Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:39
رازِ وفا
ازازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر: 39
°°°°°°°°°
زرام، مائد سے “اللہ حافظ” کہتا ہوا ، ملیحہ اور ارمیزہ کے ہمراہ اپنی گاڑی میں جا کر بیٹھ گیا تھا۔ مہرو بھی اپنی گاڑی میں جا چکی تھی۔ اب وہاں صرف زیغم اور مائد بچے تھے، جو خاموشی سے ایک دوسرے کے قریب کھڑے تھے۔
“زیغم، میں زیادہ دن یہاں نہیں رکوں گا۔” مائد نے قدم بڑھاتے ہوئے گمبھیر لہجے میں کہا۔
زیغم نے گہری نظروں سے اسے دیکھا، جیسے اس کے اندر کی کشمکش کو پڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
“اب اس کا کیا مطلب ہے؟ جب میں نے کہا ہے کہ سب کچھ میں سنبھال لوں گا، تو تمہاری بےچینی سمجھ سے باہر ہے۔” زیغم نے سخت لہجے میں کہا۔
“مجھے تکلیف یہ ہے کہ وہ لوگ مجھے بزدل سمجھیں گے، اور مائد خان بزدل نہیں ہے!”
مائد نے سینہ تان کر مضبوط لہجے میں کہا۔
“تو کیا چاہتے ہو؟ خود کو بہادر ثابت کرنے کے لیے اپنی جان دے دو؟”
زیغم کا لہجہ سخت تھا مگر اس کے الفاظ میں فہم و فراست کی گہری جھلک تھی۔
“تم بزدل نہیں ہو۔۔۔ کچھ دن سکون سے یہاں پر رہو۔ جب معاملہ تھوڑا ٹھنڈا ہو جائے، تب جا کر اپنی بہادری دکھا لینا۔”
اس نے سنجیدگی سے بات مکمل کی۔
زیغم نے ایک قدم آگے بڑھا کر کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔
“تمہیں کس نے کہا ہے کہ شیر اگر دو قدم پیچھے ہٹے، تو وہ ڈر گیا ہے؟
بے وقوف آدمی! اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ جھپٹنے کے لیے تیار ہو رہا ہے۔۔۔ دو قدم پیچھے ہٹتا ہے تاکہ پورے زور سے اپنے شکار پر جھپٹے، اور اس کا کلیجہ چیر کر باہر نکال لائے!”
زیغم نے سخت لہجے میں اسے سمجھایا تھا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ نرمی سے مائد خان ماننے والا نہیں۔
ابھی مائد کچھ کہنے ہی والا تھا کہ زیغم نے فوراً دانیا کی بات چھیڑ دی، تاکہ اس کا دھیان ہٹایا جا سکے اور ماحول کچھ نرم ہو جائے۔۔
“بہت خیال رکھنا دانیا کا… اس وقت اس کی نظر میں میں بھی گنہگار ہوں۔”
زیغم نے تھکے اور الجھے لہجے میں کہا۔
“کیونکہ.. اسے مجھ سے بہت امیدیں تھیں۔ ہونے بھی چاہیے تھا… مگر میں… میں اس کی امیدوں پر پورا نہیں اُتر سکا۔ اگر ایک بھائی بن کر سوچتا… تو دوستی کے رشتے میں کم پڑ جاتا۔”
اس کی آواز میں واضح کرب تھا، آنکھوں میں تھکن کے ساتھ ساتھ ندامت بھی چھپی ہوئی تھی۔ وہ دانیا کے دکھ میں خود کو قصوروار سمجھ رہا تھا۔
مائد نے اس کے کندھے پر مضبوطی سے ہاتھ رکھا، نگاہوں میں یقین تھا اور لہجہ تسلی بخش تھا۔
“بے فکر ہو جاؤ زیغم… تمہیں کوئی شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔ جہاں اتنا مجھ پر یقین کیا ہے… تھوڑا سا اور کر لو۔ میں اسے سنبھال لوں گا۔”
زیغم نے نگاہ اٹھا کر مائد کو دیکھا۔
“مائد… تم پر مجھے خود سے زیادہ یقین ہے۔ اگر یقین نہ ہوتا… تو کبھی دانیا کو اُس کی مرضی کے بغیر نکاح پر آمادہ نہ کرتا۔ زبردستی نکاح کراتے وقت میرے دل کو یہی اطمینان تھا… کہ تُو سب کچھ سنبھال لے گا۔”
فضا میں لمحے بھر کی خاموشی چھا گئی تھی… مگر اس خاموشی میں بھروسے اور اپنائیت کی ایک غیر مرئی ڈور بندھی ہوئی تھی۔
“تو بس پھر… اسی بھروسے پر قائم رہو، اور پرسکون ہو کر جاؤ۔”
مائد نے پورے اعتماد سے کہا، نگاہوں میں ٹھہراؤ اور لہجے میں وہ مضبوطی تھی جو یقین بخشتی ہے۔
“میں سب کچھ سنبھال لوں گا۔ خوش رکھوں گا اُسے۔
کیا کرے گی؟ غصہ کرے گی؟ چیخے گی، چلائے گی؟
میں سب کچھ برداشت کر لوں گا۔
چاہے جتنے دن مجھ سے ناراض رہے… آخر میں اُسے منا ہی لوں گا۔”
مائد کے انداز میں جو تسلی تھی، اس نے زیغم کے دل پر چھائی بےچینی کو جیسے تھپکیاں دے کر سُلا دیا تھا۔ وہ پرسکون سا ہو کر سر ہلا گیا ۔۔
“ٹھیک ہے پھر… میں چلتا ہوں۔ اپنا خیال رکھنا۔
میں سب کچھ دیکھ لوں گا اور تمہیں آگاہ کرتا رہوں گا۔”
زیغم “اللہ حافظ” کہتے ہوئے، مائد سے بغلگیر ہو کر وہاں سے روانہ ہو گیا۔
مائد خاموشی سے پلٹا، اور اس کے قدم خود بخود حویلی کے اندر کی جانب بڑھنے لگے…
جہاں اس کی روٹھی ہوئی محبت اُس کا انتظار کر رہی تھی ۔
ایک خاموش لڑائی، ایک ادھورا احساس، جسے اُسے محبت سے مکمل کرنا تھا۔
°°°°°°°°°
“میری جان کا موڈ کیوں خراب ہے؟”
زیغم نے ایک نظر پہلو میں بیٹھی مہرو پر ڈالی، جو کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے گہری سنجیدگی میں ڈوبی بیٹھی تھی۔ اس کے چہرے پر عجیب سی خاموشی کا سایہ تھا۔
“کچھ نہیں ہے۔”
مہرو نے نظریں نہیں موڑیں، مگر آواز میں چھپا گلہ زیغم کے دل تک اتر گیا۔
“کچھ تو ہے…”
زیغم نے گاڑی تھوڑا سلو کی، اس کی طرف چہرہ موڑ کر نرمی سے جھک کر پوچھا،
“ایسے تو تم صرف تب ہوتی ہو جب کوئی بات دل کو چُبھی ہو۔ صاف صاف بتاؤ، کیا بات ہے؟”
مہرو نے پلکیں جھپکائیں، روح سمیٹتی نگاہ اس کی جانب اٹھائیں۔
“آپ نے دانیا آپی کی شادی زبردستی کیوں کروائی؟ جب وہ نکاح کے لیے راضی نہیں تھی، پھر آپ نے نکاح کیوں کروایا؟
آپ جانتے ہیں وہ کتنی روئی تھی؟ آپ نہیں جانتے، وہ کتنی ٹوٹی ہوئی تھی… آپ کو اندازہ نہیں وہ کتنی بے بس لگ رہی تھی…”
زیغم خاموشی سے سنتا رہا، اسے اس سوال کی توقع تھی۔ وہ جانتا تھا مہرو یہ ضرور پوچھے گی۔
آہستہ سے مہرو کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا، نرمی سے دبایا۔ مہرو کی آنکھوں میں نمی تھی۔جو کسی بھی لمحے چھلکنے کو تیار تھی۔
“او ہو سرکار… ایک تو تمہیں رونا بہت آتا ہے۔”وہ مسکرایا تھا، مگر اگلے ہی لمحے مہرو کے گال پر بہتا آنسو دیکھ کر اس کی مسکراہٹ ہوا ہو گئی۔
فوراً مہرو کو اپنی طرف کھینچ لیا، اور بازوؤں میں بھر کر آہستگی سے اس کے بالوں کو سہلایا۔
“ایسا ظلم نہ کیا کرو… تمہاری آنکھوں میں آنسو مجھے اچھے نہیں لگتے۔”کان میں بہت نرمی سے سرگوشی کی تھی ۔
“سنو، سوال کیا ہے تو جواب بھی سنو۔
میں نے زبردستی نہیں کی، میں نے حفاظت کی ہے۔
دانیا اگر اُس نکاح میں نہ جاتی، تو وہ واقعی ٹوٹ جاتی مہرو۔
تم نہیں جانتیں اُس کے اندر کیا چل رہا تھا،
مگر میں جانتا ہوں… اسے اس رشتے میں باندھنا بہت ضروری تھا۔
مائد اس سے سچی محبت کرتا ہے، وہ اسے بہت خوش رکھے گا۔”
مہرو نے خود کو تھوڑا سا پیچھے کیا اور زیغم کی آنکھوں میں جھانکا، نظروں میں غصہ اور بے یقینی تھی۔۔
“پھر بھی… آپ اسے نکاح کے لیے پیار سے سمجھا لیتے۔
بات کرتے، یقین دلاتے…
ایسے اچانک، بغیر اُسے ذہنی طور پر تیار کیے نکاح کر دینا ٹھیک نہیں ہے۔ایک لڑکی کے بھی احساسات ہوتے ہیں جذبات ہوتے ہیں ۔
وہ مجھ سے لپٹ کر اتنا روئی کہ میرا دل ہل گیا تھا…”
اس کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔ وہ اس لمحے میں صرف دانیا کا دکھ محسوس کر رہی تھی۔
مہرو جتنی معصوم تھی، زیغم سے زیادہ یہ کوئی نہیں جانتا تھا۔دانیا کے رونے نے مہرو کو اندر تک ہلا دیا تھا۔اس کا معصوم سا دل دانیا کے درد سے باہر نہیں نکل پا رہا تھا۔
زیغم نے محبت بھری نظروں سے اُسے دیکھا، ایک ہاتھ سے اس کے بالوں کو سہلاتے ہوئے، دوسرے سے گاڑی کنٹرول کر رہا تھا۔
“میری جان… کبھی کبھی خاموشی میں بھی خیر چھپی ہوتی ہے۔
تم نے جو دیکھا وہ درد تھا…
مگر اُس درد کے بعد جو سکون آئے گا، وہی اس رشتے کی اصل پہچان ہوگا۔
یقین مانو، یہ نکاح دانیا کے ہر دکھ کی دوا بن جائے گا۔”تحمل بھرے لہجے سے مہرو کو سمجھا رہا تھا۔۔
“مجھے نہیں پتہ کیا صحیح ہے کیا غلط ہے … مگرمجھے ابھی رونا آ رہا ہے۔۔۔”
مہرو نے رندھی ہوئی آواز میں کہا اور پہلو بدل کر زیغم سے تھوڑا سا فاصلہ کر لیا۔
“مجھے آپ سے بات نہیں کرنی۔۔۔”
وہ نظریں جھکائے آنسو چھپانے کی کوشش کر رہی تھی، مگر زیغم کے لیے یہ خاموشی سب سے بڑی سزا بن گئی تھی۔
وہ اب مہرو کی خاموشی سے گھبرانے لگا تھا۔آج پہلی بار وہ زیغم سے ناراض ہوئی تھی۔زیغم کو کہیں نہ کہیں یہ خوشی بھی تھی کہ آج پہلی بار اس نے حق جتایا ہے چاہے ناراض ہو کر ہی سہی۔ناراضگی بھی کسی پر حق رکھنے کا ایک انداز ہوتا ہے۔۔
“بات تو مجھ سے کرنی پڑے گی۔۔۔
کیونکہ جب تم چپ ہو جاؤ گی نا، تو میں اداس ہو جاؤں گا…
اور مجھے پتہ ہے، میری مہرو کو میرا اداس ہونا کبھی برداشت نہیں۔”
مہرو کا سر جھکا رہا، مگر آنکھوں سے خاموشی سے آنسو بہتے رہے۔مگر زیغم کے قریب ہونے سے اس کے دل کی دھڑکنوں میں اشتیال پیدا ہونے لگا تھا۔۔
زیغم نے آہستگی سے اس کا ہاتھ تھاما، انگلیوں میں اپنی انگلیاں الجھائیں۔
“اور رہی تمہاری دانیا آپی کی بات…
تو ان شاء اللہ، سب کچھ جلد ٹھیک ہو جائے گا۔
یہ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں۔۔۔”
“پکا۔مہر نے یقین پکا کرنے کے لیے پوچھا تھا۔۔
بالکل پکا۔۔”
زیغم نے تسلی بخش انداز میں کہا ۔ذرا سا جھک کر اس کے آنسو اپنی انگلی سے صاف کیے،
“ابھی آنکھوں سے آنسو صاف کر لو، مجھے میری سرکار روتی ہوئی بالکل اچھی نہیں لگتی۔
ویسے… اگر آنکھوں میں آنسو میری محبت کی شدت سے آئیں نا… تو وہ مجھے اچھا لگے گا۔”
کان کے قریب سرگوشی کی تو مہرو کا پورا وجود جیسے کانپ سا گیا،
شرم کی لالیاں اس کے گالوں پر آہستہ آہستہ پھیلنے لگیں۔
زیغم نے اُس کے تاثرات کو بھرپور دلکشی سے محسوس تھا۔۔
“بس؟ اتنے سے شرما گئی ہو؟ میری طرف دیکھو۔”
مہرو کی ٹھوڑی تھامی، نرمی سے اس کا چہرہ اپنی طرف موڑا،
مہرو نے جھینپ کر نظریں چرائیں، دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے لگی۔
“سائیں، گاڑی دیکھ کر چلائیں، ورنہ ایکسیڈنٹ ہو جائے گا!”
وہ جھینپتے ہوئے بولی، نظریں کھڑکی سے باہر جما دیں۔
زیغم کا قہقہہ مہرو کے دل کی دیواروں سے ٹکرایا،
“تو پھر ایک کام کرو، تم یہاں میرے سامنے آ جاؤ۔
میری سیٹ پر … آ کر بیٹھ جاؤ، تو ہی میں سامنے دیکھ کر گاڑی چلا سکتا ہوں۔”
اس کے لہجے میں شرارت بھی تھی اور محبت کا گہرا رنگ بھی۔
ایسا بے باک مذاق شاید زیغم نے پہلی بار کیا تھا،
مہرو نے آنکھیں میچ لیں، اس کا چہرہ شرم سے اتنا لال ہو گیا جیسے پکا ہوا ٹماٹر…
دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا، اور لبوں پر ایک بے اختیار سی مسکراہٹ تیرنے لگی۔
“سائیں، شرم کریں… ایسی باتیں نہ کیا کریں!”
مہرو نے ہلکی سی گھوری ڈال کر نظریں جھکا لیں،
مگر زیغم کو اُس کی وہ جھینپی جھڑکی بھی بے حد حسین لگی۔
“اوہو… اب تم ڈانٹنے بھی لگ گئی ہو؟”
زیغم نے ایک ادا سے آنکھیں چھوٹی کر کے اسے دیکھا،
“چلو مان لیا، شرم کرنی چاہیے…
لیکن صرف اس وقت، جب سامنے والی کی شرم اتنی پیاری لگے کہ بندہ شرمانے پر مجبور ہو جائے۔”
وہ پھر سے مسکرایا،
اور مہرو کا ہاتھ تھام کر ہونٹوں سے لگا لیا،
“تمہاری یہ جھجک، یہ شرم، میری دنیا کا سب سے حسین منظر ہے…اور اگر تم میرے سامنے ا کر بیٹھ جاؤ تو یہ منظر اور بھی خوبصورت ہو سکتا ہے۔زیغم کے لبوں پر شرارتی سی مسکراہٹ کھلتے ہوئے اسے جاذب نظر بنا رہی تھی اس کی گہری نیلی آنکھیں شرارت سے مہرو کو دیکھ رہی تھی۔ ایک ہاتھ سٹیرنگ کو گھماتے ہوئے گاڑی کی سپیڈ بڑھا چکا تھا۔
مہرو نے چہرہ دونوں ہاتھوں سے چھپا لیا،
“سائیں… چپ کر کے گاڑی چلائے “
شرما کر کہتے ہوئے ! دل کے کسی کونے میں وہ ہنسی چھپائے بیٹھی تھی جو زیغم کی محبت کی شدت پر بار بار مچل رہی تھی۔
“تمہیں دیکھ کر یہ جانا کہ محبت صرف جذبہ نہیں، ایک پاکیزہ عبادت بھی ہو سکتی ہے…
تمہیں محسوس کر کے سمجھ آیا کہ زندگی کسی کے ساتھ جینے کا نام ہے، اور وہ جینا بھی کتنا حسین ہوتا ہے۔”
زیغم نے نرمی سے محروم کے کندھے پر ہاتھ رکھا، اُسے اپنی قربت میں سمیٹے ہوئے گاڑی چلاتے ہوئے کہا۔
مہرو خاموش رہی، اُس کے کاندھے سے سر ٹکائے شرمائی شرمائی سی، مگر دل میں وہ اس لمحے خود کو دنیا کی سب سے خوش نصیب لڑکی سمجھ رہی تھی۔
جسے زیغم سلطان جیسا شخص ملا… جو صرف چہرے کا نہیں، دل کا بھی شہزادہ تھا۔
ایسا دل، جو سونے کا تھا۔
وہ الگ بات ہے کہ اس سونے جیسے دل کو ہمیشہ زندگی نے کانٹوں سے نوازا تھا۔
°°°°°°°°°
“کیوں؟ کبھی دانیہ کو اپنے فیصلے لینے کا حق کیوں نہیں ملتا؟
کیوں ہر بار مجھ پر راستے تنگ کر دیے جاتے ہیں؟
کیا میں اتنی بری ہوں کہ مجھے اپنی زندگی کا فیصلہ لینے کا بھی حق نہیں؟”
دانیہ دل برداشتہ ہو کر آنسو بہا رہی تھی۔
بیڈ کے کونے پہ بیٹھے ہوئے وہ اپنے آپ سے سوال کر رہی تھی،
مگر یہ سوالات صرف دل یا دماغ تک محدود نہ تھے ۔
یہ سوال لبوں پر آ چکے تھے، اور پورے کمرے میں گونج رہے تھے۔
مائد خان نے دروازہ آہستہ سے کھولا،
چپ چاپ قدموں سے اندر داخل ہوا۔
وہ سن چکا تھا…
کہ دانیہ رو کر خود سے شکوہ کر رہی ہے
یا شاید وہ اپنے رب کو دل کا دکھ سنا رہی تھی۔
دانیہ نے ایک نظر اٹھا کر مائد کی جانب دیکھا،
پھر غصے سے نظریں پھیر لیں۔
شاید وہ اس لمحے اُسے دیکھنا نہیں چاہتی تھی۔
“کس نے کہا کہ آپ اچھی نہیں ہیں؟ آپ بہت اچھی ہیں۔”
وہ آہستگی سے بیڈ کے کنارے، تھوڑی سی دوری رکھتے ہوئے بیٹھ گیا۔
نظر میں دانیہ کے لیے محبت تھی… احترام تھا۔
“جی، آپ کو اس وقت میں اچھی لگ رہی ہوں… کیونکہ ابھی تک آپ کی دسترس سے دور ہوں۔
مرد کی فطرت ہے، جو کبھی نہیں بدلتی۔
جب عورت اُس کی دسترس سے باہر ہو،
تو بہت قیمتی لگتی ہے…
مگر جب وہ دسترس میں آ جائے،
تو بے مول ہو جاتی ہے…
جیسے کچرا، جیسے بوجھ۔”
وہ تلخی سے بول رہی تھی،
نم آنکھوں سے اُسے دیکھتے ہوئے…
ہر لفظ اُس کے اندر کی شکست کی گواہی دے رہا تھا۔
“ہر مرد ایک جیسا تو نہیں ہوتا…
اگر بدقسمتی سے آپ کا ٹکراؤ ایسے شخص سے ہو گیا
جو شاید اصل میں مرد کہلانے کے لائق ہی نہیں تھا…
جسے یہ شعور ہی نہیں تھا
کہ عورت… محبت سے سمیٹے جانے والا ایک نازک پھول ہوتی ہے…
تو کیا آپ سب مردوں کو ایک ہی پیمانے پر تول رہی ہیں؟
کیا یہ انصاف ہوگا؟
آپ کا نہیں خیال کہ یہ… زیادتی ہوگی؟”
مائد خان نے نہایت تحمل اور پرسکون لہجے میں کہا تھا،
انداز ایسا جیسے ہر لفظ کے ساتھ وہ دانیہ کے زخموں پر مرہم رکھ رہا ہو۔
“ہوںں… سب مردوں سے کیا مراد ہے آپ کی؟
اگر میں کہوں کہ واقعی سب مرد ایک ہی فطرت کے مالک ہوتے ہیں۔تو۔؟”
دانیہ نے غصے اور تلخی سے کہا ۔برسوں سے دل میں دبی ہوئی چنگاریاں آگ پکڑ کر شولہ بنتے ہوئے لبوں پر آنے لگی تھی۔۔
وہ اُسے گھور رہی تھی، جیسے اُس کی ہر بات کو چیلنج کر رہی ہو۔انداز ایسا جیسے اسے مردوں کی حقیقت سے واقف کروانا چاہتی ہو۔۔
اُس کی آواز میں درد بھی تھا اور شدت بھی…ایک ایسی شدت جو صرف ٹوٹے ہوئے دلوں سے جنم لیتی ہے۔
مائد اُسے غور سے دیکھ رہا تھا…
ہر لفظ، ہر تاثّر کو جیسے اپنے اندر جذب کر رہا ہو۔
وہ دانیا کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
اور اچھی طرح جانتا تھا کہ شہرام نے اس کی زندگی میں ایسی تلخیاں چھوڑی تھیں،کہ جنہیں سمیٹنے میں وقت لگے گا، بہت وقت۔
لیکن کچھ تھا…
کچھ ایسا جو مائد کی نظروں سے اوجھل تھا ۔
جسے جاننا، سمجھنا… بے حد ضروری تھا۔
کیونکہ جب تک وہ دانیا کے دل میں چھپے ہوئے اُس دکھ کے درخت کی جڑ نہیں جان لیتا،
تب تک وہ اُس کے زخموں کی مرہم نہیں بن سکتا تھا۔
اور وہ جانتا تھا…
اس درد کی جڑ کو کاٹنا ضروری ہے ۔
کیونکہ وہ جڑ اب اندر ہی اندر،
اور بھی گہری، اور بھی مضبوط ہوتی جا رہی تھی۔
“کیا ہوا؟
میری بات کا جواب نہیں ہے؟
یا پھر غصہ آ گیا؟
کہ اب تو میں آپ کی بیوی بن چکی ہوں…
آپ کے نکاح میں آ چکی ہوں…
تو میری جُرأت کیسے ہوئی یہ سب بولنے کی؟
ایک زور کا تھپڑ مار دیں نا میرے منہ پر…
میں چپ ہو جاؤں گی۔
مجھے عادت ہے…
تھپڑ کھانے کی بھی…
اور ڈر کر چپ ہو جانے کی بھی۔”
مائد کے چپ رہنے پر
اس نے خود سے سوال کیا… اور خود ہی جواب دے دیا،
جیسے برسوں کی دبی چیخ آج لفظوں کا روپ لے چکی ہو۔
“افسوس ہوا…
کہ آپ میرے بارے میں ایسا سوچتی ہیں۔
کیا میں آپ کو اتنا کم ظرف،
اتنا گھٹیا مرد لگتا ہوں
کہ ایک عورت پر… اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھاؤں گا؟”
مائد نے سنجیدہ مگر دکھ بھرے لہجے میں
اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا۔
اُس کی نظریں دانیا کے ہاتھوں پر جمی تھیں،
جنہیں وہ مسلسل مروڑ رہی تھی۔
ایک پاؤں بےچینی سے ہل رہا تھا ۔
جو اُس کے اندر کی الجھن، اضطراب،
اور خود پر طاری کی گئی بہادری کو عیاں کر رہا تھا۔
وہ جانتا تھا…
یہ سب کہنا دانیا کے لیے آسان نہیں تھا،
ان لفظوں کے پیچھے پتہ نہیں
اس نے کتنی ہمت، اکھٹی کی ہو گی۔
وہ بہادر نہیں تھی…
مگر بہادر بننے کی کوشش کر رہی تھی۔
اور یہی کوشش…
اسے مائد کی نظر میں اور بھی خاص بنا رہی تھی۔۔
“ابھی تو صرف آپ کو میری سوچ پر افسوس ہوا ہے نا؟
دور نہیں ہے وہ وقت…
جب آپ کو اس رشتے پر افسوس ہوگا،
پچھتائیں گے آپ…
اس وقت کو،
جس لمحے آپ نے مجھ سے شادی کرنے کا فیصلہ لیا تھا۔”
دانیا کی آواز میں ایک عجیب سی ٹھنڈک تھی،
جیسے آنکھوں سے آنسو نہیں،
دل سے یقین ٹپک رہا ہو۔
ایسا یقین جو تلخی سے پیدا ہوتا ہے…
اور ماضی کے زخموں سے پلتا ہے۔
“اور آپ کو ایسا کیوں لگتا ہے
کہ میں اپنے فیصلے پر پچھتاؤں گا؟”
وہ گہری سانس لیتے ہوئے
سنجیدگی اور تحمل سے پوچھ رہا تھا۔
لہجے میں نرمی تھی… مگر بات ۔یں وزن بھی۔
مائد خان کوئی جذباتی فیصلہ کرنے والا شخص نہیں تھا۔
وہ جانتا تھا، رشتے پھونک پھونک کر قدم رکھنے سے بنتے ہیں
اور نادانی سے ٹوٹ جاتے ہیں۔
وہ دانیا سے محبت کرتا تھا ۔
اور اس کی محبت میں وہ جلد بازی سے کوئی تلخی نہیں گھولنا چاہتا تھا۔
مائد ایک سمجھدار انسان تھا،
وہ جانتا تھا کہ کسی کے زخموں پر مرہم رکھنے سے پہلے
اُس درد کی جڑ تک پہنچنا ضروری ہے۔
دانیا کے لفظ تلخ تھے…
لیکن وہ جانتا تھا،
ہر کڑوا لفظ کسی نہ کسی زخم سے جنم لیتا ہے۔
اور جب تک اُس زخم کی اصل وجہ نہ جان لی جائے،
کوئی بھی طبیب
اُس کا صحیح علاج نہیں کر سکتا۔۔
“ابھی آپ نے خود ہی تو کہا ہے کہ آپ کو افسوس ہوا ہے میری سوچ پر… شاید آپ کو بھولنے کی بیماری بھی ہے۔”
“اگر مجھے بھولنے کی بیماری ہوتی… تو میں آپ کو بھول جاتا۔ مگر نہیں بھول سکا… اتنے سالوں میں بھی نہیں۔ نہیں بھول سکا۔ تو اس کا مطلب ہے کہ میری یادداشت بالکل ٹھیک ہے۔”
وہ نرمی سے ہلکا سا مسکرایا دیا۔۔۔
“اور میری بات کا جو مطلب آپ نے نکالا ہے… وہ مطلب نہیں ہے۔ میں آپ کو سمجھاتا ہوں کہ میرے کہنے کا مطلب کیا ہے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ مجھے افسوس ہوا ہے اس بات پر… کہ آپ مجھے زیادہ نہیں، مگر تھوڑا بہت تو جانتی ہیں۔ اور تھوڑا بہت جاننے سے اتنا تو جان ہی چکی ہوں گی کہ میں کسی عورت پر کبھی ہاتھ نہیں اٹھا سکتا۔”
“آپ تو میری محبت ہیں… میں تو کسی ایسی عورت پر بھی ہاتھ نہ اٹھاؤں جو مجھے پسند نہ ہو، جس سے میں نفرت کرتا ہوں، جو میرے دشمن کی بیٹی ہو… تو آپ کو کیسے سوچ لیا کہ میں آپ پر ہاتھ اٹھاؤں گا؟”
“آپ میرے سب سے عزیز دوست کی بہن ہیں تو خود سوچیں میرے لیے آپ کتنی قابل احترام ہوں گی… جو دشمن کی بیٹی پر ہاتھ نہ اٹھا سکے وہ دوست کی عزت پر کیسے ہاتھ اٹھا سکتا ہے…
“صرف اسی بات پر افسوس کیا ہے میں نے۔ اور رہی اس رشتے کی بات… تو اس رشتے پر نہ مجھے کبھی افسوس ہوا ہے، نہ کبھی ہو سکتا ہے۔”
مائد کی لہجے میں ٹھہراؤ تھا ایک یقین تھا۔ایسا انداز کہ جس سے کوئی بھی مطمئن ہو جاتا۔۔۔۔۔مگر مقابل دانیا تھی جس نے زندگی میں اتنے دکھ دیکھے تھے کہ اب آسان نہیں تھا کسی پر یقین کرنا۔ وہ تو بے یقینی سے بھری نظروں سے اسے دیکھے جا رہی تھی۔کچھ دیر سوچنے کے بعد بولی ۔۔
“افسوس ہوگا… اور ضرور ہوگا!” دانیا نے پُر یقین لہجے میں کہا تھا۔مائد خان نے نظریں اٹھا کر دیکھا۔
“دانیا، میں الجھا ہوا انسان نہیں ہوں۔ اگر آپ کے دل میں کچھ ایسا ہے جس سے آپ کو لگتا ہے کہ ہمارے رشتے کی سچائی بدل جائے گی، یا آپ کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ کوئی ایسی حقیقت ہے جسے جان کر میرا آپ پر سے اعتبار اُٹھ جائے گا، اور میں آپ کے ساتھ چلنے سے قدم پیچھے ہٹا لوں گا… تو آپ مجھے بتائیں۔
میں تیار ہوں…اس راستے سے گزرنے کے لیے۔
کم از کم مجھے خود کو ثابت کرنے کا ایک موقع تو دو۔”
“کیوں دوں موقع؟ آپ نے موقع دیا تھا؟ نہیں دیا۔ جب میں نے آپ سے کہہ دیا تھا کہ میں آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی، تو پھر آپ نے کیوں کیا مجھ سے نکاح؟
میں تو بھائی کو انکار نہیں کر سکتی تھی کیونکہ میں ان سے بہت پیار کرتی ہوں۔
مگر آپ انکار کر سکتے تھے۔
آپ اچھی طرح جانتے تھے کہ میں اس رشتے سے خوش نہیں ہوں…
تو پھر جب آپ نے مجھے کوئی موقع نہیں دیا، تو میں کون سا موقع دوں؟
اور ویسے بھی… دانیا کی کیا حیثیت ہے جو کسی کو موقع دے؟
دانیا تو ایک کھلونا ہے… جس کا جو دل چاہتا ہے، وہ فیصلہ اس پر تھوپ دیتا ہے!”
وہ غصے سے بولتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
مائد خان حیران نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے دل کے اندر کسی نے زہرآلود خنجر گھونپ دیا ہو۔
مگر وہ اپنے درد کو زبان سے کھل کر بیاں بھی تو نہیں کر رہی تھی۔ماہ تو اس کے درد کو محسوس کر کے تڑپ تو رہا تھا ۔کاش وہ اس درد کو کم کر سکتا…اس کی اذیت کو دیکھ کر سوچ رہا تھا۔۔
“چلو ٹھیک ہے…”
اس نے نرمی سے کہا۔
“کپڑے بدلو… اور آرام کرو۔
جب آپ کمفرٹیبل ہوں… اور آپ کو لگے کہ مجھے کچھ بتانا چاہیے…
تب بتا دیجیے گا۔”نرمی سے کہتے وہ بھی اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تھا۔
“میں آپ کے ساتھ ایک کمرے میں نہیں رہوں گی! آپ کسی اور کمرے کا انتظام کر لیں… یا میرے لیے کوئی اور کمرہ خالی کروا دیں۔”دو ٹوک فیصلہ کو انداز میں دیکھتے ہوئے بولی ۔۔
“خالی کروا دینے سے مراد کیا ہے؟”
“وہاں بھیڑ بکریاں باندھ رکھی ہیں کیا… جو سامان اٹھوا دوں؟”
“اور دوسری بات یہ کہ… تم میرے ساتھ اسی کمرے میں رہو گی۔
اور بے فکر رہو، میں بہت مضبوط انسان ہوں،
کوئی ایسی غیر اخلاقی حرکت نہیں کروں گا جس سے تمہارے اعتماد کو ٹھیس پہنچے۔
یہ ہمارا کمرہ ہے، اور ہم یہاں جب تک رہیں گے،
اسی میں رہیں گے۔”
وہ ٹھوس لہجے میں بولتا ہوا الماری کی طرف بڑھا،
اور وہاں سے اپنے کپڑے نکالنے لگا تاکہ وہ چینج کر سکے۔
شیروانی میں وہ خاصا ان کمفرٹیبل محسوس کر رہا تھا۔
“جی نہیں، میں آپ کے ساتھ ایک کمرے میں نہیں رہوں گی کیونکہ مجھے آپ پر یقین نہیں۔”
وہ پُر اعتماد لہجے میں بولی۔
پوری ہمت جمع کرتے ہوئے وہ اس کے ا قریب آکر کھڑی ہوئی تھی۔
دلہن کے روپ میں، غصے سے دھڑکتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ وہ حد درجہ حسین لگ رہی تھی۔
مائد خان نے ایک محبت بھری نظر اس پر ڈالی،اور پھر سکون سے کپڑے نکالنے میں مصروف ہو گیا۔
لائٹ گرے رنگ کا ٹراؤزر اور شرٹ نکالتے ہوئے
اس نے الماری کا دروازہ بند کر دیا۔
دانیا اب بھی اس کے سامنے کھڑی تھی،
غصے سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے۔اس کے جواب کی منتظر تھی۔
“دیکھیں، آپ مجھے ڈرائیں مت۔
ایک تو میں زخمی ہوں، اور دوسری بات یہ کہ اکیلا ہوں یہاں۔
میرے گھر والے یہاں نہیں ہیں،
تو برائے مہربانی اس طرح مجھے ڈرانے سے گریز کیجیے۔”
مصنوعی ڈرنے والی ایکٹنگ کرتے ہوئے
حمائد خان نہ صرف جاذب نظر،
بلکہ فنی بھی لگ رہا تھا۔
“ہاں تو! اگر آپ کے گھر والے یہاں نہیں ہیں،
تو میرے بھی نہیں ہیں۔
آپ بھی مجھے ڈرانے سے گریز کیجیے
اور… اس کمرے سے چلے جائیے… یا مجھے جانے دیجیے۔”
“میں تو آپ کو نہیں ڈرا رہا… اتنا بڑا روم ہے، آرام سے آپ بھی سوئیں، میں بھی سو جاتا ہوں۔ پریشانی کیا ہے؟”
وہ معمولی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔
“مگر الگ روم کا انتظام نہیں ہو سکتا۔۔
“الگ روم والی بات ذہن سے نکال دیجیے۔”
فیصلہ کن انداز میں کہتے ہوئے وہ واش روم کی طرف بڑھ گیا۔
“ابھی سے ہی آپ مجھے یہ محسوس کروا رہے ہیں کہ میری کوئی اہمیت نہیں…
ابھی سے یہ جتا رہے ہیں کہ حکم تو صرف آپ کا چلے گا…
اور پھر بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں۔کہ سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے… فلاں فلاں…”دانیا، دھیمی مگر واضح آواز میں بولی،تاکہ وہ سن لے۔۔
مائد خان دروازہ بند کر چکا تھا،
مگر اس کی آواز واش روم میں بخوبی سنائی دے رہی تھی۔
وہ اندر مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلا رہا تھا۔
“بڑی بڑی باتیں نہیں کرتا…
سب پر پورا اتروں گا، محبت بھی دوں گا، مان بھی،
مگر آپ کو اس طرح دور بھیج کر…
میں نہیں چاہتا کہ ہمارے بیچ جو پہلے سے دراڑ ہے،
وہ مزید فاصلے میں بدل جائے۔”
شیروانی اتارتے ہوئے وہ تکلیف میں تھا۔
گولی اس کے بازو کو چھو کر گزری تھی،
زخم ابھی تازہ تھا،
اور دیر تک بیٹھنے اور بازو کو ہلانے سے درد بھی بڑھ چکا تھا۔
پٹی خون آلود ہو چکی تھی۔
اب ڈریسنگ کرنا ضروری تھا۔
شیروانی بڑی مشکل سے اتاری،
دانیا سے مدد لینا مناسب نہیں لگا،
اس لیے دانت بھینچتے ہوئے کسی نہ کسی طرح اسے خود ہی اتار دیا۔
ہاف بازوں والا سادہ ٹی شرٹ پہن کر
وہ ٹراؤزر کے ساتھ فریش ہو کر باہر نکلا،
اور ڈریسنگ ٹیبل کے پاس رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھ کر احتیاط سے میڈیکل کینچی کا استعمال کرتے ہوئے زخم سے پٹی کاٹ کرکھولنے لگا۔
ڈریسنگ کا سامان میز پر ترتیب سے رکھا ہوا تھا۔
اسی لمحے، دانیا کی نظریں اس کے بازو پر جا پڑیں،
جہاں تازہ زخم سے ہلکا خون پھر بہنے لگا تھا۔
“آہ…!”دانیا کے منہ سے بے ساختہ سی کی آواز نکلی،
اور چہرے کا رنگ بدل گیا۔
“یہ… یہ کیا ہوا آپ کو؟”
وہ گھبرا کر قریب آئی،
زخم کو دیکھتے ہی جیسے ہوش اڑ گئے ہوں۔
“آپ کو… گولی لگی ہے؟ اور… ابھی بھی…؟”
اس کے چہرے پر فکر اور بےچینی صاف دکھائی دے رہی تھی۔
وہ جس شخص سے الجھ رہی تھی،
اس کے اندر چھپی چوٹ نے ایک لمحے میں سب کچھ خاموش کر دیا تھا۔
“گولی لگی ہے ،مگر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں… صرف چھو کر گزری ہے، ہلکا سا زخم ہے، چند دن میں ٹھیک ہو جائے گا۔”
وہ اس کی پریشانی کو محسوس کرتے ہوئے نرمی سے بولا تھا۔
“بتایا کیوں نہیں کہ آپ کو گولی لگی ہوئی ہے؟”
وہ خون سے بھرے بازو کو ہلکے سے چھوتے ہوئے گھبرا کر بولی، اس کی آنکھوں میں پریشانی صاف جھلک رہی تھی۔
“مجھے پتہ نہیں تھا کہ میرے زخم سے آپ کو فرق پڑتا ہے۔ اگر پتہ ہوتا… تو ضرور بتاتا۔”
اس نے شرارت بھری نظروں سے اسے دیکھا، جن میں محبت بھی چھپی ہوئی تھی، نرمی بھی۔
“انسانیت کے ناطے… انسان کسی کا بھی درد محسوس کر سکتا ہے۔ جب میں آپ کے گھر پر تھی، آپ نے میرے مشکل وقت میں ساتھ دیا تھا… اور یاد ہے؟ آپ نے زبردستی میرے ہاتھوں کی ڈریسنگ کروائی تھی تاکہ زخم ٹھیک ہو جائے۔”
وہ اسے یاد دلاتے ہوئے جھک کر اس کے ہاتھ کی ڈریسنگ کرنا چاہتی تھی۔
“نہیں میں خود کر لوں گا … میں نے جو کیا وہ ہمدردی نہیں تھی۔ مجھے ایسی اجنبی ہمدردی نہیں چاہیے۔ میں نے جو آپ کی فکر کی تھی، وہ صرف فکر نہیں تھی… اس میں میری محبت شامل تھی۔ مجھے آپ کی سچ میں پروا تھی۔ اُس پرواہ میں عام لفظ شامل نہیں تھے… آپ کل بھی خاص تھیں، آج بھی خاص ہیں۔”
وہ واپس اپنے بازو کی ڈریسنگ میں مصروف ہو چکا تھا، دانیا کا اس کے لیے عام سا فکر کرنا مائد کو تکلیف دے لگا۔۔۔
“چھوڑ دیجیے، میں کر دیتی ہوں… فکر، فکر ہوتی ہے، اس میں عام اور خاص کچھ نہیں ہوتا۔”
وہ زبردستی اس کے ہاتھ سے ڈریسنگ کا سامان لے چکی تھی اور سی سی کی آوازیں نکالتے ہوئے نرمی سے خون صاف کرنے لگی تھی۔ اس کے انداز میں بےچینی اور درد کا گہرا عکس تھا۔
“کس نے کہا کہ فکر خاص اور عام نہیں ہوتی؟”
اس نے گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے نرمی سے کہا، “ایک ڈاکٹر ہزاروں مریضوں کے زخم ٹھیک کرتا ہے، وہ بھی ایک فکر ہوتی ہے… اور ایک ماں اپنے بچے کی چوٹ پر تڑپ کر اس کا علاج کرتی ہے، وہ بھی فکر ہوتی ہے۔ آپ کو ان دونوں میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا؟ آپکے لیے محبت، ہمدردی، اور ڈیوٹی… سب ایک جیسا ہے؟”
وہ زخم صاف کرتے وقت اس کی جانب جھکی ہوئی تھی، اور اس کا چہرہ بہت قریب آ چکا تھا، اس کی باتیں سیدھی دل میں اتر رہی تھیں۔نظروں کی تپش سے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگی تھی۔
“میرے پاس آپ کی فلسفاتی باتوں کا کوئی جواب نہیں ہے۔”
“فی الحال آپ کو آرام کی ضرورت ہے، چپ چاپ ڈریسنگ کروائیں… اور جو دوائیں ڈاکٹر نے ریکمنڈ کی ہیں، وہ کھائیں۔”
وہ مکمل توجہ سے زخم پر ڈریسنگ کر رہی تھی، جیسے کوئی ماہر اور پروفیشنل ڈاکٹر ہو ۔ لیکن اس کی ہر حرکت میں محبت بھی تھی، فکر بھی، اور ایک عجیب سی اپنائیت بھی۔جس کو مائد خان کا محبت سے لبریز دل محسوس کر سکتا تھا۔وہ الگ بات تھی کہ وہ اس جذبے کو جھٹلا رہی تھی۔
“آپ کی ڈریسنگ ہو گئی ہے، آرام کریں۔ آپ کی میڈیسن کہاں ہے، دوں آپ کو؟”
وہ دلہن والے بھاری دوپٹے کو سنبھالتی ہوئی اِدھر اُدھر نظریں دوڑا رہی تھی، جیسے کچھ تلاش کر رہی ہو۔ جبکہ مائد خاموشی سے بیٹھا، اُس کی فکر بھری آنکھوں کو دیکھ رہا تھا ۔ اس فکر زخم پر مرہم کا کام کر رہی تھی۔
“سامنے باکس رکھا ہے، اس میں میڈیسن ہے۔”
مائد نے اشارہ کیا، تو وہ فوراً اس باکس کو اٹھا کر اس کے قریب آ گئی، اسے سامنے رکھا۔ لیکن وہ اب بھی دانیہ کے چہرے کو ہی تکے جا رہا تھا ۔ جیسے کوئی انمول چیز سامنے رکھ دی گئی ہو۔اور اسے اپنی قسمت پر یقین نہ آ رہا ہو کہ وہ چیز سچ میں اس کی ہو چکی ہے۔۔
“مجھے بعد میں دیکھ لیجیے گا، کہیں بھاگ ہی نہیں رہی۔ پہلے بتائیں کون سی میڈیسن لینی ہے۔”
آنکھوں کے اشارے سے باکس کی طرف متوجہ کرتے ہوئے نرم لہجے میں کہا، نظریں نیچے باکس پر جمی ہوئی۔۔مائد خان کی نظروں کی حرارت کو محسوس کرتے ہوئے بے ترتیب سی دھڑکنوں کو سنبھالنے کی بھیجا کوشش کر رہی تھی۔
مائد نے مسکراتے ہوئے نچلے ہونٹ کے کنارے کو ہلکے سے دانتوں میں دباتے ہوئے نفی میں سر ہلایا اور میڈیکل باکس سے رنگ برنگی تین چار ٹیبلٹس نکال کر ہتھیلی پر رکھ لیں۔
ڈبہ واپس رکھ کر وہ شیشے کے گلاس میں جگ سے پانی انڈیل کر لائی۔ مائد نے خاموشی سے دوا منہ میں ڈال کر پانی کے چند گھونٹ پیے اور گلاس واپس رکھ دیا۔ وہ بنا کچھ کہے پلٹ گئی۔
“آرام کریں…”
اس نے پیچھے مڑ کر نرمی سے کہا، “آپ اسی روم میں آرام کریں، میں اپنے لیے کوئی اور کمرہ دیکھ لیتی ہوں۔”
وہ دروازے کی طرف بڑھی ہی تھی کہ مائد کی آواز نے قدم روک لیے۔
“آپ کو میری بات سمجھ نہیں آئی شاید؟”
اس کی آواز میں نرمی تھی مگر لہجے میں فیصلہ تھا، “میں نے کہا ہے کہ آپ اسی روم میں میرے ساتھ رہیں گی۔ اور اتنی بے یقینی کی ضرورت نہیں ہے۔ جب میں نے کہا ہے کہ میں کوئی ایسی غیر اخلاقی حرکت نہیں کروں گا جس سے آپ کی عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچے، تو بس نہیں کروں گا۔”
“مگر فیصلہ اٹل ہے ۔ آپ اس کمرے سے باہر نہیں جا سکتیں۔”
“بس، شروع ہو گیا آپ کا حکم چلانا؟”
دانیا کے قدم وہیں دروازے کے اندر ہی تھم گئے تھے، لہجہ خفگی لیے ہوئے تھا۔
“حکم نہیں چلا رہا، آپ کی سیفٹی کی بات کر رہا ہوں۔ فی الحال حالات ٹھیک نہیں ہیں، اور میں چاہتا ہوں کہ آپ میری نظروں کے سامنے رہیں… آپ میری ذمہ داری ہیں۔”
مائد کا لہجہ سخت ضرور تھا، مگر اس میں چھپی فکر صاف جھلک رہی تھی۔
“تو میں گھر کے اندر ہوں، باہر اتنے محافظ اکٹھے کیے ہیں کیا وہ کسی کام کے نہیں؟ ان کے ہوتے ہوئے کوئی مجھے اٹھا کر لے جائے گا جو آپ کو اتنی فکر ہو رہی ہے؟”
کاٹ دار لہجے میں تیزی سے جواب دیا۔
“اٹھانا تو دور کی بات ہے، کوئی نظر اٹھا کر بھی دیکھے تمہیں، تو اس کی آنکھیں نوچ لوں گا میں۔ مائد خان دورانی کی ہو چکی بیوی ہیں آپ!”
وہ سرد لہجے میں کہتے ہوئے اس کے قریب آ گیا تھا۔
“پیچھے ہٹیں! مجھے ڈرائیے مت!”
وہ جلدی سے ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے چینجنگ روم کی طرف بڑھ گئی جو روم کے اندر ہی موجود تھا۔
اس کے انداز پر مائد کے لبوں پر بےاختیار ایک ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی تھی۔
کچھ ہی دیر میں وہ چینج کر کے نارمل سا پلین سوٹ پہن کر باہر نکلی۔ جاتے ہوئے ملیحہ اور مہرو نے بتایا تھا کہ کپڑے وہیں رکھے ہیں، انہی میں سے ایک چن کر پہن لیا تھا۔ دوپٹہ سنبھالتی ہوئی ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھی اور کلینزنگ ملک اٹھا کر چہرے اور ہاتھوں پر ہلکے ہاتھوں سے لگاتے ہوئے واشروم میں چلی گئی۔
چند لمحوں بعد منہ دھو کر ٹاول سے خشک کرتے ہوئے نکلی، ہاتھوں پر دوبارہ کلینزنگ لگاتے ہوئے، غصے سے بھری نگاہیں مائد کی طرف گئیں جو صوفے پر بڑے اطمینان سے ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا۔
وہ بنا کچھ کہے جا کر بیڈ پر لیٹ گئی، اور کروٹ لے کر رخ دوسری طرف کر لیا۔
مائد نے گہری سانس لیتے ہوئے خود کو کھڑا کیا، پھر بیڈ کی دوسری جانب آ کر لیٹنے لگا ہی تھا کہ دانیا جھٹ سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔
“یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟”
اس نے حیرت اور الجھن سے اسے دیکھا۔
“ظاہر ہے، وہی جو رات کے وقت بیڈ پر سب کرتے ہیں۔”
مائد کا ایک پاؤں بیڈ پر اور دوسرا نیچے تھا، چہرے پر شرارتی مسکراہٹ تھی۔
“شرم کریں! مجھے تو پہلے ہی پتہ تھا کہ آپ کی سوچ… بس! بڑی بڑی باتیں کر رہے تھے کہ عزت نفس کو ٹھیس نہیں پہنچے گی… سب مرد ایک جیسے نہیں ہوتے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔جبکہ سب کے سب ایک جیسے ہوتے ہیں!”
وہ غصے سے بولی، آنکھیں بھری بھری،انداز ایسا کہ جیسے کسی حد سے گزرنے پر آنسو نکل آئیں۔
“اففف۔۔۔ استغفراللہ! استغفراللہ! بہت ہی خراب سوچتی ہیں آپ!”
مائد نے جھٹ سے ماتھے پر ہاتھ مارا، “میں تو یہاں سونے کی بات کر رہا تھا۔ عقل کی اندھی لڑکی! رات کے وقت بیڈ پر ہر کوئی سونے کی نیت سے آتا ہے، اور میں بھی یہی کرنے آیا ہوں۔ استغفراللہ! تم کیا سوچ رہی ہو یار!”
وہ پہلی بار اسے “تم” کہہ گیا تھا، بےتکلف سا انداز، لبوں پر شرارت بھری مسکراہٹ لیے جیسے اب فاصلے کچھ ہونے کا خوبصورت احساس جاگ رہا ہو۔۔
اس کے جواب پر، اور اس کے محتاط انداز پر، دانیا خود پر ہی شرمندہ ہو گئی تھی۔
اسے سچ میں لگا کہ شاید وہ ہی حد سے بڑھ گئی تھی، وہ ہی غلط سوچ رہی تھی۔
منہ بسور کر کچھ لمحے خاموش رہی۔
اسی اثنا میں، وہ پھر سے دوسرا پاؤں بیڈ پر رکھ کر لیٹنے لگا تھا کہ دانیا نے فوراً اسے گھور کر دیکھا۔
“جی؟ اب یہ گھور گھور کر دیکھنا کس لیے ہے؟”
اس نے شرارت سے کہا، “ایسے تو میں معصوم بچہ کبھی سو نہیں سکوں گا۔ پلیز! ایسے دیکھ کر مجھے ڈرائیے مت۔”
مصنوعی انداز میں ڈرنے کی ایکٹنگ کرتا ہوا وہ لیٹ گیا، اور دونوں ہاتھ سر کے نیچے رکھ کر سکون سے آنکھیں بند کر لیں۔
“آپ۔۔۔آپ یہاں پر نہیں سو سکتے۔”
دانیا نے دو ٹوک لہجے میں کہا۔
“کیوں؟”
“بس، نہیں سو سکتے!”
“تو پھر میں کہاں سوں؟”
اس نے جیسے جان بوجھ کر معصوم بن کر پوچھا۔
“وہ سامنے صوفہ رکھا ہے، اور کافی بڑا بھی ہے۔ آپ وہاں آرام سے فٹ ہو سکتے ہیں۔ وہیں جا کر سو جائیں۔ اور ویسے بھی ایک کمرے میں رہنے کی ضد آپ کی ہے، میری نہیں، تو میں کمپرو مائز نہیں کروں گی۔”
دانیا کی آواز میں اب تھوڑا سا تناؤ آ گیا تھا۔
“محترمہ! یہ کوئی انڈین سیریل نہیں ہے، جہاں لڑکا صوفے پر سو رہا ہے، لڑکی بیڈ پر، اور لڑکا ساری رات لڑکی کو تکتا رہے… پھر جب لڑکی نیند میں کروٹ لے تو اس کا ہاتھ گر کر لڑکے کے چہرے پر لگے اور وہ جاگ جائے… پھر بیچارا نیچے فرش پر جا گرے اور صبح صبح اٹھ کر اسی لڑکی کو نہارے!”
مائد نے مزاحیہ انداز میں پورا سین بیان کیا اور پھر سنجیدہ ہوا گیا۔۔
“یہ ہماری زندگی کی حقیقت ہے۔ آپ میری بیوی ہیں۔ اور میں آپ کا شوہر ہوں۔ آپ کو مجھ پر اعتماد ہونا چاہیے۔ ویسے بھی، مجھے تو آپ پر ویسے ہی بہت زیادہ اعتماد ہے… کہ آپ میری اس نفس کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچائیں گی، تو چپ چاپ سو جائیے۔”
“ہاں… مطلب آپ اسی بیڈ پر میرے ساتھ سوئیں گے؟”
اس کی آواز دھیمی ہو چکی تھی۔
“جی، بالکل۔ اسی بیڈ پر، آپ کے ساتھ۔ مگر اپنی سائیڈ پر!”
اس نے مسکرا کر آنکھیں بند کیں۔
“شکل سے کتنے معصوم لگتے ہیں، اور ضد کے بچوں جیسے!”
دانیا نے ناک چڑھاتے ہوئے کہا۔
“اور آپ بھی! شکل سے کتنی معصوم لگتی ہیں، مگر دیکھیں نا، ایک چھ فٹ کے مرد کو کیسے ڈرا رہی ہیں۔ یہ سب آپ کو زیب نہیں دیتا۔ میں نے تو پہلے ہی بتایا تھا، کہ میری فیملی اس وقت یہاں نہیں ہے۔ کم از کم آپ تو میرے ساتھ تھوڑا سا نرمی سے پیش آئیں… مگر آپ ہیں کہ ڈرائے جا رہی ہیں، ٹرائے جا رہی ہیں!”
اس کے شرارتی لہجے پر دانیا نے بے اختیار کروٹ لی، مگر لبوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ بھی ابھری تھی، جو خود اس نے بھی محسوس نہ کی۔۔۔
“دیکھتا ہوں، کب تک آپ مجھ سے جھگڑا کرتی ہیں…”
مائد خان کی آواز میں نرم سی مسکراہٹ جھلک رہی تھی۔
“میں بھی تو دیکھوں، کب تک آپ یہ دیواریں بنا کر رکھتی ہیں!”
وہ آہستہ سے پلنگ پر پہلو بدلتے ہوئے، ایک نظر اس کی پشت پر ڈال کر ٹھرا، لبوں پر وہی دل موہ لینے والی مسکراہٹ بکھیر گئی۔
“مائد خان دورانی کی محبت اتنی کمزور نہیں… جو آپ کے غصے کے سامنے ہار جائے۔”
اس کے لہجے میں بے پناہ اعتماد تھا، وہ یقین جو کسی سچے عاشق کے لہجے میں جھلکتا ہے۔
وہ اپنا رخ دوسری جانب کرتے ہوئے لیٹ چکا تھا، مگر اس کی مسکراہٹ اب بھی اس کے ہونٹوں پر تھی… وہ جانتا ہو، یہ دیواریں زیادہ دیر قائم نہیں رہیں گی۔
اور دوسری جانب، دانیا نے گہری سانس لے کر آنکھیں موند لیں… دل کا شور اب بھی اس کی خاموشی میں گونج رہا تھا۔
°°°°°°°
حویلی تک لوٹتے رات خاصی بیت چکی تھی۔
ملیحہ اور زرام اپنے ساتھ ارمیزہ کو بھی اپنے روم میں لے گئےتھے۔ ان کے پیچھے ہی زیغم اور مہرو کی گاڑی حویلی کے آہاتے میں داخل ہوئی تھی۔
مہرو، زیغم کے کندھے سے ٹیک لگائے جانے کب نیند کی آغوش میں چلی گئی، اسے کچھ خبر نہ ہوئی۔
زیغم نے اسے جگایا نہیں تھا۔ وہ سوتے ہوئے بہت پیاری لگ رہی تھی۔
بس خاموشی سے اس کے چہرے کو تکتا ہوا وہ گاڑی چلاتا ہوا حویلی تک پہنچ چکا تھا۔
جیسے ہی گاڑی ایک ہلکے سے جھٹکے سے رکی، مہرو کی آنکھ کھل گئی تھی۔
زیغم نے مسکراہٹ رکھ کر اس کی جانب دیکھا،
“سرکار! ہم گھر پہنچ چکے ہیں، اٹھ جائیے۔ باقی کی نیند کمرے میں جا کر پوری کر لینا۔”
وہ گاڑی کی دوسری جانب سے دروازہ کھولتے ہوئے اس کے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑا تھا۔
مہرو نے نرمی سے ہاتھ اس کے مضبوط ہاتھ پر رکھا، تو وہ مسکرایا اور اسے آہستگی سے گاڑی سے نیچے اتار لیا۔
“تم چلو کمرے میں، میں ابھی آتا ہوں، رفیق سے ضروری بات کرنی ہے۔” زیغم نے نرمی سے کہا۔۔۔۔
“جی ٹھیک ہے۔”
مہرو کہتی ہوئی چل پڑی تھی۔
رفیق اس کا خاص آدمی، ڈرائیور اور بااعتماد ساتھی تھا، جو اس کے زیادہ تر معاملات سنبھالتا تھا۔ ہر بڑی سے بڑی اور چھوٹی سی چھوٹی چیز کا اسے بخوبی علم تھا۔
مہرو اندرونی حصے کی جانب بڑھ گئی تھی ۔
زیغم رفیق سے کچھ کہنے کے لیے وہیں گاڑی کے قریب ہی رک گیا۔
کچھ دیر ضروری بات کرتا رہا۔
فضا میں رات کا سکوت بکھرا ہوا تھا۔
چند ملازم دور سے آہستہ آہستہ حرکت کرتے ہوئے نظر آ رہے تھے، ورنہ سب ہی اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔
گھر کے مکین تقریباً سو چکے تھے۔
زیغم بات کرنے کے بعد حویلی کے اندر کی جانب بڑھ گیا آرام دے قدموں سے سیڑھیاں چڑھنا شروع کیں۔
قدم پُرسکون تھے، مگر جیسے ہی وہ اپنے کمرے کے دروازے کے قریب پہنچا، اچانک ایک ہاتھ تیزی سے اس کی کلائی کو جکڑ گیا۔
یہ ہاتھ حمائل کا تھا، جو اس کے کمرے سے پہلے والے کمرے سے باہر نکلی تھی۔
اس نے زیغم کو زبردستی کھینچ کر اندر لے گئی۔
زیغم نے سنبھلنے کی کوشش کی، مگر سب اتنا اچانک ہو گیا تھا کہ وہ کچھ کہہ بھی نہیں پایا۔
دروازہ دھم سے بند ہو گیا تھا۔
کمرہ خاموشی سے لبریز تھا، مگر ہوا میں تناؤ محسوس ہو رہا تھا۔
رات کے اس پہر زیغم کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ کوئی جاگ رہا ہوگا۔
اور دوسری طرف، مہرو جیسے ہی کمرے میں پہنچی، ایک عجیب سی بے چینی نے اسے گھیر لیا۔
اس نے ادھر اُدھر دیکھا، پھر آہستہ سے دروازہ کھولا اور باہر جھانکا،
کیونکہ وہ اپنے سائیں کو دیکھنا چاہتی تھی کہ وہ ابھی تک کمرے میں کیوں نہیں آئے۔وہ عجیب سی بے چینی محسوس کر رہی تھی۔
مگر حمائل کا کمرہ، جو مہرو کے کمرے سے ایک کمرہ چھوڑ کر پیچھے تھا،
اس میں سے کچھ مخصوص آوازیں آ رہی تھیں، جس کی بنا پر اس کے قدم اس جانب اٹھ گئے۔
کیونکہ زیغم سلطان کی آواز اس کے لیے اجنبی نہ تھی۔
وہ حیرانی سے اس جانب بڑھی،
مہرو کی سانس ایک پل کو جیسے تھم سی گئی تھی۔ قدم بے اختیار اس کمرے کے دروازے کے قریب جا رکے جس کے پیچھے زیغم کی آواز اس کے لیے اجنبی نہیں تھی۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، جیسے اندر کچھ غیر متوقع ہو رہا ہو رہا تھا۔
وہ دیوار سے پشت لگا کر ٹھہر گئی، پلکیں جھکی تھیں، مگر سماعت پوری طرح دروازے سے آتی آوازوں پر مرکوز تھی۔یہ سب کچھ معصوم سی محر بغیر سوچے سمجھے کر رہی تھی۔کیونکہ دروازے کے اندر جو شخصیت تھی۔ اس کا سائیں تھا جو اس کے لیے اب بہت خاص ہو چکا تھا۔دل و جان سے اسے اپنا شوہر مان چکی تھی۔
کمرے کے اندر…
زیغم پوری شدت سے حمائل کی کلائی سے خود کو چھڑانے کی کوشش کر رہا تھا۔
“حمائل! یہ کیا حرکت ہے؟”
اس کی آواز غصے میں تھی، مگر وہ پھر بھی دھیمی رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔مگر رات کی خاموشی میں مدھم سی آواز بھی گونج رہی تھی۔
حمائل کا چہرہ غصے اور دکھ سے سرخ ہو رہا تھا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے زیغم، تم مجھے یوں نظر انداز کر کے، اُس لڑکی کے پیچھے لگے رہو گے اور میں خاموش رہوں گی؟”
زیغم نے ایک جھٹکے سے خود کو آزاد کروایا،
“تم ہوش میں تو ہو؟ مہرو میری بیوی ہے۔ میری عزت ہے۔ اور تم۔۔۔ تم یہ سب کر کے کیا ثابت کرنا چاہتی ہو؟”
حمائل کی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی،
“محبت، عزت اور رشتوں کے فیصلے تم کرتے ہو، تو برداشت بھی تمہیں کرنا ہو گا زیغم! تم مہرو کو ہم دونوں کے بیچ میں لے آئے، میرے حصے کا پیار اسے دے دیا، مجھے تو جیسے تم نے بھلا دیا۔ایسے جیسے میں کبھی تمہاری زندگی میں آئی ہی نہیں تھی۔۔ ” حمائل کا لہجہ شدید کڑوا تھا۔
زیغم سلطان نے تلخ نگاہوں سے دیکھا،
“تم جانتی ہو حمائل، میں نے تمہیں ہمیشہ عزت دی، لیکن تم یہ سب کر کے اس رشتے کو ذلیل کر رہی ہو۔جس کا نام دوستی ہے ۔”
باہر کھڑی مہرو کے قدم جیسے زمین میں گڑ گئے تھے۔ آنکھیں بھیگنے لگیں، مگر وہ اب بھی خاموش تھی۔ ہر لفظ، ہر مکالمہ اس کے اندر کسی چوٹ کی طرح اتر رہا تھا۔
“زیغم، پلیز…”
حمائل کا لہجہ اب بھیگ چکا تھا،
“ہم صرف۔۔۔دوست۔۔۔نہیں۔۔۔ہے۔۔ایک ایک لفظ کو شدت سے کھینچتے ہوئے بول رہی تھی۔۔۔
“اگر تم یہ کہو تو زیادہ بہتر ہوگا کہ اب… ہم …دوست…. بھی نہیں ہیں.. زیغم نے سختی سے بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے جواب دیا….
“تم ایسا نہیں. کہہ سکتے… وہ دبے سے لہجے میں چلائی۔۔۔”بس ایک بار مجھے اس مہرو کے جیسا پیار،اس جیسا وقت دے دو جیسا تم نے اُسے دے رکھا ہے… میں سب کچھ بھول جاؤں گی، میں تمہیں اتنا پیار دوں گی کہ تمہاری سب گلے شکوے ختم ہو جائیں گے۔میں تمہیں کبھی چھوڑ کر نہیں جاؤں گی…”
“تمہیں کیا لگتا ہے حمائل؟ محبت خیرات میں دی جاتی ہے؟”زیغم نے گہری سانس لیتے ،مزید سختی بھرے لہجے سے کہا ۔۔۔
مہرو کے قدم اب پیچھے ہٹنے لگے، آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، اور دل… دل جیسے ٹوٹ کر بکھرنے لگا تھا۔
کمرے کی فضا میں عجیب سی خاموشی تھی،
حمائل کی سانسیں تیز تھیں، اور زیغم کے چہرے پر سختی ابھر آئی تھی۔
حمائل نے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر، آنکھوں میں نمی لیے، درد بھری سرگوشی کی۔
” تم میرے ہو… صرف میرے ہو۔۔۔”
زیغم نے آنکھیں موڑ لیں، آواز بھاری ہو چکی تھی۔
“میں صرف مہرو کا ہوں۔”
حمائل کی آنکھوں میں دکھ کی شدت اور بڑھ گئی،
“تمہاری خاطر وہ بھی قبول ہے۔”
“مجھے اب تم قبول نہیں ہو۔”
زیغم کا دل دکھ سے چور تھا، مگر لہجہ اب بھی سخت تھا۔
“تم سے پیار کرتی ہوں۔۔۔”
حمائل کی آواز بھرا گئی،
“میں مہرو سے پیار کرتا ہوں۔”
زیغم کا جواب تیز اور صاف تھا،
وہ ایک قدم آگے بڑھی، ضبط کے آخری کنارے پر تھی ۔
“کرتے رہو، پیار نہیں منع کروں گی ۔ چار شادیوں کی اجازت ہے، مجھے بھی اپنا لو۔۔۔”
“چار شادیوں کی اجازت ہے، مگر برابری کا حکم بھی ہے۔۔۔”زیغم کا جواب تیز اور صاف تھا،
حمائل نے کچھ پل خاموشی سے اسے دیکھا،
“ہاں تو، تم کر لینا نا برابری۔۔۔”
تلخی سے بولی۔۔
“نہیں، یہ مجھ سے ہو نہیں سکے گا، کیونکہ میرا دل بہت ایماندار ہے،اور میرا دل خود اس کا ہو چکا ہے۔۔۔”
حمائل کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے،
“ایسے سزا مت دو،میں نے تمہیں بہت چاہا ہے، زیغم۔۔۔”
“مگر میرے دل نے اس سے بہت زیادہ چاہا ہے، حمائل۔۔۔”
“میں تمہارے بغیر مر جاؤں گی۔۔۔”
وہ روتے ہوئے بولی۔
“میں اس کے بغیر مر جاؤں گا۔۔۔”
“تم خود غرض ہو گئے ہو۔۔۔”
“میں اس کی محبت میں بے بس ہو گیا ہوں۔۔۔”
“ایک غلطی کی اتنی بڑی سزا دے رہے ہو؟ معافی مانگ تو رہی ہوں۔۔۔”حمائل کی آواز نم، کانپتی ہوئی، ٹوٹے ہوئے دل سے نکلی تھی۔
زیغم کا چہرہ سختی سے بھرا ہوا تھا، نگاہیں اس کے چہرے پر جمی تھیں، مگر دل میں اب وہ جذبہ نہیں رہا تھا جو کسی معافی سے بدل جائے۔۔۔
“تمہیں اب تک سمجھ نہیں آیا کہ میں تمہیں سزا نہیں دے رہا۔ ہمارے بیچ میں سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ اور پہلے بھی جو کچھ تھا، حمائل… وہ تمہاری طرف سے تھا۔ میرے دل نے کبھی تم سے محبت نہیں کی تھی۔” ٹھہرے لہجے میں کہا۔۔
روتے ہوئے حمائل کے لب کپکپائے، مگر زیغم نے اپنا جملہ مکمل کیا۔۔
“ہاں، میں تمہاری عزت کرتا تھا۔ تم میری بہت اچھی دوست تھی۔ تم نے محبت سے میری طرف ہاتھ بڑھایا تو میں تمہارا دل نہیں توڑ سکا تھا۔ میں نے تم سے محبت کرنے کی بہت کوشش کی،
“مگر،”مگر مجھے مہرو سے ملنے کے بعد یہ پتہ چلا کہ محبت کوشش کرنے سے نہیں ہوتی۔ محبت جب ہونی ہوتی ہے تو خود ہو جاتی ہے۔۔۔”
کمرے میں کچھ پل کی خاموشی چھا گئی۔حمائل کا دل خون کے انسو رو رہا تھا۔وہ تو یہ خواب لے کر آئی تھی کہ یہاں آنے سے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔۔
“محبت ایک ایسا احساس ہے جسے زبردستی پیدا نہیں کیا جاتا۔ اور اب تم میرے اور مہرو کے درمیان نہیں آ سکتی۔ جانتی ہو کیوں؟”
وہ اس کی طرف جھک کر ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولا۔۔
“کیونکہ ہمارے بیچ میں کوئی جگہ خالی نہیں ہے جہاں پر تم فٹ ہو سکتی ہو۔۔۔”
حمائل کی آنکھیں زوروں سے برسنے لگیں تھی ۔روتی آنکھوں سے اسے دیکھے جا رہی تھی جیسے اس کے لفظوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔
” پلیز۔۔۔ آج کے بعد ایسی کوئی بھی غیر اخلاقی حرکت مت کرنا۔ جو تم نے آج کی ہے۔”
“میں تمہیں واضح کر کے بتا کر جا رہا ہوں کہ مہرو ہی میری دنیا ہے۔ مہرو میری محبت ہے، اور میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔پلٹ کر دوبارہ کہا “
“محبت کیا ہوتی ہے، یہ اس سے مل کر میں نے جانا ہے۔۔۔”
ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے وہ سختی سے بول چکا تھا۔وہ بول کر جانے لگا تھا۔
حمائل کا ضبط اب ٹوٹ چکا تھا، آنسو بہتے ہوئے، دل کی تکلیف میں لپک کر اس کے قریب آئی۔۔
“ایسے کیسے تم اس کے ہو سکتے ہو؟”
اس نے جذباتی ہو کر اس کے گریبان پر ہاتھ ڈال دیا۔
زیغم نے اس کا ہاتھ ایک جھٹکے سے ہٹایا، آنکھوں میں سرد مہری ابھر آئی تھی۔۔
“دوبارہ ایسی حرکت مت کرنا۔ میں برداشت نہیں کروں گا۔۔۔”
وہ اپنے گلے سے اسکے ہاتھ ہٹاتے ہوئے غصے سے دیکھتا ہے، آنکھوں میں ایک آخری وارننگ، ایک آخری خفگی لیے، قدم پیچھے ہٹاتا ہے۔
دروازہ کھولتا ہے، اور بغیر پیچھے دیکھے باہر نکل گیا۔
دروازہ بند ہونے کی آواز کے ساتھ ہی جیسے سارا حوصلہ، ساری ضد ٹوٹ کر بکھر گئی ہو۔
حمائل وہیں پر، دروازے کے قریب، لڑکھڑاتی ہوئی زمین پر بیٹھ چکی تھی۔
آنسو مسلسل اس کے گالوں پر بہہ رہے تھے، ہاتھ اس کے سینے پر تھا جیسے دل کو تھام رہی ہو کہ کہیں وہ اس صدمے سے رک نہ جائے۔
کمرے میں تنہائی اور اس کے آنسوؤں کی سسکیاں گونجنے لگی تھیں،
ایک بےآواز شکست، ایک خاموش ماتم۔
…………….
سائیں… اب نہیں… اب وہ آپ کو مجھ سے چھین نہیں سکتی… میں ایسا نہیں ہونے دوں گی…
حمائل ہچکیوں سے رو رہی تھی، آنکھوں میں ضد اور دل میں ٹوٹا ہوا غرور تھا۔
لیکن جیسے ہی کمرے کا دروازہ ہلکی سی آواز کے ساتھ کھلا، اور سائیڈ پر رکھے ہوئے کرسٹل کے لیمپ کی روشنی میں اس نے زیغم کا عکس دیکھا۔
اس کی آنکھیں فوراً بند ہو گئیں۔
وہ جاگ رہی تھی، مگر ظاہر یوں کیا جیسے وہ گہری نیند میں ہو۔
مہرو…
زیغم نے آہستگی سے اس کا نام پکارا، لبوں پر حیرت سی ہنسی تھی۔
“یہ کیا بات ہوئی… میرے آنے سے پہلے ہی سو گئی؟ گاڑی میں بھی سوتی آئی، اور کمرے میں آتے ہی بھی سو گئی؟ یہ اچھا ہے، شوہر کے آنے کا انتظار بھی نہیں کیا؟”
زیغم جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا، اس کے چہرے پر ایک عجیب سا تذبذب تھا۔
وہ مہرو کی نیند کو پرکھنا چاہتا تھا… یہ جاننے کے لیے کہ وہ واقعی سو چکی ہے یا جاگ رہی ہے۔
کیونکہ…
حمائل کے ساتھ ہونے والی بات چیت، اس کا اچانک دروازے سے کھینچنا، وہ سب کچھ اب تک ذہن پر سوار تھا۔
اس ملاقات میں زیغم کا کوئی ارادہ شامل نہ تھا، کوئی نیت نہ تھی… مگر پھر بھی…
مہرو کا خیال آتے ہی اس کے دل میں ایک بوجھ سا اترنے لگا۔
ایسا بوجھ… جیسے وہ کوئی چور ہو…
اپنی ہی مہرو کا۔
مہرو کی خاموشی سے یہی اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ واقعی نیند کی آغوش میں جا چکی ہے۔
زیغم نے ایک گہری سانس لی، جیسے دل پر سے بوجھ ہٹا ہو، اور مطمئن سا ہو کر کپڑے بدلنے کے بعد بیڈ پر آ کر لیٹ گیا۔
محبت سے اس کے قریب ہوتے ہوئے، ایک ہی تکیے پر اس کے ساتھ سر رکھ کر آنکھیں موند لیں۔
ایک تو رات بہت بیت چکی تھی، اور دوسرا وہ اپنی پیاری سی مہرو کی نیند میں خلل پیدا نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اسے مہرو کی نیند بہت عزیز تھی۔
مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ مہرو تو جاگ رہی ہے۔
اس کی آنکھیں بند تھیں، مگر دل جاگ رہا تھا… مکمل ہوش میں، مکمل احساس کے ساتھ۔
اس لمحے مہرو کے دل میں دو جذبات ایک ساتھ بیدار تھے…
ایک طرف خوشی تھی… دل کی گہرائی سے نکلتی ہوئی، اس بات کی کہ زیغم نے حمائل کو صاف اور دو ٹوک انداز میں بتا دیا تھا کہ وہ صرف اور صرف مہرو سے محبت کرتا ہے…
اور دوسری طرف… ایک انجانا، گہرا خوف… ایسا خوف جو دل کی دیواروں پر دستک دے رہا تھا۔
کہیں حمائل واقعی اسے زیغم سے جدا نہ کر دے۔
اتنا ڈر تو اسے نایاب سے بھی نہیں لگا تھا۔
نایاب کو تو اس نے پہلی ہی نظر میں اپنے شوہر کی بیوی کے روپ میں تسلیم کر لیا تھا، اور دل میں اس کے لیے احترام کی جگہ بنائی تھی۔۔
بیوی جب اپنے شوہر کی محبت پا لیتی ہے،
اس کی نگاہوں میں اپنی جھلک دیکھتی ہے،
اور اس کی توجہ کو اپنی سانسوں میں بسالیتی ہے ۔
تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ یہ رشتہ اب قائم و دائم ہے۔
یہ شخص، اس کا شوہر،
اب صرف اسی کا ہے… ہمیشہ کے لیے۔
مگر اسی یقین کی دنیا میں جب اچانک
کوئی دوسرا قدم رکھ دیتا ہے،
تو وہی بیوی…
جو لمحہ بھر پہلے مطمئن تھی،
اک بے نام سے خوف میں ڈھل جاتی ہے۔
وہ ڈر…
جو لفظوں میں بیان نہیں ہوتا،
دل میں دھڑکن بن کر اترتا ہے،
آنکھوں سے آنسو بن کر بہتا ہے۔
اور اگر وہ شوہر…
اس ایک لمحے کے ڈر کو،
اس کی لرزتی پلکوں میں،
اس کے خاموش آنسوؤں میں دیکھ لے۔
تو وہ عمر بھر کے لیے اس عورت کا گرویدہ ہو کر رہ جائے…
اس کے ہر آنسو، ہر خاموشی کو عبادت کی طرح چاہنے لگے۔
کیونکہ محبت جب خوف کے آنچل میں لپٹی ہو،
تو اور بھی سچی، اور بھی خالص لگتی ہے۔
ایسی محبت میں ضد نہیں ہوتی، انا نہیں ہوتی…
بس ایک بےقراری ہوتی ہے،
کہ کہیں وہ چھن نہ جائے
جو دل کے سب سے قریب ہے۔
یہی تو خاص ہوتی ہے ایک بیوی کی محبت،
جو بظاہر خاموش ہوتی ہے
مگر دل میں طوفان لیے ہوتی ہے۔
°°°°°°°°°°
مسز مائد خان دورانی، اُٹھ جائیں… آپ کے شوہر نے نکاح کی پہلی صبح، پہلی بار… اپنے ہاتھوں سے آپ کے لیے ناشتہ بنایا ہے۔”
گہری نیند میں ڈوبی ہوئی دانیہ کی سماعت سے مائد خان کی محبت سے لبریز آواز گونجی، تو وہ چونک کر جاگ اٹھی۔ پلکیں جھپکاتے ہوئے جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی، اور دوپٹہ درست کرتے ہوئے ایک دم گورجیس سی ہو گئی تھی۔
“آپ کو میرے لیے اتنی زحمت کرنے کی ضرورت نہیں تھی…”
“استغفراللہ! اُٹھتے ہی اتنا کڑوا کیوں بول رہی ہیں آپ؟ دیکھیں تو سہی، میں نے آپ کے لیے بڑی محبت سے، اپنے زخمی بازو کے ساتھ ناشتہ بنایا ہے… آپ کو تو خوش ہونا چاہیے!” مائد نے شرارتی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، لبوں میں شوخی چھپی ہوئی تھی۔
“جی نہیں… میں کیوں خوش ہوں؟ مجھے تو ڈر لگ رہا ہے۔ پتہ نہیں، یہ پہلی کوشش مجھ پر کی گئی ہے… اب اس کا ری ایکشن کیا آتا ہے، یہ دیکھنا باقی ہے۔”
“آپ میری ککنگ کی توہین کر رہی ہیں!” مائد نے مصنوعی ناراضگی سے کہا،
ایک نئی صبح، ایک نیا آغاز… اور نکاح کے بندھن میں بندھے دو دل، جو اب ایک راہ پر چل نکلے تھے… مگر دو الگ الگ جذبات کے ساتھ۔
مائد کے دل میں محبت کی، خلوص کی، اور ہمیشہ ساتھ نبھانے کی چاہت چھپی تھی۔
جب کہ دانیا، ماضی کی تلخ یادوں کے کانٹوں سے خود کو آزاد نہیں کر پا رہی تھی…
وہ ہر پل، ہر لمحہ، ایک انجانے خوف کا شکار تھی کہ اگر پھر دھوکہ ہوا تو؟
مگر دوسری جانب… مائد کی بےلوث محبت، خالص جذبات، اور نرم لہجہ…
اسے انکار کی ہمت بھی نہیں کرنے دے رہا تھا۔
وہ چاہ کر بھی اُسے نظرانداز نہیں کر پاتی تھی،
اور نہ ہی دل میں اُترتے اُس احساس کو جھٹلا سکتی تھی…
یہ وہ کشمکش تھی جو اس کے دل میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ گہری ہوتی جا رہی تھی…
محبت، بھروسے اور زخموں کی ٹھنڈی تپش کے درمیان،
اب ان دونوں کی کہانی ایک نازک موڑ پر تھی۔۔
°°°°