Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:23

رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر 23
°°°°°°
افطار کا وقت قریب تھا، دسترخوان پر ہر چیز سلیقے سے سجی ہوئی تھی۔ جیسے ہی “زیغم سلطان” اندر داخل ہوا، “مائد خان” اور “زرام” کی نظریں بےاختیار اس کی طرف اٹھ گئیں۔”زیغم” کے ساتھ آتے ہوئے تین چہرے ان کے لیے خاصے حیران کن تھے۔ ایک چہرہ “دانیا” کا تھا، جو ان کے لیے اجنبی نہیں تھا۔ دوسری چھوٹی سی شہزادی، جو بھی ان کے لیے نامانوس نہیں تھی، مگر تیسرا چہرہ “زرام” اور “مائد” کے لیے مکمل اجنبی تھا۔ دونوں نے ایک لمحے کے لیے حیرت سے دیکھا، مگر فوراً ہی نظریں جھکا لیں۔ کسی خاتون کو یوں گھور کر دیکھنا ان کی فطرت میں شامل نہیں تھا۔ “زرام” اگرچہ کم حیران تھا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کا پیارا بھائی شادی کر چکا ہے، تو یقیناً یہ اس کی بیوی ہوگی مگر “مائد” پوری طرح شاکڈ تھا۔اسے تو بالکل اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ آخر “زیغم” کے ساتھ آنے والی یہ لڑکی کون ہے۔ پہلی ہی نظر میں وہ اسے معصوم، نازک، اور “زیغم” سے کافی کم عمر لگی تھی۔ اب یہ کون تھی؟ اس کا ذہن اسی الجھن میں گھومنے لگا۔ ادھر “زیغم، دانیا،” “ارمیزه” اور “مہرالنساء” سکون سے چلتے ہوئے ٹیبل کے قریب آ چکے تھے، اور ماحول پر ایک غیر محسوس سا تناؤ چھانے لگا تھا۔

“السلام علیکم!”
زیغم سلطان نے خوش دلی سے مسکراتے ہوئے ٹیبل پر بیٹھے زرام اور مائد کو سلام کہا۔

“وعلیکم السلام!”
دونوں کی آواز میں حیرانی واضح تھی۔
زیغم اندر آتے ہی سیڑھیوں پر کھڑی “نایاب” کی جانب دیکھ چکا تھا، مگر اس کے تو جوتے کو بھی پرواہ نہیں تھی۔ وہ ہمیشہ کی طرح اپنی ہی ایٹیٹیوڈ میں تھا، جیسے اس کی موجودگی اس کے لیے کوئی معنی نہ رکھتی ہو۔ ادھر “دانیا”، “ارمیزہ” کو ساتھ لیے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ چکی تھی، جبکہ “مہرالنساء” خود کو بےحد کنفیوز اور پریشان محسوس کر رہی تھی۔ اس نے بےچینی سے اپنے دوپٹے کو ٹھیک کیا۔ یہ گھر، یہ شاندار ٹیبل، اس پر سجے ہوئے لوازمات، یہاں بیٹھے لوگ، یہ ماحول… ہر چیز اس کی محروم اور سادہ سوچ سے مختلف تھی۔ وہ نروس تھی، بےحد نروس!

“بیٹھ جاؤ!”
زیغم سلطان کی آواز نرم تھی، مگر اس میں ایک حکم کی سی قطعیت تھی۔ وہ محسوس کر چکا تھا کہ اس کی نازک سی بیوی میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اس شان و شوکت سے بھرے ٹیبل پر خود بیٹھ سکے۔ زیغم کے لیے ضروری ہو گیا تھا کہ وہ اپنی طاقت کو مہرالنساء کی کمزوری کے ساتھ جوڑے، مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنی سوچ پر عمل کرتا—”ٹھپ… ٹھپ…” کرتی ہیل کی آواز سے ،ناگن کی طرح زہر اگلتی “نایاب” سیڑھیوں سے نیچے اتری، اور غصے سے تیزی سے ان کے قریب آ کر کھڑی ہو گئی۔

“اس کو ٹیبل پر بٹھانے کی جرات بھی مت کرنا!”
وہ زہر میں بجھی آواز میں چلائی۔ اس کے الفاظ میں زہر تھا، اس کا انداز تلخی سے لبریز تھا۔ نہ اسے یہاں بیٹھے لوگوں کی پرواہ تھی، نہ ماحول کا کوئی لحاظ، نہ ہی افطار کے قریب ہوتے وقت کی کوئی عزت۔

“اسے یہاں مت بٹھانا زیغم۔ میں برداشت نہیں کروں گی!”
اس کی آنکھیں سلگ رہی تھیں، ایسے مہرو کو دیکھ رہی تھی جیسے ابھی کھا جائے گی۔

“مجھے تم بتاؤ گی کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں؟”
زیغم سلطان نے ایک ابرو اٹھا کر سخت نظروں سے نایاب کی طرف دیکھا۔ اس کی آواز میں غصہ واضح تھا، لگ رہا تھا کہ وہ اپنی نظروں کی چنگاریوں سے نیاب کو بھسم کر دے گی۔

“نہیں، تمہیں مجھ سے کچھ بھی پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے!”
نایاب کی آنکھوں میں آگ بھڑک رہی تھی، مگر اس کے لہجے میں بے بسی بھی تھی۔

“تمہاری جو مرضی آئے، تم کرو، تمہیں پورا حق ہے!”
“مگر اسے میرے سر پر مت تھوپو، میں یہ برداشت نہیں کر سکتی!”

زیغم نے قدم آگے بڑھایا، اس کی آنکھوں میں وحشت کا رنگ مزید گہرا ہو گیا۔اس نے قدم آگے بڑھایا اور ٹھہر کر مضبوط لہجے میں کہا:
“تم برداشت کرو یا نہ کرو، “مائی فٹ!”
نایاب کے ماتھے پر تیوریاں گہری ہوئیں، مگر زیغم نے اس کی پرواہ کیے بغیر اپنی بات جاری رکھی۔

“یہ یہاں بیٹھے گی، اور پورے حق سے بیٹھے گی! پتہ ہے کیوں؟”
“کیونکہ زیغم سلطان نے پورے دل سے اسے اپنی بیوی تسلیم کر لیا ہے!”
زیغم نے ایک جلالی نظر نایاب پر ڈالی۔

“اور کوئی مائی کا لال اتنی جرات نہیں کر سکتا کہ اسے یہاں بیٹھنے سے روک سکے!”
اس کے الفاظ برف کی مانند تھے، جو اندر سے جھلسا دینے والے تھے۔ نایاب کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔ لمحے بھر کے لیے حویلی کے ماحول میں مکمل خاموشی چھا گئی، جیسے سب کسی دھماکے کے منتظر تھے۔

“بیوی تسلیم کر لیا ہے، وہ بھی اس کو؟”
“ڈسکسٹنگ، زیغم! کم سے کم یہ بولتے ہوئے اپنے سٹیٹس کا تو خیال کر لو! پتہ نہیں کس کوڑا دان سے تم اسے اُٹھا کر لے آئے ہو اور اس کو میرے مقابل کھڑا کر دیا ہے!”
“جب میں کہہ چکی ہوں کہ تمہیں میری طرف سے اجازت ہے، تم، لغاری خاندان، کے چشم و چراغ ہو، یہ سب چیزیں تمہیں سوٹ کرتی ہیں! اس سے جب جی بھر جائے، تو اسے اُٹھا کر پھینکوا دینا، مگر کم سے کم اپنے نام، اپنے سٹیٹس کی توہین مت کرو… بیوی مت کہو اسے!”
نایاب نے ایک ایک لفظ چبا کر کہا، اور جس طرح وہ، مہرالنساء، کی شخصیت پر انگلی اٹھا رہی تھی، مہرالنسا٫ کی آنکھوں میں نمی اُترنے لگی۔

“شٹ اپ! یو شٹ اپ!”
“اگر ایک لفظ اور کہا، حلق سے زبان کھینچ لوں گا!”
زیغم سلطان، حلق کے بل چلایا تھا۔

“چچ چچ… میرا یہ کہنا بُرا لگا؟”
“جبکہ میں نے تو کچھ بھی غلط نہیں کہا! حیثیت تو اس کی یہی ہے!”
نایاب کے ہونٹوں پر زہر خندہ مسکراہٹ تھی، آنکھوں میں حقارت ناچ رہی تھی۔

“اس کی حیثیت طے کرنے والی تم ہوتی کون ہو؟”
“اور اپنی حیثیت کیا ہے، یہ بھی پتہ ہے تمہیں؟”
زیغم سلطان کی آنکھوں میں آگ دہک اٹھی، لہجہ برف کی طرح ٹھنڈا مگر کاٹ دار تھا۔

“تمہاری حیثیت… ہونہہ… نایاب، تمہاری حیثیت میرے سامنے ایک ذرے کے برابر بھی نہیں!”
“تمہاری اصلیت اگر میں نے سب کے سامنے کھول دی، تو تمہیں منہ چھپانے کے لیے بھی زمین نہیں ملے گی!”
“اور کس حیثیت کی بات کر رہی ہو؟”
“اس کی حیثیت یہ ہے کہ اسے، زیغم سلطان، اپنی بیوی تسلیم کرتا ہے!”
“اس کی حیثیت یہ ہے کہ پہلی نظر میں، زیغم سلطان، کو اس سے محبت ہو گئی!”
“اس کی حیثیت یہ ہے کہ یہ، زیغم سلطان، کے روم میں، زیغم، کے ساتھ رہ رہی ہے!”
٫اور سنو، اس کی حیثیت یہ بھی ہے کہ اس کا نام، زیغم سلطان، کے نام کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جُڑ چکا ہے!”
“وہ نام، جسے لوگ عزت سے دیکھتے ہیں، جس کے ایک اشارے پر فیصلے بدل دیے جاتے ہیں!”
“وہ نام، جو غرور نہیں، بلکہ ایک طاقت ہے!”
“اور اب سے یہ طاقت یہ نام ہمیشہ اس کے ساتھ کھڑا ہوا پاؤ گی!”
“یہ حیثیت کم لگتی ہے تمہیں، نایاب کیونکہ، زیغم سلطان، جسے قبول کر لے، اس کی قسمت کا ستارہ خودبخود بلند ہو جاتا ہے!”
“اور تم سے بہتر یہ بات کون جانتا ہے کہ تمہارے لاکھ پینترے بھی تمہیں یہ حیثیت نہیں دِلا سکے۔ تمہاری چالاکیاں تمہیں میرے قریب نہیں کر سکیں۔ تم نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا، پھر بھی، تم، زیغم سلطان، کو حاصل نہیں کر سکیں!”
“ہر لحاظ سے عزت تو تمہاری کم ہے، تو پھر کس حیثیت کی بات کر رہی ہو؟”
زیغم نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا تھا۔ ایک ایک لفظ، نایاب، کے سینے میں برچھی کی طرح اُتر رہا تھا، جبکہ، زرام، مائد، اور، دانیا، سب یہ منظر خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔ یہاں، زیغم سلطان، کے علاوہ کسی اور کے بولنے والی بات نہیں تھی جبکہ، مہرالنساء، اس قدر خوفزدہ تھی کہ اس کی آنکھوں سے آنسو روکنے کے باوجود نہیں رک رہے تھے۔ اسے کہاں عادت تھی ایسے جھمیلوں کی، ایسی لڑائیوں کی؟ وہ تو اپنی اماں کے ساتھ ایک پُرسکون زندگی گزار کر آئی تھی، 18 سال تک اس نے ایسا کچھ نہیں دیکھا تھا، جو ماحول اسے اب مل رہا تھا۔

“تم میری انسلٹ کر رہے ہو؟”

“انسلٹ… انسلٹ ان کی ہوتی ہے جن کی کوئی ویلیو ہو، کوئی عزت ہو، کوئی احترام ہو! اور تمہارے پاس ایسا کچھ بھی نہیں، جس کے لیے تم انسلٹ فیل کرو!”

“اس کے لیے… اس کے لیے یہ سب بول رہے ہو؟”
نایاب کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا، غصے سے لرزتی ہوئی آواز میں وہ غرائی:
“میں اس کی جان لے لوں گی!”
وہ وحشیانہ انداز میں دو قدم آگے بڑھی، جھپٹ کر، مہرو، کی طرف لپکی، مگر وہ بھول گئی تھی کہ اس کے مقابل، زیغم سلطان، کھڑا ہے!
زیغم ایک پل میں، مہرو، کے سامنے آ کھڑا ہوا، جیسے کوئی دیوار ہو جو طوفان کے آگے سینہ تان کر کھڑی ہو جائے۔ اس کی آنکھیں دہک رہی تھیں، چہرے پر وحشت اور سختی ایسی تھی کہ لگتا تھا، اگر نایاب نے ایک قدم بھی اور بڑھایا، تو وہ اپنی حد پار کر دے گا!

“ہمت ہے تو ایک قدم اور بڑھا کر دکھاؤ، نایاب!”
زیغم کی گرجتی ہوئی آواز نے ماحول کو مزید سنگین بنا دیا تھا۔

“تم میرے ہو! میری شادی ہوئی ہے تم سے! میرا نکاح ہوا ہے تم سے! ہماری ایک بیٹی ہے!”
“اس سب کے باوجود، تم میرے ساتھ ایسا کرنے کے بارے میں سوچنا بھی مت۔ تمہاری ہر سزا قبول ہے، تم گھر میں آ کر جو کچھ کرتے ہو، وہ سب قبول ہے! تم نے میرے بھائی کو گولی مار دی، مجھے وہ بھی قبول ہے! مگر یہ لڑکی… یہ مجھے قبول نہیں!”
نایاب کی آنکھوں میں وحشت تھی، الفاظ زہر میں بجھے ہوئے تھے۔
“میں اسے ایسی سزا دوں گی، اس کی روح تک لرز جائے!”

“اگر تم نے اسے تکلیف پہنچانے کے بارے میں سوچا بھی… تو میں تمہارا ایسا حشر کروں گا کہ آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنی پہچان بھول جاؤ گی!”
زیغم کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا، اس کا ایک ایک لفظ نایاب کے دل میں برچھی کی طرح اُتر رہا تھا۔ حویلی میں سناٹا چھا گیا، سب کو اندازہ تھا کہ آج زیغم سلطان کسی بھی حد تک جا سکتا ہے!
شور شرابے کی آواز سن کر، قدسیہ، اور، شہرام، کے ساتھ ہی، توقیر، بھی اپنے روم سے نکل کر بھاگتے ہوئے سیڑھیوں سے نیچے آئے تھے، جبکہ، لنگڑے سرکار، شہرام، بھی، بیساکھی، کے سہارے، لفٹ ایریا، سے نیچے آ چکا تھا۔ پورا ماحول تناؤ سے بھرا ہوا تھا۔ زیغم سلطان، کی دہکتی آنکھیں، اور نایاب، کے لبوں پر جمی نفرت، مزید قیامت برپا کر رہی تھی!

“کیوں چلا رہے ہو میری بیٹی پر؟”
“صبح شام تمہیں یہی آتا ہے! جب سے آئے ہو، ہمارا جینا محال کر رکھا ہے تم نے!”
توقیر، غصے سے بپھرتا ہوا آگے بڑھا، اس کی آنکھوں میں اشتعال بھڑک رہا تھا، مگر زیغم سلطان، اپنی جگہ بے خوف کھڑا تھا، سخت، باوقار، اور بے حد جاندار! اسے کسی کے الزامات یا غصے کی پرواہ نہیں تھی۔

“اسے سوائے میری بیٹی کا خون جلانے کے اور آتا کیا ہے؟”
“جب سے اس کے ساتھ نکاح ہوا ہے، ایک دن خوشی کا نصیب نہیں ہونے دیا! پہلے یہاں لاوارثوں کی طرح چھوڑ کر چلا گیا، اور جب سے واپس آیا ہے، جینا محال کر رکھا ہے!”
قدسیہ، اپنی معصوم بیٹی پر ترس کھا رہی تھی، مگر حقیقت تو یہ تھی کہ ظلم کرنے والی خود تھی، اور اب اپنی بیٹی کی باری آئی تو مظلوم بن رہی تھی! جیسے واقعی اس کی بیٹی بھی معصوم ہو، اور وہ خود بھی حد سے زیادہ مظلوم ہو، جیسے ان پر بہت بڑا ظلم ڈھایا جا رہا ہو۔ کیسی چالاک عورت تھی… دوغلے پن کی انتہا قدسیہ پر ختم ہو جاتی ہے!

“اور اِسے دیکھو! یہ چپ کر کے بیٹھا ہے، اپنی بہن کی تذلیل کروائے جا رہا ہے۔ اتنی غیرت بھی نہیں کہ بھائی ہونے کے ناطے اُٹھے اور اس کے کلیجے پر ہاتھ ڈال کر نوچ لے! بے غیرت ہو گیا ہے، بے غیرت… غیرت نام کی کوئی چیز نہیں رہی اس میں!”
شہرام کی عزت کچھ زیادہ ہی اچھل رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا، غصے سے بھڑکتے جذبات کے ساتھ، اس نے تیروں کا نشانہ بنا ڈالا… سامنے، نظریں جھکائے، ٹیبل پر ذرام خاموش بیٹھا ہوا تھا!

“میرے خیال سے تم سب لوگوں کا ڈرامہ مکمل ہو گیا ہو تو ہم افطاری کر لیں؟”
زیغم نے سپاٹ لہجے میں کہا۔

“ہاں، کر لو افطاری! ہم لوگوں کے روزے حرام کر کے، نہ سحری میں جینے دیتے ہو، نہ افطاری میں!”
“اور اب تم آرام سے بیٹھ کر ہر چیز کی لذت اٹھاؤ! ہم کون سے مسلمان ہیں، ہم کون سے انسان ہیں!”
قدسیہ نے جلے ہوئے انداز میں طنز کیا۔

“اتنی جلن کس چیز کی ہو رہی ہے؟”
“لذت اٹھانے کی؟”
زیغم نے زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

“میرے خیال سے اپنے باپ کی دولت سے لذت اٹھانے کا پورا حق مجھے ہے، جبکہ سالوں تک میرے باپ کی دولت پر تم لوگوں نے عیش و عشرت کے دن بہت اچھی طرح گزارے ہیں۔”
وہ سرد لہجے میں بولا۔

“اور جہاں تک مسلمان ہونے کی بات ہے، تو یہ تم جانو اور تمہارا خدا۔”
“مگر انسان کہلانے کے تو تم لوگ بالکل لائق نہیں ہو! انسان کہلانے کے لیے بندے میں انسانیت ہونا ضروری ہے، اور تم لوگوں کا انسانیت سے دور دور تک کوئی رشتہ نہیں!”
وہ آرام اور تحمل کے ساتھ بات کرتے ہوئے ٹیبل پر بیٹھ چکا تھا، نہ کوئی ڈر، نہ کوئی خوف۔ مائد خاموشی سے بیٹھا یہ سارا تماشہ دیکھ رہا تھا، جیسے یہ سب اس کے لیے نیا نہ ہو۔ زرام کے لیے بھی یہ سب کچھ فضول تھا۔ اپنی فیملی کی حقیقت وہ بہت اچھی طرح جانتا تھا، اور یہ بھی کہ زیغم بھائی جو کچھ بول رہے ہیں، وہ حقیقت میں بہت کم ہے، جبکہ اس کے گھر والے اس سے کہیں زیادہ کے مستحق ہیں۔

“ہم نے سالوں سے کوئی محنت نہیں کی؟”
“یہ سارا کاروبار سنبھالا، اور ہر وقت تم یہی دھونس جماتے رہتے ہو کہ سب کچھ تمہارے باپ کا تھا؟”
“ہم نے بھی یہاں پر محنت کی ہے!”
توقیر بجائے اپنے جھوٹ پر شرمندہ ہونے کے، گرجدار آواز میں بولا تھا۔

زیغم سلطان نے گہری سانس لی، نظریں سخت ہوئیں، مگر لہجہ سپاٹ رہا۔
“میرا روزہ ہے، اور میں نہیں چاہتا کہ میرے منہ سے کچھ غلط نکلے۔ برائے مہربانی، یہاں سے تشریف لے جائیں، توقیر سائیں۔ جا کر کچن ایریا میں بیٹھو، آرام سے روزہ افطار کرو۔ رمضان کے آخری دو سے تین دن باقی ہیں، صبر اور شکر سے گزار لو۔ اس کے بعد تم لوگوں سے حساب لوں گا بھی، اور دوں گا بھی۔ تم لوگوں نے کیا کمایا، اور کون سی کمائی اڑائی، ایک ایک پائی کا حساب ہوگا۔”
لفظوں کو چباتے ہوئے زیغم نے گہری نظروں سے دیکھا، پھر کمر پر رکھا ہاتھ ہلایا اور پسٹل نکال کر ٹیبل پر رکھ دی۔ پیغام واضح تھا۔ اب اگر ایک لفظ بھی بولا گیا، تو جواب منہ سے نہیں، گولی سے آئے گا۔

“کیا غیرت ہے تمہاری؟”
شہرام نے طنزیہ انداز میں کہا۔

“بہن کو غیر مردوں کے ساتھ بٹھا کر افطاریاں کروائی جا رہی ہیں، اور اسی کے شوہر کو کچن میں ملازموں کے ساتھ بٹھایا جا رہا ہے۔ واہ، تمہاری غیرت کو داد دینی پڑے گی!”

“الحمدللہ، غیرت بھی ہے، اور جو یہاں بیٹھا ہے، اس میں بھی غیرت ہے!”
زیغم نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا۔

“غیرت کی کمی تم میں ہے، اسی لیے تمہاری نظر بھی گندی، تمہاری سوچ بھی گندی، اور کردار بھی… سراپا گندگی ہو تم! ایک گھٹیا ترین انسان ہو! مجھے تبلیغ مت دو! یہاں سے تشریف لے جاؤ!”

“نہیں جاؤں گا!”
شہرام غرایا۔

“اگر میں جاؤں گا، تو میری بیوی بھی ساتھ جائے گی!”
یہ پہلا موقع تھا جب اس نے دانیہ کو واقعی اپنی بیوی تسلیم کیا تھا مگر زیغم کی آنکھوں میں ایک پل کے لیے بھی نرمی نہ آئی۔ اس کی بہن پر جتنے ظلم ہوئے تھے وہ بھولا نہیں تھا۔ بس رمضان کے مہینے کے احترام کرتے ہوئے وہ خاموش تھا اور اس کی خاموشی کو ان لوگوں نے کچھ زیادہ ہی نرمی سے لے لیا تھا۔ ان کو لگتا تھا کہ شاید زیغم سلطان سب کچھ بھول چکا ہے جبکہ ایسا بالکل نہیں تھا۔

“جب یہ رشتہ ہم نے رکھنا ہی نہیں، تو پھر اسے عزت کیوں دیں؟”
زیغم نے زہرخند لہجے میں کہا۔

“ایسی کوئی توقع مت رکھنا، اور خبردار! دوبارہ دانیہ کو بیوی کہنے کی جرات بھی مت کرنا! اگر تم شوہر بننے کے لائق ہوتے، تو میں خود دانیہ کو تمہارے ساتھ رہنے پر مجبور کرتا مگر تمہاری اصلیت جاننے کے بعد سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ میں تم جیسے درندے کے ساتھ اپنی بہن کو ایک سیکنڈ کے لیے بھی رہنے دوں!”
وہ ایک ایک لفظ چبا کر سختی سے بولتے ہوئے اس کی نظروں میں نظریں گاڑے کھڑا تھا۔ شہرام کو سامنے دیکھ کر زیغم کو اپنی بہن پر ہوئے ہر ظلم کی یاد گہرائی سے آ چکی تھی۔

“تمہارے چاہنے یا نہ چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا!”
شہرام دھاڑا۔
“وہ میری بیوی ہے! اسے اپنے ساتھ رکھنا میرا اسلامی اور قانونی حق ہے۔”

“دو ٹکے کے انسان!”
زیغم نے ایک قدم آگے بڑھایا۔
“زبان اور آنکھیں نیچے رکھ! یہ ڈروا کس کو دے رہے ہو؟”
“اگر رمضان کے احترام میں خاموش ہوں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب کچھ بھول چکا ہوں۔ لگتا ہے کہ تمہیں تمیز کی زبان سمجھ میں نہیں آتی!”
ٹیبل پر رکھی پسٹل کا ٹریگر کھینچتے ہی ہال میں سناٹا چھا گیا۔ قدسیہ توقیر کے چہرے کی رنگت اڑ گئی۔ ان کے دل میں ایک ہی خوف تھا کہ ان کا لنگڑو بیٹا کہیں اور نہ لنگڑا ہو جائے۔ مہرالنساء، جو اب تک خاموش تماشائی بنی کھڑی تھی، جیسے ہی زیغم کے ہاتھ میں پسٹل دیکھی، سہم کر روم کی طرف بھاگ گئی۔ اس کے چہرے پر موت کی سی زردی تھی۔ دانیا بھی کانپ گئی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں خوف کے بجائے یقین تھا۔

“جب میرا بھائی کھڑا ہے، تو میں محفوظ ہوں!”
یہ احساس اسے مضبوط رکھے ہوئے تھا۔

“اور اسلام کی بات کرتے ہو؟”
“جب دانیا پر ظلم کر رہے تھے، تب اسلام کے قوانین یاد نہیں آئے؟”
“بیوی پر ہاتھ اٹھانا کہاں لکھا ہے؟”
اسکی کی آواز میں طنز تھا۔

“تمہیں پتہ بھی ہے کہ اسلام نے عورت کو کیا مقام دیا ہے؟”
“ہمارے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”
”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔“
“اور تم؟ تم نے اس عورت پر ہاتھ اٹھایا جو تمہاری عزت تھی، تمہاری امانت تھی۔”
شہرام نے نظریں چرائیں۔

“قرآن کریم میں صاف لکھا ہے:”
”اور عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں، اچھائی کے ساتھ۔“
“اور تم؟ تم نے اسے رلایا، اس پر ظلم کیا، اور آج اسلام کا درس دینے چلے ہو؟ پہلے خود کو دیکھو، اپنی سوچ دیکھو، پھر کسی اور پر انگلی اٹھانا۔”
زیغم کی باتوں میں ایسی کاٹ تھی کہ شہرام کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ شہرام سوچ رہا تھا کہ وہ کون سی دلیل دے جس سے زیغم کا منہ بند ہو جائے، مگر اس سے پہلے ہی نایاب جلدی سے میدان میں اتری تھی۔ ایک تو زیغم کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے پسٹل کا اسے ڈر تھا کہ کہیں وہ اس کے بھائی پر گولی نہ چلا دے، اور دوسرا اسے اپنے حقوق کے بارے میں سوال کرنا تھا۔

“یہ سب حقوق جو اپنی بہن کے لیے وکیل بن کر جتا رہے ہو، یہ سب تم پر بھی لاگو ہوتے ہیں! میں بھی تمہاری بیوی ہوں، مجھ سے بھی تم نے نکاح کیا ہے! مجھے میرے حق سے محروم رکھنا، کیا یہ ٹھیک ہے؟”
“میرے بارے میں اسلام نے کوئی دلیل نہیں دی؟”
“میرے لیے اسلام میں کچھ نہیں بتایا گیا؟”
“سب دلیلیں بس اپنی بہن کے لیے ہیں؟”
نایاب تڑ تڑ کر کے بولتی جا رہی تھی، مگر زیغم کے چہرے پر کوئی اثر دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔ وہ بے تاثر نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا، جیسے اس کے ہر لفظ کو پرکھ رہا ہو۔ ہر لفظ اس کے لیے بے معنی تھا۔

“اسلام کی دلیلیں مانگ رہی ہو، نایاب؟ تو سنو!”
زیغم نے ایک قدم آگے بڑھایا، آواز میں وہی دبدبہ تھا جو نایاب کے اندر سرایت کر گیا۔

“اسلام نے نکاح کو عبادت کہا ہے، مگر کیا عبادت فریب اور دھوکہ دہی سے کی جاتی ہے؟”
“کیا وہ رشتہ جسے بنیاد سے غلط نیت پر کھڑا کیا جائے، اس میں حقوق کا تقاضا کیا جا سکتا ہے؟”
زیغم نے گہری نظروں سے اسے دیکھا، جیسے اس کی روح میں اتر کر اسے جھنجوڑ کر ہوش میں لانا چاہتا ہو۔

“تم نے مجھے دھوکے اور مکاری سے حاصل کیا، تم نے وہ رشتہ مانگا، جس میں محبت اور عزت کی جگہ زبردستی اور ضد تھی۔ اور اسلام نے ایسے رشتے کو کبھی مضبوطی نہیں دی، جس میں سچائی نہ ہو۔”
اس کی آواز کی کڑک ہر لفظ پر واضح تھی۔گہری نیلی آنکھوں میں سچائی کے گہرے رنگ تھے۔ جو نایاب کی زبان پر تالے ڈالے ہوئے تھے۔ مجبور تھی وہ زیغم کی ہر بات سننے کے لیے، سچائی سے وہ اچھی طرح سے واقف تھی۔

“تمہارے منہ سے حق حقوق کی باتیں اچھی نہیں لگتی!”
“بیوی کے حقوق کی بات کر رہی ہو؟”
“کیا بیوی ہونے سے پہلے، ایک عورت پر کوئی فرض نہیں؟”
“کیا وہ حق دار اسی وقت بن جاتی ہے جب اسے اپنی خواہش کے مطابق سب کچھ چاہیے ہو، مگر اپنے فرائض بھول جائے؟”

زیغم کا لہجہ مزید سخت ہو گیا۔
“عورت اگر شوہر کے لیے آزمائش بن جائے، اگر وہ اس کے لیے بار بار مشکل کھڑی کرے، اگر وہ اس کا سکون چھین لے،اس کے ساتھ جڑے ہوئے اس کے پیارے رشتوں کو اجاڑ کر رکھ دے۔ اس کی زندگی کا مقصد ہی ختم کر دے اسے اپنوں سے دور کر دے… تو کیا ایسی عورت ‘بیوی’ کہلانے کا حق رکھتی ہے؟”
“یہ سوال اپنے دل سے پوچھو اگر زندہ ہوا تو ضرور صحیح جواب دے گا!”
“اسلام نے بیوی کو عزت دی، مگر اس کے بدلے میں شوہر کو سکون دینے کی شرط بھی رکھی۔ تم نے کب یہ شرط پوری کی، نایاب؟ کب تم نے اس رشتے کو سچائی اور خلوص سے نبھایا؟”
نایاب کی نظریں زمین پر جم گئیں، مگر زیغم کی آواز اب بھی گونج رہی تھی۔

“جو رشتہ فریب سے جیتا جائے، وہ کبھی مکمل نہیں ہوتا!”
“اور جو حق زبردستی حاصل کیا جائے، وہ کبھی دل سے نہیں دیا جاتا!”
زیغم کی برداشت کی حد ختم ہو چکی تھی۔

“میری زندگی، میرا خاندان، میری خوشیاں… ہر چیز کو تم نے برباد کر دیا، نایاب!”
‘میرا منہ بند رہنے دو، میں وہ الفاظ نہیں کہنا چاہتا جن سے تمہارا کردار مٹی میں مل جائے۔ میں چپ ہوں، تو مجھے چپ رہنے دو۔ سوئے ہوئے سانپ کو ٹھوکریں مار کر مت جگاؤ!”
اس کی آنکھوں میں سرخی اور لہجے میں زہر گھل چکا تھا۔
زیغم کی آواز کی گرج حویلی کی دیواروں سے ٹکرا کر گونجنے لگی تھی۔ زیغم کی آنکھوں میں شدید نفرت ابھر آئی تھی۔

“تم نے مجھے حاصل کرنے کے لیے مجھے اس قیمتی رشتے سے دور کیا، جو مجھے اپنی جان سے زیادہ عزیز تھا! تم نے مجھے میرے اپنے سے جدا کر دیا، نایاب!”
اس کے الفاظ میں ایسی کاٹ تھی کہ نایاب کی سانسیں لرزنے لگیں۔

“لعنت ہو تم پر… لعنت تمہاری محبت پر… لعنت!”
زیغم کا ہر لفظ گویا آگ میں لپٹا تیر تھا، جو سیدھا نایاب کے دل میں پیوست ہو رہا تھا۔

“میں نے خود پر بہت کڑے پہرے لگائے ہیں، نایاب!”
“اگر میری زبان کھلی، تو تم اور تمہارا کردار صفحۂ ہستی سے مٹ جائے گا! مجھے مت اکساؤ کہ میں وہ سب کچھ بول جاؤں، جو میں نہیں بولنا چاہتا!”
حویلی سے باہر مغرب کی اذان گونجی، آسمان پر پرندے اپنے گھروں کو لوٹنے لگے، مگر اس حویلی میں جیسے بے سکونی نے ڈیرہ جما لیا تھا۔ افطار کا وقت ہو چکا تھا، مگر گھٹیا ترین لوگوں نے سب کے صبر اور امن کا خون کر دیا تھا۔

“زیغم بھائی، پلیز بیٹھ جائیں اور افطاری کریں۔ جب ان کی اصلیت جانتے ہیں، سب کچھ آپ کو معلوم ہے، تو کیوں خود کو تکلیف دے رہے ہیں؟”
“ان پر کوئی اثر نہیں ہونے والا!”
زرام تیزی سے آگے بڑھا، زیغم کا بازو تھاما اور زبردستی اسے ٹیبل تک لے آیا۔ اس نے ایک کھجور اس کے ہاتھ میں تھمائی اور التجا کی۔

“روزہ افطار کریں، پلیز!”
ڈائننگ ہال میں شدید خاموشی چھا گئی تھی۔

“برائے مہربانی یہاں سے تشریف لے جائیں، خود بھی افطار کریں اور دوسروں کو بھی کرنے دیں!”
زرام نے رخ موڑا اور سخت لہجے میں کہا۔
توقیر، قدسیہ، نایاب اور شہرام، جو ابھی تک زیغم کی باتوں سے سلگ رہے تھے، کچن کی طرف بڑھ گئے کیونکہ جتنا زيغم سلطان بھڑک چکا تھا اب مزید اسے بھڑکانے کا مطلب تھا کہ اس نے کسی نہ کسی کو گولی کا نشانہ ہی بنانا تھا۔ زیغم نے ان کا ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھنا منع کر رکھا تھا۔ وہ کچن میں افطار کرنے جا چکے تھے۔ جہاں پر تمام لوازمات تھے افطاری کے لیے مگر وہ ٹھاٹ باٹ نہیں تھی جو گھر کے مال کام کی ہوتی ہے اور یہی تھی ان کی سزا۔ جن لوگوں نے اس سے اس کا سب کچھ چھین لیا، ان کا ٹیبل پر اپنے ساتھ بیٹھنا زیغم سلطان برداشت نہیں کر سکتا تھا، مگر آج جو کچھ ہوا، اس کے بعد تو یہ سزا بھی کم لگ رہی تھی۔ ‘اللہ اکبر’ ، ‘اللہ اکبر’ کی صدائیں حویلی میں گونج رہی تھیں، مگر ماحول میں تلخی گھل چکی تھی۔ توقیر کی فیملی نے جو ہنگامہ کھڑا کیا تھا، اس نے افطار کی پر سکون گھڑیوں کو بھی کڑوا کر دیا تھا۔
ٹیبل پر ہر چیز سلیقے سے سجی تھی، محبت اور خلوص سے تیار کیا گیا دسترخوان بے چینی کی نذر ہو چکا تھا۔ زیغم نے گہری سانس لی، کھجور حلق سے اترتے ہی، لبوں سے مدھم آواز میں دعا نکلی:
اللَّهُمَّ إِنِّي لَكَ صُمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَعَلَىٰ رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ۔
(اے اللہ! میں نے تیرے لیے روزہ رکھا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا اور تیرے ہی دیے ہوئے رزق سے افطار کیا)
باقی سب بھی اسی بے چینی کے ساتھ کھجور منہ میں ڈالتے ہی دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔ سب کے دل کی بے سکونی اب بھی برقرار تھی۔ زیغم کے دماغ میں سب کچھ تازہ ہو چکا تھا ،وہ تلخ لمحے، وہ زخم جو کچھ سال پہلے دیے گئے تھے۔ زیغم اس وقت ذہنی طور پر شدید بے چین تھا، مگر ایک دم اچانک اسے مہرالنسا٫ کا خیال آیا۔ وہ یہاں موجود نہیں تھی، نہ ہی اسے جاتے ہوئے زیغم نہیں دیکھا تھا، مگر ٹیبل پر اس کی غیر موجودگی نے زیغم کے اضطراب میں اضافہ کر دیا۔ ایک بے چینی سی دل میں جاگی، اس نے اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے ارد گرد دیکھا، مگر مہرالنسا٫ کہیں نہیں تھی۔ زیغم نے ابھی پانی تک نہیں پیا تھا، صرف کھجور سے روزہ افطار کیا تھا اور پھر سیدھا کھڑا ہو گیا۔ وہ تو مہرو کو بڑے دل سے افطاری کے لیے پہلے دن ٹیبل پر لایا تھا مگر یہاں پر آتے ہی جو ہنگامہ ہوا اس نے سارے ماحول کو تہس نہس کر دیا۔

“بھائی! کہاں جا رہے ہیں؟”
زرام نے بے ساختہ پوچھا۔

“پلیز، تم لوگ ریلیکس ہو کر افطاری کرو، میں ابھی آ رہا ہوں، مہرالنسا٫ کو لے کر۔ افطاری اچھے سے کرنا، ورنہ جتنا باقی سب لوگوں کی وجہ سے میرا موڈ خراب ہوا ہے، تم لوگوں کو بھی میں برابر کا شریک سمجھوں گا!”
زیغم سلطان سخت لہجے میں کہتے ہوئے سیڑھیاں چڑھتا ہوا اپنے روم کی طرف بڑھ گیا، جبکہ باقی سب کا کچھ بھی کھانے کو دل نہیں کر رہا تھا مگر زیغم جو جاتے ہوئے بول گیا تھا، اس کی پاسداری رکھتے ہوئے سب نے افطاری شروع کر دی مگر اس سب میں ایک چیز سب بھول گئے تھے۔ معصوم سی ارمیزہ بھی ٹیبل پر موجود تھی!
اس نے یہ سارا جھگڑا اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ وہ سہمی ہوئی اپنی پھوپھو جان، دانیا کے سینے سے لگی ہوئی تھی، اس کی ننھی آنکھوں میں خوف جھلک رہا تھا۔

“ارمیزہ! میرا بچہ، کچھ نہیں ہوا، سب ٹھیک ہے، میری طرف دیکھو، ریلیکس! سب ٹھیک ہے۔”
دانیا نے اسے تسلی دینے کے لیے نرمی سے کہا، مگر ارمیزہ کی گھبراہٹ کم نہیں ہوئی۔

“یہ لوگ فائٹنگ کر رہے تھے، پھوپھو جان!”
وہ معصومیت سے بولی۔

دانیا نے مسکراتے ہوئے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
“نہیں، وہ تو اپنی ایک ریسلر کی تیاری کر رہے تھے۔”

“ریسلر؟”
ارمیزہ نے حیرت سے پوچھا۔

“ہاں! بابا کو کسی ریسلنگ میں حصہ لینا ہے تو سب ان کی مدد کر رہے ہیں!”
دانیا نے ارمیزہ کو بہلانے کے لیے ریسلنگ کا لفظ استعمال کیا، تاکہ اس کے ذہن میں یہ سب جھگڑا نہ بیٹھ جائے۔ وہ ننھی جان اب بھی حیرانی سے سب کو دیکھ رہی تھی، جیسے ابھی بھی سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو کہ سب حقیقت میں ہو رہا تھا یا کوئی کھیل تھا…

“ہاں بیٹے،پھوپھو بالکل سچ کہہ رہی ہیں! وہ سب کچھ سچ میں تھوڑی تھا، دیکھا نہیں بابا تھک گئے ہیں۔ اس لیے تھوڑی دیر کے لیے روم میں گئے ہیں تاکہ فریش ہو سکیں۔ یہ بس ایک ایکٹ تھا۔”
دانیا نے ارمیزہ کو سمجھایا، اور زرام نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔
مائد خاموش بیٹھا تھا، مگر دانیا کی حاضر جوابی اور ذہانت اسے اچھی لگی۔

“اچھا! میں تو ڈر گئی تھی، مجھے لگا سچ میں فائٹنگ ہو رہی ہے۔”
ارمیزہ نے نارمل ہوتے ہی گہری سانس لی اور فوراً بولی:
“ٹھیک ہے، پھر آپ مجھے فروٹ چاٹ دے دیں!”
دانیا نے مسکرا کر جلدی سے فروٹ چاٹ اس کے آگے رکھی، جبکہ باقی سب بھی روزہ افطار کر رہے تھے۔ زیغم اپنے روم میں جا چکا تھا، مگر سب کو اس کے واپس آنے کا انتظار تھا۔ سب روزہ افطار کر رہے تھے، مگر زیغم ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔ سب کی نظریں بار بار سیڑھیوں کی جانب اٹھ رہی تھیں۔ ارمیزہ فروٹ چاٹ کھاتے ہوئے دوبارہ نارمل ہو چکی تھی، جبکہ دانیا نے اطمینان کا سانس لیا۔ زرام نے بھی گہری نظر سے سب کو دیکھا، وہ جانتا تھا کہ جو کچھ ہوا، اس کے اثرات ابھی بھی باقی تھے۔

“بھائی کو کچھ دیر سکون چاہیے، وہ خود ہی آ جائیں گے۔”
زرام نے نرمی سے کہا، مگر اس کے چہرے پر فکر واضح تھی۔
سب کے درمیان خاموشی تھی، مگر ہر کسی کے دل میں بے چینی تھی کہ زیغم واپس آئے اور سب کچھ نارمل ہو جائے۔

“آپ یہ ٹرائی کریں!”
زرام نے مہمان نوازی کرتے ہوئے مائد کے آگے چکن رول رکھے تھے۔

“تھینک یو… بس اور نہیں…”
مائد نے صرف ایک رول لیا تھا۔
°°°°°°°°°
“مہرو،” بیڈ پر سمٹی بیٹھی تھی، آنکھوں سے بہتے آنسو اس کے وجود کی بے بسی کا ثبوت تھے۔ وہ سہمی ہوئی تھی، خوفزدہ تھی، ٹوٹ چکی تھی۔ “نایاب،” کے الفاظ نوکیلے خنجر کی طرح دل پر لگے تھے، اور “زیغم سلطان،” کا غصہ… وہ پسٹل اٹھانے کا لمحہ، اس کی گرجدار آواز… وہ سب کچھ “مہرو،” کے لیے ایک بھیانک خواب تھا، جو وہ کھلی آنکھوں سے دیکھ چکی تھی۔ وہ جب سے روم میں آئی تھی مسلسل روئے جا رہی تھی۔ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔

“مہرو،”
بس ایک لفظ، اور وہ پہلے سے زیادہ کانپ گئی۔اس نے چونک کر آنسو پونچھے، مگر ہاتھ ابھی بھی لرز رہے تھے۔ “زیغم سلطان،” اندر داخل ہوا، نگاہیں سیدھا بیڈ پر بیٹھی نازک وجود پر جا رکیں۔ وہ جو ہمیشہ خاموش، دھیمے لہجے میں بات کرنے والی تھی،وہ چہرہ چھپائے، سسکیاں دبانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔

“مہرو…”
زیغم سلطان نے تڑپ کر اس کا نام لیا تھا۔ اس کی آنکھیں رونے کی شدت سے سرخ ہو چکی تھی۔ گھنی پلکیں آنکھوں کی خوبصورتی کو بڑھا رہی تھی۔

“سائیں…”
اس کا کانپتا لہجہ زیغم سلطان کے قدم روک گیا۔ وہ آہستہ سے دروازہ بند کرتا، بھاری قدم اٹھاتے ہوئے اس کے قریب آن کھڑا ہوا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو زیغم سلطان کو بہت تکلیف دے رہے تھے۔

“یہ آنسو کس لیے؟”
دل میں بہت تکلیف ہو رہی تھی مہرو کے اس طرح بے بسی کے آنسو دیکھ کر مگر لہجے میں نرمی تھی۔

“سائیں، مہرو نے ایسا ماحول کبھی نہیں دیکھا…”
اس کی آواز لرز رہی تھی، جیسے کسی نے دنیا کی سب سے معصوم چیز کو کسی طوفان کے حوالے کر دیا ہو۔

“مہرو تو بس اپنی اماں کے ساتھ رہی ہے، جہاں نہ شور تھا، نہ غصہ، نہ ہتھیار، نہ چیخ و پکار۔”
“یہ آپ مہرو کو کس دنیا میں لے آئے ہیں، سائیں؟”
وہ لرزتی آواز میں بولی، آنکھوں میں بے یقینی، خوف اور اداسی تھی۔

“یہ سب کچھ میری سوچ سے بہت الگ ہے… نہ میں اس ماحول کے لیے بنی ہوں، نہ یہ ماحول میرے لیے ہے!”
زیغم سلطان خاموشی سے اس کے سسکتے وجود کو دیکھ رہا تھا، اس کی چھوٹی سی دنیا میں اتنا بڑا طوفان کبھی نہیں آیا تھا۔ وہ اپنی جگہ بیٹھی ہچکیاں لے رہی تھی، نظریں جھکی ہوئیں، آنسو دامن میں جذب ہوتے جا رہے تھے۔

“سائیں، میں یہاں کیسے رہوں گی؟”
وہ بے بسی سے بولی، جیسے خود سے بھی پوچھ رہی ہو۔

“یہاں ہر طرف غصہ ہے، نفرت ہے، چیخ و پکار ہے… مہرو تو ہمیشہ اماں کے ساتھ، خاموش اور پرسکون زندگی میں رہی تھی۔ یہاں تو سب کچھ بہت سخت ہے، بہت تلخ!”
زیغم سلطان نے گہری سانس لی، نگاہوں میں ایک پل کے لیے نرمی اتری، مگر زبان پر وہی روایتی خاموشی رہی۔ وہ جھک کر اس کے قریب بیٹھا، مگر مہرو خوفزدہ ہو کر پیچھے کو سرک گئی۔ اپنے اور زیغم کے درمیان اس نے اچھا خاصا فاصلہ مقرر کر دیا تھا۔

“یہاں سب کچھ مہرو کے لیے نیا ہے، سائیں… اور نیا بھی ایسا، جو ڈرا دیتا ہے!”
اس کے آنسو مسلسل روانی سے بہتے ہوئے اس کے ہاتھوں پر گر رہے تھے۔
زیغم نے مٹھی سختی سے بھینچی، اسے ہمیشہ اپنی دنیا کے سخت اصولوں کی عادت تھی، مگر یہ نازک سا وجود… یہ ان اصولوں میں کیسے ڈھل سکتا تھا۔ وہ مہرو کو خوفزدہ نہیں کرنا چاہتا تھا مگر نہ چاہتے ہوئے بھی حالات اس کے بس سے باہر ہو گئے تھے۔

“مہرو، میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔”
زیغم سلطان کے لہجے میں وہی سختی تھی، جو ہمیشہ رہی، مگر آج شاید کچھ نرم پڑ گئی تھی۔

“پر مہرو تو ڈر گئی، سائیں!”
وہ بچوں کی طرح بولی، آنکھیں رونے کی شدت سے رو کر جان لیوا حد تک خوبصورت لگ رہی تھیں، سانس اکھڑی ہوئی تھی۔

“یہ سب کچھ مہرو کے لیے نیا ہے، بہت خوفناک… مہرو نہیں جانتی کہ اتنی نفرت، اتنا غصہ، اتنی شدت کیوں ہوتی ہے۔ یہاں پر سب کے دلوں میں غصہ اور غصہ اور بس غصہ ہے!”

“کیونکہ کچھ لوگ عزت کے لائق نہیں ہوتے، مہرو!”
زیغم سلطان نے گہری سانس بھری۔
“اور میں ان سے اپنی حدود بنانا جانتا ہوں۔”

“پر مہرو کو تو بس امن چاہیے تھا، سائیں… یہاں تو پتہ ہی نہیں کہ کس وقت کسی کی جان لے لی جائے۔ کیا جان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی؟”
“ذرا ذرا سی بات پر ہتھیار نکل آتے ہیں!”
وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی، اور زیغم سلطان کو پہلی بار لگا کہ شاید… اس کی سختی نے اس معصوم دل کو زخمی کر دیا ہے۔

“مہرو، مجھے معاف کر دو… میری وجہ سے تم اتنی زیادہ پریشان ہو گئی ہو۔ آئندہ کوشش کروں گا کہ ایسا کچھ نہ کروں، خاص کر تمہارے سامنے!”
زیغم سلطان کی آواز میں نرمی تھی، مگر آنکھوں میں ایک عجیب سی بے چینی تھی۔

مہرو نے آنسو بھری آنکھوں سے دیکھا، پھر فوراً نظریں جھکا لیں۔
“نہ، سائیں! نہ… آپ اس طرح معافی مانگ کر مجھے گناہ گار نہ کریں۔ اور میں نے بھی… میں نے کیسے جرات کی کہ آپ سے یہ سب کچھ کہہ دیا۔ یہ آپ کا گھر ہے، جو چاہیں کر سکتے ہیں… میں تو…”

“نہیں، مہرو!”
زیغم نے مضبوط لہجے میں کہا، جیسے کسی الجھن کا فیصلہ کر چکا ہو۔

“یہ تمہارا بھی گھر ہے! یہاں پر سوائے ‘دانیا’، ‘ارمیزہ’ اور ‘زرام’ کے، سبھی میرے لیے تکلیف دہ رشتے ہیں۔ خدا کا واسطہ ہے، تم ان میں شامل مت ہونا!”

وہ ایک پل کو خاموش ہوا، نظریں اٹھا کر مہرو کی آنکھوں میں دیکھا۔
“میں تمہیں اپنے خاص رشتوں میں شامل کرنا چاہتا ہوں، مہرو!”
“میں نے بڑی محبت سے تمہاری طرف ہاتھ بڑھایا ہے، تمہیں پورے دل سے اپنایا ہے۔”
مہرو کا دل جیسے رک سا گیا، اس نے بے یقینی سے اپنے ہاتھ مروڑتے ہوئے نظریں جھکا لیں۔ زیغم کی گہری نیلی آنکھیں کچھ ایسا کہہ رہی تھیں، جو مہرو کو سمجھ نہیں آ رہا تھا، مگر محسوس ضرور ہو رہا تھا۔

“میں تمہیں چاہنے لگا ہوں، مہرو!”
زیغم کی آواز میں یقین تھا۔

“پہلی نظر میں محبت ہو گئی ہے تم سے… اور اس بات کو کہتے ہوئے مجھے ذرا سی بھی جھجک محسوس نہیں ہو رہی۔”
مہرو کا دل کسی نادیدہ دھڑکن کے زیرِ اثر کانپنے لگا۔ محبت کا لفظ جیسے اس کے کانوں میں گونج اٹھا تھا۔ وہ بے بسی سے اپنی چادر کا پلو چہرے پر رکھتے ہوئے رخ موڑ گئی۔ وہ کیا جواب دے، وہ تو اس جذبے سے ناواقف تھی… مگر زیغم سلطان کے لہجے کی نرمی، آنکھوں کا یقین، اور الفاظ کا اثر، کسی بھی لڑکی کے لیے انجان رہنا مشکل تھا۔

“مہرو، میری طرف دیکھو یار… کیا بات ہے؟”
“میں تمہیں اچھا نہیں لگتا یا تم مجھے اپنے قابل نہیں سمجھتی؟”
“کچھ تو کہو… اچھا نہیں تو برا ہی کہہ دو، اس طرح خاموش رہنے کا میں کیا مطلب سمجھوں؟”
زیغم سلطان کی آواز میں بے چینی تھی، نظریں مہرو کے جھکے چہرے پر تھیں۔

مہرو نے لرزتی پلکوں کے پیچھے چھپتی نظروں سے دیکھا، پھر فوراً چہرہ جھکا لیا۔
“سائیں، میری کیا اوقات ہے کہ میں آپ کو ناپسند کروں… آپ تو…”

زیغم نے فوراً بات کاٹ دی۔
“میں تو کیا؟”
“بہت برا ہوں؟”
زیغم نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔

“نہیں، نہیں! بہت، بہت اچھے ہیں!”
مہرو نے فوراً کہا، وہ بے اختیار بول گئی تھی۔

“اچھا؟ اگر میں اچھا ہوں تو میری طرف دیکھ کر کہو… ورنہ میں یہی سمجھوں گا کہ میں بہت برا ہوں۔”
زیغم نے محبت بھری شرارت سے کہا۔ گہری نظریں اس کے چہرے پر مرکوز کرنے کی پوری کوشش کر رہا تھا۔

مہرو نے گھبرا کر چہرے پر چادر کا پلو ڈال لیا۔
“مجھے… آپ سے شرم آ رہی ہے۔”

زیغم سلطان قہقہہ لگا کر ہنسا۔
“ہا ہا ہا… اچھا شرما کر ہی دیکھ لو، مجھے تو ذرا بھی شرم نہیں آ رہی، اور شرم تمہیں آ رہی ہے۔تو مجھے تو اپنی شکل دیکھنے کے لیے مت ترساؤ!”
مہرو کے دل کی دھڑکنوں میں عجیب سا شور برپا تھا۔ یہ احساس، یہ تیز دھڑکنیں اس نے آج سے پہلے کبھی محسوس نہیں کی تھی کچھ الگ تھا، انوکھا۔

“اگر میں اچھا ہوں تو کر لو نا یار محبت مجھ سے…!”
زیغم نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، پھر خود ہی رک کر سر جھٹکا۔
“مگر نہیں! میں ایسا نہیں کہوں گا… یہ تو پھر محبت میں ضد بازی، سودے بازی ہو گئی۔ تم اپنے دل کی سنو، مگر مجھے محبت کرنے سے مت روکنا، وہ تو میں کر سکتا ہوں نا؟”
“میرا دل ہے، میرا دماغ ہے، میں جو چاہوں سوچ تو سکتا ہوں نا؟”

مہرو نے بے بسی سے شرماتے ہوئے مزید چہرہ چھپا لیا۔
“میں… آپ کو کیا کہہ سکتی ہوں؟”

زیغم نے گہری سانس لی، دل موہ لینے والی مسکراہٹ کے ساتھ بولا:
“ہائے… صدقے جاؤں، مہرو، تمہاری سادگی پر!”
$تم کچھ کہہ نہیں سکتیں، مگر بن کہے زیغم سلطان کے دل پر حکومت جما کر بیٹھ گئی ہو۔”

مہرو نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
“میں نے کوئی حکومت نہیں چلائی… آپ تو میرے سائیں ہیں،میں تو ایسا ویسا سوچ بھی نہیں سکتی۔”

زیغم نے پیشانی مسلی، جیسے مہرو کی یہ بات سخت ناگوار گزری ہو۔
“میری پاگل! بیوی حکومت چلا سکتی ہے، میرا مطلب ہے کہ جس سے محبت کی جاتی ہے، اسے حق دیا جاتا ہے، اور جب میں خود حق دے رہا ہوں کہ تم مجھ پر حکومت چلاؤ، تو پھر مسئلہ کیا ہے؟”
“اور خدا کا واسطہ، مجھے ‘سائیں’ کہنا چھوڑ دو! مجھے اچھی فیلنگ نہیں آتی… مجھے میرے نام سے بلایا کرو! بہت شدت سے انتظار ہے کہ کس دن تم مجھے میرے نام سے بلاؤ گی۔”

مہرو نے بغیر دیکھے نفی میں سر ہلایا۔
“سائیں… بی بی جی میری جان لے لیں گی! آپ اس طرح کی باتیں مجھ سے نہ کریں… آپ نے دیکھا تھا نا، وہ کتنے غصے میں تھیں؟”

زیغم کے چہرے پر سختی آ گئی۔
“بھاڑ میں جائے بی بی جی! اس کا نام میرے سامنے مت لیا کرو! تم مجھ سے صرف اپنی بات کیا کرو… تم نایاب کے بارے میں کچھ نہیں جانتی، اس لیے دور رہو اس سے اور اس کے نام سے بھی۔”
وہ لمحہ بھر کو رکا، مہرو کے چہرے سے نرمی سے چادر کو تھوڑا سا ہٹاتے ہوئے آنکھوں میں جھانکا۔

“سائیں، میں سمجھ نہیں پا رہی… وہ آپ کی بیوی ہیں، آپ کی حیثیت کے مطابق ہیں، آپ سے پیار کرتی ہیں، آپ کی بیٹی کی ماں ہیں، پھر آپ مجھے کیوں اہمیت دے رہے ہیں؟”
“میں عام ہوں، آپ کی حیثیت کے مطابق نہیں ہوں، میرا آپ سے کوئی جوڑ نہیں… آپ میرے لیے جو کر رہے ہیں، وہ میری سوچ سے بڑھ کر ہے… میں بہت بے وقوف ہوں، سمجھ نہیں پا رہی کہ آپ میرے لیے یہ سب کیوں…؟”
مہرو کی آواز کانپ رہی تھی، آنکھوں میں الجھن تھی، وہ زیغم کو دیکھ رہی تھی جیسے کوئی جواب تلاش رہی ہو۔ زیغم سلطان نے گہری سانس بھری،تھوڑا سا سر رکھ کر اس کے قریب ہوا۔ مہرو فوراً سے اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی تھی۔ چند لمحے اسے دیکھتا رہا، پھر اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہوتے ہوئے ایک قدم آگے بڑھ کر اس کے قریب آیا، نظریں سیدھی مہرو کی آنکھوں میں گاڑ دیں۔

“تمہیں لگتا ہے، میں تمہارے لیے یہ سب بے وجہ کر رہا ہوں؟”
مہرو نے نظریں جھکا لیں، وہ زیغم کی آنکھوں کا سامنا نہیں کر سکتی تھی۔ زیغم سلطان کے قریب ہونے سے اس کی وجود سے اڑتی ہوئی خوشبو مہرو کے حواسوں کو برخاستہ کر رہی تھی۔

“سنو مہرو… محبت رتبے، حیثیت، فرق، جوڑ دیکھ کر نہیں ہوتی… وہ بس ہو جاتی ہے۔ اور مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے، یہ بات جتنی تمہارے لیے حیران کن ہے، اتنی ہی میرے لیے بھی تھی… لیکن اب میں نے خود کو سمجھا لیا ہے، تم بھی سمجھ لو۔ میں نے تمہیں اپنے دل میں جگہ دی ہے، یہ کوئی معمولی بات نہیں، اور جہاں تک نایاب کی بات ہے، تو ہاں، وہ میری بیوی ہے، میری بیٹی کی ماں ہے، مگر وہ میرے دل کی ملکہ نہیں ہے۔ وہ میری زندگی کا وہ رشتہ ہے، جسے میں نے نبھایا ہے، مگر دل سے قبول نہیں کیا۔ نایاب میری زندگی کا وہ کالا دھبہ ہے جسے ساتھ رکھنا صرف میری مجبوری ہے…… اور تم……”
زیغم نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
“تمہیں میں نے دل سے قبول کیا ہے، میری چاہت کے ساتھ، اپنی مرضی کے ساتھ۔”
مہرو کا دل دھڑکنا بھول گیا۔ یہ شخص اتنے سکون سے، اتنے یقین سے یہ سب کہہ کیسے سکتا تھا۔

“مگر سائیں، میں… میں اس محبت کے قابل نہیں ہوں۔”
اس کے لب کانپے۔

“یہ فیصلہ میرا ہے کہ کون میرے قابل ہے اور کون نہیں۔ اور میں نے فیصلہ کر لیا ہے… مہرو، تم میری ہو۔ بس۔میری۔”
زیغم نے سنجیدگی سے کہا،اس کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ سچائی بیان کر رہا تھا۔

“نہ تو تم عام ہو، اور نہ ہی زیغم سلطان کی محبت کوئی عام چیز ہے۔ اگر زیغم سلطان کے دل نے مہرو کو اپنے لیے چنا ہے، تو تم میں ضرور کوئی خاص بات ہے۔”
“خود کو عام سمجھنا چھوڑ دو، میری ریسپیکٹ کرتی ہو، مطلب کہ میری عزت کرتی ہو؟”
مہرو کو انگلش سمجھ نہیں آتی تھی، اس لیے فوراً سے جملہ بدلا تھا۔

“آپ کی بہت عزت کرتی ہوں!”
وہ نظروں میں احترام لیے میٹھے لہجے میں بولی۔

“تو پھر اسی عزت کی خاطر خود کو عام سمجھنا چھوڑ دو۔ تم میری بیوی ہو، اس گھر کی مالکن۔ اگر تم خود کو عام سمجھو گی، تو مطلب میں بھی عام ہو جاؤں گا۔ کیا تمہیں یہ قبول ہوگا؟”

“نہیں…”

“تو پھر چلو میرے ساتھ، پوری ٹھاٹ کے ساتھ میرے ساتھ چل کر بیٹھو۔ گھبرانا، ڈرنا چھوڑ دو، میں ہوں ہر لمحہ تمہارے ساتھ۔”
“زندگی نے بہت دکھ دیے ہیں، مہرو۔ میں نے زندگی میں بہت کچھ کھو دیا ہے، مگر تمہیں پا کر میرے دردوں پر، زخموں پر مرہم سا لگنے لگا ہے۔ کبھی مجھ سے دور مت ہونا، تمہیں پانے سے پہلے ہی تمہیں کھو دینے کا ڈر میری جان نکال رہا ہے۔ کبھی مجھ سے دور مت ہونا۔ جانتا ہوں، تم بہت معصوم ہو، مگر میرے جذبات تم سمجھ رہی ہو!”
مہرو نے نظریں جھکا لیں، دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگیں۔ زیغم سلطان کا لہجہ، اس کے الفاظ، وہ اپنائیت، سب کچھ مہرو کے لیے نیا تھا۔ زیغم نے نرمی سے اس کی ٹھوڑی کو چھوا، آہستہ سے اوپر کیا، تاکہ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ سکے۔

“مجھے تمہاری یہ جھکی نظریں اچھی لگتی ہیں، مگر ہمیشہ کے لیے نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تم میری طرف دیکھو، مہرو۔ دیکھو کہ میرے دل میں تمہارے لیے کیا ہے۔”
مہرو کی پلکیں لرزیں، جیسے دل کی کیفیت آنکھوں تک آ رہی ہو۔ زیغم نے آہستہ سے اس کے چہرے کے قریب ہو کر سرگوشی کی:
“محبت ہو گئی ہے تم سے، مہرو۔”

مہرو کا سانس اٹک گیا۔

“یہ سب… یہ سب میرے لیے بہت نیا ہے، سائیں…”
اس کی آواز لرز گئی۔

زیغم کے لبوں پر ہلکی مسکان آئی۔
“ہاں، نیا تو ہے، مگر غلط نہیں۔ محبت جب دل میں اتر جائے تو پھر کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔”
مہرو کا دل بے قابو ہوا جا رہا تھا، اس نے چہرہ چھپانے کے لیے چادر کا پلو تھاما، مگر زیغم نے نرمی سے اس کا ہاتھ روک لیا۔

“نظریں چرانے کی ضرورت نہیں، مہرو۔ محبت میں یقین چاہیے، اور میں تمہیں یہ یقین دلانے کے لیے ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔”
مہرو نے بے بسی سے آنکھیں بند کر لیں، جیسے خود کو اس لمحے کے سپرد کر رہی ہو، اور زیغم کے لبوں پر بس ایک مطمئن مسکان آ گئی۔ زیغم سلطان کی آنکھوں میں گہری سنجیدگی تھی، مگر لہجے میں وہی نرمی، وہی محبت جو مہرو کے دل کو بے سکون کر رہی تھی۔

“اس کان کا مطلب میں ‘ہاں’ سمجھ کر رکھ رہا ہوں، مہرو۔”
زیغم نے آہستہ سے کہا، وہ اس پیار بھرے لمحے کو قید کرنا چاہتا تھا۔نظر مہرو کے چہرے کو چھو کر واپس آ رہی تھی۔اس کی پرفیوم کی خوشبو اور نظروں کی حرارت کو قریب محسوس کرتے مہرو کا سانس رکنے لگا، دل کی دھڑکنیں تیز ہوئیں۔

“سائیں، میں… میں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔”
وہ جلدی سے کہتے ہوئے اپنے دل میں اٹھتے جذباتوں سے بھی انکار کر رہی تھی۔

“تمہاری خاموشی، تمہاری نظریں، تمہاری گھبراہٹ… سب کہہ رہی ہیں، مہرو۔ اور میں تمہاری ہاں کو اب کسی بھی صورت جھٹلانے والا نہیں ہوں۔”
زیغم نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر جھکایا، اس کی پیشانی کے قریب ہوتے ہوئے بولا۔

مہرو نے جلدی سے چادر کا پلو تھام لیا، جیسے خود کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی ہو۔ زیغم نے نرمی سے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
“مت چھپاؤ خود کو، مہرو۔ میں نے تمہیں چاہا ہے، اور اب تم میری ہو۔ تمہیں ہر حال میں اپنے ساتھ رکھوں گا، چاہے وقت ہمارے خلاف ہو یا دنیا۔”
مہرو کی پلکوں پر ایک بار پھر سے نمی تیرنے لگی، دل میں کچھ نیا سا احساس جاگا، وہ زیغم کے جذبات کے سمندر میں ڈوبتی جا رہی تھی، اور وہ اسے تھامنے کے لیے پہلے سے تیار تھا۔

“بولو مہرو بنوں گی میری ہمسفر؟”
“دو گی میرا ساتھ اس زندگی بھر کے سفر میں؟”
زیغم سلطان کا بھاری ہاتھ اس کے سامنے امید سے پھیلا ہوا تھا۔ آنکھوں میں امید کی روشنی تھی۔ وہ منتظر تھا کہ مہرو کچھ کہے، کوئی اقرار کرے، کوئی لفظ لبوں سے نکلے جو اس لمحے کو امر کر دے۔ مہرو کی پلکیں لرزیں ، دل کی دھڑکن جیسے تھم سی گئی ہو، مگر اس بار وہ خاموش نہیں رہی۔ بڑی ہمت سے، نازک سا ہاتھ سائیڈ سے گزارتے ہوئے آہستہ سے زیغم کے بھاری مردانہ ہاتھ میں رکھ دیا۔

زیغم کی سانسیں گہری ہو گئیں، اس کی آنکھوں میں ایک چمک ابھری۔ وہ دل سے بولا:
“بہت شکریہ، میری زندگی میں آنے کے لیے… بہت شکریہ، مجھے قبول کرنے کے لیے… ہمیشہ تمہارا شکر گزار رہوں گا۔”
وہ نرمی سے اس کے نازک ہاتھ کو اپنے لبوں سے لگا چکا تھا جبکہ مہرو نے جھٹکے سے ہاتھ کھینچ لیا، آنکھوں میں حیرت اور دل میں ایک انجان سی کیفیت لیے۔ مہرو کا دل دھک دھک کرتے ہوئے سینے کی دیواریں توڑ کر باہر آنے کو بے قرار تھا۔ زیغم سلطان کے لبوں کا محبت بھرا لمس اپنے ہاتھ پر محسوس کرتے ہی، جیسے اس کے وجود میں سنسناہٹ سی دوڑ گئی ہو۔ سانسیں الجھنے لگیں، دل کی دھڑکن بے قابو ہو گئی۔ گھبراہٹ کی شدت میں وہ پلکیں جھپکنا بھی بھول گئی تھی۔ زیغم کے قریب ہونے کا احساس، اس کی گہری نظریں، اور یہ اجنبی سا لمس… سب کچھ مہرو کے لیے نیا تھا، بہت زیادہ نیا!
وہ بمشکل سانس لے پائی، مگر زیغم کے سامنے خود کو کمزور پڑنے دینا نہیں چاہتی تھی۔ چہرہ پلٹا، چادر کا پلو مضبوطی سے تھاما، اور نظریں جھکا کر اپنی بے ترتیب دھڑکن کو قابو میں لانے کی کوشش کرنے لگی۔ زیغم سلطان نے اس کے چہرے کی لالی اور گھبراہٹ کو محسوس کرتے ہوئے ایک گہری سانس لی، لبوں پر ہلکی مسکراہٹ آئی، مگر وہ خاموش رہا۔ وہ چاہتا تھا کہ مہرو خود اپنے جذبات کو سمجھے، خود فیصلہ کرے… کیونکہ زیغم سلطان محبت میں زبردستی کا قائل نہیں تھا!
“میں قربان جاؤں تمہاری اس شرم و حیا پر، مگر بے فکر رہو، مہرو۔ زیغم سلطان ہمیشہ محبت کی دہلیز کے اس پار کھڑا رہے گا۔ جب تک مہرالنساء زیغم کی اجازت نہیں دے گی، میں کبھی اس دہلیز کو پار نہیں کروں گا۔ یہ وعدہ ہے تم سے!”
“تمہاری عزت، تمہارا وقار، تمہاری ابرو… ہمیشہ میرے لیے اولین ترجیح رہے گی۔ محبت کی ایسی مثال قائم کروں گا کہ لوگ مردوں کی فطرت اور سوچ کو ایک الگ نظر سے دیکھنے پر مجبور ہو جائیں گے۔”
وہ اپنے دماغ میں سوچتے ہوئے اپنے لیے حد و حدود قائم کر رہا تھا، جیسے خود کو سمجھا رہا ہو کہ محبت میں جذبات کی شدت کے باوجود عزت اور وقار اولین ہے۔ زیغم سلطان کی گہری نظریں مہرو کے جھکے چہرے پر تھیں، مگر اس کے دل میں ایک مضبوط فیصلہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ محبت صرف جذبات کا نام نہیں، بلکہ عزت اور برداشت کا امتزاج بھی ہے۔

قابلِ فخر ہوتے ہیں ایسے مرد، جو مرد ہوتے ہوئے بھی اپنی شریکِ حیات کو قابلِ احترام سمجھتے ہیں!
وہ اپنے دل کو یہی یقین دلا رہا تھا کہ مہرو کی عزت اور وقار، اس کی محبت سے بڑھ کر ہے۔ وہ اسے محبت کے ساتھ مکمل اعتماد اور تحفظ دینا چاہتا تھا۔ یہی اس کی محبت کی معراج تھی!
وہ زیغم کی سوچوں کو پڑھ نہیں سکتی تھی مگر رخ پھیر کر کھڑی ہوئی مہرو کا دل جیسے کسی نامعلوم احساس میں قید ہو چکا تھا، وہ نظریں جھکائے کھڑی تھی، مگر اس کی خاموشی میں قبولیت کی مہر لگ چکی تھی۔
محبت وہ خوبصورت جذبہ ہے جس پر رب کی مہر تب ہی لگتی ہے جب وہ پاکیزہ ہو، جب وہ محرم کے ساتھ ہو۔ آج کل “بوائے فرینڈ” اور “گرل فرینڈ” کے نام پر جو تعلقات قائم کیے جا رہے ہیں، انہیں محبت نہیں بلکہ لعنت کہتے ہیں۔ یہ ماں باپ کی عزت کو روندنے کے مترادف ہے۔
کچھ شادی شدہ لوگ بھی ایسے ہوتے ہیں جو اپنے شریکِ حیات کے ہوتے ہوئے کسی اور کے دل میں جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی عورت جو اپنے شوہر کے ہوتے ہوئے کسی غیر مرد سے محبت کرے، یا ایسا مرد جو کسی غیر عورت کے لیے جذبات رکھے، ان پر بھی لعنت ہے۔
اسلام نے ہمیں محبت کا اصل مفہوم سکھایا ہے۔ جس چیز کی اجازت ہمارا دین نہیں دیتا، اسے ہم درست کیسے کہہ سکتے ہیں؟ آج کے دور میں لوگ محبت کے اصل مفہوم کو بدل چکے ہیں، ماں باپ کی عزتوں کو پیروں تلے روند رہے ہیں، اور اسے محبت کا نام دے رہے ہیں، حالانکہ یہ جہالت اور اسلام سے دوری ہے۔ اگر ہم اسلام کو صحیح معنوں میں سمجھیں، تو ہمیں معلوم ہوگا کہ محبت کا اصل مقام کیا ہے۔ محبت ہمیشہ محرم سے ہوتی ہے، وہ ہر اس رشتے میں موجود ہوتی ہے جو پاکیزہ ہو۔ ماں کو اپنے بیٹے سے، باپ کو اپنی بیٹی سے، بہن کو بھائی سے، اور بھائی کو بہن سے محبت ہوتی ہے۔ اسی طرح، میاں اور بیوی کی محبت بھی پاکیزہ ہوتی ہے، کیونکہ یہ ایک محرم رشتہ ہے۔
محبت کے لیے محرم ہونا ضروری ہے!
یہی اسلام کا اصول ہے، اور یہی اصل محبت کی پہچان ہے۔
°°°°°°°°
سب بے صبری سے “زیغم” کا انتظار کر رہے تھے، اور آخرکار وہ لمحہ آ پہنچا۔ انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں، اور “زیغم سلطان”, “مہرالنسا٫” کا ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں تھامے، دبنگ انداز میں سیڑھیوں سے نیچے اتر رہا تھا۔ قسم سے، جوڑی تو واقعی قابلِ رشک تھی… چاند اور ستارے کی جوڑی لگ رہی تھی۔ سچ میں، یوں لگ رہا تھا جیسے دونوں صرف ایک دوسرے کے لیے ہی بنائے گئے ہوں۔ وہ نیلی آنکھوں والا، گندمی رنگت، خوبصورت نین نقش، مردانہ وجاہت کا مالک، چوڑا سینہ، چھ فٹ سے بھی زیادہ قد کاٹھ رکھنے والا “زیغم سلطان”, اور اس کے ساتھ نازک سی گڑیا… گوری رنگت، کالی گہری آنکھیں، گھنی پلکیں، کشادہ ماتھا، مخملی گلوسی ہونٹ، اور “زیغم” کے کندھے تک آتا ہوا قد… بالکل ایک پرفیکٹ میچ تھا۔ آئیڈیل جوڑی لگ رہی تھی۔ دونوں ایک ایک قدم نرمی سے اٹھاتے ہوئے، دل موہ لینے والے انداز میں سیڑھیوں سے نیچے آ رہے تھے۔
بے اختیار، “ذرام”, “مائد” اور “دانیا” کی نظریں ان پر جا ٹھہریں۔ پیاری سی گڑیا “ارمیزہ” نے بھی مسکراتی نظروں سے ان کا استقبال کیا۔ “مہرو” کا ہاتھ تھامے، “زیغم سلطان” خود ڈائننگ ٹیبل کے قریب آیا اور کرسی کھینچ کر پیچھے کی۔ “مائد خان” نے ابرو اٹھا کر “زیغم” کی طرف دیکھا۔ “زیغم سلطان” اس نظر کا مفہوم اچھی طرح سمجھ چکا تھا، مگر صرف مسکرا کر خاموش ہو گیا۔ وہ جانتا تھا کہ اب “مائد” اسے خوب تنگ کرنے والا ہے۔ “مہرو النساء” خاموشی سے ٹیبل پر بیٹھ گئی۔ وہ بے حد انکمفرٹیبل تھی، اتنے سارے لوگوں کے درمیان، مگر جس نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر ساتھ چلایا تھا، اس کے تحفظ میں وہ بے اختیار خود کو محفوظ محسوس کرنے لگی تھی۔ “زیغم” نے اپنی کرسی کھینچی اور بیٹھ گیا، جبکہ “دانیا” نے جلدی سے افطاری کے سب لازمی لوازمات ان کے آگے رکھتے ہوئے، محبت بھری نظروں سے دونوں کو دیکھا۔

“ویسے زیغم بھائی، زیادتی ہے! چپ چاپ آپ نے نکاح کر لیا؟”
“چلو، کوئی بات نہیں، مگر آپ نے تو بھابھی سے ہمارا تعارف کروانا بھی ضروری نہیں سمجھا!”
“ذررام” نے مصنوعی ناراضگی دکھاتے ہوئے کہا۔

“شروع سے عادت ہے چیزیں چھپانے کی، نہ بتانے کی!”
“فطرت انسان کی بدل تو نہیں سکتی نا؟”
“مائد” نے ناراض نظریں “زیغم” پر ڈالیں، پھر فوراً نیچے جھکا لیں۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی ہو چکی بھابھی پر غلطی سے بھی اس کی فضول نظر جائے۔ آخر وہ اس کے یار کی عزت تھی!

“سوری! میں معذرت خواہ ہوں کہ میں نے تعارف نہیں کروایا، جبکہ حالات تم لوگوں کے سامنے تھے۔ تعارف کروانے کے لیے ہی تو افطاری پر ایک ساتھ اکٹھا ہوئے تھے۔”
“زیغم” نے سنجیدگی سے کہا۔

“اپنی سوری اپنے پاس رکھ، مجھے نہیں چاہیے!”
“مائد” نے ناراضگی سے کہا اور اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔

“آرام سے بیٹھ جاؤ! جو غصہ ہے، شکایت ہے، کر لینا، مگر یہاں سے گیا تو ٹانگیں توڑ دوں گا! پھر ایمبولینس بلواؤں گا اور اس پر ڈال کر گھر بھیجوں گا!”
“زیغم” نے اپنے دوست پر پورے حق سے حق جتاتے ہوئے کہا۔

“اچھا؟ کیوں؟ ہم اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتے؟”
“تمہاری مرضی ہو تو جو چاہے کرتے پھرو، مگر میں کچھ نہیں کر سکتا؟”
“نہیں بیٹھوں گا! جو کرنا ہے، کر لو!”
“مائد” ہٹ دھرمی سے بولا۔

“ذرام، پلیز! تمہیں میں بعد میں آ کر سب سمجھا دوں گا، پہلے ذرا اس کے جبڑے بند کروا لوں!”
“زیغم” نے جھنجھلا کر کہا اور “مائد” کا ہاتھ کھینچ کر اپنے ساتھ والی کرسی پر بٹھا لیا۔

“سب کچھ اچانک ہوا تھا، بتانے کا موقع نہیں ملا۔ اور جب تمہیں بتانے کا سوچا ہی تھا تو آغا جان کی طبیعت خراب ہو گئی۔ پھر موقع ہی نہیں ملا۔ گھر واپس آیا تو سوچا کہ تھوڑا سا آغا جان بہتر ہو جائیں، پھر تمہیں یہ شاک دے دوں گا، مگر اس کے بعد تمہیں پتہ ہے کیا ہوا۔ ملاقات پر بھی نہیں بتا سکا، اور گھر آتے ہی میں نے تمہیں افطاری پر بلا لیا۔ یہاں بلوانے کا یہی مقصد تھا کہ میں تمہیں ساری حقیقت سے آگاہ کر سکوں۔ کمینے! تجھ سے بھلا میں کوئی چیز چھپا سکتا ہوں؟”
“فضول میں پٹھانوں والی کھوپڑی کا استعمال نہ کیا کر، جبکہ تو جانتا ہے کہ پٹھانوں کی کھوپڑی میں عقل کی تھوڑی کمی ہوتی ہے!”

“ہاں! سندھی لوگوں میں بہت عقل ہوتی ہے، اس لیے وہ اپنی عقل کا استعمال ضرورت سے کچھ زیادہ ہی کرتے ہیں۔ جہاں پر ضرورت نہیں ہوتی، وہاں بھی کر لیتے ہیں!”
دونوں ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ رہے تھے۔

“اچھا یار، چھوڑو! میرا بھی دکھ سن لو! آخر میری بھی بھابھی ہے، مجھے بھی تو ان سے تعارف نہیں کروایا گیا!”
“ذرام” نے جلدی سے اپنا کٹا کھول لیا۔

“مہرو، یہ تمہارا دیور ہے، مطلب کہ میرا چھوٹا بھائی۔ یہ تمہارا جیٹھ ہے، مطلب کہ میرا بڑا بھائی۔ اور یہ تم دونوں کی بھابھی ہے، جسے میں نے چنا ہے!”
“زیغم” کے دانت نکلے تو بے اختیار وہاں ٹیبل پر بیٹھے سب کی ہنسی چھوٹ گئی۔ کچھ دیر پہلے ماحول بہت ڈسٹرب تھا، مگر اب خوشیوں کی گونج دشمنوں کے سینوں پر جا کر لگ رہی تھی!
°°°°°°°°°°
قدسیہ نے غصے سے پانی کا گلاس دسترخوان پر پٹخا۔
“کب اس سے ہماری جان چھوٹے گی؟”
“کب تک یہ ہمارے سر پر عذاب بن کر بیٹھا رہے گا؟”
روزہ افطار کرتے ہی اس کی بڑبڑاہٹ شروع ہو گئی تھی۔

“اللہ کا واسطہ ہے، چپ کر جاؤ!”
“مجھے خود نہیں معلوم کب ختم ہوگی یہ مصیبت، میں بھی تم سب کے ساتھ بھگت رہا ہوں، کون سا میں تخت پر بیٹھا ہوں؟”
توقیر جل کر بولا اور سامنے رکھی فروٹ چاٹ سے پیالہ بھر لیا۔ بیچارہ چٹ پٹی چیزوں سے اپنا غبار نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔

“آپ کوئی فیصلہ کریں، ورنہ میں زیغم کا قصہ ختم کر دوں گا!”
شہرام نے غصیلی نظروں سے سب کو گھورا۔ وہ بمشکل کرسی پر بیٹھا تھا، زمین پر بچھے دسترخوان پر بیٹھنے کے لائق نہیں تھا، مگر انداز ایسا جیسے ابھی میدانِ جنگ میں کود کر دشمنوں کو تہس نہس کر دے گا۔ حقیقت میں وہ صرف ہیکڑی دکھا سکتا تھا، اس سے زیادہ کچھ نہیں… ایک ایسا شخص جسے دیکھ کر صرف ہنسی آ سکتی تھی، ڈرنا تو دور کی بات تھی مگر شہرام کو اب بھی لگتا تھا کہ وہ زیغم سلطان جیسے پہاڑ کو گرا سکتا ہے۔ بھئی اب سوچوں پر پہرے تو نہیں لگائے جا سکتے۔

“خبردار! اگر زیغم کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا، تو اچھا نہیں ہوگا!”
نایاب کا لہجہ تلخ تھا۔ وہ پہلے ہی دہی بھلوں کو زبردستی حلق سے اتارنے کی کوشش کر رہی تھی، سوتن کو سامنے دیکھ کر اس کا موڈ خراب ہو چکا تھا، اور اب شہرام کی دھمکی نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔

“ماشاءاللہ! ایک تو اس کی محبت جاگ جاتی ہے!”
قدسیہ نے تیز لہجے میں ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا۔

“منہ تک تو وہ تمہیں لگاتا نہیں، بات بات پر دھتکار دیتا ہے، اور تم ہو کہ محبت کا نشہ ہی نہیں اترتا!”
“اب تو وہ تم پر سوتن بھی لے آیا ہے، وہ بھی تم سے زیادہ خوبصورت اور کم عمر۔ اب تو ہوش میں آ جاؤ۔ جو کچھ اکٹھا کر کے سمیٹ سکتی ہو، سمیٹ لو، اور یہاں سے جان چھڑاؤ!”

“اماں! اللہ کا واسطہ ہے، اگر اچھا نہیں بول سکتیں تو برا بھی مت بولا کریں۔ جب بھی میرے لیے بولتی ہیں، بس زہر ہی اگلتی ہیں!”
نایاب غصے میں دسترخوان سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔

“کہاں جا رہی ہو بیٹھ کر افطاری تو کر لو…”
توقیر نے اپنی بیٹی کو جاتے ہوئے دیکھ ناگواری سے کہا تھا۔

نایاب کی بے رحم آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے تھے۔
“آپ ہی کھائیں، مجھے نہیں کھانا کچھ بھی!”
کہہ کر وہ اندر کی طرف بڑھ گئی۔

“بس! تم لوگوں کو سوائے جھگڑا کرنے کے کچھ نہیں آتا!”
“نکھٹو اکٹھے کر رکھے ہیں میں نے!”
توقیر نے خونخوار نظروں سے سب کو گھورا اور جلدی سے چمچ بھر کر فروٹ چاٹ منہ میں ڈال لی۔ بیچارہ ڈر رہا تھا کہ کہیں بحث میں پڑ کر کھانے سے محروم نہ رہ جائے۔

“ہاں، ہم تو جھگڑا ہی کرتے ہیں، تم نے تو بڑا کوئی تیر مار لیا ہے!”
قدسیہ نے فوراً نشتر چلا دیا۔ سب ایک سے بڑھ کر ایک نمونے تھے۔
نایاب تو اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی، جبکہ شہرام کی آنکھوں میں ایک الگ ہی چمک تھی… ضرور اس کے دماغ میں کوئی کھچڑی پک رہی تھی، کوئی ایسا خیال جو سب کو حیران کر دینے والا تھا۔ شہرام کی آنکھوں میں وہی چمک تھی، جو ہمیشہ کسی نئی چال کے وقت آتی تھی۔ شیطانی دماغ تھا، کچھ نہ کچھ گھٹیا ہی سوچ رہا ہوگا… یہ تو کنفرم تھا۔

قدسیہ نے شک بھری نظروں سے اسے دیکھا۔
“یہ نظروں میں کیا کھچڑی پک رہی ہے، شہرام صاف صاف بتاؤ!”

شہرام نے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ سجائی، کندھے اچکائے اور بے نیازی سے کہا:
“بس، ایک مزے کی چال چلنے کا سوچ رہا ہوں… زیغم کو وہی مارے گا، جس پر وہ آنکھیں بند کر کے اعتماد کرتا ہے!”

توقیر نے بے زاری سے سر جھٹکا۔
“بکواس بند کرو اور کھانے پر دھیان دو۔کوئی الٹی سیدھی چال مت چلنا کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں۔ ویسے بھی اس ہلکٹ کو عادت ہے منہ سے زیادہ پسٹل سے بات کرنے کی!”
توقیرنے دو ٹوک اسے نئی حرکت سے روک دیا تھا لیکن شہرام کی نظریں کہیں اور تھیں… وہ ذہن میں کوئی گھناؤنا منصوبہ بنا چکا تھا۔
°°°°°°°°°°°
مائد نے افطاری کے نام پر بہت کم چیزیں کھائی تھی۔ پانی کا آخری گھونٹ پیا اور زیغم کی طرف دیکھا۔
“افطاری کے بعد میرے ساتھ چلو، مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔”

“جانتا ہوں، اپنی شادی کی خبر سنانے آئے ہو۔”
بغیر کسی تاثرات کے زیغم نے افطاری میں مصروف رہتے ہوئے کہا تھا۔

“کیوں کوئی اور بات نہیں ہو سکتی ہے؟”
“سب کے دماغ پر صرف شادی کی دھن سوار ہے!”
شادی کے ذکر پر اس کا انداز بیزار سا ہوگیا تھا۔

“اچھا یار، اتنی سنجیدہ شکل بنانے کی ضرورت نہیں، ابھی ہم چل رہے ہیں تو بتانا، کیا ضروری بات ہے؟”
“فلحال افطاری پر توجہ دے لو۔”
اس کی شکل دیکھ کر زیغم کو ہنسی آگئی تھی۔

مائد نے کھانے کی طرف دیکھا اور کندھے اچکائے۔
“میں نے افطاری کر لی ہے، اب نماز پڑھوں گا۔ تم جلدی سے فری ہو کر آؤ، پھر چلتے ہیں۔”

زیغم نے گہری سانس لی اور اٹھتے ہوئے کہا:
“ٹھیک ہے، میں نے بھی افطاری کر لی ہے۔ چلو مسجد، نماز پڑھنے کے بعد بات کرتے ہیں۔”

جیسے ہی وہ چلنے لگا، زیغم نے رک کر پوچھا، :
“ذرام تم نہیں آؤ گے نماز پڑھنے؟”

ذرام نے مختصر جواب دیا:
“نہیں بھائی، میں گھر پر ہی پڑھوں گا، آپ لوگ جائیں۔”

“ہمم… ٹھیک ہے، دھیان رکھنا۔ گھر پر کوئی بھی افرا تفری نہ مچائے!”
اس کا اشارہ واضح تھا، اس فیملی پر۔

“بھائی آپ بے فکر رہیں میں ہوں گھر پر!”
ذرام نے تسلی بخش انداز میں کہا تو زیغم اور مائد دونوں ایک ساتھ چلتے ہوئے باہری دروازے کی جانب بڑھ گئے تھے۔
°°°°°°°
“چلو، مہرو اور ارمیزہ، ہم بھی نماز پڑھ لیتے ہیں۔”
دانیا کے کہنے پر دونوں فوراً کھڑی ہو گئیں۔

تبھی زرام کی آواز سنائی دی:
“مہرالنساء بھابھی!”
مہرالنسا٫ پلٹ کر دیکھا تھا۔

“زیغم بھائی کی زندگی میں آنے کے لیے شکریہ… ہمیشہ ان کا خیال رکھیے گا۔ انہوں نے زندگی میں بہت سے دکھ برداشت کیے ہیں، شاید آپ کو خدا نے ان کی خوشیوں کی میراث بنا کر بھیجا ہے۔”
مہرو کے قدم ایک پل کو ٹھٹک گئے۔ دل میں ایک انجانی سی کیفیت ابھری… کیا وہ واقعی زیغم سلطان کی خوشیوں کی وجہ بن سکتی ہے؟ مہر و خاموش تھی اس کے پاس الفاظ نہیں تھے کہ وہ کیا کہتی ابھی تو وہ گھر والوں سے بہت زیادہ اجنبیت محسوس کر رہی تھی۔ کیا جواب دے اسے سمجھ نہیں آرہا تھا۔

“مہرو زرام بھائی ٹھیک کہہ رہے ہیں سچ میں تم زیغم بھائی کہ صبر کا پھل ہو۔ بھائی نے بہت کچھ زندگی میں برداشت کیا ہے، چپ ساد لی تھی انہوں نے، بغیر شکوہ شکایت کیے وہ سالوں اپنے گھر والوں سے دور رہے۔ بھائی بہت ہنسنے کھیلنے والے انسان تھے مگر وقت نے ان کو خاموش کروا دیا، سیریس پرسنلٹی بنا دیا۔ زیغم بھائی ایسے بالکل نہیں ہیں، وہ تو زندگی جینا چاہتے تھے، زندگی میں خوشیوں کے رنگ دیکھنا چاہتے تھے، ہر کسی کے چہرے پر خوشی دیکھنا چاہتے تھے مگر سب کے بیچ میں ان کا اپنا سب کچھ کہیں کھو گیا، وہ زیغم بھائی کھو گئے جو کبھی خوش ہوا کرتے تھے!”
“خدا نے تمہیں ان کے صبر کا انعام بنا کر بھیجا ہے، کبھی بھی بھائی کا ہاتھ مت چھوڑنا!”
مہرو نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔

“تھینک یو… تھینک یو سو مچ!”
زرام نے ادب کے ساتھ مہرو کا شکریہ کیا تھا جبکہ مہرو زرام سے عمر میں چھوٹی تھی مگر جس رتبے پر وہ فائض ہو چکی تھی وہ بہت مقدس تھا ذرام اور دانیہ کے لیے۔ ارمیزہ بڑوں کی باتیں بڑے دھیان سے سن رہی تھی۔

“ٹھیک ہےاب آپ لوگ جائیں، آپ کو نماز کے لیے دیر ہو رہی ہوگی، میں بھی نماز ادا کر لیتا ہوں!”
“ذرام” نے مسکرا کر کہا تو “دانیا” ،”مہرونسا” اور “ارمیزہ”، نماز کے لیے اپنے اپنے روم میں چلی گئیں۔ “دانیا” اپنے روم میں چلی گئی تھی جبکہ” مہرو “اور”ارمیزہ”، ایک ساتھ گئی تھیں کیونکہ “ارمیزہ” کو “مہرو” کے ساتھ نماز پڑھنی تھی۔
°°°°°°
“ہو گئیں چاپلوسیاں؟”
“شرم نہیں آتی تمہیں، میں بہن ہوں تمہاری، اور تم تو میرے دشمن بنے پھر رہے ہو!”
“نایاب” سیڑھیوں پر کھڑی طنز برسا رہی تھی، جبکہ “زرام” خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا تاکہ نماز ادا کر سکے۔

“پیچھے! نماز پڑھنی ہے، دیر ہو رہی ہے!”
“ذرام” نے نظریں چرائیں، مگر “نایاب” زہر اگلنے پر تلی ہوئی تھی۔

“نماز پڑھنی ہے؟”
“خدا کو کیا منہ دکھاؤ گے؟”
“اپنی ہی بہن کا گھر اجاڑنے پر تلے ہوئے ہو، اور امید رکھتے ہو کہ توبہ قبول ہو جائے گی؟”
“زرام” رک گیا۔ اس کی آنکھوں میں ضبط کی پرچھائیاں لرزیں، مگر لہجے میں زہر نہ گھلا۔

“اگر آپ میری بڑی بہن نہ ہوتیں، تو میرے پاس کہنے کو اتنا کچھ ہے کہ آپ برداشت نہ کر پاتیں! مگر چھوڑیں… میرا نہیں خیال کہ میں غلط ہوں۔ توبہ وہی قبول ہوتی ہے، جو دل سے مانگی جائے… جس کی آپ کو بہت ضرورت ہے!”
“نایاب” کی آنکھوں میں چنگاریاں بھڑکیں، مگر “زرام” نے ایک لمحے کا توقف بھی نہ کیا۔

“آپ نے اپنا گھر کبھی بسایا ہی نہیں، اور الزام دوسروں پر۔ اگر اپنے گناہوں پر ایک نظر ڈالیں، تو اپنا بھیانک چہرہ نظر آ جائے گا! پھر شاید خود سے نفرت ہونے لگے… مگر کمال ہے، آپ کو اب بھی لگ رہا ہے کہ آپ ٹھیک ہیں اور زیغم بھائی، میں، دانیا، ارمیزہ… سب غلط؟”
“خدا کا واسطہ، وقت رہتے سمجھ جائیں… میں آپ کا دشمن نہیں ہوں!”
“زرام” کا لہجہ سخت مگر شائستہ تھا، مگر “نایاب” کے چہرے پر گویا طوفان سا آ گیا۔ سمجھانا بےکار تھا، کیونکہ وہ سمجھنے کے لیے بنی ہی نہیں تھی۔

“جانتی ہوں کہ تم زيغم کی چمچا گیری کیوں کر رہے ہو!”
“کیونکہ اچھی طرح جانتے ہو، ہم سے تو تمہیں ابھی کچھ ملنے والا نہیں۔ سب کچھ تو زیغم کے پاس ہے، روپیہ، پیسہ، جائیداد! اسی لیے اس کے تلوے چاٹ رہے ہو!”
“نایاب” کو اور کوئی بات نہ ملی، تو زہر اگلنے لگی۔

“ہونہہ…”
“زرام” نے ٹھہر کر گہری سانس لی، مگر آنکھوں میں سرد مہری چھا گئی۔

“آپ اس سے زیادہ گندا اور برا سوچ بھی نہیں سکتیں، اور مجھے آپ سے کسی اچھی امید کی توقع بھی نہیں۔ مجھے نہ تو آپ کو صفائی دینے کی ضرورت ہے، نہ ہی بحث کرنے کی!”
“اور الحمدللہ، میں بے شک آپ کا بھائی ہوں، مگر آپ سے مختلف! میری رگوں میں وہی خون دوڑ رہا ہے، مگر میں جانتا ہوں کہ اپنے پیروں پر کیسے کھڑا ہونا ہے!”
“زرام” نے ایک قدم آگے بڑھایا، نظریں سیدھا “نایاب” کی آنکھوں میں گاڑ دیں۔

“لعنت بھیجتا ہوں ایسی دولت پر، جو کسی کے تلوے چاٹ کر حاصل ہو! مجھے شہرام بھائی سمجھنے کی غلطی مت کریں!”
“نایاب” کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا، مگر “زرام” نے مزید ایک لمحہ بھی وہاں رکنا گوارا نہ کیا۔

“کیا بول رہا تھا یہ “زرام؟”
قدسیہ نے تیزی سے کچن سے باہر آتے ہی “نایاب” سے پوچھا۔
“زرام” اپنے روم میں جا کر دروازہ بند کر چکا تھا، مگر قدسیہ کے لہجے میں بے چینی تھی۔

“یہ لڑکا تو حد سے بڑھ رہا ہے!”
قدسیہ نے غصے سے کہا، مگر “نایاب” کی آنکھوں میں کچھ اور ہی تپش تھی۔

“بہت جلد میرے ہاتھوں سے وہ لڑکی قتل ہونے والی ہے، اماں!”
“میں بتا رہی ہوں، میں اس کو برداشت نہیں کر سکتی!”
نایاب کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا، لہجہ زہر میں بجھا ہوا تھا۔

“یہاں تو میرا بھائی بھی میرے خلاف ہو گیا ہے! کسی اور سے کیا توقع رکھوں، مجھے میرے گناہوں کی لسٹ تھما کر گیا ہے، باقی سب تو اس گھر میں دودھ کے دھلے ہیں!”
اس نے زہر میں ڈوبے الفاظ اپنی ماں کی طرف اچھالے۔

“استغفراللہ! تم تو جب منہ کھولو گی، الٹا ہی بولو گی!”
“سڑو، مرو، سڑے نصیبوں والی!”
قدسیہ کا صبر جواب دے گیا، اس نے غصے سے جھنجھلا کر نایاب کو گھورا۔
نایاب ‘ہونہہ’ کرتی، پیر پٹختی اپنے روم میں جا گھسی، جبکہ قدسیہ چڑچڑاتی ہوئی دوبارہ کچن کی طرف پلٹ گئی۔
°°°°°°°

“چونچ بند مت رکھو، جانتا ہوں کہ تمہیں مجھ پر بہت غصہ ہے۔ جو دل میں ہے، بول دو!”
زیغم نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہی مائد کی طرف دیکھا، جو مرر سے باہر کھیتوں کو گھورتے ہوئے کسی گہری سوچ میں گم تھا۔

“میری کیا اوقات کہ تمہیں کچھ کہہ سکوں؟”
“اپنی مرضی کے مالک ہو، غلام تھوڑی!”
مائد کی خفگی چھپی نہ رہ سکی۔

“اچھا، چل جلی کٹی سنا لے، تمہارا دل ہلکا ہو جائے گا۔ جانتا ہوں کہ نکاح کا نہیں بتایا، اس لیے غصے میں ہے، مگر میں نے تفصیل سے سمجھایا تھا کہ سب کچھ اچانک ہوا تھا!”
زیغم نے ہلکے لہجے میں کہا۔

“جتنا بھی اچانک ہوا تھا، اتنا ٹائم تو نکال سکتے تھے کہ کم از کم ایک میسج تو کر دیتے!”
مائد کا غصہ برقرار تھا۔

“چل یار، کان پکڑ کر سوری کہتا ہوں، معذرت کرتا ہوں۔ کہے تو گاڑی سے نیچے اتر کر اُٹھک بیٹھک کر لیتا ہوں؟”
زیغم نے مذاقاً کہا۔

“ہاں، ٹھیک ہے! کر، اُتر گاڑی سے نیچے اور کر اُٹھک بیٹھک!”
مائد نے جل کر کہا۔

“شرم کر یار، پورے گاؤں کا سردار ہوں، لوگ کیا سوچیں گے!”
زیغم نے ہنستے ہوئے کہا۔

“ہاں تو پھر اتنا ڈر ہے، تو اتنی بڑی بڑی چھوڑنے کی کیا ضرورت ہے؟”
مائد کا غصہ ابھی بھی کم نہ ہوا تھا۔

“چلو یار، معاف کر دے! غلطی ہو گئی ہے۔”
زیغم نے نرمی سے کہا۔

“بھابھی کے صدقے معاف کر رہا ہوں، ورنہ تیری شکل اس لائق نہیں کہ تجھے معاف کیا جائے!”
مائد نے ناک چڑھا کر کہا، مگر لبوں پر دبی دبی مسکراہٹ بھی تھی۔

“چلو جناب، ٹھیک ہے! بھابھی کے صدقے معاف کر دو۔”
زیغم نے شرارت سے کہا۔

“چل، ٹھیک ہے! معاف کیا، کیا یاد کرو گے۔”
مائد نے مصنوعی سنجیدگی دکھائی، مگر پھر دونوں بےاختیار ہنس پڑے۔
دونوں کے جاندار قہقہے گاڑی میں گونج اٹھے تھے، ساری ناراضگی پل بھر میں ہوا ہو گئی تھی۔ زیغم نے ایک نظر مائد پر ڈالی، جو پھر سے کسی گہری سوچ میں ڈوبنے لگا تھا۔ اس کی نظریں بے مقصد سامنے جمی تھیں، وہ کسی ذہنی کشمکش میں الجھا ہوا ہوا تھا۔

زیغم نے ڈرائیونگ پر توجہ مرکوز رکھی مگر ایک ہاتھ سے اس کے کندھے پر ہلکا سا دھپ مارا۔
“کیا چل رہا ہے تیرے دماغ میں؟”
مائد نے چونک کر اسے دیکھا، مگر فوراً ہی نظریں جھکا لیں۔ وہ شاید کچھ کہنے کی ہمت جمع کر رہا تھا۔

زیغم نے ہلکا سا مسکرا کر سر جھٹکا۔
“دیکھ، میں جانتا ہوں کہ تیرے اندر طوفان چل رہا ہے، اور میں اتنا بھی بے وقوف نہیں کہ تجھے سمجھ نہ سکوں۔ پر مسئلہ یہ ہے کہ جب تک تُو خود زبان نہیں کھولے گا، تجھے سکون نہیں ملے گا۔”
مائد نے گہری سانس لی، اپنے اندر کی الجھنوں کو الفاظ میں ڈھالنے کی کوشش کر رہا تھا۔

“میں تیرا بچپن کا دوست ہوں، تیرے دماغ کو پڑھ سکتا ہوں، مگر اس بار، میں چاہتا ہوں کہ تُو خود بولے۔”
زیغم نے گاڑی کی رفتار تھوڑی کم کی اور سنجیدگی سے کہا۔

مائد نے تھوڑا سا رخ موڑا، زیغم کی طرف دیکھا اور آخرکار، لب کھولے۔
“زیغم، میں…”
اس کی آواز میں جھجھک تھی، مگر زیغم کے چہرے پر وہی مضبوط یقین تھا، جیسے کہہ رہا ہو… بول، میں ہوں نا!

“اتنا زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بتا نا کیا کہنا تھا؟”
“اس کے بعد ہمیں ایک ضروری کام سے جانا ہے۔”
زیغم نے ڈرائیونگ پر توجہ دیتے ہوئے کہا۔

مائد نے گہری سانس لی، جیسے کوئی بوجھ اتارنے والا ہو۔
“معذرت کرنا چاہتا ہوں… میں دل سے شرمندہ ہوں، جو کچھ مونا کے گھر والوں نے کہا، مجھے اس پر بہت افسوس ہے۔ تم سے نظر ملانے کی ہمت نہیں ہو رہی…”

زیغم نے ایک تلخ ہنسی ہنس دی، نگاہیں سامنے جمائے رکھیں۔
“تجھے شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ جنہوں نے یہ سب کیا ہے،غلطی ان کی ہے، جب تم غلط نہیں تو تمہیں شرمندہ ہونے کی ضرورت کیوں ہے؟”
“ہاں مگر ان کے لیے میری نظر میں کوئی معافی نہیں۔ ویسے بھی، تیرا وہ ہونے والا سالہ سبحان… مجھے کبھی پسند نہیں آیا۔ مجھے ہمیشہ سے لگتا تھا کہ اس کی سوچ، اس کی فطرت، اس کی نظر، سب گھٹیا ہے مگر تیرا رشتہ اس گھر میں ہوا تھا اس لیے کہنے کی کبھی ہمت نہیں ہوئی!”

مائد نے آنکھیں بند کر کے ایک تھکی ہوئی سانس لی۔
“جانتا ہوں، مجھے بھی وہ کبھی پسند نہیں تھا مگر جو کچھ ہاسپٹل میں ہوا، اس سب پر مجھے افسوس ہے۔ مگر…”

زیغم نے بات کاٹ دی، نظریں اس پر گاڑ دیں۔
“مگر کچھ نہیں! صاف سن لے، تیرے سسرال والے بہت چھوٹی سوچ اور چھوٹے ظرف کے مالک ہیں مگر اس سب میں، مجھے تجھ سے یا تیرے گھر والوں سے کوئی شکوہ نہیں ہے۔”

مائد نے بے یقینی سے زیغم کی طرف دیکھا۔
“سچ میں… مجھ سے کوئی شکایت نہیں؟”

زیغم نے ہلکا سا مسکرا کر سر جھٹک دیا۔
“جان ہے تو میری! آنکھیں بند کر کے تجھ پر یقین کر سکتا ہوں۔ اگر یقین نہ ہوتا، تو زیغم سلطان کی عزت، اس کی بہن، اتنے دن تیرے گھر نہیں رہ سکتی تھی۔ میں سوچ وسیع رکھتا ہوں، پہلی بات تو کسی پر یقین کرتا نہیں، مگر جن پر کرتا ہوں… انہیں آخری حد تک لے کر جاتا ہوں۔”

“شرمندہ تو میں ہوں اور مجھے ہونا بھی چاہیے۔ میں تیرا بھروسہ قائم نہیں رکھ سکا۔ تُو نے جس بھروسے سے اپنے گھر کی عزت کو میرے گھر پر چھوڑا تھا، اس پر مجھے تم سے معافی مانگنی چاہیے، شرمندہ بھی ہونا چاہیے۔ یہ تو تیرا بڑا پن ہے کہ تُو نے دوستی کی لاج رکھتے ہوئے منہ سے کچھ نہیں کہا۔”
مائد شرمندگی سے نظریں جھکائے کہہ رہا تھا، آواز میں لرزش واضح تھی۔

“اوئے! تیری جھکی ہوئی نظریں تجھے سوٹ نہیں کرتیں۔ پٹھان ہے نا، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر! اور اگر تمہارے دل میں کچھ اور ہے تو وہ بھی بول دے، میں منتظر ہوں۔”
زیغم سلطان نے آخری جملہ الجھے انداز میں کہا۔ مائد نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔

“ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟”
“جو دل میں ہے، بولو! دوست ہوں تمہارا، تمہیں سمجھتا ہوں۔”
زیغم کا لہجہ سنجیدہ تھا۔

“نہیں، اور تو کچھ بھی نہیں ایسا جو مجھے کہنا ہو…”
مائد نے بمشکل کہا، مگر اس کی نظریں اب بھی جھکی ہوئی تھیں۔

زیغم نے گاڑی کی رفتار دھیمی کی، رخ موڑ کر سختی سے گھورا۔
“اچھا؟ پھر یہ بات میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہو!”
“چوروں کی طرح نظریں کوئی اور چراتا ہوگا، مائد خان نہیں!”

مائد نے ایک پل کو نظریں اٹھائیں، مگر گھبراہٹ میں رخ موڑ لیا۔
“میں کیوں نظر چراؤں گا؟”

“جس کے لیے گھر والوں کے سامنے انکار کرنے کی جرات کر رہے ہو، جس کے لیے اپنے ہونے والے سسرالیوں کے ساتھ پنگا لینے کی ہمت کی ہے، جس کی عزت کے لیے مرنے مرانے تک پہنچ گئے ہو… کیا اسے اس بات کی خبر بھی ہے؟”
زیغم کی ڈائریکٹ بات پر مائد کا رنگ فق ہوگیا۔ سانسیں بے ترتیب ہوئیں، اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔ اسے بالکل امید نہیں تھی کہ زیغم سلطان اس کے دل کی بات کو یوں پڑھ چکا ہوگا، وہ بات جو مائد خان نے کبھی اپنے لبوں تک بھی نہیں آنے دی، وہ زیغم جان چکا تھا اور بغیر جھجک کہہ بھی چکا تھا۔ مائد کے پاس الفاظ نہیں تھے۔ گھبراہٹ میں اس نے رخ موڑ لیا، نظریں چھپانے کی ناکام کوشش کی۔ وہ مائد، جو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والا مضبوط شخص تھا، آج دل کی دھڑکنیں بے قابو کیے بیٹھا تھا۔ ہاتھوں سے سینہ دبا کر بمشکل سانس لے رہا تھا، جبکہ زیغم سلطان حیرت سے دیکھ رہا تھا کہ کیا یہ واقعی وہی مائد ہے، جو پہاڑوں سے ٹکرا جائے مگر آج ایک سچ نے اسے کمزور کر دیا ہے؟

°°°°°

“مزید پڑھنے کے لیے اگلا ایپیسوڈ ملاحظہ کریں

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *