Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:36
راز وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر 36
°°°°°
فیصل اُسے جاتا ہوا بس دیکھتا رہ گیا تھا… وہ ٹک ٹک کرتی ہیلز کے ساتھ سٹیج کی جانب ایسے بڑھ رہی تھی جیسے ہر قدم پر لوگوں کی توجہ چراتی جا رہی ہو۔ فیصل کی نظریں اس پر جم چکی تھیں، جیسے وہ کسی پہیلی کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ظاہری طور پر تو وہ کسی مہمان جیسی ہی لگ رہی تھی… خوبصورت، نازک سی، مگر جس انداز سے وہ جا کر زرام اور زیغم کو ملی، اس نے فیصل کے دل میں ایک نئی الجھن پیدا کر دی۔ وہ بالکل بے تکلف انداز میں زرام سے ملی، گال چومے، اور زیغم سے بغلگیر ہوئی، جیسے برسوں کا مان ہو۔
زرام اور زیغم دونوں نے بھی اُسے دیکھ کر خوشی سے اٹھ کر گلے لگایا، جیسے کوئی بہت خاص شخص ہو۔ فیصل کے قدم خود بخود سٹیج کی طرف بڑھ گئے تھے، نگاہیں اُس ماڈرن سی لڑکی کے چہرے پر مرکوز تھیں، دل میں بس ایک سوال گونج رہا تھا: “یہ لڑکی آخر ہے کون؟”
اتنے میں اُس نے شکایت بھرا لہجہ اپناتے ہوئے زرام اور زیغم سے کہا۔
“میں آپ دونوں سے ناراض ہوں!”
“آپ لوگوں نے مجھے اپنے ہی ولیمے میں انوائٹ نہیں کیا… اور مجھے بھول گئے؟”
وہ ہاتھ کمر پر رکھ کر کھڑی ہو گئی تھی، جیسے ابھی ناراضگی میں سب کچھ الٹ دے گی۔
زرام نے فوراً ہنستے ہوئے ہاتھ تھام لیا۔
“ارے نہیں یار، ایسا کچھ نہیں… اصل میں اچانک سے ولیمے کا فنکشن طے ہو گیا تو ہمیں لگا کہ تم اتنی جلدی میں پاکستان نہیں آ سکو گی۔ ہم نے سوچا نکاح اور ولیمے کے بعد ایک ساتھ تمھیں سرپرائز دیں گے!”
زرام نے پیار سے گلے لگاتے اس کا شکوہ دور کیا تھا۔
فیصل تھوڑا اور نزدیک آ چکا تھا، اب اسے یہ یقین ہو چلا تھا کہ اس لڑکی کا زرام اور زیغم سے خاص رشتہ ہے۔
“بہانے مت بنائیں، آپ لوگ مجھے اپنا نہیں سمجھتے، اس لیے نہیں بلایا… ورنہ بھائیوں کے نکاح ہوں، بھائیوں کے ولیمے ہوں، اور بہن نہ آ سکے، ایسا کہاں لکھا ہے؟”
وہ شکوہ کرتی ہوئی دونوں کے سامنے کھڑی تھی۔ ہونٹوں پر گلہ تھا، مگر آنکھوں میں ایک خفگی بھرا مان چمک رہا تھا۔
“رومی یار، ایسا کچھ نہیں ہے… اور کیا اب سٹیج پر ہی کان پکڑ لوں؟ پھر تمہارا موڈ ٹھیک ہو جائے گا؟”
ذرام مسلسل اُس کی ناراضگی کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“ایک کام کرو، یہ سارے گلے شکوے بعد کے لیے رکھ لو، ابھی تم فنکشن انجوائے کرو، پھر جو بھی شکایتیں ہوں گی، ہم حاضر ہیں۔”
وہ اسے ہنسانے کی کوشش میں بات کو ہلکا پھلکا انداز دے رہا تھا، مگر رومی ابھی بھی منہ بنائے کھڑی تھی۔
“زیغم بھائی، آپ کچھ نہیں بولیں گے؟”
اس نے بھنویں چڑھا کر، زیغم کی طرف دیکھا جو اب تک خاموش بیٹھا سب سن رہا تھا۔
“بولوں گا… میری بہن ناراض ہے، اور میں شرمندہ ہوں۔ بالکل غلط ہوا ہے۔ ہم تمہیں کیسے بھول سکتے تھے؟ اور اگر بھول گئے ہیں… تو اب جو بھی سزا ہو گی، وہ ہمیں ملنی چاہیے، اور ہم اسی کے لائق ہیں۔”
زیغم کے چہرے پر نرمی اور شرمندگی کی ہلکی سی جھلک تھی، مگر لبوں پر وہی پرانی، پیاری سی مسکراہٹ تھی۔
“بے شک یہ سب کچھ اچانک ہوا… نکاح بھی، ولیمہ بھی… مگر بہنوں کو تو پورا حق ہوتا ہے اپنے بھائیوں پر غصہ اتارنے کا۔”
زیغم نے رومی کے مان کو محبت سے تھامتے ہوئے کہا۔
اور اب فیصل پر یہ بات بالکل واضح ہو چکی تھی کہ یہ لڑکی… رومی ان دونوں کی بہن ہے۔ وہ بے یقینی سے کبھی زیغم کو، کبھی زرام کو، اور کبھی اُس نک چڑھی غصے والی چلبلی سی لڑکی کو دیکھے جا رہا تھا… جو فیصل کے ساتھ تو ناک چڑھا کر بات کر کے گئی تھی مگر اپنے بھائیوں کے پاس جا کر اس کا ایک الگ ہی روپ اسے دیکھنے کو مل رہا تھا۔ “کیا رشتہ ہے ان کا؟” وہ خود سے سوال کر رہا تھا۔
“میں اپنے بھائیوں کو کوئی سزا نہیں دے سکتی… یہ بات آپ دونوں بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں!”
وہ دھیرے سے مسکرائی تھی، مگر آنکھوں میں جذبوں کی چمک واضح تھی۔
“بہت پیار کرتی ہوں آپ لوگوں سے… آپ خوش رہیں، آپ کا چہرہ ہنستا رہے، میرے لیے یہی سب کچھ ہے اور دیکھ لیں… جیسے ہی پتہ چلا کہ میرے بھائیوں کا ولیمہ ہے، تو میں بنا بلائے ہی چلی آئی۔”
رومی کی آنکھوں میں زرام اور زیغم کے لیے محبت اور اپنائیت جھلک رہی تھی۔ اتنے میں دانیا بھی چلتی ہوئی قریب آ گئی۔
“السلام علیکم! کیسی ہیں دانیا آپی؟”
رومی نے خوشی سے آگے بڑھ کر اُسے گلے لگا لیا۔ دانیا بھی اسی گرمجوشی سے اُس سے ملی، جیسے برسوں کا رشتہ ہو۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں محترمہ!”
دانیا ہنسی تھی۔
“میں تو ویلکم گیٹ پر ہی کھڑی تھی، مگر تم تو آندھی کی طرح سیدھی اندر گھس آئی۔ مجھے دیکھا تک نہیں!”
“پھر میں نے سوچا، ہماری رومی تو ہمیشہ سے ایسی ہے… اُسے راستے میں کھڑے لوگ نظر ہی نہیں آتے۔”
وہ پیار سے اُس کی چھوٹی سی ناک کو ہلکا سا چھوتے ہوئے مسکرا دی۔ لحاظ اور محبت دونوں ہی اُس کے لہجے میں جھلک رہے تھے۔
“جی ہاں… رومی تو آج بھی ویسی ہی ہے، بالکل نہیں بدلی۔”
رومی نے شرارتی انداز میں آنکھیں نچائیں، پھر اچانک پوچھا۔
“اماں کہاں ہیں؟”
“وہ سامنے…”
دانیا نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ رومی نے سر گھما کر اُس سمت دیکھا اور فوری قدم اُٹھا لیے۔
“میں ابھی مل کے آتی ہوں۔”
کہہ کر وہ نرمی سے آگے بڑھ گئی، اور فیصل اُسے جاتا دیکھتا رہ گیا…
“السلام علیکم اماں… کیسی ہیں آپ؟”
رومی کی آواز میں وہی پرانی اپنائیت تھی جو برسوں بعد بھی ویسی ہی رہی تھی۔ سلمہ نے پلٹ کر دیکھا تو اُس کی نظریں جیسے لمحہ بھر کو وہیں ٹھہر گئیں۔ آنکھوں میں حیرانی، لبوں پر بےیقینی… اور دل میں اچانک اُمڈتی ممتا کی لہر۔
“میری آنکھیں خواب تو نہیں دیکھ رہیں؟”
وہ آہستہ سے بولی تھیں، جیسے خود کو یقین دلانے کی کوشش کر رہی ہوں۔
رومی ہلکے سے مسکرا دی۔
“نہیں اماں… یقین کر لیں، میں آپ کی آنکھوں کے سامنے کھڑی ہوں۔”
وہ آگے بڑھی اور لپٹ گئی… ماں کی بانہوں میں سمٹتے ہی جیسے سالوں کا فاصلہ پلک جھپکتے مٹ گیا ہو۔
“کیسے یقین کر لوں؟”
“یقین تو ختم ہونے لگا تھا…”
سلمہ کی آواز بھرا گئی، آنکھوں میں نمی کی جھلک صاف تھی۔
“تمہارے باپ نے ہمیشہ کے لیے تمہیں مجھ سے چھین لیا… اور تم تو جیسے بس ان کی ہو کر رہ گئی۔”
وہ پلکیں جھپکائے بغیر رومی کو دیکھ رہی تھیں، جیسے برسوں کا غبار لفظوں میں اتر آیا ہو۔
“فون… ویڈیو کال… اس سے آگے تو تمہاری سوچ ہی نہیں جاتی تھی۔ کیا تمہارا دل نہیں کرتا تھا اپنی ماں سے آ کر ملنے کا؟”
“میں تو مجبور تھی… لیکن تم؟”
ہر لفظ کے ساتھ جیسے دل کا بوجھ ہلکا ہو رہا تھا، مگر آنکھوں کی نمی اور لہجے کی کسک اب بھی باقی تھی۔
“مت کریں شکوے اماں… آپ کے منہ سے شکوے اچھے نہیں لگتے…”
رومی نے نرمی سے کہا، مگر لہجے میں درد تھا۔
“اگر شکوے کرنا چاہوں تو میں بھی کر سکتی ہوں۔ میں بھی تو آپ کی بیٹی تھی… پھر آپ کیوں مجھے کبھی ملنے نہیں آئیں؟”
“کبھی انہوں نے روکا نہیں مجھے، کبھی منع نہیں کیا… جب آپ کا دل نہیں ہوا مجھے ملنے کا، تو پھر میں نے بھی خود پر پابندیاں لگا لیں۔”
اس کی آواز بھیگنے لگی تھی، جیسے دل کی پرتیں کھل رہی ہوں۔
“اور ویسے بھی… سٹڈی میں اتنی مصروف تھی کہ کہیں آنے جانے کا ٹائم ہی نہیں ملتا تھا لیکن اب… اب سب مکمل ہو گیا ہے۔ سٹڈی بھی، فاصلے بھی… اور میں واپس آ گئی ہوں… آپ کے پاس۔”
ایک لمحے کو رومی کی سانس رکی، پھر وہ دھیرے سے بولی:
“اور مت کوسیں… وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں… جن پر آپ کو شکوہ تھا کہ انہوں نے مجھے آپ سے چھین لیا… چلے گئے ہیں، اماں… ہمیشہ کے لیے۔”
“اور میں… میں لوٹ آئی ہوں… آپ کے پاس، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔”
رومی نے جیسے برسوں کا فاصلہ ایک سانس میں طے کر لیا تھا، اور سلمہ کی آنکھیں… حیرت اور خوشی سے بھر آئی تھیں، آنسوؤں میں وہ بیٹی کو بس تکتی جا رہی تھیں…
“کیا۔۔۔۔ تمہارا باپ مر گیا ہے؟”
“اور تم نے یہ بات مجھے فون پر کیوں نہیں بتائی؟”
سلمہ کی آواز میں حیرت کے ساتھ شکوہ بھی تھا۔
“کیوں بتاتی؟”
“بتانے سے کیا ہوتا؟”
رومی کا لہجہ ٹوٹا ٹوٹا تھا، جیسے دل کی پرتیں کھل گئی تھیں۔
“جہاں تک میں آپ کو جانتی ہوں… بخوبی جانتی ہوں کہ بابا کی موت پر آپ کو کوئی غم نہیں ہوا ہوگا… کیونکہ جتنی نفرت آپ ان سے کرتی تھیں، ان کی موت پر افسوس کرنا آپ کے لیے شاید ناممکن تھا۔”
اس کی آواز بھرا گئی۔
“اور اگر آپ میرے بابا کی موت پر خوش ہوتیں… تو یہ میں برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ آپ دونوں کے بیچ جو کچھ بھی تھا، میں کبھی نہ ان کے منہ سے آپ کے لیے کچھ برداشت کر سکتی تھی، اور نہ آپ کے منہ سے ان کے لیے۔”
ایک لمحے کو وہ خاموش ہوئی، حلق میں الفاظ چبنے لگے تھے۔
“اسی چکی میں پستے پستے میں خود مٹنے لگی… اسی لیے آپ کو بابا کی موت کی خبر نہیں دی۔”
وہ گہرا سانس لے کر بولی:
“اور… یہ وقت نہیں ہے ان سب باتوں کا، اماں۔ سکون سے بیٹھ کر کریں گے یہ سب باتیں۔ فلحال شادی کا ماحول ہے… فنکشن اٹینڈ کریں۔”
اس نے اپنی نم آنکھوں سے اماں کی طرف دیکھا، شکوے اور تھکن کے رنگ اس کی نظروں میں جھلک رہے تھے، مگر لہجے میں ایک مان تھا۔
سلمہ خاموش تھی، مگر دل کے اندر ایک کہرام سا مچا ہوا تھا۔ سالوں بعد… برسوں بعد… وہ بیٹی واپس آئی تھی، جو اس کی دنیا تھی۔ وہ بیٹی، جو اس کی گود سے چھینی گئی تھی۔ سلمہ کی شادی کو کچھ ہی مہینے ہوئے تھے جب طلاق ہو گئی۔ وہ آزاد مزاج عورت تھی، قید میں جینے کی عادی نہ تھی مگر تقدیر نے ایک امتحان لیا، اور وہ ماں بن گئی۔ اس نے اپنی بیٹی کو اسی حویلی میں جنم دیا، اور کچھ سال تک وہی اس کی دنیا تھی لیکن ایک دن… اچانک… رومی کا باپ اسے ہمیشہ کے لیے اس کی ماں سے چھین کر لے گیا۔ سلمہ تڑپتی رہی، لڑتی رہی، مگر بے بس تھی۔ اس کا شوہر رومی کو لے کر ملک سے باہر چلا گیا۔ ہاں، کبھی کبھی فون پر بات کروا دیتا… مگر وہ کہاں ہیں؟ کس ملک، کس شہر میں؟ یہ سلمہ کبھی جان نہ سکی۔ وہ صرف رومی کی آواز سن سکتی تھی، چہرہ نہیں دیکھ سکتی تھی۔ دل جلتا رہا، آنکھیں روتی رہیں اور وقت گزرتا گیا… جب پتہ چلا کہ وہ امریکہ میں ہیں، تب تک سلمہ کے اندر کی تڑپ تھک چکی تھی۔ وہ خود کو سمجھانے لگی تھی کہ جو خواب ادھورے رہ گئے، شاید انہیں بھول جانا ہی بہتر ہے۔ وہ رومی سے ملنے کا کہتی تو رہی، مگر کبھی خود نہیں گئی۔ شاید انا آڑے آتی رہی، یا شاید دل میں یہ ڈر تھا کہ بیٹی کہیں اسے قبول نہ کرے۔
رومی کے لیے یہ سب ہمیشہ ایک الجھن رہا۔
یہ سوال کہ ماں ہو کر وہ کبھی کیوں نہیں آئی؟
یہ خاموشی جو ماں اور بیٹی کے بیچ حائل تھی، آج ٹوٹ چکی تھی اور اس ٹوٹی خاموشی کے بعد، ایک نیا رشتہ جڑنے جا رہا تھا… وہی پرانا سا، مگر نئے درد، نئے احساسات کے ساتھ۔
رومی کے بابا کی موت نے نہ صرف رومی کی زندگی کو جھنجھوڑا، بلکہ برسوں سے بند ایک دروازہ بھی کھول دیا۔ ماں کی طرف واپسی کا دروازہ۔ مرتے وقت، انہوں نے رومی کے ہاتھ میں صرف جائیداد کے کاغذات نہیں تھمائے تھے بلکہ ایک خط اور ایک خواہش بھی سونپی تھی۔ ایک وصیت، جو دل سے لکھی گئی تھی۔
“تمہیں اپنی ماں کے پاس جانا ہے… تمہارے بھائی تمہاری حفاظت کر سکتے ہیں، تم اس شہر میں اکیلی نہ رہنا۔”
یہ خط رومی کے لیے صرف کاغذ نہیں، ایک آخری امانت تھا اور یہی وہ لمحہ تھا جب رومی نے فیصلہ کیا کہ وہ اب اس تنہائی کو مزید نہیں جھیلے گی۔ اپنے بابا کے جنازے کے بعد، اپنے دل کے جنازے کو دفنا کرکے کچھ مہینوں بعد واپس لوٹنے کے لیے تیار ہو چکی تھی۔ اسی دوران جب فون پر سلمہ سے بات ہوئی، اور پتہ چلا کہ زیغم اور زارم نکاح کر چکے ہیں اور ان کا ولیمہ ہونے والا ہے، تو رومی نے واپسی کے لیے یہی دن چنا۔ یہی موقع مناسب لگا کہ وہ بغیر اطلاع، بغیر کسی تمہید کے بس آجائے۔
اور وہ آ گئی… ایسی جیسے کبھی کہیں گئی ہی نہ تھی۔ وہ اپنوں سے دور ضرور تھی مگر دل دور نہیں تھا۔ اگر چہ ذرام اور زیغم سے فون پر اکثر بات ہوتی تھی، جب بھی دل تڑپتا، وہ ان سے رابطہ کر لیتی تھی مگر کبھی زبان پر یہ خواہش نہیں لائی کہ وہ واپس حویلی آنا چاہتی ہے۔
رومی نے کبھی کسی سے مدد نہیں مانگی… اس کا دکھ، اس کی خودداری سے لپٹا ہوا تھا۔ اس کی خاموشی چیخ بھی تھی اور صبر بھی۔
یہ معاملہ ہمیشہ محدود رہا… سلمہ، اس کے شوہر، اور رومی کے بیچ۔
اس کے بابا کو بلڈ کینسر تھا… اور یہ بیماری ان کی جان بہت جلدی لے گئی… چند دنوں میں ہی وہ رخصت ہو گئے مگر جاتے جاتے، اپنی بیٹی کو ایک نیا راستہ، ایک نیا رشتہ، اور ایک بند دروازہ کھولنے کی وصیت دے گئے۔
رومی نے اس وصیت پر عمل کر کے، اپنی زندگی کے نئے باب کا آغاز کیا۔ ایک بیٹی بن کر… جو لوٹ آئی ہے ہمیشہ کے لیے۔
°°°°°°°°°
ولیمے کی تقریب اپنی خوبصورتی کے عروج پر تھی۔ کرسٹل لائٹس کی چمک، سندھی تھیم پر سجی دیواریں، اور پس منظر میں بجتا نرم سا میوزک…
دانیا، شفون کی پرپل کامدار فراک میں، میزبانوں کے ساتھ مصروف تھی۔ کبھی کسی مہمان کو خوش آمدید کہتی، کسی بچے کو کیک دیتی، تو کبھی بزرگ خواتین کو بیٹھنے کی جگہ دکھاتی۔
ایک مہمان خاتون کے ساتھ بات کر رہی تھی کہ اچانک ایک سات، آٹھ سالہ بچہ دوڑتا ہوا آیا اور اس سے ٹکرا گیا۔ اس کی پلیٹ کا سالن سیدھا دانیا کے دوپٹے پر جا گرا۔ نشان گہرا اور نمایاں تھا۔
“افف… حیدر!”
بچے کی ماں نے فوراً اس کا بازو پکڑا۔
“نظر نہیں آتا تمہیں؟”
“بی بی کا دوپٹہ خراب کر دیا!”
دانیا ایک لمحے کو چونکی، مگر فوراً سنبھل کر مسکرا دی۔
“کوئی بات نہیں، بچے ہیں… ہو جاتا ہے، پریشان نہ ہوں۔”
“میں ڈریسنگ روم سے صاف کر لیتی ہوں۔”
وہ نرمی سے بولی اور دوپٹہ تھام کر آہستہ سے جھک کر نشان دیکھنے لگی۔
عزت اور وقار کے دائرے میں سب کو مطمئن کر کے، وہ پرسکون انداز میں سائیڈ کارنر سے گزرتی ہوئی اندرونی ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گئی۔ کمرے کے اندر سفید روشنی میں وہ ٹشو سے دھیرے دھیرے داغ صاف کر رہی تھی۔ آئینے میں اپنی شکل دیکھی، بالوں کو سنوارا، سلیقے سے دوپٹہ دوبارہ اوڑھا، اور گہری سانس لے کر باہر نکلنے لگی۔ جیسے ہی قدم باہر رکھا… ہال اور کوریڈور کے درمیان ایک سائیڈ راہداری تھی جہاں مہمانوں کی آمد و رفت نہیں ہوتی تھی۔ وہاں تھوڑا اندھیرا اور مکمل سکون تھا۔ دانیا اپنی رفتار سے جا رہی تھی کہ اچانک… ایک مضبوط مگر مہذب گرفت نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ وہ چونک گئی، ڈر کے مارے چیخنے ہی والی تھی کہ… “شش…” مائد کی آواز دھیمی مگر سنجیدہ تھی۔ اس نے فوراً اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر چیخ روک دی۔
دانیا نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
“آپ…؟”
وہ پھٹی ہوئی آنکھوں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔
“چلو، ایک منٹ…”
وہ نرمی سے اسے قریبی اندرونی سائیڈ روم کی طرف لے گیا، جہاں ہال کی چہل پہل مدھم سی آواز میں بدل گئی تھی۔ نہ کوئی چیخ و پکار، نہ کوئی کھینچ تان… بس ایک خاموش، رازدار لمحہ۔ ایک ایسی جگہ جہاں دونوں کی بات کوئی نہ سن سکے۔ دروازہ آہستہ سے بند ہوا۔ مائد نے اب تک اس کا ہاتھ سختی سے پکڑ رکھا تھا۔ دانیا کی سانسیں تیز تھیں۔
“یہ کیا ہے… سب لوگ باہر ہیں۔”
گھبرائے ہوئے لہجے میں بولی تھی۔
“تم سے ضروری بات کرنی تھی… ابھی اور یہیں۔”
مائد کی نظریں گہری تھیں، آواز مدھم…
“یہ کیا ہے؟”
“آپ کی ایسی حرکت میرے لیے مصیبت بن سکتی ہیں، اگر کسی نے ہمیں اس طرح یہاں پر دیکھ لیا تو کیسے کیسے الزام لگ سکتے ہیں۔”
دانیا نے فوراً اپنا ہاتھ جھٹک کر پیچھے کر لیا، اس کی آواز میں بے چینی تھی۔ مائد خاموشی سے اسے دیکھتا رہا، چہرے پر سنجیدگی اور آنکھوں میں محبت کا امڈتا ہوا طوفان تھا۔
“میں نے دنیا والوں کی بہت پرواہ کر لی… بہت میں نے اپنے دل کو اگنور کر لیا۔ اب اس سے زیادہ نہیں کر سکتا، اور آج کے بعد تو بالکل نہیں۔”
وہ آہستہ سے اس کے قریب ہوا۔
“آپ نے ایک بار خود کو آئینے میں دیکھا ہے؟”
“کتنی حسین لگ رہی ہیں… مائد خان انسان ہے، فرشتہ نہیں، جو اپنے جذبات پر پہرے لگائے رکھے۔”
دانیا گھبرا کر دو قدم پیچھے ہٹ گئی، دل کی دھڑکن کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔
“پلیز، آپ میرے بھائی کے دوست ہیں… کچھ تو ان کی عزت کا خیال رکھیں، یہ آپ کو زیب نہیں دیتا۔”
دانیا نظریں چراتے ہوئے، غصے میں دبی آواز میں بولی تھی۔ مائد کی نظروں میں ایک لمحے کو چپ چھا گئی۔
“مجھے کیا زیب نہیں دیتا؟”
“میرے خیال سے میں نے ایسا کچھ نہیں کیا جو مجھے زیب نہ دے!”
“مائد خان اپنے حد و حدود جانتا ہے، اور اپنے یار کی عزت پر جان دے سکتا ہے، مگر کبھی ٹھیس نہیں لگنے دے گا۔”
اس کی آواز میں سنجیدگی تھی، مگر لہجہ جذبات سے لبریز تھا۔
“ہاں، مگر اب میں اپنے دل پر مزید پہرے نہیں لگا سکتا، بہت پیار کرتا ہوں آپ سے۔ سالوں سے اس پیار کو دل میں دفن کیے ہوئے ہوں اور آج، آپ جتنی خوبصورت لگ رہی ہیں، مجھے نہیں لگتا میں اب خود پر قابو رکھ پاؤں گا۔ میں تو آپ کی سادگی پر قربان تھا اور آج… آپ سراپہ قیامت لگ رہی ہیں۔”
اس کی نظروں سے پیار کا طوفان امڈ رہا تھا، لفظوں میں جنون سا تاثر، دانیا ساکت سی کھڑی تھی۔
“آپ کی جنون زدہ باتوں سے مجھے ڈر لگتا ہے۔”
“جب میں نے آپ کو کہہ دیا تھا کہ میں آپ کے لیے ایسا نہیں سوچتی، تو پھر کیوں بار بار ایک ہی بات بول کر میرا تماشہ بنا رہے ہیں؟”
وہ خوفزدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
مائد تھوڑا سا آگے بڑھا، آواز نرم تھی مگر لہجہ کاٹ دار۔
“میں کبھی بھی آپ کا تماشہ نہیں بنا سکتا، دانیا!”
“اور نہ ہی میں کوئی آوارہ، لچا عاشق ہوں، جسے تہذیب کے دائرے پتہ نہ ہوں۔ آپ میرے یار کی عزت ہو، اور میری محبت… آپ کو کیوں سمجھ نہیں آ رہا کہ محبت زبردستی نہیں کی جاتی…”
“میں آپ سے محبت نہیں کرتی، اور آپ بار بار محبت کی دہائی دے کر میرے فیصلے کو بدل نہیں سکتے!”
وہ دل گرفتہ انداز میں بولی۔
اس کی آواز دھیمی تھی، مگر لہجہ بہت سخت تھا۔ آنکھوں میں نمی، اور الفاظ میں زخموں کی تھکن سی تھی۔ مائد نے ایک لمحے کو نگاہیں جھکائیں۔
“شاید… مجھے واقعی سمجھ جانا چاہیے تھا، مگر دل ہے نا دانیہ… سنتا ہی نہیں۔ اپنے دل کے ہاتھوں سے مجبور بھی ہوں اور بے بس بھی!”
اس کے لبوں پر اب بھی وہی شائستگی تھی، جو دانیا کو دیکھ کر ہمیشہ اس کے لبوں پر بکھر جاتی تھی۔ دانیا کے حلق میں کانٹے سے چبنے لگے تھے۔ تھوک حلق سے نہیں اتر رہا تھا۔ مائد خان کے وجود سے اٹھتی ہوئی پرفیوم کی خوشبو اس کی دھڑکنوں کو متاثر کر رہی تھی۔ وہ جتنی مرضی سخت بن جائے، مگر مائد خان کوئی عام شخص نہیں تھا جسے نظر انداز کرنا آسان ہوتا۔ وہ خوبصورت تھا، ایک بھرپور مرد، مضبوط سینہ، کشادہ پیشانی، گورا چہرہ اور وہ پٹھانی وجاہت جس کے آگے دانیا خود کو بہت معمولی محسوس کر رہی تھی مگر وہ جانتی تھی، دل سے نہیں تو دماغ سے اسے روکنا ضروری ہے۔ وہ ڈٹ کر اس کے سامنے کھڑی تھی۔ اُس کی آنکھوں میں اپنے جذبات کا انکار تھا اور لہجے میں وہی روایتی سختی، جو اس نے خود کو سکھائی تھی۔ مائد خان خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا، جیسے آج وہ سب کچھ کہنا چاہتا ہو جو برسوں سے دل میں دفن تھا۔
“مجھے جانے دیجئے، مجھے آپ کی ان فضول باتوں میں نہیں الجھنا۔”
وہ نظریں چراتے ہوئے جلدی سے باہر نکلنے لگی تھی کہ، مائد خان نے آگے بڑھ کر اس کی کلائی تھامی۔ ہلکے سے جھٹکے سے پیچھے کھینچا تو وہ سیدھی اُس کے سینے سے آ ٹکرائی۔ شفون کا دوپٹہ سر سے سرکتا ہوا نیچے گر گیا۔ مائد خان کی نظروں کی تپش چہرے پر محسوس کرتے ہوئے، دانیا نے آنکھیں بند کر لیں۔ گھبرا کر پلٹتے ہوئے اس کے ہاتھ، مائد کے سینے پر کالر کے قریب، مٹھیوں کی صورت جکڑے گئے۔
“میری محبت فضول نہیں ہے۔”
کان کے قریب ہو کر سرگوشی کی۔ لفظوں میں سختی واضح محسوس ہوئی۔ دانیا کی ہتھیلیوں میں پسینے آنے لگے، وہ بہت قریب تھا۔
“آپ میری پہلی اور آخری محبت ہیں۔”
ایک ایک لفظ کو دانتوں تلے چباتے ہوئے کہا۔
“میں آپ سے محبت نہیں کرتی۔”
ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا۔ لفظ ساتھ نہیں دے رہے تھے، وہ گھبرائی ہوئی، خوف زدہ تھی۔
“مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا، میں محبت کرتا ہوں، اتنا کافی ہے۔ کیوں آپ میری بات کو نہیں سمجھ رہیں؟”
تھوڑی سی سختی، تھوڑی سی اونچی آواز میں کہی گئی سرگوشی… اور وہ رونے لگی۔ رخساروں سے آنسو ٹپ ٹپ گرتے، مائد کے سینے پر گرنے لگے۔
“کیوں… کیوں کر رہی ہیں آپ ایسا؟”
“کیوں میری محبت کو نہیں سمجھ رہیں؟”
“کیوں ایک پہیلی کی طرح الجھا رہی ہیں؟”
“کیوں مجھ پر یقین نہیں کرتیں؟”
“میں آپ کے ہر درد کو سمیٹ لوں گا، ایک بار مجھ پر یقین تو کریں۔”
وہ اس کے رونے سے پریشان ہو گیا تھا، دکھی بھی اور جھنجھلا بھی چکا تھا۔
“نہیں… نہیں کر سکتی میں آپ پر یقین۔”
ہمت جمع کرتے ہوئے لفظوں کو توڑتی، روتی ہوئی بولی۔
“کیوں نہیں کر سکتی؟”
“میں آپ پر تو کیا، کسی مرد پر یقین نہیں کر سکتی۔ کیا جانتے ہیں آپ میرے بارے میں؟”
“بتائیں، کیا جانتے ہیں؟”
وہ روتے ہوئے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تلخ لہجے میں بولی۔
“آپ بتا دیں، ایسا کیا ہے جو آپ کے بتا دینے سے لگتا ہے کہ میرے قدم محبت کے راستے سے پیچھے ہٹ جائیں گے؟”
“آج آپ بتا ہی دیں!”
مائد خان کی آنکھوں میں جنون اترا ہوا تھا، وہ سچ میں حقیقت جاننا چاہتا تھا۔
“میں آپ کے لائق نہیں ہوں، اتنی سی بات آپ کی سمجھ میں کیوں نہیں آتی؟”
“کیوں مجھے بار بار تڑپنے پر مجبور کر رہے ہیں؟”
وہ ایک ایک لفظ کو چباتے ہوئے ایسے بولی جیسے وہ خود کوئی غلیظ چیز ہو، اور اس غلیظ چیز کو مائد خان چھو رہا تھا۔
“اور اگر آپ نے اب مجھے روکنے کی کوشش کی، تو خدا کی قسم، میں اپنی جان لے لوں گی۔ مجھے تو پہلے ہی خود سے نفرت ہے، بس زیغم بھائی کی وجہ سے سانسیں لے رہی ہوں۔ اگر آپ نے دوبارہ مجھے چھونے یا روکنے کی کوشش کی تو میں واقعی کر گزروں گی!”
اس کی آنکھوں میں جنون تھا۔ مائد خان گھبرا گیا، یہ دانیا کا نیا روپ تھا۔ وہ اپنے دوپٹے کو سنبھالتے، ہاتھوں کی پشت سے آنسو بے دردی سے صاف کرتے ہوئے وہاں سے نکل گئی، اور مائد خان وہیں دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا رہ گیا۔
“کیا ہے تمہارے دل میں؟”
“کیوں کرتی ہو خود سے اتنی نفرت؟”
“ایک بار مائد خان کو بتا تو دیکھو، تمہارا ہر درد سمیٹ لوں گا!”
“جان ہو تم میری، بہت پیار کرتا ہوں تم سے۔ سالوں سے خود کو سمجھا رہا ہوں۔ تب بھی نہیں سمجھ سکا تھا، جب تمہاری شادی کسی اور سے ہو گئی تھی۔ اب تو سب کچھ ٹھیک ہے، پھر تم کیوں ضد پر اڑی ہو؟”
“کیسے تمہارے دل کی بات زبان پر لاؤں؟”
“ایک بار اپنے دکھ کو لبوں پر لا کر تو دیکھو، میں تمہارے ہر درد کی دوا بن جاؤں گا۔”
وہ دل میں سوچتے ہوئے تڑپ رہا تھا، گہری سانسیں لے رہا تھا کیونکہ مائد خان، اس وقت، بہت تکلیف میں تھا۔
محبت… ایک ایسی تڑپ ہے، جو مل جائے… تو زندگی سے حسین کوئی شے نہیں، اور اگر نہ ملے… تو سانس لیتا ہر لمحہ، اذیت بن جاتا ہے۔
°°°°°°°°°°°
دھوم دھام سے اپنا ولیمہ سیلیبریٹ کر کے مہرو اور زیغم اپنے کمرے میں جا چکے تھے۔ نایاب اچانک بدتمیزی سے، بغیر دروازہ کھٹکھٹائے، زیغم کے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔ اس نے یہ وقت کیسے گزارا تھا، یہ صرف وہی جانتی تھی۔ نہ باہر جا سکتی تھی، نہ ہی اندر چین تھا۔ حویلی کے راستے اس کے لیے بند تھے مگر اسے بخوبی علم تھا کہ آج زیغم کا ولیمہ ہے، اور تقریب بڑی دھوم دھام سے منائی جا رہی ہے۔
ایک طرف بھائی کی خوشی میں شریک نہ ہو پانے کا دکھ، تو دوسری طرف زیغم کا کسی اور کے ساتھ ولیمہ… یہ سب کچھ اسے اندر ہی اندر جلا رہا تھا اور جب اسے ملازموں سے معلوم ہوا کہ سب رات گئے گھر واپس آ چکے ہیں، تو وہ تیز قدموں سے، غصے سے بھری ہوئی، زیغم کے کمرے کی جانب بڑھی۔ سب اپنے کمروں میں جا چکے تھے، وہ زیغم کے روم کا دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوئی، تو مہرو، جو ابھی ولیمے کا بھاری لباس بدل کر واش روم سے نکلی تھی، سہم گئی۔
“کہاں ہے زیغم؟”
نایاب کی آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے، وہ آگ برساتے لہجے میں چنگاڑی۔
“وہ… وہ نہیں ہیں…”
مہرو کی آواز لرز گئی، الفاظ اس کے لبوں پر اٹک گئے۔ اس کی آنکھوں میں نایاب کا وہی خوف جھلک رہا تھا، جو اس رات کے تھپڑوں نے پیدا کیا تھا۔ وہ رات… وہ تھپڑ… یہ حویلی…,اور نایاب کا بےرحم رویہ… یہی اس کا سچ تھا۔
“چلو، وہ نہیں تو تم تو ہو!”
نایاب آگے بڑھی، اور اس کا گلا دبوچ لیا۔ ایسا لگا جیسے وہ اسے سانس لینے سے بھی روک دے گی۔ مہرو اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کرتی رہی، مگر نایاب کے جنون کے آگے وہ بےبس تھی۔ اس کا نازک وجود لرز رہا تھا، آنکھوں میں آنسو اور دل خوف سے تھر تھرا رہا تھا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے کہ تم میرے شوہر پر حق جما کر، ولیمہ منا کر آؤ گی تو وہ تمہارا ہو جائے گا؟”
نایاب غرائی۔
“جان سے مار دوں گی اگر تم نے اسے اپنا سمجھنے کی کوشش بھی کی۔۔۔”
اس نے مہرو کے نازک گلے میں ناخن پیوست کرتے ہوئے کہا۔
“وہ میرا ہے… میرا… صرف میرا!”
وہ پاگلوں کی طرح چیخ رہی تھی، آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا، اور وجود میں ایک بےقابو طوفان تھا۔ نایاب نے اتنی بےرحمی سے مہرو کی گردن دبوچ رکھی تھی کہ مہرو کا سانس لینا محال ہو گیا تھا۔ آنکھیں باہر کو ابلنے لگیں، درد کی شدت بڑھتی گئی، اور نایاب کسی وحشی درندے کی مانند اس پر جھپٹی ہوئی تھی۔
اسی لمحے، زیغم سلطان کمرے میں داخل ہوا۔ وہ نیچے، گیٹ پر رفیق کو صبح کے لیے ضروری ہدایات دے رہا تھا، مگر جیسے ہی اوپر آیا اور منظر دیکھا، اس کے ضبط کی حدیں ٹوٹ گئیں۔ نایاب مہرو کی گردن بری طرح سے دبوچے کھڑی تھی، اور مہرو کو سانس نہیں آ رہا تھا۔ زیغم کے قدم تیزی سے بڑھے، اُس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر نایاب کو پوری شدت سے دھکا دیا، نایاب لڑکھڑاتی ہوئی زمین پر جا گری۔ مہرو، جو سانس تک نہیں لے پا رہی تھی، ڈر کے مارے کانپ رہی تھی، بھیگی آنکھوں سے زیغم کو دیکھا، جیسے اسے زندگی واپس مل گئی ہو۔
بے اختیار، وہ زیغم کے سینے سے لگ گئی، اس کے گرد بازو لپیٹ کر، سسکتی ہوئی، جیسے اب وہی اس کی پناہ ہو۔ زیغم کا وجود غصے سے کانپ رہا تھا۔ مہرو کے گرد اپنے بازوں کا حصار مضبوط کرتے ہوئے زہر الود نظروں سے اس نے نایاب کی جانب دیکھا تھا جو زمین پر گری ہوئی زخمی سانپ کی مانند ان کی جانب دیکھ رہی تھی۔
“بہت گھٹیا عورت ہو تم!”
زیغم کی آواز گونجی۔
“گھٹیا لفظ تو تمہارے لیے بھی کم ہے، نایاب… تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے کمرے میں قدم رکھنے کی؟”
اس کی آواز کی گونج چاروں دیواروں سے ٹکرا گئی، حویلی میں جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔
“میں اسے مار دوں گی جس کے لیے تم مجھے گھٹیا کہہ رہے ہو!”
زمین سے اٹھتے ہوئے نایاب پاگلوں کی طرح دوبارہ مہرو پر جھپٹی، مگر اس سے پہلے زیغم آگے بڑھا، مہرو کو اپنے پیچھے کیا اور اپنے بازو نایاب کے سامنے کر دیے۔
“میرے ہوتے ہوئے تم اسے چھو بھی نہیں سکتی!”
وہ دھاڑا۔
“مار دو گی؟ اتنی اوقات ہے تمہاری؟”
“میری بیوی پر ہاتھ اٹھاؤ گی؟”
زیغم کی آنکھوں میں غضب بھرا طوفان تھا۔
“اور یہ کیا مجھے تم سے دور کر دے گی، میں تو کبھی تمہارے قریب تھا ہی نہیں!”
“کتنا جھوٹ بولو گی نایاب؟”
“بس کر دو، خود سے بناوٹی باتیں بنانا، تھکتی نہیں تم اتنا جھوٹ بولتے بولتے؟”
“اور آج…!”
زیغم سلطان کا لہجہ دھاڑ میں بدل گیا۔
“ابھی اسی وقت… میں تم سے ہر رشتہ توڑتا ہوں، میری طرف سے طلاق ہے، طلاق ہے، اور طلاق ہے…!”
“ہمیشہ کے لیے… تم اس بےنام، بےوجود، اور کاغذی رشتے سے، میری طرف سے آزاد ہو!”
زیغم کی آواز کمرے کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس گونجی، کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ نایاب آنکھیں پھاڑے، منہ کھولے، بس اسے دیکھے جا رہی تھی۔ یقین نہیں آ رہا تھا کہ زیغم اسے… واقعی طلاق دے چکا ہے۔ وہ الفاظ اتنے اچانک، اتنی شدت سے بولے گئے تھے، کہ نایاب کو کچھ سمجھنے، یا کوئی ردِعمل دینے کا موقع ہی نہ ملا۔ زیغم کی بلند آواز پورے حویلی میں گونجی، تقریباً سبھی افراد، کمرے یا دروازے کے باہر جمع ہو چکے تھے۔ مہرو اب بھی اس کے سینے سے لگی، سسکیاں لے رہی تھی اور زیغم اپنے بازوؤں کا حصار اس کے گرد مزید سخت کر چکا تھا۔
“نن… ن… نہیں…!”
“تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے!”
وہ ٹوٹے ہوئے لہجے میں، بکھرتی ہوئی زمین پر بیٹھ گئی تھی۔ کمرے میں کھڑے ہر شخص کی آنکھیں حیرت سے پھٹی ہوئی تھیں۔ خاموشی کی ایک خوفناک لہر پورے ماحول میں دوڑ چکی تھی۔ زرام کے چہرے پر دکھ صاف جھلک رہا تھا۔ جو بھی تھی، جیسی بھی تھی، وہ اس کی بہن تھی۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ نایاب کس فطرت کی مالک ہے، اور یہ سب کچھ کروانے کے لیے وہ زیغم کو کس حد تک مجبور کر سکتی ہے مگر… پھر بھی…یہ ایک فطری عمل تھا، وہ اس کی بہن تھی۔ گہری سانس لیتے ہوئے، زرام نے اپنا ماتھا رگڑا، جیسے دل کے بوجھ کو سمیٹنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“میں ایسا کر چکا ہوں!’
“تمہیں اس کاغذی رشتے سے آزاد کر چکا ہوں اور آج کے بعد تم نہ مجھے اپنا شوہر کہنے کا حق رکھتی ہو، نہ خود کو میری بیوی!”
زیغم نے سخت لہجے میں کہا، اور نایاب کو گھورتے ہوئے خاموشی کو کاٹ ڈالا۔
“تم سے اور کیا امید کی جا سکتی تھی!”
قدسیہ آگے بڑھی۔ اپنی بیٹی کو زمین سے اُٹھاتے ہوئے زیغم کو تیز نظروں سے دیکھا۔
“پھر تو بہت اچھا ہوا کہ میں آپ کی امیدوں پر پورا اُترا، تو اب یہ تماشا کس بات کا؟”
“اپنی بیٹی کو پکڑو… اور یہاں سے چلی جاؤ!”
زیغم نے کسی لحاظ کے بغیر، سختی سے کہا۔
“دیکھ رہے ہو؟”
“تمہاری ماں، تمہاری بہن کو ذلیل کر رہا ہے اور تم… باپ بیٹے دونوں کھڑے تماشہ دیکھ رہے ہو!”
قدسیہ نے ذرام اور توقیر کی طرف پلٹ کر بدتمیزی سے کہا۔
زرام نے نظریں جھکا لیں، اس سے زیادہ وہ کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا۔ اس کی ماں اور بہن نے کب اس کی عزت رکھی تھی جو آج وہ ان کے لیے کوئی قدم اٹھاتا؟
دوسری طرف توقیر، جس کا غصہ تو آسمان کو چھو رہا تھا مگر زیغم سلطان کے سامنے… وہ بے بس تھا۔
“جو کرنا تھا، وہ کر چکا۔ ویسے بھی ایک کاغذی رشتہ ہی تھا، ہماری بیٹی کی جان چھوٹی اس گھٹیا انسان سے!”
توقیر نے جیسے سارا مسئلہ حل کر دیا ہو، غصے سے کہتے ہوئے رخ موڑ لیا۔
“ذرا گریبان میں جھانکیے توقیر صاحب… گھٹیا کون ہے… مجھ سے بہتر جواب آپ خود ڈھونڈ لیں گے!”
زیغم کی نظروں سے قہر برس رہا تھا، الفاظ آگ بن چکے تھے۔
“آج دن تمہارا ہے… ایک دن میرا بھی آئے گا!”
“میں تمہارا وہ حشر کروں گا، زیغم… کہ تم کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہو گے!”
توقیر کی آواز میں کھلی دھمکی تھی۔
“اور جو کچھ تم لوگوں نے کیا، نہ میں بھولا ہوں… نہ کبھی بھولوں گا!”
“میں زندگی میں جتنا بھی کچھ کر لوں، کم ہے اس کے مقابل جو تم لوگوں نے میرے خاندان کے ساتھ کیا… اور اب تمہاری بیٹی میرے سکون کو تکلیف دینا چاہتی ہے؟”
“ایسا کبھی نہیں ہوگا!”
زیغم کا اشارہ، اپنے سینے سے لگی مہرالنساء کی طرف تھا۔
“اور اب… براہِ مہربانی… سب یہاں سے چلے جائیں۔ نہ میں کسی کی بات سننا چاہتا ہوں، نہ اپنی کوئی بات کہنا!”
زیغم سلطان اس وقت سخت غصے میں تھا، اور شکر تھا کہ یہ منظر ارمیزہ نے نہیں دیکھا۔ رات کافی ہو چکی تھی، وہ سو چکی تھی ورنہ نایاب کا یہ نیا روپ اور ایک اور تماشا… اس معصوم بچی کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتا۔
زیغم کے سخت لہجے پر، سب خاموشی سے وہاں سے ہٹ گئے۔ زیغم نے جیب سے موبائل نکالا اور سکرین پر ہلکا سا سوائپ کیا کیونکہ دروازہ سمارٹ لاک سسٹم سے منسلک تھا جو ٹچ کمانڈ پر فوری طور پر بند ہو جاتا تھا۔ اس وقت وہ اپنے اور مہرو کے درمیان کسی تیسرے وجود کی موجودگی بالکل نہیں چاہتا تھا۔
“مہرو… میری جان، میری طرف دیکھو۔ رونا بند کرو، میں آ گیا ہوں۔ اب کچھ نہیں ہوگا تم محفوظ ہو۔ مجھے معاف کر دو کہ میرے ہوتے ہوئے نایاب تم تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئی…”
زیغم نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتے ہوئے اس کا رخ اپنی جانب کیا، شدت سے اس کے ماتھے پر لب رکھے اور نرم جنبش کے ساتھ بوسہ دیا۔
“وہ… وہ مجھے مار دے گی…”
مہرو نے ڈرے سہمے لہجے میں کہا اور پھر سے اس کے سینے سے لگ گئی۔ اس لمحے زیغم سلطان کا سینہ ہی اس کے لیے سب سے محفوظ پناہ گاہ تھا۔ وہ مہرو… جو ہمیشہ شرما کر اس سے دو قدم پیچھے رہتی تھی، اس وقت خوف کے مارے ڈری سہی، مگر اس کی سانسوں کے قریب تھی۔
“کیسے تمہاری جان لے لے گی؟”
“میں اس کے حلق سے سانسیں کھینچ لوں گا… کوئی تم تک نہیں پہنچ سکتا، اور آج کے بعد… تو بالکل بھی نہیں۔ مہرو… میری جان، میری سانسیں بستی ہیں تم میں… تم میری زندگی کا وہ سکون ہو جو خدا نے اپنی رحمت کے طور پر مجھے بخشا ہے… میں تمہیں کبھی کچھ نہیں ہونے دوں گا!”
اسے اپنی بانہوں میں سمیٹتے ہوئے نیچے جھک کر اسے اپنی گود میں اٹھا لیا۔ مہرو شرم اور حیا کی سرخی میں، آنسوؤں کے ساتھ بھیگتی، چہرے پر شرم کا رنگ لیے، اس کے گلے میں بازو ڈالے، عجیب سی کیفیت سے گزر رہی تھی۔ ایک طرف نایاب کا خوف اب بھی اس کے وجود پر طاری تھا، دوسری جانب، اتنی قربت… پہلی بار، وہ اسے گود میں اٹھائے ہوئے بیڈ کی طرف لے جا رہا تھا۔ یہ قربت، یہ لمس… مہرو کے لیے بے حد بے باک عمل تھا، مگر پھر بھی وہ خود کو زیغم کی بانہوں میں محفوظ محسوس کر رہی تھی۔ ایک ایسا احساس، جو بہت الگ… بہت نیا تھا۔
“آپ کو بی بی جی کو طلاق نہیں دینی چاہیے تھی، آپ نے بہت غلط کیا!”
مہرو کی گردن کی جلن تھوڑی کم ہوئی تو اُس نے زیغم سے آہستہ، سنجیدہ اور درد بھرے لہجے میں کہا۔ مہرو اندر ہی اندر اس گلٹ کو محسوس کر رہی تھی کہ یہ سب کچھ اس کی وجہ سے ہوا ہے۔ زیغم، اُس کے قریب ہی کنارے پر بیٹھا، خاموشی سے اُسے دیکھ رہا تھا۔
“مہرو، تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میرا اور نایاب کا رشتہ کبھی کامیاب ہو ہی نہیں سکتا تھا، جانتی ہو کیوں؟”
“کیونکہ ہمارے رشتے میں سچائی نہیں تھی، صرف دھوکہ اور فریب تھا اور دھوکے سے بنائے گئے رشتے کبھی کامیاب نہیں ہوتے!”
زیغم نرمی سے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے، اُس کے دل کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ مہرو کے نازک دل میں کوئی بھی کسک رہ جائے، یہ سوچ کر کہ یہ سب اُس کی وجہ سے ہوا ہے۔
“مگر وہ… ارمیزہ کی ماں ہے، اور آپ نے اُس سے رشتہ توڑ دیا… ارمیزہ کیا سوچے گی؟”
“اُس کا چھوٹا سا دل ٹوٹ جائے گا!”
مہرو دکھی ہو کر زیغم کی جانب دیکھتے ہوئے بولی۔
“ارمیزہ کی ماں، تم ہو… اور ارمیزہ کبھی دکھی نہیں ہوگی، کیونکہ میں اُسے دکھی نہیں ہونے دوں گا!”
“میں ہوں اُس کی ہر پریشانی دُور کرنے کے لیے!”
“اور نایاب… ماں کے نام پر ناسور ہے، ایک ایسا زہر، جو ارمیزہ کی زندگی کو برباد کر دے گا اور میں ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گا!”
“مگر، تھی تو وہ آپ کی بیوی…”
“ششششش…”
زیغم نے اُس کے لبوں پر انگلی رکھتے ہوئے نرمی سے اُس کی بات کاٹی۔
“میری بیوی صرف تم ہو، صرف تم… اپنے حق کو سمجھو۔ میں کوئی خیرات میں دینے والی چیز نہیں ہوں جو تم بار بار مجھے نایاب کی طرف دھکیلتی ہو۔ سمجھنے کی کوشش کرو، میں تمہارا ہوں، اور تمہارا بن کر ہی رہنا چاہتا ہوں…اپنی اہمیت کو سمجھو، “مہرو النساء زیغم لغاری!”
اُس کے لہجے میں محبت، شدت، سچائی اور حق سب کچھ نمایاں تھا۔
“اور بار بار شرما کر رخ مت پھیر لیا کرو… جانتا ہوں کہ تم معصوم ہو، مگر میری دھڑکنوں میں اٹھتے شور… میرے لبوں سے نکلتے تمہارے لیے محبت بھرے الفاظ… اور میری نظروں میں تمہاری اہمیت… میرے خیال سے تم اچھی طرح سے سمجھ سکتی ہو!”
“سمجھ کر انجان مت بنو…محرو، مجھے سمیٹ لو… میں تمہارا ہوں!”
محبت سے کہتے ہوئے، وہ ہلکا سا جھک کر اُس کی گردن اور کندھے کے بیچ اپنا سر رکھ گیا تھا۔ مہرو کا دل جیسے دھڑک کر باہر آنے لگا ہو، زیغم کا یوں اتنا قریب ہونا، اس کی سانسیں بے ترتیب کر گیا۔ مہرو جلدی سے اٹھنے لگی تو زیغم نے اپنا ہاتھ اُس کے اوپر سے گزارتے ہوئے تکیے پر رکھ دیا۔ مطلب واضح تھا…اُسے اجازت نہیں تھی اٹھنے کی۔
“مہرو، کب تک مجھ سے بھاگتی رہو گی؟”
“بہت ٹوٹا ہوں، اپنی زندگی میں بہت کچھ برداشت کیا ہے۔ زندگی نے صرف دکھ ہی دکھ دیے ہیں، سُکھ کے نام پر تم ملی ہو… سمجھ لو نا میرے دل کی بات!”
زیغم کی نظروں میں، گہرائی سے جھانکتے ہوئے، وہ اُس کے چہرے پر جھکنے لگا۔ مہرو نے اُس کے جذباتوں کی تپش کو اپنے اندر جذب کرتے ہوئے، نرمی سے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، اور پلکیں بند کر لیں۔
“کیوں لگتا ہے کہ محبت کی تپش تم تک، مجھے تھوڑی سی زبردستی سے پہنچانی پڑے گی؟”
“کیوں ہو اتنی معصوم…؟”
وہ اُس کی شرم پر قربان ہوتے ہوئے، اُس کے کان میں سرگوشی کر گیا اور لبوں کی جنبش، محبت سے، اُس کے رخساروں پر محسوس ہوئی۔ سرگوشیوں کی وہ لہریں، مہرو کی دھڑکنوں میں سنسناہٹ دوڑاتی جا رہی تھیں۔
“سس… سائیں…”
تڑپ کر، زیغم کے نام کو سرگوشی میں لیا تھا۔
“حکم کرو، سائیں کی جان!”
“یہ غلط ہے…”
“کیا غلط ہے؟”
زیغم نے چہرہ اٹھا کر اس کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“یہ جو آپ کر رہے ہیں، گناہ ہے!”
“استغفر اللہ! کس نے کہا ہے کہ یہ گناہ ہے؟”
“میں نے کہا ہے!”
“ماشاءاللہ مولانا صاحب! یہ گناہ نہیں ہے، شوہر کی محبت ہے، اور اللہ تعالی نے یہ حق شوہر کو دیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو پیار سے اپنے قریب لا سکتا ہے۔”
زیغم نے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔ اس کی عقل کو داد دے رہا تھا، جو میاں بیوی کے رشتے کو گناہ بول رہی تھی۔ اس کا بھی قصور نہیں تھا، جب اس نے باہر کی دنیا دیکھی نہیں تھی، کبھی کسی نے اسے اس بارے میں بتایا نہیں تھا، تو اسے اس سب کے بارے میں کیسے پتہ ہوگا۔ وہ نرمی سے اس کے ساتھ لیٹ گیا تھا۔ مہرو جلدی سے پیچھے ہونے لگی تھی۔ زیغم نے مہرو کو نرمی سے اپنی جانب کھینچتے ہوئے بہت قریب کر لیا تھا۔
“دیکھو، مہرو، اسلام میں شوہر اور بیوی کے رشتہ کو بہت عزت دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے تعلقات کو بہت خاص بنایا ہے۔ اس رشتہ میں محبت، حسن سلوک اور ایک دوسرے کے حقوق کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔”
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے، اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں تھامے ہوئے بولا۔
“اللہ تعالی نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے، یعنی دونوں ایک دوسرے کی ضرورت ہیں، ایک دوسرے کا احوال بہتر بنانے کے لیے، ایک دوسرے کا دکھ سکھ بانٹنے کے لیے۔ اور اسی لباس کی طرح، ہر حق، ہر تعلق، ہر بات اسی محبت اور عزت سے جڑا ہے۔”
مہرو کو نرمی سے اور بھی اپنے قریب کرتے ہوئے اسے اللہ کے احکامات بتا رہا تھا میاں بیوی کے حوالے سے۔ لہجے میں نرمی سنجیدگی اور محبت کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔
“جو تمہیں غلط لگ رہا ہے، وہ دراصل تمہارے لئے اللہ کا حکم ہے۔ شوہر کا حق ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اپنے قریب رکھے، کیونکہ یہ حق اللہ نے اسے دیا ہے اور بیوی کا حق ہے کہ وہ اپنے شوہر کا خیال رکھے، اس کا ساتھ دے، اور اس سے محبت کرے۔”
وہ گھٹی گھٹی سی سانسیں لیتے تھے خاموش ہو گئی اس کی قربت میں وہ اللہ کے احکام سنتے ہوئے ٹھہراؤ سے لیٹی تو ہوئی تھی مگر دل کی دھڑکنوں میں عجیب سا شور اٹھ رہا تھا۔ زیغم نے ایک لمحہ توقف کیا، پھر اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے حیا کی لالیوں کو غور سے دیکھا۔
“یہ سب اللہ تعالی کی رضا کے لیے ہے، تمہاری اور میری دونوں کی خوشی کے لیے ہے۔ تمہیں یہ سب سمجھنا پڑے گا کہ یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ صرف تمہارے اور میرے درمیان محبت کا معاملہ نہیں، بلکہ اللہ کا حکم ہے، اور ہم دونوں کو یہ فریضہ ادا کرنا ہے۔”
نرمی سے اس کی گردن پر لب رکھتے ہوئے، زیغم نے اس کے زخموں پر مدھم سا بوسہ دیا۔ وہ چھوئی موئی کے پودے کی طرح سمٹ گئی تھی۔ زیغم سلطان کے لبوں کی پہلی جنبش اس کے وجود نے محسوس کی تھی۔
“ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں، اس میں اللہ کی رضا ہونی چاہیے اور جب میاں اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہوں، اللہ ہمیں سکون اور سکونت دے گا، کیونکہ میاں بیوی کے رشتہ میں سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لئے حلال ہیں، اور یہ تمام معاملات اللہ کے حکم سے ہی چلتے ہیں۔”
اتنے پیار اور اللہ کا حکم بیان کرتے ہوئے سمجھایا تو اس اس کا دل نرم پڑنے لگا تھا اور پلکیں لرز کر کھلنے لگی تھی۔ مہرو کی نظریں زیغم کے چہرے پر تھیں۔ مہرو کچھ دیر تک بے چین سی رہی، مگر پھر آہستہ آہستہ اسے زیغم کی قربت میں سکون محسوس ہونے لگا۔ وہ ہلکا سا اپنا نازک ہاتھ زیغم کے سینے پر رکھے ہوئے خاموشی سے لیٹی تھی۔ زیغم نے اپنے نرم ہاتھ سے کمبل کھینچ کر اس کے اوپر ڈھانپ لیا اور پھر اس کے ماتھے پر ہلکے سے لب رکھے، جیسے وہ اس کے لیے اپنی محبت اور سکون کا پیغام بھیج رہا ہو۔ زیغم کی نظریں محبت سے اس کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں، وہ اسے گہری نظروں سے دیکھتا رہا، جیسے اس لمحے کی خوبصورتی کو اپنے دل میں بسانا چاہتا ہو۔ مہرو نے اپنی آنکھیں بند کیں، اور اس کی سانسوں کا نرم شور اس کی بے چینی کو کم کر رہا تھا۔ زیغم نے نرمی سے اپنا بازو اس کے گرد ڈال لیا، اور اس کی موجودگی میں مہرو خود کو محفوظ اور سکون میں محسوس کرنے لگی۔ وہ جانتا تھا کہ یہ لمحہ ان کے لیے خاص ہے، اور اس نے دل میں فیصلہ کیا کہ اس لمحے کو ہمیشہ کے لیے اپنے دل میں محفوظ رکھے گا۔
مہرو کی سانسوں میں سکون آ چکا تھا اور وہ آہستہ آہستہ زیغم کی قربت میں گم ہو چکی تھی۔ زیغم کے دل میں بھی سکون تھا، اور وہ اس وقت کو اپنے دل کی گہرائیوں میں سمیٹ رہا تھا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ لمحہ محبت کی سب سے خوبصورت تعریف ہے۔ شوہر کا حق تو ابھی ادا نہیں ہوا تھا، مگر محبت کے سارے تقاضے خاموشی سے، نرمی سے، پورے ہو چکے تھے۔ یہی پہچان ہوتی ہے ایک اچھے شوہر کی، جو بیوی کو نہ صرف اپنا مانتا ہے بلکہ اسے اللہ کے بتائے ہوئے رشتے کا وقار بھی محبت سے سمجھاتا ہے۔ زیغم کا اندازِ محبت وہ نمونہ تھا، جہاں وہ مہرو کے نازک احساسات کو سمجھتے ہوئے اس پر کوئی ایسی بات مسلط نہیں کر رہا تھا جو اس کے دل کو گراں گزرے۔ اس نے آج بھی اسے صرف اپنی قربت سے محفوظ محسوس کروایا، کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جو مہرو کے معصوم دل کو دھچکا دیتا۔ وہ جانتا تھا کہ رشتہ صرف جسم کا نہیں، روح کا بھی ہوتا ہے۔ اور وہ مہرو کو وقت دینا چاہتا تھا، تاکہ وہ اس رشتے کی اصل گہرائی کو، اس محبت کی حقیقت کو، دل سے سمجھ سکے۔ اس نے خود پر ضبط کیا، صرف اس لیے کہ اس کی محبت میں صبر بھی تھا، اور عزت بھی۔
اسلام کی نظر میں نکاح صرف جسمانی تعلق کا نام نہیں، بلکہ اعتماد، محبت اور عزت پر مبنی ایک پاکیزہ رشتہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے شوہر کو بیوی پر حق دیا، مگر اس حق کے ساتھ احسان، نرمی اور عزت کا حکم بھی دیا ہے۔ بیوی کو اس کے دل و دماغ کے ساتھ قبول کرنا، اس کی رضا اور سکون کو مقدم رکھنا، سنتِ نبوی ہے۔ شادی کے فوراً بعد اگر شوہر صرف اپنی خواہش کا حق جتائے، اور بیوی کے دل میں جگہ بنائے بغیر اس پر بوجھ ڈالے، تو وہ نہ صرف اس رشتے کو کمزور کرتا ہے بلکہ اللہ کی نرمی کے اصول کو بھی نظرانداز کرتا ہے۔
اسلام کہتا ہے: پہلے محبت، پھر اعتماد، پھر حق۔
بیوی کو وقت دو، عزت دو، محبت سے اپنا بناؤ، کیونکہ جو حق محبت سے لیا جائے، وہ ہمیشہ دل میں جگہ بناتا ہے۔
اور زیغم سلطان واقعی ایک فہم و فراست رکھنے والا مرد تھا، جس نے مہرو کی ناسمجھی اور معصومیت کو نرمی اور محبت میں لپیٹ کر، ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا، جو اس کے مضبوط کردار اور گہری عقل کا آئینہ دار تھا۔ وہ جانتا تھا کہ رشتہ نبھانے کے لیے صرف حق نہیں، محبت، برداشت اور وقت دینا بھی ضروری ہوتا ہے۔
°°°°°°°°°
توقیر اور قدسیہ زبردستی کھینچتے ہوئے نایاب کو کمرے میں لائے تھے۔ نایاب زور زور سے دروازہ پیٹ رہی تھی، آنکھوں میں وحشت اور چہرے پر بے بسی نمایاں تھی۔
“چھوڑ دیں مجھے، میں مار دوں گی اسے!”
“آپ کیوں مجھے زبردستی لے کر آئی ہیں!”
وہ دھاڑتی ہوئی قدسیہ اور توقیر کے درمیان گھری ہوئی تھی، جو زبردستی اسے کمرے میں دبائے بیٹھے تھے۔
توقیر نے غصے میں لپک کر کہا:
“اگر جاؤ گی تو وہ دو تھپڑ رسید کرے گا اور اس پاگل انسان کا کیا پتہ گولی مار دے تمہیں، جان سے مار دے گا۔ سمجھ نہیں آتی تمہیں، کیوں اپنا تماشہ بنوا رہی ہو؟”
نایاب کے چہرے پر آنسوؤں کا سیلاب تھا، آواز بھرا گئی۔
“آپ لوگ میرے لیے کچھ نہیں کر سکتے نا تو مجھے میرے حق کے لیے لڑنے دیں!”
“وہ دو ٹکے کی لڑکی میری جگہ پر آ کر بیٹھ گئی ہے!”
“میرے سب حق چھین لیے ہیں، میری بیٹی چھین لی ہے، میرا شوہر چھین لیا… اور میں چپ چاپ بیٹھی رہوں؟”
قدسیہ کا صبر اب جواب دے چکا تھا، جھنجھلا کر بولی:
“ابے عقل کی اندھی! اس نے تجھے کبھی بیوی ہونے کا حق دیا ہی کب ہے؟”
“ہر وقت بیوی بیوی کا تماشہ بنایا ہوا ہے۔ خود کو تو تماشہ بنواتی ہی ہو، ہمیں بھی رسوا کر رکھا ہے!”
“چپ کر جائیں! مجھے تو میرے ماں باپ بھی اپنے نہیں لگتے!”
نایاب کے حلق سے چیخ نکلی اور وہ دروازے کی طرف لپکی، مگر قدسیہ نے اسے زور سے دھکیل کر بیڈ پر بٹھا دیا۔
“عقل کی اندھی! سکون سے بیٹھ جا! کیوں اپنی جان کی دشمن بنی ہوئی ہے؟”
“وہ سر پھرا ہے، اپنی گولی سے اڑا دے گا تجھے!”
“زمین میں دفنا دے گا، اور کسی کو خبر بھی نہیں ہو گی!”
توقیر نے غصے سے کہا:
“سمجھاؤ اس کو! کیوں ہماری عزت کا تماشہ بنا رہی ہے؟”
“طلاق دے چکا ہے وہ، اب کیا ہو سکتا ہے؟”
“رشتہ ختم ہو گیا ہے!”
قدسیہ ماتھا پیٹتے ہوئے بولی:
“ہاں ہاں! پورے خاندان کو سمجھانے کا ٹھیکہ تو میں نے لے رکھا ہے!”
“سارا خاندان ہی پاگل ہے!”
توقیر نے جل کر کہا:
“بس تجھے تو میرے اوپر چیخنا آتا ہے! اور کچھ آتا بھی ہے؟”
قدسیہ نے بھی پلٹ کر جواب دیا: “
میرا بس چلے تو کہیں اور نکل جاؤں!”
“سب ایک سے بڑھ کر ایک نمونے ہیں!”
توقیر نے تنز سے کہا:
“ہاں، اور تم ایک اکلوتی سمجھدار عورت ہو!”
دونوں آپس میں الجھ رہے تھے کہ نایاب دھاڑ کر بولی:
“ماشاءاللہ! میرے مسئلے آپ لوگ کیا حل کریں گے، آپ کے تو اپنے ختم نہیں ہوتے!”
قدسیہ نے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا:
“ہاں بہن! ہم سے تیرے مسئلے حل نہیں ہوتے کیونکہ تُو چلتا پھرتا ایک مسئلہ ہے!”
نایاب نے تڑپ کر کہا:
“تو پھر میری جان چھوڑ دیں!”
“مجھے میرے مسئلے خود حل کرنے دیں!”
قدسیہ تڑخ کر بولی:
“کون سا مسئلہ حل کروانا ہے؟”
“اس نے تجھے طلاق دے دی، بیٹی چھین لی۔ ویسے بھی تُو کب اپنی بیٹی سے محبت کرتی تھی؟”
“چنی منی سی تھی جب سے اٹھا کر اسے ہاسٹل پھینک دیا، منہ نہیں لگاتی تھی، اب ممتا کی دہائی بھی نہ دینا!”
“میرا تو سر پھٹ رہا ہے! میں تو چلی ایک کپ چائے پینے!”
قدسیہ جھنجھلا کر کمرے سے باہر نکل گئی۔
توقیر نایاب کو سخت نگاہوں سے دیکھتا رہا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ نایاب باہر جائے، اس کا دل بھی تو جل رہا تھا۔ وہ خاموش ہو کر بیٹھ تو گئی، مگر اندر سے تپ رہی تھی۔ بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح جائے اور مہرو کو گولی مار دے۔ نایاب کا سب کچھ آج ختم ہو چکا تھا، مگر اس کا دماغ اب بھی انتقام کے بخار میں جل رہا تھا۔ اگر نایاب لائن پر آ جائے تو پھر نایاب نہ کہلائے۔
اس نے ہمیشہ بےباک اور غلط فیصلے لیے تھے، اور آج بھی وہ اسی راہ پر تھی۔ نہ کبھی بدلی تھی، نہ شاید کبھی بدل سکے گی۔
°°°°°°°°
کمرے کی فضا سنّاٹے سے بھری تھی۔ سلمہ اپنے بیڈ پر نیم دراز تھی جب رومی خاموشی سے کمرے میں داخل ہوئی۔ بچپن کی مہک، ماں کے کمرے کی دیواروں سے جُڑی یادیں، سب کچھ بدل چکا تھا۔ لیکن ماں کا انداز… اب بھی ویسا ہی تھا۔ سلمہ نے رومی کا اُترا چہرہ دیکھا، اور اس کے قریب ہو کر بیٹھ گئی۔
“بہن، تُو کیوں منہ لٹکا کر بیٹھی ہے؟”
“آ، اِدھر آ، ماں بیٹی بیٹھ کے باتیں کریں… ہمارے گھر میں، حویلی میں تو تماشہ چلتا ہی رہتا ہے!”
وہ اپنی مخصوص لاپروا ہنسی کے ساتھ بولی۔
“آپ کو سچ میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ زیغم بھائی کا اور نایاب کا رشتہ ختم ہو گیا ہے؟”
رومی نے ماں کی طرف دیکھا، چہرے پر حیرت اور دل میں بوجھ لیے۔
“آپ کے لیے یہ سب ایک تماشہ ہے؟”
“زیغم بھائی نے نایاب آپی کو طلاق دے دی، اور آپ کے نزدیک یہ صرف ایک تماشہ ہے؟”
اس کی آواز بھرا گئی، مگر وہ بولتی رہی۔
“افسوس ہے مجھے، آپ کی سوچ پر۔”
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ سلمہ کے چہرے کا سکون، رومی کی تڑپ کے سامنے جیسے بے جان ہو چکا تھا۔
“ہاں میرے لیے یہ سارا تماشہ ہے، یہاں تو ہر روز کوئی نہ کوئی نیا تماشہ ہوتا رہتا ہے اور زیغم نے اگر نایاب کو طلاق دے دی ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، پہلے بھی ان کا رشتہ طلاق کے جیسا ہی تھا، منہ تو اس کو لگاتا نہیں تھا اور ویسے بھی نایاب کوئی منہ لگانے والی چیز ہے؟”
“اتنا زہر اگلتی ہے، بدتمیز، بدتہذیب!”
“تم چار دن یہاں رہو گی تو تمہیں خود ہی پتہ چل جائے گا!”
سلمہ نے نایاب کی تعریف میں کافی “اچھے” الفاظ بول دیے تھے۔
“مگر جو بھی ہو اماں، آپ خود طلاق جیسی اذیت سے گزری ہیں، تو آپ کیسے کسی لڑکی کے لیے ایسے خوش ہو سکتی ہیں؟”
رومی نے الجھن بھرے انداز میں ماں کو دیکھا۔
“اور مجھے سمجھ نہیں آتی، زیغم بھائی نے جب پہلے سے نایاب سے شادی کی ہوئی تھی، ایک بیٹی ہے ان کی… تو پھر اس کے باوجود زیغم بھائی نے دوسری شادی کیوں کی؟”
رومی کے لیے یہ سب الجھنوں سے بھرا ہوا تھا، وہ حویلی کی وہ سچائیاں نہیں جانتی تھی جن پر وقت نے پردے ڈال رکھے تھے۔ سالوں بعد واپس آئی تھی، اس لیے ہر بات اس کے لیے چونکانے والی تھی۔
“تُو چھوڑ ان کے قصے، تمہیں میں بعد میں سب کچھ سناؤں گی۔ اور اب یہاں رہو گی تو آہستہ آہستہ سب پتہ چل جائے گا کہ کس نے کب، کیوں، اور کیسے کیا۔”
سلمہ نے تھکی تھکی آواز میں کہا، پھر نرمی سے رومی کا ہاتھ تھام لیا۔
“فی الحال رات بہت ہو گئی ہے، ادھر آ، میرے ساتھ آ کر سو۔ سال ہو گئے ہیں تجھے پیار کیے ہوئے…”
وہ رومی کو اپنے ساتھ لٹا چکی تھی، اور اب نرمی سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے ممتا جتا رہی تھی۔ سلمہ جیسی بھی تھی، جیسا بھی اس کا کردار دنیا کے سامنے تھا، ایک ماں کی ممتا ضرور سچی تھی۔
رومی نے گہری سانس لیتے ہوئے سب سوچیں چھوڑ دیں اور اپنی ماں کے سینے سے لگ کر آنکھیں بند کر لیں۔ ماں کا قریب ہونا اولاد کے لیے سب سے بڑا سکون ہوتا ہے… اور رومی، سالوں بعد، آج اس سکون کو جی رہی تھی۔
°°°°°°°°
“آج ذرام، اور ملیحہ کے لیے خوشی کا دن تھا، مگر پھر بھی یہ دن ان کے لیے سوگ میں بدل گیا تھا۔ زرام، نہ چاہتے ہوئے بھی، نایاب اور زیغم کے رشتے کے ٹوٹنے کے غم کو دل پر محسوس کر رہا تھا۔ ملیحہ کو نایاب سے کوئی خاص ہمدردی نہیں تھی، مگر زرام کی تکلیف اسے اپنے دل پر محسوس ہو رہی تھی کیونکہ جب سے وہ اس گھر میں آئی تھی، زرام نے نہ تو اسے کبھی تکلیف دی، نہ ہی کسی بات میں برا محسوس کروایا۔ زرام کی نظروں میں ہمیشہ اس کے لیے نرمی، اور محبت کا عکس رہا۔ ہر چھوٹی چھوٹی بات کا خیال رکھا تھا اُس نے مگر ملیحہ نے یہ بھی محسوس کیا تھا کہ زرام کی پوری فیملی اس کے لیے باعثِ تکلیف ہے اور اس وقت بھی، زرام خاموشی سے کمرے سے نکل کر، بالکونی میں جا چکا تھا۔
دونوں ہاتھ سینے پر باندھے، اندھیرے میں نجانے کیا تلاش کر رہا تھا۔
ملیحہ کچھ دیر تو چینج کر کے بیڈ پر لیٹی رہی، رات کافی گزر چکی تھی مگر ایک عجیب سی بےچینی نے اُسے گھیر لیا۔ وہ اُٹھی، اور آہستہ قدموں سے بالکونی کی طرف بڑھی۔ وہ اندھیرے میں، ایک سائے کی مانند کھڑا تھا۔ ملیحہ نے دھیرے سے اُس کے قریب جا کر،نرمی سے اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا۔ زرام نے پلٹ کر، خاموش نظروں سے اُسے دیکھا تھا۔
“سوچ رہی ہو گی… کیسی ہے میری فیملی؟”
وہ گہری سانس لے کر شرمندگی سے نظریں چرا گیا۔
“اور تمہارا سوچنا بالکل جائز ہے، کیونکہ میری پوری فیملی… میرے لیے خود ایک سوالیہ نشان ہے…”
اس کے چہرے پر چھپا درد، لفظوں سے کہیں زیادہ بول رہا تھا۔
ملیحہ آہستہ سے ہلکی سی گردش میں گھومی، اور سیدھا اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
“میں کیوں تمہاری فیملی کے بارے میں کچھ سوچوں گی؟”
اس کی آواز میں سنجیدگی اور نرمی ساتھ تھی۔
“مجھے تم سے فرق پڑتا ہے… جب تم نے مجھ سے شادی کی، ایک بار بھی یہ نہیں سوچا کہ میں تمہارے اسٹیٹس کو میچ نہیں کرتی، ایک بار بھی نہیں سوچا کہ میں اتنے سال اپنے گھر سے دور کیوں رہی، یہ تک نہیں سوچا کہ لوگ کیا کہیں گے… تو پھر میں کیوں سوچوں گی یہ سب؟”
وہ نرمی سے بولتی ہوئی، زرام کا ہاتھ تھام چکی تھی۔
زرام، نچلے ہونٹ کے کنارے کو کاٹتا، نم آنکھوں سے اسے دیکھتا رہا، اور اگلے ہی پل، اچانک، اس کے گرد اپنے بازو حائل کر کے ٹوٹ کر اس کے ساتھ لگ گیا۔ وہ سچ میں اس لمحے ٹوٹا ہوا تھا اور ملیحہ نے بے اختیار، اس کے بکھرے وجود کو اپنے بازوؤں میں سمیٹ لیا۔
“میں ہوں… ہمیشہ آپ کے ساتھ… جیسے آپ ہمیشہ میرے ساتھ ہوتے ہیں!”
وہ نرمی سے بولی۔
زرام نے لب میچ لیے
“کبھی میرا ساتھ مت چھوڑنا…”
“کبھی نہیں!”
وہ لمحہ درد کے سائے میں، محبت کی چھاؤں بن چکا تھا۔ وہ کمرے میں آ چکے تھے، جہاں اب صرف سناٹا نہیں، ایک دوسرے کی موجودگی کی سانسیں تھیں۔ ذرام، جو محبت کے لمحوں میں بھی اسے چاہ کر پاس نہ پا سکا تھا، اس وقت، وہ اندر سے ٹوٹ چکا تھا اور ملیحہ… اس نے ایک سچے ہمسفر کی طرح، اس کے بکھرے وجود کو تھام لیا تھا۔ یہ لمحہ، محبت کی شدت سے کمزور ہونے لگا، نزدیکیاں… خاموشی سے بڑھنے لگیں۔ ذرام کی قربت کو محسوس کر کے، ملیحہ نے نرمی سے ہاتھ چھڑایا، اور تھوڑا سا پیچھے ہٹی مگر… ذرام، نظروں کی گہرائی میں چھپے درد کے ساتھ، پھر سے اسے اپنے قریب کر چکا تھا۔ یہ قربت، اب لفظوں سے آگے کی بات تھی، دل کی دھڑکنوں میں کہی جا رہی تھی۔ جھکی ہوئی نظریں، لبوں کی عقیدت اور نرم لمس کے ساتھ، وہ اسے اپنے وجود میں سمیٹ لایا تھا۔ پھولوں کی سیج تک، محبت کے ہر قدم پر نرمی تھی، قربت تھی اور دھڑکنوں میں چھپی انسیت کی مٹھاس تھی۔
پلکوں سے ٹوٹے کچھ موتی، خاموشی سے اس لمحے کی گواہی دے گئے، جب دونوں، حیا کے پردے میں لپٹے، قرب کے سنگم پر پہنچے۔
کہیں شرم تھی، کہیں محبت کی گہرائی، کہیں وہ حق جو صرف اس کا تھا اور کہیں وہ زد، جو صرف اس سے تھی۔ چاندنی رات کا چاند ساکت کھڑا، اس مکمل ہوتے لمحے کا گواہ تھا۔ اس کی دسترس میں وہ، اس کے پہلو میں سمٹی، سکون کی سانس لیتی، خاموشی سے سب کچھ کہہ چکی تھی۔ ذرام نے ماتھے پر لب رکھ کر، اس رشتے کی مہر ثبت کی، وہ مسکرایا کیونکہ محبت… اب مکمل ہو چکی تھی۔
°°°°°°°°°