Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:27

رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر 27
°°°°°°
“کیسے… کیسے مجھے پتہ نہیں چلا کہ یہ امیر زادہ کوئی اور نہیں زرام ہے؟”
ملیحہ نے غصے سے کہتے ہوئے ہاتھوں کی مٹھیاں زور سے بند کر رکھی تھی، چہرے پر کرب واضح دکھائی دے رہا تھا۔

“کتنا خوش تھا وہ اپنی جیت پر… اور میں؟ میں کتنی بے بس تھی!”
وہ دماغ میں سوچتے ہوئے خود سے لڑے جا رہی تھی۔

“اگر واپس جاتی تو اماں ابا یہ دکھ جھیل نہ پاتے۔ انہوں نے کتنے فخر سے، کتنے بھرم کے ساتھ مجھے رخصت کیا۔ وہ کتنے خوش تھے کہ میری شادی ایک اچھے گھر میں ہو رہی ہے، اُس سردار کے گھر کی بہو بن رہی ہوں جس کی تعریفیں کرتے کرتے وہ تھکتے نہیں تھے۔”
زیرِ لب بڑڑاتے ہوئے ملیحہ کی آواز کپکپا گئی، وہ روم میں اِدھر سے اُدھر ٹہلتے ہوئے خود سے ہی باتیں کر رہی تھی۔

“اگر زرام نہیں ہوتا… تو شاید میں بھی خوش ہو جاتی، مگر… میں نہیں برداشت کر پا رہی۔ وہ خوش ہے… اور میں؟ میں ہار کر کچھ بھی نہیں کر پا رہی…”
اس کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے تھے، مگر وہ ضبط کیے ہوئے تھی۔ اس نے کبھی بھی خود کو مظلوم نہیں سمجھا تھا اور آج بھی وہ خود کو مظلوم نہیں بنانا چاہتی تھی مگر آنکھوں میں زبردستی آنے والے آنسوں اسے ضبط کرنا مشکل ہو رہا تھا۔

“کیا تم سچ میں اتنی مجبور ہو گئی ہو؟”
ہاتھوں کی پشت سے بے دردی سے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے خود سے پوچھ رہی تھی۔ اسی لمحے دروازہ کھلا اور زرام کمرے میں داخل ہوا۔ اپنے ہی روم میں قدم رکھتے ہوئے ذرا سا جھجکا، کیونکہ اسے اندازہ تھا کہ اس کی سپائسی چلی اس وقت خوب بھڑکی ہوئی ہے مگر… اب جس سے محبت کی تھی، اُس کا سامنا تو کرنا ہی تھا۔ زرام جو آج تک کسی سے ڈرا نہیں، آج ہمت کر کے روم میں داخل ہوا۔ دروازہ بند کرتے ہی سامنے ٹہلتی ہوئی ملیحہ پر نظر پڑی، جو غصے سے پلٹی اور اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا۔ وہ ساکت کھڑی ہو گئی، زرام نے کنڈی آہستہ سے اوپر کی نرمی سے چلتے ہوئے اس کے قریب آیا۔ ملیحہ نے دل ہی دل میں خود کو سنبھالا، آنکھوں میں نمی، چہرے پر سختی۔ وہ زرام کے سامنے خود کو کمزور نہیں دکھانا چاہتی تھی۔

“کنڈی… کنڈی کیوں لگائی ہے تم نے؟”
ملیحہ کی آواز میں غصہ، لفظوں میں طنز اور گھبراہٹ واضح نظر آرہی تھی۔

“کیا سمجھتے ہو تم؟”
“کنڈی لگا کر کیا کرنا چاہتے ہو؟”
“تمہارا کوئی خواب پورا نہیں ہوگا اور میں مظلوم نہیں ہوں، سمجھے تم؟”
وہ ایک اور قدم آگے بڑھ کر اس کے چہرے کے قریب آ گئی، لہجہ سخت اور بدن لرزتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ وہ غصے میں خود بھی نہیں محسوس کر پائی تھی کہ اس کے کتنا قریب آ چکی ہے۔ ملیحہ کی پھنکارتی ہوئی غصے سے بھری گرم سانسیں ذرام کے چہرے اور گردن پر پڑتے ہوئے زرام کے دل میں ہلچل مچا رہی تھی۔ زرام نے آنکھیں بند کر کے سانس روک لی تھی، ہاتھ اوپر کر کے خود کو ہینڈز اپ کر لیا۔

“ریلیکس… ریلیکس… اتنا گھٹیا نہیں ہوں میں، جتنا تم سمجھتی ہو!”
“جانتا ہوں، تمہاری نظر میں میری ریپوٹیشن کچھ خاص نہیں… لیکن اتنا یقین رکھو، تم میرے لیے قابلِ احترام ہو۔”

“اگر کنڈی مسئلہ ہے، تو لو، میں نے کھول دی!”
اس نے آنکھیں آہستہ سے کھولتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر کنڈی کھول دی، انداز نرم مگر نظر میں شرمندگی تھی کیونکہ ملیحہ کی گھبراہٹ میں لڑکی ذات کو اپنی عزت بچانے کے لیے جو گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے وہ واضح نظر آرہی تھی۔

“مجھے تم پر… تمہاری کسی بات پر کوئی یقین نہیں!”
ملیحہ نے رخ موڑا، سینے پر ہاتھ باندھے، چہرہ دوسری طرف کر لیا۔
اس کے لہجے میں سرد مہری تھی، اپنے اندر کی بےچینی چھپانا مشکل تھا۔

“اتنی بے یقینی اچھی نہیں ہوتی!”
“کسی پر بے یقینی کرنے کے لیے کوئی ٹھوس وجوہات بھی ہونی چاہیے اور میرا نہیں خیال کہ تمہارے پاس ایسا کوئی ٹھوس ریزن ہے مجھ پر نہ یقین کرنے کا!”
وہ نرمی سے کہتے ہوئے اس کے سامنے کھڑا ہوا تھا۔ وہ روٹھے ہوئے انداز میں بھی حسین ہی لگ رہی تھی۔

“میرے پاس وجہ ہے!”
وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔

“کیا وجہ ہے؟”
وہ نرمی سے اس کی خوبصورتی کو نظروں میں اتارتے ہوئے پوچھ رہا تھا، مگر اپنی مسکراہٹ کو اس نے دبا لیا تھا کیونکہ ذرام محسوس کر رہا تھا کہ اس کے مسکرانے سے ملیحہ کو زیادہ غصہ آ رہا تھا۔ اس کا دلہن کے روپ میں لپٹا ہوا وجود، اس کی خوبصورتی، اس کی آنکھوں میں بے بسی، اور چہرے پر شدید غصہ، اس کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہا تھا۔ ذرام اس پاگل لڑکی کو کیسے بتاتا کہ وہ اپنے دل پر کتنے پہرے لگائے ہوئے کھڑا ہے مگر محبت کا مزہ تو تب ہے جب محبوب ناراض ہو، تو وہ اپنے محبوب کے احترام میں اپنے جذبات پر لگام ڈال لے۔ اسی کو تو محبت میں عقیدت تک کا سفر کہتے ہیں۔

“بولو، چپ کیوں؟”
“بتاؤ، نا مجھ سے نفرت کرنے کی، مجھ پر یقین نہ کرنے کی، مجھ پر غصہ کرنے کی کیا وجہ ہے؟”
وہ نرمی سے اس کے جواب کا منتظر تھا۔

“میری مرضی کے خلاف مجھ سے شادی کی ہے، یہ وجہ ہے تم پر یقین نہ کرنے ک!۔”
“اپنی حقیقت مجھ سے چھپائی، یہ چھپایا کہ تم سردار زیغم سلطان کے بھائی ہو، یہ حقیقت ہے تم پر یقین نہ کرنے کی!”
“تم مجھے پسند نہیں ہو اس لیے تم میری محبت کے نہیں صرف میرے غصے کے مستحق ہو!’
وہ ایک ایک لفظ کو دانتوں سے پیستے ہوئے بول رہی تھی۔ انداز ایسا تھا لگ رہا تھا کہ اپنے لفظوں سے ہی وہ زرام کو مار ڈالے گی۔ وہ زرام کے سامنے کمزور پڑ کر رونا بالکل نہیں چاہتی تھی مگر شدت اور دکھ سے بولتے ہوئے وہ رو پڑی۔ بے دردی سے اپنے آنسوؤں کو ہاتھ کی پشت سے رگڑتے ہوئے صاف کر کے چھپانے کی کوشش کی جا رہی تھی مگر زرام اس کے آنکھوں سے چھلکتے آنسوؤں کو باخوبی دیکھ رہا تھا۔

“اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر پوچھو اور جواب دو، کیا یہ سب کچھ کافی ہے مجھ پر یقین نہ کرنے کے لیے، مجھ پر غصہ کرنے کے لیے؟”
“اور اس سب میں ایسا تو کچھ بھی نہیں جس کی وجہ سے تم مجھ سے نفرت کر سکتی ہو۔ نفرت کا تو اب بھی تمہارے پاس کوئی جواز نہیں ہے۔”
وہ نرمی سے، تحمل سے بول رہا تھا۔

“ہے مجھے آپ سے نفرت!”
“کرتی ہوں میں آپ سے نفرت اور نفرت کو وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی!”
وہ ضدی ہو کر اٹل لہجے میں بول رہی تھی، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ ضدی بچے کی طرح اپنی ضد پر اڑی ہوئی تھی۔

“نفرت کی وجہ نہیں ہے، تمہارے پاس اس حقیقت کو تسلیم کر لو۔ میں نے تم سے محبت کی ہے، بے تحاشہ محبت کی ہے، ٹوٹ کر محبت کی ہے، اور محبت کوئی گناہ نہیں ہے، جس کے بدلے تم مجھ سے نفرت کرو گی، اور باقی میں زیغم بھائی کا چھوٹا بھائی ہوں، یہ بات بتانے کا مجھے موقع ہی نہیں ملا۔”

“جھوٹ! تم بتانا ہی نہیں چاہتے تھے!”
وہ اس کی بات کو رد کر گئی تھی۔

“مجھے صفائی کا موقع تو دو، پلیز!”

“مجھے نہ تمہاری ضرورت ہے، نہ تمہاری صفائی کی، سمجھے تم؟”

“مطلب، تم نے دل میں ٹھان لی ہے کہ تمہیں مجھ پر غصہ ہی کرنا ہے؟”

“نہیں، میں نے دل میں ٹھان لی ہے کہ میں تمہاری زندگی حرام کر دوں گی!”
وہ اس سے دو قدم دور ہو کر کھڑی ہوتے ہوئے بولی تھی۔

“تو ٹھیک ہے، جب تم نے فیصلہ کر لیا تو پھر تم میری زندگی حرام کر دو، میں تو ویسے بھی تیار ہوں، مجھے تو ہر حال میں تم چاہیے تھی، تم مجھے مل گئی ہو، اب تم میری زندگی حرام کرو یا حلال، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا!”
ذرام سمجھ چکا تھا کہ اس کی سپائسی چلی اتنی آسانی سے ماننے والی نہیں ہے، اس لیے وہ مسکراہٹ لبوں پر سجائے ہوئے دھڑام سے اپنے بیڈ پر کمر کے بل گرا، اور دونوں بازو پھیلا کر لیٹ گیا تھا۔ ملیحہ کا خون کھول اٹھا تھا۔ اندر کی لڑاکا لڑکی طیش میں آ چکی تھی۔ وہ سینڈلز اتار کر روم میں اِدھر اُدھر پھینکنے لگی، پھر ہاتھ میں پہنی چوڑیاں اتار کر زرام کی طرف پھینکنے لگی۔ بیچارہ منہ پر ہاتھ رکھ کر بچنے کی کوشش کرتا رہا۔

“جنگلی لڑکی، کیا کر رہی ہو؟”
“میرے منہ پر لگ رہی ہے!”
“کیوں اتار رہی ہو چوڑیاں؟”
وہ بیچارہ اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔

“تم نے ابھی میرا جنگلی پن دیکھا کہاں ہے، چوڑیاں اس لیے اتار رہی ہوں کیونکہ یہ تمہارے نام کی ہیں اور تمہارے منہ پر ہی پھینک رہی ہوں!”
وہ ایک کے بعد ایک چوڑیاں اتار کر اس کے اوپر پھینکتی چلی جا رہی تھی۔ کچھ زمین پر گر رہی تھی، تو کچھ بیڈ پر۔

“چلو، تم نے یہ تو تسلیم کیا کہ چوڑیاں میرے نام کی ہیں!”
وہ دانت نکالتے ہوئے اس کے قریب آ رہا تھا۔

“لاؤ، میں ہیلپ کر دیتا ہوں!”
اس نے ہاتھ بڑھایا تھا۔

“خبردار! ڈونٹ ٹچ می!”
“اگر فری ہونے کی کوشش کی تو تمہارے بتیس کے بتیس ڈانٹ توڑ کر تمہارے ہاتھ میں دے دوں گی!”
وہ انگلی اٹھا کر اس کو خبردار کرتی ہوئی پیچھے کو قدم لے جا رہی تھی۔

“کیوں؟ ڈر لگ رہا ہے مجھ سے؟”
وہ دلکش مسکراہٹ کے ساتھ گہری نظروں سے سر سے پاؤں تک اسے دیکھتے ہوئے ایک ایک قدم نرمی سے اٹھا رہا تھا۔ فرش پر بچھے ہوئے پھولوں کی پتیاں روم کو مہکائے ہوئے تھیں۔ ہوا میں خوشبو کا نرم سا جھونکا تھا۔ جو فضا میں ایک لطیفیت اور جذباتی کشمکش کا رنگ بھر رہا تھا۔ ملیحہ کا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا۔ وہ زرام کے قریب ہونے سے خود کو بے بس محسوس کر رہی تھی۔ اس کے جسم کی ہر نس میں خوف اور غصے کی ملی جلی کیفیت تھی، جبکہ زرام کی آنکھوں میں گہرائی اور محبت سے بھری ہوئی پرسکون مسکراہٹ چھپی ہوئی تھی۔

“اسپائسی چِلی، ڈر لگنا بھی چاہیے کیونکہ تمہیں تو مجھ پر یقین نہیں ہے!”
اس کے چہرے پر پھونک مارتے ہوئے، وہ ہلکا سا مسکرایا تھا۔ وہ آنکھیں بند کیے اپنی مٹھیوں کو سینے پر رکھے ہوئے تھا۔
عورت جتنی مضبوط، جتنی بہادر کیوں نہ ہو، مرد کو خدا نے وہ طاقت دی ہے جس سے عورت خود کو ایک وقت پر بے بس اور کمزور، ڈرا سہما ہوا ضرور محسوس کرتی ہے۔

“تمہیں مجھ سے ڈر نہیں لگتا!”
وہ نرمی سے سرگوشی کرتے ہوئے بولا۔

“میں جانتا ہوں تم بہت بہادر ہو، تو اس لیے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کرو اور میری بات کا جواب دو۔”
اسے کے کان میں سرگوشی کی، تو ملیحہ نے گھبراہٹ سے بمشکل آنکھیں کھول کر اس کی جانب دیکھا تھا۔ دھڑکنوں میں اشتیال پیدا ہو چکا تھا، اپنی ہی دھڑکنیں کانوں میں گونجتی سنائی دے رہی تھیں۔

“اور کیا بول رہی تھی؟”
“چوڑیاں میرے نام کی ہیں، تو تم اتار کر پھینک رہی ہو، وہ بھی میرے اوپر، میرے منہ پر؟”
نرمی سے کہتے ہوئے اس کے دونوں اطراف میں دیوار پر ہاتھ رکھے ہوئے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ ملیحہ کو اس سے انجانہ سا خوف آ رہا تھا۔ وہ گہری سانسیں لیتی ہوئی ڈرتے ہوئے پیچھے کو ہو رہی تھی۔ پیچھے کی جانب جاتے ہوئے وہ اچانک دیوار سے جا لگی۔

“اب کہاں جاؤ گی؟”
اس کے خوبصورت چہرے کو دیکھتے ہوئے ایک ابرو اٹھا کر اشارہ کیا تھا۔

“دیکھو… اگر میرے ساتھ بدتمیزی کرنے کی کوشش کی تو میں چلاؤں گی!”

“بڑی معصوم دھمکی دے رہی ہو، تمہارےچلانے پر کوئی نہیں آئے گا کیونکہ تم میری بیوی ہو!”
“مگر بے فکر رہو، میں ایسی کوئی حرکت ہی نہیں کروں گا کہ تمہیں چلانا پڑے۔ اپنے دل کی دھڑکنوں کو قابو میں رکھو، ایسا نہ ہو کہ دل اچھل کر حلق میں آ جائے۔”
اس کی گھبراہٹ کو دیکھ کر محظوظ ہوتا ہوا، اس کے اطراف سے ہاتھ اٹھا کر پیچھے ہو گیا۔ نظروں میں شرارت اور جیت کی شوخی نظر آرہی تھی۔

“بہت ہی گھٹیا ہو، بہت مزہ آتا ہے تمہیں لڑکیوں کو مجبور اور بے بس دیکھ کر؟”
وہ زرام کے پیچھے ہوتے ہی غرائی تھی۔

“غلط! لڑکیوں کو دیکھ کر مزہ نہیں آتا، صرف ایک لڑکی کو ہی بے بس دیکھ کر مزہ آتا ہے، اور وہ ہو تم، اور ہمیشہ تم ہی رہو گی۔”
وہ کہتے ہوئے آنکھ کو شرارتی انداز میں دبایا۔ ملیحہ کا غصہ اور پارا پھر سے اوپر چڑھنے لگا تھا۔ غصے کی شدت سے بغیر بولے، بچی ہوئی چوڑیاں ہاتھ سے اتار کر، ایک بار پھر اس پر دے ماری۔ اب کی بار، زرام بڑی مہارت سے چار پانچ چوڑیاں کیچ کر چکا تھا۔ کانچ اور گولڈ کی مکس چوڑیوں کو ہونٹوں کو لگا کر چومتے ہوئے، وہ اپنی جیت کے طور پر ہوا میں دو انگلیوں میں پکڑ کر چوڑیاں لہراتے ہوئے اسے دکھا رہا تھا۔

“اپنے آپ کو بھی میرے اوپر اسی طرح پھینک دو کیونکہ تم بھی میرے نام ہو چکی ہو!”
وہ قہقہہ لگا کر ہنسا تھا۔

“بے شرم، بےہودہ انسان!”
“تم خود کو سمجھتے کیا ہو؟”
“نکلو… نکلو… کمرے سے باہر نکلو!”
وہ زرام کے بے باک سے مذاق پر شدید غصے میں آگئی تھی۔ دروازہ کھول کر انگلی کے اشارے سے اس سے دھکے دیتے ہوئے باہر نکال چکی تھی اور دروازہ بند کر لیا تھا جبکہ زرام دانت نکال کر ہنس رہا تھا۔ اسے ملیحہ کے انداز پر ذرا بھی حیرت نہیں تھی۔ اچھی طرح سے جانتا تھا کہ یہ سب کچھ ہوگا۔

مرد جس سے محبت کرتا ہے، اس عورت کی ہر ادا مرد کو اچھی لگتی ہے، اس کی بدتمیزی، اس کا غصہ، اس کے ناز نخرے مرد خوشی خوشی اٹھا لیتا ہے۔
جیسے اس وقت زرام، اپنے رتبے، اپنے غصے، اپنے نام، ہر چیز کو سائیڈ پر رکھتے ہوئے، صرف محبت سے اپنی ملیحہ کو دیکھ رہا تھا، جو آرام سے روم کا دروازہ بند کر چکی تھی۔

“سمجھتا کیا ہے خود کو؟”
وہ غصے سے دروازہ بند کر کے پشت سے ٹیک لگا کر کھڑی اونچی آواز میں بولی تھی۔ اس کی آواز باہر تک صاف سنائی دے رہی تھی۔

” اسپائسی چِلی، میں خود کو کچھ نہیں سمجھتا!”
ذرام نے سرگوشی میں جواب دیا۔

“تم خود دیکھو، ابھی سے حق جتا رہی ہو، مجھے میرے ہی کمرے سے نکال دیا ہے!”
وہ دروازے کے قریب چہرہ کرتے ہوئے دھیمی آواز میں بولا۔ اس کی آواز اندر صاف سنائی دے رہی تھی۔

“تم پر حق رکھتی ہوں؟”
“مائی فٹ! جب انسان کو کوئی ٹھکانہ چاہیے ہوتا ہے تو وہ جہنم کو بھی گلے لگا لیتا ہے!”
“کافی تیکھا لہجہ تھا۔ بس رات کا لحاظ رکھتے ہوئے آہستہ آواز میں بولی۔

“چلو پھر مجھے بھی جہنم سمجھ کر اندر آنے دو، مجھے بھی اپنے ساتھ رکھ لو!”
زرام کہاں باز آنے والا تھا، ایک اور شوخ جملہ ہنستے ہوئے اچھال دیا۔

“تمہارا تو میں نے سر پھاڑ دینا ہے، جنگلی انسان!”
وہ زخمی شیرنی کی طرح ایک بار پھر سے غرا اٹھی تھی۔

“مگر جانِ من… سر پھاڑنے کے لیے بھی تو مجھے اندر بلوانا پڑے گا نا؟”

“نہیں بلواؤں گی!”
“ساری رات یہیں سڑتے رہو، مرتے رہو، اندر نہیں آنے دوں گی!”
“گھٹیا لوفر عاشقوں جیسے جملے پتہ نہیں کہاں سے لے کر آتے ہو؟”
زرام کے جانِ من کہنے پر اسے غصہ آیا تھا۔

“مطلب یہ کہ صبح آنے دو گی؟”
وہ ہنسی کو دباتے ہوئے لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔

“نہیں!”

“سوچ لو… صبح اگر زیغم بھائی نے مجھے یہاں بیٹھے دیکھ لیا تو؟”
“اففف خدایا! ان کو کتنا برا لگے گا!”
“وہ گاؤں کے سردار ہیں، سب کا خیال رکھنے والے، سب کی عزتوں کی حفاظت کرنے والے۔ وہ یہ صدمہ برداشت نہیں کر سکیں گے، اور دن چڑھتے ہی یہ بات تمہارے اماں ابا تک جائے گی!”
“اف اللہ! وہ خود کو کوسیں گے، خود پر شرمندہ ہوں گے۔ پھر جب تم ان سے ملنے جاؤ گی، وہ تم سے خفا ہوں گے، اور کہہ دیں گے۔ ‘ہمارے سامنے مت آنا، ہمیں شکل مت دکھانا۔ تمہاری وجہ سے ہم سردار زیغم سلطان کے سامنے شرمندہ ہو گئے ہیں۔ تم نے ہماری ناک کٹوا دی۔ ہم کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہے۔’ وغیرہ وغیرہ…”
وہ بولتے ہوئے پورا خاکہ کھینچ چکا تھا اور جس انداز سے ایک ایک لفظ روک کر سرگوشیوں میں دروازے کے ساتھ منہ لگا کر سنا رہا تھا۔ بیچاری ملیحہ روم کے اندر، سر سے بھاری دوپٹہ اتار کر، بیڈ پر پھینکتے ہوئے ہاتھ رک گئے تھے۔ اسے سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح گھومتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ ملیحہ کو لگ رہا تھا کہ سچ میں اس کے ماں باپ ایسے ہی ری ایکٹ کریں گے کیونکہ وہ سچ میں زیغم سلطان کی بہت ریسپیکٹ کرتے تھے۔ زیغم سلطان کی ریسپیکٹ تو ملیحہ بھی کرتی تھی۔ بیچاری کڑی سچویشن میں پھنس گئی تھی۔ نہ تو زرام کو اندر بلوانے کو اس کا دل کر رہا تھا اور نہ ہی روم سے باہر رکھنے کی ہمت ہو رہی تھی۔ باہر کھڑا ہوا زرام اس کی حالت سے بخوبی واقف تھا۔ اس کے دل کو یقین تھا دروازہ کھلے گا اور ضرور کھلے گا اور کچھ دیر کے بعد دروازہ سچ میں کھل گیا تھا۔ زرام کے لبوں کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی۔ وہ پوری شان و شوکت سے کمر پر ہاتھ باندھے ہوئے بھاری قدم اندر رکھتے داخل ہوا تھا۔ دروازہ کھلتے ہی زرام فاتحانہ انداز میں اندر داخل ہوتے ہوئے ملیحہ کا خون جلا رہا تھا۔ اندر آنے کا انداز ایسا تھا، جیسے کوئی جنگجو جنگ جیت کر لوٹا ہو۔

“آخرکار! محبت جیت گئی، ضد ہار گئی!”
وہ دونوں بازو پھیلا کر بولا اور کمرے میں چکر کاٹنے لگا تھا۔ ملیحہ اسے گھور رہی تھی نظروں کے وار ایسے تھے جیسے نظروں سے ہی اس کو چھلنی کر دے گی۔ جو بھی تھا دونوں کی کمسٹری لاجواب تھی۔ فل مزاحیہ سین بنا رکھا تھا دونوں نے گولڈن نائٹ کو۔ کسی اینگل سے وہ دولہا دلہن نہیں لگ رہے تھے۔ ایک جلا کر بھسم کر دینے کو تیار تھی اور دوسرا تنگ کرنے کے لیے اپنے دانت اندر کرنے کو تیار نہیں تھا۔ سچ کہتے ہیں شوہر دل لگانے والا ہونا چاہیے مگر ملیحہ کو اس وقت زرام زہر لگ رہا تھا، جو روم میں بولتے ہوئے مسلسل کمر پر ہاتھ باندھے ہوئے شاندار انداز میں واک کر رہا تھا۔

“بس بہت ہوگئی بکواس؟”
“اب چپ چاپ جا کر سو جاؤ!”
وہ غصے سے بولی اور دوپٹہ سمیٹے بغیر، جوتے اتارے بغیر سیدھی بیڈ پر ٹھا سے گر گئی۔

“کپڑے چینج نہیں کرو گی؟”
زرام نے سر کو ترچھا کرتے ہوئے پوچھا۔

“نہیں! مجھے سونا ہے، اور اگر تم نے ایک لفظ بھی اور بولا نا… تو تمہارے منہ پر تکیہ دے ماروں گی!”
اس کی آنکھیں بند تھیں مگر آواز میں شدید جھنجھلاہٹ تھی۔ وہ اس وقت زرام کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔

زارم نے بیڈ کی طرف قدم بڑھایا ہی تھا کہ ملیحہ کی آواز پھر گونجی۔
“روکو! کہاں آ رہے ہو؟”

“بیڈ پر… سونے؟”
زرام نے حیرت سے جواب دیا۔

“نہیں، تم صوفے پر جاؤ، یہ بیڈ اب میرا ہے!”
وہ آنکھ کھول کر، کروٹ بدلے بغیر بولی۔

“یہ میرا بیڈ ہے، محترمہ!”
“میرے بھائی نے اپنے ذاتی پیسوں سے خریدا ہے!”
زرام نے دانت پیستے ہوئے کہا۔

“جانتی ہوں تمہارے بھائی نے خریدا ہوگا، تم تو کسی کام کے ہو نہیں سوائے اکڑ دکھانے کے!”
بیڈ سے تھوڑا سا سر اٹھا کر ایک نظر گھور کر اسے دیکھتے ہوئے طنزیہ لہجے میں بولی تھی۔ ملیحہ کو طنز مارنے کا موقع ملا تو اس نے پورا انصاف کیا تھا۔

“تمہاری غلط فہمی ہے، میں اکڑ دکھانے کے علاوہ بھی بہت کچھ کر سکتا ہوں، اگر تم موقع دو۔”
وہ شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے مسکرایا تھا۔ خوبصورت چہرہ شرارت سے سجا ہوا بہت دلکش لگ رہا تھا۔

“کوئی بھی بیہودہ مذاق کیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا، ویسے ہی مجھے تمہاری حرکتیں لوفروں جیسی لگتی ہیں!”
وہ گھور کر دیکھتے ہوئے غرائی تھی۔

“میری کیا مجال ہے کہ میں کوئی بیہودہ حرکت یا مذاق کر سکوں، سپائسی چلی؟”

“اگر میں سپائسی چلی ہوں تو تم بھی بلیک پیپر ہو!”
وہ دانتوں کو پیستے ہوئے پھونکاری تھی۔
زرام جان بوجھ کر اس کے صبر کا امتحان لے رہا تھا۔ ملیحہ کا غصہ کرنا اسے اچھا لگ رہا تھا کیونکہ اس کے علاوہ تو دونوں کے درمیان کوئی بات ہونے کا دور دور تک امکان نہیں تھا۔

“بلیک پیپر… واؤ زبردست نام ہے… تھینک یو سو مچ!”
“کم از کم میری پیاری سی بیوی نے مجھے کوئی نام تو دیا۔”
وہ دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے خوش دلی سے شکریہ ادا کر رہا تھا۔

“میں نے اپنی زندگی میں بڑے بڑے ڈھیٹ انسان دیکھے ہیں، پر قسم خدا کی تم لاجواب ہو!”
“تم جیسا نہ کوئی ہے، نہ تھا، نہ کبھی زندگی میں آ سکے گا!”
“تمہارا ڈھیٹ پن میں اپنا الگ ہی لیول ہے!”
وہ چڑ کر کہتے ہوئے اپنے چہرے پر بازو رکھ کر اسے اگنور کرنے کی کوشش کرتی ہوئی سونے لگی تھی، جبکہ ایسا بالکل ممکن نہیں تھا۔ مقابل بھی ذرام لغاری تھا، جسے دوسرے انسان کو زچ کرنا بخوبی آتا تھا۔

“ابھی تو تمہیں میری خوبیوں کے بارے میں کچھ خاص پتہ ہی نہیں، انشاءاللہ بہت جلد میرے نئے نئے رنگ تمہارے سامنے آئیں گے، تو پھر خدا کا شکر ادا کرنا کہ کتنا ملٹی ٹیلنٹڈ شوہر ملا ہے!”
وہ ڈھیٹ بن کر دانت نکالتے ہوئے ہنسا اور فخریہ انداز میں بولا تھا۔

“اللہ کا عذاب ہو تم پر!”
“مجھے نہ تو تمہاری خوبیوں سے مطلب ہے، نہ تمہاری خامیوں سے، میری جان چھوڑو اور مجھے سکون سے سونے دو۔”
وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی تھی۔

“حکم کرو، پاؤں دبا دوں؟”
وہ دو قدم آگے بڑھ کر بولا تھا، نظر شرارتی ہو کر اس کے چہرے پر مرکوز تھی۔

“تم ایک کام کرو، میرا گلا دبا دو تاکہ یہ سب ختم ہو جائے۔ جیتے جی تو تم مجھے سکون لینے نہیں دو گے!”
ملیحہ چڑھ کر کہہ رہی تھی۔ سچ تو یہ تھا کہ زرام کی باتوں کا اس کے پاس کوئی ٹھوس جواب بن نہیں پا رہا تھا۔

“کیسے تمہارا گلا دبا دوں؟”
“جس کو میں نے دعاؤں میں مانگا ہے، سجدوں میں مانگا ہے، تہجد میں مانگا ہے، اس کا گلا کیسے دبا سکتا ہوں؟”
وہ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں بولتے ہوئے پیار سے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ سرک کر جلدی سے دور ہو کر بیٹھ گئی تھی۔

“میں تم سے پیار نہیں کرتی!”
وہ ضدی بچے کی طرح بولی تھی۔

“کوئی بات نہیں، میرا پیار کافی ہے ہم دونوں کے لیے۔ جتنا میرے پاس پیار ہے اس سے دونوں کی زندگی آرام سے گزر جائے گی۔”
زارم کی آنکھوں سے اس کے لبوں سے محبت کا لاوا پھوٹ رہا تھا مگر پتہ نہیں کیوں یہ محبت ملیحہ پر اثر نہیں کر رہی تھی۔ کبھی کبھی انسان اپنی ضد اور غصے میں سامنے والے کی محبت کو دیکھ نہیں پاتا۔ ملیحہ بھی اس وقت اسی کشمکش کا شکار تھی، دل کے ایک کونے میں محبت کی لہر جاگ رہی تھی مگر دماغ اس سے لڑ رہا تھا۔

“مجھے نہ تم چاہیے، نہ تمہارا پیار، نہ تو ہمارا ساتھ، نہ تمہاری عیش و عشرت۔ تمہیں مجھ سے بہتر ہزاروں مل جائیں گی اور یہ بات میں ایک بار نہیں بار بار سمجھا چکی!”
وہ گہری سانس لے کر بولتے ہوئے دل کی بھڑاس نکال رہی تھی۔

“کیوں تم نے میرے ساتھ دھوکے بازی کر کے نکاح کیا؟”
“میں نے تو کبھی تمہیں ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ میں تم سے نکاح کے لیے راضی ہوں۔ میں نے کبھی تم سے جھوٹ نہیں بولا۔ پہلے دن بھی انکار کیا تھا اور اب بھی میرا انکار ہے!”
وہ زبردستی حقیقت کو رد کرنے کی کوشش کر رہی تھی، جیسے وہ اپنے دل کے دکھ کو دفن کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔ اب کی بار لہجہ تیکھے سے زیادہ درد بھرا تھا۔

“مگر میں اپنے دل کا کیا کروں، جسے تم بھی چاہیے ہو، تمہاری محبت بھی چاہیے، تمہارا ساتھ بھی چاہیے، قربت بھی چاہیے، ساری زندگی تم پر اور ہمارے دل پر حکومت بھی چاہیے!”
زرام غمگین آواز میں بولتے ہوئے، گہری نشیلی آنکھوں سے اسے شدت سے دیکھے جا رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں گہرا درد چھپا ہوا تھا، وہ اپنی تمام تر خواہشیں اور جذبات ایک ہی لمحے میں اس کے سامنے رکھنا چاہ رہا تھا، مگر الفاظ اس کی زبان سے رُک رُک کر نکل رہے تھے۔
بڑی بے بسی کا منظر ہوتا ہے جب آپ کی محبت، آپ کی من چاہی لڑکی، آپ کی بیوی بن کر آپ کے سامنے بیٹھی ہو، پورا حق رکھتے ہوئے بھی آپ خود پر جبر کر کے اس سے دور رہیں۔ بہت تکلیف ہوتی ہے جب محبوب نظروں کے سامنے ہو مگر وہ آپ پر محبت کی نظر بھی ڈالنا گوارا نہ کرے۔ بہت درد ہوتا ہے جب محبوب کے منہ سے محبت بھرے الفاظ سننا چاہیں اور وہ آپ کو غصے سے دور دھتکار دے۔
اس کی باتوں پر کچھ دیر ملیحہ خاموش تو ہو گئی تھی، مگر جلد ہی ہوش کی دنیا میں لوٹ آئی تھی۔

“اپنی شاعری، اپنے فلسفے، اپنے محبت نامے اپنے پاس رکھو اور مجھے معاف کرو، سونا ہے مجھے!”
وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے کمبل کو کھینچتے ہوئے لیٹ گئی تھی۔

“اور بیڈ سے اٹھ جاؤ، زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں، سمجھے؟”
وہ آنکھوں کو سکوڑتے ہوئے بولی۔

“فری ہونے کا تو پورا حق ہے میرے پاس، اور لائسنس بھی۔ ویسے، میں تمیزدار بچہ ہوں، کوئی بھی لمٹ کراس نہیں کروں گا!”
زرام نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اپنی نک چڑھی سپائسی چلی کو دیکھتے ہوئے بولا تھا۔

“اتنی ساری پیاری باتیں کرنے کے باوجود بھی، تمہارا غصہ ویسا کا ویسا ہے۔”
وہ اٹھ کر کھڑا ہوا، اپنے موڈ کو نارمل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ لبوں پر مسکراہٹ تھی، اور نظروں میں ملیحہ کے لیے بے حد محبت۔

“کون سا لائسنس؟”
“بڑے آئے لیسنس بتانے والے۔”
وہ طنز سے بولی۔

“میں کوئی چیز نہیں ہوں جس کا لائسنس تمہارے پاس ہو، جیتی جاگتی انسان ہوں اور یہ بات اپنے دماغ میں بٹھا لو کہ پوری زندگی بھی اگر ایسے ہی تڑپتے رہو گے، تو بھی تمہیں کبھی اپنا شوہر تسلیم نہیں کروں گی۔”
وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولتے ہوئے زرام کے بیڈ پر بے فکری سے لیٹ گئی اور آنکھیں بند کر لیں۔

“لائٹ بند کر دو، مجھے روشنی میں نیند نہیں آتی!”
ایک پل کو رکی، پھر جیسے خود سے ہی الجھتے ہوئے بولی:
“بلکہ رہنے دو، مجھے تم پر بھروسہ نہیں، روشنی ہونی چاہیے۔”

“جو لوگ اعتبار کے لائق نہیں ہوتے، ان کے لیے روشنی کیا اور اندھیرا کیا!”
زرام کہتے ہوئے ہلکا سا مسکرا دیا تھا۔
“اور ہاں، کپڑے چینج کر لو، اٹھ کر۔”
“اتنے بھاری کپڑوں میں نیند نہیں آئے گی!”

“کک۔۔۔ کک۔۔۔کیا۔۔۔کیا۔۔۔کیا کہا؟”
وہ ہکلاتے ہوئے حیرت سے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی۔

“کچھ نہیں کہا، کپڑے چینج کرو اور سو جاؤ۔”
وہ مسکراتے ہوئے بڑے آرام سے اپنی الماری سے کپڑے نکالتے ہوئے واش روم کی طرف بڑھ گیا جبکہ اس نے کیا کہا تھا اس بات کا مطلب اسے اچھی طرح سے پتہ تھا اور اس نے بالکل اسی نظریے سے کہا تھا جس نظریے کو سمجھتے ہوئے ملیحہ چلائی تھی… مگر وہ پرسکون ہو کر کپڑے نکال کر واش روم کی جانب بڑھا تھا جبکہ ملیحہ کا چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا۔ وہ زرام کی بات اچھی طرح سمجھ چکی تھی، کوئی بچی تو تھی نہیں۔

“نہیں بدلوں گی کپڑے!”
“اور اس طرح کی بےہودہ ورڈنگ میرے ساتھ استعمال مت کیا کرو، ورنہ تمہاری کھوپڑی اڑا کر رکھ دوں گی!”
وہ غصے سے چیخ اٹھی۔

“نہیں کھوپڑی مت اڑانا، ورنہ بغیر کھوپڑی والے شوہر کے ساتھ چلتے ہوئے تمہیں شرم آئے گی!”
واش روم سے زرام کی شوخ آواز گونجی۔

“تم جیسے شوہر سے تو بہتر ہے کہ انسان اپنے ساتھ کسی لکڑی کے بنے ہوئے ڈھانچے کو لے کر چل پڑے!”
“مجھے تمہارے ساتھ ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا!”
وہ بیڈ پر کروٹ بدل کر غصے سے لال چہرہ لیے بڑبڑائی، جسے زرام بخوبی سن چکا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ چینج کر کے باہر آ چکا تھا۔

“چلو یار، مجھے لکڑی کا سمجھ کر ہی ساتھ بیڈ پر سونے دو۔ قسم سے لکڑی کا بن کر ایک کونے میں دبک کر لیٹا رہوں گا۔”
وہ سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا، ایک بار پھر سے اس کا خون جلانے کو تیار تھا۔

“تم کیا چاہتے ہو؟”
“میں اٹھ کر کمرے سے باہر چلی جاؤں؟”
وہ اس کی طرف دیکھے بغیر بولی، کیونکہ زرام کی آنکھوں میں دیکھنا آسان نہیں تھا۔ ان آنکھوں کی گہرائی کسی مقناطیس کی طرح اسے اپنی جانب کھینچتی تھی۔

“نہیں، میں تو ہرگز ایسا نہیں چاہتا۔ میں تو چاہتا ہوں… آج چاند رات ہے، بیٹھ کر باتیں کریں۔”

“مجھے تم سے باتیں کرنے کا کوئی شوق نہیں، سمجھے؟”

“مگر مجھے تمہارے ساتھ باتیں کرنے کا بہت شوق ہے۔”

“اپنے شوق اپنے پاس رکھو۔”

“بہت ظالم اور سفاک لڑکی ہو!”
وہ گہری سانس لے کر صوفے پر لیٹ گیا، دونوں ہاتھ سر کے نیچے رکھ کر آنکھیں بند کر لیں۔

“ایسی ہی ہوں، ظالم اور سفاک!”
“اور اگر مجھ سے نکاح کیا ہے تو ابھی سے صبر کے پیمانے لبریز کرنے کی ضرورت نہیں۔ تمہارا میں ایسا حشر کروں گی کہ تمہارے سر سے عشق کا بھوت اتر جائے گا!”

“چلو، تم نے یہ تو مانا کہ میرے سر پر عشق کا بھوت چڑھ گیا ہے!”
وہ آہستہ سے مسکرا کر کروٹ لے کر اس کی طرف دیکھنے لگا، جبکہ وہ دوسری طرف منہ کیے لیٹی تھی۔ کچھ دیر تک زرام خود سے باتیں کرتا رہا، مگر مجال ہے کہ ملیحہ نے کوئی جواب دیا ہو، حالانکہ وہ جاگ رہی تھی۔ گہری سانس لے کر اپنے پیار کے ارمانوں پر خاموشی کا پانی انڈیلتے ہوئے زرام نیند کی آغوش میں چلا گیا، جبکہ ملیحہ اب بھی جاگ رہی تھی۔

“کیوں یہ مجھ سے محبت کرتا ہے؟”
“کیا اس کی محبت بھروسے کے قابل ہے؟”
“اتنے امیر، پڑھا لکھے، خوبصورت انسان نے مجھ سے شادی کی… کیوں؟”
اس کے دل میں سوالات کی قطار تھی مگر اسے کوئی سرا نہیں مل رہا تھا۔

“میں تو نہ اس کے اسٹیٹس سے میچ کرتی ہوں، نہ خوبصورتی کی کوئی خاص مثال ہوں۔ اسے مجھ سے بہتر ہزاروں مل سکتی ہیں، پھر یہ کیوں اتنا فدا ہے مجھ پر؟”
“کچھ تو کمی ہو گی نا اس میں… ضرور کوئی وجہ ہو گی، ورنہ اس کو کیا ضرورت ہے میری باتیں سہنے کی؟”
اس کے دماغ میں کھچڑی پک رہی تھی، سوال پہ سوال، مگر کوئی سرا ہاتھ نہ آیا۔ باہر چاندنی رات تھی، دور کہیں پٹاخوں کی آوازیں خوشی کی گواہی دے رہی تھیں، مگر ملیحہ اس کشمکش میں تھی کہ وہ خوش ہے یا پریشان۔ بالآخر نجانے کب نیند نے اس کے الجھے خیالوں کو سلا دیا۔
°°°°°°°°°
جیسے ہی زیغم سلطان روم کے اندر داخل ہوا، مہکتی ہوئی گلاب کے پھولوں کی خوشبو چاروں اطراف میں پھیلی ہوئی تھی۔ وہ مہرو کی وجہ سے بہت پریشان تھا۔ یہ سوچنے پر مجبور تھا کہ آخر مہرو کی طبیعت اتنی زیادہ خراب تھی کہ وہ اتنی خوشی کے موقع پر اپنے کمرے سے باہر ہی نہیں نکل سکی اور دانیا نے اسے نیند کی دوا دے کر سلا دیا۔ یہ ساری باتیں اسے ہضم بھی نہیں ہو رہی تھیں مگر مہرو کے لیے اسے فکر بھی تھی۔ اسی فکر میں جب وہ اچانک سے روم کے اندر داخل ہوا اور پھولوں کی مہکتی خوشبو کو محسوس کیا تو ایک لمحے کے لیے تو اسے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر یہ سارا ماجرا کیا ہے۔
روم میں لائٹس کی روشنی نہیں تھی بلکہ کینڈلز کی مدھم سی روشنی روم کو مہکائے اور جگمگائے ہوئے تھی۔ مدھم سی روشنی میں وہ چاروں اطراف میں نظر گھماتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔باس کے سمپل سے بیڈ کو پھولوں کی لڑیوں کے ساتھ سجایا ہوا تھا۔ وہ حیران تھا مگر جب مدھم سی روشنی میں اس کی نظر اس کانچ کی گڑیا پر پڑی جو دلہن کے روپ میں سجی ہوئی، گھونگٹ کے اوڑھ میں اس کے انتظار میں بیٹھی تھی، زیغم سلطان کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ بے اختیار اس نے گہری سانس لی اور نچلے ہونٹ کے کنارے کو دانتوں تلے دبا لیا۔ اسے اپنی پیاری سی بہنا کی ساری شیطانی سمجھ میں آ چکی تھی مگر جو بھی تھا اسے اپنی بہن کی یہ شرارت اور پیارا سا سرپرائز بہت اچھا لگا تھا۔ اسے یاد آ گیا کہ دانیا اور ارمیزہ ٹیبل پر کسی سرپرائز کی بات کر رہی تھیں۔ وہ سمجھ چکا تھا کہ یہ وہی سرپرائز ہے اور دوسری جانب مہرو زیغم کو روم میں دیکھ کر دھڑکتے دل سے نظر جھکائے بیٹھی تھی۔ اپنی ہی دھڑکنوں کا شور اسے کانوں میں محسوس ہو رہا تھا۔ گلاب کے پھولوں کی تیز خوشبو کا سینہ چیرتی ہوئی، زیغم سلطان کے پرفیوم کی خوشبو، اس کے ناک سے ٹکرا کر اس بات کا ثبوت دے رہی تھی کہ اس کا سائیں روم میں آ چکا ہے۔

“اگر ایسا کوئی پلان تھا تو مجھے بھی بتا دیتے۔”
“کم از کم میں بھی اس خوشی کو چند گھنٹے پہلے دل میں محسوس کرتا رہتا!”
وہ اس کے قریب ہی بیڈ پر بیٹھتے ہوئے ہلکے سے بول کر دلکش لبوں سے مسکرا رہا تھا۔ زیغم سلطان کے لبوں کی سرگوشی کو سنتے ہوئے مہرو اپنے ہاتھوں کو مروڑ رہی تھی۔ وہ کافی گھبرائی ہوئی تھی۔ اس کے وجود کی کپکپاہٹ بتا رہی تھی کہ وہ ڈری ہوئی ہے۔ زیغم نے ہاتھ بڑھا کر نرمی سے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا تو وہ زیغم کے ہاتھ کو جھٹکتے ہوئے جلدی سے پیچھے ہو گئی تھی۔

“مہرو… آرام سے… ایزی ہو جاؤ!”
“پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے… میں جانتا ہوں یہ سب کچھ دانیا نے کیا ہے مجھے سرپرائز دینے کے لیے!”
“میرا مطلب ہے… مجھے خوشخبری دینے کے لیے یہ سب کچھ کیا ہے!”
زیغم کو احساس ہوا تھا کہ مہرو کو انگلش نہیں آتی۔ اس لیے کوئی بھی ماڈرن لفظ بول کر وہ اپنی مہرو کے لیے مشکل کھڑی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے جلدی سے وضاحت دی مگر مہرو کا کپکپاتا ہوا وجود یہ ثابت کرنے کے لیے کافی تھا کہ مہرو گھبرائی ہوئی ہے۔

“مہرو میں نے کہا مجھ سے ڈرنے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، چلو آج ہم دونوں آپس میں دوستی کر لیتے ہیں!”
زیغم سلطان نے ہاتھ آگے بڑھایا تھا، مگر مہرو اپنا ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں کے گرد لپیٹے، بیڈ کراؤن کے ساتھ چپک کر بیٹھی ہوئی تھی، ذرا سا بھی ہاتھ آگے نہیں کیا تھا۔ روم میں اٹھتی ہوئی گلاب کے پھولوں کی خوشبو اور مہرو کا سجا ہوا روپ اور زیغم سلطان کا اس قدر قریب ہو کر بیٹھنا اور نرم لہجہ یہ سب کچھ مہرو کو گھبرانے پر زبردستی مجبور کر رہا تھا۔ خوبصورت نظریں جھکی ہوئی تھی۔ دھڑکتا ہوا دل عجیب سے شور میں مبتلا تھا۔ اپنے احساسات، اپنی گھبراہٹ کو مہرو سمجھنے سے قاصر تھی۔ زیغم سلطان اس کے دل کی کیفیت کو اچھی طرح سے سمجھ رہا تھا۔

“مہرو تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے؟”
زیغم نے نرم لہجے میں کہتے ہوئے تکیہ کھینچا اور بیڈ پر رکھتے ہوئے کہنی کو اس پر ٹکا لیا، پاؤں بیڈ سے نیچے لٹکائے ہوئے لیٹ گیا۔ مہرو خاموش تھی، کچھ نہیں بولی، مگر گھبراہٹ کا اندازہ اس کے چہرے اور کپکپاتے وجود سے بخوبی لگایا جا سکتا تھا۔

“میں نے کہا ہم دوستی کر لیتے ہیں، مہرو کیا میں بہت برا ہوں؟”
“دوستی کے لائق نہیں ہوں؟”
نرمی سے پوچھا گیا تھا۔

“نہیں، آپ بہت اچھے ہیں!”
وہ آہستہ سے بولی تھی۔

“تو پھر کیوں مجھ سے ڈر رہی ہو؟”
“آرام سے بیٹھو، ہم باتیں کریں گے، ایک دوسرے کے بارے میں جانیں گے، ہمیں کیا پسند ہے اور کیا نہیں پسند، چلو تم مجھے اپنے بارے میں بتاؤ، میری مہرو کو کھانے میں کیا پسند ہے؟”
زیغم نے اپنی طرف سے بات شروع کرتے ہوئے گہرا سانس لیا تھا۔ مہرو کا سجا سنورا روپ زیغم سلطان کے دل کی دھڑکنوں کو تیز کر رہا تھا، مگر اس وقت خود پر پوری طرح سے کنٹرول رکھے ہوئے وہ اپنی مہرو کی پسند اور ناپسند کے بارے میں جاننا چاہتا تھا، اسے اپنا دوست بنانا چاہتا تھا۔ محبت میں احترام کا قائل تھا یہ شخص، تو کیسے اپنی مہرو کو اپنے جذباتوں کی لو دکھا کر گھبرانے پر آمادہ کر سکتا تھا؟

“مجھے سب کچھ پسند ہے، اماں جو بھی لے کر آتی تھی، مجھے وہ سب کچھ پسند آتا تھا!”
وہ بمشکل بولی تھی، جیسے کسی نے لٹکتی ہوئی تلوار اس کے سر پر رکھی ہو اور جواب دینا لازم ہو گیا تھا۔ زیغم گہری سانس لیتے ہوئے مسکرا دیا تھا کیونکہ اس کی پیاری سی بیوی پر معصومیت کی ہر حد ختم ہو جاتی تھی۔

“ٹھیک ہے، اماں جو بھی لاتی تھی اور مہرو وہ کھا لیتی تھی، مگر کوئی تو ایسی چیز ہوگی نا جس پر مہرو کا دل کرتا ہوگا۔ مہرو کا دل چاہتا ہوگا کہ وہ چیز مجھے روز ملے، میں اسے بار بار کھاؤں!”
سامنے بھی وکیل صاحب بیٹھے تھے جن کے پاس ہر سوال کا جواب تھا اور ہر جواب کے لیے سوال موجود تھا۔ باتوں میں الجھانا اور باتوں سے باتیں نکالنا اور مقابل کے دل کی بات کو جاننا زیغم سلطان کے لیے کوئی بڑا کام نہیں تھا۔

“جی اماں، جب کبھی گوشت لے کر آتی تھی، مجھے وہ کھانا بہت اچھا لگتا تھا!”
وہ مدھم سے آواز میں بولی تھی۔

“ہمم… تو اس کا مطلب میری مہرو کو گوشت کھانا پسند ہے؟”
“تو ٹھیک ہے، کل سے مہرو کے لیے خاص ایک گوشت کی ڈش ضرور بناؤں گا!”
وہ بہت پرسکون تحمل بھرے لہجے میں مسکراتا ہوا بول رہا تھا تاکہ مہرو کمفرٹیبل رہ سکے مگر نظریں بار بار مہرو کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔ مہرو کے ناک میں پہنی ہوئی چوڑی نما گول نوز پن جس کے نیچے دو موتی لٹک رہے تھے اور وہ مہرو کے لبوں کو چھونے کی گستاخی کر رہے تھے۔ زیغم کو وہ اس وقت زہر لگ رہے تھے۔

“اچھا، مجھے یہ بتاؤ کہ مہرو کو کون سے کلر کے کپڑے پسند ہیں؟”

“مجھے سب رنگ اچھے لگتے ہیں!”
بڑا پیارا اور معصوم جواب دیا گیا تھا۔

“نہیں، مگر کوئی ایک رنگ ایسا ہوتا ہے جو انسان کو بہت اچھا لگتا ہے!”

“نہیں، مجھے سب اچھے لگتے ہیں، ویسے بھی اماں جو لے آتی تھی، مجھے وہ اچھا لگتا تھا۔”

“ٹھیک ہے، چلو یہ بتاؤ، میری مہرو کو کون سا موسم پسند ہے؟”
زیغم سلطان گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس وقت اگر مہرو زیغم کے دل کا حال دیکھ لیتی تو اتنا گھبرا جاتی، شاید وہ کمرے میں بیٹھ نہ پاتی، مگر کمال مہارت تھی اس شخص کے اندر، کہ اپنے دل پر دماغ کو حاوی کر کے رکھا ہوا تھا اور پرسکون انداز میں بیٹھا تھا۔

“مجھے سردی بہت پسند ہے، اور آپ کو پتہ ہے میرا دل چاہتا تھا جب سردی ہو تو میں باہر بیٹھ کر بہت سے پکوڑے کھاؤں، اور میرا دل چاہتا تھا کہ میں گھنٹوں بیٹھی رہوں اور آسمان کی طرف دیکھتی رہوں اور مجھے بارش بہت اچھی لگتی ہے، میرا دل چاہتا ہے میں بارش میں نہاتی جاؤں گی اور مجھے کبھی کوئی نہ روکے، مگر اماں ڈانٹتی تھی، اماں روک دیتی تھی، اماں کہتی تھی، مہرو اندر آ جاؤ، تمہیں ٹھنڈ لگ جائے گی!”
وہ اپنی اماں کا نام لیتے لیتے رو پڑی تھی۔

“روتے نہیں ہیں، میں جانتا ہوں، تمہاری اماں جہاں کہیں بھی ہوگی، وہ تمہیں دیکھ رہی ہوگی، اور تمہیں پتہ ہے جب تم روؤ گی تو ان کی روح کو تکلیف پہنچے گی!”
زیغم نے نرمی سے اسے خاموش کرواتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھا کر سخت ہاتھوں سے اس کی مخملی رخسار سے آنسوؤں کی بوندیں صاف کر دی تھیں۔

“اچھا تو میری مہرو کو پکوڑے بہت پسند ہیں؟”
وہ مہرو کے آنسو صاف کرتے ہوئے مہرو کا دھیان پکوڑوں کی طرف لے کر جانا چاہتا تھا تاکہ وہ رونا بند کر دے۔ مہرو کا رونا زیغم کے دل کو تکلیف پہنچا رہا تھا۔ ان خوبصورت آنکھوں میں وہ خوشیاں اور رنگ دیکھنا چاہتا تھا، آنسو نہیں، مگر وہ اپنی اماں سے بہت اٹیچ تھی، اس لیے یاد کر کے رونا ایک نیچرل سی چیز تھی۔

“جی، مجھے پکوڑے بہت پسند ہیں، مجھے ٹھنڈ بھی بہت پسند ہے!”
وہ بچوں کی طرح بات کر رہی تھی۔ زیغم سلطان کے سامنے وہ بچی ہی تو تھی، بے شک اٹھارہ سال کی تھی مگر سوچ سے وہ بہت چھوٹی تھی۔ اس نے نہ باہر کی دنیا دیکھی تھی اور نہ باہر کی اٹھارہ سال کی لڑکیوں جیسی وہ تیز طرار تھی۔ سوچ کے حساب سے وہ دس بارہ سال کی تھی۔ اور اس کی معصومیت پر فدا تھا زیغم سلطان، جو عقل، ذہانت سے بھرپور، خوبرو تیس سال کا نوجوان تھا۔

“تمہیں پکوڑے بنانا آتے ہیں؟”
زیغم سلطان نے بات آگے بڑھانے کے لیے ایک اور بات کو چھیڑا تھا۔

“نہیں، مجھے نہیں بنانا آتے کیونکہ اماں مجھے بنانے نہیں دیتی تھی، اماں کہتی تھی، ‘تمہارے ہاتھ جل جائیں گے، تم کھانا مت بنایا کرو۔’ اماں خود بناتی تھی یا پھر آتے ہوئے بازار سے لے کر آتی تھی۔”
وہ منہ بسورتے ہوئے افسردہ سی ہو کر بولی تھی۔ لگتا تھا کہ مہرو کو کھانا بنانے کا شوق تھا مگر اس کی اماں اس سے کھانا اس ڈر سے نہیں بنواتی تھی کہ کہیں مہرو خود کو کوئی نقصان نہ پہنچا لے۔

“مطلب کہ مجھے کبھی میری بیوی کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا نہیں ملے گا؟”
زیغم نے مصنوعی افسردگی سے کہا۔

“نہیں سائیں، آپ جب بولیں گے، میں بنانا سیکھ لوں گی!”
وہ جلدی سے بولی تھی۔ زیغم مسکرا دیا تھا۔

“اس کی ضرورت نہیں ہے!”

“کیوں؟”

“کیونکہ جیسے تمہاری اماں تمہارے لیے فکر مند تھی، تمہاری اماں نہیں چاہتی تھی کہ مہرو کے ہاتھ جلیں اور کوئی نقصان پہنچے۔ اسی طرح میں بھی نہیں چاہتا میری مہرو کے ان پیارے سے ہاتھوں پر کوئی نشان ہو!”
بھاری ہاتھ آگے بڑھا کر نرمی سے اس کی کانچ جیسی کلائی کو پکڑ کر ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ مہندی سے رچا ہوا ہاتھ، کانچ کی چوڑیوں سے بھری ہوئی کلائی، زیغم سلطان کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کرنے کے لیے کافی تھی۔ ریڈ کلر کی چوڑیاں گوری کلائی پر دمک رہی تھیں۔ مہرو نے گھبرا کر ہاتھ پیچھے کھینچ لیا تھا۔ مہرو کا یوں گھبرا کر ہاتھ پیچھے کھینچ لینا زیغم کو اچھا نہیں لگا تھا۔ وہ اس کے ہاتھ کو پکڑنا چاہتا تھا، اس کی کلائی کو اپنے مضبوط ہاتھ میں تھام کر محسوس کرنا چاہتا تھا، جو کہ اس کا حق بھی تھا کیونکہ وہ محرم تھا اس کا، کوئی غیر نہیں، اس کی بیوی تھی، اس کی محرم تھی۔ خدا نے اسے اس کی اجازت دی تھی، مگر جہاں خدا نے یہ اجازت دی تھی کہ وہ اس پر پورا حق رکھتا ہے، وہیں خدا نے نرمی اور محبت کا درس بھی دیا ہے کہ اپنی شریکِ حیات کو ہمیشہ رحم دلی اور محبت کے ساتھ اپناؤ۔

“چلو، مہرو، اٹھو!”
“میں تمہیں ہمارا گاؤں دکھا کر لاتا ہوں!”
وہ کچھ سوچتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔

“اتنی رات کو؟”
وہ حیرانی سے بولی تھی۔

“کوئی زیادہ رات نہیں ہوئی، اور ویسے بھی یہ ہمارا گاؤں ہے، تو ہمیں اس بات سے فرق نہیں پڑنا چاہیے کہ رات ہے یا دن۔”
وہ پرسکون لہجے میں بولا تھا۔

“نہیں، مجھے رات کو گھر سے باہر جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ میں نہیں جاؤں گی!”

“مہرو، میرے ہوتے ہوئے تمہیں ڈر لگتا ہے؟”
“کیا تمہیں مجھ پر یقین نہیں کہ میں تمہاری حفاظت کر سکوں گا؟”

“نہیں، مجھے آپ پر یقین ہے، آپ بار بار ایسا مت کہا کریں!”
مگر مہرو کو اندھیرے سے ڈر لگتا تھا اور وہ نظریں جھکائے معصومیت سے بول رہی تھی۔ زیغم پر یقین کا اعتراف بھی تھا اور اندھیرے میں ڈرنے کا اعتراف بھی کر رہی تھی۔

“میرے ہوتے ہوئے تمہیں اندھیروں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ میں ہوں ہر وقت، ہر لمحہ تمہارے ساتھ، تمہاری حفاظت کرنے کے لیے۔ مہرو، تم تک کوئی بھی چیز مجھ سے گزر کر پہنچے گی، جب تک میں زندہ ہوں تو تم پر کوئی آنچ نہیں آنے دوں گا۔ یہ وعدہ ہے میرا!”
وہ نرمی سے کہتے ہوئے بیڈ پر اس کے قریب واپس بیٹھ چکا تھا، نظروں میں محبت تھی اور آواز میں نرمی کا احساس تھا۔ مہرو، زیغم سلطان کی گہری نیلی آنکھوں میں کھو سی گئی تھی۔ اس کی آنکھیں پراسرار تھیں اور اس کا لہجہ ایسا تھا کہ وہ اس کی باتوں میں الجھنے لگی تھی۔ زیغم نے ہاتھ بڑھا کر اس کی ناک میں پہنی نوز پن کو اتارنا چاہا تھا کیونکہ زیغم سلطان کی نظریں اس نوز پن سے ہٹ نہیں رہی تھیں جو بار بار مہرو کے ہونٹوں کو چھونے کی گستاخی کر رہی تھی۔ مہرو نے اس کے ہاتھوں کو اپنی ہتھیلیوں سے روکنا چاہا تھا۔

“مہرو، کیا چاہتی ہو کہ میں ناراض ہو جاؤں؟”

“نہیں… نہیں، میں ایسا نہیں چاہتی!”

“تو پھر مجھے اسے اتارنے دو، اس سے تمہاری لپسٹک خراب ہو رہی ہے!”
وہ اپنے دل کی بات کا اعتراف تو نہیں کر رہا تھا مگر لپسٹک پر الزام ڈالتے ہوئے ایک بار پھر نرمی سے کھولنے لگا تھا۔

“میں خود اتار لوں گی۔”
وہ گھبرا کر بولی تھی۔

“کیوں؟”
“اگر میں اتاروں گا تو کیا مسئلہ ہے؟”

“مجھے شرم آتی ہے…”
وہ نظریں جھکا کر بولی۔

“پوری دنیا سے شرمایا کرو، صرف ایک مجھے چھوڑ دو نا!”
لہجے میں التجا تھی۔ مہرو کے دل میں زیغم کی باتیں گدگدانے لگی تھیں۔ احساسات کو وہ سمجھنے سے ابھی تک قاصر تھی۔ اس رشتے کی نزاکت کو سمجھنے کے قابل نہیں تھی، مگر وہ لڑکی تھی، اور سامنے ایک خوبصورت، پڑھا لکھا نوجوان تھا، تو ایک قدرتی عمل تھا کہ مہرو کے دل کے جذبات بدل رہے تھے مگر ابھی تک ان کو کوئی نام دینا اس کے لیے مشکل تھا، جب سمجھ نہیں سکتی تو نام کیسے دیتی؟ اور زیغم سلطان اس کی اس کیفیت سے پوری طرح سے واقف تھا۔ مہرو کے ناک سے نوز پن کو نرمی سے اتار رہا تھا، دونوں ہاتھ گھٹنوں کے گرد لپیٹے، سختی سے اپنے لہنگے کو دبوچے ہوئے تھی۔ زیغم کے ہاتھوں کی انگلیاں اس کے رخساروں سے ٹچ ہوئیں تو مہرو کے پورے وجود میں لرز سی دوڑ گئی۔ بے اختیار اس کے منہ سے ٹھنڈی آہ نکلی۔ زیغم سلطان کے لب بے اختیار مسکرائے تھے۔ “میری بیوی کو میرے چھونے سے فرق پڑنے لگا ہے، تو مطلب کہ میری محبت دل پر اثر دکھانے لگی ہے!” وہ دل میں سوچ کر خاموش تھا۔ نوز پن کو بڑی نرمی اور مہارت سے اتار کر وہ اسے سائیڈ پر رکھ چکا تھا۔ ایک انجانی سی خوشی زیغم محسوس کر رہا تھا۔

“اتار دی ہے، اب ہم چلیں؟”
بڑی محبت سے اسے ہوش کی دنیا میں واپس لایا گیا۔ گھنی پلکیں آہستہ سے اُٹھی تھیں، ایک نظر زیغم کو دیکھا تھا مگر پھر نظریں جھک گئی تھیں۔ اس کی انگلیوں کا لمس گالوں پر محسوس کر کے وہ خود کو سنبھال نہیں پا رہی تھی۔ زیغم نے اپنا ہاتھ اس کے سامنے پھیلایا تو مہرو نے نازک ہتھیلی اس کے ہاتھ پر رکھ دی۔ یہ ایک اور قدم تھا، محبت کے راستے پر گامزن ہونے کے لیے۔ پھولوں کی تہہ سے سجے ہوئے کینڈل کی روشنی سے جگمگاتے ہوئے رومینٹک کمرے کے خوبصورت بیڈ سے مہرو کو ہاتھ پکڑ کر نیچے اتارتے ہوئے اس کے بھاری لہنگے کو زیغم نے خود ایک سائیڈ سے ہلکا سا اٹھا لیا تھا۔

“یار کیا ضرورت تھی اتنا بھاری لہنگا پہننے کی؟”
“اتنا ویٹ تو تمہارا نہیں ہے جتنا بھاری لہنگا تم نے پہن رکھا ہے!”
لہنگے کا ایک کونا اٹھاتے ہی زیغم کو احساس ہوا کہ مہرو کے حساب سے لہنگا بہت بھاری ہے، اسے سچ میں اپنی چھوٹی سی بیوی پر ترس آگیا تھا۔

“ایک کام کرو، تم بیٹھو اور یہ جیولری اتار دو!”

“نہیں، مجھے ابھی نہیں اتارنا!”
وہ یک دم بولتے ہوئے زیغم کے بڑھتے ہوئے جھمکوں کی جانب ہاتھ کو روک چکی تھی۔

“کیوں؟”
“کیوں نہیں اتارنے؟”
وہ حیرانی سے بولا تھا۔

“کیونکہ یہ ساری چیزیں بہت خوبصورت ہیں اور مجھے پہننی ہیں!”
وہ پوری ایمانداری، سچائی کے ساتھ اپنا سچ بول رہی تھی۔ اسے یہ جیولری، یہ چیزیں بہت پسند آئی تھیں، اور اس نے کبھی ایسی چیزیں دیکھی نہیں تھیں، تو اسے یہ سب کچھ پہننا تھا، کوئی ملاوٹ نہیں تھی باتوں میں۔

“ٹھیک ہے میری جان، پہنے رکھو۔ میں تو تمہارے نازک پن کی وجہ سے کہہ رہا تھا کہ تم اتنی نازک ہو، تو اتنی بھاری چیزیں اٹھاتے اٹھاتے تھک جاؤ گی۔ اگر تمہیں کوئی اعتراض نہیں تو تم اسے پہنے رکھو، بے شک پہن کے سو جاؤ!”
وہ مسکرا دیا تھا اور اس کی نرم سی ہتھیلی کو اپنے مضبوط ہاتھ میں تھامے، اسے لے کر اپنے روم سے باہر چل پڑا تھا، مہرو کو اپنا گاؤں دکھانے کے لیے۔ گاؤں دکھانا تو ایک بہانہ تھا، وہ اپنی مہرو کے ساتھ ٹائم گزارنا چاہتا تھا، بہت سی باتیں کرنا چاہتا تھا۔ تاکہ مہرو اس کے ساتھ کمفرٹیبل ہو سکے، اس کی دوست بن سکے۔ اتنی بار دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے باوجود ابھی تک جناب کی طرف سے جواب نہیں ملا تھا کہ وہ زیغم کی دوستی کو قبول کر چکی ہے یا نہیں۔ اتنا ہی اس کے لیے کافی تھا کہ اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیے چل رہی ہے۔
°°°°°°°°
اللہ اللہ کر کے ملیحہ کی آنکھ لگ گئی تھی، مگر زور سے آتے ہوئے خراٹوں کو گہری نیند میں سن کر اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی ٹریکٹر زمینوں پر کاشتکاری کر رہا ہو۔ “خررررر…” کی آوازیں مسلسل گونج رہی تھیں، جیسے زمین کھودنے کی آواز آ رہی ہو، اور ہر خراٹے کے ساتھ وہ مزید ڈوبتی جا رہی تھی۔ خراٹوں کی آواز بہت خوفناک لگ رہی تھی اور ملیحہ خراٹوں کی آواز سن کر جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گئی تھی اور یہ خراٹے کوئی اور نہیں، ڈاکٹر زرام لے رہا تھا۔ ڈاکٹر زرام کو ایک بیماری تھی، جب بھی وہ کسی انکمفرٹیبل پوزیشن میں سوتا، تو اسے اس طرح سے خراٹے آنا شروع ہو جاتے تھے اور اس وقت وہ اپنا بیڈ دان کر کے خود بیچارہ صوفے پر لیٹا ہوا تھا۔ بیچارا پوری طرح سے پیڈ صوفے پر پورا بھی نہیں آیا تھا۔ اس کے پاؤں نیچے لٹک رہے تھے۔ ملیحہ کو شدید غصہ آ گیا تھا اس پر۔ وہ اٹھی اور غصے سے تکیہ ہاتھ میں پکڑے ہوئے صوفے کے قریب گئی اور زور سے تکیہ اس کے منہ پر پھینکا تھا۔ بچارا ہڑبڑا کر کھڑا ہو گیا تھا۔

“کک… کک… کون؟”

“مم… م… مم میں…”
وہ چھوٹی سی ناک سکوڑتے ہوئے، دلہن کے روپ میں سجی سنوری، وہ اس کے سامنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے کھڑی تھی۔ بیچارے کا دل پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو تیار تھا۔

“استغفر اللہ سپائسی چلی!”
“تمہیں نیند میں چلنے کی بیماری ہے کیا؟”
وہ بیچارہ آنکھیں ملتا ہوا اس کی جانب دیکھ کر بولا۔

“نہیں، مجھے تمہاری طرح کوئی بیماری نہیں۔ الحمدللہ! میں آرام سے سوتی ہوں اور مجھے کوئی چلنے کی بیماری نہیں، مگر تم نے یہ جو ‘خررررر…’ کی مشین چلا رکھی ہے، اس کی وجہ سے میری نیند خراب ہو گئی ہے!”
“کسی بھینس کے کٹے کی طرح تم خرخر کی آوازیں نکال رہے ہو!”
“شرم نہیں آتی، ایک دوسرے انسان کی نیند خراب کرتے ہوئے؟”

“استغفر اللہ! سانس لے لو، کتنا بولتی ہو سپائسی چلی!”

“بلیک پیپر! سانس تو میں تب لوں گی جب تمہیں کمرے سے نکال لوں گی!”
“تم پر رحم کھا کر، ترس کھا کر تمہیں روم میں سونے تو دے دیا، مگر مجھے نہیں پتہ تھا کہ تم تو میری ہی نیند حرام کر دو گے!”
“نکلو ابھی کے ابھی میرے کمرے سے، نکلو!”
چٹکی بجا کر وہ اس کو روم سے باہر نکال رہی تھی۔

“یار ایسا کون کرتا ہے؟”
“آدھی رات کو مجھے میرے ہی کمرے سے نکال رہی ہو!”
“وہ بھی اس لیے کہ میں خراٹے لے رہا ہوں؟”
“یار مجھے ایک بیماری ہے!”
“میں عام روٹین میں خراٹے نہیں لیتا، ہاں مگر جب انکمفرٹیبل پوزیشن میں سوؤں تو مجھے خراٹے آتے ہیں!”
“اب نیند میں میرا کیا بس ہے؟”
بیچارہ اس کے سامنے روم میں رہنے کے لیے التجا کر رہا تھا۔ بہت فروٹ لگ رہا تھا زرام جسے اپنے ہی کمرے سے باہر نکالا جا رہا تھا۔

“تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے سر میں کوئی چیز اٹھا کر ماروں؟”

“تم بدتمیزی کر رہی ہو میرے ساتھ، مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے؟”

“تمہیں لگ نہیں رہا، سچ میں میں تمہارے ساتھ بدتمیزی ہی کر رہی ہوں!”
دونوں ہاتھ سینے پر باندھتے ہوئے بغیر کسی ڈر کے اطراف کر رہی تھی۔

“اوکے، گڈ گڈ! مجھے لگا شاید مجھے ایسا شک ہے!”
وہ دونوں انگوٹھے دکھاتے ہوئے نچلے ہونٹ کو ہلکا سا نیچے کی طرف کرتے ہوئے اسے شاباش دے رہا تھا۔

“تم میں سیلف رسپیکٹ نہیں ہے!”
وہ اس کے تحمل سے چڑھ کر بولی تھی۔

“سیلف رسپیکٹ اتنی ہے کسی کو اپنے سامنے غلط ارادے سے سانس لینے کی بھی اجازت نہ دوں!”
“اور غصہ اتنا ہے کہ کسی کو مارنے سے پہلے سوچوں بھی نہیں کہ کس کی جان کیسے نکلے گی!”
“بہادری اتنی ہے کہ ہزاروں کی بھیڑ سے اکیلا لڑ جاؤں!”
“نڈر اتنا ہوں کہ کچھ بھی کرنے سے پہلے ایک بار نہیں سوچتا ہوں کہ اس کا انجام کیا ہوگا!”
“مگر تمہارے معاملے میں یہ سب کچھ دھرے کا دھرا ہے، پتہ ہے کیوں؟”
“کیونکہ تم سے بے حد محبت کرتا ہوں!”
“زرام کا عشق ہو تم!”
“ذرام تمہارے سامنے جھک تو کیا، تمہارے پیروں میں بچھ بھی سکتا ہے، اس لیے تمہیں ہر چیز کی اجازت ہے!”
“تمہارے سامنے مجھے کمزور پڑنا منظور ہے، مگر تم سے دور ہونا منظور نہیں!”
وہ یک دم اٹھ کر اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے سرگوشی میں بولا۔
ملیحہ کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی تھی۔ اسے اس آفات کی امید نہیں تھی، اسے سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا ردعمل کرے۔ وہ سانس نہیں لے پا رہی تھی، وہ اس کے بے حد قریب تھی، زرام اسے اپنے سینے سے لگائے ہوئے تھا۔ ملیحہ گھبرا گئی تھی۔ ملیحہ کی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی تھی، حالت یکدم سن ہو گئی ہونے والی تھی مگر جلد ہی ہوش میں آتے ہوئے وہ شیرنی کی طرح پلٹی تھی۔

“انتہائی چھچوروں والی حرکت ہے یہ!”
“پیچھے ہٹو!”
وہ پوری ہمت جمع کر کے، اس کے سینے میں کہنی مارتے ہوئے، جھٹکے سے اس سے دور ہو گئی۔ ملیحہ نے اتنی زور سے کہنی ماری تھی کہ بچارے زرام کو اچھا خاصا درد محسوس ہوا تھا جسے وہ ضبط کر گیا۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ اس کے مقابل طاقتور تھی۔ اگر وہ نہ چاہتا تو ملیحہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی ہل نہیں سکتی تھی مگر زرام نے خود ہی اپنی گرفت ڈھیلی کی تھی۔
یہ محبت بھرا، کمزور لمحہ تھا۔ ایک جذباتی لغزش، جسے وہ روک نہیں سکا۔ اس کا کوئی غلط مقصد نہیں تھا۔ وہ ملیحہ سے بے حد محبت کرتا تھا اور محبت میں اتنی سی گستاخی تو قابلِ معافی ہو سکتی ہے مگر ملیحہ کی نظر میں ایسا بالکل نہیں تھا۔ اس کی حرکت کی وجہ سے ملیحہ اس وقت شدید غصے میں تھی، اور زرام کو صاف اندازہ ہو چکا تھا کہ اب اس کی خیر نہیں! اس کے اگلے وار کے لیے وہ بالکل تیار کھڑا تھا۔

“بڑے بڑے دعوے کرتے تھے نا؟”
“میں تمہاری عزت کرتا ہوں!”
“احترام کرتا ہوں!”
“تمہاری اجازت کے بغیر دہلیز پار نہیں کروں گا!”
“اور یہ کیا تھا؟”
“کیا سوچ کر تم نے مجھے ہاتھ لگایا؟”
وہ غصے سے پھونکارتی ہوئی بولی۔

“سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ مرد اپنی بات پر قائم رہ سکے!”
اس کا چہرہ جو دلہن کے روپ میں سجا ہوا تھا… گہرا سرخی مائل ہو چکا تھا، آنکھیں انگارے برسا رہی تھیں جبکہ زرام پورے سکون میں تھا۔ اسے اندازہ تھا کہ جو گستاخی وہ کر چکا ہے، اس کا انجام یہی ہونا تھا۔

“میم، تھوڑی آواز نیچے رکھیں، کوئی سن لے گا!”
وہ دانت نکالتے ہوئے مسکرا کر بولا۔
نیند کی خماری سے زرام کی آنکھیں لال تھیں، اور ان میں ملیحہ کے لیے حد سے زیادہ محبت چھپی تھی۔ وہ اسے محفوظ نظروں سے دیکھتے ہوئے ہنس رہا تھا، اور ملیحہ کو اس کا ہنسنا زہر لگ رہا تھا۔

“سنتا ہے تو سن لے میری بلا سے!”
“میں ڈرتی نہیں کسی سے!”
وہ پھر سے چلائی۔

“اچھی بات ہے۔ زرام کی بیوی کو کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ ویری گڈ۔”
وہ سارا کریڈٹ خود پر لے رہا تھا۔

“مجھے بہادر بننے کے لیے زرام کے سر نیم کی ضرورت نہیں!”
“تم اپنا نام، اپنی شکل، اپنا رتبہ سب کچھ اپنے پاس رکھو، مجھے کچھ نہیں چاہیے!”
وہ دروازے کی کنڈی کھولتی ہوئی، جل کر انگارے برساتی ہوئی بولتی جا رہی تھی۔

“چلو نکلو کمرے سے باہر…!”
وہ انگلی کے اشارے سے زرام کو باہر نکلنے کو کہہ رہی تھی۔
اب کی بار وہ زیادہ ہی تپ چکی تھی، اور زرام یہ جانتے ہوئے بھی باادب انداز میں کیٹ واک کرتا، مسکراتے ہوئے قدم بہ قدم کمرے سے باہر جارہا تھا۔ ملیحہ دروازہ کھولے کھڑی تھی، دلہن خود دلہے کو کمرے سے باہر نکال رہی تھی، منظر خاصا دلچسپ اور فنی تھا۔

“جلدی جاؤ! مجھے سونا ہے!”
“یہ کیٹ واک بعد میں کر لینا!”
وہ غرّائی۔
وہ ابھی دو قدم ہی باہر نکلا تھا کہ ملیحہ فوراً کمرے میں واپس لوٹی۔ بیڈ سے ایک تکیہ اور بیڈ کور اٹھایا، اور لپیٹتے ہوئے دروازے تک آئی۔

“یہ بھی لیتے جاؤ!”
“اور کہیں بھی جا کے سو جانا کیونکہ تمہارا کیا بھروسہ، کسی بہانے سے واپس آ جاؤ!”
“اور سن لو، میں دروازہ نہیں کھولنے والی!”
وہ دونوں چیزیں لپیٹ کر زرام کے منہ پر مار چکی تھی۔ زرام نے بڑی مہارت سے کیچ کر لیا، اور چہرے پر اب بھی وہی شیطانی مسکراہٹ سجی ہوئی تھی۔ ملیحہ کے غصے کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں شرارت اور محبت کے رنگ اور بھی گہرے ہو چکے تھے لیکن دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ سارا منظر کوئی اور بھی دیکھ رہا تھا۔ زیغم، جو مہرو کو لے کر گاؤں کا چکر لگانے کا ارادہ رکھتا تھا، چاند رات کی مناسبت سے۔ حویلی سے باہر نکل رہا تھا۔ مہرو، دلہن کے لباس میں، خاصی کنفیوز اور گھبرائی ہوئی تھی۔ زیغم اسے نارمل کرنے کے لیے باہر لا رہا تھا۔ وہ دونوں زرام کے دروازے سے چند قدم کے فاصلے پر تھے جب یہ منظر ان کی نظروں میں آیا۔ زرام اور ملیحہ نے اب تک انہیں نہیں دیکھا تھا، کیونکہ فارم ہاؤس کی کچھ لائٹس بند تھیں اور جس راہداری سے زیغم گزر رہا تھا، وہاں خاصا اندھیرا تھا۔ مہرو نے زیغم کا ہاتھ مضبوطی سے تھام رکھا تھا، کیونکہ اسے اندھیرے سے ڈر لگتا تھا۔

“چلو، ایک کام کرتے ہیں، دونوں چھت پر چل کر کھلے میں چل کر سوتے ہیں۔ دو چار پائیاں بچھا کر پورا دیسی ماحول کریٹ کرتے ہیں!”
زرام نے ملیحہ کو شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے چھت پر سونے کی آفر دی تھی۔

“نہیں، مجھے کوئی شوق نہیں دیسی ماحول کا، کیونکہ میں پہلے ہی دیسی ماحول سے آئی ہوں۔ تم سو جاؤ جہاں بھی سونا ہے، اور میرے ساتھ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے!”
“بڑا آیا مجھے اپنے ساتھ چھت پر سلانے والا… تمہاری تو میں ایسی کھٹیا کھڑی کروں گی کہ تم ساری زندگی یاد رکھو گے!”
اس سے پہلے کہ زرام کچھ اور کہتا، ملیحہ نے ٹھا کر کے دروازہ بند کر دیا تھا۔ زیغم کو یہ سب کچھ دیکھ کر بہت مزہ آ رہا تھا۔ وہ بڑی محظوظ نظروں سے زرام کو دیکھ رہا تھا، جس نے ابھی تک نہیں دیکھا تھا کہ یہ سارا منظر اس کا بھائی دیکھ چکا ہے۔

“ماشاءاللہ ماشاءاللہ، میرا شہزادہ بھائی!”
“ایسی کون سی کرتوت کی ہے جس کی وجہ سے پہلی رات ہی تمہاری بیوی نے تمہیں کمرے سے اٹھا کر باہر پھینک دیا ہے؟”
زیغم کی آواز پر زرام نے پلٹ کر دیکھا، مگر مجال ہے چہرے پر کوئی شرمندگی ہو۔

“میں نے کچھ نہیں کیا۔ آپ کی بھابھی ویسے ہی اسپائسی چلی سے بھی زیادہ تیکھی ہے۔ اُسے جھگڑا کرنے کے لیے کسی مدے کی ضرورت نہیں ہے، وہ بغیر کسی نقطے کے لڑ سکتی ہے، اور بغیر کسی وجہ کے مجھے کمرے سے بھی باہر نکال سکتی ہے۔ مطلب کہ میں مظلوم ہوں!”
وہ آرام سے کندھے اچکاتے ہوئے اپنے بھائی کو بتا رہا تھا کہ اس نے کچھ نہیں کیا۔ زیغم، مہرو کا ہاتھ پکڑے، کافی قریب آ کر کھڑا ہو گیا تھا۔

“ویسے میں تمہاری پسند سے کافی امپریس ہوا ہوں۔ ہمارے گھر کو ایسی ہی بہو کی ضرورت تھی۔”
زیغم نے شرارتی نظروں سے بند دروازے کو دیکھا، جس کے اندر ملیحہ جا چکی تھی۔

“مطلب؟”
زرام نے حیران نظروں سے اپنے بھائی کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔

“مطلب یہ ہے کہ دانیہ معصوم تھی اور ہے، اور مجھے نہیں پتہ کہ آنے والے وقت میں کوئی خاص فرق پڑے گا۔ اس لیے سب نے اُسے ہمیشہ دبا کر رکھا۔ نایاب ہمیشہ دانیہ پر حاوی رہی ہے، اور باقی سب کے بارے میں بھی کچھ کہنا نہیں چاہتا، مگر تم سب جانتے ہو!”
زیغم نے سوچتی ہوئی نظروں سے زرام کو دیکھتے ہوئے کہا۔

زرام نے خاموشی سے ہاں میں سر ہلا دیا۔
“جی بھائی، میں سب جانتا ہوں۔”

“اور تم اپنی بھابی کے بارے میں بھی جانتے ہو!”
“یہ تو معصوم نہیں ،ماشاءاللہ سے ایکسٹرا معصوم ہیں!”
“یہ تو گھر والوں کے سامنے روپیہ میں پچیس پیسے تو کیا، پانچ پیسے بھی مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ ان کی معصومیت کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔”
وہ مہرو کو دیکھ کر مسکرا دیا تھا۔ مہرو نے نظریں جھکا لیں، اُسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہاں کس مدے پر بات ہو رہی ہے۔

“جی بھائی، میں جانتا ہوں، مگر ابھی تک آپ کا اصل مددہ میری سمجھ میں نہیں آیا۔”
زارم تجسس بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔

“مطلب صاف ہے، تمہاری بیوی میں وہ صلاحیت ہے جو اپنا دفاع کر سکے، اپنی بات پر قائم رہ سکے، اور ہمارے گھر کو ایسے ہی بندے کی ضرورت ہے!”
“تمہاری بیوی نہ ڈرتی ہے، اصولوں کے لیے لڑنا جانتی ہے۔ جو پہلی رات تمہارے سامنے سینہ تان کر کھڑی ہونے کی جرات رکھتی ہے، بولنے کا حق رکھتی ہے، تو مطلب صاف ہے کہ لڑکی بہادر ہے!”
“اور ہمارے گھر میں ایسے ہی بہادر بندے کی ضرورت تھی۔ یہ لڑکی ہمارے گھر کا نظام سیدھا کر دے گی، ایسا میرا دل کہہ رہا ہے اور تمہاری بیوی کو دیکھ کر میرے دل کو تسکین ہوئی ہے کہ یہ لڑکی ہمارے گھر کی باگ ڈور سنبھال سکتی ہے، اور ہمارے گھر میں جو معصوم بندیاں ہیں، ان کی حفاظت بھی کر سکتی ہے۔ اب جب ہم کبھی غیر حاضر ہوں گے، تو میرا دل کہتا ہے، یہ سب کچھ سنبھال لے گی!”
زیغم نے پراعتماد انداز میں کہا تو زرام مسکرا دیا تھا۔

“مطلب آپ کو ملیحہ سے اتنی امیدیں ہیں؟”
وہ ہاتھ میں پکڑے ہوئے تکیے اور بیڈ کور، دونوں کو بازوؤں میں سمیٹے، اپنے بھائی کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔

“جی بالکل، مجھے امیدیں ہیں!”
“اور انشاءاللہ یہ سب امیدیں پوری ہوں گی، کیونکہ میری نظروں نے تمہاری بیوی کی بہادری اور بےخوف انداز کو بخوبی دیکھا ہے!”
“حق پر رہنے والی لڑکی ہے مگر اس کے دل میں جو ڈر ہے، اور تم سے جو دقت ہے، اسے جلدی دور کرو۔ زیادہ دیر اگر رشتوں میں فاصلے رہیں، تو یہ ایک نہ بھرنے والی دراڑ پیدا کرتے ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ تم دونوں کے رشتے میں ایسی دراڑ پیدا ہو!”
وہ جاتے جاتے اپنے بھائی کو ایک پیاری سی سیکھ دے گیا تھا۔

“جی بھائی، انشاءاللہ، میں بہت جلد سب کچھ ٹھیک کر دوں گا۔”

“چلو، ہم ذرا باہر کا چکر لگا کر ابھی آتے ہیں، تم اپنے معاملات دیکھ لو۔”
وہ مہرو کا ہاتھ تھام کر آگے کی جانب بڑھتے ہوئے بولا تھا۔

“بھائی آپ اتنی رات کو دلہن بنی ہوئی بھابی کو لے کر کہاں جا رہے ہیں؟”
ذرام نے پیچھے سے آواز دے کر پوچھا تھا۔

“تماری بھابھی کو گاؤں دکھانے لے جا رہا ہوں… کیوں، کوئی اعتراض ہے؟”
وہ بغیر پلٹے، پرسکون انداز میں بولا تھا۔

“نہ جی نہ، ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟”
“آپ کی ملکیت ہے، جہاں مرضی جائیں۔”
شرارتی انداز میں کہا۔

“تم بھی جا کر اپنی ‘ملکیت’ کا موڈ ٹھیک کرو!”
دروازے سے باہر نکلتے ہوئے زیغم نے بھی اس کی بات کا بخوبی جواب دیا تھا۔
بغیر دیکھے بھی اسے پتہ تھا کہ زرام کے چہرے پر اس وقت شیطانی مسکراہٹ کھلی ہوئی ہے۔ وہ بہت کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر بڑے بھائی کا لحاظ کرتے ہوئے خاموش تھا۔ زیغم اس کے دل کی کیفیت کا بخوبی اندازہ لگا سکتا تھا، کہ اس کے شرارتی بھائی کو اس وقت کتنے سارے مذاق سوجھ رہے ہیں۔ زیغم تو مہرو کو لے کر دروازے کے پاس جا چکا تھا۔

“ہائے، بھائی کتنے خوش نصیب ہیں، پیار سے ہاتھ پکڑ کر اپنی بیوی کو لے جا رہے ہیں… ایک میری ہے، اللہ کی پناہ!”
“ہاتھ لگانے سے پہلے ہی سو واٹ کا جھٹکا دینے کے لیے تیار رہتی ہے… تیکھی مرچی!”
وہ دروازے کی جانب دیکھ کر ٹھنڈی آہیں بھرتے ہوئے بول رہا تھا۔

“ہائے، مگر جو بھی ہے، عشق ہے ذرام کا… ذرام دل و جان سے فدا ہے سپائسی چلی پر!”
وہ خود سے ہی باتیں کر رہا تھا، مگر کمرے میں جانے کی ہمت نہیں تھی، کیونکہ وہ ملیحہ کو پہلے ہی بہت بھڑکا چکا تھا، اور مزید بھڑکا کر اس کا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔ جان تھی وہ زرام کی۔ بیچارہ تکیہ اور چادر اٹھائے، ساتھ والے روم میں گھس گیا۔

ابھی نئی نئی شادی، ابھی پہلی ہی رات تھی!
بیوی نے باہر پھینکا، یہ کیسی سوغات تھی؟
چادر، تکیہ، اور کمرہ الگ… ہائے قسمت کی بات تھی!

وہ خود کو یہ شعر سناتے ہوئے روم کا دروازہ اندر سے بند کرتا بیڈ پر گرنے والے انداز میں لیٹ گیا تھا۔
°°°°°°°

“مزید پڑھنے کے لیے اگلا ایپیسوڈ ملاحظہ کریں

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *