Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:53
راز وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر :53
°°°°°°°°°°
“آہ۔۔۔!”
دھیمی، مگر کراہتی ہوئی آواز پر زرام کی آنکھ کھلی۔
چھ ماہ سے اپنے کمرے میں کسی کی موجودگی کا عادی نہ تھا، سو ذرا سی آہٹ بھی نیند کو توڑ گئی۔ آنکھیں ملتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھا تو نگاہ صوفے پر بیٹھی ملیحہ پر جا ٹھہری، جو پوری رات ضدی بنی وہیں بیٹھی رہی تھی۔ وہ خود جانے کب بیڈ کے ایک کونے میں لیٹ گیا تھا، اور کیسے نیند آ گئی، اسے اندازہ تک نہ ہوا۔
ملیحہ کا چہرہ تکلیف سے سکڑا ہوا تھا۔ پیٹ پر ہاتھ رکھے وہ نیم غنودگی میں کراہ رہی تھی۔ زرام جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔
“تکلیف برداشت کر لے گی… مگر ضد نہیں چھوڑے گی؟” وہ بڑبڑایا اور آگے بڑھ کر نرمی مگر مضبوطی سے ملیحہ کو بازوؤں میں بھرتے ہوئے بیڈ کی طرف لے آیا۔
“کیا مسئلہ ہے تمہارا؟ چھوڑو مجھے!”
ملیحہ نے جھٹپٹاتے ہوئے خود کو چھڑوانا چاہا۔
“تمیز کے دائرے میں رہو۔ اور یہ خوش فہمیاں مت پالو کہ میں تم پر ترس کھا رہا ہوں۔ تمہاری یہ رنگ برنگی کراہیں میری نیند کا ستیاناس کر رہی ہیں۔ اس لیے لایا ہوں یہاں… تاکہ سکون سے سو سکوں!”
زرام نے سخت لہجے مگر نرمی سے اسے تکیے پر لٹا دیا۔
“مجھے ہمدردی مت دکھاؤ! اور تمہارے ترس کی تو مجھے کوئی ضرورت بھی نہیں!”
ملیحہ نے غصے سے اٹھنے کی کوشش کی، مگر درد کے باعث پھر سے تکیے پر ڈھیر ہو گئی۔
“ہمدردی ان سے کی جاتی ہے جو اس کے قابل ہوں۔ تم سے نہیں۔ منہ بند کرو… مجھے سونا ہے!”
وہ دوسری جانب جا کر بیڈ پر لیٹ گیا۔
ملیحہ نے کمرے میں پڑی گھڑی پر نظر ڈالی۔ صبح کے سات بج چکے تھے۔
“تو پھر مجھے کیوں لائے ہو یہاں؟ زبردستی کیوں؟ آرام سے وہیں رہنے دیتے! میں تو تمہارے ساتھ رہنے کے لیے مری نہیں جا رہی۔”
“کیونکہ تم وہاں رہ کر خود کو آزاز سمجھتی ہو… اور مجھے وہ برداشت نہیں ہوتا۔ اب یہیں رہو گی۔ میری قید میں۔ ہر لمحہ۔”
زارم کی نظریں سرد ہو چکی تھیں۔
“قید میں؟ میں تو تمہاری قید میں نہیں رہوں گی۔ دیکھتی ہوں کیسے روکتے ہو!”
درد کے باوجود ملیحہ نے پاؤں لٹکائے، چپل پہنے، اور اٹھنے لگی۔
زارام نے فوراً دوسری طرف سے آ کر راستہ روکا۔
“تمیز سے بات سمجھ نہیں آتی نا؟”
اس نے کلائی تھامی اور زور سے مروڑی۔
“آہ!”
ملیحہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ “جنگلی ہو تم… پڑھے لکھے جاہل!”
” میں اور بھی بہت کچھ ہوں۔ تمہیں تو اب سب برائیاں ہی نظر آئیں گی۔ کیونکہ دل کہیں اور ہے تمہارا… اور جب دل کہیں اور ہو، تو اپنی چیز جو کہ حلال بھی ہو وہ بالکل بھی بری لگتی ہے!”
زارم کی آواز میں اذیت تھی۔
“گرو زرام اور کتنا گر سکتے ہو اپنے مقام سے … میں دیکھوں گی تمہیں گرتے ہوئے۔ مگر میں تمہارے سامنے کمزور نہیں پڑھوں گی۔ نہ روؤں گی، نہ بھیک مانگوں گی!”
“صبح صبح میرے ساتھ بحث کرنے کی کوشش مت کرو۔ اگر اس کمرے سے باہر قدم رکھا نا… تو ٹانگیں توڑ دوں گا! میں وہ زارم نہیں رہا جو چپ ہو جائے۔”
وہ دھمکی دیتا ہوا بیڈ پر گیا، تکیہ پر سررکھا، اور بازو آنکھوں پر رکھ کر لیٹ گیا۔
“میں تم سے ڈرتی نہیں!”ملیحہ نے غصے میں کہا،
“نہیں ڈرتی؟ تو دروازہ کھولو… اور جا کر دکھاؤ !”زارم نے آنکھیں کھولے بغیر کہا،
“کیا کرو گے؟ مارو گے؟”
“باہر قدم رکھ کر دیکھ لو۔ اندازہ ہو جائے گا!”
ملیحہ ضدی انداز میں دروازے کی طرف بڑھی، ہینڈل پر ہاتھ رکھا اور دروازہ کھول دیا۔
زارم دو قدموں میں پہنچا اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔ وہ کچھ بولنے ہی والا تھا کہ…
سامنے سیڑھیوں کے پاس نایاب اور ایک اجنبی مرد کھڑے دکھائی دیے۔
دونوں نے حیرانی سے دیکھا کیونکہ آج سے پہلے اس آدمی کو اس گھر میں کبھی نہیں دیکھا گیا تھا
ملیحہ نے فوراً دوپٹہ درست کیا۔
زارم نے نرمی سے اس کا ہاتھ چھوڑا اور دروازے سے باہر نکل کر نایاب اور اس شخص کے قریب جا کھڑا ہوا۔
“کون ہے یہ؟”
زارم کی آواز سخت تھی… مگر لہجے میں وہ ضبط چھپا تھا جو آتش فشاں سے پہلے والی خاموشی جیسا ہوتا ہے۔
زرام کو سوال کرنا ضروری تھا۔
ایک تو اس شخص کی نظریں،جن میں بے باکی تھی، بے شرمی تھی، اور بے ادبی کا وہ درجہ کہ زارم کا خون کھول اٹھا۔
وہ کھڑا تو نایاب کے پہلو میں تھا، مگر نگاہیں… ملیحہ پر جمی ہوئی تھیں۔ ایسی نگاہیں جن سے کوئی بھی باحیا مرد تکلیف محسوس کرے۔
زارم کو وہ انداز زہر لگ رہا تھا۔
اور صرف وہی نہیں، اُس لڑکے کا وجود ہی مہمانوں جیسا نہیں تھا۔نہ چال، نہ بات، نہ باڈی لینگویج۔
وہ تو جیسے… بہت پرانا، بہت بے تکلف تھا ۔۔
اور نایاب؟
نایاب کا انداز دیکھ کر زارم کے قدم جیسے زمین سے جُڑ گئے۔
وہ سر تا پا تیار کھڑی تھی۔ شوخ رنگوں کا لباس، نمایاں میک اپ، جیسے ابھی ابھی دلہن بنی ہو یا کسی نئی دلہن کی طرح کسی شو میں شرکت کے لیے جا رہی ہو۔
زارم کے پاس جانے پر بھی نایاب اپنے بھائی کے چہرے نظریں گاڑ ےکھڑی تھی،اور حیرت اور بے حیائی کی بات یہ تھی نایاب نے اُس لڑکے کا ہاتھ نہیں چھوڑا۔جبکہ اس خاندان کے رسم و رواج یہ سخت خلاف۔۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے زرام کی انکھوں میں انکھیں ڈالے کھڑے تھے۔
نہ کسی شرمندگی کا احساس، نہ کسی لحاظ کی پرچھائیں۔ زارم کے سینے پر کسی نے جیسے پتھر رکھ دیا ہو۔
ملیحہ نے اس شخص کی نظروں کو دیکھتے ہوئے جلدی سے دوپٹہ سنبھالا اور قدم پیچھے کھینچ لیے۔
کمرے کی چوکھٹ پر کھڑی، وہ خود بھی سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ آخر نایاب اور اس سامنے کھڑے مرد کا رشتہ کیا ہے کیونکہ اس نے بھی آج سے پہلے اسے کبھی نہیں دیکھا تھا اور نایاب کی بے تکلفی اور وہ حیران تھی اب بے تکلفی کہی جائے یا بے شرمی! یہ فیصلہ کرنا مشکل ۔تھا”
“میں نے پوچھا ہے، یہ کون ہے؟”
“اور یہ تم… اس انداز میں اس کے ساتھ کھڑی ہو؟”
اس کا اشارہ دونوں کے جُڑے ہوئے ہاتھوں کی طرف گیا۔
لفظوں سے زیادہ، اُس کی آنکھیں بول رہی تھیں ! سخت، چبھتی ہوئی، بے اعتباری سے بھری ہوئی۔
نایاب نے بے نیازی سے کندھے اُچکائے، میں تمہاری پابند نہیں ہوں یہ تمہیں بتاؤں کہ میرا اور اس کا رشتہ کیا ہے۔!؟
کچھ دیر کے لیے تو ذرام کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ وہ کیا کہے وہ بہن ہو کر بد لحاظی کی دہلیز پر کھڑی تھی۔وہ ماتھے پر تین انگلیاں رکھتے ہوئے گئے وئے ۔غصہ ضبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔آخر اس کی رگوں میں بھی لغاری خون دوڑ رہا تھا اور اس کا غصہ کس قدر نقصان دہ ہو سکتا تھا اسے خود بھی پتہ تھا۔۔
“دیکھو، مسٹر… ہمارا رشتہ۔”
“شٹ اپ!”
زارم کا ضبط ٹوٹا۔
“شٹ اپ! میں اپنی بہن سے بات کر رہا ہوں… تمہیں کس نے اجازت دی کہ بیچ میں زبان چلاؤ؟”
اس کا رخ اب اُس نوجوان کی طرف تھا، جو آنکھوں ہی آنکھوں میں زرام کو نیچے دکھاتے ہوئے شاید اپنا رشتہ بتانے کی کوشش کر رہا تھا۔
مگر زارم نے اس کے جملے کو درمیان سے کاٹ کر، اُس کے غرور کو وہیں زمین پر دے مارا۔
ایک لمحے کو سناٹا چھا گیا۔
ملیحہ دروازے کی دہلیز پر، سانس روکے کھڑی تھی۔کیونکہ نایاب کا لہجہ اور اس شخص کا کانفیڈنس بتا رہا تھا کہ بات اور رشتہ معمولی نہیں ہے۔
نایاب کا چہرہ تمسخر بھری مسکراہٹ میں لپٹا ہوا تھا، جیسے جان بوجھ کر زرام کو تنگ کرنا چاہتی تھی۔
لیکن زرام کے چہرے پر شدید غصے کی نہر تھی… زرام کی جگہ کوئی بھی بھائی ہوتا تو شاید اس کا رد عمل ایسا ہی ہوتا۔
“تمہارا مسئلہ کیا ہے، زرام؟ کیوں اُس پر چلا رہے ہو؟”
نایاب کا لہجہ تیز تھا۔
“اور تمہیں کس نے حق دیا کہ میرے شوہر پر چلاؤ؟”
“کیا… کیا کہا؟ شوہر؟”
زارم نے بےیقینی سے پوچھا۔
“ہاں، شوہر!”
نایاب نے صاف صاف جواب دیا۔
“آپ کو پتہ بھی ہے کیا بکواس کر رہی ہیں؟ کب اور کیسے جڑا یہ رشتہ؟”
زارم کی آواز غصے سے کانپنے لگی تھی۔
“جب بھی جڑا، تمہیں یہ بتانا میں ضروری نہیں سمجھتی۔ میری زندگی ہے، میری مرضی۔
تم جب چاہو کسی کو پسند کر سکتے ہو، شادی کر سکتے ہو، جب چاہو بیوی کو چھوڑ سکتے ہو، جب چاہو واپس لا سکتے ہو…
تو میں تمہاری پابند نہیں،جو اپنے رشتے کی تفصیل بتاتی پھروں۔”
نایاب کا لہجہ زہر گھولا ہوا تھا۔وہ دروازے پر کھڑی ہوئی ملیحہ کو دیکھ چکی تھی اور اسے ویسے بھی ملیہ کے آنے کی رات سے ہی خبر تھی۔ذرا تو تھوڑی دیر کے لیے جیسے سکتے میں آگیا تھا زبان ساتھ ہی نہیں دے رہی تھی کہ وہ آگے کیا پوچھے۔۔
“خبردار جو آئندہ میرے شوق کے ساتھ بدتمیزی کرنے کی کوشش کی۔تم اپنے کام سے کام رکھا کرو ہماری زندگی میں ٹانگ اڑانے کی ضرورت نہیں۔اور تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے… بابا، شہرام بھائی، اماں سب جانتے ہیں۔
بس تمہیں نہیں بتایا… کیونکہ تم کون سا اپنے فیصلے ہم سے پوچھ کر کرتے ہو؟”
نایاب کا بات کرنے کا انداز ایسے تھا جیسے اس کا اور زرام کا دور دور تک بھی رشتہ نہ تھا۔۔
“مطلب کہ… پورا خاندان ملا ہوا ہے؟”
“اور وہ شیطان، اپنی شر سے باز نہیں آیا۔ اب یہ نیا تماشا شروع کروا دیا…زارم کی آواز سخت ہو چکی تھی۔وہ شہرام کو شیطان اور اس کے کھیل کو شر کہہ رہا تھا۔۔۔؟”
“اچھا! اگر وہ شیطان ہے تو اب تم اپنی بیوی کے بارے میں کیا خیال رکھتے ہو؟ قصور وار تو وہ بھی ہے نا؟
مگر اُسے تو بغیر سوال جواب کیے انعام کی طرح جیت کرتمغہ بنا کر سینے سے لگا کر واپس لے آئے ہو۔
اُسے کیوں آزاد نہیں کرتے؟
وہ بھی تو گھٹیا حرکت کی مرتکب تھی، پھر تمہارے پاس کیوں ہے؟”نایاب نے تیزی سے پلٹ کر کہا،
“خبردار!”
زارم کی آواز تڑپ اٹھی۔
“خبردار اگر ملیحہ کے لیے ایک لفظ بھی نکالا!
تم چاہتی ہو کہ میں تمہارے معاملات میں زبان نہ کھولوں، تو پھر میری زندگی میں بھی دخل نہ دو۔
مجھے تم لوگوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔
تم لوگ میرے لیے مر چکے ہو، اور میں تم لوگوں کے لیے۔
مگر… میری بیوی کے بارے میں ایک لفظ بھی برداشت نہیں کروں گا۔!”
زارم کا سینہ غصے کی شدت سے اوپر نیچے ہو رہا تھا۔اس نے غصے میں زبان روک لی، ورنہ وہ اُس کی زبان ہمیشہ کے لیے بند کر دیتا۔
وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا کہ ملیحہ اور اُس کا معاملہ…
اس سامنے کھڑے اجنبی شخص کے سامنے اچھالا جائے۔
اور پھر…
“نایاب کو یہ سب کیسے پتا چلا؟”
سوال اٹھا… اور جواب بھی خود بخود اُتر آیا۔شہرام…
یقیناً شہرام نے ہی نایاب کو سب بتایا ہوگا۔گھٹیا انسان وہ منہ میں بڑبڑایا۔
کمرے کے دروازے پر کھڑی ملیحہ نے الجھی ہوئی نظروں سے زرام کی طرف دیکھا، وہ اس کے انداز کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
خود میری ذات پر یقین نہیں کرتا، اور کسی اور کو بولنے کی ہمت نہیں دیتا،کتنا عجیب شخص ہے یہ! ملیحہ نے دل میں سوچا۔غصے سے کمرے کے اندر جاتے ہوئے دروازہ دھڑام سے بند کر دیا۔ دروازے کی آواز پر نایاب، زرام اور نایاب کا نیا شوہر،تینوں ایک ساتھ چونک کر اس طرف متوجہ ہوئے۔
“جاؤ، تمہاری بیوی کو تمہاری ضرورت ہے۔ یہاں مردانگی دکھانے سے بہتر ہے کہ جا کر اپنی بیوی پر مردانگی ظاہر کرو، جو تمہارے نکاح میں ہوتے ہوئے بھی منہ مارتی پھر رہی ہے!” نایاب نے طنز سے کہا۔
“نایاب آپی۔۔۔ خبردار!”
“خبردار، جو دوبارہ میری بیوی کے لیے ایک بھی غلط لفظ منہ نکالا۔ میں حلق سے زبان کھینچ لوں گا!”
سب رشتے، سب لحاظ بھول جاؤں گا۔زارام کا ضبط ٹوٹا۔وہ نایاب کا نام لیتے ہوئے زور سے چلایا۔
“ویسے بھی، کون سا تم نے کبھی کوئی رشتہ نبھایا ہے؟ تمہارے منہ سے رشتوں کی بات ہی اچھی نہیں لگتی!” نایاب نے بےزاری سے کہا۔
“Relax man, relax!”
” کیوں اتنا بھڑک رہے ہو؟” نایاب کے نئے شوہر نے طنزیہ انداز میں شہرام کو خاموش کروانے کی کوشش کی تھی مگر بیچارے کی غلط فہمی تھی کہ وہ سامنے کھڑے شخص کو اس طرح خاموش کروانے کی جرات کر سکتا ہے۔
“تم اپنی زبان بند رکھو، ورنہ زمین میں زندہ گاڑ دوں گا، اور ڈھونڈنے والوں کو تمہاری ہڈیاں تک نہیں ملیں گی۔ سمجھے تم؟
اور میں یہ کر سکتا ہوں…
یہ مت بولنا کہ میں کس خاندان سے تعلق رکھتا ہوں۔ شریف ہوں، بے غیرت نہیں۔”
زارم کے لہجے میں ایسی دھمکی تھی کہ ایک لمحے کو نایاب اور اس کے شوہر دونوں کی بولتی بند ہو گئی۔
اسی لمحے قدسیہ تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتی ہوئی نیچے آئی، جیسے اس کے پیچھے کوئی بھوت لگا ہو۔
“کیا تماشہ بنایا ہے تم نے؟ کیوں چلا رہے ہو گھر کے داماد پر؟”
“ماشاءاللہ، ماشاءاللہ ..”
زارم نے طنز سے کہا،
“جب ماں ہی اولاد کو سیدھے راستے پر نہ چلنے دے، تو پھر بچوں سے کیا خاک امید رکھنی ہے۔”
“کیا۔۔۔کیا بکواس کر رہے ہو؟” قدسیہ آگ بگولا ہوئی،
“کیا میں نے تربیت اچھی نہیں کی؟
چلو، اگر اس کی تربیت ٹھیک نہیں کی، تو تمہاری تو اچھی کی تھی؟
پھر تم نے کون سے اچھے گل کھلا دیے ہیں؟”
“جا کر جھونپڑ پٹی سے ایک آوارہ لڑکی کو اُٹھا کر ہمارے سروں پر تھوپ دیا، جو ہمارے گھر میں نوکر بننے کے قابل بھی نہ تھی، اُسے لا کر بہو کا رتبہ دے دیا۔ یہاں تک کہ اُس نے ہم سے بدتمیزی کی…تم نے پھر بھی اسے پلکوں پر بٹھا کر رکھا پھر اس کا مان بڑھتے بڑھتے اتنا بڑھ گیا کہ اس نے تمہارے ہی سر میں خاک ڈال دی۔ اور اب تم مجھے تربیت کے طعنے دے رہے ہو؟مجھ پر تنقید کرنے سے پہلے
تھوڑا اپنے گریبان میں جھانکو،
،اُس گندگی کے بارے میں کیا خیال ہے جس کو ایک بار گھر سے نکال کر پھر سے واپس لے آئے ہو… اس کی تربیت کیسی ہوئی ہے؟ جو گھٹیا حرکت اُس نے کی ہے، اگر تم میں غیرت ہوتی تو اب تک طلاق دے کر اُسے ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی سے نکال چکے ہوتے، مگر نہیں… اُسے دوبارہ لے آئے ہو، اور اب گھر کے ماحول کے ساتھ دماغ بھی تباہ کر رہے ہو۔اپنا بھی اور ہمارا بھی۔”
قدسیہ بولنے پر آئی تو بولتی چلی گئی، اپنے ہی بیٹے کو نیچا دکھا رہی تھی، زہر اُگل رہی تھی۔ ایک بار بھی یہ نہ سوچا کہ وہ اس کا اپنا بیٹا ہے، اور ایک نئے شخص کے لیے وہ اپنے بیٹے کی تذلیل کر رہی ہے۔ مگر اگر خود سے ایسی باتیں سوچنے لگے تو اُسے قدسیہ کون کہے؟
بے حس عورت تھی۔ ہمیشہ صرف اپنا مفاد سوچنے والی، اور اس وقت بھی اُسے صرف نایاب کا ساتھ دینا تھا… کیونکہ وہ کسی عام یا معمولی شخص سے نکاح نہیں کر کے آئی تھی۔
“زرام کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں، جیسے اُن میں خون اُتر آیا ہو۔
اس وقت اگر قدسیہ کی جگہ کوئی اور سامنے ہوتا، تو شاید زرام اُسے گولی مار دیتا۔ مگر بدقسمتی سے اس کے سامنے اس کی اپنی ماں تھی، ماں اپنے بیٹے کے دل کو لہولہان کر رہی تھی۔ زرام کا دل چاہ رہا تھا کہ زمین پھٹے اور وہ اُس میں سما جائے۔
اگر بات صرف اُس کی ذات تک ہوتی تو وہ برداشت کر لیتا، مگر یہاں اُس کی بیوی پر کیچڑ اچھالا جا رہا تھا۔
وہ اس وقت نہ صحیح اور غلط کا فیصلہ نہیں کرنا چاہتا تھا، نہ ہی کر سکتا تھا۔
بس اُس کے لیے یہی کافی تھا کہ اُس کی بیوی کی توہین ہو رہی ہے، اور ملیحہ اب تک اس کے نکاح میں تھی۔مگر ماں اُسے بولنے کا موقع تک نہیں دے رہی۔
وہ مزید اپنی بیوی کی توہین برداشت نہیں کر سکتا تھا۔
اور اُس کی ماں کیا چیز تھی… یہ بات زرام سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا۔
جتنا وہ بات کو سنبھالنے کی کوشش کرتا، اُتنا ہی اُس کی ماں اپنے الفاظ کے تیروں سے اُسے چھلنی کر دیتی اور گھر کی عزت کو برباد کر دیتی۔اس لیے اپنی ماں سے بحث کرنا بے وقوفی کا عمل تھا۔
خاموشی سے، نفی میں سر ہلاتے ہوئے، خود پر ضبط کرتا، تیز قدموں سے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گیا۔
غصے سے دروازہ بند کرتے ہی، وہ آنکھیں بند کیے دروازے کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔
اُس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اس وقت رو پڑے… مگر وہ مرد تھا، ایسا نہیں کر سکتا تھا۔
غم کی شدت اتنی تھی کہ اُس کا وجود کانپ رہا تھا…
اور ملیحہ، جو صوفے کے پاس کھڑی تھی، خاموشی سے اُس کی طرف دیکھ رہی تھی…
کیوں کہ باہر ہونے والی سب باتیں وہ بھی سُن چکی تھی۔
اُس کا وجود بھی تو اس وقت لہولہان تھا۔”
“کیا ہوا؟ ہار مان کر آ گئے؟ مجھ پر تو بہت زور ہے، ماں بہن پر زور نہیں چلا؟”
ملیحہ کی طنزیہ آواز پر زرام نے سرخ آنکھیں کھول کر اُس کی طرف دیکھا۔
“مجھے اس وقت تم سے کوئی بات نہیں کرنی، اپنا منہ بند رکھو… کہیں ایسا نہ ہو کہ میں وہ کر بیٹھوں، جو میں نہیں کرنا چاہتا۔”
یہ کہتے ہوئے وہ صوفے پر بیٹھ گیا اور اپنے بالوں کو سختی سے مٹھیوں میں جکڑ لیا۔
“کیوں؟ کیوں چپ ہو جاؤں؟ یہ خاموشی صرف میرے حصے میں کیوں آتی ہے؟ کیونکہ میں کمزور ہوں؟ اس لیے کہ تمہارا اپنی ماں اور بہن پر زور نہیں چلتا، مگر مجھے ہمیشہ چپ کروا دیا جاتا ہے؟
مجھے تو بدکردار تک کہا جاتا ہے، اور میں خاموشی سے سنتی ہوں،”
ملیحہ کے لہجے میں درد اور شکوہ تھا۔
“تو کیوں بن گئی ہو بدکردار؟ کیوں نہیں بتا دیتی سچائی؟ سچائی بتا دو، تاکہ میں بھی سینہ تان کر تمہارے ساتھ کھڑا ہو سکوں، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سب کو جواب دے سکوں! کیوں تڑپا رہی ہو مجھے؟”
زارم نے ملیحہ کو دونوں بازوؤں سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے انتہائی شدت سے کہا۔
غصے کی شدت اُسے پاگل کر رہی تھی۔
“ہاہ!” ملیحہ طنزیہ انداز میں ہنسی، جیسے کسی اندرونی درد کو چھپاتے ہوئے تمسخر کا لبادہ اوڑھ لیا ہو۔
“واہ زرام، واہ!”
ملیحہ نے بے یقینی سے نفی میں سر ہلایا، آنکھوں میں نمی، آواز میں ٹوٹا ہوا سا طنز گھلا تھا۔
“مجھے سمجھ ہی نہیں آ رہا کہ فخر کروں اس زرام پر، جو سب کے سامنے میری طرفداری کر رہا تھا؟ یا افسوس کروں اس شخص پر، جو اب مجھ سے میرے کردار کی گواہی مانگ رہا ہے؟”
وہ ہنسی… لیکن وہ ہنسی درد سے لبریز تھی۔
“کتنے چہرے ہیں تمہارے؟”
ملیحہ کے آنسو اب ضبط سے باہر تھے۔ آنکھوں سے بہہ کر گالوں پر ٹوٹنے لگے تھے، جیسے دل کی ساری چوٹیں بہہ نکلی ہوں۔
ذرام کا چہرہ اب بھی اس کے چہرے کے قریب تھا۔
سانسیں تیز تھیں۔
وہ اب بھی اس کے کاندھوں کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھا ، جیسے کوئی ٹوٹتے بھروسے کو زبردستی تھامنے کی کوشش کر رہا ہو۔
چاہ کر بھی پلکیں جھپکنے کا موقع نہ تھا۔
اور دل… وہ تو شاید اسی لمحے میں کہیں دفن ہو گیا تھا۔
“مجھے الجھاؤ مت، جو پوچھ رہا ہوں اُس کا سیدھا جواب دو!
کیوں نہیں صاف صاف بات کا جواب دے دیتی ہو؟
یا پھر الجھانا… باتوں کو گھمانا… تمہاری فطرت میں شامل ہو گیا ہے۔؟”
ذرام کے لہجے میں اب جھنجھلاہٹ کے ساتھ بےچینی بھی تھی، آواز تھوڑی بلند ہو گئی تھی۔ وہ ملیحہ کی آنکھوں میں جھانکتا ہوا، جیسے سچ کھینچ لینا چاہتا تھا۔
“میرے ۔۔۔پاس ۔۔۔کوئی جواب نہیں ہے۔۔۔”
ملیحہ کی آواز تھمی ہوئی مگر اندر سے ٹوٹی ہوئی تھی،
“مجھے ایسے رشتے کی کوئی ضرورت نہیں جس میں یقین دلانے کے لیے دلیلیں دینی پڑیں۔۔۔”
وہ کچھ لمحے رکی، اور پھر آنکھوں میں ابھرتی نمی کے ساتھ تلخی سے بولی،
” مبارک ہو تمہیں۔۔۔ تمہاری ساری غلط فہمیاں ، ان کے ساتھ جیو۔۔۔”
ملیحہ نے زرام کے ہاتھوں کو جھٹکتے ہوئے خود کو ایسے دور کیا، جیسے وہ کسی زہریلی شے کو چھو بیٹھی ہو۔ اس کے چہرے پر اب درد سے لبریز ایک سخت فیصلہ جھلک رہا تھا۔
“خدا کی قسم ایک بار تم کہہ دو کہ تم غلط نہیں ہو… میں جو سوچ رہا ہوں وہ غلط ہے… میں سب کچھ ٹھیک کر دوں گا… میں تڑپ رہا ہوں… اللہ کے لیے مجھے بتا دو کہ سچ کیا ہے!”
زرام کی آواز میں ٹوٹتا ہوا غرور، بے بسی کی نمی لیے حلق میں اٹک رہی تھی۔ وہ مسلسل اس کی آنکھوں میں سچ تلاش کر رہا تھا، جن میں اب صرف درد آنسو اور خاموشی تھی… گہری، بوجھل خاموشی۔
کمرے کے اندر ہر چیز جیسے ساکت تھی… باہر بارش برس رہی تھی۔
ملیحہ کی نگاہیں دروازے کی سمت جم چکی تھیں، آنسو آنکھوں کی دہلیز پر آ کر رک گئے تھے۔
“تمہیں سچ سے زیادہ اپنی سوچ پر یقین ہے زرام… اور وہی ہماری کہانی کا انجام ہے،”
بس ایک جملہ… جو کسی فیصلے کی آخری مہر لگا دی گئی ہو۔
“میں بہت تکلیف میں ہوں،کیوں تمہیں میرا درد دکھائی نہیں دے رہا۔۔۔ایک آخری امید لیے پھر اس کے سامنے ان کھڑا ہوا تھا۔
“تڑپ تو میں بھی رہی ہوں۔۔۔۔ مگر اپنے کردار کو ثابت کرنے کے لیے میں کبھی تمہیں کچھ بھی نہیں بتاؤں گی۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔۔”
“چاہے تمہاری ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہمارا گھر ٹوٹ جائے پھر بھی نہیں بتاؤ گی۔!”
زارم نے بے بسی سے کہا۔
“گھر؟”
ملیحہ کی آواز میں حیرانی تھی،
“وہ تو کب کا ٹوٹ چکا زرام… گھر بھی، دل بھی، اور وہ مان بھی… جو تم پر میں نے کیا تھا، اور حد سے زیادہ کیا تھا۔ اب صرف ایک نام کا رشتہ رہ گیا ہے۔اس سے جب ازادی حاصل کر سکتے ہو۔!”
اس نے سپاٹ لہجے میں کہا۔چہرے پر درد ہی درد تھا مگر الفاظ سنجیدہ خاموش درد سے لپٹے ہوئے تھے۔
“ملیحہ، مانتا ہوں… شاید میں جذباتی ہو گیا تھا… اور یہ میری سب سے بڑی غلطی ہے… میں مانتا ہوں ،کہ شاید میری باتوں کی وجہ سے تمہارا دل اور کردار زخمی ہے ۔
اپنی تمام غلطیوں اور کوتاہیوں کے معافی مانگ لوں گا، تمہارے قدموں میں گر جاؤں گا،
بس ایک بار… ایک بار کہہ دو کہ تم ویسی نہیں ہو…
کہہ دو کہ وہ سب جھوٹ تھا…
وہ ثبوت، وہ الزام… سب جھوٹ!
ہمارے رشتے کو ٹوٹنے سے بچا لو،
اللہ کے لیے… مجھے سچ بتا دو۔”
زرام کا لہجہ ٹوٹا ہوا، آواز میں لرزش، آنکھوں میں بےیقینی اور التجا کے آنسو… خاموشی میں بس بارش کی ٹپکتی بوندیں گواہ تھیں اس فریاد کی۔
وہ آہستہ سے پیچھے ہٹی، جیسے وجود کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو سنبھالتے ہوئے سانس لینا بھی بھاری لگ رہا تھا۔
پوری رات تیز بارش ہوتی رہی تھی، جو کچھ وقت کے لیے تھم گئی تھی، مگر شاید آسمان نے پھر سے رو دینا چاہا تھا۔ کھڑکی کے شیشے پر برسنے والی بارش کی بےرحم بوندیں اندر چھائی خاموشی کو چیر رہی تھیں۔ ہر ایک ٹپک، ہر ایک آواز جیسے اس کمرے میں موجود دکھ، بےبسی اور تڑپ کا ترجمہ بن گئی تھی۔ ماحول میں سناٹا نہیں، ایک بےآواز چیخ گونج رہی تھی… جو لفظوں سے نہیں، احساسات سے سنائی دیتی تھی۔
“شاید… شاید ابھی تمہیں لگتا ہے کہ تم سے یہ سب ہوا ہے…
کہ شاید تم سے غلطی ہوئی ہے؟
واہ زرام…
ایک عورت کے پاس سب سے قیمتی چیز اس کا کردار اور اس کی عزتِ نفس ہوتی ہے،
اور تم نے وہ بھی مجھ سے چھین لی…
مجھے صفائی کا موقع تک نہیں دیا ۔ اور اب تمہیں شاید لگتا ہے کہ تم سے غلطی ہو گئی؟”
ملیحہ کے لہجے میں ایک ٹوٹا ہوا طنز تھا۔”تمہارے لیے ایک عورت کی عزت… صرف تمہارے ایک ‘شاید’ پر ٹکی ہوئی ہے؟”
وہ سرد لہجے میں بولی، اس کے دل میں اٹھنے والا طوفان زبان پر آ گیا تھا۔اگر ایسا ہے تو مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس سے بڑی ایک عورت کی توہین نہیں ہو سکتی۔۔
“اور کیا کہہ رہے ہو میں تمہیں معاف کر دوں۔۔۔۔۔کیا تمہاری معافی سب کچھ ٹھیک کر دے گی؟
چلو مان لیا، اگر تمہاری معافی سب کچھ درست کر سکتی تھی…
تو تم وہ معافی تب مانگتے،
جب تم نے مجھ پر الزام لگایا تھا۔
تب میں صفائی دینا چاہتی تھی ،
مگر تم نے موقع تک نہیں دیا۔
بغیر کچھ سنے، بغیر کچھ جانے،
مجھے الزام کے کٹ گہرے میں کھڑا کر دیا۔۔ اور کیا کہا تھا تم نے مجھے اس وقت۔؟
کہ مجھ سے محبت کر کے تم سے غلطی ہو گئی؟
“اور ہاں یہ بھی تو کہا تھا کہ….تم بھول گئے تھے کہ چھوٹے گھروں کی لڑکیاں پیسے کے لیے بِک جاتی ہیں؟
یہی کہا تھا نا زرام؟”یاد ہے یا بھول گئے ہو….؟ملیحہ کی آنکھوں سے آنسوں بہہ رہے تھے اور لفظوں میں وہ درد تھا کہ زرام کا دل پھٹنے لگا۔۔۔
“یاد ہے….سب یاد ہے مجھے… سب!”
“کہہ رہا ہوں، غلطی ہو گئی تھی، پاگل ہو گیا تھا میں… زرام کے لہجے میں شرمندگی بھی تھی اور درد بھی…”
“پلیز بھول جاؤ سب… تم صرف سچ بتا دو،میں تمہاری ہر بات پر یقین کروں گا، اور…”
“ششش!”ملیحہ نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر غصے سے چپ رہنے کو کہا۔”
“چپ ہو جاؤ، زرام!
تمہاری اواز تمہاری دلیلیں سب مجھے زہر لگ رہی ہیں،
اور اگر تم چپ نہ ہوئے نا،
تو میں اپنی جان لے لوں گی!
مجھے تم سے نفرت ہے زرام!
نفرت!
اتنی شدید کہ تمہارے ساتھ ایک کمرے میں سانس لینا بھی میرے لیے اذیت ہے!”
وہ غصے سے بیلکنی کا دروازہ کھولتے ہوئے باہر گئی،
اور دروازہ پوری شدت سے بند کر چکی تھی۔
“کیوں… کیوں کی میں نے تم سے محبت؟”
ملیحہ کی آواز بھیگی فضا میں گونجی، جیسے ٹوٹے دل کی صدائیں ہواؤں میں بکھر گئی تھیں۔
“مگر میں نے تو محبت کی شروعات ہی نہیں کی تھی…”
وہ کپکپاتی آواز میں بڑبڑائی۔
“شروعات تم نے کی تھی… تم نے، اور میں نے بس یقین کیا… اور اسی یقین کی تم نے مجھے اتنی بڑی سزا دی کہ مجھے میری ہی نظروں میں گرا دیا۔”
آنکھوں سے بہتے آنسو اب بارش کے قطروں میں کہیں گم ہو گئے تھے،
“یہی میری سب سے بڑی غلطی تھی…”
غصے سے کانپتی ہوئی وہ فرش پر بیٹھ گئی،
سرد فرش پر، بارش کی بوندیں اسے پوری طرح بھگو چکی تھیں،
وہ اپنا سر اپنی ہی گود میں رکھے، گھٹنوں کے گرد بانہیں لپیٹے،
یوں سمٹ گئی تھی جیسے خود سے بھی چھپنا چاہتی ہو۔
“کتنی پاگل تھی میں…”
اس کی آواز میں ہنسی نہیں تھی، صرف ٹوٹا ہوا یقین تھا۔
“یہ سوچ بیٹھی کہ شاید… شاید غریب گھر کی لڑکیوں کو بھی زندگی بھر کا تحفظ مل سکتا ہے۔”
“اگر خودکشی حرام نہ ہوتی… تو شاید آج میں وہ بھی کر چکی ہوتی…”
ملیحہ کی آواز میں ایسی ٹوٹ پھوٹ تھی، جو لفظوں کے پردے پھاڑتی محسوس ہو رہی تھی۔
بارش میں بھیگتا بدن، سردی سے کانپتی سانسیں، اور آنکھوں میں ایک جلتا ہوا طوفان۔
“میں مر جاتی!”
وہ چیخنے کے انداز میں بڑبڑائی، جیسے کوئی اندر سے چِلّا رہا ہو لیکن آواز دم توڑ گئی ہو۔
“جتنی تذلیل تم نے میری کی ہے… اُس کے بعد تو خود سے بھی نظریں ملانے کے لائق نہیں ہوں۔جب بھی آئینے میں اپنی شکل دیکھتی ہوں مجھے خود سے ہی شرمندگی ہونے لگتی ہے…”
اس کا وجود زمین پر جھک چکا تھا،
سرد فرش پر ٹک ٹک کرتی بارش، کا ہر قطرہ اس کی بے بسی پر تھپڑ مار رہا تھا۔
“میرے پاس… سوائے اپنے باکردار ہونے کے کچھ بھی نہیں تھا…”
آواز رندھ گئی،
سانسیں جیسے گلے میں اٹک گئی ہوں۔
“اور تم نے… تم نے وہ بھی مجھ سے چھین لیا…”
ایک پل کے لیے اس کی آنکھیں ساکت ہو گئیں،
چہرہ بے جان،
دل زندہ مگر چبھن سے چور۔
“کیوں؟ کیوں؟”کیوں کیا تم نے ایسا ؟؟”
وہ خود سے بار بار سوال کرتی رہی..
اس کے “کیوں” میں نہ صرف بے بسی تھی، بلکہ وہ غرور بھی دفن ہو چکا تھا،
جو ایک عزت دار بیٹی اپنے باپ کے گھر سے ساتھ لے کر نکلی تھی۔
اب صرف خاموشی تھی،
سرد ہوا تھی،
اور تیز بارش کے ساتھ ملیحہ کا دکھ، لفظوں سے کہیں زیادہ بول رہا تھا۔
بارش اب اور بھی تیز ہو چکی تھی،
اور ہوا… تو ایسے تھی جیسے ملیحہ کے وجود کو بھی ساتھ اڑا لے جائے گی۔۔۔
کپڑے بدن سے چمٹے ہوئے،
بال چہرے سے لپٹے ہوئے،
اور آنکھیں… انسوں سے لبریز مگر
خاموشی…
صرف بارش کی آواز، اور ایک زخمی دل کی دھڑکن۔دھڑک رہی تھی۔۔۔۔
°°°°°°°°
“اماں! میں اپنے شوہر کی انسلٹ برداشت نہیں کروں گی! آپ اپنے بیٹے کو سمجھا دیں اسے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ میرے شوہر کے ساتھ اس انداز سے بات کرے!”
نایاب نے اپنے کمرے میں آتے ہی تلخ لہجے میں اپنی ماں کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
اس کی آواز میں وہ نئی نویلی دلہن والا ناز بھی تھا اور شوہر کے لیے عجیب سا خمار بھی۔
چہرے پر غصے کی جھلک،اور آنکھوں میں شادی شدہ ہونے کا غرور بھی۔۔
نایاب اپنے نئے نویلے شوہر کی طرفداری کرتے ہوئے اپنی ماں پر بھڑک رہی تھی۔
اس وقت سلمہ شاید سو رہی تھی،
ورنہ یہ سین اُس کے لیے بہت مزے کا، چٹپٹا ہوتا۔
اور دوسری جانب رومی کی وی نائٹ ڈیوٹی تھی،وہ ابھی تک ہاسپٹل سے واپس نہیں آئی تھی۔زرام اور ملیہ اپنے روم میں جا چکے تھے۔۔۔ تو اب نایاب صرف بھڑک کر اپنی ماں کو اور اپنے شوہر کو دکھا رہی تھی۔
“میں سمجھا دوں گی، تم بے فکر ہو جاؤ۔ اپنے غصے کو ٹھنڈا کرو،
اور زرام کی دوبارہ جرات نہیں ہوگی کہ وہ میرے داماد کے ساتھ اس طرح سے بات کرے۔”
قدسیہ نے نرمی اور شفقت بھرے انداز میں کہا،
“ویلکم بیٹا، یہ تمہارا اپنا گھر ہے، آرام سے رہو۔ اور یہ تم لوگوں کا کمرہ ہے، میں نے رات کو ہی ریڈی کروا دیا تھا۔”
نایاب کے کمرے کو قدسیہ نے واقعی چودھویں کا چاند بنا دیا تھا،
اور پوری چاپلوسی کے ساتھ اپنے داماد کی خدمت میں مصروف تھیں۔
داماد صاحب نے کچھ کہا تو نہیں،
مگر نظریں ایسے گھما رہے تھے جیسے پورے کمرے اور کرسیاں ایکس رے مشین سے دیکھ رہے ہوں۔۔۔۔مشکل تھا مگر سامنے کھڑے شخص کے چہرے پر غرور چھلک رہا تھا اسے قدسیہ کی باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔۔
“ٹھیک ہے اماں، آپ جائیں… ہم ادھر آرام کریں گے،
اور ابھی ناشتہ وغیرہ مت بھیجیے، ہم تھوڑی دیر سوئیں گے، بہت تھک گئی ہوں۔”
نایاب نے بڑی ادا سے کہا تھا،
شاید اُسے اپنے شادی شدہ ہونے پر کچھ زیادہ ہی غرور تھا۔
“ہاں ہاں، آرام کرو بالکل۔ اللہ حافظ!”
قدسیہ نے کہتے ہوئے بڑی رازداری کے ساتھ دروازہ بند کیا تھا۔
“ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟”
نایاب نے نخوت سے مسکراتے ہوئے، اپنے شوہر کے سینے پر ہاتھ رکھا،
اور نظریں اس کی آنکھوں میں گاڑ دیں جیسے کوئی چیل شکار کو گھورتی ہے۔
شوہر چچھورے نے فوراً موقع پر کھیلتے ہوئے اس کی کمر میں بازو ڈال دیے۔
“دیکھ رہا ہوں… میری شہزادی جس کمرے میں رہتی تھی، وہ کمرہ بھی اتنا ہی حسین ہے جتنی تم۔”
لہجہ مٹھاس میں لپٹی مکاری سے بھرا ہوا تھا۔
“جان، ڈائلاگ یہ ہونا چاہیے تھا۔
جتنا خوبصورت کمرہ ہے، اس سے زیادہ خوبصورت میں ہوں۔”
“اوہ سوری… کہنا تو وہی تھا،
مگر کیا کروں تمہاری خوبصورت ادائیں دیکھ کر میرا دل جاتا ہے۔۔”
دونوں ایک ساتھ پس پڑے اگر وہ ہنسی خالص نہیں تھی،
نہ اپنائیت،نہ محبت، نہ ہی وفادار ،کچھ بھی نظر نہیں آرہا،
بس ایک کھیل…
جس کو دونوں جیتنا چاہتے تھے۔عباسی کی نظریں اب نایاب کے چہرے سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔
“تم واقعی… خوبصورتی کی آخری حد ہو نایاب۔”
اس کے لہجے میں وہی پرانا چکناہٹ بھرا فریب تھا،
جس میں الفاظ نہیں، نظریں بولتی تھیں۔
نایاب ہنسی۔
ایک ایسی ہنسی جو وہ صرف فائدے کی جگہ پر ہنستی تھی۔
مگر آج اس ہنسی میں کچھ اور بھی تھا ۔
اپنے مقصد تک پہنچنے کی ایک زہریلی سی لذت۔
عباسی نے اس کے کمر پر ہاتھ رکھا۔
وہ حرکت بے باک تھی،
مگر نایاب کے لیے نئی نہیں۔
وہ قدم بہ قدم قریب آیا،
اور اسے آہستہ سے اپنے ساتھ کھینچتا بیڈ کے کنارے تک لے آیا۔
کمرے کی روشنی مدھم ہو چکی تھی۔
نایاب کی پلکیں تھوڑا سا لرزیں،
مگر چہرے پر تاثر وہی رہا ۔ اعتماد، قابو اور گرفت۔
عباسی نے آہستگی سے اس کی پیشانی کے قریب جھک کر سرگوشی کی،
“تم صرف حسین نہیں، ہوشیار بھی ہو… اسی لیے تو دل چاہتا ہے تمہیں مزید پڑھوں، سمجھوں… اور شاید… بے نقاب بھی کروں…”
نایاب نے اس کی آنکھوں میں دیکھا ۔
ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں، جیسے کسی سمجھوتے پر مہریں ثبت کر دی گئی ہوں۔
کمرے کا دروازہ بند تھا۔
باہر سناٹا تھا۔
اور اندر…
دو لوگ تھے،
دو جسم نہیں…
دو ارادے،
جو اپنی اپنی چالوں میں ایک دوسرے کو جیتنے کی کوشش کر رہے تھے۔
وہ بیڈ کی طرف بڑھتے چلے گئے ۔
لبوں پر مسکراہٹیں،
اور اندر دلوں میں مفادوں اور فریبوں کا زہر۔
دروازہ بند تھا، روشنی مدھم، اور فاصلے… خاموشی سے مٹ چکے تھے۔
کمرے کی خاموشی نے وہ سب کچھ سمیٹ لیا، جو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
°°°°°°°°
“کون ہے یہ کیا مقصد ہے اس کا؟زرام نایاب کے شوہر کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
آخر یہ ہمارے گھر کس مقصد سے آیا ہے، ایک بات تو صاف ہے کہ یہ جتنا شاطر اوپر سے دکھائی دے رہا ہے،
اس سے کہیں زیادہ شاطر اندر سے ہے…”
ذرام سوچوں میں گم تھا،
“کیا کروں؟ کیسے اس کا اصل چہرہ سامنے لاؤ؟”
اسی لمحے اسے زیغم کی شدت سے یاد آئی۔
“اگر وہ ہوتا تو… سب کچھ سنبھال لیتا۔”
مگر اب…
یہ شخص، جس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ، شاطر پن، اور کسی بہت بڑے مقصد کی جھلک تھی ۔
جس کے لیے وہ اس گھر میں داخل ہوا تھا ۔
سب کچھ جانتے ہوئے بھی ذرام کچھ کر نہیں پا رہا تھا۔
وہ بہت دیر تک انہی الجھنوں میں الجھتا رہا
سوچوں کے جال میں پھنس کر تھک چکا تھا۔دیر تک سوچتے ہوئے اسے کوئی جواب نہیں مل رہا تھا۔اور ماں اور بہن ایسی تھی جن کے پاس جاکر سوال پوچھنے کا مطلب تھا کہ آہ بیل مجھے مار ۔۔۔۔باپ اور بھائی جنہوں نے کئی مہینوں سے زرام کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا تھا ،کہاں تھے، کیا کر رہے ہیں ذرام اس بارے میں بالکل نہیں جانتا تھا ۔۔
ذرام کو تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ اس کی ماں اور بہن اب تک ان ظالموں کے ساتھ ٹچ میں ہے یہ تو آج اچانک انکشاف ہوا تھا کہ شہرام اور توقیر اس نکاح کے بارے میں سب جانتے ہیں۔ اب یہ سچ تھا یا جھوٹ ذرام اس بارے میں بھی کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔۔۔مگر اپنے خیالات کی دنیا میں الجھتے ہوئے۔
اچانک ایک خیال بجلی کی طرح دماغ میں کوند گیا۔
“بارش ابھی تک نہیں رکی… اور ملیحہ! وہ تو بالکنی میں تھی!”
ذرام تیزی سے قدم بڑھاتے ہوئے بالکنی کے دروازے کی طرف لپکا۔
ٹھک ٹھک ٹھک ٹھک…!
“ملیحہ! با دروازہ کھولو… اندر آؤ، بہت تیز بارش ہے!”
“ملیحہ! تمہیں میری آواز آ رہی ہے؟ دروازہ کھولو، اندر آؤ، میں کوئی تماشا نہیں چاہتا!”
مگر دروازہ نہ کھلنے پر ذرام کو گھبراہٹ ہونے لگی۔
ادھر اُدھر نظریں دوڑائیں،
اور بالآخر دیوار پر لٹکی ہوئی بالکنی کی چابی فوراً اتاری۔
کانپتے ہاتھوں سے چابی تالے میں لگائی،
دروازہ کھولا،
مگر… جیسے ہی نظر باہر پڑی، اس کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔
ملیحہ… بارش میں بھیگی،
بے ترتیب حلیے میں،
بے ہوش… فرش پر بے سدھ پڑی تھی۔
ذرام تیز قدموں سے اس کی جانب بھاگا۔
اس کے چہرے پر نظر پڑتے ہی دل لرز گیا۔
جسم برف کی طرح ٹھنڈا تھا،
ہونٹ نیلے پڑ چکے تھے۔
رات بھر بارش ہوتی رہی تھی،
موسم حد سے زیادہ سرد ہو چکا تھا،ایسے میں پچھلی ایک گھنٹے سے وہ باہر بارش میں بھیگ رہی تھی۔اور تیز ہوائیں بدن میں سنسناہٹ بھر رہی تھیں۔
ذرام چند لمحے باہر کھڑا رہا۔
مگر اس پر جیسے بے بسی سی طاری ہو چکی تھی۔
“وہ تو کب سے باہر بیٹھی تھی… اور اس کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی…”
وہ مزید کچھ سوچے بغیر گھبراہٹ بھرے چہرے کے ساتھ جھکا،
ملیحہ کو اپنی بانہوں میں اٹھایا،
جلدی سے اندر لے آیا۔
بیڈ پر اسے لیٹا کر فوراً بالکنی کا دروازہ بند کیا۔کچھ دیر کیے جلدی سے ہیٹر کو آن کیا ابھی ہیٹر والا موسم تو نہیں تھا۔ مگر بارش کی وجہ سے بن چکا تھا اور ملیحہ کی حالت ایسی تھی کہ اسے فوراً گرماہٹ کی ضرورت تھی۔۔۔
ملیحہ کا پورا وجود بارش سے بھیگا ہوا تھا،
اور وہ مکمل خاموشی میں،ذرام کے آنکھوں کے سامنے تھی ،ایک خاموش اذیت میں ڈوبا وجود۔
“سوری… ایک ڈاکٹر ہونے کے ناطے تمہیں بچانا میرا فرض تھا… اور شوہر ہونے کے ناطے… اس لمحے ہمارا قریب آنا… گناہ نہیں، ذمے داری تھی۔ تمہارے وجود کو… گرماہٹ کی ضرورت ہے ملیحہ۔”
وہ آہستہ آہستہ، جیسے ہر لفظ تول کر بول رہا ہو، سرگوشی میں کہتا گیا۔
الفاظ اس کے لبوں سے پھسلتے رہے… اور وہ… وہ جیسے بے ہوشی اور ہوش کے بیچ معلق تھی۔ آنکھیں بند تھیں، مگر پلکوں میں جنبش باقی تھی۔
وہ اُس وارڈروب کھول چکا تھا… کپڑے نکالتے ہوئے اُس کے چہرے پر ایک سایہ سا گزرا… جیسے کسی بھولے ہوئے درد کی یاد آ گئی ہو۔
“ضد، اکڑ… تم نے خود میں بھر لی ہے ملیحہ… اور اسی ضد میں یہ بھی بھول گئیں کہ یہ ضد… تمہیں خود تم سے دور لے جا سکتی ہے۔”
لباس بدلتے ہوئے اس کے ہاتھ، نرمی سے، اُس کے وجود سے ٹکراتے رہے۔
ہر لمس بے ارادہ تھا، مگر اس میں چھپا دکھ، محبت کی وہ پرانی پرتیں کھول رہا تھا جو وقت کی دھول تلے کہیں دفن تھیں۔
اور شاید اُسی دھول میں کہیں ملیحہ کی لاشعوری نے بھی سر اٹھایا۔
وہ مدھم سی بے ہوشی میں، نرمی سے… لاشعوری طور پر… اُس کے سینے سے آ لگی۔
اُس کے بازو کے گرد اپنے بازو رکھ دیے۔
نہ مکمل ہوش، نہ مکمل بے خبری…
صرف ایک مدہم سی بے وزنی، ایک سادہ سی تسلی۔
زرام کا دل لمحہ بھر کو ٹھٹک گیا۔
وہ تو جس عورت کے لمحوں کا دیوانہ تھا، آج اسے اپنی بانہوں میں پاتا تھا۔
مگر یہ قربت بے اختیار تھی… ناپنے کے قابل نہیں۔
وہ تیز سانس لیتے ہوئے، لحاف کے اندر گیا… اور خود کو اتنا قریب کر لیا کہ اس کی سانسوں کی حدت، اُس کے لرزتے وجود کو زندگی دے سکے۔
اب صرف گرماہٹ تھی… محبت تھی… وہ سب کچھ تھا، جو کبھی دونوں کے بیچ تھا۔
چند لمحے خاموشی میں بھی بہت کچھ کہہ گئے۔
مگر… اچانک ہی، زرام کی ہتھیلی ملیحہ کے پیٹ پر آ رکی۔جہاں ایک ننھی جان سانسیں لے رہی تھی جو دنیا میں آنے سے پہلے ہی نفرت کا سبب بن گئی تھی۔
یہی وہ لمحہ تھا… جب اس نے سب کچھ بھلا دیا۔
خود کو… قربت کو… اور اس محبت کو جو ابھی ابھی، لمحے بھر کو پلٹی تھی۔
وہ پیچھے ہٹ گیا…
نظریں چرا کر، اپنا چہرہ دوسری سمت موڑ لیا۔
اب صرف وہ ڈاکٹر تھا۔
شوہر نہیں۔
محب نہیں۔
ملیحہ اب بھی اُسی کے کاندھے پر سر رکھے تھی، مگر زرام نے اپنے جذبات پر پہرے بٹھا دیے تھے۔
پہروں کے بیچ جو کچھ باقی بچا تھا… وہ ایک ٹوٹا ہوا دل تھا، اور کچھ یادیں… جو شاید کبھی مکمل نہ ہو سکیی۔۔
پتہ نہیں کیوں اس بچے کے لیے ذرام اپنائیت چاہ کر بھی محسوس نہیں کر سکتا تھا مگر اس میں انسانیت زندہ تھی۔اس لیے نہ چاہتے ہوئے بھی ذرام کو اس کی فکر ہو رہی تھی۔۔”
کمرے میں نیم روشنی تھی۔
“تم میری ہو…”
دل کی گہرائیوں سے ابھرتی یہ بے آواز صدائیں اس کے وجود میں طوفان برپا کر رہی تھیں۔
“بہت محبت کرتا ہوں تم سے…”
کتنا کچھ سہہ جانے کے بعد بھی، اس کے دل نے محبت کو تھاما ہوا ہے۔
نہ جانے کیوں… کیوں وہ اس جذبے کو دل سے نکال نہیں پا رہا تھا؟
اور وہ۔ وہ کہ جسے اپنی انا، اپنی ضد، اپنی خوددار۔ میں سب کچھ اس کی محبت سے زیادہ عزیز تھا۔
“کیا اتنا بھی ممکن نہیں تھا… کہ تم میرے تڑپتے دل پر دو لفظوں کی سچائی رکھ کر مرہم رکھ دیتیں؟”
دل کی یہ چیخیں وہ بول نہیں رہا تھا، بس سوچ رہا تھا۔
خاموشی میں ڈوبے اس کمرے میں، وہ شخص تکیے کی اوٹ میں آنکھوں سے نکلتے آنسو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔
قطرہ قطرہ جذب ہو رہا تھا۔
وہ مرد تھا… مگر اس لمحے اس کی ٹوٹ پھوٹ کسی کمزور عورت سے کم نہ تھی۔
کیونکہ محبت میں صرف عورت ہی نہیں، مرد بھی ٹوٹتے ہیں۔
محبت صرف عورت کو نہیں رلاتی… مردوں کی آنکھوں سے بھی خون کے آنسوں بہنے لگتے ہیں۔۔
محبت دوا بھی ہے، شفا بھی ہے…
اور کبھی کبھی… یہ درد کی انتہا بھی بن جاتی ہے۔
اگر راس آ جائے… تو دنیا جنت لگتی ہے۔
ورنہ؟
ورنہ دنیا کا ہر لمحہ عذاب محسوس ہوتا ہے۔
وہ اس کے پہلو میں تھی…
مگر بیچ میں… ننھی سی سانسیں تھیں…
جو ابھی اس دنیا میں آئی بھی نہیں تھیں…
وہی سانسیں… وہی خاموش دھڑکنیں…
اُن دونوں کے بیچ دیوار بن چکی تھیں…
محبت تھی… بے پناہ تھی…
مگر اُس محبت کو انا کی چٹانوں کے پیچھے قید کر رکھا تھا…
نہ وہ جھکنا چاہتی تھی…
نہ وہ ہار ماننے کو تیار تھا…
دل کے ایک کونے میں وہ ہر پل دھڑک رہی تھی…
مگر زبان پر خاموشی کا پہرہ تھا…
یہ محبت…!
جو کبھی راحت تھی…
آج زخم بن چکی تھی…
°°°°°°°°°°
رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا، کہ مائد کا فون مسلسل بج رہا تھا،
مگر وہ آج بھی بہت دیر سے گھر آیا تھا۔
کپڑے بھی نہ بدلے، صرف جوتے اتارے، اور جیسے ہی بستر پر لیٹا، نیند نے اُسے یوں اپنی آغوش میں لے لیا جیسے صدیوں سے تھکا ہو۔دانیا کو تو خود نہیں پتہ چلا کہ وہ کب گھر آیا تھا بہت دیر انتظار کرتے کرتے شاید وہ سو گئی تھی۔
اور اتنی گہری نیند کہ وہ جسم سے بہتا ہوا ہلکا خون بھی محسوس نہ کر سکا جو شاید کسی زخم سے رسنے لگا تھا۔بیڈ شیٹ پر خون کے دھبےلگے ہوئے تھے۔
فون کی بیل بار بار بج رہی تھی۔
اندھیرے کمرے میں وہ آواز ایسی تھی جیسے کسی کا بےقرار سانس لیتا وجود دروازے پر کھڑا ہو۔۔
دانیا نے کروٹ لی، آنکھوں پر ہاتھ پھیرا،اس کی نظر مائد کے چہرے پڑی اور ساتھ ہی مدھم لیمپ کی روشنی میں خون کے دھبوں پر پڑتے ہی اس کا نازک سا دل سہم گیا تھا۔”اللہ خیر کرے اب پتہ نہیں یہ زخم کہاں سے لے کر آئے ہیں وہ بے اختیار سوچنے پر مجبور تھی….مسلسل فون کی بیل اسے اور خوفزدہ کر رہی تھی۔اور مائد ایسے لیٹا تھا جیسے اسے فون کی بیل سنائی ہی نہ دے رہی ہو۔
“آپ کا فون بج رہا ہے… سنیں… آپ کا فون۔”وہ سہمے سے لہجے میں مائد کو اواز دے کر جگانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
دوسرے ہی لمحے مائد کی آنکھیں کھلیں!
نیند سے سرخ، بوجھل اور الجھی ہوئی آنکھیں،
جن میں لمحہ بھر کو پہچان کی رمق بھی دکھائی نہ دی۔
جھٹکے سے اُس نے دانیا کا ہاتھ اس طرح پکڑ لیا جیسے کوئی اجنبی ہو،
کوئی خطرہ ہو ۔
دانیا کی تو سانسیں ہی رک گئیں۔
وہ ساکت سانس روکے بیٹھی تھی،
ایک طرف مائد کی گرفت کا بےرحم دباؤ تھا،
اور دوسری طرف اُس کی وہ سرخ آنکھیں جو لیمپ کی مدھم زرد روشنی میں یوں لگ رہی تھیں جیسے کسی اور دنیا سے جھانک رہی ہوں۔
“کک… کیا… کیا ہوا ہے؟”
دانیا کی زبان لرز رہی تھی۔
“میں تو آپ کو فون کے لیے جگا رہی تھی…”
اُس کی کٹی، دبی آواز مائد کے دل تک جا پہنچی۔
مائد نے ایک طویل، گہری سانس لی
ایسی سانس جو سینے میں دبی ہو اور جس سے باہر نکالنے کے لیے بہت محنت کی گئی تھی۔۔،
کئی گھنٹوں کی الجھن اور تھکن سے بھری ہوئی۔وہ کچھ نہیں بولا خاموش تھا جیسے اجنبی،
اگلے لمحے وہ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھ گیا،
چادر ایک طرف گری،
چہرے پر اب بھی نیند اور اضطراب کا ملا جلا عکس تھا۔
فون اٹھایا،
سکرین دیکھی، اور اگلے ہی لمحے فون کان سے لگایا۔
“زیغم ٹھیک ہے؟”
فون اٹھاتے ہی اس کا پہلا سوال یہی تھا ،
الفاظ تیز تھے،
آواز میں گھبراہٹ چھپی تھی،
جیسے وہ جان چکا ہو کہ کچھ ٹھیک نہیں ہے۔
مگر فون کی دوسری جانب شاید کوئی ایسی خبر دی گئی تھی جو خوشی کا باعث بھی تھی اور غم کا بھی۔
دانیا نے دیکھا، مائد کی آنکھوں میں پہلے ایک دم سے چمک سی آئی، جیسے کوئی دیرینہ انتظار مکمل ہوا ہو۔
پھر… جیسے پلک جھپکنے سے پہلے، اُس کا چہرہ زرد پڑ گیا۔
اب چہرے پر صرف اضطراب تھا، حیرانی تھی،
یا شاید کوئی ایسی کشمکش، جس میں دل کچھ اور چاہ رہا ہو اور حقیقت کچھ اور سنا رہی ہو۔
دانیا کو اندازہ نہ ہو سکا کہ فون پر کیا کہا جا رہا ہے،
مگر مائد کے بدلتے ہوئے تاثرات…
وہ سب کچھ کہہ رہے تھے جو الفاظ بھی شاید ادا نہ کر پاتے۔
“ٹھیک ہے، ٹھیک ہے… میں ابھی پہنچ رہا ہوں۔”
مائد نے گھبراہٹ میں کہا،
چادر کو ایک طرف جھٹکا،
تیزی سے نیچے اترا، اور سیدھا شوز ریک کی جانب بڑھا۔
فون اب بھی کان سے لگا ہوا تھا،
اور وہ مسلسل “ہوں ہوں… ٹھیک ہے……” کہتا جا رہا تھا۔
الفاظ جیسے بس سانسوں میں لپٹے جا رہے ہوں۔
“ٹھیک ہے، ٹھیک ہے… ڈاکٹر کو کھولو اس کا خیال رکھنا، وہ ایک سیکنڈ کے لیے بھی سائیڈ پر نہ ہو،
میں بس پہنچ رہا ہوں… ٹھیک ہے؟”
کہتے کہتے اُس نے فون بند کیا،
پھر جلدی سے والٹ، گاڑی کی چابی، موبائل سب سمیٹا ،
اور دروازے کی جانب لپکا۔وہ دانیا کو پتہ نہیں گھبراہٹ میں نظر انداز کر رہا تھا یا پھر اس کے پاس الفاظ نہیں تھے دانیا کو سمجھانے کے لیے وہ اسے کچھ بتائے بغیر جا رہا تھا۔۔۔
تب ہی دانیا اُس کے سامنے آ گئی۔
چہرے پر گھبراہٹ تھی، مگر قدم روکنے کی جرات جیسے ہمت کے کنارے پر کھڑی ہو۔
” ہوا کیا ہے؟ کہاں جا رہے ہیں آپ؟”
مائد کے قدم ایک پل کو تھمے،
مگر آنکھوں میں وقت نہیں تھا،
صرف بےچینی اور جلدی تھی۔
اس کی سانسیں تیز تھیں،
دل جیسے کسی اور جگہ اٹکا ہوا تھا۔
“پلیز… اس وقت مجھے جانے دو دانیا۔
میں کچھ نہیں بتا سکتا… بس اللہ تعالیٰ سے دعا کرو… بہت سی دعا… کہ میں خوشخبری کے ساتھ واپس لوٹوں۔”
مائد کی آواز میں وہ لرزش تھی جو صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جس کا دل خوف اور امید کے بیچ لٹکا ہو۔
دانیا نے لرزتی آواز میں پوچھا،
“بس اتنا بتا دیں… زیغم بھائی کے پاس جا رہے ہیں؟
وہ ٹھیک نہیں ہیں نا؟”
اور یہ پوچھتے ہوئے اُس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر بہہ نکلے… جیسے دل کی کوئی گرہ کھل گئی ہو۔
مائد نے ایک لمحے کے لیے نگاہیں جھکائیں،
پھر اُسے اپنے مضبوط بازوؤں کے حصار میں لے کر آہستگی سے بولا،
“جانا… یہ وقت کمزور پڑنے کا نہیں ہے،یہ وقت صبر کا ہے اللہ سے دعا کا ہے ۔”
“بھائی کو کچھ مت ہونے دیجیے گا … ساری زندگی آپ کی احسان مند رہوں گی۔آپ نے جو کچھ زیغم بھائی کے لیے کیا… میں کبھی نہیں بھولوں گی۔
بدلے میں… میری پوری زندگی آپ کے نام…میں آپ کی خدمت گزار رہوں گی…
آپ کی احسان مند… ہمیشہ…”دانیا نے روتے ہوئے اس کے سینے سے سر ٹکایا ہوا تھا۔۔۔
مائد نے اس کے آنسوؤں کو اپنی ہتھیلی سے تھامتے ہوئے نرمی سے اس کے مرجھائے ہوئے چہرے کو دیکھا۔۔
“جانا… تم میری محبت ہو، خدمت کے لیے نہیں لایا تمہیں۔
اور وہ… وہ میرا یار ہے… میری جان… میرا جہان۔اس پر اگر میں اپنی جان بھی وار دوں تو کم ہوگی جو کچھ میں نے اس کے لیے کیا وہ کوئی احسان نہیں تھا ۔میرا اپنا مفاد ہے،کیونکہ میں اس کے بغیر ادھورا ہوں۔۔۔۔۔کا خیال رکھنے کے لیے جو کچھ میں نے کیا اس کے لیے تمہیں شکر گزار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
“ہم دونوں کا رشتہ کہیں بعد میں جا کر جڑا ہے…
اس کا رشتہ مجھ سے بہت پہلے سے ہے۔بچپن سے جوانی کا سفر ہم نے ایک ساتھ گزارا ہے۔۔
جس دن وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو گا…
اس دن میں خود کو زندہ محسوس کروں گا۔
ابھی وہ بیڈ پر لیٹا ہے،مشینوں میں جکڑا ہوا…مگر تم جانتی ہو۔؟ حقیقت میں مردہ میں ہوں…میرا دل میرا جسم دیکھنے والوں کے لیے زندہ ہے مگر اصل میں میں خود کو مرا ہوا محسوس کرتا ہوں۔۔مجھے لگتا ہے پوری دنیا اجنبی ہے میرے لیے۔۔کہیں کوئی رنگ کوئی خوشی نظر ہی نہیں آتی۔۔
“تم بس اتنا سمجھ لو کہ …
تمہارا بھائی… اور تمہارا شوہر…
دو جسم، ایک جان۔
اور جب میری وہ جان ہوش میں آئے گا۔۔۔تب میرے اندر زندگی کی روشنی لوٹے گی۔رونا نہیں ہے یہ وقت رونے کا نہیں ہے ۔جائے نماز بچھا لو…
اور جھک جاؤ رب کے سامنے۔
آج کی رات ہم پر بہت بھاری ہے…
یہ رات… ہماری پوری زندگی کی خوشیوں کا پیغام بھی لا سکتی ہے…
اور اندھیروں میں بھی ڈبو سکتی ہے۔
قسمت میں کیا لکھا ہے، میں نہیں جانتا…
مگر دعا… صرف دعا…
رب کے حضور… شاید اس کی رحمت کو ہم پر رحم آ جائے…
اور ہماری آزمائشیں ختم ہو جائیں۔”
یہ کہتے ہوئے اُس نے نرمی سے اس کے ماتھے پر لب رکھے،
اس کے گال کو ہولے سے تھپتھپایا،
اور دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
دروازہ کھولتے ہوئے ایک پل کو رکا،
پیچھے مڑے بغیر بس اتنا کہا۔۔
“گھر میں ابھی کسی کو بھی کچھ مت بتانا… میرے واپس آنے تک کا انتظار کرنا ۔”
“جی… کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی…”
دانیا نے حلق میں اٹکے آنسوؤں کو ضبط کرتے ہوئے بامشکل کہا۔اس کی آنسوؤں میں روندی ہوئی آواز پر ایک بار پھر سے مائد کے قدم رک گئے تھے۔وہ پلٹ کر ایک بار پھر اس کے قریب ہوا۔۔
“جانا… کہا ہے نا کہ رونا نہیں…
دعا کرنی ہے۔
وہ شیر ہے…انشاءاللہ کچھ نہیں ہوگا اس سے ،چھ مہینوں سے اس حالت سے لڑ رہا ہے،
جس میں لوگ ایک دن بھی نہیں جیتے۔
تو میرا رب، ان شاء اللہ، اُسے زندگی دے گا…
ہمیں اللہ کی ذات پر یقین رکھنا ہے۔”
“ان شاء اللہ… بھائی ضرور ٹھیک ہوں گے…میری دعائیں ہیں ان کے ساتھ، آپ کے ساتھ…خیریت سے جائیں…اور خوشخبری لے کر آئیں۔
جیسے ہی کوئی اچھی خبر ہو… مجھے فوراً فون کیجیے گا…
مجھے نیند نہیں آئے گی۔”
“جیسے ہی وہ ٹھیک ہو گا…
کوئی بھی اچھی خبر ہو گی…
فوراً تمہیں فون کروں گا۔
مگر… آنسو مت بہانا…
تمہاری آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسو…
مجھے بھی بہت تکلیف دیتے ہیں…اور میرے علاوہ اسے بھی…بہت تکلیف دیں گے،جو زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے۔”
یہ کہتے ہوئے، ایک بار پھر ماتھے پر لب رکھے،
پلٹا… اور تیزی سے باہر نکل گیا۔
جبکہ دانیا… دروازہ بند کرتے ہی سجدے کے لیے تیار ہو چکی تھی۔
اس نے وضو کیا…
دو رکعت نفل ادا کیے…
اور رب کے حضور ہاتھ بلند کر دیے۔
آج کی رات… سجدے کی رات تھی۔
آزمائش کی رات تھی۔
اور شاید… قبولیت کی رات بھی۔
کہتے ہیں… دعائیں تقدیریں بدل دیتی ہیں،
اور آج… دانیا اسی یقین کو تھامے…
اپنے رب کے حضور جھکی ہوئی تھی۔
اُس کے ہونٹ ساکت تھے،
مگر دل چیخ چیخ کر پکار رہا تھا…
رب سے اپنے بھائی کی زندگی مانگ رہا تھا۔
اُس نے ہاتھ بلند کیے تھے ،
وہی ہاتھ جن سے کبھی بچپن میں زیغم کا ہاتھ تھاما تھا،
آج ان ہاتھوں پر آنسو گر رہے تھے…ٹب ٹب کر کے، خاموشی سے…
جیسے دل سے ٹوٹ کر گرتی ہوئی سسکیاں ہوں۔آنکھیں بند تھیں،
الفاظ ہونٹوں پر نہ تھے،
بس دل کی گہرائیوں سے نکلتی ہوئی ایک خاموش فریاد تھی،جس کی آواز صرف رب سن سکتا تھا۔
وقت تہجد کا ہو چلا تھا،
کائنات پر سکوت چھایا تھا،
ہر طرف خاموشی تھی…
سوائے اس دل کے جو رب کو پکار رہا تھا۔کمرے میں بس مدھم سی روشنی تھی،
ہوا تھمی ہوئی تھی،
مگر دانیا کے دل میں ایک طوفان برپا تھا۔
وہ سجدے میں گئی…
پیشانی زمین سے لگائی…
اور لرزتی آواز میں کہا،
“یا رب… میرے بھائی کو زندگی دے دے…
اسے شفا دے دے…
میری دعاؤں کو رد نہ کرنا…
تو ہی تو ہے… جو ناممکن کو ممکن بناتا ہے…
بس رحم کر دے… ہمارے حال پر…”
وقت تھم گیا تھا،
آنسو زمین پر گر رہے تھے،
اور آسمان شاید وہ منظر دیکھ کر خاموشی سے جھکنے لگا تھا…
یہ وہ رات تھی جس میں صرف ایک فریاد کی گونج تھی،
اور وہ فریاد… تقدیر کو چیلنج کر رہی تھی۔
°°°°°°°°