Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:37

راز وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر :37
°°°°°°°°
صبح کی دھیمی روشنی نے کمرے میں نرم سی چمک پیدا کر دی تھی۔ کھڑکی کے پردوں سے چھن کر آتی روشنی نے ماحول کو ایک خاص سا سکون دے رکھا تھا۔ زیغم کی آنکھ کھلی تو اس کی بانہوں میں سمٹی مہرو نیند کے نرم دائرے میں کہیں گم تھی۔ اُس کے چہرے پر پُرسکون مسکراہٹ اور بےخبری تھی۔ زیغم نے چند لمحے بس اُسے دیکھنے میں گزار دیے۔ دل کہہ رہا تھا یہ منظر ہمیشہ رک جائے۔اس کا بس چلتا نہیں حسین لمحوں کو ہمیشہ کے لیے وہ اپنے دل میں قید کر لیتا۔ آہستگی سے اپنی پلکیں جھپکیں نرمی سے لب اس کی پیشانی پر رکھ دیے

“اللہ تیرا شکر ہے!”
اس کے دل نے خاموشی سے کہا۔

“یہ لڑکی میرے لیے باعث سکون ہے۔ اللہ نے تمہیں میری زندگی میں بھیج کر میری زندگی کو خوشیوں سے بھر دیا۔ میں جتنا بھی تیرا شکر ادا کروں وہ کم ہے!”
اپنے رب کا شکر ادا کر رہا تھا۔ مہرو نے ہلکی سی جنبش لی، شاید اس لمس کو محسوس کر کے۔ آنکھیں بند تھیں، لیکن چہرے پر شائستہ سی شرم پھیل چکی تھی۔

“مجھے… نماز پڑھنی ہے…”
اُس کی آواز بہت دھیمی تھی، مدھم سی آہٹ کی طرح۔

زیغم نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھپتھپایا۔
“جاؤ… میں نے کب روکا ہے؟”
زیغم کے لبوں پر ہلکی سی شرارت کی مسکراہٹ پھیل گئی۔ مہرو آنکھیں بند کیے آہستہ آہستہ اس کی گرفت سے پیچھے ہونے لگی تھی، مگر زیغم تو جیسے آج اسے تنگ کرنے کے موڈ میں تھا۔ اُس کے بازو بدستور مہرو کی کمر کے گرد مضبوطی سے بندھے ہوئے تھے۔

“سائیں… جانے دیں…”
وہ شرمائی شرمائی سی آواز میں بولی۔ اُس کی پلکیں جھکی ہوئی تھیں، زیغم کی آنکھوں سے آنکھیں ملانے کی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی۔

زیغم نے مزاحیہ سی سنجیدگی سے کہا:
“کہا تو ہے، جاؤ۔ میں نے کب روکا ہے؟”

مہرو نے بےبسی سے سر اٹھایا۔
“تو… پھر اپنا ہاتھ پیچھے کریں…”

زیغم کی آنکھوں میں شوخی کی چمک مزید گہری ہو گئی۔
“میں تو ہاتھ پیچھے نہیں کروں گا۔ بڑی مشکل سے تو حق ملا ہے ہاتھ رکھنے کا، اب سرکار نے اجازت دی ہے تو میں تو اپنا پورا حق نبھاؤں گا۔”
یہ کہتے ہوئے اُس نے مہرو کے بالوں پر آہستگی سے بوسہ دیا، جیسے کوئی نایاب خزانہ پا لیا ہو۔ مہرو شرم سے زیادہ بےبس سی ہو کر اس کے سینے میں منہ چھپا گئی۔

“یہ کیا بات ہوئی؟”
“شرمایا بھی مجھ سے جا رہا ہے، اور چھپنے کے لیے جگہ بھی میرے ہی سینے میں چنی گئی ہے… تڑپانے کا انداز خوب ہے۔”
“ویسے بھی،سرکار اب ایسی بے وقتوں کی عادتیں ڈال لو خود کو، کیونکہ روز میری محبت کی خوشبو تم تک ایسے ہی پہنچے گی اور ہاں، میں ایسی حرکتیں تو ضرور کروں گا… بیوی ہو تم میری، مجھے حق ہے!”
اُس نے اپنی گرفت مزید مضبوط کی اور سرگوشی میں بولا۔

“جی نہیں… آپ ایسی حرکتیں نہیں کریں گے!”
مہرو اس کے سینے سے لگی آہستہ سے آواز سے بولی۔

زیغم نے مسکرا کر اُس کے بالوں میں منہ چھپا لیا۔
“اب سے میں اپنی من مرضی کروں گا، اور تمہیں میری من مرضیاں اللہ کی رضا سمجھ کر ماننا پڑیں گی!”
اس کے ہونٹوں کی جنبش مہرو کے ماتھے پر بکھرتی گئی۔

“ایسا کچھ نہیں ہونے والا، آپ گندے ہوتے جا رہے ہیں۔”
مہرو نے مسکراتے ہوئے، بے تکلف انداز میں کہا تھا۔ اس کا یوں تھوڑا سا بے تکلف ہونا زیغم کو اچھا لگا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا… اگر میاں بیوی کے رشتے میں تھوڑی سی بے تکلفی نہ ہو، تو یہ رشتہ مالک اور نوکر جیسا محسوس ہونے لگتا ہے اور اسے اس طرح کے رشتے کی کبھی بھی خواہش نہیں تھی۔ ہمیشہ دل سے اس نے یہی چاہا تھا کہ جب بھی اس کی بیوی اس کی زندگی میں آئے تو ان کے بیچ میں دوستانہ بے تکلفی بھرا رشتہ ہو۔ وہ آہستہ سے سرک کر بیڈ سے دور ہوئی اور نرمی سے نیچے اتری۔

“واپس آؤ۔”
زیغم نے انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا، آواز میں وہی نرمی، وہی مان۔

“میں نہیں آؤں گی، مجھے نماز پڑھنی ہے۔ آپ بھی وضو کر کے نماز پڑھیں۔”
مہرو نے سر جھکائے، سنجیدگی سے جواب دیا۔ زیغم کا دل خوش تھا کیونکہ اس کے بیوی ایک سچی اور مسلمان لڑکی تھی۔ جس کے لیے عبادت اور رب کا حکم بہت عزیز تھا۔

“اچھا جی، بیویوں والا رُعب جما رہی ہو مجھ پر؟”
زیغم نے لیٹے لیٹے، دونوں بازو سر کے نیچے رکھ کر شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

“جی، کیونکہ آپ نے خود ہی کہا ہے کہ میں آپ کی بیوی ہوں اور مجھے آپ پر حق جتانا چاہیے، اور آپ کو سنبھال کر رکھنا چاہیے۔”
وہ مان سے بولی تھی۔ انداز ایسا تھا جیسے وہ اپنے رشتے کی اہمیت کو پوری طرح سے سمجھ چکی ہو اور اپنے شوہر کو اپنا بنا کر سنبھالنے کے لیے پوری طرح سے تیار تھی اور یہ چیز زیغم سلطان کے دل کی گہرائیوں تک سکون اتارنے کے لیے کافی تھی۔ زیغم کی نظریں اچانک اس کی گھنی، ریشمی چٹیا پر اٹک گئی تھیں۔ پہلی بار اس نے مہرو کے بالوں کو اتنے قریب سے دیکھا تھا… لمبے، سلکی بال، جو کمر سے نیچے تک جھول رہے تھے، اور جنہیں اس نے نرمی سے چٹیا میں باندھ رکھا تھا۔ آج تک مہرو نے کبھی سر سے دوپٹہ نہیں اتارا تھا، اور شاید یہی پہلی بار تھا جب زیغم کی نظریں اس کے بالوں پر پڑی تھیں۔ دوپٹہ تیزی سے سرک کر بیڈ سے اتر کر جاتے ہوئے بیڈ پر ہی رہ گیا تھا۔ مہرو نے فوراً محسوس کیا کہ اس کا دوپٹہ نہیں ہے۔ شرم سے سرخ ہو کر وہ جلدی سے جھکی اور دوپٹہ اٹھانے لگی تھی کہ زیغم نے دوپٹہ کھینچ کر اپنے سینے پر رکھ لیا۔

“یہ تو ایسے آپ کو نہیں مل سکتا۔”
زیغم کی نظروں میں شرارت بھری ہوئی تھی، وہ اپنے دل کی ملکیت پر مکمل حق جتانا چاہتا تھا۔

“سائیں، صبح صبح تنگ مت کریں، دوپٹہ دیں میرا۔”
وہ ہاتھوں سے خود کو چھپاتے ہوئے نرمی سے التجا کر رہی تھی، شرم کے مارے خود میں ہی سمٹ جانا چاہتی تھی۔

“چلو ٹھیک ہے، نہیں تنگ کرتا۔ دوپٹہ ابھی دے دوں گا، مگر ایک شرط پر۔”
زیغم نے شرارتی انداز میں آنکھیں سکیڑ کر کہا، دوپٹہ چھپانے کا انداز ایسا تھا کہ جیسے کسی بچے نے کوئی قیمتی کھلونا چھپا رکھا ہو۔

“کیسی شرط؟”
“میں کوئی بھی مشکل شرط نہیں مانوں گی۔”
وہ فوراً چوکنا ہو گئی، کیونکہ آج کل اس کے سائیں کے پل پل بدلتے ہوئے رنگ، اسے چونکنے اور گھبرانے پر مجبور کر دیتے تھے۔

“کوئی مشکل شرط نہیں دوں گا، وعدہ۔”

“ٹھیک ہے، بتائیں۔”
اس نے گردن ہلائی، اپنا دوپٹہ لینے کے لیے وہ ہار مان چکی تھی۔

“اپنا دوپٹہ واپس لینے کے لیے کہنا پڑے گا کہ ‘زیغم، میرا دوپٹہ دے دیجیے’ بس اتنا کہنا ہے، میں فوراً دے دوں گا۔”
زیغم کو اس کی حالت پر ترس بھی آ رہا تھا اور شرارت بھی چہرے پر چھائی ہوئی تھی۔

“میں آپ کا نام نہیں لوں گی، آپ… سائیں… میرا دوپٹہ واپس کریں۔”
وہ ضد میں آ گئی تھی، نظریں نیچی کیے خفگی سے کہہ رہی تھی۔

“جب تک میرا نام نہیں لو گی، میں دوپٹہ نہیں دوں گا۔”

“مجھے نماز پڑھنی ہے… اور میں اللہ سے شکایت کروں گی کہ آپ مجھے تنگ کرتے ہیں، اور میرا دوپٹہ نہیں دے رہے۔”
کتنی معصوم تھی… اس کی شکایت بھی اپنے رب سے تھی۔ زیغم کا دل بار بار اس کی معصومیت پر قربان ہونے کو کرتا تھا۔ اس نے معصومیت میں بھی اتنی پیاری بات کہی تھی کہ زیغم کے دل سے شرارت کا ارادہ نکلنے لگا تھا۔ کتنی محبت سے اس نے رب کا حوالہ دے کر کہا تھا۔ زیغم نرم قدموں سے بیڈ سے اترا، آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اس کے قریب آیا۔ مہرو کی نظریں گھبرائی ہوئی تھیں، دل دھڑک رہا تھا کہ پتہ نہیں سائیں کیا کرنے والے ہیں، مگر زیغم نے وہی کیا، جو اس جیسے شوہر کو کرنا چاہیے تھا۔ پیار سے، نرمی سے، خاموشی سے… اس کے قریب ہوتے ہوئے دوپٹہ پھیلایا اور اس کے سر پر اوڑھا… جیسے کوئی دلہن بنائی جا رہی ہو، جیسے کوئی بہت پیاری چیز احترام سے سجا دی گئی ہو اور پھر اس کے چہرے کو ایک محبت بھری نظر سے دیکھا۔

“میری سادگی میں لپٹی ہوئی محبت… جاؤ وضو کرو، میں بھی آ رہا ہوں۔ مل کر نماز پڑھیں گے۔”
مہرو نے ہاں میں سر ہلایا، آنکھوں میں شرم کی چمک لیے واش روم کی جانب بڑھ گئی۔ بیڈ کے کنارے بیٹھے بیٹھے زیغم نے نظریں دروازے پر جما دیں… دل کی گہرائیوں سے دعا نکلی تھی۔

“بے شک اے اللہ، تُو اگر دکھ دیتا ہے تو سکھ بھی ایسے دیتا ہے کہ انسان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو۔”
“ہمیشہ میں اپنی زندگی میں ایک ایسی لڑکی، ایک ایسی عورت چاہتا تھا جس سے میں محبت کرنے کے لیے مجبور ہو جاؤں… جو میرے لیے سکھ کا ذریعہ ہو اور جب مجھے یہ سب نہیں ملا تو میں کہیں نہ کہیں مایوس ہو کر تیرا گنہگار ہوتا جا رہا تھا… مگر میرے رب… بے شک تُو اپنے بندے کے لیے بہتر سے بہترین دیتا ہے… اور میرا بہترین… میری نظروں کے سامنے ہے۔”
اس نے واش روم کے بند دروازے کو دیکھتے ہوئے دل سے شکر ادا کیا۔ بیڈ کے کنارے پر بیٹھا وہ اپنی زندگی کے لمحوں کو، اپنے رب کی نعمتوں کو، اور اپنی بیوی کی معصوم محبت کو دل میں بسائے، مسکرا رہا تھا۔
کچھ دیر بعد، جب مہرو سفید دوپٹے میں، جائے نماز پر کھڑی ہوئی تو زیغم کی نظریں بس اسی پر جم گئیں۔ اُس کا سجدے میں جھکا وجود زیغم کے دل میں ایک پیارا سا احساس بیدار کر رہا تھا۔ سکون، احترام اور اپنائیت کا حسین امتزاج۔

وہ خود بھی وضو کر کے آ چکا تھا، مگر اپنی مہرو کو دیکھتے ہوئے جیسے وقت تھم گیا تھا۔ نماز کے بعد، جب مہرو نے آنکھیں کھولیں تو سامنے زیغم کو کھڑا پایا۔ اُس کی آنکھوں میں ایک خاص چمک تھی، جیسے وہ کچھ کہنا چاہتا ہو۔

“مہرو…”
زیغم نے نرمی سے پکارا، آواز میں محبت کی گہرائی چھپی ہوئی تھی۔

“جی؟”
مہرو نے سر اٹھا کر جواب دیا، آواز دھیمی تھی مگر دل سے نکلی تھی۔

“آج کی صبح خاص ہے… کیونکہ آج پورے دل سے تم میرے ساتھ ہو!”
“آج کی صبح خاص ہے… کیونکہ تم ہمیشہ کے لیے میری ہو چکی ہو… اور میں تمہارا!”
مہرو نے جواب میں بس ہلکی سی مسکراہٹ دی، مگر اس کی آنکھوں کی چمک… وہ سب کچھ کہہ گئی، جو الفاظ کہہ نہ پاتے۔ اس کی آنکھوں میں وہ سکون، وہ رضا تھی… جو ایک سچے رشتے کی پہچان ہوتی ہے۔ میاں بیوی کے محبت بھرے رشتے کا وہ پہلا تقاضا، ابھی مکمل طور پر ادا نہیں ہوا تھا،جس سے اس رشتے کو مکمل کہا جا سکتا مگر مہرو کا زیغم کو خود پر حق دینا… بس وہی کافی تھا اس رشتے کو خوبصورت بنانے کے لیے۔
زیغم نے پیار بھری نظروں سے مہرو کو دیکھا، اور خاموشی سے اپنا جائے نماز بچھایا۔ اللہ اکبر کہہ کر، وہ بھی رب کی بارگاہ میں فجر کی نماز کے لیے کھڑا ہو چکا تھا۔

واقعی… خوش نصیب ہوتے ہیں وہ دو لوگ، جو محبت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنے رب کے سامنے جھکتے ہیں۔ ایسی محبت… جہاں محبت بھری نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے پاکیزگی کے ساتھ نماز کا حکم پورا کیا جائے۔ محبت تو یہ ہے، محبوب کے ساتھ نماز میں کھڑے ہو کر، رب سے اپنے رشتے کا گواہ بنایا جائے۔ یہی محبت کا سب سے بہترین انداز ہے۔
ورنہ آج کل تو… محبت کا مفہوم بدل چکا ہے۔ جسمانی تقاضوں کو محبت کہا جانے لگا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو نوچ کر، محبت کا نام دے دیتے ہیں مگر محبت تو یہ ہے، جو مہرو، زیغم سے کرتی ہے… اور جو زیغم سلطان، اپنی مہرو سے کرتا ہے۔

“محبت وہی جو سجدے میں ساتھ ہو!”
“نظریں جھکی ہوں، دل رب کے پاس ہو!”
“جہاں محبت عبادت، عبادت محبت بن جائے”
“جہاں سجدے میں روحوں کا ملاپ ہو!”
°°°°°°
فضا میں تناؤ تھا، ماحول میں خاموشی۔ زیغم، سلطان، غصے سے دہاڑ رہا تھا، فون پر رفیق کی خبر نے صبح صبح اس کا پارہ بہت ہائی کر دیا تھا۔ شہرام پرانی حویلی سے فرار ہو چکا تھا۔

“تم لوگوں کو رکھا کس لیے ہے؟”
“صرف روٹیاں توڑنے کو؟”
“روک کیوں نہیں سکے؟”
“اگر اس نے میری فیملی کو کوئی نقصان پہنچایا تو تم لوگوں کے ٹکڑے میں اپنے ہاتھوں سے کروں گا!”
اس کی آواز در و دیوار ہلا رہی تھی۔ پیشانی پر پسینے کی بوندیں تھیں، غصے سے فون بند کیا اور بیڈ پر دے مارا۔ غصے سے ونڈو کے قریب جا کر اکھڑی سانسیں لے رہا تھا اس وقت غصے سے اس کے چہرے کی نسیں ابھری ہوئی تھی۔ یہ منظر، مہرو خاموشی سے کھڑی دیکھ رہی تھی۔ معصوم سا دل خوف سے لرز گیا۔ نرماہٹوں سے بھری رات گزری، محبت سے صبح کا آغاز ہوا مگر اچانک سے تو جیسے زندگی میں طوفان آگیا تھا۔ زیغم کی نظریں مہرو کی جانب اٹھی تھی، اس کا گھبرایا ہوا چہرہ دیکھ کر خود کو پرسکون کرنے کے لیے گہری سانس لی۔

“میرے پاس آؤ۔”
اشارے سے زیغم نے اسے اپنے قریب بلایا تھا۔
مہرو سہمے قدموں سے آگے بڑھی، زیغم نے نرمی سے اس کا چہرہ تھاما۔

“تم کیوں ڈری ہوئی ہو؟”
“میں نے کچھ کہا تم سے؟”

“سائیں، آپ کے غصے سے ڈر لگتا ہے!”

“میری جان، عادت ڈال لو!”
“سائیں کے سر پر ذمہ داریاں ہیں، اور ذمہ داریاں کبھی کبھار سختی مانگتی ہیں اور اگر تمہارا سائیں غصہ نہیں کرے گا تو یہ لوگ ہمیں نوچ نوچ کر کھا جائیں گے۔ نایاب کو تم دیکھ چکی ہو سب کے سب ایک ہی فطرت کے مالک ہیں۔”
وہ مدھم لہجے میں سمجھا رہا تھا۔

“میں کوشش کروں گا کہ تمہارے سامنے کبھی سخت نہ بنوں کیونکہ میں تمہاری ڈری ہوئی آنکھیں نہیں دیکھ سکتا۔”
نرمی سے کہتے زیغم نے بات رخ بدلا۔

“میں ایک خاص فیصلے کے لیے جرگہ جا رہا ہوں، تیار کرو مجھے۔”
مہرو نے چونک کر دیکھا۔ زیغم کے لبوں پر شرارتی مسکراہٹ تھی۔

“آپ اتنے بڑے ہیں، خود سے تیار ہو جائیں۔”

“نہیں، آج بیوی کے ہاتھوں تیار ہونا ہے!”
“الماری سے کپڑے نکالو، اور بتاؤ کیا پہنوں؟”

“اور اگر آپ کو پسند نہ آئے تو…؟”

“ایسا ہو نہیں سکتا، جو تم پسند کرو گی، مجھے قبول ہوگا!”
مہرو نے زیغم کا حکم پاتے ہی بڑی محبت سے بلیک سوٹ اور خاص اجرک نکالی، کیونکہ جب بھی زیغم سلطان بلیک کلر کا سوٹ پہنتا تھا مہرو کو وہ بہت اچھا لگتا تھا۔ مہرو کی نظریں نہیں ہٹتی تھی۔ مہرو کے ہاتھ سے کپڑے لیتا ہوا ڈریسنگ روم میں جا کر زیغم چینج کر کے آیا۔ مہرو اجرک لیے خاموش کھڑی تھی۔

“پہناؤ مجھے۔”
زیغم نے کہا۔
مہرو کی ہائٹ کم تھی۔ ایڑھیاں اٹھائیں مگر گردن تک نہ پہنچی، تو زیغم نے جھک کر خود اس کا فاصلہ کم کیا۔ مہرو نے شرمائے سے انداز میں اجرک اس کے گلے میں ڈال دی۔

“بہت شکریہ جناب!”
گہری نظروں سے اسے دیکھا۔

“اب پرفیوم لگاؤ، اور گھڑی پہناؤ۔”
ڈریسنگ ٹیبل سے زیغم سلطان کی پسند کی خاص پرفیوم کی بوتل اٹھا کر اس اسی انداز میں اس پر پرفیوم کا چھڑکاؤ کیا جس انداز سے وہ خود لگاتا تھا۔ وہ روز تو دیکھتی تھی اسے تیار ہوتے ہوئے، اس لیے اسے ذرا سی بھی مشکل نہیں ہوئی تھی زیغم کو ریڈی کروانے میں۔ محبت سے خاص پرفیوم چھڑکا، گھڑی پہنائی، اس سب کے لیے ‘تھینک یو’ کرتے ہوئے۔ زیغم نے ماتھے پر محبت بھرا بوسہ دیا۔

“خیال رکھنا!”
“یہ گھر ہے تمہارا، قید خانہ نہیں!”
“کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، اور جو تم پر ہاتھ اٹھائے… چیر ڈالنا، سمجھی؟”
مہرو نے خواب زدہ انداز میں سر ہلایا۔

“آج کچن میں جا کر میرے لیے کھانا بنوانا، تمہاری پسند کا کھاؤں گا!”
“اور کمرے میں بند مت رہو… حویلی کی مالکن ہو، کھل کر وقار سے رہا کرو!”
زیغم جا چکا تھا، اور مہرو… اس کے لفظوں میں، اس کے لمس میں، کہیں کھو گئی تھی۔
°°°°°°°°°
زیغم سلطان اپنے روم سے نکلتا ہوا، سیڑھیوں سے تیزی سے نیچے جا رہا تھا کیونکہ آج جرگہ میں کچھ خاص فیصلے تھے۔ شہرام جو دوسری حویلی سے بھاگ چکا تھا، یہ بات معمولی نہیں تھی، کیونکہ شہرام کی فطرت زیغم سے اب چھپی نہیں تھی، اور وہ کسی بھی وقت نقصان پہنچا سکتا تھا۔ ظاہر ہے، اگر وہ بھاگا تھا تو کسی نیک ارادے سے ہرگز نہیں بھاگا ہوگا۔ نیچے اترتے ہوئے ٹکراؤ رومی سے ہوا۔

“بھائی! اتنی سپیڈ میں کہاں جا رہے ہیں؟”
“مجھے تو آپ سے بہت ساری باتیں کرنی ہیں!”
ٹکرانے سے ایک دوسرے کو بچاتے ہوئے رومی نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

“ہاں جی، بالکل باتیں کریں گے اور بہت ساری……… باتیں کریں گے، مگر میرا بچہ… انتظار کرنا، رات کو کریں گے۔ اس وقت آپ کے بھائی کو بہت ضروری کام ہے!”
وہ اس کے سر پر پیار سے تھپکی دیتا، آگے بڑھنے لگا تھا کہ پیچھے سے ارمیزہ نے آواز دی۔

“بابا…”
قدم رک گئے تھے۔

“جی، بابا کی جان؟”
پلٹ کر دیکھا تو ارمیزہ بھاگتی ہوئی اس کے قریب آ چکی تھی۔

“بابا! مجھے اسکول آپ چھوڑ کر آئیں گے نا؟”

“میرا بچہ، آج ذرام چاچو کے ساتھ چلے جاؤ، بابا کو بہت جلدی ہے۔ میں پکا کل خود چھوڑ کر آؤں گا۔”

“مگر مجھے آپ کے ساتھ جانا ہے۔”
ارمیزہ کا موڈ تھوڑا سا آف ہو گیا تھا۔

“جی میری جان، میں جانتا ہوں تمہیں میرے ساتھ جانا ہے، مگر اس وقت بابا کو بہت ضروری کام ہے۔ پلیز، آپ تو سمجھدار ہو نا؟”
زیغم کے پیار سے سمجھانے پر وہ منہ بسورتے ہوئے مان گئی تھی۔

“ٹھیک ہے، مگر کل سے آپ مجھے چھوڑنے آئیں گے؟”

“پکا وعدہ، کل سے میں خود چھوڑ کر آؤں گا۔”
گلے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے پکا وعدہ کیا تھا۔
اسی لمحے اس کی نظر توقیر کی فیملی پر پڑی، جو لاؤنج میں بیٹھی شکلیں بگاڑ رہی تھی۔ قدسیہ، نایاب، اور خود توقیر… سب کے سب نمونے ایک ہی جگہ پر اکٹھے ہو کر سفر پر بیٹھے ہوئے تھے۔

“ارمیزہ… مہرو ماما کے پاس جاؤ، اور جا کر تیار ہو جاؤ۔”
زیغم نے جان بوجھ کر ان کی طرف دیکھتے ہوئے بلند اواز میں کہا، احساس دلانا چاہتا تھا کہ ارمیزہ کی ماں مہرو ہے، نایاب نہیں۔

“ارمیزہ میری بیٹی ہے!”
“میں اسے خود تیار کروں گی، تم مجھ سے میری بیٹی نہیں چھین سکتے!”
نایاب بھڑک کر بولی۔

“جہاں بیٹھی ہو، آرام سے بیٹھی رہو، ورنہ اس حویلی سے باہر پھینکوانے میں مجھے ایک لمحہ نہیں لگے گا!”
زیغم نے غصے سے گھورتے ہوئے کہا۔ اس کی دھاڑ سے نایاب کے قدم ساکت ہو چکے تھے۔

“اور ایک بات دماغ میں بٹھا لو، جتنا تماشا تم آج تک کر چکی ہو، کر لیا!”
“اگر اب ارمیزہ، دانیہ یا مہرو کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، تو نایاب میں یہ بھول جاؤں گا کہ تم ایک عورت ہو!”
“ایسی سزا دوں گا کہ تمہاری روح تک کانپ اٹھے گی!”
“اور یاد رکھو، زیغم سلطان اب بولے گا نہیں، کر کے دکھائے گا، کوئی رشتہ، کوئی لحاظ مجھے روک نہیں سکتا۔”

“پہلے کونسا تم نے رشتوں کا لحاظ رکھا ہے، جو اب کر لو گے؟”
قدسیہ بیچ میں بولی۔

“جی ہاں، رشتوں کا لحاظ تو صرف تم لوگوں کو آتا ہے!”
“پاسداری تو صرف تم لوگ کرتے ہو نا؟”
زیغم نے طنزیہ لہجے میں کہا۔

“یہ حویلی میری ہے اور یہاں کے قائدے قانون بھی میرے ہوں گے!”
“بہت جلد تم سب کو یہاں سے نکال دوں گا۔ جب تک یہاں ہو، سکون سے کھانا کھاؤ، گھر کے کام کرو، نمک کھا کر حلال کرنا سیکھو!”
“حرام کھا کھا کر تم لوگوں کے دماغ بند ہو چکے ہیں!”
وہ غصے سے بول رہا تھا اور اس کی پھونکار کو دیکھ کر رومی حیران رہ گئی تھی۔ اسے لگا جیسے زیغم غلط کر رہا ہے، مگر وہ اس حقیقت سے ناواقف تھی کہ یہاں ہر چہرے نے نقاب پہن رکھا تھا، ہر کردار کی اصلیت اس نقاب کے پیچھے چھپی ہوئی تھی۔

“اور اگر میرے جانے کے بعد کسی نے ذرا سی بھی ہوشیاری دکھانے کی کوشش کی، یا کسی کو پریشان کیا، تو مت بھولولنا، میں واپس آ کر وہ حشر کروں گا کہ تم لوگوں کو موت کی بھیک مانگنی پڑے گی!”
وہ دھمکی دیتا، باہر کی جانب قدم بڑھا گیا تھا۔

“یہ خود کو سمجھتا کیا ہے؟”
اس کے جانے کے بعد کھا جانے والی نظروں سے اس کے جاتے راستے کو یوں دیکھا جیسے ابھی پیچھے جا کر اسے مار ڈالے گی۔

“یہ خود کو جو بھی سمجھتا ہے، مگر اس کی آخرت بہت خراب ہے۔ اس کا بھی وہی انجام ہوگا جو اس کے گھر والوں کا ہوا!”
توقیر نے غصے سے کہا۔ اس کے ایک ایک لفظ سے شیطانیت کی بو آ رہی تھی۔

“اب تو میں بھی چاہتی ہوں کہ ان کا انجام اچھا نہ ہو۔ جس کے لیے سب کچھ برداشت کیا، جب وہی میرا نہیں رہا… تو پھر یہ اپنے انجام کو پہنچنے چاہئیں۔”
نایاب نے مدھم آواز میں کہا، مگر رومی سن چکی تھی۔ رومی بس منظر دیکھے جا رہی تھی۔ حیران تھی کہ اس گھر میں کیا ہو رہا ہے۔ یہاں تو سب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے لگ رہے تھے۔ وہ صبح سب سے مل چکی تھی، اس لیے خاموشی سے دانیا کے روم کی طرف بڑھ گئی۔ دانیا اپنے روم میں بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی۔ رومی دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے اجازت لے کر اندر آئی۔

“رومی، کیسی ہو؟”
دانیا نے مسکرا کر کہا اور کتاب ایک طرف رکھ دی۔ وہ دونوں بیٹھ کر باتیں کرنے لگیں۔

“دانیا آپی، یہ گھر میں کیسا ماحول ہے؟”
“سب ایک دوسرے کے لیے دل میں نفرت کیوں رکھتے ہیں؟”
رومی نے بے تکلفی سے سوال کیا۔

“بس رومی، یہ حویلی باہر سے جتنی خوبصورت لگتی ہے، اندر سے اتنی ہی بوسیدہ ہے۔ زیغم بھائی کے آنے سے کچھ بہتری آئی، ورنہ یہ تو ایک جہنم تھی۔”
دانیا نے اداسی سے کہا۔

“آپی میں سمجھی نہیں…”
رومی نے حیرت سے کہا تو دانیا نے اسے اپنا سمجھ کر کچھ پردے ہٹا دیے۔ زیغم، نایاب کی شادی کی وجہ، کچھ پرانے سینز دکھائے۔ رومی کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

“استغفراللہ… یہ کیسے لوگ ہیں؟”
“اتنی سازشیں، وہ بھی اپنوں کے ساتھ؟”
رومی نے بے اختیار کہا۔
دونوں اس وقت بہنیں بن کر دل کا بوجھ ہلکا کر رہی تھیں۔کبھی کبھی دور رہ کر بھی کچھ لوگ دل کے قریب ہو جاتے ہیں۔ رومی بھی ایسی ہی تھی، ہمیشہ سے دور، مگر دل میں سب کے لیے محبت لے کر آئی تھی مگر یہاں آ کر کچھ اور ہی منظر دیکھنے کو ملا۔ دانیا کے ساتھ بیٹھی دکھوں کی داستان بانٹ رہی تھی۔ رومی بھی اپنی کہانی سنا رہی تھی، کیسے اس نے دور رہ کر اپنے اپنوں کو کتنا یاد کیا۔ ٹیکساس میں بابا اسے یہاں سے لے گئے، اور پھر کبھی واپس نہیں آنے دیا مگر رومی نے یہ بات کبھی اپنی ماں سے نہیں کہی کیونکہ وہ ایک بہت سمجھدار لڑکی تھی، اپنی عمر سے کہیں زیادہ سنجیدہ اور خاموش رہنے والی۔
اچھی طرح جانتی تھی، اگر وہ یہ بات اپنی ماں کو بتاتی تو وہ اپنے مرے ہوئے باپ کے لیے ایک بار پھر دل میں نفرت جگا کر کڑوی باتیں سنانے لگتیں۔
دانیا اس کا درد سن کر خاموش سی ہو گئی۔ دل میں عجیب سا افسوس جاگ اٹھا تھا۔ سوچنے لگی، کہ کسی کی زندگی بھی آسان نہیں ہوتی۔ رومی نے بھی اپنی زندگی میں بہت سی محرومیاں جھیلی تھیں۔ وہ اپنی عمر سے کہیں زیادہ سنجیدہ اور سمجھدار نظر آتی تھی۔
°°°°°°°°°°
یہ ولیمہ کے بعد کی پہلی صبح تھی اور سورج کی نرم کرنیں کمرے کی کھڑکی سے داخل ہو کر نرم روشنی میں بکھر رہی تھیں۔ کمرے کا ماحول خوابوں جیسا تھا۔ ملیحہ کے چہرے پر خوشی اور شرم و حیا کی ملی جلی سی خوشی چمک رہی تھی۔
ذرام کروٹ لیتا ہوا سیدھا ہوا تھا اور اس کی نظریں سیدی ملیحہ پر جا کر ٹکی تھی۔ وہ رائل بلیو کلر کی خوبصورت فراک میں ملبوس تھی، جس پر اس وقت کے فیشن کا اثر تھا۔ گلے میں گولڈن کلر کی لوپس کی جواہرات سی ڈیزائن تھیں اور دوپٹہ صوفے کی ایک سائیڈ پر بے تکلف لٹک رہا تھا۔ اس کے بال ہلکے سے سمیٹے ہوئے تھے اور مکھن کی طرح نرم جلد پر ہلکا میک اپ تھا، جس سے اس کا چہرہ اور بھی نکھرا نکھرا دکھائی دے رہا تھا۔ میچنگ لائٹ سی بالیاں پہن رکھی تھی۔ نرم مسکراہٹ میں ایک نئی جاذبیت چھپائے ہوئے آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔ ذرام کے لب ہلکے سے مسکرائے، اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے ملیحہ کی جانب قدم بڑھائے۔ ملیحہ کی نظریں جھک گئیں، ایک خوبصورت سی شرمندگی اس کے چہرے پر تھی۔ ذرام نے اس کے سر کے پیچھے ہاتھ رکھا اور نرمی کے ساتھ کیچر کو کھولا۔ جیسے ہی اس کے بال آزاد ہوئے، آبشار کی طرح اس کی کمر پر گرنے لگے۔

“مجھے تم کھلے بالوں میں زیادہ اچھی لگتی ہو۔”
ذرام کی آواز نرم اور مدھم تھی۔ سرگوشی میں کہا یہ اس کی دل کی خواہش تھی۔

“مگر کھلے بال مجھے پریشان کرتے ہیں!”
اس کا لہجہ وہی تیکھا سا تھا جسے ذرام ہمیشہ پسند کرتا تھا۔ یہ لہجہ جو ملِیحہ کی اصل شناخت ہے۔

“پریشان ہونے سے اگر تمہارا شوہر خوش ہوتا ہے تو سودا برا نہیں ہے!”
ذرام کی نظروں میں شرارت چھپی ہوئی تھی۔ پیار سے دونوں ہاتھ اس کے کندھے پر رکھے تھے۔

ملِیحہ نے نظریں جھکائیں
“شوہر کو اُوٹ پٹانگ چیزوں سے خوشی ملتی ہے، تو میں اپنے شوہر کو خوش نہیں کر سکتی!”
اس کی آواز میں شرم اور محبت کا حسین امتزاج تھا۔

“اچھا…… جی… اُوٹ پٹانگ باتیں کرتا ہوں؟”
ذرام کی مسکراہٹ بڑھ گئی، اس کی آواز میں دلکشی تھی۔

“ایسے مت دیکھیں، تیار ہو کر ہاسپٹل جائیں۔”
ملیحہ نے شرم سے لال ہوتے ہوئے دوپٹے کو اٹھا کر گلے میں ڈالا۔

ذرام کی ہنسی نکل گئی۔
“او… ہو… میری سپائسی چلی شرما رہی ہے!”
اس کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے شرمانے پر مجبور کر رہا تھا۔

“پلیز، تنگ مت کریں…”
وہ شرما کر نظر گھما گئی۔ وہ اس کے انداز پر فدا ہو چکا تھا، اس کی تیکھی مرچی شرما رہی تھی۔ یہ دونوں کی ایک دوسرے کی قربت میں تھے۔ تین مہینوں بعد ولیمہ کی صبح کی یہ خاص ملاقات، جہاں محبت، کشمکش، اور ہنسی مذاق کی ایک نرگسی کیفیت چھائی ہوئی تھی۔ کمرے میں ہنسی اور شرارتوں کی گونج اب بھی باقی تھی، ذرام نے ایک بار پھر اپنی مخصوص شرارتی نظروں سے اسے دیکھا۔ نظروں میں خماریوں کے رنگ بھی گہرے تھے۔

“ویسے قسم سے، تمہیں دیکھ کر تو لگتا نہیں کہ تم شرما بھی سکتی ہو۔”

ملیحہ نے نظریں چراتے ہوئے تپ کر جواب دیا۔
“اور تمہیں دیکھ کر بالکل نہیں لگتا کہ تم کبھی سوبر بات بھی کر سکتے ہو!”

ذرام ہنستے ہوئے قریب ہوا۔
“اپنی بیوی سے کون سوبر انداز میں بات کرتا ہے؟”
کندھے سے کندھا زور سے مارا تھا۔

“آ… اوچ…”
ملیح کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فوراً پلٹی، ایک ابرو اٹھا کر سوالیہ انداز میں بولی:
“کیوں؟ کہاں لکھا ہے کہ بیوی کے ساتھ سوبر لہجے میں بات نہیں کی جا سکتی؟”

ذرام نے قدم آگے بڑھائے،اس کے چہرے کو گہری نظروں سے دیکھا۔
“جواب تو تمہیں بھی معلوم ہے، مگر چلو ٹھیک ہے، میں بتا دیتا ہوں… بیوی سے بے تکلفی اور رومینس سے بات کی جاتی ہے ڈفر…”
اس کے ماتھے سے ماتھا ٹکراتے ہوئے کہا۔

ملیحہ نے مصنوعی ناراضگی سے ہنکارا بھرا۔
“ایسا صرف تمہیں لگتا ہے۔”

ذرام نے موقع نہ چھوڑا، شوخی سے جھکتے ہوئے بولا:
“چلو تم ہی بتا دو… اپنی نالج کے مطابق، بیوی سے بیٹھ کر کس موضوع پر بات کی جاتی ہے؟”
وہ جان بوجھ کر اسے شرمانے پر مجبور کر رہا تھا، کیونکہ وہ جانتا تھا، ملیحہ کا یہ انداز اس کے دل کو بہت بھاتا ہے۔

ملیحہ نے اس کے گال پر نرمی سے ہاتھ رکھا، مگر اگلے ہی لمحے اس کے گال کو زور سے دبا کر ہنس پڑی تھی۔
“تم جاؤ، ہاسپٹل… گھر پر مت پڑے رہا کرو۔”

ذرام نے اس کی کلائی تھامی، ہنسی دباتے ہوئے نظروں میں دیکھا۔
“ہاسپٹل تو چلا ہی جاؤں گا، پہلے اپنا علاج تو کر لوں… اپنی پیاری بیوی سے۔”

ملیحہ کی آنکھیں پھیلیں۔
“اچھا؟ تمہیں کون سی بیماری لاحق ہو گئی ہے جو مجھے تمہارا علاج کرنا ہے؟”

“دل پر درد ہو رہا ہے… زوروں کا۔ اگر ‘کس’ وغیرہ مل جائے تو شاید آرام آ جائے۔”
ذرام نے شرارتی انداز میں سر جھکاتے ہوئے کان میں سرگوشی کی۔ اس کے ہونٹوں پر بے باکی تھی، مگر آنکھوں میں خالص محبت۔

ملیحہ نے گھورتے ہوئے ہاتھ اٹھایا۔
“ایک لگاؤں گی کان کے نیچے!”
“چپ چاپ جا کر اپنے مریضوں کی دیکھ بھال کرو۔ تم پر فرض ہے!”

ذرام زور سے قہقہہ لگا کر ہنسا، مگر فورا واپس مصنوعی سنجیدگی کا لبادہ اوڑھتے ہوئے بولا:
“میں اپنا فرض نبھا لوں گا… تم بھی اپنا فرض نہ بھولو اور ذرا شرم سے بات کیا کرو، مجازی خدا سے ایسے کون بات کرتا ہے؟”
“شوہر کے کان کے نیچے لگانا گناہ سمجھا جاتا ہے۔”

ملیحہ نے ناک چڑھاتے ہوئے، آنکھیں گول کر کے دیکھا۔
“اچھا بیٹا، تمہارے انداز ایک رات میں ہی بدل گئے؟”
“تمہیں عزت و احترام چاہیے؟”
“مجھ سے ایسی کوئی امید نہ رکھنا۔ میں جیسی ہوں، ویسی ہی رہوں گی۔”

“ویسے ڈارلنگ ایک رات میں تیور تو تمہارے بھی بدل گئے ہیں۔ تمہیں کہاں شرمانا آتا تھا؟”
“لگتا ہے… لڑکی کو شرمانا آ گیا ہے!”
وہ جان بوجھ کر اس پر لفظوں کے تیر چلا رہا تھا، تاکہ ملیحہ خود کو شرمانے سے روک نا پائے۔ زرام کو اس کا شرمانا بہت اچھا لگ رہا تھا ورنہ تو اس کی اسپائسی چلی ہر وقت سر پھاڑنے کو تیار رہتی تھی۔

“ذراااااام!”
ملیحہ نے دانت پیستے ہوئے اس کا نام کھینچا۔

“جی، زرام کی جان؟”
وہ فوراً عاشقانہ انداز میں بولا۔

ملیحہ نے انگلی اٹھا کر تنبیہ دی۔
“تم یہ ٹھرکی لڑکوں جیسی حرکتیں مت کیا کرو!”

ذرام نے آنکھ دبا کر بےباکی سے کہا:
“اور کیا کروں؟”
“مجھے تو کوئی شریف حرکت آتی ہی نہیں… بس اب تو تمہیں برداشت کرنی پڑے گی!”
کمرے کی فضا شرارت، محبت اور شوخی سے بھر گئی تھی۔ ولیمہ کی صبح، جو عام طور پر خاموش ہوتی ہے، یہاں مسکراہٹوں، چھیڑ چھاڑ اور ان کہی محبت کے رنگوں میں بھیگ رہی تھی۔

“تمہارے ساتھ بحث کرنا فضول ہے!”
ملیحہ نے جھنجھلا کر رخ موڑا، اس کی باتوں کے جواب میں الجھنے کے بجائے نظریں چرا لی۔ الفاظ ختم ہو چکے تھے، اور وہ دل کی دھڑکنوں سے خود کو سنبھالنے کی کوشش میں تھی۔ ذرام نے اسے جاتے ہوئے دیکھا، تو فوراً لپک کر اس کے بازو کو تھام لیا۔ نرمی سے نہیں، ایک جذب میں، شدت سے۔

“کہاں جا رہی ہو تم؟”
اس کی آواز میں شوخی چھپی تھی، مگر آنکھوں میں محبت کی لپک تھی۔
ایک جھٹکے سے اسے اپنی طرف کھینچا، اور ملیحہ کا وجود اس کے سینے سے آ لگا۔ وہ ایک لمحے کے لیے سنبھل نہ سکی، جب ذرام نے اس کی کمر پر بازو رکھ کر اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔

“اب کبھی… کہیں نہیں جانے دوں گا…!”
وہ سرگوشی کرتا جھکا، اور پھر دھیرے دھیرے اس کے چہرے کی طرف بڑھا۔ ملیحہ کی پلکیں لرزیں، دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو گئی، اور لب خاموشی کی مہر میں قید ہونے لگے۔ ذرام کے لب اس کے لبوں پر آئے… اور جھکتے ہی چلے گئے… وقت جیسے رک گیا تھا۔

“اب کوئی آواز نہیں، میری سپائسی چلی…”
اس نے دھیرے سے کہا، اور واقعی، اس کی شوخ بھری آواز لمحہ بھر کو بند ہو چکی تھی۔ ذرام کی چاہت کے لمس میں گم ہو چکی تھی۔ کمرے میں اب صرف سانسوں کی مدھم آہٹ باقی تھی، اور دو دلوں کی دھڑکنیں جو ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو رہی تھیں۔ سپائسی چلی کی بڑبڑاہٹ سانسوں کی روانی میں الجھ چکی تھی۔ ذرام کی گرفت میں مقید، اس کے لبوں پر مہر ثبت کیے، وہ اب احتجاج نہیں کر سکتی تھی، نہ آنکھیں دکھا سکتی تھی، نہ طنز بھرا جملہ اچھال سکتی تھی۔ اس پل میں وہ مکمل طور پر سزا پا رہی تھی، وہ سزا جو ذرام نے اسے چپ کروانے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی محبت کا یقین دلانے کے لیے دی تھی۔
سانسوں کی تیز ہوتی تال، دل کی دھڑکنوں میں چھپا اضطراب، اور ذرام کے لمس میں گھلتی ہوئی اس کی خاموشی… سب کچھ گویا گواہ بن چکے تھے اس لمحے کے جس میں سپائسی چلی کی شوخی بھی ہار مان چکی تھی۔
وہ بےبس تھی، مگر محبت میں…
وہ خاموش تھی، مگر سرشاری میں…
اور وہ پگھل رہی تھی، ذرام کی چاہت کی شدت میں قطرہ قطرہ گھلتی چلی گئی۔
°°°°°°°°°
دوپہر کی کڑکتی دھوپ تھی، اور مائد خان کے کانوں تک یہ خبر پہنچی کہ اس کے کسانوں کو بری طرح سے زخمی کیا جا رہا ہے۔ وہ شیر کی طرح چنگاڑتا ہوا وہاں تک پہنچا تھا۔ چاروں طرف گندم کی کٹائی تقریباً شروع ہونے والی تھی۔ مائد خان کی بڑی سی کالے رنگ کی چمچماتی ہوئی گاڑی کھیتوں کے بیچ سے کچے راستے کا سینہ چیرتی ہوئی وہاں پر پہنچی تھی۔ سبحان پہلے سے وہاں پر موجود تھا اور مائد خان کے کسانوں کو بری طرح سے مار رہا تھا۔ مائد خان اور سبحان خان کی زمینیں ساتھ ساتھ تھیں اور ایسے تماشے لگانے میں سبحان خان شیر تھا۔ اب تک خاموش اس لیے تھا کیونکہ مائد خان کے ساتھ اس کی بہن کا بچپن سے رشتہ طے تھا اور اب جب یہ رشتہ ختم ہو چکا تھا اور اس کی بہن کی شادی کہیں اور ہو چکی تھی، تو مائد خان کے ساتھ دشمنی نہ نبھانے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ جب سے مائد خان واپس آیا تھا سبحان اس کے خون کا پیاسا بنا گھوم رہا تھا۔ سبحان خان نے یہ سارا تماشہ جان بوجھ کر کے کری ایٹ کیا تھا۔ ہاتھا پائی حد سے بڑھنے لگی تھی۔ دونوں طرف جوان خون تھا۔ لڑائی بہت زیاد حد سے بڑھی تو گولیاں چلنے لگی تھیں مگر یہ شروعات سبحان نے کی تھی۔ وہ ایسی شیطانی فطرت کا مالک تھا اور مار دھاڑ خون خرابہ اس کے لیے چھوٹی سی بات تھی۔

مگر دوسری جانب بھی مائد خان تھا، وہ بھی پٹھانی خون تھا، غصہ اس کے اندر بھی کھول اٹھا۔ اس نے بھی کمر پر لگی ہوئی پستول نکالتے ہوئے پسٹل تان دی۔ گولی سیدھی جا کر سبحان کے سینے سے لگی۔ سبحان خان کے آدمیوں نے بھی سامنے سے گولیاں چلائیں۔ ادھر مائد خان کے آدمیوں نے بھی گولیاں چلانی شروع کر دیں۔ دھڑ دھڑ دھڑ کی آوازیں کھیتوں میں گونج اٹھی تھیں۔ مائد خان کو گولی صرف چھو کر گزری تھی۔ فوراً سے اس کے آدمیوں نے ڈھال بنتے ہوئے اسے گاڑی میں دھکیل دیا تھا جبکہ مائد خان بالکل گاڑی میں بیٹھنا نہیں چاہتا تھا۔

“خان… اللہ کا واسطہ ہے، بیٹھ جائیں، گاڑی میں!”
“ہم ان سب کو دیکھ لیں گے!”
مائد کے خاص آدمی نے زبردستی اسے گاڑی میں بٹھا کر ڈرائیور کے ساتھ وہاں سے زبردستی روانہ کیا تھا۔ وہ کسی شیر کی طرح جھپٹ جھپٹ کر گاڑی سے نکل رہا تھا، لیکن بڑی مشکل سے اسے وہاں سے روانہ کیا کیونکہ سبحان خان موقع پر مارا جا چکا تھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی، خون سے مائد خان کے ہاتھ رنگے جا چکے تھے۔ گاڑی حویلی پہنچنے سے پہلے یہ خبر زیغم سلطان تک پہنچ چکی تھی کیونکہ مائد خان کے خاص آدمی اچھی طرح سے جانتے تھے کہ دونوں ایک دوسرے کے بغیر سانس بھی نہیں لیتے، اور یہ خبر اسے پہنچانا بہت ضروری تھی۔ مائد خان کی حویلی پہنچنے سے پہلے زیغم سلطان وہاں پر پہنچ چکا تھا۔

“مائد یار! گولی چلانے کی کیا ضرورت تھی؟”
زیغم نے اسے اپنی گاڑی میں بٹھاتے ہوئے سخت نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔

“تو کیا کرتا؟ اس کے سامنے بزدل بن کر کھڑا رہتا؟”
مائد خان غصے سے پھونکارا۔

“یار، میں نے ایسا کب کہا ہے۔ میرے کہنے کا صرف اتنا مطلب ہے کہ اس کو جان سے مارنے کی کیا ضرورت تھی؟”
“ٹانگ پر گولی مار دیتے، بازو پر مار دیتے، بس جان سے مت مارتے!”
“اب پتہ نہیں فضول میں تمہیں کتنی دیر اس کتے کے خون کی وجہ سے اِدھر اُدھر ہونا پڑے گا۔”
“اچھی طرح سے جانتے ہو، قانونی کاروائی سخت ہے، اور تم نے قتل کیا ہے!”
زیغم نے سختی سے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔

“ہاں تو کیا ہوگا؟”
“زیادہ سے زیادہ سزائے موت ہو جائے گی!”
“ہو جانے دو، میں کسی چیز سے ڈرتا نہیں۔ بے غیرت بن کر وہاں اپنے کسانوں کو مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا!”
مائد خان کی کھوپڑی اچھی خاصی گھومی ہوئی تھی۔

“گاڑی روکو!”
وہ غصے سے پکارتا ہوا حلق کے بل چلا کر ڈرائیور کو گاڑی روکنے کو کہہ رہا تھا۔

“رفیق، گاڑی مت روکنا!”
“اس کا دماغ خراب ہو گیا!”
زیغم نے سختی سے کہا۔

“ہاں، میرا دماغ خراب ہو گیا ہے،تم مجھے کہاں لے کر جا رہے ہو؟”
“مجھے اس بزدلوں کی طرح ساتھ نہیں جانا!”
“عورتوں کی طرح چوڑیاں پہن کر بیٹھنے والوں میں سے نہیں ہوں… سینہ تان کر موت کا سامنا کرنے کا بھی جگرا رکھتا ہوں!”
وہ مسلسل گاڑی کے گیٹ کو غصے سے کھول رہا تھا اور ڈرائیور کو بھی بول رہا تھا کہ گاڑی روکے۔

“چپ چاپ بیٹھے رہو تماشہ مت کرو!”
زیغم نے سختی سے کہا۔

“میں ڈرپوک نہیں ہوں!”
“کہاں لے کے جا رہے ہو مجھے؟”
“میں حویلی پر جاؤں گا، جو ہوگا میں دیکھ لوں گا، پھانسی ہوگی تو ہو جانے دو مگر اس طرح چھپ کر بزدلوں کی طرح نہیں بیٹھوں گا!”

“اچھا، پھانسی لینے سے پہلے ایک بار اس کے بارے میں بھی سوچ لینا جس کی خوشیوں کے خواب میں نے تمہارے ساتھ سجانے شروع کر دیے ہیں۔ کیا اس کی زندگی میں صرف بربادی لکھی ہے؟”
“اسے خوشیوں سے جینے کا حق نہیں؟”
زیغم نے رازدانہ انداز میں اس کے کان کے پاس جھکتے ہوئے کہا تو مائد خان نے غصے سے بھری ہوئی سرخ آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا تھا۔ زیغم کا اشارہ دانیا کی طرف تھا۔

“مطلب؟”
مائد نے حیرانی سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ نظروں سے تجسس چھلک رہا تھا کیونکہ یہ موقع پریشانی سے بھرا تھا۔

“کیوں تو بچہ ہے میں تجھے سمجھاؤں کہ میری بات کا مطلب کیا ہے؟”
سامنے بھی زیغم سلطان تھا جو سیدھے انداز سے تو کبھی بات بتانے کا روادار نہیں رہا تھا… اوپر سے وکیل… باتوں کو گھمائے بنا بات کرنا اسے کبھی پسندنہیں تھا۔ زیغم مائد کا دوست تھا اور اچھی طرح سے جانتا تھا کہ اسے راستے پر کیسے لانا ہے۔ اس وقت وہ جتنا غصے میں تھا، اسے قابو کرنا مشکل ہی نہیں، ناممکن تھا۔ وہ اس وقت چلتی گاڑی سے بھی دروازہ کھول کر نیچے اتر سکتا تھا، اس لیے اس کے غصے پر محبت کی مرہم رکھی تھی۔

اسے کہتے ہیں سچا دوست۔ اس وقت زیغم نے بالکل نہیں سوچا تھا کہ وہ جس کے بارے میں بات کر رہا ہے، وہ اس کی بہن ہے۔ اسے صرف اپنا دوست نظر آ رہا تھا، اور وہ اپنے دوست کو ہر حال میں ایک محفوظ جگہ پر پہنچانا چاہتا تھا کیونکہ اس وقت سبحان خان کے مرنے کی وجہ سے چاروں طرف دشمنی کی آگ لگ چکی تھی، اور ایسے میں مائد خان کی جان بھی جا سکتی تھی اور زیغم کیسے اپنے یار کو موت کے قریب لے جا سکتا تھا؟

“میں اس کے لیے اپنی جان بھی دینے کے لیے تیار ہوں، مگر وہ تو میری شکل تک دیکھنے کی روادار نہیں ہے!”
غیرت مند مائد خان نے زیغم سے نظریں چراتے ہوئے آہستہ سے کہا تھا۔

“بے فکر ہو جاؤ، میری بات مانو اور سکون سے میرے ساتھ چلو۔ وعدہ ہے تم سے نکاح کے کاغذوں پر دستخط میں کرواؤں گا مگر اسے منانا اور اپنی محبت کا اعتبار دینا، اسے یقین دلانا کہ اس کی زندگی میں بھی خوشیاں آ سکتی ہیں، اسے یہ بتانا کہ اسے بھی جینے کا پورا حق ہے، یہ سب کچھ تمہارے حوالے!”
زیغم نے ٹھہراؤ سے کہا تو مائد خان کا غصہ ٹھنڈا پڑنے لگا تھا۔ وہ خاموشی سے سیٹ کے بیک پر سر ٹکرا کر بیٹھ گیا تھا۔ اس کے بازو سے مسلسل خون بہہ رہا تھا اور زیغم نے اس پر سختی سے کپڑا باندھ رکھا تھا، کیونکہ گولی چھو کر گزری تھی، مگر پھر بھی خون کا بہاؤ کافی تیز تھا اور تکلیف اور خون بہہ جانے کا درد مائد خان کے چہرے پر اثر انداز نہیں ہو رہا تھا، کیونکہ اس کے دل میں اتنی پریشانی میں بھی ایک بات کا خوبصورت احساس تھا کہ دانیا اس کی زندگی میں آنے والی ہے، جسے اس نے بچپن سے چاہا تھا۔

“مگر میں اس طرح چھپ کر نہیں بیٹھ سکتا۔ میرے کسانوں کو اگر سبحان خان کے آدمیوں نے یا اس کے بھائیوں نے کوئی نقصان پہنچایا تو؟”
مائد خان نے اچانک سے سر اٹھا کر سختی سے کہا۔

“میرے ہوتے ہوئے تمہارے کسانوں کو ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچے گا۔ میرے بندے تمہارے آدمیوں کے ساتھ وہاں پہنچ چکے ہیں، سب کچھ قابو میں ہے اور باقی سبحان کے بھائیوں سے میں خود لپٹ لوں گا!”
“وہ کرو جو میں چاہتا ہوں تمہاری مہربانی ہے، کچھ دن کے لیے محفوظ جگہ پر خاموشی سے رہ لو میری خاطر!”
زیغم سلطان نے گاڑی کو اسی جگہ پر لے جا کر روکا جہاں پر اس نے مائد خان کو ایکسیڈنٹ کے بعد رکھا تھا، اور وہی ڈاکٹر مائد کے جانے سے پہلے وہاں پر پہنچ چکا تھا۔ سارا ماحول ویسا کا ویسا تھا، صرف ایک چیز بدلی تھی کہ اس بار زیغم سلطان خود اس کے ساتھ تھا۔

“ٹریٹمنٹ دیجیے خان صاحب کو!”
زیغم نے ڈاکٹر کو مسکراتے ہوئے کہا تھا۔

“ویسے خان صاحب، آپ یہ بار بار کیوں زخمی ہو کر آ جاتے ہیں؟”
ڈاکٹر نے ڈریسنگ شروع کرتے ہوئے کہا۔
مائد خاموش تھا۔

“خان صاحب اس وقت بول نہیں سکتے کیونکہ ان کی زبان پر کفل کا تالا لگا ہوا ہے۔”
زیغم نے شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔

“خان صاحب، اب پھر سے کچھ دن یہیں رہیں گے، مہمان ہیں آپ کے، ان کا خاص خیال رکھیے گا!”
“مگر اس بار یہ اکیلے نہیں رہیں گے، ان کی مسز بھی ان کے ساتھ ہی ہوں گی!”
مائد نے نظریں اٹھا کر زیغم کی جانب تھا، جو ہر بات بڑی روانی سے بول جاتا تھا۔ اس کے اس انداز سے مائد خان متاثر تھا۔

“یہ تو بہت خوشی کی بات ہے۔”
ڈاکٹر کے ساتھ وہاں کا باقی عملہ بھی خوش ہو گیا تھا۔

“نکاح کی تیاریاں کیجیے!”
ملازم کی جانب دیکھتے ہوئے زیغم نے کہا تھا۔

“جو حکم سائیں!”
ملازم نے کہا۔

“میں چند ضروری گواہوں اور دلہن کو لے کر کچھ ہی دیر میں پہنچتا ہوں!”
وہ مسکراتے لبوں سے اپنے یار کو دیکھتا ہوا وہاں سے نکل گیا تھا کیونکہ اس شیر کو اس وقت یہاں پر باندھ کر رکھنے کا ایک ہی طریقہ تھا، وہ تھی دانیا، ورنہ یہ یہاں بزدلوں کی طرح کبھی نہ بیٹھتا، اور اس کی جان خطرے میں تھی۔ زیغم سلطان نے اپنے یار کی جان بچانے کے لیے اپنی بہن کو اس کے ساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا، جبکہ ابھی وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ دانیا کا فیصلہ کیا ہوگا۔

“اصلی دوست کا پتہ اُس وقت چلتا ہے جب آپ مشکل میں ہوں۔ وہ دوست ہی اصل ہوتا ہے جو آپ کے لیے وہ فیصلے کرے، جو عام انسان کے لیے کرنا مشکل ہو۔ یہی سچی دوستی کے وہ گہرے رنگ ہیں جو اچانک سے آپ کے غموں پر چھا کر خوشیوں کے رنگ بکھیر دیتے ہیں۔”
°°°°°°°°°°°
زیغم اور آغا جان فون پر رابطے میں تھے۔ آغا جان کو معلوم ہو چکا تھا کہ مائد نے سبحان کو گولی مار دی ہے اور اس کے بعد دشمنی کس حد تک پھیل چکی ہے۔ یہ بات انہیں بتانے کی ضرورت نہیں تھی، کیونکہ وہ خود بخوبی جانتے تھے کہ اب سبحان کے بھائی خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ ایسے میں انہیں اپنے بیٹے کی بہت فکر ہو رہی تھی۔ ان کا بیٹا نہ ڈرنے والا تھا، نہ ہی خاموش ہو کر چھپنے والا۔ اسی لیے زیغم نے حویلی کے دروازے سے ہی مائد کو اپنے ساتھ لے جا کر ایک محفوظ مقام پر پہنچایا۔ یہ سب آغا جان جانتے تھے اور آغا جان کو یہ بھی علم ہو چکا تھا کہ مائد دانیہ کو پسند کرتا ہے۔ دانیا اور مائد کے رشتے کی بات ہو چکی ہے۔ اس پر وہ خاموش ہو گئے تھے۔ فون بند ہو چکا تھا، مگر اب وہ مورے سے مخاطب تھے۔

“آپ جانتی تھی کہ مائد، دانیا بیٹی کو پسند کرتا ہے؟”
آغا جان نے حیرت اور تجسس سے پوچھا۔

“جی، جانتی تھی… اور بہت اچھی طرح سے جانتی تھی۔”

“تو بتایا کیوں نہیں؟”

“کیونکہ سب کچھ آپ کی نظروں کے سامنے تھا۔ اگر تھوڑا غور کرتے تو اپنے بیٹے کی آنکھوں میں دانیا کے لیے محبت بھی دیکھ لیتے، اور تڑپ بھی۔”

“یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے!”
آغا جان نے سخت لہجے میں کہا۔

“آپ کا سوال میرے جواب کے اندر ہی ہے… ڈھونڈ لیجیے۔”
“اور اب خدا کا واسطہ ہے، کوئی اور رکاوٹ نہ پیدا کیجیے گا۔ میرے بیٹے کو خوش ہو لینے دیں۔ اس لڑکی میں کوئی برائی نہیں ہے۔ آپ بھی اسے اچھی طرح جانتے ہیں!”
مورے نے آج ڈٹ کر اپنے بیٹے کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

“میں جانتا ہوں، وہ بچی بہت اچھی ہے، ایک اچھے خاندان سے ہے۔ اس کا باپ نیک اور باکردار انسان تھا، زیغم بہت اچھا بھائی ہے، اس کا ایک نام ہے۔ مجھے کسی سے کوئی شکایت نہیں… لیکن وہ بچی…”
آغا جان کچھ لمحوں کے لیے خاموش ہو گئے، جیسے زبان ساتھ نہ دے رہی ہو۔

“ہاں، جانتی ہوں… وہ طلاق یافتہ ہے۔ اُس کی شادی ہو چکی تھی۔”
مورے نے ان کے ادھورے جملے کو مکمل کیا۔

“ہاں، یہی مسئلہ ہے۔ وہ طلاق یافتہ ہے، اور میں کیسے اپنے اکلوتے بیٹے کی شادی ایسی لڑکی سے کر دوں؟”

“تھوڑا دل وسیع کریں،! اللہ کے نبیﷺ نے تو کہیں نہیں فرمایا کہ طلاق یافتہ لڑکی سے شادی نہیں ہو سکتی، تو آپ کونسا نیا اصول قائم کرنا چاہتے ہیں؟”
“ہمارا بیٹا دانیا سے محبت کرتا ہے۔ خدا کا واسطہ ہے، اس کے نصیب میں خوشیاں ڈال دیں۔ طلاق کو ایک طرف رکھ کر سوچیں، وہ لڑکی کتنی اچھی ہے، ہمارے گھر کو جوڑ کر رکھے گی، ہماری خدمت کرے گی، ہمارے گھر میں خوشیاں لائے گی۔ ہمارا بیٹا خوش رہے گا۔”
“اور اگر آپ نے یہ نکاح نہ ہونے دیا، تو مائد کبھی چین سے نہیں بیٹھے گا۔ آپ بھی جانتے ہیں کہ اس وقت دشمن بھوکے کتوں کی طرح میرے بیٹے کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ اگر مائد کو کچھ ہوا، تو یہ گھر تباہ ہو جائے گا!”
مورے نے سینہ تان کر، ڈٹ کر، اپنے شوہر کے سامنے بیٹے کا ساتھ دیا۔

“اس وقت اگر لڑکی کا بھائی اپنے دوست کے لیے اتنا بڑا فیصلہ لے سکتا ہے، صرف اس کی جان بچانے کے لیے فوراً سے اپنی بہن کا نکاح کرنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے… تو آپ تو اس کے باپ ہیں۔ اپنا دل تھوڑا سا نرم کیوں نہیں کر سکتے؟”
آغا جان کچھ دیر گہری خاموشی میں رہے۔

“ہممم… ٹھیک ہے، مجھے یہ رشتہ منظور ہے۔ نہیں بنوں گا تمہارے بیٹے کی خوشیوں میں رکاوٹ۔ تیاری کرو، تھوڑی دیر میں زیغم کا ڈرائیور ہمیں لینے آ رہا ہے… تیاری کریں ہمیں اپنے بیٹے کے نکاح میں شامل ہونا ہے۔ اب جو بھی ہو جائے، میں اپنے بیٹے کی خوشیاں نہیں چھینوں گا۔”
آغا جان نے مسکرا کر کہا۔

“اللہ تیرا شکر ہے! میرے بیٹے کے نصیب میں خوشیاں آ گئیں۔ میں آپ کا احسان کبھی نہیں بھولوں گی!”
وہ دعا کے لیے ہاتھ بلند کرتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کر رہی تھی، اور ساتھ ہی شوہر کا شکریہ بھی۔

“مجھے شکریہ کہنے کی ضرورت نہیں، وہ میرا بھی بیٹا ہے۔ میں بھی اسے خوش دیکھنا چاہتا ہوں۔ مانتا ہوں، اس کی خوشیوں کے لیے کچھ سخت فیصلے کیے، مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ میں اس سے محبت نہیں کرتا۔”
آغا جان نے آہستہ سے کہا۔
اور درخزائی کو بلا کر، وہ سب نکاح میں شرکت کے لیے روانہ ہونے لگے۔ ایک طرف سبحان کے گھر کہرام مچا ہوا تھا، دوسری طرف مائد خان کے نکاح کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔
°°°°°°°°°°
زیغم حویلی کے دروازے پر رکا تھا۔ دل میں ارادے کو مضبوط کیا کہ آج وہ سب کچھ ٹھیک کر دے گا۔ اپنی بہن کی کھوئی ہوئی خوشیوں کو مائد کی صورت میں اسے لوٹائے گا۔ زیغم بخوبی جانتا تھا کہ مائد ہی وہ شخص ہے جو دانیا کو عزت دے گا، تحفظ دے گا اور محبت بھی۔ زیغم کے لیے یہ رشتہ دونوں طرف سے فائدہ مند تھا۔ ایک طرف اس کا یار، جس نے برسوں دانیا سے محبت کی اور آج اسے ایک ساتھی کی ضرورت تھی، کیونکہ آنے والے کچھ مہینے اسے گمنامی کی زندگی گزارنی تھی، جو اس کی غیرت کو گوارا نہ تھا۔ وہ بزدلوں کی طرح بیٹھنے والا نہ تھا۔ دوسری طرف دانیا تھی، جس کی زندگی کے رنگ ماند پڑ چکے تھے۔
زیغم جانتا تھا کہ دانیا کو منانا آسان نہ ہوگا، مگر اسے خود پر بھروسہ تھا۔ ارادہ کیا تھا کہ نرمی سے بات کرے گا، سادگی سے نکاح کی بات کرے گا، اور اسے مائد کے ساتھ اسی جگہ چھوڑ آئے گا جہاں وہ پرسکون، خاموش، اور محفوظ زندگی کے کچھ مہینے گزاریں گے۔ ان کے پاس ایک دوسرے کو سمجھنے کا وقت ہوگا۔ اس خوشی کو مکمل کرنے کے لیے وہ چاہتا تھا کہ رومی، مہرو، ارمیزہ اور ملیح،ہ ذرام کو بھی ساتھ لائے، تاکہ یہ سب لمحے یادگار بن جائیں مگر…… جیسے ہی اس نے حویلی میں قدم رکھا، منظر مکمل طور پر بدل چکا تھا۔ ہال کے بیچوں بیچ ایک مانوس سی پرچھائی کھڑی تھی۔ زیغم کے لیے یہ چہرہ پہچاننا مشکل نہ تھا۔

وہ حمائل تھی۔ جس کے ساتھ وہ برسوں امریکہ میں ایک اچھے دوست کی حیثیت سے رہا، اور پھر وہ اس کی زندگی میں منگیتر کا مقام رکھتی رہی مگر اب، وہ اچانک اس کے سامنے… اس کی حویلی میں… بغیر کسی اطلاع کے کھڑی تھی۔ زیغم سکتے میں آ گیا۔
کچن میں مہرو، زیغم کی پسند کا کھانا بنوا رہی تھی، اور دانیا بھی وہیں موجود تھی۔ حمائل کی آمد پر وہ دونوں بھی باہر نکل آئی تھیں۔ حویلی کا ماحول یکا یک عجیب سی کشمکش میں ڈھل گیا۔ حمائل نے جدید طرز کی پینٹ شرٹ پہنی ہوئی تھی، اور اس کے انداز میں وہی پرانی خوداعتمادی اور غرور جھلک رہا تھا۔ لگتا تھا جیسے وہ کچھ جان چکی ہو۔ اس کے چہرے سے ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔ نگاہوں میں مہرو کے لیے نفرت اور طنز کی ایک جھلک تھی، جیسے اسے کوئی کم تر اور بے حیثیت چیز سمجھ رہی ہو۔ شاید… شاید اسے زیغم اور مہرو کے نکاح کی خبر مل چکی تھی۔ اور اب… وہ آئی تھی کچھ حساب برابر کرنے… کچھ دعوے جتانے…

“حمائل، تم یہاں؟”
زیغم نے حیرانی سے آگے بڑھتے ہوئے پوچھا، جیسے اس کی موجودگی واقعی ناقابلِ یقین ہو۔

“افسوس ہے، آتے ہی تمہیں خوش ہو کر کہنا چاہیے تھا، ‘ویلکم ہوم، حمائل!’ مگر تمہاری آنکھوں کا تجسس صاف بتا رہا ہے کہ مجھے یہاں دیکھ کر تمہیں شدید شاک لگا ہے۔”
حمائل نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ، اپنی مخصوص ایٹیٹیوڈ میں جواب دیا۔

“بالکل لگا تو ہے… مگر ہاں، ویلکم! تم حویلی تشریف لائیں، اچھا لگا۔”
زیغم نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا، مگر حمائل کی نظروں میں چھپا سوال اسے بھی چبھ رہا تھا۔

“شکل سے تو ایسا نہیں لگ رہا کہ تمہیں میرا یہاں آنا اچھا لگا ہے!”
حمائل کے لہجے میں واضح غرور اور چیلنج تھا۔ زیغم نے بے ساختہ ہنکارا بھرا۔ وہ بھول گئی تھی کہ سامنے زیغم سلطان کھڑا ہے، جو ایٹیٹیوڈ والوں کو ایٹیٹیوڈ سے جواب دینا خوب جانتا ہے۔

“اگر بتا کر آتیں، تو منہ پر ‘ویلکم’ کا بورڈ لگوا لیتا… خیر، تھوڑا انتظار کرو، اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ میں ابھی منہ پر ‘ویلکم’ لکھ کر دوبارہ سے آ جاتا ہوں!”
اس کا لہجہ بظاہر مسکراتا ہوا تھا، مگر اندر چھپی طنز کی چوٹ بہت واضح تھی۔

حمائل نے ایک ہنکارا بھرا۔
“پرانی عادت گئی نہیں… مسکرا کر تنز مارنے والی۔”
زیغم نے نگاہیں تھوڑی نیچی کیں، پھر ایک نظر مہرو اور دانیا پر ڈالی، جو ابھی تک حیرانی میں کھڑی تھیں۔

“اور تمہاری پرانی عادت؟”
اس بار زیغم کی آواز میں نرمی کم اور طنز زیادہ تھا۔
“بغیر بتائے آ کر سرپرائز دینا یا اپنی موجودگی سے ماحول کو بارود بنانا؟”
حمائل کی آنکھوں میں چمک آئی، جیسے یہ لفظ اس کے دل کو چھو گئے ہوں۔ اب ماحول میں تلخی بڑھنے لگی تھی۔ مہرو اور دانیہ خاموشی سے اس تلخی کو سن رہی تھی۔

“تو یہ ہے تمہاری نئی نویلی دلہن… جسے تم اپنے ساتھ سجائے گھوم رہے ہو؟”
حمائل کی آواز میں زہر گھلا ہوا تھا، اور نگاہیں سیدھا مہرو پر تھیں۔ جیسے اسے دیکھنا ہی گوارا نہ ہو۔ انداز ایسا تھا جیسے نظروں سے اسے جلا کر بھسم کر دے گی۔ زیغم کا شک بالکل درست نکلا۔ وہ سب جان چکی تھی۔ مہرو کے بارے میں، نکاح کے بارے میں، اور شاید زیغم کی خاموشی میں چھپی وہ چاہت بھی پڑھ لی تھی جو وہ لفظوں میں نہیں لایا تھا۔ اسی لیے تو حمائل کی نظروں میں وہ حقارت تھی، جیسے کوئی کچرا دیکھ لیا ہو۔ ایک ایک قدم ناپ تول کر چلتی حمائل، اب زیغم کے بالکل قریب آ چکی تھی۔ نگاہیں مہرو پر جمائے، سر سے پاؤں تک اسے ایسے گھور رہی تھی جیسے اس کا وجود ہی ناگوار ہو۔

“یہ تمہاری چوائس ہے؟”
وہ طنزیہ نظروں سے مہرو کو دیکھتی ہوئی بولی۔

“نہیں… یہ میری قسمت ہے!”
زیغم نے سادہ لہجے میں جواب دیا، نگاہ مہرو کے چہرے پر تھی۔

“تم جیسا ہینڈسم مرد… اور یہ؟”
حمائل کی زبان زہر گھول رہی تھی۔

“سونے کا دل ہے اس کا۔۔۔”
زیغم نے سکون سے کہا، جیسے کوئی بہت بڑی دلیل دے رہا ہو۔ انداز ایسا تھا جیسے حمائل کی باتوں کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔

“یہ تمہارے سٹیٹس سے میچ نہیں کرتی۔”
حمائل کا لہجہ بدستور زہریلا تھا۔

“میرے سٹیٹس سے نہیں… میری سوچ سے میچ کرتی ہے… میرے لیے اتنا کافی ہے!”
زیغم کا انداز پُراعتماد تھا، جیسے سب کچھ پہلے ہی طے کر چکا تھا۔ سوچ چکا تھا کہ جو کچھ وہ کہے گی اس کے یہی جواب ہونے چاہیے۔

“لوگ ہنسیں گے تم پر…”
حمائل نے دانت پیستے ہوئے کہا۔

“میں اپنی محبت پر دنیا کی ہنسی قربان کر دوں گا۔”
زیغم کے لہجے میں عجیب سا سکون اور یقین تھا۔ وہ ٹھہراؤ سے بولتے ہوئے حمائل کو تڑپنے پر مجبور کر رہا تھا۔

“ایک دن تمہیں پچھتانا پڑے گا!”
حمائل کی آنکھوں میں چبھن تھی۔

“اگر پچھتایا… تو بھی اسی کے سنگ ہنس کر گزار لوں گا۔”
اس کے لہجے میں نرمی تھی، مگر ہر لفظ وزن رکھتا تھا۔ نظروں سے مہرو کے لیے محبت چھلک رہی تھی۔

“کہاں تم… اور کہاں یہ… یہ تمہارے ساتھ قدم سے قدم نہیں چلا پائے گی!”
حمائل نے آخری تیر چلایا۔

“تو میں اسے بانہوں میں اٹھا لوں گا!”
“ہمارے قدم اپنے آپ ایک دوسرے کے ساتھ مل جائیں گے!”
زیغم نے پلٹ کر جواب دیا، لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری تھی۔ جیسے اسے نیچا دکھا رہا ہو۔

“یہ تمہاری محبت کے لائق نہیں۔”
حمائل نے جیسے آخری ایک اور تیر پھینکا تھا۔

“پوری دنیا میں… صرف یہ میری محبت کے لائق ہے!”
“محبت کسی کے لائق نہیں ہوتی… بس ہو جاتی ہے۔”
زیغم کی نگاہ مہرو پر ٹکی ہوئی تھی، وہ صرف اُسے دیکھ رہا تھا۔

“کیا یہی معیار رہ گیا ہے تمہارا، زیغم؟”
اس نے سرد لہجے میں پوچھا، نگاہوں میں حقارت کی پرچھائیاں تھیں۔

“پہلے دوست، پھر محبوب، اب شوہر؟”
“تم تو ہر کردار نبھا رہے ہو، بس سچ بولنا بھول گئے۔”
الفاظ کا زہر ایسا تھا جیسے مہرو اور دانیا کی سانسیں روک گیا ہو۔
مہرو کی پلکیں جھپکنا بھول گئیں، اور دانیا کا چہرہ حیرت سے سفید ہو چکا تھا۔ دونوں کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ لڑکی کیا کہنا چاہتی ہے اور اس کا زیغم سلطان کے ساتھ کیا رشتہ ہے۔ زیغم نے گہری سانس لی، جیسے سینے کا بوجھ ہوا میں اڑانا چاہتا ہو، مگر لبوں پر وہی مخصوص ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔

“تمہیں تو ہمیشہ ہی دوسروں کے فیصلے ہضم نہیں ہوتے، حمائل۔ اور میرا نہیں خیال کہ میں نے تم سے کوئی سچ چھپایا ہے!”

“اچھا؟ پھر نکاح والی بات مجھے کیوں نہیں بتائی؟”
حمائل کا لہجہ تلخ ہو چکا تھا۔

“کیونکہ میں نے بتانا ضروری نہیں سمجھا!”
زیغم نے اپنی نگاہیں حمائل سے ہٹا کر مہرو پر مرکوز کر دیں۔

“اور رہی بات مہرو کی… تو ہاں، یہی ہے میری بیوی!”
“اور تمہیں تکلیف ہو رہی ہے، اس کا مطلب ہے تم ابھی بھی وہیں کھڑی ہو… جہاں پر تم نے خود میرا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔ جب رشتے خود توڑے جائیں تو پھر شکوے اور شکایتوں کی گنجائش نہیں ہوتی، حمائل۔”
حمائل کی آنکھیں لمحہ بھر کو بھیگ گئیں… مگر اس کی پلکیں ساکت رہیں۔ وہ چہرے پر وہی طنز سجائے، مہرو کو پھر سے گھورنے لگی تھی۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ زیغم سلطان کا دل اس لڑکی پر آیا ہے، جو اس سے کسی طرح سے بھی اس کے “سٹیٹس” سے میل کھاتی ہوئی نہیں لگ رہی تھی… ہاں مگر وہ خوبصورت بہت تھی، اس سے وہ چاہ کر بھی انکار نہیں کر سکتی تھی مگر زیغم… جس طرح سے وہ دیوانگی آنکھوں میں لیے مہرو کے دفاع میں بول رہا تھا… یہ منظر، حمائل کے دل پر سیدھی چوٹ کی طرح لگا۔ وہ اپنی آنکھوں میں اُمڈتی نمی کو چھپانا چاہتی تھی، مگر شاید پہلی بار… وہ اس کوشش میں ناکام ہو رہی تھی۔

“ویلکم!”
زیغم نے بظاہر خوش اخلاقی سے کہا۔

“تم ہماری حویلی میں مہمان ہو… اور برسوں میں نے تمہارے گھر پر وقت گزارا ہے۔ یہ احسان ہے تم لوگوں کا مجھ پر۔”
اُس کا لہجہ نرم تھا، مگر باتوں میں گہرائی تھی۔

“اور زیغم سلطان… ادھار سر پر نہیں رکھتا۔ تم میرے گھر آئی ہو، یہاں جب تک چاہو، رہ سکتی ہو۔ ہماری طرف سے تمہاری ہر طرح کی دیکھ بھال کی جائے گی۔ خدمت میں کوئی کمی نہیں رکھی جائے گی۔”

وہ لمحہ بھر رکا، مہرو کی طرف ایک نظر ڈال کر دانیا کے قریب آیا۔
“مگر… فلحال معذرت چاہتے ہیں، ہمیں کچھ دیر کے لیے کہیں جانا ہے۔ واپسی پر ضرور ملیں گے۔ گپیں ماریں گے، میں… تمہیں اپنی پیاری سی بیوی سے بھی تفصیل سے ملواؤں گا۔”
زیغم کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری تھی، مگر اس میں وہی چھپا ہوا طنز چمک رہا تھا۔

“اور یہ میری سسٹر ہے، دانیا… جس کے بارے میں تم جانتی ہو، مگر یہ تمہارے بارے میں کچھ نہیں جانتی!”
“اور ہاں، واپس آ کر تم سے یہ بھی پوچھوں گا کہ آخر تم تک یہ خبر کیسے پہنچی کہ میں نے نکاح کر لیا ہے؟”
وہ جاتے جاتے الفاظ میں ایک لپیٹ دیتا گیا… کیونکہ زیغم کو بخوبی علم تھا، کہ یہ خبر اُس تک کیسے پہنچی ہے۔

زیغم نے پلٹ کر جاتے ہوئے کہا۔
“دانیا! سکینہ سے کہو، حمائل کا سامان گیسٹ روم میں شفٹ کروائے۔ یہ ہماری مہمان ہے۔ ان کے لیے کھانے پینے کا انتظام کیا جائے۔”
زیغم کے انداز میں نرمی تھی، مگر جملے چھپی ہوئی شدت سے بھرے ہوئے تھے۔ حمائل سب کچھ سمجھ رہی تھی، مگر اُس لمحے… وہ یہاں سے جانا نہیں چاہتی تھی۔ اسے اپنا زیغم واپس چاہیے تھا، اور اب کی بار، وہ جان گئی تھی کہ یہ جنگ… بہت مشکل ہونے والی ہے۔
°°°°°°

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *