Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:61
رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر: 61
✦✦✦ ✦✦✦
زرام کے ایکشن کا جو ری ایکشن آیا تھا، اس کے بعد تو کچھ سیکنڈ کے لیے اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا تھا۔ ہاتھ گال پر رکھے، وہ ملیحہ کو دیکھتا رہ گیا، جیسے پہلی بار دیکھ رہا ہو کہ ملیحہ واقعی ایسا کچھ کر سکتی ہے۔ اس کے لیے یہ بالکل غیر متوقع تھا، اور امید نہیں تھی کہ ملیحہ اس حد تک جا سکتی ہے۔
ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟ جو کچھ تم نے کہا، اس کے بعد مجھے تمہارے ساتھ اس سے بھی برا سلوک کرنا چاہیے تھا۔ اس کی سخت حالت دیکھ کر ملیحہ خود سے بولی، انداز ایسا جیسے سٹوڈنٹ سے بات کر رہی ہو۔
“یار، تھپڑ مار دیا تم نے؟” زرام حیرانی سے پوچھ رہا تھا۔
“کیوں؟ یقین نہیں آ رہا؟ ایک اور مار کر دکھاؤں؟”
“شرم نہیں آتی تمہیں اپنے شوہر کو تھپڑ مارتے ہوئے؟”
“نہیں، شوہر کو شرم نہیں آتی موت مانگتے ہوئے۔”
“ہاں تو شوہر بیچارے، کیا کرے؟ تم میرے ساتھ رہنے کو تیار نہیں، مجھے معاف کرنے کو تیار نہیں، تو ایسی زندگی کا میں کیا کروں؟”
“اچھا، جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں زندگی دی تھی، تو تمہارے سرٹیفکیٹ میں لکھا ہوا تھا کہ ملیحہ نہیں ملے گی، جو تم مر جاؤ گے، لکھوا کر آئے تھے، بولو۔”
“نہیں، نہیں، لکھوا کر نہیں آیا تھا۔ اور یار، اس طرح سے بات مت کرو۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے، تم تو مجھے اپنے سٹوڈنٹ کی طرح سمجھ رہی ہو، میری ٹیچر مت بنو۔” بیچارے زرام نے گال پر ہاتھ رکھے ہوئے، پاس رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھ گیا۔
“سچ میں ڈر لگ رہا ہے، اس وقت ڈر کیوں نہیں لگا؟”
“پلیز ۔۔۔۔۔۔اور تھپڑ مار لو، معاف کر دو، وہ سب بار بار مت دہراؤ، ہاتھ جوڑتا ہوں، تمہارے پاؤں پر پڑتا ہوں۔”
زرام اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی اٹھ کر کھڑا ہوا، اس کے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے پھر اس کے پاؤں کے پاس نیچے زمین پر بیٹھ گیا۔
ہائے اللہ، سو سوئیٹ! لیلیٰ مجنوں ،ہیر رانجھا… سب کو پیچھے چھوڑ دیا یار!
فیصل اور رومی کان لگائے ہوئے تھے اور اندر ہونے والی باتوں کو سن کر رومی بے اختیار خوشی سے جھوم اُٹھی تھی۔اور اس کے جھوم کے انداز اور اس کی آواز سے زیغم ایک بار پھر ان کی جانب متوجہ ہو گیا جو کچھ دیر پہلے فون پر دانیہ بات کر رہا تھا،دانیا زرام کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔۔۔
“بہت غلط بات ہے، یہ ان لوگوں کا پرسنل میٹر ہے۔ ان کی پرائیویٹ باتیں ہیں،تم دونوں چھوٹے بچے ہو،جو کان لگا کر سن رہے ہو۔ شرم انی چاہیے ایسی حرکت کرتے ہوئے،ابھی کے ابھی دروازے سے دور ہو جاؤ!” زیغم نے سخت لہجے میں کہا۔
زیغم کی سنجیدگی اور اس کے لہجے کی سختی کو محسوس کرتے ،رومی اور فیصل دونوں دروازے سے دور ہو کر کھڑے ہو گئے، بالکل اچھے اور نیک بچوں کی طرح۔زیغم نفی میں سر کو ہلاتے ہوئے پھر سے فون پر بات کرنے لگا۔
‘ہاں ہاں، سچ کہہ رہا ہوں، الحمدللہ،ذرام بالکل ٹھیک ہے۔ سر پر معمولی سی چوٹ لگی ہے، مگر خطرے کی کوئی بات نہیں۔دانیا کی فکر مندی والی آواز سن کر زیغم نے اسے تسلی دی۔۔
“ہاں مگر اب خطرے کی ہو سکتی ہے کیونکہ اس کی بیگم صاحبہ کمرے میں ہیں اور معافی کا سلسلہ چل رہا ہے۔ اب آگے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ تم اور مائد شام کو چکر لگاؤ، بغیر دانیا کی بات سنے۔ زیغم پوری تفصیل اسے بتا چکا تھا۔
“یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ اللہ کرے دونوں ٹھیک ہو جائیں، میری بہت سی دعائیں ہیں۔ بالکل اچھے نہیں لگتے یہ دونوں الگ۔” دانیا نے دل سے دعا دی، بہت فکر مند تھی، وہ ذرام اور ملیحہ کے لیے۔
“آمین۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ان کے رشتے کو بہتری کی طرف لائے، تو اس سے بڑی اور کیا بات ہو سکتی ہے؟ چلو خیر، تم دونوں شام کو چکر لگاؤ۔ میں ذرا دیکھوں کیا صورتحال ہے۔” کہتے ہوئے زیغم نے فون بند کر دیا۔
“اب تمہیں شرم نہیں آ رہی بیوی کے پیروں میں بیٹھتے ہوئے؟ اٹھ کر کھڑے ہو جاؤ!” بالکل، مجھے ایسی حرکتیں کرتے ہوئے تم جیپ لگتے ہو،” ملیحہ نے اس کے کاندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے ہاتھ سے پکڑ کر کھڑا کرنے کی کوشش کی۔
مگر زرام نہیں اٹھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، وہ نظریں جھکائے بیٹھا رہا۔
ملیحہ کے دل میں اچھی خاصی بے چینی بڑھنے لگی، جسے وہ روکنے کی کوشش کے باوجود قابو نہیں پا رہی تھی۔
“کیوں کر رہے ہو یہ سب؟ مجھے کمزور کرنا چاہتے ہو؟” وہ نیچے فرش پر اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے روتی رہی، آنکھوں میں بے پناہ درد اور مایوسی کے ساتھ۔ روتے ہوئے اس نے زرام کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔
“نہیں، میں تمہیں کمزور نہیں کرنا چاہتا… میں تمہیں واپس حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ ایک بار معاف کر دو، زندگی میں کبھی دوبارہ ایسی غلطی نہیں ہوگی۔” زرام بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا تھا، اس کی ہر سانس میں پچھتاوے کی صدائیں سنائی دے رہی تھیں۔
“اگر غلطی دوبارہ ہوئی تو؟” ملیحہ نے کپکپاتے لہجے میں پوچھا، آنکھوں میں خوف اور درد کے ساتھ۔
“نہیں ہوگی… اگر ہوئی تو تم میری جان لے لینا۔” زرام نے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھوں میں تھام کر وعدہ کیا، ہر الفاظ میں صداقت اور خوف کی جھلک تھی۔
“سوچ لو، دوبارہ معافی نہیں ملے گی۔” ملیحہ نے روتے ہوئے کہا، دل میں اب بھی غصہ اور محبت کا الجھاؤ موجود تھا۔
“میں غلطی ہی نہیں کروں گا۔” زرام نے سر جھکائے دل کی گہرائی سے کہا، ہر حرف میں عاجزی اور محبت جھلک رہی تھی۔
“بہت برے ہو تم… بہت برے… تم نے وہ کر دیا جو میں نہیں کرنا چاہتی تھی۔ میں تمہیں معاف نہیں کرنا چاہتی تھی۔” ملیحہ نے روتے ہوئے اس کے سینے پر مکے مارے، جسمانی درد کے ساتھ جذبات کا طوفان بھی تھا۔ کمزور پڑتے ہوئے اس کا سر زرام کے سینے سے ٹکرا گیا، لیکن زرام نے اپنے بازو مضبوطی سے اس کے گرد لپیٹ لیے، جیسے دنیا کی ہر مشکل سے اسے بچانے کی ٹھان لی ہو۔
“تھینک یو… تھینک یو… تھینک یو سو مچ کہ تم نے مجھے معاف کر دیا۔ میں تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی۔ کبھی بھی مجھ سے کوئی غلطی نہیں ہوگی، کبھی ایسی غلطی کرنے کے بارے میں سوچوں گا بھی نہیں۔ وہ خود سے وعدے کیے جا رہا تھا۔
تم ہمیشہ میرے ساتھ رہنا تمہارے بغیر زندگی بے مقصد ہے۔میرے جینے کی کوئی وجہ ہی نہیں تھی۔…” ملیحہ کی آنکھوں میں آنسو، لیکن دل میں سکون اور محبت کی روشنی بھر چکی تھی۔
وہ خاموش تھی، مگر دونوں کی دھڑکنیں جیسے ایک دوسرے سے باتیں کر رہی تھیں۔ ملیحہ کے آنسو زرام کے سینے میں آہستہ آہستہ جذب ہو رہے تھے، اور زرام کے بازوؤں کی حفاظت، اس کا نرمی بھرا لمس، ملیحہ کے دل اور روح دونوں کو سکون دے رہا تھا۔ ہر سانس، ہر ہلکی حرکت میں ایک خاموش محبت کا پیغام تھا، جو لفظوں کے بغیر دلوں کو جوڑ رہا تھا۔
ملیحہ نے زرام کے سینے سے جمی محبت اور عقیدت محسوس کرتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں۔ دل میں سکون اُتر آیا اور زرام کی حفاظت کا لمس اسے تسکین دے گیا۔
ملیحہ کی آنکھیں بند تھیں، وہ صرف زرام کی موجودگی میں اپنے آپ کو محفوظ محسوس کر رہی تھی۔ زرام کے دل کی دھڑکنیں اور اس کے بازو کا مضبوط لمس، ملیحہ کے ہر خوف اور درد کو آہستہ آہستہ پگھلا رہے تھے۔
ملیحہ نے زرا کے سینے سے سر ہٹایا، مگر نظریں ابھی بھی اس کی آنکھوں میں جمی ہوئی تھیں۔ زرام کے لبوں پر مدھم سی مسکراہٹ تھی۔ جو درد اور راحت دونوں کا عکس تھی۔
زرام نے اس کا ہاتھ اپنی انگلیوں میں نرمی سے تھام لیا، اور ملیحہ نے محسوس کیا کہ ہر تھپک دل کی اس کی دھڑکن میں ایک وعدے کی طرح گونج رہی ہے،کہ وہ کبھی اسے دوبارہ دکھ نہیں پہنچائے گا۔
خاموشی میں، بس سانسوں کی آواز اور دھڑکنیں، دونوں کے دلوں کی کہانی سنا رہی تھیں۔ ملیحہ کے اندر ایک نرمی اور اطمینان پیدا ہوا، جو اس کے آنسوؤں کی رفتار کو کم کرتا جا رہا تھا۔
اسکا ہر آنسو زرام کی محبت میں غرق ہو رہا تھا، اور ہر لمس ملیحہ کے دل کو سکون دے رہا تھا۔
“سوری، زیغم بھائی! اب اندر جانا ضروری ہو گیا ہے، آپ جتنا مرضی ناراض ہوں… میں تو جا کر رہوں گا۔”
فیصل نے دانت نکالتے ہوئے روم کے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ کیونکہ روم کے اندر سے آتی ہوئی آوازیں بند ہو چکی تھیں، اور زرام کو یہ یقین ہو گیا تھا کہ معاملہ ٹھیک ہو گیا ہے،اور اس سے صبر نہیں ہو رہا تھا۔
زیغم نے اس کی بے تابی دیکھ کر نفی میں سر ہلایا۔
رومی دبے پاؤں ہنستے ہوئے فیصل کے پیچھے پیچھے روم کی طرف بڑھ رہی تھی۔کیونکہ اسے بھی تجسس ہو رہا تھا کہ دونوں کے بیچ میں کیا ہو رہا ہے۔
فیصل نے جیسے ہی دروازہ لپک کر کھولا تو اندر کا منظر دیکھ کر اس کی کھی کھی ہنسی بے قابو ہو گئی۔ وہ چہرے پر ہاتھ رکھ کر دانت نکال رہا تھا، اور اس کے پیچھے آئی رومی بھی یہ نظارہ دیکھ کر ہنسے بغیر نہ رہ سکی۔
فرش پر بیٹھے زرام نے ملیحہ کو اپنے بازوؤں کے حصار میں لیا ہوا تھا۔ دونوں کی آنکھوں میں نمی اور دلوں میں سکون تھا، وہ لمحہ صرف ان دونوں کا لگ رہا تھا۔
مگر اچانک رومی اور فیصل کا یوں اندر آ جانا، ملیحہ کو جھینپ سے بھر گیا۔ وہ فوراً زرام کے حصار سے نکل کر تیزی سے کھڑی ہو گئی۔ چہرہ سرخ ہو چکا تھا، نظریں کہیں اور ٹک نہیں پا رہی تھیں۔ دل چاہ رہا تھا زمین پھٹ جائے اور وہ سما جائے۔
زارم کی نگاہیں ابھی بھی اسی پر جمی رہیں، جیسے وہ اس کی شرماہٹ کو بھی ایک حسین لمحے کے طور پر دل میں قید کر رہا ہو۔
“واہ میرے مجنوں! اب اس بیچاری کو دیکھنا بند بھی کرو… کیا نظروں سے ہی کھا جانے کا ارادہ ہے؟”
فیصل کی زبان چپ نہیں رہ سکتی تھی، اس لیے زرام کی نظریں ملیحہ پر مرکوز دیکھ کر اس نے یہ جملہ اچھال دیا۔
ملیحہ کے گال شرماتے ہوئے مزید لال ہو گئے اور وہ نظریں جھکا کر دو قدم پیچھے ہٹ گئی، جبکہ زرام کے لبوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ پھیل گئی جیسے وہ فیصل کے مذاق کے باوجود اپنی چاہت کا اعتراف نگاہوں سے کر رہا ہو۔
ملیحہ شرماتے ہوئے فوراً اپنا رخ دیوار کی جانب موڑ گئی، تاکہ وہ سب کے چہروں کا سامنا نہ کر سکے۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہو چکی تھیں اور سانس بھی بے قابو سا لگ رہا تھا۔
اتنے میں رومی نے شرارت بھرے قدم بڑھائے اور دونوں ہاتھ باندھ کر بالکل اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ لبوں پر دبی دبی ہنسی تھی، جیسے وہ ملیحہ کی گھبراہٹ کو مزید بڑھانے آئی ہو۔
“ہم بیچارے معصوم بچے باہر کھڑے یہ سوچ رہے تھے کہ جب صلح ہوگی تو ہمیں اندر بلایا جائے گا… ہمارا شکریہ ادا کیا جائے گا کہ ہم نے آپ لوگوں کو ملوانے کے لیے ڈانٹ تک کھائی، جھوٹ تک بولا!”
رومی نے ہاتھ کمر پر رکھ کر شرارت سے کہا، پھر ملیحہ کی لال پڑی صورت دیکھ کر قہقہہ لگایا۔
“مگر یہاں تو لیلیٰ مجنوں کچھ زیادہ ہی رومینٹک موڈ میں آگئے تھے… اور ہماری تو کوئی فکر ہی نہیں!”
لفظوں کا یہ وار ملیحہ کے شرمائے ہوئے چہرے پر اور بھی گہرا رنگ بھر گیا، وہ نظریں مزید جھکا گئی اور انگلیوں کو آپس میں الجھانے لگی۔
“ڈاکٹر رومی، آپ ان کو کچھ مت کہیں… اصل مجرم تو یہ بندہ ہے!” فیصل نے دانستہ زرام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بات چھڑی۔
“ہم اس کا علاج کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ بھلا ایسے دل کے مریض کا علاج کیوں کریں جو ہمیں خوشی کے پل سنانے تو دور کی بات، محسوس تک نہیں کروا پایا؟ میسنہ گھنا کی کا، ہم تو باہر کھڑے ہی رہ گئے!” فیصل نے جان بوجھ کر زرام کی ٹانگ کھینچی۔
زارم کے لبوں پر نیم مسکراہٹ بکھر گئی “تکلیف کیا ہے تمہیں؟ اپنی بیوی کے ساتھ تھا… اور تم تو ایسے میری کھلی اُڑا رہے ہو جیسے میں کسی گرل فرینڈ کے ساتھ پکڑا گیا ہوں!”
اس کی مسکراہٹ لبوں سے الگ ہی نہیں ہو رہی تھی۔ وہ دل سے اتنا خوش تھا کہ چھپائے نہیں چھپ رہا تھا۔
اسی لمحے زیغم سلطان نے بھی روم میں قدم رکھا۔ اندر کے ماحول کو دیکھتے ہی اسے اندازہ ہو گیا کہ سب ٹھیک ہو چکا ہے۔ وقت کی دھند چھٹ گئی تھی، رشتے ایک دوسرے کے لیے واضح دکھائی دینے لگے تھے۔ بے اختیار اس کے دل سے “الحمد للہ” کی صدا نکلی، جسے صرف اس کے دل نے سنا۔ زیغم ہمیشہ ملیحہ اور زرام کے رشتے کو سمیٹنا چاہتا تھا مگر ملیحہ پر پریشر ڈال کر نہیں کیونکہ اس کی نظر میں غلطی زرام کی تھی۔
“مبارک ہو…” زیغم نے مسکرا کر کہا۔
نہ کوئی سوال، نہ کوئی جواب، نہ کوئی مذاق…
صرف لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ اور چہرے پر سنجیدگی، جو اس کی وجاہت اور پرسنلٹی کو اور بھی نکھار رہی تھی۔
“خیر مبارک بھائی…. شکریہ آپ سب کا جن کی وجہ سے آج یہ لمحے نصیب، ذرام نے زیغم کی بات کا جواب دیا تھا۔۔
کمرے میں لمحے بھر کو خاموشی چھا گئی۔
ملیحہ کی نظریں جھک گئیں، زرام کے لبوں پر شکر گزاری کی مسکراہٹ تھی۔
مگر فیصل کہاں چپ رہنے والا تھا، اس نے ہنس کر کہا۔
“واہ بھائی، یہ ہوئی نا وی آئی پی انٹری… سیدھا دل پر اثر ڈالنے والی! اور واقعی تمہیں ہم سب کا شکریہ ادا کرنا چاہیے ہم نے اتنی محنت کی اور ہمیں تم نے لو موومنٹ تو دکھائے نہیں۔؟
رومی نے فوراً ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے،شرارت سے آنکھ دبائی ۔
“اور ہاں، فیصل! لگتا ہے اب ہماری محنت ہماری قربانی کو کوئی یاد بھی نہیں کرے گا۔”
یہ سن کر سب کے لبوں پر ہنسی پھیل گئی، یہ سن کر سب ہنس پڑے اور کمرے کا ماحول شرم اور خوشی کے ساتھ مزید خوشگوار ہو گیا۔
“شٹ اپ منہ کھولنے سے پہلے سوچ لیا کرو زیغم بھائی کھڑے ہیں… زرام نے مدھم سے لہجے میں فیصل کو کہتے ہوئے آنکھیں دکھائیں۔جبکہ زیغم نے سن لیا تھا مگر خاموش رہا وہ ایسی باتوں میں کم اپنے تاثرات ظاہر کرتا۔
“میں خوش ہوں تم دونوں کے لیے ۔ اللہ تعالی نے تم دونوں کے تمام اختلافات ناراضگیاں دور کر دی ۔بس اب اللہ سے دعا ہے کہ کبھی ان کے بیچ میں دوریاں نہ آئیں ۔ آمین سب نے ایک ساتھ کہا۔
“چلو بھائی، اب بتاؤ… نواب صاحب کو چھٹی کب دینی ہے؟”
زیغم نے مسکراتے ہوئے زرام کو دیکھتے ہوئے رومی اور فیصل سے کہا۔
“میں تو بالکل چھٹی دینے کے حق میں نہیں ہوں!” فیصل نے فوراً بات کاٹی۔
“بلکہ میرا تو خیال ہے کہ نواب صاحب کو دو مہینے کے لیے یہیں ایڈمٹ کر لیتے ہیں… ملیحہ بھابھی کو آپ گھر لے جائیں، اس کی خدمت یہاں میں کر لوں گا۔24 گھنٹے اس کی خدمت میں حاضر رہوں گا !”بہت دنوں بعد فیصل کو زرام کو تنگ کرنے کا موقع ملا تو وہ کوئی بھی موقع خالی جانے نہیں دے رہا تھا۔
فیصل کے لہجے میں ایسی شرارت تھی کہ سب کے لبوں پر ہنسی آ گئی، جبکہ ملیحہ کے گال مزید لال ہو گئے۔
زارم کی بھنویں شرارت سے اٹھیں، لبوں پر مسکراہٹ کھیل گئی۔
” ڈاکٹر فیصل ! خیال رکھنا… اگر تم نے واقعی میری خدمت کا سوچا، تو میں بھی بغیر لحاظ کے جب بھی موقع ملے گا چاہے ضرورت ہو یا نہ ہو،تمہیں آئی سی یو میں ایڈمٹ کروا دوں گا،یہ مت بھولو کہ جناب ہم بھی ڈاکٹر ہیں۔”
یہ سنتے ہی کمرے میں قہقہے گونج اٹھے ۔
“بھائی اب ہمیں بھی بتا دو کہ کیا فیصلہ ہے، کب تک اس کو چھٹی ملے گی؟”
سب کو باتوں میں مصروف دیکھ کر زیغم نے ایک بار پھر بات دہرائی۔
“زیغم بھائی، یہ بالکل ٹھیک ہیں۔رومی پرسکون انداز میں تفصیل بتانے لگی۔ اور ملیحہ کے آنے کے بعد تو اب انہیں اور کوئی مسئلہ ہو بھی نہیں سکتا۔ ان کی بیگم صاحبہ خود ان کا خیال رکھ لیں گی… رومی نے شرارتی نظروں سے ملیحہ کی جانب دیکھا جو پہلے ہی نظریں جھکائے کھڑی تھی۔بیچاری کی حالت ایسے تھی جیسے کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔
“اور ویسے بھی سر پر معمولی چوٹیں ہیں، ایڈمٹ کی ضرورت نہیں۔ باقی ڈریسنگ تو میں گھر پر کر دوں گی۔”
زیغم نے زرام کی طرف رخ موڑا۔
“تو ٹھیک ہے، چلو تم حویلی۔”
زارم نے ملیحہ کی طرف دیکھتے ہوئے آہستہ سے کہا۔
“نہیں بھائی، میں گھر جا کر آرام کروں گا۔ اور ابھی محترمہ کو اس کے اماں ابا کے گھر سے ان کی اجازت سے لینے کے لیے بھی تو جانا ہے۔”
زیغم کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی مگر لہجہ فیصلہ کن۔
“اس کی ضرورت نہیں ہے۔ میری بات ہو گئی ہے ان سے۔ انہیں کوئی اعتراض نہیں، ان کی طرف سے اجازت ہے تم ملیحہ کو اپنے ساتھ گھر لیجا سکتے ہو ۔
بلکہ وہ تو بہت خوش ہیں کہ تم دونوں نے اپنی ناراضگی دور کر دی ہے۔ کل وہ خود چکر لگا لیں گے۔ تم حویلی چل رہے ہو میرے ساتھ… اور یہ میرا فیصلہ ہے،کسی بھی طرح کی انکار کی گنجائش نہیں ہے۔”
“مائد اور دانیہ شام کو تمہاری خیریت دریافت کرنے کے لیے حویلی آ رہے ہیں… اور مجھے بھی تمہاری فکر رہے گی اس لیے تم بھی ہمارے ساتھ حویلی آ رہے ہو!”
زیغم کے انداز میں حکم بھی تھا اور اپنائیت بھی،زرام خاموش ہو گیا کیونکہ اب انکار کی گنجائش نہیں تھی ۔
زرام کو حکم دینے کے بعد مائد رومی کی جانب متوجہ ہوا تھا۔
زرام اور ملیحہ کے رشتے میں آئی دوریوں کو مٹتے دیکھ کر۔وہ کافی خوش نظر آ رہی تھی۔
“رومی۔”زیغم نے رومی اپنی جانب متوجہ کیا ۔
“جی بھائی۔”
” تم سب لوگوں کی دعوت ہے میری طرف سے … شام کو تم بھی حویلی ضرور آنا۔”
زیغم کے لہجے میں بھائیوں والی محبت تھی،رومی نے ہاں میں سر ہلایا۔
“ڈاکٹر صاحب، میرے خیال سے تمہیں کہنے کی ضرورت تو نہیں ہے… جب تمہارا دوست آ رہا ہے تو تمہیں تو آنا ہی ہوگا۔” فیصل کی جانب دیکھتے ہوئے زیغم کے لہجے میں دوستانہ اصرار اور ہلکی سی شرارت تھی۔
“نہیں نہیں… ہمیں کہنے کی کیا ضرورت ہے۔ جہاں یہ، وہاں ہم۔”
فیصل نے بظاہر یہ جملہ زرام کے لیے کہا تھا، مگر اس کے جذبات صرف زرام کے لیے نہیں تھے۔ وہ کسی اور کے لیے تھے۔ اس کی نگاہوں کی تپش محسوس کر چکی تھی، مگر ہمیشہ کی طرح لاتعلق رہی، جیسے اسے کچھ خبر ہی نہ ہو۔
“بھائی، میں ذرا اپنی واڈ کا چکر لگا کر آتی ہوں۔”
رومی فوراً سے وہاں سے کھسک گئی، کیونکہ زرام کے جذبات رومی کے لیے تھے… جنہیں وہ ہمیشہ نظر انداز کرتی آئی تھی، اور آج بھی اس نے فیصل کے ساتھ وہی کیا۔
“چلو تم لوگ شام کو ٹائم سے پہنچ جانا، میں ان کو لے کر چلتا ہوں۔” زیغم نے رومی اور فیصل سے کہا۔
“میں گاڑی نکالتا ہوں… ملیحہ، تم اپنے شوہر محترم کو لے کر پہنچ جاؤ۔”
زیغم کے لہجے میں ہلکی سی شرارت تھی۔ ملیحہ بچاری تو شرمائے جا رہی تھی،
ملیحہ کےدل میں خوشی، نظروں میں شرارت۔ اور زرام اس پر دل ہارنے والی نظریں مرکوز کیے ہوئے تھا۔ کمرے سے سب لوگ جا چکے تھے، سوائے فیصل کے۔
زرام کی نظریں ملیحہ پر مرکوز دیکھ کر فیصل کو پھر شرارت سوجھ گئی۔
“بھائی، گھر جا کے باقی دیکھ لینا، بیچاری کو سانس تو لینے دو۔ کیا آج ہی اتنا دیکھ لوگے کہ دوبارہ سے بھابھی ناراض ہو کر واپس اپنے مائکے چلی جائیں گی؟”
“تو نہ دفع ہو جا یہاں سے! اور شام کو دعوت پر آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بھائی نے تکلفاً کہا ہے، تم یہیں ہاسپٹل میں سڑتے رہنا،مگر حویلی مت آنا ۔”
زرام نے فیصل پر مصنوعی غصہ جھاڑا۔
“واہ جی واہ، میں نہ آؤں؟ میں تو ضرور آؤں گا۔ یہ تو زیغم بھائی کی نوازش ہے کہ انہوں نے دعوت دی ہے، ورنہ ہم تو خود بھی آ سکتے تھے بن بلائے مہمان کی طرح!” وہ اپنے بالوں کے پیچھے سٹائل سے ہاتھ مارتے ہوئے بولا۔
“بڑے بے شرم ہو! بغیر دعوت نامے کے ہی آ جاتے ہو۔”
“اسے بے شرم نہیں، اسے محبت کہتے ہیں۔ مجھے تم لوگوں سے اتنی محبت ہے کہ مجھے فرق نہیں پڑتا کوئی مجھے انوائیٹ کرے یا نہ کرے۔ قدر کیا کرو میرے جیسے دوست کی!” فیصل نے اپنی ہی وکالت کی۔
“جناب، جس کے لیے تم اتنی محبت ہم پر بکھیر رہے ہو نا، اس کے تاثرات مجھے اچھے نہیں لگتے۔ مجھے نہیں لگتا تمہاری دال گلنے والی ہے۔”
زرام نے بھی لگے ہاتھ اس کی کھچائی کر دی۔
“ابے منوس! ابھی ابھی موت کے منہ سے بچ کر آیا ہے۔ منہ اچھا نہیں تو کم از کم بات تو اچھی نکال لیا کر۔ میری محبت کے دشمن، ہر وقت آل فال بکتے رہتے ہو۔”
فیصل کی جان نکل گئی تھی زرام کے مذاق سے، کیونکہ وہ رومی کے لیے حد سے زیادہ سنجیدہ تھا… اور یہ بات زرام کی نظروں سے چھپی ہوئی نہیں تھی۔
“فیصل بھائی، ان شاءاللہ رومی آپ کی ہے اور آپ کو ہی ملے گی۔ ان کے کہنے سے کیا ہوتا ہے۔” ملیحہ نے جلدی سے فیصل کی طرف داری کی۔
“اچھا…. جی… میرے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔”
زرام نے اس کے نازک ہاتھ کو تھام کر جن نظروں سے یہ الفاظ کہے، بیچاری ملیحہ کی تو بولتی بند ہو گئی۔
“میرے خیال سے مجھے جانا چاہیے… یہ بندہ بار بار رومینٹک ہو رہا ہے، بڑا ہی اتاولا انسان ہے۔ بھابھی بھی کیئر فل رہیں، اپنا دھیان رکھیں اس کے ساتھ رہنے کے لیے آپ کو ایک اچھی سی پسٹل خرید لینی چاہیے، کیونکہ یہ کبھی بھی آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔” فیصل کمرے سے نکلتے نکلتے بھی اپنی زبان بند نہ رکھ سکا۔
“سیم، میں بھی رومی کو یہی کہوں گا کہ اپنے ساتھ ایک پسٹل لے کر چلا کرے… یہ بھی کب اپنی پٹڑی سے اتر جائے، پتا نہیں چلتا۔ تو میں اپنی بہن کو کہوں گا کہ اپنی حفاظت کے لیے ہمیشہ پسٹل ساتھ لے کر گھوما کرے۔”
زرام نے بھی منہ توڑ جواب دیا۔
“تمہاری بہن کو پسٹل ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں… وہ تو منہ سے ہر وقت آگ کے گولے نکالتی رہتی ہے۔”
یہ آخری جملہ کہہ کر فیصل دروازہ بند کر گیا۔
“تم اسی قابل ہو زرام بولتے ہوئے مسکرا دیا….
“ہاتھ چھوڑیں… کیا کر رہے ہیں! فیصل بھائی کیا سوچیں گے؟”
رومی نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ کھینچنے کی کوشش کی، مگر گرفت اور سخت ہوگئی۔
وہ لمحہ ٹھہرا سا لگا۔سانسیں بھاری، آنکھوں میں محبت کی شدت۔
“جو بھی سوچتا ہے… سوچے۔ یہ ہاتھ اب مرنے کے بعد ہی چھوٹے گا۔”
“یہ مرنے والی بات پر کچھ دیر پہلے جو تھپڑ پڑا ہے… لگتا ہے تم بھول گئے ہو۔”
خاموشی لمحہ بھر کو گہری ہوئی۔ پھر ہلکی سی مسکراہٹ زرام کے لبوں پر جاگی۔
“بھولا نہیں ہوں… بلکہ چاہتا ہوں کہ ایک آدھا اور تھپڑ مار دو۔ کم سے کم اسی بہانے تمہارا نازک ہاتھ میری گال کو چھوئے گا۔ شاید…”
“فیصل بھائی بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے… مجھے اپنی حفاظت کے لیے پسٹل ساتھ رکھنی چاہیے۔”
ملیحہ نے بے بسی سے سانس بھری۔ “حالت دیکھیں اپنی، سر پر چوٹ لگی ہوئی ہے… اور آپ کو یہ سب سوچ رہا ہے۔ چلیے، زیغم بھائی ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔”
شرم سے اس کا چہرہ سرخ ہورہا تھا۔ ملیحہ نازک ہاتھ بار بار چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی… مگر زرام کے مضبوط ہاتھ گرفت پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکی تھی۔
“شکریہ… میری زندگی میں واپس آنے کے لیے، اور مجھے معاف کرنے کے لیے۔”
اس کی آواز بھاری ہوئی، نمی سی آنکھوں میں تیر گئی۔ لمحہ ایک دم بوجھل سا ہو گیا تھا۔
پھر جیسے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا ہو،وہ جھک گیا، اور احترام بھری بے قراری میں اس کے قدموں کو چھوتے ہوئے سر جھکا دیا۔
لمحہ تھما، فضا میں خاموشی کی شدت چھا گئی… اور وہ قرب جو لفظوں سے نہیں، صرف دل سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔
ملیحہ کے قدم ساکت تھے، دل کی دھڑکنیں بے قابو۔ وہ چاہ کر بھی انکار نہیں کر پا رہی تھی۔ اس لمحے میں ضبط کے سارے کچے دھاگے ٹوٹنے لگے۔
سانسوں کی تپش گردن کو چھو کر گزری تو ملیحہ کی پلکیں لرز اٹھیں۔ دل چاہا ایک لمحے کو سب روک دے… مگر کمزوری بڑھتی گئی، اور دل کے دروازے خودبخود کھلتے گئے۔۔
وہ لمحہ ایسا تھا جیسے وقت تھم گیا ہو۔ دونوں اپنی اپنی خاموشی میں ایک دوسرے کی قربت میں ڈوبتے جا رہے تھے۔ سانسوں کی سرگوشی اور دل کی دھڑکنیں ہی سب کچھ بیان کر رہی تھیں۔ شاید… اگر وہ پل ذرا اور کھنچ جاتا تو حد سے آگے نکل جاتے۔
مگر عین اسی وقت فون کی بے وقت گھنٹی نے سحر توڑ دیا۔ زیغم کا نام اسکرین پر جگمگا رہا تھا۔
ملیحہ کی نظریں شرم سے جھک گئیں،چہرہ انگارے کی طرح دہک اٹھا۔ جبکہ وہ،اب بھی مدھم سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا، جیسے ابھی لمحہ ختم نہیں ہوا۔
فون کان سے لگاتے ہوئے بھی اس کی نظریں ملیحہ پر ہی ٹکی رہیں۔
“بھائی… بس ہم پہنچ رہے ہیں۔” وہ آہستہ بولا، اور پھر کال کاٹ کر ایک بار پھر اسی کی طرف دیکھنے لگا۔
“چلیں… بھائی بلا رہے ہیں۔”
وہ مدھم آواز میں بس اتنا ہی کہہ پایا۔ملیحہ نے ہاں میں سر کو ہلایا۔
ذرام نے نرمی سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ لمحہ بھاری نہیں، میٹھا سا سکون بن گیا۔ دونوں کی نظریں ایک دوسرے کو پکار رہی تھیں۔محبت کی گواہی دیتی ہوئی۔
یوں وہ دونوں، ماضی کی نفرتوں اور گلے شکووں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے، ایک دوسرے کے ہم قدم بن کر کمرے سے باہر نکل آئے۔
✦✦✦ ✍︎ ✦✦✦
نایاب کی نظر نہ جانے کب سے ونڈو کی کھڑکی سے باہر الجھی ہوئی تھی، جہاں سے تیز رفتار گاڑیاں گزرتی اور کہیں دور دھندلے عکس سا دکھائی دیتا۔ اس کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ جیسے خاموشی میں چیخ رہی تھی۔ ہر گزرتی ہوئی گاڑی اسے یہ احساس دلاتی کہ زندگی سب کے لیے آگے بڑھ رہی ہے، مگر وہ اپنے گناہوں کے سایوں میں جمی ہوئی ہے۔ دل پر پچھتاوے کا ایسا بوجھ تھا کہ سانس لینا بھی مشکل لگنے لگا۔ آنکھوں میں نمی تھی مگر آنسو ٹوٹ کر گرنے کی ہمت بھی نہیں کر پا رہے تھے، جیسے دل اور آنکھ دونوں ہی سزا بھگتنے پر مجبور تھے۔
نایاب کھڑکی کے پاس کھڑی روتی ہوئی سسکیوں میں ڈوبی دعائیں کرنے لگی۔اس کے پاس سوائے رونے اور دعاؤں کے کوئی راستہ نہیں تھا۔بے چین زندگی میں کوئی سکون نہیں تھا۔جب بھی دل تڑپتا وہ اللہ سے دعا کرنے لگتی تھی اتنی دعائیں اس نے پوری زندگی میں نہیں کی تھی جتنی اس نے پچھلے ایک سال میں کی ۔۔
“اے میرے رب! میں بہت کمزور ہوں… میں نے اپنی خواہشات کو خدا بنا لیا تھا، میں بہک گئی، میں نے تیری کتاب کو پڑھا نہیں، تیرے نبی کی سنت کو اپنایا نہیں۔ اے مالک، میں نے اپنی زندگی خود اپنے ہاتھوں سے برباد کی۔”
اس کے لب کپکپا رہے تھے، دل پر بوجھ ایسا تھا جیسے کوئی پتھر دبا ہو۔
“اے اللہ! میں اپنی خطاؤں کی مٹی میں دب چکی ہوں، مجھے معاف کر دے۔ میرے گناہ اتنے ہیں کہ اگر پہاڑوں پر رکھ دیے جائیں تو وہ بھی بکھر جائیں۔ مگر تو تو رحمتوں کا مالک ہے، تو چاہے تو ایک پل میں میری زندگی سنوار دے۔”
اس کی آنکھیں نم تھیں اور وجود لرز رہا تھا۔
“اے اللہ! میرے والدین نے مجھے صحیح راستہ نہ دکھایا، لیکن آج میں تجھے پکار رہی ہوں۔ تو میرا سہارا ہے، تو میرا مولیٰ ہے۔ میں نے عمر ضائع کر دی، مگر ابھی بھی اگر تیری رحمت متوجہ ہو جائے تو میں بچ سکتی ہوں۔ اے رب، مجھے معاف کر دے، مجھے اپنی ہدایت عطا کر دے۔”
آنکھوں سے بہتے آنسو اس کے گالوں پر بہہ کر گر رہے تھے۔
“اے دلوں کے بیچنے والے مالک! تو میرے دل کی ٹوٹ پھوٹ دیکھ رہا ہے۔ تو جانتا ہے میں جینے کے قابل نہیں رہی، لیکن موت مانگ کر بھی ایک اور گناہ نہیں کرنا چاہتی۔ بس تو ہی فیصلہ کر دے میرے بارے میں۔”
وہ تھک کر کھڑکی سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی، ہچکیوں میں ڈوبی ہوئی۔
“اے اللہ! اگر مجھے زندہ رکھنا ہے تو اپنی عبادت میں رکھنا، اور اگر موت دینا ہے تو ایمان پر دینا۔ مجھے اس عذاب سے نکال لے جو میرے دل کے اندر دہکتے انگاروں کی طرح جل رہا ہے۔”
اس لمحے نایاب کا وجود اس کی فریاد کا عکس بن گیا تھا۔ اس کے لفظ نہیں، اس کی ٹوٹی سانسیں بھی دعا بن چکی تھیں۔
ابھی وہ اپنے رب کے حضور گڑگڑا کر رو رہی تھی، دعاؤں میں ڈوبی ہوئی تھی کہ اچانک دروازے کی دستک نے اسے آنسو پونچھنے اور اس سمت متوجہ ہونے پر مجبور کر دیا۔
“آ جاؤ…” نایاب نے آہستگی سے کہا۔ جانتی تھی کہ کمرے کے دروازے پر سوائے کسی ملازمہ کے اور کون آ سکتا تھا۔ مگر “آ جاؤ” جیسے نرم الفاظ اس کے لبوں سے نکلنا عجیب سا لگ رہا تھا۔ وہ نایاب جو کبھی انتہا کی بدتمیز جانی جاتی تھی، آج اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ ہر عام سے عام آدمی، عورت یا بچے کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگے جنہیں اس نے کبھی دکھ دیا تھا۔ اس کا لہجہ نرم اور ٹوٹا ہوا تھا۔
ملازمہ نے دروازہ کھولا اور اندر آتے ہی نظریں جھکائے مودبانہ انداز میں بتایا
“بی بی جی، بڑی حویلی سے فون آیا ہے… زرام سائیں آج رات بھر نہیں آئیں گے، وہ بڑی حویلی پر ہی رکے ہوئے ہیں۔”
نایاب کے لب ہولے سے ہلے،
“جی، ٹھیک ہے…”
اس نے صرف اتنا ہی جواب دیا۔ اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ زرام جب کبھی بڑی حویلی یا ہسپتال میں رکتا، تو پیغام اسے گھر کے ملازموں کے ذریعے ہی ملتا رہتا تھا۔
“جی، ٹھیک ہے…” نایاب کے لبوں سے نکلا، مگر دل کے اندر جیسے ایک اور خالی پن نے جگہ بنا لی۔ آنکھوں کے اندر لرزش سی دوڑ گئی۔
جب کبھی زرام گھر نہیں آتا تھا، تو پہلے وہ غرور سے کہہ دیتی، “آئے یا نہ آئے، مجھے کیا پرواہ!” لیکن آج دل کا حال مختلف تھا۔ جیسے وجود مزید تنہا ہو گیا ہو۔ کمرے کی خاموشی اس پر اور بھاری ہو گئی تھی۔
وہ سوچنے لگی…
“کاش! میں نے اس سے کبھی بدکلامی نہ کی ہوتی، کاش میں نے اسے کبھی حقیر نہ سمجھا ہوتا۔ آج دل چاہتا ہے کہ وہ بس سامنے آ جائے اور میں اس کے قدموں میں گر کر معافی مانگ لوں۔”
اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ سانس الجھنے لگی۔ آنکھوں میں نمی ابھر آئی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے الفاظ، اس کی کڑوی باتیں، زرام کے دل پر کتنے زخم چھوڑ گئی ہیں۔ اور شاید اسی لیے وہ اکثر بڑی حویلی یا ہسپتال میں رک جانا پسند کرتا ہے۔
نایاب کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ چیخ چیخ کر کہے۔
“زرام! ایک بار آ جاؤ… دیکھ لو میں ٹوٹ گئی ہوں… دیکھ لو کہ وہ نایاب مر چکی ہے جس نے تمہیں دکھ دیے تھے۔”
لیکن لبوں پر خاموشی کا قفل پڑا رہا۔ اور دل کے اندر کی چیخیں آنکھوں سے بہہ نکلیں۔
نایاب اس وقت جس تکلیف اور جس درد سے گزر رہی تھی، وہ کسی کو بتایا نہیں جا سکتا تھا، نہ ہی سمجھایا جا سکتا تھا۔ اور شاید کوئی یقین بھی نہ کرتا کہ یہ وہی نایاب ہے جس کے لہجے میں کبھی تکبر اور سختی ٹپکتی تھی۔
اب وہ ٹوٹی ہوئی کھڑکی کے سامنے کھڑی تھی اور اس کے دل کا بوجھ صرف ایک ذات دیکھ رہی تھی… اللہ کی ذات۔ وہی جانتا تھا کہ وہ واقعی اپنے ہر گناہ پر شرمندہ ہے۔ اس کے آنسو، اس کی لرزتی سانسیں اور اس کے لبوں سے نکلتی ٹوٹی دعائیں گواہ تھیں کہ اس کا دل اب سچ مچ بدلنے لگا ہے۔
✦✦✦ ✍︎ ✦✦✦
سلمہ نے جھٹکے دار لہجے میں پوچھا، “کہاں کی تیاری ہے؟”
رومی، جو ابھی ہاسپٹل سے واپس آئی تھی، فریش اور پرعزم نظر آ رہی تھی۔ وہ وائٹ کلر کی چکن والے کرتہ کے ساتھ وائٹ کیپری میں ملبوس تھی، اوپر ہلکا سا ملٹی شیڈ دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا۔
میک اپ کی شوقین نہ ہونے کے باوجود اس نے ہلکا سا، نیچرل میک اپ کر رکھا تھا، جو اس کی فطری خوبصورتی کو اجاگر کر رہا تھا۔ ایک نظر آئینے میں اپنے آپ کو دیکھا، بالوں کو ہائی پونی میں باندھا، اور اپنے آپ سے خاموشی سے مسکرا دی۔
“بڑی حویلی جا رہی ہوں، زیغم بھائی نے دعوت پہ بلایا ہے۔”
رومی ہینڈ بیگ اور موبائل اٹھائے، سرسری انداز میں بات کر رہی تھی، جیسے یہ سب معمول کی بات ہو۔
“تمہارا یہ انداز مجھے بالکل پسند نہیں ہے۔”سلمہ ، آنکھیں اٹھا کر دیکھ رہی تھی، رومی کی لاپرواہی سے ناخوشی محسوس ہو رہی تھی۔
“اب آپ کو میرا کون سا انداز پسند نہیں ہے؟”
رومی ہینڈ بیگ کاندھے پر لٹکائے، سلمہ کی طرف دیکھ رہی تھی۔
“اب تو میں نے کوئی بدتمیزی نہیں کی، آپ نے جو پوچھا، بس اسی کا جواب دیا۔”
رومی نگاہیں سلمہ پر مرکوز رکھے، عام سا انداز لیے۔
“میں تمہاری ماں ہوں اور مجھے وہ زیغم منہ تک نہیں لگاتا، اور تم ہو کہ بھاگ بھاگ حویلی جاتی ہو۔ کس منہ سے جاتی ہو؟ ہمیں تو انہوں نے وہاں سے نکال دیا، جب کہ ہمارا وہاں حصہ تھا۔جسے زیغم نے ہڑپ کر لیا ہے۔اگر اتنا سگا ہوتا تو ہمیں ہمارا حصہ دے دیتا۔”
سلمہ بھڑک اٹھی، ہاتھ میں تھوڑا سا اشارہ کرتے ہوئے، چہرے پر ناراضگی صاف جھلک رہی تھی۔
“وہ ہے حویلی، میرے بھی بابا کی ہے، مگر تمہاری آنکھوں پر تو ان کی محبت کی پٹیاں بندھی ہیں، کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا تمہیں۔”
سلمہ کی آواز میں تلخی اور مایوسی دونوں شامل تھی، نگاہیں سیدھی رومی پر مرکوز تھیں۔
“زیغم بھائی کسی کا حق رکھنے والوں میں سے نہیں ہے، اور مہربانی کر کے زیغم بھائی کے لیے برا مت بولا کریں۔ انہوں نے ہمارا حصہ ہڑپ نہیں کیا۔ انہوں نے ہمارے حصے کے کاغذات بنوا کر نہ جانے کتنی بار وہ فائل میرے ہاتھوں میں دی ہے، مگر مجھے نہیں چاہیے۔”
رومی غصے بھری نظروں سے ماں کی جانب دیکھ رہی تھی، سچائی بتا رہی تھی جسے وہ کئی مہینوں سے اپنے اندر دبائے ہوئے تھی۔
سلمہ کے تانے سننے کے باوجود بھی، یہ بات رومی کے لیے زبان پر آنا مشکل تھی، لیکن اب وہ خود کو روک نہیں پا رہی تھی۔
“کیوں؟ کیوں تم نے منع کیا ہمارا حصہ لینے سے؟ وہ حصہ اس کا احسان نہیں، ہمارا حق ہے۔ اور تم میری اجازت کے بغیر فیصلے مت لیا کرو، سمجھی تم؟”
سلمہ کا لہجہ سخت اور دباؤ بھرا تھا، آنکھیں تیز نظر سے رومی پر مرکوز تھیں، ہر لفظ میں غصہ اور مایوسی جھلک رہی تھی۔
“آج جا رہی ہو تو وہ فائل لے کر آنا۔”
سلمہ نے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا، حکم دینے والا انداز، جیسے رومی کے لیے کوئی بحث کی گنجائش ہی نہ ہو۔
“جتنی سازشیں قدسیہ مامی کے ساتھ مل کر آپ نے زیغم بھائی کے خلاف کی ہیں، جتنی بربادی آپ اور آپ کے بھائی اور بھائی کے بچوں نے کی، اس کے بعد حصہ لیتے ہوئے آپ کو شرم نہیں آتی؟”
“کس منہ سے آپ اپنا حصہ مانگ رہی ہیں؟”
رومی کی آواز میں غصہ اور تلخی صاف سنائی دے رہی تھی، آنکھیں سخت نگاہ سے اپنی ماں پر مرکوز تھیں۔
“تم میری ماں بننے کی کوشش مت کیا کرو۔”
سلمہ کی آواز میں سختی اور دباؤ تھا، آنکھیں رومی کی طرف مرکوز تھیں، لہجہ حکم دینے والا تھا۔
“آج تم وہ فائل لیے بغیر واپس مت آنا۔”
سلمہ نے ہاتھ کی طرف اشارہ کیا، انداز میں واضح تھا کہ اس بات پر کوئی بحث نہیں ہوگی۔
“میں وہ فائل نہیں لے کر آؤں گی، کیونکہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔”
“جتنی پراپرٹی بابا کی طرف سے مجھے ملی ہے، میرے لیے وہ کافی ہے، اور آپ کے لیے بھی کافی ہونی چاہیے۔”
“جب مجھے ضرورت نہیں… تو میں ہرگز ٹاپک کی فائل لے کر بھی نہیں آؤں گی۔”
“اے ۔۔میرے اللہ۔۔۔ اسے عقل دے۔”سلمہ نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لیا۔۔
“ارے او… عقل کی اندھی ضرورت کیوں نہیں ہے؟”
“کل، جب تیری شادی ہوگی، اگر تیرا بیک گراؤنڈ مضبوط ہوا، تیرے پاس اپنی پراپرٹی ہوگی، تو تیرے شوہر پر تیرا روعب رہے گا، وہ دب اس سے ہمیشہ دب کر رہے گا۔”
“اور ویسے بھی… تم نے اپنا حق لے کر آنا ہے، ہم کون سا ان کی پراپرٹی کا حصہ مانگ رہے ہیں؟”
سلمہ نےلہجے میں تھوڑی سی نرمی اتاری کہ شاید رومی تو سمجھ آ جائے مگر سلمہ کی یہ کوشش فضول تھی۔اس کے سامنے اس کی اپنی بیٹی رومی تھی جو اس سے بے حد مختلف سوچ کی مالک اپنے فیصلوں پر مضبوط رہنے والے تھی۔۔
“مجھے اپنے شوہر کو دبا کر رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔”
“مجھے شوہر چاہیے، غلام نہیں، جو ہر وقت مجھ سے دب کر رہے۔”
“جو جی حضوری کرتا رہے، میرے غلط فیصلوں کو بھی صحیح کہتا رہے۔”
“مجھے ایسے لائف پارٹنر کی بالکل ضرورت نہیں۔”
“میں اس کا انتخاب کروں گی جو صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہہ سکے۔”
“اور جسے میری دولت، روپیہ پیسے سے کوئی لینا دینا نہ ہو۔”
رومی کے اندر یقین اور پختگی کی ایک دیوار بنی ہوئی تھی، ہر لفظ اس کے عزم کو ظاہر کر رہا تھا۔
اس نے دل میں طے کر لیا تھا کہ وہ کبھی اپنے اصولوں اور خود کی سیلف ریسپیکٹ سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
“تو ٹھیک ہے، آج کے بعد حویلی میں تمہارا آنا جانا بند۔”
“میں تمہیں حویلی آنے جانے نہیں دوں گی۔”
سلمہ کے پاس یہ آخری حربہ تھا، رومی کو دھمکانے اور اپنی بات پر لانے کا۔
اب سلمہ کے دل میں درد اٹھ رہا تھا کہ پراپرٹی کی فائل بن چکی ہے، اور رومی لانے کو تیار نہیں۔
اب سلمہ بھلا اپنی حصے کی دولت کیسے چھوڑ سکتی تھی؟
“آپ میری ماں ہیں، آپ مجھے کہیں سے بھی جانے کے لیے روکیں گی تو میں رک جاؤں گی، مگر بشرط یہ کہ واقعی وہاں جانے سے میرا نقصان ہو۔”
“اور جس جگہ سے آپ مجھے روک رہی ہیں، وہاں مجھے نہ تو کوئی خطرہ ہے، نہ نقصان، اور وہ گھر میرا ننیال ہے۔ میں وہاں ضرور جاؤں گی۔”
“وہاں میرے بھائی رہتے ہیں، بہت ترسی ہوں اپنے خون کے رشتوں کے لیے، جو بچپن سے لے کر جوانی تک میسر نہیں ہوئے، اور اب میں چند روپیہ پیسوں کے بدلے اپنے قیمتی رشتے ہرگز نہیں چھوڑوں گی۔”
“اس کے علاوہ آپ کہیں سے بھی مجھے روکیں گی تو میں رک جاؤں گی، مگر یہاں نہیں۔”
“میں جا رہی ہوں، میرا انتظار مت کیجئے گا۔ لیٹ آؤں گی، اور اگر زیادہ لیٹ ہو گئی تو وہی رک جاؤں گی ۔اور صبح ہاسپٹل کے بعد گھر آؤں گی، آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، آرام سے کھانا کھائیں اور سو جائیں۔”
رومی نے دو ٹوک کہتے ہوئے قدم باہر کے دروازے کی جانب بڑھا لیے۔
وہ مزید اپنی ماں سے بحث نہیں کرنا چاہتی تھی۔
“بس تم ایسے ہی ان چکنی چپڑی باتوں سے بے وقوف بنتی رہنا۔ ان کو پتہ ہے کہ بے وقوف ہو تم، اسی لیے فائل کا ڈھونگ رچا دیا، بنا دی فائل اور تمہیں تھما دی۔”
“اچھی طرح سے وہ لوگ جانتے ہیں کہ تم نہیں لے کر جاؤ گی۔ اتنے ہی سچے ہوتے تو وہ فائل مجھ تک پہنچانا کوئی مشکل کام نہیں تھا، مگر جب نیت میں کھوٹ ہو تو پھر لوگ ایسی حرکتیں کرتے ہیں جیسی وہ زیغم کر رہا ہے۔”
سلمیٰ زور سے چلائی، سیڑھیوں سے نیچے اترتی ہوئی۔
رومی کے قدم رک گئے۔
“اصل میں مسئلہ زیغم بھائی نہیں ہے، مسئلہ آپ کی سوچ ہے۔ آئینے میں جب آپ اپنا عکس دیکھتی ہیں تو جیسے آپ ہوتے ہیں، آئینے میں آپ کو آپ کا چہرہ ویسا ہی نظر آتا ہے۔ اور آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ آپ پوری دنیا کو اپنے جیسا سمجھتی ہیں، مگر پوری دنیا ایسی نہیں ہے۔ جس دن آپ نے تصویر کا دوسرا رخ دیکھ لیا، تو آپ کو کوئی بھی غلط نظر نہیں آئے گا۔آج بھی آپ کو اپنے رشتوں سے زیادہ دولت کی فکر ہے۔ کوئی اتنا خود گرد کیسے ہو سکتا ہے۔؟ میں تو بس یہ سوچ کر حیران ہو جاتی ہوں۔”
“تم دفع ہو جاؤ، میرے ساتھ زبان مت لڑاؤ۔ تمہیں مجھ سے زیادہ وہ لوگ عزیز ہیں، ہر وقت ان کی طرف داری کرتی رہتی ہو۔”
“میں تو حق کی بات کرتی ہوں۔ اگر آپ کو ترفداری لگتی ہے تو یہ آپ کا مسئلہ ہے۔ اللہ حافظ۔”
سلمیٰ کی بات کا جواب ٹھہراؤ سے دیتے رومی ٹپ ٹپ کرتے سیڑھیوں سے اتر کر چلی گئی۔
پیچھے، سلمیٰ جلتے دل کے ساتھ کھڑی اسے جاتے دیکھ رہی تھی۔
“اللہ اس کو تھوڑی سی عقل دے دے، تاکہ اسے سمجھ میں آجائے کہ اپنا حق لینا غلط نہیں ہے۔”
“پتہ نہیں، میری بیٹی ہو کر اس کے اندر سلطان بھائی والے حوصلے کیسے ہیں!”
سلمیٰ منہ میں بڑبڑاتی ہوئی بول رہی تھی
وہ گہری سانس لے کر اللہ سے شکوے کرتی ہوئی واپس کمرے میں چلی گئی۔
✦✦✦ ✦✦✦
آج کافی دنوں بعد دانیہ کا چکر اپنے مائکے لگ رہا تھا، اور وہ کافی ایکسائٹڈ تھی۔ مہرو اور اپنے بھائی زیغم سے ملنا اور حویلی جانے کے خیال سے دانیا کا چہرہ کھل رہا تھا۔
پہلے تو وہ پریشانی میں تھی کہ زرام کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے ، مگر اب زیغم کا فون آیا تھا کہ زرام ماشاءاللہ بالکل ٹھیک ہے اور اسے گھر لے کر جا رہے ہیں،پریشانی کی کوئی بات نہیں، شام کو دعوت پر آرام سے آجاناہے۔ اس لیے اب اس کے چہرے پر خوشی چھا گئی تھی، فون پر وہ زرام کا حال چال بھی جان چکی تھی۔
اس کا حال چال پوچھتے ہوئے یہ خوشخبری بھی پہنچ چکی تھی کہ ملیحہ اور زرام کے بیچ میں سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے دانیا کو ایک ساتھ بہت ساری خوشیاں ملی تو اس کا چہرہ کھل اٹھا تھا۔۔
اللہ تعالیٰ نے دانیا کو پیارے سے بیٹے سے نوازا تھا، جو ڈھائی ماہ کا تھا، مگر ماشاءاللہ بہت ایکٹو اور خوش مزاج تھا۔
“جاناں، کتنی دیر لگے گی؟ تمہارا لاڈلا مجھے بہت تنگ کر رہا ہے۔”
مائد خان اپنے بیٹے حسن کے ساتھ بیڈ پر کھیلتے ہوئے دانیا کو آواز دے رہے تھے، جو ڈریسنگ روم میں تیار ہو رہی تھی۔
جی بس، میں تیار ہو گئی۔ دانیا نے بالوں میں برش کر کے ڈریسنگ کے سامنے رکھا اور تیز قدموں سے باہر کی جانب لپکی، کیونکہ اسے حویلی جلد پہنچنا تھا۔ بے قراری سے اس کے قدم ڈریسنگ روم سے باہر آئے، مگر باہر کا منظر دیکھ کر اس کا چہرہ کھل اٹھا۔
مائد خان کہہ رہا تھا کہ اس کا بیٹا اسے تنگ کر رہا ہے، مگر باہر کا منظر دل لبھا لینے والا تھا۔ دونوں باپ بیٹا کھیل رہے تھے۔ ننھا حسن بیڈ پر لیٹا ہوا ، جبکہ مائد خان اس کے چہرے کے قریب جھکائے، خود بھی بیڈ پر الٹا لیٹے، اس کے ہاتھ تھامے اور لبوں سے لگاتے ہوئے پیار بھرا بھوسہ دے رہے تھے۔
ننھا حسن کلکاریاں مار رہا تھا، اور مائد خان بچوں کی طرح اس کی کلکاریوں کا جواب ہنسی اور کھیل سے دے رہے تھے۔
“آپ میرے بیٹے پر الزام لگا رہے تھے کہ وہ آپ کو تنگ کر رہا ہے، جبکہ یہاں آپ خود میرے بیٹے کو تنگ کر رہے ہیں۔”
دانیا اپنے دوپٹے کو گلے میں ٹھیک کرتے ہوئے بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی، دونوں، مسکراتی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
“غلط! میں دو شریف سا بندہ ہوں، نہ آپ کو تنگ کرتا ہوں اور نہ ہی آپ کے بیٹے کو۔”
مائد محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گیا۔
“یہ بات تو سچ ہے کہ آپ بہت اچھے ہیں، مگر یہ نہ کہیں کہ آپ شریف ہیں، کیونکہ یہ لفظ آپ پر سوٹ نہیں کرتا۔”
دانیا محبت اور ہلکی شرارت بھری نظروں سے اسے دیکھتی رہی۔
“اچھا جی، ویسے بتانا پسند کریں گے کہ میں نے کب شرافت کا دامن چھوڑا ہے؟”
مائد نے بھاری ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے دانیا کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھام لیا۔
دانیا ، ہمیشہ کی طرح۔نظریں جھکائے بیٹھی رہی، مائد کی نظروں کے سامنے زیادہ دیر تک آنکھیں اٹھانا اور اس کی گہری آنکھوں میں دیکھنا دانیا کے بس کی بات نہیں تھی۔ آج بھی دانیا کو مائد کی نظروں کے سامنے شدید شرم آ رہی تھی۔
“آپ صرف اتنا بتا دیں، آپ نے شرافت کا دامن پکڑا ہی کب تھا، جو چھوڑنے کا پوچھ رہے ہیں۔”
دانیا کی آنکھوں میں ہلکی شرارت اور مسکراہٹ جھلک رہی تھی۔
“اچھا جی، مطلب کہ ہم نے کبھی شرافت کا دامن پکڑا نہیں۔ جانا، آپ کو لگتا نہیں کہ آپ نے کافی بڑا الزام عائد کر دیا ہے؟”
مائد دانیا کےبہت قریب ہو کر بیٹھ گیا، ایک ہاتھ اس کی کمر میں ڈال کر اسے اپنے قریب کر لیا۔ دانیا سٹپٹا کر ہلکا سا دور ہوئی، آج بھی اس میں شرم اور حیا موجود تھی، اور مائد خان کو اس کی یہی ادا بہت اچھی لگتی تھی۔
“جانا، یہ سرک کر دور ہونے والی عادت چھوڑ دیں۔ ماشاءاللہ، آپ پیارے سے بیٹے کی اماں بن چکی ہیں۔”
“تو کیا بیٹے کی اماں بن کر ہم بے شرم ہو جائیں؟”
“جانا، اس کو بھی شرم ہونا نہیں فرینک ہونا کہتے ہیں۔
“ہم جتنے فرینک ہیں، اتنا ہی کافی ہے۔ اس سے زیادہ ہونے کی ضرورت نہیں۔”
“اٹھیں، ہمیں جانا ہے، کیونکہ اگر آپ تھوڑا سا زیادہ فرینک ہو گئے تو پھر دعوت پر ہم آج نہیں، کل پہنچیں گے۔”
دانیا اپنی یہاں سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
“حسن بیٹا، گواہ رہنا، تمہاری اماں مجھ سے پیار نہیں کرتی۔”
مائدہ نے ٹھنڈی سی “آہ” بھرتے ہوئے اپنے بیٹے کے ساتھ لیٹ گیا انداز ایسا جیسے حسن واقعی اس کی بات کو سمجھ رہا تھا۔
“حسن بیٹا آپ کے بابا کو تو ہمیشہ شک رہتا ہے جبکہ سچائی یہ ہے کہ جتنا پیار ہم آپ کے بابا سے کرتے ہیں اتنا دنیا میں شاید آپ کے بابا سے کوئی پیار نہ کرتا ہو۔۔۔
“ہائے۔۔۔ آپ کی انہی محبت بھرے جملوں پر تو ہم فدا ہیں، جاناں۔۔۔”
مائدنے محبت بھری نظروں سے مائد کو دیکھا، جو کچھ ہی دوری پر کھڑی تھی۔
“اب اگر آپ نے فدا ہو لیا ہو تو اٹھ جائیں،” دانیا نے ہنستے ہوئے نرمی سے کہا، “جس طرح آپ لیٹے ہیں، مجھے لگتا نہیں آپ کے جانے کا کوئی ارادہ ہیں بھی یا نہیں۔”
“ہائے، ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ حکم کریں اور ہم اٹھیں؟ نا چلو جی، چلتے ہیں۔ چلو حسن بیٹا، آپ کے دونوں مامو ہمارا انتظار کر رہے ہیں، اور آج تو ماشاءاللہ، مامیاں بھی دونوں ہوں گی۔”
مائدہ نے ہاتھ بڑھا کر بیڈ پر لیٹے ہوئے اپنے بیٹے حسن کو پیار سے گود میں اٹھا لیا۔تھامتے اور قدم کمرے سے باہر کی جانب بڑھا دیے،
✦✦✦ ✦✦✦
مہرو نے ملیحہ اور زرام کا پورے دل سے استقبال کیا۔ اس کے چہرے پر خوشی صاف جھلک رہی تھی کہ زیغم انہیں اپنے ساتھ حویلی لے کر آیا ہے ،اس بات کی مہرو کو بے حد خوشی تھی ۔
“بہت اچھا کیا آپ لوگوں نے، ناراضگی ختم کر دی۔ کتنے اچھے لگ رہے ہیں آپ دونوں ایک ساتھ۔”ملیحہ سے گلے ملتے ہوئے ۔
مہرو نے خوش دلی سے کہا اور زرام کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرائی،
“اور ذرام بھائی، آپ بالکل ٹھیک ہیں نا؟”آپ نے تو ہمیں ڈرا ہی دیا تھا۔
,ذرام, کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی، مگر مہرو کی خوشی اور سچی چاہت اس کے ہر لفظ اور ہر جذبے سے چھلک رہی تھی۔
“جی میں بالکل ٹھیک ہوں آپ سنائیں آپ کیسی ہیں۔
“جی میں بھی ٹھیک ہوں آپ آئیں بیٹھے۔مہرو نے ان سب کو بیٹھنے کو کہا۔۔
“نہیں، میرے خیال سے ان کو فریش ہونے کے لیے کچھ دیر آرام کرنا چاہیے۔ ابھی ہاسپٹل سے آئے ہیں، تھوڑی تھکن ہے۔ شام کو مائد، دانیا بھی آ رہے ہیں… رومی اور فیصل بھی کھانے پر آئیں گے۔ تب سب سے ملاقات ہو جائے گی۔ فی الحال بہتر ہے کہ یہ دونوں اپنے روم میں جا کر آرام کر لیں۔”
زیغم نے سنجیدگی اور فکر مندی سے کہا۔
“ہاں، یہ بھی ٹھیک ہے۔ آپ لوگ روم میں جائیں، میں آپ کے لیے کچھ بھجواتی ہوں۔”
مہرو نے محبت سے ملیحہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔
“تھینک یو۔” ملیحہ نے مسکرا کر کہا۔
“ارے، تھینک یو کی کیا بات ہے۔ یہ تمہارا گھر ہے، یہاں شکریہ نہیں کہنا۔ آپ لوگ جائیں، میں ابھی کچھ بھجواتی ہوں۔”
مہرو نے فوراً پیار بھری ناراضگی سے جواب دیا،
“بھابھی صرف جوس بھیجنا کھانا نہیں کیونکہ ابھی کھانے کا وقت نہیں ہے اور دل بھی نہیں چاہ رہا ذرام نے کہا۔
“ٹھیک ہے میں آپ لوگوں کے لیے جوس بھیجتی ہوں۔
ملیحہ اور زرام اپنے روم کی طرف بڑھ گئے، جبکہ مہرو نے سکینہ کو فریش جوس لے کر ان کے کمرے میں لیجانے کو کہا۔اور خود زیغم کے ساتھ اپنے روم کی جانب چل دی۔زیغم اور وہ دونوں ایک ساتھ چلتے ہوئے روم میں آئے تھے۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی زیغم نے دروازہ بند کیا اور خاموشی سے مہرو کو اپنے قریب کر کے دروازے قریب روکتے دونوں ہاتھ اس کے اطراف میں رکھ دیے۔۔ کچھ پل وہ یونہی تھمے رہے، جیسے وقت رک گیا ہو۔
زیغم نے نرمی سے مسکراتے ہوئے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔ دونوں کے بیچ کوئی لفظ نہ تھا، بس ایک سکون بھری خاموشی اور ایک خوبصورت احساس موجود تھا۔۔۔
✦✦✦ ✍︎ ✦✦✦
کچن کی ہلکی روشنی میں، سکینہ، تیزی سے مہارت کے ساتھ سبزیاں کاٹ رہی تھی۔ تھکے چہرے کے ساتھ، مہرو، قریب کھڑی فروٹ چاٹ بنا رہ تھی۔
اسی وقت، زیغم سلطان، کچن میں داخل ہوا، نگاہوں میں فکر لئے۔
“کتنی بار کہا ہے کچن میں مت آیا کرو… آرام کیا کرو۔ تمہیں سکون کی ضرورت ہے، مہرو،۔ میری بات سمجھ میں نہیں آتی یا جان بوجھ کر موقع ڈھونڈتی ہو مجھے تنگ کرنے کا؟”
آواز میں سختی تھی مگر لہجے میں محبت۔
,ذرام , اور ,ملیحہ, مہرو سے مل کر اپنے روم میں جا چکے تھے اور ,زیغم سلطان, فریش ہونے کے لیے واش روم میں چلا گیا تھا۔
موقع دیکھتے ہی، ,مہرو, کچن میں آ پہنچی۔ جیسے ہی اسے خبر ملی کہ گھر میں دعوت رکھی گئی ہے، دل نہ مانا کہ خاموش بیٹھ جائے۔
حالانکہ، ,زیغم, نے صاف منع کیا تھا۔
“سکینہ اور باقی سب ملازمین سب سنبھال لیں گے… اگر کچھ رہ گیا تو باہر سے منگوا لیا جائے گا۔”
مگر، ,مہرو, کہاں ماننے والی تھی۔ آج کل تو وہ ذرا ضدی سی ہو چکی تھی۔
,زیغم, کی محبت نے اسے خاصا سا بگاڑ دیا تھا۔
“میں کوئی بیمار تھوڑی ہوں… گھر کے چھوٹے موٹے کام تو کرنے چاہییں۔ اور آج تو خوشی کا موقع ہے۔ زرام بھائی، ٹھیک ہو کر گھر آ گئے ہیں، اللہ نے ان کو نئی زندگی عطا کی ہے۔
مائد بھائی، اور دانیا آپی، بھی کافی دنوں بعد آ رہے ہیں… سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے۔ اتنی ساری خوشیاں ملی ہیں تو کیا میں ان کا استقبال نہ کروں؟”مہرو، نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔۔
“استقبال ضرور کرو مگر اپنی صحت کا خیال پہلے رکھو۔ بہت ویک ہو… ڈاکٹر بھی یہی کہہ چکی ہیں۔”
سکینہ، مسکراہٹ چھپاتی سبزیاں کاٹتی رہی۔
مہرو، نے چونک کر اس کی طرف دیکھا “تم کیوں دانت نکال رہی ہو؟کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں کیا سوچ رہی ہو۔”
“کچھ نہیں… میں تو کچھ بھی نہیں سوچ رہی۔”سکینہ، نے ہنستے ہوئے مزید سر جھکا لیا۔
زیغم سلطان, نے دروازے کے ساتھ ٹیک لگا رکھی تھی۔
“سکینہ، ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے… بتا دو، یہی سوچ رہی ہو ناں؟ تمہاری بی بی جی کتنی ضدی ہیں… بالکل میری بات نہیں مانتی ۔”
“سائیں، سچ بات تو ہے… کہنا تو بالکل نہیں مانتی آپ کا۔ میں بھی کتنا منع کرتی ہوں کہ آرام کیا کریں، جو کام بھی ہے ہم ہیں یہاں کرنے کے لیے۔ مگر یہ مانیں تب نہ۔”
سکینہ نے لگے ہاتھ، مہرو، کی شکایت بھی لگا دی اور ساتھ ہی گاجر کو شاپنگ بورڈ پر خوبصورتی سے کاٹتے ہوئے اپنی مہارت دکھانے لگی۔
“دیکھ لو، آج سکینہ کے منہ پر بھی سچائی آگئی۔ روز بیچاری ڈرتے ہوئے کہتی تھی کہ نہیں سائیں، بی بی سارا دن آرام کرتی ہیں… مطلب یہ کہ تم نے اس بیچاری کو بھی ڈرا کر رکھا ہوا ہے۔”
زیغم آگے بڑھتے ہوئے فریج سے پانی کی بوتل نکال لایا، گھونٹ بھرا اور سکینہ کی طرفداری کرنے لگا۔
“جی نہیں، ایسا کچھ بھی نہیں ہے! سکینہ کی بچی… تمہیں تو میں بعد میں بتاؤں گی۔ “تمہیں تو بس موقع مل گیا ہے میری شکایتیں لگانے کا۔”مہرو نے اسے آنکھیں دکھائیں،
مگر اس کی انکھوں کی ذرا سی بھی پرواہ نہ کرتے سکینہ ہنستے ہوئے گاجر کاٹتی رہی، “اب میں نے تو وہی بتایا جو سچ ہے۔ آپ اپنا خیال نہیں رکھتیں… اب سچ کڑوا ہوتا ہے، آپ کو بھی کڑوا لگ رہا ہے۔”
سکینہ اور مہرو کی دوستی تھی، اس لیے ان کے درمیان ملازم اور مالک والا رشتہ بالکل نہیں تھا۔
زیغم نے سکینہ کی بات کو اور بڑھاوا دیا۔
“بالکل صحیح بات ہے سکینہ،ہمیشہ سچ بولنا چاہیے سچ کا ساتھ دینا چاہیے، تمہیں اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ یہ جو بھی کر رہی ہو، اس کی پکچر بنا کر مجھے بھیج دیا کرو۔ میں تمہیں انعام دوں گا۔”
اس کے لہجے میں شرارت اور لالچ دونوں جھلک رہے تھے۔
“آپ کو شرم نہیں آئے گی؟ قانون کے رکھوالے ہو کر، وکیل ہو کر رشوت دیتے ہیں!”
مہرونے زیغم کو آنکھیں دکھائیں۔
زیغم نے پرسکون لہجے میں مسکرا کر جواب دیا،
“نہیں، بالکل نہیں۔ میں رشوت تھوڑی دے رہا ہوں… میں تو اپنی بیوی کی حفاظت کرنے والوں کو انعام دے رہا ہوں۔”
“ہاں جی، آپ وکیل ہیں نا… اپنے حساب سے قانون کو بھی موڑ لیتے ہیں اور باتوں کو بھی۔ آپ سے تو میں کبھی جیت ہی نہیں سکتی۔”مہرو نے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے ہار تسلیم کر لی۔
وہ کھانا بنانے کی چاہت لیے کچن میں آئی تھی اس کا خواب ادھورا رہ گیا تھا ،اچھی طرح سے جانتی تھی کہ اب زیغم اسے لیے بنا نہیں جائے گا۔
“سکینہ کی بچی، کرو سارا کام خود… اور تمہیں تو میں بعد میں پوچھوں گی!”
مصنوعی غصہ دکھاتی وہ کچن سے باہر نکل گئی۔
مہرو کا چھٹا مہینہ تھا، اس لیے زیغم کو اس کی ہر وقت فکر رہتی تھی۔ ڈاکٹر نے صاف کہا تھا کہ وہ کمزور ہیں اور کھانے پینے کا خاص خیال رکھیں۔ لیکن مہرو ہمیشہ کھانے پینے سے لا تعلق ہی رہتی۔ اسی لیے زیغم کبھی پیار سے، کبھی سختی سے، خود اپنے ہاتھوں سے اسے کھلاتا۔
اس وقت بھی جب مہرو باہر نکل گئی، زیغم نے خود ایک پلیٹ اٹھائی، سینک میں دھوئی اور وہی فروٹ چاٹ جو مہرو بنا کر چھوڑ گئی تھی، اس میں سے نکال کر پلیٹ میں رکھی۔ چمچ رکھا اور ڈش اٹھا کر کچن سے باہر نکل گیا۔
زیغم کی محبت کو دیکھ کر سکینہ کے دل سے بے اختیار دعا نکلی۔
“ماشاءاللہ… اللہ دونوں کو ہمیشہ ایسے ہی خوش رکھے، جوڑی سلامت رہے، اور کبھی مہرو پر کوئی غم نہ آئے۔”
وہ دل میں دعائیں دیتی ہوئی دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہو گئی۔
✦✦✦ ✍︎ ✦✦✦
زارم کے سر میں چوٹ کی وجہ سے درد کافی بڑھ گیا تھا، مگر ملیحہ کے گھر واپس آنے اور اسے معاف کر دینے کی خوشی اتنی تھی کہ وہ اس تکلیف کو نظرانداز کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ کمرے میں آ کر جیسے ہی بیڈ پر بیٹھا تو اچانک ایک تیز ٹیس اٹھی، بے اختیار اس کا ہاتھ ماتھے پر چلا گیا۔
ملیحہ فوراً اس کے قریب بیٹھ گئی، اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔
“درد ہو رہا ہے؟ آپ ٹیک لگا لیں… میں دوا نکال دیتی ہوں، بتائیں کون سی کھانی ہے۔”
اس کے ہاتھ میں وہی میڈیسن تھی جو ہاسپٹل سے لائی گئی تھیں۔
زارم نے اس کی طرف دیکھ کر ہلکی سی مسکراہٹ دی۔
“دوائی تو کھا لوں گا… مگر ٹھیک ہونے کے لیے اصل دوائی تم ہو۔”
یہ کہہ کر اس نے نرمی سے ملیحہ کا ہاتھ تھاما اور اپنے سینے پر رکھ لیا، پھر آہستگی سے سر تکیے پر ٹکا دیا۔
“میں تمہارے پاس ہوں… تو مجھے بس دوائی کا بتاؤ۔کیونکہ ٹھیک تم دوائی سے ہو گے۔ ” زرام نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ۔
اتنے میں دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے سکینہ جوس لے کر اندر آئی۔ سائیڈ ٹیبل پر گلاس رکھتے ہوئے ملیحہ کو مسکراتی نظر سے دیکھا اور خاموشی سے واپس چلی گئی۔
ملیحہ نے تھینک یو کہتے ہوئے فوراً جوس کا گلاس بھرا اور زارم کے سامنے رکھا۔
“یہ پی لیں، اور بتاؤں کون سی دوا دینی ہے؟” اس کی آواز میں خالص فکر اور نرمی جھلک رہی تھی۔
زارم نے جوس کا گھونٹ لیا اور ملیحہ کی طرف دیکھتے ہوئے شرارت سے مسکرایا۔
“دوائی بعد میں کھا لوں گا… اگر تم ایک بار پیار سے مسکرا دو تو میرا آدھا درد ابھی ختم ہو جائے گا۔”
ملیحہ نے شرم سے نظریں جھکا لیں، مگر اس کی خاموشی ہی زارم کے لیے سب سے بڑی تسلی بن گئی۔
زارم نے جوس کا گلاس رکھتے ہوئے ملیحہ کی طرف آنکھوں میں شرارت لیے دیکھا۔
“اب دوائی کھانی ہے یا نہیں؟ صاف بتا دو… کیونکہ تمہارے ارادے تو مجھے دوائی کھانے والے نہیں لگ رہے۔”
ملیحہ نے نظریں چُرائیں۔
کمرے کی فضا میں لمحے بھر کو ہلکی سی مسکراہٹ اور خاموش محبت گھل گئی۔
“او مائی گاڈ… تم شرما رہی ہو؟ مجھے یقین ہی نہیں آ رہا کہ تم واقعی شرما رہی ہو۔” زارم نے ملیحہ کے چہرے کی سائیڈ پر ہاتھ رکھا اور نرمی سے اس کا رخ اپنی طرف موڑا۔
“جی نہیں! میں بالکل نہیں شرما رہی… آپ دوائی کھائیں گے یا زبردستی کھلاؤں؟” ملیحہ نے مصنوعی سختی سے کہا۔
زارم کی مسکراہٹ اور گہری ہو گئی۔
“تو جھوٹ بول رہی ہو… تم شرما رہی ہو، ملیحہ۔ مان جاؤ…”
ملیحہ نے آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے اسے گھورا۔
“تمہارے سر پر چوٹ لگی ہے، پتہ ہے نا؟”
“جی، بالکل پتہ ہے۔ مگر اس کا مطلب؟” زارم نے حیرانی سے پوچھا، لہجے میں شرارت کا ٹھہراؤ تھا۔
“مطلب یہ کہ اگر میں دوبارہ اسی جگہ کوئی چیز ماروں گی تو تمہارا بچنا مشکل ہو جائے گا۔”
“ہائے… کون کمبخت ہے جو تمہارے وار سے بچنا چاہے گا۔”
زارم نے جان بوجھ کر اس کا ہاتھ کھینچتے ہوئے اسے اپنی طرف گرا لیا۔
ملیحہ چونک کر سنبھلنے لگی مگر زارم نے مضبوطی سے تھام لیا۔
“چھوڑیں…!” وہ ہلکی سی جھنجھلائی۔
“کیوں چھوڑوں؟” زارم نے مسکرا کر اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
“میری دوا تم ہو، اور میری سکون بھی۔”
ملیحہ کے چہرے پر سرخی سی دوڑ گئی۔
“آپ باز نہیں آئیں گے نا؟”
“کبھی نہیں؟” محبت سے ذرا ہم نے اس کے ریشمی بالوں پر ہاتھ پھیرا ۔۔”
کمرے کی فضا لمحے بھر کو سنجیدہ ہوئی مگر زارم کی شوخی پھر لوٹ آئی۔
“اب بتاؤ، دوائی کھلانی ہے یا پھر تمہارا چہرہ دیکھتا رہوں؟ کیونکہ دونوں میں سے ایک ہی کر سکتا ہوں۔اور دونوں کا فائدہ بھی ایک جیسا ہی ہوگا۔”
ملیحہ ہنستے ہوئے ، نظریں چرا گئی۔
“دوا کھا لیں، ورنہ انفیکشن ہو جائے گا۔” ملیحہ نے تھکی ہوئی مگر محبت بھری نظروں سے دیکھا ۔
“ہائے، تو کوئی بات نہیں… اگر انفیکشن ہو گیا تو تم ہو نا میرا انٹی بائیوٹک … تم ہی میرا علاج کر دینا۔”زارم نے شوخی سے آنکھ دبائی،
زرام اس کے رخسار پر آتے بالوں کو آہستگی سے کان کے پیچھے کرتا چلا گیا۔ آنکھوں میں ایک عجیب سا سکون اور شدت بھرے انداز میں دیکھ رہا تھا۔
ملیحہ کا دل جیسے پگھل گیا۔ لب بھینچ کر نظریں جھکائیں مگر ضبط ٹوٹ ہی گیا۔
“ہمیشہ ایسے ہی رہنا… دوبارہ کبھی بدلنا مت زرام۔۔”
اس کی آواز بھرا گئی اور آنکھوں سے بے اختیار آنسو ڈھلک کر رخسار پر بہہ نکلے۔
“کبھی نہیں بدلوں گا… بس جو گزر گیا ہے، اس کے لیے مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے معاف کر دو۔”
زارم کی آواز میں یقین تھا ۔
ملیحہ روتے روتے نرمی سے سے اس کے سینے پر سر رکھ گئی، جیسے برسوں کا بوجھ اتار رہی ہو۔
“اگر دوبارہ کبھی ایسا کیا… تو میں تمہاری جان لے لوں گی۔ بہت تنگ کیا ہے تم نے مجھے، بہت رلایا ہے۔ بہت برے ہو تم…”
وہ سرگوشیوں میں اپنے دل کے شکوے انڈیلتی رہی اور زارم خاموشی سے سب سنتا رہا، جیسے ہر لفظ کو دل پر کندہ کر رہا ہو۔
اس کے ہونٹوں پر کوئی جواب نہ تھا، مگر بانہوں کی گرفت میں سب سے بڑا جواب موجود تھا۔قبولیت اور محبت کا۔
ملیحہ کا ہر لفظ اسکے دل پر مہر ثبت کر رہا تھا۔
مگراس کے ہونٹوں پر کوئی جواب نہ آیا، بس بانہوں کی گرفت مزید سخت ہوتی چلی گئی۔
جب کوئی حق سے شکوہ کرے تو خاموش ہو جانا ہی بہترین عمل ہوتا ہے، کیونکہ وضاحتیں ایسے لمحات میں دل آزاری کر سکتی ہیں۔
✦✦✦ ✍︎ ✦✦✦
رات کے کھانے کے لیے میز سجائی جا رہی تھی۔ مہرو، سکینہ اور ایک اور ملازمہ ٹیبل پر پلیٹیں، گلاس اور کھانے کی چیزیں رکھ رہی تھیں۔ ماحول عام اور آرام دہ تھا، جیسے فیملی کے لوگ جمع ہو کر کھانا کھانے والے ہوں۔
زیغم کئی بار مہرو سے کہہ چکا تھا کہ وہ آرام سے بیٹھ جائے، سب کچھ سکینہ لوگ سنبھال لیں گے، مگر مہرو اپنا کام خود دیکھنا چاہتی تھی۔اور آج کل تو وہ اپنی چلاتی تھی زیغم کی تو بہت کم چلتی تھی گھر میں۔وہ نخرے کرتی تھی اور زیغم محبت سے پیار سے اس کے تمام نخرے اٹھانے کے لیے چوبیس گھنٹے تیار رہتا تھا۔
تھک کر ہار مانتے ہوئے زیغم زرام کے پاس اس کے روم میں چلا گیا، اور ملیحہ مہرو کے پاس آگئی تھی تاکہ وہ ہیلپ کر سکے۔
“ارے ملیحہ، آل کیوں آگئی؟ آپ آرام کرو بس، تھوڑی دیر میں سب ریڈی ہو جائے گا،” مہرو نے لبوں پر مسکراہٹ سجائے کہا۔
“جی نہیں، آپ آرام سے بیٹھ جائیں۔ آپ کو آرام کی ضرورت ہے، کیوں فضول میں خود کو تھکا رہی ہیں؟ زیغم بھائی آپ کے لیے کتنے پریشان ہیں اور صحیح پریشان ہیں۔ آپ کو آرام کی ضرورت ہے،” ملیحہ نے اس کے ہاتھ سے پکڑ کر اسے نرمی سے کرسی پر بٹھا دیا۔
“زیغم کو تو پریشان ہونے کا بہت شوق ہے، انہیں ہونے دیں۔ میں کون سا کوئی مشکل کام کر رہی ہوں؟ ایسے ہر وقت مجھے مریضہ بنائے رکھتے ہیں،” مہرو نے ہلکا سا شکوہ کیا۔
“بہت پیار کرتے ہیں آپ سے، اسی لیے آپ کی فکر کرتے ہیں اور صحیح کہہ رہے ہیں۔ آپ ویک تو ہیں، آپ کے چہرے سے نظر آتا ہے۔ آپ ہمیں بتائیں کیا کرنا ہے،” ملیحہ ٹیبل پر سکینہ کے ہاتھ سے چیزیں رکھنے لگی۔
“ملیحہ، آپ لوگ یہیں پہ رک جاؤ۔ کتنی رونق ہو گئی ہے نا، تمہارے آنے سے!” بے اختیار مہرو کے منہ سے نکل گیا۔ اس نے ملیحہ کا ہاتھ تھام لیا۔
“اگر میں یہاں آپ کے ساتھ رہوں تو اس سے بڑی خوشی میرے لیے کیا ہوگی، مگر مجھے وہیں رہنا ہوگا جہاں زرام رہے گا،” ملیحہ کا لہجہ تھوڑا ٹوٹا ہوا تھا۔ شاید وہ بھی توقیر اور نایاب کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی، مگر ذرام کی محبت اسے وہاں جانے پر مجبور کر رہی تھی۔ یہ چیز مہرو نساء خود محسوس کر رہی تھی۔
“ہاں، یہ بات تو صحیح ہے، رہنا تو وہی ہے جہاں زرام بھائی رہیں گے، مگر پلیز، تم روزانہ روز یہاں آیا کرنا ۔یہ حویلی آج بھی آپ لوگوں کی ہے۔۔ میں بہت یاد کرتی ہوں وہ دن جب ہم یہاں ایک ساتھ رہتے تھے۔”
“بس کچھ لوگوں کی وجہ سے ہمیں الگ ہونا پڑا، ورنہ ہم کبھی الگ نہ ہوتے۔ ہمیشہ ایک ساتھ رہتے۔”
“کتنا اچھا ہوتا اگر وہ وقت لوٹ آئے…”
مہرو گزری ہوئی یادوں کو سوچتے ہوئے اداس سی ہو گئی تھی۔
“گزرا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ اگر آ سکتا تو سچ میں ہم اس وقت کو واپس لے آتے اور ایک ساتھ ہمیشہ رہتے۔ ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہوتی…”مگر کچھ غلط لوگوں کی وجہ سے ہم ہمیشہ کے لیے الگ ہو گئے۔۔
ملیحہ بھی تھوڑی افسردہ ہو گئی تھی۔
اسی وقت ارمیزہ جو ابھی ٹیوشن سے واپس آئی تھی، بھاگی ہوئی مہرو کے پاس آ کر لپٹ گئی۔
“ماما، آپ کو پتہ ہے آج میں نے بہت مزے کا لیسن پڑھا ہے!” وہ ایکسائٹڈ ہو کر بتا رہی تھی۔
“آپ کا لیسن میں بعد میں سنوں گی، پہلے آپ ملیحہ چاچی سے ملیں،” مہرو نے اسے اشارہ دیا۔
“او، سوری! میں نے آپ کو دیکھا ہی نہیں۔ اسلام علیکم! کیسی ہیں آپ…؟”
“میں ٹھیک ہوں، آپ کیسی ہیں، پرنسز؟”
ملیحہ کو اس کی کیوٹنس پر بے حد پیار آ رہا تھا۔ وہ نیچے جھکی، اس کے گال پر پیار سے بھوسہ دیا اور پھر اس وہ گود میں لیے کرسی پر بیٹھ گئی۔
ملیحہ اور ارمیزہ آپس میں باتیں کر رہی تھیں، ہنس رہی تھیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کا تبادلہ کر رہی تھیں۔ مہرو ان کی باتیں بڑے غور سے سن رہی تھی، ملیحہ اس کی معصوم باتیں سن کر کبھی مسکراتی، کبھی سنجیدگی سے کان لگا کی باتیں سننے لگتی ہیں ۔
ٹیبل سے تازہ کھانوں کی خوشبو اڑ رہی تھی، ماحول کو مزید گرمجوش اور خوشگوار بنا رہی تھی۔ ہر طرف ہلکی ہلکی ہنسی اور باتوں کی گونج تھی، جیسے پیار بھری فیملی کا لمحہ اپنے عروج پر تھا۔ملازمین کے چہروں پر بھی مسکراہٹیں بکھری ہوئی تھی۔
✦✦✦ ✍︎ ✦✦✦
رومی گاڑی کا دروازہ کھولتی، اپنا موبائل کو ہاتھ میں پکڑے، اور ہینڈ بیگ کاندھے پر لٹکا کر تیز قدموں سے حویلی کی جانب بڑھ رہی تھی، کہ دروازے پر آ کر ٹھٹک کر رک گئی۔
اس کے سامنے اپنی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے فیصل کھڑا تھا، جس کی نظروں سے ہمیشہ وہ گھبرا کر راستہ بدل لیتی تھی۔
“زہے نصیب، یہ چاند سا چہرہ دیکھنا، دیدار کرنا ہمیں نصیب ہوا…” فیصل کے دل میں خاموشی سے یہ خیال آیا۔مگر زبان سے کہنے کی اس کی جرات نہیں تھی ورنہ رومی کی نظروں کی تپش ابھی آسمان سے گولے برسنے لگتے۔
“آگئی ہیں آپ؟” فیصل بیچارے کو اور کچھ سوجھا نہیں، تو بس یہی سوال پوچھ لیا۔
سامنے سے ہمیشہ کی طرح تیکھا جواب آیا۔
“نہیں، ابھی راستے میں ہوں… کوئی چیز لانی ہو تو بتا دیں، مارکیٹ سے لیتی آؤں گی۔”
لہجہ جلتی آگ کی مانند تیز اور کاٹ دار تھا۔
فیصل کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری، رومی کے اس انداز کا وہ عادی تھا۔
“نہیں، مجھے تو کچھ نہیں منگوانا… البتہ میں آپ کے لیے ضرور کچھ لایا ہوں۔”
وہ اپنی کمر پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا، پھر نرمی سے ہاتھ آگے بڑھائے۔ اخبار میں لپٹے موتیے اور گلاب کے تازہ پھولوں کے گجرے، جن کی خوشبو لمحہ بھر میں فضا کو مہکا گئی، اس کے سامنے کر دیے ۔
“دل سے چاہتا ہوں کہ آپ انہیں قبول کریں… اور پہن لیں۔” فیصل کے لہجے عاجزی جھلک رہی تھی۔
“تم چپ کر جاؤ ورنہ ابھی پتھر اٹھا کر تمہارے سر میں دے ماروں گی! شرم نہیں آتی؟ ملازم دیکھ رہے ہیں، اگر سن لیں گے تو کیا سوچیں گے کس قسم کے چچھورے ہو تم!”رومی نے غصے میں دانت پیستے ہوئے کہا۔
فیصل نے اس کے غصے کو بالکل نظرانداز کیا، بلکہ اور مزے سے آنکھوں میں چمک لیے جواب تیار لیے کھڑا تھا۔
“اچھا ہے اگر نوکر دیکھ لیں گے… تو کسی نہ کسی طرح یہ خبر سوسائٹی میں پھیل جائے گی۔کہ ہم دونوں کے بیچ میں کچھ چل رہا ہے۔”
وہ ہلکا سا آگے جھکا، قومی ذرا سا پیچھے ہو گئی۔ رام شوخ نظروں سے دیکھتے اشارے سے ترتیب سمجھا رہا تھا ۔۔
“ملازمین کو پتہ چلے گی بات تو ہ فائدہ ہے۔۔۔جب سوسائٹی میں یہ خبر پھیلے گی تو ہم مشہور ہو جائیں گے۔ جب مشہور ہوں گے تو یہ بات گھر والوں تک پہنچے گی۔ اور جب گھر والوں کو پتہ چلے گا… تو وہ ہمیں دباؤ میں لائیں گے کہ دونوں خاندان کی بدنامی ہو رہی ہے، قوم سے کہیں گے اب تم دونوں کو شادی کرنی چاہیے۔”
فیصل نے مصنوعی سنجیدگی سے گہری سانس لی اور آخر میں مسکرا کر کہا۔
“اور فائنلی… اس طرح ہماری شادی ہو جائے گی۔”
فیصل نے بات پوری کرتے ہوئے گردن تان کر بڑے غرور سے پوچھا ۔
” جلدی سے بتاؤ ڈاکٹر رومی… میرا آئیڈیا کیسا لگا؟”فیصل نے چٹکی بجا کر پوچھا۔
رومی نے ایک گہری سانس بھری اور طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ نفی میں سر کو ہلایا۔
“تمہارے آئیڈیے کی تعریف؟ ہاہ… فیصل، یہ بالکل ایسے ہے جیسے کوئی ناسمجھ بچہ ریت کا محل بنا کر سمندر کے سامنے فخر سے کہے کہ یہ قلعہ کبھی نہیں گرے گا۔”
فیصل نے ہاتھ سینے پر باندھ کر مصنوعی سنجیدگی دکھائی۔
“یعنی تم کہنا چاہتی ہو میرا آئیڈیا کمزور ہے؟”
رومی نے سیدھا اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ہنکارا بھرا۔
“کمزور نہیں… فضول! بالکل ویسا جیسے کسی ان پڑھ شاعر کی بے وزن غزل۔”
فیصل نے لمحے بھر کو خاموشی اختیار کی، پھر گہری سانس لیتے ہوئے آہستہ سے بولا۔
“یعنی تمہیں میرا آئیڈیا برا لگا… مگر دل کے کسی کونے میں یہ خیال آیا ہوگا کہ اگر ایسا ہو جائے تو تم میری ہو جاؤ گی۔”
“مذاق چھوڑو…سچ بات بتاؤ تمہیں میرا آئیڈیا پسند آیا ہے نا اب جھوٹ مت بولو۔پتہ نہیں کیوں فیصل کا اپنی عزت افزائی کروانے کو دل چاہ رہا تھا۔جان بوجھ کر رومی کو تپا رہا تھا۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو بتاؤ نا میرا آئیڈیا دل سے تمہیں اچھا لگا ہے صرف تم اوپر سے کہہ رہی ہو ایسا ہی ہے نا۔۔۔
“انتہائی گھٹیا ہے تمہارا آئیڈیا… بالکل ویسا جیسے ایک گھٹیا سوچ کے مالک رائٹر کی گھٹیا تحریر پر بنی ہوئی گھٹیا فلاپ فلم ہوتی ہے، جسے صرف چیپ لوگ دیکھنے جاتے ہیں اور چیپ کریکٹر اس فلم میں کام کرتے ہیں… بالکل ویسا لگا مجھے۔”
یہ کہہ کر اس نے اپنا بیگ کندھے پر درست کیا اور قدم آگے بڑھا دیے۔
“اور ہاں فیصل صاحب، میرے پاس اتنا فضول وقت نہیں کہ آپ کی بچگانہ کہانیاں سنوں۔ مجھے اور بھی اہم کام کرنے ہیں۔”
وہ تیز قدموں سے اندر کی طرف بڑھ گئی تھی ۔۔
فیصل کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا، جیسے کسی نے اس کے خوابوں کی عمارت پر بم پھوڑ دیا ہو۔ایک لمحہ خاموش رہنے کے بعد سینے پر ہاتھ رکھ کر مصنوعی درد بھرے لہجے میں بولا۔
“مجھے یہ تو پتہ تھا کہ اس کی بیعتی ہوگی مگر اتنی ہوگی یہ نہیں پتہ تھا۔۔
وہ آہستہ سے بڑبڑایا
“انتہائی گھٹیا…؟ اتنا برا تھا؟”وہ اس کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے بڑبڑا رہا تھا۔
“میری محبت کو فلاپ فلم سے کمپئیر کر دیا ۔۔۔ میرے اندر کے ہیرو کو ہی مار دیا ظالم لڑکی نے ۔”
رومی نے تیز نگاہوں سے پلٹ کر گھور کر دیکھا۔۔
“ہیرو…؟ تم سے تو محلے کے چھوٹے بچے بھی اچھی ایکٹنگ کر لیتے ہیں۔”
فیصل ہنس پڑا ۔۔
“اچھا ہے، مطلب تم نے مان تو لیا کہ میرے اندر ہیرو موجود ہے اگر میں کوشش کروں تو کامیاب ہو سکتا ہوں۔کوئی بات نہیں۔ باقی شادی کے بعد پریکٹس کر لوں گا۔”
“اگر ایک لفظ اور بولا… تو میں زیغم بھائی کو بلاؤں گی اور کہوں گی کہ اس چیپ انسان کو ابھی کے ابھی یہاں سے نکالیں، سمجھے تم؟” رومی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا، لہجے میں سختی اور آنکھوں میں بجلیاں کوند رہی تھیں۔
وہ غصے سے پلٹی تھی اور اس کا رخسار سرخی سے دہکنے لگا تھا۔
فضا لمحہ بھر کو جیسے سناٹے میں ڈوب گئی۔
“تمہارا مسئلہ کیا ہے؟ میں نے ایسا کیا کہہ دیا ہے جو تم بار بار میری انسلٹ کیے جا رہی ہو؟ حد ہوتی ہے ہر چیز کی!” فیصل کے لہجے میں بے بسی اور غصہ دونوں شامل تھے۔
“پیار کرتا ہوں یار تم سے، سنسیر ہوں تمہارے ساتھ! مجھے یہ مسئلہ نہیں کہ تم مجھے جھڑک دیتی ہو، انسلٹ کر دیتی ہو… مگر تم اتنی سیریس ہو گئی ہو کہ زیغم بھائی کو میری شکایت لگانے کی بات کر رہی ہو؟”
وہ لمحہ بھر کو رکا، پھر سر جھٹک کر بولا۔
“جاؤ لگا دو شکایت، نہیں ہے پرواہ مجھے۔ میرے دل میں تمہارے لیے کوئی غلط جذبہ نہیں ہے۔جو مجھے کسی سے ڈر لگے۔!”
فیصل کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔ وہ بیچ راستے میں رومی کے قریب آتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام کر کھڑا ہوا تھا۔
رومی کا دل دھک سے رہ گیا، وہ یک دم پیچھے کھنچنے لگی مگر فیصل کی گرفت مضبوط تھی۔
••••••••••