Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:46

راز وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر:46
°°°°°°°°
“زیغم سلطان کا ارادہ تھا کہ آج حمائل کو رخصت کر دے،
مگر جیسے سورج کے ارادے بارش نہیں روک سکتے، ویسے ہی اس کی چاہت بھی خدا کے فیصلے سے ٹکرا نہ سکی۔”
“جیسے ہی وہ ایئرپورٹ پر پہنچا، فون کی گھنٹی بجی۔
کال پر جو اطلاع دی گئی، وہ کسی قیامت سے کم نہ تھی۔
دل دہلا دینے والی خبر سن کر چند لمحوں کے لیے زیغم سلطان کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا۔
ایک معصوم بچہ… جو ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ رہا تھا،
اندھیروں کے حوالے کر دیا گیا تھا۔

“یہ کیسا پھول تھا جو ابھی کھلنے بھی نہ پایا، اور مسل دیا گیا؟
وہ بچہ، جو گھر کی رونق تھا،
جسے بہت پہلے قسمت نے اپنوں سے الگ کر دیا تھا،
آج اس کی سانسیں بھی چھین لی گئیں۔
اس کا کوئی قصور نہ تھا،
مگر وہ دشمنی کی بھینٹ چڑھ گیا۔
ظالموں نے ایک لمحے کو بھی نہ سوچا کہ وہ بے گناہ تھا…
بےحد بے گناہ۔”
زیغم کے ہوش و حواس گویا مفلوج ہو چکے تھے۔
خاموشی سے ایک اشارے میں ڈرائیور کو واپسی کا حکم دے چکا تھا۔
اس میں اب ہمائل سے کچھ کہنے کی بھی ہمت باقی نہ رہی تھی۔

“کیا ہوا؟ کیوں پریشان ہو؟”
ہمائل کی آواز مدھم تھی، فکر میں ڈوبی ہوئی۔
“ہاں۔۔۔ کچھ نہیں۔”
ایک نظر اٹھا کر اسے دیکھتے ہوئے،
وہ بیگانوں کی طرح گویا ہوا اور گاڑی کا دروازہ بند کر چکا تھا۔
ہمائل خاموش کھڑی، نم نگاہوں سے اسے جاتا دیکھتی رہی۔
“افسوس… وہ رخصت ہوتے ہوئے ‘خدا حافظ’ تک نہ کہہ سکا تھا۔”
یہ ایک فقرہ، حمائل کے وجود کو جھنجھوڑ گیا۔
اس کے خدا حافظ نہ کہنے کا دکھ، آنکھوں کے بند دروازے توڑ کر آنسوؤں کی شکل میں گالوں پر بہہ نکلا۔
بغیر اردگرد کی پرواہ کیے، وہ بے اختیار رو پڑی۔
ہر آنسو اس کے ٹوٹے دل کی وہ کہانی بیان کر رہا تھا، جو کسی کتاب میں نہیں لکھی گئی تھی۔

“افسوس…
کہ میں نے تمہیں وقت پر نہیں سنبھالا،
ورنہ آج تم میرے ہوتے،
ہمیشہ کے لیے…
مجھے یوں تڑپنا نہ پڑتا۔”
یہ لفظ اس کے دل کی چیخ بن کر آنکھوں سے برستے جا رہے تھے۔

لیکن…
روتے ہوئے بھی، وہ سب کچھ دل میں چھپا کر اپنی منزل کی جانب بڑھنے لگی۔
کیونکہ کل رات زیغم سلطان کی سچائی سے بھرپور کھری کھری باتوں نے اسے اندر سے توڑ دیا تھا۔
پوری رات کی بے قراری اور آنسوؤں نے آخرکار اس کے دل کو یہ یقین دلوا دیا تھا کہ زیغم سلطان کبھی اس کا نہیں ہو سکتا۔

کیونکہ…
زیغم سلطان کے دل پر تو پہلے ہی مہرو کی محبت نقش ہو چکی تھی۔
اور وہ، زیغم، اپنے فیصلوں پر چٹان کی طرح مضبوطی سے قائم رہنے والا شخص تھا…
یہ بات حمائل سے بہتر اور کوئی نہیں جانتا تھا۔
ٹوٹے دل کی کرچیاں سینے میں چھپائے،
نم آنکھوں کے ساتھ،
ہینڈ کیری کو آہستہ آہستہ کھینچتی ہوئی وہ ایئرپورٹ کے اندر کی جانب بڑھنے لگی۔

راستے ہمیشہ کے لیے جدا ہو چکے تھے…
یا شاید، وہ تو بہت پہلے ہی بچھڑ چکے تھے،
بس اسے اس تلخ حقیقت کو ماننے میں دیر لگی تھی۔
اور…
دوسری طرف، زیغم سلطان کی گاڑی
خاموشی سے
ماحد خان دورانی کی حویلی کی جانب رواں دواں تھی۔
“آج حمائل اور زیغم سلطان کی کہانی وقت کی کتاب سے ہمیشہ کے لیے وہ صفحہ بن گئی جو بند تو ہو گیا، مگر لفظوں کی چیخیں اب بھی سنائی دیتی ہیں۔
اس انجام کی روشنائی کسی اور کے ہاتھ سے نہیں، خود حمائل کے اپنے ہاتھوں سے لکھی گئی۔
زیغم سلطان وہ شخص تھا، جو رشتوں کو لفظ نہیں، دعا کی طرح نبھاتا تھا۔ وہ تو وہ چراغ تھا، جو خود جلتا رہا تاکہ کسی کے خواب بجھنے نہ پائیں۔”
“زیغم… وہ مردِ وفا جو خود کانٹوں پر چلتا رہا، مگر حمائل کے راستے میں کبھی بھی چبھن نہیں آنے دی۔”زیغم سلطان نے اس ٹوٹتے رشتے کو بچانے کے لیے آخری وقت تک ہر ممکن ہاتھ بڑھایا تھا…
مگر وہ رشتہ ایسا ریت کا گھر تھا، جو چاہت کی بارش کے باوجود بھی گر ہی گیا۔
وہ وفا کا چراغ تھا جو اندھیری راتوں میں بھی جلتا رہا،
مگر جس کی روشنی، حمائل کے دل کی بند کھڑکیوں تک کبھی نہ پہنچ سکی۔”
وہ ایسا درخت تھا جو طوفانوں سے ٹکرایا، مگر اپنی شاخوں پر امیدوں کا گھونسلہ بنائے رکھا۔”
“جب رشتے ضد کے زور پر بنائے جائیں،
تو ان کا انجام صرف ایک لمحے کی ضد پر مہر لگا دیتا ہے۔
یہ رشتہ بھی حمائل کی ضد سے شروع ہوا، اور اسی ضد کے ہاتھوں دفن ہو گیا۔
زیغم سلطان اور حمائل کی کہانی بس اتنی تھی…
ایک ضد میں لپٹی محبت، جو انجام تک آتے آتے…
کچھ ادھورے خواب، کچھ خالی لمحے… اور
آنسوؤں ۔یں لپٹے لفظوں کی کہانی چھوڑ گئی ۔
°°°°°°°°°°°
مائد کی گاڑی حویلی کے گیٹ کے اندر آ کر رکی…
اگلے ہی لمحے دروازہ دھڑاک سے کھلا۔
ماحد خان بھاگتا ہوا باہر نکلا…
چہرے پر ہوائیاں تھیں، آنکھیں سرخ، بال بے ترتیب… سانسیں شدت سے چل رہی تھیں، جیسے اندر کوئی طوفان ٹوٹا ہو۔
مورے کی چیخوں میں ممتا کی ٹوٹتی ہوئی امیدیں چیخ رہی تھیں۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے حویلی کے ستون لرز رہے ہوں،
جیسے در و دیوار بھی معصوم درخزئی کے غم میں بھیگ چکے ہوں۔

مائد کی آنکھوں میں نمی نہیں، آنسوں کا سمندر تھا…
چہرہ آنسوؤں سے تر، مگر لب بند…
قدم بڑھانے چاہے… مگر جوتے جیسے زمین سے چپک گئے۔
وہ مضبوط تھا… مگر یہ وقت، یہ منظر… طاقت چھین چکا تھا۔
سامنے…
درخزئی ، سفید چادر میں لپٹا ہوا پڑا تھا…
وہی بھائی… جو کل تک ہنستا تھا، لڑتا تھا، تنگ کرتا تھا،روز نئی نئی فرمائشیں کرتا تھا،
آج، ساکت، خاموش… صرف چادر کی سفیدیاں باقی تھیں۔

مائد کی آنکھوں میں چمک بجھ گئی تھی…
قدم تھر تھرا گئے، سانسیں بے قابو ہو گئیں…اس کے پیچھے ہی غم زدہ آنسو بہاتی ہوئی دانیہ بھی چلی آرہی تھی۔

مائد کی نظر جیسے ہی اپنی جان سے پیاری مورے اور آغا جان پر پڑی، دل لرز گیا۔
آغا جان تو جیسے پتھر کا مجسمہ بن کر رہ گئے تھے۔
نہ آنکھوں میں آنسو تھے، نہ اردگرد کا ہوش۔بس ایک ٹک اپنے بیٹے کی لاش کو تکے جا رہے تھے، جیسے دل و دماغ کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہوں کہ … ان کا شہزادہ اب اس دنیا میں نہیں رہا۔
جبکہ مورے کی حالت تو دل دہلا دینے والی تھی۔
بکھرے بال، سوجی ہوئی سرخ آنکھیں، اور وہ درد سے بھری چیخیں، جو سننے والے کا دل چیر دیں۔
مائد کا سینہ اپنی ماں کی تڑپ بھری آوازیں سن کر چھلنی ہو رہا تھا۔روتی ہوئی مورے کی نظر ماحد پر پڑ چکی تھی۔
“ماحد…!”
ایک دل چیر دینے والی چیخ فضا میں کچھ اس طرح گونجی جیسے کسی پیڑ کی جڑ کاٹی گئی ہو۔
وہ ماحد کا نام پکارتے ہوئے اپنی جگہ سے یوں اٹھ کھڑی ہوئی جیسے جلتے انگاروں پر قدم رکھ دیا ہو۔
کپڑے سنبھالتی، لڑکھڑاتی ہوئی وہ مائد کی طرف دوڑی… جیسے ایک طوفان ماں کے سینے میں پل رہا ہو۔
ماں کی تڑپ سے نکلی آواز گونجی تو ہر فرد نے یوں نظریں اٹھا کر ماحد کو دیکھا جیسے صدیوں کا سکون لمحوں میں چِھن گیا ہو۔

مورے کے بازو یوں کھلے جیسے وہ وقت کو تھامنا چاہتی ہو،
زبان پر بددعائیں تھیں،
اور وہ مائد کے سینے سے کچھ اس طرح آن لگی جیسے کوئی ٹوٹا ہوا خواب آخری بار سینے سے لگے۔

“ماحد… ان ظالموں نے میرے بچے کی جان لے لی!”
“میں کہتی تھی، خون مت بہاؤ! میں کہتی تھی، سکون سے رہو…
مگر کسی نے نہ سنی!”
“اس کے ماں باپ میرے لیے اولاد کی طرح تھے…
اس کے باپ کو میں ہمیشہ اپنا بیٹا سمجھتی تھی اور اس کی ماں کو اپنی بیٹی۔”

“برسوں پہلے… ایسی ہی ایک خوفناک خبر ہمارے گھر پہنچی تھی،
آج وقت نے وہی زخم دوبارہ دوہرا دیا ہے…”
یادوں کے زخم تازہ ہوتے چلے گئے، جیسے وقت پیچھے کی طرف دوڑنے لگا ہو۔

“حویلی کی در و دیوار ہل گئی تھی۔ میں تو ان کو کبھی بھول نہیں سکی۔”
اس کے لہجے میں ٹوٹ پھوٹ تھی،

“اور آج… آج ایک بار پھر درندوں نے مجھ سے میرا بیٹا چھین لیا ہے۔”
مائد نے جھک کر مورے کے تڑپتے وجود کو تھام سینے سے لگا لیا۔۔۔
مورے اس کے سینے سے لگی چیخ چیخ کر رو رہی تھی،
جیسے دل سے روح کھینچی جا رہی ہو۔
مائد کے ہونٹ بند، آنکھیں بند، بازو مضبوط…مگر اندر سے، وہ بکھر چکا تھا۔

مورے تھوڑا پیچھے ہٹی، اور چیختے ہوئے بولی
“اٹھا… میں کہتی ہوں، اٹھاؤ اسے!”
“میرے دو بیٹے ہیں، مجھے دونوں چاہیے!”
“وہ تم سے بہت پیار کرتا ہے، وہ تیری بات ضرور مان جائے گا!”
“ہم اسے باہر ملک لے جائیں گے، سب کچھ بیچ دیں گے… مگر اسے ٹھیک کروا لیں گے! وہاں پر بہت پڑھے لکھے تجربہ کا ڈاکٹر ہوتے ہیں،وہ اسے ٹھیک کر دیں گے۔”مورے کیا بول رہی تھی شاید وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔

“مورے… میری پیاری ماں…”
“وہ جہاں جا چکا ہے… وہاں سے واپس نہیں آتا…”مائد نے بہت آہستہ، سانسوں سے لبریز رندھی ہوئی آواز میں کہا۔
مورے کا چہرہ اچانک سن ہو گیا، لمحے بھر کے لیے خاموشی چھا گئی۔
پھر انہوں نے غصے اور بےبسی سے ماحد کو دھکا دے کر خود سے دور کر دیا۔
“واپس نہیں آ سکتا؟”
“اتنا کہہ دینے سے بات ختم ہو گئی؟”
“مجھے کچھ نہیں سننا… صرف میرا بیٹا چاہیے!”
مورے لڑکھڑاتی ہوئی درخزئی کی لاش کی طرف بڑھی۔
دانیا لپکی، اس کے پیچھے جا کر اسے تھام لیا۔وہ خود بھی رو رہی تھی۔

مورے پلیز، صبر کریں… مت، خود کو تکلیف نہ دیں۔ دانیا نے اُن کو گلے سے لگاتے ہوئے آنسوؤں سے رندھی آواز میں کہا۔
“نہیں کر سکتی صبر! صبر نہیں ہو رہا مجھ سے، میرا بچہ ہے! میں اُسے خود سے دور نہیں کر سکتی۔ اس کو کہو کہ اس کا علاج کرائے، اُسے ٹھیک کروائے! میں اور کچھ نہیں سننا چاہتی!”
مورے کی درد میں ڈوبی چیخوں میں صرف ایک ہی پکار تھی ، کہ اُسے درخزئی واپس چاہیے۔
مائد کے قدم اب درخزئی کی طرف بڑھنے لگے۔
آنکھیں پانی میں ڈوبی ہوئی، ہاتھ لرزتے ہوئے آگے بڑھے
چادر کو آہستہ سے ہٹایا…
اور اس لمحے… سانس جیسے رُک گئی ہو۔
معصوم خاموش چہرہ دیکھ کر اس کے اندر کچھ ٹوٹ گیا تھا…
دل جیسے چٹخ گیا ہو…
لب ساکت، مگر آنکھیں چیخ رہی تھیں۔

پاس ہی ایک کونے میں آغا جان بیٹھے تھے۔نظریں جھکی ہوئی، لب بند، دل میں طوفان۔ان کے آس پاس رشتہ دار، محلے والے، سب موجود تھے۔
مگر وہ کسی کو دیکھ نہیں رہے تھے…
بس بیٹے کی لاش کو… خالی آنکھوں سے… تکے جا رہے تھے۔
اردگرد ،روتی ہوئی ،رشتہ دار عورتیں، ، خاموش مرد، بچے سہمے، ہر چہرہ آنسوں سے بھیگا ہوا تھا۔
یہ موت… صرف ایک فرد کی نہیں تھی… پورے خاندان پر قیامت تھا۔
ماحد خان درانی ،سفید چادر میں لپٹے درخزئی کے قریب زمین پر بیٹھا ہوا تھا… خاموش، پتھر، بےجان سا۔

مائد کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں، آنسو مسلسل بہہ رہے تھے مگر لب سلے ہوئے تھے۔لبوں پر کوئی آواز نہ تھی، مگر دل… دل جیسے چیخ رہا تھا۔
اس نے ایک نظر درخزئی کے چہرے پر ڈالی… وہ چہرہ… جو کل ہی مسکرا رہا تھا… آج ساکت، سنّاٹے میں لپٹا ہوا تھا۔
“میں ان کو کبھی معاف نہیں کروں گا…میں تمہارے ساتھ یہ ظلم کرنے والوں کو خون کے آنسوں رلاؤں گا۔ درخزئی، واپس آ جاؤ…!”
“میں تجھے ایسے نہیں دیکھ سکتا… تیرے بغیر میں کیا کروں گا یار…!”
“ایسی سزا… بھائی کو موت؟”
“میں کیسے تجھ سے غافل ہو گیا… شرمندہ ہوں… میں تیری حفاظت نہیں کر سکا…”
“مگر ایسی کڑی سزا دے کے نہ جا… ایسا مت کر یار…کبھی خود کو معاف نہیں کر سکوں گا۔اپنی نظروں سے نظریں نہیں ملا سکوں گا۔ایک بار معافی کا موقع دے دے یار۔!”
مائد کے ہاتھوں نے لرزتے ہوئے درخزئی کی چادر کو تھام رکھا تھا ۔
ایک بےجان چادر… جسے وہ جیسے واپس زندگی دینا چاہتا ہو۔
وہ رو رہا تھا… دل سے… آنکھوں سے… مگر آواز… خاموش تھی،
ایسی چیخ جو صرف وہی سن سکتا تھا،
پس منظر میں مورے کی چیخیں اب بھی جاری تھیں، دانیا کی سسکیاں، لوگوں کے قدموں کی چاپ اور اذیت میں لپٹا ہوا سکوت۔وحشت پھیلا رہا تھا۔
ماحد کے اردگرد سب کچھ جیسے دھندلا چکا تھا…اس کی دنیا… صرف وہ سفید چادر رہ گئی تھی… اس سفید چادر کے اندر آرام سے سویا ہوا،اس کا معصوم بھائی… جو اس کی کائنات تھا۔جس کے بغیر وہ ادھورا تھا۔ہواؤں میں اس وقت درد کھلا ہوا تھا۔
°°°°°°°°°°
زیغم سلطان نے جیسے ہی گھر کے اندر قدم رکھا، اُس سے سامنے کا منظر دیکھا نہیں جا رہا تھا۔ ہر طرف آہیں اور سسکیوں کی آوازیں تھیں۔ سامنے ہی اس کا یار، اس کا دوست، اپنے بھائی کی لاش کے قریب چہرہ جھکائے بیٹھا تھا۔ صرف اس کے چہرے کو دیکھے جا رہا تھا۔ آنکھوں سے آنسو خود بخود بہہ رہے تھے۔

آغا جان خاموش نظروں سے اپنے بیٹے کی لاش کو دیکھے جا رہے تھے، جیسے پتھر کے ہو چکے ہوں۔ مورے چیخ چیخ کر، رو رو کر بس یہی کہہ رہی تھی کہ “اسے ڈاکٹر کے پاس لے چلو، یہ ٹھیک ہو جائے گا! کوئی میری بات کیوں نہیں سن رہا؟”

دانیا روتے ہوئے مورے کو خاموش کروانے اور دلاسہ دینے کی کوشش کر رہی تھی۔ ہر آنکھ اشک بار تھی۔ زیغم کے گھر سے مہرو، ملیحہ اور زرام بھی آ چکے تھے۔

زیغم سلطان نے آنسو بھری نم آنکھوں سے آگے بڑھ کر اپنے یار کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے دلاسہ دینا چاہا، مگر جیسے ہی مائد نے نظریں اٹھا کر زیغم کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں جیسے خون اتر آیا ہو۔
“پیچھے ہٹ جاؤ! ہاتھ مت لگانا میرے بھائی کو! یہی حفاظت کی ہے تم نے میرے گھر والوں کی؟ میں نے تم سے کہا تھا، مجھے چوڑیاں پہنا کر تحفظ مت دینا! مگر تم نہیں مانے! میں تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتا!”
مائد اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے اُسے دھکے دیتا ہوا دور کر رہا تھا۔ زیغم سلطان بالکل خاموش تھا۔ نظریں جھکائے، شرمندہ، قصوروار بن چکا تھا حالانکہ قصور اس کا نہ تھا۔
“خاموش کیوں ہو؟ جواب دو! کیا دلیل ہے تمہارے پاس؟ وکیل ہو نا، دلیلیں تو بہت دینی آتی ہیں! بتاؤ، میرے بھائی کی موت پر کیا دلیل دو گے؟”
اسے دھکے دے کر درخزئی کی لاش سے دور کرتے ہوئے، مائد کی آواز حویلی میں گونج رہی تھی۔
“ہوش میں آؤ، یہ وقت نہیں ہے ایسی باتوں کا، تدفین کی تیاری کرو!”
آغا جان اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے رُعب دار آواز میں مائد کا ہاتھ پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے بولے۔
“یہی وقت ہے ان باتوں کا! جب اس نے حفاظت کا وعدہ کیا تھا، تو پھر کیوں نہ کر سکا؟ کیوں نہ پورا کیا اپنا وعدہ؟ اور جب یہ وعدہ پورا نہیں کر سکتا تھا، تو پھر ایسا وعدہ کرنا ہی نہیں چاہیے تھا!”
مائد کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا۔ وہ خون بھری نظریں، بے قصور زیغم سلطان کی طرف گُھور رہا تھا، جس نے اپنی طرف سے حفاظت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، مگر شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
وہ، جو طاقت رکھتا تھا، ہمت رکھتا تھا، خاموش نظریں جھکائے کھڑا تھا ، شاید یہی دوستی کا تقاضا تھا۔
“میں نے کہا خاموش ہو جاؤ! اس کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ تمہاری غیر موجودگی میں اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہماری حفاظت میں۔ اُسے الزام دینے سے درخزئی واپس نہیں آ جائے گا!”
آغا جان نے سخت نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
“میں کسی دلیل کو نہیں مانتا! اس نے وعدہ کیا تھا، تو مجھے میرا بھائی واپس لا کر دے! سب کی حفاظت کا ذمہ لیا تھا، تو پھر اس کی ذمہ داری میں یہ سب کیسے ہوا؟ مجھے اس کا جواب چاہیے!”
ماحد اب بھی اپنی بات پر قائم تھا۔

“مائد خان! میرے بیٹے کی میّت پر یہ تماشہ مت کرو! میں نے کہا، خاموش ہو جاؤ!”
آغا جان دبی مگر گرج دار آواز میں بولے تو ماحد نظریں جھکا گیا ۔ یہ اُس کا ادب تھا۔لیکن اُس کے دل میں زیغم سلطان کے لیے غصہ اب بھی شدید تھا۔

“خاموشی سے تدفین کی تیاری کرو، میں اب کوئی تماشہ نہیں چاہتا!”
آغا جان کہہ کر واپس اپنی جگہ جا کر بیٹھ گئے۔
جبکہ سارے منظر سے دانیا بے حد خوفزدہ ہو چکی تھی۔ وہ مورے کے قریب خاموشی سے روتی ہوئی بیٹھی تھی، مگر اُس کا وجود اس منظر سے کپکپانے لگا تھا۔
°°°°°°°°°°
تدفین کی تیاری مکمل ہو چکی تھی۔ درخزئی کا جنازہ اٹھانے کے لیے سب لوگ آگے بڑھ چکے تھے۔ کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے وہ آگے بڑھنے لگے تو زیغم سلطان بھی آگے بڑھا، مگر مائد خان نے غصے بھری نظر سے اسے دیکھا اور نفی میں سر ہلا دیا۔ مطلب یہ کہ وہ اس کے بھائی کے جنازے کے قریب نہیں آ سکتا تھا۔ اس کی نظروں سے یہ بات صاف ظاہر تھی۔
زیغم نظریں جھکا کر خاموشی سے پیچھے ہٹ گیا کیونکہ یہی وقت کا تقاضا تھا۔ اس لمحے کچھ بھی بولنا فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتا تھا۔

رشتوں کی مضبوطی کا ایک بہت بڑا حصہ آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
جب کبھی یہ رشتے الجھ جائیں، تو رونے کے بجائے وقت دینا چاہیے ! نہ کہ اسی لمحے اُس گانٹھ کو کھولنے کی ضد کی جائے۔
ایسی جلد بازیوں میں اکثر وہ الجھی ہوئی گانٹھ نہ کھلتی ہے نہ سلجھتی۔
بلکہ رشتہ یا تو ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے، یا مزید اُلجھ جاتا ہے۔
اور یہی عقلمندی زیغم سلطان نے بھی دکھائی…
اس نے دوستی جیسے عظیم رشتے کو بچانے کے لیے خاموشی اختیار کر لی۔
“کلمہ شہادت کی آواز بلند ہوئی تھی۔
روتی ہوئی عورتوں کے بیچ سے جنازہ اٹھا لیا گیا تھا۔

“کہاں لے کر جا رہے ہو میرے بچے کو؟ چھوڑ دو اسے… میں نے کہا نا، چھوڑ دو میرے بیٹے کو…!”
مورے کی دردناک چیخوں سے فضا گونج اٹھی تھی۔
وہ اپنے بیٹے کی چارپائی سے چمٹ کر، اسے جانے سے روک رہی تھی… مگر جانے والے کب رکتے ہیں؟
زبردستی جنازہ اٹھا لیا گیا تھا۔
بہت مشکل ہوتا ہے یہ لمحہ…
یا اللہ! جب یہ لمحہ دکھائے، تو گھر والوں کو صبر عطا کرنا۔”
عورتوں نے زبردستی مورے کو چارپائی سے ہٹایا۔اللہ…! جنازہ جا چکا تھا۔
مرد حضرات تدفین کے لیے روانہ ہو چکے تھے۔پیچھے رہ گئی تھیں صرف مورے کی دل چیرتی چیخیں…
اور انہیں دیکھ کر روتی ہوئی عورتوں کی سسکیاں باقی تھیں۔۔عورتیں مورے کو حوصلہ دے رہی تھی اور دانیہ ایک بیٹی بن کر اس کا سہارا بن کر قریب بیٹھی ہوئی تھی۔مگر اس وقت مورے کو صبر نہیں آرہا تھا ان کا قیمتی سرمایہ لٹ چکا تھا صبر کیسے کرتی۔مہرو اور ملیحہ بھی وہیں موجود تھی ان کی آنکھیں بھی نم تھی۔مہرو کے چھوٹے سے دماغ میں بہت کچھ ایک ساتھ چل رہا تھا ایک طرف تو یہ جوانی کی موت دوسری طرف مائد خان کے کہے گئے زیغم کے لیے الفاظ مہرو عجیب سی پریشانی کی کشمکش میں پھنسی ہوئی تھی۔مہرو کی نظر میں زیغم سلطان چاند کی وہ ٹھنڈی روشنی تھا، جو اندھیری راتوں میں اس کی ذات کو جگمگا دیتی تھی۔
زیغم سلطان ہی وہ واحد رشتہ تھا، جو اس کے دل کے قریب تھا، جسے وہ پورے مان کے ساتھ “اپنا” کہہ سکتی تھی۔
اور جب مائد کو اس سے خفا خفا سا پایا، تو مہرو کے دل پر محرومی کی ایسی چوٹ لگی، جیسے کسی نے اس کی امیدوں کے آئینے پر دراڑ ڈال دی ہو۔
مہرو، جیسے چپ کی چادر اوڑھے بیٹھی تھی۔ اس میں اتنی سمجھ ضرور تھی کہ اس وقت خاموشی ہی سب سے بہتر جواب ہے۔ جیسے سمندر کی گہرائی میں طوفان ہو، ویسے ہی اس کے دل میں ایک ہلچل مچی تھی، مگر وہ بولنے کی ہمت نہ رکھتی تھی۔ اس میں وہ طاقت ہی نہ تھی کہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہہ سکے۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ مائد، زیغم سلطان کا ویسا ہی قریبی دوست ہے جیسے سایہ دھوپ میں ساتھ چلتا ہے۔ مگر آج ان دونوں کے درمیان جو خفگی تھی، وہ مہرو کے لیے کسی اجنبی موسم کی طرح تھی۔ ماحول ویسا ہی سوگوار تھا جیسے خزاں کی خاموشی، اور مہرو کا دل بھی اسی خاموشی جیسا ویران اور اداس تھا ۔
°°°°°°°°°°
تدفین کے بعد آغا جان اور زیغم، مائی
اور زرام کے ساتھ حویلی لوٹ آئے تھے۔
زیادہ تر لوگ دعا کے بعد رخصت ہو چکے تھے،
بس چند ایک قریبی عزیز ہی رہ گئے تھے۔مہرو ملیحہ اور زرام بھی گھر واپس جا چکے تھے۔
خالی ہاتھ… اپنے پیاروں کو مٹی کے حوالے کرکے واپس لوٹنا…
یہ لمحہ… بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔
ایسا لگتا ہے جیسے دل کو وہیں دفنا کر، صرف ٹوٹتی ہوئی سانسیں واپس لے کر آئے ہوں۔
مگر مائد کا غصہ ابھی تک کم نہیں ہوا تھا۔
وہ تو بس صحیح وقت کا انتظار کر رہا تھا۔
اس کے اندر کا درد اور غصے کی شدت… اب حد سے تجاوز کر چکی تھی۔
جیسے ہی موقع ملا…
جیسے ہی عزیز و اقارب رخصت ہوئے…
ظاہر میں وہ خاموش تھا، مگر دھیان… بس زیغم پر ہی تھا۔
غم… جو اس کے دل کے ساتھ غصے میں بھی تپ رہا تھا۔
مائد خان کے قدم زیغم کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اس کے قدموں کی چاپ حویلی کے بڑے اور خاموش کمرے میں گونج رہی تھی۔ کندھوں پر پڑی سفید چادر ابھی تک سنبھلی نہیں تھی۔ تدفین سے واپسی پر اس کے چہرے پر غم سے زیادہ غصہ تھا۔ کمرے کی خاموشی اس کی آواز نے توڑ دی۔
“مجھے جواب چاہیے۔؟”
وہ زیغم کے سامنے آ کھڑا ہوا، آنکھوں میں شعلے دہک رہے تھے۔
“یہی حفاظت کی تھی تم نے میرے بھائی کی؟ جس کی لاش ابھی دفنا کر آیا ہوں؟”

زیغم نے ایک لمحے کو نظریں اٹھائیں، پھر فوراً جھکا لیں۔ جیسے خود کو اندر سے قصوروار مان چکا ہو۔

“بس کرو مائد،زیغم کو الزام دینا بند کرو! یہ تقدیر میں لکھا تھا۔اس نے کبھی ہمارا برا نہیں چاہا!”
دشمن گھات لگائے بیٹھے تھے…”اب تم اس بات کو تول دے کر اپنے بھائی کی موت کا تماشہ مت بناؤ…
اگر کچھ کرنا ہے،
تو جاؤ!
دشمنوں کا سامنا کرو،
جنہوں نے ہمارا بچہ ہم سے چھین لیا ہے!
جواب ان سے مانگو…!”
آغا جان نے سرد لہجے میں کہا، ان کی آواز میں گہری تھکن تھی۔

مگر مائد نہیں رکا۔ وہ تو برسنے آیا تھا۔
“نہ چھپائیں اس کی ناکامی کو تقدیر کے پردے میں، آغا جان!”
وہ پلٹا، آغا جان کی طرف دیکھا۔
“کہیں نہ کہیں یہ کمزور پڑا ہے۔
“اگر یہ کمزور نہ ہوتا تو آج میرا بھائی میرے پاس ہوتا،
اس کی کمزوری کی سزا میرے بھائی کو ملی ہے۔
اور آپ کو کیا لگتا ہے کہ دشمنوں کو میں اتنی آسانی سے چھوڑ دوں گا؟
نہیں آغا جان، نہیں…
اگر میں نے درخزئی کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب نہ لیا،
تو میرا نام بھی مائد خان نہیں!
اب مجھے پروا نہیں، چاہے جو ہو جائے۔
آپ نے مجھے بہت روک لیا،
اور میں نے بہت سمجھ لیا۔
اب اگر میں نے دشمنوں کا گھر خالی نہ کروا دیا تو پھر کہیے گا ،انشاءاللہ میں وہ وقت لاؤں گا کہ ان کی میت پر کوئی رونے والا نہیں ہوگا۔
مائد خان کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا،
جو اس کے پٹھانی ابلتے خون کی نشاندہی کر رہا تھا۔
اس وقت وہ صحیح اور غلط میں فرق کرنے کے قابل نہ تھا۔اپنوں کی جدائی کا دکھ ایسا ہی ہوتا ہے،
برداشت کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔
اور ایسے میں انسان اکثر صحیح اور غلط کا فرق بھول جاتا ہے۔
“ہاں! تو کس نے منع کیا ہے؟
میں خود اجازت دیتا ہوں…
مجھے میرے بیٹے کے خون کا بدلہ چاہیے!”
آغا جان کی گرجدارآواز گونجتی ہوئی صدا کی طرح یہ دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آئی تھی ۔
“مگر زیغم کو بیچ میں مت لاؤ،
اس نے بیٹا بن کر ہماری حفاظت کی ہے!”آغا جان اب بھی اپنی بات پر قائم تھے۔
“یہ تو بیچ میں رہے گا، آغا جان!”
“اور مجھے… اس سے جواب چاہیے!”
مائد خان پھر سے زیغم کی جانب پلٹ کر آیا تھا۔
زیغم… تم میرے گھر والوں کی حفاظت نہیں کر سکے۔ تمہاری ناکامی ہمیں یہ دن دکھایا ہے۔”
زیغم کا دل اس کے ہر لفظ پر چھلنی ہو رہا تھا۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر آواز گلے میں اٹک گئی۔ مائد کی گونجتی ہوئی آواز دیواروں سے ٹکرا رہی تھی۔۔

مائد، آغا جان کی بات سے اتفاق نہیں کر رہا تھا۔اسے زیغم سے جواب چاہیے تھا۔

“چپ مت رہو… جواب دو!
تمہاری خاموشی میرے زخموں کی بھرپائی نہیں کر سکتی!تم میرے مجرم ہو… میرے جواب دہ ہو۔جواب تو تمہیں ہر صورت دینا پڑے گا۔!”
مائد نے آگے بڑھ کر زیغم کا گریبان تھاما،
تو ماحول ضرورت سے زیادہ گرم ہو گیا تھا۔
مورے، جو اپنے بیٹے کے لیے پہلے ہی پریشان تھی،
روتے روتے سسک رہی تھی…
مگر یہ منظر دیکھ کر وہ بھی گھبرا اٹھی۔
جو اب تک خاموش تھی کہ آغا سب کچھ سنبھال لیں گے،مگر اب… معاملہ کافی خراب ہو چکا تھا۔اس سے پہلے کہ آغا جان اور مورے آگے بڑھ کر بات سنبھالتے۔
کمرے کے ایک کونے میں صوفے بیٹھی دانیا کے وجود میں لرزش دوڑ گئی۔ مائد کی بلند آوازیں اس کے زخموں کو کریدنے لگی تھیں۔ سانسیں تیز ہو رہی تھیں، ہاتھ کانپ رہے تھے، نظریں دھندلا رہی تھیں۔ وہ خود کو پھر اسی اندھیرے میں محسوس کر رہی تھی… جہاں ہر رات وہ اذیت جھیلتی تھی۔ شہرام اور اس کے گھر والوں کے بیچ میں جب وہ تنہا ہوتی تھی تو ایسا ہی تو شور و غل ہوتا تھا وہ انہی لمحوں میں لوٹ گئی تھی۔مگر ابھی تک کسی کو اس کا حال نظر نہ آیا۔کسی کی دانیہ پر نظر نہیں پڑی تھی۔

“نہیں… نہیں، وہ دوبارہ آئے گا…”
وہ زیرِ لب بڑبڑائی، آواز کپکپا رہی تھی۔ لیکن کسی نے نہ سنا۔
مائد کی ایک اور چیخ، دھماکے کی طرح اس کے کانوں میں گونجی۔

“میرے آنکھوں کے سامنے بھائی کی لاش…مائد کچھ اور کہنے والا تھا، مگر دانیہ کی حالت بگڑ چکی تھی۔
وہ یکدم پیچھے ہوئی، دیوار سے جا لگی جیسے زمین اس کے قدموں تلے سے کھسک گئی ہو۔
“نہیں… پلیز نہیں…”
اس کی چیخ کمزور مگر دل دہلا دینے والی تھی۔
مائد زیغم آغا جان اور مورے نے چونک کر اس کی جانب دیکھا ۔؟”
مگر دانیہ اسے نہیں دیکھ رہی تھی۔ وہ تو کسی اور کو دیکھ رہی تھی… کسی بھیانک ماضی کو۔ وہ چیخی، ہچکیوں میں ڈوبی ہوئی،
“مجھے مت مارو پلیز! میں مر جاؤں گی!”

زیغم کے قدم بےاختیار اس کی طرف بڑھے۔ وہ لپک کر اپنی بہن کے پاس پہنچا، اسے بانہوں میں لے کر شفقت سے سینے سے لگا لیا۔

“دانیا! میری طرف دیکھو، میں ہوں… زیغم… تمہارا بھائی!”
اس نے اس کا چہرہ تھاما، “میری آنکھوں میں دیکھو میری بچہ… میں ہوں یہاں!”

دانیا کا کانپتا وجود زیغم کی بانہوں میں تھوڑا تھما، مگر سانسیں اب بھی بےقابو تھیں۔ زیغم نے نرمی سے اسے نیچےصوفے پہ بٹھایا، پانی کا گلاس اٹھایا۔اس کے لبوں سے لگادیا۔۔پانی پیؤ اور لمبے لمبے سانس لو۔۔۔
کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ مورے آنسو پونچھ رہی تھیں، آغا جان نے سر جھکا لیا۔

مائد کچھ قدم پیچھے ہٹا۔ جیسے کسی نے اس کے سینے پر بوجھ رکھ دیا ہو۔

“میں نے یہ تو نہیں چاہا تھا…”
وہ بڑبڑایا اور نظریں چُرا کر دیوار کی طرف دیکھنے لگا۔

زیغم نے دانیا کو سہارا دے کر بستر پر لٹایا۔ اس کا وجود ٹھنڈا ہو چکا تھا، سانسیں دھیمی اور ٹوٹتی ہوئی۔

زیغم اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھے بیٹھا رہا، انگلیاں کانپ رہی تھیں۔ آغا جان خاموشی سے پیچھے کھڑے تھے، چہرے پر گہری فکر۔ مورے کی آنکھوں میں آنسو تھے، لبوں پر دعائیں تھی۔۔۔
مائد ایک کونے میں کھڑا خود سے نظریں چُرا رہا تھا۔ وہ دانیہ کو اس حال میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔ آنکھوں میں نمی، دل پر بوجھ محسوس ہو رہا تھا۔

“ڈاکٹر کو فوراً بلاؤ!”
زیغم کی آواز میں بےبسی تھی۔
مائد نے فوراً فون نکالا، کانپتے ہاتھوں سے نمبر ملایا۔

“السلام علیکم پلیز… فوراً حویلی آئیں…”ڈاکٹر کو فون کرنے کے بعد وہ مسلسل دانیہ کی جانب دیکھ رہا تھا قریب جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی ۔ کیونکہ اس سب کی وجہ اس وقت وہ خود تھا۔۔

کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر کمرے میں داخل ہوئی۔ زیغم پیچھے ہوا تاکہ وہ دانیا کا معائنہ کر سکے۔ ڈاکٹر نے سٹیتھو سکوپ لگایا، تسلی سے چیک اپ کیا۔
ڈاکٹر نے ایک نظر سب کی طرف دیکھا۔
“انہیں بہت شدید پینک اٹیک ہوا ہے…”ڈاکٹر نے زیغم کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
“فی الحال خطرے سے باہر ہیں۔ مگر اگلے چوبیس گھنٹے بہت نازک ہیں۔ اگر دوبارہ ایسا ہوا… تو یہ جان لیوا ہو سکتا ہے۔”

“یا اللہ خیر…”
مورے کی آہ فضا میں اٹک گئی۔
آغا جان نے دیوار کا سہارا لیا اور دعائیں پڑھنے لگے۔
ڈاکٹر کی بات جاری تھی،
“انہیں ہر اس چیز سے دور رکھیں جو ان کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر شور، دباؤ، یا وہ لوگ اور ماحول جو انہیں ماضی کی طرف لے جائے۔میرے خیال سے آپ کے پیشنٹ کے بارے میں آپ زیادہ بہتر جانتے ہیں۔جس اس طرح پینک اٹیک ہوا ہے میرے خیال سے وہ ماضی میں کافی زیادہ دباؤ کا شکار رہی ہیں۔میرے خیال سے آپ کو ان کا بہت خیال رکھنا چاہیے ایسی کوئی بات نہیں کرنی چاہیے جن سے یہ ڈپریشن مل جائے۔ایسے مریض اپنے ماضی کو آسانی سے بھولتے نہیں ہیں۔ان کو ماضی بھلانے کے لیے ارد گرد کے لوگوں کو محنت کرنی پڑتی ہے۔”
بات مکمل نہ تھی، مگر سب سمجھ چکے تھے۔مائد کی نظریں زمین پر گڑ گئیں۔ اس کی آنکھوں میں تڑپ تھی۔ وہ دانیہ کو اس حال میں نہیں دیکھ سکتا تھا۔وہ بے ہوش تھی دنیا سے بے خبر۔

“جی انشاءاللہ خیال رکھیں گے پلیز ابھی کے لیے بتائیں یہ محفوظ ہیں؟”زیغم نے ڈاکٹر سے پوچھا،

“نہیں ابھی مکمل ٹھیک نہیں ہیں۔”جیسا کہ میں نے کہا اگلے کچھ گھنٹے ان کی صحت ان کی زندگی کا صحیح فیصلہ کریں گے۔یہ میں دوائیں لکھ کر دے رہا ہوں جیسے ہی یہ ہوش میں آئیں آپ ان کو دے دیجیے گا فلحال انجیکشن لگا دیا گیا ہے ۔باقی اللہ تعالی سے بہتری کی دعا کریں۔ڈاکٹر کہتے ہوئے روم سے باہر نکل گیا۔۔
مائد کی مٹھیاں بند ہو گئیں۔وہ خود پر شرمندہ تھا ،ضبط اس پر حاوی تھا۔ وہ جانتا تھا، یہ سب اس کے جذبات کے طوفان کا نتیجہ ہے۔

وہ دانیا کے پاس آیا، قریب بیٹھ کرنرمی سے، اس کا ہاتھ تھام لیا۔

“میں ہی تھا وہ شور… وہ زخم… جو تمہیں پھر سے وہاں لے گیا جہاں پر صرف تمہیں ہر طرف ڈر اور اندھیرا دکھائی دیتا ہے …”
بے اختیار اپنا ماتھا اس کے ماتھے سے ٹکا گیا۔
زیغم نے نظریں پھیر لیں۔
آغا جان نے سر جھکایا اور آہستہ سے بولے،
“اللہ اسے سلامت رکھے…
اب ہمیں ہر قدم سوچ کر اٹھانا ہوگا۔
اسی لیے کہہ رہا تھا ماہد خان، عقل سے کام لو…
مگر تم نے میری ایک نہیں سنی!
اب دیکھ لو… نتیجہ تمہارے سامنے ہے!
جس میں تمہاری جان بستی ہے،
اسی کی جان اس وقت خطرے میں ہے!”

“اللہ تعالیٰ صحت دے…
ہم میں اب اور دکھ دیکھنے کی ہمت نہیں ہے، میرے رب!”
مورے کی آواز، آغا جان کی آواز کے ساتھ مل گئی تھی۔
یہ کہتے ہوئے آغا جان نے مورے کا ہاتھ تھاما،
اور اُسے کمرے سے باہر لے گئے…
کیونکہ اس وقت زیغم اور مائد کو اکیلا چھوڑنا لازمی تھا۔دونوں سمجھدار تھے اس لیے اکیلا چھوڑ کر وہ جا چکے تھے۔

مائد اس وقت بے حد تکلیف میں تھا،اس کا مضبوط دل سینے میں ٹوٹ کر بکھر چکا تھا۔
کمرے میں دھیمی روشنی تھی، اور ایک طرف بستر پر بے ہوش دانیہ کا وجود پڑا تھا۔مائد کی جان تھی یہ لڑکی، جسے دعاؤں اور منتوں میں اس نےبرسو رب سے مانگا تھا۔ مائد چاہ کر بھی خود کو معاف نہیں کر پا رہا تھا کہ آج اس کی وجہ سے دانیا کی یہ حالت ہوئی ہے۔
دانیہ مائد خان کی محبت اس کی جان سے عزیز بیوی تھی ، اور زیغم سلطان کی بہن،جو اسے بیٹیوں کی طرح عزیز تھی، دونوں کی سانسوں کا محور تھی۔دانیہ کے لیے دونوں فکر مند تھے۔۔
دونوں ایک ہی کمرے میں خاموش کھڑے تھے، کچھ دیر مائد دانیہ کے پاس بیٹھا رہا پھر اٹھ کر خاموشی سے دیوار کے ساتھ جا کر کھڑا ہو گیا جیسے خود کو سزا دے رہا ہو۔
زیغم بھی دیوار کے ساتھ کھڑا تھا دونوں ہاتھ سینے پر باندھے ہوئے۔الگ الگ دیواروں کے ساتھ۔ آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا، اور کمرے میں سوائے سانسوں کی گونج اور گھڑی کی ٹک ٹک کے کچھ نہیں سنائی دے رہا تھا۔

زیغم، جو دروازے کے قریب خاموش کھڑا تھا، ایک گہرا سانس لے کر اپنی جگہ سے حرکت کرتے ہوئے مائد کے قریب آ کھڑا ہوا۔ وہ جانتا تھا کہ اس لمحے مائد کو لفظوں سے زیادہ احساس کی ضرورت ہے۔ مگر مائد… وہ نہ صرف شدید صدمے میں تھا بلکہ ایک ایسے غم میں ڈوبا ہوا تھا جس کا اندازہ شاید کسی عام انسان کے لیے ممکن نہ تھا۔
زیغم کے قدموں کی آہٹ سن کر بھی مائد نے اپنی نگاہیں اس کی طرف نہیں اٹھائیں۔ وہ اپنا چہرہ پھیر کر اس پر اپنا دکھ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔
زیغم نے آگے بڑھ کر زبردستی مائد کو اپنی باہوں میں لے لیا۔ مائد نے بے اختیار جھٹکا دیا، جیسے یہ گرفت برداشت کرنا ناممکن ہو۔

“مجھ سے دور رہو !”
مائد زور سے چلایا، آواز میں لرزش تھی، دل کے زخم کی شدت تھی۔

مگر زیغم… وہ پتھر کی مانند کھڑا رہا۔ اس پر مائد کے غصے سے چیخنے کا کوئی اثر نہ ہوا۔
نہ اس کے لفظوں کا، نہ جھٹکنے کا،اس پر کسی چیز کا اثر نہیں ہو رہا تھا۔مگر ایک چیز کا خوف ضرور تھا جس کا خوف اس نے مائد کو بھی محسوس کروا ۔

زیغم پرسکون انداز سے ہلکا جھک کر اس کے کان کے قریب ہوا، اس کی بھاری سرگوشی نما آواز مائدہ کی سماعت میں گونجی۔۔

“ششششش… آہستہ چیخو!جس میں تمہاری جان بستی ہے وہ جاگ جائے گی، اور اگر جاگ گئی… تو ہم سے سنبھالی نہیں جائے گی ،تم اچھی طرح سے جانتے ہو کہ ڈاکٹر نے کہا ہے اس سے ابھی آرام کی بہت ضرورت ہے۔ اگلی بار اونچا بولنے سے پہلے سوچ لینا کہ وہ جاگ کر خود کو تکلیف دے گی۔”

“اور جب وہ خود کو تکلیف دے گی… تکلیف تمہارے دل کو ہو گی۔اپنا نہیں تو خدارا اس کا خیال کر لو”
زیغم کی آوازبوجھل اور تھکی ہوئی تھی،
“مجھ سے دور رہو… اور مجھے سمجھانے کی کوئی ضرورت نہیں!” وہ جھٹپٹایا، زیغم سے پیچھے ہٹنے کی بھرپور کوشش کی مگر زیغم نے اسے مضبوطی سے تھام رکھا تھا۔
مائد خان چاہ کر بھی خود کو اس گرفت سے نہ چھڑا سکا، کیونکہ اگر ایک سیر تھا… تو دوسرا سوا سیر نکلا۔طاقت میں دونوں ایک دوسرے سے کم نہیں تھے۔
“ہرگز نہیں چھوڑوں گا! جو کرنا ہے کر لو…” زیغم کی آواز میں عزم تھا، گرفت میں شدت تھی۔
“بس کرو، مائد… خود کو یوں اذیت دینا بند کرو!” اس کے لہجے میں درد اور بے بسی یکجا ہو چکی تھی۔
“میں مانتا ہوں کہ یہ صدمہ برداشت کرنا تمہارے لیے آسان نہیں ہے، مگر یار… خدا کی قسم، میں نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی۔”
زیغم کی آواز بھرا گئی،
“میں نے پوری کوشش کی کہ کہیں غلطی سے… غلطی بھی نہ ہو۔ مگر پتہ نہیں کیسے… پتہ نہیں کیسے!”
وہ خاموش ہو گیا ،الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے لب خاموش تھے دل شرمندہ تھا نظریں کوشش کے باوجود بار بار جھک رہی تھیں ۔

” کیا ہوا۔؟
ہمت نہیں ہو رہی یہ جملہ بولنے کی… کہ دشمنوں کی قسمت جیت گئی… اور میرے درخزئی پر حملہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔”
مائد خان کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا۔ آواز میں ایک ایسا درد تھا جو زیغم سلطان کا سینہ چیر رہا تھا۔ایسا تنز تھا جسے صرف وہی محسوس کر سکتا تھا۔

مگر زیغم خاموش کھڑا تھا۔اس وقت کو کتنی تکلیف میں ہے یہ صرف اس کا دل جانتا تھا، جو سچا ہو کر بھی الزام سہہ رہا تھا،اس کے لیے آسان نہیں تھا یہ الزام برداشت کرنا کہ وہ اپنے دوست کے گھر والوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہا ہے۔
پلیز یار… ایک بار بس ایک بار اپنے دل کے دروازے پر رحم لکھ کر مجھے معاف کر دے، میں ہر پل اپنے ہی ضمیر کی عدالت میں مجرم بن کر پس رہا ہوں۔
زیغم سلطان نے یہ سب اتنی عاجزی اور درد سے کہا کہ الفاظ نہیں، ایک فریاد لگ رہے تھے۔
“کیا تمہارا اتنا کہہ دینا… میرے زخموں کی بھرپائی کر سکتا ہے؟”
مائد خان اپنے بھائی کی دوری کے غم سے ٹوٹ رہا تھا ۔
“خاموش کیوں ہو جواب دو ،کیا تمہارے اطراف یا معافی سے … درخزئی لوٹ کر واپس آ جائے گا؟ کیا لٹا سکتے ہو مجھے میرا بھائی؟”
دوسری جانب مکمل خاموشی تھی شرم سے نظریں جھکی ہوئی تھی۔وہ گنہگار نہ ہو کر بھی خود کو قصوروار سمجھ رہا تھا۔

“جواب دو خاموش کیوں ہو۔؟کوشش؟ صرف کوشش؟”
“تمہاری کوشش، تمہارا شرمندہ لہجہ… کیا سب کچھ ٹھیک کر سکتا ہے؟ کیا میرے بھائی کو لوٹا سکتے ہو؟ کیا درخزئی کی بند ہوتی سانسیں واپس لا سکتے ہو؟”مائد خان نے دبی آواز میں، مگر آنکھوں میں انگارے لیے زیغم کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا ۔
اس کا لہجہ چیخ نہیں رہا تھا، مگر ہر لفظ میں چیخوں کی گونج تھی۔

“اگر میرے بس میں ہوتا… “تو میں درخزئی کو کسی بھی قیمت پر واپس لے آتا… مگر بے بس ہوں۔”زیغم کی آواز میں نمی گھل رہی تھی ۔

وہ لمحہ بھر کو رک کر شائد اپنے لفظوں کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ “تمہاری تڑپ… اور مورے کے آنسو دیکھ کر بھی میں کچھ نہیں کر سکا۔میں ان کے درد کو سمجھ کر بھی ان کے درد کو کم نہیں کر سکا شرمندہ ہوں خود پر۔”
درخزئی جس ذات کے پاس پہنچ گیا ہے… وہاں سے لوٹ کر کبھی کوئی نہیں آ سکا۔” زیغم کی پلکیں بھیگ چکی تھیں، مگر وہ ضبط کے دامن کو تھامے کھڑا تھا۔

“اگر لا سکتا… تو اماں، سائیں، ابا سائیں، بہرام بھائی… سب کو ایک ساتھی لے آتا۔خدا کی قسم اگر ان چاروں کو واپس لانے کی قیمت میری جان ہوتی تو زیغم سلطان ایک قدم بھی پیچھے نہ لیتا۔”

زیغم کا کلیجہ زخموں سے چور تھا، مگر وہ ان تمام زخموں کو اپنے سینے میں دفن کیے، مائد کے سامنے مضبوطی سے کھڑا تھا۔
مگر اسے آج پھر، بہت شدت سے اپنے یاد آ رہے تھے… وہ جو خاک ہو چکے تھے، مگر دل میں اب بھی زندہ تھے۔

مائد اس وقت زیغم کی حالت دیکھ کر دل ہی دل میں خود کو کوس رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا دکھ،زیغم سلطان کی تکلیفوں کے سامنے کچھ نہیں ، اسے دل کی گہرائیوں سے اپنے دوست کی تکلیف کا احساس ہوا۔۔۔
وہ کچھ دیر کے لیے اپنے صدمے میں اس کا دکھ بھول گیا تھا، میں نے تو صرف ایک بھائی کھویا ہے مگر اس کا تو پورا کنبہ ختم ہو گیا،اس کے دل پر کیا گزری ہوگی، مائد نے دل میں سوچا۔۔۔
اس کا خون کا رشتہ صرف ایک بہن بچی تھی، جو آج نیم حالت میں بے ہوش پڑی تھی۔ مگر پھر بھی اس شخص کا کمال جگرا ہے کہ اس نے ایک لفظ مائد کو نہیں بولا جبکہ دانیا کی یہ حالت کس کی وجہ سے ہوئی تھی یہ بات وہ خود بھی جانتا تھا۔بے اختیار مائد کے ذہن میں وہ بات بھی آگئی کہ اپنوں کو کھو دینے کے بعد بھی اس شخص نے دشمنوں کو معاف کر دیا تھا۔
مائد کی نظریں رشک سے بھر گئیں جب اس نے اپنے دوست کو غور سے دیکھا۔ اس کے دل میں تسلیم کیا کہ زیغم کا دکھ اس کے درد کہیں زیادہ گہرا ہیں۔

غصے اور درد کی دھند چھٹی،
تو اسے زیغم سلطان کا چہرہ اور دل صاف نظر آنے لگا…
وہ دوست جس کا دل… سونے کا ہے۔

زیغم سلطان کبھی بھی اس کی فیملی کے لیے لاپروا نہیں ہو سکتا تھا۔
دکھ کی شدت، میں وہ یہ بات بھول گیا تھا…
مگر جیسے ہی دل سے دھند ہٹی،
دل نے خود گواہی دے دی کہ اس کا دوست کبھی لاپرواہ نہیں ہو سکتا۔
مائد نے بغیر کسی سوچ کے، اپنے دل کی گہرائی سے زیغم کو اپنی طرف کھینچا اور اسے سینے سے لگا لیا۔ “معاف کر دے یار، میں تمہارا دکھ بھول گیا تھا، صرف اپنے درد کی دہائی دے رہا تھا۔” اس کی آواز میں بے پناہ دکھ اور معافی تھی، “بھول گیا تھا کہ تو کبھی میرے لیے برا نہیں سوچ سکتا۔”
یہ وہ لمحہ تھا جب دونوں کی دوستی کا سچا رنگ سامنے آیا، زیغم کی خاموشی نے وہ سب کچھ کہہ دیا جو الفاظ نہیں کہہ سکتے تھے۔
“تم نے مجھے معاف کر دیا میرے لیے اتنا کافی ہے۔”
زیغم سلطان زیادہ کچھ نہیں بولا تھا۔وہ ہمیشہ سے ایسا ہی تھا جتنا درد دل کے اندر موجود ہوتا ظاہر اس کا تیسرا حصہ بھی نہیں کرتا تھا۔
“میری فکر مت کرو میں ٹھیک ہوں۔سمجھ سکتا ہوں کہ تم بہت تکلیف دے وقت سے گزر رہے تھے۔آسان نہیں ہوتا اپنوں کا درد برداشت کرنا۔ تم بس اس کی فکر کرو اس کا دل بہت کمزور ہے ، اس کے سامنے تم نے جو ری ایکٹ کیا ہے، وہ برداشت نہیں کر پائی بہت خوف زدہ ہے۔”
زیغم کا اشارہ بیڈ پر بے سدھ پڑی دانیہ کی طرف تھا، اس کی آواز میں اس کی بہن کے لیے بے پناہ پیار اور پریشانی چھپی ہوئی تھی۔
“شرمندہ ہوں…میں خود پر قابو نہیں رکھ سکا، اور جس کے لیے برسوں منتیں اور دعائیں کیں… اسی کی تکلیف کا سبب بن گیا ہوں۔”
مائد کے لبوں سے نکلا ہر لفظ پچھتاوے میں بھیگا ہوا تھا۔ اس کی نظریں دانیہ کے بے جان وجود پر مرکوز تھیں،

“جو ہو گیا ہے وہ بدلا نہیں جا سکتا، مگر آگے کیا کرنا ہے؟ ڈاکٹر کوئی زیادہ اچھے تاثرات دے کر نہیں گئی۔ مجھے ڈر ہے کہ… کہیں ہوش میں آتے ہی اس کی طبیعت پھر سے نہ بگڑ جائے۔”
زیغم کی آواز میں اس بار گہری تشویش تھی۔ ایک نظر دانیہ پر ڈالی، اور دوسری مائد کی طرف، اس کی نظریں، لہجہ، اور الفاظ سب اس گھٹن بھرے لمحے کی شدت کا ثبوت دے رہے تھے۔

بے فکر رہو ،انشاءاللہ ایسا نہیں ہوگا۔ اس وقت تو مجھے یہ کہتے ہوئے بھی شرم آ رہی ہے کہ میں سب سنبھال لوں گا۔
مائد نے نظر جھکا کر کہا۔
“تمہیں نہ شرمندہ ہونے کی ضرورت ہے، نہ ہی میرے سامنے نظر جھکانے کی۔
میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں کہ تمہیں دانیہ کی بہت فکر ہے۔ تمہاری نظروں میں اس کے لیے فکر اور محبت دونوں دیکھ سکتا ہوں۔
بس ایک درخواست ہے، جب بھی کبھی ایسا وقت آئے جب تم برداشت نہ کر سکو، اس کے سامنے یہ سب کچھ کرنے سے گریز کرنا۔”
زیغم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بہت نرمی اور دوستانہ انداز میں کہا۔
مائد نے ایک نظر اس کی جانب دیکھتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا۔
“آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ اور تم بے فکر ہو کر جاؤ، اس کے ہوش میں آتے ہی میں دوا دے دوں گا اور تمہیں فون بھی کر دوں گا۔۔”
“نہیں، جب تک یہ ہوش میں نہیں آئے گی، میں نہیں جاؤں گا۔ تم اچھی طرح سے جانتے ہو، مجھے چین نہیں آئے گا،” زیغم نے صاف انکار کیا۔

“اگر مجھ پر بھروسہ ہے تو بے فکر ہو کر چلے جائیں۔ میں ہر لمحہ اس کے ساتھ ہوں، کچھ نہیں ہونے دوں گا اسے۔”

“میں نہیں جا سکتا ایسے، تم سمجھنے کی کوشش کرو،” زیغم نے ایک بار پھر انکار کیا۔
“مہرو بھابھی کافی پریشان ہیں، ان کو تمہاری ضرورت ہے۔ تم اچھی طرح سے جانتے ہو، ان کے پاس بھی تمہارا ہونا بہت ضروری ہے۔
کہہ رہا ہوں کہ فکر نہ کرو، جیسے ہی دانیہ ہوش میں آئے گی، میں تمہاری بات کروا دوں گا۔”
مائد کے بار بار تسلی دینے اور مجبور کرنے پر زیغم حویلی جانے کے لیے آمادہ ہو گیا، کیونکہ یہ بات سچ تھی کہ مہرو اس کے بغیر کافی پریشان ہو گی، اس بات کا اسے اندازہ تھا۔
اور دانیا کی فکر مائد سے زیادہ کوئی نہیں کر سکتا تھا، اس بات کا بھی اسے یقین تھا۔
“ٹھیک ہے، جیسے ہی ہوش میں آ جائے، مجھے کال کرنا اور اس کی مجھ سے بات کروانا۔زیغم نے تاکید کی۔
“تم بے فکر ہو کر جاؤ۔”مائد نے تسلی بخش انداز میں کہا۔

زیغم آگے بڑھا اور دانیا کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کے ماتھے پر شفقت بھرا لمس دیا،زیغم کی آنکھوں میں دانیہ کے لیے بڑے بھائی والی محبت اور فکر نظر آرہی تھی۔
ٹھیک ہے میں چلتا ہوں انشاءاللہ صبح آ جاؤں گا۔”
“اللہ حافظ… اللہ حافظ… دونوں نے ایک دوسرے کو خدا حافظ کہا تھا۔
مائد کے ساتھ ہاتھ ملا کر وہ باہر نکل آیا۔
اسے مہرو کی بھی فکر ہو رہی تھی۔ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے وہ سوچوں میں گم تھا۔
اسے دکھ تھا، اس بات کا کہ کہیں نہ کہیں اس کی سیکیورٹی کمزور پڑ گئی، جس کی وجہ سے معصوم درخزئی کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔”سبحان خان، تم خود دشمنی کی ایک ایسی بنیاد رکھ کر چلے گئے ہو، جس کا اختتام مجھے بہت برا نظر آ رہا ہے…”
زیغم سلطان سوچتے ہوئے نظریں سامنے سڑک پر جمائے ہوئے تھا۔
°°°°°°°°°
مہرو کافی بے چین سی کمرے میں ٹہل رہی تھی۔ کافی دیر تک انتظار کرنے کے بعد بھی جب زیغم نہ آیا، تو وہ سوچنے لگی شاید اسے وقت لگ سکتا ہے۔ سر میں درد اور جسم میں تھکن محسوس ہونے لگی، تو وہ آہستہ آہستہ کچن کی طرف بڑھنے لگی۔ اپنے روم سے نکل کر سیڑھیوں سے نیچے اتری اور قدموں کی نرمی کے ساتھ کچن میں داخل ہوئی، جہاں پہلے سے ہی سکینہ کچھ بنانے میں مصروف تھی۔

“ارے مہرو بھابھی آپ؟ آپ یہاں؟ مجھے بلا لیا ہوتا اگر کوئی کام تھا!” سکینہ نے جلدی سے آگے بڑھ کر کہا۔
“تم مجھے صرف مہرو کہا کرو… ہم دونوں دوست ہیں۔”مہرو تھکے تھکے سے وجود کے ساتھ وہیں رکھی ہوئی لکڑی کی نرم کشن والی کرسی پر بیٹھ گئی۔
“اللہ! میں آپ کو نام سے کیسے بلا سکتی ہوں؟ پہلے آپ نے کہا بی بی سائیں مت کہا کرو، میں نے مان لیا۔ پھر آپ نے کہا مجھے بی بی جی بھی مت کہو، وہ بھی چھوڑ دیا۔ اب آپ کہتی ہیں کہ مجھے بھابھی نہ کہا کرو۔ نہ بابا، یہ تو ممکن ہی نہیں!”
سکینہ ہنستے ہوئے اس کے قدموں میں آ کر بیٹھ گئی۔ “آپ عزت کے لائق ہیں، آپ کا عہدہ بڑا ہے، تو میں تو آپ کو مہرو بھابھی ہی کہہ کر بلایا کروں گی!”

“سکینہ… میں تمہیں ایسے نہیں دیکھ سکتی۔ اوپر اٹھو، مجھے اچھا نہیں لگتا۔”
مہرو نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اٹھانے کی کوشش کی۔

“نوکروں کی جگہ مالکوں کے قدموں میں ہی اچھی لگتی ہے۔ اور اگر مالکن آپ جیسی پیاری، کیوٹ سی ہو، تو میں تو خوشی خوشی ساری زندگی آپ کے قدموں میں بیٹھ سکتی ہوں!”سکینہ احترام سے، محبت سے اس کے پاؤں دبانے لگی۔
“مت کرو سکینہ، مجھے اچھا نہیں لگتا۔ میں تمہیں اپنی دوست سمجھتی ہوں۔”

“ہاں تو بی بی جی، آپ میری دوست ہیں۔ میری پیاری سی مہرو بھابھی! اور میں تو خود کو دنیا کی سب سے خوش نصیب لڑکی سمجھتی ہوں کہ آپ نے مجھے اپنا دوست سمجھا!”
“جس گھر میں تو ملازموں کو کوڑا کرکٹ سمجھا جاتا تھا… آپ نے آ کر مجھے عزت دی، جتنی دی ہے وہی میرے لیے بہت ہے۔ اس سے زیادہ مت دیں، میں خراب ہو جاؤں گی۔”سکینہ کی آواز بھرائی ہوئی تھی، آنکھیں جھکی ہوئی تھیں۔

“نہیں سکینہ، تم کبھی بھی خراب نہیں ہو سکتی۔”مہرو نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔”تم بہت اچھی ہو… دل کی بہت صاف ہو۔ اور میں یہ بات دل سے کہتی ہوں۔”
“سکینہ آپ کو اچھی لگتی ہے، اس میں بھی آپ کا ہی کمال ہے… کیونکہ آپ خود خود بہت اچھی ہیں…. ورنہ آج تک تو سکینہ میں کبھی کسی کو کوئی خوبی نظر نہیں آئی۔”
سکینہ نے اچانک بات روک دی۔ نظریں اٹھا کر مہرو کی جانب دیکھا، جو کچھ بےجان سی بیٹھی تھی۔
“مہرو بھابھی، آپ کو بخار ہو رہا ہے؟”
سکینہ کے ہاتھ جب اس کے پاؤں پر تھے، وہ کافی گرم لگے، تو فوراً اس نے مہرو کے ماتھے پر ہاتھ رکھ دیا۔

“پتہ نہیں… جسم عجیب سا تھکا ہوا محسوس ہو رہا ہے، اور سر میں بھی درد ہے۔”
“جسم صرف تھکا تھکا نہیں ہے، آپ کو تیز بخار ہو رہا ہے، شدید والا!”
سکینہ پریشان ہو گئی۔ “اپنی فکر نہیں کرتی ہیں آپ، جبکہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ زیغم بھائی کی جان آپ میں بستی ہے۔ کیوں اتنی لاپرواہی کرتی ہیں آپ؟”
وہ جلدی سے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اُسے کھڑا کرنے لگی۔
“چلیں میں آپ کو آپ کے کمرے میں چھوڑ کر آتی ہوں۔
“مجھے… چائے پینی تھی۔ اسی لیے کچن میں آئی تھی۔”
“تو حکم کریں نا، میں بنا کر آپ کے کمرے میں دے آتی ہوں!”
سکینہ نے نرمی سے اسے سہارا دیا، کمرے میں لے جا کر بیڈ پر لٹایا۔
“آپ آرام کریں، میں ابھی آپ کے لیے چائے لے کر آتی ہوں۔”
کہتی ہوئی سکینہ دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔
°°°°°°°°
“میں پوچھ سکتی ہوں، اس باغیچے کو کباڑ خانہ کس نے بنایا ہے؟”
قدسیہ کی آواز صحن میں بجلی بن کر کڑکی، جیسے کسی پرانی حویلی میں اچانک طوفان آن اترا ہو۔

“بی بی جی، یہ ملیحہ بھابھی نے گارڈن کو سجایا ہے، کل ہی نئے پھول پودے لگائے ہیں انہوں نے!”
نوکرانی پھرتی سے لپکی، لبوں پر چاپلوس مسکراہٹ سجا کر اطلاع دی، جیسے کوئی نوکری بچانے کے لیے آخری پتہ کھیل رہا ہو۔
مگر بیچاری یہ نہ جانتی تھی کہ یہ لمحہ اس کی عزت افزائی کا نہیں، عزت اُڑنے کا وقت ہے۔
“اچھا! تیری باچیں بڑی کھل رہی ہیں… ملیحہ بھابھی؟”
قدسیہ نے طنزیہ قہقہہ مارا، جیسے زہر میں بجھی ہنسی ہو۔
“بڑی آئی ہے بھابھی کہنے والی!”

اس کے لہجے میں ایسی تپش تھی جیسے تندور کا دہکتا دہانہ کھل گیا ہو۔

“شکل دیکھی ہے اس کی؟ پتہ نہیں کس جھونپڑ پٹی سے میرا بیٹا اسے اٹھا لایا ہے!”
اس کی آواز میں حقارت کا زہر تھا جو لفظ لفظ میں ٹپک رہا تھا۔

“ہم نے تو کبھی اسے اس گھر کی بہو مانا ہی نہیں، اور تم اسے بھابھی کس حساب سے کہہ رہی ہو؟”
اس نے آنکھیں تریچی کر کے نوکرانی کو گھورا، جیسے اس کی ایک ایک سانس پر اختیار جتانا چاہتی تھی۔
“اٹھاؤ اس کے لگائے ہوئے سارے پھول پودے! جڑ سے اکھاڑو! مجھے ایک بھی نظر نہ آئے!”
قدسیہ کی آواز میں جیسے کوئی طوفانی حکم تھا، جو گلی کی فضا کو چیر کر گونج رہا تھا۔

“یہ میرا گھر ہے! میں طے کروں گی کہاں کیا لگے گا!”
اس نے آخری جملے پر خاص زور دے کر زمین پر ایڑی مار دی جیسے اپنی ملکیت پر مہر ثبت کر رہی ہو۔

نوکرانی تو ساکت کھڑی تھی، جیسے سرِبازار بے عزتی کا طمانچہ کھا کر بھی کچھ کہہ نہ سکے۔ عزت افزائی کچھ یوں ہوئی کہ بیچاری زمین میں گڑ جاتی، اگر زمین اجازت دیتی۔

“ہائے بی بی جی، یہ تو کتنے خوبصورت ہیں، کیوں انہیں اکھاڑ کر پھینکنا؟”
نوکرانی نے آہستگی سے کہا۔

“میں نے تم سے رائے مانگی؟”
قدسیہ نے نگاہوں ہی نگاہوں میں نوکرانی کو جلا کر راکھ کر دینے والی نظر سے گھورا، جیسے آنکھوں سے شعلے برس رہے ہوں۔
“تم اس لڑکی کی چمچہ گیری تھوڑی کم کرو، ورنہ اس کے ساتھ ساتھ تمہیں بھی اس گھر سے اٹھوا کر باہر پھینک دوں گی! اپنے کام سے کام رکھا کرو!”
اس کی زبان سے نکلے الفاظ ایسے تھے جیسے کوڑھوں کی بارش ۔ سیدھا خودداری پر برسیں۔

“جی جی… بالکل اسی طرح کام سے کام رکھے جیسے یہ رکھتی ہیں!”
ایک کاٹ دار آواز نے ماحول کی فضا چیر دی۔
ملیحہ، جو ابھی ابھی اندرونی گیٹ سے باہر نکلی تھی، طنز کی تلوار لیے میدان میں اتر آئی تھی۔

قدسیہ نے پلٹ کر دیکھا، جیسے کسی گستاخ کو پہلی بار دیکھ رہی ہو ۔ نظر میں حیرت نہیں، صرف غصہ اور انکار تھا۔

“دیکھ لڑکی! میرے ساتھ زبان لڑانے کی ضرورت نہیں! نہ میں تیرے منہ لگنا چاہتی ہوں، نہ تُو میرے منہ لگنا!”
الفاظ نہیں، جیسے جنگ کا اعلان تھا ۔ حدیں کھینچی جا چکی تھیں۔

“او واہ! نائس! کتنا اچھا مذاق کرتی ہیں آپ!”
ملیحہ نے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر جیسے تالی بجا دی ہو طنز کی،
“حالانکہ سچ یہ ہے کہ آپ کو میرے منہ سے لگنے کا شوق ہے! موقع ملے تو چارپائی بچھا کر میرے منہ کے اندر ہی بیٹھ جائیں! اور اوپر سے کہتی ہیں کہ میں منہ نہیں لگنا چاہتی؟”
لہجہ یوں تھا جیسے کسی نے دبی ہوئی چنگاری پر پٹرول انڈیل دیا ہو۔

“اپنی بکواس بند رکھو!”
قدسیہ کی آواز دھاڑ کی مانند بلند ہوئی،
“ایک بار تمہیں ایسا لگ گیا کہ میرے بیٹے کے سامنے تم سچی ثابت ہو گئی ہو، تو کیا اب ہر روز بکواس جھاڑ کر خود کو سچا منواؤ گی؟ تو سن لو، یہ تمہاری بھول ہے!”
وہ غرّاتی ہوئی آگے بڑھی، آنکھوں سے شعلے برس رہے تھے۔

“اگر چٹیا سے پکڑ کر تمہیں پورے گھر میں نہ گھمایا، تو میرا نام بھی قدسیہ توقیر لغاری نہیں!”
اس لمحے وہ ساس کم اور آندھی زیادہ لگ رہی تھی، جو سب کچھ روند دینے کے ارادے سے آئی ہو۔

“ہاتھ لگا کر تو دکھائیں!”
ملیحہ نے نگاہوں میں بجلی سی چمک لیے، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بے خوفی سے کہا،
“اگر یہی ہاتھ توڑ کر دوسرے ہاتھ میں نہ رکھ دوں، تو میرا نام بھی ملیحہ زرام لغاری نہیں!”
اس کی آواز میں ایسا یقین تھا جیسے طوفان کو للکارا جا رہا ہو۔
“تیری اتنی جرات؟ تو میرا ہاتھ توڑے گی؟”
قدسیہ غصے سے کانپتی ہوئی بڑبڑائی،
“جھونپڑ پٹی سے لائی ہوئی بدذات لڑکی! میرے بیٹے کے نام کو اپنے نام کے ساتھ چپکا کر بڑی اترا رہی ہے!”
اس کے چہرے پر حقارت، تلخی اور نفرت کا ملغوبہ تھا۔

وہ بپھر کر آگے بڑھی، ہاتھ فضا میں بلند کیا کہ ملیحہ کے چہرے پر تھپڑ رسید کرے،
مگر ٹھیک اسی لمحے…

زارم آگے آیا،
اس نے ماں کا ہاتھ فضا میں ہی تھام لیا
نرمی سے، احترام کے ساتھ… جیسے وہ ماں کے وقار کو بھی بچا رہا تھا اور بیوی کے حق پر بھی پہرہ دے رہا تھا۔

اس نے آہستگی سے ماں کا ہاتھ ملیحہ سے دور کیا، اور دھیرے سے نیچے کر دیا۔
ایک لمحے میں، وہ ماں کا فرماں بردار بیٹا بھی تھا ، اور بیوی کا محافظ شوہر بھی۔
خاموشی سے، بغیر لفظوں کے، انصاف کا توازن قائم کر دیا گیا تھا۔
“اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ کہاں سے آئی ہے؟”
زارم نے پُرسکون، مگر گہری ٹھہری ہوئی آواز میں کہا،
“حقیقت یہ ہے کہ اب چاہیں یا نہ چاہیں، میرا نام اس کے نام کے ساتھ جُڑ چکا ہے… ہمیشہ ہمیشہ کے لیے… اور وہ بھی میری خوشی اور رضا مندی سے!”
الفاظ اس کے دل سے نکلے تھے،

قدسیہ تڑپ کر ایک قدم پیچھے ہٹی، جیسے کسی نے اس کی انا پر چوٹ مار دی ہو۔

“تو… تو ہے جورو کا غلام!”
قدسیہ چیخی ۔ شکست خوردہ لہجے میں، جیسے دل پر چاقو چلا ہو۔
“تجھ سے تو بہتر تھا کہ میں ایک جوتا پیدا کر لیتی! کم از کم پاؤں میں پہننے کے کام تو آتا! نکمّا! نکھٹو! نہ کسی کام کا! سارا دن جورو کا غلام بنا گھومتا ہے! لعنت ہے تم پر! تجھے پیدا کر کے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی ہے میں نے!”

یہ الفاظ نہیں تھے ۔ دہکتی چنگاریاں تھیں جو زارم کے ضبط پر برس رہی تھیں۔
زارم کی آنکھوں میں نمی اترنے لگی ۔
ماں کی زبان نے جو زخم دیا، وہ کسی ہاتھ کے تھپڑ سے زیادہ گہرا تھا۔
وہ خاموش کھڑا رہا، جیسے اندر ہی اندر ٹوٹ رہا ہو،
مگر ماں کے سامنے آنکھوں سے آنسو بہانا شاید آج بھی اُس کے ضبط کو گوارا نہ تھا۔
“کوئی بڑی بات نہیں، مجھے بھی لگتا ہے کہ آپ کے گھر میں پیدا ہو کر میں نے بھی غلطی کی۔ اگر میرے پاس آج بھی آپشن ہوتا، تو میں صاف انکار کر دیتا کہ مجھے اس گھر میں پیدا نہیں ہونا!”
آج زرام بھی برداشت کے موڈ میں نہیں تھا۔ذرام غصے میں بھی ہمیشہ کوشش کرتا کہ اس سے کوئی گستاخی نہ ہو۔
مگراولاد کی برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے… جب ماں باپ اپنی حد سے بڑھ جائیں، تو اولاد سے بھی نہ چاہتے ہوئے کبھی کبھار گستاخی ہو جاتی ہے۔ وہ بھی انسان ہوتے ہیں… مگر اکثر ماں باپ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے بچوں کو بھی ان کے لہجوں سے تکلیف پہنچتی ہے۔”

“تو خود تو بدتمیز تھی ہی…
اب میرے بیٹے کو بھی اپنے جیسا بنا دیا ہے!
میرا بیٹا کبھی زبان دراز نہیں تھا،
مگر جب سے تُو نے اس گھر میں قدم رکھا ہے !نہ اس کی زبان کا لحاظ رہا، نہ تربیت کا اثر۔
بد لحاظ کر دیا ہے تُو نے اسے!”
روایتی ماؤں کی طرح قدسیہ نے
اپنے دکھ اور غصے کا سارا بوجھ
اپنی بہو کے وجود پر ڈال دیا ۔

“اماں… آپ غلط الزام لگا رہی ہیں۔”
زرام کا انداز نرمی سے بھرپور ، مگر لہجے میں شکوے کی حدت صاف محسوس ہو رہی تھی۔
“نہ میری بیوی بدتمیز ہے…
اور نہ ہی اس نے مجھے بدزبان بنایا ہے۔اور نہ ہی میں اتنا بے وقوف ہوں کہ اس کے بھڑکانے پر،یا اس کے سمجھانے پر آپ کے ساتھ بدتمیزی کروں گا،آپ میری ماں ہیں آپ کی عزت احترام کرنا مجھ پر فرض ہے۔اگر میرا لہجہ سخت یا تلخ ہوتا ہے اس کے پیچھے کی حقیقت سے آپ اچھی طرح واقف ہیں اگر تسلیم نہ کرنا چاہیں تو یہ الگ بات ہے۔

میں آج بھی آپ سے اسی ادب کے ساتھ بات کرتا ہوں،جس کی تربیت آپ نے خود دی ہے۔”تربیت والی بات کرتے ہوئے زرام کے لہجے پر تنزیہ سی مسکراہٹ تھی۔کیونکہ قدسیہ کے پاس تو کبھی بھی تربیت کرنے کا وقت ہی نہیں تھا۔
“میں کبھی آپ سے بدسلوکی کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا ۔اس لیے نہیں کہ آپ کے اندر اچھائیاں کوٹ کوٹ کر بھری ہیں بلکہ اس لیے کہ
مجھے اللہ سے ڈر لگتا ہے، یہ سوچ کر کہ آج اگر میں ماں باپ سے بدتمیزی کروں گا،تو کل میری اولاد بھی میرے ساتھ وہی کرے گی۔”
زرام کا گلا رندھنے لگا، مگر وہ بولتا رہا،
“آپ نے جو کچھ اپنے ساتھ جڑے ہوئے لوگوں کے ساتھ کیا…
میں تو اس کے جواب میں بھی اللہ سے آپ کے لیے دعا کرتا ہوں،کہ وہ آپ کو معاف کر دے۔”
اس نے ایک پل کو ماں کی آنکھوں میں دیکھا زرام کی نظروں میں نرمی، شکوہ، اور ٹوٹا ہوا اعتبار تھا۔۔۔مگر قدسیہ کی نظروں میں شرمندگی پچھتاوے جیسی کوئی چیز نظر نہیں آرہی تھی۔وہ مطمئن نظر آرہی تھی۔
“مجھے بہت افسوس ہے اس بات کا ہے کہ،آپ کو اپنی کوئی غلطی،کوئی زیادتی…
یاد ہی نہیں۔قسم سے یہ بہت زیادہ پریشانی کی بات ہے جب انسان کو اپنے گناہ یاد نہ رہیں۔زرام اب بھی اپنی ماں کو کچھ سمجھانا چاہتا تھا کچھ جتانا چاہتا تھا اس کا کوئی فائدہ نہیں یہ بات وہ خود اچھی طرح سے جانتا تھا مگر پھر بھی کوشش کی۔

“تو میں میرے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں تم اپنی دو کوڑی کی محبوبہ کی فکر کرو۔جس لڑکی کی انگلیوں کے اشاروں پر تم ناچ رہے ہو،
قدسیہ کا غرور فضا میں گونجنے لگا۔بس کر دیں، پلیز… بس کر دیں! ہر بات پر ملیحہ کو،کوسنا بند کریں، زَرام نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔
کیوں نہ اس کوسوں ! اس نے مجھ سے میرا بیٹا چھین لیا، میں کیا اُسے پلکوں پر بٹھاؤں؟ اور اگر ایسا تم نے وہم پال رکھا ہے تو یہ تمہارا قصور ہے، قدسیہ! قہر آلودنظروں سے بیچارِی ملیحہ کی جانب دیکھ رہی تھی، جو اپنے شوہر کے لحاظ میں خاموش کھڑی تھی، ورنہ ایسے ٹکے ٹکے جواب دیتی کہ قدسیہ کی سات نسلیں یاد رکھتیں۔
مت پلکوں پر بٹھائیں، مگر خدا کے لیے اُس پر طعنہ زنی کرنے سے بھی گریز رکھنا پڑے گا۔ مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے… اس کی نہیں تو میری فکر کر لیا کریں۔ بیوی ہے میری، بہت پیار کرتا ہوں ۔ اور ایک بات مت بھولاکہ یہ زبردستی نہیں، میری خوشی سے اس گھر میں ہے ۔زرام کے لہجے میں التجا بھی تھی اور غصہ بھی۔

“میں تو نہ اُس کی شکل دیکھنا چاہتی ہوں اور نہ ہی اُس سے بات کرنا چاہتی ہوں، اور اُس کو برداشت تو میں کبھی بھی نہیں کر سکتی۔ اس نے مجھ سے میرا بیٹا چھین لیا ہے،
“اسے تمہاری زندگی سے باہر نکالے بغیر مجھے سکون نہیں آئے گا! قدسیہ کی نظریں ملیحہ پر آگ برسا رہی تھی۔
“ٹھیک ہے… جو کر سکتی ہیں آپ، کر لیجیے۔”زرام نے پرسکون لہجے میں دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر کہا،
“آپ کو کچھ بھی کرنے سے کون روک سکتا ہے؟ نہ آج تک کوئی روک پایا، نہ روک پائے گا!”
“مگر کوشش کے باوجود بھی آپ ہار جائیں گی، کیونکہ اسے میری زندگی سے باہر نکالنا ناممکن ہے، زَرام نے ملیحہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے اندر کی جانب قدم بڑھائے۔

“چلو، یہ تو آنے والا وقت بتائے گا نا کہ بیٹا جیتتا ہے یا ماں۔؟
“مت بھولو میں تمہاری ماں ہوں، جو بول رہی ہوں کر کے دکھاؤں گی، غصے سے لبریز آواز بلند کی۔۔۔

ملیحہ اور زرام نے ایک نظر پلٹ کر دیکھا، مگر کوئی جواب نہیں دیا۔ خاموشی سے اندر کی جانب بڑھ گئے، مگر ملیحہ کا دل اندر سے کانپ گیا۔ پتہ نہیں کیوں، اس کے دل نے گواہی دی کہ یہ عورت جو بول رہی ہے، یہ کر کے دکھائے گی۔ ایک انجانا سا خوف ملیحہ کے دل میں گھر کرنے لگا۔

“میں بھی دیکھتی ہوں، تم کتنے دن اس گھر میں ٹکتی ہو۔ قدسیہ ناگن ہے، ناگن! اس بات سے تم شاید ابھی واقف نہیں۔ نہیں رہنے دوں گی تو میں اپنے تجھے اپنے بیٹے کی زندگی میں۔
قدسیہ ان کے جانے کے بعد اپنے دماغ میں سوچ کر زہریلی ناگن بنی پھونکا رہی تھی۔
“تم یہاں کھڑی میری شکل کیا دیکھ رہی ہو؟ دفع ہو جاؤ یہاں سے! اچانک قدسیہ کی نظر اس ملازمہ پر پڑی، جو بیچاری باغیچے کے پھولوں کے بارے میں اسے بتا رہی تھی۔ وہ ابھی تک یہاں کھڑی سارا تماشہ دیکھ رہی تھی۔
قدسیہ کی پھونکار پر بیچاری نوکرانی نو دو گیارہ ہو چکی گئی۔
°°°°°°°°°
قدسیہ کی کڑوی کسیلی باتیں دل پر تیر کی مانند لگیں۔
ملیحہ اور زارم دونوں گم صم، پریشان سے قدموں کے بوجھ تلے دبتے ہوئے اپنے کمرے میں داخل ہوئے۔
زارم نے دروازہ بند کیا ۔ جیسے باہر کی تلخیوں سے چند لمحوں کے لیے پناہ لینا چاہتا ہو۔
ملیحہ چپ چاپ بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گئی، پاؤں لٹکائے، آنکھوں میں سوال بھی تھے اور تھکن بھی۔
خاموشی کمرے میں دیوار کی طرح کھڑی تھی… اور پھر وہ ایک غیر متوقع لفظ سنائی دیا۔
“سوری۔”
زارم کی مدھم، مگر سچی آواز ملیحہ کے کانوں سے ٹکرائی تو وہ چونکی۔
آنکھوں میں حیرت اور دل میں سوال لیے وہ اس کی طرف مڑی،
“سوری کس لیے؟”

زارم نے ایک ہلکی سی، زخمی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
“صاف ظاہر ہے… جو میری ماں نے تمہارے ساتھ کیا، جتنی سخت باتیں کہیں… اُن سب کے لیے۔
میں ان کے لہجے یا سوچ کو نہیں بدل سکتا،
مگر تم سے شرمندگی کے ساتھ معافی ضرور مانگ سکتا ہوں… میرے بس میں بس یہی ہے۔”

وہ آہستگی سے اس کے قریب آ بیٹھا،
اس کے نازک ہاتھوں کو اپنے دونوں مضبوط ہاتھوں میں تھام لیا،
جیسے وہ ان لمحوں کے درد کو اپنی ہتھیلیوں میں سمیٹ لینا چاہتا ہو۔

زارم نے نظریں جھکا لیں،
شرمندگی اس کے چہرے پر واضح تھی
ایک شوہر جو بیوی کے دکھ پر، ماں کے جملوں سے شرمندہ ہے،
اور صرف اتنا چاہتا ہے کہ اُس کا لمس، اُس کی معافی،
کسی حد تک مرہم بن جائے۔

“جب تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے، تو تم کیوں شرمندہ ہو رہے ہو؟”
ملیحہ نے دھیمے، محبت بھرے لہجے میں کہا۔
اس کی آواز جیسے موسمِ خزاں میں بہار کی پہلی ہوا ۔
نرم، پُرسکون، اور مرہم سی۔

وہ آہستگی سے زارم کے ہاتھوں کو تھام چکی تھی،
اپنے ہاتھوں میں بھر کر جیسے اس کے دل کا بوجھ سمیٹنا چاہتی ہو۔
اس کی آنکھوں میں نرمی تھی ۔ وہی نرمی جو صرف بےغرض محبت میں دکھائی دیتی ہے۔
خاموش تسلی، بغیر الزام، بغیر شکوہ… صرف موجودگی، صرف تسلی۔

“میری غلطی ہے نا… کہ میں ان کی اولاد ہوں…”
زارم کی آواز مدھم تھی، جیسے اپنے ہی لفظوں کے نیچے دب گئی ہو۔
“چاہوں یا نہ چاہوں… میری زندگی ہمیشہ ان کے اردگرد گھومتی رہے گی۔”
ہر لفظ جیسے کسی پرانے زخم کو تازہ کر رہا تھا،
“میرے شرمندہ ہونے کے لیے… اتنا ہی کافی ہے۔”
وہ نظریں جھکائے بیٹھا تھا،
آنکھوں میں خاموش دکھ،
جیسے اپنی ہی پہچان سے بوجھل ہو۔

اس کی آواز میں وہ تھکن تھی جو برسوں سے چپ رہ کر جمع ہوتی ہے ۔
نہ کوئی شکوہ، نہ کوئی گلہ،
بس ایک تسلیم… جیسے قسمت کا فیصلہ مان لیا ہو۔
“پلیز، خود کو قصوروار مت سمجھو… تمہارا کوئی قصور نہیں ہے۔”
ملیحہ نے آہستگی سے کہا، جیسے اس کی تھکی ہوئی روح کو تسلی دینا چاہتی ہو۔

“ہاں، مگر زارم… میں ایک بات ضرور کہنا چاہتی ہوں۔”
اس کا لہجہ جھجکتا ہوا، مگر دل سے نکلا ہوا تھا،
“پتہ نہیں کیوں… آج تمہاری اماں کی باتوں سے میرا دل لرز گیا ہے۔
مجھے نہیں معلوم کیوں، لیکن ایسا لگتا ہے جیسے وہ ضرور کوئی بڑا کھیل کھیلنے والی ہیں۔
ان کے دماغ میں کچھ نہ کچھ ضرور چل رہا ہے…
اور اگر واقعی انہوں نے مجھے تم سے الگ کر دیا تو…؟”
ملیحہ کی آواز کانپ رہی تھی۔
وہ بےچینی سے زارم کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
آنسو تو نہیں تھے، مگر آنکھوں میں ایسا خوف تھا جو آنکھوں کے باہر آنے کی ہمت نہ کر سکا۔
جیسے دل میں طوفان تھا اور لبوں پر صرف ایک سوال۔
مگر تب…
زارم کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔

ملیحہ چونک گئی۔
اس کی آنکھوں میں حیرت تھی ۔
یہ کیسی مسکراہٹ تھی؟
ایسی گھڑی میں… جب دل دھڑکنے سے ڈر رہا ہو…
کیا یہ یقین تھا؟
یا کوئی ایسا جواب… جو صرف ایک مسکراہٹ میں چھپا ہو؟

“ہنس کیوں رہے ہو؟”
ملیحہ نے الجھن سے پوچھا، گویا آنکھوں میں سوالوں کے بادل سمٹ آئے ہوں، پلکیں سکیڑتے ہوئے وہ یوں بولی جیسے کسی راہ چلتے پرانی یاد نے قدم روک دیے ہوں۔

“اس لیے ہنس رہا ہوں کہ محبت انسان کو سچ میں کمزور کر دیتی ہے۔”
اس کا لہجہ جیسے بہار کی پہلی بارش ہو، جو سکون تو دیتی ہے مگر دل کے اندر ایک نمی بھی بھر دیتی ہے۔
“کل تک صرف میں تمہیں کھو دینے، تمہارے دور ہونے کے ڈر سے گھبرا جاتا تھا، مگر آج وہی گھبراہٹ مجھے تمہاری آنکھوں میں بھی نظر آ رہی ہے۔”
اس کی آواز میں ایک ایسی جیت کی رمق تھی جیسے صحرا میں مسافر کو دور کہیں پانی کی جھلک دکھائی دے۔
“خوشی ہوئی جان کر کہ تڑپ دونوں طرف برابر ہے۔”
وہ شوخی سے مسکرایا، اس کی مسکراہٹ چاندنی رات کی مانند نرم اور بےساختہ تھی، ہلکا سا کندھا اس کے کندھے سے یوں ٹکرایا جیسے ہوا کا جھونکا کسی چراغ کو چھیڑ دے، انداز میں شرارت بھری اپنائیت تھی۔

“اف مائی گاڈ! تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا، اتنی پریشانی میں بھی تمہیں رومانٹک باتیں سوجھ رہی ہیں۔”
ملیحہ نے سر تھام کر بےبسی سے کہا، گویا وہ کسی بچے کی ضد پر مسکرا دی ہو، مگر چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آ ہی گئی، جیسے شام کے دھندلکے میں امید کا ایک جگنو ٹمٹما اٹھے۔
“ہائے، کیا کروں! میں تھوڑا سا رومانٹک بندہ ہوں… ہر ماحول میں ایڈجسٹ ہو کر رومانٹک ہو جاتا ہوں۔”
زَرام نے کندھے اچکاتے ہوئے شرارت سے جواب دیا، آنکھوں میں چمک اور ہونٹوں پر شوخ مسکراہٹ تھی۔

“ہمیشہ سے مسکراتی رہا کرو، مجھے میرا پٹاخہ ہنستا، مسکراتا اور جھگڑتا ہوا اچھا لگتا ہے… خاموش، سیریس، سر جھکائے پریشان نہیں۔”
زَرام نے نرمی سے کہتے ہوئے اُسے اپنے قریب کیا اور گلے سے لگا لیا، انداز میں بھرپور محبت تھی۔

“مگر مجھے پتہ نہیں کیوں ڈر لگ رہا ہے۔”
“پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان شاءاللّٰہ، جس رب نے ہمیں ملایا ہے، وہ ہمیں ہمیشہ ساتھ بھی رکھے گا۔”
زَرام نے گہری سانس لیتے ہوئے اعتماد سے کہا، اُسے تسلی دینے میں کامیاب تو ہو گیا، مگر خود اپنے ذہن سے ماں کی تلخ باتیں نکال نہیں پایا۔
اُس کے کانوں میں وہ الفاظ ابھی تک گھوم رہے تھے۔

کاش اماں آپ میرے دکھ کو سمجھ سکتی … کہ مجھے کتنی تکلیف ہوتی ہے آپ کا یہ روپ دیکھ کر… کیوں آپ عام ماؤں جیسی نہیں ہیں؟ کیوں آپ خود کو اللہ کی بارگاہ میں گناہگاروں کی فہرست میں شامل رکھنا چاہتی ہیں؟ کتنا ظلم کریں گی؟ کتنے لوگوں کا دل توڑیں گی؟

زَرام ، نےسوچتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں… پلکوں کے نیچے نمی کا بوجھ بڑھ چکا تھا۔
دھوپ چھاؤں کی طرح گزری زندگی کی لمحے پلکوں کے پیچھے لرز رہے تھے، اور دل میں ایک ہی سوال تھا۔
کیا ماں باپ کا فرض اولاد کو پیدا کرنا ہوتا ہے اس کے بعد ان کا کوئی فرض نہیں رہتا۔کیوں ماں باپ کو اولاد کا طرز نظر نہیں آتا..؟
ہونٹوں پر زخم سا سکوت تھا… اور سانسیں جیسے کوئی پرانا قصہ دہرا رہی تھیں ۔
دھیمی، بوجھل، تھکی ہوئی… جیسے وہ بھی تھک چکی ہوں ماں جیسی ہستی سے لڑتے لڑتے۔
کاش کوئی میری خاموشی کی چیخ سن سکتا…
کاش کسی کو نظر آتا کہ میری مسکراہٹ کے پیچھے کتنی تھکن چھپی ہے…
سانس لینا بھی اب جرم لگنے لگا ہے، جیسے جینا میرے حصے میں آیا ہی نہ ہو…
کمرہ خاموش تھا… مگر دل میں طوفان بپا تھا…
اس کا دل اس سے سوال کر رہا تھا ۔ “تو کب تک چپ رہے گا؟ کب تک سہتا رہے گا؟”
ایک طرف ماں… اور دوسری طرف وہ اندر کا زخم جو کبھی بھرنے والا نہیں…”جن لوگوں کی زندگی آپ لوگوں نے خراب کی میں ان کے سامنے نظریں اٹھانے کے لائق نہیں, مگر ایک میرے گھر والے ہیں جن کو کوئی شرمندگی نہیں۔”
زَرام دل میں اپنے ہی گھر والوں کے بارے میں سوچتے ہوے شرمندہ ہو رہا تھا۔کمرے میں درد کسی ان دیکھے بادل کی طرح بکھرا ہوا تھا، جو ہوا میں نمی کی مانند ہر سمت موجود تھا۔ مگر ملیحہ اس دکھ کی بارش سے بے خبر تھی، جیسے دھوپ میں کھڑا کوئی شخص دور آتے بادلوں کو نہ دیکھ سکے۔ زَرام نے اپنے دل کے زخموں پر ہنسی کی چادر ایسے اوڑھ لی، جیسے خزاں زدہ درخت ہریالی کا خواب دکھا دے، بس اس لیے کہ ملیحہ کے چہرے پر اداسی کا سایہ نہ اترے۔
زَرام کی مسکراہٹ، جیسے ٹوٹے ہوئے آئینے پر چمکتا ہوا سورج، جس کی روشنی چبھتی بھی ہے اور چھپاتی بھی۔
ملیحہ کے سامنے وہ اپنے درد کو یوں چھپا رہا تھا، جیسے کوئی اندھیری رات اپنے اندر گرجتے بادلوں کو سمیٹ کر چپ چاپ گزر جائے۔۔
°°°°°°°°°°
“مہرو کو بخار تھوڑا نہیں، گویا آگ کی طرح تیز تھا۔ شاید جب وہ کچن میں گئی تھی، تب بخار سرسراتی ہوا کی مانند بدن پر دستک دے رہا تھا، مگر اب وہ کسی دہکتے تنور کی طرح پورے وجود کو جلا رہا تھا۔ سکینہ چائے بنا کر لا چکی تھی اور زبردستی دو بسکٹ، گویا نرمی سے بہلاتی ہوئی ماں کی مانند، مہرو کو کھلانا چاہ رہی تھی تاکہ دوا دی جا سکے۔ مگر مہرو، ضدی بچے کی طرح، بخار میں تپتے ہوئے، بسکٹ کھانے سے صاف انکار کر رہی تھی۔”
مہرو بسکٹ کھانے سے ایسے ضد کر رہی تھیں جیسے کوئی معصوم بچہ منہ پھیر کر نوالہ کھانے سے انکار کر دے،
جبکہ سکینہ بسکٹ ہاتھ میں لیے یوں ہلکان ہو رہی تھی جیسے کسی ماں کا دل تڑپ رہا ہو کہ بچہ کچھ کھا لے تاکہ دوا دے سکے۔

“پلیز بھابھی… کھا لیں بس دو چھوٹے چھوٹے بسکٹ…”
وہ چائے کے کپ کو کانپتے ہاتھوں میں تھامے، نرم مگر پُرخلوص لہجے میں گویا ہوئی،
“آپ کوشش کریں گی تو کھا سکیں گی، پھر میں دوا دے دوں گی… مجھے سچ میں آپ کی فکر ہو رہی ہے… اگر اپ نے میری بات نہ مانی.؟تو میں رو دوں گی۔”

سکینہ کی آواز بھیگ چکی تھی، آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی، وہ ہر لمحہ چائے میں بسکٹ بھگو کر مہرو کے منہ کے سامنے کر رہی تھی جیسے وہ صرف ایک ملازمہ نہیں، ایک دوست ہو، بہن ہو، جو مہرو کا دکھ اپنی سانسوں پر محسوس کر رہی ہو۔
کمرے کی خاموشی میں صرف اس کے جذبے بول رہے تھے… ایک خدمت گزار دل جس نے مہرو کی تکلیف کو اپنے دل پر اوڑھ رکھا تھا۔
“سکینہ، کیوں ضد کر رہی ہو؟”
مہرو نے کمزوری سے آنکھیں کھولیں اور تھکے ہوئے لہجے میں کہا،
“جب میں نے کہہ دیا کہ مجھے نہیں کھانا، تو پھر کیوں زبردستی کر رہی ہو؟
میرا دل نہیں چاہ رہا… لے جاؤ یہ سب۔
مجھے صرف بخار کی دوا دے دو، میرا سر درد سے پھٹا جا رہا ہے۔”

اس کی آواز میں تھکن، بے بسی اور تکلیف سب عیاں تھیں، جیسے ہر لفظ کے ساتھ وہ اپنا بوجھ ہلکا کرنا چاہ رہی ہو، مگر بدن کی ناتوانی زبان سے چھلک رہی تھی۔
کمرے میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی، صرف دل کی دھڑکن اور درد کی چاپ سنائی دے رہی تھی۔
سکینہ کی ضد اب بھی جاری تھی، مہرو نے تھکے ہوئے انداز میں رخ موڑا ہی تھا کہ دروازہ یوں چرچرایا جیسے خاموشی پر کسی نے آہستہ سے دستک دی ہو۔ زیغم سلطان اندر آیا تو لگا جیسے کمرے میں ٹھہراؤ آ گیا ہو۔ شلوار قمیض میں ملبوس، گلے میں سندھی اجرک ڈالے، وہ ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئی شام کا سایہ وقار سے اتر آیا ہو۔”
زیغم سلطان کی آنکھوں میں جیسے ہی کمرے کا منظر اترا، ایک گہری سی پریشانی کی پرچھائیں جھلکنے لگی۔ وہ ابھی لب کھولنے ہی والا تھا کہ سکینہ یوں سیدھی ہو کر کھڑی ہو گئی جیسے کسی تیز ہوا نے چراغ کے پاس آتے ہی شعلہ سنبھال لیا ہو۔ چادر کو اس نے یوں سنوارا جیسے عزت کا پردہ سرک نہ جائے۔ مہرو نے بیڈ پر کروٹ لی،
اور جیسے ہی نظر زیغم پر پڑی، ہونٹوں پر وہ مسکراہٹ اُبھر آئی جو اپنوں کو دیکھ کر دل کے سکون سے خودبخود آ جاتی ہے۔

زیغم نے یوں گھبرا کر قدم آگے بڑھایا جیسے دل کی دھڑکن اچانک قدموں میں اتر آئی ہو۔
“کیا ہوا ہے مہرو؟”
مہرو کے تپتے چہرے کو دیکھ کر وہ اس گھنے سائے کی طرح لپکا جو اپنے پیار کو دھوپ میں تنہا نہیں چھوڑتا۔ لمحے بھر میں بیڈ پر بیٹھ کر اس نے اپنا ہاتھ اس کے ماتھے پر رکھ دیا، جیسے جلتے صحرا میں کسی نے نرم سا بادل رکھ دیا ہو۔
“بھابھی کو بہت تیز بخار ہے، سائیں… اور یہ کچھ کھا نہیں رہیں…”
سکینہ نے پریشان ہو کر جلدی جلدی وضاحت دی،
“میں دوا دینا چاہ رہی تھی، مگر یہ تو ضد پر اَڑی ہیں سائیں…”
اس کے لہجے میں بےبسی کی نمی تھی،
اگر یہ ضد کر رہی تھی، کچھ کھا پی نہیں رہی تھی، تو … سکینہ، آپ کو مجھے فون کر کے اطلاع دینی چاہیے تھی۔ زیغم نے نرم مگر سنجیدہ لہجے میں کہا ۔
“معاف کیجئے سائیں، یہ بات میرے ذہن میں نہیں آئی۔ آئندہ دھیان رکھوں گی۔” سکینہ نے شرمندہ لہجے میں نظریں جھکاتے ہوئے جواب دیا۔

’’نہیں، نہیں… سکینہ کی کوئی غلطی نہیں ہے۔‘‘ مہرو نے بمشکل ہمت جمع کرتے ہوئے کہا،
’’سکینہ، تمہیں معافی مانگنے کی ضرورت نہیں… تم تو میری فکر کر رہی تھی، دوا دینا چاہتی تھی، میں نے ہی نہیں کھائی…‘‘
اس کا لہجہ تھکا ہوا مگر سچا تھا، بخار کی شدت نے آواز کو دھیما کر دیا تھا، مگر اس کے جملوں میں سکینہ کے لیے تشکر اور محبت چھلک رہی تھی۔

’’آپ…آپ سکینہ پر ناراض مت ہوں، پلیز…‘‘ وہ سرک کر اٹھتے ہوئے زیغم کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔

” مہرو… ریلیکس ہو جاؤ، میں کچھ نہیں کہہ رہا تمہاری سکینہ کو…”
زیغم نے نرمی سے اس کے کندھوں کو سہارا دیتے ہوئے واپس تکیے سے لگا دیا،
“پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے…” اس کی آواز میں وہی مان تھا، جو زخمی دل پر مرہم رکھتا ہے۔
زیگم نے نظریں اٹھا کر سکینہ کی جانب دیکھا،
“سکینہ، آپ جائیں، میں ہوں یہاں… اگر کسی چیز کی ضرورت ہوئی، تو آپ کو بلا لیں گے۔”
زیغم کے نرم مگر باوقار لہجے پر سکینہ نے خاموشی سے اثبات میں سر ہلایا،
دروازے کی طرف بڑھی، ایک لمحے کو پلٹی، ایک نظر مہرو کو دیکھا،اور پھر آہستگی سے دروازہ کھول کر باہر نکل گئی…
“ہاں جی، ذرا مجھے یہ بتائیں کہ آپ کی طبیعت اتنی خراب ہوئی کیسے؟” زیغم نے نرمی سے اس کے چہرے پر جھکتے ہوئے اس کی لٹیں پیچھے کیں۔ بخار سے تپتا ہوا مہرو کا چہرہ، اور بھی حسین لگنے لگا تھا۔

“پتہ نہیں کیسے ہوئی، میں تو بس آپ کا انتظار کر رہی تھی۔ اور اچانک سے میرے سر میں بہت درد ہونے لگا، تو میں نیچے کچن میں چائے لینے گئی۔ پھر سکینہ نے بتایا کہ مجھے بخار ہے۔”
مہرونے معصوم بچے کی طرح اپنی بیماری کی وضاحت دی تو زیغم کے لبوں کو ہلکی سی مسکراہٹ نے چھو لیا۔
“اچھا جی! تو میری سرکار میرا انتظار کر رہی تھیں؟”
“مگر میرا انتظار کرتے ہوئے نہ آپ نے کھانے کا ہوش رکھا، نہ سونے کا۔ آپ کو مجھ پر رحم کیوں نہیں آتا؟ کیوں خود کو اس طرح بھوکا پیاسا رکھ کر مجھے تکلیف دیتی ہیں؟”اس کے لہجے میں خفگی کم اور محبت زیادہ تھی۔
“میں آپ کو تکلیف دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی، سائیں۔ بس آپ کے بغیر مجھے کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔”

مہرو نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔ لمس میں نہ کوئی زور تھا، نہ کوئی ضد… صرف ایک خاموش سی فریاد، ایک التجا جو الفاظ سے نکل کر انگلیوں کے راستے زیغم سلطان دل تک پہنچ رہی تھی۔

“تمہیں میرے بغیر تھوڑی دیر کے لیے رہنا بھی اچھا نہیں لگتا؟”
زیغم سلطان نے اس کے ہاتھ تھامے رکھتے ہوئے نرمی سے پوچھا، مگر آنکھوں میں چھپی شکوہ بھری اداسی نمایاں تھی۔
“تو ذرا سوچو… جب تم اپنے ساتھ اس طرح لاپرواہی برتتی ہو، تو مجھے کیسا محسوس ہوتا ہوگا؟ جانتی ہو نا، اس وقت میرا وہاں ہونا کتنا ضروری تھا؟”
مہرو نے شرمندگی سے سر جھکا کر آہستہ سا اثبات میں ہلایا۔

“تو پھر تمہیں اپنا خیال رکھنا چاہیے تھا۔ کھانا بھی کھانا چاہیے تھا… اور تھوڑا سا آرام بھی کرنا چاہیے تھا ۔”
وہ اس کے چہرے کو تھوڑا سا اوپر کرتے ہوئے نرم لہجے میں بولا، “اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا، جیسے ہی فارغ ہوتا ہوں، فوراً تمہارے پاس آتا ہوں۔ تمہارے پاس آنا، تمہارے ساتھ وقت گزارنا… یہ صرف تمہاری خواہش نہیں ہے، مہرو۔
یہ میرے دل کی تمنا ہے… میری اپنی خواہش۔ اور زیغم سلطان اپنی خواہشات کا بہت احترام کرتا ہے۔”
“معاف کر دیجئے سائیں، آئندہ دھیان رکھوں گی۔
“اب ایک اور ظلم کر رہی ہو… معافی مانگ کر۔”
“مجھے کبھی تمہارے لبوں سے معافی کا لفظ سننے کی خواہش نہیں رہی… اور نہ ہی کبھی ہوگی۔ بس اپنا خیال رکھو۔ اور میرے اس دھڑکتے دل میں جو تمہاری محبت چھپی بیٹھی ہے، اس کا جواب محبت سے دینا… یہ تم پر فرض ہے، لازم ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیئے مجھے۔”

اس نے نرمی سے اس کی ہتھیلیوں کو لبوں سے لگایا، اور کچھ لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا۔
اس کے تپتے ہوئے ہاتھ، جو پریشانیوں راحت پہنچا تھے، فضا میں ایک خاموش سی تڑپ گونجی، جو صرف دل ہی محسوس کر سکتے تھے۔
مائد بھائی آپ سے ناراض کیوں تھے؟ کیوں آپ پر غصہ کر رہے تھے اور کیوں۔؟

“ششششش۔۔۔”
زیغم نے نرمی سے اس کی بات کاٹ دی، ہتھیلی سے اس کے لبوں پر انگلی رکھتے ہوئے، جیسے اس کی بےچین سوچوں پر سکون کی مہر لگا دی تھی ۔

“سرکار! یہ باتیں آپ کے سوچنے کی نہیں ہیں۔”
وہ نرمی سے بولا، لہجہ اتنا پرخلوص تھا کہ دل خودبخود ٹھہرنے لگا۔
“آپ آرام کریں، کھائیں، پئیں، اور صرف میری فکر کریں۔ جہاں تک مائد بھائی کی ناراضگی کی بات ہے، وہ تو ٹھیک ہو چکے ہیں۔ وہ زیادہ دیر مجھ سے ناراض نہیں رہ سکتے۔ میرے خیال میں آپ نے یہی بات دل پر لے لی ہے اور اپنی یہ حالت بنا لی ہے۔”
زیغم نے نرمی سے جھک کر اپنا ماتھا اس کے ماتھے سے ٹکا دیا، جیسے اپنی ساری بے قراری، سارا دکھ، اور ساری محبت اس ایک خاموش لمس میں سمو دینا چاہتا ہو۔

“بس… اب اور کچھ نہ سوچو، مہرو…” اس کی آواز میں ایسی نرم دھیمی حرارت تھی جو سینے کے درد کو موم کر دیتی ہے۔

“اب مجھ پر تھوڑا سا رحم کھائیں، یہ بسکٹ کھائیں۔۔۔ اور اس کے بعد میں آپ کو دوا دوں گا۔”
لہجے میں تشویش کی ہلکی سی تھرتھراہٹ تھی، اور آنکھوں میں اس کی صحت کے لیے بےپناہ فکر۔
“نہیں، مجھے نہیں کھانا… میرا سچ میں دل نہیں چاہ رہا۔”
مہرون نے بچوں جیسا منہ بنایا، آنکھوں میں نمی اور چہرے پر ایک معصوم سی بے بسی لیے۔
“ٹھیک ہے… اگر تم یہ بسکٹ کھا کر چائے پی کر دوا نہیں لو گی،
تو میں سمجھ جاؤں گا کہ مہرو کو نہ میری فکر ہے اور نہ مجھ سے پیار!”
زیغم سلطان نے ذرا سا ناراضگی سے مصنوعی چہرہ بنایا اور آہستگی سے تھوڑا دور ہو کر بیٹھ گیا،۔
“ایسا بالکل نہیں ہے… مہرو آپ سے بہت پیار کرتی ہے!”
وہ بے قراری سے اپنے جہاں سے اٹھ کر اس کے قریب آئی اور دل کی گہرائیوں سے بولی،
مگر اگلے ہی لمحے جیسے اسے اپنے لفظوں کا ادراک ہوا،
وہ جھینپ کر شرم سے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا گئی۔
لبوں پر خجالت کا تبسم تھا، اور رخساروں پر حیا کی لالی جیسے گلاب کی پنکھڑیوں پر صُبح کی کرنیں۔

“ایک بار پھر سے کہو… مہرو مجھ سے پیار کرتی ہے؟”
زیغم نے مصنوعی ناراضگی کا لبادہ اتارتے ہوئے جلدی سے اس کی نرمی سے تھامی ہوئی ہتھیلیاں اس کے چہرے سے ہٹا دیں۔
وہ آنکھیں میچے، شرم سے پلکوں کے نیچے چھپتی جا رہی تھی۔
زیغم نے دھڑکتے دل کے ساتھ سرگوشی کی،
“پلیز مہرو، دوبارہ کہو… تم نے ابھی کیا کہا تھا؟”
اس کی آواز میں التجا تھی، آنکھوں میں چمک، اور دل میں صرف ایک خواہش کہ وہ لمحہ پھر سے سنے… الفاظ وہی، مگر اس بار مکمل ہوش میں، مکمل احساس کے ساتھ۔
“آپ مجھے دوا دے دیں، میں کھا لوں گی… چائے بھی پی لوں گی، اور ہاں… بسکٹ بھی کھا لوں گی۔”

وہ نرمی سے بولی، اس کی نظروں کی تپش سے بچنے کے لیے وہ سب کچھ مان گئی تھی۔ مگر اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ چھپی تھی، جس میں شرم بھی تھی اور بےبسی بھی۔
زیغم کی نظروں سے بچنے کے لیے وہ جان بوجھ کر ہلکی پھلکی باتیں کر رہی تھی، تاکہ اپنے دل کی حالت چھپا سکے۔
ورنہ حقیقت یہ تھی کہ دل کی کیفیت ایسی تھی کہ دوا، چائے یا بسکٹ… کچھ بھی معنی نہیں رکھتا تھا، بس زیغم کی موجودگی اور توجہ ہی اس وقت سب کچھ تھی۔
“یہ لیجیے… چائے اور یہ لیں بسکٹ… وہ سائیڈ ٹیبل سے اٹھا کر اس کے سامنے کر چکا تھا۔”
پھر تھوڑا جھک کر محبت بھرے انداز میں اس کی آنکھوں میں دیکھتے بولا،
“اپنے ہاتھوں سے کھلاتا ہوں، مگر…”
وہ لمحے بھر کو رکا، پھر آنکھوں میں شرارت اور دل میں شدت لیے بولا،
“جو اقرار ابھی تم نے کیا، اسے دوبارہ کرو… کیا میری خوشی کے لیے میری مہرو اتنا نہیں کر سکتیں ؟”
زیغم کی آواز میں ہلکی سی ضد تھی، وہ جان بوجھ کر اُسے چھیڑ رہا تھا ۔
مگر نگاہوں میں وہی سنجیدگی تھی جو صرف محبت کے لمحوں میں ہوا کرتی ہے۔

“مجھے شرم آتی ہے۔” مہرو نظریں جھکائے بولی۔
“اپنے ہی شوہر سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے کیسی شرم؟”
زیغم نے مسکرا کر پوچھا۔

“بس… مجھے آتی ہے۔”

“سوچ لو تمہارا شوہر ہوں … اگر میری بات نہیں مانو گی تو اللہ سزا دے گا۔”

“نہیں اللہ مجھے سزا نہیں دیں گے …
“کیوں نہیں دیں گے۔؟ زیغم نے تجسس سے پوچھا..
کیونکہ میرے اللہ کو پتا ہے، مجھے سچ میں شرم آتی ہے۔میں جھوٹ نہیں بول رہی۔”وہ نرمی سے ، اپنی سچائی کو لفظوں میں سمیٹتے ہوئے۔ساتھ میں زیغم کے ہاتھ سے بسکٹ کھا رہی تھی۔

“اچھا جی؟ مطلب تم میری بات ماننا ہی نہیں چاہتی؟”
وہ ہنستے ہوئے بولا، اور اسی دوران اپنے ہاتھوں سے اس کے لبوں کے قریب بسکٹ لایا۔ زیغم نے باتوں ہی باتوں میں اسے دو بسکٹ کھلا دیے۔ پھر چند گھونٹ چائے پلانے کے بعد پرسکون انداز میں دوائی نکالی۔وہ یہی تو کرنا چاہتا تھا کہ مہرو کو باتوں میں لگا کر پیار سے اسے دوا کھلائے نہ کہ زبردستی اور وہ یہ سب کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔
باتیں بارش کی بوندوں کی طرح برستی رہیں، موسم جیسے مہرو کے چہرے کی نرم شفاف مسکراہٹ جیسا ہو گیا۔ زیغم کا انداز کسی پُرسکون ندی کی روانی سا تھا، جو ہر لمحہ اس کے دل کو چھو رہا تھا۔ اس کی محبت میں وہ جادو تھا جو روح کو بھی راحت دیتا ہے۔

اور مہرو…؟
اسے تو خبر ہی نہ ہوئی کب زیغم کے ہاتھوں سے وہ دو نہیں، پانچ چھ بسکٹ کھا گئی۔ کب چائے کا بھرا مگ ہاتھ سے ہونٹوں تک گیا اور کب دوا بھی حلق سے اتر گئی۔
یہی تو خاصیت ہوتی ہے محبت کرنے والے شوہر کی…
جو لفظوں سے پہلے دل کو منالے،
جو زبردستی نہیں، صرف چاہت سے دوا بھی ہضم کرا دے۔
محبت اگر زیغم جیسی ہو…
تو وہ صرف بیماری ہی نہیں، تقدیر کے سارے دکھ بھی ٹھیک کر دیتی ہے۔

“چلو جی! اب سرکار نے دوا بھی کھا لی ہے تو اب صرف آرام کی اشد ضرورت ہے۔ اب تم بغیر کسی ضد کے آرام کرو گی تاکہ بخار نرمی سے اتر سکے۔ میں یہیں ہوں، تمہارے پاس… بخار اتارنے کے لیے تمہاری پیشانی پر پٹیاں رکھوں گا۔ تم خاموشی سے، اچھے بچوں کی طرح آنکھیں بند کر کے لیٹی رہو گی۔ نہ کوئی بحث، نہ کوئی نخرہ… اور یاد رکھنا، جب تم ٹھیک ہو جاؤ گی، تو میرا اظہارِ محبت ابھی ادھار ہے، وہ میں بھولنے والا نہیں ہوں۔”وہ سائیڈ ٹیبل پر چائے کا مگ اور ڈش رکھتے ہوئے واپس اس کے پہلو میں بیٹھ گیا۔…اور نرمی سے اسے تکیے پر سیدھا لٹاتے ہوئے، زیغم نے سلیقے سے وائٹ کاٹن کی پٹی کو پانی سے نچوڑا، پھر محبت سے اس کے ماتھے پر رکھ دی۔

اس کے لمس میں ایک سکون تھا، ایک ایسی خاموش زبان جو لفظوں کے بغیر سب کہہ رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *