Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:42
راز وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر:42
°°°°°°°°°
“ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟”
دانیا نے شرماتے ہوئے نظریں جھکا کر پوچھا۔ وہ دونوں اس وقت گارڈن میں بیٹھے تھے، اور مائد مسلسل اُسے دیکھ رہا تھا۔
“میں دیکھ رہا ہوں کہ میری بیوی کتنی خوبصورت ہے… کیوں؟ اپنی بیوی کو دیکھنا جرم ہے کیا؟”
مائد نے پیار سے اسے تکتے ہوئے کہا۔
“نہیں… آپ نہیں دے سکتے،…”
دانیا کی آواز میں شرم تھی۔نظروں میں حیا ،شرم کی لالی جو اسے اور بھی حسین بنا رہے تھے۔۔
“اچھا؟ وہ کیوں؟”
مائد نے حیرانی سے پوچھا۔
“کیونکہ… مجھے شرم آتی ہے۔”
دانیا نے گال پر ہاتھ رکھتے ہوئے نظریں چرائیں۔ اُسے ماہد کی آنکھوں کی تپش صاف محسوس ہو رہی تھی۔
مائد نے آہستہ سے سامنے والی کرسی اپنی طرف کھسکا لی اور محبت بھری نظروں سے اُسے دیکھنے لگا۔
اُس کی آنکھوں میں بے پناہ چاہت تھی ، ایک ایسی گہری محبت جس میں صرف سچائی اور احترام تھا۔
دانیا، اُس لمحے خود کو دنیا کی سب سے خوش قسمت لڑکی محسوس کر رہی تھی۔مائد کی نظروں میں اپنے لیے عزت سے بھری ہوئی محبت دیکھ کر وہ رب کا جتنا بھی شکر ادا کرتی اسے کم لگ رہا تھا۔
“میں تو دیکھوں گا… اگر آپ کو شرم آ رہی ہے تو وہ آپ کا مسئلہ ہے، میرا نہیں۔”
مائد نے شرارتی مگر پیار بھری نظروں سے اُسے دیکھا، بالکل ضدی بچے کے جیسا انداز اپنائے ہوئے تھا۔
“مگر اتنی دیر تک کوئی کیسے دیکھ سکتا ہے۔۔؟وہ اپنی شرماہٹ کو چھپانے کے لیے نظروں کا رخ پھیرتے ہوئے بے جا سا سوال کر گئی۔۔۔
“میں دیکھ سکتا ہوں اور ہمیشہ دیکھوں گا،
میں تو جتنا آپ کو دیکھتا ہوں، مجھے لگتا ہے کم ہے۔ میرا دل نہیں بھرتا… تو اب آپ مجھ پر یہ پابندی عائد نہیں کر سکتیں کہ میں آپ کو اس طرح نہ دیکھوں۔ میں جب چاہوں، جتنی دیر تک چاہیں دیکھ سکتا ہوں۔”
وہ پیار سے اُس کا ہاتھ تھامے اس کی نظروں میں دیکھ رہا تھا۔مائد کی گہری آنکھوں میں محبت کی ایک دنیا آباد تھی ، ایسی چاہت جو صرف دانیا کے لیے مخصوص تھی۔
دانیا نے نظریں چرا لیں۔ دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔
“پلیز… اتنی تعریفیں مت کریں۔ عادت نہیں ہے مجھے… اپنے لیے اتنے خوبصورت الفاظ سننے کی۔”
“کہیں اتنی محبت، اتنی چاہت کی دیوانگی دیکھ کر… میں پاگل ہی نہ ہو جاؤں۔”
بے اختیار دانیا کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔
دانیا کی آواز نم ہونے لگی تھی،
“اوہو.. ایسا ظلم نہ کریں!”مائد نے تڑپ کر سنجیدگی سے نم آنکھوں کو دیکھا۔
“ان آنکھوں میں آنسو دیکھنا نہ مجھے کل اچھا لگتا تھا، نہ آج۔ ان آنکھوں میں تو صرف خوشیوں کے رنگ ہونے چاہییں۔”
وہ نرمی سے اُس کے ہاتھ کو رب کرتے ہوئے اسے اپنے ہونے کا خوشنما احساس دلا رہا تھا ۔
“اور اگر آپ میری نظروں کی تپش سے گھبرا کر رو رہی ہیں، تو پھر عادت ڈال لیجیے حضور… ہم تو آپ کو ہمیشہ ایسے ہی دیکھیں گے۔ ہر پل، ہر لمحہ، اپنی نظروں کی قید میں رکھیں گے۔”
شرارتی نگاہوں سے اُسے دیکھتے ہوئے، اپنے بھاری ہاتھ کی پشت سے دانیا کی نم آنکھیں صاف کیں،
“ویسے پاگل ہونے کی پوری اجازت ہے…”
اس کے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔
“…مگر شرط یہ ہے کہ میری محبت، میرے عشق میں پاگل ہو کر آپ ہمیں مت بھول جائیے گا۔”دانیہ اس کی بات پر ہلکا سا مسکرا دی۔
ماحول تھوڑا ہلکا ہو چکا تھا، مگر مائد جانتا تھا کہ دانیہ دل برداشتہ تھی… ماضی کا درد آج بھی اُس کے اندر کہیں زندہ تھا، جو وہ چاہ کر بھی مکمل طور پر پیچھے نہیں چھوڑ پائی ۔
“مگر جب انسان پاگل ہو جاتا ہے پھر چاہے وہ پیار میں ہی کیوں نہ ہو پھر تو اسے کچھ بھی پتہ نہیں چلتا! تو ایسے میں تو میں آپ کو بھی بھول سکتی ہوں۔” مائد خان کی محبت اور نرمی رنگ دکھانے لگی تھی دانیہ کو مسکرانا شرارتی ہونا کئی سالوں بعد اچھا لگنے لگا تھا۔۔
“اچھا جی۔۔۔ تو مجھے میری ہی محبت میں بھولنےنے کا ارادہ رکھتی ہیں آپ۔گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے اس کی چھوٹی سی ناک کو چھوتے ہوئے پیار سے کہا۔۔۔
“میں آپ کو کبھی، خود کو بھولنے نہیں دوں گا…سانسوں سے بھی زیادہ قریب، پھولوں سے زیادہ حفاظت سے رکھوں گا بڑی مشکل سے آپ ملی ہیں۔”
،مائد خان، کی آواز میں ٹھہراؤ تھا، مگر آنکھوں میں برسوں کی کہی ان کہی باتیں اور بے تحاشہ محبت نظر آرہی تھی۔۔
“جانتی ہو دانیہ… مائد خان ہار چکا تھا۔تمہیں اپنا بنانے کا خیال برسوں میں نے اپنے دل میں چھپا کر رکھا ۔کبھی خود پر بھی ظاہر نہیں ہونے دیا۔ مگر جب ہر امید ختم ہوئی، تب میرے رب نے مجھے تمہارے نام کی خوشی عطا کر دی۔
کبھی سوچا نہیں تھا کہ یوں اچانک تم میری ہو جاؤ گی۔”
“تمہیں پتہ ہے… میں تمہیں کب سے چاہتا ہوں؟”
اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا۔
،دانیہ، نے خاموشی سے نفی میں سر ہلایا۔
“یاد ہے ایک دن میں زیغم کے ساتھ تمہارے گھر آیا تھا؟
صبح کا وقت تھا… زیغم اندر گیا، کچھ نوٹس لینے، اور میں دروازے کے قریب کھڑا تھا۔
تم اندر سے، یونیفارم پہنے، بیگ کندھے پر لٹکائے، تیزی سے باہر نکلی…
اور سیدھی آ کر مجھ سے ٹکرا گئی۔”
،دانیہ، ہولے سے مسکرائی،
“جی… یاد ہے، مگر ہم تب چھوٹے تھے۔ آپ کو اب تک یاد ہے؟”
“ہاں… کیونکہ اسی دن سے تم ، میری چاہت بن گئی تھی۔دھیمے سے کہا۔
پتہ بھی نہیں چلا کب آنکھوں میں تم بس گئی اور دل میں تمہارے سوا کسی کی جگہ ہی نہ بچی۔پتہ نہیں چلا کب دل چپکے سے تمہارا ہو گیا۔”
“تب تو محبت کا مطلب بھی نہیں سمجھتا تھا، مگر تمہاری وہ ایک جھلک…
میرے لیے زندگی کی سب سے خوبصورت شروعات تھی۔
میں نے سپنے بُنے تھے… کہ ایک دن تم میری دلہن بنو گی۔
مگر خواب، خواب ہی رہ گئے۔
ایک دن پتہ چلا کہ زیغم امریکہ جا رہا ہے وہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔تمہارے گھر آنے کے راستے بند ہو گئے میرے لیے۔میرا دوست مجھ سے دور چلا گیا۔۔
پھر ایک دن اچانک پتہ چلا کہ تمہارا نکاح ہے۔۔
اس رات میں کتنا تڑپا… کتنا رویا… یہ بس میرا دل جانتا ہے۔”
،دانیہ، کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی تھی۔
،مائد، کی آواز نرم مگر سچ سے بوجھل ہو گئی۔
“وقت گزرتا گیا… میں ہمیشہ تمہارے لیے دعا کرتا رہا۔
پھر جب پتہ چلا کہ تم خوش نہیں ہو…
تم پر ظلم ہو رہا ہے…
تو میرا ضبط ٹوٹ گیا۔
کاش میں کچھ کر سکتا۔
مگر میرے ہاتھ بندھے تھے۔مگر زیغم کی ہمت بن کر میں اس کے ساتھ کھڑا رہا۔پھر جب تم خوش قسمتی بن کر کچھ دن ہمارے گھر کی رونق بن کر ہمارے گھر رہنے کے لیے آئی ،قسم سے زندگی مکمل لگنے لگی تھی۔ میری تو نظریں ہر وقت تمہارے گرد رہتی تھیں۔ زیغم میرے کہے بغیر میرے دل کی ساری بات جان چکا تھا۔میں نے کچھ نہیں کہا، مگر اسے سب معلوم ہو چکا تھا۔مگر سب کچھ جاننے کے باوجود بھی،
اس نے فیصلہ تم پر چھوڑا۔میں نے خود سے تم سے بات کرنے کی کوشش کی۔مگر تمہاری طرف سے صاف انکار تھا۔
مگرمیں نے ہار نہیں مانی…
رب سے دعا کرتا رہا۔
پھر میری دعائیں قبول ہو گئیں…
دیکھ لو اچانک تمہارا نکاح مجھ سے ہو گیا۔”برسوں کی تڑپ کو وہ کتنے نرم انداز میں دانیہ کو بتا رہا تھا جبکہ حقیقت اتنی تلخ تھی کہ اس سفر کو بتاتے ہوئے بھی مائد کا دل درد سے بھرا ہوا تھا۔
مگر پیار کرنے والوں کی یہی نشانی ہوتی ہے کہ وہ خود پر تکلیفوں کو برداشت کرتے ہیں مقابل کے دل کو چھلنی کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔۔؟
،مائد خان، کی نظریں نم تھیں،
مگر لب مسکرا رہے تھے۔وہ خاموشی سے اس کی باتیں سنے جا رہی تھی۔نظریں احترام سے بھری ہوئی تھیں۔
“تمہیں پتہ ہے، دانیہ،
مجھے قید کرنے کے لیے ،زیغم، نے جو ہتھکڑی چنی ہے…
وہ تم ہو۔
اتنی پیاری قید… جس سے رہائی کا سوچنا بھی گناہ لگتا ہے۔”
،دانیہ، اس کے چہرے کو ٹک ٹکی باندھے دیکھے جا رہی تھی۔
کیا واقعی ایسی محبت… اس کا مقدر بن سکتی تھی؟وہ سوچ رہی تھی۔۔
“میں تم سے وعدہ کرتا ہوں اتنی محبت دوں گا ، کہ تمہاری ساری تلخ یادیں مٹ جائیں گی۔
،مائد، نے نرمی سے اس کے دونوں ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھ میں تھام رکھے تھے نظریں اس کی نظروں میں گاڑتے ہوئے وہ ایک لمحے کو بھی اپنی نظریں نہیں جھکا رہا تھا۔۔۔۔دانیہ اپنے مخملی ہاتھوں پر اس کے مضبوط ہاتھ کا ،ایسا لمس محسوس کر رہی تھی جیسے ہوا کسی پھول کو چھو جائے۔زور سے دھڑکتا ہوا اس کا دل خوشی کے شادیانے بجا رہا تھا۔۔
“آئیے، تھوڑا سا اس خوبصورت باغیچے کی سیر ہو جائے؟”
دانیہ نے نرمی سے ہامی بھری، اس کا ہاتھ تھامے وہ یہاں پر بنے ہوئے خوبصورت باغیچے کی سیر کرتے ہوئے اس کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ بار بار نظریں اٹھا کر اسے دیکھ رہا تھا، مائد کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ سچ میں دانیہ سلطان لغاری ہمیشہ کے لیے اس کی ہو چکی ہے۔ کبھی کبھی انسان کو خوشی ایسے مل جاتی ہے کہ اس پر بھی یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ وہ سالوں تک اس کے لیے تڑپتا رہا، مگر جب خدا نے اس کی سنی تو ایسے سنی کہ اسے اپنی قسمت پر یقین نہیں آ رہا تھا۔
شام کی مدھم روشنی،
فضا میں بھینی بھینی مٹی کی مہک پھیلی ہوئی تھی۔.
ہر طرف ہلکی ہلکی ہوائیں،
نرمی اور سکون کا عالم۔
باغ کے بیچوں بیچ سفید جھولا لگا تھا،
جیسے کسی پری کے لیے خاص بنوایا گیا ہو۔
،مائد، نے نرمی سے اسے جھولے پر بٹھایا،
اور خود آہستہ آہستہ جھولا جھلانے لگا،
پوری محبت، پورے احساس سے، ہر گزرتے لمحے کے ساتھ دانیہ خود کو خوش قسمت سمجھ رہی تھی۔۔یہ سب تو اس نے کبھی خوابوں میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اسے اتنا پیار کرنے والا شخص مل سکتا ہے۔۔
،مائد، نے اس کے چہرے پر سے ایک الجھی لٹ کو نرمی سے پیچھے کیا۔
“ویسے، دانیہ، آپ کو مجھ سے پوچھنا چاہیے کہ بدلے میں مجھے کیا چاہیے۔”
،مائد، شرارتی نظروں سے جھولے کو روکتے ہوئے اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
“نہیں، میں کیوں پوچھوں؟ آپ کے پاس سب کچھ ہے، آپ کو کچھ نہیں چاہیے۔”
،دانیہ، نے نظر چرا کر شرارتی لہجے میں کہا۔بچی نہیں تھی مائد کی شرارتی نظروں کا مقصد اچھی طرح سمجھ رہی تھی۔۔
،مائد، نے جھولے کی زنجیروں کو تھاما، تھوڑا جھک کر اس کے قریب آیا،
“اچھا؟ یہ کس نے کہا کہ مجھے کچھ نہیں چاہیے؟”
وہ شرم سے سرخ ہو گئی، نظریں جھکا لیں۔
“بھئی، مجھے میری محبت کے بدلے میں آپ کی بہت ساری مسکراہٹ چاہیے۔”
،مائد، نے نرمی سے اس کے گال کو ہاتھ کی پشت سے چھوتے ہوئے مسکرا کر کہا،
“جب بھی آپ کے چہرے کی طرف دیکھوں، یہ چہرہ ہنستا ہوا دکھائی دے۔”
،دانیہ، حیرانی سے اسے دیکھنے لگی،
“بس؟ آپ کی اتنی ساری محبت کے بدلے میں صرف میری مسکراہٹ؟”
“جی، بالکل۔ مگر یاد رکھو، تمہاری مسکراہٹ صرف مسکراہٹ نہیں ہے۔”
،مائد، نے نظریں اس کے چہرے پر جما دیں،
“تمہاری مسکراہٹ سے میرا گھر روشن ہو گا، مورے کی آنکھوں میں وہ تمنا پوری ہو گی جو ہمیشہ ادھوری رہی، کہ ان کے پاس بیٹی نہیں ہے۔ درخزئی کو ایک بڑی بہن مل جائے گی۔۔۔”
،وہ آہستہ سے آگے جھکا،
اور اس کے ماتھے پر لب رکھ دیے۔
،وہ، اپنے ماضی کی تلخیوں کو یاد کرتے ہوئے، بے اختیار رب کا شکر ادا کرنے لگی،
اس نئی محبت پر، جس نے اس کے دل کو سکون دیا تھا۔
،دانیہ، آہستہ سے جھک کر ،مائد، کے سینے سے سر ٹکا گئی،
،مائد، نے بے حد نرمی سے اسے تھام کر کھڑا کیا، اپنی باہوں کے حصار میں اس طرح قید کر لیا جیسے کوئی خزانہ سینے سے لگا ۓ ہوئے تھا۔
محبت، وفا اور یقین سے بھرے دو دل…
اب ایک دوسرے کے بے حد قریب، ایک ہی سانس، ایک ہی دھڑکن میں بندھے کھڑے تھے۔
،گرمی کی ٹھنڈی ٹھنڈی شام کی ہوائیں، آہستہ آہستہ چل رہی تھیں،
،اس کا آنچل لہرا رہا تھا، اور دونوں ایک دوسرے کی محبت میں کھونے لگے تھے۔
محبت کی ہر لہر، ہوا میں تحلیل ہو چکی تھی ۔
دانیہ
ہمم…
کیا کبھی میری محبت کا احساس نہیں ہوا؟ اتنے سالوں تک میں تنہا محبت کی آگ میں جلتا رہا… کیا تم نے کبھی محسوس نہیں کیا؟
وہ مسکرائی، جیسے کوئی ادھورے خواب کو یاد کر کے ہلکا سا دکھ چہرے پر لائی ہو۔
محسوس کرنے کے لیے وقت اور سکون چاہیے ہوتا ہے… اور میرے پاس یہ دونوں کبھی نہیں تھے۔
جب آپ سے ٹکرائی، وہ لمحہ میرے لیے بس ایک حادثہ تھا، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
کیونکہ اُس وقت نہ میرے پاس محبت کے لیے وقت تھا، نہ سمجھ۔
میں تو بھائیوں کی لاڈلی اور بابا کی شہزادی تھی…
جسے صرف ہنسنا، کھیلنا اور پڑھنا پسند تھا۔
ابھی اُس عمر تک پہنچی ہی نہیں تھی، جہاں محبت کو سمجھا جا سکے،
سوچنے سے پہلے ہی میرے خیالوں پر پہرے بٹھا دیے گئے۔
چھوٹے سے دل کو خوف کی دیوار کے پیچھے دفنا دیا گیا…
شہرام کے ہاتھ میں میری لگام دے کر، اسے میرا مالک بنا دیا گیا۔
پھر ایسا وقت آیا کہ دکھوں کی آندھی نے سب کچھ بہا دیا…
سوچنے، سمجھنے، محسوس کرنے کا موقع ہی نہ ملا۔
(وہ چپ ہو گئی، اور مائد کی آنکھوں میں جھانکا… جہاں خاموشی تھی )
وہ آنسو… اس کے آنکھوں سے بہہ کر مائد کے سینے میں جذب ہو رہے تھے۔
وہ چپ ساکت … جیسے چاہتا ہو یہ آنسو سب کچھ دھو ڈالیں… سارے دکھ بہا لے جائیں۔
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ دوبارہ گویا ہوئی)
لیکن جب میں برسوں بعد آپ کے گھر رُکی…
تو آپ کی آنکھوں میں کچھ الگ سا تھا۔
کچھ ایسا، جو سمجھ نہیں آ رہا تھا…
لیکن دل بےچین ہو رہا تھا۔
پھر جب آپ کے ہونے والے سسرال والوں نے مجھ پر بےجا الزامات لگائے…
تو میں خود سے کوفت محسوس کرنے لگی۔
اس وقت بھی میں نے آپ کے بارے میں کچھ خاص نہیں سوچا…
مگر…
جب عید والے دن آپ سے ٹکرائی…
اور آپ نے جس طرح مجھے دیکھا…
ہاں… اُس دن میرے دل نے کچھ محسوس کیا۔
ایسا لگا…
جیسے آپ کے دل میں میرے لیے کچھ خاص ہے۔
کچھ ایسا… جو مجھے ڈرا دیتا تھا۔
ہاں، شاید اس دن میں جان گئی تھی کہ یہ محبت ہے ۔
“مگر جان کر بھی پھر انکار کیوں کرتی رہی…
“کیونکہ میں خود کو آپ کے لائق نہیں سمجھتی تھی..
“ایک بار میرے دل سے پوچھ لیتی تو جدائی کا درد تو نہ سننا پڑتا مجھے.. خیر تو آپ ہمارے ہیں اور ہم آپ کے زندگی کا یہ سفر ایک ساتھ طے کرنا ہے… آپ کو میں اور مجھے آپ مبارک … گہری سانس لیتے اسے خود کے قریب کرتے ہوۓ آنکھیں بند کیے کھڑا تھا وہ اس کی حفاظت میں اس کو سینے سے سر ٹکائے کھڑی تھی..
مرد فطرتاً وفادار نہیں ہوتا،
مگر جو وفا کر جائے…
تو پھر عمر بھر کے لیے کسی اور کی طرف دیکھتا بھی نہیں۔۔۔
دونوں پیار کے حسین لمحوں میں کچھ دیر اور کھوئے رہنا چاہتے تھے، مگر مائد کے فون پر آنے والی کال نے اس لمحے کو ادھورا کر دیا۔
موبائل اسکرین پر ایک خاص نام جگمگاتا دیکھ کر، مائد فون کان کو لگا کر پیار سے اس کے گال کو تھپتھپاتے ہوئے تھوڑا سا دور جا کھڑا ہوا تھا۔
“ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟”
مائد خان نے غصے سے سرخ چہرے کے ساتھ، فون پر آنے والی آواز کو سن کر کہا تھا۔
جو خبر بھی تھی، شاید اسے سننے میں اچھی نہیں لگ رہی تھی۔
اصل میں مائد خان تک یہ خبر آج پہنچی تھی کہ زیغم نے توقیر کی فیملی کو معاف کر دیا ہے۔
مائد کا چہرہ اس وقت غصے سے سرخ ہونے لگا تھا۔
“دماغ خراب ہو گیا ہے اس کا شاید… بھول گیا ہے کہ وہ لوگ جانور ہیں، جن کی فطرت میں مقابل پر جھپٹنا شامل ہے۔ درندگی ان کی رگ رگ میں بسی ہے۔ کیسے وہ ان کو معاف کر سکتا ہے؟”
مائد کی آواز بلند تھی۔ چہرے پر شدید غصہ اور آنکھوں میں اشتعال کی چمک نمایاں تھی۔ دانیہ نے حیرت زدہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا، اسے یکدم اس کا یہ روپ ناقابلِ یقین لگا تھا۔
“ٹھیک ہے… میں خود اس سے بات کر لیتا ہوں!”
کہتے ہوئے مائد نے فون بند کیا اور دونوں ہاتھ کمر پر باندھ کر پیچھے رخ کیے، خاموش کھڑا ہو گیا۔ دانیہ کو حیرانی ہو رہی تھی، وہ تو ابھی کچھ لمحے پہلے بالکل ٹھیک تھا۔ وہ آہستہ قدموں سے اس کے قریب آئی، کندھے پر نرمی سے ہاتھ کاندھے پر رکھ دیا۔۔
“کیا ہوا ہے؟ کوئی پریشانی والی بات ہے؟”
اس نے دھیمے اور نرم لہجے میں پوچھا۔
مائد نے پلٹ کر اس کے پیارے سے چہرے کو دیکھا۔ نرمی سے اس کے بالوں میں انگلیاں رکھتے ہوئے ایک الجھی لٹ کو انگلی پر لپیٹا، گہری سانس لی اور پھر کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے اپنے قریب کر لیا۔
“نہیں… کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔ اور اگر ہے بھی، تو میں خود دیکھ لوں گا۔ تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہر پریشانی کو سائیڈ پر رکھ دو، بس تمہارا کام ہے مجھے پیار دینا، میرا خیال رکھنا، اور ہر وقت اپنے پیارے سے چہرے پر وہ خوبصورت سی مسکراہٹ سجائے رکھنا۔ کیونکہ… مجھے تمہاری مسکراہٹ بہت اچھی لگتی ہے۔”
وہ نرمی سے اپنا ماتھا جھکا کر اس کے ماتھے سے ٹکاتے ہوئے اسے حقیقت سے دور رکھنے کی پوری کوشش کر رہا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ دانیہ یہ سب سن کر پریشان ہو۔
“مگر… آپ فون پر غصے سے بول رہے تھے، کچھ تو ہوا ہے۔”
دانیہ نے نرم مگر فکر مند انداز میں کہا۔
“پریشانیاں زندگی کا حصہ ہوتی ہیں۔ اور اصل مرد وہ ہوتا ہے جو اپنی بیوی اور اپنے پیاروں کو ان سے محفوظ رکھے۔ جب میں نے کہا کہ کوئی پریشانی نہیں… تو اس کا مطلب ہے، کوئی پریشانی نہیں!”
وہ پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے تھوڑا سا شرارتی انداز اپناتا ہوا بولا۔
“اب کمرے میں چلیں؟”
“جیسے آپ کی مرضی۔”فرمانبرداری سے آہستہ سے بولی۔۔
“میری مرضی ہمیشہ تمہاری مرضی میں ہوگی۔ مائد خان کبھی اپنی مرضی تم پر مسلط نہیں کرے گا، سمجھی؟”
دانیہ کی جھجک دھیرے دھیرے کم ہو رہی تھی، اس کے لہجے کی نرمی اور الفاظ کی محبت نے اسے بہت حوصلہ دیا تھا۔وہ تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ کبھی وہ کسی مرد کی پناہ میں اتنا محفوظ اور خوش بھی محسوس کر سکتی ہے۔
“پھر… آپ مجھے پہلے ایک بات بتائیں۔”
دانیہ نے آہستگی سے پلکیں جھکائے اپنے دوپٹے کے پلو کو انگلی پر لپیٹتے ہوئے کہا۔
“جی جناب! ایک نہیں، دو پوچھو!”
وہ کمر پر ہاتھ باندھ کر اس کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
“آپ مجھے ‘آپ’ کہہ کر مت بلایا کریں، مجھے اچھا نہیں لگتا۔ مجھے ‘تم’ کہا کریں۔”
اس کی بات پر مائد نے پیار لٹاتی نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔۔۔
“مجھے اچھا لگا تمہارا یہ کہنا… کوشش کر رہا ہوں، بیچ بیچ میں ‘تم’ کہنے کی۔ کیا کروں… ہمیشہ سے محبت تو ٹوٹ کر کی، مگر احترام خود پر واجب رکھا۔ اس لیے یہ عادت جاتے جاتے جائے گی۔ لیکن آج سے… میں آپ کو ‘تم’ کہوں گا۔”
وہ مسکرا کر بولا، اور اس کی مسکراہٹ نے دانیہ کی نظریں اپنے سحر میں جکڑ لیں۔ وہ بے ساختہ اس کے حسین، وجیہہ چہرے کو تکنے لگی۔
وہ مسکراتے ہوئے بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔
“اگر پیارا لگ رہا ہوں… تو بول دو، مجھے اچھا لگے گا۔”
وہ اس کے کان کے قریب آ کر سرگوشی میں بولا۔ دانیہ شرم سے لال ہو گئی، جیسے اس کی کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔
“آپ… اندر آ جائیں، میں جا رہی ہوں۔”
وہ تیزی سے اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے خود کو اس سے الگ کرتی، بھاگتی ہوئی اندر چلی گئی۔
مائد خان کا زندگی سے بھرپور قہقہ فضا میں گونج اٹھا۔
“سدا ایسے ہی مسکراتی رہو! اے اللہ! اس کی زندگی میں اب کوئی غم نہ دینا… اگر اس کی قسمت میں کوئی غم لکھا ہے، تو وہ غم مجھے دے دینا۔! میرے حصے کی خوشیاں اس کا مقدر بنا دے۔یا اللہ اس کے غموں کو میری جھولی میں ڈال دینا…”
وہ بے اختیار آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے، دل کی گہرائی سے رب کے حضور دعا گو ہو رہا تھا۔
°°°°°°°°°
بڑی ہمت سے ملیحہ نے قدم آگے بڑھایا تھا۔ اپنا ہی کمرہ… وہی در و دیوار، وہی پردے، وہی خوشبو… مگر نہ جانے کیوں آج سب کچھ اجنبی لگ رہا تھا۔ جیسے یہ کمرہ کسی اور کا ہو، جیسے یہاں اس کی کوئی جگہ باقی نہ بچی ہو۔
دل کے اندر ایک خالی سا کرب تھا۔ شاید اس لیے… کیونکہ جس شخص کے نام سے یہ کمرہ تھا، جب اسی نے اس کا ہاتھ تھاما اور باہر کی طرف دھکیلا، تو دل کی زمین ہل گئی تھی۔ تحفظ کا احساس، اپنے ہونے کا یقین… سب کچھ وہیں دروازے پر رہ گیا تھا۔ اور اب… اندر قدم رکھنے سے بھی جھجک رہی تھی۔۔۔
زیغم کے سمجھانے پر وہ کافی گھنٹے زرام سے دور دانیہ کے روم میں گزار کر آئی تھی۔کیونکہ زیغم نے کہا تھا کہ اس وقت زرام کو تھوڑی سی سپیس اور ٹائم کی ضرورت ہے۔مگر اب اس کا صبر جواب دے رہا تھا ۔اسے زرام سے بات کرنی تھی۔ وہ اپنے کمرے میں بڑی ہمت جمع کر کے واپس جا رہی تھی۔
دروازے پر ہلکی سی دستک دی۔ انگلیوں میں لرزش تھی۔ آواز بھی کانپ رہی تھی۔
“ذرام… زرام….. اندر مکمل خاموشی تھی…..زرام….پلیز… ایک بار میری بات سن لو، صرف ایک بار…”
اس نے دروازے سے ماتھا لگا لیا۔ آنکھیں نم تھیں۔ سانس ٹوٹ رہی تھی۔
شرمندگی کی ایک چادر میں لپٹی وہ صرف یہ چاہتی تھی کہ کوئی اور نہ سن لے۔ خاص طور پر ذرام کی ماں اور نایاب… کیونکہ عورت کے دل میں یہ خواہش قدرتی ہوتی ہے کہ اس کا جھگڑا، اس کی انا کا ٹکراؤ، اس کے شوہر تک محدود رہے۔ دوسرے اس کے رشتے کے درمیان نہ آئیں۔ ملیحہ بھی یہی چاہتی تھی۔ وہ بس… اپنے رشتے کو بچا لینا چاہتی تھی۔
اندر، ذرام بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔ آنکھیں بند کیے، مگر نیند اس سے کوسوں دور تھی۔ ہر لفظ، ہر سانس… دل کے اندر چبھ رہی تھی۔ وہ جاگ رہا تھا۔ بس خاموش تھا۔ دل کی دیواروں پر ملیحہ کی آواز دستک دے رہی تھی۔
آہستہ سے بازو چہرے سے ہٹایا۔ دروازے کی طرف دیکھا۔ دل چاہا… بس دروازہ کھول دے، مگر زخم ابھی تازہ تھے۔ امید ٹوٹی تھی، شکوہ بھی بہت تھا۔ایک طرف تو دل تڑپ رہا تھا کہ وہ اٹھ کر دروازہ کھول دے ۔مگر دوسری جانب یہ شکوہ تھا کہ وہ خود اسے چھوڑ کر جانا چاہتی تھی۔۔۔
“او ہو! تو تم ابھی تک گئی نہیں؟”
آواز کا زہر ملیحہ کی ریڑھ کی ہڈی تک اُتر گیا۔
“میرے بھائی نے تمہیں باہر نکال دیا تھا، پر تم ہو کہ اب بھی دروازہ پیٹ رہی ہو؟ بہت بے شرم ہو..!”
نایاب قدم قدم چلتی اس کے قریب آئی۔ چہرے پر حقارت، آنکھوں میں طنز، لبوں پر زہر لیے۔
ملیحہ کا دل کیا کہ وہ کچھ کہے۔ بہت کچھ… مگر زبان جیسے بند ہو چکی تھی۔ ضبط کی ایک دیوار کھڑی تھی، جس کے پیچھے بس آنکھیں جھک گئیں۔ کیونکہ وہ جانتی تھی… آج کی تلخی کی بنیاد نایاب اور اس کی ماں ہی تو تھیں۔
ایک لڑکی چاہے کتنی بھی مضبوط ہو، اگر شوہر اس کا سہارا نہ بنے، تو وہ اندر سے ٹوٹ جاتی ہے۔ اور ملیحہ… بس خاموش تھی، مگر کمزور نہیں۔
“کچھ بولو گی نہیں؟ حد ہے!” نایاب نے آنکھیں گھما کر کہا۔ “تم جیسے گھٹیا گھروں کی لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہیں،بے شرم بدتمیز۔اور اپنے مفاد کے لیے امیر لڑکوں کو پھنسائے رکھنے والی ۔”
ملیحہ نے پلکیں جھپکیں۔ اس کا دل تو چاہ رہا تھا کہ اس کا منہ توڑ دے،ایک لمحے کو دل میں لگی ہوئی غصے کی شدید آگ باہر نکلنے کو تھی، مگر پھر بڑی مشکل سے آواز کو تمیز کا لباس پہنایا۔
“نایاب… پلیز،حد میں رہو۔ میں تم سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔ یہ معاملہ میرا اور ذرام کا ہے، ہم خود حل کر لیں گے۔ تم جاؤ۔”
“چچ چچ… اگر واقعی صرف تم دونوں کا معاملہ ہوتا، تو یہ سب کمرے کے اندر ہوتا۔ جب تمہیں دروازے سے باہر نکالا گیا، تو صاف ہو گیا کہ کچھ باقی نہیں بچا۔ نہ رشتہ، نہ عزت، نہ وہ جگہ جس کو حاصل کرنے کے لیے تم اس حویلی میں آئی ہو!”
نایاب کے الفاظ ایک ایک کر کے اسے چبھ رہے تھے ۔کسی تیز دھار برچھی کی طرح۔ ملیحہ کا دل غصے کی شدت کو ضبط کرتے ہوئے ، دھڑکنے لگا، سانس گلے میں پھنسنے لگی، صبر کی حدودیں لرزنے لگیں…
“میں تمہارے منہ نہیں لگنا چاہتی نایاب… تم جاؤ یہاں سے.”مٹھیاں بند کرتے ہوئے ملیحہ نے ایک بار پھر صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔۔
“یہ میرا گھر ہے… میری حویلی!”
نایاب نے ایک قدم آگے بڑھایا، آنکھوں میں بھڑکتے انگارے، چہرے پر زہر گھلا غرور۔
بغیر اسے سنبھلنے کا موقع دیے ۔ یکدم جھپٹ کر ملیحہ کے جبڑے کو اپنی انگلیوں میں جکڑ لیا۔
آواز دبی ہوئی تھی، مگر انداز کسی درندے کی غراہٹ جیسا تھا۔
“تم… کون ہوتی ہو مجھے یہاں سے بھیجنے والی؟”
الفاظ سانپ کی پھنکار کی طرح کانوں میں اتارے جا رہے تھے۔
ملیحہ کے چہرے پر تکلیف ابھرنے لگی۔
وہ اپنے چہرے کو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی، مگر نایاب کی انگلیاں فولاد بن چکی تھیں۔
“اور کیا کہا تم نے؟ کہ میرے منہ نہیں لگنا چاہتی؟”
وہ مزید جھکی، آواز میں طعنہ نہیں، زہر ٹپک رہا تھا۔
“میرے بھائی کے منہ میں تو زبردستی گھسنے کو تیار ہو نا تم؟ گھٹیا لڑکی!”
ہر لفظ خنجر کی طرح اس کے دل میں اتر رہا تھا۔
“تمہاری اوقات نہیں ہے میرے بھائی کے جوتے صاف کرنے کی… اور خواب؟ خواب میرے بھائی کے بستر پر بیٹھنے کے دیکھ رہی ہو؟”
“کس طرح سے میرے بھائی نے تمہیں اپنے کمرے سے دھکے مار کر نکالا ہے اگر تم میں ذرا سی بھی غیرت ہوتی تو تمہیں یہاں سے دفع ہو جانا چاہیے تھا…. مگر غریب گھروں کی لڑکیوں میں غیرت کہاں ہوتی ہے ،وہ تو ایک ایک روپیہ میں اپنی عزت بیچنے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں اور یہاں تو لاکھوں کا مالک تم پر دل ہارا ہوا ہے، تو تم یہ موقع خالی کیسے جانے دے سکتی ہو….
نایاب کا چہرہ اب بالکل ملیحہ کے چہرے کے قریب تھا۔ آنکھوں میں وحشت تھی، نفرت… اور حسد کی آگ تھی۔نایاب کو خود زیغم کی محبت نصیب نہیں ہوئی تھی تو ملیحہ کے لیے اپنے بھائی کی نظروں میں محبت دیکھ کر اسے ہر وقت آگ لگی رہتی تھی۔۔۔
ملیحہ کا چہرہ تکلیف سے سرخ ہو رہا تھا۔ وہ جھٹپٹا رہی تھی، اپنے جبڑے کو نایاب کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش میں، مگر اس لمحے وہ اکیلی تھی… تنہا۔ملیحہ جانتی تھی کہ وہ جتنا بھی آہستہ بول رہی ہے نایاب کی آواز زرام کے روم اندر تک جا رہی ہے۔مگر وہ یہ آواز سن کر بھی وہ باہر نہیں آیا۔۔۔ ملیحہ کے دل میں چھن سے کچھ ٹوٹا تھا۔یہ وہ مان تھا جسے لے کر وہ روم کی جانب پڑی تھی۔۔
“اور کیا کہا… کہ میرے منہ نہیں لگنا چاہتی؟”
نایاب نے آخری جملہ دانتوں کو پیستے ہوئے ادا کیا، جیسے اسے دانتوں کے نیچے رکھ کر کچل دینا چاہتی ہو۔
ملیحہ کے دل میں ایک تیز د درد اٹھا۔ تکلیف صرف جسم کی نہ تھی… دل کی بھی تھی، جو اس سب کے باوجود خاموشی سے برداشت کر رہا تھا۔۔اس سے پہلے کہ ضبط ختم ہوتا بات حد سے بڑھتی۔
دھڑام!
دروازہ زور سے کھلا۔ آواز گونجی اور نایاب نے جلدی سے ملیحہ کے جبڑے کو چھوڑ دیا، دونوں چونک کر پیچھے مڑیں۔
ذرام… دروازے میں کھڑا تھا۔
چہرہ غصے سے سرخ، آنکھیں سرخی سے لبریز، لب بھینچے ہوئے۔
“تمہاری جرات کیسے ہوئی میری بیوی سے اس انداز میں بات کرنے کی!”
زرام ہر لحاظ کو پسِ پشت ڈال کر حلق پھاڑ کر چلایا، آواز اتنی دہشتناک تھی کہ حویلی کی دیواریں بھی تھرتھرا اٹھیں۔
“مم… مم… میں نے تو صرف اُسے آئینہ دکھایا ہے… کوئی بدتمیزی نہیں کی۔”
نایاب کے الفاظ ایک لمحے کو لڑکھڑائے، مگر اگلے ہی لمحے وہ پراعتماد انداز میں، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
“کیوں؟ تم لوگوں نے ٹھیکہ لے رکھا ہے اسے آئینہ دکھانے کا؟”
زرام کا لہجہ انگاروں سے دہک رہا تھا۔ “وہ آئینہ جو تم لوگ روز دکھاتے ہو، کبھی اس میں اپنی شکل بھی دیکھی؟”
وہ اب نایاب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بول رہا تھا۔
یہ زرام کا وہ روپ تھا جو کسی نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔
نایاب کے ساتھ ساتھ ملیحہ بھی سن ہو کر رہ گئی۔
آواز اتنی بلند تھی کہ حویلی کے سب مکین کمروں سے نکل کر باہر آ کھڑے ہوئے۔
“میں تم سے بڑی ہوں… مجھ سے بدتمیزی مت کرو!”
نایاب نے اپنے بڑے ہونے کا پتا پھینکا، جیسے یہ رشتہ ابھی بھی کوئی وقعت رکھتا ہو۔کچھ لوگ اپنے بڑے ہونے اور رشتوں کو ہتھیار کی طرح استعمال کرتے ہیں نایاب بھی انہی میں سے ایک تھی۔۔
“مجھ سے نہ کوئی بڑا ہے، نہ میرا کوئی رشتہ ہے تم لوگوں سے، اور نہ ہی آج کے بعد میں کسی کا لحاظ رکھوں گا!”
زرام کا ایک ایک لفظ فولاد بن چکا تھا، جنہیں وہ دانت پیستے ہوئے ادا کر رہا تھا۔
“شاباش! شاباش! تم سے اور امید ہی کیا کی جا سکتی ہے!”
توقیر دروازہ کھولتے ہوئے، باپ والے رعب میں بلند آواز سے بولا۔
اور اس کے پیچھے دم چھلا بنی قدسیہ بھی برہم چال سے چلی آ رہی تھی۔
“تو شکر ادا کریں کہ میں امیدوں پر پورا اترا ہوں۔”
زرام نے سنبھل کر، مگر کاٹ دار لہجے میں جواب دیا۔
“کس انداز میں باپ سے بات کر رہے ہو؟ شرم ہے یا نہیں؟ تمیز بیچ کھائی ہے؟”
توقیر نے غضب سے دانت پیستے ہوئے کہا۔
“نہیں، تمیز نہیں ہے… اور جانتے ہیں کیوں؟ کیونکہ تمیز ماں باپ سکھاتے ہیں۔
اور مجھے میرے ماں باپ نے یہ سکھایا ہی نہیں… تو آئے گی کہاں سے مجھ میں؟”
“استغفراللہ… استغفراللہ! دیکھو تو سہی! ہماری پرورش پر انگلی اٹھا رہا ہے!
یہ اس ڈائن کے پیار میں اندھا ہو کر ماں باپ کی عزت کرنا بھول گیا ہے!”
قدسیہ جاہلانہ انداز میں چیخی، اور جھپٹ کر ملیحہ کی طرف بڑھی۔
“خبردار… خبردار جو میری بیوی پر ہاتھ اٹھایا!”
زرام نے ایک جھٹکے میں ملیحہ کو اپنے پیچھے کیا اور انگلی اٹھا کر اپنی ماں کو وارن کیا۔
“تو کیا کرے گا؟ ماں پر ہاتھ اٹھائے گا؟ ہاں؟ اٹھا، مار مجھے!”
قدسیہ نے زرام کا ہاتھ پکڑ کر خود پر مارنے کی کوشش کی،
مگر زرام نے سختی سے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔
“نہیں… ایسا کچھ نہیں کروں گا، کیونکہ آپ جیسی بھی ہیں، میرے لیے قابلِ احترام ہیں۔
آپ نے مجھے جنم دیا، یہ احسان میں جیتے جی نہیں بھول سکتا۔
لیکن… اگر میری بیوی کی توہین کی گئی، اسے رسوا کیا گیا،
تو یاد رکھیں… جب بھی آپ لوگوں کی نظریں ملیحہ پر اٹھیں گی…
ہمیشہ مجھے اُس کے سامنے کھڑا پائیں گی۔”
یہ کہہ کر اُس نے ملیحہ کا ہاتھ تھاما،
اور ان کے چہرے پر دروازہ ٹھا سے بند کر گیا۔
“ہاں… یہ کیا کر رہا ہے؟ ہمارے منہ پر دروازہ بند کر دیا؟”
قدسیہ نے غصے میں توقیر کی طرف دیکھا۔
“جو ہوا، تمہارے سامنے ہوا… اب میں کیا لکھ کر بتاؤں؟”
توقیر کا لہجہ جلا بھنا ہوا تھا۔
“بھئ… دروازے تو بند ہونے ہی تھے،
جب ہر وقت تمہاری بیوی منہ سے آگ لگاتی رہے۔
اور تمہاری بیٹی؟ وہ بھی کوئی موقع جانے نہیں دیتی۔
اللہ معاف کرے ایسی اولاد اور ایسی بیوی سے!”
سلمہ نے نفرت سے منہ بنایا تو قدسیہ اور نایاب نے گھور کر دیکھا۔
“اچھا جی؟ اب تم ہمیں بتاؤ گی کیا کرنا ہے؟
اور ذرا اپنے گریبان میں بھی جھانک لو…
نہ اپنی شادی سنبھال سکی، نہ بیٹی…
اب آ کر ہمیں سمجھا رہی ہے؟
کام کی نہ کاج کی، دشمن آج کی!”
قدسیہ کا جملہ رومی کے سینے پر چابک کی طرح برسا۔
رومی، جو خاموشی سے تماشا دیکھ رہی تھی،
وہ کسی معاملات میں نہیں بول رہی تھی،مگر قدسیہ کی اس جلی کٹی بات کو برداشت نہ کر سکی۔اور تیکھے لہجے میں بول پڑی۔
“قدسیہ مامی، میں ان معاملات سے لاتعلق ہوں،
اس لیے آئندہ مجھے ان باتوں میں مت گھسیٹیں۔
اور رہی بات روٹیوں کی…
تو الحمدللہ، میں پہلے بھی اپنا کما کر کھاتی ہوں۔اور یہاں آ کر بھی کسی پر بوجھ بننے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ کل سے ہی زیغم بھائی اور زرام بھائی کے بنائے گئے گاؤں کے ہاسپٹل کو جوائن کر رہی ہوں۔”
اس کی آواز سلجھی ہوئی مگر دو ٹوک تھی۔
قدسیہ اور نایاب دونوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔دونوں کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا تھا کہ سچ میں سلمہ کی بیٹی ڈاکٹر ہے۔۔
“اوہ… تو تمہیں وہاں صفائی ستھرائی کا کام ملا ہے؟
یعنی تم وہاں کی صفائی والی ہو؟”
نایاب نے زہر گھولتے ہوئے طنز کیا۔
“جی نہیں، الحمدللہ میں پڑھی لکھی ہوں، تو مجھے صفائی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میرے خیال سے صفائی کے لیے تو تمہیں ہائر کرنا چاہیے۔ جہاں تک مجھے پتہ ہے، تم ہمیشہ عشق لڑانے، چالاکیاں کرنے، لوگوں کے گھر برباد کرنے اور خون خرابہ کرنے میں مصروف رہی، تو تمہیں پڑھنے کا موقع ہی کہاں ملا؟ تم صفائی کا کام سنبھال لو، الحمدللہ میں تو ڈاکٹر ہوں، اور وہاں پر ڈاکٹر کی سیٹ ہی سنبھالوں گی۔”
رومی نے بڑے تحمل اور سلجھے ہوئے لہجے میں نایاب کی ایسی دھلائی کی تھی کہ نایاب ششدر رہ گئی۔ پلکیں جھپکانا بھی بھول گئی تھی، سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی کہ آخر اس کے ساتھ ہوا کیا ہے۔
پورے ہال میں جیسے سناٹا چھا گیا تھا، سب کے منہ حیرت سے کھلے کے کھلے رہ گئے تھے۔
کیونکہ یہاں پر سوائے زیغم اور زرام کے، کسی کو معلوم نہیں تھا کہ رومی ایک پروفیشنل ڈاکٹر ہے، وہ بھی Psychiatrist۔
“تم ڈاکٹر ہو؟ شکل سے تو نہیں لگتی!”
قدسیہ نے طنزیہ انداز میں رومی کو اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا، گویا اپنی بات سے اسے نیچا دکھانے کی بھرپور کوشش کی تھی۔
“ڈاکٹر کی شکل پر نہیں لکھا ہوتا کہ وہ ڈاکٹر ہے۔۔۔ جیسے آپ کی شکل پر تو نہیں لکھا کہ آپ مکار ہیں، مگر پھر بھی آپ ہیں۔”
رومی نے نہایت شائستہ مگر کاٹ دار انداز میں جواب دیا۔ اس کی آواز میں اعتماد تھا اور لہجے میں گہری چبھن۔جو بھی تھا رومی میں لاجواب کانفیڈنس تھا۔آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تحمل کے ساتھ وہ اگلے کی عزت افزائی بہت اچھی طرح سے کر سکتی تھی۔۔
“حیران ہونے کی ضرورت نہیں جیسے آپ کے چہرے سے پتہ نہیں چلتا،اسی طرح میرے چہرے پر بھی نہیں لکھا کہ میں ڈاکٹر ہوں، لیکن میں امریکہ سے Industrial Psychiatry میں گولڈ میڈلسٹ ہوں۔”
رومی نے نہایت وقار سے سر اٹھا کر کہا، تو جیسے پوری حویلی میں ایک بم سا پھٹا تھا۔کچھ لوگوں کے تو سینوں سے دھوئیں نکل رہے تھے لگتا تھا کہ بیچاروں کے دل بھی ساتھ میں پھٹ گئے ہیں۔۔
قدسیہ کا رنگ فق ہو گیا تھا، نایاب کا غرور لمحوں میں زمین پر آ گرا تھا، اور سلمہ، جو موقع موقع پر اپنی زبان چلاتی تھی، یک دم خاموش ہو گئی تھی۔
سب کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔
رومی کے وقار اور متانت نے اس محفل میں ایک خاموش سا طوفان برپا کر دیا تھا۔۔
“امریکہ سے آئی ہو تو کیا ہوا؟ بیٹی تو سلمہ کی ہو، فضول!”
قدسیہ نے طنز کسا۔کیونکہ اس کے علاوہ تو بیچاری کر بھی کچھ نہیں سکتی تھی وہ الگ بات تھی کہ سلمہ کی بیٹی ڈاکٹر ہے یہ سن کر اسے بہت بڑا دھچکا لگا تھا مگر چہرے سے ظاہر نہیں ہونے دیا۔۔
“یہی بات تو میں آپ کی بیٹی کے لیے بھی سے کہہ سکتی ہوں۔ فضول تو یہ بھی ہے، جسے کوئی بھی منہ لگانا گوارا نہیں کرتا۔”
رومی نے بڑے سکون سے مسکراتے ہوئے وار کیا۔ماں بیٹی اور توقیر تینوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے تھے۔۔
“جب میں یہاں آئی تھی، تو مجھے لگا تھا کہ شاید تمہارے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے، مگر آج سمجھ آ گیا کہ تمہارے ساتھ جو ہو رہا ہے، بالکل ٹھیک ہو رہا ہے۔ اور جہاں تک زیغم بھائی کی بات ہے، تم ان کے لائق تو بالکل بھی نہیں ہو۔”
“بکواس بند کر! میں تمہارا منہ توڑ دوں گی!”
نایاب غصے سے جھپٹی، مگر رومی نے نہایت پھرتی سے اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے پیچھے دھکیل دیا۔
نایاب لڑکھڑا کر زمین پر گری، اور رومی نے پورے وقار سے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ لیے۔
“دوبارہ ایسی غلطی مت کرنا!”
رومی نے سخت لہجے میں وارن کیا۔
“جہاں سے میں پڑھ کر آئی ہوں، جہاں میں نے اپنی زندگی گزاری ہے، وہاں اس طرح کی بدتمیزی برداشت نہیں کی جاتی۔ منہ توڑ جواب دیا جاتا ہے۔ مجھے یہ نہیں معلوم کہ تمہاری اور میری ماں کے بیچ کیا رشتے کی نوعیت ہے، لیکن میں نے رشتوں کی قدر کرنا بھی سیکھا ہے اور بدتمیز لوگوں کو سیدھا کرنا بھی۔ اب سوچ لینا کہ تم آگے کیا کرنا چاہتی ہو۔اینٹ کا جواب پتھر سے ملے گا کوئی لحاظ رکھنے والی چیز نہیں ہوں۔۔میں تو کسی دوسرے کے ساتھ غلط ہوتا برداشت نہیں کر سکتی اور سوچ لو اگر تم لوگوں نے میرے ساتھ کچھ غلط کرنے کی کوشش کی تو میں تم لوگوں کا کیا حشر کروں گی “
رومی کا ٹھہرا ہوا، باوقار اور زوردار انداز سن کر وہاں کھڑے سبھی لوگ ساکت رہ گئے۔
خاموشی سے رومی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
سلمہ اپنی بیٹی کے جرأت مندانہ انداز پر فخر سے مسکراتے ہوئے فوراً اس کے پیچھے پیچھے چل دی۔
نایاب اب بھی زمین پر بیٹھی حیرت زدہ سی رومی کو جاتے دیکھ رہی تھی، جیسے اس کے ہاتھ سے بہت قیمتی چیز نکل گئی ہو۔
توقیر اور قدسیہ کا حال تو جیسے کسی ڈوبتی کشتی کا تھا؛ چہرے مرجھا گئے تھے، آنکھوں میں شکست کی تھکن صاف جھلک رہی تھی۔بیچارے سوچنے پر مجبور تھے کہ پہلے ان سے زیغم سنبھالا نہیں جاتا تھا پھر ملیحہ آ گئی اور اب یہ رومی۔۔۔ان کو اپنا آنے والا وقت صاف دکھائی دے رہا تھا۔۔
ادھر مہرو اور حمائل، جو اپنے کمرے کے دروازے کے پاس کھڑی یہ منظر خاموشی سے دیکھ رہی تھیں، کچھ کہے بغیر پیچھے ہٹ گئیں۔
حمائل کو تو ویسے بھی ان باتوں میں دلچسپی نہیں تھی، اور معصوم سی مہرو زیغم کی غیر موجودگی سے پریشان تھی۔اور ویسے بھی وہ اس گھر کے مکینوں سے زیادہ تر ڈری ہوئی ہی رہتی تھی۔۔وہ جب سے حویلی میں آئی تھی ہر روز نیا دھماکہ دیکھنے کو مل رہا تھا۔۔
وہ دھیمے قدموں سے سوچوں میں گم اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
جبکہ حمائل نفی میں سر ہلاتے ہوئے بس ایک مدھم سا “ڈسکسٹنگ!” کہہ کر اپنے کمرے میں واپس چلی گئی۔۔۔
°°°°°°°°
“نایاب آپی تمہیں اتنا کچھ سنا رہی تھیں، اور تم چپ چاپ بت بنی ہوئی ان کی باتیں سن رہی تھی؟ جہاں زبان نہیں چلانی چاہیے، وہاں تمہاری زبان ٹر ٹر کرتی ہے، اور جہاں بولنا چاہیے، وہاں تم گونگی ہو جاتی ہو! وہ تمہاری انسلٹ کر رہی تھی، اور تم خاموشی سے سن رہی تھی!”
زرام نے روم کے اندر آتے ہی دروازہ بند کرتے ہوئے اس کا ہاتھ چھوڑا اور غصے سے بلند آواز میں کہا۔
“ڈر گئی تھی… کہ اگر ان کے سامنے کچھ بولی تو تم پھر سے ناراض ہو جاؤ گے۔ اسی ڈر سے نہیں بولی، ورنہ بولنے کو بہت کچھ تھا میرے پاس۔”
ملیحہ نے نم آنکھوں سے کہا، کیونکہ زرام نے جس محبت اور جس حق سے اسے اپنے ساتھ اپنے کمرے میں واپس لایا تھا، اس کے سارے شکوے مٹ چکے تھے۔
“مطلب یہ کہ میں تمہیں اتنا گھٹیا نظر آتا ہوں… کہ اگر کوئی تمہاری اس طرح سے بےعزتی کرے، اور تم جواب دو، تو میں ناراض ہو جاؤں گا؟… اچھی رائے قائم کر رہی ہو میرے بارے میں!”
وہ ناراض ہو کر اس سے دور چلا گیا اور ونڈو کے سامنے جا کر پردہ ہٹاتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔
باہر کی طرف دیکھ رہا تھا، جیسے اسے دیکھنا ہی نہ چاہتا ہو… وہ ملیحہ کو نظر انداز کر رہا تھا۔کیونکہ دل کے کونے میں ابھی تک غصہ باقی تھا۔
“نہیں… میں تمہارے بارے میں غلط تھی۔ تم بہت… اچھے ہو… میری سوچ سے کہیں زیادہ۔”
وہ تیز قدموں سے اس کی طرف بڑھی، اس کی پشت پر ہاتھ رکھ کر آہستہ سے لپٹ گئی۔
یہ پہلا موقع تھا کہ اس نے پورے حق سے خود کو اس کے قریب کیا تھا۔
زرام کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا… ایسی بات کی توقع ملیحہ سے نہ تھی۔
وہ آہستہ سے پلٹا اور سنبھل کر سیدھا ہو گیا۔ملیحہ کا انداز اس کی سوچ سے بہت الگ تھا۔
“ہوش میں ہو؟ یہ… یہ تعریف میرے لیے ہے؟”
وہ حیرت سے دیکھتے ہوئے بولا۔
“تنز مار رہے ہو؟”
ملیحہ نے خفا سی نظروں سے اسے دیکھا اور اپنے آنسو صاف کیے۔
“کیوں؟ پوری دنیا ختم ہو گئی ہے؟ آگ لگ گئی ہے دنیا کو؟ جو میں تم پر تنز کروں گا؟
میں تو بس پوچھ رہا ہوں کہ یہ تعریف… واقعی میرے لیے تھی؟
کیونکہ کبھی کسی نے مجھے اتنا قابلِ تعریف سمجھا ہی نہیں…”
“غلطیاں انسانوں سے ہی ہوتی ہیں… اور پہچاننے میں بھی انسان ہی غلطی کرتے ہیں۔
میں بھی پہچان نہیں سکی… تمہارے درد کو، تمہاری محبت کو۔
شرمندہ ہوں… کہو تو ہاتھ جوڑ دوں، پاؤں پکڑ لوں۔”
وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے اس کے قدموں کی طرف جھکی۔
زرام نے فوراً جھپٹ کر اسے بازوؤں میں سمیٹا اور سینے سے لگا لیا۔
“تمہارا دماغ خراب ہے؟ تمہاری جگہ میرے دل میں ہے، اور تم میرے قدموں میں بیٹھنا چاہتی ہو؟
کبھی کوئی سیدھا فیصلہ بھی کر لیا کرو… یا پھر شاید یہ تمہارے بس میں نہیں!”
وہ تڑپ گیا تھا، اس کے جھکاؤ پر۔
ملیحہ اس کے سینے سے لگ کر سسک سسک کر رونے لگی۔
“ایسی ہی ہوں میں اور ایسی ملیحہ سے تم نے پیار کیا ہے…. سسکتے ہوئے روتے ہوئے اس کے سینے میں چھپے ہوئے بولی..
“تو میں نے کب ایسی ملیحہ سے انکار کیا ہے۔ مجھے تو دل و جان سے تم قبول ہو۔ تم ہی مجھ سے دور جانے اور مجھ سے پیچھا چھڑانے کو بے چین رہتی ہو۔”
“ایک بار… ایک بار سب بھول کر معاف کر دو۔
آئندہ کبھی نہیں کہوں گی کہ تمہیں چھوڑ کر جا رہی ہوں۔
جب دل میرا ہے… دل والا میرا ہے…
تو پھر پورے حق سے حکومت بھی میری ہوگی۔وعدہ کرتی ہوں کبھی تمہیں چھوڑ کر نہیں جاؤں گی۔۔۔نہ ہی ایسی بات منہ سے نکالوں گی۔
“وعدہ کرو کہ مجھے چھوڑ کر جانے کا کبھی نہیں سوچو گی۔”
زارم نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے محبت بھری نظروں سے اسے دیکھا۔
“وعدہ… پکا وعدہ! تمہاری قسم، کبھی چھوڑ کر جانے کی بات نہیں کروں گی۔”
ملیحہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی اور دوبارہ اس کے سینے سے لگ گئی۔ زارم نے مسکراتے ہوئے اپنے بازوؤں کا حصار اس کے گرد مضبوط کیا اور نرمی سے اس کے بالوں پر لب رکھ کر چومتے ہوئے اسے چپ کروانے کی کوشش کی۔
“ششش… بس، بس… رونا بند کرو۔ تمہاری ان آنکھوں میں آنسو اچھے نہیں لگتے۔ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں معافیاں نہیں مانگی جاتیں۔”
زارم نے نرمی سے اسے تسلی دی۔
“تو پھر مجھ سے ناراض کیوں تھے؟ دروازہ کیوں نہیں کھولا تھا؟”
ملیحہ نے معصومیت سے سوال کیا۔
“دروازہ بند نہیں کرتا، ناراض نہیں ہوتا تو مجھے کیسے پتہ چلتا کہ میرے دور جانے کے احساس سے تمہارا دل کتنا تڑپتا ہے؟”
زارم نے ہنوز محبت سے اسے چھیڑا۔
“آہ۔۔۔!”
ملیحہ نے ناراضی سے اس کے سینے پر مکا مارا تو زارم کے منہ سے ہلکی سی کراہ نکل گئی۔
“میرے پیار کو ٹیسٹ کرنے کے لیے یہ کون سا طریقہ تھا؟ پتہ ہے میں کتنا ڈر گئی تھی؟ اگر زیغم بھائی اور مہرو نہ ہوتے تو شاید میں رو رو کر برا حال کر لیتی۔ انہوں نے سمجھایا کہ تمہیں تھوڑا سا وقت دینا چاہیے، سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
ملیحہ نے شکوہ بھری نظروں سے دیکھا۔
“اچھا! تو مطلب تم ان کے پاس تھی۔ مجھے تو لگا تم حویلی چھوڑ کر جا چکی ہو۔”
زارم نے مصنوعی خفگی سے کہا۔
“میں کیوں حویلی چھوڑتی؟ مجھے تمہارے ساتھ رہنا ہے۔اتنی آسانی سے تمہارا پیچھا نہیں چھوڑنے والی۔۔۔”
“کون بدبخت چاہتا ہے کہ تم میرا پیچھا چھوڑو میں تو چاہتا ہوں ہمیشہ تم میرا سایہ بن کر میرے ساتھ میرے قریب رہو اس دل کی مالک ہو تم…. مجھے چھوڑ کر جانے والے دورے تو تمہیں پڑتے ہیں… ذرام خفا لہجے میں کہا۔۔
“وعدہ کرتی ہوں آئندہ نایاب آپی یا اماں جو بھی سلوک کریں گی، میں کچھ نہیں کہوں گی۔ مگر تم سے دور کبھی نہیں جاؤں گی، ہمیشہ تمہارے ساتھ، تمہارے قریب رہنا ہے۔اور اس کے لیے میں ہر ظلم سہ جاؤں گی “
ملیحہ نے سچائی سے اس کے سینے میں اپنا سر چھپا لیا۔محبت انسان کو سچ میں کمزور بنا دیتی ہے۔چند گھنٹوں کی دوری نے ملیحہ کو بھی تو کمزور کر دیا تھا۔زرام کی محبت زرام کے ساتھ کے لیے وہ سب کچھ سہنے کو تیار ہو گئی تھی اور یہی بات زرام کو حیران کر گئی۔۔
زارم نے اس کے بالوں کو سہلاتے ہوئے نرمی سے سہلاتے ہوئے اپنی محبت کا احساس دلایا۔
“کسی کی جرات نہیں ہے کہ تمہارے ساتھ اب کوئی غلط سلوک کرے۔ شاید کہیں نہ کہیں میں بھی کمزور پڑ گیا تھا، جس کی وجہ سے تمہیں یہ سب سہنا پڑا۔ لیکن اب نہیں۔”
وہ نرمی اور مضبوطی کے حسین امتزاج کے ساتھ گویا ہوا،
“پہلے میں نے سوچا تھا کہ ہم یہ حویلی چھوڑ کر اپنی نئی دنیا بسائیں گے، مگر اب نہیں۔ اب یہیں رہیں گے، اور کھل کر جئیں گے۔ تمہیں اب کسی سے ڈرنے یا دبنے کی ضرورت نہیں۔”
زارم نے محبت سے اس کا چہرہ اپنے قریب کرتے ہوئے گہری نظروں سے دیکھا۔۔۔
“بس، ایک دائرہ ضرور رکھنا، میرے ماں باپ کے لیے، تاکہ میں ان کا گناہگار بیٹا نہ بن جاؤں۔ باقی، تمہیں ہر طرح کی اجازت ہے۔ جہاں تمہیں لگے کہ زیادتی ہو رہی ہے، وہاں تمہیں ڈٹ کر کھڑا ہونا ہے۔ جہاں تم کمزور پڑو گی، میں ہوں تمہارے ساتھ، تمہارا ہاتھ تھامنے کے لیے، ڈھال بن کر۔”
زارم نے ملیحہ کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے مضبوط لہجے میں کہا،
“کل سے ایک نیا دن طلوع ہوگا۔ اپنی دبنگ روپ کو جگاؤ۔ ویسی ہی بنو جیسے تم ہو، جیسی ملیحہ میں نے شادی سے پہلے دیکھی ہے، مجھے میری وہی سپائسی چلی واپس چاہیے جس کے ساتھ میں نے شادی کی۔۔ میں چاہتا ہوں کہ وہی دبنگ لڑکی اس حویلی میں اپنی بہادری دکھائے۔ زیغم بھائی کو تم پر بھروسہ ہے، اور مجھے تم پر یقین۔”
ملیحہ، جو پہلے آنسو بہا رہی تھی، اب زارم کے الفاظ سے نیا حوصلہ پا گئی تھی۔ وہ سر اٹھا کر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کے سینے میں چھپ گئی۔۔
“تم یہ شرما کس خوشی میں رہی ہو؟”
زارم نے شرارت سے اس کی نظروں میں جھانکتے ہوئے پوچھا، اسے اپنے بازوؤں میں اٹھائے گول گول گھماتے ہوئے۔
“اگر شرمانے کا ارادہ ہے تو پہلے کوئی شرمانے والی حرکت تو کر لینے دو!”
وہ شوخ نظروں سے اس کے چہرے ہنستا ہوا اسے اپنے ساتھ گھمائے جا رہا تھا۔
“کوئی ارادہ نہیں ہے شرمانے کا!”
ملیحہ نے منہ بنایا اور پورے حق سے اس کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے بولی،
“میرا تو ارادہ ہے کھانا کھانے کا۔ بھوکی ہوں ،کچھ نہیں کھایا، اور تم نے بھی کچھ نہیں کھایا ہوگا، اس لیے باہر لے کر چلو۔ مجھے کھانا کھانا ہے۔”
زارم نے ہنستے ہوئے شرارتی انداز میں جواب دیا،
“اچھا جی۔۔۔”
ملیحہ نے فوراً معصومیت سے ہاں میں سر ہلایا،
“ہاں جی۔۔۔”
زارم نے آنکھیں تنگ کر کے مصنوعی سنجیدگی سے کہا،
“تو ٹھیک ہے، کھانا کھلا لاؤں گا… مگر انعام واپس آ کر دینا پڑے گا!”
“کھانا کھانے لے کر چلو! شوخیاں مت مارو!”
ملیحہ نے شرارتی انداز میں اس کے کندھے پر ہلکی سی چپٹ لگاتے ہوئے کہا، مگر مسکراہٹ اس کے چہرے پر بکھر گئی تھی۔زارم نے قہقہہ لگایا ہلکا سا چہرہ اس کے قریب کرتے ہوئے وہ شرارتی موڈ میں تھا۔
“امم۔۔۔ مجھے بھوک لگی ہے، یہ حرکت نہیں ہوگی!”
ملیحہ نے جھجکتے ہوئے، اپنی نازک ہتھیلی اس کے ہونٹوں پر رکھ دی، جیسے کسی شرارتی بچے کی زبان بندی کی جا رہی ہو۔ نگاہوں میں شرارت کی جھلک تھی مگر لہجے میں معصومیت کی نمی، جو زارم کے دل کو بےاختیار مسکرانے پر مجبور کر گئی۔
زارم نے اس کی معصوم مزاحمت پر دل موہ لینے والی ایک نظر ڈالی، پھر دھیما سا مسکرا کر مدھم سرگوشی میں بولا،
“بھوک کا علاج تو ہو جائے گا۔۔۔ مگر پہلے عشق کے پیاسے دل کا مداوا ضروری ہے۔۔۔”
اس کی سرگوشی میں چھپی محبت کی حدت، ملیحہ کے وجود میں سنسنی سی دوڑا گئی۔
زارم نے دھیرے سے اس کا چہرہ اپنی ہتھیلیوں کے حصار میں لیا اور اس کی پلکوں کی لرزش کو دیکھ کر مدھوش سا ہو گیا۔
“یہ لب جو بھوک کی دہائی دے رہے ہیں، پہلے ان سے اپنے دل کی پیاس بجھانی ہے۔۔۔”
وہ آہستہ آہستہ اپنی محبت کی خوشبو بکھیرتے ہوئے بولا، جیسے کوئی شبنم بھری ہوا اس پر مہربان ہو گئی ہو۔
ملیحہ شرم سے نظریں چرا گئی مگر زارم کی قربت نے اسے بےاختیار کر دیا تھا۔
وہ ایک پل کے لیے جیسے ساری دنیا کو بھول بیٹھی، صرف اس کے لمس، اس کی سانسوں اور اس کی آنکھوں کے حصار میں قید ہو کر رہ گئی تھی۔
اس پل میں، بھوک، ضد اور ہر فاصلہ محو ہو چکا تھا۔
صرف محبت کی خوشبو تھی، اور وہ دو دل جو ایک دوسرے کی تپش میں پگھل رہے تھے۔۔۔
°°°°°°°°°°
“سائیں کہاں ہیں آپ؟ مجھے آپ کی یاد آ رہی ہے… آپ کی فکر ہو رہی ہے۔ صبح سے گئے ہیں، ابھی تک نہیں آئے…”
مہرو موبائل فون کو دیکھتے ہوئے بچوں کی طرح شکایت کر رہی تھی، حالانکہ کمرے میں اس کے سوا کوئی نہیں تھا۔
اسے موبائل چلانا نہیں آتا تھا، مگر زیغم نے اسے خاص طور پر سکھایا تھا کہ جب اس کی کال آئے، تو ‘آنسر’ کیسے کرنا ہے۔
مہرو دن میں کئی بار اس کی کال کا انتظار کرتی، اور زیغم بھی اکثر اپنے کام سے فری ہوتے ہی خود فون کر لیتا تھا۔
مگر آج… آج صبح سے اب تک ایک بار بھی فون نہیں آیا تھا۔
وہ بار بار بےچینی سے موبائل کی اسکرین کو دیکھ رہی تھی، جیسے اس پر زیغم کا نام جگمگا اٹھے گا۔
“کتنی بار سائیں نے سمجھایا تھا… میری موٹی عقل میں کیوں نہیں گھستا!”
وہ خود سے خفا سی بولی۔
“کیا کروں … اب میں سائیں سے کیسے بات کروں؟”
مایوسی سے فون کو گھورتے ہوئے وہ بڑبڑائی۔
“ایک کام کرتی ہوں، سکینہ کو ڈھونڈ کر کہتی ہوں، مجھے سائیں کا نمبر ملا دے۔”
خود کلامی کرتے ہوئے وہ فون مضبوطی سے تھام کر دبے قدموں اپنے کمرے سے باہر نکل آئی۔
باہر رات کا گہرا اندھیرا چھا چکا تھا، فضا میں خاموشی اور سرد ہوا کی ہلکی سی سرسراہٹ تھی۔
“سکینہ…”
مہرو نے کچن میں جھانکتے ہوئے آہستگی سے پکارا۔
سکینہ جو سنک میں برتن دھو رہی تھی، اچانک چونک کر دور ہٹ گئی، اور سینے پر ہاتھ رکھ کر ہانپتے ہوئے بولی،
“اف اللہ جی بی بی جی، آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا!”
“نہیں… میں نے ڈرایا تو نہیں۔ بس… یہ فون نہیں چل رہا، اور مجھے سائیں سے بات کرنی ہے۔ وہ ابھی تک نہیں آئے…”
مہرو نے پریشان سے چہرے کے ساتھ وضاحت دی۔
“او ہو… تو مطلب آپ کو سائیں کی یاد آ رہی ہے۔”
سکینہ نے ہنستے ہوئے شرارت سے کہا۔
“نہیں… یاد نہیں آ رہی… بس… بات کرنی ہے…”
مہرو شرماتے ہوئے نظریں چرا گئی۔
“اچھا اچھا، ٹھیک ہے۔ شرمائیے مت۔ لائیے، میں نمبر ملا دیتی ہوں۔”
سکینہ نے ہنستے ہوئے اس کے ہاتھ سے موبائل لے لیا اور تیزی سے اسکرین پر انگلیاں چلائیں۔
چند لمحوں میں اس نے زیغم کا نمبر نکالا اور ڈائل کر کے مہرو کے ہاتھ میں فون تھما دیا۔
“یہ لیجیے بی بی جی، مل گیا سائیں کا نمبر۔”
“مل گیا…”
مہرو نے خوشی سے کہتے ہوئے جلدی سے فون پکڑا اور دبے قدموں اپنے کمرے کی طرف دوڑ گئی۔
سکینہ اسے جاتا دیکھ کر ہنس دی۔
“اللہ پاک آپ کی اور سائیں کی جوڑی سلامت رکھے… کتنی معصوم ہے یہ بی بی جی!”
وہ مسکراتے ہوئے دوبارہ برتن دھونے میں مصروف ہو گئی۔۔۔
°°°°°°°
چاروں طرف ہری بھری کھیتیاں، ٹھنڈی زمین کی خوشبو سے بوجھل ہوا، اور کہیں دور اندھیرے میں جھلملاتے ایل ای ڈی بلب جیسے کسی اور دنیا کا پیغام دے رہے تھے۔
رات کی سیاہی نے سبزے پر نیلا سا پردہ تان دیا تھا۔ دور سے کبھی کبھار کسی جانور کی مدھم آواز سنائی دیتی، یا ہوا کی ہلکی سرگوشی، جو ویرانی کے احساس کو اور گہرا کر دیتی تھی۔
بیچوں بیچ ایک پرانا سا برگد کا درخت تھا، جس کے سائے تلے لکڑی کی چارپائیاں بچھی تھیں۔ ان پر صاف ستھری چادریں ڈالی ہوئی تھیں، جیسے دن میں زمین دار اپنے معاملات یہیں بیٹھ کر طے کرتے تھے۔زیغم دن کے وقت اکثر یہاں آیا کرتا تھا۔ مگر آج یہاں کوئی بحث یا لین دین نہیں ہو رہا تھا۔ بس خاموشی تھی… اداسی تھی… اور زیغم کے ٹوٹے دل کی تنہائی تھی۔۔
زیغم، اپنے مضبوط وجود کے ساتھ، ایک چارپائی کے پر یوں بیٹھا تھا جیسے ساری دنیا کا بوجھ اس کے کندھوں پر آ گیا ہو۔ کہنیوں کو گھٹنوں پر ٹکائے، انگلیوں میں الجھے بالوں کے ساتھ وہ خلا میں نظریں جمائے ہوئے تھا۔ آنکھوں میں نہ آنسو تھے، نہ کوئی شکوہ، بس ایک گہری تھکن اور ٹوٹا ہوا دل۔
کئی گھنٹے بیت چکے تھے۔ وقت جیسے تھم سا گیا تھا۔
زیغم کے قریب چند قدم فاصلے پر رفیق اور اس کے دو محافظ سائے کی طرح کھڑے تھے، بندوقیں ہاتھ میں مگر نظریں نیچی۔ ان سب کو زیغم کی خاموشی میں ایک ایسی شدت محسوس ہو رہی تھی کہ سانس لینا بھی گناہ لگ رہا تھا۔
اس کی سوچوں میں الجھا دل بار بار اس فیصلے کے گرد گھومتا، جس نے اسے اندر سے چیر کر رکھ دیا تھا۔ توقیر کو معاف کر دینا… زرام کی خوشی کے لیے اپنے زخموں کو دبا دینا… یہ آسان فیصلہ ہرگز نہیں تھا۔
وہ جانتا تھا کہ معاف کر دینا دراصل اپنی انا کو، اپنے درد کو قربان کرنا ہوتا ہے۔ اور آج وہ قربان ہو چکا تھا۔ مگر قربانی کے بعد دل کا کرب، دل کی سسکیاں، اسے چین لینے نہیں دے رہی تھیں۔
دور افق پر کہیں ایک ستارہ ٹمٹمایا تھا۔زیغم کی نظریں خالی پن سے اسے دیکھ رہی تھیں۔۔گہری سانس لے کر خود کو ہمت دینے کی کوشش کرتے،لبوں پر ایک خفیف سی، تھکی تھکی مسکراہٹ ابھری، وہ اپنے دل کو تسلی دے رہا تھا۔
“بس کر، زیغم…” وہ دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہوا، “کسی کے سکون کے لیے اگر اپنا دل جلانا پڑے، تو جلنے دے… شاید یہی اصل محبت ہے۔ہمیشہ زرام نے مجھے اپنا بھائی سمجھا شاید آج یہ فیصلہ کر کے میں نے بھائی ہونے کا حق ادا کر دیا۔”
ہوا نے ایک بار پھر رخ بدلا۔
برگد کے پتوں میں سرسراتی آواز آئی، جیسے درخت خود زیغم کے دکھ کو سہلا رہا تھے۔۔
زیغم، اپنی آنکھیں موند کر، ان لمحوں کو اپنی روح میں جذب کرتا رہا… تاکہ جب کبھی دل پھر بے چین ہو، تو وہ ان تاریک مگر سچے لمحوں کو یاد کر کے خود کو سنبھال سکے۔۔
ابھی نہ جانے کتنی دیر اور وہ یوں ہی بیٹھے رہنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ دل کے زخموں کو بار بار سمیٹنے کی کوشش کے باوجود، ہر سانس کے ساتھ بےچینی اور ٹوٹا ہوا سکوت مزید گہرا ہوتا جا رہا تھا۔
فضا میں ہلکی ہلکی نمی تھی، شاید کہیں دور کسی کھیت کی منڈیر پر اوس گرنے لگی تھی۔
تبھی خاموش رات کی فضا میں ایک مخصوص بیل کی صدا گونجی۔
یہ وہ بیل تھی جو اس کے کانوں میں رس گھول رہی تھی۔
دل جیسے بےاختیار دھڑک اٹھا۔
ایک لمحے کو وہ خود کو سنبھالتے ہوئے جلدی سے جیب میں ہاتھ ڈال کر موبائل نکالنے لگا۔
اسکرین پر جگمگاتا نام ” سرکار” تھا۔
لبوں پر ایک تھکی تھکی، مگر بےساختہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
یہ مہرو کا نمبر تھا۔
مہرو کے نمبر پہ اس نے یہ مخصوص رنگ ٹون سیٹ کی تھی۔
مگر آج سے پہلے مہرو کو کبھی اسے فون کرنے کی نوبت نہیں آئی تھی۔
ہمیشہ وہی، خود بے چین ہو کر اس تک پہنچتا تھا، اسے یاد کرتا تھا، اسے آواز دیتا تھا۔
مگر آج…
آج شاید وہ اپنے دکھوں میں اتنا ڈوب گیا تھا کہ سارا دن بیت گیا، رات بھی بہت آگے نکل چکی تھی، اور وہ ایک لمحے کو بھی اس وجود کو یاد نہ کر سکا تھا۔
جو ہر وقت اسی کا منتظر رہتی تھی ، جس کی واحد طاقت واحد رشتہ اس کی اپنی ذات تھی۔جس کی پناہ گاہ وہ خود تھا۔ وہ آج اپنے درد میں اس سے بھول گیا تھا۔
ایک لمحے کو اس کا دل شرمندگی سے ڈوب گیا۔
کیسے وہ اپنی مہرو کو بھول سکتا تھا؟
کیسے وہ یاد نہیں رکھ سکا کہ وہ اس کے لیے بے قرار ہوگی۔؟ کیوں؟ میں نے اسے آگاہ نہیں کیا کہ مجھے آنے میں دیر ہو جائے گی..سب کچھ ایک دم سے اس کے دماغ پر چھانے لگا تھا۔۔۔
کیسے وہ اپنے اس واحد سہارے کو نظر انداز کر سکتا تھا جو اس کے جیون کی سب سے قیمتی متاع تھی؟
موبائل کو کان سے لگاتے ہوئے اس کے لبوں پر خفیف سی سرگوشی ابھری
“میری سرکار…”
اور فضا میں محبت بھری خاموشی گھل گئی تھی۔
“ہیلو…”
زیغم نے تھکی ہوئی مگر نرم آواز میں فون ریسیو کیا۔
“سائیں… سائیں! کیسے ہیں؟ کہاں ہیں آپ؟”
مہرو بےقراری سے بولی، اس کی آواز میں عجیب سی تڑپ اور فکر چھپی ہوئی تھی۔
“میری جان… میں ٹھیک ہوں۔ بس تھوڑا سا پریشان تھا، اس لیے گھر نہیں آیا۔ تم فکر نہ کرو، آرام سے سو جاؤ۔”
زیغم نے محبت سے سمجھایا، دل میں مہرو کی فکر پر ایک عجیب سا سکون محسوس کرتے ہوئے۔
“کیسے سو جاؤں؟ میں نہیں سونا… جب تک آپ گھر نہیں آئیں گے۔”
مہرو کی آواز میں ضد بھی تھی اور تڑپ بھی۔ زیغم کا دل مچل گیا۔
“مگر میرا دل نہیں چاہ رہا ابھی گھر آنے کو… صبح آ جاؤں گا۔”
زیغم نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا۔
“سائیں… آپ تصویر والی کال کریں۔”
مہرو نے معصومیت سے کہا۔ وہ ویڈیو کال کو “تصویر والی کال” کہتی تھی، کیونکہ ابھی تک یہ لفظ پوری طرح سیکھ نہ پائی تھی۔
زیغم ہلکا سا مسکرایا، مگر ساتھ ہی دل بھاری ہو گیا۔
“نہیں مہرو… اس وقت تصویر والی کال نہیں کر سکتا… یہاں اندھیرا ہے۔”
اس نے نرم انداز میں انکار کیا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ مہرو اس کا غمزدہ چہرہ دیکھے، ورنہ ایک اشارے پر رفیق یہاں روشنی کا سیلاب لے آتا۔
“آپ اندھیرے میں کیوں بیٹھے ہیں؟ اندھیرے میں تو دشمن ہوتے ہیں… اللہ نہ کرے کہ کسی نے آپ کو کوئی نقصان پہنچا دیا۔تو مہرو کیا کرے گی۔؟ آپ گھر آئیں!”
مہرو کی سسکتی ہوئی آواز نے زیغم کو اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔
اس کے رونے کی صدا سن کر زیغم تڑپ کر اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“مہرو… رونا بند کرو! میں ابھی آ رہا ہوں، ابھی کے ابھی!”
وہ تیزی سے بولتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔ اس کے الفاظ میں بےقراری اور محبت کی شدت تھی۔
رفیق اور دونوں سکیورٹی گارڈز بندوقیں سنبھالے فوراً پیچھے پیچھے چل دیے۔
زیغم اپنی چمچماتی گاڑی کے پاس پہنچا جو اندھیرے میں بھی چمک رہی تھی۔
رفیق نے پھرتی سے دروازہ کھولا، زیغم فون کان سے لگائے تیزی سے پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔
رفیق نے فرنٹ سیٹ سنبھالی جبکہ محافظ گاڑی کے عقب میں سوار ہو گئے، بندوقیں ہاتھوں میں سنبھالے۔
“میں آ رہا ہوں… اور اب تمہاری آنکھ سے ایک بھی آنسو نہیں نکلے گا، یہ میرا حکم ہے!”
زیغم نے محبت اور سختی سے کہا۔
“آپ جلدی آ جائیں گے تو مہرو نہیں روئے گی… اگر دیر کی، تو مہرو بہت روئے گی… اتنا کہ مہرو کی آنکھیں سوج جائیں گی!”
مہرو نے معصوم انداز میں دھمکی دی۔
زیغم کے لبوں پر ہلکی سی ہنسی بکھر گئی۔
“نہیں میری جان… ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ سو جاؤ، میں آ رہا ہوں۔”
“میں نے نہیں سونا… جب تک آپ نہیں آئیں گے۔ میں ویٹ کر رہی ہوں!”
مہرو نے معصومیت سے کہا۔ زیغم کو اس کی انگریزی الفاظ پر پیار آ گیا۔
“ویٹ کر رہی ہو؟ اچھا… پھر یاد رکھنا، میں نے تمہیں اور بھی کچھ سکھایا تھا۔ آ کر سنوں گا کہ یاد ہے یا نہیں۔”
“اللہ حافظ… مہرو!”
زیغم نے محبت سے کہا اور فون بند کر دیا، کیونکہ اگر وہ مہرو کی معصومیت اور محبت بھری باتیں مزید سنتا رہتا تو شاید اپنا غم بھول ہی جاتا۔
گاڑی تیزی سے کھیتوں کا سینہ چیرتی ہوئی حویلی کی جانب بڑھ رہی تھی۔
دور اندھیری رات میں کہیں کہیں کھیتوں پر ہلکی ہلکی روشنی جھلملاتی تھی۔
اور زیغم کے لبوں پر ایک نرم سی مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی… وہ جلدی سے مہرو کے پاس پہنچنے کے لیے بےتاب ہو رہا تھا۔
°°°°°°°°°
“چھوڑ دیں نا… میں بناتی ہوں، آپ اچھے نہیں لگ رہے کچن میں اتنے الجھے ہوئے۔”
دانیہ ہنستے ہوئے مائد کے ہاتھ سے چمچ پکڑنے کی کوشش کر رہی تھی، جو بڑے انہماک سے میکرونی پاستہ بناتے ہوئے مصروف تھا۔
“کیوں بھئی، کیوں نہیں اچھا لگ رہا میں؟”
مائد مصنوعی خفگی سے بولا، پھر چمچ ہلاتے ہوئے مسکرایا،
“دنیا کے مشہور بڑے بڑے شیف مرد ہیں… اور میں تو اپنی بیوٹی فل وائف کے لیے ککنگ کر رہا ہوں! میرا نام تو سنہری پنوں میں لکھا جائے گا!”
وہ فخر سے کہتا ہوا سبزیوں کی طرف اشارہ کرنے لگا،
“اور دیکھو، سبزیاں کتنی پیاری کاٹی ہیں میں نے!”
“ارے… یہ کیا؟”
اپنی تعریف کرتے ہوئے، اچانک اس کی نظریں دانیہ کے چہرے پر جم گئیں۔وہ گھبرا گیا تھا۔ کیونکہ دانیہ کی آنکھیں نم تھیں۔
چمچ ہاتھ میں لیے وہ بوکھلا سا گیا تھا۔
“کیا ہوا یار؟ کیوں رو رہی ہو؟ میں نے کچھ غلط کہہ دیا؟ اگر کچھ غلط کہا ہے تو سوری یار، میں بس کبھی کبھار پتہ نہیں کب کیا کہہ جاتا ہوں…”
مائد نے چمچ ہلاتے ہلاتے دوسرے ہاتھ سے دانیہ کو نرمی سے اپنے قریب کھینچا اور بےقراری سے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
“کچھ نہیں… آپ نے کچھ غلط نہیں کہا…”
“یہ تو خوشی کے آنسو ہیں۔”
دانیہ نے مدھم آواز میں کہا،
“خوشی کے بھی آنسو ہوتے ہیں؟”
مائد حیرت سے دیکھتے ہو ہنس دیا۔
“یار یہ تو میرے لیے نئی بات ہے… اگلی بار بتا دینا کہ یہ خوشی کے آنسو ہیں یا غم کے… کہیں ایسا نہ ہو کہ میں خوشی سمجھتا رہوں اور تم اندر سے اداس ہو…”
“ویری فنی!”
دانیہ نے ناک سکیڑ کر کہا۔
“قسم سے فنی نہیں کر رہا، مجھے سیریسلی کنفیوژن ہو جائے گی یار…”
مائد نے معصومیت سے کہا، اور اس کی باتوں پر دانیہ ہنسنے لگی۔ مائد نے بھی موقع غنیمت جان کر اسے چھیڑا۔
“چلو اب بتاؤ… خوشی کی وجہ میں ہوں نا؟”
دانیہ نے محبت بھری نظروں سے اسے دیکھا۔۔
“اور کون ہو سکتا ہے… میں سوچ رہی تھی کہ زندگی اتنی حسین بھی ہو سکتی ہے… کوئی مرد اتنا خیال رکھنے والا بھی ہو سکتا ہے… جب کہ شہرام۔۔۔”
“ششش…”
مائد نے فوراً اس کے لبوں پر انگلی رکھ دی،
“ایک گزارش ہے، برا نہ ماننا… میں تمہارے لبوں سے اس کا نام نہیں سننا چاہتا۔
جب تم اس کا نام لیتی ہو، مجھے تکلیف ہوتی ہے۔
تم صرف میرا نام لیا کرو۔
یہ ضد نہیں ہے… یہ محبت ہے۔
میرا دل برداشت نہیں کر سکتا کہ تمہارے لبوں پر کسی اور کا نام ہو۔
ماضی کو دفنا دو، تمہارا آج میں ہوں، اور ہمیشہ رہوں گا۔”
دانیہ کی آنکھوں میں نمی اور محبت بیک وقت تیرنے لگی۔
“کبھی نہیں… کبھی بھی نہیں لوں گی اس کا نام…”
دانیہ نے دل سے کہتے سر اس کے کاندھے پر رکھ لیا۔۔
“آپ صحیح کہہ رہے ہیں… مجھے سب کچھ بھلا دینا چاہیے۔
آپ ہی میرا آج ہیں… اور ہمیشہ رہیں گے۔”
“گڈ… ویری گڈ!”
مائد نے مسکرا کر اسے سرپرست انداز میں شاباش دی۔
لیکن اگلے ہی لمحے وہ حیرانی سے چلایا،
“اوہ مائی گاڈ! یہ دیکھو… تم نے اپنے پیار میں الجھا کر میرے پاستے کا بیڑا غرق کروا دیا! یہ جل گیا!”
مائد افسوس سے جلی ہوئی میکرونی کی طرف دیکھتے ہوئے ماتم کرنے لگا۔
دانیہ اپنی ہنسی نہ روک پائی اور ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو گئی۔
مائد کی ایکٹنگ ہی ایسی مزاحیہ تھی۔کہ دانیہ کی ہنسی نہیں رک رہی تھی۔۔
“دانیہ کی بچی… ہنسو مت! اتنی محنت سے بنایا تھا یہ پاستہ…”
مائد نے برا سا منہ بنایا۔اب میں اس کا کیا کروں۔۔؟
“کچھ مت کریں، بس چھوڑیں… میں اسے ٹھیک کر دیتی ہوں۔”
دانیہ نے ہنستے ہنستے اسے دھکیلا۔
“آپ کو اچھا شوہر بننے کے لیے کچن میں جلنے کی ضرورت نہیں۔ کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جو عورتیں مردوں سے زیادہ پرفیکٹ کرتی ہیں۔اور وہ عورتوں پر ہی سوٹ کرتے ہیں۔۔”
مائد نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر سنجیدہ انداز میں اسے کام کرتے دیکھا، اور مسکراتے ہوئے سوچا کہ واقعی،کچھ کام صرف عورتوں پر ہی اچھے لگتے ہیں ہیں،سامنے کھڑی ہوئی پاستہ دوسرے برتن میں شفٹ کرتے ہوئے ٹھیک کر رہی تھی اور وہ گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔مائد خان دورانی کی زندگی کی یہ سب سے خوبصورت تصویر تھی۔۔
“اب دیکھیں آپ نے پاستہ خراب کر دیا ہے، میں اسے ٹھیک کروں گی، اور اس کے بعد آپ کو یہ ماننا پڑے گا کہ خراب چیزیں، خراب کھانے اور خراب رشتے سنوارنے میں عورت مرد کی نسبت زیادہ قابل اور ذہین ہوتی ہیں۔”
وہ پاستہ بناتے ہوئے شرارتی لہجے میں ہنستی ہوئی مائد سے بولی۔
مائد اس کی بات پر مسکرا دیا۔ پھر محبت سے سرشار قدموں سے اس کے قریب آیا،
دانیہ کے اتنے قریب کہ اس کا وجود اپنے حصار میں لے لیا، جیسے اپنی تمام محبتوں سے اسے ڈھک لینا چاہتا ہو۔
نرمی سے سرگوشی کی،
“میں تو دل سے، دماغ سے، ہر پہلو سے یہ بات ماننے کو تیار ہوں کہ عورت کی وجہ سے زندگی میں رنگ ہوتے ہیں۔”
دھیما سا مسکرایا، “اور اگر ایک مرد کی زندگی میں ایک نیک فطرت عورت شامل ہو جائے تو مرد کی دنیا جنت بن جاتی ہے۔”
لمحہ جیسے ٹھہر گیا تھا، ہوا میں خوشبو، ہنسی اور بے نام سی روشنی گھلنے لگی تھی۔
مائد نے محبت سے اسے تھوڑا سا اور قریب کیا ۔
“میں خوش نصیب ہوں کہ میرے اللہ نے میری محبت کی تڑپ دیکھ کر تمہیں میرے نصیب میں لکھ دیا۔
میں اس رب کا جتنا بھی شکر ادا کروں، کم ہے۔”
دانیہ نے بےاختیار پلٹ کر اسے دیکھا، آنکھوں میں تشکر، محبت اور ان کہی دعا کے موتی لرز رہے تھے۔
مائد نے اس کی پیشانی پر محبت سے بوسہ دیتے ہوئے سرگوشی کی،
“اب تم میری ہو… ہمیشہ کے لیے… اور میں تمہارا۔جب بھی کچھ خراب کروں اپنی ذہانت سے سنبھال لینا۔”
اس پل کچن میں صرف خوشبو، ہنسی اور محبت کے بے نام وعدے گونج رہے تھے۔
وقت کے کینوس پر یہ لمحہ ہمیشہ کے لیے امر ہو چکا تھا۔
محبت نے خاموشی سے دونوں کے بیچ رہنے کی قسم کھا لی تھی۔
وہ اسے کام کرنے ہی نہیں دے رہا تھا۔
جان بوجھ کر بچوں کی سی شرارتوں سے اسے خود میں الجھائے ہوئے تھا، مائد کا محبت سے لبریز دل چاہتا تھا چاہتا ہو کہ لمحہ تھم جائے اور دانیہ بس اسی کی توجہ کا مرکز بنی رہے۔
لیکن اس کے دماغ میں ایک ان دیکھی پریشانی کی دھند پھیلی ہوئی تھی۔
زیغم کا فون مسلسل بند جا رہا تھا۔
شام سے نجانے کتنی بار اس نے کوشش کی تھی، مگر دوسری جانب مسلسل خاموشی تھی۔
پھر بھی وہ اپنی پریشانی دانیہ پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔
وہ دانیا کے ہنستے چہرے کے تاثر کو بکھرنے سے بچانے کے لیے، خود کو بھی ہنسی مذاق میں مصروف رکھے ہوئے تھا۔
اسی دوران اس کی سکرین پر رفیق کا پیغام چمکا۔
“سائیں بالکل خیریت سے ہیں، ہم گھر جا رہے ہیں، باقی تفصیل آپ کو سائیں خود بتا دیں گے۔”
ایک گہری سانس لیتے ہوئے اس نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا،
زبان سے بےساختہ کلمہ پڑھا،
دل میں سکون کا خوشگوار احساس اترا تھا۔
اب وہ مکمل طور پر دانیہ کو تنگ کرنے میں مصروف ہو چکا تھا۔
کبھی شوخی سے اس کے بالوں میں لگے کیچر کو کھینچ کر بال بکھیر دیتا،
تو کبھی بچوں کی ضد کی طرح چمچ اس کے ہاتھ سے چھین لیتا۔
دانیہ کی ہنسی کچن میں گونجتی، اور مائد کی آنکھوں میں محبت کی چمک بڑھ جارہی تھی ۔۔۔وہ ہمیشہ اس سے ایسے ہی خوش دیکھنا چاہتا تھا۔
زندگی واقعی حسین لگ رہی تھی۔
جب میاں بیوی ایک دوسرے کے دل کی دھڑکن بن جائیں،
تو سچ میں کسی تیسرے کی ضرورت نہیں رہتی۔
یہ رب کا عطا کردہ وہ پاکیزہ رشتہ ہے، جس میں محبت کی کوئی حد نہیں،
کوئی قید نہیں ۔
صرف بےلوث چاہت کی ایک وسی اور کبھی نہ ختم ہونے والی دنیا موجود ہوتی ہے۔۔
محبت کی مٹی میں گندھا یہ رشتہ انسان کو مکمل کر دیتا ہے۔
مگر افسوس، آج کے دور میں دلوں کی تسکین کہیں باہر ڈھونڈی جا رہی ہے،
اسی لیے اتنا خوبصورت اور مکمل رشتہ کئی جگہوں پر کمزور پڑنے لگا ہے۔
یہ ایسا رشتہ ہے،
جسے رب نے مکمل آزادی عطا کی ہے
آپ اسے اپنی محبت کے رنگوں میں ڈھال سکتے ہیں۔۔
اگر اس رشتے کے پودے کو محبت اور خلوص سے سینچا جائے،
تو قسم سے پوری زندگی یہ پھولوں اور پھلوں سے مہکتا رہتا ہے۔
آپ کا آنگن کبھی محبت کے رنگوں سے خالی نہیں ہوتا۔
آپ کے گھر سے محرم رشتے کی ایسی خوشبو پھوٹتی ہے کہ چار سو آپ کی محبت کے چرچے ہونے لگتے ہیں۔
میاں بیوی سے زیادہ حسین رشتہ کوئی نہیں،
بس شرط یہ ہے کہ دونوں فریق اس رشتے کی گہرائی کو سمجھ کر،
سچے دل سے ایک دوسرے کو قبول کر لیں۔
°°°°°°°°