Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:60

رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر: 60
✦✦✦ ✍︎ ✦✦✦

“ویلکم، توقیر سائیں… ویلکم! بہت دور تک بھاگ لیا ، مگر اب وقت ہے تمہارے انجام کا۔”
زیغم سلطان کے لبوں پر تنزیہ مسکراہٹ تھی، اور آنکھوں میں ایک ایسی گہری جھلک، جو غصے اور فیصلہ کن ارادے کا مرکب لگ رہی تھی۔
توقیر کی آنکھیں خوف کے مارے پھٹی ہوئی تھیں، کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ جب ظالم کو اپنا انجام اپنے سامنے نظر آتا ہے، تو نہ اس کی سانس ٹھیک سے چلتی ہے اور نہ آنکھیں سکون سے کچھ دیکھ پاتی ہیں۔ ہر لمحہ اس کے لیے ایک عذاب بن چکا تھا، اور ہر دھڑکن میں موت کی دھمک واضح سنائی دے رہی تھی۔مگر پھر بھی کچھ لوگ ہوتے ہیں جو اپنا آپ منوانے کی آخری کوشش کرتے ہیں ان میں سے ایک شہرام بھی تھا۔

“زیغم، اپنی انا کو تھوڑی سنبھال! یہ گھر اب تمہارا نہیں رہا۔سب کچھ تابش عدنان کے نام ہو چکا ہے۔ سمجھ گئے؟”

“شہرام کی بات سن کر زیغم سنجیدہ ہو گیا، مگر مائد ہنس پڑا۔ وہ تو سب کچھ جانتا تھا اور ہر لفظ میں چھپی سچائی کو فوراً سمجھ گیا تھا۔”
“مجھے لگتا ہے شاید تم ٹھیک طرح سے اپڈیٹ نہیں ہوئے،زیغم کو اس کی اکڑ پر حیرانی ہو رہی تھی۔
میرے خیال سے تم دونوں باپ بیٹوں کو مرنے سے پہلے پوری سچائی بتا دینی چاہیے۔وہ اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے بول رہا تھا ٹانگ پر ٹانگ جمائے انداز بالکل پرسکون تھا۔مگر زیغم کے لہجے میں ایسی سنجیدگی تھی جسے محسوس کرتے ہوئے توقیر شہرام قدسیہ نایاب سب کے پیروں تلے سے زمین کھسک رہی تھی۔۔
“تم لوگوں کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے ۔۔
تمہارے ساتھ تمہاری اپنی عورتیں تک وفادار نہیں، انہوں نے تمہیں سچ تک بتانا گوارا نہیں کیا۔۔پھر تم نے اس تابش عدنان سے کیسے توقع لگائی کہ وہ تمہیں صحیح رپورٹ دے گا؟”
“اور تابش تو ایسا انسان ہے جو اپنے مفاد کے لیے اپنے ہی ماں باپ کو دھوکہ دے سکتا ہے۔ تم لوگ کیا چیز ہو؟ بالکل تمہاری برادری کا انسان ہے۔ اس سے صرف پیسے کا لالچ ہے۔ جہاں پیسے کی خوشبو آتی ہے، وہ کتے کی طرح دم ہلاتا ہوا وہاں بھاگا چلا جاتا ہے۔زیغم کا لہجہ سنجیدہ تھا، مگر غصے کی شدت سے بھرپور۔

“چلو کوئی بات نہیں میں ، تمہیں اپڈیٹ کر دیتا ہوں… تمہارا تابش عدنان اس وقت جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے۔ جانتے ہو کیوں؟ کیونکہ اس نے زیغم سلطان کی پراپرٹی ہڑپ کرنے کی کوشش کی۔ تو تم کیسے سوچ سکتے تھے کہ میں اسے آسانی سے چھوڑ دوں گا؟ اور جس تابش عدنان کے سر پر تم لوگ اچھل رہے تھے اور خود کو طاقتور سمجھ رہے تھے، وہ آج تک عدالت میں ایک بھی کیس میرے سامنے جیت نہیں سکا ۔جب بھی میرا اور اس کا آمنا سامنا ہوتا ہے میرے ساتھ کیس لڑتے ہوئے اسے موت پڑ جاتی ہے۔
بلکہ کچھ برسوں سے یہ صورتحال اس قدر واضح ہو گئی تھی کہ جب اس کے اپنے موکل یہ بتاتے کہ مقابل پارٹی کا وکیل زیغم سلطان ہے، تو وہ کیس چھوڑ دیتا تھا۔

میرے خیال میں تم لوگوں کو میری باتوں سے اندازہ ہو جانا چاہیے کہ وہ کتنا بہادر ہے۔ جو شخص میرے سامنے کھڑے ہونے کے قابل نہیں،تم لوگ اس کا مقابلہ مجھ سے کروانا چاہتے تھے۔
واہ، عقل کی داد دینی چاہیے تم لوگوں کی! پہلے کم از کم چھان بین تو کروا لیتے کہ آیا وہ واقعی اتنا مضبوط ہیں کہ زیغم سلطان کا مقابلہ کر سکیں۔

زیغم کی آواز نہ تیز تھی، نہ مدھم، مگر سرد اور سنجیدہ تھی، جو کسی کو بھی اپنی جگہ سے ہلانے کے لیے کافی تھی۔

“افسوس تم لوگوں کے خواب ٹوٹ چکے ہیں۔۔۔ پتہ نہیں تم لوگوں کو اس نے کس کہانی سے قائل کیا کہ تم اس سے امیدیں لگائے بیٹھے تھے۔”

یہ بات سن کر توقیر اور شہرام دونوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ دونوں ایک دوسرے کی جانب حیرانی اور خوف کے ملے جلے احساس کے ساتھ دیکھنے لگے۔ ان کے چہروں پر گھبراہٹ واضح تھی، اور ماتھے پر پسینے کی بوندیں نمودار ہو رہی تھیں۔
اب توقیر اور شہرام کو اپنی عقل پر افسوس ہو رہا تھا، جنہوں نے نایاب کے بہکاوے میں آ کر ایک گدھے پر اپنی امیدیں لگا دی تھیں۔ نایاب ہی تو اسے ڈھونڈ کر لائی تھی، اور پھر تابش نے ایسے ایسے سہانے خواب دکھائے کہ وہ ساری پراپرٹی قانونی طور پر پہلے اپنے نام کرے گا، پھر ان کے نام کر دے گا۔ نہ جانے اس نے قانون کے کون کون سے پیچیدہ پہلو سمجھائے کہ پوری فیملی بے وقوف بن کر اس کے پیچھے چل پڑی، اور خود کو ہوا میں اڑتا ہوا محسوس کرنے لگی۔ مگر آج، جب حقیقت سے پردہ اٹھا، تو سب زمین سے کئی فٹ نیچے گر گئے تھے۔

کیا ہوا؟ تم لوگوں کے تو ابھی سے پسینے چھوٹنے لگے ہیں؟ ابھی تو اور بہت کچھ ہے بتانے کو۔”
زیغم اپنی جگہ سے اٹھ کر قدم بڑھاتا ہوا توقیر کے قریب جا کھڑا ہوا، ہر قدم میں سنجیدگی اور فیصلہ واضح تھا۔

توقیر نے گھبراہٹ میں اس کی طرف دیکھا، مگر خود کو مضبوط دکھانے کی آخری کوشش کرتے ہوئے بولی۔
“کیا کرو گے؟ گولی مارو گے؟ مار دو… اس سے زیادہ کیا کر سکتے ہو؟ کیونکہ اگر تم نے مجھے چھوڑ دیا، تو پھر میں تمہیں جینے کے لائق نہیں چھوڑوں گا۔”

زیغم نے ایک پرسکون مگر طاقتور انداز میں جواب دیا۔
“واہ واہ، توقیر! سائیں … واہ! یہی جذبہ ہونا چاہیے۔ تم جیسے لوگوں پر یہ جذبہ ہی سوٹ کرتا ہے۔ دل میں خوفِ خدا نہیں، انصاف کا پتہ نہیں، سچ اور جھوٹ کی پرواہ نہیں… جہنم کے لیے راستہ تم لوگوں نے خود تیار کر لیا ہے۔ مگر افسوس، اب بھی تمہیں نہیں معلوم کہ تم کس راہ پر چل رہے ہو۔ اور ایٹیٹیوڈ کمال ہے! تم لوگوں کو کس نے کہا کہ میں گولی ماروں گا؟ نہ، توقیر سائیں… نہ! جہاں تمہاری سوچ ختم ہوتی ہے، زیغم سلطان کی سوچ وہاں سے شروع ہوتی ہے۔ میں بس حقیقت سے آگاہ کروں گا، ایک ایک حقیقت سے پردہ اٹھا کر دکھاؤں گا اور اس کے بعد بیٹھ جاؤں گا پھر دیکھوں گا کہ تم میں کتنی غیرت ہے غیرت ہے بھی یا نہیں کہ آخری پتہ کھلنے کے بعد پتہ چل جائے گا۔
باقی جو فیصلہ ہے، وہ آپ کریں گے۔ آپ گھر کے بڑے ہیں، میں بھلا فیصلہ کیسے کر سکتا ہوں؟ فیصلہ تو میں آپ پر چھوڑوں گا۔”زیغم کبھی غصے سے تمیز کی دہلیز پار کرتے ہوئے تم کہتا تو کبھی اسے عزت کی کرسی پر بٹھاتے ہوئے آپ کہہ رہا تھا۔۔
زیغم کے اندر ایک طوفان چل رہا تھا جسے روکنے کی وہ بھرپور کوشش کر رہا تھا ورنہ دل کا یہ عالم تھا دل کہتا تھا کہ فوراً سے پہلے اس پوری فیملی کو شوٹ کر دے مگر وہ ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا وہ ایک ایسی سزا دینا چاہتا تھا جس کے یہ فیملی حقدار تھی۔۔۔

زیغم کے آخری الفاظ سن کر وہاں کھڑے لوگ چونک گئے۔کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ یہ سب کیوں بول رہا ہے۔؟

ذرام آنکھیں بند کر کے کھڑا تھا، مگر اب حیرت اور خوف کے مارے اس نے آنکھیں کھولیں۔
زیغم کے لبوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی، ایک ایسی مسکراہٹ جو فیصلہ کن ارادے اور مکمل پختگی کا احساس دلا رہی تھی۔
بس… اب فیصلہ کرنے کا وقت آ پہنچا تھا، اور عمل کا لمحہ قریب تھا۔
تاریخ میں ایک ایسا انجام لکھا جانے والا تھا کہ جسے یاد کر کے لوگوں کی روح کانپ اٹھے۔ ایسا انجام کہ ہر صاحبِ دل انسان، ہر وہ شخص جو اندھیری دنیا میں روشنی کی قدر جانتا ہو، کبھی کسی پر ظلم کرنے کی جرأت بھی نہ کرے۔ مگر یاد رکھو، یہ خوف صرف دل رکھنے والوں کے لیے ہے، کیونکہ جس دل میں خوفِ خدا نہیں، اس پر دنیا کی کوئی طاقت اثر نہیں کرتی۔۔
زیغم سلطان توقیر لغاری کے بے حد قریب پہنچے وقت رک گیا۔ سب کی نظریں انجام پر محفوظ تھیں؛ کسی کو نہیں پتہ تھا زیغم کیا کرنے والا ہے۔۔۔

زیغم توقیر کے کان کے قریب جھک گیا، جیسے کوئی بہت بڑا راز بتانے جا رہا ہو۔ سب حیران تھے کہ آخر ایسا کیا راز ہے جسے وہ اس کے کان میں بتا رہا ہے۔

جیسے جیسے وہ اس کے کان میں کچھ بتا رہا تھا، توقیر کی آنکھیں ابل کر باہر آنے لگیں اور وجود کپکپا اٹھا۔ توقیر کی کیفیت دیکھ کر پتہ چل رہا تھا کہ بات معمولی نہیں، مگر وہ کیا بول رہا تھا، یہ بات وہاں کھڑے کسی انسان کو سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
کیونکہ شہرام کو بھی رفیق نے تھوڑی دوری پر پیچھے سے ہاتھ پکڑے تھام رکھا تھا، تاکہ وہ کوئی چالاکی نہ دکھا سکے۔اس لیے شہرام اور توقیر میں بھی فاصلہ قائم تھا وہ بھی یہی سن سکتا تھا کہ آخر دونوں کے بیچ میں کیا چل رہا ہے۔

تقریباً دس منٹ کا دورانیہ گزر گیا۔ زیغم سلطان توقیر سے دور ہو گیا اور واپس جا کر پرسکون انداز میں اپنی کرسی پر بیٹھ گیا، جہاں سے وہ اٹھ کر کھڑا ہوا تھا۔ توقیر نے کچھ دیر کے لیے آنکھیں بند کیں، اس کا وجود کپکپا رہا تھا۔

ایک نظر اس نے قدسیہ پر ڈالی، جیسے سارے فساد کی جڑ وہیں ہو۔ توقیر کو اس بات کا پتہ چل گیا۔ ایک نظر اپنے بیٹے شہرام پر ڈالی، اور ایک نظر نایاب پر بھی۔
آخر کیا ہونے والا تھا؟ یہ بات کسی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
“تم لوگ اتنے غدار نکلو گے؟ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا…”
توقیر کی درد زدہ آواز فضا میں گونجی، ہر لفظ سب کی سماعت سے ٹکراتا ہوا دلوں میں اتر گیا۔
توقیر کی نظر خاص طور پر قدسیہ اور شہرام پر گردش کر رہی تھی۔ مطلب صاف تھا،یہ الفاظ خاص کر ان دونوں کے لیے کہے گئے تھے۔
“ہم نے کیا غداری کی ہے اور کیا پھونک دیا ہے اس نے تمہارے کان میں جو تم ہم پر بھڑک رہے ہو۔ ہم تو خود عذاب میں پڑے ہوئے ہیں، خود تو باپ بیٹا یہاں سے بھاگ نکلے، اور ہم دونوں کی پرواہ نہیں کہ یہاں پر زندہ ہیں یا مر گئی ہیں۔ قدسیہ بھی برس پڑی تھی۔قدسیہ کو تجسس ہو رہا تھا کہ آخر زیغم نے اس کے کان میں ایسا کیا کہہ دیا کہ توقیر ان پر اتنا بگڑ رہا ہے۔

پرواہ! سچ میں، میں نے تم لوگوں کی پرواہ نہیں کی۔ توقیر نے قدسیہ سے سوال کیا۔اگر میں تیری پرواہ نہ کرتا تو آج تو اس دنیا میں نہ ہوتی۔۔۔تم تو وہ ناگن ہو جس نے مجھے بار بار ڈسا۔ اور ایک میں پاگل تھا، تمہیں اپنی بچوں کی ماں سمجھ کر ہمیشہ ساتھ رکھا۔قدسیہ کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ توقیر کو آخر ہوا کیا ہے اس لیے وہ خاموش کھڑی تھی۔۔
“پہیلیاں بجھانے سے بہتر ہے کہ بتا دو کہ آخر میں نے کیا کیا ہے۔۔۔

” تم تو ایسی کم ظرف ہو کہ سب کچھ تمہارے پاس تھا۔ نام، دولت، خاندان۔ توقیر لغاری کی بیوی کے نام سے صرف تمہیں پہچانا جاتا تھا، مگر پھر بھی تم نے سمرا سے ہمیشہ اپنا مقابلہ کیا جبکہ وہ کبھی بھی تمہارا مقابلہ کرنا ہی نہیں چاہتی تھی۔اس سے محبت میں نے کی تھی غلطی میری تھی مگر سزا صرف اس کو ملی۔

تم نے میری محبت کو ایسے کچل دیا کہ میں خود پر ہی شرمندہ ہوں۔ تم نے سمرا کے خلاف ایسا جال بچھایا کہ میں اسے ہی غلط سمجھنے لگا۔تم نے حالات کو کچھ اور ہی رنگ دے دیا اس پر الزام لگوایا اور میری محبت کو میرے ہاتھوں ہی مروا دیا۔
آخر کیا ملا تمہیں یہ سب کچھ کر کے؟توقیر قدسیہ پر چلا رہا تھا وہ بولنے پر آیا تو اس کے صبر کے بعد ٹوٹنے لگے تھے۔
توقیر کا ٹوٹا ہوا لہجہ ہر لفظ کے ساتھ لرز رہا تھا، دل کے اندر کی چبھن اور غصہ صاف محسوس ہو رہا تھا۔ قدسیہ حیران کھڑی تھی، سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ آج توقیر کو کون سا دورا پڑ گیا ہے جو وہ پرانی باتیں دہرا رہا ہے۔ ہر لفظ میں ایک درد کی گونج تھی، ہر سانس میں ایک شکست کی گہری بازگشت، اور فضا میں ایک سنجیدہ کشمکش چھائی ہوئی تھی۔

“میں نے پوچھا ہے کہ کیا کہا ہے اس نے تمہارے کان میں، اور تم مجھے اپنے پرانے عشق کی داستان سنانے لگ گئے ہو؟ اور میں نے ایسا کیا غلط کیا ہے؟
میری جگہ کوئی بھی بیوی ہوتی، وہ یہی کرتی۔ کوئی بھی اپنی سوتن کو برداشت نہیں کرتی۔ میں نے بھی اپنا گھر بچانے کے لیے جو کیا، بالکل ٹھیک کیا۔”

قدسیہ کے چہرے پر کوئی شرمندگی کے تاثرات نہیں تھے۔

گھر بچانے کے لیے تم نے اگر صرف سمرا کے لیے جال بھنا ہوتا، تو شاید میں اس زہر کو آج بھی خاموشی سے پی لیتا میں تو برسوں سے تمہاری چالاکیوں کو دیکھ کر بھی چپ ہوں۔سمرا کی موت کا راز تو برسوں پہلے ہی مجھ پر کھل گیا تھا۔ میری بیٹی کو تم نے مجھ سے الگ کر دیا میں تو یہ بھی جان گیا تھا پھر بھی خاموش رہا۔۔۔
“تو پھر آج اتنا چلانے کی کیا ضرورت ہے؟ خوامخواہ اپنے حلق کو زحمت دے رہے ہو۔ مدے کی بات پر آؤ، فی الحال تو یہاں جو تماشہ بنا ہوا ہے، اسے ختم کرو۔ تم اپنا پرانا لیلیٰ مجنوں کا راگ بعد میں سنا لینا ۔”
“آج صرف چلاؤں گا نہیں، آج میں وہ کر جاؤں گا جس کی امید شاید تم لوگوں نے کبھی نہیں کی ہوگی۔ توقیر کے لہجے میں ایک عجیب سی تپش تھی، ایک عجیب سی آگ، جسے آج سے پہلے کبھی کسی نے محسوس نہیں کیا تھا۔”

” جو کچھ تم نے میری بیٹی کے ساتھ کیا، وہ میں کبھی نہیں بھول سکتا۔ تم نے کہا کہ میری بیٹی کو مار دیا گیا ہے۔مجھے تمہاری بات پر یقین نہیں تھا، میں نے کہاں ،کہاں نہیں ڈھونڈا اسے؟ مگر تم، ظالم عورت، ہمیشہ یہی دعوی کرتی رہی کہ وہ مر گئی ہے، حالانکہ وہ زندہ تھی۔ باپ کے ہوتے ہوئے، وہ در بدر کی ٹھوکریں کھاتی رہی۔کیا بگاڑا تھا اس معصوم نے تمہارا۔توقیر کے لہجے میں غصہ اور درد ایک ساتھ چھلک رہے تھے۔

قدسیہ کی آنکھیں ابل کر باہر آنے لگیں۔ نایاب اور شہرام بھی حیران و دہشت زدہ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ ہر سانس میں خاموشی، ہر لمحے میں تھرتھراہٹ۔ فضا جیسے سانسیں روک کر سب کچھ سن رہی تھی۔ یہ حقیقت، ایک نئے موڑ کی طرح، سب کے سامنے کھل گئی تھی۔

زرام حیران تھا۔ اس کے لیے تو یہ ساری کہانی ہی نہیں تھی۔ وہ کچھ نہیں جانتا تھا، جبکہ توقیر نے برسوں پہلے شادی کی تھی اور اس کی ایک اولاد بھی تھی۔ شہرام اور نایاب کو علم ضرور تھا، مگر سب کے لیے یہ کہانی برسوں پہلے ختم ہو چکی تھی۔ آج، جب سب کچھ دوبارہ سامنے آیا، تو ہر آنکھ میں خوف، ہر دل میں سنسنی چھا گئی۔
“تمہیں سب کچھ معاف کر سکتا ہوں مگر اپنی بیٹی کے ساتھ ہوئی نا انصافی کو معاف نہیں کروں گا۔اس کی سزا تم لوگوں کو مل کر رہے گی۔
قدسیہ کے ہونٹ لرز رہے تھے۔ نایاب کے دل کی دھڑکن تیز تھی۔ شہرام کی آنکھیں خوف اور حیرانی کے درمیان جھول رہی تھیں۔ سب سے زیادہ ڈر قدسیہ کو لگ رہا تھا وہ جانتی تھی کہ یہ لمحہ صرف آغاز ہے۔ ایک ایسا آغاز جس میں ہر راز کھلے گا، ہر فیصلہ سامنے آئے گا، اور ہر ظلم کا پتا چل جائے گا۔

“مجھے لگتا ہے اس نے تمہارے کان میں زہر اگل دیا ہے، اسی لیے تم باولے ہو گئے ہو۔ قدسیہ خود سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ توقیر کی باتوں کا کیا جواب دے، وہ بکھلا سی گئی تھی۔”
“یہ ہے تمہاری تمیز؟ شوہر کو باولا کہہ رہی ہو؟ شکر ہے تم نے کتا نہیں کہہ دیا! چلو، اب جب تم نے باولا بول ہی دیا ہے تو اب میں کاٹ بھی لیتا ہوں، کیونکہ تم تو اسی لائق ہو۔اور تمہارا یہ بیٹا بھی۔ توقیر ایک نظر غصے سے بھری شہرام پر ڈالی ۔
اسے آج اپنی حیثیت کا احساس ہو رہا تھا کہ اس کی اوقات اس کی بیوی کی نظر میں کیا ہے۔ یہ نہیں کہ اسے پہلے علم نہیں تھا، مگر آج سمرا، اپنی بیٹی اور سمرا کی بہن کا سچ جان کر، توقیر شاید اندر سے ٹوٹ گیا تھا۔”

“باولا نہ کہوں تو اور کیا کہوں؟ فضول میں برسوں پرانی باتوں کو دہرا رہے ہو۔ جو چیز ختم ہو چکی ہے، اسے کیوں یاد کرتے ہو؟ اور تمہاری بیٹی تو مر چکی تھی۔ اب اگر تم تک کوئی جھوٹی افواہ پہنچی ہے تو اس کا میں کچھ نہیں کر سکتی۔” قدسیہ کو آج بھی اپنی خودغرضی اور اپنے گناہوں کا احساس نہیں تھا۔

“”میری بیٹی زندہ ہے! اور صحیح سلامت ہے! خدا کا شکر ہے کہ وہ صحیح ہاتھوں میں ہے!”توقیر کی بات نے اس کے چیخنے کے انداز نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ وہ سچ بول رہا ہے ۔مگر قدسیہ کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی جس بچی کو مصیبت سمجھ کر،اس نے اپنا دامن برسوں پہلے چھڑا لیا تھا آج برسوں بعد توقیر اس کے زندہ ہونے کا اعلان کر رہا تھا۔یہ خبر قدسیہ کے ساتھ ساتھ شہرام اور نایاب کے لیے بھی دہلا دینے والی تھی۔

” توقیر نے ایک نظر زیغم سلطان کی جانب دیکھا۔ آج پہلی بار توقیر کے دل نے گواہی دی کہ زیغم سلطان ایک اچھا انسان ہے۔ واقعی اس کی بیٹی محفوظ ہاتھوں میں ہے، غیرت مند ہاتھوں میں ہے۔ یہ ساری گواہی اس کے اپنے دل نے دی تھی، مگر مجبوری یہ تھی کہ وہ زبان سے کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔ کیونکہ جس نے یہ راز بتایا تھا کہ مہرو نساء دراصل اس کی اور سمرا کی بیٹی ہے، اسی نے یہ شرط بھی عائد کر دی تھی کہ خبردار اگر مہرو کا نام اس کی زبان پر آیا تو وہ زندہ درگور کر دیا جائے گا۔ یہی وجہ تھی کہ توقیر چاہ کر بھی اپنی زبان پر مہرو کا نام نہیں لا سکتا تھا۔توقیر کو یہ سب کچھ کسی اور نے نہیں زیغم سلطان نے بتایا تھا۔
مگر آج توقیر کے دل نے زیغم سلطان کی ایمانداری، اس کی نیک نیتی، بہادری اور غیرت مندی کو دل سے تسلیم کر لیا تھا۔ لیکن اب تسلیم کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ کہتے ہیں کہ سب کچھ لٹ جانے کے بعد اگر انسان ہوش میں بھی آ جائے، تو اس کا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بار بار موقع دیتا ہے کہ ہم سدھر جائیں، صحیح راستے پر آ جائیں۔ مگر بدنصیب انسان تب سمجھتا ہے جب پلٹنے کا وقت ختم ہو چکا ہوتا ہے۔ توقیر کے پلٹنے کا وقت بھی ختم ہو چکا تھا۔ وہ اب سزا کے دہانے پر کھڑا تھا۔

مگر ڈوبنے سے پہلے اسے ایک ایسا راز معلوم ہو گیا تھا جس نے اندر سے اس کا دل چیر دیا۔ اس کا دل زار و زار رو رہا تھا۔ یہ سچ تھا کہ اس نے سمرا سے محبت کی تھی، اور وہ محبت خالص تھی۔ یہ بھی سچ تھا کہ وہ اپنی بیٹی سے بہت محبت کرتا تھا، وہ اسے ڈھونڈنا چاہتا تھا، جس کی تلاش میں اس نے آخری حد تک کوشش بھی کی۔ مگر بدقسمتی سے وہ اسے نہ پا سکا۔ اور آج جب اسے یہ حقیقت پتہ چلی کہ اس کی بیٹی نے کس حال میں زندگی گزاری۔ایک ایسی بیٹی جس کا باپ روپیہ پیسہ رکھتے ہوئے بھی اسے کچھ نہیں دے سکا۔اپنا نام دے سکا نہ ہی وہ سکھ جو ایک باپ اپنی اولاد کو دیتا ہے۔نہ وہ تحفظ دے سکا جس کی ہر بیٹی خواہش مند ہوتی ہے۔یہ سب جان کر توقیر اندر ہی اندر ٹوٹتا جا رہا تھا۔

انسان کی زندگی میں ایک وقت ضرور آتا ہے جب اسے اپنی ہر کوتاہی اور ہر گناہ کا احساس ہوتا ہے۔مگر اس وقت توبہ کے دروازے بند ہو چکے ہوتے ہیں۔

آج توقیر کو اپنی ہر غلطی کا، ہر خطا کا احساس ہو رہا تھا۔ جس اولاد کو اس نے پالا تھا، وہ سب کی سب دغا باز اور غدار نکلیں۔آج توقیر کو احساس ہو رہا تھا کہ اس نے زندگی میں کوئی اچھا رشتہ نہیں کمایا سب نام کے رشتے تھے۔۔۔

“جھوٹ بول رہے ہو تم! وہ زندہ کیسے ہو سکتی ہے؟ میں نے خود اس کی قبر دیکھی تھی!”
قدسیہ کچھ دیر تو سکتے کے عالم میں کھڑی رہی،مگر پھر ہوش میں آتے ہوئے سوال اٹھایا۔
توقیر لغاری نے خون خوار نظروں سے گھورا۔
“قبر تو اب تم لوگوں کی بنے گی۔وہ بھی میرے ہاتھوں! اگر میں برباد ہو گیا ہوں تو اب تمہیں بھی نہیں چھوڑوں گا!”

وہ ایک جھٹکے سے لپکا اور رفیق کی کمر پر لگی پستول چھین لی۔ حیرانی کی بات یہ تھی کہ رفیق خاموش کھڑا رہا۔گویا یہ موقع جان بوجھ کر دیا گیا ہو، اور اور یہ موقع زیغم سلطان کے حکم پر دیا گیا تھا۔

زارم سکتے میں تھا۔ جو راز کھل رہے تھے وہ ناقابلِ یقین تھے، اور مجرم اس کے اپنے تھے۔ اس نے تو سوچا تھا سزا زیغم دے گا، مگر یہاں تو سب ایک دوسرے کے خلاف کھڑے تھے۔

نایاب اور قدسیہ خوف سے سہمی ہوئیں۔ نایاب ماں کے پیچھے دبک گئی، رومی کی چیخ نکل گئی، اور سلمیٰ ہمیشہ کی طرح کونے میں سمٹ گئی۔
سلطان اور مائد خان مگر مطمئن تھے۔جیسے سب کچھ انہی کی لکھی ہوئی اسکرپٹ کے مطابق ہو رہا ہو۔

“کک… کک… کیا؟ کیا پاگل ہو گئے ہو؟”
قدسیہ لفظ توڑتے ہوئے بولی۔

“ہاں! پاگل ہو گیا ہوں! بالکل پاگل! اتنا پاگل کہ اسے بھی مار سکتا ہوں!”
توقیر نے پسٹل کی نالی سیدھی کی اور لمحے کی مہلت دیے بغیر گولی شہرام کے سینے میں اتار دی۔

سب کچھ اتنا تیزی سے ہوا کہ شہرام کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا۔ وہ لڑکھڑا کر رفیق کے سامنے زمین پر گر پڑا۔ اور اگلے لمحے گھر کی فضا چیخوں سے گونج اٹھی۔

“پاگل ہو گئے ہو؟ اپنے بیٹے کو! اپنے ہی بیٹے کو گولی مار دی!”
قدسیہ چیخ رہی تھی۔

“بابا سائیں! یہ کیا کر دیا آپ نے؟”
نایاب روتے ہوئے چلائی۔

توقیر غرایا۔
“میں تمہارا بابا نہیں ہوں! نہ ہی اس کا باپ! توقیر نے شہرام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا جو خون میں لت پت تڑپ رہا تھا۔
“جب میری معصوم بیٹی، جس کا کوئی قصور نہیں تھا، جب اس نے ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ نہ پایا، تو تم لوگ سکون سے کیسے رہ سکتے ہو؟”

شہرام زمین پر تڑپ رہا تھا، مگر اس میں ابھی کچھ سانسیں باقی تھیں۔ توقیر جھپٹ کر اس کے قریب بیٹھ گیا، پسٹل اس کی چھاتی پر رکھ کر خون خوار نظروں سے گھورتا رہا۔توقیر کے دل میں اس وقت ذرا سا بھی رحم نہیں تھا۔ اس کے سامنے تڑپتا ہوا شخص اس کی بیٹی کی عزت پر داغ لگانے والا انسان تھا۔ اسے شہرام میں اپنا بیٹا ایک لمحے کے لیے بھی نظر نہیں آیا۔

توقیر جس قدر دکھلایا ہوا اور غصے میں تھا ڈر کے مارے کوئی قریب نہ گیا۔ وہ اس وقت بالکل پاگل ہو چکا تھا۔

دراصل زیغم نے اس کے کام میں سرگوشی کرتے ہوئے بڑی تفصیل کے ساتھ مہر النساء کے ساتھ ہوئے ظلم کو بتایا تھا۔جس میں شہرام نے جو رول ادا کیا اسے بڑی تفصیل سے توقیر کو دکھایا گیا تاکہ وہ اپنی بیٹی کی تذلیل کو محسوس ہی نہیں بلکہ نظروں کے سامنے دیکھ سکے۔

یوں لگتا ہے جیسے تقدیر نے اپنی گرفت اور سخت کر دی تھی۔ اگر توقیر کی جگہ کوئی اور باپ بھی ہوتا تو اس کے دل کی چیخ آسمان کو چیر دیتی۔ اپنی ہی بیٹی کی عصمت پر وار برداشت کرنا ممکن نہیں تھا۔ لیکن یہ تو وہی دن تھا جس کی طرف کائنات حساب کھنچ رہی تھی۔ دنیا ایک کٹہرہ ہے اور وقت قاضی۔جس نے دوسروں کی عزتیں مٹی میں ملائیں، آج اپنی عزت خاک ہونے پر تڑپ اٹھا۔

وہ بھول گیا تھا کہ عزت اور رسوائی کا مالک کوئی اور ہے۔ مکافاتِ عمل کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ جس نے دوسروں کی چادر چھینی، اسی کی اپنی چھت اب بے پردہ ہو گئی۔ اور یہی لمحہ اس کے لیے عذاب کی پہلی جھلک تھا۔وہ عذاب جو برحق ہے، اور جس سے کوئی بھاگ نہیں سکتا۔
زیغم، مائد اور رفیق البتہ پرسکون کھڑے تھے۔جیسے یہ سب منظر پہلے سے طے شدہ ہو، جیسے کوئی فلم یا ڈرامے کا سین چل رہا ہو۔ مگر یہ سب حقیقت تھی۔

“تمہیں شرم نہیں آئی؟ میری بیٹی کی عزت پر ہاتھ ڈالا! بے غیرت! بہن تھی تیری، سوتیلی سہی مگر بہن! خون کا رشتہ تھا! اس کے ساتھ رسوائی کی؟ مر کیوں نہ گیا اس وقت جب اس کی عزت روندی؟”

توقیر دھاڑا اور ایک اور گولی شہرام کے سینے میں اتار دی۔ شہرام کو معافی کا موقع بھی نہ ملا، توبہ کا وقت بھی نہ۔ اس کی تڑپ چند لمحوں میں ختم ہو گئی اور وہ اپنے گناہوں کو سمیٹ کر ہمیشہ کے لیے دنیا سے رخصت ہو گیا۔

قدسیہ چیختی ہوئی بیٹے کی طرف بڑھی، مگر توقیر پلٹا اور پسٹل اس کی طرف تان دی۔
“ایک… دو… تین!”

گولیاں یکے بعد دیگرے چلیں۔ قدسیہ فرش پر اسی طرح گری جیسے شہرام گرا تھا۔ ایک گولی سیدھی سر میں لگی اور وہ تڑپے بغیر چند سیکنڈ میں خاموش لاش بن گئی۔ خون پورے فرش پر پھیل گیا۔

زارم سکتے سے باہر آیا اور بھاگتے ہوئے نہ جانے کیوں اپنے باپ کے قدموں میں جا بیٹھا۔

نایاب مگر اپنی خودغرضی پر قائم رہی۔ اسے لگا اگلی گولی کا نشانہ وہ ہے۔ وہ تیزی سے بھاگی اور کمرے میں جا کر خود کو بند کر لیا۔ سلمیٰ نے بھی دروازہ بند کر کے خود کو چھپا لیا۔ یہ وہ عورتیں تھیں جنہیں صرف اپنی جان کی فکر تھی۔

“بابا… یہ کیا کیا آپ نے؟ کیوں کیا یہ سب؟”
زارم باپ کے قدموں میں بیٹھ کر رونے لگا۔
توقیر کی آنکھوں کے سامنے بیٹے کا بچپن گھوم گیا۔ وہ لمحے یاد آئے جب وہ انگلی پکڑ کر اسے ساتھ لے کر چلتا تھا۔ جیسا بھی تھا، اس کا باپ تھا۔ اور ماں؟ قدسیہ نے بھی کبھی نہ کبھی تو پیار کیا تھا۔ خون کے رشتے تھے… اور ان رشتوں کا درد زارم کو اندر سے کاٹ رہا تھا۔

دل کے کسی کونے میں بھائی شہرام کے لیے بھی ہلکی سی کسک تھی۔ وہ بھی تو اس کا خون تھا۔

بیٹے کو روتا دیکھ توقیر زمین پر بیٹھ گیا۔ ہاتھ میں پکڑی پستول ایک طرف پھینک دی۔جیسے اب اس کا کوئی کام نہ تھا۔
“میں نے صحیح کیا ہے… سب کو مار دیا… ختم کر دیا… سب مر گئے… اب میں بھی مر جاؤں گا…”
وہ بار بار یہی الفاظ دہرا رہا تھا۔ پہلے تو سب کو لگا شاید غصے میں ہے، پھر سمجھ آیا کہ اس کا دماغی توازن بگڑ چکا ہے۔
گھر قیامت کا منظر پیش کر رہا تھا۔
سب سے زیادہ دکھ اس وقت زارم کو دیکھ کر ہو رہا تھا۔اس پر چپ طاری تھی۔ اس کے دل اور زبان پر ایک ایسی کہانی رقم ہو چکی تھی جو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے دل دہلا دینے والی داستان بننے والی تھی۔۔۔
فضا میں جو خاموشی چھا گئی تھی، وہ محض غم کی نہیں بلکہ انصاف کی گواہی تھی۔ یہ حادثہ نہیں، عدلِ الٰہی کا فیصلہ تھا۔ وہی ہاتھ جو کل دوسروں کے داغ تھے، آج اپنی ہی جڑ کاٹنے پر اٹھے۔ دنیا کے تماشے میں یہی قانون ہے۔جو بیج بویا جائے، وہی درخت سر اٹھاتا ہے۔ توقیر کے دل کی چیخ بھی دراصل اعلان تھی کہ اللہ کا عذاب برحق ہے، اور ظالم کو سزا ہمیشہ اپنے ہی گھر کی دہلیز پر ملتی ہے۔

یہ انجام دراصل ایک صدا تھا۔یاد دہانی کہ ظالم کا اختتام کبھی اچھا نہیں ہوتا۔ جو دوسروں کی آنکھوں میں آنسو بھرتے ہیں، وقت ان کی اپنی زندگی کو درد کے سائے میں لپیٹ دیتا ہے۔ یہی قانونِ قدرت ہے۔ عزت چھیننے والے کبھی عزت نہیں پاتے، اور جو زخم دیتے ہیں وہی زخم ان کے نصیب میں لوٹ کر آتے ہیں۔۔
✦✦✦ ✍︎ ✦✦✦

پورے گاؤں میں یہ بات جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔ توقیر نے اپنی بیوی اور بیٹے کو اپنے ہی ہاتھوں سے ختم کر دیا تھا۔ مگر جس نفرت نے گاؤں کے دلوں میں جگہ بنائی تھی، اسی نے لوگوں کے چہرے پر خاموش خوشی کے آثار چھوڑ دیے۔ وہ خوش تھے، کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ وہ شخص، جس نے گاؤں کی عزتیں پامال کیں، غریبوں کے دل توڑے، اور لوگوں کے گھروں کو اجاڑ دیا۔ایسے شخص کے لیے کسی کے دل میں افسوس نہیں تھا۔

یہ دنیا داری کی وہ تلخ حقیقت تھی۔بعض انسانوں کی موت پر، لوگ خوش ہوتے ہیں۔ توقیر نے گاؤں والوں کے صبر کی حدیں توڑ دی تھیں، ان کے دکھ اور آنسو ایک ایسا لاوا پیدا کر چکے تھے جو اب واپس اس پر لوٹ آیا۔ ربِ العزت سب دیکھ رہا تھا۔ ہر آنسو، ہر درد، ہر دعا اس کی بارگاہ میں پہنچ گئی تھی۔ آج انصاف ہوا تھا، اور یہ یاد دلاتا تھا کہ ظلم ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔

تدفین کا وقت ہو چکا تھا۔ شہرام اور قدسیہ کو قبرستان لے جانے کے لیے تیار کیا گیا، سفید کفن پہنا دیا گیا تھا، اب معاملہ صرف ان کا اور اللہ کا تھا۔ زندگی میں انہوں نے دعائیں نہیں سمیٹی تھیں، صرف نفرت بیٹھی تھی۔

آخری لمحے میں بھی زیغم سلطان نے اپنا ظرف نبھایا۔ تدفین اسی گھر سے کی جا رہی تھی۔ زرام ساکت کھڑا تھا، آنکھوں میں ایک بھی آنسو نہیں، ماں بھائی کے جانے کے بعد دل پتھر سا ہو گیا تھا۔ نایاب تھوڑی دیر کے لیے ہوش میں آئی، اب وہ سمجھ رہی تھی کہ زندگی میں کیا کمایا اور اب اس کا غم بھی سامنے تھا، مگر رونا اب بے سود تھا۔ گنہگاروں کو سزا مل چکی تھی۔

دنیا داری کے لیے ملیحہ، مہرو اور دانیہ بھی حویلی آگئی تھیں، مگر شہرام اور قدسیہ کے جنازوں پر رونے والے بہت کم تھے۔ صرف نایاب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ زیغم نے جنازے کو کاندھا نہیں دیا،جتنا ظرف وہ کھا چکا تھا اس سے زیادہ کس میں ہمت نہیں تھی فضا سوگوار تھی۔

جنازے اٹھائے گئے تو توقیر، جو کچھ دیر کے لیے خاموش ہو چکا تھا، ان کے پیچھے دوڑا۔
“یہ میرا بیٹا ہے! یہ میرا بیٹا ہے! شہرام کہاں لے جا رہے ہو؟ قدسیہ کو کہاں لے جا رہے ہو؟ میں تم سب کی جان لے لوں گا!”
اس کے الفاظ خوف اور غصے سے بھرے تھے، مگر دماغ مکمل طور پر بگڑ چکا تھا۔ کچھ لوگ اور ملازمین اسے پکڑ کر پیچھے لے گئے۔
زیغم نے فیصل کو اشارہ کیا، اور فیصل نےانجیکشن دینا بہتر سمجھا، تاکہ وہ کچھ دیر کے لیے سکون پا لے۔ انجیکشن لگنے کے بعد توقیر گہری نیند میں چلا گیا، لیکن اس کی چیخیں اب بھی ہوا میں گونج رہی تھیں۔
زرام کی حالت دل دہلا دینے والی تھی۔ زیغم کی آنکھوں میں صرف ترس تھا، اور زبردستی فیصل اسے اپنے ساتھ جنازے میں مسجد کی جانب لے گیا۔

ملیحا، کو زرام کی حالت دیکھ کر، بہت دکھ ہو رہا تھا۔ملیحہ خاموشی سے مہرو کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔جب کہ دانیہ دنیا داری رکھتے ہوئے مختلف خواتین کے ساتھ افسوس کر رہی تھی۔

نایاب کی سسکیاں حویلی میں گونج رہی تھیں، نایاب کے ساتھ ہی سلمہ بھی بیٹھی تھی مگر افسوس کی بات اس کے چہرے پر بھی کوئی خاص دکھ نظر نہیں آرہا تھا۔مصنوعی ایکٹنگ کافی اچھی کر رہی تھی۔رومی کی آنکھیں نم تو ضرور تھی مگر شدت والا رونا اسے نہیں آرہا تھا کیونکہ اس نے مرنے والوں کے ساتھ بہت کم وقت گزارا تھا ۔

فضا سنسان تھی، مگر ہر دل جان رہا تھا کہ یہ رونا صرف نقصان اور گناہوں کی یاد دلا رہا ہے، اور انصاف کی شدت ہر لمحے محسوس کی جا رہی تھی۔زیغم سلطان خاموشی سے مائد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا آنکھوں میں کسی بھی طرح کے تاثرت نہیں تھے۔۔۔۔
✦✦✦ ✍︎ ✦✦✦

ایک سال کے بعد!!

حویلی والوں نے اپنے زخموں کو سنبھال لیا تھا۔ صبح کی پہلی کرنیں دھیرے دھیرے کھیتوں پر پڑ رہی تھیں، ہر کانہ اور پتی سنہرے موتی کی طرح دمک رہا تھا۔ ہوا میں زمین کی خوشبو گھل رہی تھی، جو اپنے زخموں کو سنبھال کر دوبارہ سانس لے رہی تھی۔

گلیوں کی خاموشی میں چھوٹے چھوٹے اشارے زندہ تھے۔ کسی درخت کی پتی پر شبنم کا موتی، کسی مٹی کے راستے پر چلتی ہوا کی نرم سرسراہٹ، دور کہیں پانی کے کے ٹیوب ویل کی مدھم گونج، اور مرغیوں کی ہلکی سی آواز ۔ ہر چیز بتا رہی تھی کہ وقت نے زخم بھر دیے ہیں اور گاؤں اپنے معمول کی روانی میں واپس آ چکا ہے۔
سورج کی روشنی نرمی سے چھتوں اور دیواروں پر پھیل رہی تھی۔۔
جیسے زندگی کی حرارت دوبارہ زمین میں سرایت کر رہی ہو۔ ہر لمحہ ایک نیا آغاز، ایک نیا امید کا پیغام لیے ہوا کے ساتھ بہہ رہا تھا۔ پرانی تلخی اور خوف کی دھند اب کہیں مدھم پڑ چکی تھی، اور ہر چیز ایک خاموش مگر پختہ یقین دے رہی تھی کہ زندگی آگے بڑھ رہی ہے۔

اسی وقت گاؤں کے بڑے راستے پر بچے سکول کی طرف جا رہے تھے، زرام روز کی طرح اپنی گاڑی لے کر نہر کے قریب کھڑا تھا۔ گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے دونوں ہاتھ سینے پر رکھے، نظریں سامنے سے گزرتی ہوئی پگڈنڈی پر مرکوز تھیں، جہاں سے روز ملیحہ سکول پڑھانے کے لیے گزرتی تھی۔

زرام کو سنبھلنے میں بہت وقت لگا، مگر وقت ہر زخم کو بھر دیتا ہے۔ چاہے زخم کتنا ہی بڑا ہو، وقت کے ساتھ صرف نشان باقی رہ جاتے ہیں۔ اپنوں کے جانے کا دکھ آج بھی اس کے دل کے کسی کونے میں زندہ تھا، مگر اس نے خود کو سنبھال لیا تھا۔ اس سنبھلنے میں زیغم کا بہت بڑا ہاتھ تھا، اور ویسے بھی زرام سے اس خونی رشتوں کی کوئی حقیقت چھپی ہوئی نہیں تھی۔۔

زرام کے روز کا معمول آج بھی ویسا ہی تھا، جیسا پچھلی ایک سال سے چلا آرہا تھا۔۔
ہاسپٹل جانے سے پہلے ملیحہ کا انتظار کرنا، مگر ملیحہ آج بھی اپنی جگہ قائم تھی۔ نہ اسے معاف کرنا چاہتی تھی، نہ اس کے قریب رہنا۔ زرام کے سامنے حقیقت کھل چکی تھی کہ ملیحہ کا کوئی قصور نہیں، اور یہ حقیقت سب سے پہلے رومی نے کھولی۔۔۔
آج بھی زرام کی نظروں میں وہ وقت رکا ہوا تھا۔رشتے میں سب سے بڑا شک اس دن پیدا ہوا جب ملیحہ اور رومی شاپنگ کے بعد واپس آ رہے تھے۔

راستے میں اچانک سے ملیحہ کی طبیعت خراب ہونے لگی، رومی اسے قریبی کلینک لے گئی۔ وہیں ملیحہ کو پتہ چلا کہ وہ حاملہ ہے۔ ملیحہ نے رومی سے کہا کہ یہ راز رکھے، تاکہ خوشخبری زرام کو اس کی سالگرہ پر دی جا سکے۔ملیحہ بہت خوش تھی اور وہ اس خوشی کو زرام کو بتانے کے لیے بڑی بے قرار بھی تھے۔

مگر قسمت نے اس سے یہ خوشی زرام تک پہنچانے ہی نہیں دی۔کیونکہ اسی ہاسپٹل میں معمولی سے ایکسیڈنٹ کی وجہ سے آئے ہوئے شہرام نے یہ راز سن لیا، اور اس کے شیطانی دماغ نے اسے غلط انداز میں زرام تک پہنچانے کی منصوبہ بندی کر لی۔ ملیحہ اور رومی اسے دیکھ بھی نہیں سکیں،وہ تو ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہوئے مگن ہو کر چلی آرہی تھی۔اس طرح رومی اور ملیحہ کے درمیان ہوئی بات شہرام کے کانوں تک پہنچ گئی۔

اور ملیحہ کے گھر پہنچنے سے پہلے زرام کے پاس جھوٹے پیغامات پہنچ چکے تھے۔مگر زرام نے شہرام کی ایک بات پر بھی یقین نہیں کیا تھا۔سوائے ایک بات کے جب اس نے کہا تھا کہ اگر تمہاری بیوی خود تمہیں یہ حقیقت نہ بتائے تو پھر یقین کر لو گے۔زرام خاموش تو ہو گیا مگر پھر بھی وہ یقین نہیں کر پایا،
ملیحہ کی حالت میں تبدیلی آنے لگی تھی جس کو زرام ڈاکٹر ہونے کے ناطے بخوبی نوٹ بھی کر رہا تھا۔ذرا دل سے دعا بھی کرتا تھا کہ ملیحہ اسے حقیقت بتا دے۔

مگر زرام کے دل کی کیفیت سے بے خبر ملیحہ نے حقیقت خود نہیں بتائی، شک کے دائرے بڑھنے لگے۔ ایک دن زرام نے اس کی پریگننسی رپورٹ بھی الماری میں کپڑوں کے نیچے پڑی ہوئی دیکھ لی،زرام کے دل میں نہ چاہتے ہوئے بھی شک کے بیج ہلکی سی شاخوں کے ساتھ پھوٹنے لگے۔۔۔
مگر دوسری جانب ملیحہ پھر بھی صبر سے صحیح وقت کا انتظار کرتی رہی ۔ اس دوران شہرام کی ایک اور چھوٹی سی مداخلت نے غلط فہمیوں کی آگ کو اور بھڑکا دیا۔کبھی اس کے میسج فون پر آتے تو کبھی رونگ کالز۔مگر ملیحہ نے اس پر بھی کوئی رسپانس نہیں دیا یہ بات بھی زرام کو نہیں بتائی زرام کا شک اور بڑھتا گیا جبکہ ملیحہ ان دنوں اپنی حالت سے بیزار سی تھی۔

زرام نے خود سے اس سے نہیں پوچھا کہ کس کی کال کس کے میسجز ہیں۔جب کہ کچھ ایسے میسجز تھے جو اگر ملیحہ پڑھتی تو شاید وہ زرام کو ضرور بتاتی ۔۔اپنے بازار سی حالت کی وجہ سے ملیحہ نے وہ میسجز نہیں پڑھے تھے۔اور ویسے بھی اس کے لیے وہ ایک رونگ نمبر تھا جسے اس نے بلاک لسٹ میں ڈال دیا تھا مگر شہرام شک کو بڑھانے کے لیے الگ الگ نمبر سے ٹرائی کرتا رہتا۔۔

مگر ان دنوں قدسیہ جو اپنے بیٹے کے ساتھ مل چکی تھی۔بڑی مہارت سے ملازمہ سے کہہ کر موقع دیکھتے اس کے فون سے ڈیلیٹ کروا دیتی تھی۔سوچا سمجھا پلان تھا یہ اس لیے معاملہ خراب سے خراب تر ہوتا گیا۔مگر قدسیہ تو اپنا راز اپنے ساتھ لے گئی ۔مگر جتنی بات رومی کو پتہ تھی اتنی بات ہی کافی تھی ملیحہ کو بے قصور ثابت کرنے کے لیے۔۔

زرام تو ہمیشہ سے چاہتا تھا کہ ملیحہ اسے سچ بتائے، مگر ملیحہ اپنی عزت اور وقار کے لیے خاموش رہی۔اس کے نزدیک صفائی دینا غلط تھا اس کی سوچ یہ تھی کہ جہاں محبت ہوتی ہے یقین کرنے والے خود یقین کر لیتے ہیں، اور یہی خاموشی ان کے رشتے کو ٹوٹنے پر مجبور کر گئی۔

پھر جب ملیحہ کا مس کیرج، ہوا، اس نے دل میں ٹھان لیا کہ وہ کبھی بھی زرام کے ساتھ نہیں رہے گی۔ آج بھی وہ نرم نہیں ہوئی، اور یہ سب کچھ رومی کے ذریعے زرام تک تب پہنچا جب شہرام کی موت کے بعد حقیقت سامنے آئی۔زرام رومی پر بے حد ناراض ہوا۔مگر رومی نے بتایا کہ، ملیحہ نے رومی سے قسم لی تھی کہ کچھ نہیں کہنا، وقت آنے پر وہ خود بتا دے گی۔۔۔ زرام کے لیے حقیقت جاننا بہت تکلیف دے اور شرمندگی کا باعث تھا۔ ہر لمحہ ایک خراش کی طرح تھا، ہر یاد ایک کانٹے کی طرح۔ اس نے نہ جانے کتنی بار کوشش کی ملیحہ سے معافی مانگنے کی۔مگر ملیحہ کی طرف سے آج بھی کوئی نرمی نہیں تھی۔

وہ نہ جانے کتنی دیر تکلیف دہ باتوں کو یاد کرتا رہا کہ دور سے آتی ہوئی ملیحہ پر اس کی نظر پڑی، جسے وہ دور سے ہی پہچان چکا تھا۔ بڑا سا گاؤن، اوپر حجاب، گلے میں سادہ سا ہینڈ بیگ، تھکا ہوا چہرہ، اور ہاتھ میں شاید ایک کتاب پکڑی ہوئی تھی۔ نظر زمین پر ٹکی ہوئی تھی اور وہ روز کی طرح تیز رفتار سے چل رہی تھی۔

وہ بھی دیکھ چکی تھی کہ سامنے آج پھر زرام کھڑا ہے۔ زرام سے ملیحہ بہت محتاط تھی۔ اسے دیکھتے ہی زرام کے قدم اس کی جانب بڑھنے لگے۔ دونوں سامنے سے تیز رفتار سے آ رہے تھے۔

ملیحہ قریب سے کتراتے ہوئے گزر رہی تھی کہ، زرام نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ ملیحہ نے غصے بھری نظروں سے اس کی جانب دیکھا اور ہاتھ کو جھٹکا، مگر چھڑا نہ سکی۔
“مسئلہ کیا ہے؟ میرا ہاتھ چھوڑو!” ملیحہ نے غصے سے کہا۔

“مجھے تم سے بات کرنی ہے،” زرام نے نرمی سے کہا۔

“مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔ فضول میں میرا تماشہ مت بناؤ، آتے جاتے لوگ دیکھ رہے ہیں۔”

“آتے جاتے لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ تم میری بیوی ہو۔”

“ہونہوں… بیوی… بیوی ہوتی تو یقین بھی کرتے،اور اگر یقین کرتے تو آج ہم یہاں نہ ہوتے۔”
“غلطی ہو گئی، ہزاروں بار معافی مانگ چکا ہوں،اور مانگتا رہوں گا پلیز معاف کر دو۔” وہ زبردستی اس کا ہاتھ تھامے کھڑا تھا۔کیونکہ بغیر ہاتھ تھامے ملیحہ رکنے والی نہیں تھی۔

“میں بھی ہزاروں بار کہہ چکی ہوں کہ میں نے معاف کر دیا، بات ختم۔”

“اس طرح سے کبھی بھی بات ختم نہیں ہو سکتی۔ اگر معاف کر دیا ہے تو چلو پھر اپنے گھر…” زرام کے لہجے میں عاجزی تھی، شرمندگی تھی۔

“تم نے معافی مانگی، میں نے معاف کر دیا، مگر اس کا ہرگز مطلب نہیں کہ اب ہم ایک ساتھ رہیں گے۔ میں بھی یہ بات ہزاروں بار بتا چکی ہوں۔ اور کون سا گھر؟ وہ گھر جس گھر سے تم نے مجھے بے یقینی سے نکالا تھا۔”

“غلط، میں نے نکالا نہیں تھا۔ میں نے کچھ سوال پوچھے تھے، تم نے جواب نہیں دیا، تم خود اس گھر سے آئی تھی۔”زرام نے کمزور سے لہجے میں وضاحت دی۔

“تم نے سوال نہیں پوچھے تھے، میرے کردار کی گواہی مانگی تھی، اور جب میں نے اپنے کردار کی صفائی نہیں دی تو پھر میرا وہاں رہنے کا بھی جواز پیدا نہیں ہوتا تھا۔ تمہارے سوالوں نے مجھے احساس دلایا دیا تھا کہ وہ گھر میرا نہیں ہے… اور تم بھی میرے نہیں ہو۔”
ملیحہ کی نظروں میں بے حد درد تھا۔

“ملیحہ، ایسا نہیں ہے، میں تمہارا تھا ہوں اور ہمیشہ رہوں گا۔غلطی ہو گئی…” زرام نے تڑپ سے کہا۔

“ایسا ہی ہے۔اگر میرے ہوتے ہیں تو یقین بھی ہوتا ۔اور یہ غلطی نہیں گناہ ہے۔۔”
“ایک غلطی تو خدا بھی معاف کر دیتا ہے، تم بھی معاف کر دو، میں تمہارے بغیر رہ نہیں سکتا…”

“مگر میں خدا نہیں ہوں۔ خدا کی بنائی ہوئی عام سی بندی ہوں۔ میں معاف نہیں کر سکتی۔ وجہ اگر کچھ بھی اور ہوتی تو معاف کر دیتی، مگر تم نے میرے کردار کی صفائی مانگی۔ملیحہ کی آنکھیں نم ہونے لگی تھی مگر وہ زبردستی اپنے آنسوؤں کو باہر آنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی خود کو مضبوط کیے کھڑی رہی۔اس کی باتوں سے ہمیشہ کی طرح زرام آج بھی شرمندہ ہو رہا تھا۔۔۔

” کیسی محبت تھی تمہاری جو ذرا سی آزمائش پر پورا نہ اتر سکی؟ تم تو محبت کے دعوے ہی مت کرو۔ اور اگر تم میرے بغیر رہ نہیں سکتے،تو یہ تمہارا مسئلہ ہے میرا نہیں۔۔

” میں تمہارے بغیر رہ سکتی ہوں… اور رہ رہی ہوں۔میرا پیچھا چھوڑو۔ خود بھی جیو، اور مجھے بھی جینے دو۔ روز، میری زندگی کو مشکل مت بنانے آ جایا کرو۔”

ملیحہ نے زبردستی ہاتھ کو جھٹکتے ہوئے اپنا ہاتھ چھڑوا لیا۔نہ لہجے میں نرمی تھی نہ نظروں میں۔

“کیوں اتنی سنگدل ہو گئی ہو؟ مانگ تو رہا ہوں معافی، میں تو یہاں سر عام بیٹھ کر تمہارے قدموں میں معافی مانگ سکتا ہوں۔ خدا کے لیے، مجھے معاف کر دو…”

“تم سرعام معافی مانگو، یا جا کر اعلان کر دو کہ تم مجھ سے معافی مانگ رہے ہو، یا جگہ جگہ پوسٹر لگوا دو کہ تم مجھ سے معافی مانگ رہے ہو، میں کسی بھی صورت تمہیں معاف نہیں کروں گی۔ یہاں کوئی فلم کا سین نہیں چل رہا کہ تم سر عام سر جھکا کر مجھ سے معافی مانگو گے تو میں ہیروئن بن کر تم پر رحم کھا کر تمہیں معاف کر دے گی۔۔
میں عام سی عورت ہوں،جس کی توقع صرف عزت اور تحفظ ہے جو کہ مجھے تم سے نہیں ملا۔
تذلیل کی ہے تم نے، میرا دل دکھایا ہے۔ میرا دل صرف دکھا نہیں ٹوٹ گیا ہے۔ آسان نہیں ہے سب کچھ واپس سے ٹھیک کرنا۔ تھوڑی دیر کے لیے خود کو میری جگہ پر رکھ کر سوچو کہ تم سے تمہارے کردار کی گواہی مانگی جائے تو تم کیا کرو گے؟”

“میں گواہی دے دوں گا، کیونکہ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں یقین ہوتا ہے…یہ بات تم نے مجھے سمجھائی ہے۔” زرام نے کہا۔

“مگر جہاں محبت ہوتی ہے وہاں انا کی دیوار بھی اتنی اونچی نہیں ہوتی کہ رشتہ توڑ دیا جائے۔ مگر اس دیوار کے پار کھڑے ہوئے محبت کرنے والے شخص کی محبت کو اندیکھا کر کے ، منہ موڑ لیا جائے؟ ایسی بھی محبت نہیں ہوتی…”

“تو ٹھیک ہے، تم اپنے حساب سے محبت کی کتاب پڑھو، اور میں اپنے حساب سے۔ میں آج بھی قائم ہوں۔ جہاں محبت ہوتی ہے وہاں سوال ہی نہیں اٹھتا۔ سوال اٹھائے تو انا کی دیوار قائم ہوئی۔ گنہگار اب بھی تم ہو، جتنی مرضی دلیلیں دے لو۔ اور آج کے بعد میرا راستہ مت روکنا، ورنہ میں یہاں سے اتنی دور چلی جاؤں گی کہ تم ڈھونڈو گے، تب بھی تمہیں میرا کوئی سوراخ نہیں ملے گا۔”

وہ جاتے جاتے سخت نظروں سے دیکھتے ہوئے دھمکی دے گئی تھی۔ وہ تیز رفتار سے چلتی جا رہی تھی، جبکہ زرام کی نظریں اسے دور تک جاتا ہوا دیکھ رہی تھی۔ سچ میں وہ ایسا کر سکتی تھی۔ وہ ہمیشہ کے لیے یہاں سے جا سکتی تھی، کیونکہ وہ ملیحہ تھی، جس کے لیے اپنی سیلف ریسپیکٹ اور انا سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا۔
ملیحا کے بارے میں سوچتے ہوئے،زرام اپنے نچلے ہونٹ کو دانتوں سے کچل گہا۔۔
وہ مٹھیوں کو سختی سے بند کیے، کھڑا تھا۔ ارد گرد سرسبز لہراتے ہوئے کھیت تھے، پکڈنڈی سے کچھ بچے بھاگتے ہوئے گزرے، سکول کے لیے۔

سب کچھ ہی تو نارمل تھا، سوائے زرام کے دل کے حالات کے۔ وہ پچھلے ایک سال سے لگاتار اس سے معافی مانگ رہا تھا، اسے منا رہا تھا۔ ہر روز یہاں آ کر اس کا انتظار کرتا، کئی بار اس کے گھر جا چکا تھا۔مگر ہر بار سے انکار ہی نصیب ہوا۔ اب تو زرام کو یقین ہو چکا تھا کہ ملیحہ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔

زیغم تک کی سفارش تو دلو دی تھی، مگر ملیحہ نے زیغم سے بھی صاف کہا تھا کہ “بھائی، آپ کے لیے سب کچھ کر سکتی ہیں، مگر آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں، اپنی سیلف ریسپیکٹ پر میں کمپرومائز نہیں کر سکتی۔”
ذرام ٹوٹے ہوئے دل سے، تیز قدموں سے چلتا ہوا، ملیحہ کے خیالوں میں گم، گاڑی میں جا کر بیٹھ گیا۔ اور گاڑی ہاسپٹل کی جانب نہیں موڑی تھی۔ نہ جانے وہ کہاں جانا چاہتا تھا…
“زرا م کی نظریں سڑک پر تھیں، مگر دل اور دماغ مکمل طور پر ملیحہ کے خیالوں میں کھوئے ہوئے تھے، ارد گرد کا سرسبز منظر بس ایک دھندلا پس منظر بن کر رہ گیا، اور گاڑی خاموشی سے وقت کے بہاؤ میں بہتی گئی۔”
✦✦✦ ✍︎ ✦✦✦
“سمرا… سمرا… ہماری بیٹی کہاں ہے؟”مجھے ملنا ہے اسے۔
توقیر کی بلند آواز حویلی کے اندھیروں کو چیرتی گونج رہی تھی۔ وہ کبھی شہرام کو پکارتا، “شہرام… کہاں ہو تم؟ ادھر آؤ… مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔”
کبھی سمرا کو آواز دیتا۔جب تک جاگتا رہتا تھا گھر میں چیخ و پکار کی آوازیں گونجتی رہتی نوکر تک بیزار ہو جاتے تھے۔

سچ یہی تھا کہ یہ دونوں اس کے دل کے سب سے قریب تھے۔ شہرام اس کا جوان بیٹا، اس کی امید… اور سمرا اس کی محبت۔ غصے اور غیرت میں اس نے قدم اٹھا لیا تھا مگر پھر اپنے دماغ کی توازن کو صحیح نہ رکھ سکا ۔عزیز رشتوں کو کھو دینے کے بعد توقیر پاگل ہو گیا تھا۔ توقیر اکثر یونہی چیختا چلاتا رہتا تھا۔
“دنیا مکافاتِ عمل ہے، انسان جو بوئے گا وہی کاٹے گا۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کے لیے آخرت میں دردناک عذاب تیار رکھتا ہے اور دنیا میں بھی ان کے اعمال کی سزا ضرور ملتی ہے۔ کیونکہ اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے، اور وہ عادل ہے، کسی پر ذرّہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔”

کچن میں کھڑی نایاب کے چہرے پر ویرانی صاف جھلک رہی تھی۔”وہ دن رات اپنے باپ کو چیختا چلاتا دیکھتی اور دل ہی دل میں سوچتی کہ یہ سب ان گناہوں کا نتیجہ ہے جو انہوں نے اپنی جوانی کے غرور میں کیے تھے۔ بے شک اللہ تعالیٰ کی پکڑ بڑی سخت ہے، وہ ظالموں کو مہلت تو دیتا ہے مگر چھوڑتا نہیں۔ دنیا ہی میں انسان کو اس کے اعمال کی جھلک دکھا دیتا ہے تاکہ سمجھ لے کہ آخرت کا حساب کہیں زیادہ سخت ہوگا۔”

وہ اپنے باپ کے ساتھ ساتھ اپنے گناہوں کے بارے میں بھی ہر وقت سوچتی ہوئی نظر اتی تھی۔۔
یہ پہلے والی نایاب نہیں تھی۔جوکبھی غرور اور اکڑ میں ڈوبی رہتی تھی، ہر وقت تیاری، ہر وقت شیطانی دماغ۔ میں لوگوں کے بارے میں سازشیں کرنا۔مگر اب؟ وہ بدل چکی تھی … اپنی بیکار زندگی کا بوجھ ڈھوتی ہوئی، پرہیزی کھچڑی کا پیالہ اپنے باپ کے لیے بناتی کھڑی تھی۔ دل میں احساس جرم اور آنکھوں میں اداسی کا سایہ۔لبوں پر خاموشی۔

ماں ساتھ نہیں تھی، بھائی دنیا سے جا چکا تھا، اور وہ اپنے کیے گناہوں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ یادوں میں ایک ایک خطا سامنے آتی تھی، معصوم دانیہ پر لگایا وہ الزام، شہرام کے ساتھ مل کر کی گئی سازشیں، اور بے شمار اندھیرے جنہوں نے اس کی زندگی کو گھیر لیا تھا۔

“اسے بے قصور بہرام کی یاد بھی ستاتی، جسے اس نے صرف اپنے مفاد کی خاطر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔کتنا پیار کرتا تھا کتنا مخلص تھا اس کے ساتھ، جب بھی وہ لمحے ذہن میں آتے، دل خون کے آنسو روتا تھا، مگر اب پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں رہا تھا۔
توقیر کی فیملی نے سلطان لغاری کا گھر اجاڑنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی، مگر آج انہی کے اپنے گھر کی بنیادیں لرز چکی تھیں۔ یہ مکافاتِ عمل کی ایک زندہ مثال تھی۔”
نایاب کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا سزا ہوگی اپنی ہی سگی بیٹی اس کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں تھی اس کے قریب آنے کو تیار نہیں تھی اس کی اپنی سگی بیٹی اس سے نفرت کرتی تھی۔نایاب اکثر دل میں خود تسلیم کرتی تھی کہ وہ اسی کے لائق ہے کہ اس سے نفرت کی جائے۔۔۔۔

ارمیزہ زیغم سلطان کو اپنا باپ اور مہرو کو اپنی ماں مانتی تھی اور وہ انہی کے ساتھ رہ رہی تھی۔
زیغم اور مہروسگی بیٹی سے بڑھ کر اس سے محبت کرتے تھے۔ اور نایاب نے بھی مان لیا تھا کہ وہ کبھی اچھی ماں ثابت نہیں ہوسکتی۔۔۔

نایاب کو لگتا تھا کہ اس کی بیٹی کا زیغم کے ساتھ حویلی میں رہنا ہی ٹھیک ہے۔اسے یقین تھا کہ زیغم اور مہرو کی اچھی پرورش کر سکتے ہیں۔۔

وہ ہر گزرتا دن پچھتاوے میں کاٹ رہی تھی،ہر روز حساب لگاتی کہ اس نے زندگی میں سوائے گناہوں کے لوگوں کے دل آزاری کرنے کے پروپگنڈے کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں کیا۔ مگر اب پچھتاوے کا کیا فائدہ؟ وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا۔قدسیہ اور شہرام کو گزرے ہوئے۔
ایک سال بیت چکا تھا… قدسیہ اور شہرام کی موت کے بعد سب بدل گیا تھا۔ سب اپنی زندگی میں آگے بڑھ گئے تھے۔ مگر نایاب؟ اس کی زندگی ایک ہی جگہ ٹھہر گئی تھی۔۔۔

“تابش عدنان کو زیغم نے اس کی دھوکہ دہی پر وہ سزا دلوائی جس کی مثال دی جا سکتی ہے۔ ایک سال تک وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑتا رہا، ہر دن اپنے جرم کی قیمت ادا کرتا رہا۔ عدالت کے حکم پر اس کا وکالت کا لائسنس ہمیشہ کے لیے منسوخ کر دیا گیا، اور بار کونسل نے صاف صاف اعلان کر دیا کہ اب وہ دوبارہ کبھی اس پیشے میں قدم نہیں رکھ سکے گا۔ رہا تو وہ ایک سال بعد ضرور ہو گیا، مگر اپنی عزت، وقار اور پیشہ ورانہ پہچان سب کچھ کھو بیٹھا تھا۔ اب اس کے پاس نہ اعتماد تھا نہ مقام، بس ایک رسوا کن ماضی کی یاد باقی تھی۔”

جب وہ رہا ہوا تو نایاب کے ہاتھ میں طلاق تھما کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امریکہ لوٹ گیا۔ ویسے بھی نایاب اس کے ساتھ کوئی خاص لگاؤ نہیں تھا۔اس نے تو نکاح بھی کیا تھا تو محض مطلب کے لیے… زیغم کو جلانے کے لیے۔ مگر تابش نے بھی آخرکار اسے دھوکا دیا۔اسے تو بعد میں پتہ چلا کہ تابش تو کبھی اس کے ساتھ مخلص تھا ہی نہیں، وہ تو خود زیغم سے انتقام لینے کے لیے نکاح کیا تھا۔

صاف لفظوں میں دونوں نے مل کر نکاح جیسے مقدس رشتے کا کو پامال کیا۔جس تابش کو وہ اپنی طاقت سمجھ رہی تھی۔وہ دل میں سازشیں چھپائے بیٹھا تھا۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جیسے مرد ہوں ویسی ہی عورتیں ان کے نصیب میں کر دی جاتی ہیں۔ جیسی ذہنیت کی مالک نایاب تھی، تابش بھی بالکل اسی سوچ کا حامل تھا۔

اسی لیے اب کسی کو کسی پر شکوہ کرنے کا حق نہیں رہا تھا۔ نہ تابش کو نایاب پر، نہ نایاب کو تابش پر۔ اور یوں دونوں کی راہیں ہمیشہ کے لیے الگ ہو گئیں۔

اور دوسری جانب تدفین کے فوراً بعد زیغم نے تو صاف کہہ دیا تھا کہ نایاب اور توقیر اب اس کے گھر میں نہیں رہ سکتے۔ ہاں… زرام کے لیے حویلی کی پیشکش ضرور کی، مگر زرام نے انکار کیا۔

زارام نے نرم مگر مضبوط لہجے میں کہا تھا۔
“یہ گھر آپ کا ہے، آپ اس میں رہیں… میں آتا جاتا رہوں گا۔ مگر میں اپنے حصے کا فرض نبھاؤں گا۔ لاکھ غلط صحیح مگر مجھے اپنے رب کو جا کر جواب دینا ہے اس نے نایاب اور توقیر کی ذمہ داری اپنے سر لے لی …”

نایاب پہلے تو خوش ہوئی تھی کہ اس کے بھائی نے اس کے اور اس کے باپ کی ذمہ داری اپنے سر لے لی ہے۔ مگر سکتے کے عالم میں وہ تب آئی،دل کرچیاں کرچیاں اس وقت ہوا، جب زرام نے اپنے بنائے ہوئے گھر میں ساتھ لے جاتے ہوئے، ایک لمحے کے لیے بھی اس کی طرف دیکھے بغیر اور ماں باپ کی موت پر کوئی دلاسہ دیے بغیر، یہ الفاظ کہہ دیے تھے۔

“تم بس میرے گھر میں پڑی ایک فضول چیز کی مانند رہو گی۔ خبردار جو مجھ سے بات کرنے کی کوشش کی، خبردار جو اپنی شکل مجھے دکھائی۔ میری مجبوری ہے کہ میرا تم سے خون کا رشتہ ہے جسے میں چاہ کر بھی توڑ نہیں سکتا۔ لوگ کہیں گے شہرام کی بہن لاوارث گھوم رہی ہے اور باپ، جو اپنا دماغی توازن کھو بیٹھا ہے، اس کی کفالت بیٹے نے نہیں کی۔ اور بروزِ قیامت میں اپنے رب کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا چاہتا۔ بس اسی رب کے خوف سے تمہیں اور ان کو اپنے ساتھ رکھنے پر مجبور ہوں جس نے مجھے پیدا کر کے احسان کر دیا ہے۔

مگر یاد رکھو، تم میرے سامنے آنے کی کوشش مت کرنا۔ کھانے پینے کی کوئی کمی نہیں ہوگی، جو میری ذمہ داریاں ہیں میں نبھاؤں گا,لیکن نہ تم میری زندگی میں دخل دینا اور نہ ہی میں تمہاری زندگی میں دوں گا۔”تو میرے لیے اجنبی ہو میں تمہارے لیے ۔

توقیر تو اس لائق ہی نہیں تھا کہ کسی کی زندگی میں دخل دے سکتا، جبکہ نایاب پر یہ فرمان سنائے جانے کے بعد ایک سال بیت گیا تھا۔
اس ایک سال میں زرام نے کبھی اس سے بات نہیں کی۔ ان کا آمنا سامنا بھی نہ ہونے کے برابر رہا۔ زرام زیادہ تر ہسپتال میں ہی وقت گزارتا اور جب گھر آتا تو چپ چاپ اپنے کمرے میں چلا جاتا۔

وہ نیا گھر، جو اس نے ملیحہ کے ساتھ رہنے کے لیے تعمیر کروایا تھا، تقدیر نے اسے نصیب ہی نہ ہونے دیا۔ مگر اب وہ نایاب اور توقیر کے ہمراہ اسی گھر میں شفٹ ہو چکا تھا… گھر ہسپتال سے کچھ ہی فاصلے پر واقع تھا۔

“بھائی مجھے مت مارو… مجھے کیوں مار رہے ہو بھائی… مجھے مت مارو!”

خیالوں کی دنیا میں کھوئی نایاب کے کانوں سے ایک بار پھر توقیر کی ٹوٹی پھوٹی چیخیں ٹکرائیں۔ وہ اکثر یہ الفاظ دہراتا رہتا تھا۔ نہ جانے اسے کیا نظر آتا تھا، شاید وہ اپنے ہی بھائی کو دیکھتا تھا… وہی بھائی، جسے اس نے خود غلط دوائیاں دے کر موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ یہ الفاظ اس کی زبان سے بار بار نکلتے، جیسے ماضی کا خوف اس کے دل و دماغ کو کچوکے لگا رہا ہو۔

ڈاکٹر کو بھی یہ کیفیت بتائی جا چکی تھی۔ وہ صرف نیند اور سٹریس کی دوائیاں دیتا، مگر کوئی خاص افاقہ نہ ہوتا۔ توقیر کی ذہنی حالت دن بہ دن بگڑتی جا رہی تھی۔

کچن میں کھڑی نایاب کی کھچڑی نیچے سے جلنے لگی تو وہ چونک کر ہوش میں آئی اور پلیٹ میں کھچڑی نکال کر اپنے باپ کے کمرے کی طرف بڑھ گئی، جہاں وہ چیخ رہا تھا۔
ام نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ دو ملازم ہر وقت اس کے پاس رہتے تاکہ وہ خود کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ بہترین ڈاکٹرز سے اس کا علاج کرایا جا رہا تھا، مگر نتیجہ کچھ نہ نکل رہا تھا۔ شاید یہ اس کے مکافاتِ عمل تھے جو اب دنیا ہی میں سامنے آ چکے تھے۔

نایاب نے اپنے ہاتھوں سے باپ کو کھلانے کے لیے کھچڑی آگے بڑھائی۔ اس کی زندگی میں اب اور کوئی مقصد نہ تھا سوائے اپنے باپ کی خدمت کے۔ لیکن جیسے ہی توقیر کی نظر نایاب پر پڑی، وہ حسبِ عادت گھبرا گیا۔ کھچڑی کی پلیٹ دیکھتے ہی اس نے اسے جھٹک دیا۔

گرم کھچڑی نایاب کے ہاتھوں پر گری اور اس کی ایک چیخ بلند ہوئی۔ جلدی سے ملازمین نے توقیر کو پکڑا اور ہمیشہ کی طرح اسے پرسکون کرنے کے لیے انجیکشن دینا پڑا۔

نایاب آنکھوں میں آنسو لیے اپنے کمرے کی طرف پلٹی۔ ہاتھ جل گئے تھے۔ بیسن پر دھوئے تو جلد پر سرخ نشان ابھر آئے۔ دوا لگائی اور پھر بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی۔ اس کے آنسو بہتے جا رہے تھے، جیسے وہ خود اپنے کیے کی جلتی ہوئی سزا سہہ رہی ہو۔
یہ تو بس دنیا کی سزا تھی… اصل حساب تو ابھی باقی تھا۔
“اے اللہ… معاف کر دے! معاف کر دے!”
وہ چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپائے شدت سے رو رہی تھی۔ روتے روتے بیڈ کے پاس زمین پر ڈھے گئی۔ آنسو آنچل بھگو چکے تھے، مگر دل کا بوجھ کم نہ ہوا۔

“بہت گناہ کیے ہیں… بڑے گناہ! یا اللہ… تیری بارگاہ میں کون سا ایسا سہارا ہے جو مجھے معافی دلا سکے؟ اگر معافی نہیں… تو پھر مجھے موت دے دے… جینا مشکل ہو گیا ہے۔ خود سے نفرت ہو گئی ہے!”

اس کی ہچکیوں میں بے بسی گھل گئی۔ دل پر ہاتھ مارتی جا رہی تھی، جیسے اپنے ہی وجود سے بدلہ لینا چاہتی ہو۔

“کیسے میں اس دلدل میں گھس گئی؟ کیسے کرتے کرتے گناہ میرا دل اندھا ہو گیا؟ کیوں میری آنکھوں کے سامنے تیری آخرت یاد نہ آئی؟ یا اللہ… یا اللہ…”

نایاب کی گھٹتی ہوئی چیخیں اس کے گلے کے اندر ہی دب کر رہ گئیں۔ آواز باہر نہ نکل سکی، بس اس کی ہچکیاں اور آنسو ہی اس کے دل کی گواہی دے رہے تھے۔
“معاف کر دو بہرام… تم مجھے معاف کر دو… تاکہ میری دنیا اور آخرت آسان ہو جائے…”
وہ ہچکیوں کے ساتھ بے بسی سے دہرا رہی تھی۔

“دانیا… تم بھی مجھے معاف کر دو… زیغم، تم بھی… پلیز مجھے معاف کر دو…”

نایاب گھٹنوں میں سر دیے روئے جا رہی تھی۔ ہر نام کے ساتھ اس کے آنسو اور تیز بہنے لگتے۔ دل پر ایسے بوجھ جیسے ہر ایک کا خون، ہر ایک کا دکھ اس کے کندھوں پر آ بیٹھا ہو۔

زمین پر بیٹھی، کانپتی ہوئی، اپنی ٹوٹی ہوئی آواز میں وہ بس ایک ہی صدا بار بار دہرا رہی تھی:
“مجھے معاف کر دو… مجھے معاف کر دو…”
مگر دل کے کسی کونے میں ایک آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔
انسان تو شاید کبھی معاف نہ کریں… مگر اللہ کا دروازہ ابھی بھی کھلا ہے۔

مگر پھر دوسرے ہی لمحے دل نے جیسے اسے جھنجھوڑا۔
“اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر کسی کا دل دکھایا ہے تو اس کی معافی بھی وہی انسان دے سکتا ہے…”

اس خیال نے نایاب کے اندر نئی بے چینی کو جنم دیا۔ اس کے سامنے ایک ہی راستہ بچا تھا۔ بہرام تو اس دنیا میں نہیں رہا تھا، مگر دانیا اور زیغم اب بھی تھے… ان سے معافی مانگ سکتی تھی، ان کے سامنے اپنا سر جھکا سکتی تھی۔

وہ دل میں سوچتے ہوئے فیصلہ کر چکی تھی۔
اب وقت آ گیا ہے کہ اپنے گناہوں کا بوجھ دوسروں کے قدموں میں رکھ دے، شاید یوں اس کی آخرت آسان ہو جائے۔

انسان گناہ کرتے ہوئے ڈرتا نہیں… کسی کا دل دکھاتے ہوئے، کسی کو توڑتے ہوئے، دل آزاری کرتے ہوئے لمحے بھر کو بھی نہیں سوچتا۔ مگر خدا کی قسم! جب انسان کو اپنے گناہوں کا احساس ہوتا ہے، جب وہ اپنے رب کے سامنے گڑگڑا کر معافی مانگتا ہے تو رب تو معاف کر دیتا ہے۔

مگر انسانوں کے سامنے معافی مانگنا… یہ سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ اور جب وہ لوگ معاف نہ کریں جنہیں آپ نے اپنی غلطیوں سے توڑا ہو، تکلیف دی ہو… تو پھر آپ کا دل قفس میں قید پرندے کی طرح تڑپتا ہے، سانس لیتے ہوئے بھی گھٹنے لگتا ہے۔

نایاب کے دل کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کا رب اسے معاف کر سکتا ہے، لیکن زیغم اور دانیا؟ ان کے زخم اتنے گہرے تھے کہ شاید وہ کبھی بھر نہ پاتے۔ یہی سوچ اس کے دل کو چیرنے لگتی تھی، اور یہی اس کی سب سے بڑی سزا تھی۔
✦✦✦ ✍︎ ✦✦✦
ملیحہ ابھی اسکول پہنچی تھی۔ اپنی کلاس میں داخل ہوتے ہی اُس نے روز کی روٹین کے مطابق زرام سے ہونے والی ملاقات کی تلخی کو سائیڈ پر رکھتے ہوئے بچوں کو خوش دلی سے کہا۔

“السلام علیکم”
“وعلیکم السلام”۔
بچوں نے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا

ملیحہ ایک بہترین اور فرینڈلی ٹیچر تھی۔ وہ اپنے بیگ کو کرسی کے ساتھ ٹانگتے ہوئے بچوں کی طرف دیکھ کر مسکرائی اور وائٹ بورڈ پر تاریخ اور اردو کا سبق نمبر لکھنے لگی۔ بچے توجہ دے رہے تھے، کچھ شرارتیں کر رہے تھے۔

“ششش… شور نہیں کرنا، آرام سے بیٹھ جائیں سب لوگ۔”
پیچھے مڑ کر اُس نے نرمی مگر سختی سے کہا

وہ دوبارہ وائٹ بورڈ پر لکھنے لگی ہی تھی کہ اُس کا موبائل بج اُٹھا۔ بیگ میں سے موبائل نکالا تو اسکرین پر “رومی” کا نمبر جگمگا رہا تھا۔ ملیحہ کو حیرت ہوئی کیونکہ رومی نے اس وقت کبھی فون نہیں کیا تھا۔
ملیحہ نے جلدی سے فون کان سے لگایا۔
“السلام علیکم”

دوسری طرف سے رومی کی آواز ابھری، مگر اس بار اُس کے لہجے میں افسردگی نمایاں تھی۔ رومی تو اکثر کال کر لیا کرتی تھی تاکہ زرام اور ملیحہ کے تعلقات بہتر ہو جائیں، سمجھاتی رہتی تھی۔ مگر یہ وقت… یہ عجیب تھا۔

“وعلیکم السلام… سب خیریت ہے؟” ملیحہ نے فوراً سوال کیا، کیونکہ دل میں عجیب سی بے چینی پیدا ہوگئی تھی۔

رومی کا لہجہ تلخ تھا۔
“اگر خیریت ہوتی تو اس وقت کبھی فون نہ کرتی…!”

ملیحہ گھبرا گئی۔
“میں سمجھی نہیں، کیا کہنا چاہتی ہو؟ پہیلیاں مت بجھاؤ۔”

“تو پھر صاف سن لو…! ابھی بھی اُس کو معاف نہیں کرو گی؟ اپنی سوچوں میں گم ہو کر اُسے راستے کی ہوش نہ رہی… سامنے سے آتی گاڑی نظر نہ آئی… بہت بری طرح ایکسیڈنٹ ہوا ہے اُس کا۔ اب آؤ گی؟ یا اُس کی تدفین کے کے لیے ایک ساتھ ہی آؤ گی۔؟”
رومی نے بھاری سانس لیتے ہوئے کہا۔

یہ الفاظ ملیحہ کے دل پر بجلی کی طرح گرے۔ اُس نے کانپتی آواز میں کہا۔
“اللہ اُس کو لمبی زندگی دے… یہ کیسا آل فال بک رہی ہو؟”

“میں ال فال نہیں بک رہی، حقیقت بتا رہی ہوں… آپریشن تھیٹر میں ہے زرام بھائی… سر پر چوٹ لگی ہے، دعا کرو۔”
رومی نے دکھی لہجے میں کہا۔

ملیحہ نے آگے کچھ نہیں سنا، نہ کچھ پوچھا۔ اُس نے ہڑبڑاتے ہوئے ہینڈ بیگ اٹھایا اور کلاس سے باہر بھاگ نکلی۔
اس کا دل زرام کے لیے بے تحاشا دعائیں کر رہا تھا۔

، مگر آنکھوں سے بہتے آنسو یہ گواہی دے رہے تھے کہ خوف اور بے بسی نے اُس کے وجود کو جکڑ لیا ہے۔وہ سکول کہ پرنسپل سے اجازت لیتی ہوئی سکول سے نکل پڑی تھی۔۔
✦✦✦ ✍︎ ✦✦✦

ملیحہ جب ہاسپٹل پہنچی تو اس کے جانے سے پہلے ہی زیغم پہلے سے وہاں پر موجود تھا۔

ملیحہ کے چہرے سے زرام کے لیے محبت اور فکر چھلک رہی تھی۔ جس محبت سے وہ انکار کر رہی تھی وہ ایک لمحے میں اس کے چہرے پر ظاہر ہو گئی۔ وہ تیز قدموں سے زیغم کے قریب جا کھڑی ہوئی تھی۔

“بھائی زرام کیسا ہے؟” اس کے لہجے میں تڑپ تھی۔

“ٹھیک ہے، پریشان مت ہو۔” زیغم کا لہجہ پرسکون تھا۔

“اللہ تیرا شکر ہے۔” بے اختیار وہ آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے بولی۔

“جب اتنی محبت ہے تو کیوں پھر انکار کرتی ہو؟ کیوں خود بھی تڑپ رہی ہو اور اسے بھی خود سے دور رکھا ہے؟ معاف کر دو اس بیچارے کو۔”
یہ آواز رومی کی تھی جو اس کے پیچھے ہی کھڑی تھی، جسے آتے ہوئے شاید اس نے جلد بازی میں نہیں دیکھا تھا۔

“چپ کر جاو، یہ وقت نہیں ان باتوں کا۔” ملیحہ نے نمکین لہجے میں کہا۔

“یہی وقت ہے ان باتوں کا۔” وہ اس کا ہاتھ تھامے ہوئے سامنے کمرے میں لے آئی، جہاں پر فیصل کھڑا تھا اور زرام کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ زرام کا ایکسیڈنٹ ضرور ہوا تھا مگر خدا نے بہت بڑے حادثے سے بچا لیا تھا۔

ذرا کو فیصل انجیکشن لگا رہا تھا۔
زیغم بھی ان کے پیچھے پیچھے کمرے میں آ گیا۔

زرام کی حالت دیکھتے ہی ملیحہ کو اندازہ ہو گیا کہ زرام کا ایکسیڈنٹ ضرور ہوا ہے مگر زیادہ بڑا نہیں۔ رومی نے بات زیادہ بڑھا کر بتائی ہے۔ ملیحہ نے رومی کی جانب غصے سے دیکھا۔

“تم نے جھوٹ بولا تھا کہ اس کا بہت بڑا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے، اس کا آپریشن چل رہا ہے!”

“تو کیا تمہیں افسوس ہو رہا ہے کہ بھائی صحیح سلامت ہے؟” رومی نے الٹا جواب دے دیا۔

“میں نے ایسا نہیں کہا مگر تم نے جھوٹ کیوں بولا؟” ملیحہ کو غصہ آ رہا تھا۔

“دیکھنا چاہتی تھی کہ محبت زندہ ہے یا سچ میں مر گئی ہے۔ مگر نتیجہ تمہارے سامنے ہے… محبت تو اب بھی ہے، ورنہ تم اس طرح پاگلوں کی طرح دوڑی دوڑی نہیں آتیں۔”

“اسے انسانیت کہتے ہیں، اس کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو میں ایسے ہی آتی۔”

“غلط! کل ہی ہمارے ہاسپٹل کے چوکیدار کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔ اگر میں تمہیں فون کرتی تو تم اسی طرح بھاگی چلی آتیں؟” رومی کی بات پر فیصل کی ہنسی چھوٹ گئی تھی۔ فیصل کی ہنسی کا اسٹائل ایسا تھا کہ زیغم اور زرام بھی ہنسنے لگ پڑے جبکہ ملیحہ کو مزید غصہ چڑھ گیا۔

“تم اپنے فلسفے اپنے پاس رکھو سمجھی؟ چوکیدار میرے چاچا کا بیٹا تھا۔ جو میں بھاگی چلی آتی، اس کے ساتھ میرا رشتہ تھا، اس لیے میں ضرور آتی۔ اور اس کی جگہ کوئی اور میرا ریلیٹو ہوتا تو میں ایسے ہی آتی۔ اب اس بات کو محبت کا رنگ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔”
ملیحہ اپنے چہرے کے زاویے چھپا بھی نہیں پا رہی تھی مگر اپنی بات پر ٹکی ہوئی تھی۔

اب معاملہ زیغم سلطان کو سنبھالنا تھا۔ یہ وقت تھا کہ اسے اس رشتے کو صحیح راستے پر چلانے کی ضرورت تھی۔ وہ تھوڑا سا آگے بڑھا۔

“دیکھو ملیحہ… میں تمہاری خودداری کی بہت ریسپیکٹ کرتا ہوں اور میں ایک لمحے کے لیے بھی تمہیں غلط نہیں کہہ سکتا۔ تمہارا فیصلہ، تمہارا غصہ بالکل جائز ہے۔ اور میں کہتا ہوں کہ ایک عورت کو ایسا ہی ہونا چاہیے۔ جب مرد کردار کی گواہی مانگے تو نہیں دینی چاہیے، بالکل بھی نہیں دینی چاہیے… اس صورت میں جب عورت اپنے شوہر کے ساتھ وفادار ہے۔

میں یہ نہیں کہتا کہ ہر عورت صحیح ہوتی ہے، مگر صحیح عورت کو اپنے کردار کی گواہی نہیں دینی چاہیے۔ کیونکہ جو عورت ہوتی ہے وہ ہمیشہ وفادار ہوتی ہے، اور جو وفا نہ کر سکے اسے عورت کہلانے کا حق نہیں ہوتا۔

اگر عورت کے لیے یہ رولز ہیں تو مرد کے لیے بھی ہیں۔ کہ اگر محبت ہو تو پھر یہ یقین لازم بن جاتا ہے۔ محبت کو سوال اور جواب کے ترازو میں جب مرد تولے، تو ایسے مرد کو ایسی ہی سزا ملنی چاہیے جیسی تم نے میرے بھائی کو دی ہے۔ اور میں تمہاری اور تمہارے ہر فیصلے کی دل سے قدر کرتا ہوں۔

مگر آج ایک بڑا بھائی ہونے کے ناطے اگر میں ریکویسٹ کروں تو… میرے اس نادان اور بے وقوف بھائی کو معاف کر دو۔ اس لیے نہیں کہ یہ صحیح ہے، صرف اس لیے کہ یہ تم سے محبت حد سے زیادہ کرتا ہے۔ ایک موقع اسے ضرور ملنا چاہیے۔ میں صرف اس کی سفارش کر رہا ہوں، فیصلہ اب بھی تمہارا ہوگا۔

ہم تمہیں کچھ وقت دیتے ہیں۔ جب تم اس کمرے سے باہر آؤ گی، تمہارا آخری جو بھی فیصلہ ہوگا ہمیں منظور ہوگا۔”

یہ کہتے ہوئے زیغم نے ایک نظر زرام کی جانب دیکھا اور باہر کی جانب چل دیا۔ اس کے پیچھے ہی فیصل اور رومی بھی نکل گئے۔

اب کمرے میں زرام اور ملیحہ رہ گئے تھے۔ زیغم سلطان کی جو ریسپیکٹ تھی، جو اس کے اصول تھے… ان کے سامنے ملیحہ کی بولنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔ اس لیے خاموشی سے وہ رک گئی تھی۔

ملیحہ اپنی جگہ پر ہاتھوں کو مروڑتے ہوئے کھڑی تھی۔ نظریں دروازے پر مرکوز تھیں، وہ زرام کی جانب نہیں دیکھ رہی تھی۔

زارام بیڈ سے اتر کر خود اس کے قریب آ کھڑا ہوا۔

گرم سانسوں سے چہرے کے قریب محسوس کرتے ہوئے اس نے پلٹ کر دیکھا۔

“جب محبت ہے تو پھر معاف کیوں نہیں کرتی؟ ایک بار معاف کر دو، دوبارہ کبھی ایسا گناہ نہیں ہوگا۔”
وہ اس کے ہاتھوں کو نرمی سے تھامتے ہوئے بولا تھا۔

مگر ملیحہ نے اپنے ہاتھوں کو پیچھے کھینچ لیا۔

“محبت نہیں ہے… نہیں ہے محبت! انسانیت کو محبت کا نام مت دو۔ محبت تو اسی دن مر گئی تھی جس دن یقین نہیں کیا تھا۔ محبت اسی دن مر گئی تھی جب تم نے مجھ سے پوچھا تھا کہ سچ کیا ہے۔ محبت اسی دن مر گئی تھی جس دن میرا بچہ اس دنیا سے گیا تھا… تمہاری وجہ سے۔
اب جو ہے وہ صرف انسانیت ہے۔ کسی کے ساتھ بھی اگر وقت گزارا جائے تو انسان کو اس کے ساتھ لگاؤ ہو جاتا ہے۔ بس اسی لگاؤ کے تحت آئی ہوں۔”

“اچھا، مجھے تو لگا کہ شاید محبت ہے… پھر تو کاش آج جو ایکسیڈنٹ ہوا ہے اس میں میری موت ہو جانی چاہیے تھی۔ ایسی زندگی کا بھی کیا فائدہ۔”

ابھی اس کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ ملیحہ کا ہاتھ زور سے ہوا میں لہرایا۔

چٹاخ کی وہ تیز آواز گونجی… جیسے کسی کے چہرے پر تھپڑ مارا گیا ہو۔

زارام کے چہرے پر تھپڑ کی سرخی واضح تھی۔

باہر دروازے کے ساتھ کان لگائے کھڑے فیصل نے جب یہ آواز سنی تو فوراً کان پیچھے کھینچ لیے۔

رومی نے آنکھ کے اشارے سے پوچھا، “اندر کیا ہوا ہے؟”

فیصل نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اپنے گال پر ہاتھ رکھا۔

“تھپڑ مار دیا!” ۔۔ رومی کے منہ سے بے اختیار نکلا۔

زیغم، جو کمر پر ہاتھ باندھے تھوڑی دوری پر کھڑا تھا، اس نے پلٹ کر دیکھا۔

مطلب… تھپڑ والی بات سب کو پتہ چل گئی تھی۔

°°°°°°°°

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *