Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:47
راز وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر: 47
°°°°°°°°
دانیا یوں آنکھیں موندے لیٹی تھی جیسے خزاں کا کوئی اداس پتہ زمین سے لپٹا خاموشی کی چادر اوڑھے سو گیا ہو۔ دروازے کی چرچراہٹ اور ٹھک کی آواز یوں گونجی جیسے رات کی خاموشی میں کوئی سوال سرگوشی کر گیا ہو۔ اور جو خوشبو اس کی سانسوں سے ٹکرائی تھی، وہ تو ایسی تھی جیسے موسمِ بہار کی پہلی ہوا میں کسی پرانے لمس کی یاد گھل جائے۔ مائد خان کی قربت میں وہ خوشبو دانیا کی سانسوں میں کچھ یوں رچی بسی تھی جیسے بارش کے بعد مٹی میں مہک۔ مگر وہ پھر بھی یوں چپ چاپ لیٹی رہی جیسے کوئی بے جان پتھر، جو سب کچھ محسوس تو کرتا ہے… مگر ظاہر نہیں ہونے دیتا۔
مائد آہستہ آہستہ چاندنی رات میں تیرتے بادل کی طرح اس کے قریب آیا، جیسے کوئی خوشبو ہوا میں تحلیل ہو کر کسی مانوس دل کے آس پاس ٹھہر جائے، اور کچھ فاصلے پر خاموشی سے کھڑا ہو گیا، جیسے وقت خود ایک پل کے لیے رک گیا ہو۔
مائد خان کی محبت بھری نظروں کی تپش دانیا اپنے چہرے پر ایسے محسوس کر رہی تھی جیسے تپتے سورج کی حدت کسی نازک کلی پر اتر آئے، وہ سانسیں روکے ہوئے تھی، جیسے ہلکی سی آہٹ بھی اس پل کی سحر کو توڑ دے گی۔
“محبوب کو جب یہ اندازہ ہو جائے کہ سامنے والا اس کی محبت میں تڑپ کر مر بھی سکتا ہے… تب وہ محبوب نہیں رہتا، ظالم بن جاتا ہے… سنگ دل بن جاتا ہے۔”
مائد نے یہ لفظ ایسے نرمی سے ادا کیے جیسے ریشم کسی زخم پر رکھ دی جائے… مگر ان لفظوں میں چھپی شدت دانیا کے دل کو چیر گئی۔مائد اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ جاگ رہی ہے، ابھی کچھ لمحے پہلے ہی تو مورے اور آغا جان اس سے مل کر گئے تھے۔۔
کچھ لمحے گزرے۔ پھر دانیا نے اسکی محبت بھری نظروں کی تپش محسوس کی، اور آخرکار آنکھیں کھول دیں۔
“آپ کو بھی گھر چلے جانا چاہیے تھا۔ یہاں سٹاف ہے میرا خیال رکھنے کے لیے۔ اور ویسے بھی… مجھے تو پاگل پن کے دورے پڑتے رہیں گے۔ آپ گھر جا کر آرام کریں۔”
آواز میں طنز کی تلخی تھی۔
مائد نے اس کی بات کو نظرانداز کرتے ہوئے قدم اس کے اور قریب بڑھا دیے۔
“طبیعت کیسی ہو تم؟ کیسا محسوس ہو رہا ہے اب؟”
“میں نے کہا نا، آپ کو یہاں نہیں رکنا چاہیے۔”
دانیا نے وہی بات دہرائی۔
مائد نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھاما، جسے دانیا نے جھٹک کر چھڑوانے کی کوشش کی۔
“یہاں رکنا ہے یا نہیں یہ فیصلہ تو میں کروں گا ۔ تم بس اپنی طبیعت کا حال بتاؤ۔”
“میری طبیعت ٹھیک ہے۔ مجھے کیا ہونا ہے؟”
“اچھا؟ تمہیں کچھ نہیں ہوا؟ اور میری جو جان سولی پر لٹکی رہی، اس کا کیا؟ ایسی حالت تھی تمہاری…”مائد کے لہجے میں فکر تڑپ نظر ارہی تھی۔
“مت اپنی جان کو میرے لیے سولی پر لٹکایا کریں۔”
دانیہ کی آواز میں خفا پن تھا۔
“کیوں؟ اتنی سنگدلی سے جواب دے رہی ہو؟”
“کیونکہ آپ میرے بھائی کے ساتھ جو کچھ کر رہے تھے، وہ میں برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ آپ تو… انہیں مارنے والے تھے!”
مائد کا چہرہ ایک دم سنجیدہ ہو گیا، آواز بھاری ہوئی۔
“جانا! ایسا سوچا بھی کیسے؟ آپ کے بھائی میں میری جان بستی ہے۔ وہ میرا بیسٹ فرینڈ ہے۔ خون کا رشتہ نہیں، لیکن خون سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اس کے بغیر جینا سوچ بھی نہیں سکتا میں۔
ہاں، ناراضگی تھی۔ غلط فہمی تھی۔ ختم ہو گئی۔
مگر تم نے اس بات کا ایسا صدمہ لیا کہ یہاں اسپتال کے بیڈ پر پہنچ گئی ہو…
چلو، اب ان باتوں کو چھوڑو۔ ورنہ طبیعت اور خراب ہو جائے گی۔”
“دوبارہ میرے بھائی کے ساتھ ایسا سلوک کبھی مت کیجیے گا۔ میرے پاس زیادہ رشتے نہیں ہیں، جو ہیں… ان کو کھونا یا ان سے دوری برداشت کرنا میرے بس میں نہیں ہے۔”دانیا کی آنکھوں میں نمی تیر گئی۔
مائد نے اس کا ہاتھ محبت سے لبوں سے لگا لیا۔
“کبھی ایسی گستاخی نہیں ہوگی۔ تمہاری قسم!”
دانیا نے حیرانی سے دیکھا۔مات خان نے ایک لفظ نہیں کہا تھا سرام سے مان گیا۔۔۔
اس کی محبت خالص تھی شک نہیں کر سکتی تھی، مگر اپنے بھائی سے محبت نے اسے شک کرنے پر مجبور کیا تھا۔
“ٹھیک ہے، اب مجھے آرام کرنے دیں…”
اس نے آہستہ سے رخ موڑ لیا۔
مائد مسکرایا، آنکھوں میں شوخی اور محبت کا رنگ ابھر آیا۔
“تو کرو آرام… میں ہوں نا تمہارے پاس۔
مجھے… تمہیں دیکھنا ہے۔
بہت زیادہ دیکھنا ہے!”
مائد اس کے سامنے کھڑا تھا، اور اس کی نظروں سے محبت، شرارت اور جذبے صاف چھلک رہے تھے۔
“پلیز… مجھے سونے دیں۔”
دانیا نے شرم سے رخ موڑتے ہوئے مدھم آواز میں کہا۔
“سو جاؤ، کس نے روکا ہے؟”
مائد نے نرمی سے مسکراتے ہوئے جواب دیا، نگاہیں اس کے چہرے پر ٹکی تھیں۔
“اگر آپ اسی طرح مجھے دیکھتے رہے، تو نیند کیسے آئے گی؟”
اس کی آواز میں ہلکی جھنجھلاہٹ تھی، مگر لہجہ شرارتی تھا۔
“ایسے ہی سونا پڑے گا، کیونکہ میں تو ہٹنے والا نہیں۔”
وہ کندھے اچکاتے ہوئے تھوڑا اور جھکا۔
“یہ ہاسپٹل ہے!”
دانیا نے آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا، جیسے سنجیدگی سے ٹوکا ہو۔
“جانتا ہوں۔”
مائد نے آنکھیں سکیڑتے ہوئے دلکشی سے جواب دیا۔
“تو پھر…؟”
وہ سوالیہ انداز میں رکی۔
“تو پھر تم بھی آرام سے صوفے پر سو جاؤ۔”
اس نے مصنوعی سنجیدگی سے کہا۔
“آپ کے پاس کھڑے ہونے سے مجھے پریشانی ہو رہی ہے!”
دانیا نے نظریں چرائیں۔
“اپنی بیوی کو دیکھ رہا ہوں، اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟ دیکھنے دو نا…”
اس کی نظروں میں خلوص بھی تھا، تپش بھی۔
“ٹھیک ہے، کھڑے رہیے، ساری رات! مجھے کیا!”
دانیا نے رخ پھیر لیا، مگر ہونٹوں پر ہنسی دبی ہوئی تھی۔
“ہاں، تمہیں کیا؟ تم کون سا مجھ سے محبت کرتی ہو؟ سارا پیار تو بھائی کے لیے ہے، جس سے ناراض ہو کر بھی ناراض نہیں رہ سکتیں۔”
مائد کی آواز میں خفگی چھپی تھی، مگر دکھ سے زیادہ محبت بول رہی تھی۔
“آپ میرے بھائی پر طعنہ مار رہے ہیں؟”
وہ حیرانی سے پلٹی۔
“ہاں، بالکل۔ اگر بھائی کے لیے اتنا پیار ہے، تو شوہر کے لیے بھی تھوڑا سا بچا لیا کرو۔”
وہ جھک کر آہستہ سے اس کے ہاتھوں پر جھکا۔
دانیا کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ بکھر گئی۔
“تو کیا آپ کو بھائی والا پیار چاہیے؟”
اس نے شرارت سے آنکھیں تنگ کرتے ہوئے پوچھا۔
“جی نہیں، شرارتی لڑکی! بھائی بنے میرے دشمن۔ میں تمہارا شوہر ہوں، اور مجھے شوہر والا پورا پیار چاہیے!”
مائد نے آنکھ مار کر کہا۔
“ویسے، ہاسپٹل کے بیڈ پر آ کر آپ کچھ زیادہ ہی شرارتی ہو گئے ہیں!”
دانیا نے آنکھیں موند لیں اور شرم سے ہنس دی۔
مائد شرارت سے تھوڑا سا اور آگے جھکا۔
دانیا نے جلدی سے دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ کر خود کو چھپا لیا۔
کمرے میں مدھم پیلی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔
“مت دکھاؤ اتنی پیاری ادائیں… ہوش کھو بیٹھوں گا۔ اور یہ ہاسپٹل ہے، لحاظ بھی رکھنا ہے۔”
مائد نے آہستہ سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
قریب کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
خاموشی سے… محبت سے… وہ بس اسے دیکھتا رہا۔
رات دھیرے دھیرے سرکنے لگی…
اور اس خاموشی میں محبت کی سانسیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔
°°°°°°
زیغم سلطان فکرمندی کی لکیریں ماتھے پر سجائے گھر میں داخل ہوا۔ قدم جیسے بوجھل ہو چکے تھے۔
روم کا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا تو منظر اداس تھا۔
مہرالنساء بیڈ پر بیٹھی، ارمیزہ کے سر پر نرمی سے ہاتھ پھیر رہی تھی۔
پاس ہی سکینہ فرش پر بیڈ کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ زیغم کو دیکھتے ہی سکینہ تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“السلام علیکم سائیں!”
سکینہ نے مؤدب انداز میں سلام کیا۔اور جلدی سے کمرے سے چلی گئی۔
“وعلیکم السلام۔”
زیغم نے آہستگی سے جواب دیا، اور گلے میں پڑی اجرک کو بیڈ پر رکھتے ہوئے مہرو کی جانب دیکھا جو خاموش نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔
“السلام علیکم، کیسی ہے ارمیزہ؟”
زیغم نے نرمی سے مہرالنساء کو سلام کرتے ہوئے ارمیزہ کے جھکتے پیار دیا، اور اس کی خیریت پوچھی۔
“وعلیکم السلام ،ٹھیک ہے۔”
مہرالنساء نے مختصر جواب دیا، جو اس کے مزاج کے بالکل برعکس تھا۔
زیغم نے چونک کر مہرو کی طرف دیکھا، کیونکہ عام حالات میں وہ خاموشی سے نفرت کرتی تھی۔زیغم کو دیکھ کر تو اس کا چہرہ کھل جاتا تھا۔۔
“سرکار، آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟
زیغم نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بیٹی کے بالوں میں ہاتھ پھیرے اور نظریں مہرالنساء پر ٹکا ئے ہوئے پوچھا۔
“جی سب خیریت ہے؟”
آپ بتائیں، دانیا آپی کی طبیعت کیسی ہے؟”مہرو اب کی بار بھی مختصر جواب دیا اور دانیہ کی خیریت دریافت کی۔۔
“وہ ماشاءاللہ کافی بہتر ہے۔انشاءاللہ مزید بہتر ہو جائے گی ڈاکٹرز نے تسلی دی ہے۔
تم بتاؤ، دوا لی؟ کچھ کھایا؟”
“جی، دوا بھی لی اور کھانا بھی کھا لیا۔”
مہرو کی آواز اب بھی سپاٹ تھی، جیسے جذبات کا رنگ ہی مٹ چکا ہو۔
زیغم نے بیڈ کے ایک کنارے سے اٹھ کر دوسرے جانب بیٹھتے ہوئے نرمی سے اس کا ہاتھ تھام لیا،
اور اپنے قریب کر کے بازو اس کی کمر میں حائل کر دیا تاکہ وہ مزید دور نہ ہو پائے۔
“کیا بات ہے؟”
زیغم نے گہری نگاہوں سے اس کی خاموشی کو ٹٹولا، مگر وہ نظریں جھکائے بیٹھی رہی۔
“کچھ نہیں۔”
مہرو نے آہستہ سے کہا۔
“مہرو، میری طرف دیکھو۔ اگر گھر کی کسی بات سے پریشان ہو تو فکر نہ کرو، میں آ گیا ہوں۔ سب سنبھال لوں گا۔”
وہ اب بھی خاموش رہی۔
“مہرو، پلیز… مجھے بتاؤ۔ میں تمہیں اتنا تو جانتا ہوں، کچھ نہ کچھ ہے جو تمہیں اندر سے توڑ رہا ہے۔ میری سرکار، میری جان… بتاؤ گی تو سمجھ سکوں گا نا۔”
مہرو نے پلکیں اٹھائیں… اور زیغم کا دل کانپ گیا۔
اس کی گہری سیاہ آنکھوں میں نمی جھلک رہی تھی، پلکوں کے کنارے بھیگے ہوئے تھے۔
“مہرو پلیز مجھے بتاؤ کیا ہوا ہے زیغم نے بے قراری سے پوچھا…
“کیا ارمیزہ آپ کی بیٹی نہیں ہے؟”مہرو نے پلکے اٹھا کر پوچھا۔
زیغم ساکت ہو گیا۔
“ایسا تم سے کس نے کہا؟”
سخت لہجہ اور حیرت اس کے چہرے پر نمایاں تھی۔
“نایاب بی بی نے ارمیزہ سے کہا… آپ کو معلوم ہےارمیزہ کتنا رو رہی تھی۔
مجھ سے بار بار پوچھ رہی تھی کہ سچ کیا سچ میں آپ اس کے بابا نہیں ہے۔
اور میں… میں کیا بتاتی؟ میں تو خود کچھ نہیں جانتی۔
بس اتنا کہا کہ بابا آئیں گے تو ان سے پوچھوں گی۔”
“تم لوگ اس کی باتوں پر دھیان کیوں دیتے ہو۔اس عورت سے اور کیا توقع کی جا سکتی ہے، جب وہ دیکھتی ہے کہ گھر میں تھوڑا سکون ہے تو فوراً کوئی نیا تماشہ، نیا بکھیڑا کھڑا کر دیتی ہے تاکہ زیغم سلطان کے ساتھ جڑے رشتے کبھی چین سے نہ جی سکیں۔ اس کی زندگی کا یہی مقصد ہے۔”
زیغم کا لہجہ تھوڑا سخت ہو گیا تھا،مہرو آنکھوں میں عمرنے والے آنسو اب لفظوں کی شدت کے ساتھ بہنیں لگے۔
“اور تم اُسے بی بی مت بولا کرو… مجھے کوفت ہوتی ہے۔”
اس کے چہرے پر خفگی تھی، آواز میں دبی دبی الجھن۔ مہرو کی آنکھوں سے آنسو اور بھی تیزی سے بہنے لگے۔
“پلیز مہرو… میں تم سے خفا نہیں ہوں۔”
زیغم نے نرمی سے اسے اپنے سینے سے لگا لیا، اس کی آواز میں شفقت تھی، بازوؤں میں محافظ سا حصار۔
“یہ سب… الفاظ کی سختی… اُس کے لیے ہے جو اس گھر میں امن نہیں آنے دیتی۔”
اس کے لہجے میں وضاحت تھی، اور محبت… جو صرف مہرو کے لیے مخصوص تھی۔
“اس وقت تو آپ مجھ پر ہی غصہ کر رہے ہیں سائیں…”
“میں نے تو صرف اتنا پوچھا ہے کہ نایاب بی … نایاب نے ایسا کیوں کہا؟”
اس کی آواز لڑکھڑا گئی، سانس گھٹی، اور لب کپکپائے… “مہرو بی بی لفظ کو اپنے حلق میں دبا گئی تھی۔زیغم کبھی ذرا سا بھی اس سے ناراض نہیں ہوا تھا ذرا سی سختی پر وہ اندر سے سہم گئی تھی۔
“یہ معصوم سی بچی آنسوؤں میں بھیگ کر رو رہی تھی…”
اور اتنی بڑی بات کہنے کے پیچھے کیا وجہ تھی…”
اس کی نظریں زیغم کے چہرے پر ٹکی تھیں،کیونکہ ہر زخم کا مرہم وہی تھا۔اس کی آنکھیں سچ جاننے کو بےتاب تھیں۔
“اتنا تو میرا جاننے کا حق ہے نا سائیں؟”
اس کی آواز میں فقط درد نہیں، عزتِ نفس کی دہلیز پر کھڑا ایک سوال بھی تھا جس کا جواب صرف وہی دے سکتا تھا۔
” میری سرکار کی پریشانی کی وجہ یہ ہے… کہ ہماری بیٹی کی انکھوں میں آنسوں تھے۔”اس نے نرمی سے اس کے ہاتھ کو اپنی مٹھی میں لیا۔
“سن لو، مہرو… میں نے تم سے کبھی کچھ چھپایا نہیں، اور نہ چھپانا چاہتا ہوں۔اور نہ کبھی تم پر سختی کر سکتا ہوں ۔مگر کچھ سچ ایسے ہوتے ہیں جنہیں بتانے سے خود کو تکلیف ہوتی ہے۔ جنہیں زبان پر لانا بھی دل پر بوجھ بن جاتا ہے۔
کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے دل کو ایسا دکھ دیا کہ نہ ان سے نفرت ہو پاتی ہے، نہ محبت کا اظہار۔
ارمیزہ میری بیٹی ہے۔ یہ سچ دنیا کی کوئی طاقت نہیں بدل سکتی۔”
زیغم نے لمحے بھر کو رکا،اس کے لیے اس لمحے میں بھی ارمیزہ کی سچائی زبان پر لانا مشکل تھا۔
“ہاں، اگر تم خون کی بات کر رہی ہو،
تو وہ نایاب اور بہرام بھائی کی بیٹی ہے۔
بہرام بھائی مجھ سے بڑے تھے، اور ان کی شادی نایاب سے ہوئی تھی۔
ارمیزہ ان دونوں کی اولاد ہے۔
لیکن میں اسے اپنی بیٹی سے بڑھ کر چاہتا ہوں۔
اور میں یہ سچ اس پر ابھی واضح نہیں کرنا چاہتا۔جب وہ بڑی ہو گی، سمجھنے کے قابل ہو گی، تب سب بتا دوں گا۔
مگر ابھی میں صرف اس کی مسکراہٹ بچانا چاہتا ہوں۔اس سے زندگی کی تلخیوں سے دور رکھنا چاہتا ہوں۔”
زیغم نے مہرو کے چہرے کو نرمی سے تھام کر مقابل کیا۔۔
“اب ذرا میری طرف دیکھو اور مسکرا دو۔
زندگی میں پہلے ہی بہت کچھ بکھرا ہوا ہے ہے،تمہارا مسکراتا چہرہ زیغم سلطان کو جینے کی وجہ دیتا ہے۔تمہاری اداسی میری سانسیں روک دیتی ہے۔”
وہ آہستہ سے جھک کر اس کے ماتھے کو چھو گیا۔
“تو آپ اتنی سی بات پہلے ہی بتا دیتے، سائیں…”
مہرو کی پلکیں نم تھیں، آواز میں خفگی سے زیادہ نرمی تھی ۔ جیسے وہ خود پر خفا ہو۔
“نہ میں پریشان ہوتی، نہ ارمیزہ کو پریشان ہونے دیتی۔ معاف کر دیں سائیں، پتہ نہیں کیوں جذباتی ہو کر آپ سے سوال کر بیٹھیں، جب کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ، مجھے معاف کر دیں۔”
زیغم نے تھکے ہوئے لہجے میں گہری سانس کھینچی۔
“تم مجھ سے سب کچھ پوچھ سکتی ہو مہرو… حق ہے تمہارا۔ اور یہ حق میں نے خود تمہیں دیا ہے۔ بس ایک التجا ہے۔پریشان اور اداس مت ہو، پر سکون رہو۔ یہ سب میں سنبھال لوں گا۔”
زیغم کی آواز میں تھکن گھلی ہوئی تھی، جیسے وہ کئی راتوں سے سویا نہ ہو، اور کئی دنوں سے چین نہ پایا ہو۔
“آپ منہ ہاتھ دھو لیں ، میں آپ کے لیے کھانا منگواتی ہوں؟”
“نہیں، بھوک نہیں ہے۔ صرف آرام کرنا
۔۔۔۔۔
ہے… سر میں بہت درد ہے۔”
“چائے منگوا دوں آپ کے لیے؟”
“نہیں، چائے بھی نہیں۔ بس تم اپنے نرم ہاتھوں سے کچھ دیر میرا سر دبا دو… اور دوا دے دو۔”
“جی، ابھی دیتی ہوں۔”
مہرو فوراً اٹھی، میڈیکل باکس سے سر درد کی دوا نکالی، جگ سے پانی گلاس میں انڈیلا، اور خاموشی سے زیغم کے پاس آ کھڑی ہوئی۔
زیغم نے اس کی آنکھوں میں دیکھا، گلاس اس کے ہاتھ سے لیا، دوا لی، پانی پیا اور ایک پل کے لیے کچھ نہ بولا۔ مہرو نے خاموشی سے گلاس واپس رکھ دیا۔
“کچھ دیر میرا سر دبا دو، پلیز۔”
زیغم نے تکیے پر سر رکھ دیا۔
مہرو نرمی سے اس کے قریب بیٹھ گئی، مخملی ہاتھوں سے اس کا ماتھا دبانے لگی۔ زیغم نے ایک ہاتھ سے اس کا ہاتھ تھام کر سینے پر رکھ لیا، جیسے سکون وہیں تھا، ۔
کمرے میں مکمل سکون تھا، وقت جیسے تھم گیا ہو۔
کافی دیر تک وہ سر دباتی رہی، یہاں تک کہ نیند نے مہرو کو بھی اپنی آغوش میں لے لیا۔ وہ وہیں، زیغم کے پہلو میں، تھکن سے بے خبر سو گئی۔
زیغم کو بھی کچھ لمحے کے لیے نیند نے چھوا، مگر اچانک وہ جھٹکے سے جاگا۔ پیشانی پر بل تھے، آنکھوں میں تشویش۔
اب اسے چین نہیں تھا۔
دل، دماغ، اور ذات ۔ سب منتشر تھے۔
دانیا کی ناراضگی، اس پر ہونے والا پینی کا ٹیگ، نایاب کا اچانک سے بہرام والا راز افشا کرنا وہ سب جو برسوں سے دفن تھا، آج ایک معصوم بچی کے سامنے عیاں ہو چکا تھا۔
اور یہ نایاب نے کیوں کیا؟
زیغم کو سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
پھر توقیر اور شہرام کی پرانی حویلی سے اچانک گمشدگی…
رفیق کی خبر…
توقیر کی سچائی… زیغم نہ جانے کب سے اس سچ کی تلاش میں تھا جس کی خبر رفیق نے آج سنائی تھی۔مگر اس خبر کے پیچھے توقیر کی ایسی سچائی تھی جسے زینب نہ اگل سکتا تھا نہ نگل سکتا تھا۔زیغم نے محبت بھری نظروں سے مہرو کو دیکھا کئی سوال اس کے دماغ میں ایک ہی وقت میں گھوم رہے تھے۔۔
اور مائد خان کی جان کو لاحق خطرہ ۔ سب کچھ ایک ہی وقت میں زیغم پر آن پڑا تھا۔
وہ سب رشتوں کو سنبھالتے سنبھالتے…
خود کہیں بکھر گیا تھا۔
چپ چاپ، بےآواز انداز میں زیغم نے مہرو کا سر آہستہ سے تکیے پر رکھا، اس پر اور ارمیزہ اور مہرو پر چادر پھیلا دی،
پھر دبے قدموں سے بیڈ سے نیچے اترا کمرے سے باہر ٹیرس پر جا کھڑا ہوا۔۔
“رات کے خاموش اور ٹھنڈے لمس میں لپٹا منظر…”
چاندنی رات کا ایک سیاہی میں لپٹا پہر تھا…
ٹھنڈی ہلکی ہوائیں جیسے آسمان سے اتری کوئی نرم دعا ہوں، آہستہ آہستہ اس کے گرد لپٹ رہی تھیں۔
وہ ٹیرس کی آخری ریلنگ کے ساتھ کھڑا تھا… تنہا… مکمل خاموشی میں۔
محسوس ہی نہ ہوا کہ وہ کب آہستگی سے مہرو اور ارمیزہ کو سوتا چھوڑ کر اس پرسکون خلاء میں آ کھڑا ہوا تھا۔
فضا میں ایک عجیب سی نمی گھلی ہوئی تھی جیسے کسی روتے دل کی خوشبو۔
اس کی آنکھوں میں نمی تھی… مگر چہرہ خشک تھا۔
“زیگم سلطان” نام کا وہ مرد، جو بچپن سے لے کر پریشانیوں میں گرتا چلا گیا جوانی کی دہلیز پارک کی مگر دکھوں نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا۔مگر اس نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔مگر آج خود اپنے دل کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا۔
وہ خاموش کھڑا آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔
ستاروں کی چھوٹی چھوٹی ٹمٹماتی روشنیوں کے درمیان اس کا چہرہ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ بھی کسی امید کی جھلک تلاش کر رہا ہو۔
اندر کچھ ٹوٹا تھا، کچھ ایسا جو الفاظ کی حدود سے باہر تھا۔
آہستگی سے پلٹا… قدموں کی چاپ اتنی مدھم تھی جیسے زمین سے معذرت کر رہا ہو۔
کمرے میں گیا، وضو کیا…
پانی جیسے اس کے اندر کی آگ بجھا رہا تھا…
مہرو اور ارمیزہ گہری نیند میں سو رہی تھی۔
اس نے نہیں دیکھا تھا کہ رات کا کون سا پہر ہو گیا۔
نہیں دیکھا تھا کہ کیا ٹائم ہو رہا ہے۔
اس کا دل بس بے چین تھا۔
وہ اپنے رب کے سامنے، اپنے دکھوں کو لے کر جا کھڑا ہوا تھا۔
دو رکعت نفل ایسے ادا کیں جیسے کسی پیاسے نے صحراؤں میں پہلی بار پانی پایا ہو…
اور جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھے تو یوں لگا جیسے خزاں رسیدہ شاخیں پھر سے ہری ہونے کی فریاد کر رہی ہوں…
آنکھیں بند تھیں جیسے دنیا کی ہر روشنی سے کنارہ کر لیا ہو،
لب خاموش تھے جیسے درد نے صبر کی چادر اوڑھ لی ہو…
مگر دل۔وہ اپنے رب کے حضور اس طرح حاضر تھا
جیسے کوئی ٹوٹا ہوا تارا پھر سے آسمان پر لوٹنے کی دعا مانگ رہا ہو۔
“اے میرے رب… اے فلق کے رب…”
اس کے لبوں سے ایک بھی لفظ بلند نہ ہوا، مگر دل چیخ رہا تھا۔
“تو ہے جو ہر اندھیرے کو چیر کر روشنی لاتا ہے۔
تو ہے جو ہر حسد، ہر شر، ہر نظر بد کو دور کرتا ہے۔
تو ہی ہے جو دلوں کی ٹوٹ پھوٹ سنبھالتا ہے۔
میرے اندر کے اندھیرے کو بھی پرسکون کر دے…
اے میرے مالک… میری خطاؤں کو معاف فرما دے…
اے میرے اللہ! تیرا بندہ تھک چکا ہے… ہار گیا ہوں…
مجھ سے اب کچھ سنبھالا نہیں جا رہا… میرے لیے دشمنوں کو معاف کرنا ایک سزا بن گئی ہے…
آسان نہیں تھا انہیں معاف کرنا…
جنہوں نے میرے خون کے رشتے نوچ لیے، میری روح چھین لی…
مگر میں نے صرف تیری رضا کے لیے، اپنے دل پر پتھر رکھ کر… انہیں بھی معاف کر دیا…
پر اے میرے رب! وہ تو باز ہی نہیں آتے…
پھر سے سازشوں کے جال بُن رہے ہیں…
اگر یہ سازشیں صرف میرے خلاف ہوتیں،
تو میں چپ رہتا، صبر کر لیتا، درگزر کر دیتا…
مگر وہ اب میرے پیاروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہیں…
میرے رب! تو جانتا ہے…
یہ وہ حد ہے جس کے آگے میں خاموش نہیں رہ سکوں گا…
تو میری کمزوری کو طاقت بنا دے…
اور میرے اپنوں کی حفاظت فرما…
کہ تیرا بندہ صرف تجھ سے ہی مانگتا ہے…
صرف تجھ پر ہی بھروسہ رکھتا ہے…
میری دانیہ کو بھی وہ نور دے کہ وہ میری خاموشی میں میری مجبوری پڑھ لے۔
میں نے معاف کر دیا دشمنوں کو، پر دل میں جو درد ہے، وہ صرف تو جانتا ہے۔
تو ہی ہے جو زخم کو مرہم بناتا ہے۔میرے زخموں پر بھی مرہم لگا دے میرے رب۔
میرے رشتے مجھ سے نہ چھین…میں اپنے
رشتوں کو سنبھال نہیں پا رہا تو مجھے طاقت عطا کر۔تو مجھے صبر عطا فرما۔۔
فلق کے رب…
مجھے شر والوں سے بچا،
سجدے میں گرا زیغم سلطان دل کھول کر اپنے رب سے اپنے دل کا درد بیاں کر رہا تھا۔دل کو تھوڑا نہیں بہت سا سکون محسوس ہوا جیسے اس کے رب نے اس کی ساری دعائیں سن لی تھی۔
نماز کے حسار میں لپٹا، جیسے رب کے قریب تھا۔
دل میں سکون کے نرم سائے لیے، خاموشی سے واپس ارمیزہ اور مہرو کے قریب آ کر بیٹھ گیا۔ ایک طرف رکھے تکیے پر آہستگی سے سر رکھا، آنکھیں بند کیں تو بےچینی جیسے خود بہ خود تحلیل ہو گئی۔ روح جیسے کسی مہربان لمس سے چھوئی گئی ہو، اتنا سکون آیا کہ پلکیں جھپکنے سے پہلے ہی وہ نیند کی گہری چادر اوڑھ چکا تھا۔
وہ نیند جو صرف تھکے ہوئے دلوں کو نصیب ہوتی ہے… وہ خاموشی جو دعاؤں کے بعد اترتی ہے… اور وہ سکون، جو صرف رب کی بارگاہ سے ملتا ہے۔
جب انسان کو کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا، جب ہر در بند محسوس ہوتا ہے، تو وہ سر جھکا دیتا ہے… اپنے رب کے سامنے۔
اور میرا رب… میرا رب کتنا بے نیاز ہے!
وہ دل کی ہر ٹوٹ پھوٹ کو جانتا ہے،
آنسوؤں کی زبان سمجھتا ہے،
خاموشیوں کی فریاد سنتا ہے،
اور پھر… اپنے بندے کے ہر درد کو سمیٹ کر،
اس کے دل پر سکون کی چادر تان دیتا ہے۔
اللہ اکبر!
اللہ سب سے بڑا ہے… بے شک!
وہی سنبھالتا ہے جب دنیا چھین لیتی ہے،
وہی تھامتا ہے جب انسان ٹوٹنے لگتا ہے۔
°°°°°°°°°
“تمہارا درد میرا ہے، تمہاری تکلیف میری ہے۔”
زیغم کی انگلیاں اس کے بالوں میں ہلکے سے پھسل رہی تھیں اور اس کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی جیسے وہ ہر اذیت کو اپنے ہاتھوں سے چن کر دور کرنا چاہتا تھا۔
اس لمحے میں، مہرو کو بس اتنا لگا جیسے بخار، کمزوری، سب کچھ مٹ رہا ہے۔
رہ گئی تھی تو صرف زیغم کی محبت کی وہ تھکن اتار دینے والی ٹھنڈک،جو نہ صرف جسم بلکہ دل کو بھی شفا دے رہی تھی۔
“تمہیں ہمیشہ خوش اور ٹھیک دیکھنا چاہتا ہوں۔ تم بہت نازک ہو… انمول ہو میرے لیے۔
میں تمہیں اس دنیا کی تلخیوں سے، اس کی تپش سے بچاکر رکھنا چاہتا ہوں۔
تم صرف معصوم نہیں ہو، تم بہت زیادہ نازک ہو… اور دنیا داری سے دور، ایک محروم سی چپ میں لپٹی ہوئی۔
کبھی کبھی مجھے تمہارے لیے ڈر لگتا ہے۔ تم میرے بغیر شاید کسی کا سامنا نہ کر سکو…
تو اگر کبھی مجھے کچھ ہو گیا، تو تم کیا کرو گی؟”وہ سوچ رہا تھا ۔
وہ اس کی بند آنکھوں اور خاموش چہرے کو محبت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
خاموشی سے اس کے ماتھے پر رکھی سفید کاٹن کی پٹی کو نچوڑا، نرمی سے سائیڈ کوبدلا۔۔
زیغم کے چہرے پر گہری فکر مندی نمایاں تھی۔ وہ اپنی ہی سوچوں میں الجھا بیٹھا تھا۔
ایک طرف درخزئی کا قتل کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ اس کا سیدھا مطلب یہی تھا کہ اب مائد خان کی دشمنی کا دائرہ مزید پھیلنے والا تھا۔ اور مائد زیغم کا سب سے قریبی دوست تھا، کٹھن وقتوں کا ساتھی۔
اب وقت زیغم کا تھا… کہ وہ اس دوستی کا حق ادا کرتا۔
مگر دوسری طرف… مہرو تھی۔
معصوم، موم کی سی نرم لڑکی، جو نہ سختی سہہ سکتی تھی، نہ دنیا سے لڑنے کا ہنر رکھتی تھی۔
زیغم سلطان ایک میچور سوچ رکھنے والا شخص تھا، خوب جانتا تھا کہ دشمنیاں جب بڑھتی ہیں تو نقصان صرف ایک طرف کا نہیں ہوتا… دونوں طرف کا ہوتا ہے۔
اور ایسی دشمنیوں میں کفن سر پر باندھ کر چلنا پڑتا ہے ۔
کوئی نہیں جانتا کب، کہاں زندگی کا چراغ بجھ جائے۔ایسے میں مہرو کی سوچ اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔
نہ جانے کتنی دیر تک وہ گہری سوچوں میں گم، دنیا و مافیہا سے بے خبر، خاموشی سے مہرو کے ماتھے پر کاٹن کی پٹی رکھتا رہا۔ ہر بار وہ شیشے کے پیالے میں صاف ٹھنڈے پانی میں ڈبو کر نرمی سے نچوڑتا، پھر احتیاط سے مہرو کی پیشانی پر رکھ دیتا۔ اب بخار کی شدت کچھ کم ہونے لگی تھی، مگر مہرو اب بھی نیند کی نیم غنودگی میں تھی۔ زیغم کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں تھا، اور مہرو نے اسے اس مضبوطی سے تھام رکھا تھا ۔ اس کے اندازِ گرفت سے صاف ظاہر تھا کہ زیغم سلطان اس کے لیے صرف ایک شخص نہیں، بلکہ تحفظ کا نام ہے، اس کی پوری دنیا۔
ایسے میں زیغم کا پریشان ہونا لازم تھا… کیونکہ جب کسی کی کل کائنات تم سے جُڑی ہو، تو دل بے چین ہی رہتا ہے۔
بخار میں تپتی مہرو کے چہرے پر ایک عجیب سی کشش تھی، زیغم کی نگاہیں اس پر ٹھہر گئیں۔
اس کی بےسدھ سانسوں نے زیغم کے دل میں بےچینی بھر دی، جیسے کچھ چھن جانے والا ہو۔
وہ لمحہ بہت خاص تھا، جس میں زیغم نے خود کو مکمل طور پر مہرو کے سائے میں کھویا محسوس کیا۔
بےخبری میں بیتے وہ پل، زیغم کی زندگی کا ایسا نقش بن گئے جو اب کبھی مٹ نہیں سکتے۔وہ جھکا اور اس کے چہرے پر محبت رکھ گیا… لمحہ ٹھہرا، سانسیں مدھم ہوئیں، اور پھر ہر فاصلہ مٹ گیا۔ شب کی چادر میں چھپے وہ دونوں، خاموش وعدوں کے حصار میں ایک ہو چکے تھے۔
رات گہری ہو چکی تھی… وہ اس کی قربت میں سو رہی تھی، بےخبر، پرسکون۔ وہ بس اسے دیکھتا رہا… اس کی سانسوں کی تال سے اپنی تھکن اتارتا رہا۔ آغوش میں لیٹی وہ لڑکی، جو اس کی ادھوری زندگی کی دعا تھی… خاموشی سے اس کی دنیا بنی بیٹھی تھی۔
وہ بس اسے اوڑھ کر سویا تھا… اسے چھوئے بغیر، فقط محسوس کرتے ہوئے۔
محبوب بےخودی کی نیند میں تھا، ہوش کی سرحد سے پرے… اور عاشق لمحوں سے گزارش کر رہا تھا کہ بس… اسے پریشان نہ کرنا۔
مگر لمحے گستاخ نکلے… اور عشق؟ وہ اس کے چہرے پر جھک کر ہر سانس میں خود کو بھولتا جا رہا تھا۔
حسن کی وہ گستاخیاں جاری تھیں… جن پر اب خود اس کا بھی زور نہیں رہا تھا۔
°°°°°°°°°°
“دور… دور رہیں! آپ بھی ویسے ہی ہیں، سب ایک جیسے ہوتے ہیں! آپ بھی مجھ پر چیخیں گے… آپ مجھے مار دیں گے! زیغم بھائی کو بھی مار دیں گے! مجھے سب پتہ ہے!”
وہ گھبرا کر پیچھے ہٹتی ہوئی مائد سے خوفزدہ تھی۔
“نہیں، نہیں جانا… ایسا کبھی نہیں ہو سکتا! میں تمہیں تکلیف دینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا،اور میں زیغم کو کبھی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا، پلیز میری بات سنو!”
مائد بیڈ پر سرکتے ہوئے اس کے قریب آیا اور اسے تھامنا چاہا، مگر وہ اس سے بری طرح ڈری ہوئی تھی۔
اس کی آنکھوں میں مائد کے لیے صرف خوف اور غصہ تھا۔
“نہیں، نہیں! آپ میرے پاس مت آئیں! پلیز مجھے مت ماریں!”
وہ دوبارہ پینک ہونے لگی، اپنے بالوں کو پکڑ کر نوچنے لگی۔وہ یوں کانپ رہی تھی جیسے سرد موسم میں کوئی پتّا لرز رہا تھا .. وہ تیز تیز بول رہی تھی عام روٹین سے ہٹ کر!
کچھ باتیں سمجھ آ رہی کچھ نہیں ،
کچھ باتیں یوں الجھی ہوئی تھیں جیسے ذہن پر کسی نے گرد کا پردہ ڈال دیا ہو…
وہ بیڈ پر پیچھے کو سرک رہی تھی جیسے کوئی شکار درندے سے بچنے کی آخری کوشش کر رہا ہو…
اور اس کے لب گویا بے ربط الفاظ کا طوفان بولتے جا رہے تھے، جیسے کسی نے اس کی روح کو جھنجھوڑ دیا ہو…
دانیہ کو دیکھ کر مائد خان کی سانسیں یوں رکنے لگیں جیسے سینے میں ہوا کا راستہ بند ہو چکا ہو…اپنی محبت کو اس طرح بکھرتے ہوئے ٹوٹتے ہوئے دیکھنا ہر دل رکھنے والے انسان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔
اس کی حالت دیکھ کر دل کچھ لمحوں کے لیے دھڑکنا بھول گیا وقت ایک پل کو ٹھہر گیا تھا…
اس کی آنکھوں کے سامنے منظر یوں دھندلانے لگا جیسے کوئی دھواں دھیرے دھیرے بینائی کو نگل رہا ہو…
دل کی دھڑکنیں کسی بے قابو گھوڑے کی طرح سر پٹ دوڑنے لگیں…
اور ہاتھوں کی لرزش یوں تھی جیسے کوئی بجلی کا کرنٹ جسم میں دوڑ گیا ہو…مگر پھر ہمت بحال کی اور اسے اس اندھیری دلدل سے باہر نکالنے کی کوشش کے لیے آگے بڑھا۔
“نہیں، نہیں جانا! میری جان… میری بات تو سنو!”
وہ تیزی سے اس کے قریب ہوا، مگر اس لمحے دانیہ کی حالت ایسی نہ تھی کہ کچھ سن یا سمجھ سکتی۔
“زیغم کو بھیج کر میں نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے …”اس خیال نے مائد کی روح تک کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔
اس نے فوراً فون اٹھایا،مائد زیغم سلطان کا نمبر ملانے ہی والا تھا کہ دروازے پر ہونے والی “ٹھک ٹھک” نے اس کی توجہ کھینچ لی۔
دوسری جانب دروازہ کھٹکنے کی آواز سن کر دانیہ اور زیادہ گھبرا گئی، اس کی چیخیں ماحول میں تیزی سے گونجنے لگیں۔وہ اور زیادہ پینک ہونے لگی تھی۔
مائد نے فوراً تیز قدموں سے دروازہ کھولا۔
اسے اندازہ تھا، کہ دروازے پر مورے اور آغا جان موجود ہیں۔
ان کا کمرہ قریب تھا، اس لیے دانیہ کی پینک میں ڈوبی چیخیں خاموشی کا سینہ چیرتی ہوئی ان کے کانوں تک پہنچ چکی تھیں ۔
اسی لیے تو وہ گھبرا کر بھاگتے ہوئے دروازے تک پہنچے تھے۔
دانیہ کی حالت دیکھ کر مورے نے فوراً “اللہ خیر” کہا اور منہ میں قرآنی آیات کا ورد کرتے ہوئے اس کی طرف بڑھیں۔
آغا جان بھی کمرے میں داخل ہوئے اور مائد کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر آہستگی سے آنکھیں جھپکائیں،
آغا جان کی نگاہوں سے محبت ایسے برس رہی تھی جیسے بہار کی پہلی پھوار خشک زمین کو سیراب کرتی ہے۔
باپ کا شفقت بھرا ہاتھ جب مائد کے کندھے پر رکھا، تو وہ لمس ایسے محسوس ہوا جیسے خزاں رسیدہ شاخ کو زندگی بخشنے والی ہوا چھو گئی ہو۔
نہ جانے کیوں… مائد خان درانی ایک لمحے میں ٹوٹ کر اس سینے سے جا لگا جو پہاڑ کی مانند ہمیشہ اس کا سایہ بن کر اس کے ساتھ رہا تھا۔
اولاد چاہے جتنی بھی عمر کی دہلیز پار کر جائے، مگر دکھ کی کسی بھی گھڑی میں ماں کی گود بارش میں چھتری بن جاتی ہے اور باپ کا سینہ اس مضبوط دیوار کی طرح لگتا ہے جو دنیا کے طوفانوں سے بچا لیتا ہے۔
“صبر کرو، میرے بیٹے… صبر۔”
آغا جان کی آواز میں وہی نرمی تھی جیسے کوئی خزاں رسیدہ پیڑ کو بہار کی نوید دیتی ہے۔
” بیٹا صبر سے کام لو،مشکل، ہمیشہ اپنے ساتھ صبر کا پیغام لے کر آتی ہے… دکھ کی کھڑی میں اپنی شریکِ حیات کا ساتھ دینا ہی اصل محبت کی پہچان ہے۔”آغا جان نے اپنی عمر کے تجربے سے محبت بھرے انداز میں اپنے بیٹے کو مضبوط رہنے کی تاکید کی۔
مگر مائد کے چہرے پر ٹوٹا ہوا سکوت تھا۔
“آغا جان… میں ہمیشہ اس کے ساتھ ہوں…ہر دکھ ہر سکھ میں ہمیشہ اس کے ساتھ کھڑا رہوں گا، مگر مجھ سے اس کی تکلیف دیکھی نہیں جاتی،”اس کے لہجے میں وہ ٹوٹ پھوٹ تھی جیسے کسی ٹوٹے ہوئے برتن کی خالی آواز۔۔۔
آغا جان نے نرمی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا،
“بیٹا… اس وقت وہ بہت کٹھن لمحوں سے گزر رہی ہے۔اسے تمہارے ساتھ کی، اور تمہاری ہمت کی ضرورت ہے۔
اپنے دکھوں کو لمحے ایک طرف رکھ دو،
اس کے زخموں پر مرہم بنو… تمہارے بازو اس کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنیں گے تو وہ وقت دور نہیں کہ وہ اپنا ہر دکھ ہر محرومی بھول جائے گی مگر اس کے لیے تمہیں صبر سے کام لینا پڑے گا ۔”
آغا جان نے نظریں اس سمت موڑیں جہاں دانیہ اب بھی اپنے بالوں کو شدت سے نوچ رہی تھی۔
مورے، ممتا کے آنچل میں اسے سمیٹنے میں لگی تھیں…مورے کے انداز میں ممتا کوٹ کوٹ کر چھلک رہی تھی۔وہ دانیا کو اتنی محبت اور تڑپ سے سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی کہ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ وہ دانیا کی ماں نہیں ہے۔انداز اتنا شفقت بھرا کہ دیکھنے والوں کی نظریں رشک سے بھر جائیں۔
مورے نے دانیہ کو سینے سے لگا رکھا تھا، جیسے ایک ماں طوفان میں لرزتے پتے کو اپنی جھولی میں چھپا لیتی ہے۔
قرآنی آیات کا ورد اُس کے لبوں سے ایسا جاری تھا جیسے کسی ویران دل پر سکون کی بارش برس رہی ہو۔
مگر دانیہ کی آنکھیں وحشت سے پھیلی ہوئی تھیں، اور وہ اب بھی ہولے ہولے سر ہلا رہی تھی،خود سے باتیں کر رہی تھی۔
“وہ آئیں گے… وہ مجھے لے جائیں گے…سب کو مار دیں گی، مجھے بچا لیں…”
اُس کی آواز میں ایسا لرزہ تھا جیسے کوئی ریت کا گھروندا تیز ہوا میں ڈول رہا ہو۔وہ اپنی نظروں کے سامنے ایک الگ دنیا دیکھ رہی تھی جو اس کے انداز سے ظاہر ہو رہا تھا۔
مورے نے اسے تھپکی دیتے ہوئے اس کے ماتھے پر لب رکھ کر لمس بھرا۔
“نہیں میری بچی… کچھ نہیں ہوگا… تمہاری مورے ہے نا… تمہیں کچھ نہیں ہونے دے گی۔”
مائد چند قدم دور کھڑا، یہ منظر نگاہوں میں بسائے، اپنی بےبسی پر مٹھیاں بھینچتا رہا۔
اس کا دل چاہا بھاگ کر دانیہ کو اپنی بانہوں میں لے لے،اسے احساس دلائے کہ وہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور نہ ہی اس کے بھائی کو کوئی نقصان دے سکتا ہے۔
مگر وہ جانتا تھا، اس لمحے وہ ایک نازک کانچ کی طرح ہے…
اور ذرا سی بےاحتیاطی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر سکتی ہے۔
“پریشان مت ہو،وقت لگے گا، مگر وہ ٹھیک ہو جائے گی۔ تم بس اس کے ساتھ سایہ بن کر کھڑے رہو…آغا جان نے آہستگی سے اپنے بیٹے کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا جو پریشان نظروں سے اپنی بیوی کو دیکھ رہا تھا مائد کی بے بسی اس کی آنکھوں سے چھلک رہی تھی۔”
“مائدمیاں بیوی کا رشتہ اصل میں اُس وقت آزمائش سے گزرتا ہے جب زندگی دکھ کی دہلیز پر آ کھڑی ہو ۔ جب دونوں میں سے کوئی ایک بیماری، تکلیف یا ذہنی کرب میں مبتلا ہو۔ ایسے ہی وقت میں دوسرے کی محبت، وفا اور قربانی کی اصل گہرائی سامنے آتی ہے۔ سچ تو یہی ہے کہ محبت کی آزمائش پر دل اسی وقت پورا اُترتا ہے، جب زندگی آسان نہیں بلکہ بوجھل ہوتی ہے۔
“اور میں اپنے بیٹے کو زندگی کی اس کسوٹی پر کامیاب ہوتا دیکھنا چاہتا ہوں۔”
آغا جان نے گہری آواز میں کہا، ان کی نگاہوں میں ایک باپ کی وہ روشنی تھی جو صرف تب چمکتی ہے جب اولاد کی ہار کو جیت میں بدلنے کی تڑپ جاگ جائے۔
“مائد! دکھ، بیماری، یا آزمائش ہو… اصل مرد وہی ہوتا ہے جو اُس وقت میں ہمت نہ ہارے، بلکہ اپنے پیار کو سہارا دے۔”
آغاجان کے الفاظ نرم تھے مگر لہجہ مضبوط وہ مائد کے اندر چھپی ہوئی طاقت کو جگا رہے تھے، ایک باپ اپنے بیٹے کو زندگی کے اصل معنی سمجھا رہا تھا۔مائد خاموش تھا نظریں دانیہ پر ٹکی ہوئی تھی مگر آغا جان کی ایک ایک بات وہ غور سے سن رہا تھا۔
“بیوی کی تکلیف کے وقت اگر شوہر کمزور پڑ جائے، تو پھر اس رشتے کی بنیاد کیا بچتی ہے؟”آغا جان کی کہی باتیں نرم تیر کی طرح اس کے دل میں اتر رہی تھی۔
” میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا… محبت تو اس دن محبت بنتی ہے، جب اسے آزمائش میں ڈالا جائے… اور وہ سرخرو نکلے!”
آغا جان کی باتیں صرف الفاظ نہیں تھیں، وہ مائد کے ضمیر کی دیوار پر دستک دے رہے تھے ۔ اور یہ دستک خاموشی کو توڑنے کے لیے کافی تھی۔
مائد نے آہستہ سے سر ہلایا، اور ہمت کرتے آگے بڑھا کر مورے کے پاس بیٹھ گیا۔مائد نے کانپتے ہاتھوں سے دانیہ کی لرزتی انگلیاں تھام لیں…
وہ کچھ نہیں بولا، بس خاموشی سے… اُس کے پاس تھا۔
دانیہ نے جیسے ہی مائد کی انگلیوں کا لمس محسوس کیا، اس کی پلکیں ہولے سے جھپکیں…
چند لمحے کے لیے یوں لگا جیسے دل کے طوفان میں کچھ پل کا سکوت اتر آیا ہو۔
“میں ہوں تمہارے پاس… میں تمہیں چھوڑ کر کبھی نہیں جاؤں گا۔کسی پریشانی کو تمہارے نزدیک نہیں آنے دوں گا۔”مائد نے نرمی سے کہا،
دانیہ کی نظریں بےیقینی سے اس کے چہرے پر جا ٹھہریں…
مگر جیسے ہی مائد نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر تھپکی دی،
اُس کی آنکھوں میں پھر وہی وحشت جاگ اٹھی،جیسے کسی بھیانک یاد نے اُسے اپنی گرفت میں لے لیا ہو۔
“نہیں… نہیں…! آپ بھی ان جیسے ہیں… آپ بھی مجھے ماریں گے!”
وہ جھٹکے سے پیچھے ہوئی، دونوں ہاتھوں سے سر کو جکڑتے ہوئے چلّانے لگی،
“مجھے بچاؤ… مجھے یہاں سے لے چلو! پلیز کوئی ہے؟ کوئی ہے؟”
مورے تڑپ کر آگے بڑھیں،
“بیٹی! ہوش کرو! میں ہوں تمہاری مورے…میں تجھے کچھ نہیں ہونے دوں گی۔”مورے نے دانیا کو اپنے سینے سے لگانے کی کوشش کی مگر وہ بے قابو ہو چکی تھی۔دانیہ اب مکمل طور پر پینک اٹیک کی لپیٹ میں آ چکی تھی۔
اس کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں، جیسے ہوا میں سانس لینے کی گنجائش باقی نہ رہی ہو۔ایسے لگ رہا تھا جیسے ہوا کے اندر شدید اکسیجن کی کمی ہو۔
آغا جان نے فوراً مائد کو اشارہ کیا،
“پانی لے آؤ… فوراً!”
اور خود مورے کی مدد سے دانیہ کو قابو میں لانے کی کوشش کرنے لگے۔
مائد جلدی سے سائیڈ ٹیبل پر رکھے ہوئے پانی سے بھرے جگ کی جانب لپکا گلاس میں پانی بھرتے ہوئے دل میں ایک بےنام سا خوف بیٹھ چکا تھا…کہ وہ دانیہ کو کھو نہ دے… اس کی دنیا اس کے سامنے بکھرتی جا رہی تھی ۔ڈاکٹر کی سب باتیں اس کے دماغ میں گھومنے لگی تھی ڈاکٹر نے کہا تھا کہ اسے دوبارہ ٹیک نہیں ہونا چاہیے۔
مائد نے پانی سے بھرا ہوا گلاس اٹھایا اور جا کر مورے کے ہاتھ میں تھما دیا۔
وہ دانیہ کے قریب نہیں جانا چاہتا تھا، کیونکہ اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کی موجودگی دانیہ کو مزید تکلیف نہ دے دے۔
مگر سب اس وقت چونک گئے جب دانیہ نے اچانک ہاتھ مار کر وہ گلاس دور پھینک دیا۔
فرش پر کانچ کے ٹکڑے بکھر گئے تھے، پانی پھیل چکا تھا۔
اور دانیہ…
وہ سب کے بیچ سے خود کو چھڑواتے ہوئے بیڈ سے اترکر بھاگی ۔
لیکن بھاگتے ہی انہی کانچ کے نوکیلے ٹکڑوں پر پاؤں پڑ گیا۔
زخم چبھتے ہی ایک تیز درد بھری چیخ کی آواز اس کے لبوں سے نکلی،
اور وہ روتی ہوئی وہیں زمین پر گر پڑی۔
گرتے ہی اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں ،
وہ بے ہوشی کی حالت میں جا چکی تھی۔
آغا جان، مورے اور مائد کے چہرے پر گھبراہٹ چھا گئی تھی۔
کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں؟
“جلدی سے ڈاکٹر کو فون کرو!”آغا جان نے فوراً کہا،
مائد نے جلدی سے اپنا فون جیب سے نکالا۔
ایک لمحے کو انگلیاں رکی رہیں… جیسے ذہن میں کشمکش چل رہی ہو۔
پھر اس نے نمبر ڈائل کر دیا۔ مائد نے ڈاکٹر سے پہلے… زیغم کو کال ملائی۔
آغا جان اور مورے بےچینی سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے
ان کی آنکھوں میں یہی سوال تھا کہ ڈاکٹر سے بات ہو رہی ہے،
مگر مائد…
وہ زیغم کو کال کر رہا تھا۔
کمرے میں گہری خاموشی تھی۔
خاموشی… جو کسی بڑے طوفان سے پہلے کا سکوت ہوتا ہے۔
°°°°°°°°°°
“مہرو کا بخار کچھ کم ہوا تو زیغم بھی دن بھر کی تھکن سے چور، گہری نیند میں سو چکا تھا۔ مہرو اس کے بازو پر سر رکھے، مدم سانسیں لیتی ہوئی سکون سے اس کے پہلو میں لیٹی تھی۔
فون پر مسلسل بجتی بیل نے نہ صرف زیغم کو بلکہ مہرو کو بھی چونکا دیا۔ زیغم نے نیم غنودہ حالت میں ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا۔”
اس سے پہلے کہ وہ “ہیلو”، “السلام علیکم” یا “کون ہے؟” کہتا ۔ کیونکہ وہ گہری نیند میں تھا اور نمبر نہیں دیکھ پایا
تبھی مائد خان کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرا گئی… ایک ایسی آواز، جس میں صرف درد ہی درد تھا۔
“زیغم، جلدی سے پہنچو… دانیہ کی حالت ٹھیک نہیں!”
بس یہی جملہ کافی تھا زیغم سلطان کو نیند سے جھٹکے سے اٹھا دینے کے لیے۔ دل زور سے دھڑکا، جیسے سینہ چیر کر باہر آ جائے۔ وہ فوراً بیٹھ گیا۔آنکھوں سے نیند غائب ہو چکی تھی۔
“کیا ہوش میں آنے کے بعد اُسے دوبارہ اٹیک ہوا ہے؟” زیغم نے گھبرا کر پوچھا جوتے پہنے اور تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔
“بہت برا اٹیک ہوا ہے… وہ بہت زیادہ پینک ہو گئی تھی… میں سنبھال نہیں پایا… تُو جلدی آ جا، پلیز…”
مائد کے لرزتے لہجے میں جو بے بسی تھی، وہ زیغم کے دل پر سیدھا وار کر گئی۔
“میں ابھی آ رہا ہوں!” بس وہ اتنا ہی کہہ پایا۔وہ جلدی سے دروازے کی جانب بڑھنے لگا تھا۔
مگر پیچھے سے مہرو کی گھبرائی ہوئی آواز سنائی دی، “سائیں آپ کہاں جا رہے ہیں؟ کیا ہوا ہے؟”
زیغم پلٹا، “دانیا کی طبیعت ٹھیک نہیں… میں جا رہا ہوں۔ تم اپنا خیال رکھنا اور سکینہ کو اپنے پاس بلا لو۔”لہجے میں اتری پریشانی کو قابو کرتے ہوئے مہرو سے کہا تھا ۔
“نہیں! میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گی!” مہرو بیڈ سے نیچے اترنے لگی۔
“پلیز مہرو، تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں… تم میرے ساتھ نہیں جا سکتی۔ ضد نہ کرو۔
مجھے تمہاری ہمت اور دعاؤں کی ضرورت ہے… اگر دانیا کو کچھ ہوا… تو میں ٹوٹ جاؤں گا۔دانیہ کے لیے بہت دعا کرنا۔”
زیغم نے مہرو کے ماتھے پر بوسہ دیا، ایک گہری سانس لی، اور نرمی سے سمجھایا۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی، جو اس کے دل میں کھولتے ہوئے درد کو ظاہر کرنے کے لیے کافی تھی۔۔۔
“ٹھیک ہے، آپ جائیں۔ پریشان نہ ہوں۔میں ضد نہیں کروں گی،انشاءاللہ دانیا آپی ٹھیک ہو جائیں گی۔ میری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔”
“شاباش… مجھے تم سے یہی امید تھی۔” زیغم نے اس کے گال پر ہاتھ رکھا اور تیز قدموں سے دروازے سے باہر نکل گیا۔
مہرو نے دونوں ہاتھ دعا کے لیے بلند کیے… اور رب سے دعا مانگنے لگی۔
اللہ جی… جی دانیا آپی کو ٹھیک کر دینا، وہ بہت اچھی ہیں، اور سائیں ان سے بہت پیار کرتے ہیں… آپ میرے سائیں کی زندگی میں کوئی غم مت لانا…
وہ بچوں جیسے ٹوٹے پھوٹے انداز میں ہاتھ اٹھا کر رب سے دعا مانگ رہی تھی… لفظ ادھورے، آواز رندھائی ہوئی، لیکن دل مکمل یقین سے لبریز تھا۔
پھر بھی دل کو قرار نہ آیا تو وہ چادر اوڑھتی، وضو کرنے اٹھ کھڑی ہوئی… چند لمحوں بعد جائے نماز پر کھڑی، دونوں ہاتھ دعا کے لیے بلند کیے، آنکھیں بند کیے، وہ اپنے رب کے حضور دل کھول کر رو رہی تھی…
“اللہ جی… میری دانیہ آپی کو کچھ نہ ہو… سائیں کی خوشی واپس کر دو… میرے اللہ جی…”
اس کی آنکھوں سے بہتے آنسوں جائے نماز پر گرتے جا رہے تھے… رب کو اپنے بندوں کے آنسو بہت پیارے لگتے ہیں… اور یہ آنسو… بےلوث محبت کے تھے…
ایک ایسی لڑکی کے آنسو… رب کی بارگاہ میں گر رہے تھے، جس نے زندگی میں صرف محرومیاں دیکھیں، غربت کا ذائقہ چکھا، اور رشتوں کے نام پر صرف ایک اماں پائی۔
وہی اماں… جو جاتے جاتے اس کا ہاتھ زیغم سلطان جیسے نرم دل شہزادے کے ہاتھ میں تھما گئیں۔
وہ زیغم، جس کی اپنی زندگی الجھنوں کا شکار تھی، لیکن اس نے مہروکے لیے تحفظ، سکون اور احساس سے بھرپور ایک الگ چھوٹی سی دنیا بسا دی۔
اب مہرو نساء کے لیے رشتوں کا مطلب صرف ایک ہی شخص تھا… زیغم سلطان۔
اور زیغم سے جڑے ہر رشتے کی وہ دل سے عزت اور محبت کرتی تھی…
°°°°°°°°
ہسپتال کی راہداریوں میں گویا خاموشی نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔
ایمرجنسی وارڈ کی مدھم پیلی روشنی میں سب کے چہرے زرد پڑ گئے تھے۔ دیواروں پر لگی گھڑی کی سوئیاں بھی جیسے ادھوری دعا کی طرح چل رہی تھیں… نہ رکتی تھیں، نہ تسلی دیتی تھیں۔
آئی سی یو کے دروازے پر لکھا لفظ ‘Critical’ آج ایک قیامت کا اعلان لگ رہا تھا…
اس دروازے کے اُس پار دانیہ زندگی اور موت کے بیچ کسی معصوم دعا کی مانند لٹک رہی تھی… اور اِس پار، ویٹنگ ایریا میں بیٹھے چہرے خوف کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔
مائد..
وہ کسی پنجرے میں بند پرندے کی طرح قدموں سے بے قراری کو ناپ رہا تھا، بار بار آئی سی یو کے دروازے تک جا کر رک جاتا، جیسے وہ دروازہ نہیں، کوئی دعا کی آخری دہلیز ہو…
اس کے لب مسلسل دعا کے لیے ہل رہے تھے،
اُس کے قریب مورے اور آغا جان ایک بینچ پر بیٹھے تھے، خاموش اور بے جان…
جیسے صدیوں پرانی دیواریں ہوں جو اب صرف وقت کا بوجھ اٹھانے کے لیے رہ گئی ہوں۔ان کے بوڑھے کاندھوں پر ایک طرف جوان بیٹے کی موت کا صدمہ تھا اور دوسری طرف ان کی بہو جو بیٹیوں سے بڑھ کر تھی اور ان کے بیٹے کی خوشیوں کی ڈور اس لڑکی کی زندگی کے ساتھ جڑی ہوئی تھی وہ موت سے لڑ رہی تھی ۔
مائد کی نظریں بار بار راہداری کی طرف اٹھ جاتیں… جیسے ہر لمحہ اسے یقین تھا کہ اگلے موڑ سے زیغم سلطان نکلے گا…
ہوا تھمی ہوئی تھی…
فضا میں ایک ادھورا سناٹا تھا، جیسے لفظوں کے بغیر دعا مانگی جا رہی ہو۔
زیغم سلطان نے جیسے ہی اسپتال کے اندر قدم رکھا، مائد کی نظر سیدھی اس پر جا ٹھہری۔
چہرے پر بےچینی اور آنکھوں میں امید کی ٹمٹماتی لو لیے، وہ تیزی سے زیغم کی طرف بڑھا۔
“ڈاکٹر کیا کہہ رہے ہیں؟”
زیغم نے آتے ہی سوال داغا، آواز میں عجیب سی بےتابی تھی۔
مائد نے فقط سر نفی میں ہلایا،
“خبر اچھی نہیں ہے… اٹیک بہت سخت تھا… دماغ پر کیا اثر چھوڑے گا، یہ ابھی کنفرم نہیں بتایا..”
چند لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی۔ وہ خاموشی جو دل کو کاٹنے لگے۔
“یا اللہ رحم فرما…”
زیغم کے لبوں سے بےاختیار نکلنے والی یہ دعا اس کے اندر کے خوف اور بےبسی کا عکس تھی۔
اس نے آہستگی سے مائد کے کندھے پر ہاتھ رکھا، جیسے کہنے کو بہت کچھ تھا مگر لفظ ساتھ چھوڑ گئے ہوں۔
تسلی صرف لمس سے دی گئی تھی،
زبان خاموش تھی…
الفاظ حلق میں پھنس گئے تھے،
اور دل اندر ہی اندر لرز رہا تھا۔
سوائے انتظار کے، اور کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔
مورے اور آغا جان کو سلام کرتے ہوئے زیغم خاموشی سے ویٹنگ ایریا کی کرسی پر آ بیٹھا۔ نہ کسی سے بات کرنے کی ہمت تھی، نہ کسی کو دلاسہ دینے کا حوصلہ۔
بس لبوں پر بے شمار دعائیں تھیں، اور پورے ماحول میں ایک بوجھل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
مگر زیغم سلطان کے آنے سے مائد کے دل کو تھوڑا سا سہارا ضرور ملا، اسے تسلی تھی یہ زیغم سلطان خاموشی میں بھی اس کے ساتھ کھڑا ہے۔۔کچھ دیر کے انتظار کے بعد ڈاکٹر روم سے باہر نکلا۔
ڈاکٹر نے باہر آتے ہی سامنے موجود چہروں پر پھیلے خوف کو محسوس کیا۔ زیغم اور مائد دونوں بےچینی سے اس کی طرف بڑھے۔۔
“ڈاکٹر صاحب کیا صورتحال ہے سب ٹھیک ہے نا دونوں نے ایک ساتھ پوچھا..
“مبارک ہو… اور پریشان نہ ہوں۔” وہ لمحہ بھر کو رُکا، پھر نرمی مگر اعتماد اور لہجے میں بات کو جاری رکھا۔ڈاکٹر کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ اس بات کی گواہی تھی کہ دانیا خطرے سے باہر ہے۔ڈاکٹر کے چہرے پر ہلکی سی سمائل دیکھ کر دور بیٹھے آغا جان اور مورے سمیت زیغم سلطان اور مائی درانی نے اللہ کا شکر ادا کیا۔
“اٹیک واقعی شدید تھا، لیکن الحمدللہ رپورٹس میں ایسی کوئی علامات نہیں ہیں جن سے یہ کہا جا سکے کہ دماغ پر کوئی مستقل یا خطرناک اثر پڑا ہے۔”لہجے میں تسلی اور سنجیدگی چھلک رہی تھی۔
“دماغی توازن بھی بالکل درست ہے۔اتنے بڑے اٹیک کے بعد یہ اللہ کی طرف سے کرشمہ ہے جو بہت کم کیسز میں ہوتا ہے۔ تھوڑا سا وقت لگے گا ریکور کرنے میں، مگر آپ لوگ گھبرائیں نہیں۔ ہم پیشنٹ کو مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں۔ فلحال خطرے کی کوئی بات نہیں ہے۔”
“اب آپ لوگ بھی تھوڑا سا ریلیکس کریں، پیشنٹ کو آپ کا حوصلہ چاہیے ہوگا۔ایسے مریض اپنے ارد گرد کے ماحول سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں اگر آپ ارد گرد کا ماحول خوش نما پرسکون رکھیں گے تو مریض اس بیماری سے بہت جلد باہر آسکتا ہے اور اگر آس پاس کا ماحول ان کے مزاج کے مطابق نہیں ہوگا تو ان کی جان کو خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے سمپل یہ سب آپ لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔”
“اور ایک بات بہت واضح ہے…”
ڈاکٹر کے لہجے اور انداز سے پیشہ ورانہ تنبیہ جھلک رہی تھی۔
“انہیں ایسے ماحول سے دور رکھنا ہوگا جو ان پر ذہنی دباؤ ڈالے ۔ کیونکہ یہی وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے انہیں یہ اٹیکس ہو رہے ہیں۔”
“اگر مستقبل میں دوبارہ ایسے اٹیکس ہوتے رہے… تو آج جس خطرے سے وہ بچ گئیں، کل شاید نہ بچ سکیں۔”
ڈاکٹر کی آواز تھوڑی دھیمی ہوئی مگر سنجیدگی کی شدت برقرار تھی۔ڈاکٹر کی بات سن کر دونوں خاموش تھے مگر دونوں کا دل ایک دم سے بند ہو کر پھر سے دھڑکنا شروع ہوا تھا۔
“یہ بات میں اس لیے واضح کر کے بتا رہا ہوں، تاکہ آپ اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کریں۔ انہیں ایسے ماحول سے دور رکھیں، جو ماضی کی تلخیوں کی یاد دلائے۔”
“اب یہ صرف میڈیکل نہیں، ایموشنل کیئر کا معاملہ بھی ہے۔میڈیکل سے کہیں زیادہ ان کی صحت اب آپ کے ہاتھ میں ہے۔”
“ان شاءاللہ ایسا دوبارہ نہیں ہوگا۔”
مائد نے فوراً ڈاکٹر کی بات کاٹتے ہوئے کہا، جیسے ڈاکٹر کو نہیں خود کو یقین دلانا ہو۔
ڈاکٹر نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اثبات میں سر ہلایا اور مائد کے کندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھا۔
“کیا ہم ان سے مل سکتے ہیں؟”
مائد نے جلدی سے سوال کیا، جب کہ زیغم خاموشی سے بس ڈاکٹر کو دیکھ رہا تھا۔
“جی، بالکل۔ مل سکتے ہیں، مگر ایک ایک کر کے۔”
ڈاکٹر نے نرمی سے بتایا۔
“فی الحال وہ ہوش میں نہیں ہیں، مگر ہمیں پوری امید ہے کہ کچھ ہی دیر میں جب ہوش میں آئیں گی تو بہتری محسوس کریں گی۔”
ڈاکٹر نے قدرے سنجیدہ لہجے میں کہا۔
“البتہ، ان کے پاس سب سے پہلے وہ جائے… جسے دیکھ کر وہ پریشان نہ ہوں۔ جو انہیں سنبھال سکے، ٹائم سے پہلے۔ تاکہ ہم اندازہ لگا سکیں کہ سب کی ملاقات ممکن ہے یا نہیں۔”
“اگر چند چیزوں کا دھیان رکھا گیا تو ان شاءاللہ پیشنٹ جلد بہتری کی طرف آ سکتی ہیں۔”
“جی ٹھیک ہے، تھینک یو سو مچ!”
زیغم نے ممنون لہجے میں ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا اور اسے الوداع کہا۔
جبکہ مائد خاموش کھڑا نظریں جھکائے کسی سوچ میں گم تھا۔
زیغم نے اسے دیکھا، اس کی کیفیت کو محسوس کیا۔
“پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، ان شاءاللہ اللہ سب بہتر کرے گا۔ ہمیں اللہ تعالیٰ سے نا اُمید نہیں ہونا چاہیے۔”
زیغم اچھی طرح جانتا تھا کہ مائد کے دل میں کیا چل رہا ہے۔
“انشاءاللہ انشاءاللہ ۔اللہ پاک سب بہتر کرے گا۔”
زیغم نے آہستہ سے کہا، مائد نے زیغم کی طرف دیکھا۔
“تم جاؤ اس کے پاس۔ وہ تمہارے ساتھ کمفرٹیبل ہوگی، پینک نہیں ہوگی۔ اس کے بعد مورے اور آغا جان جائیں گے۔ میرا نمبر بعد میں آئے گا… وہ بھی تب جب وہ میری شکل دیکھنے کے لائق ہو جائے گی، کیونکہ اس کی ایسی حالت میری وجہ سے ہوئی ہے۔”
“تمہاری وجہ سے کچھ نہیں ہوا، مائد!”
“بس اللہ کو یہی منظور تھا۔ خود کو گلٹ مت فیل کرواؤ۔”زیغم نے نرمی سے کہا۔
مائد نے گہری سانس لی جیسے خود کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔
“یہ گلٹ تب ہی ختم ہو سکتا ہے… جب وہ بالکل ٹھیک ہو کر پہلے کی طرح زندگی جینے لگے،
تب تک میں خود کو معاف نہیں کر سکتا۔
تم میری فکر نہ کرو، میں ٹھیک ہوں۔
تم جاؤ اس کے پاس۔”
یہ کہتے ہوئے مائد تیزی سے ویٹنگ ایریا سے باہر نکل گیا۔
اس لمحے اس کے دل کی کیا حالت تھی… یہ بس وہی جان سکتا تھا۔
زیغم نے گہری سانس لی، ایک پل کو آنکھیں موندیں،” آغا جان اور مورے سارا منظر دیکھتے ہوئے زیغم کے قریب ا کر رک گئے۔
“تم جاؤ بیٹا جا کر دانیا سے ملو انشاءاللہ جب وہ ٹھیک ہوگی تو اس کا درد خود کم ہو جائے گا مورے نے زیغم کے پریشان دل کو تسلی دی ۔۔۔
زیغم نے اثبات میں سر کو ہلایا۔اور قدم دانیہ کے روم کی طرف بڑھا دیے۔آغا جان اور مورے خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گئے تھے۔
°°°°°°°°°°
زیغم نے دروازے پر ہاتھ رکھا۔
دروازہ آہستہ سے اندر کی جانب کھلتا چلا گیا۔
کمرے میں نیم اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔
صرف بیڈ کے اوپر ایک مدھم زرد روشنی جل رہی تھی،
جو دانیہ کے چہرے پر نرمی سے پڑ رہی تھی۔
شاید اسے پرسکون رکھنے کے لیے کمرے کی روشنی کم رکھی گئی تھی۔
دانیہ کا چہرہ زرد لگ رہا تھا۔
چہرے پر گہری خاموشی اور ایک معصوم سی بےخبری چھائی ہوئی تھی۔
آنکھیں بند تھیں، جیسے وہ کسی گہری نیند میں ہو۔
سانسیں ہموار چل رہی تھیں، مگر اس میں زندگی کی چہک نہیں تھی۔
زیغم چند لمحے دروازے پر ہی کھڑا رہا۔
پھر قدم اندر رکھ دیے۔
زیغم آہستہ قدموں سے آگے بڑھا، دانیہ کے قریب آ کر رک گیا۔
نرمی سے، ایک باپ جیسے انداز میں، شفقت بھرا ہاتھ اس کے سر پر رکھا۔
چند لمحے وہ بس اسے دیکھتا رہا۔
خاموش، ٹوٹا ہوا، بےبس۔
“دانیہ…”
اس کے لبوں سے مدھم سی پکار نکلی۔
“تم میرے لیے صرف بہن نہیں ہو…
بیٹی کی طرح ہو..
میرے خون کا وہ رشتہ ہو جس کے ہونے سے مجھے سکون ملتا ہے۔”
اس کی آواز میں نمی تھی، مگر لہجہ تھام رکھا تھا۔
“کیوں نہیں تم اپنے ذہن سے وہ ڈر نکال دیتی؟
کیوں ان درندوں کے سائے تمہیں اب بھی سونے نہیں دیتے؟
کیوں نہیں تم خود کو مائد خان کی محبت میں محفوظ محسوس کرتی؟
وہ تمہیں ٹوٹ کر چاہتا ہے… تم پر جان چھڑکتا ہے۔”اس کی نظریں دانیا کے چہرے پر مرکوز تھی ۔خاموش لبوں سے وہ اپنے دماغ میں یہ سب سوچ رہا تھا۔
“کیوں آج بھی تم ان سوچوں میں الجھی ہوئی ہو؟زیغم کا ہاتھ اب بھی دانیہ کے سر پر تھا…
اور کمرے کی خاموشی میں صرف گھڑی کی چلتی ہوئی سوئیوں کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی۔دانیا کی پلکیں یوں لرزنے لگیں جیسے ہوش کی دہلیز پر قدم رکھ رہی ہو، کچھ لمحے پلکیں لرزتی رہیں، پھر اُس نے آہستگی سے آنکھیں کھول کر ادھر اُدھر دیکھنا شروع کیا۔
اپنی نظروں کے سامنے بھائی کو دیکھ کر اس کے لبوں پر مسکراہٹ آئی، مگر اگلے ہی لمحے وہ مسکراہٹ مدھم پڑ گئی۔
زیغم اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھے تھوڑا سا اس کے قریب جھکا، “دانیا، تم ٹھیک ہو؟” شفقت سے پوچھا۔
“مگر دانیا نے چہرے کا رخ ایسے موڑا، جیسے ناراضگی کا جواب وہ لفظوں سے نہیں، خاموشی سے دینا چاہتی ہو۔”
“دانیا بیٹا، میں نے پوچھا تمہاری طبیعت ٹھیک ہے؟ جانتی ہو میں کتنا پریشان ہوں تمہارے لیے۔” وہ اس کے قریب بیڈ پر بیٹھ گیا۔
“میرے لیے کوئی پریشان نہیں ہے، اور نہ ہی کسی کو ہونے کی ضرورت ہے۔” دانیا نے خفا لہجے میں نظریں چراتے ہوئے کہا۔۔۔
“ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ میں تمہارے لیے پریشان نہ ہوں؟ بہن ہو تم، میری جان سے پیاری۔” ماہ کے لہجے سے محبت پھولوں کی طرح برس رہی تھی، مگر دانیا کی ناراضگی پوری طرح سے قائم تھی۔
“تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے ابھی، غصہ کرنا تمہاری صحت کے لیے ٹھیک نہیں۔ جب ٹھیک ہو جاؤ گی، تو دل کھول کر مجھ پر غصہ کر لینا۔”
“مجھے آپ پر غصہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، آپ جائیں… اُن کے ساتھ رہیں، ان کا خیال رکھیں جن کو آپ نے معاف کر دیا ہے۔”
دانیہ اس وقت توقیر کی فیملی کی بات کر رہی تھی، مطلب اس کا ذہن اب بھی اُسی معافی پر اٹکا ہوا تھا۔
“دانیا، میں نے انہیں اللہ کے حوالے کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ کیا تمہیں اپنے رب پر یقین نہیں؟ اور ویسے بھی، یہ ان باتوں کا وقت نہیں ہے۔ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں، تمہیں آرام کی ضرورت ہے۔ مائد بہت پریشان ہے تمہارے لیے۔”
“یہی وقت ہے بات کرنے کا! اور میں کون سا مر گئی ہوں جو بات نہیں کر سکتی؟ کوئی نہیں ہے میرا، نہ مائد، نہ آپ… کوئی نہیں ہے میرا! میں اکیلی ہوں… اور پتہ نہیں میں مر کیوں نہیں جاتی… میں جانا چاہتی ہوں بابا سائیں اور اماں صحیح کے پاس!”
“دانیا…”
“بولنے سے پہلے سوچ لیا کرو! تمہارے علاوہ میرا کون ہے؟ اور تم ایسی بے تکی باتیں کر رہی ہو؟”
زیغم کا لہجہ بھیگ گیا۔
“اللہ تعالیٰ تمہیں صحت دے، زندگی دے…”
“اللہ تعالیٰ صحت اور زندگی دے دیں گے… مگر میں اس صحت اور زندگی کا کیا کروں گی؟”
دانیا نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا، نگاہوں میں درد اور دل میں خالی پن تھا۔
“مجھے نہیں چاہیے صحت… نہ زندگی! زندگی کا فائدہ ہی کیا جس میں میں اپنے بابا سائیں، اماں، اور بہرام بھائی کے قاتلوں کو ہنستا کھیلتا اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھوں؟ کیا کرنا ہے ایسی زندگی کا؟”
وہ لمحہ لمحہ ٹوٹ رہی تھی۔
“اور آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟ آپ بھی یہی سوچیں کہ آپ کی بہن مر گئی… ہاں، مر گئی!”
دانیا کی ناراضگی پوری شدت کے ساتھ برقرار تھی۔
زیغم نے گہری سانس لی، دل زخمی سا ہو چکا تھا،
“دانیا بیٹا، اگر اتنی ہی ناراضگی ہے، تو یہ دعا کیوں نہیں کرتیں کہ میں ہی مر جاؤں؟ شکایت تو مجھ سے ہے ناں؟ اپنے لیے بددعائیں کیوں کر رہی ہو؟”
اس کا لہجہ بکھرا ہوا تھا۔ آخر وہ بھی انسان تھا، اسے بھی درد ہوتا تھا… مگر یہ بات دانیا کو کیسے سمجھاتا؟
“کیوں؟ اپنے لیے بددعا کیوں نہیں کر سکتی؟ میری زندگی ہے، اور میں اپنے لیے بددعا کر سکتی ہوں!”
دانیا کی آواز لرز رہی تھی۔
” اللہ تعالیٰ آپ کو صحت اور زندگی عطا فرمائے۔ آپ کی زندگی صرف مجھ سے نہیں، مہرونساء اور ارمیزہ سے بھی جڑی ہے۔”
اس کی نظریں زیغم کے چہرے پر کچھ لمحوں کے لیے ٹک گئی تھی۔جو بھی تھا وہ اپنے بھائی کے لیے کبھی بددعا نہ کر سکتی تھی نہ سوچ سکتی تھی۔۔۔
“اپنے لیے بددعا کرنے سے پہلے ان معصوم زندگیوں کے بارے میں بھی سوچ لیں، جن کا آپ کے سوا کوئی نہیں!”
“یہ بات تو تم پر بھی لاگو ہوتی ہے، دانیا… تمہاری زندگی بھی صرف تم سے جڑی ہوئی نہیں ہے۔”
زیغم کی آواز دھیمی مگر بھرپور درد سے بھیگی ہوئی تھی۔
“تمہاری زندگی میں بھی مائد ہے… وہ تم سے بے حد محبت کرتا ہے، تمہاری فکر کرتا ہے، تمہیں چاہتا ہے۔”
وہ لمحہ بھر کو رکا، جیسے دانیا کی آنکھوں میں کوئی امید ڈھونڈ رہا ہو۔
“کیا تم نے اُس کے بارے میں نہیں سوچا؟ اُس کی محبت، اُس کی پریشانی، اور تمہاری جدائی کا خیال نہیں آیا؟”
“دانیہ کے ہونے یا نہ ہونے سے کسی کو فرق نہیں پڑتا… وہ بھی سنبھل جائیں گے۔”
دانیا کے لہجے میں عجیب سی ٹھہری ہوئی بےنیازی تھی، جیسے ہر سوال کا جواب اس نے پہلے سے سوچ رکھا ہو۔
زیغم سلطان نے ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالی۔ اب وہ مزید بحث کے قابل نہیں رہی تھی۔
وہ جانتا تھا کہ اس کی طبیعت بگڑ سکتی ہے، اس لیے خاموشی سے اُس کے سر پر ہاتھ رکھا… ایک لمس جو تسلی بھی تھا اور معذرت بھی۔
خاموش قدموں سے وہ کمرے سے باہر نکل آیا۔
اس کے جاتے ہی مورے اور آغا جان کمرے میں داخل ہوئے۔ شاید یہی لمحہ مناسب تھا، دانیا کو ماں جیسے کندھے کی ضرورت تھی… مورے نے آہستہ سے اُس کے ہاتھ تھام لیے، اور دونوں خاموشی سے بیٹھ گئیں جیسے برسوں کی تھکی ہوئی ماں بیٹی ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔
زیغم سلطان کی نظریں اب مائد کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ قدم تیزی سے اس طرف اٹھنے لگے جہاں شایدصرف ایک خاموش سہارا مل سکتا تھا۔۔
°°°°°°°°°
“سکینہ! کیا ہوا ہے میری مہرو ماما کو؟”
ارمیزہ جو سمر کیمپ سے چند گھنٹے گزار کر ابھی ابھی واپس آئی تھی، جیسے ہی اُسے پتہ چلا کہ مہرو کی طبیعت خراب ہے، تو وہ فکر مندی سے بڑوں کی طرح کچن میں موجود سکینہ سے پوچھنے آ گئی، جو اس وقت مہرو کے لیے سوپ بنانے میں مصروف تھی تاکہ وہ کچھ کھا پی لے اور دوا دے سکے۔
“گڑیا، آپ کی ماما کو بخار تھا، مگر اب وہ پہلے سے بہتر ہیں۔ میں ان کے لیے سوپ بنا رہی ہوں تاکہ وہ پی لیں، اور میں انہیں دوا دے سکوں تاکہ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں۔” سکینہ نے بڑے سلیقے سے نرمی سے جواب دیا۔
اسی لمحے نایاب کچن میں داخل ہوئی، جو پچھلے کچھ دنوں سے غائب تھی۔ کسی کو علم نہ تھا کہ کہاں تھی، مگر آج اچانک سے نمودار ہو گئی۔
“کیا پٹیاں پڑھا رہی ہو تم میری بیٹی کو؟” وہ آتے ہی آگ بگولا ہو کر چلّائی۔ سکینہ کی آنکھوں میں ہلکی سی گھبراہٹ ابھر آئی۔
“نہیں بی بی جی، میں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا۔ ارمیزہ بی بی نے خود پوچھا تھا کہ مہرو بھابھی کو کیا ہوا ہے، میں نے بس انہیں بتایا۔”
“تم اپنی بکواس بند کرو! ہر وقت مہرو بھابھی، مہرو بھابھی! دیکھتی ہوں یہ مہرو بھابھی کتنے دن اور نظر آتی ہیں اس گھر میں! اور تم، میری بیٹی سے دور رہا کرو!” نایاب نے ارمیزہ کا بازو زور سے کھینچا اور اپنے قریب کر لیا۔
“چھوڑیں مجھے! آپ میری ماما نہیں ہیں، میری ماما مہرو ہیں!” ارمیزہ نے غصے سے اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کی کیونکہ وہ نایاب کو اپنی ماں تسلیم ہی نہیں کرتی تھی۔
“تم مانو یا نہ مانو، حقیقت یہی ہے، پدی لڑکی! تم میری بیٹی ہو، میں تمہاری ماں! سمجھی تم؟ اور وہ، وہ صرف تمہارے چچا زیغم سلطان کی بیوی ہے۔ اور زیغم بھی تمہارا باپ نہیں ہے، تمہارا باپ بہرام سلطان تھا… جو مر چکا ہے! تمہیں لے کر اس کی قبر پر بھی جاؤں گی تاکہ تمہیں تسلی ہو جائے۔سمجھی تم!”نایاب نے ارمیزہ کو کندھوں سے پکڑ کر زور سے جھنجوڑتے ہوئے کہا تو اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔
“چپ ہو جاؤ! ورنہ ایک کھینچ کر تھپڑ ماروں گی۔ ذرا ذرا سی بات پر رونا دھونا شروع کر دیتی ہو! بالکل اپنے خاندان والوں پر گئی ہو… ضدی! مر جاؤ گی لیکن اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹو گی!”
نایاب کی آواز بلند ہو چکی تھی، وہ چیخ رہی تھی، نہ اس معصوم بچی کے جذبات کا خیال تھا، نہ اس کی عمر کا۔
اسی وقت راہداری سے گزرتی ہوئی ملیحہ، جو مہرو کا حال پوچھنے کے لیے اس کے کمرے کی طرف جا رہی تھی، اچانک بلند آوازیں سن کر ٹھٹک گئی۔ چند لمحے ٹھہر کر آواز کا رخ پہچانا اور پھر بنا کچھ سوچے تیز قدموں سے کچن کی طرف دوڑی۔
جیسے ہی کچن کا منظر اس کی آنکھوں کے سامنے آیا، اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ معصوم بچی سہم کر کھڑی تھی اور نایاب اپنی بلند آواز سے فضا کو کانپ رہی تھی۔
ملیحہ کا خون کھول اٹھا۔ وہ نایاب کے منہ نہیں لگنا چاہتی تھی، ہر بار خاموش رہتی آئی تھی، مگر آج یہ خاموشی ممکن نہ تھی۔
“نایاب! یہ کیا طریقہ ہے بچے سے بات کرنے کا؟ تھوڑی سی شرم کر لو! بڑوں کا لحاظ نہیں کرتی تو کم از کم بچے کی عمر کا تو پاس کر لو!”
“تم اپنی زبان بند رکھو، سمجھی! تم سے میں نے کوئی مشورہ مانگا ہے؟ صبح صبح آ کر ایڈوائس دینے لگی ہو! دفع ہو جاؤ یہاں سے، میں اپنی بیٹی سے بات کر رہی ہوں!” نایاب نے بدتمیزی سے جواب دیا۔۔۔
“ماشاءاللہ ! آئی بڑی ماں! بیٹی سے بات کرنے کا یہ انداز ہوتا ہے؟ تم سے تو گھر کی ملازمائیں بہتر ہیں جنہیں اپنے بچوں سے بات کرنے کی تمیز اور تہذیب ہے!” ملیحہ نے اس کے تربیت کے دعوے کو ایسا تھپڑ مارا کہ نایاب کو مزید تپ چڑھ گئی۔
“تم خود کو سمجھتی کیا ہو؟ ہر معاملے میں ٹانگ اڑانا ضروری ہے تمہارے لیے؟ میرے بھائی تک محدود کیوں نہیں رہتیں؟”نایاب سیخ پا ہو کر بولی۔
“مجھے کوئی شوق نہیں تمہارے منہ لگنے کا، مگر تم ایسے کارنامے سر انجام دیتی ہو کہ مجھے مجبوراً تمہیں آئینہ دکھانا پڑتا ہے!” ملیحہ کا جواب دندان شکن تھا۔
“اللہ خیر کرے! یہ کیا شور مچا رکھا ہے گھر میں؟” سلمہ دہائی دیتی ہوئی کچن میں داخل ہوئی۔
“انہی سے پوچھ لیجیے کیا ہوا ہے، جو صبح صبح گھر کا سکون تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں!” ملیحہ نے نایاب کی طرف اشارہ کیا۔
“ایک لفظ اور نکالا تم نے تو میں تمہارا منہ توڑ دوں گی!” نایاب نے بدتمیزی سے آگے بڑھتے ہوئے کہا۔
“نایاب! اپنی حد میں رہو! بچی کے سامنے اور تماشہ مت بناو!” ملیحہ نے اسے دھکا دے کر خود سے دور کیا، اور نایاب پیچھے کی طرف لڑھک گئی، اس کا ماتھا کچن میں پڑی لکڑی کی میز سے ٹکرا گیا اور خون بہنے لگا۔
یہ سب غیر ارادی تھا، ملیحہ کا ایسا کوئی ارادہ نہ تھا۔ سکینہ نے فوراً ارمیزہ کو اٹھایا، جو خوف سے سہمی ہوئی تھی، اور مہرو کے کمرے کی طرف لے گئی۔
“ہائے اللہ! اس کا سر پھاڑ دیا! خون نکلنے لگا ہے! کتنی ظالم ہے یہ لڑکی!” سلمہ نے روایتی انداز میں شور مچا دیا، کیونکہ وہ ہمیشہ ڈرامہ کریئیٹ کرنے میں ماہر تھی اور آج بھی اس نے کمال کر دیا۔
“میں نے ایسا کچھ نہیں کیا نایاب، اُٹھو، میں تمہاری ڈریسنگ کر دیتی ہوں… میرا کوئی ارادہ نہیں تھا…” ملیحہ آگے بڑھی، مگر نایاب نے اسے زور سے دھکا دے کر پیچھے کر دیا۔
“دفع ہو جاؤ! جو کیا ہے، اس کا بدلہ لے کر رہوں گی!” نایاب نے غصے میں آ کر کچن سٹینڈ سے چمچ اٹھایا اور پوری طاقت سے ملیحہ کے سر پر دے مارا۔
ایک زوردار چیخ ملیحہ کے منہ سے نکلی۔ اس کا سر پھٹ گیا تھا اور خون کا فوارہ بہہ نکلا۔
چیخیں سن کر قدسیہ بھی کمرے سے باہر نکل آئی، اور زرام، جو آج طبیعت کی خرابی کے باعث ہسپتال نہیں گیا تھا، وہ بھی دوڑتا ہوا سیڑھیاں اتر کر نیچے آیا۔
مگر کچن کا منظر دیکھ کر دونوں ماں بیٹا ششدر رہ گئے۔ نایاب اور ملیحہ دونوں کے سر سے خون بہہ رہا تھا جبکہ سلمہ اپنا سینہ پیٹ رہی تھی۔
“اللہ! اس گھر میں تو قتل و غارت شروع ہو گئی ہے! ہمیں بچا یا رب! یہ کیسی ظالم عورتیں ہیں!” سلمہ روایتی انداز میں بین ڈالتی جا رہی تھی، بجائے یہ سب ختم کرانے کے۔
“اللہ! تم نے میری بیٹی کے سر پر کیا مارا؟ یہ خون کیوں نہیں رک رہا؟”
قدسیہ کو اُس لمحے صرف اپنی بیٹی ملیحہ نظر آ رہی تھی، وہ تڑپ کر آگے بڑھی۔
زرام کا چہرہ حیرت سے سکڑ گیا، لیکن وہ فوراً ملیحہ کی جانب لپکا، جو سر پر ہاتھ رکھے بمشکل کھڑی تھی۔
سچ یہی تھا ۔ ملیحہ کے سر سے بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا۔
“یہ سب کیا ہے؟ کیسے ہوا؟”
زرام نے بلند آواز میں سوال کیا، جس میں تشویش اور غصہ دونوں جھلک رہے تھے۔
“کیوں؟ تم اندھے ہو کیا؟ جو میں بتاؤں کہ کیا ہوا!”
نایاب نے زرام کو گھورتے ہوئے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر جواب دیا۔
“تمہاری بیوی نے پہلے مجھ پر حملہ کیا، تو جواب میں وار تو ہونا ہی تھا!”
“ملیحہ ایسا کبھی نہیں کر سکتی!”
زرام نے غصے سے کہا اور خون سے تر ہوتے اس کے بالوں میں ہاتھ رکھا،
پھر جلدی سے اُسے اپنے بازوؤں میں لیا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔
وہ جانتا تھا ۔ نایاب کو معمولی چوٹ آئی ہے، لیکن ملیحہ کی چوٹ گہری ہے۔
ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے وہ سمجھ چکا تھا کہ فوراً ڈریسنگ ضروری ہے۔
“ہاں ہاں، تمہاری بیوی دودھ کی دھلی ہے نا!”
نایاب پیچھے سے تڑپ کر بولی،
“تمہیں ہر وقت صرف اپنی بیوی کی پڑی رہتی ہے! اب بھی دیکھو، اُسے اٹھا کر لے جا رہے ہو۔ بہن کی تو کوئی فکر ہی نہیں!”
زرام نے ہلکی سانس لیتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا،
“تمہاری بھی فکر ہے، آؤ تمہاری بھی ڈریسنگ کر دیتا ہوں۔”
“نہیں چاہیے تمہاری ڈریسنگ!”
نایاب جھنجھلا کر چلائی،
“جہنم میں جاؤ تم اور تمہاری بیوی! مجھے بخشو!”
زرام بھی تھک چکا تھا،
“تو ٹھیک ہے، تم بھی ہماری جان چھوڑ دو۔”
اس نے خشک لہجے میں کہا، برداشت کی حد پار ہو چکی تھی۔
“تمہارا تو خون سفید ہو گیا ہے! نہ شرم رہی، نہ حیا۔ تیری زبان تو بس ہر وقت نفرت اور زہر اُگلتی رہتی ہو۔ مجھے افسوس ہے اُس دن پر جب تمہیں جنم دیا!”
قدسیہ کی آواز بلند ہو گئی،
زرام خاموش رہا، کوئی جواب دیے بغیر وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا اور زور سے دروازہ بند کر دیا۔سارا غصہ دروازے پر اتارا گیا تھا۔”جب ماں بہنیں اپنی حدود بھول جائیں نا… تو بیٹے کی زندگی عذاب بن جاتی ہے۔ پھر وہ جیتا بھی ہے تو جیسے سانس لینا بھی سزا لگتا ہے!”
زرام نے غصے کو برداشت کرتے ہوئے نے ملیحہ کو بیڈ پر لٹایا، فوراً ڈریسنگ باکس نکالا اور ڈریسنگ شروع کی۔
ملیحہ کے چہرے پر تکلیف صاف دکھائی دے رہی تھی،
وہ مسلسل ہاتھ پکڑے بول رہی تھی، “ذرام.. پلیز…مجھے بہت درد ہو رہا ہے…”
“کچھ نہیں ہوگا، بس ابھی آرام آ جائے گا۔ کٹ گہرا ہے، اگر ڈریسنگ نہ کی تو خون نہیں رکے گا۔”زرام نے نرمی سے کہا،
ملیحا کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نرمی سے چھڑا کر دوبارہ ڈریسنگ کرنے لگا۔
“مجھے بہت درد ہو رہا ہے!”
ملیحہ بچوں کی طرح سسک سسک کر رو رہی تھی۔
زرام نے ڈریسنگ باکس سے انجیکشن نکالا،
ملیحہ کی آنکھوں میں خوف امڈ آیا،
“نہیں… پلیز زرام، مجھے انجیکشن نہ لگانا۔ مجھے بہت ڈر لگتا ہے انجیکشن سے!”
وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔
“ملیحہ، کیا کر رہی ہو؟”
زرام نے نرمی سے مگر سنجیدگی سے کہا،
“خون تیز بہہ رہا ہے، سر سے اتنا بہنا خطرناک ہوتا ہے۔ لیٹی رہو، اور مجھے انجیکشن لگانے دو۔”
وہ زبردستی تکیے پر لٹاتے ہوئے نرم لہجے میں بولا،
“اچھا میری طرف دیکھو، وعدہ کرتا ہوں تمہیں درد نہیں ہوگا۔”
“جی نہیں!”
ملیحہ چیخ اٹھی،
“تمہیں دیکھنے سے کیا ہوتا ہے؟ یہاں فلم نہیں چل رہی، درد ہوتا ہے تو ہوتا ہے! اور تمہاری آنکھوں میں نہیں دیکھنا مجھے! تمہاری بہن جاہل ہے، انسانیت نام کی چیز نہیں اس میں!”
وہ غصے سے کہتی جا رہی تھی،
“میں نے اس کو جان بوجھ کر نہیں مارا، وہ مجھ پر حملہ کرنے والی تھی، میں نے بس روکا تھا۔ وہ خود گری اور چوٹ لگ گئی۔ مگر اُس نے میرے سر پر جس طرح چمچ مارا ہے… مجھے تو وہ قاتل لگتی ہے!”
“تو پھر اُس کے منہ کیوں لگتی ہو؟تمہیں اچھی طرح سے پتہ ہے کہ اس کا بیہیویئر ایسا ہے کیوں نہیں اس سے دور رہتی۔”
زرام نے ٹھہر کر پوچھا۔
“مجھے کوئی شوق نہیں اس کے منہ لگنے کا! وہ ارمیزہ پر چیخ رہی تھی، اسے کہہ رہی تھی کہ وہ زیغم بھائی کی بیٹی نہیں ہے، مہرو اس کی ماں نہیں ہے! میں تو بچی کی جان چھڑوانے گئی تھی، مجھے کیا پتہ تھا کہ وہ جاہل عورت…”
“آآآااااااا۔۔۔!”
اس کی چیخ بلند ہوئی،
کیونکہ زرام نے موقع دیکھتے ہی انجیکشن لگا دیا تھا۔
“ہلنا مت، ملیحہ! ہلنا مت! ورنہ سوئی بازو کے اندر ہی نہ ٹوٹ جائے!”
زرام کی آواز سخت ہو چکی تھی۔
“تمہیں شرم نہیں آتی؟ انجیکشن لگا دیا؟!”وہ دوسرے ہاتھ سے زرام کے بال کھینچنے لگی۔
“پاگل لڑکی! مت ہلو! بازو ہلاؤ گی تو نقصان ہو جائے گا!”زرام انجیکشن لگا چکا تھا اور سوئی کو ایک طرف رکھ دیا۔
“پورا خاندان ایک جیسا ہے!”
ملیحہ غصے سے بولی،
“کسی کو کسی کے درد کا احساس نہیں! بس سب اپنے آپ میں مگن!”
زرام اب خاموشی سے ڈریسنگ مکمل کر رہا تھا۔ملیحہ کی چیخیں اور سسکیاں کمرے میں گونج رہی تھیں،زرام کو ملیحہ کی تکلیف کا احساس بھی تھا اور اس کی تکلیف کو وہ اپنے دل پر محسوس کر رہا تھا۔
مگر وہ ایک ڈاکٹر تھا ۔ دل مضبوط کر کے، جو ضروری تھا، وہی کر رہا تھا۔
ڈریسنگ مکمل ہوئی، مگر ملیحہ کے آنسو…
ابھی بھی رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
“اب یہ بچوں کی طرح آنسو بہانا بند کرو۔ ڈریسنگ ہو گئی ہے اور انجیکشن لگ چکا ہے، کچھ ہی دیر میں درد سے آرام آ جائے گا۔”
زارم نے نرمی سے اس کا چہرہ تھاما اور ماتھے پر لب رکھنے کے لیے جھکا ہی تھا کہ…
“مگر ملیحا نے غصے سے اسے خود سے دور کر دیا۔”ملیحہ تنزیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔
“رہنے دیں!جھوٹی محبت جتانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔”
اس نے غصے سے بھری آواز میں کہا۔
“جب چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی کہ مجھے درد ہو رہا ہے، درد ہو رہا ہے، تب تو ذرا سا بھی رحم نہیں آیا… گھسوڑ دیا ٹیکا!”
اس نے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوئے دکھ سے کہا،
“ذرا احساس نہیں ہوا کہ ایک نازک سی لڑکی کے بازو میں کتنی تکلیف ہو رہی ہوگی… اور اب بڑے عاشق بن کر پیار جتا رہے ہو؟”ملیحہ کے غصے پر زرام کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔
” یہ بچوں کی طرح آنسو بہانا بند کرو۔ بس ڈریسنگ ہو گئی ہے اور انجیکشن لگ چکا ہے، کچھ ہی دیر میں درد سے آرام آ جائے گا۔”
“جس وقت کے لیے جو ضروری ہوتا ہے، وہی کرنا چاہیے۔”
زرام نے نرمی سے سمجھایا۔
“محبت کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ سامنے والا زخمی ہو، تکلیف میں ہو، اور ہم اس کے درد کو دیکھ کر علاج روک دیں۔ جیسےمحبت کے اپنے اصول ہوتے ہیں، ڈاکٹر کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں۔ جب سامنے مریض ہو، تو اس کا علاج فرض بن جاتا ہے۔ سوئی کی چبھن کتنی بھی لگے، مگر علاج ہی بہترین حل ہوتا ہے۔”
اس نے تھوڑا جھک کر محبت سے اس کی ناک کو چھوا۔
“سمجھی میری نکچڑی بیوی؟ ہر وقت غصہ، کبھی معصوم شوہر پر عنایت بھی کر لیا کرو۔ محبت بھی کر لیا کرو، صرف خفگی اچھی نہیں ہوتی۔ ہر وقت غصے میں رہنے سے صحت بھی خراب ہو جاتی ہے۔”
زرام کے نرم لہجے، اور جھکے چہرے میں چھپی محبت پر ملیحہ کی نگاہ ٹھہر گئی۔ خاموشی سے ایک نظر اس کی جانب دیکھا، اور دل کی دیواروں پر کہیں نرمی سی اتر گئی۔
“لچھے دار باتیں تو تم خوب کر لیتے ہو، الجھانے کے لیے… معصوم بیوی ہوں نا، ہر بار تمہاری باتوں میں الجھ جاتی ہوں۔ ورنہ ایک بار ضرور سوچتی کہ تم صرف ڈاکٹر نہیں، میرے شوہر بھی ہو۔ مگر نہیں… فوراً قصائی بن جاتے ہو! جلاد ڈاکٹر! اور بالکل بھی اچھے نہیں ہو!
اگر میرے بس میں ہو تو تمہاری ڈگری منسوخ کر دوں!”
ملیحہ کا غصہ اب اتر چکا تھا، مگر یہ ناراضگی… اب پیار سے بھرپور، ایک مصنوعی سی خفگی تھی۔
“قصائی نہیں ہوں میں… اگر قصائی ہوتا تو—”
وہ شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے خاموش ہو گیا۔
ملیحہ کی پلکیں لرزیں… اس کی آنکھیں بند ہو گئیں۔
اس کے چہرے پر شرم کی وہ لالی تھی جو دل کے موسموں کا پتا دیتی ہے۔
اسے ابھی بھی سر میں ہلکا سا درد محسوس ہو رہا تھا، مگر زرام کی شوخ باتوں نے جیسے اس کے دھیان کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔
کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی تھی… وہ خاموشی جو لفظوں سے زیادہ کچھ کہہ جاتی ہے۔
زرام نے آہستگی سے اس کی طرف جھک کر سرگوشی کی،
“اگر تمہارا درد لے سکتا… تو بنا ایک پل سوچے لے لیتا۔”
ملیحہ کی سانس ہولے سے رکی…
پھر اس کے ہونٹوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ بکھر گئی۔
اس نے آنکھیں کھول کر زرام کو دیکھا… وہ نظر، وہ لمحہ… کچھ کہے بغیر سب کہہ گیا۔
کمرہ جیسے جذبات کی خوشبو سے بھر گیا تھا۔
خاموشی میں لپٹا وہ پل… دل کی دھڑکن سے ہم آہنگ ہو کر جیسے کہہ رہا تھا:
محبت… بعض اوقات لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی۔
“زرام تم بہت ہوہے…”
ملیحا نے سرگوشی کی، اس کی پلکیں جھکی ہوئی تھیں اور رخساروں پر حیا کی سرخی نمایاں تھی۔
زرام نے آہستگی سے اس کی ٹھوڑی تھامی، اس لمس میں بھی التجا تھی۔
“اچھا جی کتنا اچھا ہوں۔؟
“بہت زیادہ اچھے۔”
“اور تم بہت پیاری ہو اسی لیے تو مجھے خود سے محبت کرنے پر مجبور کر دیتی ہو…” وہ سرگوشی میں بولا۔
زرام نے اپنا ماتھا اس کے ماتھے سے لگایا، وہ لمحہ دل کی دھڑکنوں سے مزین تھا۔
ایک خاموش لمس، ایک پر سکون سا لمحہ…
ملیحا نے آنکھیں بند کر لیں، اور زرام نے اس کے وجود کو اپنی باہوں میں سمیٹ لیا۔
کمرے کی ہوا میں محبت کی خوشبو گھل گئی، وہ ایک دوسرے کے لمس میں سانس لے رہے تھے۔
°°°°°°°°°°°