Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:52
راز وفا
ایپیسوڈ نمبر 52
ازحیات ارتضیٰ .S.A
°°°°°°°°°
(چھ ماہ بعد…)
کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔
بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں باہر کی دیوار سے ٹکرا کر نیچے گر رہی تھیں۔
چاند مدھم سا، بادلوں کے پیچھے آدھا چھپا ہوا تھا۔
زرام دریچے کے پاس کھڑا تھا۔
اس کے چہرے پر نمی نہیں، بس ایک گہری خاموشی تھی۔
ہوا آہستہ آہستہ اندر آ رہی تھی،
کمرے کے پردے ہوا سے ہل رہے تھے۔
اس کی نظریں باہر تھیں،
لیکن آنکھوں کو کوئی بھی منظر اچھا نہیں لگ رہا تھا۔کیونکہ جب دل کے موسم ویران ہوں تو باہر کے موسم اثر انداز نہیں ہوتے۔
“کیوں تم نے میرا چینل برباد کر رکھا ہے۔؟کیوں تم اپنے منہ سے کہہ نہیں دیتی کہ میں جو سوچ رہا ہوں… غلط ہے؟
کیوں نہیں مجھے حقیقت بتا دیتی؟
کیوں خود بھی جل رہی ہو… اور مجھے بھی جلا رہی ہو؟
قطرہ قطرہ مر رہا ہوں میں…
تم اتنی ضدی کیوں ہو؟
اپنے آپ سے سوال کرتے ہوئے غصے سے ہاتھ کھڑکی کی سلاخوں پر دے مارا۔کچھ دیر کے لیےآنکھیں بند ہو گئیں…
چہرہ بےرنگ ہو گیا۔
یہ وہ سوال تھا جو وہ پچھلے چھ مہینوں سے،ہر روز… خود سے کرتا تھا۔مگر ہر بار اسے کوئی جواب نہیں ملتا تھا۔
“کیوں تم نے محبت کو سزا بنا دیا ہے؟ مجھے میرا وجود ہی اچھا نہیں لگتا۔ ہر رات خود کو آگ کی لپٹوں میں لپٹا ہوا محسوس کرتا ہوں۔ دن تو جیسے تیسے گزر جاتا ہے، مگر رات… میری یادوں میں، میرے خوابوں میں صرف تم ہوتی ہو۔
نہ جی رہا ہوں، نہ مر رہا ہوں۔”
باہر بارش برس رہی تھی اور اندر اس کا دل جل رہا تھا۔ آخر صبر نے روز کی طرح اس کا دامن چھوڑ دیا تھا۔ وہ تیز قدموں سے اپنے کمرے سے باہر نکلا۔ راہداری میں دیوار پر لٹکی لکڑی کی گھونٹی سے اپنی کار کی چابی اتارتے ہوئے وہ تیزی سے باہر جانے لگا، مگر سامنے سے سلمہ آ کر رک گئی۔زرام نے گہری سانس لے کر بیزاری سے منہ بسورا۔
“زرا بیٹا، کہاں جا رہے ہو؟ میں نے تمہارے لیے اپنے ہاتھوں سے کھیر بنائی ہے۔ بیٹھو، ٹھنڈی ٹھنڈی کھیر ابھی لے کر آتی ہوں… میں تمہارے پاس ہی آ رہی تھی۔”
سلمہ نے مطلبی لہجے میں محبت کا رس گھولتے ہوئے، بڑی محبت سے اپنے بھتیجے سے پیار جتاتے ہوئے کہا۔
“پلیز مجھے جانے دو… مجھے ضروری کام ہے، اور اس وقت کھانے کا موڈ نہیں ہے۔”وہ تھوڑی بے زاری سے بولا،
“لو یہ بھلا کیا بات ہوئی میں نے اتنے پیار سے گھیر بنائی ہے تھوڑی سی کھا لو سلمہ نے پیار بھرے ضدی انداز میں تھا…
“کہا ہے کہ ابھی دل نہیں چاہ رہا جب دن دل کرے گا تو کھا لوں گا۔”
زرام کا لہجہ جذبات سے عاری اور صاف بیزار تھا، مگر سلمہ کہاں ہار ماننے والی تھی…”میں تو نہیں جانے دوں گی، تم آرام سے بیٹھو۔ دیکھو، رنگت کیسی پیلی پڑ گئی ہے… کھانے پینے کا بالکل ہوش نہیں تمہیں۔”
سلمہ نے سختی سے کہا اور آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام لیا، “بیٹھو! تم کھائے بغیر نہیں جا سکتے۔”
سلمہ نے زبردستی اسے کرسی پر بٹھایا تھا۔
اس وقت زرام کے چہرے پر صاف بیزاری چھلک رہی تھی۔
وہ بالکل بھی بیٹھنا نہیں چاہتا تھا… اسے وہاں جانا تھا… وہاں، جہاں وہ ہر روز نہ چاہتے ہوئے بھی جانا چاہتا تھا۔
سلمہ تیز قدموں سے کچن میں گئی، فریزر سے پیالہ نکالا، کھیر ڈش میں رکھی، دو شیشے کے پیالے ساتھ رکھے، چمچ سلیقے سے سیٹ کیے اور واپس تیز قدموں سے باہر نکلی۔ پیالہ زرام کے سامنے رکھا،وہ سب کچھ اتنی سپیڈ سے کر رہی تھی جیسے اس کی گاڑی چھوٹ جائے گی۔۔
اس نے تیزی سے زرام کے سامنے رکھے پیالے میں کھیربھر دی، کھیر کےاوپر چاندی ورق لگاہواتھا۔ مگر زرام کا تو ایک نوالہ لینے کا بھی دل نہیں ہو رہا تھا۔
“آپ کیوں ضد کر رہی ہیں جب میں کہہ رہا ہوں کہ میرا دل نہیں کر رہا؟ جب دل کرے گا تو خود کھا لوں گا۔ پلیز، ہر چیز میں زبردستی مت کیا کریں۔” زرام کا لہجہ اب حد سے زیادہ بیزار ہو چکا تھا۔
“میں تمہیں ایسے نہیں چھوڑ سکتی، زرام۔ جس کو تمہاری پرواہ نہیں، اُس کے لیے تم یہاں مجنوں بنے بیٹھے ہو۔ میں نے کتنی بار کہا ہے، دفع کرو اسے۔ کچھ مہینے رہ گئے ہیں، اس کے بعد جان چھڑاؤ… طلاق اس کے منہ پر مارو اور اپنی نئی زندگی شروع کرو۔ تم میں کوئی کمی ہے جو تم اس کے پیچھے بھاگ رہے ہو۔؟
” ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی مل سکتی ہے، میں خود ڈھونڈ کر لاؤں گی۔ بلکہ…ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے لڑکی تو ، گھر میں ہی موجود ہے۔ذرا ہم نے حیرت سے نظریں اٹھا کر اس کی جانب دیکھا۔
” میں رومی کا رشتہ کرواؤں گی تمہارے ساتھ۔ ہاں، میں تمہارے لیے رومی کو قربان کر سکتی ہوں۔ میں ثابت کروں گی کہ بھتیجے اپنی سگی اولاد سے بھی بڑھ کر عزیز ہوتے ہیں۔مجھ سے تمہاری یہ حالت نہیں دیکھی جاتی ۔”
آج سلمہ کے دل کی وہ بات زبان پر آ ہی گئی تھی جو وہ مدت سے چھپاتی آ رہی تھی، مگر زرام کو تو جیسے بجلی کا جھٹکا لگا تھا۔ اسے یہ تو معلوم تھا کہ سلمہ بغیر کسی مطلب کے چاشنی کی جیسی میٹھی کبھی نہیں ہو سکتی۔
مگر اُس کے دل میں یہ بات اس شدت سے پل رہی ہے، یہ اندازہ اسے بالکل نہیں تھا۔کچھ دیر کے لیے تو اس کے قدموں تلے سے زمین کھسکتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی مگر پھر اس کو سنبھال لیا۔
کک… کیا کہا آپ نے؟ میں نے شاید صحیح سے سنا نہیں۔ زرام حیرت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“تم نے بالکل ٹھیک سنا ہے!” سلمہ کا لہجہ اس بار فیصلہ کن تھا۔ “میں رومی کا رشتہ تمہارے ساتھ ہی کروں گی۔ کیونکہ میں اپنے بھتیجے کو یوں اداس اور پریشان نہیں دیکھ سکتی۔ وہ لڑکی… جس کے پیچھے تم پاگل ہو رہے ہو… وہ تمہارے قابل کبھی تھی ہی نہیں۔
ایک جھونپڑی میں پلنے والی، کیا جانے محلوں میں رہنے والے شہزادوں کی قدر کیسے کی جاتی ہے؟ وہ تو تمہاری زندگی میں صرف پریشانی لائے گی۔ رومی تمہاری اپنی ہے، تمہارا درد سمجھے گی، تمہارے زخموں پر مرہم رکھے گی۔ اور میں اسے خود سمجھاؤں گی کہ تمہارا کیسے خیال رکھنا ہے۔ میں چاہتی ہوں تمہاری زندگی صرف خوشیوں سے بھر جائے۔”
سلمہ مسلسل بولے جا رہی تھی۔ اس کی باتوں میں جذبات کی شدت تو تھی، لیکن مطلبی زہر بھی چھپا ہوا تھا۔
جبکہ زرام کا دماغ غصے سے پھٹنے کو تھا۔ وہ اندر ہی اندر تلملا گیا۔ یہ وہ سوچ تھی جو پچھلے چھ مہینوں سے سلمہ کے ذہن میں پل رہی تھی… آج اس نے اسے الفاظ کا جامہ پہنا دیا تھا۔۔
“آپ نے ایسا سوچا بھی کیسے؟”
زرام کی آواز اچانک چیخ میں بدل گئی۔ سلمہ چونک گئی۔ اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ زرام یوں اونچی آواز میں بولے گا۔
اسے لگا تھا کہ اب سب کچھ اس کے کنٹرول میں ہے… مگر یہ لمحہ، اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔اوپر سے اسے یہ بھی ڈر تھا کہ کہیں قدسیہ اور نایاب زرام کی آواز سن کر نیچے نہ آجائے۔
“زرام بیٹا، آہستہ بولو… کوئی سن لے گا!”
سلمہ نے فوراً سمجھانے کی کوشش کی۔کیونکہ وہ چاہتی تھی کہ قدسیہ اور نایاب کو کانوں کان خبر بھی نہ ہو اور وہ زرام کو رومی کے رشتے کے لیے تیار کر لے مگر یہاں تو سب کچھ الٹا ہونے لگا تھا۔
“تو سن لے جو سنتا ہے!”
“مجھے کسی کی پرواہ نہیں! میں رومی کو صرف اپنی بہن سمجھتا نہیں… وہ۔۔۔ واقعی میری بہن ہے۔ اور آپ نے ہمارے اتنے خوبصورت، پاکیزہ رشتے کو اس نظر سے دیکھا؟ آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہیں؟”
“میں حیران ہوں، واقعی حیران… کہ آپ اتنا گِرا ہوا سوچ سکتی ہیں!”
وہ ایک پل کو رکا، خود پر قابو پانے کی کوشش کر رہا تھا،مگر سلمہ کی بات میں اس کے وجود کو چلتی ہوئی لپٹوں میں پھینک دیا تھا۔
“شادی سے پہلے سب کزن بہن بھائی ہی ہوتے ہیں، لیکن نکاح کے بعد وہ رشتہ میاں بیوی کے رشتے میں بدل کر اور بھی مضبوط ہو جاتا ہے۔ میں نے کوئی غلط یا گناہ کی بات نہیں کی، زرام۔ ہمارے دین میں کزن سے نکاح جائز ہے۔ تم ایسے ردعمل دے رہے ہو جیسے میں نے کوئی گناہ کی بات کر دی ہو!”
سلمہ اب بھی اپنی بات پر ٹکی ہوئی تھی اور مکمل اسلام کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل پیش کر رہی تھی۔۔
“برائے مہربانی اپ اپنی رائے اپنی دلیلیں اپنے پاس رکھیں۔ زرام کا ضبط جواب دے گیا۔ “میں حیران ہوں آپ کی سوچ پر۔ میں کبھی بھی… کبھی بھی رومی کے ساتھ اُس قسم کا رشتہ بنانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ وہ میری بہن ہے اور ہمیشہ بہن ہی رہے گی۔اپنے خرافاتی آئیڈیاز کو اپنے ذہن سے نکال دیں!”
اس نے اتنے زور سے کہا کہ آواز گھر کے کونے کونے میں گونجی۔
قدسیہ، نایاب اور رومی اپنے اپنے کمروں سے باہر نکل آئیں تھیں۔
“کیا ہوا زرام بھائی؟ کیوں چیخ رہے ہیں؟”
رومی گھبرا کر تیزی سے سیڑھیوں سے اترتی ہوئی آئی، اس کی آواز میں فکر تھی۔بہنوں والی فکر۔۔۔
زرام نے ایک تلخ، گہری سانس لی، اور پھر غصے سے سلمہ کی طرف دیکھا۔
“مجھ سے مت پوچھو… ان سے پوچھو کہ میں کیوں چیخ رہا ہوں!”زرام نے غصے بھری نظروں سے سلمہ کی جانب اشارہ کیا۔۔مگر رومی کے کچھ پوچھنے کی نوبت ہی نہیں آئی تھی اس سے پہلے ہی قدسیہ اور نایاب تشریف لا چکی تھی۔
“پوچھ سکتی ہوں، یہاں کیا ہو رہا ہے؟… کس سلسلے میں یہ محفل سجائی گئی ہے؟”
قدسیہ آتے ہی تیکھے تنزیہ لہجے میں پوچھا ، اس کی نظریں سیدھی سلمہ پر جمی تھیں۔
رومی کچھ کہنے ہی والی تھی، مگر قدسیہ نے اسے بولنے کا موقع ہی نہ دیا۔
وہ اپنی ماں سے پوچھنا چاہتی تھی کہ آخر اس نے زرام سے ایسا کیا کہا جس کی وجہ سے وہ اتنا غصہ کرنے اور چیخنے پر مجبور ہو گیا۔جب کہ وہ تو زیادہ تر خاموش ہی رہتا تھا اور اپنے کام سے کام رکھتا تھا اور ملیحہ کے جانے کے بعد تو وہ سب سے لا تعلق سا رہنے لگا تھا ۔۔
رومی کی نگاہیں بار بار زرام کے چہرے اور اپنی ماں کے تاثرات کا جائزہ لے رہی تھیں، مگر کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
کمرے کی فضا جیسے ساکت ہو گئی تھی، مگر قدسیہ کی آواز اس سناٹے کو چیرتی ہوئی ہر طرف گونج گئی۔
“کوئی ڈرامہ وڈرامہ نہیں رچایا ہم نے۔ تمہیں تو اپنے بیٹے کی فکر ہے ہی نہیں، اس لیے میں نے سوچا، میں ہی اس کی فکر کر لوں۔
میں تو اپنے بھتیجے سے پیار کرتی ہوں، خون ہے میرا۔ اور تم لوگ تو اپنی ہی چال بازیوں میں گم ہو۔ نہ توقیر بھائی کو فکر ہے، نہ تمہیں، نہ اسکی بہن کو، نہ اسکے بھائی کو ۔۔سب اپنی زندگیوں میں بزی ہیں۔۔ اس کی زندگی میں کیا چل رہا ہے! کسی کو خبر نہیں۔
سلمہ نے بڑی “اچھی ایکٹنگ” کی تھی،
کی اسے زرام کی بہت فکر ہے
مگر سلمہ بھول گئی تھی کہ اس کے مقابل بھی قدسیہ ہے… جو بالکل بھی معصوم نہیں اگر کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ شیطانیت اس میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔۔۔جس کی زبان پر لگام نہیں ہے، نہ ہی وہ کہیں بھی کچھ بھی کہنے سے پہلے سوچتی ہے۔
مگر اب تو تیر کمان سے نکل چکا تھا… اب تو کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔
“اچھا! مطلب کہ ہمیں ہمارے بیٹے کی فکر نہیں ہے… اور تمہیں میرے بیٹے کی بڑی فکر ہے؟ واہ جی واہ… واہ جی واہ!”
قدسیہ کا لہجہ زہر سے لبریز تھا، آنکھوں میں شعلے، چہرے پر نفرت کے آثار نمایاں تھے۔
“جو کبھی اپنا گھر نہ بسا سکی، اپنی بیٹی کی پرورش نہ کر سکی… وہ آج مجھے بتائے گی کہ مجھے اپنے بیٹے کی فکر کیسے کرنی ہے؟”
الفاظ ایسے تھے جیسے انگارے… یہ الفاظ نہیں تھے قدسیہ کے لیے زور کا تماچہ تھا۔جو اس سے برداشت نہیں ہوا۔
” اپنی حد میں رہیں، میں زرام سے بات کر رہی ہوں، آپ کے منہ لگنے کا مجھے کوئی شوق نہیں!
سلمہ غصے سے تلملائی، آنکھوں میں چنگاریاں لیے بولی۔
جبکہ زرام اور رومی، دونوں حیرت کے مارے ساکت، ایک دوسرے کی طرف دیکھتے بس یہ تماشا دیکھتے رہ گئے۔
نایاب…؟
نایاب کے دماغ میں کیا چل رہا تھا، یہ بتانا مشکل تھا۔
وہ بنا کچھ کہے، دونوں بازو سینے پر باندھے، خالی نظروں سے سب کچھ دیکھ رہی تھی…
اس کے چہرے پر نہ حیرانی تھی، نہ غصہ، بس ایک عجیب سا سکوت تھا…
“ویسے اتنی تلملانے والی بات تو نہیں ہے۔ کہا تو میں نے سچ ہے۔ اب تمہیں سچ کڑوا لگ رہا ہے تو میں کیا کر سکتی ہوں؟”
قدسیہ نے کاندھے اچکاتے ہوئے لاپروائی سےکہا۔
“اچھا، اگر میں گھر نہیں بنا سکی، تو گھر تو آپ کی بیٹی بھی نہیں بنا سکی۔ آپ کی بیٹی نے تو دو بار کوشش کی، مگر پھر بھی گھر نہ بنا سکی۔ اپنی بیٹی کے بارے میں کیا رائے ہے؟ہمیشہ قدسیہ سے دبک کر رہنے والی سلمہ بھی اپنی بیٹی رومی کے آنے کے بعد بہت بڑی چیز بن گئی تھی۔جبکہ رومی نے کبھی اسے شے نہیں دی تھی مگر اب سلمہ خود کو اکیلا نہیں سمجھتی تھی۔
اُس نے بھی عید کا جواب پتھر سے دیا۔ نایاب اور قدسیہ کے اندر تک آگ بھڑک اٹھی تھی۔ غصے کے لاوے پھوٹ رہے تھے۔۔۔”
“پلیز… بات کو بڑھائیں مت، تماشہ مت بنائیں۔ بات کو یہی ختم کریں!”
زرام نے دو ٹوک لہجے میں کہا، اس کی آنکھوں میں الجھن صاف جھلک رہی تھی۔
“کیسے ختم کر دوں؟ یہ میرے بیٹے کو اپنی چکنی چپڑی باتوں میں پھنسا رہی ہے اور مجھے کہتی ہے کہ یہ میرے منہ نہیں لگنا چاہتی،اور مجھے کہہ رہی ہے کہ میں بیچ میں مت بولوں؟”
قدسیہ نے زرام کی طرف دیکھتے ہوئے غصے سے کہا، گویا ضبط کی آخری حد پر تھی۔
“مجھے آپ لوگوں کے جھگڑوں میں نہیں پڑھنا برائے مہربانی آپ اپنے مسئلے خود سالو کریں مگر مجھے بیچ میں لائے میرا تماشہ بنائے بغیر۔۔۔زرام نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔
“تم اپنی ماں سے اس طرح سے بات کرو گے جو تمہیں اپنی لچھے دار باتوں میں بجھا رہی تھی بجائے کہ تم اسے منہ توڑ جواب دو تم اپنی ماں کے ساتھ بدتمیزی کرو گے۔۔
“ماں! آپ کو پتہ بھی ہے کہ ماں کا دل کیسا ہوتا ہے۔نہیں آپ کو بالکل نہیں پتا کہ ماں کا دل کیسا ہوتا ہے ۔
ماں تو اپنے بچے کا درد بن کہے سمجھ جاتی ہے۔ مگر آپ کو بھی کب میرے دل کا حال نظر آیا؟ آپ نے بھی ہمیشہ سے ملیحہ کو مجھ سے دور کرنا چاہا۔ اور لوگوں کے دل کی مرادیں پوری ہو گئی۔او ہو گئی مجھ سے دور ہمیشہ کے لیے۔۔اب تو خوش ہیں نا آپ؟ جشن منائیں!”
زرام کی آواز اونچی ہو گئی، آنکھوں میں نمی تھی مگر لہجہ طعنہ زنی سے لبریز۔
“استغفراللہ ! میں ایسا کیوں چاہوں گی؟”
قدسیہ نے چونک کر کہا، انداز ایسا تھا جیسے سچ میں وہ تو کبھی ایسا چاہتی نہیں تھی۔”
“رہنے دو اماں… اس کو صفائیاں دینے کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں!”
نایاب نے روکھے لہجے میں کہا،
” تم نے اپنی اس بد دماغ بیوی کو خود اپنی زندگی سے نکالا ہے۔اب وجہ کیا تھی ہم تو یہ بھی نہیں جانتے کون سا گل کھلایا ہے اس نے جس کی وجہ سے تم اسے چھوڑنے پر مجبور ہو گئے،! اور اب ہم پر الزام ڈالنے کی کوشش بھی مت کرنا، ذرام!”
نایاب کے جملے سیدھے زرام کے دل پر لگے، زرام کی پیشانی کی لکیر گہری ہوئی۔
یہ وہی نایاب تھی… جس سے وہ کبھی بھی نرمی کی توقع نہیں کرتا تھا،
نایاب جب بھی بولتی تھی، زہر ہی اگلتی تھی اور آج بھی اس نے ایسا ہی کیا تھا بنا یہ سوچے کہ اس کے جملے اس کے بھائی کے دل کو لہو لہان کر دیں گے وہ بول کر آرام سے کھڑی تھی۔اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ اس کی باتوں سے ذرام پر کیا گزر رہی ہے؟
“بس کر دیں پلیز… بس کر دیں!”
رومی نے تھکے تھکے لہجے میں التجا کی،
“کیوں آپ لوگ بات کو بڑھاتے چلے جا رہے ہیں؟ بجائے اس کے کہ ختم کریں، آپ سب بات کو اور طول دے رہے ہیں!”
“کیا ملے گا ہمیں جھگڑا کر کے؟ ایک دوسرے پر طعنہ کشی کر کے؟”
رومی نے ایک ایک لفظ دبا کر کہا، پھر پلٹ کر اپنی ماں کی طرف دیکھا۔
“اماں، آپ بھی… خدا کا خوف کریں… گھر میں تماشے سے گریز کریں!”
اس نے تھکی تھکی سی نظروں سے پہلے قدسیہ، پھر نایاب اور پھر اپنی ماں کی جانب دیکھا۔
“واہ جی واہ! سمجھا بھی کون رہا ہے؟ جس کی وجہ سے یہ سارا تماشہ شروع ہوا ہے؟”
“جیسے ہم تو تمہارے ارادے سمجھتے ہی نہیں، ماں بیٹی مل کر کیا کھچڑی پکا رہے ہو، بہت اچھی طرح سے جانتی ہوں!””اس لیے تم تو بولو ہی مت!”
نایاب کی آواز بلند ہوئی، اور انگلی کا اشارہ براہِ راست رومی کی طرف تھا۔
لفظوں میں زہر گھلا تھا،
رومی کے لب ساکت رہ گئے۔ وہ بس حیرانی سے نایاب کو دیکھتی رہ گئی، وہ سمجھ ہی نہیں پائی تھی کہ الزام اتنی شدت سے اس پر کیوں برسایا جا رہا ہے۔
“کہنا کیا چاہتی ہیں آپ؟” رومی نے غصے اور حیرانی سے اسے گھورا۔
“واہ! جیسے تم جانتی ہی نہیں ہو کہ میں کیا کہہ رہی ہوں!” نایاب نے طنزیہ انداز اپنایا۔
“ہاں، میں واقعی نہیں جانتی کہ تم کیا کہہ رہی ہو!”
“اچھا؟ تو میں بتا دیتی ہوں… کیا یہ سچ نہیں ہے کہ تم اور تمہاری ماں مل کر میرے بھائی پر ڈورے ڈالنے کی کوشش کر رہی ہو؟”
“نایاب آپی!” رومی کا لہجہ یکدم سخت ہوا، آنکھوں میں چنگاریاں سی اٹھی۔
“دوبارہ اگر ایسا لفظ منہ سے نکالا نا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا! میرے لیے زرام بھائی ہمیشہ سے میرے بھائی جیسے رہے ہیں، اور ہمیشہ رہیں گے۔ اور اگر اماں کے دماغ میں ایسے احمقانہ خیالات پل رہے ہیں، تو میں ان کا کچھ نہیں کر سکتی۔ لیکن آپ کو گزارش کر رہی ہوں،خبردار! اگر آئندہ میرے بارے میں ایسی کوئی بات کی یا سوچی بھی، تو اچھا نہیں ہوگا!”
وہ پل بھر کو رکی، پھر جذبے سے لبریز لہجے میں دوبارہ سچائی کے ساتھ بولی،
“میں تو دن رات دعائیں کرتی ہوں کہ ملیحہ اور زرام بھائی کے درمیان جو بھی اختلافات ہیں، وہ ختم ہو جائیں۔ وہ دونوں پھر سے خوشحال زندگی گزاریں… اور آپ ہیں کہ مجھ پر کیچڑ اچھالنے چلی آئی ہیں؟ میرے کردار پر شک کر رہی ہیں ۔؟”
رومی کی آنکھیں نم ہونے لگیں، مگر لہجہ اب بھی مضبوط تھا۔
اور یہ سب سنتے ہوئے زرام کے لبوں پر انجانی سی مسکراہٹ بکھر گئی۔
اس کے دل نے سکون کا سانس لیا تھا، کیونکہ آج اسے یقین ہو گیا تھا کہ رومی کے دل میں اس کے لیے وہی مقام ہے… جو وہ برسوں سے رومی کو اپنے دل میں دے چکا تھا۔
رومی اسے واقعی اپنا بھائی سمجھتی ہے۔
“ارے جا، جھوٹ تو مت بول! تو دل ہی دل میں خوش ہے کہ راستہ صاف ہے، اب موقع پر چوکا مارنا چاہیے!” نایاب نے طنزیہ تیر برسایا۔زرام جیسا لڑکا بھلا تم ماں بیٹی اپنے ہاتھ سے کیسے جانے دے سکتی ہو۔
“بس کر دیں، نایاب آپی!” زرام نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔
“رومی اگر کہہ رہی ہے کہ وہ میرے بارے میں ایسا نہیں سوچتی تو بات ختم ہو گئی ہے۔
اور مجھے اس پر پورا یقین ہے،! باقی آپ، اماں، اور سلمہ پھوپھو کیا سوچتی ہیں، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا… نہ ہی کوئی لینا دینا۔ اور خدا کے لیے، یہ بحث یہیں ختم کریں۔” زرام نے صاف اور دوٹوک انداز میں سب کا نام لیا۔
“ویسے ، بھلے کا زمانہ نہیں رہا۔” سلمہ طنزیہ انداز میں بولی،
“میں نے تو سوچا کہ گھر کی بیٹی ہے، گھر کا بیٹا ہے… اگر ان کا رشتہ بن جائے تو گھر میں خوشیاں آ جائیں گی۔ مگر میری نیک نیتی کو کون دیکھتا ہے؟” وہ خود کو معصوم ظاہر کرنے لگی۔
“تو کس نے کہا تھا نیک نیتی دکھانے کے لیے؟” رومی کی برداشت جواب دے چکی تھی،
“خدا کا واسطہ ہے، میرے بارے میں سوچنا بند کریں! مجھے جب شادی کرنی ہوگی، میں خود کر لوں گی، جس سے کرنی ہوگی، وہ بھی بتا دوں گی۔ فی الحال میرے خاندان میں جتنی فلاپ شادیاں دیکھ چکی ہوں،مجھے شادی کرنے کا کوئی شوق نہیں! اور یہ بات اپنے دماغ اور دل دونوں میں بٹھا لیں،
مجھے شادی نہیں کرنی! کم از کم فی الحال تو بالکل نہیں۔برائے مہربانی الٹے سیدھے جگاڑ لگا کر میرے کردار کو مشکوک مت بنائیں ہاتھ جوڑتی ہوں آپ کے سامنے۔ مجھ پر رحم کریں۔!”
رومی زور سے چلائی تھی۔
قدسیہ اور نایاب نے ایک دوسرے کو دیکھا، ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ لبوں پر لاتے ہوئے، سب پر ایک نظر ڈالی اور خاموشی سے اپنے کمرے کی جانب چل پڑیں۔کیونکہ کافی دنوں سے وہ سلمہ کے ارادے سمجھتے ہوئے بھی خاموش تھی اور آج جتنی درگت انہوں نے سلمہ اور رومی کی بنانی تھی اس میں وہ پوری طرح سے کامیاب ہو چکی تھی تو اب ان کا یہاں رکنے کا کوئی مقصد نہیں تھا۔
“تم پاگل ہو! اور تمہارا کچھ ہو نہیں سکتا۔اگر ٹھنڈے دماغ سے تم دونوں سوچو گے تو تم لوگوں کو میری بات ذرا سی بھی غلط نہیں لگے گی مگر تم لوگ تو مجھے اپنا دشمن سمجھتے ہو۔!” جاتے ہوئے سلمہ نے غصے سے اپنی بیٹی اور زرام کو گھورا اور پیر پٹختی ہوئی کمرے میں چلی گئی۔
“زرام بھائی! خدا کی قسم، میں آپ کے بارے میں ایسا نہیں سوچتی… آپ میرے بھائی ہیں، اور ہمیشہ رہیں گے!”
رومی نے جلدی سے صفائی دی، نظریں نیچی تھیں اور لہجہ پوری سچائی لیے ہوئے تھا۔
“اماں کی باتوں پر توجہ مت دیں، پلیز۔”
“مجھے تم پر پورا یقین ہے… اور مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں!”
زرام نے نرمی سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے تسلی دی۔
رومی ہلکا سا مسکرائی، آنکھوں میں شکرگزاری تھی ۔۔ “تھینک یو بھائی!”
“خوش رہو!”
کہتے ہوئے وہ باہر کی جانب بڑھنے لگا۔ باہر بارش کافی تیز ہو چکی تھی، مگر وہ پرواہ کیے بغیر جا رہا تھا۔
“زرام بھائی! میری بات سنیں !”
رومی اس کے پیچھے آئی اور بلند آواز میں بولی۔۔
اس نے پلٹ کر دیکھا۔
“ہاں، کہو۔”
“جس کے لیے دن رات تڑپتے ہیں… کھانے پینے تک کا ہوش نہیں، سونے کا ہوش نہیں… جس کو ملنے کے لیے روز بے قرار ہو کر نہ چاہتے ہوئے بھی اس کو ملنے کے لیے چلے جاتے ہیں۔
کیوں نہیں اپنی ناراضگی ختم کر کے اُسے واپس لے آتے؟ پلیز! اُسے لے آئیں۔ آپ اُس کے بغیر ادھورے ہیں، یہ بات تسلیم کر لیں۔”
زرام کی آنکھوں میں لمحے بھر کو چپ طاری ہو گئی،
“ضد میری نہیں ہے، ضد اُس کی ہے۔اس نے ہمیشہ سے اپنی ضد کو ترجیح دی ہے آج بھی وہی کر رہی ہے۔
ذرام نے صرف دماغ میں سوچا تھا لبوں سے ایک لفظ ملیحہ کے خلاف نہیں کہا۔نہ جانے یہ اس کا کیسا اصول تھا کسی کے منہ سے اس کے خلاف کچھ سن نہیں سکتا تھا اور نہ خود کسی کے سامنے اس کے خلاف کچھ بھول سکتا تھا ،
مگر پھر بھی ایک انا کی دیوار بیچ میں قائم تھی غلط فہمیاں رشتے کو نگل چکی تھی۔
” پلیز رومی میں اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا۔”
“پلیز زرام بھائی سمجھنے کی کوشش کریں آپ سمجھدار ہیں … ہو سکتا ہے جو وہ چاہتی ہے، آپ اُس امید پر پورا نہ اُتر پا رہے ہوں۔تھوڑا سا اس کی دل کی بات کو سمجھنے کی کوشش تو کریں کہ آخر وہ کیا چاہتی ہے کہاں پر آپ سے مسٹیک ہوئی ہے۔”رومی کے لہجے میں بےبسی تھی۔
“رومی مجھے اس بارے میں بات نہیں کرنی پلیز تم اس سب سے دور رہو وہ دو ٹوک بولا۔۔۔لہجہ کافی سخت تھا مجبوراً اسے ہمیشہ کی طرح بات بیچ میں چھوڑتے ہوئے خاموش ہونا پڑا۔
“ٹھیک ہے، اگر بات نہیں کرنا چاہتے تو مت کریں، مگر باہر تو مت جائیں۔ بارش بہت تیز ہے!”
رومی اس کے لیے فکر مند تھی بارش سچ میں بہت زیادہ تیز تھی۔۔
زرام نے اس کی طرف دیکھا اور ہلکے مگر ضدی لہجے میں کہا۔
“نہیں، مجھے جانا ہے۔”
وہ ضدی انداز میں کہتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گیا۔
رومی نے لب بھینچے ۔
“مرضی ہے زرام بھائی… ایک دوسرے سے پیار بھی کرتے ہیں مگر اپنی اپنی ضد چھوڑنے کو تیار نہیں ہے تڑپ رہے ہیں مگر ہار نہیں مانیں گے۔۔دونوں ہی ضدی ہیں۔ ہم تو بس دعا ہی کر سکتے ہیں۔”
وہ سوچتے ہوئے گھر کے اندر اندر واپس چلی گئی، جبکہ زرام کے لیے گیٹ کھول دیا گیا تھا۔ اس کی چمچماتی گاڑی گیٹ پار کر کے اُس منزل کی طرف جا رہی تھی، جس کو وہ منزل ماننے سے انکار کرتا تھا۔ ناراض ضرور تھا،
مگر ہر رات اُس سے ملے بغیر رہا بھی نہیں جاتا تھا…
چاہے الفاظ کڑوے ہوتے، لہجہ زہر میں بجھا ہوتا… روز بات طانہ کشی اور جھگڑے سے شروع ہوتی اور وہیں پر ختم ہو جاتی۔
مگر جانا ضرور ہوتا تھا ،
کیونکہ دل نے اِک ضد سی پکڑ لی تھی،
جو تکلیف میں بھی اُس کے پاس رہنا چاہتا تھا۔
محبت بھی کیا ظالم چیز ہے…
اگر ہو جائے،
تو نہ سکون سے جینے دیتی ہے
نہ سکون سے مرنے دیتی ہے۔
بس دل کو ایک ایسی الجھن میں ڈال دیتی ہے
جہاں نہ راستے صاف دکھائی دیتے ہیں
نہ واپسی کی کوئی امید باقی رہتی ہے۔
ظاہر میں صرف کڑوے بول…
اور اندر اندر ایک تڑپتی ہوئی چاہت۔
ایسی چاہت جو ہر رات
بند آنکھوں میں محبوب کا چہرہ لے آتی ہے،اور ہر صبح یادوں سے تڑپتا ہوا خالی دل چھوڑ جاتی ہے۔
°°°°°°°°°
“دانیہ بیٹا… بس کرو، کیوں خود کو اس قدر تکلیف دے رہی ہو؟”
“صبر کرو، بیٹا… بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”
مورے نے دانیہ کے اشکوں سے بھیگے چہرے کو پلو سے صاف کرتے ہوئے اسے اپنے ممتا بھرے آغوش میں سمیٹ لیا۔
“ہمارے پاس تو ابھی امید باقی ہے… ہماری دعائیں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ زیغم، ان شاء اللہ، ایک دن اللہ کے حکم سے اپنے قدموں پر دوبارہ کھڑا ہوگا، اور بالکل ٹھیک ہو جائے گا۔”
“لیکن دوسری طرف دیکھو… ہم نے درخزئی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کھودیا ہے۔ اس کے لیے تو اب صرف دعا ہی رہ گئی ہے، اس کے واپس آنے کی کوئی امید باقی نہیں۔وہ تو اللہ کی ذات کے پاس جا چکا ہے کبھی لوٹ کر نہیں آ سکے گا۔”دانیا کے آنسو دیکھ کر روز کی طرح مورے کی آنکھیں بھی اشکبار تھی۔
’’ہم صبر ہی تو کر رہے ہیں پچھلے چھ مہینے سے…‘‘
دانیا نے نم آواز میں کہتے ہوئے چہرہ دوسری طرف موڑ لیا۔
’’میں ہر روز اس گلٹ میں مرتی ہوں زیغم بھائی کو میں نے اتنا کچھ سنایا… اور وہ کیسے خاموش ہو کر وہاں سے چلے گئے تھے…‘‘
وہ جیسے خود سے بات کر رہی تھی، آنکھوں سے بہتے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
’’اور جاتے ہوئے… آپ کو پتہ ہے وہ مجھے کیا کہہ کر گئے تھے؟‘‘
اس نے ایک دم نظریں مورے پر جمائیں۔
’’انہوں نے کہا تھا کہ… ‘میں تب تک تمہارے سامنے نہیں آؤں گا جب تک تُو مجھے معاف نہیں کر دو گی…’‘‘
اس کا لہجہ ٹوٹا، آواز بھرا گئی۔
’’مجھے کیا پتہ تھا کہ وہ مجھے جو بول کر جا رہے ہیں…وہ سچ ہو جائے گا اور وہ سچ میں مجھ سے دور ہو جائیں گے۔ اگر پتہ ہوتا تو میں… میں بھائی کو کبھی نہیں جانے دیتی، مورے…‘‘
اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے منہ ڈھانپ لیا، جیسے دکھ کے سیلاب کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی ہو۔
مور نے تڑپ کر اسے اپنے گلے سے لگا لیا۔
دانیا کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر مورے کی گود میں گرتے گئے، اور مور نے ممتا کے ہاتھوں سے اس کی پیٹھ سہلاتے ہوئے صرف اتنا کہا،
’’بس بیٹا… بس، اللہ کے فیصلے سب سے بہتر ہوتے ہیں… وہ تیرے دل کا حال بھی جانتا ہے… اور تیری توبہ بھی قبول کرے گا۔‘‘
“چل، میری پیاری بچی، منہ دھو اور مائد کے آنے سے پہلے کمرے میں جا۔ وہ آج بھی تھوڑا لیٹ ہے، پتا نہیں کن کاموں میں الجھا ہوا ہے۔ بس اللہ تعالیٰ سے دعا کر کہ وہ دشمنوں کے منہ نہ لگے۔ اس دشمنی سے کسی کو کچھ نہیں ملے گا۔‘‘
’’مگر یہ بات مائداور تمہارے آغا جان نہیں سمجھتے۔ جب بھی وہ گھر دیر سے آتے ہیں، مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ کوئی نیا قیامت خیز پیغام ان کے ساتھ نہ آئے…‘‘
مورے نے فکر مندی سے کہا، اس کے چہرے پر چھپی پریشانی صاف جھلک رہی تھی۔
’’اللہ نہ کرے،‘‘ دانیا نے نرمی سے کہا، ’’ٹھیک ہے، میں جا رہی ہوں کمرے میں۔ ورنہ اگر انہوں نے مجھے اس حالت میں دیکھ لیا تو پریشان ہو جائیں گے۔‘‘
یہ کہہ کر وہ اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی، اور مورے بھی آہستہ آہستہ اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ ویسے بھی عشاء کی نماز دونوں پڑھ چکی تھیں، اب صرف مائد کا انتظار ہو رہا تھا۔
انتظار کرتے ہوئے نہ جانے وہ کتنی دیر تک روز کی طرح ایک دوسرے سے باتیں کرتی رہیں۔
مورے کی اپنی کوئی بیٹی نہیں تھی، اور دانیا کے روپ میں اُسے بیٹی مل گئی تھی۔
جبکہ دانیا کے پاس ماں جیسی نعمت نہیں تھی، اور اُسے مورے کے روپ میں ماں مل گئی۔
دونوں ایک دوسرے کے لیے مکمل تھیں دکھ سکھ کی سچی ساتھی۔
جب بھی بیٹھتیں، وقت کا پتا ہی نہ چلتا…
آغا جان کی طبیعت آج کچھ بہتر نہیں تھی، اس لیے وہ کمرے سے باہر نہیں آئے۔ ان کی طبیعت تو ویسے بھی ان دنوں بہت خراب رہنے لگی تھی۔ جب سے درخزئی اللہ کے پاس گیا تھا، آغا جان جیسے ٹوٹ سے گئے تھے…
دانیا، اپنے کمرے میں جانے سے پہلے ارمیزہ کے کمرے کے پاس رکی۔ دروازہ آہستہ سے کھولا،
ارمیزہ گہری نیند میں تھی، پرسکون چہرہ… اور اس کے بیڈ کے پاس نیچے ایک میٹرس پر ملازمہ بھی سو رہی تھی۔
دانیا نے دروازہ آہستگی سے بند کر دیا تاکہ کسی کی نیند میں خلل نہ آئے۔
جب سے زیغم ہسپتال میں تھا، ارمیزہ مائد کے گھر ہی تھی۔
مائدنے ارمیزہ کے آن لائن اسکول اور قرآن کی کلاسز کا انتظام خود کروایا تھا، اسے گھر سے باہر نہیں جانے دیتا تھا،کیونکہ ارمیزہ زیغم کی امانت تھی۔ اور زینب کی اجازت کے بغیر وہ کبھی بھی بچی کی کسٹڈی نایاب کے حوالے نہیں کر سکتا تھا۔۔
دانیا نے کمرے میں داخل ہو کر دروازہ آہستگی سے بند کیا اور سیدھی واش روم کی طرف بڑھ گئی۔
ٹھنڈے پانی کی چھینٹیں چہرے پر مار کر خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ مائد کو اس کی آنکھوں میں آنسو بالکل بھی اچھے نہیں لگتے،وہ جب بھی اُسے روتا دیکھتا، بے چین ہو جاتا۔
اور وہ پہلے ہی درخزئی اور زیغم کی وجہ سے دل ہی دل میں بکھرا ہوا تھا۔
دانیا کی پوری کوشش ہوتی کہ وہ اس کے سامنے کبھی نہ روئے…
مگر وہ کیسے نہ روئے؟ زیغم اس کا بھائی تھا…
اور اس کی آنکھیں اپنے بھائی کے غم میں خشک کیسے رہ سکتی تھیں؟
خود کو نارمل کر کے جیسے ہی وہ کمرے میں لوٹی، بیڈ پر بیٹھ کر بامشکل سانس ہی لی تھی کہ دروازے کی ہلکی سی چرچراہٹ سنائی دی۔
دروازہ کھلا، اور مائد اندر داخل ہوا۔
ٹھک۔دروازہ بند ہوا۔
اور دانیا کی آنکھیں… یکدم پھیل گئیں۔
مائد کے سفید کپڑوں پر خون کے دھبے تھے…
تازہ… گہرے… سرخ۔
دانیا کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔
وہ جھٹکے سے کھڑی ہوئی، اس کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے۔
کچھ پوچھنا چاہا… کچھ بولنا چاہا…
مگر زبان جیسے مفلوج ہو گئی ہو
لفظ گلے میں اٹک گئے تھے…
“السلام علیکم!”
مائد نے بہت آرام سے سلام کہا اور واش روم کی جانب بڑھ گیا۔
اس کا رویہ معمول سے کچھ مختلف تھا، مگر وہ بظاہر خود کو پرسکون ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ورنہ عادت کے مطابق، وہ ہمیشہ پہلے کچھ دیر دانیا کے پاس بیٹھا کرتا تھا،
مگر آج، سلام کہتے ہی وہ سیدھا واش روم چلا گیا۔ایسا نہیں تھا کہ وہ دانیا کی حالت سے غافل تھا۔بس اس وقت اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا۔
دانیا نے اپنے وجود کی ساری ہمت اکٹھی کی اور قدم واش روم کی جانب بڑھا دیے۔
وہ دروازے پر دستک دے رہی تھی،
“ک۔۔۔کیا ہوا ہے؟ پلیز… پلیز باہر آئیں… مجھے آپ سے بات کرنی ہے!”
اس کی کپکپاتی ہوئی آواز مائد کی سماعت سے ٹکرائی۔گھبراہٹ سے اس کے لفظ ٹوٹ رہے تھے۔
وہ بیسن کے سامنے کھڑا، اپنے خون آلود ہاتھ دھو رہا تھا۔ کرتا اتار کر سائیڈ پر ڈال چکا تھا،
اور اب دھیان سے اپنے بازوؤں سے خون صاف کر رہا تھا۔
“پرسکون ہو جاؤ، میں ٹھیک ہوں… ابھی آ رہا ہوں باہر۔ آرام سے بیٹھو، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔”
مائد کی پرسکون، مگر تھکن سے بھری آواز دروازے کے پار سے سنائی دی۔
“پرسکون ہو جاؤں؟ خون میں لت پت کپڑے لے کر آپ گھر میں داخل ہوئے ہیں… اور اب مجھے کہہ رہے ہیں کہ پرسکون ہو جاؤں؟”
دانیا کی کانپتی ہوئی آواز پھر سے دروازے کے اس پار سنائی دی۔
“کیسے رہوں پرسک۔؟آپ خود تو کبھی مجھے پرسکون رہنے دیتے نہیں… آخر ہوا کیا ہے؟ باہر آئیں، پلیز!”
وہ کپکپاتے ہاتھوں سے مسلسل دروازہ کھٹکھٹا رہی تھی۔
مائد نے ایک گہری سانس لی…
پھر وہ فضا میں سانس چھوڑتے ہوئے ہینڈل گھما کر باہر آیا۔
دانیا گھبرا کر دو قدم پیچھے ہو گئی۔
اس کے گلے میں پہنی ہوئی سفید رنگ کی بنیان پر اب بھی خون کے دھبے واضح تھے۔شاید جلدبازی میں وہ مکمل کپڑے نہ بدل پایا تھا،
کیونکہ دانیا مسلسل دروازہ پیٹ رہی تھی۔
اور اسی خون آلود منظر کو دیکھ کر اب دانیا کا خوف مزید بڑھ گیا تھا۔کم سے کم دانیا کو اتنا تو اندازہ ہو گیا تھا،کہ
یہ چوٹ مائد کو نہیں لگی تھی…
بلکہ…مائد نے کسی اور کو چوٹ پہنچائی تھی۔۔
کک… کیا کر کے آئے ہیں آپ؟ کس کی جان لی ہے آپ نے؟ کیا ہوا ہے؟”
وہ ایک ساتھ کئی سوال پوچھ رہی تھی،
آواز میں کپکپاہٹ اور آنکھوں میں خوف تھا۔
“میں نے کہا نا، پرسکون ہو جاؤ۔ میں ٹھیک ہوں، اور تمہارے لیے اتنا جان لینا ہی کافی ہے۔”
“اگر کسی کو کچھ ہوا ہے… تو تمہیں اس کی فکر نہیں ہونی چاہیے۔”مائد نے سنجیدگی سے کہا،
“آپ… آپ کیسے اتنے سکون سے خون میں لت پت ہو کر کھڑے ہو سکتے ہیں؟”
وہ بری طرح لرز رہی تھی،
“آپ کی حالت دیکھ کر مجھے آپ سے خوف آ رہا ہے… ڈر لگ رہا ہے، !”
“مگر ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے، جب میں کہہ رہا ہوں کہ سب ٹھیک ہے، تو تم کیوں ڈر رہی ہو؟”
وہ دو قدم آگے بڑھا تھا۔
دانیا گھبرا کر تین قدم پیچھے ہوئی اور دیوار سے جا لگی۔
سانسیں تیز، دھڑکن بے قابو… اور جسم لرز رہا تھا۔
“پلیز… پلیز آپ مجھ سے دور رہیں!”
وہ بری طرح کپکپا رہی تھی،
اور اس کا یہ ردِعمل، واضح طور پر پینک اٹیک کی طرف بڑھ رہا تھا۔
مائد نے جھٹکے سے آگے بڑھ کر اس کے دونوں کندھے مضبوطی سے تھام لیے۔
“میری طرف دیکھو… میری آنکھوں میں دیکھو دانیا!”
اس کی آواز میں ایک درد بھری گرج تھی،
“کب تک ماضی کے اندھیروں میں الجھ کر اپنا حال برباد کرتی رہو گی؟”
اس نے اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے تھام کر اپنے قریب کیا۔
“ماضی گزر چکا ہے… اُس وقت تم کمزور تھیں، مگر اب نہیں ہو۔
اب تم مائد خان درانی کی بیوی ہو!”
اس کی آواز روم میں گونج رہی تھی۔
“مائد خان درانی… شیر کا نام ہے!
اور شیر اگر خاموش ہو، تو جنگل میں رہنے والے کیڑے مکوڑے بھی خود کو شیر سمجھنے لگ جاتے ہیں۔شیر کو شیر بن کر رہنا ہی سوٹ کرتا ہے۔”
“تم کمزور نہیں پڑ سکتی، دانیا!
میں نے کہا میری طرف دیکھو!”
اس نے ایک بار پھر اس کے چہرے کو مضبوطی سے تھام لیا،
آنسو، خوف، شدت… سب کچھ اس لمحے میں بند ہو گیا تھا۔
بس آنکھیں آنکھوں سے جا ملی تھیں،
اور وقت جیسے رک سا گیا تھا۔
کچھ دیر کے لیے…
چند لمحوں کے لیے وہ مائد خان درانی کی آنکھوں میں کھو گئی تھی،
وہ آنکھیں جس میں بہادری بھی تھی… اور بے پناہ محبت بھی، لمحہ جیسے ساکت ہو گیا تھا۔
مائد کے ہاتھ اب بھی اس کے چہرے کو تھامے ہوئے تھے،
اور دانیا کی سانسیں سست ہو گئی تھیں،
آنکھیں جھکی نہیں تھیں… بس گم ہو گئی تھیں…مائد کی آنکھوں میں جو ہر خوف کا جواب تھیں۔
“میں تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا، دانیا!”
“تمہارے ہر خوف سے لڑوں گا… تمہارے ہر درد سے پہلے میں کھڑا ہوں گا۔”دانیا کے آنکھوں کے کناروں سے آنسو بہہ نکلے تھے،مگر وہ اب بھی مائد کی آنکھوں سے نظریں نہیں ہٹا سکی تھی۔
“جاناں…”
مائد نے نرمی سے اس کا چہرہ تھامتے ہوئے کہا،”اتنی بے یقینی سے کیا دیکھ رہی ہو؟”
اس کی آواز دھیمی مگر مضبوط تھی۔
وہ اس کے مزید قریب ہوا، ماتھے پر عقیدت بھرا لمس رکھا،کچھ لمحوں کے لیے آنکھیں بند کر لیں۔ایسا لمس… جو صرف محبت سے نہیں،ذمہ داری، تحفظ اور دعا سے بھی بھرپور تھا۔اس لمس میں چھپی عقیدت محبت تحفظ دعا ہر چیز کو دانیا نے محسوس کیا تھا کیونکہ سچے جذبے کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔۔
“میں ہوں تمہارے ساتھ… ہر لمحہ، ہر قدم پر۔اس بات کا یقین نہیں ہے تمہیں؟”اس کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے،مائد کی آنکھوں میں وہی وعدہ جھلک رہا تھا جو لفظوں سے نہیں، صرف احساس سے سمجھا جا سکتا تھا۔
“مگر آپ… جس طرح سے دشمنیاں نبھا رہے ہیں… اگر آپ کو کچھ ہو گیا تو؟!”
وہ بولتے بولتے ہانپنے لگی تھی،
“کیا کبھی سوچا ہے آپ نے… کہ میرا کیا ہوگا؟”
اس کے آنسو بہہ رہے تھے، آواز ٹوٹ رہی تھی۔
“نہیں سوچا، ہے نا؟ کیونکہ آپ کو تو صرف خود کو بہادر ثابت کرنا ہے،
مضبوط دکھانا ہے… پھر اس چکر میں آپ کو کوئی بھی نقصان اٹھانا پڑے آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔!”
وہ سسک رہی تھی،وہ خاموشی سے سن رہا تھا۔
“کیوں نہیں سوچتے آپ یہ سب کرتے وقت کہ… اگر اللہ نہ کرے آپ کو کچھ ہو گیا… تو ہمارا کیا ہوگا؟”
اس کی آواز اب تیز ہو رہی تھی،
رقت اور درد اس کے ہر لفظ لرز رہا تھا۔”زیغم بھائی کی حالت بھی آپ کے سامنے ہے،چھ مہینے ہو گئے… وہ بس خاموش پڑے رہتے ہیں۔
ڈاکٹر بھی کوئی امید نہیں دے رہے۔
اور ایسے وقت میں… ہمارا واحد سہارا آپ ہیں۔”
اس نے اپنی نم آنکھیں مائد کی طرف اٹھائیں،”اور آپ ہیں کہ… آپ کو اپنی جان کی پرواہ ہی نہیں!
روز رات کو آپ دیر سے آتے ہیں،
دل بند ہونے لگتا ہے… کہ نہ جانے اب کیا خبر آئے گی۔
کس کی جان لے کر آئیں گے، کس سے دشمنی مول لے لی ہو گی!”
“تھوڑی دیر کے لیے اگر آپ فون نہیں اٹھاتے نا…
تو میری سانسیں بند ہونے لگتی ہیں!”
اس کی آواز ٹوٹ گئی،
“مگر آپ کو… آپ کو کوئی پرواہ نہیں!
آپ کو میری کوئی فکر نہیں!”
وہ زور سے روتے،
مائدہ کے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے روتی رہی۔
دل کی ٹوٹتی ہوئی آواز ہر سمت میں گونج رہی تھی…مائد نے خاموشی سے اسے مضبوط بازوؤں کے حصار میں لے لیا۔ ایک بھی جملہ کہے بغیر،
بس اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔
دانیا کی سسکیاں اس کے سینے میں دب گئیں…
اور مائد کا لمس، اس لمحے میں،
سب سوالوں کا خاموش جواب بن گیا۔مگر پھر بھی وہ پوری طرح سے مطمئن نہیں تھی۔
“ہھہ۔۔۔ ہنہہہ۔۔۔”
اس کی گھٹی گھٹی سسکیاں مائد کے سینے میں دب کر بھی آواز نکال رہی تھیں،
“۔۔ اُہہ۔۔۔ ہھہ۔۔۔”
جیسے ہر سانس کے ساتھ درد لفظوں میں ڈھلنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“شششش… بس بس، رونا بند کرو مجھے کچھ نہیں ہوسکتا!”
“میرے ساتھ تمہاری ،مورے اور آغا جان،سب کی دعائیں ہیں،
تو سب کی دعاؤں کے بیچ سے کوئی مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتا یہ میرا یقین ہے۔”
“اور اتنی جرات کسی کی نہیں ہے کہ کوئی مائید خان درانی کو آسانی سے نقصان پہنچانے کی ہمت کرے!”
“بس تم اپنے ڈر پر قابو پاؤ… تمہارا یہ ڈر مجھے بہت تکلیف دیتا ہے۔”
“ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا، دانیا!”
“تمہیں بہادر بننا ہے… وقت آنے پر ہر دشمن کو منہ توڑ جواب دینا ہے۔”
“شیر کی شیرنی ہو، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا سیکھو!”
اسے سینے میں سموئے بیڈ پر لا چکا تھا، اور اب اس کے قریب بیٹھا تھا۔ لہجے میں بے انتہا محبت تھی، مگر الفاظ میں فولاد جیسی مضبوطی۔وہ دونوں بیڈ سے پاؤں لٹکائے ہوئے قریب بیٹھے تھے۔۔
” زیغم بھائی بھی بہادر تھے…وہ بھی شیر تھے… سینہ چیر کر کلیجہ نکالنے کی طاقت تو ان کے پاس بھی تھی…”
“پھر؟ پھر ان کے ساتھ کیا ہوا؟ کیا بھول گئے؟”
“پچھلے چھ مہینوں سے بھائی نے ایک لفظ تک نہیں بولا… چھ مہینے سے آنکھ نہیں کھولی…”
“مجھے ‘دانیا بیٹا’، ‘دانیا بچہ’ کہہ کر نہیں بلایا…”
“ارمیزہ باپ کی محبت سے محروم ہو گئی ہے…”
“اور جس میں بھائی کی جان بستی تھی، جو بھائی کی محبت تھی… اس کا پتہ ہی نہیں کہ وہ کہاں ہے، کس حال میں ہے، زندہ ہے یا…”
یہ کہتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے مائد کے کندھے سے سر ٹکا گئی تھی۔دانیا کا ضبط ٹوٹ چکا تھا، آنسوؤں میں چھپا درد لفظوں سے باہر آ چکا تھا۔اور اس کا بولا گیا ایک ایک لفظ سچ تھا نہ لفظ جھوٹے تھے نہ اس کا ڈر۔۔۔
“زیغم پر جو وار کیا گیا وہ دشمنوں نے پیٹھ پر کیا تھا… کیونکہ زیغم نے ان کو معاف کر دیا تھا!”
“مگر یہ اس کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی، کیونکہ ہم سچائی سے منہ نہیں موڑ سکتے۔”
“سانپ کبھی بھی دوست نہیں بنتے، پھر چاہے ہم انہیں اپنے ہاتھوں میں دودھ ڈال کر کیوں نہ پلائیں!”
“ایک نہ ایک دن ڈسنا ان کی فطرت میں ہوتا ہے، اور زیغم کے ساتھ یہی ہوا!”
“اب میں وہ اتحاد دہرانا نہیں چاہتا!”
“میں درخزئی کا بدلہ بھی لوں گا، اور اپنی زیغم کا بھی!”
“میں پیٹھ پر وار کرنے کا موقع ہی نہیں دوں گا!”
” دو دشمنوں کو آج جہنم نصیب کروا کر آیا ہوں!”
“سبحان کے دو اور بھائی قبرستان پہنچ چکے ہیں… اور بہت جلد توقیر اور شہرام کی باری ہے!”
“ان کو آزادی اس لیے ملی ہوئی ہے کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ خدا وہ دن لائے…”
“جب زیغم خود اپنے پیروں پر کھڑا ہو، اور اپنے دشمنوں کو سزا دے!”
“اور ان شاءاللہ.. وہ وقت ضرور آئے گا!”
مائدکے لہجے میں شدت، آنکھوں میں انتقام کی چنگاریاں، اور دل میں بھائیوں کے لیے بے پناہ وفا تھی۔
“اور تم اتنی خوفزدہ کیوں ہو؟”
“تم یہی چاہتی تھی نا کہ زیغم اپنے دشمنوں کو سزا دے؟”
“اور آغا جان چاہتے تھے کہ درخزئی کے دشمنوں کو سزا دوں جنہوں نے ہم سے ہمارا درخزئی چھین لیا،؟”
“تو اب ان کی سزا شروع ہو گئی ہے!”
“اب گھبرانے کا ، پیچھے قدم لینے کا مطلب ہے کہ ہم بزدل ہیں!”
“پرسکون رہو… بہت جلد سب کو جہنم میں ایک جگہ اکٹھا کرنے کا انتظام کر رہا ہوں!”
“بس خدا وہ دن جلدی سے لائے کہ میرا یار اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے!”
“اور میرا دل گواہی دیتا ہے کہ وہ ٹھیک ہو جائے گا!”
“مجھے ڈاکٹروں کی کسی بات پر کوئی یقین نہیں!”
“اصل ڈاکٹر تو وہ ہے.. جو بہترین فیصلے، بہترین دوا اور کامل شفا کا مالک ہے!”
“آمین، ثم آمین۔ اللہ آپ کی زبان مبارک کرے اور بھائی جلد از جلد صحتیاب ہو جائیں۔ مگر اس کے بعد ہم یہاں سے بہت دور چلے جائیں گے… وہاں، جہاں یہ دشمن ہمارا سراغ تک نہ پا سکے، جہاں ہم سکون کی سانس لے سکیں۔
مجھے میں اب کسی کو کھونے کا حوصلہ نہیں۔ شاید آپ میری باتوں کی گہرائی نہ سمجھ سکیں۔
میں بھی کبھی چاہتی تھی کہ زیغم بھائی سب سے انتقام لیں، اپنے پیاروں کے خون کا حساب چکائیں۔ مگر زیغم بھائی کی حالت دیکھنے کے بعد یہ خواب میرے دل میں دفن ہو گیا۔
مزید خون بہا کر اپنے پیاروں کے زخموں کا مداوا نہیں چاہتی۔ جو چند رشتے میرے پاس بچے ہیں، اُنہیں بھی کھونا نہیں چاہتی۔”
دانیا مائد سے التجا بھرے لہجے میں بات کر رہی تھی، جبکہ ماہر ششدر تھا کہ اُس کی بیوی کے دل میں خوف کس شدت سے اپنے پنجے گاڑ چکا ہے۔
“مطلب کہ تم نے ہار مان لی ہے؟ یعنی تم یہ چاہتی ہو کہ ہم بزدل بن کر اپنوں کے خون کو یوں ہی ضائع جانے دیں؟
ہمارے پیاروں نے تڑپ تڑپ کر جان دی… کیا اُن کی جان کی کوئی قیمت نہیں تھی؟
ہمیں سیل فش بن کر صرف اپنی جان بچانی چاہیے؟
صاف لفظوں میں کہو، تم چاہتی ہو کہ ہم چوڑیاں پہن لیں؟”
مائد کا لہجہ سخت ہوتا جا رہا تھا۔
“آپ جو سمجھیں، وہ آپ کی سوچ ہے، مگر میں صرف اتنا چاہتی ہوں کہ یہ خون خرابہ اب ختم ہو جانا چاہیے۔
ورنہ یہ سلسلہ کبھی نہیں رکے گا۔ ہماری آئندہ نسلیں بھی اسی خون کی ندی میں بہہ جائیں گی…
اور مجھے ایسی کوئی تاریخ نہیں لکھنی، جس میں دورانی اور لغاری خاندان صرف قتل و غارت اور دشمنی کے لیے پہچانے جائیں۔”
“اچھا، اور اُس کا کیا؟ جس کا کوئی سراغ نہیں… نہ معلوم دشمنوں نے مار دیا، یا زندہ ہے… زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا؟
جب تمہارا بھائی ہوش میں آئے گا اور پوچھے گا کہ مہرالنسا کہاں ہے، تو کیا جواب دو گی؟
یہ کہ ہم نے ہار مان لی؟ ہم ڈر گئے؟ ہم کچھ نہیں کر سکے؟ کیا یہی کہو گی؟
ذرا سوچو… کچھ دیر کے لیے ہی سہی، مگر سوچو!
جب وہ آنکھ کھولے گا اور مہرالنسا اُسے کہیں نظر نہیں آئے گی، اور ہمارے پاس اُس کا کوئی اتا پتا نہ ہو گا،
تو تمہارے بھائی کا ردِعمل کیا ہو گا؟
میرے خیال میں، یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ مہرالنسا سے کتنی محبت کرتا ہے…
وہ آگ لگا دے گا… یا مر جائے گا… یا سب کو مار ڈالے گا!
اور اُس دن سے ڈرو!
اور مجھے کمزور نہ کرو، میری طاقت بنو، دانیا!
کمزور لوگوں کی اس دنیا میں کوئی جگہ نہیں ہوتی۔
اگر تم کمزور تھی، تو سب تم پر غالب آ گئے۔
جس دن تم آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا سیکھ جاؤ گی، اُس دن لوگ ہمارے سامنے دب جائیں گے۔
دشمن نظریں اُٹھا کر بات کرنے کی ہمت نہیں کریں گے۔
طاقت ہمیشہ کمزور پر ظاہر کی جاتی ہے…
اور ہم کمزور نہیں ہیں!
یہ بات کان کھول کر سن لو!”
“پپ… پلیز، پلیز! مجھ پر زور سے مت چلائیں۔ آپ کے اس طرح بولنے سے مجھے ڈر لگتا ہے!”
وہ دونوں ہاتھ کانوں پر رکھتے ہوئے کانپ گئی تھی۔
“ڈر… ڈر… ڈر!
آخر کب تک ڈرو گی؟
ڈر ڈر … کے تم خود کو ختم کر لو گی۔
یہ خوف تمہیں اندر ہی اندر کھا جائے گا، دانیا!
اب میں اور چھپ نہیں رہوں گا۔
دنیا میں ہر چیز کا علاج ہے…
اور مجھے لگتا تھا تمہارا علاج میری محبت ہے۔
مگر نہیں، دانیا!
تم تو میری محبت سے مزید کمزور پڑ رہی ہو۔
اب تمہیں میری سختی ہی مضبوط بنائے گی۔ذرا ذرا سی اونچی آواز سے ڈرنا چھوڑ دو،میرے لہجے کو برداشت کرنے کی ہمت پیدا کرو!”
“آنسو صاف کرو چلو، مجھے کپڑے نکال کر دو۔مجھے دشمنوں کے غلیظ خون کو اپنے وجود سے مٹانا ہے۔”
شاید یہ قدرت کا کرشمہ تھا…یا مائد کی حکمتِ عملی نے دانیا کو پینک ہونے کے بجائے جھٹکے سے ہوش میں لا کھڑا کیا۔
وہ فوراً اپنی جگہ سے اٹھی اور کپڑے نکالنے لگی۔مگر چہرے پر مائد کے لیے شدید غصے والے تاثرات تھے آنکھوں میں آنسو اب بھی باقی تھے۔
“سوری، دانیا!
لیکن تمہارے ساتھ یہ سخت رویہ اختیار کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
ورنہ تم ہر دن کمزور سے کمزور تر ہوتی جاؤ گی۔
میں تمہیں پنکھ لگا کر اڑانا چاہتا ہوں…
تمہیں مضبوط بنانا چاہتا ہوں…
تمہیں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا سکھانا چاہتا ہوں۔
اور یہ سب کرنے کے لیے مجھے یہ کڑوا لہجہ اپنانا پڑے گا…”
وہ سوچ رہا تھا،جبکہ دانیا غصے سے الماری کا دروازہ کھول کر الماری سے اس کے لیے کپڑے نکال رہی تھی۔
“یہ ایک کڑوا سچ ہے…”
“کبھی کبھی اپنوں کو سنوارنے کے لیے، اپنوں کے ساتھ رویے بگاڑنے پڑ جاتے ہیں۔”
°°°°°°°°°
ملیحہ روز کی طرح سیدھی چارپائی پر چپ چاپ لیٹی ہوئی تھی۔ باہر بارش ہو رہی تھی، لیکن وہ بارش کم اور طوفان زیادہ لگ رہی تھی۔ تیز ہوا نے کمرے کے پرانے دروازے کو ہلا ہلا کر ایک مخصوص آواز پیدا کر دی تھی۔
اس کی اماں سو چکی تھیں، وہ ہمیشہ عشاء کے فوراً بعد سوتی تھیں کیونکہ فجر میں جلدی اٹھنا ہوتا تھا۔
بابا کی آنکھیں بند تھیں، نیند آ رہی تھی، مگر ابھی مکمل سوئے نہیں تھے۔
اسی وقت ملیحہ کے موبائل پر میسج کی ٹون بجی۔ آواز تیز تو نہیں تھی مگر رات کے سناٹے میں صاف سنائی دی۔ بابا نے آنکھیں کھولیں مگر کچھ بولے نہیں، بس لیٹے رہے۔
کمرے میں مدھم سی روشنی جل رہی تھی۔ ملیحہ نے جان بوجھ کر موبائل کو نہیں دیکھا۔ اسے اندازہ تھا، میسج زرام کا ہوگا۔
دوبارہ فون آیا…
ملیحہ نے فون نہیں اٹھایا بلکہ سائلنٹ پر لگا دیا۔
باہر بیٹھے زرام نے اپنی گاڑی کے اسٹیئرنگ پر زور سے مکا مارا، اور درد کی ایک شدید لہر اس کے ہاتھ میں دوڑ گئی۔
“ملیحہ، فون اٹھاؤ!
تمہیں یہ اکڑ بہت مہنگی پڑے گی۔اگر تم اپنی ضد کی پکی ہو تو میں بھی
اتنے آسانی سے تمہیں چھوڑنے والا نہیں ہوں۔
تم نے مجھ سے میرا سکون چھینا ہے…
میں تم سے تمہارا سکون چھینے بغیر خود کو سکون میسر نہیں کرسکتا۔”
وہ خود سے بولتے ہوئے فون ساتھ والی سیٹ پر پھینک چکا تھا۔
بڑی سی چمچماتی گاڑی کا دروازہ کھول کر، وہ ملیحہ کے کچے گھر کے گیٹ پر جا کھڑا ہوا۔
لکڑی کے دروازے کو چین والی کنڈی سے ٹھک ٹھک کر کے کھٹکھٹایا۔
وہ بےصبری سے کسی کے باہر آنے کا منتظر تھا۔
دروازہ پرانی لکڑی کا، سادہ سا تھا، جس میں لوہے کی چین کی بنی کنڈی لٹک رہی تھی۔
اسی کی مدد سے دستک دی تھی… آواز اندر تک پہنچ چکی تھی۔مگر دروازہ ابھی تک نہیں کھلا تھا۔
ملیحہ جان بوجھ کر نظرانداز کر رہی تھی۔
آنکھیں بند کر لیں، جیسے بند آنکھوں سے کنڈی کی آواز سنائی دینا بند ہو جائے گی۔
ملیحہ کے بابا نے کروٹ لے کر اسے دیکھا۔ وہ جانتے تھے، ان کی بیٹی جاگ رہی ہے۔
“ملیحہ بیٹا، اُٹھ جاؤ۔
تم اچھی طرح جانتی ہو وہ نہیں جائے گا۔
ایسے معاملے، بیٹا، الجھائے نہیں جاتے۔
جاؤ، اور جا کر اس سے ملو…
نہ تم دونوں بتا رہے ہو کہ الجھن کس بات کی ہے،
اور نہ ہی سلجھا رہے ہو۔”
“بابا… میں نہیں جاؤں گی۔”
ملیحہ نے انکار کیا۔
“ملیحہ بیٹا… چلی جاؤ۔
کیوں ضد کر رہی ہو؟ شوہر ہے تمہارا، کھا تھوڑی جائے گا۔
“نہیں ہے وہ میرا شوہر نہ ہی میں اسے اپنا شوہر مانتی ہوں….”نہ ماننے سے رشتے نہیں ٹوٹ جاتے وہ تمہارا شوہر ہے اور اب ضد چھوڑو جاؤ….
تم جانتی ہو، یہ اُس کی ضد ہے…
تم سے ملے بغیر وہ نہیں جائے گا۔”
ملیحہ کی ماں بھی جاگ چکی تھی،انہوں نے سرد لہجے میں اپنی بیٹی کو سمجھایا تھا۔۔
ان کے کہنے پر، ملیحہ دانت پیستی ہوئی اُٹھی۔
اپنے ماں باپ کو مزید انکار کر کے دکھاتی بھی تو کیسے؟
اور جو تلخی ان کے درمیان تھی،
اُسے بیان کرنا بھی شرم کا باعث تھا۔
وہ غصے سے اُٹھی، اپنی چادر اُٹھائی اور کاندھوں کے گرد لپیٹتے ہوئے
تیز بارش میں باہر نکل گئی۔
بارش کی وجہ سے سردی بڑھ چکی تھی،مگر اس کے غصے کی تپش نے سرد ہواؤں اور سرد پانی کی بوندیں اس کے جسم پر محسوس نہیں ہونے دی۔ وہ تیز قدموں سے چلتے ہوئے دروازے تک پہنچی ،ہاتھ بڑھا کر کنڈی کھول دی۔
جیسے ہی کنڈی کھول کر قدم باہر رکھا ،
اس کا پاؤں پھسلا اور وہ گرنے والی تھی
کہ زرام نے جھٹ سے اُسے تھام لیا۔
نہ چاہتے ہوئے بھی ایک غیر ارادی حرکت ہو گئی تھی۔
ملیحہ، زرام کے سینے سے آ لگی۔
اور زرام کا ہاتھ، اس کی کمر پر سختی سے جم چکا تھا۔
اُسے گرنے سے بچانے کے لیے۔
“پیچھے ہٹو!”
ملیحہ نے ناگواری سے اس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھے، اور زور سے دھکا دیتے ہوئے اسے پیچھے دھکیل دیا۔
اس کی یہ حرکت زرام کے اندر موجود غصے کو اور بڑھا گئی۔
“کیوں؟ میرا قریب آنا برا لگا؟
کسی اور کا انتظار تھا؟”
زرام نے اس کی کلائی مضبوطی سے تھامی، چہرہ جھکاتے ہوئے اپنا ماتھا اس کے ماتھے کے بالکل قریب کیا۔
رات کا وقت تھا… سناٹا ہر طرف پھیلا ہوا،وہ اس خاموشی کا لحاظ کرتے ہوئے سرگوشی میں بول رہا تھا، مگر اس کی آواز میں دبا ہوا غصہ صاف محسوس ہو رہا تھا۔
“شٹ اپ! شٹ اپ!
ذرا بھی تمہاری بکواس سننا نہیں چاہتی۔
میں تو تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی!
روز یہاں کیوں آتے ہو؟
صرف یہی بکواس سنانے کے لیے؟”کو دھکہ دیتے ہوئے اسے خود سے دور کرنا چاہتی ہوں مگر زرام کا بھائی مضبوط وجود وہ ایک انچ بھی پیچھے ہلانے میں ناکام یاد رہی۔۔
“نہیں…
میں روز تمہیں یہ یاد کروانے آتا ہوں کہ تم آج بھی میرے ساتھ منسوب ہو۔
اور جب تک ہمارے درمیان یہ رشتہ قائم ہے،
کسی اور کے ساتھ رشتہ جوڑنے کی جرات مت کرنا۔
تب تک… صبر کر لو۔”
“تم بھی گھٹیا ہو…
اور سوچ بھی!
غلطی میری تھی، جو تم پر یقین کیا…
غلطی میری تھی، جو یہ سوچا کہ تم اعتماد کے لائق ہو سکتے ہو!”
زرام کے لفظوں کے تیر، سیدھا دل میں پیوست ہو چکے تھے۔
نہ چاہتے ہوئے بھی، ملیحہ کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔
وہ زرام کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی…
کمزور نہیں بننا چاہتی تھی…
مگر آنسو جیسے کسی کی سن ہی نہ رہے تھے…چپ چاپ بہتے جا رہے تھے۔غصے کی شدت اور رونے سے ملیحہ کی آواز کپکپا رہی تھی اوپر سے تیز بارش کی بوندیں اور ٹھنڈی ہوائیں دونوں کے وجود سے آر پار ہو رہی تھی مگر اس وقت انہیں اس سردی کا احساس نہیں ہو رہا تھا۔مالیحہ کی لاک جھٹپٹاہٹ کے باوجود زرام کا
چہرہ ملیحہ کے اتنے قریب جھکا ہوا تھا کہ سانسوں کی حدت دونوں کے درمیان کی ٹھنڈک کو توڑ رہی تھی۔
“ہاں، میں گھٹیا ہوں، میری سوچ بھی گھٹیا ہے،”
ذرام نے دانت پیستے ہوئے کہا، “تم تو ٹھیک ہو نا؟ تمہاری سوچ بھی ٹھیک ہے؟
تو پھر کیوں نہیں سچائی بتا کر سب کچھ ختم کر دیتی؟
کیوں ضدی بن کر چھ مہینے سے خود بھی تڑپ رہی ہو اور مجھے بھی تڑپا رہی ہو؟”
“میرا تماشہ مت بناؤ، زرام! ٹائم دیکھو کیا ہو چکا ہے… اور حرکتیں؟ بالکل جاہلوں والی!”
ملیحہ نے ہاتھ جھٹکا، “چھوڑو مجھے… مجھے اندر جانا ہے۔”
مگر زرام نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے کھینچا، ایک ہاتھ سے دروازہ بند کیا، اور دوسرے لمحے اسے اپنی گاڑی کے دروازے میں دھکیل کر بٹھا دیا۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے؟!”
ملیحہ نے چیختے ہوئے کہا، “میں کہیں نہیں جاؤں گی تمہارے ساتھ! تم میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے!”
وہ دروازہ کھولنے لگی تھی، مگر زرام برق رفتاری سے دوسری طرف آ کر اندر بیٹھ گیا، اور دروازہ لاک کر دیا۔
اس کی آنکھوں میں سرخی تھی، ایک ایسا غصہ جو بارش کی کڑکتی بجلی کے بیچ میں اور بھی واضح نظر آ رہا تھا۔
ملیحہ کا دل کچھ لمحوں کے لیے دھک سے رہ گیا۔
“کس نے کہا کہ زبردستی نہیں کر سکتا؟
بیوی ہو تم میری!
اگر میں چاہوں تو زبردستی کرنے کا پورا حق رکھتا ہوں…
لیکن میں تمہیں لے کر جانا نہیں چاہتا…
جب تک تم خود اپنی زبان سے سچ نہیں بولتی!”
زارم نے اس کے جبڑے کو سختی سے تھام لیا تھا۔
“بس یہی کر سکتے ہو تم!”
ملیحہ نے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا،
“جو ابھی کر رہے ہو، وہی تمہاری اصلیت ہے۔
آخر توقیر لغاری کا خون ہو نا…
کبھی نہ کبھی تو اپنا رنگ دکھاؤ گے ہی۔
اچھا ہوا، تمہاری اصلیت مجھ پر کھل گئی۔”
اس کی آواز تھر تھرا رہی تھی، آنکھوں میں آنسو تھے، ہاتھ لرز رہے تھے۔
مگر وہ ہار نہیں مان رہی تھی۔
“بہت خوب!”
ذرام کے چہرے پر تلخی بھر گئی،
“یہ بات تو بالکل صحیح کہی تم نے…
میں توقیر لغاری کا خون ہوں…
اور ہاں، میں بہت برا ہوں۔
لیکن جس کے ساتھ تم نے اپنی مرضی سے میرا بھروسہ توڑ کر رشتہ بنایا…
وہ بھی توقیر لغاری ہی کا بیٹا ہے…
میرا سگا بھائی!”
اس کے آخری الفاظ ایسے تھے جیسے کسی نے ہزاروں نہیں لاکھوں سوئیاں ایک ساتھ اسکے جسم میں چبھو دی ہوں۔
جیسے اس کی روح کو کسی نے خون میں نہلا دیا ہو۔
اس کی سانسیں اکھڑنے لگیں۔ الفاظ نہیں نکل پا رہے تھے… صرف آنسو تھے، اور زارم کی بےرحم آنکھیں۔
“چپ کیوں؟ اس بات کا جواب نہیں دو گی؟”
ضرور نے اس کی کلائی کو مزید سختی سے تھاما، چہرہ اس کے اور قریب لے آیا۔ آواز مدھم تھی، مگر لہجہ کرب سے لبریز۔
” بتاؤں نا اس کے ساتھ رشتہ بناتے ہوئے کیوں نہیں سوچا کہ وہ بھی توقیر لگاری کا بیٹا ہے؟”
“نہیں دوں گی جواب…”
وہ کانپتی آواز میں بولی، مگر آنکھوں میں ہار کا کوئی رنگ نہ تھا۔
“جو تم سننا چاہتے ہو… وہ میں کبھی نہیں کہوں گی… تڑپتے رہو… دن رات تڑپتے رہو… مگر جواب نہیں ملے گا!”
اس کے لفظوں میں دکھ بھی تھا اور ایک عجیب سی ضد بھی۔ جیسے وہ چاہتی ہو کہ وہ تڑپتا رہے… بے چین رہے… جیسے اس کی بے قراری ہی اس کی اصل سزا ہو۔
زرام کی آنکھوں میں نمی ابھری… وہ ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھا، مگر دل کی شکست اسے خاموش کروادیتی۔
ہوا رک سی گئی تھی… لمحے تھمیں ہوئے تھے… مگر دلوں میں طوفان برپا تھا۔
“بتانا نہیں چاہتی… یا پھر حقیقت وہی ہے جو میں بول رہا ہوں؟”
زارم کی آواز میں شکستہ سا طنز تھا، ہر سوال کے پیچھے ایک زخمی یقین چھپا ہوا تھا۔
“تمہیں جو سمجھنا ہے، سمجھو۔”
ملیحہ کی آواز میں اب تھکن تھی…
“مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تم کیا سوچتے ہو۔
اگر تمہیں لگتا ہے کہ میرا شہرام کے ساتھ رشتہ ہے… اور یہ بچہ اس کا ہے… تو بالکل ایسا ہی سمجھو۔”
زارم کا دل جیسے سینے میں ڈوب گیا…
“میں تمہاری جان لے لوں گا، ملیحہ…
اپنے منہ سے یہ لفظ نکال کر تم میرے صبر کا مذاق بنا رہی ہو!”
“صبر کا نہیں… سبق کا امتحان لے رہی ہوں۔
یہی تو سننا چاہتے ہو تم… اس لیے بار بار، پچھلے چھ مہینے سے، تمہیں یہی سناتی آئی ہوں۔
تاکہ تم مطمئن رہو… تاکہ تمہیں کوئی شک باقی نہ رہے!”
زارم کا چہرہ اب بےبس تھا، وہ چیخ کے برابر دبے لہجے میں بولا۔
“نہیں!
یہ نہیں سننا چاہتا!
میں صرف اتنا سننا چاہتا ہوں کہ تم ایک بار مجھے سچ بتا دو۔
بس ایک بار کہہ دو کہ تم بے گناہ ہو… کہ تم نے مجھے دھوکہ نہیں دیا…
صرف ایک بار، ملیحہ…
کہہ دو کہ تم مجھ سے پیار کرتی ہو…
خدا کی قسم، ایک بار کہہ دو… میں سب کچھ ٹھیک کر دوں گا!”
“کبھی نہیں…
کبھی بھی نہیں…
اگر ہمارے رشتے کو قبول کرنے کے لیے، تم میرے کردار کی گواہی مانگتے ہو…
تو میں مر جاؤں گی…
مگر کبھی بھی اپنی صفائی نہیں دوں گی۔
تو جو سوچنا ہے، سوچو…
جو کرنا ہے، کرو…
میں صفائی نہیں دوں گی۔”
ملیحہ کی آنکھوں میں اب آنسو نہیں تھے، صرف سرد جملے تھے۔
تمہیں میری محبت اور تڑپ دکھائی نہیں دے رہی، صرف اس لیے کہ تم اب اُس کے ساتھ ہو۔
جب تم سچ نہیں بتاتیں، تو میرا دل بس اسی بات کو سچ مانتا ہے… اور مجھے لگتا ہے یہی حقیقت ہے۔
ہاں تو جو تمہیں سچ لگتا ہے، تم اُسی پر یقین رکھو، میں نے کب روکا ہے؟
بالکل سچ یہی ہے، … اور تم اسی سچ کے ساتھ جیو۔
“میں اُس سے بہت پیار کرتی ہوں…
اور تم اس بچے کے پیدا ہونے کے بعد مجھے طلاق دے دینا۔
بلکہ جب یہ بچہ تمہارا ہے ہی نہیں…
تو تم چاہو، ابھی بھی دے سکتے ہو۔
صحیح کہہ رہی ہوں نا؟
جلدی سے طلاق دے دو… تاکہ ہم دونوں اپنی نئی زندگی شروع کر سکیں۔”
“طلاق؟”
زارم تو جیسے پل پھر کے لیے ساکت ہو گیا تھا۔
“تم طلاق چاہتی ہو؟
تاکہ اُس کے ساتھ زندگی گزار سکو؟
مجھے چھوڑ دو گی؟
تو سن لو، تمہاری یہ حسرت میں کبھی پوری نہیں ہونے دوں گا!”
اس کے لفظ سخت تھے، لہجہ زخمی اور تیز…
اور ہاتھ… زرام کا ہاتھ اس کے جبڑے پر سختی سے بند تھا۔
ملیحہ کی آنکھیں تکلیف سے سکڑ گئیں،
چھٹے مہینے کی حاملہ…
اس کی سانس جیسے بند ہونے لگی تھی۔
“میں تمہیں کبھی طلاق نہیں دوں گا!”
زارم کا چہرہ قریب تھا، سانس غصے سے پھیلی ہوئی۔
“تم چاہو یا نہ چاہو۔ہمیشہ تمہیں اپنے ساتھ باندھ کر رکھوں گا!”
“آہ۔۔۔ آہ۔۔۔”
ملیحہ کے لبوں سے دبی دبی سی چیخ نکلی،
تب زرام کو ہوش آیا…
یہ وہ ملیحہ نہیں تھی جس پر وہ غصہ نکال سکتا تھا،
یہ ایک ماں بننے والی عورت تھی،
چاہے بچہ اُس کا نہ بھی ہو…
مگر انسانیت کے ناطے، وہ کبھی کسی ایسی خاتون کو تکلیف نہیں دے سکتا تھا۔۔
زارم فوراً پیچھے ہٹا،
گاڑی میں رکھی پانی کی بوتل کھولی،
اور جلدی سے اس کے منہ کے قریب کی…
ملیحہ نے جھٹکے سے ہاتھ مار کر بوتل دور کر دی۔
“کوئی ضرورت نہیں تمہاری ایسی ہمدردی کی۔
یہ ڈرامہ تمہیں زیب نہیں دیتا،
جو ہو… وہی رہو،
یہ رحم کا لبادہ تم پہ جچتا نہیں… مسٹر زرام لغاری!”
اس کی سانسیں ابھی بھی ٹوٹی ہوئی تھیں۔
“میں صرف اپنی انسانیت زندہ رکھے ہوئے ہوں ورنہ تم بالکل بھی ہمدردی کے لائق نہیں…
“تو کس نے کہا ہے ہمدردی کرنے کو مت کرو مجھے تمہاری ہمدردی کی ضرورت بھی نہیں ہے…
ٹھک۔۔۔۔ٹھک۔۔۔۔۔ٹھک
اچانک گاڑی کے شیشے پر دستک ہوئی۔
زارم چونک کر مڑا ،
شیشہ نیچے کیا تو سامنے اُس کے سسر،
بارش میں چادر لپیٹے کھڑے تھے۔
“زارم بیٹا…”
ان کی آواز دھیمی مگر سنجیدہ تھی۔
“اگر بات کرنی ہے تو اندر آ جاؤ۔
گاڑی میں اس وقت بیٹھنا ٹھیک نہیں…
اوپر سے موسم بھی کیسا ہے،
اگر کوئی دیکھے گا تو کیا سوچے گا؟
لوگ ویسے ہی باتیں بنانے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔
جو بھی مسئلہ ہے، بیٹھ کر سلجھاؤ…
چاہو تو اسے اپنے ساتھ لے جاؤ،
مگر اس طرح بیچ سڑک گاڑی میں بیٹھنا… مناسب نہیں بیٹا۔”
“نہیں… مجھے اس کے ساتھ نہیں جانا!”
ملیحہ نے جھٹپٹاتے ہوئے دروازہ کھولنے کی کوشش کی،
مگر زرام نے اس کی کلائی مضبوطی سے پکڑ لی،نرمی کا ذرا سا بھی گمان نہ تھا۔
“آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، سوری…”
زارام نے اپنا لہجہ سنبھالا،
“باتوں میں وقت کا اندازہ ہی نہیں ہوا۔
اگر اجازت ہو تو میں اسے اپنے ساتھ لے جاؤں؟صبح واپس چھوڑ دوں گا۔”
اس کے لہجے میں سکون تھا،
جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ابھی تھوڑی دیر پہلے، دونوں کے بیچ میں حد سے زیادہ تلخ کلامی ہو رہی تھی۔
“ہاں بیٹا، ہماری طرف سے تو اجازت ہے۔تمہاری بیوی ہے، جب چاہو ساتھ لے جاؤ۔
بلکہ میں تو چاہتا ہوں،
تم دونوں کی یہ ناراضگی ختم ہو جائے۔”
بابا کی آواز میں شفقت تھی۔
وہ اپنی بیساقی اور مصنوعی ٹانگ کے سہارے مشکل سے کھڑے تھے۔
“نہیں! مجھے اس کے ساتھ نہ کوئی صلح کرنی ہے، نہ جانا ہے!”
ملیحہ تیز آواز میں بولی،
“بابا، آپ نہیں جانتے یہ کیسا شخص ہے۔
اس کی باتیں میٹھی لگتی ہیں،
مگر حقیقت زہر جیسی ہے۔
یہ رنگ بدلنے والا انسان ہے…
گرگٹ ہے!”
“ملیحہ!”
اسکےبابا کی آواز میں سختی آ گئی۔
“ہم نے تمہاری ایسی تربیت نہیں کی،
کہ شوہر کے سامنے اس طرح زبان چلاؤ۔”
“کوئی بات نہیں انکل،
اس کی طبیعت شاید ٹھیک نہیں۔
آپ اندر چلیے، میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں۔”
زارم نے بات سنبھال لی۔
“نہیں بیٹا، ضرورت نہیں۔
تم لوگ جاؤ، بارش بھی بڑھ رہی ہے۔
گھر پہنچ کر فون کر دینا۔”
“جی انکل۔”
” میں نہیں جاؤں گی!”
ملیحہ کی سانس ابھی تک چڑھی ہوئی تھی۔
وہ کلائی چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی،
مگر گاڑی کی اندھیرے میں،
اسکے بابا کچھ نہیں دیکھ پائے۔
“چپ کر کے جاؤ!”
بابا نے سختی سے کہا،
“جب وہ کہہ رہا ہے صبح چھوڑ دے گا،
تو چلی جاؤ۔
میں ابھی تمہارا فون لے کر آتا ہوں۔”
“نہیں! ضرورت نہیں۔
بابا، آپ جائیں۔”
زارم نے فون لانے سے منع کرتے ہوئے جلدی سے کھڑکی کا شیشہ بند کر کے لاک کر دیا۔
“ویسے بھی فون ساتھ لے جا کر…
یہ اس سے رابطہ رکھے گی،
تو بہتر ہے میں وہ کنیکشن یہیں کاٹ دوں۔”
اس نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا،
اور ایک نظر اس کی کلائی پر ڈالی…
جہاں نشان واضح تھے…
اور درد…ابھی بھی تھا۔کیونکہ وہ اپنی کلائی کو تھامے ہوئے آنسو بہا رہی تھی۔۔
“جب یقین نہیں ہے تو کیوں لے جا رہے ہو ساتھ مجھے؟”
ملیحہ نے اس کے گریبان کو پکڑتے ہوئے جھنجھوڑا۔
“تمہاری یہ تڑپ دیکھنے کے لیے… جب تم تڑپتی ہو تو مجھے سکون ملتا ہے۔
جب میں تڑپ رہا ہوتا ہوں، تو تم کیسے سکون میں رہ سکتی ہو؟
تمہیں بھی تو تڑپنا چاہیے… اور دیکھو، تم کتنا تڑپ رہی ہو!”
وہ گاڑی چلاتے ہوئے طنز کے تیر برسا رہا تھا۔
“ظاہر ہے، فون یہاں رہ گیا ہے ، اورتم وہاں پر جا کر اسکے ساتھ رابطہ نہیں کر سکو گی، پوری۔۔۔پوری رات اس کے ساتھ پیار بھری باتیں نہیں ہو سکے گی… او مائی گاڈ!”تمہیں کتنی تکلیف ہوگی۔
زرام کے دل میں جو غصے کی شدت تھی، جو جلن کی آگ اندر ہی اندر سلگ رہی تھی…
وہی سب کچھ وہ طنز کی صورت میں ملیحہ پر برسا رہا تھا۔
مگر ان طنزوں کے تیر… صرف ملیحہ کو نہیں،
خود اس کا اپنا کلیجہ بھی چھلنی کر رہے تھے۔”سچ میں… سچ میں مجھے بہت تکلیف ہو رہی ہے!
جس سے ہم پیار کرتے ہیں، اُس سے بات کیے بغیر رہا نہیں جاتا نا… تو پھر میں کیا کروں؟”
ملیحہ بھی اس کے طنزوں کے تیر کھاتے ہوئے… زخم سہتے ہوئے…
واپس اسے زخمی کرنے کا موقع خالی جانے نہیں دے رہی تھی۔
“چُـــــپ…! چُـــــپ کر جاؤ…!”
وہ غرا کر چیخا تھا، جیسے اس کے ضبط کا بند ٹوٹ چکا ہو۔
“میں… میں تمہاری جان لے لوں گا ملیحہ! ہاں، چپ کر جاؤ… تم مجھے پاگل کر دو گی!”
اس کی آنکھوں میں وحشت، لہجے میں جنون تھا۔
“تم نے میری حالت کیا کر دی ہے؟ میں تمہیں… مار دوں گا!”
وہ سٹیرنگ پر زور زور سے مکے برسا رہا تھا، جیسے غصہ نکالنے کا بس یہی واحد طریقہ بچا ہو۔
لیکن اندر ہی اندر ایک خوف اسے جکڑ رہا تھا…کہیں اپنے ہاتھوں سے وہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچا دے،
کہیں یہ غصہ، یہ جنون… اس کی محبت کو ہمیشہ کے لیے چھین نہ لے۔
“سوچ لو زرام… اب تم خود مجھے اپنے ساتھ لے جا رہے ہو،
تو پھر میرے منہ سے اُس کے لیے نکلے ہوئے محبت بھرے الفاظ…
تمہیں برداشت کرنا ہوں گے۔”
ملیحہ کی آواز میں چبھن تھی، مگر آنکھوں میں نمی اور لہجے میں تھکن چھپی ہوئی تھی۔
“ابھی بھی وقت ہے… بہتر ہے مجھے واپس چھوڑ آؤ… میرے ابا کے گھر۔”
ملیحہ نے جب تڑپتا ہوا زرام دیکھا،
تو دل کے کسی کونے میں ایسا لگا جیسے اُس کے دیے گئے طنزوں کے زخموں پر
کسی نے ہولے سے مرہم رکھ دیا ہو…
مگر وہ مرہم بھی شاید خود زرام کے ہی لہو سے تر تھا۔
“میں تو… جو برداشت کرنا ہے، کر لوں گا…
مگر برداشت تو تمہارے اُس عاشق کو بھی بہت کچھ کرنا پڑے گا!”
زارم نے دانت پیستے ہوئے، لفظ چبا چبا کر کہے،
“جب تم اُسے میری دسترس میں دکھائی دو گی…
جب تم لوگوں کا رابتہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا!”
زرام کی آنکھوں میں وحشت تھی، اور آواز میں زہر بھری آگ۔
“پہلے تو سوچا تھا کہ صبح تمہیں چھوڑ آؤں گا،
لیکن نہیں… دل پچھلے چھ مہینوں سے لہو لہان ہے…
اس قدر بھرا ہوا ہے کہ اس کا زہر تم پر ظاہر کرنا…ضروری ہو گیا ہے!”
“اور تمہارے ماں باپ کے گھر… وہاں مجھے موقع کم ملتا ہے۔
مجھے تمہیں گھٹے گھٹے لفظوں میں نہیں، صاف صاف لفظوں میں،
تمہاری تڑپ کو… تمہاری بے بسی کو… دیکھنا ہے!”
وہ ہانپتے ہوئے، شدت سے بول رہا تھا۔
“اسی لیے… اپنا گھر ضروری ہو گیا تھا،
اپنا گھر، اپنا کمرہ… وہ کمرہ جس میں بہت سی یادیں ہیں۔
اور اب… انہی یادوں کے بیچ،
ایک زبردستی پل کو… ایک نئی یاد کو…
تمہارے ساتھ قید کروں گا، !”
“جب ان لمحوں کو تم خود جیو گی…
تو تم بھی تڑپو گی،اور وہ بھی… اور مجھے…
ہاں مجھے راحت ملے گی!”
زارم نے ملیحہ کے جلانے کے لیے پھینکے گئے تیر…
ضائع نہیں جانے دیے۔
بلکہ انہیں زہر میں بھگو کر،
پھر پوری شدت سے اس کی طرف واپس اچھال دیا تھا۔
“ہمارا گھر؟ ہمارا کمرہ؟”
ملیحہ نے تنزیہ قہقہہ لگایا، جیسے زارم نے کوئی لطیفہ سنا دیا ہو۔
“جب تم میرے ہو ہی نہیں،
تو تمہارا گھر… تمہارا کمرہ… ہمارا کیسے ہو سکتا ہے؟
ہمارے درمیان ہمارا سب کچھ… چھ مہینے پہلے ہی،ختم ہو چکا ہے!”
زارم نے پلکیں جھپکائے ، زخمی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا،
“ہاں… یہ بھی ٹھیک کہا تم نے۔
ہمارے درمیان میں واقعی ہمارا سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔”
اس کا لہجہ اب زہر میں ڈوبنے لگا تھا،
“جانتی ہو کیوں؟ کیونکہ میری بیوی بے وفا نکلی…
میری بیوی نے مجھے دھوکہ دیا!”
وہ ایک ہاتھ گاڑی کے سٹیرنگ پر رکھے اس کے چہرے کے قریب جھک کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے غرایا،
“دھوکہ دیا، مگر اب تسلیم نہیں رہی… شاید بتاتے ہوئے شرم آتی ہے؟
ویسے سوچنے والی بات ہے ملیحہ…
بتاتے ہوئے شرم آتی ہے، کرتے ہوئے کیوں نہیں آئی؟”
“خاموش کیوں ہو گئے۔۔بولو نا! ذرام ،بولو!”
ملیحہ کی آواز تھرتھرا رہی تھی،
“اچھا لگ رہا ہے ن… ہر گزرتے دن کے ساتھ تمہارے اصلی رنگ دیکھ کر؟”
اس کی آنکھوں میں آنسو تھے،
” ہر گزرتے لمحے کے ساتھ میں یہ سوچتی ہوں…اپنے آپ کو کوستی ہوں… لعنت بھیجتی ہوں اُس محبت پر جو تم سے ہو گئی!”اس نے بے بسی سے سر جھٹکا،
“کیسے… کیسے میں تمہارا اصلی چہرہ پہلے نہ پہچان سکی؟
میں حیران ہوں… خود پر، اپنی آنکھوں پر، اپنی محبت پر!”
“حیران تو میں بھی ہوں…”
زارم کی آواز بھاری ہو گئی تھی۔
“جسے میں نے ٹوٹ کر چاہا… دل کی گہرائیوں سے محبت کی…
وہ کیسے بے وفا ہو سکتی ہے؟”
اس نے نگاہیں ملیحہ پر گاڑ دیں،
“جبکہ میرا دل آج بھی گواہی دیتا ہے کہ تم…
تم ایسی نہیں ہو، ملیحہ!
ایسی نہیں ہو تم!”
وہ ہچکچاتے ہوئے، بکھرتے لہجے میں چلایا
“کیوں نہیں کہہ دیتی… کہ میں غلط سوچ رہا ہوں؟
کیوں نہیں… میرا گریبان جھنجھوڑ کر چیختی کہ ‘زارم، تم غلط ہو!’
کیوں نہیں سچ کہہ دیتی؟”
وہ اب مکمل بے قابو ہوتا جا رہا تھا،
“کیوں… کیوں ہمارے رشتے کو الجھا رہی ہو؟
کیوں سمیٹنے کی کوشش نہیں کر رہی؟
کیوں نہیں… کیوں؟”
کہتے کہتے وہ زور زور سے سٹیرنگ پر ہاتھ مارنے لگا،
جیسے اپنے اندر اٹھتے طوفان کو کنٹرول نہ کر پا رہا ہو۔اس کا غصہ… اس کا جنون… اس کی بے بسی ہر وار میں جھلک رہی تھی۔
“مسٹر زرام توقیر لغاری……جہاں محبت… لفظوں کی محتاج ہو جائے،
اُس محبت کو دفنا دینا چاہیے!”
ملیحہ کی آواز میں درد تھا، مگر لہجے میں مضبوطی۔وہ بار بار خود کو سمیٹ رہی تھی کیونکہ اسے زرام کے سامنے کمزور نہیں پڑنا تھا۔۔
” محبت میں صفائیاں مانگنے والے… کمزور ہوتے ہیں۔
اور کمزور لوگ… بار بار ٹوٹتے ہیں،
بار بار جھکتے ہیں،
بار بار گرتے ہیں۔”
وہ پلکیں جھپکائے بغیر زارم کی طرف دیکھتے ہوئے بولی،
“اور ایسے کمزور انسان یہ دل کا سکوٹ…
میں نہیں بننا چاہتی!”
“میں…. کمزور….. نہیں ہوں، ملیحہ!”
زارم کی آواز میں کپکپاہٹ تھی، مگر لفظوں میں یقین…
“میں بہت محبت کرتا ہوں تم سے… بے حد!”
اس نے گہرا سانس لیا جیسے سینے پر رکھا بوجھ ہٹا رہا ہو۔
“اور محبت میں…
اگر صحیح سوال کا صحیح جواب وقت پر مل جائے نا…
تو غلط فہمیوں کی گنجائش رہتی ہی نہیں!”
ذرام نے تڑپ کر کہا تھا۔
“جہاں محبت… سوال و جواب کی محتاج ہو جائے،
وہاں محبت کا گزارا ممکن ہی نہیں ہوتا!”
ملیحہ کی آنکھوں میں چمکتی چنگاریاں تھیں، آواز میں خراش، اور لہجے میں کرب۔
“ایسی محبت کسی کام کی نہیں…
جسے بار بار یقین دلانے کی ضرورت پڑے۔
اور ہمارے درمیان محبت ہے… یہ کہہ کر محبت کی توہین مت کرو، زارم!”
وہ طنز سے مسکرائی،
“تمہیں تو محبت کے لفظ کی م، ح، ب، ت… ان میں سے کسی بھی حرف کا مطلب تک نہیں پتا!”
وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولی،
“تم کیا جانو کہ محبت ہوتی کیا ہے؟”
“محبت میں تو لوگ اندھے ہو کر بھی…
محبوب پر یقین کر لیتے ہیں!
کیونکہ محبت اپنی آنکھیں خود رکھتی ہے،
اپنی آنکھوں سے محبوب کو دیکھتی ہے۔”
“اور یہاں؟
تم نے تو آنکھیں رکھتے ہوئے بھی…
میرے کردار کی دھجیاں اُڑا دیں!”
اس کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں،
” تم مجھ سے محبت کے دعوے بھی کرتے ہو اور کردار کی گوہیاں بھی مانگتے ہو۔؟
کبھی بھی صفائی نہیں دوں گی!
سن رہے ہو؟ کبھی بھی نہیں!”
وہ اب بھی اپنی ضد پر قائم تھی۔
جبکہ گاڑی حویلی کے مین گیٹ پر پہنچ چکی تھی۔
محافظوں نے فوراً دروازہ کھول دیا،
اور گاڑی اندر داخل ہو کر ایک جھٹکے سے رکی۔
چھ مہینے بعد… ملیحہ ایک بار پھر
اس گھر میں زبردستی لائی جا چکی تھی…
جہاں سے جاتے وقت وہ قسم کھا کر گئی تھی…کہ کبھی لوٹ کر نہیں آئے گی!
°°°°°°°°°°