Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:34
رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر :34
°°°°°°°°°
گاڑی گاؤں کی ٹھنڈی فضاؤں اور رات کے اندھیرے کو چیرتی ہوئی حویلی کے سامنے آ کر رکی تھی۔ حویلی کے صحن میں سکوت کی چادر تنی ہوئی تھی، ہر کمرہ، ہر گوشہ خاموشی کو اوڑھے بیٹھا تھا۔ جیسے کسی کی نظر لگ چکی ہو، جیسے وقت تھم گیا ہو۔ مورے اپنے بیٹے کی یاد دل میں سمیٹے، تکیے کو آنچل کی طرح سینے سے لگائے سو رہی تھی۔ روز کی طرح روتے روتے کب نیند آ گئی، معلوم نہ ہوا۔ قریب ہی دانیا لیٹی تھی، جو عشاء کی نماز کے بعد سونے آتی تھی۔ آغا جان اپنے کمرے میں بیٹھے قرآن مجید کی تلاوت کرتے کرتے کرسی سے ٹیک لگائے سو گئے تھے۔ اب ان کی نیند مکمل کہاں ہوتی تھی، اکثر راتیں جاگ کر گزرتی تھیں۔ دل کے سکون کے لیے قرآن کھول لیتے تھے۔ ایسے میں حویلی کے بیرونی دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ کسی نے دروازہ کھولا۔ ایک ہلکی سی روشنی کا ہالہ اندر داخل ہوا۔ یہ وہی روشنی تھی جو شاید برسوں سے اس حویلی سے غائب تھی۔ وہ قدم اندرونی دروازے پر آ کر رکے۔
یہ وہی وقت تھا جب درخزائی جاگ رہا تھا۔ دیوار سے ٹیک لگائے اپنے بھائی کی تصویر کو دیکھتے ہوئے بس خاموشی سے یادوں میں ڈوبا ہوا تھا۔بدروازے کی دستک پر چونک کر اٹھا، آہستہ سے دروازہ کھولا۔ سامنے مائد کو دیکھ کر جیسے قدم پیچھے ہٹ گئے۔ سانسیں رک گئیں۔ آنکھیں کی حیرت سے پھٹی ہوئی تھی۔
“ما… مائد بھائی…؟”
آواز کپکپا گئی۔
مائد نے ایک پل بھی ضائع کیے بغیر درخزائی کو کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ درخزائی سسک پڑا۔ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
“بھائی… آپ کہاں چلے گئے تھے؟ کیوں چھوڑ گئے تھے ہمیں؟”
اس کی سسکیاں حویلی کے ہر در و دیوار سے ٹکرا رہی تھیں۔ رات کی خاموشی کو چیرتی آوازیں ہر کسی نے سن لیں۔ مورے کی آنکھ کھلی، دانیا بھی جاگ گئی۔ آغا جان بھی قرآنی سطور کو چھوڑ کر باہر نکل آئے۔ مورے چادر سنبھالتی ہوئی بھاگی۔ دانیا بھی پیچھے پیچھے آ گئی۔ آغا جان دبے قدموں چلتے ہوئے باہر آئے۔
سب کے چہرے جیسے وقت کی گردش سے تھم گئے تھے۔ کسی کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ مائد خان سچ میں لوٹ آیا ہے۔ مائد نے ایک نظر اپنی ماں، باپ اور دانیا پر ڈالی۔ سب کی آنکھوں میں ایک ہی جذبہ تھا… یقین، حیرت اور وہ خاموش سا سکون جو مہینوں بعد لوٹا تھا۔ مورے لرزتے قدموں سے آگے بڑھی، اور اپنے بیٹے کو سینے سے لگا لیا۔ برسوں کی تڑپ، بیتے لمحوں کی کسک اور دل کا بوجھ آنسو بن کر بہنے لگا۔
“میرا بچہ… میری جان… کہاں تھا تُو؟”
“اے اللہ! میں تیرا شکر کیسے ادا کروں؟”
اس کی آواز کا درد حویلی کی دیواروں سے ٹکرا رہا تھا، ملازمین تک جاگ گئے تھے۔
“اے اللہ! اگر یہ خواب ہے، تو میں دعا کرتی ہوں کہ میری آنکھ کبھی نہ کھلے۔ اگر یہ خواب ہے، تو اسی میں میری جان نکال دے۔ مجھے اپنے پاس بلا لے۔ اے میرے رب میری آنکھیں کبھی مت کھولنا…”
وہ روتے ہوئے دہائیاں دے رہی تھی۔ اس کی آواز کی ٹوٹ پھوٹ ایسی تھی کہ کسی بھی انسان کا دل چیر کر رکھ دے۔ مائد نے ماں کو مضبوط بازوؤں میں لپیٹ کر ان کے دوپٹے پر لب رکھے، بالوں کو چوما۔
“مورے… میری پیاری مورے…”
وہ بے قراری سے بولا مگر مورے مسلسل سسکیوں میں گم تھی۔
“آپ کا مائد واپس آ گیا ہے… مت روئیں مورے… میرا کلیجہ پھٹ جائے گا… میں اپنی جنت کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا!”
ماں کی حالت دیکھ کر اس کے اندر ایک عجیب سی ندامت بھر گئی تھی۔ وہ زمین پر جھک گیا، مورے کے قدموں میں بیٹھ کر ان کے پاؤں کو چومنے لگا۔ جیسے اس لمحے اسے اپنے سب گناہ یاد آ گئے ہوں، جیسے وہ خود کو سزاوار مان چکا تھا۔
“معاف کر دیں مورے…مجھے معاف کر دیں… لیکن یوں رونا چھوڑ دیں… میرے لیے دوزخ کا راستہ نہ بنائیں!”
اس کی آواز رندھ گئی تھی۔
وہ مائد خان، جو رونا اپنی توہین سمجھتا تھا، آج ایک بیٹا بن کر رو رہا تھا۔ ماں کے آنسو اس سے برداشت نہیں ہو رہے تھے۔ مورے نے آنکھوں سے بہتے آنسو پونچھے، مائد کو کندھوں سے تھاما اور سینے سے لگا لیا۔
“اٹھ میرے شیر، مجھے رو لینے دے۔ میرے رب نے مجھے میری سانس واپس دی ہے۔ یہ آنسو، یہ شکر کا پانی ہے… میں ساری زندگی ایک ٹانگ پر کھڑی ہو کر بھی سجدے کروں، تب بھی کم ہے!”
یہ منظر اتنا پر اثر تھا کہ وہاں کھڑے آغا جان، دانیا اور درخزائی کی آنکھیں نم تھیں۔ کچھ ملازمین بھی لب بستہ کھڑے تھے، جن کی پلکیں بھیگ چکی تھیں۔
آغا جان کو آگے بڑھ کر گلے لگاتے ہوئے، مائد کے دل میں ایک گِلٹ کا طوفان تھا۔ اس کی وجہ سے اس کے ماں باپ اتنے دکھی ہوئے، ان کی آنکھوں میں برسوں کا درد جمع تھا۔
“مائد خان…!”
آغا جان نے گہری سانس لیتے ہوئے، شدت سے اس کا نام لیا۔
“میرا غرور، میرا مان، میرا شیر بیٹا… تجھے پا کر لگتا ہے جیسے میری سانسیں واپس آ گئی ہوں۔ اب مجھے چھوڑ کر کہیں مت جانا۔”
ان کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے اور مائد کو شدت سے احساس ہوا، کہ آغا جان اس سے کتنی بے پناہ محبت کرتے ہیں۔ ہمیشہ سخت اور ٹھہراؤ والے آغا جان، اس لمحے جذبات کے بہاؤ میں مکمل ڈوبے ہوئے تھے۔ ایسی محبت، ایسی شدت مائد نے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔ اسے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ ان کے سینے میں، اس کے لیے اتنی گہری محبت چھپی ہے۔
“کہیں نہیں جاؤں گا، آپ اس طرح ٹوٹ نہیں سکتے، میرے آغا جان۔”
‘مجھے آپ ویسے ہی اچھے لگتے ہیں… سخت اور دبنگ۔”
ان کے آنسو پونچھتے ہوئے مائد نے نرمی سے ان کا چہرہ دیکھا، ان کے ہاتھوں کو چوم کر آنکھوں سے لگایا۔
“میں تمہیں اب کبھی دکھی نہیں ہونے دوں گا!”
آغا جان نے بیٹے کو پیار سے دیکھتے ہوئے محبت میں بھرے لہجے میں کہا۔
“تم جو چاہو گے… جہاں چاہو گے… جس لڑکی سے چاہو گے، تمہاری شادی وہیں ہوگی۔”
مائد کا دل ایک دم زور سے دھڑکا۔ خون کی روانی تیز ہو گئی۔ آغا جان کا لہجہ اٹل اور مضبوط تھا۔ مائد نے چور نظروں سے آغا جان کے پشت سے پیچھے کی جانب دیکھا، جہاں ان جذباتی لمحات کو دیکھ کر نم آنکھوں سے نگاہ جھکائے دانیا کھڑی تھی کیونکہ دل کی دھڑکنیں تو دانیا سے جُڑی تھیں۔
اس کے دل نے تو ہمیشہ سے دانیا کو چاہا تھا… اور کب سے چاہا تھا، یہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا… شاید تب سے، جب وہ پہلی بار اس کی حویلی گیا تھا یا پھر اس دن جب وہ سکول کا یونیفارم پہنے ہوئے تیزی سے باہر نکلتے اس سے گیٹ پر ٹکرا گئی تھی۔ پتہ نہیں کب اس کے دل نے دانیا خود میں بسا لیا، مگر حالات ہمیشہ اس محبت کے خلاف رہے تھے۔ اس بے قراری کو، وہ کتنی بار زبان پر لانا چاہتا تھا…کتنی بار دل کی آواز کو لفظوں میں بدلنا چاہا، مگر کبھی حالات آڑے آ گئے، اور کبھی قسمت نے موقع ہی نہ دیا۔ وہ ہمیشہ خاموشی سے دانیا کی محبت میں گھٹتے گھٹتے زندگی گزارتا رہا تھا۔ کئی سال اسی درد میں گزر گئے تھے۔ وہ بے خبر لڑکی، جو اس کی دھڑکن میں بستی تھی مگر کبھی نہیں جان پائی کہ مائد خان کے دل پر صرف اسی کا نام لکھا ہے اور آج اچانک سے آغا جان کا یہ کہہ دینا کہ وہ جسے چاہے گا، اسی سے شادی ہوگی… مائد خان کا پٹھانی سینہ خوشی سے پھول نہیں سما پا رہا تھا۔ گھر کی فضا جیسے خوشیوں سے مہکنے لگی تھی۔ رات کا پہر… حویلی کے آنگن میں جیسے چاندنی برس رہی ہو۔ آغا جان اور مورے صوفے پر بیٹھے مسکرا رہے تھے۔ حویلی کے ملازم بھی خوش تھے، جیسے سب کو سانس لینے کی اجازت ملی گئی ہو۔
درختوں کی سرسراہٹ… خوشی کے گیت گنگنا رہی تھی… درخزائی کے آنسو سکون میں بدل چکے تھے۔ ہر چہرے پر اطمینان کی روشنی تھی۔ آغا جان کی نظریں مائد پر جمی تھیں۔ سوال پر سوال… کہاں تھا… کیسے بچ گیا… حادثہ تھا یا سازش…؟
مائد خان نے زیغم کے پلان کے مطابق… زندگی کا پہلا جھوٹ اپنے آغا جان سے بولا… یہ سب کچھ سبحان کا کیا دھرا ہے!
آغا جان کی آنکھوں میں جیسے شعلے بھڑک اٹھے۔
“میں ان کی کھوپڑیاں اڑا دوں گا!”
گرجدار آواز میں بولے تو پورا ہال ساکت ہو گیا۔
مائد نے ان کا ہاتھ تھام کر کہا:
“آپ کا بیٹا کمزور نہیں، ہر وار سہہ سکتا ہے… بس… ابھی اس خوشی بھرے لمحے کو جینے دیں… بدلہ بعد میں…”
بڑی مشکل سے آغا جان مانے تھے۔ مورے نے ملازمہ سے میٹھا منگوانے کو کہا اور دانیہ فوراً ملازمہ کے ساتھ بن کہے کچن کی طرف لپکی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ واپس آئی، ہاتھ میں شیشے کی ڈش، اس کے اندر خوشیوں کا میٹھا تھا… مائد خان کی واپسی کی خوشی کا میٹھا!
سب نے اپنے اپنے حصے کی پیالیاں اٹھائیں… دانیا نے چپ چاپ وہی ڈش مائد کے سامنے بھی رکھی۔ مائد نے نظریں اٹھا کر دیکھا… وہ جھکی پلکیں… خاموش چہرہ… محبت سے بھرا وہ لمحہ، مائد کی روح کی گہرائی میں اتر گیا تھا۔ دل زور سے دھڑکا تھا لیکن آس پاس سب لوگ تھے۔ اس نے خود کو سنبھالا اور نرمی سے پیالہ اٹھایا۔ بس… ایک لمحہ… خاموش… بے آواز… لیکن دل کی سب سے اونچی صدا جیسا… رومینٹک… چپ چاپ… دل کو دھڑکنے پر مجبور کر دینے والا۔
مائد میٹھا کھاتے ہوئے بار بار باتوں کے درمیان چور نظروں سے دانیا کو دیکھ رہا تھا۔ اب تو آغا جان کی اجازت مل چکی تھی، زیغم کی اجازت اسے پہلے سے درکار تھی، اب تو صرف سامنے بیٹھی معصومیت کی مورت سے اجازت لینی تھی، اور یہ سب سے بڑا کام تھا۔ بڑے بڑے فیصلے نپٹانے والا، سینہ تان کر بہادری سے ہر کسی سے لڑ جانے والا، ہمت اکٹھی کر رہا تھا، سامنے بیٹھی شہزادی سے اپنے دل کی بات کرنے کے لیے۔ رات کافی ہو چکی تھی تو آغا جان نے سب کو آرام کرنے کی ترغیب دی، سب لوگ اٹھ کر چل پڑے تھے اور آغا جان کے جانے کے بعد درخزائی بھی اپنے بھائی سے ایک بار پھر سینے سے سینہ لگا کر ملتے ہوئے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ دانیا مورے کے روم میں جا چکی تھی، اس وقت صرف مائد خان اور اس کی مورے بچے تھے۔
“بہت پیاری بچی ہے، ان تین مہینوں میں اس نے جتنا میرا، اس گھر کا، اور تمہارے آغا جان کا خیال رکھا ہے، ایسے تو ایک سگی بیٹی بھی نہیں کرتی۔”
مورے نے خود سے بات کا آغاز کیا تھا، اور وہ دانیا کے بارے میں بات کر رہی تھی۔
“نظر نہ لگے اُسے۔ مجھے فخر ہے کہ میرے بیٹے نے ہیرے کو چُنا ہے۔ شاید یہ دھچکا اللہ کی طرف سے تھا، جو تمہارے آغا جان کو بالکل ٹھیک لگا، اور مجھے بھی۔ کیونکہ اب ہمیں اپنے بیٹے کی پسند کو قبول کرنے میں کوئی مشکل نہیں رہی۔ جانتی ہوں، میں ماں ہو کر بھی تمہارا ساتھ نہ دے پائی، اس پر شرمندہ ہوں۔”
مائد نے فوراً ان کے ہاتھ تھام لیے، مورے ہاتھ جوڑنے لگی تھیں۔
“مورے! ایسا مت کریں۔ مجھے گناہگار مت بنائیں۔ آپ جنت ہیں میری، اور میں کبھی بھی آپ کے لیے بدگمان نہ تھا، نہ ہو سکتا ہوں۔ میری زندگی پر سب سے پہلا حق آپ کا ہے۔”
“نہیں بیٹا، کبھی کبھی ہم ماں باپ اپنی سوچ بچوں پر مسلط کر دیتے ہیں، جو نہیں ہونا چاہیے۔ زندگی کے فیصلے بچوں کو خود لینے دینا چاہییں۔ ہمارے بچے اپنی خواہشات کو دبا کر، صرف ہماری بات مان لیتے ہیں… اور اندر سے ختم ہو جاتے ہیں۔ اگر وقت پر یہ بات ہمیں سمجھ نہ آتی، تو ہمارا بیٹا بھی اندر ہی اندر گھٹ کر مر جاتا جبکہ میں تو اپنے بیٹے کو ہمیشہ مسکراتا دیکھنا چاہتی ہوں۔”
انہوں نے مائد کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھر کر پیار سے دیکھا۔
دونوں اس وقت لاوٴنج کے ستون کے ساتھ کھڑے تھے۔
“آپ کا کیا خیال ہے، اب آغا جان دانیا کو بہو کے روپ میں قبول کر لیں گے؟”
مائد نے بے قراری سے پوچھا۔
“ہمم… بے فکر ہو جا!”
مورے نے پُراعتماد لہجے میں جواب دیا۔
“اتنا یقین کیوں ہے آپ کو؟”
“کوئی انکار بھی تو کر سکتا ہے۔”
“نہیں، اب انکار نہیں کریں گے، کیونکہ تمہارے اس موت کے جھٹکے نے انہیں اندر سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ میں تو خود نہیں جانتی تھی کہ وہ تم سے اتنا پیار کرتے ہیں۔ تمہارے جانے کے بعد وہ ٹوٹ گئے تھے مائد… اور اب وہ کسی قیمت پر تمہیں ٹوٹنے نہیں دیں گے۔ ہاں، ایک بار جب دانیا کا نام سامنے آئے گا، انہیں جھٹکا ضرور لگے گا، مگر وہ مان جائیں گے۔”
“میرے شوہر ہیں، میں جانتی ہوں اُنہیں۔ ایسے دھچکے کے بعد وہ کسی بات پر تمہارے لیے ضد نہیں کریں گے۔”
“مورے، آپ کو دانیا پسند ہے؟”
مائد نے ساری بات سنتے ہوئے آہستہ سے پوچھا۔
“پسند نہیں… مجھے بہت زیادہ پسند ہے۔ اب تو یہ کہنے میں ذرا سی بھی جھجک نہیں کہ دانیا سے اچھی بہو مجھے کبھی مل ہی نہیں سکتی۔”
“اس بچی نے بغیر کسی مفاد کے، اس دکھ کی گھڑی میں ہماری خدمت کی، ہمیں سنبھالا۔ تو سوچو، جب وہ ہماری بہو بن جائے گی، تو یہ گھر جنت نہ بن جائے گا!”
“اور وہ مونا…”
مورے کی آواز حلق تک کڑوی ہو گئی تھی مونا کا نام لیتے ہوئے۔
“اس لڑکی نے تو تمہاری موت کی خبر سنتے ہی رنگ دکھا دیے۔ جاتے ہوئے ہر رشتہ، ہر ناطہ توڑ گئی اور تمہارے مرنے پر… خوش تھی۔ کہتی تھی: ’مر گیا، اچھا ہوا۔‘ کیڑے پڑیں اس کے سارے خاندان کو، جو میرے بیٹے کی موت پر خوش تھے!”
مورے جذباتی ہو رہی تھیں، اور مائد نے تڑپ کر اپنی ماں کو سینے سے لگا لیا۔
“بس مورے، اللہ جو فیصلے کرتا ہے، وہ بہتر نہیں بلکہ بہترین کرتا ہے۔ اس لڑکی میں، مجھے کبھی شریکِ حیات کے رنگ نظر ہی نہیں آئے۔ بس ضد تھی… یا شاید بچپن سے میرے ساتھ منسوب تھی، تو اسے لگن ہو گئی مگر مورے، لگن یا ضد کو محبت نہیں کہا جا سکتا… اور محبت کے بغیر زندگی نہیں گزرتی۔”
تھوڑی دیر خاموشی رہی، پھر مورے نے تجسس بھری نگاہوں سے پوچھا:
“تھوڑا سا ذاتی سوال ہے، مگر پوچھوں گی… کیا دانیا تم سے محبت کرتی ہے؟”
مائد نظریں جھکا گیا۔
“شرما مت لڑکے… بس بتا دے تاکہ میرے دل کو سکون مل جائے کہ میرے بیٹے کو وہ بھی اتنا ہی چاہتی ہے، جتنا میرا بیٹا اس کے لیے پاگل ہے!”
مورے نے ہنستے ہوئے اس کے گال پر تھپکی دی۔
“نہیں مورے… اس معاملے میں میں لکی نہیں ہوں۔ آپ کی ہونے والی بہو نہ تو میرے دل کا حال جانتی ہے، اور نہ ہی مجھے لگتا ہے کہ اس کے دل میں میرے لیے کوئی خاص جذبات ہیں جنہیں محبت کہا جا سکے۔”
وہ ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بولا۔
“اللہ اکبر! تو مطلب، تم اُس کے دل کی بات جانے بغیر ہی اس کے پیچھے دیوانے ہو رہے ہو؟”
مورے نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
“مورے، میں اُسے منا لوں گا۔ پیار کرنے کے لیے میں اکیلا ہی کافی ہوں۔ بس وہ میری شریکِ حیات بننے پر آمادہ ہو جائے… میرے لیے یہی کافی ہے۔”
اس نے سر کے پچھلے حصے میں ہاتھ پھیرا، بالوں کو سنوارا، اور شرماتے ہوئے مسکرا دیا۔ اسے واقعی اپنی مورے سے شرم آ رہی تھی۔ مائد نے کبھی اس انداز میں اپنی مورے سے بات نہیں کی تھی، تو یہ لمحہ اُسے بہت زیادہ قیمتی لگ رہا تھا۔ مورے اپنے بیٹے کے خوشی سے لال ہوتے ہوئے چہرے کو دیکھ مطمئن ہو گئی تھی۔
“اللہ تیری خوشیوں کو کسی کی نظر نہ لگائے۔”
مورے نے پیار سے اُس کا ماتھا چومتے ہوئے کہا۔
“میں تہجد میں اپنے اللہ سے دعا کروں گی کہ میرے بیٹے کی جھولی میں اس کی ساری خوشیاں ڈال دے۔ وہ پیاری سی بچی میرے بیٹے کے لیے اپنا دل موم کر دے… اور پھر وہ کبھی بھی میرے بیٹے کو انکار نہ کر سکے۔”
مائد نے ماں کی بات پر پورے دل سے “آمین” کہا۔
برسوں کی قید کو جب اجازت ملی۔
محبت نے سجدے میں راحت چُنی۔
°°°°°°°°°°°
مدھم سی روشنی میں توقیر خاموشی سے لاکر کے سامنے کھڑا تھا، جس کی چابی برسوں سے صرف اُس کے پاس تھی۔ ہاتھ لرزتے ہوئے جیب میں گئے، چابی نکلی، اور آہستہ سے لاکر کا تالا کھل گیا۔ اندر پڑی وہ تصویر… وہی چہرہ… جسے وہ سالوں پہلے دفنا چکا تھا، اپنے ہی ہاتھوں سے۔ وہ تصویر ہاتھ میں لی، اور ہونٹوں سے ایک ٹھنڈی سانس نکلی۔
“اگر تُو بے وفا نہ ہوتی تو آج میرے گھر کی ملکہ ہوتی!”
‘کتنی محبت سے اپنایا تھا تجھے، اور تُو نے…؟”
اس کی آواز میں زہر نہیں تھا، صرف ٹوٹا ہوا غرور تھا، خالی پن تھا۔
“کیوں کی تھی تم نے مجھ سے بے وفائی؟”
“جب تمہیں پلکوں پر بٹھا کر رکھا، تو کیوں کسی اور کے قدموں میں جا گری، کیوں میری جگہ کسی اور کو دے دی؟”
وہ تصویر پر نظریں جمائے بولا۔
“میں نے تجھے اپنے ہاتھوں سے موت کے گھاٹ اتارا، مگر آج بھی… تیری وہ سسکیاں یاد ہیں، جب تُو مر رہی تھی، تو میں بھی اندر سے مر رہا تھا۔”
وہ کرسی پر بیٹھا، آنکھیں بند کیں، اور یادوں کے دروازے پھر کھل گئے۔
“کیا یہی صلہ تھا میری چاہت کا؟”
“اتنا چاہا تجھے… اور تو نے بدذات نکل کر، سب کچھ روند ڈالا۔”
لاکر کے اندر ایک پرانا رومال بھی تھا، خون لگا ہوا… وہی رات… وہی آخری پل…
توقیر نے وہ رومال ہاتھ میں لیا، اور ایک لمحے کو لگا جیسے وہ سسکیاں پھر سنائی دے رہی ہوں۔
“مجھے بھلا کیوں نہ پایا تُو؟”
“کیا میری محبت کا یہ صلہ تھا؟”
“یا پھر میرا ہی جنون مجھے قاتل بنا گیا؟”
دیوار پر لگے آئینے میں، ایک تھکا ہارا شخص دکھائی دے رہا تھا۔ جو آج بھی اپنی “محبت” کی لاش سے لپٹا ہوا تھا۔ یہ توقیر کا وہ چہرہ تھا جو دنیا نے کبھی نہیں دیکھا… جسے وہ برسوں سے خود میں دفن کیے ہوئے تھا۔ سخت لہجہ، شیطانی شخصیت… معاشرے میں ایک بڑا نام… مگر یہاں، سٹڈی روم کی تنہائی میں ایک بے بس عاشق بیٹھا تھا… قاتل… اور پھر بھی عاشق؛
لاکر کھلا تو ساتھ ہی اس کا ضبط بھی ٹوٹنے لگا… تصویر، رومال، ایک پرانی مہک…
اور پھر وہی دردناک لمحے… وہ چیخیں… جن میں محبت تھی، بے وفائی تھی… اور موت کا سناٹا تھا…
“یہ میں تھا… یا کوئی اور؟”
“وہ رات… وہ چیخ… وہ لرزتا وجود…”
توقیر نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرے، ماضی اسے اپنی گرفت میں لے چکا تھا۔
“یہ روپ… نہیں تھا میرا… یا شاید یہی میرا اصل تھا؟”
وہ زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ آنکھوں سے نمی نہیں بلکہ پچھتاوے کا طوفان بہہ رہا تھا… اچانک اس کی سانسوں میں کپکپاہٹ آنے لگی اور ماضی کے چیخوں بھرا منظر اس کے دماغ میں قید فلم کی طرح چلنے لگا۔
“میں نے مار دیا… اپنے ہی ہاتھوں سے… اپنی زندگی کی سب سے قیمتی چیز…”
یہ وہ توقیر تھا جسے صرف اس لاکر نے دیکھا… صرف اس کمرے کی دیواروں نے سنا… اور صرف وہ خاموش تصویر جانتی تھی۔
مگر وہ محبت… محبت نہیں، ایک زہریلا خواب تھی جس کا اختتام صرف اندھیرا تھا…
توقیر، اس بچی کی معصوم باتوں پر جان وار بیٹھا تھا۔ وہ اس کے لیے دنیا سے لڑنے، سسٹم سے ٹکرانے اور عزت و رسوائی کی تمام حدیں پار کرنے کو تیار تھا مگر محبت صرف اس کی طرف سے تھی… وہ تو صرف کھیل رہی تھی… ایک خطرناک کھیل…
“جان کیسے لیں گے سائیں…؟”
یہ سوال نہیں تھا… یہ اس کے دل پر لگنے والا پہلا زخم تھا مگر اس وقت توقیر مسکرایا تھا… پیار سے… اندھا تھا نا محبت میں… اور تب، جب اس نے اس لڑکی کو کسی اور کے ساتھ دیکھا… جب اسے پتہ چلا کہ وہ صرف وقتی سہارا تھی، ایک تماشہ… تو کچھ ٹوٹا نہیں تھا… سب کچھ بکھر گیا تھا… توقیر نے اس دن خود کو مار دیاناور اس رات… اس نے اسے بھی مار دیا۔
آج سالوں بعد جب اس نے سٹڈی روم کا لاکر کھولا… وہی تصویر… وہی مہک… وہی لمحے… اور وہی سوال!
“کیوں کی تھی مجھ سے بے وفائی؟”
“جب میں نے تجھے اپنی پلکیں پر بٹھایا تھا تو کیوں میری جگہ کسی اور کو چنا؟”
“میں نے تجھے اپنے ہاتھوں سے مارا… پر خود بھی تو مر گیا تھا اس دن…”
دیواروں نے یہ سنا… مگر دنیا نے نہیں… یہ توقیر کا راز تھا… ایک ایسا روپ… جو صرف اس لاکر میں دفن تھا اور اب بھی اس کی ہر چیخ… اس کے دل میں گونجتی تھی… خاموشی کے ساتھ۔
سٹڈی روم کی مدھم روشنی میں سگریٹ کا دھواں دائرے بناتا ہوا، ہوا میں تحلیل ہو رہا تھا۔ توقیر آنکھوں میں تھکی ہوئی نمی لیے، ماضی کی خاک میں دفن ایک چہرے کو یاد کر رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں تھما سگریٹ لرز رہا تھا۔ جیسے ہر کش، اس کے دل کے زخم پر رکھا ہوا نمک ہو۔ آنکھوں میں سرخ ڈورے، گردن ڈھلکی ہوئی، اور انگلیاں کانپتی ہوئی۔ تبھی دروازہ زور سے کھلا… قدسیہ… سرخ آنکھیں، کڑک لہجہ، اور تپتی سانسیں لیے کمرے میں داخل ہوئی… اس نے ایک جھٹکے سے ساری لائٹس آن کر دیں… کمرے کی دیواریں جو لمحہ بھر پہلے خاموش راز سن رہی تھیں، اب چیخ اٹھیں۔
“مر گئی ہے وہ… اور دھوکہ دے کر مری ہے!”
“اب اس کی میت کی ہڈیاں تک مٹی ہو چکیں ہوں گی… اب تو آنسو بہانا بند کرو…!”
توقیر نے نظریں نہیں اٹھائیں… آنکھیں وہیں، تصویر کے فریم پر جمی تھیں… ایک ایسی تصویر… جو اس کے دل کے ساتھ جُڑ چکی تھی۔ قدسیہ غصے میں کانپ رہی تھی، اس کے چہرے کی نسیں ابھر چکی تھیں۔
‘آپ کے لیے تو ڈوب مرنے کا مقام ہے!”
“نکاح میں ہوتے ہوئے وہ چکر چلاتی رہی اور آپ آج بھی دیوداس بنے ہوئے ہو… شرم آنی چاہیے…!”
توقیر بڑبڑایا۔
“فلحال تم یہاں سے چلی جاؤ… میں کچھ نہیں سننا چاہتا…”
قدسیہ نے اس کی نقل اتارتے ہوئے طنز سے ہاتھ ہلایا۔
“آہا ہا… میں کچھ نہیں سننا چاہتا…”
“شرم کرو… ڈوب مرو… گھر میں آگ لگی ہے، زیغم ہمیں جینے نہیں دے رہا…”
اس کے لہجے میں کرب بھی تھا، بے بسی بھی۔
“بیٹی کی زندگی اجڑی پڑی ہے… ہمارےبیٹے کو لے جا کر پرانی نوکروں والی حویلی میں پھینک آیا ہے… دوسرے بیٹے کو جھوپٹ پٹی میں بیاہ کر، ایک الو کی پٹھی سے شادی کروا دی ہے… جس کی زبان گز بھر کی ہے!”
قدسیہ نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ اس کی انگلی، توقیر کے سینے پر تھی اب۔
“ہماری نواسی کو چھین کر اپنی دوسری بیوی کو دے دی ہے… ہمارے بیٹے سے اپنی بہن کو طلاق دلوائی، اور اب کہیں چھوڑ آیا ہے… اور تم… محبتیں نبھا رہے ہو… پرانی معشوقہ کو یاد کر کے بیٹھے ہو!”
توقیر کی آنکھیں دھندلا گئیں… سگریٹ ہاتھ سے گر گیا… کمرے میں خاموشی کا راج پھر سے لوٹ آیا… بس قدسیہ کی سانسیں گونج رہی تھیں اور ماضی جو وہ ایک بار پھر تازہ ہو چکا تھا۔ ہوا سے پردہ ہلکا سا ہلا، جیسے وقت خود یہ منظر چھپانا چاہتا ہو۔ سٹڈی روم میں دھیمی روشنی اور خاموشی کی فضا، آج برسوں بعد توقیر کے چہرے پر وہ غصہ لے آئی تھی جو کب کا مر چکا تھا۔ قدسیہ کے طنز اور طوفان کے جواب میں اس بار وہ خاموش نہ رہا۔ دھڑاک سے کرسی پیچھے دھکیلی اور جھرجھری سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“میں اگر دس منٹ کے لیے اس اسٹڈی میں آ کے بیٹھ گیا ہوں تو بتاؤ ان دس منٹ میں میں نے کون سا قلعہ فتح کر لینا تھا؟”
“یہ بتا، چین سے جینے کیوں نہیں دیتی؟”
“مر گئی ہے وہ… اور رب کی قسم… اگر زندہ ہوتی تو میرے دل پر راج کر رہی ہوتی… اور تجھے میں وہاں پہنچا دیتا جہاں آج وہ ہے!”
توقیر کا چہرہ تناؤ سے سرخ، آنکھیں انگارے بنی ہوئی تھیں۔
قدسیہ نے تنفر سے کہا۔
“جلتی ہے میری جوتی!”
“زندہ ہوتی تو کیسے زندہ ہوتی؟”
“بے وفا، بدذات لڑکی تھی… جس نے تم سے عشق کیا اور پھر دولت دیکھ کر آگے بڑھ گئی… اگر جیتی رہتی تو نجانے کتنے مردوں سے عشق لڑا چکی ہوتی… بڑے آئے، باتیں سنانے والے!”
وہ تلخی سے آگے بڑھی۔
“اور اب، یہ عشق کا بھوت اتار دو دماغ سے!”
“مجنوں صاحب باہر آ جاؤ… کھانا بنایا ہے، آ کر ٹھوس لو ورنہ زیغم کا دماغ پھر گیا تو کھانے کی جگہ گولیاں کھلا دے گا ہمیں!”
وہ جلتی ہوئی نظروں اور بھاری قدموں کے ساتھ باہر نکل گئی۔ توقیر بس خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ اس کے ہاتھوں میں وہی مخصوص راز تھا جو برسوں سے اس لاکر میں دفن تھے۔ قدسیہ کے جاتے ہی، اس نے ان چیزوں کو آہستگی سے دوبارہ لاکر میں رکھ دیا اور دروازہ بند کرتے ہوئے جیسے ماضی کی صدیوں پر دوبارہ قفل لگا دیا… بلکل خاموشی… بس دھڑکنوں کی صدا باقی رہ گئی تھی…
گزرے وقت کی درد زدہ یادوں کو دل میں سمیٹے، آنکھوں میں نمی اور لہجے میں سلگتا غصہ لیے، توقیر خاموشی سے سٹڈی روم کا دروازہ بند کر گیا۔ ایک آخری نظر ان یادوں پر ڈالی، پھر جیسے سینے پر پتھر رکھ کر پلٹا۔ قدسیہ کے لیے تلخی لیے، قدم باہر کی جانب اٹھا دیے مگر دل ابھی بھی وہیں، اس لاکر کے اندر قید تھا۔
°°°°°°°°
“اب میری طبیعت ٹھیک ہے، تم جاؤ ہاسپٹل۔”
ملیحہ، زرام کی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے، اسے جانے کو بول رہی تھی۔
“کیوں؟”
“میری نظروں کی تپش برداشت نہیں ہو رہی؟”
تھوڑا سا قریب ہوتے ہوئے، گمبھیر آواز میں کہا۔ وہ شرما کر پیچھے ہوگئی۔
“زیادہ شوخے ہونے کی ضرورت نہیں ہے!”
سینے پر انگلی رکھتے ہوئے، اسے پیچھے کو دھکیلتے ہوئے، نظریں چرا کر کہا۔
“شوخے…”
وہ مسکرایا تھا۔
“ایسے کون بولتا ہے اپنے شوہر کو؟”
“میں بولتی ہوں… اور میں ایسی ہی ہوں… کیونکہ مڈل کلاس نہیں… تھرڈ کلاس فیملی سے تعلق رکھتی ہوں تو میری لینگویج ایسی ہے۔”
“کچھ دیر پہلے ہی تو تمہاری اماں جان میری تعریف میں اتنا کچھ بول کے گئی ہیں… ابھی تک تمہیں پتہ نہیں چلا کہ میری لینگویج کیسی ہو سکتی ہے؟”
ملیحہ کے دل سے ابھی تک اس کی ماں کی باتیں گئی نہیں تھیں، تو ایک تلخ جملہ اور حقیقت اس کے سامنے رکھتے ہوئے، بیزاری سے کہا۔
“میری طرف دیکھو…”
“مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم کہاں سے تعلق رکھتی ہو، تم میری جان ہو… محبت ہو… عشق ہو… اور جہاں پر جس حد سے آگے نہ کچھ دکھائی دے… نہ سنائی دے… وہ جنون ہو!”
“ایسا جنون جو میرے حواسوں پر چھایا ہوا ہے… ایسا جنون جس میں میں ایک سیکنڈ کے لیے بھی تمہیں خود سے دور کرنے کے بارے میں سوچتا ہوں تو سانسیں گھٹنے لگتی ہیں!’
‘تم صرف میری محبت پر دھیان رکھا کرو… چھوڑ دو کہ باقی لوگ کیا سوچتے ہیں… تمہاری تیکھی زبان سے محبت ہے مجھے!”
“تمہارے اکڑو لہجے سے محبت ہے!”
‘تمہاری ہر ادا… ہر نخرے… ہر بے ساختہ ہنسی سے محبت ہے!”
“کیوں کرتے ہو مجھ سے اتنی محبت؟”
“مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اتنی محبت، وہ بھی مجھ جیسی عام سی لڑکی کے ساتھ؟”
ملیحہ اس کی محبت میں کمزور پڑنے لگی تھی، گہری نظروں سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے وہ دل کی بات بول گئی تھی۔
“کیوں کرتا ہوں اتنی محبت؟”
“اس لیے کرتا ہوں کہ میں دل کے ہاتھوں مجبور ہوں!”
“اس لیے کرتا ہوں کہ تم مجھے اچھی لگتی ہو!”
اس کے چہرے پر آئے ہوئے بالوں کی لٹوں کو انگلی سے ہٹاتے ہوئے اس نے گہری نظروں سے کہا۔
“میں اتنا کچھ بولتی ہوں، تمہیں مجھ پر غصہ نہیں آتا؟”
ملیحہ نے سوال کیا، اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے۔
وہ مسکرایا۔
“ہائے… میری سپائسی چلی!”
“غصہ ان پر کیا جاتا ہے جن پر دل غصہ کرنا چاہے، اور جن سے دل محبت کرے، ان پر کبھی غصہ نہیں کیا جاتا۔ میں چاہوں تب بھی تم پر غصہ نہیں کر سکتا۔”
شرارتی نظروں سے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے، وہ کہہ رہا تھا۔
“بس! ہو گیا تمہارا ٹھرکی پن شروع!”
ملیحہ نے گھور کر کہا۔
“جانِ من اس کو ٹھرکی نہیں، اس کو محبت کرنا کہتے ہیں!”
وہ مجنوں سٹائل میں بولا، کالر کو پکڑ کر خود کو داد دیتے ہوئے۔
“جانِ من… کہاں سے لاتے ہو ایسے ورڈز؟”
“جانِ من، آج کل کے دور میں ایسے ورڈز کون یوز کرتا ہے؟”
ملیحہ نے حیرانی سے کہا۔
“حد ہے یار، میں یوز کرتا ہوں، اور کتنا یونیک لگتا ہے جانِ من۔”
وہ مسکرا کر بولا۔
“مجھے تو چیپ لگتا ہے!”
ملیحہ نے شکایت کی۔
“یار، تمہیں تو ہر چیز چیپ لگتی ہے!”
“کل کو ہمارے پیار کی نشانیاں، ہمارے بچے دنیا میں آئیں گے، تم کہو گے تمہیں تو وہ بھی چیپ لگتے ہیں!”
وہ ہنستے ہوئے بولا۔
“جی نہیں، مجھے اپنے بچے پیارے لگیں گے، مجھے تو اپنے بچے چیپ نہیں لگیں گے!”
وہ بے اختیار بول گئی، اور پھر زبان کو دانتوں تلے دباتے ہوئے آنکھیں بند کر گئی۔ اسے خود نہیں پتہ تھا کہ وہ کیا بول گئی تھی۔
“ہائے… میری جان کو اپنے بچوں کے نام پر بہت غصہ آیا ہے!”
زارم کو موقع مل گیا تھا اسے تنگ کرنے کا۔
“پلیز، زرام چپ ہو جاؤ!”
ملیحہ نے شرما کر اسے روکا۔ وہ ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپاتے ہوئے چھپ جانا چاہتی تھی مگر زرام کی نظریں اسے مسلسل شرمانے پر مجبور کر رہی تھیں۔ نظروں کی تپش کو اپنے چہرے پر بخوبی محسوس کر رہی تھی۔
“چہرے سے ہاتھ تو ہٹاؤ سپائسی چلی، مجھے تمہیں دیکھنا ہے، تم شرماتے ہوئے کیسی لگتی ہو؟”
وہ زبردستی اس کے ہاتھوں کو ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا، مگر ملیحہ شرم کے مارے ہاتھ ہٹانے کو تیار نہیں تھی۔
“تم جاؤ، ویلے فری کے ڈاکٹر ہو، جا کر ہسپتال میں اپنے مریضوں کی خدمت کرو، یہاں پر گھر پر پڑے ہوئے ہو!”
“چلا جاؤں گا، مگر اپنی مرضی سے، اور ویسے بھی گھر پر بھی میرے مریض تھے جن کو چیک کرنے آیا تھا۔ میرے مریض کی ہارٹ بیٹ بہت تیز تھی، مگر مجھے لگتا ہے کہ میرے آنے سے میرے مریض کی حالت زیادہ سیریس ہو گئی ہے۔”
وہ شرارتی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
“لگتا ہے اب سپیشل ٹریٹمنٹ دینا پڑے گا!”
وہ شوخ نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا۔
“تم جاؤ یہاں سے، مجھے تمہارا کوئی ٹریٹمنٹ نہیں چاہیے!”
“بڑے آئے، مجھے ٹریٹمنٹ دینے والے!”
اب ملیحہ سے مزید بحث کرنا مشکل ہو رہا تھا، مگر وہ بلیحہ تھی، ہار ماننے والوں میں نہیں، اس لیے ضدی انداز میں بولے جا رہی تھی۔
“کچھ کھانے کو آرڈر کروں؟”
اس کی شرم کو کم کرنے کے لیے زرام نے جلدی سے کہا۔
“نہیں، مجھے بھوک نہیں ہے!”
“ہاتھ ہٹاؤ، چہرے سے، بھوک نہیں ہے؟”
“تمہاری پسند کا کھانا کھلاؤں گا، بھوک لگ جائے گی!”
“بتاؤ، پیزا آرڈر کروں یا زنگر برگر؟”
“جلدی بتاؤ، جلدی! آفر محدود مدت کے لیے ہے!”
“تمہیں شرم نہیں آتی، ڈاکٹر ہو کر مجھے انہیلدی کھانا کھلانے کا مشورہ دے رہے ہو؟”
“اور اوپر سے میں بیمار ہوں!”
“انہیلدی کھانا؟”
وہ اس کی نقل اتار رہا تھا۔
“اب تمہارے پیار کو پانے کے لیے رشوت تو دینی پڑے گی نا!”
“اور کوئی بات نہیں، میں تمہیں دوائیاں دے کر خود ٹھیک کر لوں گا!”
“اچھا جی، تو تم میرا پیار پانے کے لیے مجھے رشوت دے رہے ہو؟”
“ہاں جی، اور نہیں تو کیا؟”
“تمہیں میرا پیار اتنا سستا لگتا ہے کہ ڈاکٹر زرام صاحب، کہ میں ایک پیزا یا زنگر برگر کے بدلے میں وہ تمہیں دے دوں گی؟”
“چلو ڈیل بڑھا دیتے ہیں!”
“ساتھ میں کوک بھی منگوا دوں گا!”
“اور بھی کچھ چاہیے تو بتاؤ، مگر پہلے سے بتا رہا ہوں، پاکستانی کولا منگوا کر دوں گا کیونکہ کسی بھی اسرائیلی برانڈ کو میں سپورٹ نہیں کرتا!”
“کرنا بھی نہیں چاہیے! گھٹیا لوگوں نے جو گھٹیا پن کرتے ہوئے ہمارے معصوم مسلمانوں کا قتل کیا ہے۔ اس کے بدلے تو اگر ان کی نسلیں بھی ختم کر دی جائیں تو کم ہے!”
“اللہ کا عذاب نازل ہو ان سب پر!”
ملیحہ جذباتی ہو گئی تھی۔
“انشاءاللہ، اللہ کا عذاب ان پر نازل ضرور ہوگا، اور ان پر بھی جو خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ہمارے بس میں جتنا ہے وہ تو کر سکتے ہیں، ہم ان کے کسی بھی برانڈ کو سپورٹ نہیں کریں گے!”
“جو مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی ہو رہی ہے، اس پر ہمارا غصہ اور درد بالکل جائز ہے۔ ہم نہیں بھول سکتے کہ بے گناہ افراد کی جانوں کے ساتھ جو کھیل کھیلا گیا ہے، وہ انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم ہے۔ ان معصوموں کے خون کے قطرے کا حساب ہمیں لینا ہے۔ ہم اپنے ضمیر کی آواز پر عمل کرتے ہوئے ایسے برانڈز اور کمپنیوں کا بائیکاٹ کریں گے جو ایسے گھٹیا پن کو سپورٹ کرتے ہیں۔ اس ظلم کے خلاف ہمارا ایک آواز بن کر اٹھنا ضروری ہے، اور ان برانڈز کو بتانا ضروری ہے کہ ہم ایسے غیر اخلاقی عمل کو برداشت نہیں کریں گے۔”
“مگر ذرام اب ہمارے یہ سب کرنے سے کیا معصوم فلسطینیوں کا جو خون بہا ہے، اس کا ازالہ ہو سکے گا؟”
ملیحہ نے درد زدہ لہجے میں پوچھا۔
“نہیں ازالہ تو نہیں ہو سکتا، مگر ہم اپنے ضمیر کی آواز پر یہ کر کے رب کی بارگاہ میں یہ تو بتا سکتے ہیں کل کو، کہ جو ہمارے بس میں تھا، وہ ہم نے کیا، اور اللہ تعالی سزا اور جزا پر بہترین حکمت رکھنے والا ہے۔ یہ جو زمینی خدا بنے ہوئے ہیں، ان کو بدترین انصاف سے جب نوازا جائے گا تو پھر ان کی روحیں کانپ جائیں گی، اور بے شک اللہ تعالی ظلم کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں فرماتا۔”
“اللہ تعالی کا فرمان ہے: میں کبھی ظلم کرنے والوں کو معاف نہیں کرتا۔”
“وہ جو مظلوموں اور بے زبانوں پر ظلم کرتے ہیں، ان کا حساب اللہ کی عدالت میں ضرور ہوگا۔ ان کی ظلمتیں کبھی بھی معاف نہیں کی جائیں گی، کیونکہ اللہ تعالیٰ انصاف اور عدل کا علمبردار ہے۔”
“بے شک…”
ملیحہ نے کہا۔
“چلو میں ابھی تمہارے لیے پیزا اور برگر دونوں ہی آرڈر کرتا ہوں، جو دل چاہے وہ کھا لینا!”
وہ پیار سے کہتے ہوئے موبائل پر نمبر ڈائل کرنے لگا تھا۔
ملیحا پیار بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ کتنا سنسیر تھا اس کے لیے۔ سچ میں اس سے بہت محبت کرتا تھا۔ ملیحہ کے دماغ میں اب بھی شہرام کا نام گردش کر رہا تھا مگر ذرام سے بہت مختلف تھا۔ اس حقیقت کو وہ جھٹلا نہیں سکتی تھی، بے شک وہ ایک غلط گھر میں پیدا ہو چکا تھا مگر اس کی سوچ منفی نہیں تھی۔ وہ ٹک ٹکی باندھے اسے دیکھ رہی تھی، زرام کی نظر اس پر پڑی تو آنکھ کے اشارے سے پوچھا کہ کیوں دیکھ رہی ہے؟
اس نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر کو ہلایا۔
“جب محبت ہو جائے تو اسے چھپایا نہیں جا سکتا، کیونکہ میری جان، محبت کا یہ احساس دل میں چھپانا صرف مشکل نہیں، بلکہ ناممکن ہے۔”
وہ ملیحہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے، اپنے جذبات کو واضح اور سچائی کے ساتھ بیان کر رہا تھا۔ ملیحہ اس کی سچائی بھرے لفظوں کو سنتے ہوئے شرما گئی، اور بغیر کچھ کہے، اس کے کندھے سے سر ٹکا کر خاموش ہو گئی۔ وہ اس کے گرد بازوؤں کا حصار بناتے ہوئے، محبت سے اسے اپنے قریب رکھے ہوئے تھا۔
°°°°°°°°
“مہرو…”
“جی؟”
“میرے پاس آؤ۔”
زیغم نے ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑے ہوتے ہوئے نرمی سے مہرو کو بلایا، جو بیڈ کے کنارے پر پڑا ہوا بیڈ کور ترتیب سے سیٹ کر کے رکھ رہی تھی۔ زیغم کے بلانے پر نرمی سے قدم اٹھاتے ہوئے، نظر جھکائے، سر پر دوپٹہ ترتیب سے سنوارتی، اس کی جانب بڑھی، تھوڑا فاصلہ رکھ کر رک گئی۔
جی…”
“سائیں کی جان تمہاری اس ‘جی’ پر سائیں کا قربان ہونے کو دل چاہتا ہے!”
زیغم نے مخصوص نظروں سے ہاتھ سے پکڑ کر قریب آنے کو کہا۔
“پاس آنا اسے کہتے ہیں، ایسے ڈر کر دور کھڑی رہتی ہو جیسے میں تمہیں کھا جاؤں گا۔”
“میں ڈرتی نہیں ہوں۔”
معصومیت سے جواب دیا۔
“اچھا، تو پھر کیا پیار کرتی ہو؟”
“نن، ن، نہیں نہیں، میں نے ایسا تو نہیں کہا۔”
وہ لفظوں کو توڑتے ہوئے گھبرا کر بولی تھی۔
“کاش کہہ دیتی کہ ہاں میں پیار کرتی ہوں!”
وہ قہقہہ لگا کر ہنسا تھا۔
“اچھا، چلو میرے ہونٹ پر لگے ہوئے کٹ کو ڈریسنگ کر دو، مطلب صاف کر دو، ویسے تو میں یہ خود بھی کر سکتا تھا، مگر مجھے لگتا ہے تمہارے ہاتھوں سے مجھے سکون ملے گا۔”
وہ شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے، ڈریسنگ پر رکھے میڈیکل باکس کو کھول کر، روئی اور صفائی کے اجزا اس کے ہاتھ پر تھماتے ہوئے بولا۔ مہرو نے ہاں میں سر ہلایا، نظریں چراتی ہوئی، ہاتھ بڑھا کر، اس کے بتائے ہوئے طریقے سے زخم صاف کرنے لگی، مگر نظریں بالکل زیغم کے چہرے پر نہیں تھیں۔
“ادھر دیکھو، ایسے کیسے لگاؤ گی؟”
زیغم نے نرمی سے کہا۔ مسکراہٹ اس کے لبوں پر بکھرتی، جان لیوا حد تک اسے خوبصورت بنا رہی تھی۔ ابھی مہرو بیچاری اس کے ہونٹوں کی جانب دیکھنے کی ہمت اکٹھی کر رہی تھی، کہ زیغم نے ہنستے ہوئے، اس کے شرم و حیا سے لطف اندوز ہونے کے لیے، اس کی کمر پر دونوں بازو لپیٹ لیے، اور خود کو تھوڑا سا نیچے جھکا کر، اپنے ہونٹ اس کے چہرے کے مقابل کیے۔
“یہاں لگا ہے کٹ، دیکھو ذرا غور سے!”
مہرو کی پلکیں تھرتھرا اُٹھی تھیں، ہاتھ کانپنے لگا تھا۔ اس نے روئی پر دوا لگا کر ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا، مگر صاف کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ دل دھک دھک دھک کرتا، باہر آنے کو بے قرار تھا۔ جب بھی زیغم اس کے قریب آتا، وہ تو اپنی دھڑکنوں سے تنگ آ جاتی تھی، جو اتنا شور مچاتی کہ مہرو کے لیے سنبھالنا مشکل ہو جاتا تھا۔
“آپ یہ نہ کریں…”
“کیا نہ کروں؟”
“یہاں سے ہاتھ ہٹا لیں…”
وہ کمر سے ہاتھ ہٹانے کی بے جا کوشش کر رہی تھی، مگر اس وقت وہ، اپنے معصوم دکھنے والے مضبوط شوہر کی گرفت میں تھی، ایسا ممکن نہیں تھا، محبت کا حصار بڑی سختی سے باندھ رکھا تھا۔ زیغم کی نظر اس کے چہرے پر مرکوز تھی۔
“جب تم شرماتی ہو نا، لگتا ہے ساری دنیا رک گئی ہے، تم اپنی دھڑکنیں تو بے ترتیب کرتی ہو، اور شرما کر مجھے بھی ہوش و حواس سے بیگانہ کر دیتی ہو!’
وہ سرگوشی میں بول رہا تھا۔ مہرو کے دل کی دھڑکنوں میں مزید ہلچل مچ گئی۔ مہرو نظریں جھکائے کھڑی تھی، مگر اس کے چہرے پر آتی ہوئی لالی، اور پلکوں کی تھرتھراہٹ صاف ظاہر کر رہی تھی، کہ وہ زیغم کے کمر پر رکھے ہوئے ہاتھوں کے لمس، اور اس کی محبت بھری قربت سے کس قدر متاثر ہو رہی ہے، کہ اس سے اپنے دل کی دھڑکنیں نہیں سنبھالی جا رہیں۔
“جلدی سے اور دوا لگا دو، ورنہ پھر یہیں پر کھڑا رہنا پڑے گا، تم شرماتی رہنا اور میں تمہیں دیکھتا رہوں گا!”
مہرو نے بڑی ہمت جمع کرتے ہوئے، مشکل سے لڑتے ہوئے ہاتھ کے ساتھ، اس کے چہرے پر بمشکل دیکھا، زیغم گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ بڑی مشکل سے، ہونٹ کے کنارے کو روئی سے صاف کرتے ہوئے، انگلی کی مدد سے کٹ پر دوا لگائی، یہ کام مہرو کے لیے کتنا مشکل تھا، یہ صرف وہی جانتی تھی۔ دل دھڑک رہا تھا، اور ایک عجیب سی دھند اس کے گرد بنائے جا رہا تھا، مگر وہ دوا لگا چکی تھی۔
“ہو گیا؟”
اس نے دھیمی سی آواز میں پوچھا۔
“جی…”
مہرو نے سر ہلایا، اور ہاتھ پیچھے کرنے لگی، مگر زیغم نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
“شکریہ میری پیاری سی نرس صاحبہ!”
اس کے انداز میں محبت تھی، شوخی نہیں، اور وہ نظر جھکائے، دل تھامے، وہیں سخت کھڑی رہی۔
“اس طرح کے چھوٹے موٹے احسان کر دیا کرو، غریبوں کی جھولی میں محبت ڈالنے سے کم نہیں ہوتی، بلکہ بڑھ جاتی ہے!”
وہ شوق بھری نظروں سے کہتے ہوئے اس کے قریب ہوا تھا۔ مہرو اس سے چھپنے کے لیے، دھڑکتے دل کی آواز میں خود کو سنبھال نہ پائی، تو جلدی سے سر، اس کے سینے سے ٹکا کر چھپ گئی۔
“سرکار، کا انداز کافی جان لیوا ہے…”
اس کے انداز پر وہ مسکراتے ہوئے قہقہہ لگا کر ہنسا، اور اس کے گرد گرفت مضبوط کرتا چلا گیا۔
“مہرو میں اگلے دو دنوں میں ہمارا ولیمہ طے کر رہا ہوں!”
“ذرام اور ملیحہ کا ولیمہ، اور ساتھ میں تمہارا، میرا۔”
“اور بتا دو، تم اپنے ولیمے کا ڈریس خود لوگی یا مجھے حق دو کہ میں لے آؤں؟”
‘آپ ہی کر لیں…”
پسینے میں بھیگی آواز میں آہستہ سے بولی۔
“ٹھیک ہے، پھر میرا ڈریس تم سلیکٹ کر لینا!”
“میں کیسے کر سکتی ہوں؟”
“جیسے میں کروں گا!”
“مگر آپ تو بہت سمجھدار ہیں، آپ کو تو سب پتہ ہے نا… مہرو کو کچھ نہیں پتہ، میں کیسے کر سکتی ہوں؟”
“مہرو کے ساتھ زیغم ہے نا، کہیں پر بھی مہرو کو ڈگمگانے نہیں دے گا!”
“تم پسند کرنا… میں تمہاری مدد کروں گا اور تم جو بھی میرے لیے پسند کرو گی، میرے لیے وہ سب سے زبردست ہوگا!”
“اور خود کو کم تر سمجھنا چھوڑ دو یار، زیغم سلطان کی بھی بیوی… زیغم سلطان کی محبت ہو، تو کمتر نہیں ہو سکتی۔ انمول ہو تم… سب سے الگ… سب سے بہتر!”
وہ اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے، اس کے ساتھ بیٹھ کر کچھ ویب سائٹ پر آن لائن ڈریسز وغیرہ دیکھنے لگا تھا۔ کب وہ موبائل سکرین پر دیکھتے دیکھتے، اس کے کندھے پر سر رکھتے، اس کے قریب ہوتی چلی گئی، اسے اندازہ نہیں ہوا تھا، مگر زیغم کو اچھی طرح سے سب نظر آ رہا تھا۔ اس کے لب مسکرا رہے تھے مگر وہ تو کپڑے دیکھنے میں مگن تھی۔ پیار سے اس کے گرد ایک بازو رکھے ہوئے تھا، اور وہ اس کے کندھے پر سر ٹکائے بیٹھی تھی، کیا حسین منظر تھا!
°°°°°°°°°
کبھی کبھار قدرت کسی بند دروازے کے پیچھے دل کی سب سے بڑی خواہش رکھ دیتی ہے… اور انجانے میں ہمارے قدم اس طرف چل پڑتے ہیں۔ دروازہ…ل تو صرف ایک بہانہ ہوتا ہے… اصل میں قسمت اسی دروازے کے پیچھے ہمیں ملانے کے بہانے ڈھونڈ رہی ہوتی ہے۔
رات کو لیٹ سونے کی وجہ سے سب کی آنکھ تھوڑی لیٹ ہی کھلی تھی۔ موسم کافی بدل چکا تھا، گرمی بڑھنے لگی تھی تو مورے نے دانیہ سے کہا کہ وہ اسٹور روم میں بڑا والا کمبل رکھ کر، نرم اور پتلا کمبل لے کر آئے، تاکہ رات کو گرمی محسوس نہ ہو۔ دوپہر کی نرم دھوپ، صحن کی خاموشی، اور اندرونی ہال میں فلحال سناٹا تھا… کیونکہ ملازموں نے بھی ان کو جگانا مناسب نہیں سمجھا تھا۔ رات کو سب لوگ کافی لیٹ سوئے تھے، اور آغا جان تو شاید صبح کی نماز ادا کر کے پھر سے سو گئے تھے۔ بڑی سی حویلی کے اندر ابھی تک کسی طرح کی کوئی آواز نہیں تھی… صرف مورے اٹھی تھی، اور مورے نے بھی دانیہ کو کمبل کے لیے بھیجا تھا۔ وہ اپنے روم میں تھی۔ دانیہ جیسے ہی اسٹور روم میں گئی، ہاتھ میں پکڑا ہوا کمبل نیچے رکھا اور اونچی شیلف کی طرف ہاتھ اٹھایا۔ کونے تک پہنچی تھی کہ پیچھے سے دروازے کی چرچراہٹ ابھری۔ اس نے پلٹ کر دیکھا… اور اس کے سمجھنے سے پہلے ہی دروازہ دھک سے بند ہو چکا تھا۔
“اوہ ہو… دروازہ کیسے بند ہو گیا؟”
وہ غصے سے بڑبڑائی تھی۔
ایک تو اسے ویسے ہی اسٹور روم سے ڈر لگتا تھا… بیچاری نے شرم کے مارے مورے کو نہیں بتایا تھا کہ اسے ڈر لگتا ہے۔ اچانک دروازہ بند ہو جانے پر وہ کافی گھبرا گئی تھی۔ تیزی سے قدم بڑھاتے ہوئے ہینڈل کو گھمایا، خوب زور لگایا… مگر وہ تو جیسے جام ہی ہو گیا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں پسینے آنے لگے تھے، عجیب، گھبراہٹ سی ہونے لگی تھی۔
“مورے… دروازہ شاید بند ہو گیا ہے… کھولیں… لاک کام نہیں کر رہا…”
وہ اندر سے زوردار آواز میں بولی، مگر مورے کا روم دور تھا، وہاں تک آواز نہیں جا رہی تھی۔ دوسری جانب پوری طرح سے خاموشی تھی۔ اس کی آواز میں مزید پریشانی اور گھبراہٹ پیدا ہونے لگی تھی۔
“کوئی ہے؟”
“پلیز… دروازہ کھولیں… میں اندر بند ہو گئی ہوں…”
اندر مدھم روشنی تھی، مگر اسے تو گھپ اندھیرا ہی محسوس ہو رہا تھا۔
اور اس کی اپنی آواز اسٹور کے روم میں گونج کر اس کے لیے ڈراؤنا ماحول پیدا کر رہی تھی۔ تیز سانس، تیز دھڑکن، اور دل کا انجانا سا خوف سب مل کر اُتھل پتھل کا طوفان پیدا کر رہا تھا مگر دوسری جانب قسمت… ان کو ملانے کے بہانے ڈھونڈ رہی تھی۔
باہر… مائد خان، اسٹڈی روم سے نکلا تو دانستہ قدم صحن کی جانب موڑے۔ اسے معلوم تھا آج دانیہ کا بھائی صاحب، زیغم سلطان اسے لینے آ رہا ہے۔ چونکہ اس نے کل ہی کہہ دیا تھا کہ وہ دانیہ کو صبح لے جائے گا… اور وہ اس سے اپنے دل کی باتیں کرنا چاہتا تھا… دل کا حال سنانا چاہتا تھا۔ وہ تو بہانہ ڈھونڈ رہا تھا رات سے کہ کب کو تھوڑا سا موقع ملے، اور وہ دانیہ سے اپنے دل کی بات کہے۔ برسوں سے دل میں سنبھالی ہوئی محبت کو اس کے سامنے ظاہر کرے مگر اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ مورے کے روم سے دانیہ کو باہر کیسے بلائے…
اور مورے کے پاس ہوتے ہوئے دانیہ سے دل کی بات کہنا آسان نہیں تھا اور تمیز و تہذیب کے بھی خلاف تھا مگر اچانک… اسٹور کی سمت سے ایک مدہم سی دستک، ایک گھبرائی ہوئی آواز سنائی دی…
“کوئی ہے؟”
“پلیز… دروازہ کھولیں!”
مائد کے قدم رک گئے… اس کے سینے میں دھڑکتے ہوئے دل نے شکر کا سجدہ ادا کیا تھا۔
“اللہ… تیرا شکر ہے… تو دلوں کی سنتا ہی نہیں… سمجھتا بھی ہے۔”
“جب بھی دیتا ہے چھپڑ پھاڑ کر دیتا ہے، یہ کہاوت پر آج یقین کرنے کو دل چاہ رہا ہے۔”
“میں تو صرف ایک موقع چاہتا تھا… تو نے تو مجھے ملنے کا بہانہ خود سے ہی دے دیا…”
وہ تیزی سے اسٹور کی طرف بڑھا، لب مسکرا رہے تھے۔گورا رنگ جس پر سرخیاں ڈھلنے لگی تھیں۔ دروازے پر پہنچا، ہینڈل پکڑ کر گھمایا… لاک واقعی پھنس گیا تھا مگر اندر سے آتی ہوئی دانیا کی گھبرائی ہوئی آواز… اس کے اندر کی ہر دھڑکن کو بیدار کر گئی تھی۔
“دانیہ… تم اندر ہو؟”
“جی… دروازہ بند ہو گیا… کھل نہیں رہا… پلیز کچھ کریں…”
دروازے کے پیچھے سے وہی نرم، ڈری ہوئی آواز آئی۔
مائد نے پوری طاقت سے دروازہ کھولنے کی کوشش کی، مگر ہاتھ رک گئے۔ وہ لمحہ بس اس کے لیے رُک سا گیا تھا۔
“میں چاہوں تو فوراً دروازہ کھول سکتا ہوں… مگر کیا یہ لمحہ کبھی واپس آئے گا؟”
“کیا دروازہ کھولنے کے بعد تم میری بات سننے کی روادار ہوگی؟”
دل میں سوچتے ہوئے اس نے پیشانی دروازے سے ٹکا دی اور آنکھیں بند کر لیں…
“اے وقت… ذرا تھم جا…”
“محبوب سے ابھی ایک بات کرنی ہے…”
“میرا دل… جو برسوں سے سناٹا جھیل رہا… آج شاید وہ بول کر تمہیں سُنائے گا…”
وہ اپنے دل سے دل کی بات کرتے ہوئے… نرمی سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھا۔
“تھینک یو سو مچ کہ آپ نے دروازہ کھول دیا، میری تو سانسیں بند ہو رہی تھیں…”
وہ گہری سانس لیتے ہوئے جلدی سے سائیڈ پر رکھے کمبل کو اٹھانے لگی۔ ایک لمحے کو وہ پلٹی بھی نہیں، بس وہ جلدی سے کسی بھی طرح سے وہاں سے نکل کر جانا چاہتی تھی۔ دھڑکنیں تو پہلے ہی ڈر اور خوف سے الجھی ہوئی تھی۔
مائد نے خاموشی سے دروازہ بند کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔
“پلیز! دروازہ مت بند کیجیے گا… یہ دوبارہ نہیں کھلے گا!”
وہ تیزی سے بولی، آواز میں ہلکی سی گھبراہٹ بھی تھی، مگر مائد خان دروازہ بند کر چکا تھا۔ پلٹ کر اس نے مسکراتی نظروں سے دانیا کی طرف دیکھا، انداز ایسا جیسے اس کی پریشانی بے معنی ہو۔
“کوئی بات نہیں… اگر دروازہ بند ہو جائے، یا نہیں کھلے گا… تو بھی کیا فرق پڑتا ہے؟”
مائد خان نے بے فکری سے کہا، مگر اس کی گہری نظریں دانیا کے دل کی پرتیں الٹنے لگی تھیں۔ دانیا کا دل زوروں سے دھڑکنے لگا تھا۔ دل تو پہلے ہی قابو میں کہاں تھا مگر مائد کی نظروں کا زاویہ، اور باتوں میں چھپی گھمبیرتا نے دل کو اور بھی بے قابو کر دیا تھا۔ اس لمحے کی ہوا میں کچھ الگ سا بے چین کر دینے والا سرور تھا۔ جیسے وقت تھم گیا ہو، اور قسمت ایک اور بہانہ تراش رہی تھی۔
“آپ کو دروازہ بند نہیں کرنا چاہیے تھا…”
وہ پریشان لہجے میں بولی، آنکھوں میں ہلکی سی جھلک تھی بے چینی کی، جیسے اس ماحول نے پھر سے اس کے اندر کی گھبراہٹ کو جگا دیا ہو۔ مائد نے ایک گہری سانس لی اور اس کی طرف قدم بڑھائے۔
“مگر اب تو دروازہ بند ہو چکا ہے نا…”
اس کے لہجے میں عجیب سا سکون اور ٹھہراؤ تھا۔
“کس بات کی پریشانی ہے؟”
وہ تھوڑا اور قریب ہوا، اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نرم لہجے میں بولا:
“میں ہوں یہاں پر… آپ کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔”
وہ پلکیں جھکا گئی، دل کی دھڑکن پھر سے بے ترتیب ہونے لگی تھی۔ مائد کے لہجے میں سنجیدگی کے ساتھ وہ محبت تھی، جو بغیر اجازت کے ظاہر ہو رہی تھی۔ وہ آہستہ قدموں سے آگے بڑھ رہا تھا اور دانیا کا تو جیسے دل بند ہونے لگا تھا۔ وہ ہر قدم کے ساتھ خود کو اور زیادہ بےبس محسوس کر رہی تھی۔
“آپ کو دروازہ بند نہیں کرنا چاہیے تھا…”
اس کے لہجے میں اب بھی گھبراہٹ تھی، لیکن اس بار اس نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی۔
“کوئی اس طرح ہمیں دیکھے گا تو کیا سوچے گا؟”
اچانک اس کی آواز میں سختی ابھری، جیسے اس نے دل پر جمی جھجک کی تہہ کو ایک جھٹکے سے توڑ دیا ہو۔ مائد کے قدم اپنی جگہ تھم گئے۔ اس کی آنکھوں میں سی حیرت ابھری۔
“کوئی ہمارے بارے میں کچھ نہیں سوچے گا!”
وہ آہستہ سے بولا۔
“سب کو ہمارے بارے میں پتہ ہے، ہماری نیت میں کوئی کھوٹ نہیں… تو پھر ڈرنے والی کوئی بات نہیں۔”
دانیا نے گھبراہٹ سے بھری گہری سانس لی، اور پھر نگاہ اٹھا کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
“یہاں کوئی نیت نہیں دیکھتا، صرف وہ دیکھتا ہے جو سب کو نظر آ رہا ہوتا ہے۔”
اس کا لہجہ سخت تھا، نظریں ڈری ہوئی اور سنجیدہ تھی۔ اس کی سہمی ڈری نظریں کافی کچھ کہنا چاہتی تھی۔ یہ وہ دانیا تھی جس سے مائد خان اب تک ناواقف تھا۔ مائد خاموش ہو گیا، وہ صرف اسے دیکھتا رہا… حیرت سے۔
“ایسے مت دیکھیں، صحیح کہہ رہی ہوں، لوگ وہی دیکھتے ہیں جو دیکھنا چاہتے ہیں۔”
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی، جیسے برسوں کا بوجھ ایک لمحے میں انڈیل رہی ہو۔
“اور اس سب سے آپ کا تو کچھ نہیں جائے گا، کیچڑ تو صرف میری ذات پر اٹھے گا۔”
اس کے لہجے میں شکایت بھی تھی اور بے بسی بھی، وہ خود کو تنہا محسوس کر رہی تھی۔
“کوئی میری بات کا یقین نہیں کرے گا، ایک بار پھر سے الزام لگ جائے گا، اور میں باقی کی زندگی اس الزام کو ثابت کرنے میں گزار دوں گی!”
وہ غصے سے بولتی چلی جا رہی تھی، لفظ لفظ میں ایک تلخ سچائی چھپی تھی، جو اس کے دل میں مدتوں سے دفن تھی۔ اور مائد خاموش تھا، وہ صرف سن رہا تھا۔ وہ اس کے دکھ کو اپنے دل کے اندرجذب کر رہا تھا، جو وہ برسوں سے کہنا چاہتی تھی مگر کوئی سننے والا نہیں تھا۔ آج ایک بار پھر سے اس کا دل پھٹ پڑا تھا کیونکہ یہاں پر جو سین نہ چاہتے ہوئے کرییٹ ہو گیا تھا وہ اسے ماضی کی تلخیوں میں لے گیا تھا۔
مگر مائد تو خاموش تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ اس کے دل کے اندر کیا چھپا ہوا ہے، کون سی ایسی تکلیف ہے جو ہر لفظ کے ساتھ باہر نکل رہی ہے۔
“کسی نے دیکھ لیا تو تاریخ پھر سے دہرائی جائے گی۔ دانیا کٹہرے میں کھڑی ہوگی!”
آنکھوں کے سامنے ایک منظر ابھرا… جہاں وہ تنہا کھڑی ہے، اور سب اس پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ اور سوال پر سوال کیے جائیں گے، جیسے دانیا کوئی ملزم ہو، جسے اپنی ذات کے لیے صفائی تک دینے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔ بس مجرم ثابت کر دیا جائے گا۔ دانیا رو رو کر بتائے گی کہ وہ بے گناہ ہے،مگر کوئی دانیا کا یقین نہیں کرے گا۔ دانیا کا تڑپ کر رونا اس کا ماضی کی الجھی ہوئی باتیں کرنا، وہ منظر، وہ ماحول جیسے مائد کی روح کو ہلا گیا تھا۔ مائد تو اس کے جذبات سے حیران تھا۔ وہ حیرت سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا، پوری کوشش کر کے اس یہ دل کے درد کو سمجھنا چاہتا تھا۔ وہ رو رہی تھی اور اس وقت بالکل اپنے سینسز میں بھی نہیں لگ رہی تھی۔ ایک اضطراب تھا، ایک خوف، جو اس کی آنکھوں میں صاف دکھائی دے رہا تھا۔ مائد خان نے ایسا تو بالکل نہیں سوچا تھا۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ بات یہاں تک جا سکتی ہے، کہ ایک چھوٹی سی حرکت اتنا گہرا زخم کھول سکتی ہے۔ یہ تو ایک الگ ہی زاویہ تھا دانیا کو دیکھنے کا، جیسے ایک نیا باب کھل گیا ہو۔ وہ صرف دانیا کی آنکھوں میں نہیں، دل میں بھی جھانکنے لگا تھا۔ اس کے دل میں تو درد ہی درد بھرا ہوا تھا۔
“ریلیکس ہو جاؤ، میں تمہیں نقصان نہیں پہنچانا چاہتا، اور تمہیں مجھ سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔”
مائد نے نرمی سے اسے تسلی دی، جیسے اس کی لرزتی سانسوں کو قابو میں لانا چاہتا تھا۔
“دروازہ بھی کھل جائے گا، میں دروازہ کھول دیتا ہوں۔”
اس نے دانیا کی گھبراہٹ کو دیکھتے ہوئے فوراً لاک کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ اس نے لاک گھمایا۔ لاک واقعی اندر سے پھنس گیا تھا… نہیں کھلا۔
“دیکھا! نہیں کھل رہا نا…”
وہ گھبرا کر پیچھے ہٹی، اس کی آنکھوں میں خوف اور آنسو اکٹھے جھلکنے لگے۔
“اب میں کس کس کو جواب دوں گی کہ اس میں میری کوئی غلطی نہیں تھی، اور کوئی یقین نہیں کرے گا!”
وہ تڑپ کر روتے ہوئے بولی، جیسے برسوں کا بوجھ اچانک کندھوں پر آ گیا ہو۔
“کیا ہو گیا ہے؟”
“ایسا کچھ نہیں ہوا، کیوں کوئی یقین نہیں کرے گا، سب یقین کریں گے!”
مائد نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی، لیکن اس کی اپنی آواز بھی ہلکی سی کانپ گئی۔
“مجھے سمجھ نہیں آ رہی آپ اتنی خوفزدہ کیوں ہیں؟”
وہ الجھ کر رہ گیا تھا، دانیا کے رویے نے اسے مکمل طور پر حیران کر دیا تھا۔
“آپ کچھ نہیں جانتے، کچھ نہیں پتہ آپ کو…”
وہ ایک دم جذباتی ہو گئی، اندر سے سب کچھ ٹوٹ کر باہر آ رہا تھا۔
“میں جاننا چاہتا ہوں، بتاؤ تو سہی…”
مائد نے تحمل سے پوچھا، امید کی ہلکی سی جھلک آنکھوں میں لے کر۔
“کیوں بتاؤں؟”
اس کی آواز میں انکار کی شدت تھی، جیسے کسی نے زبردستی اس کے زخم چھیڑ دیے ہوں۔
“آپ میرے بھائی ہیں؟”
“میرے بابا ہیں؟”
وہ طنزیہ لہجے میں بولی، ہر لفظ کسی تلوار کی طرح مائد خان کو کاٹ رہا تھا۔
“نہیں، مگر ایک اچھا دوست تو بن سکتا ہوں؟”
مائد نے دھیمے لہجے میں کہا۔
“نہیں۔ ایک لڑکا اور ایک لڑکی کبھی دوست نہیں ہو سکتے!”
دانیا کا لہجہ اٹل تھا، وہ اپنے اصولوں کی دیوار کے پیچھے کھڑی تھی۔
“آپ میرے بھائی کے دوست ہیں، ان کے دوست بن کر رہیں، مزید رشتے جوڑنے کی ضرورت نہیں!”
وہ سختی سے بولی، آواز میں کوئی نرمی نہیں تھی، کوئی لحاظ نہیں تھا۔ وہ واضح کر چکی تھی کہ اسے کوئی رشتہ نہیں بنانا۔
“ٹھیک ہے، اوکے، میں آپ کے بھائی کا دوست ہوں اور اس لحاظ سے بھی آپ میرے لیے محترم ہیں۔ میں آپ کی عزت کرتا ہوں۔ آپ پرسکون ہو جائیں…”
مائد نے نرمی سے ہار مانتے ہوئے بات ختم کی، اس کی حالت کو دیکھ کر وہ خود بھی پریشان ہو گیا تھا۔
“تو ٹھیک ہے، بس دروازہ کھلوا دیں اور مہربانی کر کے مجھے عزت سے باہر جانے دیں۔ میں آج ہی اپنے گھر چلی جاؤں گی، بڑی مہربانی کہ میں یہاں سے کوئی الزام نہیں لے کر جانا چاہتی۔”
اس کی آواز اب ٹوٹتی جا رہی تھی، جیسے ضبط ختم ہو چکا تھا۔
“دانیا، آپ کس طرح سے بول رہی ہیں؟”
“آپ کو مجھ پر ذرا سا یقین نہیں؟”
مائد کے لہجے میں دکھ تھا۔ دانیا کا بے یقینی والا انداز اسے تکلیف پہنچا رہا تھا۔
“جس کو خود پر یقین نہ ہو، وہ کسی پر کیا یقین کرے؟”
“مجھے تو خود پر بھی یقین نہیں ہے…”
وہ تھکن زدہ سی بولی، جیسے ہر طرف سے مایوسی نے اسے گھیر لیا ہو۔
“تو یقین کریں خود پر… اس طرح تو آپ خود سے ہی کٹ جائیں گی!”
مائد کی آواز میں بےبسی تھی، وہ اسے سنبھالنا چاہتا تھا،ماضی کے دکھوں کو جان کر ان کے درد سے بچانا چاہتا تھا۔
“مجھے کسی سے جڑنے کا شوق بھی نہیں ہے!”
دانیا نے آخری بار کسی سپاہی کی طرح سر اٹھا کر کہا، یہ اس کی آخری ہمت تھی۔
“میں مرتے مرتے دوبارہ واپس آیا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے دوبارہ زندگی دی ہے… کیا آپ کو اس بات کی خوشی نہیں کہ میں زندہ ہوں؟”
مائد کا لہجہ دکھی تھا۔
“مجھے کیوں خوشی نہیں ہوگی؟”
“خوشی ہے… مگر مجھ سے کہیں زیادہ خوشی آپ کے گھر والوں کو ہے!”
“اچھے سے جانتا ہوں کہ میرے گھر والوں کو بہت خوشی ہے میرے زندہ ہونے کی… مگر آپ… اگر صرف اپنے دل کے بارے میں بتا دیں گی… تو مجھے زیادہ خوشی ہوگی… کہ میرے زندہ ہونے سے… آپ کے دل میں بھی کچھ دھڑکا تھا؟”
“میرا دل کسی بھی مرد کے لیے نہیں دھڑک سکتا، سوائے میرے بھائی کے!”
وہ سخت لہجے میں بولی، آواز میں کوئی لچک نہ تھی۔
“اس بات کو اپنے دماغ میں بٹھا لیجئے!”
اس کی نظریں سیدھی مائد کے چہرے پر جمی تھیں۔
“باقی آپ زندہ ہیں، صحیح سلامت ہیں، اپنی فیملی کے پاس آ گئے… اس بات کی مجھے خوشی ہے!”
الفاظ میں تلخی نمایاں تھی۔
“اس سے زیادہ میں نہ کچھ کہنا چاہتی ہوں، نہ سننا چاہتی ہوں!”
اس نے بات ختم کرنے کے انداز میں رخ موڑ لیا۔
“آپ پلیز دروازہ کھلوا دیں، اور مجھے اللہ کے واسطے جانے دیجیے!”
آواز تھوڑی بھرا گئی، مگر لہجہ اب بھی مضبوط تھا۔
“مگر میں تو تم سے بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں…”
مائد کی آواز میں بےبسی تھی، جیسے وہ لفظوں کے ذریعے کچھ کھونا نہیں چاہتا تھا۔
“میری نظروں میں آپ کی بہت ریسپیکٹ ہے!”
دانیا نے نرمی سے، مگر واضح انداز میں کہا۔
“اور میں نہیں چاہتی کہ وہ ریسپیکٹ ختم ہو!”
وہ نظریں چراتے ہوئے بولی، جیسے خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہو۔
“بہتر ہے کہ آپ مجھ سے کوئی بات نہ کریں؛”
اب کی بار اس کی آواز میں فیصلہ تھا۔
“کیونکہ میری طرف سے آپ کو کوئی بھی اچھا جواب نہیں ملے گا؛”
الفاظ کاٹ دار تھے، مگر لہجہ پختہ اور مکمل یقین سے بھرا ہوا۔
“ہمم… مطلب آپ اچھی طرح سے سمجھ رہی ہیں کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟”
مائد نے گہری سانس لی۔
“بالکل سمجھ رہی ہوں… کیونکہ عورت بیوقوف نہیں ہوتی، بس مرد اسے بیوقوف سمجھتے ہیں!”
دانیا کی آنکھوں میں نمی تھی، لہجہ سخت مگر سچائی سے لبریز تھا۔
“سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے!”
مائد نے دفاعی انداز میں نرمی سے کہا، وہ خود کو سب مردوں سے الگ ثابت کرنا چاہتاتھا۔
“سب مرد ایک جیسے ہی ہوتے ہیں!”
وہ بنا لگی لپٹی کے بولی، جیسے یہ بات اس کے دل میں برسوں سے رکھی تھی۔ س کے ذہن میں مردوں کا جو سکیچ تھا وہ اسے ہی ظاہر کر رہی تھی۔
“کسی کو پرکھے بنا الزام لگانا، تہمت کے نزدیک ہوتا ہے۔”
مائد نے سنجیدگی سے کہا، وہ دانیا کو اس کی سختی کے باوجود عزت سے جواب دے رہا تھا۔
“کسی کے ماضی کو جانے بغیر، یا ادھورے منظر کو سمجھے بغیر اس کی زندگی میں داخل ہونا بھی غلط ہے!”
دانیا نے تلخی سے پلٹ کر کہا، جیسے وہ اپنے زخم دکھا تو نہیں رہی مگر ان کا بوجھ محسوس کروا رہی ہو۔
“میں تو جاننے کی کوشش کر رہا ہوں… آپ موقع کہاں دے رہی ہیں…”
مائد کا لہجہ اب خفگی سے بھر گیا، وہ مسلسل انکار سے بے بس ہو چکا تھا۔
“میں آپ کو وہی ریٹرن کر رہی ہوں جو زندگی نے مجھے دیا!”
وہ تیزی سے بولی، وہ صاف گوئی سے کام لے رہی تھی۔ اب کوئی بات دل میں رکھنا نہیں چاہتی تھی۔
“زندگی میں نہ مجھے موقع ملا، نہ فیصلہ کرنے کا حق!”
“تو میں یہ دونوں چیزیں کسی اور کو دے بھی نہیں سکتی!”
دانیا کی آواز بھرا گئی تھی، لیکن لہجہ اب بھی اٹل تھا۔ مائد کی بات نہیں سننی، اس کی روح تک یہ فیصلہ کر چکی تھی۔
°°°°°°