Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:45

رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر45
°°°°°°°°°°°
شہرام کا خوف دانیہ کی آنکھوں میں دیکھ کر مائد خان خود کو بےحد کمزور محسوس کر رہا تھا۔
“کیسی ہے میری محبت؟ اور کس کام کی، جو اس معصوم لڑکی کے ذہن سے اُس گھٹیا شخص کا ڈر نہیں مٹا سکی؟”

مائد خان تُو کمزور پڑ گیا؟ تُو تو ہمیشہ یہ کہتا تھا کہ
“محبت میں کمی ہو جائے تو کوئی بات نہیں،
پر عورت کو تحفظ اور عزت ایسے دو کہ وہ سینہ تان کر چلے۔”
تو یہ ہے تیری دی ہوئی خوداعتمادی؟
یہ ہے تیری محبت؟
تُو خود پر قابو نہ رکھ سکا؟
بس ایک جملہ، اور تیری غیرت ہار گئی؟
غصہ آ گیا؟ کیونکہ تُو مرد ہے؟
تو پھر کیا فرق ہے تجھ میں اور شہرام میں؟
وہ خود کو کوس رہا تھا،
ضمیر اسے جھنجھوڑ رہا تھا۔
دانیہ میری جان… میری بات سنو۔
نہ وہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتا ہے، نہ میرا۔
میں وعدہ کرتا ہوں، اُسے ایسی سزا دوں گا… بہت سخت سزا…
ایسی کہ اُس کی رُوح تک کانپ جائے،
اور یہ سب کچھ… میں اپنی دانیہ کے سامنے کروں گا۔

پلیز باہر آؤ…
تمہارے ہاتھ پر چوٹ لگی ہے،
مجھے دوا لگانے دو… پلیز…
لہجہ بےحد نرم، دھیما… مگر اثر لیے ہوئے تھا۔
دانیہ تھوڑی سی سنبھل تو گئی،
مگر اُس کی آنکھوں میں ابھی بھی مائد کے لیے مکمل یقین نہ تھا۔
مائد نے گہرا سانس لیا،
“اچھا چلو… بتاؤ…
تمہارے خیال میں اُس گھٹیا انسان کی سزا کیا ہونی چاہیے؟
دانیہ تجویز کرے گی اُس کی سزا۔”
وہ وہیں بیٹھ گیا… پرسکون انداز میں،
بےشک مائد سمجھدار انسان تھا،
اُسے معلوم تھا، اس وقت صرف اس کا تحمل ہی
دانیہ کو نارمل کر سکتا ہے۔
“اس… اس کو سزا نہیں… میں نہیں بتاؤں گی…
میں نے اگر بتایا،
تو اُسے پتہ چل جائے گا…
پھر وہ آپ کو بھی مار دے گا… مجھے بھی…”
دانیہ کچھ کہتے کہتے پھر سے کانپ گئی تھی۔
مائد کی آنکھیں شعلے برسنے لگیں،
“میں اُس کی جان نکال دوں گا،
اگر اُس نے میری دانیہ کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھا،
ہاتھ اُٹھانا تو دور کی بات ہے!
میں اُس کے ٹکڑے کر کے آوارہ کتوں کے آگے ڈال دوں گا،
اگر اُس نے میری بیوی کے بارے میں بُرا سوچا بھی نا…
تو وہ جان لے،
مائد خان درّانی کی بیوی ہو تُم…
اتنا آسان نہیں ہے تم تک پہنچنا!”
اس کی آنکھوں میں شہرام کے لیے شعلے تھے مگر لہجے میں دانیہ کے لیے نرمی تھی۔

دانیہ خاموشی سے اُس کا چہرہ دیکھنے لگی،
اس کی نظریں کچھ پُرسکون ہوئیں،
مائد نے موقع غنیمت جانا،
ہلکے سے سرکا…
اور آگے بڑھ آیا۔
دانیہ بیڈ کے نیچے لیٹی ہوئی تھی،
تو مائد نے بھی اپنی انا، اپنی شان کو ایک طرف رکھا،
اور اُسی انداز میں، بیڈ کی سائیڈ پر لیٹ گیا۔
دونوں ہاتھ چہرے کے کناروں پر رکھے،
کہنیاں زمین پر ٹکائے ہوئے…
وہ اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔

“پلیز… باہر آ جاؤ…”
نظروں میں بےپناہ محبت،
لہجے میں جنون تھا۔
ایسا انداز… جو صرف عاشق اپنا سکتا ہے۔

“نہیں… آپ نے مجھ پر غصہ کیا تھا،”
دانیہ نے بچوں کی طرح منہ بنا کر کہا۔

“ہمم… غصہ تو کیا تھا…
تو پھر مجھے سزا دو…
بتاؤ… میری سزا کیا ہے؟
کیونکہ میں نے تم پر غصہ کیا،
اور وہ سب سے بڑی گستاخی تھی۔”

مائد نے بچوں جیسا انداز اپنایا،
نرمی سے کہتے ہوئے جھک گیا۔
دانیہ نے رخ پھیر لیا،
“مجھے آپ سے بات نہیں کرنی…”
یہ اُس کی ناراضگی نہیں تھی،
یہ اُس کی مائد سے محبت کی شدت تھی…
جو تلخ لمحوں کو جھٹک کر،
روٹھنے کے نرم سے انداز میں ڈھلنے لگی تھی۔

بیوی جب شوہر سے ناراض ہوتی ہے،
تو وہ شکایت نہیں کرتی…
اپنا حق جتاتی ہے۔

اور عقلمند شوہر وہی ہوتا ہے،
جو بیوی کی ناراضگی کو سنبھالے،
نہ کہ اسے ضد یا بگاڑ سمجھے۔

کیونکہ عورت صرف اُسی سے ناراض ہوتی ہے،
جسے وہ اپنا سمجھتی ہے…
جس پر اُس کا دل حق جتانا جانتا ہے۔

محبت صرف باتوں سے نہیں…
مان سے بھی چلتی ہے،
اور بیوی کا مان…
اُس کی ناراضگی میں چھپا ہوتا ہے۔

جب شوہر اُس مان کو،
اُس روٹھے سے انداز کو قبول کرتا ہے،
تبھی محبت کے پھول کھلتے ہیں…
تبھی پیار کا گلستان مہکتا ہے۔

“ٹھیک ہے، بات نہ کرو…
پر میں کرتا رہوں گا…
مناتا رہوں گا،
کیونکہ غلطی میری ہے…”
مائد نے اپنا بھاری ہاتھ اُس کے سامنے پھیلا دیا،
“مگر سب سے پہلے
تمہیں باہر آنا پڑے گا…
ہاتھ دو، پلیز…”
دانیہ کچھ دیر ناراضگی جتانے کے لیے، نظریں گھماتی رہی،
پر کچھ لمحوں بعد…
اپنا نازک سا ہاتھ اُس کے مضبوط ہاتھ پر رکھ دیا۔
“شاباش…”
مائد نے نرمی سے اُسے بیڈ کے نیچے سے باہر نکالا،
اور خود بھی اُٹھ بیٹھا۔
دونوں فرش پر آمنے سامنے بیٹھے تھے۔
“یہ دیکھو…
میں کان پکڑ کے سوری کہتا ہوں…
آئندہ ایسی گستاخی کبھی نہیں ہوگی!”

مائد نے بچوں کی طرح کان پکڑے،
دانیہ ہنس پڑی… کھلکھلا کر۔
“ایسے بچے کان پکڑتے ہیں… آپ بچہ ہیں؟”
“تمہارے لیے تو بچہ کیا…
بوڑھا، پاگل، عاشق…
میں سب کچھ بن سکتا ہوں…
بس تمہارے چہرے پر خوشی دیکھنی ہے،
چاہے اس کے لیے کوئی بھی حلیہ کیوں نہ اپنانا پڑے…”
وہ نرمی سے کہہ رہا تھا،
اور اُسی لمحے…
اس کا ہاتھ اُس کے گال پر محبت سے ٹھہرا۔
دانیہ کی ناراضگی اور چہرے کی ہنسی، شرم و حیا کی لالی میں ڈھلنے لگی تھی۔
دانیہ پیچھے کو ہونے لگی، اور مائد بھی شرارتی انداز میں آگے، آگے ہوتا گیا۔
“کیا ہے؟ آپ اپنی جگہ پر نہیں بیٹھ سکتے؟”
شرماتے ہوئے، ہلکی سی لبوں پر مسکراہٹ سجائے، اور نظر چراتے ہوئے بول رہی تھی۔
“آپ کو کیا ہے؟ آپ اپنی جگہ پر نہیں بیٹھ سکتیں؟”
مائد کا لہجہ شرارتی تھا، اور نظروں میں محبت کا طوفان۔
“پلیز تنگ مت کریں۔”

“میں تو کروں گا۔۔۔”
وہ تھوڑا اور قریب ہوتے، اس کے ہاتھ کو تھامے، شرارتی محبت بھرے انداز میں قریب ہوتا گیا۔
“کیوں تنگ کریں گے؟”

“کیونکہ تم میری بیوی ہو۔”

“تو۔۔۔؟”

“تو کیا؟ بیوی ہو۔۔۔
اور بیوی کا ہاتھ پکڑنا، اس سے پیار بھری باتیں کرنا
یا پھر اُسے اپنے بےحدقریب کرنا۔۔۔
کہیں پر لکھا تو نہیں ہے کہ غلط ہے!”
اس کی کمر پر ہاتھ رکھتے، ہلکے سے جھٹکے سے قریب کرتے،
اس کی سانسوں کو بکھیر گیا۔

“پلیز۔۔۔”
“کوئی پلیز نہیں چل سکتی۔۔۔
کیونکہ جب تک تُم مائد خان دورانی کی محبت کو بہت قریب سے نہیں جانو گی
تو کبھی بھی تم ماضی کی تلخ یادوں سے نہیں نکل سکتی۔۔۔
اور میں نہیں چاہتا کہ میری دانیہ گزرے وقت کی یادوں میں اس طرح جکڑی ہوئی رہے۔۔۔”

مائد کے لہجے میں ایک عجیب سا یقین،
ایک عجیب سا ٹھہراؤ تھا کہ دانیہ اس کی نظروں میں دیکھتی رہ گئی۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی،
مائد کا ہاتھ نرمی سے اس کی گال پر محبت کے لمس کو بکھیرنی لگا تھا۔

“نن۔۔۔نہیں، آپ میرے کراہت زدہ سچ کو برداشت نہیں کر سکتے۔۔۔”
دانیہ کا مطلب اپنے وجود پر ان بے تحاشہ نشانوں سے تھا
جو ،شہرام، نے درندگی سے اُسے نوچتے ہوئے،
شراب کے نشے میں، سگریٹ سے جلا جلا کر دیے تھے۔۔۔
شرم و حیا کہ چادر میں لپٹی ہوئی دانیہ یہ لفظ مکمل نہیں کر پائی،مگر آنکھوں میں نمی تھی،جو چیخ چیخ کر مائد تک اس کے دل کی آواز پہنچا رہی تھی ۔

“ششش۔۔۔۔میں دوبارہ تمہارے منہ سے کبھی یہ نہیں سننا چاہتا جو تم نے ابھی بولا ہے۔۔۔
تم میری ہو۔۔۔
اور میرے لیے پوری دنیا کی خوبصورتی تمہارے وجود میں سمٹی ہوئی ہے۔اس کے ہونٹوں پر سختی سے انگلی رکھتے ہوئے اسے اپنی توہین کرنے سے روک دیا تھا ۔۔۔

“تمہیں کیا لگتا ہے کہ مائد خان نے جو محبت کی ہے
وہ اتنی کمزور ہے کہ وہ کچھ نشانوں کی زد میں کھو جائے گی؟”
نرمی سے کہتا، وہ اس کے قریب، بے حد قریب ہو گیا۔۔۔
سانسیں، سانسوں سے ٹکرانے لگی تھیں۔

“آپ سمجھ ہی نہیں رہے۔۔۔”
وہ الجھی سانسوں اور تیز دھڑکنوں سے سرک کر فاصلہ بنانے کی بے جا کوشش کر رہی تھی۔

“تو ٹھیک ہے نا۔۔۔ ڈر کس بات کا ہے۔۔۔
بیٹھتے ہیں۔۔۔ پیار سے باتیں کرتے ہیں۔۔۔
ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں۔۔۔
دیکھ لیتے ہیں کون کس کو زیادہ سمجھ لیتا ہے۔۔۔
دیکھ لیتے ہیں کس کا یقین زیادہ پختہ ہے۔۔۔”
وہ کہتے ہوئے تھوڑا سا اور جھکتے، قریب ہوا تھا۔۔۔
اتنا قریب کہ ہوا کا گزرنا مشکل ہونے لگا۔
دانیہ کی پلکیں جھکی ہوئی تھیں،
چہرے کی لالی گہری ہوتی جا رہی تھی،
دل، دھڑکنوں کے شور میں الجھتا جا رہا تھا۔۔۔
مائد نے اس کی انگلیاں تھام کر اپنے دل پر رکھیں۔
“یہاں رہو۔۔۔
بس یہاں۔۔۔”
اس کی آواز محبت سے لبریز تھی۔

کمرے کی روشنی مدھم تھی،
خوشبو میں لپٹی ہوئی فضا،نے خاموشی سے ہر کونے کو گواہ بنا دیا تھا۔

دانیہ نے آہستہ سے سر اُس کے کندھے پر رکھا،
مضبوط بازوں کی گرفت اس کے گرد اور مضبوط ہو گئی،
مائد نے اس کی پیشانی کو بوسہ دیا
اور آنکھیں بند کر کے جیسے کچھ دیر کے لیے دنیا سے کٹ گیا۔

وقت رک گیا،
نہ کوئی آواز، نہ کوئی تیزی،
بس دھڑکنوں کی گفتگو اور قربت کا تقدس۔۔۔
جو صرف محبت کرنے والے سمجھتے ہیں۔
وقت اپنے سفر پر تھا،
اور دو دل، ایک دائرے میں سمٹتے جا رہے تھے۔۔۔
جہاں اعتماد، تحفظ اور عشق کی بانہوں نے،
ان لمحوں کو عبادت سا بنا دیا تھا۔
دانیہ نے نظریں چرا لیں،
چہرے پر حیا کے رنگ گہرے ہوتے گئے۔۔۔
وہ لمحہ ٹھہرا ہوا تھا،
جیسے وقت نے محبت کے قدموں میں سجدہ کر دیا ہو۔

،مائد، نے آہستہ سے اس کا ہاتھ تھاما،
“میں تمہارے ہر خوف کے سامنے دیوار بنوں گا،
تمہاری ہر ٹوٹی ہوئی سانس کو اپنی محبت سے جوڑ دوں گا۔”
دانیہ کی پلکیں جھکی تھیں،
اس کی خاموشی، اس کے اعتماد کی زبان تھی۔
مائد نے اسے محبت بھری پناہوں میں محفوظ کر لیا۔
نہ کوئی بے صبری، نہ کوئی حد سے بڑھی ہوئی طلب۔۔۔
بس ایک مکمل تحفظ،
جیسے کوئی پناہ گاہ،
جہاں دکھ بھی اپنا چہرہ چھپا لے۔
کمرے کی روشنی مدھم تھی،
اے سی کی ٹھنڈک نرم نرم، جیسے راز دار ہو ان لمحوں کی۔۔۔
کچھ دیر بعد،
مائد نے اس کی پیشانی چومی۔۔۔
“ہمیشہ میرے پاس رہو،میں کسی اور زندگی کی تمنا نہیں کرتا۔زندگی کا ایک ہی مقصد ہے تمہارے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنا پھر اس کے لیے کوئی بھی قیمت اداکرنی پڑے منظور ہے ۔۔”
وقت، اپنے خاموش گواہوں کے ساتھ،
دو دلوں کی قربت کا محافظ بنا ہوا تھا ۔۔۔
نہ کوئی لفظ، نہ کوئی صدا،
بس اعتماد اور محبت کی بے آواز سرگوشیاں۔چاروں اطراف میں پھیلی ہوئی تھیں۔
مرد کی محبت میں وہ طاقت ہوتی ہے کہ
اگر وہ درندگی سے عورت کے وجود کو نوچ کر
اُسے پل پل مرنے پر مجبور کر سکتا ہے،
اندر سے توڑ سکتا ہے۔۔۔
تو اُسی مرد کی سچی محبت
اس عورت کے زخموں پر مرہم بھی رکھ سکتی ہے۔
یہ زندگی کی حقیقت ہے کہ
ایک مرد کے لگائے ہوئے داغ،
جب ایک مرد ہی اپنے خلوص سے دھوتا ہے،
تو زخم اندر تک بھر جاتے ہیں۔۔۔
کوئی مانے یا نہ مانے،
عورت کو مرد کے اُسی یقین، اُسی سچائی کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔
جو اُسے پھر سے جینے کا حوصلہ دے۔

جس طرح مائد خان نے شہرام کی درندگی کے نشان اپنی محبت سے مٹا ڈالے تھے،
یہی اس کاسہی فیصلہ تھا۔
دانیہ کو اپنے دل کے قریب کرنا بہت ضروری تھا،
کیونکہ سچی محبت ہی وہ مرہم ہے جو عورت کے زخموں کو بھر سکتی ہے۔
مائہد چاہتا تھا کہ دانیہ اس کے ساتھ صرف زندگی گزارے نہیں،
بلکہ اپنے ہر درد کو بھول کر کھل کر زندگی کو جینے لگے۔۔۔
°°°°°°°°
“تھینک یو!”
ملیحہ نے ذرام کے تھوڑا سا پاس آکر بڑی محبت سے کہا تھا ۔

“کس چیز کا شکریہ؟”
ذرام ہلکا سا آگے بڑھا، نرمی سے اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اسے قریب کر لیا۔

“تم نے سب کے سامنے میرا ساتھ دیا… مجھے ڈانٹ کر شرمندہ نہیں کیا…، میرا ساتھ نبھایا، اس کے لیے۔”

“اچھا جی، پہلی بات تو یہ کہ میں نے کوئی احسان نہیں کیا۔ بیوی ہو تم میری، اور میں نے صرف سچ کا ساتھ دیا۔ تم حق پر تھی، تمہارا ساتھ دینا میرا فرض تھا۔
اور دوسری بات… اگر شکریہ کہنا ہی ہے تو تھوڑا میٹھا طریقہ اپناؤ، کوئی کس وس دے دو، یوں پھیکا سا تھینک یو لے کر کیا میں اس کا اچار ڈالوں؟”
ذرام کی نظروں میں شرارت اور لبوں پر مسکراہٹ گہری ہو گئی۔۔۔
“ملیحہ، جو اسے تھینک یو کہنے کا پورا ارادہ رکھتی تھی، دل سے خوش تھی کہ زرام نے آج اس کا سب کے سامنے ٹیبل پر مان رکھ لیا اور ڈھال بن کر اس کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ مگر، زرام نے اُسے کسی اور ہی ٹریک پر ڈال دیا تھا۔”

“کوئی کس وس ملنے کا امکان نہیں ہے۔ شکریہ صرف اس بات کا ہے کہ تم نے میرا ساتھ دیا۔
اور ویسے جو تم رات کو لیٹ آئے، میں نے اتنی محنت سے تمہارے لیے کھانا بنایا، اس کے لیے نہ تو میں نے تمہیں معاف کیا ہے اور نہ ہی کرنے کا کوئی ارادہ رکھتی ہوں۔
اور اپنی یہ لفنگی حرکتیں اپنے پاس رکھو!”
وہ اس کا ہاتھ اپنی نازک کمر سے ہاتھ ہٹا کر ناک چڑھاتی پیچھے ہوئی۔پیچھے کو ہو گئی۔
“شرم کرو لڑکی! شوہر کو لفنگا نہیں بولتے، جہنم میں جاؤ گی!”
ذرام نے ہنستے ہوئے کہا۔اور دو قدم آگے بڑھا کر اس کے قریب ہو گیا۔

“جب شوہر لفنگا ہوگا، تو لفنگا ہی کہلائے گا! میں تین گھنٹے لگاتار کچن میں کھڑی رہی، اور تم نواب صاحب آئے اور آ کر سو گئے! مجھے اٹھایا تک نہیں!”
ملیحہ کی خفگی چہرے پر نمایاں تھی۔اسے سچ میں اس بات کا بہت دکھ تھا کہ اس کی اتنی محنت سے بنایا گیا کھانا ضائع گیا۔۔

“اوہ… تو یہ بات تھی! مطلب میں نے تمہیں اٹھایا نہیں، بس اسی بات کا غصہ ہے نا؟
ہائے میری رومینٹک بیوی!”
ذرام نے بات جان بوجھ کر الٹی سمت موڑ دی، کیونکہ وہ صرف ملیحہ کو منانا چاہتا تھا، اس سے الجھنا نہیں۔

“تمہاری سوچ ہر بار رومینٹک چیزوں سے شروع ہوتی ہے اور وہیں ختم ہو جاتی ہے!
یقین مانو تمہیں ڈاکٹر نہیں
لوگرو ہونا چاہیے تھا۔ رومینس کے 24 گھنٹے نسخے بانٹتے پھرتے!”
“ہا ہا! یہ بزنس تو کمال چلے گا! میں تو لوگوں کو ایسے ایسے آئیڈیاز دوں گا کہ سب پیار میں ہی رہیں گے!”
ذرام نے شان سے اپنے کندھے پر تھپکی دیتے ہوئے کہا۔

“قسم سے ایکٹر ہو تم! ہر وقت تمہیں ڈرامے سوجھتے ہیں!”ملیحہ نے جھنجلاتے ہوئےکہا۔
“اگر میں ایکٹر ہوتا، تو رومینٹک ہیرو ہوتا!
اور قسم سے لڑکیاں مجھ پر مر جاتیں!
ایک تو میں خوبرو اوپر سے رومینٹک… ہائے ہائے!”ذرا م کو اچھی طرح سے پتہ تھا کہ ملیحہ اس کی اس بات سے ضرور چڑ جائے گی اور اس کا یقین بالکل ٹھیک تھا۔
“لڑکیاں؟”
ملیحہ کی بھنویں تن گئیں، وہ پاس پڑا گلدان اٹھا کر اس کی طرف بڑھی۔

“ارے ارے! پلیز ملیحہ! ایسا مت کرو، چوٹ لگ جائے گی!
سر کے دو ٹکڑے ہو گئے تو؟ دو ٹکڑوں والے شوہر کا کیا کرو گی؟
اور پھر لڑکیاں تو کیا … تمہارا دل بھی نہیں کرے گا مجھے دیکھنے کو!”وہ اپنی جان بچاتے ہوئے بالکل بچوں والی ایکٹنگ کر رہا تھا۔۔۔

“نہیں تمہیں شرم نہیں آتی؟ میرے سامنے لڑکیوں کا نام لے رہے ہو، جبکہ تمہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ میں ناراض ہوں!”
ملیحہ کی آواز بھرآ گئی تھی، گلدان تو ہاتھ سے واپس رکھ چکی تھی، مگر غصہ ناک پر اب بھی چڑھا ہوا تھا۔
“بجائے اس کے کہ مجھے مناؤ، سوری کہو… تم یہاں لڑکیوں والے جوکس سوچ رہے ہو؟”کیا یہ ہے تمہارا پیار!؟ ایسا پیار ہوتا ہے!؟
ذرام کی شرارت بھری مسکراہٹ کچھ لمحے کو مدھم ہوئی۔
اس نے نرمی سے قدم آگے بڑھایا،
“اوکے… میری غلطی ہے …. بابا ناراض نہ ہو میں سوری کہتا ہوں ۔”
اس کی آواز میں سنجیدگی تھی،ملیحہ نے نظریں اٹھا کر اس کی جانب دیکھا…. جہاں محبت کے ساتھ ساتھ شرارت بھی واضح دکھائی دے رہی تھی…

“لیکن تم ناراض اتنی حسین لگتی ہو کہ دل کرتا ہے تمہیں بس دیکھتا رہوں… اور مناتا بھی رہوں۔ایک کام کرو تم ناراض رہو۔ ابھی میں تمہیں اسی ناراض موڈ میں دیکھنا چاہتا ہوں۔”ملیحہ نے خفا نظروں سے اس کی جانب دیکھا۔
“اچھا چلو، ٹھیک ہے… مذاق کر رہا ہوں!”
زارم نے ملیحہ کے پھولے ہوئے منہ کو دیکھ کر شرارتی انداز میں کہا، ذرا م اُس کے موڈ کو لائٹ کرنا چاہتا تھا۔

“جی نہیں، میرا منہ پھولا ہوا ٹھیک ہے۔ مجھے آپ سے صلح صفائی نہیں کرنی۔”ملیحہ نے ہاتھ سینے پر باندھے، اور پوری سنجیدگی سے، تھوڑا سا منہ پھلاتے ہوئے جواب دیا،
“اچھا، بتاؤ… معافی کے لیے کیا کرنا پڑے گا؟”زارم نے ذرا سنجیدہ ہو کر پوچھا،
ملیحہ کی آنکھوں میں چمک آئی۔
“کان پکڑو، پھر معافی ملے گی!”
اور تھوڑا سا رک کر، اُس نے شرارت سے اضافہ کیا،
“نہیں! صرف کان پکڑنے سے نہیں، ساتھ میں اُٹھک بیٹھک بھی کرنی پڑے گی!”
زارم نے ہنستے ہوئے ماتھے پر ہاتھ مارا،
“شرم نہیں آئے گی شوہر کو کان پکڑ کر اُٹھک بیٹھک کرواتے ہوئے؟ زرام لغاری اپنی بیوی کے سامنے یہ سب کرے گا؟ کسی کو پتہ چل گیا تو لوگ کیا سوچیں گے؟ ڈاکٹر زرام لغاری کا کیا لیول ہے!”

لیکن اگلے لمحے وہ خود کان پکڑ کر اُٹھک بیٹھک کر رہا تھا، اور ساتھ ساتھ بڑبڑاتا بھی جا رہا تھا۔
پس منظر میں ملیحہ کی ہلکی ہنسی کی آوازیں.. ماحول کو خوشنما بنا رہی تھی۔

ڈاکٹر زرام لغاری کو کسی اور لڑکی کا نام اپنے منہ سے لینے سے پہلے ہزار بار سوچنی چاہئیں، کیونکہ ڈاکٹر زرام لغاری نے ملیحہ سے محبت کی ہے، اور ملیحہ کبھی بھی برداشت نہیں کرے گی کہ اُس کا شوہر کسی اور کا نام لے۔
اور دوسرا، آئندہ زندگی میں کبھی بھی اگر کھانے کے وقت اُس کی محنت ضائع ہوئی، تو پھر کان بھی پکڑنے پڑیں گے، اور اُٹھک بیٹھک بھی کرنی پڑے گی۔
ملیحہ انگلی سے اوپر نیچے اشارہ کرتے ہوئے بول رہی تھی۔
زارم، اُس کے اتنے کیوٹ انداز پر مسکرا دیا۔
وہ خود کو زیادہ دیر ناراض نہیں رکھ پائی تھی۔اس کے لبوں پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔
“بتا دو میم، اور کتنی کثرت کرنی ہے؟”
وہ اُٹھک بیٹھک کرتے ہوئے بیچاری سی شکل بنا چکا تھا۔

“ابھی بمشکل چھ سات بھی نہیں ہوئیں، اور تھک گئے ہو؟ اور جم میں پشپ کرتے ہوئے تو تم نہیں تھکتے۔!”
ملیحہ نے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا۔

“یار، وہ ورزش ہوتی ہے… اُس میں سزا تھوڑی ہوتی ہے،!”زرام نے بےچارگی سے کہا۔

“تو ایک کام کرو، اس وقت بھی یہی سوچو کہ تم ورزش کر رہے ہو۔”

“نہیں یار، اس وقت ورزش کا ٹائم نہیں ہے۔ مجھے ہاسپٹل جانا ہے، میں لیٹ ہو رہا ہوں۔ پلیز، میری پیاری بیوی صاحبہ، معاف کر دو۔ آئندہ ایسی گستاخی نہیں ہوگی۔
ایک کام کرنا… وہ جو کل تم نے محنت سے میرے لیے کھانا بنایا تھا، اُس کو ریفریش کر دینا، میں آ کر وہی کھاؤں گا۔
اور آئندہ کبھی غلطی سے بھی غلطی نہیں ہوگی۔
“پکا۔۔۔
قسم سے، 100 پرسنٹ پکا۔۔”پلیز یار معاف کر دو کیونکہ تمہارا ناراض چہرہ دیکھ کر میں کام پر تو بالکل نہیں جا سکتا سارا دن وہاں خود مریض بن کر گھومتا پھروں گا تو مریضوں کا علاج کیا میں نے خاک کرنا ہے۔”
ملیحہ کو اس کی بیچاری سی شکل دیکھ ہنسی بھی آرہی تھی اور بے تحاشہ پیار بھی۔۔
“چلو ٹھیک ہے معاف کیا کیا یاد کرو گے مگر آئندہ کبھی ایسی غلطی ہوئی تو کبھی نہیں مانو گی۔۔”
“سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ کبھی مجھ سے ایسی کوئی غلطی ہو بیوی کا ناراض چہرہ دیکھنا کوئی آسان کام ہے وہ جلدی سے کان چھوڑتا ہوا اس کے قریب آن کھڑا ہوا تھا۔۔۔
ملیحہ کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی..

ہنستی مسکراتی رہا کرو، سڑا ہوا چہرہ اچھا نہیں لگتا۔۔۔ پلیز کمرے سے باہر نکلنے سے اجتناب کرنا، کیونکہ زیغم بھائی نے گھر والوں کو معاف کر دیا ہے، اور یہ بالکل بھی اچھی خبر نہیں ہے۔”

“زیغم، بھائی شاید بھول گئے ہیں کہ میرے گھر والے معافی پر خوش ہو کر اچھائی کی طرف قدم نہیں بڑھائیں گے، بلکہ نئے منصوبے بنائیں گے کہ کس طرح زیغم بھائی اور اُن کی فیملی کو نقصان پہنچایا جا سکے۔”
“مجھے تو ان سے کوئی خطرہ نہیں ہے، بدقسمتی سے میں ان کا بیٹا ہوں، اس لیے مجھے تو کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے، مگر… مجھے تمہاری بہت فکر ہے۔”
زارم کے چہرے پر پریشانی کے رنگ واضح دکھائی دے رہے تھے،
وہ سچ میں ملیحہ کے لیے بہت پریشان تھا۔

“فکر نہ کریں، آپ آرام سے ہاسپٹل جائیں، میں اپنا خیال رکھوں گی۔ ویسے بھی رات کو غصے میں میں ٹھیک سے سوئی نہیں، تو اب میں آرام کروں گی۔ آپ جائیں، ٹینشن نہ لیں۔”
وہ نرمی سے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی تھی۔

زارم نے ایک لمحے کو اس کی آنکھوں میں دیکھا تھا… جیسے اس کے لہجے میں چھپی محبت نے اندر ہی اندر کچھ ہلا دیا ہو۔
وہ آہستہ سے جھکا تھا… اور اس کے ماتھے پر نرمی سے لب رکھ دیے تھے۔ وہ بوسہ صرف محبت کا نہیں، تحفظ کا وعدہ بھی تھا۔

پھر کچھ سوچتا ہوا خاموشی سے پلٹا تھا، اور بنا کچھ کہے کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔
دروازے کے بند ہونے کی ہلکی سی آواز آئی تھی…
ملیحہ نے آہستگی سے آنکھیں موند لی تھیں… اور بس اتنا ہی سوچا تھا،
“یہ بہت اچھا ہے اپنے گھر والوں سے بہت مختلف ۔”اللہ میرے زارم کو ہمیشہ سلامت رکھے۔۔۔
°°°°°°°
وہ سارے دن کا تھکا ہوا کافی لیٹ گھر لوٹا تھا۔مہرو روز کی طرح اس کے آنے کا انتظار کر رہی تھی۔ اس کے بیٹھتے ہی سائیڈ ٹیبل سے جگ اٹھا کر پانی کا گلاس بھرتے ہوئے اس کے سامنے سلیقے سے ہتھیلی کے اوپر رکھ کر دیا۔۔۔
زیغم نے نظریں اٹھا کر دیکھا۔ آج شاداب چہرے سے اس کے سامنے نہیں کھڑی تھی، چہرے پر اداسی چھائی ہوئی تھی جس سے صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ الجھی ہوئی پریشان ہے۔زیغم کی تیز نظریں خاموشی سے اس کی اداسی کو جانچنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
زیغم نے نرمی سے پانی کا گلاس اس کے ہاتھ سے لے کر لبوں سے لگایا، اور پھر اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنے پاس بیڈ پر بٹھا لیا۔”
سائیں؟”آہستہ سے بولی۔
“جی سائیں کی جان، میری سرکار، کیا بات ہے؟ کافی الجھی الجھی لگ رہی ہو۔”

“سائیں ایک بات پوچھنی ہے، سچ سچ بتائیے گا۔ بس سیدھا جواب دیجیے گا، مجھے بڑی بڑی باتوں میں مت الجھائیے گا۔ مجھے دل سے سچا جواب چاہیے۔”
مہرو نے زیغم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، اس کے لہجے میں عجیب سی بے چینی تھی۔خالی خالی سی نظریں اس کے چہرے پر مرکوز تھیں۔
“پہلی بات تو یہ کہ پرسکون ہو جاؤ ،جو بھی بات ہے پوچھو، خدا کی قسم، سچ جواب دوں گا۔ ویسے بھی تمہارا سائیں جھوٹ نہیں بولتا۔”
زیغم نے نرمی سے اس کے اترے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں تھام کر کہا اور پانی پی کر خالی گلاس ٹیبل پر رکھ دیا۔

“سائیں، کیا آپ مجھ سے پکا والا پیار کرتے ہیں؟ یا بعد میں جب دل بھر جائے گا تو مجھے گھر کے کسی کونے میں چھوڑ دیں گے؟ پھر میرا آپ سے کوئی لینا دینا نہیں رہے گا؟ جیسے اب کرتے ہیں ویسا پیار پھر نہیں کریں گے؟”
اس کی آنکھوں میں ایسا تجسس تھا کہ زیغم کا دل تڑپ گیا۔بغیر سانس لیے وہ بولتی چلی گئی جیسے ایک سیکنڈ کے لیے بھی رکی تو اس کی بات ادھوری رہ جائے گی اور زیغم سنے گا نہیں۔
“سرکار کیسا سوال ہے اور کیسی یہ بے یقینی ہے میں سمجھ نہیں پایا….!

“سائیں…. صرف جواب دے دیں اس وقت مجھے اور کسی چیز سے سکون نہیں ملے گا صرف آپ کے سیدھے جواب کے منتظر ہوں… اس کی آنکھوں میں بے یقینی کو پوری طرح سے محسوس کر رہا تھا۔۔

“خدا کی قسم، اگر تمہارے بدلے مجھے پوری دنیا بھی مل جائے، تو میں پاؤں کی ٹھوکر مار دوں گا۔اس کے کہے گئے الفاظوں میں اتنی شدت تھی کہ محبت پر یقین کرنا مہرو پر فرض ہو جانا چاہیے تھا۔مگر اس کے برین کو اس طرح سے واش کیا گیا تھا کہ ابھی اسے اور یقین کی ضرورت تھی۔

“یہ سب تمہیں کس نے کہا؟ میری معصوم مہرو کے دماغ میں اتنا سب کچھ کہاں سے آ گیا؟”
وہ اسے اپنے قریب کرتے ہوئے پیشانی پر بوسہ دیتا محبت کا یقین دلانے لگا۔مہرو کی یہ بات سن کر وہ بہت پریشان ہو گیا تھا۔

“قسم کھائیں؟”
وہ بے یقینی سے بولی۔زیغم اس کی بے چینی اور آنکھوں میں تری ہوئی نمی دیکھ حیران تھا۔
“مہرو… میری جان، اتنی بے یقین کیوں ہو گئی ہو؟ کیا ہو گیا ہے تمہیں؟”

“اللہ کا واسطہ ہے سائیں، قسم کھا لیجیے۔ مجھے یقین آ جائے گا۔ جانتی ہوں آپ جھوٹ نہیں بولتے، مگر دل مان نہیں رہا۔ بعد میں بے یقینی کی سزا دے دیجیے گا، مگر ابھی قسم کھا لیجیے۔”لہجے میں التجا تھی،

“مجھے قسم ہے اس پاک ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا۔ تم میرے قریب مجبوری بن کر نہیں ہو، ، تم اس لیے میرے پاس ہو کہ تمہیں دیکھ کر مجھے سکون ملتا ہے۔ تم سے مل کر میں نے محبت کا اصل مطلب جانا۔ تم سے ملنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ محبت میں انسان واقعی بے بس اور بے چین ہو جاتا ہے۔ تم سے بڑھ کر میرے لیے کچھ نہیں۔میں اگر کبھی خود چاہوں تب بھی تمہیں خود سے الگ نہیں کر سکتا،
جانتی ہو کیوں ؟
کیونکہ دل کے کسی حصے کو کاٹ کر الگ کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا ہے۔
اب بتاؤ کہ سب تم سوچ کیوں رہی ہو؟ کسی نے کچھ کہا ہے تم سے؟”سوالیہ نظروں سے اس کا چہرہ اپنے سامنے کرتے ہوئے پوچھا۔
کیونکہ وہ اچھی طرح سے جانتا تھا کہ مہرو خود سے اپنا دماغ نہیں چلا سکتی۔مہرو کی آنکھوں میں بے یقینی تھی جو کسی اور کے دماغ کا خناس تھا جس کو بڑی صفائی سے مہرو کے دماغ میں ڈال دیا گیا۔۔

“سائیں ،اگر آپ مجھ سے واقعی پیارکرتے ہیں… تو پھر ہمارے بچے ہوں گے؟”
مہرو نے شرماتے ہوئے نظریں جھکا کر سنجیدگی سے پوچھا، زیغم اسے حیرت سے دیکھنے لگا۔ اس کی مہرو اور اتنی بڑی بات؟
بچوں کے ذکر پر زیغم کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔

“بچے؟ بچے تو ضرور ہوں گے، ۔ لیکن صحیح وقت پر۔ پہلے مجھے یہ بتاؤ کہ تمہارے چھوٹے سے دماغ میں اتنا سب کچھ خود سے کیسے آیا ۔سمجھدار تھا نرمی سے اس سے جاننا چاہتا تھا کہ اسے یہ سب کچھ کس نے کہا۔اس کی ذرا سی سختی سے مہروسہم سکتی تھی۔اور اس کے دماغ میں جس انسان نے یہ بات ڈالی شاید اسے کبھی اس کا پتہ نہ چلتا۔

“نہیں، صحیح وقت یہی ہے۔ ہمارے بچے ہونے چاہییں۔ تاکہ مجھے یقین ہو جائے کہ آپ مجھ سے سچ میں پیار کرتے ہیں، اور کبھی مجھے خود سے دور نہیں کریں گے۔
کیونکہ جس عورت کے بچے نہیں ہوتے، مرد اسے کبھی ہمیشہ کے لیے اپنے پاس نہیں رکھتا۔
مرد کی محبت کی سب سے بڑی گواہی یہی ہوتی ہے کہ وہ اس عورت سے اولاد چاہتا ہے۔”
بات مکمل کر کے،وہ رک کر سانس لینے لگی۔زیغم صرف اسے سنے جا رہا تھا۔
“میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے ہمیشہ اپنے پاس رکھیں گے… مہرو آپ سے دور نہیں ہونا چاہتی۔”
اس کی آنکھوں میں عجیب سا ڈر چھپا تھا۔ زیغم سمجھ گیا کہ یہ الفاظ مہرو کے نہیں، کسی اور نے بڑی صفائی سے اس کا برین واش کیا ہے۔۔۔
“تم سے یہ سب کچھ… حمائل نے کہا؟ تم حمائل سے ملی تھیں؟”

“نن۔۔۔نن۔۔۔نہیں، میں کسی سے نہیں ملی… بس آپ مجھے میری بات کا جواب دے دیں…”
وہ لفظوں کو توڑتے ہوئے نظریں چرا گئی۔

“میری جھلی۔۔۔”
زیغم نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا،
“میں تمہیں بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں۔
“میری مہرو نے … جھوٹ بولنا کہاں سے سیکھا؟ اور یہ نوبت کیوں آئی کہ تمہیں مجھ سے جھوٹ بولنا پڑا؟”
اس نے نرمی سے اس کی ٹھوڑی کے نیچے انگلی رکھتے اس کا چہرہ اوپر کیا۔

“جھوٹ… جھوٹ تو نہیں بول رہی۔۔۔”
مہرو کی نظریں اب بھی بھٹک رہی تھیں، چہرہ زیغم کی طرف تھا مگر نگاہیں بار بار بچنے کی کوشش کر رہی تھیں، جیسے سچ چھپانے کی نہیں بلکہ اپنے اندر کے ڈر سے نظریں چرانے کی کوشش ہو۔

بری بات ہے مہرو، جھوٹ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک بہت برا عمل ہے، اور یہ بات تم جانتی ہو۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں صاف صاف لکھا ہے کہ مجھے جھوٹ سے نفرت ہے، جھوٹ بولنے والے لوگ اللہ کو پسند نہیں۔ جھوٹ بول کر اللہ کی نظر میں گناہ گار بننا چاہتی ہو؟
نہیں سائیں، میں جھوٹ نہیں بولنا چاہتی۔
مگر سچ بتاؤں گی تو پھر آپ مجھے ڈانٹیں گے۔
بالکل بھی نہیں ڈانٹوں گا، مگر مجھے بتاؤ کہ جھوٹ بولنے کی نوبت کیوں آئی؟
اور مہرو کو یہ سب کچھ کس نے کہا؟
جبکہ میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ یہ سب کچھ تم سے حمائل نے کہا ہے۔”

“آپ کو اتنے یقین سے کیسے پتا کہ مجھ سے یہ سب کچھ حمائل بی بی نے کہا ہے؟
کیا آپ نے کمرے میں فوٹو والا کیمرہ لگایا ہے؟
مہرو نے چاروں اطراف معصومیت سے نظریں دوڑا کر کمرے کو دیکھا جب کچھ نظر نہیں آیا تو واپس نظر زیغم پر مرکوز کر لیں۔۔

میں نے کیمرہ نہیں لگایا مہرو۔
میں ایسی گھٹیا حرکت کیوں کروں گا؟
اپنے ہی بیڈروم میں کیمرہ لگاؤں گا؟
کیا تمہیں واقعی لگتا ہے کہ میں اتنا گر سکتا ہوں؟
زیغم کا دل دکھ سے بھر گیا تھا، وہ چند لمحے تک بس اسے دیکھتا رہ گیا۔وہ اچھی طرح سے جانتا تھا کہ یہ سب کچھ حمائل نے کیا ہے مگر وہ مہرو کے منہ سے سننا چاہتا تھا مگر نہ جانے کیوں مہرو حمائل کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔

“نہ سائیں… نا! میں آپ کے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی!”
وہ گھبرا کر ، نظریں شرم سے جھکا گئی،
“وہ تو آپ نے جب بار بار حمائل بی بی کا نام لیا، تو مجھے لگا… شاید…”مہرونے بات کو ادھورا چھوڑ دیا۔

“شاید میں نے کمرے میں کیمرے لگوائے ہیں؟”
زیغم نے اس کی ادھوری بات کو ہلکے تلخ لہجے میں پورا کیا ۔
“سائیں ناراض مت ہو نا… غلطی ہو گئی، معاف کر دیں ۔”
وہ تڑپ کر اس کے قریب ہوئی،
“آپ کو تو پتا ہے…مہرو پاگل ہے کچھ بھی بول دیتی ہے ۔”
بے قراری سے زیغم کا ہاتھ تھام کر، وہ نرمی سے معافی مانگ رہی تھی۔

“معافی کی ضرورت نہیں ہے مہرو۔”
زیغم نے نرمی سے اس کے ملائم ہاتھوں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھام لیا۔
“بس مجھے اتنا بتا دو کہ حمائل تم سے ملی تھی؟ اور اس نے تم سے کیا کہا ہے۔؟”
ایک لمحہ توقف کے بعد اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا،
“جیسے میں نے تمہیں الجھایا نہیں، سچ ہی بتایا…
اب تم بھی مجھے مت الجھاؤ، سچ بولو مہرو… میں وہی سننا چاہتا ہوں۔”
“پکا ناراض تو نہیں ہوں گے؟”

“یا ڈانٹیں گے تو نہیں؟”ڈرتے ڈرتے پوچھا۔

“اونہووو… نہ ڈانٹوں گا، نہ تم سے ناراض ہوں گا۔”
زیغم نے مسکرا کر اس کا چہرہ دیکھا،
“یقین رکھو، بس آرام سے… جو جو بات ہوئی ہے، وہ مجھے بتا دو۔”
وہ نرمی سے بولا اور اس کا سر اپنے کندھے پر رکھ لیا۔
“سائیں، میں نہیں گئی تھی…”
مہرو کی آواز میں دکھ کی ہلکی سی لرزش تھی،
“وہ خود میرے کمرے میں آئی تھی۔ اور… اور انہوں نے میرے ساتھ بہت ساری باتیں کیں۔”
زیغم خاموش بیٹھا سنتا رہا، اس کی آنکھوں میں گہری سنجیدگی اترتی جا رہی تھی۔ مہرو کی نظریں نیچی تھیں، آواز دھیمی ۔
“بولو میری جان میں سن رہا۔اس کی خاموشی پر زیغم سلطان کی نرم سی آواز گونجی۔
“وہ کہہ رہی تھی… کہ آپ مجھ سے پیار نہیں کرتے؟ کہہ رہی تھی آپ مجھ سے پیار کر ہی نہیں سکتے… وہ کہہ رہی تھی کہ میں بالکل بھی آپ کے ساتھ اچھی نہیں لگتی کیونکہ آپ بہت پڑھے لکھے ہیں اور میں… میں انپڑھ، گوار ہوں۔”

حمائل کی باتیں دہراتے ہوئے مہرو کے چہرے پر وہ درد اتر آیا تھا، جو حمائل الفاظ کی شکل میں دل میں اترا تھا۔ زیغم کے لبوں پر سختی آ گئی، مگر وہ ابھی خاموش تھا۔ وہ پوری بات سننا چاہتا تھا، یہ جاننا چاہتا تھا کہ حمائل نے کتنی دور تک جا کر زہر اگلا تھا۔

“وہ کہہ رہی تھی کہ آپ کو میرے ساتھ وقتی لگاؤ ہے… بس، اس کے بعد آپ کا دل بھر جائے گا، پھر آپ میرے ساتھ نایاب بی بی کی طرح پیش آیا کریں گے…”
مہرو کی آواز میں ایک درد تھا، جو اس کے الفاظ سے زیادہ گہرا تھا۔
“اور وہ یہ بھی کہہ رہی تھی کہ آپ کبھی مجھ سے بچے نہیں چاہیں گے،”
وہ شرمندہ سی ہو کر بولی، شرم و حیا کی لالی اس کے چہرے پر پھیلنے لگی تھی۔
“وہ کہہ رہی تھی کہ آپ کبھی نہیں چاہیں گے کہ مجھ سے آپ کی اولاد ہو… کیونکہ آپ ہمیشہ چاہیں گے کہ آپ کے سٹیٹس سے میچ کرتی ہوئی لڑکی ہو، جس سے آپ کی اولاد ہو۔”حمائل کی زبان میں سٹیٹس کے لفظ کو یاد کرتے ہوئے مہرو بڑی مشکل سے ادا کیا تھا۔۔

مہرو کی آنکھوں سے درد آنسوں بن کر رخساروں پر بہنے لگا تھا۔
زیغم کا دل اس کے دکھ کو محسوس کر رہا تھا، مگر وہ ابھی تک خاموش تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ سب کچھ بے دھڑک اور سچ سچ کہے، تاکہ وہ مزید زہر سے بچ سکے۔

ساری بات سن کر زیغم گہری سانس لے کر خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔وہ زیغم کے کندھے سے سر لگائے چپ چاپ بیٹھی تھی۔
“مہرو… میاں بیوی کا رشتہ خون سے سینچا ہوا نہیں ہوتا، ان کے درمیان کوئی خونی رشتہ نہیں ہوتا، مگر اللہ نے اسے اتنا مضبوط اور خوبصورت بنایا ہے کہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ یہ رشتہ سب رشتوں سے بڑھ کر ہو جاتا ہے۔”
زیغم کی آواز دھیمی تھی، مگر لہجے میں یقین تھا۔
“اس رشتے کی بنیاد یقین پر ہوتی ہے۔ جب یقین ڈگمگاتا ہے،تو یہ رشتہ کھوکھلا اور کمزور ہو جاتا ہیں۔ حمائل جیسے لوگ زندگی کے ہر موڑ پر ملیں گے، جو اپنے فائدے کے لیے ہمیں توڑنے کی کوشش کریں گے… اور ان کے نشانے پر ہمیشہ تم رہو گی، کیونکہ تم معصوم ہو، تمہاری سادگی ان کے لیے ایک موقع بن جاتی ہے۔”
اس نے ایک لمحے کو رک کر مہرو کی طرف دیکھا۔
“میں تم سے صرف یہ کہنا چاہتا ہوں… میری محبت تم ہو، میرا عشق تم ہو، شریکِ حیات تم ہو، دوست تم ہو، اور ان شاء اللہ آنے والے وقت میں میرے بچوں کی ماں بھی تم ہو گی۔”

اس کے آخری الفاظ پر زیغم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی، اور مہرو کے گالوں پر شرم سے لالی پھیل گئی تھی۔

“کوئی کیا کہتا ہے، اس سے فرق نہیں پڑتا۔مہرو کو فرق صرف اس سے پڑھنا چاہیے کہ اس کا زیغم کیا کہتا ہے۔”وکیل تھا سمجھانے کے انداز اسے خوب آتے تھے۔ایک ایک لفظ کو نکھار کر اس کے سامنے پیش کر رہا تھا۔

“نہیں، مگر… آپ حمائل بی بی کی باتوں کو غلط ثابت کریں… اور مجھے سچا… صرف اتنا سا ساتھ دیں۔”مہرو نے نظریں جھکاتے ہوئے مدھم آواز میں کہا،

“کیسا ساتھ؟”
زیغم نے تجسس سے پوچھا،

“بار بار کیوں پوچھ رہے ہیں؟ مجھے شرم آ رہی ہے… کہا تو ہے نا… بچے چاہییں…”وہ نظریں چرا کر بولی،
اس کے لہجے میں ایسی سادگی تھی کہ زیغم کا دل اس کی معصومیت پر پگھلنے لگا۔

زیغم نے مسکرا کر نرمی سے اس کے سر پر تھپکی دی،
“سرکار… بچے دکان پر سجے نہیں ملتے۔ یہ اللہ کی دین ہوتے ہیں، جب وہ چاہے گا دے دے گا۔ اور ویسے بھی… ابھی تم خود ایک بچہ ہو۔ پہلے خود بڑی ہو جاؤ، پھر بچوں کی بات کریں گے۔ ہم کوئی اتنے بوڑھے تو نہیں ہو گئے۔”پیار سے بھرے انداز میں سمجھایا۔۔

مہرو نے ناراضگی سے رخ موڑا،
“پھر تو یہ بات سچ ہو جائے گی نا، کہ آپ مجھ سے پیار نہیں کرتے… اور میں بڑی ہو گئی ہوں۔”
زیغم نے نرمی سے اس کا چہرہ اپنی طرف موڑا،
“پیار کو دنیا کے سامنے ثابت نہیں کیا جاتا۔ اور جب بڑی ہو جاؤ گی، یہ مجھے خود پتہ چل جائے گا۔ ابھی تم بس میری معصوم سی جھلی مہرو ہو… اور مجھے تمہارے ساتھ ابھی بہت سے خوبصورت وقت کو جینا ہے۔بچوں کے لیے ساری زندگی پڑی ہے۔

“مطلب کہ آپ بچوں والی میری بات نہیں مانیں گے؟”مہرو نے اس کی جانب خفا نظروں سے دیکھا۔۔۔
“ابھی تو بالکل نہیں… کیونکہ ابھی مجھے تمہارے ساتھ بہت سے خوبصورت لمحے جینے ہیں۔ اور اگر بچہ… نام کا کھلونا آ گیا، تو پھر سارا دن تم اسی کے ارد گرد گھومو گی۔ میرے لیے وقت ہی نہیں بچے گا۔اس لیے میں ابھی اس جھنجٹ میں نہیں پڑنا چاہتا۔ اور ابھی تم اتنی سمجھدار بھی نہیں ہو … کہ ایک بچے کی ذمہ داری اٹھا سکو۔ اولاد… اللہ کی بہت بڑی نعمت ہوتی ہے، اور اسے سنبھالنا بہت بڑی ذمہ داری بھی۔”
وہ لمحہ بھر رکا، جیسے لفظوں کو ناپ رہا ہو۔

“اور اس وقت ہم خود بہت الجھے ہوئے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہم اس ذمہ داری کو صحیح طریقے سے نبھا پائیں گے۔”

وہ نرمی سے بولتا گیا، نظریں اس کے چہرے پر تھیں۔مہرو اسے خفا نظروں سے دیکھے جا رہی تھی۔پتہ نہیں کیوں مگر حمائل کی باتیں اس کے دماغ میں کہیں رک گئی تھیں ۔

“تمہیں فکر کیوں ہو رہی ہے؟ کیوں یقین نہیں آ رہا کہ میں تمہارا ہوں؟ صرف تمہارا… اور ہمیشہ تمہارا ہی رہوں گا۔”

اس جگہ اس کی نظروں میں بے یقینی دیکھ کر بول رہا تھا چند لمحوں کی خاموشی کے بعد اس کا لہجہ اچانک بدل گیا، آنکھوں میں سختی آ گئی۔
“اور جس نے تمہارے دماغ میں یہ خناس بھرا ہے نا… اس کا تو میں ابھی پتہ صاف کرتا ہوں!”
آخری الفاظ میں اس کی شدت اور غصہ واضح تھا۔
“نہیں! آپ حمائل بی بی سے کچھ مت کہیے گا…”
وہ جلدی سے بولی، جیسے کسی بڑی مصیبت کو روکنے کی کوشش کر رہی ہو، آنکھوں میں بےچینی صاف جھلک رہی تھی۔

“کیوں میں کچھ نہ کہوں..؟سنجیدہ سخت نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“وہ کیا سوچیں گی؟ کہ میں نے آپ کو سب کچھ بتا دیا؟”
آواز میں نرمی تھی، لیکن ہچکچاہٹ بھی تھی۔
“انہوں نے تو مجھے منع کیا تھا… کہا تھا کہ میں خود سے اندازہ لگاؤں، اور آہستہ آہستہ آپ کے رویے کو سمجھنے کی کوشش کروں…”
اس کے لہجے میں شرمندگی کا رنگ تھا، جیسے کوئی راز نادانستہ لبوں سے پھسل گیا ہو۔
دیکھو میری طرف…” زیغم نے مہرو کا چہرہ اپنی جانب موڑا،
“تمہیں صرف میری بات پر دھیان دینا ہے۔ سمجھ لو، تمہارا سب سے مخلص رشتہ میں ہوں۔ کوئی بھی تمہارے لیے مجھ سے بہتر فیصلہ نہیں کر سکتا۔”

“مہرو، تمہاری معصومیت کا کوئی بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے، بس اتنا کہہ رہا ہوں کہ کسی کو یہ موقع نہ دینا۔ میری بات سمجھ آ رہی ہے یا نہیں؟”مہرو نے نرمی سے ہاں سر ہلایا۔۔۔
“شاباش… اور آج کے بعد کسی کی باتوں پر دھیان نہیں دینا ہے!”
زیغم کا لہجہ سخت مگر حوصلہ دینے والا تھا، پھر وہ یکدم جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“مجھے جا کر حمائل سے بات کرنی ہے، کیونکہ اس سے زیادہ اب میں اسے برداشت نہیں کر سکتا۔”

مہرو نے فوراً نرمی سے بیڈ پر بیٹھے بیٹھے اس کا ہاتھ تھام لیا، اور نفی میں سر ہلا دیا کہ وہ نہ جائے، حمائل سے کوئی بات نہ کرے۔
زیغم نے لمحہ بھر کو مہرو طرف دیکھا، پھر نرمی سے اپنے ہاتھ کے اوپر سے مہرو کا ہاتھ ہٹایا،
“پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں جو بھی فیصلہ کروں گا، سوچ سمجھ کر کروں گا۔”
“تمہیں پریشانیوں میں گھرنے کی ضرورت نہیں ہے، مہرو۔ تمہاری دنیا میں ہوں میں… اور میرے ہوتے ہوئے تم پرسکون رہا کرو۔”
یہ کہہ کر وہ روم کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔۔
مہرو پریشان نظروں سے دروازے کی جانب دیکھ رہی تھی وہ ایسا تو کچھ نہیں چاہتی تھی کہ گھر میں کسی طرح کی لڑائی ہو۔وہ تو بس حمائل کی باتوں سے گھبرا گئی تھی۔اپنے سائیں کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔۔۔
°°°°°°°°°°

“تم خود کو سمجھتی کیا ہو؟ اس طرح میرے گھر میں آگ لگا کر تمہیں کیا حاصل ہو رہا ہے؟ تم اپنے معیار سے صرف گر رہی ہو، اور اس کا تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا!”
،زیغم، مائل کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے اندر داخل ہوا تھا۔ ،حمائل، جو موبائل اسکرین پر بیٹھی کوئی خاص پروگرام دیکھ رہی تھی، جھٹکے سے اپنی جگہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔

،زیغم، کی آواز غصے سے بھری ہوئی، گرجدار تھی۔ جس سے ،حمائل، ایک لمحے کو ڈر گئی، مگر فوراً ہی خود کو سنبھال لیا۔ کیونکہ ،حمائل، جیسی لڑکی کبھی کسی سے ڈرا نہیں کرتی تھی۔ ہاں، اچانک بلند آواز سے گھبرا ضرور گئی تھی۔
“This is no way to enter someone’s room!”

حمائل نے غصے سے بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔
“جب تم بغیر پوچھے میری بیوی کے روم میں جا سکتی ہو، تو پھر میں کیوں نہیں جا سکتا؟”
،زیغم، اس کے بالکل سامنے، آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا تھا۔
،حمائل، بھی بیڈ سے اٹھ کر موبائل بیڈ پر پھینکتے ہوئے غصے سے بھری نظروں سے اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔

“تو کیا ہوا اگر میں تمہاری بیوی کے پاس چلی گئی؟ میرے خیال میں یہ اتنی ری ایکٹ کرنے والی بات نہیں ہے، جتنا تم کر رہے ہو۔”
“تم تو آج کل اُس گنوار سی لڑکی کے لیے کچھ حد سے زیادہ حساس ہو رہے ہو!”حمائل، نے بدلحاظ انداز میں طنز بھری مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔۔
“مانا کہ وہ گنوار ہے، مانا کہ وہ تم جیسی پڑھی لکھی نہیں… مگر ایک بات بتاؤ، اس سب کے باوجود تم اُس سے جلتی کیوں ہو؟”
،زیغم، نے ،حمائل، کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا۔
“میں؟ اور اُس سے جلتی ہوں؟ مائی فُٹ! اُس میں ہے کیا، جو میں اُس سے جلوں!”
،حمائل، نے تپ کر جواب دیا، جیسے یہ جملہ اس کی انا پر تازیانہ ہو۔
“جلتی تو تم ہی ہو! تمہاری جلن کا لیول یہ ہے کہ تم خاص طور پر اُس کے روم میں گئیں، اور اُس کے دماغ میں زہر بھرنے کی پوری کوشش کی۔
مگر تم بھول رہی ہو، مرد جس عورت سے محبت کرتا ہے، وہ اس کی حفاظت کرنا بھی جانتا ہے۔
اپنی محبت سے اُس کے دل اور دماغ کو صاف کرنا جانتا ہے۔
مگر یہ بات تم کیسے سمجھو گی؟
تمہیں تو کبھی ایسی محبت نصیب ہی نہیں ہوئی!”

،او مائی گاڈ! ،زیغم، نے ایسا تیر اچھالا تھا کہ ،حمائل، اlروح تک چھلنی ہو گئی۔
غصے کی شدت سے آنکھوں میں نمی کی ایک تہہ تیرنے لگی۔
،زیغم، ایسا کہنا نہیں چاہتا تھا، مگر ،حمائل، نے اسے یہ سب کرنے پر مجبور کیا تھا۔
“زیغم، تم اپنی حد میں رہو!”
،حمائل، نے انگلی دکھاتے ہوئے غصے سے وارن کیا۔،حمائل، کے چہرے سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ ،زیغم، کی بات کا اس کے دل پر بہت گہرا اثر ہوا ہے۔

زیغم، سلطان ہمیشہ اپنی حد میں رہتا ہے!”ایک ایک لفظ کو زور دیتے ہوئے اپنی اہمیت کا احساس دلایا ۔

“اور کس حد کی بات کر رہی ہو۔؟۔۔۔حد تو۔ تم بھول جاتی ہو…. حد بھولنا تمہاری فطرت میں شامل ہے !”
،زیغم، نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر غراتے ہوئے دبے لہجے میں کہا۔
اس کی آواز میں شدید غصہ تھا، شعلہ بار آنکھوں سے دیکھتے ہوئے ایسا لگ رہا تھا جیسے زیغم اس کو اپنی آنکھوں سے جھلساکر خاک کر دے گا ۔

“میں کبھی اپنی حد نہیں بھولتی! تم سے محبت کرتی ہوں… مگر تم محبت کی قدر ہی نہیں کرتے۔ تم میری محبت کو حد پار کرنا کہتے ہو؟ تو یہ تمہاری سوچ ہے۔ حمائل خود پر ہوئے وار سے تل ملا اُٹھی تھی…”
“میں تم سے خود سے زیادہ پیار کرتی ہوں ، مگر تم تو اس پاگل اور بے وقوف لڑکی کے پیچھے دیوانے ہوئے پھر رہے ہو!
حیرت ہوتی ہے مجھے کہ تم اتنے پڑھے لکھے ہو کر اس انپڑھ گوار لڑکی کا انتخاب کر رہے ہو۔جو تمہارے سٹیٹس سے ذرا برابر بھی میچ نہیں کرتی۔؟”

“اپنی۔۔۔ زبان بند رکھو!”
،زیغم، سلطان نے غصے سے چلاتے ہوئے کہا۔
” اور اگر تم نے اب مہرو کے بارے میں ایک لفظ بھی بولا، تو میں تمہارے منہ سے زبان کھینچ لوں گا!”
زیغم کا غصہ اب بے قابو ہونے لگا تھا۔
“کیوں؟ سچ سننے کی ہمت نہیں ہے؟ سچ کڑوا لگ رہا ہے؟”
حمائل، ڈھیٹ بن کر اپنی بات پر اڑی ہوئی تھی۔
“سچ؟ سچ کیا ہے یہ میں تمہیں بتاتا ہوں! جتنا میں نے تمہارا لحاظ کرنا تھا، کر چکا ہوں۔ اس سے زیادہ کی امید مجھ سے مت رکھنا۔ تم صبح ہوتے ہی میرے گھر سے دفع ہو جاؤ! میں تمہیں اپنے گھر میں ایک سیکنڈ بھی برداشت نہیں کر سکتا!”
زیغم سلطان کی آنکھوں سے سرخ انگارے پھوٹ رہے تھے۔ ایک ایک لفظ میں حمائل کی تذلیل چھپی تھی۔

اپنی تذلیل پر، حمائل کی آنکھوں میں نمی مزید تیرنے لگی تھی۔
“تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے!”حمائل کی آنکھوں میں بے یقینی بھری ہوئی تھی، اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ زیغم سلطان اس کے ساتھ ایسا بھی کر سکتا ہے۔۔
“میں ایسا ہی کروں گا… کیونکہ تم نے مجھے یہ سب کرنے پر مجبور کیا ہے، مس حمائل!”وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے مکمل یقین دہانی کروا رہا تھا کہ وہ ایسا کر سکتا ہے اور وہ ایسا ہی کرے گا۔۔

“کیسے؟ تم مجھے اپنے گھر سے جانے کا کہہ سکتے ہو، جب خود اتنے سال میرے گھر میں پڑے رہے ہو۔کم سے کم کچھ تو احسان یاد رکھو مسٹر زیغم سلطان۔؟”حمائل نے وہ آخری تیر اپنی کمان سے چھڑا، جسے اس نے مشکل وقت کے لیے سنبھال کے رکھا ہوا تھا۔نہ جانے اسے کیوں یقین تھا کہ یہ تیر ضرور اس کے لیے کار آمد ثابت ہوگا۔مگر شاید اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس نے زیغم سلطان کے غصے کی آخری حدوں کو ہاتھ لگایا ہے اور اب یہ تیر اس کے کام نہیں آئے گا۔

“مت بھولو! میں تم لوگوں کے گھر سے بار بار جانا چاہتا تھا، مگر تم اور تمہاری فیملی مجھے نہیں جانے دیتی تھی! اور اس میں جو تمہارا مفاد تھا، وہ تم خوب جانتی ہو۔ تو بہتر ہے میرا منہ مت کھلواؤ!”
زیغم سلطان آج کسی بات پر پردہ ڈالنے کے موڈ میں نہیں تھا۔

“کیا کہنا چاہتے ہو؟”
“صاف صاف کہو!”
حمائل ایسے معصوم بن رہی تھی، جیسے اسے کچھ پتہ ہی نہ ہو۔
“ویسے کچھ لوگوں میں کمال مہارت ہوتی ہے… سب سچ جانتے ہوئے بھی ایسے پریزنٹ کرواتے ہیں جیسے ان کو کچھ پتہ ہی نہ ہو!”
“تو ٹھیک ہے! میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ میرا کیا مطلب ہے… صاف صاف بتاؤں گا!”
“آج کچھ بھی چھپا ہوا نہیں رہ سکے گا!”
زیغم نے ایک ایک لفظ کو دانتوں سے پیستے ہوئے، بات کی اہمیت کو یوں اجاگر کیا جیسے آج ہر پردے سے راز اٹھا دینا چاہتا ہو۔
“میں کوئی غریب غربا، بے سہارا شخص نہیں تھا جس کو تم لوگوں کی سپورٹ کی ایسی ضرورت ہو… کہ نہ میرے پاس رہنے کو گھر تھا، نہ ہی کھانے کے پیسے!”
“یہ بات تم لوگ بہت اچھی طرح سے جانتے تھے! زیغم سلطان پاورفل ہے!”
“اگر میں چاہتا تو کسی ہوٹل میں، کسی اچھے اپارٹمنٹ میں رہ سکتا تھا! یہاں تک کہ تم لوگ اچھی طرح جانتے تھے کہ میں اتنی اہمیت رکھتا ہوں کہ بابا سائیں مجھے وہاں اپنا گھر لے کر دے سکتے تھے… مگر تم لوگوں نے ایسا ہونے نہیں دیا!”
“اس میں تمہارا مفاد تھا! اور یہ بات تم بہت اچھی طرح سے جانتی تھی!”
“تم پہلے دن سے میرے ساتھ رشتہ قائم کرنا چاہتی تھی… پہلے دن سے تمہاری نظر مجھ پر تھی!”
“جبکہ تم جانتی تھی کہ میں تمہیں صرف ایک اچھی دوست سمجھتا ہوں… مگر تمہیں دوستی سے کچھ زیادہ کی توقعات تھیں!”
“اسی توقع کو پورا کرنے کے لیے، تم نے کبھی مجھے اس گھر سے جانے نہیں دیا۔ ہمیشہ زبردستی اپنے ماں باپ سے کہہ کر، مجھے رکنے پر مجبور کر دیا!”
“اگر ایسا نہیں ہے، تو کہہ دو کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں!”

زیغم نے جب اس کے راز سے پردہ اٹھایا، تو حمائل کے جیسے جسم میں آگ لگ گئی تھی۔ کیونکہ بول تو وہ سچ رہا تھا، مگر یہ سچ اتنا کڑوا تھا کہ حمائل سے برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ خونخوار نظروں سے وہ اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔

“I hate you, زیغم! I hate you!
تم میری محبت کا ایسے صلہ دو گے، یہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا!”آنسوں اس کے رخساروں سے پھسل کر بہنے لگے تھے۔اسے زیغم کی باتیں بہت تکلیف دہ لگ رہی تھیں جب کہ وہ بالکل حقیقت بول رہا تھا۔

“پلیز حمائل، اب یہ میلو ڈرامہ مت شروع کرنا۔ اس حقیقت سے تم اچھی طرح واقف ہو کہ میں جو بول رہا ہوں، وہ سچ ہے… اور تم یہی سب چاہتی تھی!”
“یہ میری اعلیٰ ظرفی تھی کہ میں نے کبھی تمہیں نیچا دکھانے کے لیے یہ باتیں نہیں دہرائی ، مگر اب بات حد سے گزر گئی ہے!”
“اب بات میری محبت پر آ گئی ہے! تم بات بات پر مہرو کے نفس کی انسلٹ پر کرو گی، اور میں برداشت کروں؟ ایسا کچھ نہیں ہونے والا!”
“تم ہمارے رشتے کے لیے زہر ہو، اور میں ایسے زہر زدہ پودے کو اپنی زندگی سے نکال دینا چاہتا ہوں!”
“تم اپنا سامان پیک کرو، صبح تمہیں ٹکٹس مل جائیں گی اور تم یہاں سے جا سکتی ہو!”
“اور ہاں! آج سے ہمارے بیچ جو دوستی کا رشتہ تھا، اسے بھی یہیں ختم کر کے جانا!”
“کیونکہ کسی نے شاید صحیح کہا ہے… ایک لڑکا اور ایک لڑکی کبھی دوست نہیں ہو سکتے!”
وہ جاتے ہوئے پلٹ کر، اس دوستی کے رشتے کو بھی زمین تلے دفنانے کا حکم دے رہا تھا۔

“تمہیں پتہ ہے زیغم؟ تم بہت خودغرض ہو!”
“میری محبت کی تم نے ذرا بھی قدر نہیں کی!”
“میری سالوں کی محبت کو لمحوں میں رسوا کر کے… کچرے کے ڈبے میں ڈال دیا!”

“غلط الزام لگا رہی ہو تم!”
“اچھی طرح اپنے ضمیر سے پوچھنا، کہ اس کا سچ کیا ہے!”
“کیونکہ زیغم سلطان کبھی کسی پر زیادتی نہیں کرتا!”
“میں نے تمہاری محبت کی قدر بھی کی، اس رشتے کی عزت بھی، دوستی کو عبادت سمجھ کر نبھایا، اور محبت کو فرض جان کر برتا!”
“جبکہ تم جانتی تھی کہ اس محبت میں میری محبت شامل نہیں تھی!”
“مگر پھر بھی… تمہارے بڑھائے گئے قدموں کو میں نے عزت دی!”
“اور تم نے کیا کیا ؟ وقت آنے پر خود میرا ہاتھ چھوڑ دیا!”
“اور اب… میں اپنی زندگی میں اتنا آگے بڑھ چکا ہوں کہ چاہوں بھی، تو پلٹ نہیں سکتا!”
“جس کے اندر خود کچھ نہ ہو، وہ کسی کو کیا دے گا؟”
“اور میں رب کی رضا پر خوش ہوں… جس نے مجھے ‘مہرو’ جیسی بیوی دی!”

“اب تمہارے لیے نہ میرے دل میں، نہ میرے گھر میں، نہ میری زندگی میں کہیں پر بھی جگہ نہیں ہے!”
“تو بہتر ہے، جو تھوڑی بہت اچھی یادیں بچی ہیں، جو کبھی دوستی کے نام پر تھیں، انہیں بھی اپنی انا کی نظر نہ کرو… اور یہاں سے چلی جاؤ!”

“شاید کبھی زندگی میں تم بھی آگے بڑھ جاؤ… اور اگر کبھی آمنا سامنا ہو، تو ہماری نظروں میں ایک دوسرے کے لیے تھوڑی بہت عزت باقی ہو!”
وہ کہتا ہوا کمرے سے نکل گیا… پلٹ کر نہیں دیکھا۔

اور وہ… روتی ہوئی بیڈ پر بیٹھ گئی، دونوں ہاتھوں کو گود میں ڈالے، سسکیوں سے لرزتی ہوئی…

“بیڑا غرق ہو تمہارا، مہرو!”
“تم نے مجھ سے زیغم کو چھین لیا!”
“کیا ہے تم میں ایسا… جو مجھ میں نہیں؟”
“کہاں سے آئی تم، میری زیغم کی زندگی میں!”
“خدا کرے تمہیں کبھی خوشی نصیب نہ ہو… مر جاؤ تم!”
کمرہ خاموش تھا… مگر سسکیوں کی آواز گونج رہی تھی۔ وہ بیڈ پر بے جان سی پڑی تھی، آنکھوں سے بہتے آنسو تکیے کو بھگو رہےتھے۔، آواز بھاری، زبان پر صرف معصوم مہر النساء کے لیے بددعائیں تھیں…جس کا کوئی قصور نہیں تھا۔

“خدا کرے… تمہاری محبت بھی تم سے ایسے ہی چھن جائے جیسے تم نے میری چھینی!”
“اللہ کرے،تمہاری ہنسی کسی کی بددعا میں دب جائے!”
“کبھی کوئی خوشی تمہیں راس نہ آئے… جیسے میری خوشیاں تم نے چھینیں۔اللہ کرے تمہاری ہر خوشی تم سے چھن جائے ۔!”
وہ ہچکیوں میں اپنے آپ سے بول رہی تھی، مگر زبان زہر اگل رہی تھی…
“مہرو! تمہاری ہر رات، تنہا، ویران، اور بے سکون ہو…!”
“تم زیغم کی بانہوں میں ہو… مگر دل ہمیشہ خوف میں رہے… کہ کہیں وہ تمہیں چھوڑ نہ جائے!”

باہر ہوا چل رہی تھی کھلی کھڑکی سے پردے ہل رہے تھے… مگر کمرے کے اندر حمائل کے دل میں جیسے آگ لگی ہوئی تھی جس کا دھواں چاروں اطراف میں پھیل چکا تھا۔…
غم اور دکھ کی حالت میں زبان سے نکلا ہر لفظ بددعا بن سکتا ہے، دکھ کی گھڑی میں، صبر کو اپنا ہمسفر بنائیں۔ اللہ تعالیٰ کے نبی نے فرمایا کہ مومن کی مثال کھیتی کی مانند ہے جسے ہوائیں جھکاتی ہیں مگر وہ ٹوٹتا نہیں۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور صبر کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے۔
بددعا دینے سے بہتر ہے کہ ہم رب سے انصاف اور سکون مانگیں۔ غم میں بددعا نہ دو، کیونکہ جب انسان کا دل ٹوٹتا ہے تو وہ بہک جاتا ہے، مگر ہمیشہ یہ یقین رکھنا چاہیے کہ خدا ہمیں بہتر سے بہترین دے گا۔۔
°°°°°°°°°
صبح کی روشنی دانیہ کی زندگی میں ایک خوشبو کی طرح آئی تھی۔ وہ شاید کافی دیر تک سوتی رہی تھی۔ آنکھ کھلی تو خود کو مائد خان کے بے حد قریب پایا تھا، اتنا قریب کہ سانسوں کی خوشبو ایک دوسرے میں الجھ رہی تھی۔ باہر پرندوں کی چہک اور پردے سے چھن کر آتی ہوئی مدھم سی روشنی بتا رہی تھی کہ سورج نکل آیا ہے۔
وہ اس کی قربت کے رنگوں میں کھوئی ہوئی تھی۔ کچھ زیادہ دیر تک ہی سوتی رہی تھی۔ مرد کی قربت اتنی سکون سے بھری ہوتی ہے، اس بات کا اسے آج اندازہ ہوا تھا۔ اس کے لیے قربت کا مطلب ہمیشہ شہرام کی درندگی تھا، مگر یہاں سب کچھ اس سے مختلف تھا۔
ہلکی پھلکی صبح کی روشنی میں اس نے مائد خان کے بازو سے سر اٹھایا اور اٹھنے لگی تھی کہ گہری نیند میں مائد خان نے اپنی نیم مدھم آنکھوں کو کھول کر اس کی جانب دیکھا، “کہاں جانے کا ارادہ ہے؟ سو جاؤ، اٹھنے کی اجازت نہیں ہے۔”
اس کے بعد اس نے بازو اس کے اوپر سے گزارتے ہوئے اسے واپس اپنے قریب کھینچ لیا۔
مائد خان کی نیند سے بھری ہوئی آنکھیں بہت پرکشش لگ رہی تھیں۔ شرمائی ہوئی دانیہ کی نظریں بے اختیار اس کی خماری سے بھری ہوئی آنکھوں پر ٹھہر گئی تھیں۔ بے اختیار ہاتھ اس کی رخسار پر آ گئے تھے۔
“جانا، ایسے مت دیکھو، ورنہ گستاخی ہونے کے پورے امکانات ہیں،” مائد خان کی آواز میں شوخ سی ہنسی چھپی تھی، اور اس کی نظر میں ایک پُر اسرار مسکراہٹ چھپی ہوئی تھی۔
دانیہ کا دل تیز دھڑکنے لگا تھا، لیکن وہ اس کی آنکھوں سے نظریں نہ ہٹا سکی۔ مائد خان کی قربت میں جیسے سب کچھ ماند پڑ گیا تھا، بس وہ اور وہ ہی تھے، اور باقی سب کچھ غائب۔
نہ جانے کتنی دیر تک وہ ایک دوسرے میں کھوئے رہے تھے۔ محبت میں محبوب کو دیکھنے کا بھی الگ ہی مزہ ہوتا ہے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو بے خودی سے دیکھے جا رہے تھے کہ فون پر آتی ہوئی بیل نے ان کا دھیان اپنی جانب بڑھا لیا۔

مائد خان نے فون کو کان سے لگا کر مصروف ہو گیا، جبکہ دانیہ موقع غنیمت جان کر وہاں سے اٹھ کر چینج کرنے کے لیے جا چکی تھی۔۔
ایسا کیسے ہو سکتا ہے! تم لوگ میرے بھائی کی حفاظت نہیں کر سکے؟ میں تم لوگوں کی جان لے لوں گا! مائد خان کی آواز پورے کمرے کی فضا میں گونج اُٹھی تھی۔ اس کے چہرے پر غصے کی ایک لہر تھی، جیسے وہ کسی آتش فشاں کی طرح پھٹنے والا ہو۔ فون پر آنے والی خبر شاید اتنی بری تھی کہ اس کے غصے میں شدت آ گئی تھی۔
کیا ہوا ہے؟ سب خیریت ہے؟ دانیہ مائد خان کی غصے سے بھری ہوئی دھاڑتی ہوئی آواز سن کر گھبرا کر قریب آئی تھی۔ مائد خان کی آنکھوں میں خون اُتر آیا تھا، اور وہ بے حد غصے میں تھا۔

“کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے، میں حویلی جا رہا ہوں!” وہ تیزی سے بیڈ سے اُٹھا اور چینج کرنے کے لیے جانے لگا۔

“کک… کیا ہوا ہے؟ پلیز بتائیں تو صحیح، اور جہاں بھی جانا ہے، مجھے ساتھ لے کر چلیں۔” دانیہ اس کی طرف بڑھتے ہوئے اس سے پوچھ رہی تھی، مگر مائد خان کا غصہ اور درد ایک ساتھ اس کے چہرے پر نظر آ رہا تھا۔

“کیا بتاؤں، بتانے کی ہمت ہی نہیں ہے!” وہ پلٹ کر رک گیا تھا، اور اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک کر گرے تھے۔

“پلیز، مائد، کیا ہوا ہے؟ بتائیں تو صحیح! کیوں آپ رو رہے ہیں؟ کیا ہوا ہے؟ میری جان نکل رہی ہے، کچھ تو بتائیں!” دانیہ اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لے کر شدت سے پوچھ رہی تھی۔

مائد خان، جو کہ معمولی انسان نہیں تھا، اس وقت بے حد ٹوٹ چکا تھا۔ وہ خاموش تھا، مگر درد کی شدت نے اسے وہ بات کہنے پر مجبور کر دیا۔

“در…درخزئی…”

“کیا ہوا ہے؟ درخزئی کو؟” دانیہ نے اس کے ٹوٹے ہوئے لفظوں کو سن کر پوچھا۔

“درخزئی اس دنیا میں نہیں ہے۔ سبحان کے بھائیوں نے میرے بھائی کو بے دردی سے مار دیا! میں ان کو زندہ نہیں چھوڑوں گا!” مائد خان روتے ہوئے دھاڑا، اور اس کی آواز میں اتنی شدت اور درد تھا کہ دانیہ کی روح تک کانپ گئی۔

اور جب دانیہ نے درخزئی کا نام سنا، تو اس کی آنکھوں سے بھی آنسو بہنے لگے تھے۔ “اس معصوم بچے سے ان کتوں کو کیا تکلیف ہوئی؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟” دانیہ بھی تڑپ کر رو رہی تھی۔

“دانیہ، اس وقت میں کچھ نہیں کہنا چاہتا، تم چلو، تیاری کرو!” مائد خان نے تیزی سے چینج کرنے کی ہدایت دی، اور دانیہ بھی روتے ہوئے فوراً تیار ہونے لگی۔ دشمنی کا نیا باب کھل چکا تھا۔نہ جانے اب کون سی تباہی اور بربادی کا نیا کھیل شروع ہوگا۔۔۔

°°°°°°°°

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *