Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:56
راز وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
ایپیسوڈ نمبر : 56
°°°°°°°°
“بھائی، آپ ابھی مت جائیں… آپ کی صحت ابھی ٹھیک نہیں ہے۔ ابھی تو میں نے جی بھر کے آپ کو دیکھا بھی نہیں۔”
دانیا کی آواز میں التجا اور آنکھوں میں نمی تھی، وہ زیغم کو مائد کے ساتھ جاتا دیکھ رہی تھی جلدی سے اس کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔ کمرے میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی، جیسے سانس روک کر اس جواب کا انتظار کر رہے ہوں۔
“دانیا بیٹا، مجھے جانے دو…” زیغم نے گہری سانس لی، اس کے لہجے میں نہ سختی تھی نہ نرمی، بس ایک سپاٹ سنجیدگی۔ “جب تک میں مہرو کو ڈھونڈ نہ لوں، جب تک مجرموں کو ذلت بھری موت نہ دے دوں، تب تک میں سکون سے نہیں بیٹھ سکتا۔”
وہ ایک پل کو رکا، نظریں زمین پر گاڑ دیں، پھر آہستہ سے بولا، “اب یہ سکون کبھی میسر ہو گا یا نہیں… یہ تو میرے رب کی ذات جانتی ہے۔”
اس کے الفاظ جیسے دیواروں سے ٹکرا کر واپس آئے، کمرے کی فضا مزید بوجھل ہو گئی۔
“آپ کیوں نہیں بھائی کو سمجھا رہے؟”
دانیا نے مائد کی طرف مڑتے ہوئے کہا، اس کی آواز میں بےچینی اور آنکھوں میں نمی تھی۔ “ان کی صحت دیکھیں… ابھی یہ بہت کمزور ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زندگی دوبارہ بخشی ہے۔”دانیہ اپنے بھائی کے لیے بہت فکرمند ہو رہی تھی۔
مائد نے ایک لمحے کو اس کی طرف دیکھا، پھر ہلکی سی تلخی بھری مسکراہٹ لبوں پر آئی۔ “اچھی طرح جانتی ہو تم… جب اس کے دماغ میں کوئی بات سوار ہو جائے، تو آج سے پہلے کبھی اس نے کسی کی سنی ہے جو اب سنے گا؟”
اس کا لہجہ بوجھل مگر حقیقت سے بھرا ہوا تھا۔ “اور میں تو پہلے ہی گنہگاروں کی لسٹ میں شامل ہوں… میں کچھ نہیں کہوں گا۔ جہاں کہے گا، میں اس کے ساتھ جاؤں گا۔”
مائد کی نظریں ایک پل کو زیغم پر جا ٹکیں۔ “یہ مجھے اپنے ساتھ لے جا رہا ہے… یہی اس کی سب سے بڑی مہربانی ہے۔”
ہوا میں ایک خاموش سا بوجھ پھیل گیا، جیسے دانیا سمیت جانتے ہوں کہ یہ فیصلہ بدلنے والا نہیں۔
“کبھی انسان اپنا ظرف ایسے لوگوں پر لٹا دیتا ہے جو ظرف کا مفہوم تک نہیں جانتے… اور یہی ہماری سب سے بڑی غلطی بن جاتی ہے۔”
زیغم کی آواز میں کڑواہٹ کے ساتھ تھکن بھی گھل گئی تھی۔ اس نے نظریں نیچی کرتے ہوئے جیسے اپنے ہی دل کا بوجھ لفظوں میں انڈیل دیا۔
“مجھ سے بھی یہی غلطی ہو گئی… میں نے ایسے لوگوں کو معاف کیا جو کبھی معافی کے لائق ہی نہیں تھے۔ اور میری اس معافی، اس ظرف کی سزا… میری مہرو کو ملی۔ اس کی کوئی غلطی نہیں تھی، وہ معصوم تھی، دنیا داری سے دور تھی۔”
وہ لمحہ بھر کو رکا، سانس گہری ہوئی، اور اس کی آنکھوں میں ایک عکس ابھرا،یادوں اور پچھتاوے کا عکس۔مہرو کا معصوم چہرہ اس کی نظروں کے سامنے آرہا تھا۔
” پلیز تھوڑی دیر کے لیے بہن بن کر نہیں… ایک عورت بن کر سوچو۔ جو پچھلے چھ مہینوں سے گھر سے دور ہو، کس حال میں ہو، اور ہر پل یہ سوچ رہی ہو کہ کب اس کا محافظ اس تک پہنچے گا، کب وہ اسے لینے آئے گا۔”
اس کا لہجہ بوجھل مگر کاٹ دار تھا۔ “دانیا… میرے خیال سے یہ بات تم سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا کہ جب عورت تکلیف میں ہوتی ہے تو وہ اپنے سب سے قریبی محرم کا ساتھ مانگتی ہے۔ اور تمہیں یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں ہے میرے خیال سے… کہ مہرو کا اس دنیا میں صرف ایک ہی محرم ہے،زیغم سلطان۔”
زیغم نے آہستہ سے سر اٹھایا، آنکھوں میں ایک غیر متزلزل عزم تھا۔ “مجھے جانے دو… بہن بن کر میرے پیروں میں زنجیر مت ڈالو۔ مجھے دعا دو… کہ تمہارے بھائی کو وہ پرواز نصیب ہو، جس میں جیت ہو۔”
کمرے کی فضا میں اس کے الفاظ دیر تک گونجتے رہے، جیسے ہوا بھی رک گئی ہو۔
“ٹھیک ہے بھائی… اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے مقصد میں کامیاب کرے۔ میری دعا ہے کہ میرے بھائی کو خوشیاں نصیب ہوں، میری دعا ہے کہ مہرو بالکل ٹھیک ہو، اور آپ لوگ جلد اور صحیح سلامت واپس آئیں۔”
دانیا کی آواز میں نرمی اور آنکھوں میں نمی تھی۔ “بس بھائی… اپنا بہت سخت خیال رکھیے گا۔ ابھی تو مجھے آپ سے بہت سی باتیں کرنی تھیں، مگر میں آپ کو روکوں گی نہیں۔ آپ جائیں… اور میری بھابی کو جلدی سے لے کر آئیں۔”
وہ لمحہ بھر کو رکی، جیسے دل کے بوجھ کو ضبط کر رہی ہو۔ دانیا نے پوری بات سمجھتے ہوئے زیغم کو خوش دلی سے جانے کی اجازت دی تھی، مگر دل کے اندر خوف کی ایک لہر اب بھی موجود تھی۔ زندگی میں اتنا کچھ دیکھنے کے بعد… اب اور کچھ دیکھنے کی ہمت نہیں بچی تھی۔
لیکن اس نے زیغم کو روکا نہیں، کیونکہ اسے وہ دن یاد تھا جب شہرام اس کے ساتھ جانور جیسا سلوک کرتا تھا، اور وہ ہر گھڑی اپنے بھائی کے آنے کی دعائیں کرتی تھی۔ اس لمحے وہ خود کو کتنا بے بس محسوس کرتی تھی… یہ احساس اب مہر النساء کے لیے اس کے دل میں اتر آیا تھا۔ اس نے سوچا۔جس تڑپ اور امید نے مجھے زندہ رکھا، “اسی امید نے مہرو کے لیے زیغم کو جانے سے نہیں روکا۔”
“نہیں بابا، میں آپ کو نہیں جانے دوں گی۔ آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ بہت سی باتیں کریں گے، اور اب آپ نے مائد انکل کے ساتھ باتیں کر لی ہیں۔ میں آپ کو نہیں جانے دوں گی۔”
ارمیزہ کمرے سے باہر نکلی اور چھوٹے چھوٹے قدموں سے بھاگتی ہوئی اپنے بابا سے لپٹ گئی۔ اس کے لیے پوری دنیا زیغم سلطان تھا۔
زیغم نے اسے گود میں اٹھا لیا۔ اس کا چہرہ اپنی بیٹی کے چہرے کے سامنے لاتے ہوئے نرمی سے دیکھا۔ آنکھوں میں وہی شفقت تھی جو صرف ایک باپ کی بیٹی کے لیے ہوتی ہے، ایسی محبت جسے دنیا کا کوئی خزانہ نہیں خرید سکتا۔
“بیٹا، بابا ایک ضروری مشن پر جا رہا ہے۔ آپ نے بہت سی دعائیں کرنی ہیں کہ بابا جیت کر واپس آئے۔ اس کے بعد ہمیشہ اپنی پیاری بیٹی کے پاس رہوں گا، بہت سی باتیں کروں گا، گھمانے لے جاؤں گا، اور جو حکم میری شہزادی دے گی وہ پورا کروں گا۔ مگر ابھی آپ نے بابا کو نہیں روکنا، کیونکہ اگر بابا نہ گیا تو مہرو ماما کبھی واپس نہیں آئیں گی۔ کیا آپ چاہتی ہیں کہ مہرو ماما نہ آئیں؟”
ارمیزہ نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
“نہیں، مجھے مہرو ماما چاہیے۔ میں ان کو بہت یاد کرتی ہوں۔ آپ جائیں اور ماما کو لے کر آئیں۔ میں دعا کروں گی کہ آپ جلد واپس آئیں۔”
“پکا وعدہ، میں جلد اپنی بیٹی کے پاس آؤں گا۔ بس ابھی مجھے جانے دو۔”
“ٹھیک ہے۔” ارمیزہ نے بابا کے گال پر پیار کیا اور خوشی سے اجازت دے دی۔
“شاباش۔ تمہاری اور دانیا پھوپھو کی دعاؤں کی مجھے بہت ضرورت ہے۔”
زیغم نے دونوں کو گلے لگا لیا۔ لمحہ جذبات سے بھرا ہوا تھا۔ یہ منظر دیکھ کر مائد، آغا جان اور مورے کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔
“اللہ حافظ۔” زیغم نے ارمیزہ کو نیچے اتارا اور آگے بڑھ کر آغا جان اور مورے سے دعائیں لیں۔ وہ دونوں خاموش کھڑے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
“اللہ تعالیٰ تم دونوں کو کامیاب کر کے واپس لائے۔ دشمنوں پر ایسا قہر بن کر ٹوٹنا کہ وہ دوبارہ سر نہ اٹھا سکیں۔” آغا جان نے دعا دی۔
مورے کی آنکھیں نم تھیں، دل میں دھڑکا اور اپنے بیٹوں کو کھو دینے کا خوف تھا۔
“مورے،میری پیاری مورے…” مائد نے آگے بڑھ کر انہیں گلے لگا لیا۔ مورے کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
“میں پہلے ہی ایک بیٹے کو کھو چکی ہوں، اب مزید ہمت نہیں ہے۔ تم دونوں میرے بیٹے ہو… اللہ کا واسطہ ہے، میری جھولی کو خالی مت کرنا۔”
مورے کے ہاتھ کانپ رہے تھے، وہ ہاتھ جوڑ کر کھڑی تھی۔ “مہرو کے لیے میں بھی دعا کرتی ہوں کہ وہ گھر واپس آ جائے، مگر تم لوگوں کی جان سے بڑھ کر میرے لیے کچھ نہیں۔ میں خود غرض ہو گئی ہوں،تم لوگ یہ سوچو گے…”مورے کی درد بھری آواز میں مائد اور زیغم کے لیے محبت چھلک رہی تھی۔۔
“نہیں، مورے… ہم ایسا کبھی نہیں سوچ سکتے۔ آپ ہماری ماں ہیں۔ ہمارے لیے فکر کرنا، فکر مند رہنا،،یہ آپ کا حق ہے اور ہمیں اچھا لگتا ہے۔”
زیغم نے آگے بڑھ کر مورے کے ہاتھوں کو اپنے لبوں سے لگایا اور پیار سے چوم لیا۔
” ممتا ہمیشہ خود غرض ہوتی ہے، کیونکہ ماں کو اپنے بچے کی فکر ہوتی ہے۔ کبھی کبھی وہ جذبات میں آکر ایسی باتیں کہہ دیتی ہے جو سننے میں سخت لگتی ہیں، مگر اصل میں وہ ماں کی محبت اور فکر ہوتی ہے۔”
زیغم نے پھر ان کے ہاتھ چومے تو مورے نے مسکرا کر اس کا ماتھا چوم لیا۔
“سچ کہہ رہے ہو، ہر ماں خود غرض ہوتی ہے۔ میں بھی تم دونوں کے لیے خود غرض ہوں… بہت فکر ہے مجھے۔ دشمنی میں ایک بیٹا کھو چکی ہوں، مجھ میں اب اور ہمت نہیں ہے۔”
“بے فکر ہو جائیں، اس بار آپ کے بیٹے کٹ کر نہیں… کاٹ کر آئیں گے۔ درخزئی معصوم تھا، اس لیے دشمن غالب آگئے۔ اب کی بار دشمنوں کا سامنا شیروں سے ہے،آپ کے بیٹے شیر ہیں، شیر کی طرح لڑیں گے۔ دشمنوں کی وہ حالت کریں گے کہ دوبارہ کوئی بھی مائد خان دورانی اور زیغم سلطان لغاری کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے کی جرات نہ کرے۔ اور لوگ جان جائیں گے کہ ہم دونوں ایک ہیں۔دو جسم، ایک جان۔ ہمیں صرف آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے، ماں کی دعا اولاد کو مشکل سے مشکل وقت میں بھی جیت دلاتی ہے۔”
“میری دعائیں ہمیشہ تم دونوں کے ساتھ ہیں۔”
“تو بس پھر بے فکر ہو جائیں۔ ہار کر نہیں… جیت کر لوٹیں گے۔”
مورے کی آنکھوں میں پرانی یادوں کی جھلک اتر آئی۔ “تم جانتے ہو پہلے بھی دشمنوں نے تمہارے ساتھ کیا کیا ہے… میں کیسے بھول جاؤں۔”
زیغم کی نظر سخت ہو گئی۔ “مورے، اس وقت دشمن غالب آئے کیونکہ میں نے انہیں معاف کر دیا تھا۔ میں جانتا تھا کہ ان کے دل میں کھوٹ ہے، مگر پھر بھی مجھے یقین تھا کہ ان میں خوفِ خدا ہوگا۔ مگر اب یقین آ گیا ہے کہ وہ شیطان ہیں… جو گمراہی کے راستے پر نکل چکے ہیں۔”
“بے شک، اللہ گمراہی پر چلنے والوں کی رسیاں دراز کر دیتا ہے۔ وہ ان کو ہدایت نہیں دیتا جو خود اللہ سے ہدایت نہیں مانگتے۔ ایسے لوگوں کی آخرت عذاب اور ذلت سے بھری ہوتی ہے… اور دنیا میں بھی ان کا حصہ صرف رسوائی ہوتی ہے۔”
“ڈریں مت… آپ لوگ جانتے ہیں، زیغم نے زندگی میں بہت کچھ برداشت کر لیا ہے۔ اب میرے ساتھ کچھ غلط نہیں ہو سکتا۔ جو ہونا تھا، ہو چکا۔ اللہ کی ذات جانتی ہے کہ میں نے کسی کے ساتھ غلط نہیں کیا۔میرا یقین ہے میرا رب میرے ساتھ غلط نہیں ہونے دے گا۔
مجھے جانے دیں، میرے پاس وقت بہت کم ہے۔ اس وقت صرف دعاؤں کی ضرورت ہے۔”
وہ یہ کہتا ہوا سب پر ایک گہری نظر ڈالتا ہوا تیز قدموں سے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ مائد بھی اس کے پیچھے پیچھے چل پڑتا ہے۔
سب کی دعائیں ان دونوں کے ساتھ تھیں۔ زیغم اور مائد دروازے سے باہر نکلے۔
زیغم اندر سے بہت کمزور محسوس کر رہا تھا۔ بات کرتے ہوئے سانس پھولنے لگتی، الفاظ ٹوٹ ٹوٹ کر نکلتے۔ چھ مہینے کا عرصہ وہ بے ہوشی میں گزار چکا تھا، مگر اس وقت اس کے لیے صرف ایک چیز اہم تھی،مہرو تک پہنچنا، کسی بھی طرح۔
چلتے ہوئے دو تین بار قدم لڑکھڑائے، مگر ہر بار مائد نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا… جیسے کہہ رہا ہو، “گرنے نہیں دوں گا۔”
بڑی سی کالی گاڑی گیٹ کے سامنے تیار کھڑی تھی۔ دونوں اس میں بیٹھے تو ساتھ ہی دو حفاظتی گاڑیاں ان کے آگے اور پیچھے آ کر رک گئیں۔ اگلے ہی لمحے، قافلہ گھر کے صحن سے نکل کر سڑک پر بڑھ گیا۔
یہ سفر محض منزل تک پہنچنے کا نہیں تھا… یہ ایک فیصلہ کن جنگ کی طرف بڑھتے قدم تھے، جہاں یا تو جیت مقدر بنتی، یا سب کچھ ختم ہو جاتا۔
°°°°°°°°°°
“ذرام بیٹا، یہ سب کیسے ہوا؟ ملیحہ کی طبیعت اچانک کیسے خراب ہو گئی؟ وہ تو ٹھیک تھی نا؟”تمہارے ساتھ اچھی بھلی تو آئی تھی اخر ایسا کیا ہو گیا۔
ملیحہ کے ماں باپ ہسپتال پہنچ چکے تھے۔ دونوں کے چہروں پر پریشانی صاف جھلک رہی تھی۔ وہ زرام سے سوال پر سوال کر رہے تھے، مگر اس کے پاس جواب نہیں تھا۔ نظریں جھکی ہوئی تھیں، شرمندگی اور بے بسی کے بوجھ تلے۔پھر بیچارے خود ہی پریشان ہو گئے ان کو لگا کہ شاید وہ کچھ زیادہ ہی سوال جواب کر رہے ہیں۔
“بیٹا، پریشان مت ہو۔ اللہ تم دونوں کو سلامت رکھے گا، وہ چاہے تو اور اولاد دے دے گا۔” ملیحہ کی ماں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے تسلی دی۔ انہیں یہی لگا کہ بچہ کھو دینے کا غم ہی زرام کو توڑ رہا ہے۔ اصل حقیقت، اصل ناراضگی کی وجہ، دونوں سے چھپی ہوئی تھی۔ وہ تو سادہ دل لوگ تھے، جو سمجھ آئے، وہی کہہ گئے۔
“پلیز، آپ ملیحہ سے مل لیں… اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، اسے آپ کی ضرورت ہے۔” زرام بمشکل اتنا ہی کہہ سکا۔
“ہاں ہاں، اسی لیے تو آئے ہیں۔ اللہ میری بیٹی کو صحت دے۔نہ جانے کس کی نظر لگ گئی ہے۔” اس کی ماں نے دعا دی اور دونوں جلدی سے بیٹی کے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔
زرام ان کے پیچھے پیچھے تھا، جبکہ رومی اور فیصل فی الحال وارڈ کا چکر لگانے گئے ہوئے تھے۔
“نظر تو ہمارے رشتے کو لگ گئی… اور ایسی بری نظر کہ سب کچھ جلا کر راکھ کر دیا۔”
زرام یہ سوچتا ہوا، ملیحہ کے ماں باپ کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ دل کے اندر ایک خالی پن اور کانوں میں بس اپنی ہی دھیمی آواز گونج رہی تھی۔
“یہ کیا ہو گیا میری بچی… کس کی نظر لگ گئی؟”
ملیحہ کی ماں تیزی سے آگے بڑھیں اور محبت سے بیٹی کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لے کر چوم لیا۔ ان کی آنکھوں میں آنسو لرز رہے تھے، پلکوں سے ٹوٹ کر گالوں پر گرنے کو بےتاب۔
ماں کے لمس میں وہی پرانی شفقت تھی، وہی مان تھا… اور یہ لمس محسوس کرتے ہی ملیحہ کا ضبط ٹوٹ گیا۔ وہ تڑپ کر ماں سے لپٹ گئی، ہچکیوں میں گم ہو گئی۔
یہ وہ لمحہ تھا جس میں ممتا اور بیٹی کا درد ایک دوسرے میں گھل گیا، اور کمرے کی فضا اس رونے کی نمی سے بھر گئی۔
“نہ، میرا بچہ… رونا نہیں ۔”
ملیحہ کے بابا نے فوراً آگے بڑھ کر اس کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا۔
“اللہ کی ذات بڑی بے نیاز ہے، وہ چاہے تو دوبارہ اولاد دے دے گا۔ اس کے خزانوں میں کوئی کمی تھوڑی ہے… اور تم دونوں کون سا بوڑھے ہو گئے ہو۔”
ان کے لہجے میں حوصلہ بھی تھا اور دعا کا سا یقین بھی، جیسے وہ اپنے الفاظ سے بیٹی کے دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتے ہوں۔مگر ملیحہ کے دل میں جو درد تھا وہ شاید لفظوں سے مٹ نہیں سکتا تھا۔اولاد جیسی نعمت کو کھو دینا ایک عورت کے لیے کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے یہ صرف ایک عورت ہی سمجھ سکتی ہے۔۔
“نہیں چاہیے مجھے اولاد!”
ملیحہ کی آواز ٹوٹ کر بلند ہوئی۔
“اگر نصیب میں ہوتی تو میرا بچہ زندہ رہتا… دنیا میں آتا، میرے ساتھ کھیلتا۔ مگر جب نصیب ہی خراب ہو تو خوشیاں کیسے مقدر بن سکتی ہیں؟”
اس نے آہستہ سے اپنی بانجھ سی گود پر ہاتھ رکھا، آنکھوں میں آنسو اور دل میں کرب لیے۔
“ویسے بھی… میری گود خالی ہو گئی، اس سے کچھ لوگوں کو دلی تسکین مل گئی ہوگی۔”
یہ کہتے ہوئے اس نے ایک غصے بھری نظر زرام پر ڈالی، جو چپ چاپ کھڑا تھا۔
“ملیحہ!”
ملیحہ کے بابا کی آواز کمرے میں گونج گئی، لہجے میں سختی اور باپ کا رعب۔
“یہ کیا طریقہ ہے اپنے شوہر سے بات کرنے کا؟ یہ سوچنے کا؟ بھولو مت… یہ اس کی بھی اولاد تھی!”
نگاہوں میں ناراضی تھی۔
“تم دونوں کی لڑائی جھگڑوں نے یہ دن دکھا دیا ہے۔ خدا کا واسطہ… اب ختم کرو یہ ضد، یہ کینہ۔ اپنا گھر بساؤ، اللہ چاہے تو اولاد پھر دے دے گا۔”
ملیحہ کی ماں ایک خاموش کھڑی تھی۔ بخار کی کمزوری اوپر سے ملیحہ کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی ، وہ جانتی تھی بیٹی غلط ہے، مگر اس وقت اس سے کچھ کہا نہیں جا رہا تھا۔
“آپ لوگ مجھے دباؤ مت دیں، میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔ میں اس کے ساتھ نہیں رہوں گی، اور اگر زبردستی کی تو کہیں بھی چلی جاؤں گی، مگر اس کے گھر نہیں جاؤں گی۔ بہت برداشت کر لیا میں نے۔” ملیحہ کی آواز درد سے بھری ہوئی تھی، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
“پلیز ملیحہ، ابھی چپ ہو جاؤ۔ تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، بعد میں آرام سے بات کریں گے۔” زرام نے نرمی سے کہا۔
“بس کر دو زرام، بس کر دو اچھا بننے کا ڈرامہ۔ سب کی نظروں میں تم اچھے ہو اور ملیحہ بری۔ مت بھولو، اگر میں نے منہ کھولا تو سب سے برے تم ہی بنو گے۔ میں خاموش ہوں، مگر مجھے اتنا مجبور مت کرو کہ میں چپ نہ رہ سکوں۔”
“میں نے کہا چپ کر جاؤ! ہو کیا گیا ہے تمہیں؟ ان کے احسانوں کے بدلے یوں زبان چلا رہی ہو؟ مت بھولو، تم فرش کی دھول تھیں، ذرام بیٹے نے تمہیں اپنے ماتھے کا زیور بنا لیا۔ ہماری اوقات ہی کیا تھی، اور تم سب کچھ بھلا کر ان سے لڑ رہی ہو؟” ملیحہ کے بابا نے غصے اور جھنجھلاہٹ کے ملے جلے لہجے میں کہا۔۔
“ہاں، یہ ٹھیک کہا آپ نے… بالکل ٹھیک کہا۔ غریب کی بیٹی کی کوئی اوقات نہیں ہوتی، سچ کہا آپ نے۔ میں دھول ہوں… احسان کیا ہے انہوں نے، اپنے ماتھے پر سجا کر۔ مگر یہ بتا دیں، اس احسان کو کب تک میں سر پر اٹھا کر رکھوں؟ معاف کر دیں، مگر میں اپنے وجود، اپنی انا، اپنی عزت کی کرچیاں ہوتے نہیں دیکھ سکتی۔
سب کچھ سہہ سکتی ہوں، مگر اپنے کردار پر سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔ اور جو عورت اپنے کردار کے لیے جھک جائے، گواہیاں دے… میں لعنت بھیجتی ہوں ایسی محبت پر، ایسے گھر پر، ایسے سکون پر!” ملیحہ شدید جذباتی انداز میں بولی۔
“ملیحہ!”
اس کے بابا نے غصے سے چیخ کر پکارا۔
وہ ایک دم آگے بڑھے اور ہاتھ ہوا میں لہرایا۔
ملیحہ نے گھبرا کر فوراً اپنے چہرے پر ہاتھ رکھ لیے، آنکھوں میں خوف صاف جھلک رہا تھا۔
ملیحہ کی ماں نے گھبرا کر فوراً ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“کیا کر رہے ہیں آپ؟ بیٹی پر ہاتھ اٹھائیں گے؟ اس کی حالت دیکھیں، ٹھنڈے پسینے آ رہے ہیں!” وہ تیزی سے بولی۔
زرام حیرت میں چند قدم آگے بڑھا۔
اس نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ بات یہاں تک پہنچ جائے گی۔
وہ بیچارہ ایسا کچھ چاہتا بھی نہیں تھا۔
“بیٹی کی زبان نہیں دیکھ رہیں؟ کیا کچھ بولے جا رہی ہے!”
“کیا ہو گیا ہے اسے؟ کیوں اپنا گھر توڑنا چاہتی ہے؟”ملیحہ کے بابا نے اس کی ماں کو دیکھتے ہوئے بے بسی سے کہا،
“پلیز بابا… آپ اس طرح مت کریں۔ اس کی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں ہے، یہ سب کچھ بعد میں آرام سے حل ہو جائے گا۔ ابھی آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟”
زَرام نے سچے دل سے سمجھایا، مگر ملیحہ کو اس کا سمجھانا بھی زہر لگا۔ اس نے غصے سے بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔
“تم چلے جاؤ… ابھی کے ابھی یہاں سے چلے جاؤ! مجھے تمہاری سفارش، تمہاری رحمدلی کچھ نہیں چاہیے!”
ملیحہ چلّائی، اور اس کی حالت بگڑتی جا رہی تھی۔ چہرے پر پسینے کی بوندیں ابھر آئی تھیں، جسم کانپ رہا تھا۔ ابھی آپریشن کو چند گھنٹے ہی ہوئے تھے۔
زَرام نے ہلکی سی سانس بھری۔ “اچھا ٹھیک ہے، میں چلا جاتا ہوں۔ تم پرسکون رہو۔”
“پرسکون؟ پرسکون کیسے رہوں؟” وہ ہذیانی کیفیت میں بولی۔ “اللہ ، آپ دعائیں سنتے ہیں نا؟ مجھے مار دیں… میری جان چھوٹے اس شخص سے! تم پر یقین کرنا، تم سے محبت کرنا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ میں کیسے بھول گئی کہ تم بھی شہرام کے بھائی ہو!”
اس کی چیخ بھری آواز کانپ گئی۔ “مجھے موت دے دو… مجھے نہیں چاہیے ایسی زندگی!”
زَرام نے اس کی بگڑتی حالت دیکھ کر ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا اور فوراً کمرے سے نکل آیا۔ وہ تیز قدموں سے ڈاکٹر کے روم کی طرف بھاگا۔ اس کے پیچھے ملیحہ کے ماں باپ اپنی بیٹی کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے۔
کچھ لمحوں بعد زَرام ڈاکٹر کو لے کر کمرے میں داخل ہوا۔ رومی بھی اس کے ساتھ تھی۔ ملیحہ کے ماں باپ باہر نکل آئے اور گہری خاموشی میں دروازے کے پاس کھڑے ہو گئے۔زرام بھی ان کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا تھا۔
چند منٹ بعد اندر سے ملیحہ کی آوازیں بند ہو گئیں۔شاید نیند کا انجیکشن دے دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر کچھ دیر بعد باہر آئی، اور غصے بھری نظروں سے زَرام کو دیکھنے لگی۔
“ڈاکٹر زَرام، مجھے افسوس اور معذرت کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ میں نے آپ سے یہ توقع نہیں کی تھی۔ڈاکٹر سخت لہجے میں بولی،
اتنے سینیئر ڈاکٹر ہونے کے باوجود آپ کو معلوم نہیں کہ ان کا سیزر ہوا ہے، اور صرف چند گھنٹے پہلے وہ اپنا بچہ کھو چکی ہیں؟ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر بالکل سٹیبل نہیں ہیں، اور آپ لوگوں نے روم میں جا کر اس سے حوصلہ دینے کے بجائے نہ جانے کون سے معاملات شروع کر دیے تھے جو ان کی یہ حالت ہو گئی ہے !”
وہ ایک لمحہ رکی اور تیز نظروں سے زَرام کو دیکھا،
“کیا آپ جانتے ہیں۔۔ان کا بی پی شوٹ ہونے لگا تھا۔ اگر ہم بروقت کنٹرول نہ کرتے تو آپ جانتے ہیں کیا ہو سکتا تھا۔ افسوس ہے، ڈاکٹر زَرام… مجھے آپ سے یہ امید نہیں تھی۔”
زَرام کے لیے یہ سننا آسان نہ تھا۔ اس نے نظریں جھکا لیں، آواز بھاری ہو گئی،
“سوری… ڈاکٹر، میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔”
“سر، سوری سے زیادہ انہیں کیئر کی ضرورت ہے۔ وہ آپ کی وائف ہیں، اور آپ خود ڈاکٹر ہیں، سب سمجھتے ہیں۔ اس لیے میں ناراض ہوں۔ پلیز دوبارہ ایسا مت کیجئے گا۔ جو وہ چاہتی ہیں، جو سوچتی ہیں، ابھی مان لیجیے… کیونکہ مقصد ہے انہیں ٹھیک کر کے گھر لے جانا، نہ کہ یہاں مریض بنا کر ہمیشہ کے لیے چھوڑ دینا۔”زَرام نے آہستہ سے سر ہلایا، “اوکے…آئندہ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔”
“ویری گڈ… ابھی کے لیے انہیں انجیکشن دے دیا ہے، بس آرام کرنے دیجیے۔ آرام کی انہیں بہت ضرورت ہے۔ جب تک وہ خود نہ چاہیں، کسی بھی چیز کے لیے مت کہیں۔” ڈاکٹر یہ کہہ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
ملیحہ کے بابا نے آہستہ سے زَرام کے قریب آ گئے۔۔
“بیٹا… ساری غلطی میری ہے،مجھے اس پر اتنی سختی نہیں کرنی چاہیے تھی، تمہیں خواہ مخواہ قصور وار ٹھہرا دیا گیا۔”
زَرام نے نفی میں سر ہلایا،
“نہیں… آپ کی کوئی غلطی ہے۔ بس ایک بات کا خیال رکھیے گا۔اس سے کسی بھی طرح کی سختی سے بات مت کریں۔ اس کی جان… بہت قیمتی ہے۔۔
ہمارے بیچ جو اختلافات ہیں، اللہ نے چاہا تو ٹھیک ہو جائیں گے، ورنہ جو اللہ کو منظور… مگر صاف بات یہ ہے کہ ابھی اسے آپ کی ضرورت ہے، میری نہیں۔ اپنی بیٹی کا دھیان رکھیے۔”
زَرام کے الفاظ ملیحہ کے ماں باپ کے دل پر تیزاب کی طرح گرے، مگر وقت اور موقع دونوں خاموشی کا تقاضا کر رہے تھے۔ وہ کچھ نہ بولے، اور زَرام بھی بس اتنا کہہ کر مڑ گیا،
“پھر آؤں گا…”
باہر نکلتے ہوئے اس کے قدم بوجھل تھے، مگر دل جیسے ایک فیصلہ کر چکا تھا۔
°°°°°°°°
ذایک ماہ بعد…
مائد اور زیغم نے اس ایک مہینے میں چپہ چپہ چھان مارا تھا، مگر شہرام اور توقیر کا کوئی پتہ نہیں چل رہا تھا۔ سمجھ سے باہر تھا دونوں کو زمین کھا گئی یا آسمان نکل گیا۔اور مہرو تک پہنچنے کے لیے توقیر اور شہرام کا ملنا ضروری تھا۔۔
مگر کہتے ہیں کہ جب ڈھونڈنے نکلے تو خدا بھی مل جاتا ہے، پھر زمین پر رہنے والے توقیر اور شہرام کیا چیز تھے۔
زیغم کے دل میں سلگتی غصے کی آگ نے اس کی نیندیں چھین لی تھیں۔ طبیعت بار بار بگڑ رہی تھی، کمزوری حد سے زیادہ تھی، مگر غیرت اور غصے کا دہکتا لاوا اسے سکون سے بیٹھنے نہیں دے رہا تھا۔ یہی لاوا اس کے قدموں کو دوبارہ زمین پر جما دینے کی ہمت بھی دے رہا تھا۔
اس وقت بھی، پورے دن کے تھکے ہارے، وہ آ کر مائد کے ڈیرے پر رکے تھے،پچھلے ایک مہینے سے وہ یہیں پر رکے ہوئے تھے،
کیونکہ زیغم نہ گھر جانا چاہتا تھا، نہ کسی سے ملنا۔ وہ پہلے والا زیغم لگتا ہی نہیں تھا، جیسے ہر رشتہ، ہر تعلق ختم کرنے کا ارادہ کر چکا ہو۔
اس وقت بھی کمرے میں آتے ہی لیپ ٹاپ اٹھا کر نہ جانے کیا تلاش کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
اسے نہ کھانے کا ہوش تھا، نہ پینے کا… بس ایک ہی جستجو تھی، مہرو کو ڈھونڈنا اور توقیر اور شہرام کو سزا دینا۔
“زیغم، کچھ کھانے کو منگواؤں؟ صبح سے تم نے کچھ نہیں کھایا،” مائد نے فکر مندی سے پوچھا۔ اسے زیغم کی صحت کی بہت فکر تھی۔
“نہیں، مجھے بھوک نہیں ہے،” زیغم نے مختصر سا جواب دیا، نہ چہرے پر کوئی تاثر، نہ مائد کی جانب توجہ۔
“زیغم… تھوڑا سا اپنا خیال کر لو، اس طرح تمہاری طبیعت خراب ہو جائے گی۔ یار، کیوں خود کو اذیت دے رہے ہو؟ ان شاءاللہ، مہرو بھابھی مل جائیں گی۔”
مائد کے لہجے میں التجا بھی تھی ، بے بسی بھی اور فکر بھی۔۔
“مائد، تم سو جاؤ۔ مجھے ابھی کچھ نہیں کھانا، جب جینے کے لیے دو نوالوں کی ضرورت پڑے گی، بول دوں گا۔ مجھ پر تب تک سکون حرام ہے جب تک میں مہرو کو ڈھونڈ نہ لوں، مجھے فضول میں سمجھانے کی کوشش مت کرو۔”
وہ اپنی دوائی ہاتھ میں رکھتے ہوئے منہ میں ڈال کر پانی کا گھونٹ لیتے ہوئے پانی کا گلاس ٹیبل پر واپس رکھ چکا تھا۔اس کی انگلیاں واپس لیپ ٹاپ پر تیزی سے چلنے لگیں۔
“دماغ خراب ہے تمہارا، خالی پیٹ کیوں دوا لی؟” مائد نے ایک بار پھر ناراضگی جتائی۔
“بے فکر ہو، مروں گا نہیں۔ اب تو جنہوں نے میری زندگی میں آگ لگائی، میرے اپنوں کو مجھ سے دور کیا، اور اپنوں کی نظر میں مجھے قصوروار بنایا… ان کو مارے بغیر زیغم نہیں مرے گا۔”
“تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے خود سلامت رہو گے تو کسی کو سزا بھی دے سکو گے.. تم تو یہاں خود کے دشمن بن گئے ہو……مائد نے فرج کے اندر سے جوس کا گلاس بھرتے ہوئے زبردستی اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔۔۔
“مجھے نہیں پینا… زیغم نے جوس کو سائیڈ پر رکھتے ہوئے ضدی لہجے میں کہا۔۔
“زیغم، یار، ہر بات پہ ضد کیوں کر رہا ہے؟ اگر تم اسے پی لو گے تو تمہارا کوئی نقصان نہیں ہوگا، مائد نے غصے سے کہا۔مگراس غصے میں حق تھا۔۔
۔پلیز پی لو مائد نے زبردستی پھر گلاس کو اٹھا کر اس کے ہاتھ میں دیا ۔۔۔کچھ دیر رکنے کے بعد زیغم نے جوس کا گلاس پکڑتے ہوئے ایک ہی سانس میں پی لیا۔۔۔
سچ تو یہ تھا کہ اسے خود بھی بہت بھوک اور پیاز لگ رہی تھی، مگر نہ جانے وہ کیوں خود کو اذیت دینے پر تلا ہوا تھا ،شاید اپنوں کو ملی ہوئی تکلیفوں کی سزا وہ اپنی ذات کو دے رہا تھا۔۔
شاباش، جوس پینے پر مائد نے خوش ہو کر کہا۔زیغم بغیر جواب دیے ، پھر سے ٹائپنگ کرنے لگا، تو مائد بھی اس کے پاس ہی صوفے پر بیٹھ گیا۔اس سے بھی شدید بھوک کا احساس ہو رہا تھا مگر جب تک وہ زیغم کو کھانا نہ کھلا لے وہ اپنے حلق سے بھلانے والا کیسے اتار سکتا تھا۔
وہ گزرے ایک مہینے میں۔ ایک لمحے کے لیے بھی زیغم کو اکیلا نہیں چھوڑ رہا تھا، کیونکہ زیغم کی حالت ایسی نہیں تھی کہ اسے اکیلا چھوڑا جائے۔
کبھی اس کا غصہ حد سے بڑھ جاتا، کبھی بی پی لو ہو جاتا، تو کبھی بلڈ پریشر شوٹ کر جاتا تھا۔
سایہ بن کر مائد، زیغم کے ساتھ کھڑا تھا۔۔
زیغم کی انگلیاں تیزی سے ٹائپ کر رہی تھیں، جبکہ مائد ٹکٹکی باندھے اسے پاس ہی سوفے پر بیٹھا دیکھ رہا تھا۔
’’وقت نے تجھے کیا بنا دیا ہے، ایسا تو کبھی نہیں تھا۔ زیغم کے چہرے پر پرسوں کی اداسی چھائی ہوئی تھی۔
اے اللہ، اس کی مشکلات آسان کر دے، اسے ظالموں تک پہنچا دے جنہوں نے اس کے چہرے کی ہنسی اور دل کا سکون چھین لیا۔ میری دوست کو آزمائش سے نکال دے، میرے رب، تو دلوں کے بھید جانتا ہے۔‘‘
اللہ تو جانتا ہے کہ اس نے دشمنوں کو معافی دے کر تیری رضا چاہی، مگر اس کا نرم دل، اس کی معافی اور اعلی ظرفی اس کے لیے باعث ندامت اور زخموں کی وجہ بن گئی۔
بے شک تو ظالموں کی رسیاں دراز کر دیتا ہے، مگر میرے رب، میری دعا سن اور ان کی رسیوں کو کھینچ تاکہ انہیں معلوم ہو کہ اللہ تعالی دنیا میں بھی مکافات عمل ضرور دکھاتا ہے۔
یہ شخص اس وقت جس تکلیف میں ہے، اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔
جس کی عزت چھ مہینے سے لاپتا ہے، وہ کیا محسوس کر رہا ہوگا؟
مائد مسلسل اس کے بارے میں سوچ رہا تھا، اسے اپنے دوست کی تکلیف محسوس ہو رہی تھی۔
مائد کا دل جانتا تھا کہ وہ زیغم کے لیے کتنی پریشانی میں مبتلا ہے۔
کبھی کبھی اپنے دل کی صفائی کسی کو سینہ چیر کر نہیں دکھائی جا سکتی، اور اسی طرح مائد بھی دکھا نہیں سکتا تھا۔
کچھ سوچتے ہوئے زیغم نے جلدی سے فون اٹھایا اور رفیق کو کال ملائی۔دوسری جانب سے فارن فون اٹھا لیا گیا۔
“جو کام کہا تھا ہو گیا ہے۔۔۔دوسری جانب سے نہ جانے کیا جواب آیا تھا مگر زیغم کی آواز پھر سے گونج اٹھی۔۔۔دو منٹ سے پہلے اندر آؤ ۔مگر دوسری جانب سے شاید کچھ اور بھی کہا گیا تھا جس کا جواب زیغم نے پھر سے دیا۔۔
“ہاں ٹھیک ہے لے آؤ اسے بھی ساتھ۔۔”
مختصر کہتے ہی فون بند کر دیا گیا۔
مائد خاموش تھا، سوال کرنے سے گریز کر رہا تھا کیونکہ آج کل زیغم، سلطان کو ہر چھوٹی بات پر چڑچڑا کر سوال جواب سے سخت نفرت کرنے لگا تھا۔
دو منٹ کے بعد ہی رفیق کمرے میں حاضر ہو چکا تھا۔۔
اس سے پہلے کہ زیغم، رفیق کے ساتھ بات شروع کرتا، مائد کے نمبر پر آتی ہوئی کال نے اسے روک دیا۔
رفیق بھی خاموشی سے دروازے کہ باہر جا کر کھڑا ہو گیا۔ مائد نے، زرام کا نمبر اپنے فون پر جگمگاتے ہوئے دیکھ کر آنکھوں سے فون کی جانب دیکھتے ہوئے ، زیغم کو اشارہ کیا۔
“اٹھا لو فون… اور بتا دو میں کسی سے نہیں ملنا چاہتا۔کوئی رشتہ کوئی ناتا نہیں ہے میرا ان لوگوں کے ساتھ۔ بات ختم۔”
زیغم کا لہجہ سپاٹ تھا۔
“مگر یار، وہ تمہارے لیے پریشان ہے۔ میرے خیال سے اسے ایک بار یہاں بلا لو، اس سے مل لو۔” مائد نے سمجھانے کی کوشش کی۔
“جب کہا ہے کہ نہیں ملنا چاہتا، تو بات ختم۔ نہیں ملنا چاہتا۔ اگر ملنا ہوتا تو بہت دن پہلے مل لیتا۔ اس وقت میرے دل میں کسی کے لیے کوئی چاہت نہیں ہے۔”
“زیغم… اتنے سنگدل مت بنو۔ اس کا تو کوئی قصور نہیں، اس نے تو کچھ نہیں کیا۔”
“میرا بھی کوئی قصور نہیں… میں نے بھی کچھ نہیں کیا… مہرو نے بھی کچھ نہیں کیا… دانیہ نے بھی کچھ نہیں کیا تھا… میرے بابا سائیں نے بھی کچھ نہیں کیا تھا… اماں نے بھی کچھ نہیں کیا تھا… بہرام بھائی نے بھی کچھ نہیں کیا تھا… مگر سب کو سزا ملی نا… تو یہ بھی سزا لے۔ یہ بھی تو اسی دنیا سے تعلق رکھتا ہے۔”
زیغم کا ایک الگ روپ مائد کے سامنے تھا۔نہ محبت، نہ انسانیت، نہ کوئی جذبہ۔ بس بے رحمی اور صفاکی اس کے چہرے پر نظر آ رہی تھی۔ اور اس میں اس کا کوئی قصور نہیں تھا… یہ سب کچھ لوگوں کی بے حسی نے کروایا تھا۔
دوسری جانب زارم کا فون بار بار آ رہا تھا
“تم سے نہیں ہوگا… چھوڑو!”
زیغم نے آگے ہاتھ بڑھا کر فون کٹ کرنا چاہا، مگر مائد نے فون پیچھے کر لیا۔
“رہنے دو… میں کہہ دیتا ہوں۔” مائد نے نرمی سے کہا اور اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہوا، کال کان سے لگا لی۔
“مائد… فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے؟ مجھے زیغم بھائی سے ملنا ہے، بات کرنی ہے۔ تم خاموشی سے انہیں لے کر یہاں سے چلے گئے… یہ کون سا طریقہ ہے؟ میں نے بھی ان کا چھ مہینے سے انتظار کیا ہے، میں بھی ان کے لیے فکر مند ہوں۔”
فون کے دوسری جانب سے زارم ایک کے بعد ایک سوال کیے جا رہا تھا۔
اس کی بات سن کر مائد نے ایک ٹھنڈی سی سانس بھری، خود کو پرسکون کیا۔جو اس وقت ضروری تھا۔
“جو اس وقت ضروری تھا، میں نے وہ کیا۔ اور اب… تم سے نہ ملنا یہ تمہارے بھائی کا فیصلہ ہے، اس میں میرا کوئی عمل دخل نہیں۔ میرے خیال سے تمہیں اسے تھوڑا سا وقت دینا چاہیے… ان شاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔”مائد نے اپنی طرف سے بات کو سنبھالنے کی کوشش کی۔
“مجھ سے… بھائی مجھ سے نہیں ملنا چاہتے؟ مگر کیوں؟ کوئی تو وجہ ہوگی… آج ایک مہینہ اور دو دن ہو گئے ہیں انہیں ہسپتال سے لے جایا جا چکا ہے، مگر میرے ساتھ ملاقات نہیں کروائی جا رہی۔ ایسا ظلم مت کریں… ایک بار میری بھائی سے بات کروائیں۔ اگر کوئی ناراضگی ہے تو میں انہیں منا لوں گا، معافی مانگ لوں گا…”
زارم کے لہجے میں محبت اور التجا تھی، جسے مائد تو سمجھ رہا تھا مگر زیغم کو سمجھانا مشکل تھا۔
“مائد خان۔۔۔۔اسے جھوٹی تسلی مت دو… وقت کے ساتھ کچھ نہیں ٹھیک ہوگا! سب رشتے، سب ناتے توڑ چکا ہوں۔ یہ اپنے رشتے سنبھالے، مجھے کوئی لینا دینا نہیں۔ مجھے صرف اپنے کو اپنے ساتھ رکھنا ہیں، جو سچ میں میرے اپنے ہیں۔ اور توقیر کے خاندان سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے! بہت کچھ برباد کروا لیا ہے میں نے رحم دل بن کر، اب اور کی ہمت نہیں ہے مجھے!”
زیغم نے بلند آواز میں کہا۔
فون پر، دوسری جانب، زارم سب سن چکا تھا۔ اس کا دل کرچیاں کرچیاں ہو کر ٹوٹ چکا تھا۔ کچھ کہنے کو شاید بچا ہی نہیں تھا، کیونکہ زیغم کے لہجے سے اس کے دل کی کڑواہٹ باہر آ رہی تھی۔
زارم نے ایک لمحے کے لیے بھی زیغم کو قصوروار نہیں سمجھا، کیونکہ اس کے ماں، باپ، بھائی، بہن… سب نے مل کر جو اس کے ساتھ کیا تھا، اس کے بعد تو زیغم جو بھی کرتا، وہ کم ہی تھا۔
خاموشی سے فون کاٹ دیا گیا۔
زیغم ایسے اپنے آپ میں قید تھا کہ جیسے اسے کوئی فرق ہی نہیں پڑا، جبکہ مائد بھی خاموش بیٹھا تھا۔وہ زرام اور زیغم کے بیچ میں یہ اختلاف نہیں دیکھنا چاہتا تھا مگر چاہ کے بھی وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا خاص کر اس وقت۔
کچھ دیر کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی تھی۔۔خاموشی بھاری تھی۔ کمرے میں صرف لیپ ٹاپ کی ہلکی سی آواز تھی اور زیغم کی آنکھوں میں وہی سختی۔
مائد کچھ کہنے ہی والا تھا کہ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔رفیق جو کال کی وجہ سے دروازے پر ہی رکا ہوا تھا۔اس نے دستک دی تو زیغم کو بھی یاد آیا کہ اس نے رفیق کو بلوایا تھا۔۔۔
“آ جاؤ۔”
زیغم کی گہری آواز پر رفیق اندر آیا۔
“جی… آپ نے بلایا تھا، سائیں ؟”
رفیق کے لہجے میں ایک عجیب سا تذبذب تھا، جیسے وہ کچھ سوچ رہا ہو۔بیچارے کے سر پر اب تک وائٹ پٹی بندی ہوئی تھی جو اس دن ہاسپٹل زیغم نے اس کے سر پر بوتل ماری تھی۔۔اب تو اسے اپنے سائیں سے ڈر لگتا تھا کبھی بھی کچھ بھی کر سکتا تھا۔۔۔
زیغم نے رفیق کی جانب دیکھتے ہوئے ، لیپ ٹاپ بند کیا اور سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
“تمہیں یاد ہے نا میں نے تمہیں کیا کہا تھا؟ کوئی بھی خبر، کوئی بھی سراغ… چاہے کتنا ہی پرانا کیوں نہ ہو… فوراً میرے سامنے لانا ہے۔”
“جی سائیں، جی… سب یاد ہے۔ اور آپ کے حکم کے مطابق میں نے پروفیسر کو بلا لیا ہے۔”
رفیق کی آواز میں اعتماد تھا۔مگر اگلے ہی لمحے رفیق کے اعتماد پر پانی پھیر دیا گیا ۔۔
“یہ آج کی اور ابھی کی خبر ہے!
اس سے پہلے تم میری بات کا ترجمہ کرتے رہے ہو؟
اتنا سلو چلو گے تو ابھی تک صرف سر پھوڑا ہے !گولی سینے میں اتارتے ہوئے بھی ٹائم نہیں لگاؤں گا!
“معاف کیجیے گا سائیں دیر ہو گئی مگر میں آپ کے کام میں ہی لگا ہوا تھا۔۔۔۔
“میں نے کہا تھا کہ تم مجھے توقیر اور شہرام کے پالتو کتوں کو ڈھونڈ کر لا کر دو،اس کام کو آج ایک مہینہ ہو گیا ہے مگر رزلٹ زیرو ہے۔۔
“سائیں میں لگاتار کوشش کر رہا ہوں رفیق نے نظریں جھکائے ہوئے گھبرائے لہجے میں کہا…….
“مجھے کوشش نہیں چاہیے.. اگلے 24 گھنٹوں میں ڈھونڈ کر دو…….ورنہ رفیق مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا!”زیغم کے لہجے کی گرج نے رفیق بیچارے کو کپکپانے پر مجبور کر دیا تھا۔
جی سائیں، جو حکم ہوگا، بہت جلد ان کا پتہ لا کر دے دوں گا۔رفیق نظر جھکائے بعد انداز میں کھڑا تھا۔
تمہیں یاد ہے، اٹیک ہونے سے کچھ دن پہلے تم نے مجھے ایک خبر سنائی تھی۔
کہا تھا کہ تمہیں کوئی ایسا شخص ملا ہے جو توقیر کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہے۔
اس کی جوانی کا ایک بڑا راز ہے۔
تم نے بتایا تھا کہ اس شخص نے کہا ہے کہ توقیر نے کسی لڑکی سے شادی کی تھی، اور اس کے کئی راز پوشیدہ ہیں۔
جی سائیں، مجھے وہ بات اچھی طرح یاد ہے۔
اسی حوالے سے میں آپ کو آگاہ کرنا چاہتا تھا کہ میں وہی پروفیسر لے کر آیا ہوں۔
پہلے وہ اس بات کو ماننے سے انکار کر رہا تھا،
مگر جب بندوق کی نوک اس کے سامنے آئی تو اسے مجبوراً تسلیم میری بات کو مانتے ہوئے یہاں آنا پڑا۔اگر آپ حکم دیں تو میں اندر بلاؤں۔
“بلاؤ مگر اسے اتنا سمجھا کر لانا کہ منہ کھولنے میں زیادہ ٹائم نہ لگائیں ورنہ ہمیشہ کے لیے منہ بند کرتے ہیں ہوئے مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوگی..
“جی سائیں میں نے اس سے اچھی طرح سمجھا دیا ہے۔۔۔کچھ باتیں وہ پہلے بھی بتا چکا تھا، مگر اس بار میں نے صاف کہہ دیا ہے۔ایک ایک حرف سچ بولے، ورنہ اپنی جان گنوا بیٹھے گا۔مگر تھوڑا ڈرا ہوا ہے وہ آپ دیکھ لینا کہ ۔۔”رفیق ابھی کچھ اور کہنا چاہتا تھا کہ زیغم نے ہاتھ اٹھا کر خاموش کروا دیا۔۔
“بلاؤ اُسے۔” زیغم کی نظریں تیز ہو گئیں، اور ہاتھ کے ہلکے سے اشارے نے کمرے کی فضا میں خاموش حکم بکھیر دیا۔
“جی سائیں… جی، جو حکم۔” رفیق نے تیزی سے پلٹ کر دروازہ کھولا اور ہاتھ کے ہلکے اشارے سے کسی کو اندر بلایا۔
مائد سامنے صوفے پر بیٹھا تھا، نظریں دروازے کی سمت جمی ہوئی۔
اندر قدم رکھا۔ایک دبلا پتلا، ادھیڑ عمر آدمی۔ ہاتھ میں چند فائلیں، چہرے پر زردی، اور آنکھوں میں ایسا خوف جیسے برسوں پرانا راز زندہ ہو کر سامنے آ گیا ہو۔
“بیٹھ جاؤ۔۔۔
زیغم کی بھاری آواز کمرے میں گونج گئی، جیسے یہ صرف حکم نہیں بلکہ آزمائش کی دہلیز پر رکھا ایک لفظ تھا۔
وہ کپکپاتے ہوئے، نظریں جھکائے بیٹھ گیا۔اس کے چہرے کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ کافی گھبرایا ہوا ہے۔
“جلدی بتاؤ… کیا جانتے ہو توقیر لگاری اور اُس لڑکی کے بارے میں۔” زیغم کی آواز برف جیسی سرد مگر چبھتی ہوئی تھی۔
“اور ایک بات پہلے سے ہی ذہن نشین کر لو اگر لفظ بھی جھوٹ نکلا… تو یہیں زندہ گاڑ دوں گا، اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوگی۔”
زیغم کے لہجے کی سفاکی نے پروفیسر کے جسم میں کپکپی دوڑا دی۔
وہ ذرا سا جھکا، آواز میں ہچکچاہٹ اور آنکھوں میں بے قراری تیر رہی تھی۔
“اگر سچ بول دیا… اور توقیر سائیں کے لوگ مجھ تک پہنچ گئے تو میں اپنی جان کیسے بچاؤں گا۔؟”
” اگر آپ…میری جان، اور میرے گھر والوں کی جان کی ضمانت لے لیں تو میں رب کو حاضر ناظر جان کر… ایک ایک بات بتا دوں گا۔”
پروفیسر کے ڈیمانڈ رکھنے پر۔۔زیغم نے غصے سے بھری ہوئی سرخ انگاروں جیسی آنکھوں میں سختی لیے اس کی جانب دیکھا۔
“تجھے لگتا ہے… تو اس حالت میں ہے کہ میرے ساتھ شرط رکھ سکے؟ اور تیری اتنی اوقات کہ زیغم سلطان کے سامنے بیٹھ کر باتوں میں تول مول کرے؟”لہجے میں مقابل کی جان نکال لینے والی گرج تھی۔۔
پروفیسر کے پیر تلے سے زمین نکل گئی، چہرے پر پسینے کی بوندیں ابھر آئیں۔ فوراً ہاتھ جوڑ دیے۔
“نہ سائیں… میری کوئی اوقات نہیں۔ بس ایک بات کی ضمانت دے دیں… میری ایک جواں بیٹی ہے، وہ لوگ اس تک نہ پہنچیں۔ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں… مجھے بھی اپنی بیٹی کی عزت کی فکر ہے۔ جس راز کو آپ جاننا چاہتے ہیں…اس راز سے جڑے ہوئے لوگ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کتنے خطرناک ہیں۔”وہ دبی آواز میں بولا۔۔
زیغم کے ڈر سے پروفیسر کی آنکھوں میں نمی تیر گئی۔ اس کی بے بسی کی وہ لرزش جانے کیوں زیغم کے دل کو ہلکا سا چھو گئی، حالانکہ اس نے خود سے عہد کیا تھا کہ اب کسی پر رحم نہیں کھائے گا۔ مگر کچھ چیزیں انسان کے اندر پہلے سے پیوست ہوتی ہیں، جنہیں بدلا نہیں جا سکتا۔
زیغم کی نظریں پتھر کی طرح جمی رہیں، لہجہ برف سا ٹھنڈا مگر زہر آلود۔
“کچھ نہیں ہوگا… تیری بیٹی کو۔”
اور ویسے بھی چھ مہینے پہلے تمہاری ملاقات رفیق سے ہوئی تھی۔تب تم نے آدھی ادھوری بات بتا دی تھی اب یہ ڈر کیسا زیغم نے تجسس اور سختی سے پوچھا۔
“سائیں اس وقت ہمیں آپ کی وجہ سے ہمت ملی تھی۔برسوں سے دل میں دفن کیے ہوئے سچ کو بتا کر میں سرخرو ہونا چاہتا تھا۔ایک ایسا سچ جس نے میرے دل کے اندر ویرانی کے ڈیرے جمائے ہوئے ہیں۔
مگر جب آپ پر حملہ ہوا ساری ہمت ٹوٹ گئی جب وہ لوگ آپ جیسی مضبوط ہستی پر حملہ کروا سکتے ہیں تو ہم تو ان کے سامنے کیڑے مکوڑے ہیں پروفیسر نے جھکی نظروں سے اپنا ڈر ظاہر کیا۔۔
“گارنٹی دے رہا ہوں کچھ نہیں ہوگا تمہاری فیملی ہے بس منہ کھولو اور جلدی کھولو۔۔۔ زیغم پروفیسر کا ڈر بھی اپنی توہین لگ رہا تھا۔۔۔
“سلطان نے اس کے ہاتھ میں تھامی ہوئی فائل کی طرف اشارہ کیا، پھر سیدھا پروفیسر کی آنکھوں میں دیکھا۔
“اب خاموش کیوں ہو کیا کوئی انعام کی توقع ہے۔۔۔”نہیں سائیں ۔۔۔نہیں ،اگر کسی طرح میں آپ کے کام آسکوں تو یہ میری خوش نصیبی ہوگی مجھے انعام کی کوئی لالچ نہیں ہے….
” تو پھر جلدی منہ کھول… اور بتا۔ کیا جانتا ہے تُو توقیر کے بارے میں… اس کے ماضی کے بارے میں؟”
“ایک بات کان کھول کر سن… ایک ایک لفظ سچ ہونا چاہیے۔ ذرا سا بھی جھوٹ، یا بات میں ملاوٹ کی… تو جان نکال لوں
“اور اگر چھپانے کی کوشش کی… تو یاد رکھ، حلق سے بات کیسے کھینچنی ہے… یہ مجھے خوب آتا ہے۔”
پروفیسر کی گھبراہٹ بڑھ چکی تھی، مگر زیغم کی تیز اور چبھتی ہوئی نظر نے اسے سچ اگلنے پر مجبور کر دیا۔ زیغم کیسا تھا، یہ الگ بات تھی، مگر اصل خوف کی وجہ کچھ اور تھی۔زیغم کا رشتہ توقیر کے خاندان سے… اور یہی نسبت لوگوں کے دلوں میں دہشت بن کر بیٹھ جاتی تھی۔
پروفیسر کے کانپتے ہاتھوں میں فائلیں لرز رہی تھیں، جیسے ان میں کاغذ نہیں، زہریلے راز قید ہوں۔ اس نے آہستہ سے ایک فائل میز پر رکھی، پھر نظریں جھکا کر ہمت اکٹھی کرتے ہوئے بولنا شروع کیا۔زیغم کے ساتھ ساتھ رفیق اور مائد بھی پروفیسر کی بات کو غور سے سن رہے تھے۔۔
“سائیں… اس فائل میں وہ سب کاغذات ہیں جو ہمارے کالج میں سمرا کے جمع تھے۔اور اس کے علاوہ بھی بہت سے ایسے ثبوت ہیں جس سے میری بتائی ہوئی ایک ایک بات سچ ثابت ہوگی۔”
زیغم کے چہرے پر ایک سایہ سا لہرایا، اور کمرے کا سکوت بوجھل سا ہو گیا۔
“کون سمرا…… زیغم نے سپارٹ لہجے میں پوچھا…
سائیں، ہمارا ایک چھوٹا سا کالج تھا جہاں ہم دونوں میاں بیوی ساتھ پڑھاتے تھے۔
وہاں کی بچیاں ہمارے لیے اپنی بیٹیوں کی طرح تھیں۔”سمرا… ہمارے کالج کی سب سے ہونہار بچی تھی ۔ہمیشہ ہستی کھیلتی رہتی تھی۔پڑھائی میں بہت ہوشیار
تھی۔میری وائف سب بچیوں کے ساتھ گہرا لگاؤ رکھتی تھی،
مگر سمرا کے ساتھ اس کا رشتہ ماں بیٹی جیسا رشتہ بن گیا تھا۔اور ہماری اپنی بیٹی بھی سمرا کی چھوٹی بہن کی ہم عمر تھی۔سمرہ کا تعلق ایک عام سے سفید پوش گھرانے سے تھا۔عزت دار لوگ تھے۔ عزت کے ساتھ زندگی جی رہے تھے۔
ایک ماں اور دو بیٹیوں کا ساتھ تھا ۔بڑی بیٹی سمرا اور چھوٹی ماہ رخ ۔۔ماہ رخ سمرہ سے تقریباً چار پانچ سال چھوٹی تھی۔وہ ابھی سکول میں پڑھتی تھی ۔۔
،بس یہی تھا ان کا کل کنبہ،نہ بھائی تھا اور نہ ہی باپ کا سایہ چھوٹی بیٹی دو سال کی تھی جب باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ماں ایک فیکٹری میں کام کر کے اپنی بچیوں کو ایک خوشحال زندگی دینے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی۔۔
اپنی چھوٹی سی دنیا میں وہ تینوں ماں بیٹیاں بہت خوش تھی اکثر سمرا کے ساتھ ماہ رخ بھی ہمارے گھر آیا جایا کرتی تھی میری بیٹی کے ساتھ ان کی بہت اچھی دوستی ہو گئی تھی۔۔
مگر قسمت…” پروفیسر کی آواز دھیرے دھیرے بوجھل ہوتی گئی، جیسے وہ ہر لفظ کے ساتھ ماضی میں قدم رکھ رہا تھا ۔
“توقیر کا راج اس وقت زوروں پر تھا … ہمارے کالج میں سب سے بڑی ڈونیشن توقیر لغاری کی جانب سے آیا کرتی تھی…اس وجہ سے اکثر اس کا ہمارے کالج میں آنا جانا لگا رہتا تھا۔
ایک دن ہمارے کالج میں ایک فنکشن تھا،ہم نے ان کو مہمان خصوصی بلایا۔مگر بدقسمتی سے اس کی نظر سمرا کی خوبصورتی پر پڑ گئی… اور بس سائیں، وہ نظر لگ گئی۔
پروفیسر کے بتانے کے انداز سے زیغم کی نظروں کے سامنے وہ کہانی جیسے زندہ ہونے لگی تھی،کالج کا صحن، ہنستی کھیلتی لڑکی، کتابیں سینے سے لگائے… اور پھر ایک گندی نظر کا اس لڑکی پر ٹھہر جانا۔
زیغم نے پروفیسر کی آنکھوں میں دیکھا، جہاں خوف اور یادوں کا طوفان ایک ساتھ پلٹ رہا تھا۔
“پہلے تو کالج میں توقیر کا آنا جانا بڑھ گیا۔شروعات میں تو ہمیں سب نارمل لگا مگر پھر سمجھ میں آنے لگا تھا کہ وہ کسی خاص مقصد سے کالج آرہا ہے۔مگر نہ ہم میں اتنی ہمت تھی کہ ہم اس کا مقصد پوچھ سکتے اور جب تک ہمیں سمجھ آئی بہت دیر ہو چکی تھی۔۔
نہ جانے کب سمرا کا اس کے ساتھ تعلق بننے لگا۔نہ جانے کب کالج کے باہر وہ ایک دوسرے سے ملنے لگے۔
پہلے باتوں کا جال… پھر ملاقاتیں… اور ایک دن سمرا، بے ہوش، کالج کے کمرے میں گر گئی۔ ڈاکٹر نے بتایا… وہ ماں بننے والی ہے۔”پروفیسر ماضی کی تلخ یادوں کو یاد کرتے ہوئے کچھ دیر خاموش ہو گیا تھا شاید اور بولنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔
زیغم کی انگلیاں میز پر ہلکا سا بجنے لگیں، جیسے ہر دھپ دھپ اس راز کو کھولنے کی دھمکی دے رہی ہو۔
“میری وائف کے پوچھنے پر،سمرا نے روتے ہوئے کہا، بچہ… توقیر لغاری کا ہے۔ توقیر لغاری کا نام سنتے ہی ہمارے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی۔مگر کچھ دیر بعد اس نے ایک دہلا دینے والی بات سنائی، کہ ان دونوں کا نکاح ہونکاح ہو چکا ہے۔اس کا کہنا یہ تھا کہ توقیر اس سے محبت کرتا ہے۔نکاح کب ہوا، کسی کو علم نہیں تھا۔
سمرا کو ہم نے اپنے اعتماد میں لیا کہ کوئی بھی غلط قدم مت اٹھانا،اعتماد میں لینے کے بعد اس کی ماں کو بتایا… پہلے تو وہ اپنی بیٹی کے بارے میں ایسی بھیانک سچائی سن کر تڑپ اٹھی،
مگر ہم نے سمجھایا کہ جو ہونا تھا وہ ہو چکا بہتر ہے کہ بات کو اچھے طریقے سے نپٹا دیں۔۔۔اس سے پہلے کہ کسی اور کو پتہ چلے اور سمرا کا دنیا میں تماشہ بن جائے۔
۔ہمارے سمجھانے پر،وہ مگر راضی ہو گئی
ہم نے توقیر سائیں کو اپنے کالج میں بلوایا،اور سمرا کی حالت کے بارے میں بھی بتایا اور ان سے پوچھا کہ آگے کیا کرنا ہے۔کیونکہ ہم توقیر کے سامنے بے حد کمزور تھے صرف التجا کر سکتے تھے۔
مگر ہمیں زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی کیونکہ توقیر سچ میں سمرا سے محبت کرتا تھا۔اس نے خوشی خوشی اپنے بچے کو قبول کیا کہ ہاں اس نے نکاح کیا ہے اور یہ بچہ اسی کا ہے۔
ہمارے بات کرنے پر، توقیر بھی سمرا کو اپنے ساتھ رکھنے پر راضی ہو گیا … اس نے سمرا کو الگ سے گھر لے کر دیا،اس کا سارا خرچہ اٹھایا، مگر صرف سمرا کو ساتھ لے گیا… اس کی ماں اور بہن…کا وجود اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا تھا ان دونوں کی ذمہ داری اٹھانے سے اس نے صاف انکار کر دیا۔مگر سمرا کی ماں اپنی بیٹی کے ساتھ اپنے گھر ہی رہنا چاہتی تھی اس نے کہا میری بیٹی اگر خوشحال ہے تو مجھے اور کچھ نہیں چاہیے اس طرح سمرا توقیر کے ساتھ چلی گئی۔اس کی پڑھائی بھی ادھوری رہ گئی۔”
پروفیسر کی آواز اور دھیمی ہوئی، جیسے اگلے الفاظ اس کی زبان سے نکلنے کو تیار نہ تھے۔پروفیسر اسی وقت کی دھول میں گم تھا جب یہ کہانی اس کی نظروں کے سامنے چل رہی تھی۔کچھ دیر کے توقف کے بعد پروفیسر نے پھر سے بات شروع کی۔
“کچھ مہینے گزرے… سمرا نے بیٹی کو جنم دیا۔یہ بات ہمیں سمرا کی ماں نے بتائی۔ہمیں خوشی ہوئی کہ چلو ثمرہ اپنے گھر میں خوشحال ہے۔ مگر پھر… ایک دن، توقیر کی بیوی قدسیہ بی بی، ہمارے کالج میں آ دھمکی۔”
زیغم کی آنکھوں میں ایک خفیف چمک ابھری۔
“انہوں نے آتے ہی ہمیں یہ دھمکی دی… اگر ہم نے نہ بتایا کہ وہ لڑکی کون ہے،جس کے ساتھ توقیر نے نکاح کیا ہے تو وہ۔۔ تو میری بیٹی کو اٹھوا لے گی۔
سائیں… میں ڈر گیا… میں نے سمرا کا نام بتا دیا۔جو میری غلطی تھی شاید بہت بڑی غلطی کیونکہ بیٹی تو ثمرہ بھی تھی ۔۔
اسے بھی تو ہم نے اپنی بیٹی سمجھا تھا مگر وقت آنے پر میں نے اپنی بیٹی کے لیے اس کا نام بتا دیا۔”
پروفیسر کی سانسیں تیز ہو گئیں، جیسے وہ پھر اسی لمحے میں کھڑا تھا۔
“چند دن بعد… خبر ملی… کہ سمرا غائب ہے۔ وہ کہاں گئی اسے کیا ہوا کچھ خبر نہیں تھی۔
اور جب ہمت کر کے میں نے توقیر سے پوچھا… تو سائیں…” پروفیسر کی آواز کانپ گئی، “اس نے بنا جھجک کہا… مار دیا۔ گولیاں مار کر ختم کر دیا۔ بدچلن تھی…”
زیغم کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے خون اتر آیا۔
پروفیسر کی آواز اب تھک کر بوجھل ہو چکی تھی، مگر آنکھوں میں وہی لرزتا ہوا خوف تھا۔ زیغم خاموش بیٹھا، اس کی باتوں کے دھاگوں سے ماضی کا ایک ایسا جال بنتا جا رہا تھا، جس میں ہر گرہ خون اور آنسو سے بندھی تھی۔ہر پردے کے نیچے سے ظلم کی بنی ہوئی داستان نکل رہی تھی۔۔
“ہم کچھ نہ کر سکے… سمرا کی بے بس ماں،وہ لاچار عورت… بس روتی رہی، تڑپتی رہی… مگر اس کی کوئی سننے والا نہ تھا۔”
زیغم کی نظریں گہری ہو گئیں۔ پروفیسر کی بات جاری رہی،
“سمرا کی بیٹی… توقیر کے پاس تھی۔وہ اپنی بیٹی کو اپنے پاس رکھنا چاہتا تھا اپنی بیٹی کسی کو نہیں دینا چاہتا تھا گھر میں رکھی ہوئی ملازمہ اس بچی کی حفاظت کرتی تھی توقیر سمرا کو مارنے کے بعد بچی کو اپنی حویلی لے گیا تھا اسے لگا شاید قدسیہ بی بی اس بچی کو قبول کر لیں گی مگر یہ اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
قدسیہ بی بی… اس بچی کو برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ کئی بار انہوں نے توقیر سائیں سے کہا کہ وہ اس بچی کو کسی یتیم خانے میں دے دے اکثر ان میں جھگڑے رہتے تھے اس چھوٹی سی جان کو لے کر مگر توقیر سائیں اپنی بیٹی کو کہیں نہیں بھیجنا چاہتا تھا۔
“اس وقت آپ کے والد سلطان لگاری حیات تھے ۔۔توقیر اس وقت اپنے الگ گھر میں رہتا تھا ۔۔جو ان کی اپنی وراثت تھا جب ان لوگوں کے جھگڑے حد سے زیادہ بڑھ گئے تو آپ کے والد نے یہ فیصلہ لیا کہ وہ لوگ بچی کو حویلی لے آئیں وہاں پر آپ کی والدہ بچی کا خیال رکھیں گی ۔۔۔مگر قدسیہ بی بی کو یہ بھی منظور نہیں تھا ۔۔انہوں نے اپ کے والد صاحب کے منہ پر حویلی جانے سے انہوں نے صاف انکار کر دیا…. اس وقت سلطان سائیں بہت ناراض ہو کر گئے تھے۔۔۔
پھر ایک دن موقع دیکھ کر ،قدسیہ بی بی نے اپنی ایک خاص ملازمہ کو حکم دیا۔” پروفیسر کے ہونٹ کپکپائے، “کہا کہ بچی کو کہیں دور ویران جگہ لے جا کر گلا گھوٹ کر مار دو … اور کہیں دفن کر دو۔”
زیغم کے ذہن میں ایک منظر ابھرا۔اندھیری رات، ایک عورت چھوٹی سی بچی کو گود میں لیے کھڑی، اس کی آنکھوں میں خوف اور دل میں طوفان۔پروفیسر کی دوبارہ ابھرتی ہوئی آواز نے زیغم کو پھر سے حال میں واپس آنے پر مجبور کر دیا۔
“مگر سائیں… اس ملازمہ کے دل میں خوفِ خدا تھا۔ وہ معصوم کو مار نہ سکی…وہ ہشیاری کے ساتھ نظروں سے بچتی ہوئی اس معصوم سی جان کو اپنے گھر لے گئی۔ قدسیہ بی بی کو جھوٹ کہہ دیا کہ بچی دفنا دی ہے… مٹی کی ایک ڈھیری بھی بنا دی، تاکہ وہ مطمئن ہو جائے۔”
زیغم کے ہاتھ آہستہ سے مٹھیوں میں بند ہونے لگے۔
“توقیر نے اپنی بیٹی کو بہت ڈھونڈا…مگر کہیں نہیں ملی جب انہوں نے قدسیہ بی بی پر دباؤ ڈالا۔۔۔۔تب انہوں نے کہا کہ بچی کو مار کر دفنا دیا ہے۔۔۔یہ کہتے ہوئے وہ بالکل نہیں ڈری کیونکہ توقیر سائیں کے ہزاروں گناہوں کے راز ان کے پاس محفوظ تھے کہیں نہ کہیں توقیر سائیں ان سے دب گئے۔۔۔۔۔وہ کبھی بھی اپنی بیوی کے منہ سے سچ نہیں اگلوا سکے۔۔۔ہاں مگر وقت کے ساتھ ان کو یہ ضرور پتہ چل گیا تھا کہ سمرا بے گناہ تھی۔۔
سمرا کے گرد ایسا جال بنا گیا تھا جس سے اسے بدچلن ثابت کر دیا گیا اور اسے بدچلن ثابت کرنے والی کوئی اور نہیں خود قدسیہ بی بی تھی ۔
حالات ایسے پیدا کر دیے کہ دیکھنے میں توقیر سائیں کو یہی لگا کہ سمرا ہی غلط ہے اور اپنے جوش اور غصے میں انہوں نے سمرا کی جان لے لی اس کے بعد ساری زندگی وہ پچھتاتے رہے مگر پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔انہوں نے سمرا کی محبت کو دل میں دفن کر لیا۔مگر گھر کے ملازمین کا کہنا تھا کہ وہ سمرہ بی بی کی تصویر اور پرانی یادوں کے ساتھ اکثر اپنی سٹڈی روم میں بیٹھے تنہا باتیں کرتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔توقیر سائیں کے لیے ایک خاص خط بھی سمرا نے چھوڑا تھا جب اسے احساس ہوا کہ اسے اپنی جان کا خطرہ ہے مگر اس معصوم کو یہ نہیں پتہ تھا کہ خطرہ توقیر اس کے لیے بن جائے گا۔اگر اس خط میں سمرا نے بہت کچھ ایسا لکھا تھا جس سے توقیر کو یہ ایسا احساس ہوا کہ سمرا بے قصور تھی۔
پروفیسر نے گہری سانس لی، جیسے اگلی بات کہنے سے پہلے اپنی ہمت جمع کر رہا ہو۔
“سمرا کی ماں… اپنی بیٹی کے غم میں آدھی پاگل ہو گئی تھی… ہر کسی سے مدد مانگتی پھرتی۔ توقیر نے اسے ڈرایا، دھمکایا، مگر وہ باز نہ آئی۔”اور دوسری جانب توقیر سائی نے اپنی بیٹی کو ڈھونڈنا بند نہیں کیا تھا پتہ نہیں کیوں ان کو ایسا لگتا تھا کہ ان کی بیٹی زندہ ہے وہ اپنی بیٹی کو ڈھونڈنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے تھے۔پتہ نہیں یہ بات کیسے پھر سے قدسیہ بی بی کو پتہ چل گئی اور وہ آگ بگولا ہو گئی۔
زیغم کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
“… قدسیہ بی بی کو یہ برداشت نہ ہوا کہ توقیر اپنی بیٹی کو ڈھونڈ رہا ہے۔جب کہ قدسیہ بی بی کو تو اس بات کا یقین تھا کہ وہ بچی مر چکی ہے مگر جلن اس بات کی تھی کہ وہ اس بچی کے نام پر سمرا کو اپنے دل میں بسائے ہوئے ہیں۔۔
اسے لگ رہا تھا کہ توقیر سائیں سمرا کو بھولے نہیں۔اور اس بات کی ان کو شدید جلن تھی وہ بیوی تھی اور ان کو یہ بات برداشت نہیں تھی کہ ان کے شوہر کے دل میں کوئی اور لڑکی بسے۔۔
۔توقیر سائیں اور ان کی بیوی میں اکثر اس بات کو لے کر جھگڑے ہوتے رہتے تھے توقیر اپنی بیٹی کے بارے میں پوچھتے اور قدسیہ بی بی کچھ نہیں بتاتی تھی۔اور جب بتاتی تو یہی کہتی تھی کہ اسے مار دیا گیا ہے۔۔۔
ایک دن…توقیر سائیں شراب کے نشے میں حد سے زیادہ غصے میں تھے۔ اس نے دھمکی دی کہ سمرا کی جگہ… اس کی بہن ماہ رخ کو لے آئے گا۔اور کہہ دیا جو کر سکتی ہو کر لو بس یہ بات ایک نئی قیامت کی لہر لے کر اگئی۔۔
ماہ رخ… تب صرف پندرہ سال کی تھی…نائنتھ کلاس کی سٹوڈنٹ تھی معصوم جسے دنیا داری کا کچھ پتہ نہیں تھا۔توقیر کی یہ دھمکی اس معصوم بچی ماہ رخ کے لیے ایک سزا بن گئی۔۔”
“قدسیہ نے ایک رات… ماہ رخ کو اغوا کروایا… اور اسے ایک مشہور زمانہ گندی جگہ پر بیچ دیا۔جہاں لوگ دن کے وقت بھی جانے سے کتراتے ہیں وہاں پر اندھیری راتوں کی نظر اس معصومیت کو کر دیا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔
زیغم کے اندر کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی، مگر چہرہ پتھر کا رہا۔تاثرات قابو میں رکھے ہوئے تھے مگر اندر ایک جنگ چل رہی تھی۔۔۔
“سمرا کی ماں … جس کی دونوں بیٹیاں چھن گئیں… قدسیہ کے سامنے ہاتھ جوڑے، گڑگڑائی… مگر قدسیہ نے ہنستے ہوئے کہا۔
‘بیٹیاں سنبھالی نہیں جاتیں تو پیدا کیوں کرتی ہو؟ صحیح جگہ پہنچا دیا ہے، جہاں ان ان کو میرے شوہر جیسے دل پھینکنے والے عاشق بہت مل جائیں گے۔'”
کمرے میں ایک لمحے کے لیے ایسا لگا جیسے ہوا رک گئی ہو۔وہاں پر بیٹھے ہوئے سب افراد کو سانس لینا مشکل ہو گیا تھا۔
“قدسیہ بی بی کی زہر سے لپٹی ہوئی باتیں سن کر… بے بس مجبور ماں برداشت نہ کر سکی… غصے میں ایک تھپڑ جڑ دیا۔ قدسیہ بی بی کو اپنی توہین برداشت نہ ہوئی… دھکا دیا… اور وہ عورت میز کے کونے سے ٹکرا کر خون میں نہا گئی۔بہت درد سے تڑپ رہی تھی مگر قدسیہ بی بی نے ہمیں تک اس کی مدد نہیں کرنے دی۔”
زیغم کی آنکھوں میں اب بھڑکتی ہوئی آگ تھی۔
“اسی جھگڑے میں… قدسیہ بی بی نے خود اقرار کیا… کہ اس نے سمرا کی بیٹی کو مار دیا ہے۔اب جو کر سکتی ہو کر لو تمہاری بیٹی کو میں نے بیچ دیا ہے۔نہ ڈر انداز سے انہوں نے ہر ایک چیز ہر ایک جرم کا اعتراف کیا تھا۔”سمرا کی ماں کے سر سے شدید خون بہنے کی وجہ سے وہ دم توڑ گئی مگر وہ بے حس عورت کو ذرا رحم نہیں آیا ہم روتے رہے گڑگڑاتے رہے مگر انہوں نے ہماری ایک نہ سنی اس طرح کا گھر پوری طرح سے ختم ہو گیا ایک محبت کی ایسی سزا ملی کہ ان کے جنازوں پر رونے والا بھی کوئی نہ تھا ۔۔۔
پروفیسر کی آواز آخری جملے پر ٹوٹ گئی۔
” مگر سائیں… سچ یہ ہے… وہ بچی زندہ تھی۔ ملازمہ نے ایک دن چپکے سے آ کر ہمیں بتایا… مگر یہ بھی کہا کہ اگر راز کھلا… تو اسے مار دیا جائے گا۔اصل میں وہ ملازمہ سمرا کی ماں کو ڈھونڈتی ہوئی آئی تھی۔شاید وہ بچی کو اس کی نانی کے حوالے کرنا چاہتی تھی۔ مگر خالی ہاتھ لوٹ گئی۔”
کمرے میں سناٹا چھا گیا۔ زیغم کے ذہن میں دھندلے چہروں، ٹوٹتی چیخوں، اور خون سے رنگے ماضی کے ٹکڑوں کی گونج چل رہی تھی۔
زیغم کی آواز بھاری اور گونج دار تھی،
“اس کے بعد… وہ ملازمہ تم لوگوں سے کبھی ملی؟ یا تمہیں اس کا کوئی پتہ ہے؟”
پروفیسر نے نظریں جھکائیں، ہونٹ کپکپائے،
“نہیں… سائیں۔”ہم نے صاف منع کر دیا تھا کہ ہم اور مدد نہیں کر سکتے ورنہ توقیر سائیں ہمیں بھی مروہ ڈالتے۔۔۔کہتے ہوئے پروفیسر کی نظریں شرم اور ندامت سے جھکی ہوئی تھی۔۔
کمرے میں پھر وہی بوجھل سناٹا پھیل گیا، جیسے دیواریں بھی اس جواب پر افسوس کر رہی ہوں۔
زیغم نے کرسی پر جھکتے ہوئے رفیق کو گھورا،
“رفیق… اس ساری انفارمیشن کو اکٹھا کرو۔ اس ملازمہ کا پتہ نکالو… اور دونوں لڑکیوں کا بھی۔”
اس کی آواز مزید بھاری ہو گئی،
“ایک سمرا کی بیٹی… اور دوسری،” اس بہن۔۔ کیا نام ہے اس کا۔؟ اس کی بہن ماہ رخ۔”زیغم نے یاد کرتے ہوئے اس کا نام لیا۔۔
“ٹھیک ہے جو آپ کا حکم رفیق نے مودبانہ انداز میں سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے جواب دیا…
“مگر مجھے ایک بات کا جواب دو تمہیں یہ ساری بات کتنی حرف بہ حرف کیسے پتہ ہے ۔۔زیغم کی آنکھوں میں شک امڑ تھا ۔
“سائیں آپ سے کہی ہوئی ہے ایک ایک بات سچ ہے مجھ پر شک نہ کریں کچھ باتیں قدسیہ بی بی نے اپنے منہ سے اطراف کی تھی جب سمرا کی ماں کے ساتھ ان کی جھڑپ ہوئی جب سمرا کی ماں آخری سانسیں لے رہی تھی تو قدسیہ بی بی غصے کے عالم میں خود ہی بہت کچھ بولتی چلی گئی…. کچھ چیزیں سمرا کی ڈائری سے پتہ چلی وہ ڈائری آج بھی ہمارے پاس ہے میں ساتھ لے کر آیا ہوں پروفیسر نے سامنے رکھی ہوئی فائلوں کے ساتھ بوسیدہ سی ڈائری کی جانب اشارہ کیا۔۔۔صرف اتنا ہی نہیں اس میں وہ تمام رپورٹس اور ثبوت ہیں جس سے آپ کو پتہ چل جائے گا یقین اجائے گا کہ ثمرہ اور توقیر سائیں کا نکاح ہوا تھا اور اس میں اس ہسپتال کی رپورٹس بھی ہیں جہاں سمرا نے بچی کو جنم دیا تھا۔۔۔۔پروفیسر سارے ثبوت ساتھ لے کر آیا تھا۔۔
“ٹھیک ہے… جاؤ۔ جب دوبارہ ضرورت پڑی، بلوا لیں گے۔”
زیغم نے سرد لہجے میں پروفیسر کو رخصت کیا۔پروفیسر فوراً سے اپنی جگہ سے اٹھ کر رفیق کے ہمراہ باہر نکل گیا۔۔۔
پورے دورانئے میں مائد خاموش بیٹھا رہا… مگر اس کی آنکھوں میں حیرت تھی۔
وقت کے پرانے اوراق میں اتنے گناہ دفن ہوں گے، اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔پروفیسر اور رفیق جا چکے تھے۔
“اے اللہ… جو میں سوچ رہا ہوں، وہ نہ ہو… رحم فرمانا۔”
وہ بے اختیار بلند آواز میں بول اٹھا۔
مائد تجسس دبائے نہ رکھ سکا، “کیا سوچ رہے ہو؟”
“بہت کچھ…” وہ گہری سانس لیتے ہوئے بولا، “یاد ہے، جب میں امریکہ سے لوٹا تھا… ہمیں فٹ پاتھ پر ایک ضعیف عورت ملی تھی؟”
مائد تجسس دبائے نہ رکھ سکا، “کیا سوچ رہے ہو؟”
“بہت کچھ…” وہ گہری سانس لیتے ہوئے بولا، “یاد ہے، جب میں امریکہ سے لوٹا تھا… ہمیں فٹ پاتھ پر ایک ضعیف عورت ملی تھی؟” اس کے بعد دونوں آپس میں بات کرتے رہے، مگر کیا کہا گیا، کوئی نہ سن سکا۔۔۔۔
°°°°°°°°°°°
“ملیحہ بیٹا، کب تک یہاں بیٹھی رہو گی؟ اٹھ کر اندر آ جاؤ، رات کافی ہو چکی ہے۔”
ملیحہ کی ماں نے آ کر تیسری بار آواز دی تھی۔ صحن میں خاموشی پھیلی ہوئی تھی۔ جامن کے پیڑ کے نیچے رکھی کرسی پر ملیحہ اکیلی بیٹھی تھی، جیسے روز بیٹھتی تھی۔۔
چہرے پر گہری سنجیدگی، نظریں کہیں دور گم، اور ہونٹ مقفل جیسے بات کرنا ہی نہ چاہتی ہو۔
“اماں، مجھے ابھی نہیں آنا… آپ جا کر سو جائیں۔” اس کی آواز مدھم مگر سخت تھی۔
اس کی اماں نے ایک لمحے کو اسے دیکھا، پھر بھاری لہجے میں بولی،
“ملیحہ، تم چاہتی کیا ہو؟ کہ ہم لوگ مر جائیں؟ کیوں نہ سکون کا سانس لیتی ہو، نہ لینے دیتی ہو؟ یا تو صاف صاف بتا دو کہ تم دونوں کے بیچ کیا ہے۔ اگر ہمیں بھی سمجھ آ گیا کہ وجہ واقعی بڑی ہے تو ہم چپ ہو جائیں گے۔ یا پھر چپ چاپ اپنے شوہر کے ساتھ چلی جاؤ۔ اس طرح اس سے دوری اختیار کر کے تم بیچ میں لٹکی ہوئی ہو… لوگ طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں پوچھتے ہیں کہ آخر کیا ہوا ہے۔کیوں آپ کی بیٹی کو داماد چھوڑ کر چلا گیا۔
تمہارے ابا اور مجھ سے یہ برداشت نہیں ہوتا۔کیوں لوگوں کو باتیں بنانے کا موقع دے رہی ہوں۔۔”
اپنی ماں کی اتنی باتوں کے ملیحہ نے نظریں نہیں اٹھائیں،
“بہت جلد میں رشتہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دوں گی… پھر تو آپ لوگوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ سپاٹ لہجے میں بولی،
“خدا نہ کرے! کیسی باتیں کر رہی ہو؟ رشتہ ختم کرنے سے تمہاری کیا مراد ہے؟”اسکی ا ماں کے لہجے میں گھبراہٹ اتر آئی تھی۔
“میرا مطلب صاف ہے کہ میں اس سے طلاق لے لوں گی۔ اماں، میں اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ اور وجہ کیا ہے… وہ بھی نہیں بتا سکتی۔ جس وجہ کو سوچ کر میرا دل ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے… وہ وجہ میں آپ لوگوں کو نہیں بتا سکتی۔”
ملیحہ کی بات سن کر اماں کی آنکھوں میں حیرت اور غصے کی لہر دوڑ گئی،
“اللہ معاف کرے! طلاق… کتنا گندا اور غلیظ لفظ ہے۔ کیسے تم نے، میری بیٹی ہو کر، اپنے منہ سے نکال دیا؟ ساری زندگی میں نے مشکل حالات میں تمہارے بابا کے ساتھ گزاری۔ کیا کچھ نہیں ہم نے برداشت کیا۔ تم، جو ہماری اکلوتی اولاد ہو، مجبوریوں نے ہم سے دور کر دیا… یہ سب کچھ ہم نے سہہ لیا مگر پھر بھی میں نے کبھی منہ سے ایسا لفظ نہیں نکالا۔ شرم کرو! کتنی آسانی سے کہہ دیا کہ تم طلاق لے لو گی!”
“شرم کی کیا بات ہے؟ اللہ کا بھی یہی حکم ہے، اس کے نبی کا بھی یہی حکم ہے… جب آپ لوگوں کا ایک ساتھ گزارا نہ ہو تو آپ لوگ علیحدگی اختیار کر سکتے ہیں۔ میں نے ایسا کیا غلط کہہ دیا ہے؟”
ملیحہ نے تلخی سے کہا،
اماں کا چہرہ غصے کی شدت سے سرخ ہو گیا،
“تجھے جو موٹی موٹی چار کتابیں ہم نے پڑھائی ہیں، وہ اس لیے نہیں پڑھائی کہ تو ہمیں سکھانا شروع کر دے۔ دوبارہ اگر طلاق کا لفظ زبان پر آیا تو۔۔۔”
“تو کیا؟ جان سے مار دیں گے؟” ملیحہ نے بیچ میں کاٹتے ہوئے کہا۔
“اگر جان سے مار دیں گے تو مار دو… تب بھی میں پیچھے نہیں ہٹنے والی۔ میں اس کے ساتھ نہیں رہوں گی۔ بات ختم!”
وہ پاؤں پٹختی ہوئی اٹھی اور جا کر اپنے بستر پر لیٹ گئی۔
ملیحہ کا بابا، جو ابھی سویا نہیں تھا، سب کچھ سن چکا تھا مگر خاموش رہا۔ ملیحہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پہلے سے زیادہ ضدی ہوتی جا رہی تھی، اور رات کے اس پہر بحث کو بڑھانا مناسب نہیں تھا۔ اس کی ماں بھی بڑبڑاتے ہوئے کمرے میں آئی اور چارپائی پر بیٹھ گئی۔”پاگل ہو گئی ہے یہ لڑکی اور ہم نے بھی پاگل کر دے گی… وہ بڑ بڑھاتے ہوئے چارپائی پر لیٹ گئی…
کمرہ خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا… مگر سب لوگ جاگ رہے تھے…
باہر صحن میں جامن کے پیڑ کی شاخیں ہوا میں ہلکی ہلکی لرز رہی تھیں، جیسے رات بھی کسی ان کہی بات کی گواہی دے رہے گی ہو۔ کہیں دور کھیتوں سے کھیتوں کے آوازیں آرہی تھی۔۔مگر کمرہ پوری طرح سے سناٹے میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔
مگر اس سناٹے میں، ملیحہ کے الفاظ اس کی اماں اور ابا کے دل میں کسی کانٹے کی طرح اٹک گئے تھے… اور کسی کو نیند نہیں آ رہی تھی۔۔
°°°°°°°°°°°
“جاؤ، زرام کے لیے میں نے اپنے ہاتھوں سے کھانا بنایا ہے… جا کر اسے دے آؤ۔”
سلمہ کمرے میں آتے ہی نرم مگر حکم بھری آواز میں بولی۔
رومی نے کتاب سے نظریں نہیں اٹھائیں،
“سن رہی ہو یا بہری ہو گئی ہو جواب نہ ملنے پر سلمہ آگ بگولا ہو کر بولی…
“کیوں میں جاؤں؟ گھر میں اس کی ماں بھی ہے، بہن بھی ہے، اور ملازمائیں بھی۔ اس کے باوجود اگر آپ کو کھانا دینے کا اتنا شوق ہے تو خود جا کر دے دیں… میں نہیں جا رہی۔”
رومی اب بھی اپنی جگہ بیٹھی کتاب کے اوراق پلٹ رہی تھی۔ سلمہ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
“رومی! تمہاری یہ ہٹ دھرمی مجھے زہر لگتی ہے!” وہ دانت پیستے ہوئے بولی۔
رومی نے ایک جھٹکے سے کتاب بند کر دی کی،
“اور مجھے آپ کی یہ چاپلوسیاں زہر لگتی ہیں! جب کہہ دیا کہ مجھے زرام بھائی سے دور رکھو… وہ میرا بھائی ہے! اور جو آپ چاہتی ہیں، وہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ اپنے دماغ سے یہ گندے خیالات نکال دیں۔ اتنی سی بات آپ کے دماغ میں نہیں گھستی؟ روز کوئی نیا شوشہ چھوڑ دیتی ہیں ۔کبھی ان کے لیے چائے لے جاؤ، کبھی کافی، کبھی کپڑے استری کر دو۔
میں کیوں کروں یہ سب؟ اگر ایک بہن کی حیثیت سے آپ مجھ سے یہ کہتیں تو مجھے کوئی اعتراض نہ ہوتا، مگر آپ کے دماغ میں جو گندگی بھری ہے… اس کے بارے میں سوچ کر بھی میں گھبرا جاتی ہوں۔ کیوں ایک بھائی بہن کے رشتے کو آپ خود اپنے ہاتھ سے تباہ کر رہی ہیں؟”
رومی نے کتاب زور سے بیڈ پر پھینکی اور اٹھ کر سلمہ کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔کمرے کا ماحول لمحے بھر میں تپ گیا تھا۔
“عقل کی اندھی… وہ تمہارے مامو کا بیٹا ہے، سگا بھائی نہیں!” سلمہ نے طعنے بھرے لہجے میں کہا۔
“مامو کا بیٹا ہے یا چاچو کا… اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ میں اسے بھائی مانتی ہوں! بس کر دیں، اور کتنی میری بے عزتی کروائیں گی؟ اس نایاب اور قدسیہ مامی سے۔۔۔۔ جو حرکتیں آپ کرتی ہیں، وہ دیکھ کر میں سوچتی ہوں کہ آپ ہیں ماں مگر چال چلتی دشمنوں جیسی۔
میں تو آپ کی حرکتوں کی وجہ سے، اب زرام بھائی کے قریب سے بھی گزرتے ہوئے گھبرا جاتی ہوں کہ کہیں وہ لوگ دیکھ نہ لیں اور کچھ غلط نہ سوچ لیں۔ یہ سب آپ کی وجہ سے ہو رہا ہے!”
“رومی…اپنی بکواڈ بند کرو۔۔ میں آخری بار کہہ رہی ہوں، اس کو کھانا دے آؤ، ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ اور تمہیں نایاب اور قدسیہ کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے… ایک بار تمہارا اور زرام کا رشتہ جڑ گیا تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، پاگل لڑکی!”سلمہ نے دانت پیستے ہوئے پھر کہا،
“میں نہیں جاؤں گی تو مطلب نہیں جاؤں گی!”رومی نے دو ٹوک کہا،
وہ اپنی کتاب اٹھا کر کمرے سے نکلی اور جا کر بالکونی میں بیٹھ گئی۔ باہر سے دروازہ لاک کر دیا۔
“رومی! دروازہ کھولو!” سلمہ کی آواز غصے میں بلند ہوئی۔
“بالکل بھی نہیں کھولوں گی! مجھے کچھ دیر کا سکون چاہیے… خدا کا واسطہ ہے، مجھے سکون لینے دیں!” رومی کی آواز میں سختی تھی۔ اس کے بعد کتنی ہی دیر تک سلمہ دروازہ بجاتی رہی، مگر رومی نے ایک لفظ بھی جواب نہ دیا۔
“بیڑا غرق تمہارا، رومی!” سلمہ آہستہ آہستہ بڑبڑاتی ہوئی پیچھے ہٹی اور بیڈ پر آ کر سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔
“اتنا اچھا لڑکا، اتنا سنہری موقع… ہاسپٹل کی مالک بن جاؤ گی، گھر کی مالک بن جاؤ گی، ہر طرف سے راستہ صاف ہے… مگر تم ہو کہ پتہ نہیں عقل نام کی چیز بھی تم میں ہے یا نہیں!”
“اور ایک اس نایاب کو دیکھو…” سلمہ کے ہونٹوں پر زہر بھرا طنز تھا، “تیسری بار شادی کر کے نئے دولہے کے ساتھ کیسے دندناتی پھر رہی ہے… کبھی آ رہی ہے، کبھی جا رہی ہے۔ ہار شنکارہی نہیں ختم ہوتے اس کے! بڈی گھوڑی، لال لگام… تیسری شادی کے بعد بھی ایسے اِتراتی ہے جیسے اٹھارہ سال کی دوشیزہ ہو۔”
اس نے تلخی سے ہنکارا بھرا، ” نیاب پہلے توبیٹی کے لیے پہلے تڑپتی تھی، اب تو بیٹی کی فکر بھی نہیں۔نئے شوہر کے ساتھ رنگینیاں منانے سے ہی فرصت نہیں ہے۔۔اور وہ قدسیہ کتنی خوش ہے امیر داماد پا کر اتراتی ہوئی زمین پر قدم ہی نہیں رکھتی۔۔۔
اور ایک میری بیٹی ہے… جس نے اپنے بارے میں بھی کچھ اچھا نہیں سوچا اور نہ میرے بارے میں!”
سلمہ اکیلی بیٹھی بڑبڑاتی رہی، کمرے میں خاموشی تھی مگر اس کے دل کی جلن اور الفاظ کی کاٹ خاموش دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ رہی تھی۔
°°°°°°°°°°
نائٹ ڈیوٹی کا سناٹا ہاسپٹل کی راہداریوں میں پھیلا ہوا تھا۔ دور کہیں مشینوں کی مدھم بیپ اور کبھی کبھار قدموں کی ہلکی چاپ… باقی سب کچھ خاموش۔ اپنے کیبن میں، مدھم روشنی کے نیچے، ذرام نہ جانے کب سے چپ بیٹھا تھا۔ کرسی سے سر ٹکائے، چھت کو گھور رہا تھا۔جیسے وہاں کسی ان کہی کہانی کے لفظ تلاش کر رہا ہو۔ فائلیں اور نوٹس ایک طرف رکھے تھے، مگر اس کی سوچیں کہیں اور الجھی ہوئی تھیں۔
“اے اللہ… کیا یہ سب میری کسی خطا کی سزا ہے؟”
وہ نائٹ ڈیوٹی کے سنسان لمحوں میں اپنے رب کے حضور دل ہلکا کر رہا تھا۔
ہلکی مدھم روشنی میں ڈوبا ہاسپٹل کا کمرہ… دیوار کے کونے میں لگی گھڑی کی ٹِک ٹِک سنائی دے رہی تھی۔ کھڑکی کے شیشوں پر رات کی نمی چپکی ہوئی تھی،
زیغم کرسی سے پشت ٹکائے، آنکھیں خلا میں گاڑے بیٹھا تھا۔
“میرے زیغم بھائی… جو مجھ سے محبت کرتے تھے، جنہوں نے میری خاطر میرے ماں باپ کو معاف کر دیا۔۔وہ ماں باپ جو کسی بھی طور معافی کے لائق نہیں تھے۔ کیا کچھ نہیں سہنا پڑا انہیں، مگر پھر بھی وہ صبر کر گئے۔ میری خاطر، میرے رشتوں کو معاف کر دیا۔
لیکن اب… اچانک ان کا دل اتنا سخت کیسے ہو گیا؟ کیوں وہ مجھ سے بات تک نہیں کرنا چاہتے؟ کیسے ایک دم یہ کہہ دیا کہ وہ توقیر کی فیملی میں سے کسی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتے؟ کوئی رشتہ نہیں ہے؟
کیا میری صرف اتنی خطا ہے کہ میں توقیر لغاری کے گھر پیدا ہوا؟ کیا یہ میری غلطی ہے؟ کیا اس میں میرا کوئی اختیار تھا؟”
ہاسپٹل کے خاموش کیبن میں وہ اکیلا بیٹھا اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا۔اس وقت اسے کوئی دیکھتا تو پاگل سمجھتا ۔۔کبھی وہ خاموش ہو کر دماغ میں سوچنے لگتا تو کبھی بڑبڑا کر باتیں کرنے لگتا تھا۔
اس کے دماغ میں ہزاروں سوال تھے، مگر جواب کوئی نہیں تھا۔
“زیغم بھائی… ایک بار، بس ایک بار، مجھ سے مل لیں۔ میں آپ کے پیروں میں گر جاؤں گا، آپ سے معافی مانگ لوں گا… مگر مجھے میری غلطی بتائیں تو صحیح کہ آخر مجھ سے کیا خطا ہوئی ہے۔
خدارا مجھے اس غلطی کی سزا مت دیں جس میں میرا کوئی اختیار نہیں۔
میں کیسے اس گھر میں پیدا ہوا جہاں لوگوں کے دل توڑنا اور دوسروں کو روند ڈالنا ہیان زندگی ہے؟مگر میرا یہی میرا قصور ہے کہ میں ان کے خاندان کا حصہ ہوں … مگر یہ وہ قصور ہے جس کا میں کفارہ بھی نہیں دے سکتا۔اگر میرے بس میں ہوتا تو میں اپنے نام کے ساتھ سے توقیر لگا رہی ہٹا کر، سلطان لگاری لگا لیتا، مگر کچھ چیزیں انسان کے چاہنے سے نہیں ہوتی۔اتنی سی بات آپ کیوں نہیں سمجھتے؟”وہ خاموش ہو گیا۔ مدھم سی روشنی میں اس کا چہرہ اور بھی تھکا ہوا لگ رہا تھا۔
اس کے دل کے درد نے آنکھوں کو نم کر دیا تھا۔ تھکن اور جواب نہ ملنے کی کسک نے اسے چپ کرا دیا۔ کچھ لمحے یونہی بیٹھا رہا، پھر آنکھیں موند لیں… جیسے سکون کی تلاش میں نیند کو پناہ بنا رہا ہو۔
°°°°°°°°
ڈیڑھ مہینے بعد۔۔۔۔
رات کے آخری پہر کی خاموشی میں گلی کے ٹوٹے فرش اور بوسیدہ دیواریں بھی جیسے نیند میں ڈوبی تھیں۔ اس تنگ و تاریک کالونی کے بیچ وہ چھوٹا سا مکان یوں کھڑا تھا جیسے برسوں سے وقت کا قیدی ہو۔ کمرے میں دو سنگل بیڈ،اور نیم اندھیرے میں سوئی ہوئی دو لڑکیاں۔گہری نیند میں بےخبر۔
اچانک دروازے پر بھاری دستک گونجی۔
دھک… دھک… دھک…
یہ آواز جیسے اندھیری رات کو چیرتی ہوئی ان کے کانوں میں پیوست ہو گئی۔ ایک لمحے میں نیند غائب، اور دل سینے میں تیزی سے دھڑکنے لگا۔ خوف کی لہر دوڑ گئی… جیسے کوئی ان کے کمرے کے دروازے کے اس پار چھپ کر سانس لے رہا ہو۔۔۔اکیلی عورتیں رات کا پہر سناٹا اور دروازے کا کھٹکنا خود میں ہی ایک خوف کا عالم پیدا کر رہا تھا۔۔
ماہ رخ تو بس چونکی تھی، مگر مہرو فوراً اس کے ساتھ لپٹ گئی۔ مہرو کا دل تو کچے شیشے جیسا تھا۔معصوم، نازک… ذرا سی آہٹ پر کانپ جانے والا۔ اور یہ تو رات کا وہ پہر تھا جب سناٹا اپنے زور پر ہوتا ہے، اور ہر آواز کئی گنا ہولناک لگتی ہے۔ دروازے کی کھٹکھٹاہٹ نے جیسے کمرے کی درو دیوار ہلا کر رکھ دی ہو۔
ماہ رخ نے گھبراہٹ میں چادر کو سینے سے اور زور سے لپیٹ لیا، جبکہ مہرو کی کپکپاہٹ اس کے بازوؤں تک محسوس ہو رہی تھی۔ باہر کون تھا؟ اور اس ویران گلی میں اس وقت کون آ سکتا تھا؟یہ سوال دونوں کے دماغ میں چل رہا تھا مگر لب خاموش تھے۔۔
ماہ رخ نے مہرو کو اپنے بازوؤں میں تھام کر نرم لہجے میں کہا،
“مہرو میری جان، کچھ نہیں ہوگا… تم آرام سے کمرے میں بیٹھو، اندر سے کنڈی لگا لو۔ میں دیکھ کر آتی ہوں باہر کون ہے۔”
“نہیں آپی، آپ مت جائیں!”
مہرو کی آواز لرز رہی تھی۔ “مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے… اگر آپ کو کچھ ہو گیا تو میں کہاں جاؤں گی؟ میرا تو کوئی بھی نہیں ہے۔”
اس کی آنکھیں نم ہو گئیں تو ماہ رخ نے پیار سے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔
“ششش… اللہ تعالیٰ ہے نا ہمارے ساتھ۔ تم ہی تو کہتی ہو کہ اللہ اپنے بندوں کی خود حفاظت کرتا ہے۔ جب ہمارا اللہ ساتھ ہے تو ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ تمہیں اللہ پر یقین ہے نا؟”
مہرو نے آہستہ سے سر ہلایا۔
“ٹھیک ہے، پھر میں آپ کے ساتھ چلوں گی۔ میں اکیلی نہیں رہوں گی۔”
وہ اس لمحے ایک ضدی سی بچی لگ رہی تھی۔۔۔
ماہ رخ نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا، “چلو۔”
لیکن اگلے ہی لمحے دروازے پر دوبارہ “ٹھک ٹھک” ہوئی۔ دونوں بیڈ سے اتر کر چپل پہن رہی تھیں کہ دروازے کی کھٹکھٹاہٹ نے ان کے کلیجے حلق میں پہنچا دیے۔
پھر یکدم، سناٹے کو چیرتی ہوئی فون کی بیل بجی۔ مہرو کی تو خوف سے چیخ نکل گئی۔
“ششش… کچھ نہیں ہوا، فون آیا ہے۔”
ماہ رخ نے اسے سینے سے لگایا۔ مہرو کا چھوٹا سا دل اس زور سے دھڑک رہا تھا جیسے پسلیاں توڑ ڈالے گا۔ خود ماہ رخ بھی گھبرا چکی تھی، مگر اس کا خوف صرف مہرو کے لیے تھا۔
فون اٹھاتے ہی اسکرین پر “لالی” کا نام دیکھ کر ماہ رخ نے گہری سانس لی۔
“لالی کا فون ہے، ڈرو مت۔”
کان سے لگاتے ہی سخت لہجے میں بولی، “کیا تکلیف ہے رات کے اس پہر؟”
“آئے ہائے… کبھی تو غصہ نہ کیا کر، ہمیشہ بھڑکتی رہتی ہے۔ دروازہ کھولو۔”
لالی کی زنانہ سی آواز آئی۔
“اس کا مطلب تم باہر ہو؟” ماہ رخ نے تجسس اور غصے سے پوچھا۔
“ہاں، میں ہوں۔ کھول دے، ورنہ ابھی کانت پھلانگ کر اندر گھس آؤں گی۔”
ماہ رخ نے فون کاٹتے ہوئے مہرو کو کہا، “پریشان نہ ہو، لالی ہے۔ اللہ خیر کرے، پتہ نہیں اس وقت کیوں آئی ہے۔ بس دعا کرنا حسینہ کو ہماری خبر نہ ہو گئی ہو۔”
اس نے مہرو کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا۔
“دیکھ، ایک کام کر۔ میرے ساتھ باہر چل اور دروازے کے پچھلی طرف کے کونے میں چھپ جا۔ اگر ذرا سا بھی خطرہ محسوس ہو تو موقع دیکھتے ہی سٹور کا پچھلا دروازہ کھول کر نکل جانا۔ اگر میں زندہ رہی تو تجھ تک پہنچ جاؤں گی، لیکن تو میرا انتظار نہ کرنا۔”
“میں آپ کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گی!”
“مہرو… پاگل مت بن۔ تو خود کہتی ہے نا کہ اپنے سائیں کی عزت ہے؟ اگر حسینہ کے ہاتھ لگ گئی تو یہ عزت نہیں بچے گی۔ ہم اس گند بھری دنیا سے، سے بڑی مشکل سے نکلے ہیں۔ ہر لمحے موت سر پر منڈلاتی ہے۔ اور یاد رکھ، اگر پکڑی گئی تو تیری معصومیت نوچ لی جائے گی۔”
مہرو کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ نہ وہ اکیلی جانا چاہتی تھی، نہ تو اس میں ہمت تھی۔ راستوں کا پتہ، منزل کا علم، یا دنیا داری کا تجربہ۔اس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ تو پنجرے میں پلی نازک سی چڑیا تھی، جسے پرواز کا ہنر تک نہیں آتا۔مگر
ماہ رخ کہ زبردستی کہنے پر اس نے ہاں میں سر پھیلا دیا تھا۔۔
“شاباش، چلو۔” ماہ رخ نے جلدی سے خود چادر اوڑھ لی اور مہرو کو بھی چادریں اڑھائیں اور مہرو کو پچھلی دیوار کے قریب لے گئی، جہاں سے سٹور کا دروازہ باہر کو کھلتا تھا۔۔مہرو کو چھپا کر وہ دروازے کے قریب ائی۔
“لالی تو ہے باہر؟”
“ہاں ہاں، میں ہی ہوں۔ کھول دے دروازہ، لگتا ہے آنکھ ہی نہیں کھل رہی تیری!”
ماہ رخ نے گہری سانس لی، ایک لمحے کو مہرو کی طرف دیکھا جو خوف میں جمی کھڑی تھی، پھر ہولے سے دروازہ کھول دیا۔
جیسے ہی کنڈی کھلی، لالی دھڑ دھڑ کرتی اندر یوں گھسی جیسے بھری الماری کا دروازہ کھلتے ہی کپڑے دھڑام سے گر پڑیں۔
“اتنی دیر کیوں لگا دی کنڈی کھولنے میں؟”
وہ اندر آتے ہی سوال داغ چکی تھی۔
ماہ رخ کی نظریں اچانک اس کے پیچھے کھڑے اجنبی چہروں پر پڑیں تو اس کا دل ایک لمحے کو جیسے بند ہو گیا۔
“تیرے ساتھ یہ آدمی کون ہیں؟” اس نے سنبھلنے کی کوشش کرتے ہوئے گھبرا کر پوچھا۔
لالی کے لبوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ آئی۔ “گھبرانے کی ضرورت نہیں… ابھی سب بتاتی ہوں۔”
ماہ رخ کے چہرے کا رنگ اڑ چکا تھا، مگر آنکھوں میں ایک اور ہی کیفیت تھی۔وہ نظر بچا کر مہرو کی طرف بار بار دیکھ رہی تھی، جیسے اسے اشارہ دے رہی ہو کہ جلدی سے نکل جا۔
“لالی… مجھے تجھ سے یہ امید نہیں تھی۔ تو یہاں چھاپہ ڈلوانے کے لیے آئی ہے؟ میں نے تجھ پر کتنا بھروسہ کیا، مگر تو کمینے کی کمینی نکلی!”
لالی ایک قدم آگے بڑھی۔ “ارے نہیں، میری بات تو سن…؟”
“دور رہنا مجھ سے، دفع ہو! اتنے سارے لوگوں کو ساتھ لے کر آ گئی اور کہتی ہے کہ میں تیری بات سنو۔میری غلطی تھی کہ میں نے تجھ پر بھروسہ کیا۔؟”
ماہ رخ کا لہجہ کانپ رہا تھا۔ خوف اور غصے نے اس کی سانس پھلا دی تھی۔
لالی کے پیچھے دو آدمی خاموش کھڑے تھے، مگر ان کے ہاتھوں میں تھامے اسلحے کی دھندلی سی جھلک بھی کسی کے سینے میں سانس جما دینے کے لیے کافی تھی۔
ان کی نظریں ایسے تیز تھیں جیسے اندھیرے میں بھی شکار کو دیکھ لیں،ماہ رخ کو خطرہ اپنے سر پر منڈلاتا ہوا صاف نظر آرہا تھا۔۔
رات کا آخری پہر تھا۔
کالونی کا سب سے پچھلا گھر سنسان پڑا تھا،اور اس کے آگے والے گھر میں مہرو اور ماہ رخ رکی ہوئی تھی۔
باہر گلی میں آوارہ کتوں کی بھونکنے کی آوازیں وقفے وقفے سے گونج رہی تھیں، جیسے وہ بھی کسی انہونی کو بھانپ کر بےچین ہوں۔
ماہ رخ کا دل ایک ہی خیال پر اٹکا ہوا تھا ۔کہ یہ لوگ مہرو کو نہ ڈھونڈ لیں۔ان کی نظر چھپی ہوئی مہروں پر نہ پڑ جائے۔اسے اپنی جان کی ذرا سی بھی فکر نہیں تھی۔
کونے میں، دروازے کے پیچھے، مہرو سانس روکے بیٹھی تھی۔
باہر کے قدموں کی چاپ اور اسلحے کی کھنک جیسے ہر لمحہ قریب آ رہی تھی…
ایک پل کو لگا،
لالی کچھ اور کہنا ہی چاہتی تھی کہ پیچھے کھڑے مسلح افراد آہستہ آہستہ اندر داخل ہو گئے۔
ماہ رخ کے لیے یہ لمحہ جیسے وقت کا آخری پڑاؤ تھا۔موت کا سایہ صاف آنکھوں کے سامنے کھڑا تھا۔
°°°°°°