کر عجیب سی دھن بنانے لگی تھی۔ اتنی زوروں سے تو مہرو کا دل کبھی نہیں دھڑکا تھا۔ وہ اپنی دھڑکنوں کے شور سے ہی گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی۔ زیغم اس کی چہرے پر شرم و حیا کے رنگ دیکھتے ہوئے محظوظ ہو رہا تھا۔ یہ کیا تھا یہ کون سے جذبات تھے جو زيغم کو ہر گزرتے لمحوں میں خود میں قید کر رہے تھے۔ یہ کون سا احساس تھا جو اس کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیرے ہوئے تھا۔
“مہرو مجھے ‘سائیں’ مت بولا کرو، یہ مجھے اچھا نہیں لگتا…”
وہ نرم لہجے میں کہتے اس کی ٹھوڑی کے نیچے انگلی رکھتے ہوئے ہلکا سا چہرے کو اوپر کیا مگر مہرو نے فوراً سے اپنے چہرے کا رخ موڑ لیا۔ وہ اس وقت کتنی گھبرائی ہوئی ہے یہ اس کے چہرے سے صاف دکھائی دے رہا تھا جبکہ زیغم کی نظریں اس پر باقاعدگی سے مرکوز تھیں۔
“تو پھر آپ کو کیسے بلاؤں؟”
اس نے گھبرا کر سوال کیا، نظریں مزید جھک گئیں۔
“میرے نام سے…”
زیغم نے دھیمے مگر اٹل لہجے میں کہا، جیسے کوئی حق جتا رہا ہو۔
“استغفراللہ! میں آپ کا نام کیسے لے سکتی ہوں؟”
وہ فوراً پیچھے ہٹی، دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں، چہرہ شرم سے دہکنے لگا۔
“کیسے؟ جیسے میں تمہارا نام لے رہا ہوں۔”
زیغم نے مسکرا کر کہا، مگر اس کی مسکراہٹ کے پیچھے ایک گہری سنجیدگی تھی۔
“توبہ توبہ! میں آپ کا نام لینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔ آپ تو مالک ہیں، اس لیے آپ میرا نام لے سکتے ہیں، مگر میں––میں آپ کا نام کبھی نہیں لے سکتی، یہ گناہ ہے!”
اس نے جلدی سے اپنی بات مکمل کی اور دوپٹے کا کونہ مروڑنے لگی۔
“ہاہاہاہا…”
زیغم کھل کر ہنسا، مگر اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔
“گناہ؟ مطلب کہ تمہارے نزدیک میرا نام لینا گناہ ہے؟”
اس نے شرارت سے پوچھا، جبکہ اس نے نظریں جھکائے بس اثبات میں سر ہلایا۔
“ایسا کچھ نہیں ہے پاگل لڑکی، تم میرا نام لے سکتی ہو، اور یہ مالک والی بات دوبارہ مت کرنا۔”
زیغم نے نرمی سے مگر سنجیدگی سے کہا، نظریں اس کے جھکے چہرے پر مرکوز تھیں۔
“میں تمہارا شوہر ہوں، اور مجھے بہت خوشی ہوگی اگر تم اس رشتے کو عزت دو گی اور اگر میری اتنی ہی عزت کرتی ہو تو پھر مہربانی کر کے میرے اس حکم کو مان لو، میری اس بات کو سمجھ لو…”
اس کے لہجے میں عجیب سی تپش تھی، جیسے کوئی ضد ہو جو ہر حال میں پوری ہونی ہی چاہیے تھی۔
“آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پر، مگر میں آپ کا نام بھی نہیں لے سکتی اور…”
وہ کہتے کہتے رک گئی، نظریں مزید جھک گئیں، جیسے الفاظ کہیں گلے میں پھنس گئے ہوں۔
“اور خود کو میری بیوی بھی نہیں مان سکتی؟”
زیغم نے فوراً اس کی ادھوری بات پوری کی۔
“جی…”
وہ سرگوشی میں بولی، جیسے یہ قبول کرنا بھی کوئی مشکل امتحان ہو۔
“اور اگر میں اس بات پر خفا ہو جاؤں؟”
“ناراض ہو جاؤں تو؟”
زیغم نے ابرو چڑھاتے ہوئے پوچھا۔
“نہیں! ناراض مت ہوئیے گا، ورنہ اماں کی روح بہت تڑپے گی اور مجھ سے خفا ہوگی۔ انہوں نے حکم دیا تھا کہ مجھے آپ کی کسی بات کو رد نہیں کرنا، آپ کا ہر حکم ماننا ہے۔”
وہ گھبرا گئی، جیسے اماں کی ناراضی کا سوچ کر دل کانپ اٹھا تھا۔
“تو پھر مان جاؤ کہ تم میری بیوی ہو!”
زیغم نے اٹل لہجے میں کہا۔
“اچھا… ٹھیک ہے، جو آپ کا حکم!”
وہ جلدی سے بولی، مگر اگلے ہی لمحے مزید گھبرا کر بولی:
“مگر میں آپ کا نام نہیں لے سکتی، مجھ سے نہیں لیا جائے گا۔ اس کے لیے مجھے معاف کر دیجیے!”
وہ جلدی سے دونوں ہاتھ جوڑ کر التجا کرنے والے انداز میں بولی، جیسے واقعی کسی بڑے گناہ سے بچنے کی کوشش کر رہی ہو۔
“مہرو!”
زیغم کا لہجہ اچانک بھاری ہوگیا، جیسے کوئی گہری کیفیت نے اسے گھیر لیا ہو۔
“دوبارہ کبھی میرے سامنے ہاتھ نہ جوڑنا، ٹھیک ہے؟”
اس نے تڑپ کر اس کے نازک ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں لے کر نیچے کیے، اسے مہرو کی بے بسی اسے گوارا نہیں تھی۔ مہرو نے فوراً اس کی گرفت سے اپنے ہاتھ چھڑا لیے، جیسے کسی جلتے انگارے کو چھو لیا ہو۔ زیغم کی چھونے کی حدت اس کے وجود میں کہیں سرایت کر گئی تھی، اس کے گلابی گال زیغم کے سامنے ہی شرم سے دہک اٹھے تھے۔
“اچھا ٹھیک ہے، مت لینا میرا نام، جب ایزی محسوس کرو گی تب لے لینا۔ مگر جلدی سے یہ کھاؤ تاکہ میں تمہیں میڈیسن دوں، مجھے کہیں جانا ہے۔”
زیغم نے نرمی سے سمجھاتے ہوئے کہا، اس کی آنکھوں میں گہری سنجیدگی تھی۔
“کہاں جانا ہے آپ کو اور واپس کب آئیں گے آپ؟”
یہ جملہ شاید مہرو بے اختیار بول گئی تھی، مگر زیغم سلطان کو اس کا یوں پوچھنا بہت اچھا لگا تھا۔ پہلی بار اسے کسی کا اس طرح ٹوکنا، روکنا اتنا خوشگوار محسوس ہوا تھا۔
“ضروری کام سے جا رہا ہوں، جلدی آ جاؤں گا اور تم یہاں محفوظ ہو، یہ تمہارے شوہر کا کمرہ ہے، یہاں کسی کی جرات نہیں کہ میری اجازت کے بغیر قدم رکھ سکے۔ بے فکر ہو کر آرام سے رہو۔”
زیغم نے اسے اطمینان دلانے والے انداز میں کہا، جیسے چاہتا ہو کہ اس کے چہرے سے پریشانی کے تمام رنگ مٹ جائیں۔ آتے ہی گھر والوں نے جو سلوک کیا تھا اس کی وجہ سے مہرالنساء بہت ڈر چکی تھی اور زیغم سلطان اس کے ڈر سے ناواقف نہیں تھا۔ مہرو نے بس تھوڑے سے فروٹس کھائے اور زیغم نے اسے دوا دے کر آرام کرنے کا کہہ دیا۔ وہ خاموشی سے تکیے پر سر رکھ کر لیٹ تو گئی تھی، مگر اس کے دماغ میں خیالات کا طوفان مچ گیا تھا۔ اس کے چہرے پر بے شمار سوالات کے سائے تھے، جو اس کے اندر کی الجھنوں کی گواہی دے رہے تھے۔ زیغم کے کہنے پر اس نے اس کمرے میں رکنے کا فیصلہ تو کر لیا تھا، مگر اس کے دل و دماغ میں ہزاروں سوالات گردش کر رہے تھے۔ زیغم کے جواب اس کے دل کو مطمئن نہیں کر سکتے تھے، اسے پرسکون ہونے کے لیے وقت چاہیے تھا اور یہ بات زیغم بھی اچھی طرح سے جانتا تھا۔ وہ زبردستی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اسے مہرو کو سنبھلنے کا وقت دینا ہوگا۔
وہ دو مختلف دنیا کے لوگ تھے، جنہیں ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے وقت درکار تھا اور اس وقت کی سب سے زیادہ ضرورت مہرو کو تھی، کیونکہ زیغم تو اسے دل سے قبول کر چکا تھا، اپنی روح میں اتار چکا تھا۔ اپنا فون اٹھاتے ہوئے، الماری سے دوسری اجرک نکالی، گلے میں ڈالی اور ایک گہری نظر مہرو پر ڈال کر خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔
°°°°°°°°°°
“حد ہو گئی، آج تو سانس لینے کی فرصت بھی نہیں ملی!”
ملیحہ نے تھکے تھکے لہجے میں کہا اور اپنی ساتھی ٹیچر کو دیکھا، جو خود بھی تھکن سے چور لگ رہی تھی۔
“ہاں، واقعی… پورا دن امتحانات کی نگرانی میں گزر گیا، اب بس گھر جا کر سکون کریں گے۔”
ساتھی ٹیچر نے آہ بھر کر کہا۔
ملیحہ روزے کی حالت میں سارا دن کام میں مصروف رہی تھی۔ وہ دونوں سکول سے نکل کر گاؤں کے کچے راستے پر چلتی جا رہی تھیں، جہاں دائیں طرف کھیتوں کی ہریالی اور بائیں جانب اونچے درختوں کی قطار تھی۔ کچھ فاصلے پر بچے کھیل رہے تھے اور کہیں دور سے گدھوں کے ہلکے ہلکے ڈکرانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ اسی وقت، زیغم سلطان کی گاڑی گاؤں کے داخلی راستے پر آ کر رکی۔ وہ خود باہر نہیں نکلا، لیکن اس کا خاص آدمی، رفیق، جو ہمیشہ گاؤں کی خبروں سے اسے باخبر رکھتا تھا، اس نے گاڑی چلاتے ہوئے اچانک سے ایک ایسی حقیقت سے پردہ ہٹایا کہ زیغم سلطان کہ رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ رفیق کی بات پر اسے یقین نہیں آیا۔
“سچ کہہ رہے ہو تم؟”
زیغم نے چونک کر رفیق کی طرف دیکھا۔
“جی سائیں، سو فیصد سچ کہہ رہا ہوں!”
رفیق نے سنجیدگی سے سر ہلایا اور آہستہ آواز میں بولتے ہوئے نظریں سامنے سڑک پر مرکوز رکھیں کیونکہ جو حقیقت اس سے پتہ چلی تھی وہ حقیقت زیغم سلطان تک پہنچاتے ہوئے اسے ڈر لگ رہا تھا۔ زیغم نے پہلے رفیق کو گھورا، پھر گاڑی کے سائیڈ مرر میں نظر آتی اس لڑکی پر نگاہ ڈالی، جو گاؤں کی پگڈنڈی پر چلتی جا رہی تھی۔ وہ واقعی حسین تھی، سادگی میں لپٹی ہوئی مگر بے حد دلکش۔
ایک پل کے لیے زیغم سلطان خاموش رہا، پچھلی سیٹ پر بیٹھے بیٹھے اس نے گہری سانس لی۔ گاڑی آہستہ آہستہ آگے بڑھ گئی، مگر زیغم کے ذہن میں سوالوں کا ہجوم تھا۔ اس کا دماغ الجھنے لگا تھا۔ یہ خبر سننے کے بعد اب وہ خاموش نہیں رہ سکتا تھا، اسے جاننا تھا کہ حقیقت کیا ہے۔
“گاڑی واپس موڑو، رفیق! ہمیں حویلی جانا ہے!”
زیغم سلطان کا حکم سخت اور دو ٹوک تھا۔
رفیق نے ایک پل کے لیے سانس روکی اور پھر فوراً گاڑی موڑ لی۔ زیغم کی نظریں سڑک پر نہیں، بلکہ کسی گہری سوچ میں گم تھیں۔ اس کے چہرے پر عجیب سنجیدگی تھی، دل میں اٹھتے کسی بڑے طوفان کو قابو کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔
“رفیق ایک بات یاد رکھنا!”
زیغم نے رخ موڑ کر رفیق کی طرف دیکھا، اس کی گہری نیلی آنکھوں میں خطرناک چمک تھی۔
“اگر یہ بات جھوٹ نکلی تو تمہارا سر تن سے جدا کرنے میں دیر نہیں لگاؤں گا۔”
الفاظ بہت سختی سے ادا کیے گئے تھے۔
رفیق کی پیشانی پر پسینہ آنے لگا تھا، اس نے ایک پل کے لیے آئینے میں زیغم کے سخت تاثرات دیکھے اور تیزی سے سر ہلایا۔
“سائیں، میں نے ہر زاویے سے تصدیق کی ہے، میری کیا جرات کہ میں آپ تک غلط خبر پہنچانے کی ہمت کروں۔ یہ خبر جھوٹی نہیں ہے۔”
وہ آہستہ مگر پر اعتماد لہجے میں بولا۔
زیغم نے ایک نظر رفیق پر ڈالتے ہوئے نظروں کا زاویہ بدلہ، نظریں کھڑکی سے باہر دوڑتی زمین پر گاڑ دی۔
“یہ مت بھولنا کہ جس شخص پر تم نے شک کیا ہے، وہ میرے لیے بہت خاص ہے…, میں اس سے بے حد محبت کرتا ہوں!”
زیغم کی لہجے میں محبت بھی تھی تجسس بھی فکر بھی تھی اور غصہ بھی تاثرات اس کے چہرے سے رفیق مرر میں صاف دیکھ رہا تھا۔
“سائیں آپ تک خبر پہنچانا میرا فرض ہے اور میں نے اپنی طرف سے اس خبر پر پوری تصدیق کی ہے پھر ہی آپ تک پہنچائی ہے!”
رفیق نے مودبانہ انداز میں کہا۔ زیغم خاموش تھا۔
گاڑی سڑک پر دھول اڑاتی آگے بڑھ رہی تھی، مگر زیغم کے دل میں جو آگ لگی تھی، وہ اس دھول سے بھی زیادہ گہری تھی۔
°°°°°°°
دروازے پر ہلکی سی دستک کے بعد ملیحہ ایک پل کے لیے رکی۔ تیز دھوپ کے باعث گرمی محسوس ہو رہی تھی، مگر جیسے ہی دروازہ کھلا، وہ حیرت کے مارے ساکت رہ گئی۔
“فاریہ!”
ملیحہ کی دھڑکن جیسے رک گئی، اور بھوک، پیاس سب ایک لمحے میں غائب ہو گئے۔ دروازہ کھولنے والی فاریہ تھی! وہ بے اختیار چیخی اور دیوانگی سے اس کے گلے لگ گئی۔
“تم کب آئی؟ سچ کہوں، مجھے یقین نہیں آرہا فاریہ کی بچی!”
وہ اس سے لپٹ کر جھولتے ہوئے بولی، جیسے یقین نہ آ رہا ہو کہ فاریہ واقعی اس کے سامنے کھڑی ہے۔
“مجھے آئے ہوئے تین گھنٹے ہو گئے ہیں، اور تین گھنٹوں سے تمہارا انتظار کر رہی ہوں!”
فاریہ نے خوشی سے جواب دیا۔
“ہائے اللہ! میں تمہیں بتا نہیں سکتی کہ میں کتنی خوش ہوں! کتنی زیادہ!”
ملیحہ کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔
“پتہ ہے، میں تمہیں کتنا مس کر رہی تھی؟”
“اچھا، اچھا! پہلے اندر تو آ جاؤ، دروازے میں ہی کھڑی رہو گی؟”
ملیحہ کی ماں نے ہنستے ہوئے یاد دلایا۔
ملیحہ نے جلدی سے فاریہ کا ہاتھ پکڑا اور اندر آ گئی۔
“اچھا جلدی بتا، خالہ کیسی ہیں؟”
وہ بے تابی سے بولی۔
“اماں بالکل ٹھیک ہیں، تمہیں بہت سلام کہہ رہی تھیں۔”
“وعلیکم السلام! ان کی طبیعت کیسی ہے؟”
ملیحہ نے فکرمندی سے پوچھا۔
“وہ ویسی ہی ہیں جیسے رہتی ہیں، کبھی ٹھیک، کبھی بیمار… مگر تمہیں بہت یاد کرتی ہیں، ہم سب تمہیں بہت مس کرتے ہیں، ملیحہ!”
فاریہ نے ذرا اداس ہو کر کہا۔
“میں بھی تم لوگوں کو بہت یاد کرتی ہوں!”
ملیحہ نے نرمی سے جواب دیا۔
فاریہ نے فوراً بھنویں چڑھا لیں۔
“چل جھوٹی! یاد کرتی تو یہاں آ کر ہمیں بھول نہ جاتی، فون تک نہیں کرتی، ہمیشہ میں ہی کرتی ہوں!”
“ارے نہیں یار، ایسا کچھ نہیں ہے”
” بس اسکول میں بہت مصروفیت ہو گئی ہے، بچوں کے ایگزام ہو رہے ہیں، وقت ہی نہیں ملتا۔”
ملیحہ نے وضاحت دی، پھر جلدی سے بولی:
“اچھا چلو، شکوے بعد میں کرنا، پہلے اندر تو آؤ!”
اس نے فاریہ کا ہاتھ پکڑا اور کھینچتی ہوئی کمرے میں لے گئی، جہاں اس کے بابا کرسی پر بیٹھے نماز پڑھ رہے تھے۔ ملیحہ کی ماں بھی ان کی خوشی دیکھ کر مسکرا رہی تھیں۔ دونوں کی باتوں کا سلسلہ چل نکلا تھا، جیسے بچپن کا وقت واپس آ گیا ہو۔ کچھ دیر وہیں بیٹھی رہیں، پھر ملیحہ نے دیکھا کہ بابا ابھی نماز میں ہیں، تو اس نے فاریہ کا ہاتھ تھاما اور ساتھ والے چھوٹے سے کچے کمرے میں لے آئی، جہاں دو چارپائیوں پر سلیقے سے چادریں بچھی ہوئی تھیں۔
“سچ میں یار، تمہارے یہاں آنے کے بعد گھر ویران سا ہو گیا ہے۔”
فاریہ کی آواز میں ہلکی سی اداسی تھی۔
“اماں اکثر تمہیں یاد کرتی ہیں۔ ہر وقت کہتی رہتی ہیں کہ ملیحہ یہ کہتی تھی، ملیحہ وہ کرتی تھی، ملیحہ یہ، ملیحہ وہ…”
یہ کہتے ہوئے فاریہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ ملیحہ نے جلدی سے اسے اپنے گلے لگا لیا۔
“میں بھی تم سب کو بہت یاد کرتی ہوں، خاص کر جب مجھے اپنی کوئی بات شیئر کرنی ہوتی ہے، تو تم سب سے پہلے یاد آتی ہو۔ خالہ یاد آتی ہیں، جو میرے لیے چھوٹی چھوٹی چیزیں چھپا کر رکھتی تھیں۔”
ملیحہ ایک پل کو رکی، اور پھر تلخی سے بولی:
“بس نہیں یاد آتے تو خالو نہیں یاد آتے… ان کی طنزیہ باتوں نے مجھے بہت تکلیف پہنچائی ہے۔ باقی تم لوگوں سے تو دل کا رشتہ ہے، یار! میں تمہیں کیسے بھول سکتی ہوں؟ سارا بچپن اور اب تک کی جوانی تمہارے ساتھ گزری ہے۔ اس گھر سے تو میں جڑ چکی ہوں، مگر تم تو سالوں سے اس گھر سے جڑی ہوئی ہو۔”
ملیحہ کے لہجے میں محبت اور اپنائیت تھی، وہ بولتی جا رہی تھی اور فاریہ اسے پیار سے اپنے گلے لگائے بیٹھی تھی۔
“ابا کو تو چھوڑو، انہیں تو ہمیشہ سے ہی بولنے کی عادت رہی ہے۔”
فاریہ نے آہستہ سے کہا، جیسے ملیحہ کے درد کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔
“اب تمہارے جانے کے بعد کیا سدھر گئے ہیں، نہیں، اب بھی اماں کو طعنے دیتے ہیں، مجھ سے جھگڑتے رہتے ہیں۔ ان کی عادت ہے یار، چھوڑو۔”
فاریہ نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما۔
“اور میں تمہارے لیے بہت خوش ہوں کہ تم یہاں آ گئی ہو!”
“اچھا یار، تم مجھے زرام بھائی کے بارے میں بتاؤ۔”
ملیحہ نے اچانک اس کے چہرے پر نظریں جما دیں۔
“کیا بتاؤں زرام بھائی کے بارے میں؟”
فاریہ نے بیزار سا چہرہ بنا کر کہا۔
“زیادہ ایکٹنگ کرنے کی ضرورت نہیں!”
“جب وہ اسی گاؤں میں رہتے ہیں اور تمہارا ان سے سامنا ہوتا ہی رہتا ہے، تو بتاؤ لوو اسٹوری کہاں تک پہنچی”
“جلدی بتاؤ، پتہ ہے یہ تجسس مجھے وہاں جینے نہیں دے رہا تھا! کتنی مشکل سے کال سینٹر سے چھٹی لی ہے اور یہاں آئی ہوں، بس تم سے سامنے بیٹھ کر جاننا چاہتی ہوں کہ آخر میری بہن کی لوو اسٹوری کہاں تک پہنچی؟”
وہ کندھے سے کندھا مارتے ہوئے شوخ انداز میں بولی، لہجے میں تجسس اور شرارت تھی۔
“جس نے یہ رپورٹ تم تک پہنچائی ہے، اسی سے پوچھ لو کہ لوو اسٹوری کہاں تک پہنچی!”
ملیحہ نے لفظوں کو روک روک کر ادا کیا اور اسے گھورنے لگی۔ اسے اچھی طرح پتہ تھا کہ یہ ساری خبریں فاریہ تک فیصل نے پہنچائی ہوں گی۔
“نہیں بھئی! پرسنل باتیں دوسروں سے پوچھنا اچھا نہیں لگتا، نا۔ اس لیے میں نے سوچا کہ یہ تو میری بہن کی لوو اسٹوری ہے، تو اپنی بہن سے ہی پوچھ لوں!”
فاریہ نے دانت نکالتے ہوئے شرارت سے کہا۔
“کوئی سلسلہ نہیں، کوئی لوو اسٹوری نہیں! جو دو ملاقاتیں ہوئی ہیں، وہ بھی محض حادثاتی طور پر! اور دونوں بار اس لفنگے نے نہ صرف ٹھرکی نظروں سے دیکھا، بلکہ نظریں ٹھنڈی کرنے کے بعد ہاتھ پکڑنے کی کوشش بھی کی! اور پھر تم کہتی ہو کہ میں اس کے بارے میں ایسا کچھ مت بولوں۔ روزے میں بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتا!”
ملیحہ زرام کی شان میں قصیدہ پڑھتے ہوئے بولی، چہرے پر واضح ناگواری تھی۔
“استغفراللہ! میں اتنی دور سے یہ سننے نہیں آئی! وہ بیچارے ایسے بالکل بھی نہیں ہیں، کتنے شریف انسان ہیں، میں اچھی طرح جانتی ہوں!”
“خواہ مخواہ میرے ہونے والے بہنوئی پر الزام مت لگاؤ!”
فاریہ نے فوراً دفاع کیا۔
“شٹ اپ! ہونے والے بہنوئی؟”
“میں نے تو اسے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا، اور تم اسے بہنوئی بنانے بیٹھ گئی ہو؟ بڑی آئی!”
ملیحہ نے خفگی سے کہا۔
“ہاں تو سوچ لو نا، کس نے منع کیا ہے؟”
فاریہ نے شوخی سے کہا۔
“اگر تم نے یہی واہیات باتیں کرنی ہیں، تو تم واپس جا سکتی ہو!”
ملیحہ نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔
“تین دن کے لیے آئی ہوں، واپس جانے کا میرا کوئی ارادہ نہیں!”
“اور تین کیا، یہ قیام پانچ دن کا بھی ہو سکتا ہے اور باتیں بھی میں یہی کرنے والی ہوں، جو کرنا ہے کر لو!”
فاریہ نے مزے سے جواب دیا۔
دونوں آپس میں اسی موضوع پر بحث کرتے جا رہی تھیں۔ کبھی ملیحہ فاریہ کو جھڑک دیتی، تو کبھی اس کی کسی بات پر ہنس دیتی مگر دونوں ہی ایک دوسرے سے باتوں میں اس قدر مگن تھیں کہ انہیں وقت گزرنے کا احساس تک نہیں ہو رہا تھا۔
°°°°°°°°°°
کھڑکی کے سامنے کھڑا وہ خاموشی سے باہر دیکھ رہا تھا، بے خیال نظروں میں ایک انجانی سی ویرانی تھی۔ خاموشی میں بھی اس کے اندر کا درد صاف دکھائی دے رہا تھا۔ آغا جان سے کیا گیا وعدہ دماغ میں کسی کٹی پتنگ کی طرح الجھا ہوا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اب پیچھے ہٹنا ممکن نہیں، وہ ہاں کر چکا تھا—اس رشتے کے لیے، جس میں نہ دل کی رضامندی تھی، نہ ذہن کی تسلی مگر پھر بھی، وہ آغا جان کی زندگی بچانے کے لیے، ان کا فرمانبردار بیٹا بننے کے لیے، مائد خان دورانی اس چکی میں پسنے کو تیار تھا۔
یہی محبت کی معراج تھی—کہ اپنی خوشیوں کو قربان کر کے اپنوں کے لیے وہ راستہ چنا جائے جس پر چلنا آسان نہیں ہوتا۔ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی، اور درخزائی اندر آیا، اس کے ساتھ ارمیزہ بھی تھی، جو چھوٹے چھوٹے قدموں سے اس کے پیچھے چل کر آ رہی تھی۔
“ہمیں بھی آپ کے ساتھ جانا ہے!”
درخزائی نے سنجیدگی سے کہا۔
مائد خان نے ایک نظر ان دونوں پر ڈالی، پھر رخ موڑ لیا۔
“کہاں جانا ہے؟”
“ہاسپٹل”
درخزائی نے مختصر جواب دیا۔
“آغا جان وہاں ایڈمٹ ہیں، اور ہم بھی ان کی خیریت جاننا چاہتے ہیں۔”
“چاچو، ہم بھی چلیں گے، آغا جان بیمار ہیں، ہمیں بھی دیکھنا ہے۔”
ارمیزہ، جو ہمیشہ شرارتوں میں مگن رہتی تھی، آج غیر معمولی طور پر سنجیدہ تھی۔ وہ مائد خان کے قریب آ کر اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے معصومیت سے چہرہ اٹھا کر اس کی جانب دیکھتے ہوئے بولی۔
مائد خان نے گہری سانس لی اور ارمیزہ کے چھوٹے سے ہاتھ کو نرمی سے تھام لیا۔
“ٹھیک ہے، چلو۔”
“ٹھیک ہے بھائی، میں چیک کرتا ہوں آغا جان کے لیے کھانا ریڈی ہے یا نہیں۔ اگر کچھ اور لے کر جانا ہے تو بتا دیں۔”
درخزائی نے سنجیدگی سے کہا، اس کا انداز ہمیشہ کی طرح ذمہ دار اور پرسکون تھا۔
“مورے کی میڈیسن بھی ساتھ لے جانی ہے اور مورے کے لیے کپڑے بھی… وہ ابھی گھر آنے کے موڈ میں نہیں ہیں، تو پلیز اُن کے کپڑوں کا کچھ ارینج کروا دو۔”
مائد نے درخزائی کی جانب دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔
“اوکے بھائی۔”
درخزائی نے سر ہلایا اور ارمیزہ کا ہاتھ تھام کر روم سے نکل گیا، اس کے چہرے پر سنجیدگی اور ذمہ داری واضح تھی۔
مائد ایک لمحے کے لیے ساکت کھڑا رہا۔ وہ کب کا تیار ہو چکا تھا، مگر دل میں ایک عجیب سا ویکیوم تھا، جیسے اندر کہیں کچھ خالی ہو رہا ہو۔ وہ گہری سوچوں میں الجھا کھڑا تھا کہ دروازے پر ایک بار پھر دستک ہوئی۔
“کم اِن۔”
دانیا اندر داخل ہوئی، تو مائد اپنی کمر پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔ مائد خان درانی کے ہاتھ بے اختیار اپنی کمر سے ہٹ گئے۔ اس کی نظریں بے یقینی سے بھر گئیں، کیونکہ دانیا نے پہلے کبھی اس کے روم میں یوں قدم نہیں رکھا تھا۔
“جی، آپ کو کوئی کام تھا؟”
مائد نے رسمی انداز میں پوچھا، لہجے میں ہلکی سی اجنبیت تھی۔
“نہیں… کیوں بغیر کسی کام کے میں آپ سے بات نہیں کر سکتی؟”
دانیا نے آہستہ سے نظریں جھکاتے ہوئے کہا۔
“یہ تو آپ ہی بہتر بتا سکتی ہیں۔”
مائد نے نظریں جمائے بغیر جواب دیا، اس کے انداز میں نرمی کم اور لاتعلقی زیادہ تھی۔
“مجھے بس یہ پوچھنا تھا کہ… کیا اس دن میرے رویے سے آپ ناراض ہیں؟”
“اگر ہاں، تو میں معذرت چاہتی ہوں۔ سوری… میرا مقصد آپ کا دل دکھانا یا آپ کی انسلٹ کرنا نہیں تھا۔”
وہ دروازے کے قریب کھڑی نظریں جھکائے ہوئے شرمندگی سے بول رہی تھی کیونکہ دانیا کو لگ رہا تھا کہ اس دن اس سے نہ چاہتے ہوئے بھی مائد کے ساتھ مس بیہیو ہوا تھا۔ مائد نے لب بھینچ کر ایک لمحے کو خاموشی اختیار کی، اور پھر سنجیدگی سے اس کی جانب دیکھا۔
“میں آپ کا بہت احترام کرتا ہوں، آپ کی بہت عزت کرتا ہوں… آپ جس کی بہن ہیں، وہ مجھے اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے اور آپ کو مجھ سے معذرت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔”
“ہاں، مگر… دکھ ضرور ہوا تھا۔ اس دن آپ مجھ سے انسکیور فیل کر رہی تھیں، اور میرے خیال سے یہ میرے لیے کوئی فخر کی بات نہیں ہونی چاہیے، مگر… اٹس اوکے… ہم کسی کے جذبات بدل نہیں سکتے۔ آپ نے میرے بارے میں جو محسوس کیا، وہ آپ کی اپنی رائے تھی۔”
مائد کا لہجہ پرسکون تھا، مگر اس کے الفاظ میں ایک غیر محسوس سا کرب چھپا تھا۔
“خدا کی قسم، مجھے آپ کی نیک نیتی پر کبھی کوئی شک نہیں ہوا، میں تو آپ کے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔”
دانیا کے لہجے میں سچائی کی شدت تھی، آنکھیں نمی سے بھری ہوئی تھیں۔
“اگر زیغم بھائی بغیر سوچے سمجھے مجھے آپ کے گھر چھوڑ کر گئے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ یقین کے قابل ہیں!”
وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔
“اور آپ کے گھر میں، مجھے جتنی محبت، جتنی اپنائیت ملی، اس کا میں جتنا بھی شکریہ ادا کروں، وہ کم ہے۔”
اس کے لفظوں میں عقیدت اور ممنونیت کا رنگ واضح تھا، وہ دل سے یہ سب کہہ رہی تھی۔
“اس گھر میں آپ کو عزت ملی کیونکہ آپ عزت کے قابل ہیں۔ آپ زیغم سلطان کی بہن ہیں، ہمارے لیے بہت معتبر ہیں آپ۔”
مائد خان کی آواز میں ٹھہراؤ تھا، الفاظ ناپ تول کر ادا کیے گئے تھے۔
“اور جہاں تک آپ مورے کی محبت کی بات کر رہی ہیں، تو وہ آپ دونوں کا پرسنل میٹر ہے۔ وہ آپ کو اپنی بیٹی سمجھتے ہیں اور آپ کی نظروں میں ان کے لیے ماں والی عقیدت چھلکتی ہے۔ اس میں میرا کوئی احسان نہیں جو آپ کو میرا شکر گزار ہونا پڑے۔”
مائد کے لہجے میں نا چاہتے ہوئے بھی ناراضگی کے رنگ ظاہر ہو رہے تھے۔
“اور اگر آپ درخزائی کی بات کر رہی ہیں، تو وہ آپ کو اپنی بڑی بہن مانتا ہے، اور آپ بھی اسے بھائی سمجھتی ہیں، تو اس میں بھی میرا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ لہٰذا آپ کو میرا شکر گزار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔”
مائد کی نظریں ایک پل کے لیے دانیا کے چہرے پر ٹھہری۔
“آپ اس حویلی میں آئیں، اس کے لیے ہم آپ کے شکر گزار ہیں۔”
“ہماری خوش قسمتی ہے کہ زیغم سلطان نے ہمیں اس قابل سمجھا کہ ہم اس کی عزت کو چند دن مہمان بنا کر اپنے گھر رکھ سکیں!”
کچھ دیر کے لیے کمرے میں خاموشی چھا گئی، مائد کے الفاظ کی شدت نے ہوا میں ہلکی سی لرزش پیدا کر دی تھی۔ مائد نے نظریں گھمائیں اور رخ دانیا کی جانب سے موڑ کر دوسری جانب کرتے ہوئے کچھ دیر خاموشی کے بعد پھر سے بات شروع کی۔
“محبت، رشتے، عزت… یہ سب چیزیں شکریہ ادا کرنے سے نہیں بلکہ دل سے محسوس کرنے سے مضبوط ہوتی ہیں۔ پتہ نہیں آپ کیوں اس گھر میں خود کو پرایا محسوس کرتی ہیں جبکہ آپ کو سب اس گھر کا حصہ مانتے ہیں اور اپنے ہی گھر میں کوئی کسی کا احسان مند نہیں ہوتا۔”
اس کی بات میں جو یقین تھا، وہ دانیا کی پلکوں میں نمی لے آیا، مگر اس نے فوراً نظریں جھکا لیں۔ وہ خاموشی سے مائد کی بات سن رہی تھی کیونکہ مائد کی باتوں میں لفظوں کا بہترین چناؤ بھی تھا اور لہجے میں نرمی اور اپنایت بھی۔
“کچھ رشتے خون سے نہیں، دل کے احساس سے بنتے ہیں۔ اور جب دل مان لے، تو شکرگزاری کی نہیں، بس ساتھ نبھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔”
“پلیز، آپ مجھے بھی اپنے ساتھ ہاسپٹل لے چلیے۔ آغا جان کی خیریت دریافت کرکے میں درخزائی اور ارمیزہ کے ساتھ واپس آ جاؤں گی!”
مائد کی باتوں کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، تو اس نے بات کا رخ بدل دیا۔
مائد کچھ دیر تک خاموش رہا، جیسے کچھ سوچ رہا ہو، پھر سنجیدگی سے بولا:
“ٹھیک ہے، تیار ہو جاؤ، ہم تھوڑی دیر میں نکل رہے ہیں!”
دانیا نے آہستہ سے سر ہلاتے ہوئے ‘شکریہ’ ادا کیا، اور کمرے سے چلی گئی۔
“اے قسمت! تیرے کھیل بھی کیسے نرالے ہیں”
“کہیں بے بسی قید ہے، کہیں فریاد کے تالے ہیں”
“کہیں کوئی شدت سے تڑپ رہا ہے”
“اور کہیں کسی کو خبر ہی نہیں کہ کوئی اس کے لیے بےقرار ہے”
“کہیں نگاہیں منتظر، مگر دیکھنے والا کوئی نہیں”
“کہیں دل کی دھڑکنیں بے تاب، مگر سننے والا کوئی نہیں”
“کوئی ہر لمحہ کسی کی چاہت میں جلتا ہے”
“اور کوئی بے خبری کی چادر تانے اپنی دنیا میں مگن ہے”
“اے قسمت! یہ کیسا کھیل ہے؟”
“کوئی ہر احساس لفظوں میں باندھنے سے قاصر”
“اور کوئی جذبات کی اس خاموشی سے بے نیاز!”
مائد خان گہری سوچ میں ڈوبا ہوا، کمر پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔
°°°°°°°°°
زیغم سلطان اس وقت ہزاروں سوچوں میں گھرا، پریشانی کے عالم میں تیزی سے سیڑھیاں چڑھتا ہوا زرام کے کمرے کے دروازے پر جا رکا۔ اس کے قدموں میں بے چینی تھی، دل میں اضطراب۔
دروازے کو بے صبری سے کھٹکھٹایا تو اندر سے زرام کی آواز سنائی دی۔
“کون؟ آجائیں!”
زیغم سلطان نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوتے ہی دروازہ بند کر دیا۔
“زیغم بھائی! آپ؟”
“میں آپ سے ملنا چاہتا تھا، مگر اسٹاف سے پتہ چلاکہ آپ جا چکے ہیں!”
زرام نے مسکراتے ہوئے موبائل ٹیبل پر رکھا اور صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا مگر زیغم کے چہرے کے زاویے اس کی مسکراہٹ سے بالکل میل نہیں کھا رہے تھے۔ اس کے تاثرات سخت تھے، نظریں گہری اور چہرہ غصے سے تپا ہوا۔
“بھائی، ایوری تھنگ اوکے؟ خیریت ہے؟”
زرام نے حیران نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
“نہیں، بالکل خیریت نہیں! کچھ سوالوں کے جواب چاہیے، اور وہ بھی سچ!”
زیغم نے کسی تمہید کے بغیر صوفے پر بیٹھتے ہوئے ٹانگ پر ٹانگ جمائی، اس کا لہجہ بے حد سنجیدہ تھا۔ گہری نیلی آنکھوں میں سوالوں کا عکس نظر آرہا تھا۔
“جی بھائی، حکم کریں! میں آپ سے جھوٹ نہیں بول سکتا، آپ تو جانتے ہیں کہ میں کسی سے بھی جھوٹ نہیں بولتا!”
زرام نے پریشانی سے زیغم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
“ہاں، مجھے معلوم ہے کہ تم جھوٹ نہیں بولتے… اور آج تو بالکل بھی گنجائش نہیں ہے!”
زیغم نے گہری نظر اس پر ڈالی۔
“بیٹھ جاؤ!”
صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا مگر ذرام کھڑا رہا تھا اسے زیغم کا لہجہ، اس کا غصہ عجیب سے خطرے کی بو محسوس کروا رہا تھا۔
“بیٹھ جاؤ!”
اب کی بار زیغم نے پہلے سے زیادہ سخت لہجے میں کہا۔
زرام نے تھوڑا تذبذب محسوس کیا، مگر پھر خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گیا۔ اس کی پیشانی پر ہلکی سی شکن ابھری، نظریں زیغم کے چہرے پر جمی تھیں۔
“بھائی، سب خیریت ہے؟”
الجھتے ہوئے لہجے میں بیٹھتے ہوئے آہستہ سے پوچھا۔
“میں بات کو گھماؤں گا نہیں، سیدھا مدعے کی بات کروں گا…”
زیغم نے گہری نظروں سے زرام کو دیکھتے ہوئے کہا، پھر سنجیدگی سے آگے جھکا۔
“اور مدعا یہ ہے کہ… تمہاری نظروں میں عورت کیا ہے؟”
زارم، جو پہلے ہی زیغم کی سنجیدگی سے تھوڑا الجھا ہوا تھا، ایک پل کے لیے ٹھٹھک گیا۔ اس نے ہلکی سی الجھن سے زیغم کی طرف دیکھا، جیسے سوال کے پیچھے چھپی شدت کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
“بھائی، میں سمجھا نہیں… یہ کیسا سوال ہے؟”
زرام نے الجھن سے زیغم کی طرف دیکھا۔
“صرف جواب چاہیے!”
زیغم نے سختی سے بات کاٹ دی، اس کی نظریں خون کی طرح سرخ ہو رہی تھیں، جیسے اندر کوئی طوفان دبائے بیٹھا ہو۔
“میرے سوال کو بیٹ کرنے کی کوشش بھی مت کرنا!”
وہ زرام کے چہرے پر نظریں گاڑھے بے حد سنجیدگی سے بولا۔
“بھائی، میرے لیے عورت ایک مقدس نام ہے، احترام اور عزت کا دوسرا نام ہے۔”
زرام نے مضبوط لہجے میں کہا، نظریں جھکائے بغیر زیغم کی طرف دیکھتے ہوئے۔
“عورت وہ ہستی ہے جس کے بغیر یہ دنیا ادھوری ہے، جو قربانی دیتی ہے مگر شکایت نہیں کرتی، جو ٹوٹ کر بھی دوسروں کو جوڑنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔”
وہ ٹھہرے ہوئے انداز میں بولا۔
“یہ رشتوں کی بنیاد ہے، گھر کی رونق ہے، اور سب سے بڑھ کر عزت اور وقار کی مستحق ہے۔ میرے لیے عورت کا وجود قابلِ فخر ہے، نہ کہ بحث کا موضوع۔”
زرام کی آواز میں عزم تھا،اور وہ پوری سچائی کے ساتھ اپنے ہر لفظ پر قائم تھا۔ زیغم کی تیز اور گہری نظریں زرام کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔
“گڈ… اور یہ سارا احترام، یہ ساری وضاحت، صرف اپنی گھر کی بہو بیٹیوں کے لیے ہے؟ یا یہ عزت ہر غریب اور عام انسان کی بہو بیٹی کے لیے بھی ہے؟”
زیغم کی آواز میں سختی اور گہرا طنز چھپا تھا، جیسے وہ زرام کے ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہو۔ زارم پل بھر کو خاموش ہوا، اس سوال نے اسے اندر تک ہلا دیا تھا۔
“بھائی، میرے خیال سے آپ مجھے اتنا تو جانتے ہیں… پھر اس سوال کا مقصد؟ میں سمجھ نہیں پایا۔”
“مجھ سے ایسی کیا خطا ہوئی جو آپ کو یہ سوال پوچھنے کی ضرورت پیش آ گئی؟”
زارم کو زیغم کا یہ سوال برا لگا تھا، مگر وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ زیغم اس سے اس طرح کے سوال کر کیوں رہا ہے۔ اگرچہ زیغم سلطان جب بھی کوئی سوال کرتا تھا، تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی ٹھوس وجہ ضرور ہوتی تھی، یہ بات زرام اچھی طرح جانتا تھا مگر اس وقت وہ اس سوال کے پیچھے چھپی وجہ کو سمجھنے سے قاصر تھا۔
“یقین تھا، تو اسی لیے تمہارے پاس، تمہارے سامنے بیٹھ کر تم سے ہی وضاحت مانگ رہا ہوں ورنہ تمہاری جگہ یہ حرکت کوئی اور کرتا، تو شاید میں وضاحت کا موقع بھی نہ دیتا!”
“بات جب سلطان کے گاؤں کی بہو بیٹیوں کی ہوگی، تو بات صاف ہے—میں کوئی رشتہ، کوئی لحاظ نہیں رکھوں گا۔ میرے لیے گاؤں کی ہر بہو، ہر بیٹی کی عزت و مقام وہی ہے جو میرے لیے دانیا کا ہے، ارمیزہ کا ہے۔ اور ہر ماں کا وہی رتبہ ہوگا جو میرے لیے اماں سائیں کا تھا۔”
“سرپنچ کے رتبے پر بیٹھتے ہی میں نے ایک بات دل میں سوچی تھی کہ ’اپنی بیٹی کو عزت دو اور دوسری کی بیٹی کی عزت کو اچھا لو‘—اس روایت کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دوں گا۔ اور میں اس پر قائم ہوں، اور مرتے دم تک، انشاءاللہ، قائم رہوں گا!”
زیغم کے الفاظ میں ٹھہراؤ تھا، مگر اس کے لہجے کی سختی اس کے عزم کو واضح کر رہی تھی۔
“جی بھائی، میں آپ کی سوچ کی ویلیو کرتا ہوں۔ مجھے فخر ہے اپنے بھائی پر کہ آپ نے یہ سب سوچا، اور صرف سوچا ہی نہیں، بلکہ اس گاؤں میں یہ اصول بھی قائم کیے مگر… آپ کو مجھ سے کیا شکایت ہے؟ میں یہ نہیں سمجھ پا رہا۔”
زرام کی پیشانی پر الجھن کی لکیریں واضح ہو رہی تھیں۔ وہ زیغم کے انداز کو دیکھ رہا تھا، مگر اس کے سوالوں کے پیچھے چھپی اصل وجہ کو سمجھنے سے ناکام تھا۔
“مجھ تک شکایت پہنچی ہے کہ تم نے گاؤں کی ایک کسان کی بیٹی کا ہاتھ کھلے عام سڑک پر زبردستی پکڑ رکھا تھا۔ تمہارے بارے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ تم بیچ سڑک پر گاڑی روک کر اس لڑکی کو پریشان کرتے ہو۔”
زیغم کی نظریں زرام کے چہرے پر جمی تھیں، اس کی آواز میں وہی ٹھہراؤ اور سختی تھی جو ہمیشہ انصاف کی دہلیز پر قدم رکھنے سے پہلے ہوتی ہے۔
“میرے دل نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا، مگر فیصلے صرف دل سے نہیں کیے جاتے، دماغ کی بھی سننی پڑتی ہے۔ اسی لیے میں تمہارے پاس آیا ہوں۔ اب مجھے جھوٹ نہیں سننا، باتوں کو گھمانا مت۔ صاف اور سیدھے الفاظ میں جواب دو کہ کیا یہ بات سچ ہے؟”
زیغم کی آنکھوں میں سرخی تیرنے لگی تھی۔ وہ سچ جاننا چاہتا تھا، اور کسی بھی صورت میں جھوٹ برداشت نہیں کرنے والا تھا۔
“بھائی، نہ تو زرام نے آج تک جھوٹ بولا ہے اور نہ کبھی بولے گا۔ نہ تو میں آپ سے جھوٹ بول سکتا ہوں اور نہ ہی مجھے کسی اور سے جھوٹ بولنے کی ضرورت ہے۔ آپ تک جو بات پہنچی ہے وہ آدھی سچ اور آدھی جھوٹ ہے۔”
زارام نے فوراً بات کی نوعیت کو سمجھ لیا تھا، اسی لیے اس کے لہجے میں بھی تھوڑی سی سختی آ گئی تھی۔ زیغم نے گہری نظروں سے اسے دیکھا، جیسے الفاظ کے بجائے چہرے کے تاثرات سے سچ کو پرکھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
“تو ٹھیک ہے، پھر سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے بتاؤ؟”
زیغم کا انداز وہی تھا، دو ٹوک، فیصلہ کن اور بے لچک۔
زارام نے ایک گہرا سانس لیا، نظریں زیغم کے چہرے پر جمائیں، جہاں بھائی کی محبت نہیں، بلکہ گاؤں کے سرپنچ کا وقار، انصاف کا عزم اور سچ کی روشنی تھی۔ زیغم کے لہجے میں کوئی لچک نہیں تھی، نہ نرمی، نہ ہچکچاہٹ۔ وہ اس وقت صرف زرام کا بڑا بھائی نہیں، بلکہ گاؤں کا وہ سردار تھا جو جرگے میں بیٹھ کر ہر کسی کے لیے برابر کا انصاف کرتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہی دبدبہ، وہی رعب، وہی ایمانداری اور وہی سچائی جھلک رہی تھی جو اسے ہمیشہ دوسروں سے منفرد بناتی تھی۔
زارام نے بمشکل اپنے لہجے کو مضبوط کرتے ہوئے کہنا شروع کیا۔
“بھائی، میں نے واقعی اس لڑکی کا ہاتھ پکڑا تھا، مگر…”
زیغم سلطان کی نظریں زرام کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں، اس کی آنکھوں میں وہی سختی اور جلال تھا جو انصاف کرتے وقت آتا تھا۔ زرام نے نظریں چرائیں، مگر فوراً ہی سنبھل کر سیدھا زیغم کی جانب دیکھنے لگا۔
“کسی غلط ارادے سے نہیں، بھائی… میں اسے شہر سے جانتا ہوں اور عزت سے شادی کر کے اپنی بیوی بنانا چاہتا ہوں۔”
زرام کی آواز میں واضح سنجیدگی تھی، جیسے وہ اپنی سچائی ثابت کرنا چاہتا ہو۔
“میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں، اسے باعزت طریقے سے پروپوز کر چکا ہوں۔”
زیغم کا چہرہ بے تاثر تھا، جیسے وہ جانچ رہا ہو کہ زرام کی زبان سے نکلا ہر لفظ سچ ہے یا محض ایک بہانہ۔ زرام نے گہری سانس لی اور نظریں جھکا کر بولنے لگا۔
“اور… اس دن، بیچ سڑک پر جو مجھ سے غلطی ہوئی، ہاتھ پکڑنے والی بات… میں اس پر شرمندہ ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ وہ ایک غلط طریقہ تھا، جو مجھے زیب نہیں دیتا تھا۔”
زیغم نے ہاتھ کی انگلیاں آپس میں پھنسا کر اپنی گرفت مضبوط کرلی، جیسے خود کو کسی ردِعمل سے روک رہا ہو۔ زرام نے نظریں اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
“میں آپ سے بھی معافی مانگتا ہوں، اور اس سے بھی جا کر مانگ لوں گا۔”
کمرے میں لمحہ بھر کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی تھی۔ زیغم سلطان کی آنکھوں کی سرخی زرام کی روح تک اترتی محسوس ہو رہی تھیں۔ زیغم کے چہرے پر چھائی سنجیدگی لمحہ بھر کو بھی کم نہیں ہوئی تھی۔ زرام کی بات ختم ہوتے ہی وہ تھوڑا سا آگے جھکا، نظریں سیدھی اس کی آنکھوں میں گاڑھ دیں۔
“محبت کرنا جرم نہیں، زرام… مگر محبت کی آڑ میں عزت پر حرف آنا، یہ ناقابلِ معافی ہے۔”
زیغم کا لہجہ سخت مگر جذبات سے عاری تھا۔
“اگر تم واقعی اس سے عزت کے ساتھ رشتہ جوڑنا چاہتے ہو، تو تمہیں اپنی نیت اور اپنے عمل دونوں کو یکساں پاک رکھنا ہوگا۔ تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تمہاری اس ایک حرکت سے اس لڑکی کی عزت پر کتنے سوال اٹھ سکتے تھے؟”
“تمہارا ہاتھ پکڑنا شاید تمہارے لیے ایک لمحے کی غلطی تھی، مگر اس کے لیے ایک عمر بھر کا طعنہ بن سکتا تھا۔”
زارام نے شرمندگی سے نظریں جھکا لیں۔
“بھائی، میں جانتا ہوں، مجھ سے غلطی ہوئی، مگر میں اسے سدھارنا چاہتا ہوں۔ میں نے اس سے دل سے محبت کی ہے اور اسے عزت کے ساتھ اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں۔ میں اس کی اور اپنی عزت پر کوئی حرف نہیں آنے دوں گا۔”
زیغم نے اس کی بات سنی، پھر سر جھٹک کر کھڑا ہوا۔
“اگر تم سچے ہو، تو ثابت کرو۔ نہ صرف اس لڑکی کے سامنے، بلکہ اس گاؤں کے سامنے بھی، تاکہ کسی کو تمہاری نیت پر شک نہ رہے۔ معافی صرف زبان سے نہیں، عمل سے مانگی جاتی ہے، زرام۔”
زارام نے ایک گہری سانس لی، جانتا تھا کہ زیغم جو کہہ رہا ہے وہی سچ ہے۔
“میں ثابت کروں گا، بھائی۔ میں اپنی محبت کو بے داغ رکھوں گا۔”
زیغم نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ایک ہلکا سا سر ہلایا، مگر اس کے چہرے کی سختی اب بھی کم نہیں ہوئی تھی۔
“جس کو محبت کی جاتی ہے، اس کے گھر پر باعزت طریقے سے رشتہ بھیجا جاتا ہے۔ جس سے محبت کی جاتی ہے، خود سے پہلے اس کی عزت و آبرو کے بارے میں سوچا جاتا ہے اور محبت میں کبھی بھی یہ نہیں سوچا جاتا کہ مقابل آپ کو ریٹرن میں وہی جذبات دے جو آپ اس کے لیے محسوس کرتے ہیں۔ اگر تمہاری نظر میں یہ محبت ہے، تو میں تمہیں ابھی سے بتا دوں کہ اس کو محبت نہیں، اس کو تجارت کہتے ہیں، جہاں پر تم پیسے انویسٹ کرنے کے ساتھ ہی یہ سوچ رکھو کہ ہر صورت میں منافع چاہیے۔”
زیغم کا لہجہ سخت تھا، نظریں سیدھی زرام پر جمی تھیں جو پریشان سا اسے دیکھ رہا تھا۔
“مگر بھائی، میں اس سے بہت پیار کرتا ہوں! اس کے بغیر نہیں رہ سکتا، اس کے علاوہ میری کوئی ضد نہیں ہے۔ کبھی اسے کوئی تکلیف نہیں آنے دوں گا، اس کو محبت بھی دوں گا، عزت بھی، ہر آسائش بھی دوں گا، ساری زندگی پلکوں پر بٹھا کر رکھوں گا!”
“مطلب اگر وہ لڑکی نہ مانی یا اس کے گھر والوں کی رضامندی نہ ہوئی پھر کیا کرنا چاہیے؟”
“اغوا کر کے لے آنا چاہیے؟ اٹھوا لینا چاہیے؟”
“کیونکہ ہم بااثر ہیں، ہمارے پاس طاقت ہے، پاور ہے، تو ہمیں اس کا صحیح استعمال کرنا چاہیے؟”
“نہیں! نہیں بھائی، میں نے ایسا تو کچھ نہیں کہا!”
زرام نے فوراً انکار کیا، مگر زیغم کی نظریں اس کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔
“تمہارے ارادے تو یہی بتا رہے ہیں۔”
زیغم کے لہجے کی سختی، چہرے کا دبدبہ اور آنکھوں کی سنجیدگی زرام کو بے چین کر گئی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا بھائی جو بھی فیصلہ کرے گا، وہ کسی بھی لحاظ کو خاطر میں نہیں لائے گا۔
“اور ایک بات اور بھی ذہن میں رکھو، جس لڑکی سے محبت کا تم دعویٰ کر رہے ہو، وہ ایک عام سے کسان کی بیٹی ہے اور تم اپنی فیملی کو بہت اچھی طرح جانتے ہو، وہ کبھی اسے قبول نہیں کریں گے۔ ان کی نظر میں ان کی بہو ان کے اسٹیٹس کے مطابق ہونی چاہیے، اور جس جگہ تم دل لگا کر آئے ہو، وہاں تو تمہاری فیملی قدم رکھنا بھی گوارا نہیں کرتی، اپنی توہین سمجھتی ہے۔ تو پھر کیوں اس لڑکی کی زندگی کو آزمائش اور مشکل میں ڈال رہے ہو؟”
زیغم کے الفاظ سخت تھے، حقیقت کی چٹان کی طرح مضبوط۔ زرام نے گہری سانس لی، مگر نظریں نہیں چرائیں۔
“مجھے کسی کی کوئی پرواہ نہیں ہے!”
“اس کے ساتھ زندگی میں نے گزارنی ہے، نا کہ میرے گھر والوں نے۔ اس بات کی آپ فکر نہ کریں، میں اسے تحفظ دینا خوب جانتا ہوں۔ مت بھولیں کہ آپ کا ہی خون ہوں!”
زارام کی آواز میں ایک ضد تھی، مگر زیغم کے چہرے پر کوئی نرمی نہیں آئی۔ وہ جانتا تھا کہ صرف محبت کافی نہیں ہوتی، زندگی میں سچائیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
“اور اگر اس کی سابقہ زندگی میں کچھ حقیقتیں، کچھ تلخیاں ہوئیں، جو تم سے برداشت نہ ہوئیں… تو پھر کیا کرو گے؟”
زیغم کی نظریں زرام کے چہرے پر جمی تھیں، جیسے اس کی آنکھوں میں سچائی کھوج رہا ہو۔
“مجھے اس کی سابقہ زندگی سے کوئی فرق نہیں پڑتا، صرف اس کے حال سے فرق پڑتا ہے۔ جو میرے ساتھ جڑ جائے گا، وہ میری ہوگی اور میں اس کا۔ مجھے اور کسی چیز سے کوئی لینا دینا نہیں!”
زرام کی آواز میں مکمل یقین تھا، جیسے وہ دنیا کے ہر امتحان کے لیے تیار ہو۔اسے سچ میں ملیحہ کے ماضی سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ ملیحہ کے لیے اس کی محبت خالص تھی مگر زیغم کی آنکھوں میں ابھی بھی ایک آزمائش کی چمک تھی۔
“سوچ لو… کل کو اگر تم اپنی بات سے مکرے تو میں تمہیں مکرنے دوں گا نہیں!”
یہ دھمکی نہیں تھی، بلکہ ایک سرپنچ کا فیصلہ، ایک بڑے بھائی کی تنبیہ۔ زرام نے گہری سانس لی، مگر اس کے چہرے پر کوئی تذبذب نہیں تھا۔
“آزما لیجئے گا! جس کسوٹی پر آپ کو لگے کہ آپ مجھے آزمانا چاہتے ہیں، میں تیار رہوں گا مگر اس کی محبت سے دستبردار ہونا… یہ میرے بس میں نہیں!”
زرام کا لہجہ مضبوط تھا، اب کوئی بھی دلیل، کوئی بھی دباؤ، اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتا تھا۔ زیغم نے گہری نیلی آنکھوں کو اس پر ٹکاتے ہوئے گہری سانس لی۔ زرام کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ لمحے بھر کے لیے کمرے میں گہری خاموشی چھا گئی، جیسے وہ کوئی فیصلہ کر رہا ہو۔
“اچھا! تو پھر سن لو زرام… اگر تمہاری نیت سچی ہے، تمہارے ارادے صاف ہیں، تو تمہیں ہر اس آزمائش سے گزرنا ہوگا، جو اس محبت کو نبھانے کے لیے درکار ہو کیونکہ میں نہ تمہیں دھوکہ دینے دوں گا اور نہ کسی بے گناہ کی زندگی برباد کرنے دوں گا!”
“اس لڑکی کے ساتھ جڑی ہوئی ہر حقیقت کو، ہر تلخی کو تمہیں قبول کرنا ہوگا، اور وقت آنے پر چٹان کی طرح اس کے ساتھ کھڑا بھی ہونا پڑے گا اور اگر تم یہ نہیں کر پائے، تو تمہاری سزا وہی ہوگی جو اس گاؤں کے جرگے میں بیٹھ کر زیغم سلطان لغاری ایک عام انسان کو دیتا ہے۔ اس وقت نہ تم میرے بھائی ہوگے اور نہ مجھے تم سے کوئی غرض ہوگی!”
“مجھے منظور ہے!”
زرام نے بغیر کسی جھجک کے کہا تھا۔
“تو ٹھیک ہے، میں آج ہی جاؤں گا اس لڑکی کے گھر تمہارے لیے باعزت طریقے سے رشتہ لے کر مگر ایک بات ذہن میں رکھنا، میں کوئی زور زبردستی کرنے کا قائل نہیں ہوں۔ اس کے گھر والوں اور اس لڑکی کو یہ فیصلہ لینے کا پورا حق ہے کہ وہ تمہارے ساتھ رشتہ جوڑنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ مگر ایک بھائی ہونے کے ناطے، میں تمہاری اچھائی، تمہاری خوبیاں، تمہاری نیک نیتی، تمہاری محبت کا ہر پہلو گہرائی سے ان کو دکھاؤں گا، مگر زور زبردستی نہیں!”
آخری الفاظ اس نے سختی سے کہے تھے، اور بغیر زرام کی بات سنے وہ روم سے جا چکا تھا۔
“پلیز پلیز ملیحہ! انکار مت کرنا… میں نہیں رہ سکتا تمہارے بغیر!”
زرام کا لہجہ بے بسی سے لبریز تھا۔
“جانتا ہوں کہ اگر ذرا سی بھی زبردستی کی تو میرا رشتہ میرے بھائی کے ساتھ خراب ہو جائے گا، مگر اس کے باوجود بھی تمہیں کھونے کا تصور نہیں کر سکتا!”
“خدا کی قسم! تمہیں دل کی گہرائیوں سے چاہتا ہوں، تمہیں اتنی محبت دوں گا، اتنی محبت دوں گا کہ جتنی محبت کے بارے میں تم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا!”
وہ بےچینی سے قدم گھسیٹ رہا تھا، اس کے مضبوط دل میں ہلچل مچی ہوئی تھی۔
“تمہاری بدتمیزی، تمہارا غصہ، تمہاری چیخ، تمہارا لڑنا— سب کچھ برداشت کروں گا! کیونکہ تم مجھے پسند ہو، تمہارا ہر انداز مجھے پسند ہے۔ تمہاری ہنسی، تمہارا ہر جھگڑا، تمہارا ہر انداز میری زندگی کا حصہ بن چکا ہے مگر تمہیں کھونے کا تصور… یہ خیال مجھے اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے، مجھ سے وہ کروانے کے لیے مجبور کرتا ہے جو میں کبھی سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا!”
اس کے دل میں عجیب سی جنگ چل رہی تھی، سانسیں بےترتیب ہو رہی تھیں، اور آنکھوں میں وہ دیوانگی تھی جو صرف سچی محبت والوں کی ہوتی ہے۔
“اگر تم انکار کر دو گی، تو شاید میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر دنیا سے ہی کنارہ کر لوں گا، یا پھر وہ کر گزروں گا جس سے سب کچھ برباد ہو جائے گا اور ایسا میں نہیں کرنا چاہتا کیونکہ میری دنیا بس تم سے ہی آباد ہے۔ تم میری سب سے خوبصورت ضد ہو، اور میں اپنی ضد سے پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں!”
وہ دل میں سوچتے ہوئے بے چین سا ہو کر صوفے پر بیٹھ چکا تھا۔
°°°°°°°°°
اگلا ایپیسوڈ ملاحظہ کیجیے