Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:31
رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر 31
°°°°°°
“میرا بیٹا کہاں ہے؟”
جیسے ہی زیغم نے حویلی کے اندر قدم رکھا، قدسیہ چنگاڑتی ہوئی آگے بڑھی تھی۔ زیغم نے نظر انداز کیا۔
“میں نے پوچھا ہے، میرا بیٹا کہاں ہے؟”
“کیا کر کے آئے ہو میرے بیٹے کے ساتھ؟”
قدسیہ جاہلانہ انداز میں اس کے گریبان تک ہاتھ لے جانا چاہتی تھی، مگر زیغم سلطان نے اس کی کلائیوں کو جھٹکتے ہوئے اسے اپنے گلے تک پہنچنے ہی نہ دیا۔
“خبردار، جو دوبارہ ایسی حرکت کی!”
“میں ہر رشتہ، تمیز، تہذیب اور عمر کا لحاظ سب بھول جاؤں گا!”
زیغم سلطان غصے سے سرخ آنکھوں کے ساتھ دھاڑا، اس کی آواز حویلی کی دیواروں سے ٹکرا کر گونجنے لگی۔ ارمیزہ ڈر کر دانیا سے چمٹ گئی، اور مہرو بھی خوفزدہ ہو کر اس کے پیچھے جا کھڑی ہوئی۔ گھر میں قدم رکھتے ہی ماتم اور زہر آلود فضا گونجنے لگی تھی۔
“پہلے کون سا تم نے کوئی لحاظ رکھا ہے، جو آج ہمیں بتا رہے ہو کہ تم لحاظ نہیں رکھو گے؟”
قدسیہ نے بلند آواز میں کہا۔
“لحاظ ان کا رکھا جاتا ہے جو اس کے قابل ہوں، اور تم لوگ کس قابل ہو، یہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں!”
زیغم سلطان کا لہجہ سخت تھا۔ نظروں سے نفرت چھلک رہی تھی۔
“میں تمہاری فضول باتیں نہیں سننا چاہتی، مجھے صرف یہ بتاؤ میرا بیٹا کہاں ہے؟”
وہ زیغم کی بات کاٹتے ہوئے بولی۔ آواز میں ایسی کھنک تھی جیسے سچائی کی مورت ہو۔
“وہ ابھی کچھ ہی دیر میں پہنچ جائے گا۔ خوش ہے… اور خدارا، اُسے خوش رہنے دینا۔ پتہ نہیں، تم لوگوں میں وہ ایک انسان کیسے پیدا ہو گیا جو تم سے بالکل مختلف ہے۔”
زیغم سلطان نے سمجھانے والے انداز میں قدسیہ سے کہا مگر قدسیہ کی موٹی کھوپڑی میں آج تک نہ بات گھسی تھی نہ گھس سکتی تھی۔
“میرا بیٹا ہے، میں خود دیکھ لوں گی!”
مغرور لہجے میں کہا۔
“یہی تو افسوس ہے کہ وہ تمہارا بیٹا ہے، جبکہ اسے تم لوگوں کے گھر پیدا نہیں ہونا نہیں چاہیے تھا!”
زیغم نے نفرت سے دیکھتے ہوئے کہا۔ قدسیہ جھگڑے کے موڈ میں تھی، جبکہ زیغم اس وقت کوئی تماشا نہیں چاہتا تھا، کیونکہ ملیحہ اور زرام آنے والے تھے۔ قدسیہ کا دُم چھلا شوہر بھی اپنی بیوی کے پیچھے دم ہلاتا ہوا آن کھڑا تھا، اور زیغم کو یوں سرخ آنکھوں سے گھور رہا تھا جیسے نگاہوں سے ہی جلا ڈالے گا، مگر زیغم کو اس کی پرواہ تک نہ تھی۔
“نئی دلہن کا حویلی میں استقبال اچھے طریقے سے ہونا چاہیے!”
زیغم نے ملازمین کو حکم دیا۔
“ایک بار آنے تو دو، میں بھی دیکھتی ہوں کیسے ہوتا ہے اس کا استقبال!”
قدسیہ نے جاہل عورتوں کی طرح لفظ کھینچتے ہوئے حقارت سے کہا۔
“کچھ بھی کرنے سے پہلے سوچ لینا، یہ حویلی تمہاری جاگیر نہیں، یہ بابا سائیں کی ہے، اور اب میری ہے!”
“میں زرام اور اس کی دلہن کو پورا حق دیتا ہوں کہ جیسے چاہیں یہاں رہیں، لہٰذا انجام سوچ لو، ورنہ برا ہو گا!”
زیغم نے تنبیہ کی۔
“جس کو تم کچرے کے ڈھیر سے اٹھا کر میرے بیٹے کے لیے لائے ہو، اسے میں کبھی قبول نہیں کروں گی!”
“تمہیں کیا لگتا ہے۔تم جو بھی کرو گے ہم چپ چاپ برداشت کرتے رہیں گے؟”
“کیا ہمارے نصیب ہی میں گلیوں کا کوڑا ہے؟”
“میری ہیرے جیسی بیٹی کو چھوڑ کر… تم نے باہر جا کر منہ مارا اور اپنے لیے بھی گھٹیا سی لڑکی پسند کی، اب میرے بیٹے کے لیے بھی ایسا ہی انتخاب لے آئے جس کا نہ کوئی حسب نسب، نہ پہچان!”
قدسیہ زہر اگلنے سے باز نہیں آئی، جبکہ اس کا یہ جملہ مہرو کے دل کو چیر گیا۔
“ایک لفظ اور اگر مہرو کے بارے میں بولا تو میں زبان کھینچ لوں گا!”
زیغم کی آنکھیں شعلہ بار تھیں۔
“کھینچ لو زبان، مگر سچ، سچ ہوتا ہے!”
“اور سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے۔”
“پہلے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھو، تم لوگ کیا ہو، پھر دوسروں پر انگلی اٹھانا!”
“مجھے اتنا مجبور مت کرو کہ تم سب کو اٹھوا کر باہر پھینکوا دوں!”
زیغم کی برداشت اب جواب دے رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ بات تھوڑی اور بڑھتی ملیحہ اور زرام گھر پہنچ چکے تھے۔ جیسا کہ زیغم نے حکم دیا تھا، تمام ملازمین قطار بنا کر دونوں طرف کھڑے تھے۔ جیسے ہی زرام اور ملیحہ داخل ہوئے، ان کے استقبال کے لیے سر جھکاتے ہوئے خوش آمدید کہا گیا۔ ایک ملازمہ پھولوں کا تھال لے کر آئی اور ان پر پھول نچھاور کیے۔ مہرو، دانیا اور ارمیزہ کے لبوں پر مسکراہٹ تھی، نئی دلہن کو آتا دیکھ کر۔ جبکہ توقیر اور قدسیہ کھا جانے والی نظروں سے اپنے بیٹے اور بہو کو دیکھ رہے تھے۔
“بند کرو یہ سارا ڈرامہ!”
قدسیہ کی اونچی آواز حویلی کی دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آئی۔ زرام کے ساتھ چلتی ہوئی ملیحہ نے گرجدار آواز سنی تو نظر اٹھا کر اُس عورت کو دیکھا جو جنگلی بلی کی طرح اسے گھور رہی تھی۔ ملیحہ سمجھدار لڑکی تھی، اُسے سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ یہی اس کی ساس ہے۔
“تم اسے یہاں کیوں لے کر آئے ہو؟”
“دفع ہو جاؤ، اسے لے کر یہاں سے نکل جاؤ!”
توقیر نے باپ ہونے کا رعب جماتے ہوئے زرام کو گھورتے اور انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
“یہ کہیں نہیں جائے گا، اور نہ ہی اس کی بیوی!”
زیغم کی بلند آواز گونجی۔
“ان کو یہاں رہنے کا حق میں نے دیا ہے!”
“تم باپ بیٹے کے بیٹے رشتے میں دراڑ ڈال کر، زہر گھولنے کی جو سازش کر رہے ہو، میں تمہیں اس میں کامیاب نہیں ہونے دوں گا!”
توقیر تیش میں آ گیا۔ ملیحہ نے اپنے قدم روک لیے تھے۔ وہ پریشان نظروں سے قدسیہ اور توقیر کو دیکھ رہی تھی۔ حالات تو اس کی سوچ سے کہیں زیادہ خراب نظر آرہے تھے۔ زرام نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھاما۔
“گھبراؤ نہیں، میں ہوں تمہارے ساتھ۔”
قدسیہ کی نظریں ملیحہ اس کے لباس، زیورات اور ہر انداز کو ایسے گھور رہی تھیں جیسے وہ کسی دشمن کو دیکھ رہی ہو۔
“جس لڑکی کا نہ خاندان ہے، نہ کوئی حیثیت، اُسے تم بہو بنا کر لے آئے ہو؟”
قدسیہ نے زرام کے نزدیک جا کر ملیحہ کو گھور کر دیکھتے ہوئے کہا۔ ملیحہ خاموش تھی مگر اسے اپنی توہین پر شدید غصہ آ رہا تھا۔
“یہ میری پسند ہے!”
“میری بیوی ہے اور اس گھر کی بہو!”
“اسے خوشی خوشی ایکسیپٹ کریں یا مجبوری میں… مگر کرنا تو پڑے گا!”
زرام نے سخت اور مضبوط لہجے میں کہا۔
“جس کی اوقات ہمارے گھر کے ملازمہ سے زیادہ نہیں، اس کو میں اپنی بہوتسلیم کر لوں؟”
“ایسا کبھی… نہیں ہوگا!”
وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے سرخ چہرے سے اپنے بیٹے کی جانب دیکھتے ہوئے بول رہی تھی۔ اس کا بس چلتا تو اسی وقت دھکے مار کر گھر سے باہر کر دیتی۔
“بس!”
“ایک لفظ اور نہیں سنوں گا!”
زیغم نے اپنا قدم آگے بڑھایا، سرخ آنکھوں سے قدسیہ کو گھورا۔
“میری موجودگی میں کسی کی ہمت نہیں ہونی چاہیے کہ میرے گھر کی بہو کو نیچا دکھائے!”
کڑک دار لہجے میں وارننگ دی۔
“بہو؟”
قدسیہ نے طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہا۔
“تم نے تو سسر ہونے کا باقاعدہ اعلان بھی کر دیا! واہ…… واہ…”
“ہاں، اعلان کر دیا!”
زیغم دھاڑا۔
“اور جو اس اعلان کے خلاف جائے گا، وہ خود کو اس حویلی سے باہر سمجھے!”
ملیحہ کی نظریں جھکی ہوئی تھیں مگر چہرے پر سکون تھا۔ زرام نے اسے اندر کی طرف اشارہ کیا۔
“چلو، تمہارا گھر تمہیں خوش آمدید کہتا ہے۔”
قدسیہ کی آنکھوں میں آگ بھر گئی تھی، مگر وہ کچھ بولنا چاہتی تھی لیکن زیغم کی دھمکی اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔
“چلو جاؤ، اور جا کر میرے بیٹے کا دل بہلاؤ!”
قدسیہ نے ایک بار پھر زہر اگلا۔ وہ باز آنے والوں میں سے نہیں تھی۔ ملیحہ نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا۔
“اس کا کیا مطلب ہے؟”
“مطلب یہ ہے کہ تم جیسی لڑکیاں چند دن امیر لڑکوں کا دل بہلانے کے کام تو آ سکتی ہیں، مگر پوری زندگی بڑی حویلیوں کی بہو بن کر رہنا تم جیسی کی قسمت میں نہیں ہوتا!”
قدسیہ نے سرگوشی میں حقارت سے کہتے ہوئے ہنسی چھوڑی۔ زرام اور زیغم ایک دم آگے بڑھے تھے، مگر ملیحہ نے دونوں کو ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔
“پلیز، آپ لوگ کچھ مت کہیں… میں اپنا دفاع کرنا جانتی ہوں!”
“نہ میں مظلوم ہوں، نہ معصوم… اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتی ہوں، اور یہ بات میں واضح الفاظ میں آپ کے بیٹے کو بتا چکی ہوں!”
ملیحہ نے ایک ایک لفظ ٹھہراؤ سے اپنی ساس کے منہ پر دے مارا۔ قدسیہ کا منہ کھلا رہ گیا، ایسی اعتماد بھری لڑکی کی امید نہ تھی۔
“اے لڑکی… اگر اپنی ساس سے بدتمیزی کی تو زندہ زمین میں گاڑ دوں گا!”
توقیر نے سرخ آنکھوں سے گھورتے ہوئے کہا اور قدم بڑھایا۔
“مجھ سے… دور… رہ کر بات کیجئے… اور اگر آپ مجھے اپنی بہو ماننے کو تیار نہیں تو میں آپ کو اپنی ساس/سسر کیوں مانوں؟”
ملیحہ نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نرمی مگر سخت لہجے میں کہا۔
“ہاں، نہیں مانتی میں تمہیں اپنی بہو… تمہاری اوقات نہیں ہے!”
قدسیہ پھر بولی اور آگے بڑھی۔
“یہی بات تو میں بھی آپ سے کہہ سکتی ہوں، جو سانچا میں نے اپنی ساس کے لیے بنایا تھا، اس میں آپ فٹ نہیں بیٹھتی، تو پھر لائق تو آپ بھی نہیں ہیں میری ساس بننے کے!”
“کتنی بدتمیز لڑکی ہے… جرات کیسے ہوئی میرے ساتھ ایسے بات کرنے کی؟”
قدسیہ تلملا اٹھی۔
“جیسے آپ کی ہوئی مجھ سے ایسے بات کرنے کی۔ آپ آسمان سے اتری کوئی مخلوق نہیں کہ میں آپ کو جواب نہ دے سکوں!”
“تُو رک، میں تجھے ابھی بتاتی ہوں!”
نایاب تیزی سے سیڑھیوں سے اترتی ہوئی نیچے آئی۔ نائٹ ڈریس پہنے، غصے سے بھری ہوئی، ہاتھ اٹھایا اور ملیحہ کو تھپڑ مارنے لگی مگر ملیحہ نے پھرتی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر زور سے مروڑ دیا۔ نایاب کی چیخیں نکل گئیں۔ یہ منظر دیکھ کر زیغم کے چہرے پر مزہ تھا۔ جبکہ مہرو اور دانیا حیران کھڑی تھیں، کیونکہ ان کے لیے یہ سب نیا تھا۔ حیران تھیں دیکھ کر کہ یہ لڑکی اتنی بہادر ہو سکتی ہے۔
“چھوڑو میری بیٹی کو، بدتمیز لڑکی!”
قدسیہ جھپٹی۔
“اپنی جگہ پر کھڑی رہیں، ورنہ آپ کا بھی ہاتھ مروڑنے میں مجھے دقت نہیں ہو گی!”
ملیحہ کی آواز گونجی۔ زرام آگے بڑھا، مگر زیغم نے اس کا ہاتھ تھام کر روکا۔
“رک جاؤ… وہ اپنا دفاع کر سکتی ہے… اور لڑکیوں کو ایسا ہی ہونا چاہیے!”
“اس گھر کو ایسی ہی بہادر لڑکی کی ضرورت تھی!”
زیغم نے فخر بھری نظروں سے ملیحہ کو دیکھتے ہوئے اس کی قابلیت کو سراہا۔
“ایک بات ابھی، اسی وقت کان کھول کر سن لو!”
“اگر تم لوگوں کو لگتا ہے کہ تم مجھ پر ظلم کرو گے اور میں بیچاری بہو بن کر سب کچھ سہہ لوں گی، تو یاد رکھو، ایسا کچھ بھی نہیں ہونے والا!”
“آپ کے بیٹے نے مجھے پسند کیا تھا میں نے نہیں!”
“اور اگر کوئی سزا دینی ہے تو اپنے بیٹے کو دو! مجھے نہیں!”
“میں کسی کا لحاظ نہیں رکھوں گی، عزت دو گے تو عزت ملے گی!”
“بےعزتی کرو گے تو بےعزتی واپس ملے گی!”
“اور اگر کسی نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا، تو بغیر کسی لحاظ کے میں بھی ہاتھ اٹھاؤں گی سمجھے؟”
ملیحہ نے نایاب کا ہاتھ بری طرح مروڑا اور زور سے دھکا دیا۔ نایاب لڑکھڑا کر سیدھا اپنے باپ توقیر پر جا گری۔ سب کی نظریں جیسے منجمد ہو گئی تھیں۔ انہیں لگا تھا غریب گھر کی لڑکی ہوگی، ڈری سہمی رہے گی مگر یہ تو بازی ہی پلٹ گئی تھی۔
“یہ لے کر آئے ہو تم بہو بنا کر؟”
قدسیہ نے، زیغم کی طرف تنقیدی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“ہاں، یہ لے کر آیا ہوں میں… بہو بنا کر۔”
زیغم نے دونوں ہاتھ کمر پر باندھے، مسکرا کر ملیحہ کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ زیغم کے دل میں خوشی کے لڈو پھوٹ رہے تھے۔ آج پہلی بار، قدسیہ اور نایاب کو ان کی ٹکر کی ملی تھی، جو ان کے منہ پر منہ توڑ جواب دینے کی ہمت رکھتی تھی۔
“اس کی جہالت دیکھ رہے ہو؟”
“بڑوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں، اور میرے پاگل بیٹے کو لگتا ہے کہ اس نے کوئی اچھا انتخاب کیا ہے!”
قدسیہ نے، زرام کی جانب غصے سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“نہیں، یہ جاہل نہیں ہے!”
زیغم نے جواب دیا۔
“مگر جاہلوں کے ساتھ جاہلوں والا سلوک کرنا خوب جانتی ہے۔”
اس ایک جملے نے قدسیہ کو اور زیادہ تلملا دیا۔
“بس کر دو زیغم!”
“بس کر دو… برداشت کی ایک حد ہوتی ہے!”
نایاب چیختی ہوئی اس کے قریب آئی۔
“اچھا، تمہیں پتہ ہے کہ برداشت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے؟”
زیغم نے، اس کی جانب طنزیہ نظروں سے دیکھا۔
“ہاں، حد ہوتی ہے!”
“تم جتنا کچھ کرنا تھا کر چکے ہو۔ اب میرے خیال میں تمہارے سارے حساب برابر ہو چکے ہیں۔ میں تمہاری بیوی ہوں، اور اب مجھے میرے تمام حقوق چاہییں۔ جو حقوق کے ترانے تم پورے گاؤں میں گاتے پھر رہے ہو، ان کی بنیاد گھر پر قائم کرو!”
نایاب نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے حق کا مطالبہ کیا۔
“الحمدللہ، زیغم حق والوں کو ان کا پورا حق دینے کی صلاحیت رکھتا ہے… مگر مجھے نہیں لگتا کہ میں نے تمہارا کوئی حق دینا ہے!”
زیغم کا لہجہ شدیدسخت تھا، آنکھوں سے انگارے برس رہے تھے۔
“میں نے زبان بند رکھی ہے، میرے خیال سے اتنا ہی کافی ہے۔ جس دن بول پڑا… تمہاری عزت کی دھجیاں اُڑ جائیں گی!”
زیغم نے گرجدار لہجے میں کہتے ہوئے نیلی آنکھوں سے گھور کر اس کی جانب دیکھتے وارننگ دی تھی کہ باؤنڈری لائن کراس نہ کرے۔
“اور اب میں مزید کوئی تماشہ نہیں چاہتا!”
“ویسے تو تم لوگوں کو کوئی بھی چیز انسان نہیں بنا سکتی… کیونکہ ‘انسانیت’ والا فیچر تم لوگوں کے اندر ہے ہی نہیں، مگر چھوٹی بچی کے سامنے یہ تماشہ مت کرو!”
زیغم کا دھیان جیسے ہی ارمیزہ کی جانب گیا، اس کی نظروں میں سختی ابھری۔ لہجہ مضبوط ہوا، الفاظ میں ٹھہراؤ تھا۔ وہ اپنی بیٹی کے سامنے مزید تماشہ نہیں بنانا چاہتا تھا تاکہ اس کی سوچ پر منفی اثر نہ پڑے مگر گھر کے باقی افراد کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ یہ سارا تماشہ ایک چھوٹی بچی بھی دیکھ رہی ہے۔
“اسی بچی کی ماں ہوں میں!”
“اور تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ تم مجھے میرے حقوق سے دور رکھو!”
“آج کے بعد میں تمہارے ساتھ، تمہارے کمرے میں رہوں گی… اور میری بیٹی، میرے ساتھ!”
“یہ میرا فیصلہ ہے!”
نایاب نے اٹل لہجے میں، آنکھوں میں ٹھہرا ہوا طوفان لیے اعلان کیا۔
“دانیا، تم ارمیزہ کو لے کر روم میں جاؤ… اور مہرو کو بھی لیتی جاؤ!”
زیغم کی نظریں لال انگارہ ہونے لگی تھی۔ غصے بھری نظروں سے نایاب کی جانب دیکھا جو جھوٹی ہو کر بھی سینہ تانے کھڑی اپنا حق مانگ رہی تھی۔
“ذرام! تم اپنی بیوی کو لے کر اپنے روم میں جاؤ… میں ذرا آج تمہاری بہن کو اس کا حق، حقوق دے لوں!”
آواز میں ایسا وقار، ایسا طرزِ تمکنت تھا کہ ہال میں موجود ہر فرد کی نظریں جھک گئیں۔
“میری بیٹی کہیں نہیں جائے گی… میرے ساتھ رہے گی!”
نایاب آگے بڑھی، دانیا کی بانہوں میں چھپی ارمیزہ کو جھپٹ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ انداز ایسا تھا جیسے اس کی محبت ارمیزہ کے لیے امڈ آئی ہو، جبکہ ایسا بالکل نہیں تھا۔ یہ سب ایک ڈرامے کا مکاری کا حصہ تھا۔ ارمیزہ کی آنکھوں میں خوف اُتر آیا، وہ رونے لگی۔ اس کی ننھی سی جان کے لیے اتنا شور شرابہ جھگڑا ڈرانے کے لیے کافی تھا۔
“نایاب… ارمیزہ کو اس سب میں مت کھینچو، چھوڑ دو اسے!”
زیغم کا لہجہ سخت اور آنکھیں غصے سے سرخ تھیں۔ ارمیزہ کے سامنے وہ ایسا تماشہ نہیں چاہتا تھا مگر نہ چاہتے ہوئے بھی ہر بار توقیر کی فیملی یہ تماشہ کری ایٹ کر ہی دیتی تھی اور اس صف میں سب سے اول اس کی اپنی ماں نایاب کھڑی ہوتی تھی۔
“نہیں… یہ میرے ساتھ رہے گی!”
“میری بیٹی ہے یہ!”
زبردستی گلے سے چپکاتے ہوئے نایاب نے کہا۔
“جب تم اِسے ہاسٹل میں چھوڑ آئی تھی، اُس وقت کہاں گئی تھی تمہاری ممتا؟”
زیغم نے آگے بڑھ کر ارمیزہ کو نایاب سے چھینتے ہوئے گود میں اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔ ارمیزہ فوراً اپنے بابا کے گلے میں بازو ڈالتے ہوئے چھپ گئی تھی۔
“ہاں تو! بچوں کو ہاسٹل چھوڑنا غلط نہیں… میں نے سب اس کے فیوچر کے لیے کیا تھا!”
“ہزاروں بچے ہاسٹل میں رہتے ہیں، صرف تم نے اس بات کو تماشہ بنا دیا ہے!”
نایاب ہٹ دھرمی سے اپنی غلطی پر پردہ ڈال رہی تھی جبکہ اس کے ماں باپ ایک طرف کھڑے خاموش تماشائی بنے سب دیکھ رہے تھے… کیونکہ سچ وہ خود بھی جانتے تھے۔
“تماشہ؟”
“سچ میں تماشہ میں نے بنایا ہے؟”
زیغم نے طنزیہ لہجے میں آنکھیں سکیڑ کر سوال کیا۔
“تماشہ تم لوگوں نے بنایا ہے… تماشہ بنانا تو تم لوگوں کی فطرت میں ہے!”
زیغم کی نظریں توقیر کی پوری فیملی کے گرد گھوم گئی۔ سلمہٰ تو بس صوفے پر بیٹھی تماشائی بنی یہ سب دیکھ رہی تھی۔ نہ کسی کے ساتھ ہمدردی تھی، نہ محبت، نہ شکوہ، نہ شکایت۔ الگ ہی مخلوق تھی یہ بندی۔
“میرے پاس اتنا کچھ ہے کہنے کو… اگر زبان کھول دی… تو تم یہاں کھڑی رہنے کے قابل نہیں رہو گی!”
“کیا چاہتی ہو کہ سب کے سامنے تمہاری عزت کی دھجیاں اُڑا دوں؟”
زیغم کا صبر آخر ٹوٹ گیا، وہ دھاڑا۔ کہاں تک وہ برداشت کرتا۔ نایاب ہر بار اس کے ضبط کے پیمانے کو لبریز کر دیتی تھی۔
“مجھے کسی بات سے فرق نہیں پڑتا… کہنا ہے تو کہہ دو!”
نایاب نے کندھے اچکائے، نظریں اس کے چہرے پر جمائے، ایسے بول رہی تھی جیسے سچ میں زیغم سلطان کی کسی بات سے اسے کوئی ڈر، کوئی خطرہ نہیں تھا۔ یا تو نایاب بہادر تھی یا بے غیرت… یہ بات زیغم سوچنے پر مجبور تھا۔
یا نایاب کو یقین تھا کہ زیغم سچائی نہیں کہے گا۔ کچھ تو ایسا تھا جس کی وجہ سے نایاب جھوٹی ہو کر بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی پوری ہمت رکھتی تھی۔
“سچ کہا تم نے… تمہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا!”
“کیسے پڑے گا؟”
“جس کی رُوح مر چکی ہو… جس میں شرم و حیا کا نام نہ ہو… جس کی عزت تو برسوں پہلے دفن ہو چکی ہو… میں اسے آج عزت کا مطلب کیا سکھاؤں گا؟”
“جتنا مرضی تڑپ لو، مگر ایک بات ذہن میں رکھو، اگر مجھ سے نیچا دکھانے کی کوشش کی، تو کیچڑ اُس کی ذات پر بھی اچھالا جائے گا، جسے تم جان سے زیادہ پیار کرتے ہو۔”
نایاب زیغم کے قریب ہو کر سرگوشی کرتے ہوئے پیچھے ہٹی اور طنزیہ مسکرائی تھی۔
“اس کی فکر تم مت کرو، مت بھولو کہ تمہارے سامنے زیغم سلطان لغاری کھڑا ہے، بہرام سلطان لغاری نہیں!”
زیغم نے دانت پیستے ہوئے جب یہ جملہ کہا تو طنزیہ مسکراہٹ لبوں پر سجائے ہوئے نایاب کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی تھی۔ آج کئی سالوں بعد زیغم نے اس نام کو اپنی زبان پر آنے کی اجازت دی تھی۔
“کیا ہوا؟ پیروں تلے سے زمین کھسک گئی؟ یا یقین نہیں آ رہا کہ میں نے سچ میں یہ کہا ہے؟”
اس کی حالت دیکھ کر زیغم نے لفظ چباتے ہوئے کہا۔
“اس بات کو یہیں ختم کرو، تماشہ مزید مت بڑھاؤ۔”
توقیر نے جب دیکھا کہ اپنی بیٹی کا تماشہ بننے لگا ہے تو جلدی سے تماشہ بند کرنے کے لیے آگے بڑھا تھا۔
“نہیں، آج تماشہ بن ہی جانے دو… میں تھک گیا ہوں اس تماشے پر پردہ ڈالتے ڈالتے۔”
زیغم نے اٹل لہجے میں کہا۔ نایاب کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ حالات ایسے رخ پکڑ سکتے ہیں۔ زیغم اس بات کو اس طرح سب کے سامنے کھولنے کا ارادہ کر لے گا ایسا تو اس نے نہیں سوچا تھا۔
“مہرو!”
“جی…”
مہرو نے ادب سے، نرمی سے جواب دیا۔
“اسے پکڑو اور کمرے میں لے جاؤ۔”
زیغم نے ارمیزہ کو مہرو کو تھماتے ہوئے نرمی سے کہا مگر نظریں سختی سے نایاب پر مرکوز تھی۔ مہرو نے خاموشی سے ارمیزہ کو زیغم کے ہاتھ سے پکڑ لیا۔
“دانیا تم بھی جاؤ ساتھ میں، آج ذرا پرانے حساب کتاب پورے کرنے ہیں!”
“نئی دلہن کو بھی لے کر جاؤ، اس کے کمرے میں بٹھاؤ!”
زیغم نے یہ سب دانیا سے کہا۔
“ذرام تم رکو!”
زیغم نے زرام کو رکنے کا اشارہ کیا تھا، جو اس سارے تماشے سے پریشان ہو کر کھڑا تھا۔ زیغم کے حکم پر دانیا، ارمیزہ اور مہرو نئی دلہن ملیحہ کو لے کر وہاں سے جا چکے تھے۔
°°°°°°°°
“اے اللہ، میں آغا جان کا فرمانبردار بیٹا ہوں اور ہمیشہ اسی نشست پر قائم رہنا چاہتا ہوں، میرے دل اور صبر کی مہریں لگا دے، خدا!”
مائد خان بے بسی سے تیز رفتار گاڑی کو اڑاتا ہوا سڑک پر لے جا رہا تھا۔ کہاں جا رہا تھا، کیوں جا رہا تھا، کچھ خبر نہیں تھی۔ بس گاڑی ہواؤں سے باتیں کر رہی تھی… اور دل، خدا سے۔
“اے اللہ! تیرے سامنے جو اپنے منہ سے موت مانگے، وہ تیرا نافرمان بندہ ہے… اے اللہ! جو ماں باپ کی نافرمانی کرے، وہ تجھے کبھی پسند نہیں ہوتا… اے اللہ! مجھے کوئی راستہ دکھا… میں کہاں جاؤں؟”
“صبر کرنا چاہتا ہوں، مگر صبر… آ نہیں رہا…”
وہ اس وقت صبر نہیں کر پا رہا تھا۔ اپنے رب کے سامنے اپنا سینہ کھولے بیٹھا تھا، اپنا درد اپنے پیارے رب کو دکھا رہا تھا۔ اس وقت وہ اپنے رب سے روبرو تھا۔ تیز رفتار گاڑی اچانک کسی زوردار چیز سے جا ٹکرائی۔ اس کا سر اسٹیئرنگ سے جا ٹکرایا۔ خون کے فوارے اڑے تھے۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ پوری بہادری اور ہمت کے ساتھ آنکھیں کھول کر دیکھنے کی کوشش کی، مگر آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھاتا جا رہا تھا۔ سوچنے، سمجھنے کی صلاحیت اس وقت ختم ہونے لگی تھی۔ مائد خان کی ہستی… اندھیری دنیا میں کھو گئی۔
°°°°°°°°°
“نہیں… ایسا نہیں ہو سکتا… جھوٹ ہے… جھوٹ ہے… میرا بچہ، میرا لال، میرا مائد ہمیں چھوڑ کر نہیں جا سکتا!”
مورے نے روتے ہوئے اپنا سینہ پیٹ کر کہا۔
یہ خبر ابھی مائد کے خاص بندوں کے ذریعے گھر تک پہنچی تھی کہ مائد کی گاڑی تیز رفتاری کے باعث زور سے ایک بڑے ٹرک سے ٹکرا کر دریا میں جا گری ہے، اور اس کی لاش تک نہیں مل رہی تھی۔ دریا کا بہاؤ بہت تیز تھا۔ یہ خبر، مائد کی ماں، آغا جان، اور درخزائی پر قیامت بن کر ٹوٹی تھی۔ مورے اپنا سینہ پیٹ کر چیخ رہی تھی۔ وہ یہ خبر ماننے کو تیار نہیں تھی۔
“چپ کر جاؤ!”
آغا جان کی دھاڑ گھر میں گونج اٹھی۔
“کچھ نہیں ہوگا میرے شیر کو… وہ ٹھیک ہوگا!”
آغا جان نے تسلی بھرے لہجے میں کہا۔ ان کا سینہ چھلنی ہو چکا تھا۔ وہ یہ بات ماننے کو تیار ہی نہیں تھے کہ ان کا مائد، ان کا شیر، انہیں چھوڑ کر جا چکا ہے۔
“میں جا رہا ہوں، خود اپنے بیٹے کو اپنے ساتھ، اپنے گھر واپس لے کر آؤں گا!”
“میرا بیٹا ٹھیک ہے!”
وہ اپنے دل کو تسلی دے رہے تھے۔
“میں بھی ساتھ جاؤں گی!”
“آپ کی زبان مبارک! خدا میرے بیٹے کو میری زندگی لگا دے!”
مورے نے ضدی انداز میں کہا۔ اس کی زبان کپکپا رہی تھی، آنکھیں نم، مگر لہجہ مضبوط تھا۔
“تم گھر پر رہو!”
آغا جان نے سختی سے کہا۔
“نہیں، آج مجھ پر کوئی حکم مت چلائیے گا، میں نہیں رکوں گی!”
“مجھے لے کر چلیے میرے بیٹے کے پاس!”
مورے نے اپنے پٹھانی لب و لہجے میں، ضدی انداز میں کہا۔ درخزائی نے مورے کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
“ہم چلیں گے… ہم بھائی کو خود ڈھونڈ کر لائیں گے… کچھ نہیں ہوگا انہیں!”
درخزائی نے روتے ہوئے مورے کو دلاسہ دیا۔ آغا جان سمجھ چکے تھے، مائد کی مورے دلبرداشتہ ہے، ممتا تڑپ رہی ہے۔ وہ روکنے سے اس وقت نہیں رکے گی۔ تینوں گھر سے نکل چکے تھے، اس جگہ جانے کے لیے، جہاں مائد کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔ وہاں پولیس اور ریسکیو ٹیمیں پہنچ چکی تھیں۔ کام جاری تھا، مائد کی ڈیڈ باڈی کو تلاش کیا جا رہا تھا۔
مورے کی حالت بہت خراب تھی۔ وہ روئے جا رہی تھی۔ درخزائی بھی کھڑا ہوا روئے جا رہا تھا جبکہ آغا جان پتھر بنے کھڑے تھے، وہ ماننے کو تیار ہی نہ تھے کہ ان کا بیٹا اس دنیا میں نہیں رہا۔ انہیں پوری امید تھی کہ ان کا شہزادہ مل جائے گا۔
ابھی تک لاش کو تلاش کیا جا رہا تھا۔ پل بھر میں قیامت ٹوٹ چکی تھی۔
(گزرے وقت کی یادیں–––فلیش بیک)
مورے نے آنکھیں بند کر کے گہرے سانس لئے اور اپنے بیٹے مائد کی یادوں میں کھو گئی۔ وہ لمحے، وہ خوشیاں، وہ مسکراہٹیں، سب کچھ جیسے اس کی نظروں کے سامنے دوبارہ آ گیا۔ ٹیبل پر بیٹھے ہوئے مائد اور درخزائی، دونوں اپنی مورے کے ہاتھ کی بنی ہوئی کھیر کے لیے لڑ رہے تھے۔ مورے ان کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔
مائد کی آواز گونج رہی تھی۔
“مورے، آپ کے ہاتھوں کی بنی ہوئی کھیر لاجواب ہے!”
“میری مورے سے زیادہ اچھی کھیر کوئی بنا ہی نہیں سکتا!”
وہ مزے لے کر کھیر کھا رہا تھا اور ان کے ہاتھوں کو چوم رہا تھا، وہ مورے کی محبت اور محنت کا شکر گزار تھا۔
درخزائی ہنستے ہوئے مائد سے کہہ رہا تھا:
“ہماری مورے کی کھیر واقعی کمال کی ہے، لیکن اس پر میرا بھی پورا حق ہے۔آپ میری مورے پر زیادہ حق مت جتایا کریں!”
دونوں کی آوازیں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں، اور مورے دل ہی دل میں ان لمحوں کو یاد کر رہی تھی جب اس کے بیٹے کی مسکراہٹ اور خوشی نے گھر کو جنت بنا ہوا تھا۔
وہ لمحے کتنے حسین تھے، جب سادہ سی کھیر نے ان کی زندگی کو اتنی محبت اور خوشیوں سے بھر دیا تھا۔ آج جب وہ اپنے بیٹے کو یاد کر رہی تھی، تو وہ لمحے جیسے دوبارہ زندہ ہوگئے تھے۔ اپنے بیٹے کو یاد کرتے کرتے مورے نے تڑپ کر گہری سانس لی تھی۔ ہوش کی دنیا میں آتے ہی، واپس درد زدہ لمحوں کی لپیٹ میں آگئی۔ سامنے پھر سے وہی منظر تھا، گہرے دریا کے اندر ریسکیو ٹیمیں ان کے بیٹے کی لاش کو ڈھونڈ رہی تھی۔ ایک ماں کے لیے دل دہلا دینے والا منظر ہوتا ہے جب اس کے نوجوان بیٹے کی لاش ڈھونڈی جا رہی ہو۔ ماں کا کلیجہ پھٹ جاتا ہے۔
“اے اللہ میرے مائد کو کچھ مت کرنا!”
“میں نہیں جی سکتی۔ اے اللہ! میری کسی نیکی کا صلہ بنا کر میرے بچے کو مجھے واپس لٹا دے۔”
وہ ہاتھ اٹھائے کپکپاتے ہونٹوں سے اپنے رب سے دعا کر رہی تھی۔
“اے میرے اللہ تُو بڑا بے نیاز ہے، تُو ایک ماں کی تڑپ سن لے۔”
وہ سسک کر روتے ہوئے اپنے رب سے دعائیں کر رہی تھی۔
دوسری جانب درخزائی اپنے بھائی کے لیے دعا گو تھا۔ وہ بار بار لپک لپک کر دریا کے کنارے سے نیچے کی جانب دیکھ رہا تھا، جہاں پر ریسکیو ٹیمیں جان لگا کر مائد خان کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھی مگر حالات بہت خراب تھے، دریا کا بہاؤ بہت تیز تھا۔ سب لوگ بار بار یہی کہہ رہے تھے کہ لاش ڈھونڈی جا رہی ہے کیونکہ لوگوں کو امید نہیں تھی کہ ایسے حالات میں مائد خان زندہ بچ سکا ہوگا اور لاش لفظ سننا گھر والوں کے لیے کتنا تکلیف دہ تھا یہ تو صرف وہی بتا سکتے تھے۔ درخزائی کا دل پھٹ رہا تھا۔ درخزائی کی جان بستی تھی اپنے بھائی میں۔ اس کا دل تڑپ تڑپ کر ایک ہی دعا کر رہا تھا کہ ‘اے اللہ میرے بھائی کو مجھے واپس لوٹا دے’ مگر ابھی تک تو ریسکیو ناکامی کا سامنا کر رہی تھی۔
دوسری جانب آغا جان کا کلیجہ درد سے پھٹ رہا تھا۔ ایک باپ اپنے بیٹے سے کتنی محبت کرتا ہے، یہ کبھی کبھی باپ ثابت کرنے میں ناکام رہ جاتا ہے۔ ماں اپنے بچے سے بے پناہ محبت کرتی ہے اور ہر لفظ، ہر انداز میں اپنی محبت کا اظہار کرتی ہے۔ خاص کر بیٹوں کے معاملے میں ماں بہت زیادہ حساس ہو جاتی ہے، ہر وقت اپنی محبت جتاتی رہتی ہے۔ یہ قدرتی عمل ہے جبکہ باپ، ماں سے کہیں زیادہ محبت کرتا ہے، مگر اکثر اسے جتاتا نہیں۔ بیٹیوں سے محبت باپ جتا دیتا ہے، مگر بیٹوں کے معاملے میں وہ سخت رویہ رکھتا ہے تاکہ بیٹا بگڑے نہ اور وقت کی تلخیوں کا سامنا کر سکے۔ باپ ہمیشہ اپنے بیٹے کو ایک کامیاب زندگی کے لیے مضبوط بنانا چاہتا ہے اور کبھی کبھار اسی کوشش میں باپ بیٹے کی بونڈنگ ویسی مضبوط نہیں بن پاتی جیسی ہونی چاہیے۔ جیسے کہ مائد خان اور آغا جان کی۔
آغا جان مائد سے بے حد محبت کرتے تھے، شاید کبھی انہوں نے یہ جتایا نہیں۔ مائد خان کی محبت ہمیشہ نظر آئی، مگر آغا جان نے کبھی کہا نہیں، بس دل میں چھپائے رکھا۔ آج، اپنے بیٹے کو اس طرح اچانک کھو کر، وہ شخص جو اتنا مضبوط تھا کہ آنکھ میں نمی لانا بھی پسند نہیں کرتا تھا، ایک جانب رخ کیے پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔ آنسو چھپا رہا تھا۔ پٹھان تھا، مضبوط تھا، اپنے آنسو کسی کو دکھانا گوارا نہیں تھا، مگر کچھ چیزوں پر انسان کا اختیار نہیں ہوتا۔ آج آغا جان کا بھی اپنے آنسوؤں پر اختیار نہیں رہا تھا۔
“مائد خان… تُو مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتا… یہ میرا حکم ہے! تو واپس آ!”
“مجھے تجھ پر غصہ کرنا ہے، تیری ہمت کیسے ہوئی کہ تیز گاڑی چلائی، کیوں اپنی جان کی پرواہ نہ کی؟”
آغا جان دل ہی دل میں مائد خان سے مخاطب تھے۔
“جانتا ہوں، تُو مجھ سے ناراض ہے، مگر ناراضگی جتانے کا یہ کون سا طریقہ ہے؟”
وہ ایسے سوچ رہے تھے جیسے مائد ان کے سامنے کھڑا ہے، سب کچھ سن رہا ہو۔
“یار… اتنا غصہ اچھا نہیں ہوتا، واپس آ جا یار… تجھ پر تیرے آغا جان اپنی روایات قربان کر دیں گے، نتیجہ جو بھی ہو، میں تیار ہوں… مگر تجھے کھو نہیں سکتا!”
“میری روایات مجھے بہت عزیز ہیں… مگر اس سے کہیں زیادہ مجھے تُو عزیز ہے، تُو میرا کل سرمایہ ہے۔ مائد خان، واپس آ جا… تو نے میری کمر توڑ دی ہے، تُو میرا غرور ہے، تُو میری جوانی ہے… تُو مجھے بڑھاپے کی جانب دھکیل کر نہیں جا سکتا!”
آغا جان، گاڑی پر ہاتھ رکھتے ہوئے، چہرہ گاڑی کی جانب کیے، بار بار اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے سوچ رہے تھے۔ انہیں سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔ آنسو کسی کے سامنے ظاہر کرنا، ان کے لیے مردانگی کی توہین تھی۔ مگر اپنے درد کو آج خود سے بھی چھپانا مشکل ہو رہا تھا۔
°°°°°°
“تمہیں حقوق چاہیے؟”
“کونسے حقوق کی بات کر رہی ہو؟”
“آج کھل کر بولو، تاکہ میں تمہیں بتا سکوں کہ تم کتنی گری ہوئی ہو!”
دانیا، ارمیزہ، ملیحہ اور مہرو کے جانے کے بعد، زیغم غصے سے دھاڑتے ہوئے نایاب کے قریب آیا، اور اس کے جبڑے کو پکڑ کر غرایا۔
“تمیز سے بات کرو!”
نایاب کے باپ کو برا لگا تھا، اپنی بیٹی کے ساتھ زیغم کی اس طرح کی بدتمیزی پر۔
“جس میں تمیز ہے ہی نہیں، وہ کسی کی کیا تمیز کرے گا؟”
“تمیز تو یہ امریکہ سے بیچ کر آیا ہے!”
قدسیہ نے کٹیلے لہجے میں کہا جبکہ زرام خاموش تھا۔ کیا کہتا؟ اپنے گھر والوں کی ہر بات سے اچھی طرح واقف تھا، اس لیے بیچارے کے پاس بولنے کو کچھ نہیں تھا۔ خاموشی سے، دونوں ہاتھ سینے پر باندھے، وہ یہ سارا تماشہ دیکھ رہا تھا۔
“تم ہمیشہ یہ دہائی دیتی رہی ہو کہ ارمیزہ میری بیٹی ہے، ارمیزہ میری بیٹی ہے، اور مجھے اپنے حقوق چاہیے، مجھے اپنے حقوق چاہیے۔”
“اس کے پیچھے جو اصلیت ہے، وہ بھی سب پر ظاہر کرو، اور بتاؤ کہ تمہیں حقوق کیوں نہیں مل رہے؟”
آج زیغم کو کسی لحاظ کا ارادہ نہیں تھا۔
“بتاؤ، آج یہاں پر سب تمہارے اپنے کھڑے ہیں، میں آج بھی تنہا ہوں، اکیلا ہوں، کیونکہ میرے اپنے تو تم نے ایک ایک کر کے سب چھین لیے!”
زیغم کے لہجے اور آنکھوں سے شدید درد کی لہریں اٹھنے لگیں۔
“یہ سب تمہاری، اور تمہارے خاندان کی مہربانیاں ہیں۔”
“تم لوگوں نے ایک ایک کر کے مجھ سے میرے سارے اپنے چھین لیے، اور اب بھی تم خود کو مظلوم بنا کر حقوق کی بات کرتی ہو؟”
نایاب نے جھپٹا کر اپنا جبڑا چھڑوانے کی کوشش کی، مگر زیغم کے ہاتھ کی سختی سے وہ ایسا کرنے سے قاصر رہی۔ جو بھی تھا، توقیر اور قدسیہ، زیغم کے غصے سے ڈرتے تھے۔ اپنی بیٹی کو چھڑوانے کے لیے صرف بول پا رہے تھے، آگے بڑھنے کی ہمت نہیں تھی، کیونکہ وہ بندہ خطرناک تھا، کسی بھی وقت پسٹل نکال کر گولی چلانے میں دیر نہیں لگاتا۔
“کک… کیا… کیا کیا ہے میں نے… جو ہر وقت تم مجھے جتاتے رہتے ہو؟”
نایاب ایک جھوٹی ترین لڑکی تھی، اس لیے اپنا سچ اور حقیقت جانتے ہوئے بھی، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حقیقت جھٹلانے کی پوری کوشش کرتے ہوئے، لفظوں کو توڑتی ہوئی بولی۔
“افسوس… افسوس ہے مجھے کہ تم اتنے دھڑلے سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سچ کو جھٹلا کر جھوٹ پر دستخط کروانا چاہتی ہو، مظلوم بننا چاہتی ہو۔ ٹھیک ہے… اگر تم چاہتی ہو کہ میں سب کے سامنے تمہاری حقیقت بیان کروں، تو ٹھیک ہے… ایسے تو پھر ایسے ہی صحیح!”
زیغم نے بڑے ٹھہراؤ سے کہتے ہوئے اس کا جبڑا چھوڑ دیا۔
گہری سانس لے کر پرسکون ہونے کے لیے، وہ صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھ گیا، کیونکہ آج وہ بھڑک کر نہیں، تحمل سے بیٹھ کر نایاب کے گناہوں سے پردہ اٹھانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ یہ کیسی حقیقت تھی، جس سے اس کے ماں باپ بھی پوری طرح واقف نہیں تھے؟
اور زرام کو اس حقیقت کے بارے میں تھوڑا سا زیغم نے بتایا تھا، جب وہ امریکہ سے واپس آیا، مگر حقیقت شرمناک تھی، تو بھائی ہونے کی وجہ سے وہ شرمندہ ہو کر نظریں جھکا گیا اور بات ادھوری چھوڑ دی مگر کب تک وہ اس حقیقت پر پردہ ڈال کر رکھتا؟ کیونکہ نایاب بار بار ‘حق’ کی بات کر کے اسے کٹہرے میں لا کھڑا کرتی تھی۔ بار بار ‘حق’ کی بات کر کے، وہ ایسا ظاہر کرتی جیسے مظلوم ہے، اور زیغم اس پر ظلم کر رہا ہے۔ ایسے میں ضروری ہو گیا تھا کہ زیغم نایاب کا اصلی چہرہ سب کے سامنے رکھے۔
زیغم سلطان ایک اصول پسند اور نیک فطرت مرد تھا۔ اسے نایاب سے بہت اختلافات تھے، جو کہ ہونے بھی چاہیے تھے۔ نایاب نے ہر موڑ پر غلط کیا، اور زیغم کو حاصل کرنے کے لیے ایسے ایسے گناہ کیے جنہیں برداشت کرنا ناممکن تھا مگر پھر بھی زیغم سلطان نے اپنے لبوں پر چپ کی مہر لگا رکھی تھی۔ کبھی سب کے سامنے اسے اس کی اصلیت یاد نہیں دلائی، اس لیے کہ وہ ایک لڑکی ہے، اور لڑکی کی عزت نازک ہوتی ہے جبکہ نایاب اس رحم کی حقدار بالکل نہیں تھی۔ جو کچھ دانیہ کے ساتھ کیا گیا، اگر زیغم کم ظرف مرد ہوتا، تو وہ سب سے پہلے نایاب کی اصلیت سب کے سامنے کھول کر رکھ دیتا مگر اس نے ایسا نہیں کیا، اور زیغم سلطان کی یہی خوبی کہیں نہ کہیں نایاب نے اس کی کمزوری سمجھ لی۔ وہ یہ سمجھ بیٹھی کہ زیغم زندگی میں کبھی بھی اس کی حقیقت کسی کے سامنے نہیں لائے گا مگر ہر انسان کے صبر کا ایک پیمانہ ہوتا ہے۔ جب وہ بند ٹوٹتا ہے، تو ہمیشہ تباہی آتی ہے۔
“میں کبھی نہیں چاہتا تھا کہ میں اپنی زبان سے بول کر کسی کے سامنے تمہیں تمہاری اصلیت دکھاؤں۔”
زیغم سلطان نے گہری سانس لے کر ٹھہرے لہجے میں کہا۔
“مگر تم ہمیشہ مجھے مجبور کرتی آئی ہو، اور آج میں تمہیں تمہارے سب گھر والوں کے سامنے اس حقیقت سے ضرور روشناس کرواؤں گا کہ تم نے ماضی میں کیا کیا ہے۔ کیا تم بھول گئی ہو کہ تم نے کیسے مجھے میرے ہی بھائی سے دور کیا؟”
زیغم سلطان کہتے ہوئے ماضی کے دریچوں میں گم ہوتا چلا گیا، اور ہر بات سے پردہ اٹھاتے ہوئے درد کی لپیٹوں میں آتا گیا۔
(ماضی)
حویلی کی سنسان راہداریوں میں دوپہر کی دھیمی روشنی ساکت کھڑی تھی، جب زیغم سلطان خاموش قدموں سے اپنے کمرے میں داخل ہوا۔ وہ صرف کچھ ضروری نوٹس لینے آیا تھا، مگر قسمت شاید آج اسے زہر پلانے لائی تھی۔ کمرے میں قدم رکھتے ہی زیغم کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ نایاب اس کی بھابھی تھی۔ نایاب کی شادی زیغم کے بھائی بہرام لغاری سے ہوئی تھی۔
“یہ کیا کر رہی ہیں؟”
اس کی آواز میں حیرت، خفگی، اور بے یقینی یکجا تھی۔ نایاب دبے قدموں زیغم کے قریب آئی، اور اچانک پیچھے سے اپنے بازو اس کےگرد لپیٹ کر اسے اپنی گرفت میں لیا۔ وہ اپنی بے قراری کی انتہا پر تھی۔ اس کا سر آہستگی سے زیغم کی پشت سے ٹک گیا۔ جیسے برسوں کی تڑپ اب خاموشی سے اس کی سانسوں میں پناہ لینے آئی ہو۔
“مجھ سے دور کیوں بھاگتے ہو؟”
“تم جانتے ہو میں تم سے محبت کرتی ہوں اور تمہارا انکار مجھے دن بہ دن پاگل کر رہا ہے!”
نایاب اس کی پشت سے لپٹتے ہوئے بے خودی میں بول رہی تھی۔ زیغم نے جھٹکے سے خود کو اس کی گرفت سے نکالا اور تیزی سے فاصلے پر جا کھڑا ہوا۔
“تمہیں اندازہ بھی ہے کہ تم کیا کر رہی ہو؟”
“تم شادی شدہ ہو نایاب۔ تم میرے بھائی کی بیوی ہو اور میں تمہیں کبھی اس نظر سے نہیں دیکھ سکتا!”
نایاب کی آنکھوں میں نمی اور جنون ایک ساتھ ابھرا تھا۔
“تو پھر مجھ سے اتنا مہربان مت ہو زیغم۔ تمہارے لہجے کی نرمی ہر بار مجھے تمہارے قریب لے آتی ہے، تم اگر چاہتے نہیں تو اپنی آنکھوں سے یہ جذبہ نکال دو۔ میں خود ہی ہار مان جاؤں گی۔”
زیغم نے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچی تھیں غصہ ضبط کرنا مشکل ہو رہا تھا مگر اس نے ضبط کیا کیونکہ نایاب کے الفاظ گندگی کی حدیں پار کر چکے تھے اور وہ کسی گندگی میں خود کو گھسیٹنے والا مرد نہیں تھا۔ زیغم نے غصے سے جھٹک کر اسے خود سے دور کیا، جیسے کوئی سانپ لپٹا ہو۔
“تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے؟”
“شرم کرو نایاب!”
“اگر تمہیں بہرام بھائی پسند نہیں تھے تو تم شادی سے انکار کر سکتی تھی، مگر اب شادی کر کے تم اسے دھوکہ دے رہی ہو اور اس سب میں مجھے ملوث کرنے کی کوشش کررہی ہو، تمہیں شرم و حیا ہے بھی یا نہیں؟”
زیغم کے چہرے پر غصہ اب سرخی بن کر چمکنے لگا تھا، جبکہ نایاب کے چہرے پر ندامت نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ زیغم کی آواز بھرا گئی۔ مگر لہجہ سخت تھا۔
“میں ہمیشہ تمہیں پہلے بہن کی نظر سے دیکھتا تھا اور جب سے تمہاری شادی بہرام بھائی سے ہوئی ہے، تمہیں اپنی بھابھی کی نظر سے دیکھا ہے۔ میرے لیے تو یہ ایک احترام کا رشتہ تھا، ہے، اور ہمیشہ رہے گا۔”
وہ ایک پل کو رکا تھا۔
“اگر تم نے اپنے دماغ میں گند بھر رکھا ہے، تو اس کا میں کچھ نہیں کر سکتا۔ مگر سن لو… میں نے کبھی تمہیں ایسا کوئی اظہارِ محبت نہیں دیا، کوئی اشارہ نہیں دیا، جس کی بنیاد پر تم یہ کہہ سکو کہ میں نے کبھی تمہارے خیالات کو طول دینے کی کوشش کی ہے۔”
“برائے مہربانی مجھے سب سے دور رکھو… اور اپنے دماغ کے فتور کو نکالو… اپنے شوہر سے محبت کرو اس سے مخلص رہو!”
سختی سے بولتے ہوئے باہر کی جانب بڑھنے لگا تھا مگر نایاب نے اس کے ہاتھ کو زور سے کھینچا۔ اس کو پیچھے کرتے ہوئے خود دروازے کے ساتھ بازو پھیلا کر کھڑی ہو گئی تھی۔
“بھاڑ میں جائے شرم اور بھاڑ میں جائے تمہارا بھائی۔ بچپن سے میں نے تمہیں چاہا ہے، تمہیں پسند کیا ہے، خوابوں میں، خیالوں میں صرف تمہیں سوچا ہے۔ اور آج تم مجھے شرم و حیا کی دلیلیں دے رہے ہو؟”
“میں طلاق لے لوں گی، پھر تم سے شادی کروں گی!”
وہ بغیر شرم و حیا کو محسوس کیے روانی سے ایسے بول رہی تھی جیسے یہ کوئی معمولی سی بات ہو۔
“استغفراللہ… تمہارے لیے شادی مذاق ہے؟”
“اگر تمہیں بھائی پسند نہیں تھے تو انکار کرتی، کیوں ان کی زندگی تباہ کی؟”
“میں نے تباہ نہیں کی، وہ خود میرے پیچھے لٹو ہو رہا تھا اور تم… تم تو میرے ہاتھ آتے ہی نہیں تھے۔ میں نے سوچا کیوں نہ تمہارے گھر کی بہو بن کر تمہارے قریب آؤں، تمہیں اپنی محبت کی گہرائی بتاؤں۔ نہیں تو کیا تمہیں لگا کہ میں تمہارے اس بے وقوف بھائی کے ساتھ شادی کر کے ساری عمر ضائع کرو گی؟”
“اس کی شکل ہے اور نہ عقل…”
بغیر کسی لحاظ کے زیغم کے منہ پر اس کے بھائی کی توہین کر رہی تھی۔
“تمہارے بیوقوف بھائی سے تو میں چٹکیوں میں طلاق لے لوں گی۔”
زیغم کو اس کی باتوں پر یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ دل جیسے منہ کو آ گیا ہو، غصے سے آنکھیں سرخ تھیں۔ وہ حیران تھا کہ اس کی سوچ اس کا دماغ اتنا گندا ہے۔ آج تک اس طرح کھل کر نایاب اس کے سامنے بھی تو کبھی نہیں آئی تھی۔
“تم بہت گھٹیا ہو۔ تم نے میرے بھائی کی محبت کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا، اور تمہیں لگتا ہے میں تمہارے اس گھناؤنے کھیل میں شامل ہو جاؤں گا؟”
“کبھی نہیں… کبھی بھی نہیں!”
وہ غصے سے تلملا کر نفی میں سر کو ہلاتے ہوئے اس کی گردن کو سختی سے دبوچے کھڑا تھا۔
“میں خود بہرام بھائی کو ساری حقیقت بتا دوں گا۔ وہ سادہ مزاج ضرور ہے، مگر بے غیرت نہیں!”
“وہ تمہیں کبھی معاف نہیں کریں گے… مگر میرے لیے جو جذبات تم لیے گھوم رہی ہو، وہ کبھی پورے نہیں ہوں گے… میری طرف سے صرف تم نفرت کی مستحق ہو… لعنت بھی نہیں بھیجتا تم پر!”
زیغم کی آواز غصے کی شدت کانپ رہی تھی، آنکھوں میں درد کے ساتھ ایک بھائی کا کرب نمایاں تھا۔ آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے۔ وہ لمحہ حویلی کی گواہی میں قید ہو گیا تھا۔ کوئی گواہ نہیں تھا، کوئی اور موجود نہیں تھا۔ صرف زیغم، نایاب اور اس کا اصل روپ، جو کہ بہت بدنما تھا۔ نایاب کے چہرے کو دیکھ کر زیغم سلطان کی روح کانپ گئی تھی۔
نایاب زیغم سے چھ سے سات سال بڑی تھی، اور بہرام سلطان کے ہم عمر تھی۔ بچپن سے بہرام اسے پسند کرتا تھا، مگر نایاب کے دل میں صرف زیغم تھا، جبکہ زیغم سلطان ہمیشہ اسے ایک بڑی بہن کا درجہ دیتا رہا۔ یہ گند نایاب کے دماغ میں سالوں سے پل رہا تھا، جسے وہ چھپاتی رہی، اور آخرکار شادی کے بعد ایک دن، وہ حقیقت بن کر سامنے آیا۔ زیغم کا ضبط، برداشت، اور صبر سب کچھ ٹوٹ چکا تھا۔ اس دن کے بعد زیغم کے دل میں صرف نفرت رہ گئی تھی، محبت، عزت اور رشتہ… سب دفن ہو چکے تھے۔
“جتنا غصہ نکالنا تھا، تم نکال چکے ہو۔ میں پہلے سے ہی اس سب کے لیے تیار تھی۔ میں تم سے پیار کرتی ہوں۔ ہمیشہ میری آنکھ تمہاری خوبصورتی پر ٹکی تھی، دل و جان سے تمہیں چاہا!”
وہ زیغم سلطان کا اپنی گردن پر رکھا ہوا ہاتھ نہیں ہٹا رہی تھی، جبکہ سختی کی شدت سے اس کی آنکھوں سے پانی نکلنے لگا تھا۔ زیغم کے سینے پر دیوانگی سے ہاتھ رکھتے ہوئے وہ مٹھیوں سے اس کے کرتے کو جکڑے ہوئے تھی۔ اس کی آنکھوں میں بے حیائی کا عکس تھا۔ زیغم، اس کی بے حیائی، بے باکی دیکھ کر جھٹکے سے اس کی گردن کو چھوڑتے ہوئے پیچھے ہٹا، اسے ہاتھ سے پکڑ کر دروازے سے ہٹاتے ہوئے باہر جانے لگا تھا کیونکہ عورت ذات جب بدنسل ہو کر بے باکی پر آتی ہے، تو اس سے زیادہ زہریلی اور گھٹیا چیز کوئی نہیں ہوتی، اور وہ اپنے دامن کو گندگی سے نہیں بھرنا چاہتا تھا۔ اس کی نظر میں اب بھی وہ اس کے بھائی کی بیوی تھی، اور اس کے لیے محترم تھی۔
بے شک، نایاب اپنی ہر حد پار کر چکی تھی۔ وہ باہر جانے لگا مگر اس سے پہلے ہی اُس نے زیغم کے بازو کو زور سے کھینچا۔ زیغم، جو اس آفت کے لیے تیار نہیں تھا، لڑکھڑایا اور سنبھلنے کی کوشش کے باوجود سیدھا زمین پر نایاب کے اوپر گرتا چلا گیا۔ نایاب نے بے باکی سے، بغیر اس بات کا لحاظ کیے کہ وہ عورت ہے، اُس کی بھابھی ہے، زیغم کی کمر کےگرد اپنے بازوؤں کا حصار بنا لیا۔
“چھوڑو، چھوڑو، کیا کر رہی ہو؟”
“پاگل ہو گئی ہو تم؟”
زیغم اپنی کمر سے اس کے ہاتھ ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ نایاب سختی سے اس کی کمر کو جکڑے ہوئے تھی۔
“میں تمہارے عشق میں ہر حد پار کر جاؤں گی، تباہ کر دوں گی تمہارا خاندان، اگر مجھے تم نہ ملے تو۔”
“جو کر سکتی ہو، کر لو۔ میں زیغم سلطان ہوں، ڈرتا نہیں ہوں تم سے۔ اور بھائی کے سامنے تمہاری حقیقت کھول کے نہ رکھی، تو پھر کہنا۔ انتہائی غلط عورت میرے بھائی کی زندگی میں آگئی ہے۔ تمہاری مکاری اور بے وفائی سے اپنے بھائی کو میں بچاؤں گا۔”
غصے سے دھاڑتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ نایاب دیوانگی سے اس کی گردن پر لب رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ اس بے باک، وحشی ہو چکی عورت سے دور جانے میں کامیاب ہوتا، دروازہ جھٹ سے کھلا اور اچانک بہرام نے اندر قدم رکھا تھا۔ یہ منظر بہت ہی برا تھا، کیونکہ اس منظر میں نایاب سے کہیں زیادہ زیغم غلط نظر آ رہا تھا۔ نایاب زمین پر گری ہوئی تھی، اور زیغم اس کے اوپر تھا اور اچانک آنے والے کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں تھا کہ یہاں پر پہلے سے کیا ہو رہا ہے۔
بہرام کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا، اب شروع ہوئی تھی نایاب کی مکاری، جبکہ زیغم تو بیچارہ شرم سے لال ہوتے ہوئے پیچھے ہٹا، اور وہ بہت گھبرا گیا تھا۔
نہ غلط ہوتے ہوئے بھی، وہ غلط ہی نظر آ رہا تھا۔
“بہرام… بہرام یہ میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔”
وہ زمین سے اٹھتی ہوئی جا کر بہرام کے سینے سے لپٹ گئی تھی۔ بہرام نے دونوں بازو اس کے گرد لپیٹتے ہوئے، غصے بھری نظروں سے اپنے بھائی کی جانب دیکھا تھا۔ بہرام نایاب سے بہت محبت کرتا تھا اور آنکھیں بند کر کے نایاب پر یقین کرتا تھا، اس لیے اپنے بھائی سے محبت کے باوجود بھی نایاب کی محبت حاوی ہو گئی تھی۔ اسے اپنی بیوی سچی لگ رہی تھی، اور منظر دیکھ کر حقیقت بھی یہی لگ رہا تھا کہ زیغم نایاب کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“جھوٹ… جھوٹ بول رہی ہے یہ مکار عورت… بہرام بھائی میں نے ایسا کچھ نہیں کیا، آپ میری بات سنیں۔”
زیغم نے صفائی دینے کی کوشش کی۔
“میں… میں جھوٹ بول رہی ہوں… شرم کرو!”
نایاب کا انداز درد سے بھرپور مگر اندر سے سراسر فریب سے لتھڑا ہوا تھا۔
“میں تو اس کے کمرے میں یہ بتانے آئی تھی کہ صبح اس کی سالگرہ ہے، اور میں نے اور تمہارے بھائی نے مل کر اس کی سالگرہ کی خوشی پر پارٹی آرگنائز کی ہے، مگر اس نے تو اپنی بھابھی کی عزت خراب کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔”
وہ مکاری سے روتے ہوئے بول رہی تھی۔
نایاب نے اتنا بڑا جھوٹ بولا کہ زیغم کی تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ وہ اس کی سوچ سے کہیں زیادہ مکار اور جھوٹی لڑکی نکلی تھی۔
“نہیں بھائی، میں نے ایسا کچھ نہیں کیا…”
زیغم، بیچارا صفائیاں ہی دیتا رہ گیا جبکہ بہرام کو جو حقیقت لگی اسی حساب سے وہ آگے بڑھا، اور غصے سے اپنے بھائی کے منہ پر تھپڑ مارنے شروع کر دیے۔ زیغم سلطان اپنے بھائی سے کافی چھوٹا تھا، مگر کمزور نہیں تھا، کیونکہ وہ ہمیشہ سے ہی طاقت اور قد کاٹھ میں اپنے بھائی سے لمبا، اونچا تھا۔ وہ دیکھنے میں کہیں سے بھی اپنے بھائی سے کمزور نہیں لگتا تھا، مگر یہ اس کے بھائی کے لیے اس کی محبت اور عزت تھی کہ اس نے ہاتھ نہیں اٹھایا۔ زیغم اپنے بھائی سے بہت محبت کرتا تھا،
مگر اس وقت بہرام کے دماغ پر صرف اپنی بیوی کی محبت اور عزت پر ہاتھ ڈالنے کا دکھ حاوی ہو چکا تھا۔
بہرام بہت بے دردی سے مارتا جا رہا تھا، اور زیغم خاموشی سے اِدھر سے اُدھر رخ کرتے ہوئے اپنے بھائی سے مار کھائے جا رہا تھا۔ اس کی آنکھ سے ایک آنسو بھی نہیں نکلا تھا۔ وہ خاموش تو ہو گیا تھا، اس نے اس کے بعد صفائی دینے کی کوشش نہیں کی، مگر اس کا دل بری طرح سے ٹوٹا، اور اپنے بھائی کے لیے بدگمان ہوتا چلا گیا کیونکہ زیغم کو امید تھی کہ اس کا بھائی اسے صفائی کا موقع دے گا، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس نے صرف اپنی بیوی کو صحیح سمجھا، اور بھائی پر آ کر ہاتھ اٹھانا شروع کر دیا۔
بہرام کو یہیں پر صبر نہیں آیا، وہ مارتے ہوئے اسے دھکے دیتے ہوئے کمرے سے باہر لے گیا، تو گھر کے تمام ملازمین نے یہ سارا منظر دیکھا۔ اس وقت گھر میں کوئی بھی موجود نہیں تھا، تو بہرام نے بہت زیادتی کی تھی۔ اور اسے دھکے دیتے ہوئے حویلی کے گیٹ تک پہنچا دیا۔ زیغم خاموش تھا، وہ کمزور نہیں تھا، اس حویلی پر اس کا بھی حق تھا، لیکن اس کی شرمندگی نے اسے جکڑ لیا تھا۔
گھر کے ملازمین نے سب کچھ دیکھا، مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ انہیں یقین تھا کہ زیغم ایسا نہیں کر سکتا مگر یہ یقین اس کے بھائی نے نہیں دکھایا۔ یوں یہ رشتہ ٹوٹ گیا، اور دونوں بھائیوں کے بیچ نفرت کی دیوار کھڑی ہو گئی، ایسی دیوار جو پھر کبھی گر نہ سکی۔ بہرام اپنے ہی بھائی کے خون کا پیاسا بن گیا۔جب سلطان لغاری نے یہ دیکھا، تو انہوں نے اپنے بیٹے کو امریکہ اپنے ایک دوست کے پاس بھیج دیا، تاکہ آگے کی تعلیم زیغم وہیں پر مکمل کر سکے۔ زیغم کی کوئی غلطی نہیں تھی، پھر بھی اسے گھر سے بے گھر کر دیا گیا۔ نایاب خاموش تماشائی بنی رہی، اس نے خود کو بچا لیا، مگر زیغم کو اس گندگی میں لپیٹ دیا۔ سب نے سمجھا وہی قصوروار ہے۔
کوئی نہ تھا جو زیغم کی صفائی دے سکے، مگر اس کے بابا نے بھی یقین نہ کیا، کہ وہ ایسا کر سکتا ہے۔ مگر ان کے سامنے ایک اور بیٹے کی گواہی تھی، اس لیے وہ خاموش رہے۔
یوں ان خوبصورت رشتوں کے بیچ میں نایاب نے زہر گھول دیا۔ دانیہ، زیغم، بہرام… تین ہنستے کھیلتے بہن بھائی جدا ہو گئے مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی، ماضی کے کچھ پنوں سے پردے اٹھنے ابھی باقی ہیں۔ یہ تو صرف وہاں تک کا سفر تھا، جہاں تک زیغم نے دیکھا تھا۔ اس سے آگے کئی اور ‘راز’ چھپے تھے۔
زارم اور اسکے ماں باپ کو آج پوری طرح سے سچائی کا پتہ چلا، کہ گندی سوچ کی مالک، ان کی اپنی بیٹی تھی۔
“اچھا اگر یہ سب کچھ سچ ہے اور تم نے واقعی میرے ساتھ اس دن کچھ غلط نہیں کیا تھا۔ تو پھر ایک بات کا جواب دو، کہ میڈیکل رپورٹ میں صاف صاف لکھا ہے کہ تمہارا بھائی کبھی باپ نہیں بن سکتا تھا، تو پھر ارمیزہ کس کی بیٹی ہے؟ یہ بھی بتا دو…”
نایاب کو ذرا برابر بھی شرمندگی نہیں تھی کہ اُس کی اتنی گھناؤنی حقیقت اُس کے بھائی، ماں اور باپ کے سامنے آ چکی ہے بلکہ وہ تو وہی مدعا سامنے رکھ چکی تھی جو اُس نے برسوں سے ذہن میں بٹھا رکھا تھا کہ جب کبھی یہ بات سامنے آئے، وہ یہی سوال دہرائے گی۔ یہ بات اس کے نزدیک ذرا سی بھی شرم دہ نہیں تھی مگر وہ بھول گئی تھی… اس بار اُس کے سامنے بہرام سلطان نہیں، زیغم سلطان لغاری کھڑا تھا۔ وہ زیغم، جس کی فطرت میں سادگی یا خاموشی نہیں تھی، جو ہر سوال کا جواب دینا جانتا تھا۔ ایسے ہی تو نہیں، پچھلے کئی سالوں سے اُس نے ایک بھی کیس ہارا نہیں تھا۔ لوگ اس کی وکالت اور ذہانت کے گرویدہ تھے۔ اس بات کا پتہ تو نایاب کو تب چلا جب زیغم نے اس کے سوال کا جواب دیا۔
“جھوٹی رپورٹس بنوانا کونسا مشکل کام ہے۔ وہ رپورٹس جھوٹی تھیں، اسی لیے تو تم نے انہیں سب کے سامنے صرف ایک بار دکھایا، پھر ان کا نام و نشان تک مٹا دیا۔ یہ کہہ کر کہ وہ ‘گم’ ہو گئی ہیں… کیونکہ تمہیں معلوم تھا، اگر وہ رپورٹس موجود رہتیں تو کوئی بھی انہیں جج کر سکتا تھا۔”
“اور جہاں تک ارمیزہ کا سوال ہے… وہ بہرام بھائی کی بیٹی ہے، یہ بات تم سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ تم نے بہرام بھائی کے دل میں یہ زہر گھولا کہ وہ کبھی باپ نہیں بن سکتے، تم نے اپنی گندی سوچ اُن کے دماغ میں اتار دی۔”
“بڑی مکاری اور چالاکی سے یہ ثابت کر دیا کہ ارمیزہ میری بیٹی ہے… اور یہ بھی کہ میں نے تمہارے ساتھ زیادتی کی۔”
“لعنت ہے تمہاری سوچ پر!”
“میں نے تمہیں کبھی بھی غلط نگاہ سے نہیں دیکھا، غلط کرنا تو دور، میں نے تمہیں بہن سمجھا۔ گند تمہاری سوچ میں تھا۔ زیغم سلطان کی نظریں اتنی گندی نہیں کہ وہ اپنے ہی گھر کی عزت پر نظر رکھے، مگر تم نے میرے بھائی کے دل و دماغ کو زہر آلود کر دیا۔ ان کے دل میں میرے لیے اتنی نفرت بھر دی کہ وہ اپنے بھائی پر شک کر کے حقیقت تک کبھی پہنچ ہی نہیں سکے۔ میرے بھائی کے ذہن میں میرے لیے اتنی نفرت بھر دی کہ وہ میرے ہی خون کے پیاسے بن گئے۔ وہ اپنے اندر گھٹ گھٹ کر مر گئے، جینے کے قابل نہیں رہے۔”
“وہ قطرہ قطرہ مرتا گیا، اس سوچ کے ساتھ کہ وہ کبھی باپ نہیں بن سکتا۔ تم نے اپنے مفاد کے لیے ان کو ہمیشہ اسی سوچ میں مبتلا رکھا کہ ارمیزہ ان کی بیٹی نہیں۔ وہ غلط فہمی میں جیتے ہوئے اپنی بیٹی سے ہی دور ہو گئے جو کہ ان کا اپنا خون تھی اور آج بھی تم اپنی بات پر قائم ہو۔ تمہارے کہنے کے مطابق ارمیزہ میری بیٹی ہے؟”
“الحمدللہ! پھر میں آج کے بعد اُسے پوری زندگی اپنی بیٹی مان کر رکھوں گا۔”
“اُسے وہی محبت دوں گا جو بہرام بھائی اگر جان جاتے تو وہی محبت دیتے کہ وہ ان کی بیٹی ہے۔”
“سلطان لغاری کی نسل ہے، سلطان لغاری خون سے ہے تو کیا فرق پڑتا ہے، بیٹی بہرام کی ہو یا زیغم کی؟”
“اب وہ میری بیٹی ہے۔ ہمیشہ میرے ساتھ رہے گی۔ اس کی زندگی کا ہر فیصلہ میں لوں گا اور میرا فیصلہ یہ ہے کہ تم… تم جیسی عورت میری بیٹی کی ماں نہیں بن سکتی۔”
“اُس کی ماں، مہرو بنے گی، جو پاکیزہ سوچ کی مالک ہے۔ تم جیسی عورت… جو اپنی سوچ تک صاف نہ رکھ سکی، وہ میری بیٹی کی تربیت کیا کرے گی؟”
یہ ایسا طمانچہ تھا، جو زیغم نے الفاظ سے نایاب کے منہ پر مارا، اور نایاب… حیران، گم سم کھڑی تھی۔
“کیا ہوا؟”
“یقین نہیں آ رہا؟”
“میں تمہارے ہر سوال کا جواب کیسے دے سکتا ہوں۔ تمہیں لگا جیسے تم نے بہرام بھائی کو پاگل بنایا، تو زیغم کو بھی بنا لو گی؟”
“کاش بہرام بھائی میں تھوڑی سی چالاکی ہوتی، وہ تمہارے جھوٹ کو پہچان لیتے… اپنے ٹیسٹ دوبارہ کروا لیتے… اور اس ڈاکٹر کا گلا دبا دیتے جسے تم نے پیسوں سے خریدا تھا۔”
زیغم ہر ایک راز سے پردہ اٹھاتا چلا جا رہا تھا اور نایاب آنکھیں پھاڑے دیکھے جا رہی تھی۔ حلق سے اس وقت تو تھوک بھی نہیں اتر رہی تھی مگر شرم سے نہیں، حیرانی سے۔
“مکار عورت تم نے بڑی مکاری سے بہرام بھائی سے شادی کی، ان کا سب کچھ اپنے نام کروایا۔ پھر بے باقی کا جال پھینکتے ہوئے مجھے اُن سے دور کیا… وہ آنکھیں بند کر کے تم پر یقین کرتے رہے۔ تم انہیں موت کے قریب لے جاتی رہی اور آخرکار، تم نے میرے بھائی کو مار دیا۔”
“ہاں، ایک مرد کے لیے یہ موت کے برابر ہے کہ وہ باپ نہیں بن سکتا اور تم نے وہی زہر اس کی رگوں میں اتار دیا۔”
بولتے ہوئے زیغم کی آنکھوں میں درد کی انتہا تھی۔گزرے وقت کی تلخیاں زیغم کے دل کو چیر رہی تھی، آنکھوں میں ماضی کے منظر دیکھتے ہوئے شدید جلن کا احساس ہو رہا تھا۔
“تم نے اُس معصوم بچی سے اس کا باپ چھین لیا، جس کو اپنے باپ کی گود میں کھیلنے کا، محبت کو محسوس کرنے کا پورا حق تھا۔”
“دوسروں کے حقوق چھین کر، آج تم حقوق مانگتی ہو؟”
“زندگی میں بہت سی مکار عورتیں دیکھی ہیں مگر تم جیسی عورت نہیں دیکھی، جس نے اپنے ارمانوں کو تسکین دینے کے لیے اپنے شوہر کی جان لے لی۔ جس نے اپنے مقصد کو پانے کے لیے اپنی بیٹی سے اس کا باپ چھین لیا۔ اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی، اگر آج کے بعد حقوق کی بات کی، تو میں تمہاری زبان کھینچ لوں گا!”
“نکاح… بس بابا سائیں سر کی پگڑی کی لاج میں کیا… ورنہ تمہاری کوئی حیثیت نہیں میرے لیے۔”
“تم میرے لیے نہ خاص تھی، نہ کبھی ہو سکتی ہو!”
زیغم سلطان بولتا چلا گیا اور زرام، شرم کے مارے سر جھکائے کھڑا رہا۔ اپنی بہن کی گھٹیا سوچ پر وہ زمین میں گڑ گیا تھا جبکہ توقیر لغاری بھی نظریں جھکائے، خاموش تھا۔ باپ چاہے جتنا مرضی گندا ہو مگر اپنی بیٹی کی ایسی حرکت پر شرمندہ تو ضرور ہوتا ہے۔ قدسیہ کی آنکھوں میں شرمندگی تھی یا شکست… یہ سمجھنا مشکل تھا کیونکہ ماں بیٹی دونوں ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے بلکہ ہو سکتا ہے ماں بھی اس سازش میں برابر کی شریک ہو۔
دوسری طرف، سلمہ… توقیر کی بہن، یہ سب تماشہ ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کوئی کہانی چل رہی ہو حالانکہ وہ بڑے پارسائی کے دعوے کرتی تھی مگر اسے بھی اندازہ نہ تھا کہ نایاب نے ماضی میں کتنی گھناؤنی سازش رچی تھی۔ اتنا سب کچھ بولنے کے بعد زیغم کے لیے وہاں بیٹھنا مشکل ہو گیا۔ ماضی کی دردناک یاد دہانی کرواتے ہوئے زیغم کی اپنی روح تک چھلنی ہو گئی تھی۔
“اتنا سب کچھ کرنے کے بعد بھی شرم نہیں آئی؟”
زرام گہری سانس لے کر غصے سے کہتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ توقیر نے نفی میں سر ہلایا اور بیٹی کی طرف حقارت سے دیکھا۔ قدسیہ بھی اپنے شوہر کے ساتھ ہی چل پڑی تھی۔ سلمہ توبہ توبہ کرتی، بغیر تاثرات کے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ اکیلی ساکت نایاب وہیں کھڑی رہ گئی مگر اس کے چہرے پر شرم نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ اگر اس نے شرم کرنی ہوتی تو سالوں پہلے کر لیتی۔ وہ تو نئی پلاننگ سوچ رہی تھی کہ اب آگے کیا کرنا ہے۔
°°°°°°°°°°
مہرو کمرے میں ارمیزہ کو اپنی گود میں لٹائے، نرمی سے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے سلا رہی تھی۔ ارمیزہ سہمی ہوئی تھی، مہرو اس کی پیشانی پر بار بار ہاتھ پھیر کر اسے سکون دے رہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں وہ گہری نیند سو گئی، مگر مہرو کی آنکھوں میں سکون نہیں تھا۔
نایاب… زیغم… اور اس کے گھر والے، سب کچھ اس کے ذہن میں الجھا ہوا تھا۔ فارم ہاؤس پر گزارے وہ دو دن جیسے خواب تھے، اور یہ حویلی… حقیقت کی کسی کڑوی گولی جیسی۔ یہاں ہر دن تماشا، ہر لمحہ ایک آزمائش۔ مہرو کے ذہن میں سوالات گونج رہے تھے۔ اسی لمحے دروازہ کھلا، اور زیغم سلطان کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر تھکن اور بے چینی صاف جھلک رہی تھی۔ آتے ہی وہ چپ چاپ بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا، نظریں جھکی ہوئی، جیسے اندر ہی اندر کچھ ٹوٹ رہا ہو۔
اس نے ارمیزہ کی طرف دیکھا، ماتھے پر نرمی سے بوسہ دیا، دل ہی دل میں بولا:
“تم میری بیٹی ہو، اور میں تمہیں کبھی اس عورت کے قریب نہیں جانے دوں گا… جو ماں کہلانے کے لائق نہیں۔”
مہرو نے چپ چاپ اس کی جانب دیکھا۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟”
زیغم نے دھیمے لہجے میں پوچھا۔
“آپ بہت پریشان ہیں۔”
مہرو نے نرمی سے کہا۔
“ہاں… بہت زیادہ۔”
زیغم نے آہستہ کہا، پھر کچھ لمحوں بعد نظریں جھکاتے ہوئے بولا:
“کیا مجھے بھی ارمیزہ کی طرح اپنی گود میں تھوڑی دیر لیٹنے دو گی؟”
“کچھ مت سوچو… مجھے سکون کی ضرورت ہے… رشتے پاکیزہ بھی ہوتے ہیں۔”
مہرو کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، مگر وہ انکار نہ کر سکی۔ سر ہلایا، زیغم نے شکر گزاری سے دیکھا اور آہستہ سے اس کی گود میں سر رکھ دیا۔ آنکھیں بند کر لیں۔ اپنا بھاری ہاتھ اٹھا کر مہرو کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے ہاتھ کو نرمی سے پکڑ کر اپنے سر پر رکھ دیا… وہ چاہتا تھا کہ مہرو بھی اسے اسی طرح سکون دے جیسے ارمیزہ کو دیا تھا۔ مہرو نے دھیرے سے اس کے بالوں میں انگلیاں چلانی شروع کر دی۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، مگر ہاتھ نرمی سے حرکت کر رہے تھے۔ زیغم کی سانسیں آہستہ آہستہ نارمل ہو رہی تھیں، وہ سکون کی طرف بڑھ رہا تھا… مگر عین اسی لمحے فون کی بیل بجی۔ اس نے تیزی سے فون نکالا، فون کی سکرین پر درخزائی کا نام جگمگاتا نظر آیا۔
کال ریسیو کرتے ہی دوسری طرف سے جو خبر سنائی گئی… زیغم سلطان جھٹکے سے سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ یہ خبر نہیں… قیامت تھی۔
°°°°°°°