Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:48

راز وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر: 48
°°°°°°°°°
” زیغم سلطان، لگا!
ایڑی چوٹی کا زور لگا!”
شہرام کی آنکھوں میں خباثت کی چمک تھی۔
“میں بھی تو دیکھوں… کہاں تک تمہاری پہنچ ہے۔
میں بھی تو دیکھوں، وکیل والا دماغ کتنی دور تک سوچ سکتا ہے!”
ہاہا ہا…!
شہرام کا شیطانی قہقہہ کمرے میں گونج رہا تھا ۔ایک ایسی گونج، جس میں زہر بھی تھا اور غرور بھی۔
وہ نظریں لیپ ٹاپ کی اسکرین پر جمائے بیٹھا تھا۔
جہاں زیغم سلطان اپنے خاص آدمی رفیق کے ہمراہ کھڑا تھا۔
“پوچھ سکتا ہوں؟ کون سا ‘حکم کا اکا’ ہاتھ لگ گیا ہے جو یوں قہقہہ لگا کر ہنس رہے ہو؟”
توقیر نے شراب کا گلاس لبوں سے لگا رکھا تھا۔
وہ گہرا گھونٹ حلق سے نیچے اتار کر، تیز نظروں سے بیٹے کو دیکھتے ہوئے، طنز سے بول رہا تھا۔
“سامنے اسکرین پر نظر ڈالیں… پتہ چل جائے گا کہ مجھے اتنی خوشی کیوں ہو رہی ہے!”
شہرام نے لیپ ٹاپ کو گھما کر اسکرین اپنے باپ کی طرف کر دی۔
توقیر نے چشمے اٹھا کر آنکھوں پر چڑھائے، اور سکرین کی جانب دیکھا ۔
جہاں حویلی کے باہر والے گیٹ کے سامنے، زیغم اور رفیق آپس میں کھڑے بات کر رہے تھے۔
توقیر کی پیشانی پر بل پڑے۔
چند لمحے دیکھنے کے باوجود… اُسے کچھ سمجھ نہ آیا۔
“اس میں اتنا کھلکھلا کر قہقہہ لگانے والی کیا بات ہے؟”
توقیر نے حیرت سے شہرام کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
“کمال ہے!”
شہرام ہنسا، چہرے پر طنزیہ فاتحانہ رنگ تھا۔
“اتنے بڑے شاطر ہو کر اتنی سی بات سمجھ نہیں آ رہی؟”
وہ لمحہ بھر کو رُکا، پھر مزید زہر گھول کر بولا۔”زیغم سلطان ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے ہمیں ڈھونڈنے کے لیے، مگر… ڈھونڈ نہیں پا رہا!”
“دل میں مارا مارا پھر رہا ہے، اندر ہی اندر جل رہا ہے، اور رفیق پر برس رہا ہے!”
شہرام کے چہرے پر شیطانی سکون تھا
وہ زیغم کی بے بسی کو انجوائے کر رہا تھا۔

مگر شہرام یہ بھول گیا تھا…
کہ جب کوئی شریف اپنی شرافت چھوڑتا ہے ۔تو قسم سے… وہ ہزاروں بدمعاشوں پر بھاری پڑ جاتا ہے۔
اس وقت سے ڈرنا چاہیے…جب کوئی صبر کرنے والا،صبر کا دامن چھوڑ دیتا ہے۔

“زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کڑے منصوبے بناو!”
توقیر نے گہری آواز میں کہا،
“اسے، اس کی بہن کو، اور اُس پٹھان کو…
انہیں آخری منزل تک پہنچانے کے باغ کھل کر جیت کا جشن منانا ۔”
توقیر نے شراب کا ایک اور سپ لیا،
آنکھوں میں گہری سوچ جھلک رہی تھی۔توقیر مکمل طور پر سنجیدہ ہو کر شہرام کو سمجھا رہا تھا جیسے کسی بہت بڑے طوفان سے پہلے وارننگ دے رہا ہو۔
“ایک بات مت بھول… وہ زیغم ہے۔
وہ کیا سوچتا ہے، کیا کرتا ہے
یہ کوئی نہیں جانتا۔”
“کبھی منہ سے اچھا بھی کچھ بول لیا کریں۔”
شہرام نے ناک چڑھا کر کہا،
“میرے خیال سے اس وقت زیغم کو یہ سوچنا چاہیے کہ میں کیا سوچ رہا ہوں!”
وہ باپ کی بات کو مکمل رد کر کے،
اپنی قوت کا جھنڈا لہرا رہا تھا۔

“ارے او کم عقل!”
توقیر کی آواز میں غصے اور مایوسی کی آمیزش تھی۔
“تیری ہی طرف طاری کر رہا ہوں، سمجھا رہا ہوں کہ سنبھل سنبھل کر قدم رکھ!”
“تو یہ کیوں بھول گیا کہ…
جس وقت ہم نے یہ سوچا تھا کہ وہ ہمیں سرعام پھانسی دے دے گا،
تب اس نے ہمیں گھر کے اندر قید کر دیا!
ہمیں گولی مار کر مار دینے کے بجائے،
اس نے ہمیں ملازموں کی طرح گھر میں قید رکھا۔”
“میرے ہی خاص لوگوں کو میرے خلاف کر دیا…میرے مہروں کو انہیں میرے ہی خلاف استعمال کیا!”
“اور جب ہمیں لگا کہ اب وہ ہمیں زندہ درگور کر دے گا ۔
تب اس نے ہمیں معاف کر دیا!”

“تجھے یہ سب دیکھ کر بھی اندازہ نہیں ہو رہا؟کہ وہ کب کیا سوچتا ہے، ہم نہیں سمجھ سکتے!””میرے بھائی کا خون اس کی رگوں میں دوڑتا ہے… میں اسے جتنا سمجھتا ہوں، تمہیں ورن کر کے سمجھا رہا ہوں کہ آنکھیں کھلی رکھو اور اپنی جیت پر مت اتراؤ۔
وہ زیغم سلطان سمندر سے زیادہ گہرا ہے۔ اس وقت وہ ایک خاموش سمندر کی مانند ہے… مگر مت بھولو، اکثر جب سمندر کے اندر ضرورت سے زیادہ خاموشی ہو… تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ بہت بڑا طوفان آنے والا ہے!”
“تو اپنی جیت کے نشے میں اتنا مت کھو جانا…کہ تجھے زیغم کے وار کا پتہ ہی نہ چلے!”
“بس… بس کر دے!
میں زیغم سلطان کی عقل، دانائی، اور سمجھداری کے قصے اور نہیں سن سکتا!اس وقت کا انتظار کریں… میں زیغم سلطان کا وہ حال کروں گا کہ نہ وہ زندہ رہے گا، نہ مر سکے گا!”
شہرام کے لبوں پر ایک شیطانی، طنزیہ مسکراہٹ بکھری تھی۔ وہ اپنے باپ کی کسی بات سے اتفاق نہیں کر رہا تھا۔

شہرام کی مثال بالکل ویسی تھی جیسے
“عقلمند کہتا ہے میں کچھ نہیں جانتا،
جبکہ بے وقوف سمجھتا ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔”
اور شہرام… وہ اسی دوسرے قبیلے سے تھا۔
ظاہر میں پر اعتماد، مگر درحقیقت ایک جلد باز بے وقوف،جسے اپنے سامنے آنے والے خاموش طوفان کی کوئی خبر نہ تھی۔

“ٹھیک ہے، جو کرنا ہے کر۔ ویسے بھی تو اپنی ماں پر گیا ہے، میرے کہنے سے تُو نے کون سا کچھ مان جانا ہے۔ مگر جو بھی کر، عقل اور ذہانت سے کر ۔ اس سے پہلے کہ ہمارا انجام لکھا جائے، میں دل سے چاہتا ہوں کہ تُو زیغم سلطان اور اس کے بچے کھچے چند رشتوں کا انجام خود لکھ دے۔”
آخرکار توقیر نے ہی ہار مانی تھی، کیونکہ بیٹے سے ایسی کوئی امید رکھنا فضول تھا۔ پرورش کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے۔ جب بیج بویا جائے ببول کا، تو پھر آم کہاں سے کھائے جا سکتے ہیں؟ جب بیٹے کی پرورش ہی بحث، بدتمیزی، اور ضد پر کی گئی ہو، اور جیت کے نشے کے جام پلائے گئے ہوں، تو اسے تہذیب، تمیز، ماں باپ کا احترام اور بات ماننے کا وقار کہاں سے آنا تھا؟”لفظ تھم گئے تھے، مگر کمرے کی ہوا اب بھی زہر اُگل رہی تھی۔”
°°°°°°°°°°
“رفیق! بس کر دو!”
زیغم سلطان کی گرجتی آواز نے کمرے کی خاموش فضا کو چیر کر رکھ دیا۔
“ایک ہی بات سنتے سنتے میں تھک گیا ہوں، کہ تم کوشش کر رہے ہو۔ کیا تمہاری یہ کوشش کافی ہے؟ اس سوال کا جواب اب میں نہیں، تم خود دو گے!”

زیغم کی آنکھوں میں بھڑکتے شعلے تھے، لہجہ دہکتا ہوا، اور اس کے لفظ جیسے آگ اگل رہے ہوں۔ رفیق سمیت تمام عملہ نظریں جھکائے کھڑا تھا۔

“نہیں سائیں، میرا وہ مطلب نہیں تھا…” رفیق نے ہچکچاتے ہوئے بمشکل لب کھولے۔
“تو پھر کیا مطلب تھا؟ کیا مطلب تھا تمہارا!”
زیغم کی آواز میں اب صرف غصہ نہیں، انتقام کا عزم بھی بول رہا تھا۔

“میری ایک بات کان کھول کر سن لو۔اگر اب کی بار توقیر سائیں یا شہرام میں سے کسی نے بھی میری فیملی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، تو خدا کی قسم! میں انسانیت بھول جاؤں گا۔ ایک ایسی خونی کہانی لکھوں گا کہ ان لوگوں کی روحیں تک کانپ اٹھیں گی۔ بس، میرے صبر کا باندھ ٹوٹ چکا ہے۔ اب مزید برداشت نہیں ہوگا!”
اس کی دھاڑ حویلی کے دیوار و در سے ٹکرا کر لوٹ رہی تھی۔

زیغم سلطان بلیک سوٹ میں ملبوس، اجرک کندھوں پر پھیلائے، کمر پر دونوں ہاتھ باندھے ہوئے کھڑا تھا۔ گندمی رنگت غصے کی شدت سے تپ رہی تھی۔ اس کا چہرہ ۔ جو ویسے ہی خوبصورتی کی ایک الگ پہچان رکھتا تھا ۔ اب غصے کی سرخی سے اور نمایاں ہو چکا تھا۔ آنکھیں انگارے، جبڑے بھنچے ہوئے، اور ہونٹوں کے کنارے سختی سے بند تھے۔
فضا میں عجیب سی خاموشی اور گھٹن تھی، جیسے ہر ذرے نے اس کے غصے کو محسوس کر لیا ہو۔ حویلی کے عقب میں موجود بڑی بڑی، چمکتی علی شان گاڑیاں خاموش کھڑی تھیں،حویلی کا بڑا لکڑی کا گیٹ ایک قدیم اور مہنگے ذوق کا شاہکار ، آدھا کھلا ہوا تھا،۔نزدیک کھڑے نوکروں کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ کسی کی ہمت نہ تھی سر اٹھانے کی۔ ہر چہرہ جیسے پتھر کا مجسمہ بن چکا تھا۔ زیغم سلطان کی دھاڑ ان کے رونگٹے کھڑے کر چکی تھی۔
سفید سنگِ مرمر سے بنی حویلی کے قدیم گیٹ کے دونوں جانب ہتھیار تھامے محافظ چاک و چوبند کھڑے تھے۔ ماحول میں تناؤ اس قدر گہرا تھا کہ ہوا بھی ساکت ہو چکی تھی۔ حویلی کی اینٹوں میں جیسے غصے کی چنگاریاں بھری تھیں۔

“جی سائیں، انشاءاللہ بہت جلد میں آپ کو کوئی اچھی خبر لا کر دوں گا۔ میری جان آپ پر قربان۔”
رفیق نے بڑی ہمت سے نظریں اٹھا کر کہا، مگر اس کی آواز میں ایک لرزش چھپی تھی۔
“بہت جلد مجھے وہ باپ بیٹا لا کر دو!”
“مجھے پتہ ہونا چاہیے وہ کب، کہاں، کیا کر رہے ہیں۔ جو حقیقت تم نے مجھے ان کے بارے میں بتائی ہے، اُس کے بعد میں ان سے کچھ بھی توقع کر سکتا ہوں… اور اسی لیے بھروسہ نہیں کر سکتا۔”

وہ پل بھر کو رکا، پھر قدم بڑھاتے ہوئے سخت لہجے میں دھاڑا،
“مجھے جلد از جلد اُن کی خبر چاہیے! انکار کی صورت میں کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارا سر ہی دھڑ سے جدا کر دوں!”
یہ کہتے ہوئے وہ تیز قدموں سے حویلی کے اندرونی گیٹ کی جانب بڑھ گیا۔ ملازمین اب بھی ساکت، گردنیں جھکائے کھڑے تھے۔
خاموش فضا میں خطرے کی چاپ گونج رہی تھی۔۔۔
°°°°°°°°°
“کیوں بچارے ملازمین پر چلا رہے تھے؟”
نایاب اچانک اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ آواز میں نہ نرمی تھی نہ مروّت، بس ایک دیوار جیسا ٹھہراؤ۔

زیغم جو پہلے ہی باہر سے آگ بگولا ہو کر آ رہا تھا، نایاب کو سامنے پا کر مزید بھڑک اٹھا۔
اس کی آنکھوں میں شعلے، ماتھے پر تناؤ اور قدموں میں طوفان تھا۔

“میرے راستے سے دفع ہو جاؤ! میں تم سے اس وقت کوئی بات نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ اگر کی، تو بہت کچھ ایسا بول جاؤں گا جو تم برداشت نہیں کر سکو گی۔”

“اگر میں پیچھے نہ ہٹوں تو؟”نایاب نے سینے پر دونوں بازو باندھ لیے۔ وہ اب اور بھی مضبوطی سے سامنے آ گئی۔

زیغم کے صبر کا دھاگا ٹوٹنے کو تھا۔
“کیا چاہتی ہو کہ میں تمہاری عزت افزائی کروں؟ اگر بہت شوق ہے عزت افزائی کرانے کا تو کر دیتا ہوں۔ اور ویسے بھی، کل جو تماشا تم نے لگایا، اس کے بعد تمہارا دماغ ٹھیک کرنا ضروری ہے میرے خیال سے۔”

نایاب نے طنز سے ابرو اٹھائے۔
“او اچھا! توتم تک خبر پہنچ گئی ہے؟ تمہاری اُس گوار بیوی نے رپورٹ دے دی کہ کل کیا ہوا ہے۔؟”

زیغم کی آنکھوں کی سرخی تیز ہوئی۔
“اپنی زبان کو لگام دو نایاب! اپنی بدتمیز زبان سے تم میری بیوی کا نام نہ لو تو بہتر ہوگا۔”

نایاب کے لبوں پر ایک سرد مسکراہٹ تھی۔“چچچ… بہت دکھ ہوتا ہے تمہیں جب میں اسے ‘گوار’ کہتی ہوں، حالانکہ وہ ہے ہی گوار۔ اب گوار کو گوار نہیں کہیں گے تو کیا کہیں گے؟”

زیغم کی آنکھیں تنگ ہو گئیں، آواز میں سختی ابھر آئی۔
“مجھے دکھ نہیں ہوتا، کیونکہ میں نے تمہارے اس سے کہیں زیادہ گرے ہوئے رنگ دیکھے ہیں۔ مجھے تمہارے کسی بھی رویے پر حیرانی نہیں ہوتی۔ میں تم سے بدترین کی امید رکھتا ہوں، اور تم ہر بار میری امید پوری کرتی ہو۔”

زیغم سلطان کے تلخ جملوں پر نایاب نے دانت بھینچے۔
“اچھا؟جب تمہیں مجھ سے اچھی امید نہیں ! تو پھر کل والے حادثے پر اتنا تلملا کیوں رہے ہو۔؟”

“کیونکہ تم نے میری بیٹی کا دل توڑا! کیا ضرورت تھی ارمیزہ کے سامنے بکواس کرنے کی کہ میں اس کا باپ نہیں اور مہرو اس کی ماں نہیں ہے؟”زیغم نے جیسے ضبط کی آخری حد پار کی۔

“اب جو حقیقت ہے، وہی تو بتائی ہے۔ سچ یہی ہے ۔ نہ تم اس کے باپ ہو نہ وہ گوار اس کی ماں۔”نایاب کی آواز سپاٹ تھی، جیسے کچھ محسوس ہی نہ ہو۔

زیغم کا سینہ اوپر نیچے ہونے لگا۔
“اور اس راز کے بارے میں منہ اتنے سالوں بعد کھولنے کا کیا مطلب؟ جب میں یہاں نہیں تھا تب بتاتی اسے کہ میں اس کا باپ نہیں ہوں ۔!”

“اس وقت امید تھی… شاید ہم سنبھل جائیں، شاید ہمارا رشتہ بچ جائے۔ لیکن جب تم نے سب توڑ دیا تو میں کیوں کسی بھرم میں رہتی؟ میں نے سب کے دل جوڑنے کا ٹھیکا نہیں لے رکھا زیغم۔”
نایاب کی آنکھوں میں کچھ بجھ سا کیا تھا، پھر بھی لہجہ کاٹ دار رہا۔

“کتنی خود غرض ہو تم! تمہیں اپنی ذات کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ وہ معصوم بچی تمہاری اپنی اولاد ہے۔ اس نے کیا بگاڑا ہے؟ تم اس کے دل پر نفرت کی چوٹ مار رہی ہو ۔تمہیں اس پر رحم نہیں آتا؟”
“نہیں آتا۔ اور اگر وہ میری بیٹی ہے تو تم اسے میرے پاس سکون سے کیوں نہیں رہنے دیتے؟ میرا خون ہے، میں نے پیدا کیا ہے ۔تم اس کے باپ نہیں ہو سمجھے؟”نایاب کا لہجہ سنّاٹے جیسا تھا۔

“تمیز کے دائرے میں رہو نایاب! دوبارہ اونچی آواز میں بولنے کی جرأت مت کرنا، کیونکہ اگر میں نے آواز بلند کی تو در و دیوار ہل جائیں گے… اور تم دب جاؤ گی ان کے نیچے۔ سمجھی تم؟”زیغم کی آواز اب گرج میں بدل چکی تھی۔
زیغم سلطان کی گرجدار آواز نے لمحے بھر کو نایاب کا کلیجہ ہلا دیا۔فضا میں سنّاٹا پھیل گیا۔ جیسے وقت تھم سا گیا ہو۔
“زیغم کی غصے سے بھری گرجدار آواز سن کر، مہرو، ارمیزہ سمیت گھر کے تمام افراد کمروں سے باہر نکل آئے تھے۔
در و دیوار اس کے غصے کی شدت سے لرزے تھے، اور فضا میں ایک لمحے کو سنّاٹا چھا گیا تھا۔”
“زیغم مجھ پر چلانا بند کرو! تمہارا اور میرا ایسا کوئی رشتہ نہیں جس کی بنیاد پر تم مجھ پر چیخ سکتے ہو، سمجھے تم؟”
نایاب کی آواز میں لرزش نہیں تھی، وہ غصے سے بھری ہوئی تھی۔ جیسے ہی اس نے دیکھا کہ گھر کے تمام افراد کمروں سے نکل کر ان کی جانب متوجہ ہو چکے ہیں، اس نے مزید زور سے چیخنا شروع کر دیا۔
“اچھا؟ اور تمہارا میرے ساتھ ایسا کون سا رشتہ ہے جس کی بنیاد پر تم میرا راستہ روک کر کھڑی ہو؟”
زیغم کی آنکھوں میں دہکتے ہوئے شعلے تھے، آواز میں وہی گرج تھی جو دیواروں سے ٹکرا کر واپس آرہی تھی۔
“جس گھر میں تم رہتی ہو، یہ گھر میرے خرچے سے چلتا ہے۔میرے پیسوں سے تم تین وقت پیٹ بھر کر کھانا کھاتی ہو… اس حساب سے تو تمہیں میرے سامنے بولنے اور سینہ تان کر کھڑے ہونے کا حق بھی نہیں ہونا چاہیے۔؟”
“اللہ معاف کرے! اب تم اتنے گھٹیا پن پر اُتر آؤ گے کہ ہمارے نوالے تک گنو گے؟”
قدسیہ گرجتی ہوئی آگے بڑھی، آنکھوں میں شدید غصہ اور لب و لہجے میں سختی نمایاں تھی۔

“اس کے نوالے گننے سے کیا ہوتا ہے؟ یہ گھر جتنا اُس کا ہے، اتنا ہمارا بھی ہے! میرے باپ کا بھی یہی گھر ہے، فضول میں رُعب جھاڑنا بند کرو!”
نایاب ایک چوری، ایک سینہ زوری والا حساب کرتے ہوئے تڑخ کر بولی، اس کی آنکھوں میں بھی شعلے لپک رہے تھے۔

“تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ تمہارے باپ نے اپنے حصے کی تمام جائیداد… عیاشیوں، جوئے، شراب نوشی اور عورتوں کے پیچھے گھومتے ہوئے اُڑا دی ہے!”
“اب تمہارے باپ کا کوئی خاص حصہ نہیں بچا اس گھر میں! اس لیے اپنے باپ کی دھونس جمانا بند کرو۔ تمہیں بہت اچھی طرح پتہ ہے… تمہارا باپ کتنے پانی میں ہے!”آواز میں زہر گھولتے ہوئے، اُس نے لفظ چبا چبا کر ادا کیے۔

“اماں… نایاب آپی! خدا کا واسطہ ہے، بس کر دو، پلیز! ہر روز اس گھر کو جنگ کا میدان بنانا ضروری نہیں ہے!”
ذرام، غصے سے ماں اور بہن کی جانب بڑھا، آواز میں دکھ اور جھنجھلاہٹ دونوں نمایاں تھے۔

“آ گیا جورو کا غلام! فرصت مل گئی تمہیں اپنی ماں اور بہن کی خبر لینے کی؟”
قدسیہ نے اپنے بیٹے پر بھی آتے ہی زہر انڈیل دیا، نگاہوں میں تحقیر تھی۔

“اماں، کیا چاہتی ہیں آپ؟ کیوں نہیں اس گھر میں سکون آنے دیتیں؟ ہر وقت تماشہ، ہر وقت جھگڑا! تھکتی نہیں ہیں آپ؟”
ذرام نے بےبس ہو کر ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا، آنکھوں میں نمی سی جھلکنے لگی۔

“میرے سامنے ہاتھ جوڑنے سے بہتر ہے اُن سے کہو جو اس گھرمیں تماشہ بناتے ہیں!”
قدسیہ نے انگلی اٹھا کر زیغم کی طرف اشارہ کیا، لہجہ ابلتے لاوے جیسا تھا۔

“اچھا؟ اور کل جب زیغم بھائی گھر پر نہیں تھے، وہ تماشہ کس نے لگایا تھا؟ میں نے سب دیکھا، میں خود گواہ ہوں!”

“کل تماشہ تمہاری بیوی نے لگایا تھا !”
نایاب تڑخ کر بولی، نگاہ ملیحہ کی جانب گھمائی،” تمہاری بیوی نے آ کر بیچ میں ٹانگ اڑائی تھی تو بات بڑھی!”

ملیحہ دور سیڑھیوں پر کھڑی تھی۔ایک طرف خاموش،ملیحہ کھڑی تھی، اور دوسری طرف مہرو کھڑی سب سن رہی تھی، آنکھوں میں افسوس تھا۔

“بس کر دیں الزام تراشی! اس کے علاوہ آپ کو کچھ آتا ہی نہیں! ہر وقت کوئی نیا منصوبہ، کوئی نیا فتنہ!”
ذرام نے ہمت باندھ کر نایاب کو آئینہ دکھا دیا۔
“ذرام اپنی زبان کو لگام دو! ورنہ چپل اٹھا کر ماروں گی!”
قدسیہ نے غرّا کر کہا، اس کی آنکھوں سے شعلے برسنے لگے۔انداز ایسا جیسے ابھی زرام کو سچ بولنے کے جرم میں بھسم کر دے گی۔۔
“ماریں آپ مجھے، میں چپ چاپ مار کھا لوں گا، کیونکہ آپ میری ماں ہیں… آپ کو مجھ پر حق ہے!”
“لیکن آپ کا یہ روز کا جھگڑا، گھر کا سکون برباد کرنا… یہ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا! سب کو جینے دیں، خود بھی سکون سے جئیں!”
“جتنی زبان درازی اور بحث تم ہمارے ساتھ کرتے ہو،”
“اس کا چوتھائی بھی اگر اُنہیں سمجھا دو، تو شاید کچھ بہتری آ جائے۔”نایاب نے تلخ لہجے میں طنز اچھالا،وہ لقمہ دینے سے باز نہیں آرہی تھی۔۔
جبکہ زارم کو غصے سے بولتے ہوئے دیکھ کر باقی سب خاموش کھڑے تھے، یہاں تک کہ زیغم بھی خاموش کھڑا تھا۔

“کس کو سمجھاؤں اور کیا سمجھاؤں؟ کس منہ سے سمجھاؤں؟ جس کی جانب اشارہ کر رہی ہیں، وہ تو پہلے ہی اعلیٰ ظرفی کی اعلیٰ مثال قائم کر چکا ہے، آپ لوگوں کو معاف کر کے۔ اُس کی معافی پر آپ لوگوں کو اُس کا شکر گزار ہونا چاہیے تھا، مگر آپ لوگ نہ کبھی سدھرے ہیں، اور نہ ہی مجھے آنے والی زندگی میں آپ لوگوں سے کوئی امید ہے۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کسی کے لیے ہدایت کے دروازے بند کر دے، تو پھر ایسے شخص کو ہدایت پر لانا کسی اور کے بس کی بات نہیں ہوتی۔”

زارم نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں اپنی ماں اور بہن کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“اچھا! تم ہدایت کے راستے پر ہو نا؟ اور تمہاری بیوی بھی ہدایت پر ہے؟ تو پھر یہ تبلیغ ہمیں دینے کی کوئی ضرورت نہیں، اور نہ ہی فضول میں میری بیٹی پر چلانے کی۔ لاوارث نہیں ہے وہ! اس کا باپ اور بھائی ابھی زندہ ہیں۔کوئی بھی ایرا غیرہ خبردار جو میری بیٹی پر چلایا تو قدسیہ نے اب کی بار نگاہیں زیغم سلطان کی جانب کی بدلے میں زیغم سلطان نے بھی غصے سے بھری نگاہوں سے ان کی جانب دیکھا۔
قدسیہ کے دماغ میں کوئی بات نہیں گھسائی جا سکتی، سوائے ان باتوں کے جو وہ خود سمجھنا چاہے۔ ایسے ماں باپ، اولاد کے لیے اذیت کے سوا کچھ نہیں ہوتے۔”

زرام کچھ کہنے کے لیے لب کھولنے ہی والا تھا کہ زیغم سلطان نے ایک ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔
“پلیز، زرام… تم اچھی طرح جانتے ہو، کوئی فائدہ نہیں انہیں سمجھانے کا۔ تو کیوں فضول میں اپنی انرجی ضائع کر رہے ہو؟ تم جاؤ… ملیحہ کا خیال رکھو، اسے تمہاری ضرورت ہے۔”
اس کا لہجہ تھکا ہوا نہیں، بیزاری سے بھرا تھا۔ نایاب کا ہر جملہ اب صرف ایک شور لگ رہا تھا۔
نایاب نے طنزیہ قہقہہ لگایا۔
“ہاں ہاں، تم بھی جاؤ نا! اس گوار کے پاس… جو اوپر کھڑی ہوئی تجھے ہنکوں کی طرح تمہیں دیکھے جا رہی ہے !”
اس نے دانستہ اونچی آواز میں مہرو کی جانب اشارہ کیا، کیونکہ سچائی یہ تھی اس کا وجود نایاب کے ضبط کو للکار رہا تھا۔

آگے کو قدم بڑھا کر جاتا ہوا زیغم ایک لمحے کو رکا رخ موڑا، اور اس کی آنکھیں سیدھا نایاب کی آنکھوں میں اتریں، آواز میں وہی پرانا وقار لیکن زہر گھلا ہوا لہجہ۔

“جس کو تم گوار کہہ رہی ہو، وہ زیغم سلطان کی زندگی ہے۔ میں اس کی معصومیت سے سادگی سے سچائی سے بے انتہا محبت کرتا ہوں…جو شخص تمہاری شکل دیکھنے تک کا روادار نہیں تھا آج اس کے قدموں کے نیچے میں اپنی ہتھیلیاں بچھانے کو تیار ہے۔
زیغم کے ہر لفظ میں خنجر کی کاٹ تھی۔زیغم سلطان نے جاتے جاتے نایاب کی ہر بدتمیزی کا جواب لپیٹ کر اس کے منہ پر مار دیا تھا۔
“اور ایک بات اور۔میری نظروں سے اس کی ذات کے لیے محبت ہی محبت جھلکتی ہے اس کے لیے… اور تم… تم اس محبت کے لیے سالوں مچلتی رہی ہو، تڑپتی رہی ہو۔”
وہ آگے بڑھ کر نایاب کے پاس آ کر آہستہ رازداری کے ساتھ سے جھک کر بولا۔
“تم نے ہر برائی اختیار کی، ہر حد پار کی… پھر بھی زیغم سلطان کو نہیں پا سکی، اور جسے تم گوار سمجھتی ہو، اسے سب کچھ بن مانگے مل گیا۔”تمہارے لیے تو ڈوب مرنے کا مقام ہے مگر تم مرو گی نہیں کیونکہ حد سے زیادہ بے شرم ہو۔”
وہ اسے لمحے بھر کو گھورتا رہا، پھر ٹیسٹ قدموں سے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مہرو کی جانب بڑھ گیا۔

نایاب پتھر کی مورت بنی کھڑی تھی۔مگر اندر سے ایسے تڑپ رہی تھی جیسے کوئی اس کے وجود پر تیزاب پھینک گیا ہو۔ سانس اندر ہی کہیں اٹک گئی تھی، اور آنکھوں میں نمی اتر اتر ائی تھی۔اس کا غرور سب کے سامنے چکھنا چور ہو گیا تھا۔۔

زیغم سلطان کے منہ سے نکلے ہوئے تمام جملے وہاں پر کھڑے ہوئے ہر کسی نے سنے تھے۔۔صرف رومی اور سلمہ اس وقت گھر پر موجود نہیں تھی ورنہ وہ بھی یہ تماشہ ضرور انجوائے کرتی۔۔۔

“میں لعنت بھیجتی ہوں تم پر… لعنت بھیجتی ہوں تمہاری شخصیت پر، تمہاری محبت پر! بھاڑ میں جاؤ تم! تم سے بہتر انتخاب ہو سکتا ہے میرے لیے… تم سے بہتر!”
وہ تلملاتے ہوئے ہاتھ فضا میں اٹھا کر چیخ رہی تھی۔ اس کے لہجے میں نفرت، درد، اور شکست کی ایک عجیب سی کڑواہٹ گھلی ہوئی تھی۔
“تم سے کہیں زیادہ بہتر میں ڈزو کرتی ہوں ! تم اپنے پاس رکھو اس گوار جاہل کو!”
نایاب کے منہ سے الفاظ تیر بن کر نکل رہے تھے، اس کا ضبط پل بھر میں دم توڑ چکا تھا۔
ادھر زیغم سلطان پوری سکون، ٹھہرا ہوا انداز لیے، پر اعتماد قدموں سے سیڑھیوں پر چڑھ رہا تھا۔ وہ خاموشی سے آگے بڑھا، مہرو کا ہاتھ تھاما، اور ایک لمحے کے لیے پلٹ کر نایاب کی جانب دیکھا۔
نایاب کی آنکھوں میں اپنی انسلٹ کا طوفان تھا،مگر زیغم کی آنکھوں میں اس کی ہار پر مسکراتی ہوئی وِنگ۔

یہ وہ لمحہ تھا جہاں انا کے سارے قلعے ڈھے گئے، اور خاموشی نے فتح کا پرچم بلند کیا۔وہ زیغم سلطان تھا ہزاروں کی بھیڑ میں الگ شناخت رکھنے والا ،جو ایک ہی وار میں نایاب کی ہستی پر جلتے ہوئے انگارے پھینک کر چلا گیا۔

زیغم سلطان بنا کچھ کہے مہرو کا ہاتھ تھامے اپنے روم میں داخل ہو چکا تھا۔
نایاب، جو برسوں خود کو خاص سمجھتی رہی، آج اپنے ہی گھر کی دہلیز پر کھڑی، اپنی ماں کے ساتھ، تڑپتی نظروں سے اُس بند دروازے کو تک رہی تھی جہاں زیغم چپ چاپ چلا گیا تھا۔
سب کے سامنے جو زیغم نے کہا اس سے بڑی توہین شاید کوئی اور نہ ہوتی ہوگی۔۔
“کسی پر اپنا غصہ ظاہر کرنے کے لیے ہزاروں الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی، اگر مقابل عقلمند ہو تو وہ چند جملوں میں ہی عزت اور توہین کا فرق سمجھا دیتا ہے. جیسے زیغم سلطان نے چند جملوں میں نایاب کو اس کی صحیح اوقات دکھا دی تھی۔۔
°°°°°°°°°°°
کمرے کی خاموشی میں ماتم بسا ہوا تھا۔
جیسے وقت تھم گیا ہو…
ہوا بھی تھکی تھکی سی لگ رہی تھی، جیسے در و دیوار خود ماتم کر رہے ہوں۔
ہر چیز وہی تھی…
بیڈ پر بکھرے کپڑے، کونے میں رکھی کتابیں، جوتے، بیگ، اور وہ ویڈیو گیم…
جسے کھیلتے ہوئے درخزئی کی ہنسی پورے گھر میں گونجتی تھی۔
مگر آج…
وہ ہنسی کہیں گم ہو گئی تھی۔
مورے کی سسکیاں اس خاموشی کو چیر رہی تھیں،
وہ بیڈ پر بیٹھی کپڑوں کو سینے سے لگائے،
کبھی چومتی، کبھی روتی۔
یوں لگتا تھا جیسے ایک مورے اپنے بچے کو کپڑوں میں ڈھونڈ رہی ہو۔
“میرا درخزئی… میری جان… میرا بچہ!
تو کہاں چلا گیا؟ اب تیری مورے کیا کرے گی؟
کیسے جیے گی تیرے بغیر؟”
اس کی آواز میں تڑپ، آنکھوں میں طوفان،اور دل میں ایسا زخم تھا جو کبھی بھرنے والا نہیں تھا۔

دروازہ آہستگی سے کھلا۔
آغا جان اندر آئے۔
مورے کو اس حال میں دیکھ کر ان کے چہرے کی سختی بھی بھیگ گئی۔
نرمی سے گویا ہوئے
“کیوں رو رو کے خود کو ہلاک کر رہی ہو؟
طبیعت خراب ہو جائے گی… اُٹھ جاؤ۔
وہ اللہ کی امانت تھا، اللہ اپنے پاس لے گیا…اور بہت جلد ہمارے بیٹے کو ہم سے چھیننے والے اپنے انجام کو پہنچائیں گے بس ایک بار مائک کو گھر آنے دو۔”
مورے نے غصے سے سر اٹھایا۔آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا،
لب کپکپائے، مگر آواز واضح تھی۔
“بس کر دیں!”
“یہ خون کی ندیاں بہانا بند کریں…
دشمنیاں گھروں کو کھا جاتی ہیں۔
میرا ایک بیٹا دشمنی نگل گئی، دوسرے کو دشمنی کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہتی
میرے پاس اب کھونے کو کچھ نہیں بچا!”

آغا جان کی آنکھوں میں غصہ در آیا،
آواز میں وہی پٹھانوں کی گرج تھی۔
“تو کیا کریں؟ چوڑیاں پہن لیں؟
گھر میں چھپ کر بیٹھ جائیں؟
ہم مرد ہیں چپ کر نہیں بیٹھ سکتے !
دشمن کو جواب دینا پڑے گا۔تاکہ ان کو پتہ چلے ہم نے چوڑیاں نہیں پہن رکھی اور نہ ہی ہم کمزور ہیں۔!”

مورے نے ہاتھ جوڑے،
“خدا کا واسطہ ہے، ایسی باتیں نہ کریں۔
ایک ہم نے مارا، ایک انہوں نے… اور اب؟
اور کتنی لاشیں؟ کب ختم ہو گا یہ خونی کھیل؟”
“تم بھول گئی ہو، دشمنی کی ابتدا کس نے کی تھی؟میرے بھائی، میری بھابھی… سب سازش میں مارے گئے۔
ہم نے تب صبر کیا…
اور صبر کا صلہ ملا کیا؟
آج بیٹے کی میت نصیب ہوئی!”آغا جان کے لہجے میں تلخی اتر آئی،اور مجھے پسند نہیں کہ گھر کی عورتیں باہر کے معاملات میں بولیں…
اپنے آنسو بچا کے رکھو…
کل کو شاید میری اور مائد کی میت پر یہ کام آئیں۔”
مورے خاموش ہو گئی۔
وہ ایسی عورت نہ تھی جو زبان درازی کرتی،
لیکن آج ممتا کے زخم نے اس کے ہونٹوں پر بغاوت رکھ دی تھی۔
آغا جان کمرے سے نکل گئے۔
مورے نے کپڑوں میں منہ چھپایا اور بلک بلک کر رونے لگی۔
“کیسے سمجھاؤں؟ تم لوگوں کی دشمنیوں میں ماؤں کی گودیں اجڑ جاتی ہیں…
کیا قصور ہے ہمارا؟
اے اللہ… ان کے دلوں میں رحم ڈال…
یہ خونی کھیل کب رکے گا؟”
ہوا میں بین سا تھا،
ہر چیز وہی تھی…
بس درخزئی نہیں تھا…اور اس کا نہ ہونا،
مورے کے دل میں قیامت برپا کر رہا تھا۔۔۔۔جیسے ہر چیز خاموش ہو کر اس کی سسکیوں کو سن رہی ہو، ویسے ہی مورے کی سسکیاں کمرے کے ہر کونے سے ٹکرا کر واپس آ رہی تھیں۔
°°°°°°°°
“بابا… نایاب ماما کیوں چلا رہی تھیں؟ کیا وہ مجھے آپ سے دور کر دیں گی؟ آپ کو میرے پاس نہیں آنے دیں گی؟ بابا! مجھے آپ کے اور مہرو ماما کے ساتھ رہنا ہے… میں نایاب ماما کے ساتھ نہیں رہوں گی مجھے وہ پسند نہیں ہے۔”
باہر ہونے والے سارے تماشے کی آوازیں ارمیزہ کے کانوں تک پہنچ چکی تھیں۔
جیسے ہی زیغم سلطان نے مہرو کہ ہمراہ کمرے میں قدم رکھا، ارمیزہ سہمی ہوئی ایک دیوار کے ساتھ لگی کھڑی تھی۔
وہ فوراً بھاگ کر زیغم سے لپٹ گئی۔
اپنی بیٹی کو یوں ڈرا ہوا دیکھ کر زیغم نے جلدی سے اسے گود میں اٹھا لیا،
اپنے سینے سے لگا کر اس کے بالوں پر شفقت بھرا بوسہ دیا۔

“نہیں میرا بچہ… نہیں، کسی کی اتنی جرات نہیں کہ میری بیٹی کو مجھ سے دور کرے۔
اور نایاب ماما کو چلانے کے لیے کسی وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی ، فضول میں چیخنا، دوسروں کو خوفزدہ کرنا۔یہ ان کی عادت ہے،مگر آپ تو زیغم سلطان کی بیٹی ہے، میری بیٹی…
میری ٹائیگر!
آپ کو ان سے بالکل نہیں ڈرنا۔؟”
وہ اسے پیار سے بیڈ پر لے جا کر بٹھا چکا تھا،اور خود اس کے قدموں میں زمین پر بیٹھ گیا تھا۔
“جی بابا… میں آپ کی بیٹی ہوں نا؟”
وہ زیغم کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر، تجسس، حیرانی اور بے پناہ محبت سے پوچھ رہی تھی۔
باپ بیٹی کی اس خوبصورت اور سچی محبت کو دیکھ کر، مہرو کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
وہ پاس ہی خاموش کھڑی، ان دونوں کو تکتے ہوئے دل سے دعاگو دکھائی دے رہی تھی۔
“جی بابا، میں آپ کی بیٹی ہوں نا؟نایاب ماما کہہ رہی تھی آپ میرے بابا نہیں ہیں۔”
زیغم کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔ تجسس، حیرانی اور محبت تینوں جذبے اس کی لرزتی آواز میں جھلک رہے تھے۔
زیغم کے چہرے پر ایک نرم سی مسکراہٹ پھیلی۔
“جی بیٹا، آپ میری بیٹی ہو… اور میں آپ کا بابا ہوں۔” آہستگی سے ارمیزہ کے ہاتھوں کو چوم لیا، جیسے ان لمحوں میں وہ اس کے یقین کو اپنی محبت سے مضبوط کر رہا تھا۔
” نایاب ماما کچھ بھی کہیں، آپ کو ان کی کسی بات پر یقین کرنے کی ضرورت نہیں۔”
اس کا لہجہ دھیما مگر واضح تھا۔
“آپ اچھی طرح جانتی ہو وہ کبھی بھی کچھ بھی کہہ سکتی ہیں۔ مگر آپ کو ان کی باتوں کا یقین نہیں کرنا کیونکہ آپ تو میری سمجھدار بیٹی ہو نا؟”
“جی بابا، میں نے نایاب ماما کی کسی بات پر یقین نہیں کیا کیونکہ مجھے پتہ ہے آپ ہی میرے بابا ہیں…”
ارمیزہ کی معصوم آنکھوں میں بھروسے اور محبت کی ایک چمک سی ابھری۔
“آپ کو پتہ ہے مجھے مہرو ماما نے بھی یہی کہا تھا کہ آپ ہی میرے بابا ہیں اور مہرو ماما میری ماما ہیں..”
وہ اپنی بات مکمل کرتے ہوئے آہستگی سے زیغم کے گلے میں بازو ڈال گئی، جیسے کوئی معصوم پرندہ اپنی پناہ گاہ میں لوٹ آیا ہو۔

اس کے لہجے میں نہ کوئی شکوہ تھا، نہ گلہ، بس سکون ہی سکون تھا ۔ جیسے بکھرا ہوا دل محبت کی چھاؤں میں آ کر ساکت ہو گیا ہو۔
زیغم نے ایک گہرا سانس لیا، اس کی بیٹی کے وجود میں سمائی محبت، اس کے اعتماد کی خوشبو جیسے دل کے کونے کونے میں بھر گئی تھی۔۔
ایک باپ کی شفقت اور محبت، بیٹی کے لیے واقعی دنیا کا سب سے انمول جذبہ ہوتی ہے۔اور اگر بیٹی کو یہ تحفظ میسرہو تو دنیا کی کوئی غم، کوئی پریشانی اس کے قریب نہیں بھٹک سکتی۔
“آپ بس اپنی مہرو ماما کی بات سنا کریں کیونکہ وہ جھوٹ نہیں بولتیں۔”
زیغم نے محبت سے محروم کا ہاتھ تھاما، لبوں سے لگا کر اپنے سامنے بیڈ پر بٹھا لیا۔ خود بھی تھوڑا سا آگے جھک کر اٹھا اور اس کے پہلو میں بیٹھ گیا۔زیغم ارمیزہ اور مہرو کے درمیان میں بیٹھا ہوا تھا۔
مہرو خاموش تھی اور زیغم لمحہ لمحہ مہرو کے چہرے کے بدلتے تاثرات کو محسوس کر رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی، اور چہرے پر عجیب سی اداسی چھائی ہوئی تھی۔یہ اداسی صرف زیغم اور ارمیزہ کی باتوں کا نتیجہ نہیں تھی۔ زیغم کو لگا جیسے کوئی اور بات بھی ہے، جو مہرو کو اندر ہی اندر توڑ رہی ہے۔
“نایاب نے اسے گوار کہا تھا… اس کے علاوہ بھی مہروکے بارے میں بہت زہر اگلا تھا جسے مہرو نے خاموشی سے سنا تھا، اور اور مہرو کے چہرے کی اداسی اور آنکھوں کی نمی اس کے دل کا حال بتا رہی تھی، کہ وہ اس وقت کافی دکھی ہے۔اس کے لب خاموش تھے مگر زیغم کی آنکھوں نے کہ دل کی بات کو بہت اچھی طرح سے پڑھ لیا تھا۔مگر زیغم نے مہرو سے کچھی بھی پوچھا نہیں کیونکہ اس وقت ارمیزہ پاس تھی اور وہ صحیح وقت کا انتظار کرتے ہوئے ارمیزہ اور مہرو سے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا جیسے اس نے مہرو کے درد کو محسوس ہی نہ کیا ہو۔۔۔
°°°°°°°°°°°
موسم خاصا خوشگوار تھا۔
صبح کی ہلکی ہلکی بوندا باندی نے فضا کو نرمی بخش دی تھی۔ کبھی سورج بادلوں کی اوٹ میں چھپ جاتا، تو کبھی چھن چھن کر نکلتا، جیسے بادلوں سے آنکھ مچولی کھیل رہا ہو۔
ڈاکٹر رومی کی آج نائٹ ڈیوٹی تھی۔
دوسری جانب، زرام بھی اسی شفٹ میں تھا۔ وہ حسب معمول اپنی گاڑی سے نکلی اور اسپتال کے مرکزی دروازے سے ہوتے ہوئے او پی ڈی کے ساتھ بنے اپنے مخصوص کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

مگر جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا
نگاہ میز پر رکھے ریڈ روز کے بڑے سے گلدستے پر جا ٹکی۔ وہ ٹھٹک کر رکی۔
کمرے میں دو نرسیں کھڑی سرگوشیوں میں مصروف تھیں۔
“اور کس نے رکھا ہوگا؟”
پہلی نرس کہہ رہی تھی، “ڈاکٹر فیصل نے ہی رکھا ہے۔ ڈاکٹر رومی کے لیے۔ کچھ تو چل رہا ہے دونوں کے بیچ۔ دن بھر جہاں ڈاکٹر رومی جاتی ہیں، ڈاکٹر فیصل کا راؤنڈ بھی ادھر ہی لگتا ہے۔ اور نظروں میں تو جیسے… محبت چھلکتی ہے۔”
“سچ؟”
دوسری نرس نے حیرت سے سرگوشی کی۔
رومی دروازے پر کھڑی سب سن چکی تھی۔
ایک دم اندر داخل ہو کر، دونوں نرسوں کو سخت نظروں سے گھورا۔
“کیا میں پوچھ سکتی ہوں، کس کے بارے میں بات ہو رہی ہے؟”
سرد، سخت لہجہ۔ دونوں نرسوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑ گئیں۔
“وو۔۔وہ ڈاکٹر… ہم تو… اپنی بات کر رہے تھے۔”
“جھوٹ مت بولو!”
رومی نے قدم آگے بڑھاتے ہوئے ایک ایک لفظ چبا کر کہا،
“میں سب سن چکی ہوں۔ پلیز، ابھی میرے کمرے سے چلی جاؤ اس سے پہلے کہ میں تم دونوں کی شکایت لگادوں ۔ لوگوں کی پرائیویٹ زندگی میں جھانکنے کے بجائے، جا کر اپنے مریضوں پر توجہ دو یہ تمھارا فرض ہے۔ اسی کا تمھیں معاوضہ ملتا ہے۔ اور تم یہاں گپ شپ کرنے میں مصروف ہو؟ شرم آنی چاہیے!”

رومی کے غصے سے بھرے الفاظ سُن کر دونوں نرسیں تیزی سے کمرے سے نکل گئیں۔
مگر رومی کا پارہ اب انتہا پر تھا۔
اس کے تیز قدموں کی آواز، ٹک… ٹک… ٹک… اسپتال کے فرش پر گونجتی چلی گئی۔
وہ اب ڈاکٹر فیصل کے روم کی جانب بڑھ رہی تھی ۔
ذہن میں ایک ہی خیال بھڑک رہا تھا۔
“جاہل انسان! خواہ مخواہ میرا نام اپنے نام کے ساتھ جوڑ کر تماشا بنوا رہا ہے، جبکہ میں نے اسے صاف صاف بتایا ہے کہ مجھے اس میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے۔مگر لگتا ہے اس کی ٹیڑھی کھوپڑی میں سیدھی طرح سے بات گھسی نہیں۔۔!”

“ڈاکٹر فیصل! آپ پیدائشی ایسے ہیں یا دنیا میں آنے کے بعد آپ کے ساتھ کوئی حادثہ ہوا ہے؟”
ڈاکٹر رومی غصے سے آگ بگولا ہوتی ہوئی ڈاکٹر فیصل کے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔
“واہ… زہے نصیب، زہے نصیب! اگر آج ہمارے کمرے میں اپنے قدمِ مبارک رکھ ہی دیے ہیں تو آئیے، بیٹھیے، تشریف رکھیے۔
اور بتائیے… ٹھنڈا لیں گی یا گرم؟”
ڈاکٹر فیصل اپنی جگہ سے کھڑے ہو کر شوخ نظروں سے، محبت برساتے ہوئے، ہاتھ سے ویلکم کرتے ہوئے بولا۔

اس کے انداز اور شوخی پر ڈاکٹر رومی کو مزید غصہ آ گیا۔

“جی نہیں! نہ تو مجھے یہاں بیٹھنے کا شوق ہے، نہ آپ سے بات کرنے کا شوق ہے، اور نہ ہی آپ کے ٹھنڈے یا گرم پینے کا کوئی شوق ہے!
آپ ایک کام کیجئے… ٹھنڈا بھی خود پیجئے اور گرم بھی خود ہی نوش فرما لیجئے۔ بلکہ ٹھنڈا تھوڑا زیادہ پیجئے،
کیونکہ آپ کے دماغ کو جو گرمی چڑھی ہوئی ہے نا… وہ اگر ٹھنڈا پینے سے اتر جائے تو بہتر ہوگا۔
ورنہ اگر میں نے اتاری نا،
تو میرے خیال میں…
آپ کو میرا انداز بالکل بھی پسند نہیں آئے گا!”

“نہیں جی، آپ ہمارے بارے میں غلط رائے قائم کر رہی ہیں…”
ڈاکٹر فیصل نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے بڑی سنجیدگی سے کہا، مگر اس کے لہجے میں وہی شوخی اب بھی چھپی ہوئی تھی۔
“ہمیں تو پورے دل سے آپ کا ہر انداز پسند ہے۔ ہم تو آپ کے ہر رنگ، ہر بات پر فدا ہیں۔”
اس کی نگاہیں کچھ دیر کے لیے ڈاکٹر رومی کے چہرے پر ٹک گئیں، جیسے لفظوں کے ساتھ جذبات بھی منتقل کر رہا ہو۔

“ایک آپ ہیں جو ہر وقت ہم پر آگ برساتی نظریں ڈالتی ہیں، اور غصے میں بھری ہوئی سفید چٹان جیسی باتیں کرتی ہیں…”
اس نے آہستگی سے مسکراتے ہوئے کہا، “مگر ہمیں تو آپ کے حسن کے عکس پر بھی پیار آتا ہے، اور اس آگ پر بھی جو آپ کی آنکھوں میں ہمارے لیے بھڑکتی ہے۔”
“کیا میں پوچھ سکتی ہوں، اتنی چیپ شاعری آپ نے کہاں سے سیکھی؟”
ڈاکٹر رومی دونوں ہاتھ سینے پر باندھے، فیصل کے شاعرانہ شوخ انداز پر طنز کرتے ہوئے پوچھا۔
“ارے جی، کہاں ہم نے شاعری سیکھی ہے… بندہ ہے نا چیز آپ کے عشق میں، محبت میں گرفتار ہو کر نہ جانے کیا کیا بول جاتا ہے۔ اور آپ ہمارے زخمی دل کا مذاق اڑاتی ہیں، ہمارے محبت بھرے لفظوں کو شاعری کا نام دے دیتی ہیں۔ سمجھ نہیں آتی اے غالب! کہ ان کی باتوں کو ہم تعریف سمجھیں یا طنز؟”

“واہ واہ، ڈاکٹر فیصل، کیا ہی بکواس شعر مارا ہے!”
ڈاکٹر رومی نے ایک بار پھر بےچارے کی عزت کا کچرا کر دیا، مگر مجال ہے جو فیصل کے چہرے سے شوخ مسکراہٹ ہٹنے کا نام لے رہی ہو۔
“کوئی بات نہیں! ہم آپ کے لیے نیا شعر ابھی تیار کر لیتے ہیں۔”
وہ شوخ انداز میں بولا، “آپ کے حسن کو دیکھ کر تو ہماری شاعری یوں اچھل اچھل کر باہر آتی ہے کہ ہمیں خود بھی اندازہ نہیں ہوتا کب ہم اتنے اچھے شاعر بن گئے۔”
رومی کے قریب آ کر، دونوں ہاتھ سینے پر باندھے، شاعرانہ انداز اپنائے، وہ محبت سے بھیگی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
“افف… شاعری؟”
رومی نے تیز سانس بھرتے نفی میں سر کو ہلایا۔۔
“سچ میں تم اسے شاعری کہتے ہو؟” اس کی نظریں فیصل پر جمی تھیں مگر آواز میں زہر گھلا تھا۔”یہ شاعری نہیں ہے، یہ فضول بکواس ہے۔”
وہ ایک قدم آگے بڑھی، آنکھوں میں غصے کی جھلک تھی، جیسے لفظوں کے تیر فیصل کی روح کو چھلنی کر دینا چاہتی ہو۔
“جب انسان کے دماغ میں کوئی تعمیری کام نہ ہو، تو وہ ایسے ہی جراثیم پال لیتا ہے، اور پھر اسے شاعری کا نام دے کر دوسروں کا وقت برباد کرتا ہے!”

فیصل کی آنکھوں میں حیرت تھی، جیسے وہ اس طوفان کے لیے تیار نہیں تھا، مگر رومی کی باتوں کا طوفان تھمنے والا نہیں تھا۔
“آپ کی یہ چکنی چپڑی باتیں… بہت ہوگئی!”وہ انگلی سے اسے سیدھا نشانہ بنارہی تھی۔۔
“اب مہربانی کر کے مجھ سے دور رہیں، کیونکہ آپ کو مجھ سے کچھ بھی حاصل نہیں ہونے والا!”
“نہ تو میں آپ کی باتوں میں آنے والی ہوں، نہ ہی مجھے آپ سے کوئی محبت ہے!”اس کا لہجہ ایسا تھا جیسے کوئی فیصلہ سنایا جا رہا ہو۔
“میرے لیے محبت اور شادی دونوں فضول کام ہیں ۔۔۔ اور میرے پاس فضول کاموں کے لیے ٹائم نہیں!”
اس کی آنکھوں میں صرف عزم تھا،
“میں یہاں امریکہ سے شادی، محبت، اوربچے پیدا کرنے جیسے خواب لے کر نہیں آئی۔ میں اپنے گولز کے لیے آئی ہوں… وہ جو میرے لیے معنی رکھتے ہیں۔جو بد قسمتی سے ادھورے رہ گئے۔!”ایک لمحے کے لیے رومی نے گہری سانس لی، پھر آخری وار کیا،”آپ جانتے بھی ہیں…؟” اس کے لہجے میں ضبط کی لرزش تھی۔

“اس طرح آپ کا مجھ سے بےتکلف ہونا… میرے آگے پیچھے گھومنا، ہر لمحہ نظروں ہی نظروں میں تکتے رہنا۔۔اور پھر ان نگاہوں کا مفہوم سمجھ کر لوگوں کا میرے بارے میں، ہمارے بارے میں رائے قائم کرنا… یہ سب مجھے بالکل پسند نہیں!”
وہ لمحہ بھر کو رکی، نگاہیں اس کے چہرے پر جمائیں ۔۔
“تو بہتر ہوگا… کہ آپ ابھی کے ابھی قدم پیچھے ہٹا لیں۔”
“کیونکہ مجھ سے آپ کو کچھ بھی حاصل نہیں ہونے والا… سمجھے آپ؟”

لہجہ سیدھا، الفاظ کاٹ دار، اور آنکھوں میں وہ کٹیلی چمک… جیسے آخری حدوں کو چھو چکی ہو۔
“اس کوشش کریں کہ اب آپ دوبارہ مجھے مجبور نہ کریں کہ میں آپ کی انسلٹ کروں۔”
“اب آپ کو میری بات میرے خیال سے بہت اچھی طرح سے سمجھ آگئی ہوگی اور اب آپ کو سمجھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اللہ حافظ۔۔
غرور سے بھرا رخ موڑا، اور اپنی ہائی ہیلز کی “ٹک ٹک ٹک ٹک” کرتی آواز کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گئی۔

دروازہ بند ہوا، اور پیچھے رہ گیا ایک مرجھایا ہوا، شکستہ سا فیصل ۔ جس کی نظریں دروازے پر جمی تھیں، جہاں سے رومی طوفان کی طرح آئی تھی… اور طوفان کی طرح ہی واپس چلی گئی۔

“حیرانی کی بات ہے، اتنی ساری باتیں سنا کر چلی گئی، وہ بھی بغیر کسی قصور کے۔ یہ تک نہیں بتایا کہ آخر میرا قصور تھا کیا؟
مطلب یار… یہ تو وہ والی بات ہو گئی: ‘کھایا پیا کچھ نہیں،پلیٹ توڑی بارہ آنے دو!’
فیصل خود سے مخاطب تھا، مگر درحقیقت اس کا دل ٹوٹ چکا تھا۔
وہ اپنے ٹوٹے ہوئے دل کو خود سے بھی چھپانا چاہتا تھا۔”
°°°°°°°°
ہسپتال کے پرائیویٹ روم میں رات کا سناٹا گہرا تھا۔
کمرے کی لائٹس بند تھیں، صرف کھڑکی کے قریب لگے نائٹ بلب کی ہلکی سی نیلی روشنی پورے کمرے پر چھائی ہوئی تھی۔
دروازے کے قریب دیوار پر لگے کلاک کی ٹک ٹک سنائی دے رہی تھی، اور کہیں دور سے ایمبولینس کی ہلکی سی آواز آ کر خاموشی کا حصہ بن رہی تھی۔

بیڈ پر دانیہ گہری نیند سو رہی تھی۔
چہرے پر مکمل سکون، سانسیں ہموار، اور ہاتھ پہنی ہوئی چادر کے اوپر رکھے ہوئے تھے۔
اس کے بازو کے قریب ڈرپ کا اسٹینڈ تھا، لیکن ڈرپ کی بوتل خالی ہو چکی تھی اور بوتل نیچے سے سکڑی ہوئی تھی۔
اب صرف خالی بوتل ہولڈر میں لٹک رہی تھی، جیسے خاموشی سے اس تھکن کی گواہی دے رہی ہو جو دانیہ کے جسم سے نکلی تھی۔
کھڑکی کے قریب مائد کھڑا تھا۔
پردہ آدھا کھلا ہوا تھا، باہر کی روشنی ہلکے نیلے عکس میں کمرے کی دیواروں پر گر رہی تھی۔
اس کی نگاہیں کھڑکی سے باہر کسی ان دیکھے خلا میں تھیں، مگر اس کے چہرے پر وہی خالی پن جھلک رہا تھا جو اس کے دل میں تھا۔
اس کا بازو شانے پر ٹکا تھا اور انگلیاں ہلکی ہلکی جنبش کر رہی تھیں، جیسے وہ کسی نادیدہ حساب میں الجھا ہو۔
اس کے دل میں طوفان برپا تھا، مگر چہرہ بے تاثر۔جیسے وہ خود سے بھی اپنے جذبات چھپانا چاہتا تھا۔

“وہ کیسے سو سکتا ہے؟”
دل نے دھڑکتے ہوئے سوال کیا۔
“اس کا بھائی قتل ہو چکا تھا… اور قاتل آزادی سے گھوم رہے تھے۔کتنی تکلیف ہوئی ہوگی میرے درخزئی کو جب ان ظالموں نے مارا ہوگا۔”
یہ سوچ وہ منظر اپنے اندر ایک چپ چاپ چیخ رکھتا تھا…ایک ایسا سکوت، جو ہر خاموشی سے زیادہ بول رہا تھا۔
اسے نہ تو موقع ملا، نہ ہی سکون، کہ وہ اپنے بھائی کے لیے کچھ کر پاتا، کوئی قدم اٹھا پاتا۔ابھی تو قبر کی مٹی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ دانیا کو پینک اٹیک ہوا اور وہ سے لے کر ہاسپٹل آگیا تھا۔دانیا کے سونے کے بعد اسے چند لمحے اکیلے نصیب ہوئے تھے تو وہ اپنے چھوٹے بھائی کی یادوں میں اشکبار ہو رہا تھا۔۔

موبائل اسکرین پر درخزئی کی تصویر دیکھتے ہوئے، مائد کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں، اور آسمان پر ستارے ٹمٹما رہے تھے۔
درخزئی جب بہت چھوٹا تھا، تو اکثر مائد سے پوچھا کرتا تھا۔۔۔
“مائد بھائی، کیا جو لوگ اللہ میاں کی پاس چلے جاتے ہیں۔کیا وہ آسمان پد چمکتے ہوئے ستارے بن جاتے ہیں۔؟
میرے سب دوست کہتے ہیں، جو مر جاتے ہیں وہ ستارے بن جاتے ہیں۔

مائد اکثر اس کا دل رکھنے کے لیے کہہ دیتا کہ یہ سچ ہے۔۔اور درخزئی کی آنکھوں میں اس وقت جو چمک آتی… وہ دیکھنے والی ہوتی۔وہ دیر تک آسمان تکتا رہتا، جیسے ان ستاروں میں واقعی ایسے مرنے والے سب لوگ نظر آرہے ہوں۔۔۔

مگر آج… مائد کا دل چاہتا تھا کوئی اسے بتائے کہ اس کا درخزئی کس ستارے میں ہے؟کس کہکشاں میں، کس سیارے پر ہے؟ وہ اسے ایک جھلک دیکھنا چاہتا تھا،
اسی جھوٹ میں کچھ لمحے سچ جیسے جینا چاہتا تھا۔
مائد کی آنکھوں سے آنسو خاموشی سے بہہ رہے تھے، اس کے گورے پٹھانی چہرے پر موجود ہلکی ہلکی سلیقے سے رکھی داڑھی کو بھگو رہے تھے۔
وہی داڑھی جو اس پر بہت جچتی تھی، اب بھیگی ہوئی تھی،
“آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں؟ آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟”
دانیا کی آواز پر وہ چونکا۔ وہ ہسپتال کے بیڈ سے اٹھ کر اس کے قریب آ چکی تھی،
پریشانی سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔
“آپ کیوں آئی ہیں؟ آپ کو آرام کی ضرورت ہے… میں ٹھیک ہوں۔
بس تھوڑی دیر ہوا لینے کو کھڑا تھا۔”

وہ اپنے آنسو چھپاتے ہوئے ، اس کے دونوں ہاتھ تھامے، نگاہیں چُرا رہا تھا۔
نہ وہ دکھ چھپا پا رہا تھا، نہ دکھا پا رہا تھا۔

“کیوں چھپا رہے ہیں؟
میں جانتی ہوں، آپ درخزئی کو بہت مس کر رہے ہیں، اسی کے لیے رو رہے ہیں۔
رو لیں .. کھل کر رو لیں۔
آپ کا دل ہلکا ہو جائے گا۔
یوں گھٹ گھٹ کر مت روئیں، مجھے سے اپنے آنسو مت چھپائیں۔”
دانیا نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھام کر پاس رکھے صوفے پر بیٹھا لیا۔

مائد نے نظریں اٹھائیں۔
اس کی آنکھیں سرخ تھیں، ڈورے ابھرے ہوئے تھے۔
اس نے نچلے ہونٹ کو دانتوں تلے دبایا، جیسے خود کو رونے سے روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔
مگر اس کے دل میں جو طوفان تھا، وہ آنکھوں سے بہنے کو بےتاب تھا اس کے روکنے سے رک نہیں سکتا تھا۔
اگر وہ مرد نہ ہوتا تو شاید دھاڑیں مار مار کر، چیخ چیخ کر روتا۔
مگر وہ “مرد” تھا…
“ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے ایک عجیب سا قانون بن چکا ہے… کہ شدید تکلیف میں بھی مرد اگر آنسو بہائے تو کمزور لگتا ہے۔
چاہیں یا نہ چاہیں، یہ سوچ آج کے ہر مرد کے دل میں گھر کر گئی ہے۔
خوف ہے کہ کہیں آنے والے وقتوں میں مردوں کے دل واقعی پتھر نہ بن جائیں۔” نے اپنے لبوں کو تو خاموش کروا رکھا تھا…
یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ درد میں بھی کچھ نہیں بولے گی،
مگر آنکھوں کا کیا؟
وہ تو ہر لمحہ چیخ چیخ کر اس کی تکلیف بیان کر رہی تھیں… آنکھیں…کسی کی نہیں سنتیں۔
چاہے مرد ہو یا عورت، جب دل میں درد ہو تو آنسو بہتے ہیں…
لازمی بہتے ہیں۔
“پلیز مائد…کھل کر رولیں ۔
رونا کمزوری نہیں ہوتا،
کھل کر رو لینے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔
اس طرح گھٹ گھٹ کر آنسو وہ بہاتے ہیں جن کے پاس اپنوں کا کاندھا میسر نہیں ہوتا…
اور میں ہوں نا! ہر وقت، ہر لمحہ آپ کے ساتھ…
آپ کے دکھ سکھ کی ساتھی…”
دانیا نے محبت سے مائد کا ہاتھ تھام رکھا تھا، اس کی گرفت میں عجیب سا حوصلہ تھا۔
مائد نے گہری سانس لی، رکے ہوئے آنسوؤں کو جیسے ہی اجازت ملی، وہ تیزی سے بند توڑ کر بہنے لگے۔
بغیر کچھ کہے…
بس ایک سرد آہ کے ساتھ اُس نے اپنا سر دانیا کے کندھے سے ٹکا دیا۔
دانیا نے نرمی سے اس کی پیٹھ سہلاتے ہوئے نرمی سے سر کو اس کے سر سے لگا دیا، جیسے خاموشی سے کہہ رہی ہو،
“رو لو مائد، آج تمہارے آنسوں میری ذمہ داری ہیں۔”
اندھیرے کمرے میں صرف سسکیوں کی صدا تھی، اور دو دلوں کے بیچ وہ خاموش محبت جو لفظوں کی محتاج نہ تھی۔

دانیا نےایک ہاتھ اُس کی پیٹھ پر رکھا، آہستہ آہستہ سہلاتے ہوئے تسلی دینا چاہی،
مگر الفاظ گلے میں اٹک گئے تھے۔
مائد کی حالت… اُس کا بکھرا ہوا وجود…
اُسے خاموش کر گیا تھا۔

مائد کی تکلیف دیکھ دانیا کی آنکھوں سے بھی بے اختیار آنسو بہنے لگے تھے،
بنا کسی آواز، بس دلی ربط سے…
دو روحیں خاموشی سے ایک دوسرے کے زخم سہلا رہی تھیں…
°°°°°°°°°
زیغم کی آنکھ کھلی تو دماغ میں سکون نہیں تھا، جیسے اندر ہی اندر کوئی ہلچل مچی ہو۔ جسم پر عجب سی تھکن طاری تھی، سر بوجھل ہو رہا تھا، کیونکہ رات تو جیسے پرسکون تھی ہی نہیں۔
ارمیزہ سے باتیں کرتے، اسے سمجھاتے ہوئے کافی وقت گزر گیا۔ دن بھر کی تھکن پہلے سے ہی تھی، اور عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد جب سب بستر پر آ کر لیٹے، تو نیند نے کب آ کر اپنی آغوش میں لے لیا، اسے خود بھی خبر نہ ہوئی۔
جبکہ زیغم چاہتا تھا کہ ارمیزہ کے سونے کے بعد وہ مہرو سے دل کی بات کرے، اس کے چہرے کی اداسی کو سمجھے، کچھ پل اس کے ساتھ بیتائے۔ مگر نیند غالب آ گئی، اور موقع ہاتھ سے نکل گیا۔

اب جب آنکھ کھلی، تو سورج کی کرنیں پردوں کے بیچ سے چھن کر اندر آ رہی تھیں۔ اس احساس نے بےچینی کی لہر دوڑا دی۔ وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔
ایک طرف یہ پشیمانی کہ مہرو سے بات کیے بغیر سو گیا، اور دوسری جانب فجر کی نماز قضا ہو جانے کا احساس، دل کو جھنجھوڑنے لگا۔
مہرو تو ہمیشہ اس سے پہلے اٹھ جایا کرتی تھی، مگر شاید رات دیر سے سونے کی وجہ سے آج اس کی بھی آنکھ نہ کھلی تھی۔
درمیان میں ارمیزہ سو رہی تھی، مہرو نے اس کے گلے میں بانہیں ڈال رکھی تھیں۔ دونوں کے چہرے پر ایک جیسا سکون اور معصومیت پھیلی ہوئی تھی۔

“یعنی… مہرو نے بھی نماز نہیں پڑھی؟”
زیغم کے دل میں خیال آیا اور وہ بےاختیار اٹھ کر بیٹھ گیا۔
“مہرو…”
بیڈ کی دوسری جانب جا کر اس نے آہستہ سے آواز دی، اور اس کا کندھا ہلایا۔
مہرو کے چہرے پر آئی ہوئی ایک سلکی سی لٹ کواپنی انگلی سے ہٹاتے ہوئے نرمی سے دیکھا۔
مہرو نے نیند میں ڈوبی آنکھیں کھولیں، اور سامنے زیغم سلطان کو دیکھا۔
“جی… سائیں؟ کچھ چاہیے تھا؟”
وہ باادب ہو کر اٹھ کر بیٹھ گئی۔

“کیوں؟ کیا بغیر کسی وجہ کے میں تمہیں جگا نہیں سکتا؟ بات نہیں کر سکتا؟”
وہ نرمی سے کہتے ہوئے اس کے قریب بیٹھا، اور اس کا مخملی سا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام کر لبوں سے لگا لیا۔
محبت سے اس کی طرف دیکھا۔

“نہیں… میں نے ایسا تو نہیں کہا۔”
مہرو نے شرم و حیا کی چادر میں لپٹتے ہوئے پلکیں جھکا دیں۔

“یہی تو مسئلہ ہے، سرکار… تم کچھ کہتی ہی نہیں ہو۔ اگر کچھ کہہ دو، تو شاید میں تمہارے دل کی بات آسانی سے سمجھ سکوں۔”
وہ اس کے چہرے کے نیچے ہاتھ رکھ کر نرمی سے اسے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، اور اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہے۔

“خاموش کیوں ہو؟ بتاؤ دل میں کیا ہے؟ کیوں ظاہر نہیں کرتی؟ میں نے تو تمہیں حق دیا ہے سب کچھ بولنے کا۔”

“سائیں… صرف آپ کے حق دینے سے کیا ہوتا ہے؟ گھر والے اور دنیا والے کبھی مجھے آپ کے لائق نہیں سمجھتے… اور نہ ہی کبھی سمجھیں گے۔ یہ فاصلہ… ہمیشہ ہمارے درمیان رہے گا۔”
اس کا لہجہ نمی سے بھر گیا تھا۔

“جب بھی آپ کے ساتھ چلوں گی… لوگ باتیں بنائیں گے۔
مجھے اپنی فکر نہیں، مگر میرے ساتھ ساتھ انگلیاں آپ پر بھی اٹھتی ہیں… جو کہ مجھے منظور نہیں۔”

زیغم نے گہری سانس بھری۔
“زیغم سلطان نہ گھر والوں کی پرواہ کرتا ہے، نہ دنیا والوں کی۔اور ویسے بھی جن کو تم میرے گھر والے کہہ رہی ہو وہ میرے گھر والے نہیں ہیں۔

زیغم سلطان نے ہمیشہ دل کی سنی ہے… اور آگے بھی اپنے دل کی ہی سنے گا۔
میرے دل نے تم سے ٹوٹ کر محبت کی ہے، مہرو۔ تھوڑے وقت کا یہ رشتہ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔
دنیا والوں کا کام ہی انگلیاں اٹھانا، باتیں بنانا ہے۔
اگر ہم دنیا کے حساب سے چلیں، تو جینا چھوڑ دیں، کھانا پینا چھوڑ دیں، یہاں تک کہ سانس لینا بھی چھوڑ دیں۔
دنیا ہمارے حساب سے نہیں چلتی، تو پھر ہم دنیا کے حساب سے کیوں چلیں، مہرو؟”
“سائیں… آپ پڑھے لکھے ہیں، آپ کی باتیں بڑی بڑی ہیں، دل بھی بڑا ہے، سوچ بھی بڑی۔آپ سب برداشت کر لیتے ہیں۔
مگر مہرو ایسے نہیں سوچتی، سائیں۔ مہرو آپ جیسی کبھی بھی نہیں بن سکتی… پتہ ہے کیوں؟”
وہ نم آنکھوں کے ساتھ بولتی چلی گئی۔

“نہ میں آپ جیسی پڑھی لکھی ہوں، نہ سمجھدار، نہ مجھے دنیا داری کا پتہ ہے، نہ گھرداری کا۔
کچھ بھی نہیں آتا مہرو کو، اس لیے سائیں… میں گھبرا جاتی ہوں۔
برداشت نہیں ہوتا جب لوگ میرے بارے میں باتیں کرتے ہیں، مجھے گوار کہتے ہیں۔جبکہ حقیقت یہی ہے کہ میں گوار ہوں آپ کے لائق نہیں ہوں یہ بات میں خود تسلیم کرتی ہوں مگر پھر بھی مجھے بہت دکھ ہوتا ہے جب میرے بارے میں ایسا کہا جاتا ہے۔”

آنسو زبردستی بہہ کر اس کے رخساروں سے نیچے گرنے لگے۔
مہرو کے دل کی بات زبان پر آ چکی تھی، اور سچ وہی تھا جو زیغم سلطان پہلے ہی جان چکا تھا۔
کل نایاب کی کہی گئی باتیں مہرو کے نازک دل پر گہرے زخم چھوڑ گئی تھیں۔

“تو کیا… دنیا والوں کی پرواہ کر کے تم مجھے چھوڑ دو گی؟ مجھ سے دور چلی جاؤ گی؟”
زیغم کے لہجے میں دکھ چھلک رہا تھا۔

“ہاں… شاید یہی بہتر ہے۔”
مہرو نے دھیمی آواز میں کہا، مگر اس کے الفاظ خنجر کی طرح زیغم کے دل میں اتر گئی۔۔۔
زیغم کا چہرہ یکدم سخت ہوا۔ وہ تھوڑا سا آگے جھکا، دونوں ہاتھ بیڈ کے اطراف میں رکھتے ہوئے مہرو کو اپنے حصار میں لے لیا۔
اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی آگ دہک رہی تھی… جذبات، خفا سی تپش، اور وہ محبت جو کبھی لفظوں میں مکمل بیان نہیں ہو سکتی تھی۔
زیغم کے اس اچانک عمل پر مہرو گھبرا گئی۔ دل کی دھڑکن بےقابو ہو گئی، اور وہ گھبرا کر آنکھیں بند کر گئی۔

زیغم چند لمحے اس کا چہرہ تکتے ہوئے، دھیمی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کے چہرے کے قریب آ کر آہستہ سے سرگوشی کی۔”آنکھیں کیوں بند کیں؟ میں تمہیں ڈرا نہیں رہا مہرو… بس یہ یاد دلا رہا ہوں کہ تم میری ہو۔ صرف میری۔”

مہرو کی پلکیں ہلیں، سانس رک سی گئی تھی۔ وہ کچھ کہنے کی ہمت نہ کر سکی، بس آنکھیں کھول کر زیغم کی نظروں میں دیکھا ۔اس کی آنکھیں کھلتے ہی زیغم نے اپنی مسکراہٹ غیب کر لی۔کیونکہ وہ مہرو کو نرمی سے نہیں تھوڑا سختی سے سمجھانا چاہتا تھا،کہ وہ اس کے لیے کتنی خاص ہے۔۔
“مہرو… آج تم نے یہ بات کہہ دی ہے نا، دوبارہ ایسی بات کہنے کی جُرأت مت کرنا!”
اس کا لہجہ زرا سا سخت ہوا، مگر اس میں درد چھپا تھا، غصہ نہیں۔
“زیغم سلطان کی تم پہلی… اور آخری محبت ہو۔”
وہ چہرہ اس کے چہرے کے بے حد قریب کرتے ہوئے رک گیا، نگاہوں میں صرف سچائی تھی۔

” تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں آسانی سے اپنی زندگی سے جانے دوں گا؟”
وہ ہلکا سا جھکا، جیسے ہر لفظ مہرو کے دل پر کندہ کر دینا چاہتا ہو۔مہرو پھر سےآنکھیں بند کر لیں۔
“سرکار ایک بات کان کھول کر سن لو… اور گانٹھ باندھ لو ۔
تمہارا اور میرا رشتہ، سانسوں کی ڈور سے بندھا ہے، اور یہ ڈور… کبھی نہیں ٹوٹ سکتی۔اس ڈور کو توڑنے کے لیے میری سانسوں کی ڈور ٹوٹنے کی دعا کرنا اس سے پہلے تم کبھی مجھ سے دور نہیں جا سکتی۔”

“اور ہاں… ہمارے اس پاکیزہ رشتے کو دوبارہ توڑنے کے بارے میں سوچنا بھی مت۔”
اس نے گہری سانس لی، جیسے اپنے دل کے زخم چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔

“تم نے یہ بات کہہ کر… میرے دل کو بہت ٹھیس پہنچائی ہے، مہرو۔”
اس کی آواز اب دھیمی تھی، مگر ہر لفظ میں ٹوٹا ہوا دل بول رہا تھا۔

“جب میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں، تو تمہیں لوگوں کی پرواہ کیوں ہے؟
تم خود کو میری نظر سے کیوں نہیں دیکھتیں؟”
زیغم کے لہجے میں محبت کی وہی شدت تھی وہی چاہت، جو کبھی کم نہیں ہو سکتی تھی۔۔
زیغم سلطان کے ذرا سے سخت لہجے پر مہرو کبوتر کی طرح سمٹ گئی۔ آنکھیں سختی بند کر لیں، دل کی دھڑکنیں بےترتیب ہو چکی تھیں۔
سانسوں کو روکنے کی پوری کوشش کر رہی تھی تاکہ کمرے میں ذرا سی بھی آواز پیدا نہ ہو کیونکہ کمرے میں ارمیزہ بھی نیند سو رہی تھی۔
زیغم سلطان کا چہرہ اس کے بےحد قریب تھا۔اتنا قریب کہ مہرو کی سانسیں رکنے لگیں، زیغم کی گرم سانسیں اس کے رخسار کو چھو رہی تھیں۔
سانسوں سے سانسیں ٹکرا رہی تھیں، اور ماحول میں ایک عجیب سا ارتعاش پھیل گیا تھا۔
ایسے میں مہرو کی روح جیسے پرواز کو تیار تھی… دل سنبھالے نہیں سنبھل رہا تھا۔

مگر زیغم سلطان نے اسے یوں کانپتے اور سمٹے دیکھا… تو اسے مہرو کی حالت قابل رحم لگ رہی تھی۔
وہ تھوڑا سا پیچھے ہٹا، اور اس کی بند آنکھوں کو کچھ لمحے خاموشی سے دیکھا۔

پھر ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر ابھری، اور سر کو نرمی سے نفی میں ہلا دیا ۔
“کیا بات ہے سرکار… میرے دل کی دنیا الٹنے کے بعد بھی، مجھ سے ڈر رہی ہو۔؟”
“سرکار… ڈرنا تو مجھے چاہیے ، آپ سے۔”
اس نے دھیرے سے کہا، جیسے کوئی اپنی ذات کا سب سے نرم گوشہ کھول رہا ہو۔
وہ جھکا… مگر قربت میں اب بھی احترام تھا،مگر قربت میں ایک ایسی شدت۔۔ جو صرف دل سے محسوس کی جا سکتی تھی، بیان نہیں۔
سانسیں قریب تھیں، مگر خاموش۔
جیسے الفاظ بولنے کی ہمت ہار گئے ہوں اور جذبے… سجدہ ریز ہو گئے ہوں۔
زیغم کی پیار بھری قربت میںوہ ساکت رہ گئی۔ نگاہیں جھکی رہیں، اچانک شرماہٹ سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی، دوپٹہ سنبھالتے ہوئے نظریں چرائیں اور تیزی سے بیڈ سے اتر کر دروازے کی طرف بڑھ گئی ۔ جیسے خود کو اس لمحے سے چھپانا چاہتی ہو۔
زیغم سلطان اس کے پیچھے دیکھتا رہ گیا، پھر گہری سانس لے کر اس کی شرم و حیا پر کھل کر مسکرا دیا، چہرے پر ایسا سکون جیسے دل کی پرتیں ہولے سے کھل گئی ہوں۔
مسکرا کر سر جھٹکا، اور نرم آواز میں جاتی ہوئی مہرو کو محبت سے پکارا۔۔
“سرکار،شرما بعد میں لیجئے گا جلدی سے تیار ہو جائیں…آج دانیہ کے پاس ہاسپٹل جانا ہے، ناشتہ ان کے ساتھ کریں گے۔” اور ارمیزہ کو بھی جگا دیں۔وہ بھی ہمارے ساتھ چلے گی۔۔
“جی سائیں… ٹھیک ہے۔”
آواز مدھم تھی، مگر لہجہ ضبط سے بھرا ہوا۔
“آپ سکینہ سے کہہ دیں کہ ناشتہ تیار کر دے، میں پانچ منٹ میں تیار ہو جاؤں گی۔”
وہ پلٹے بغیر سیدھی واش روم کی طرف گئی، اور دروازہ بند کر لیا ۔
مہرو دروازے کے پیچھے اپنی شرمائی ہوئی دھڑکنوں کو سمیٹنے جا رہی تھی۔

“زیغم سلطان کی معصوم محبت…کیسے سمجھاؤں تمہیں… پڑھے لکھے ہونے سے کچھ نہیں ہوتا…
دکھ تو مجھے بھی ہوتا ہیں… لوگوں کے رویوں، ان کے لہجے سے…
کاش کبھی تم مجھے میرے رب کے سامنے روتا دیکھو…
تب سمجھ آئے کہ میں اندر سے کتنا کمزور ہوں…
مضبوط تو بس دنیا کے لیے بننا پڑتا ہے،
ورنہ یہ دنیا… کمزور کو زمین پر پڑا دیکھ کر بھی قدم نہیں روکتی۔”
“لوگوں کے رویوں سے افسردہ ہونا چھوڑ دو…
یہ دنیا افسردہ چہروں کو دیکھ کر اگلے زخم کی تیاری میں لگ جاتی ہے۔
اپنے زخم چھپانا، خاموشی سے جھیل جانا…
بس یہی اصل طاقت ہے۔”
زیغم سلطان نے تلخی سے مسکرا کر سب باتیں سوچتے ہوئے خود کو دلاسہ دیا، کیونکہ جب انسان خود کو مضبوط کرتا ہے تو دلاسہ بھی خود ہی دینا پڑتا ہے۔
°°°°°°°°°

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *