Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:62

رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر:62
✦✦ ✦✦✦

پہلی بار رومی کے چہرے پر گھبراہٹ چھلک رہی تھی۔
“ہاتھ چھوڑو میرا! یہ کیا بدتمیزی ہے؟” رومی نے جھنجھلا کر ہاتھ زور سے جھٹک دیا۔
“ہاں، بدتمیزی ہے… جو کرنا ہے کر لو۔ آواز دو، بلاؤ اپنے بھائی کو… اور کہہ دو کہ میں تمہارے ساتھ بدتمیزی کر رہا ہوں۔”
فیصل کے لہجے میں ذرا بھی لرزش نہیں تھی، اس کی آنکھوں میں سکون تھا مگر اس سکون کے پیچھے غصے کی ایک تیز لہر صاف جھلک رہی تھی۔
“مجھے کسی کو آواز نہیں دینی… تم میرا ہاتھ چھوڑو، ورنہ…” رومی کی آواز لرز رہی تھی، آنکھوں میں آنسو دکھائی دے رہے تھے۔
فیصل کے ہونٹوں پر ہلکی سی کڑوی مسکراہٹ آ گئی۔
“ورنہ کیا؟ کیا کر لو گی؟ آج میں دیکھنا چاہتا ہوں… آخر تم کر ہی کیا سکتی ہو؟”

رومی کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اس نے ہاتھ کھینچنے کی کوشش کی لیکن فیصل کی گرفت بہت سخت تھی۔
“تمہیں کیا لگتا ہے؟ اس طرح کی حرکت کر کے کیا تم مجھے اپنے ساتھ کسی بھی رشتے میں باندھ لو گے؟ اگر تمہیں ایسا لگتا ہے تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے، مسٹر فیصل !” رومی نے ہر لفظ کو زور دے کر کہا۔ وہ کچھ لمحوں کے لیے کمزور پڑ گئی تھی، مگر اب خود کو سنبھال چکی تھی۔

“تمہیں اپنے ساتھ کسی بھی رشتے میں نہیں… صرف ،اور، صرف ، نکاح جیسے پاک رشتے میں باندھنے کا خواہش مند ہوں۔ اپنے ذہن کو ذرا وسیع کرو، سوچو تو، میں نے کون سی غلط خواہش کر دی ہے کہ تم اس طرح کا رد عمل دے رہی ہو؟” فیصل کی آواز میں دبا ہوا غصہ اور شکوہ تھا۔

“تم ہمیشہ سے مجھے نظر انداز کرتی آئی ہو، اور میں برداشت کرتا رہا ہوں۔ جب بھی میں نے تمہاری طرف قدم بڑھایا، تم ایسے مجھ سے دور بھاگتی ہو جیسے میں کوئی گھٹیا انسان ہوں… جیسے تم مجھے جانتی ہی نہ ہو۔”
اس نے ایک لمحے کو رک کر گہرا سانس لیا۔
“چوبیس گھنٹے اسپتال میں ایک ساتھ رہتے ہیں، کام کرتے ہیں۔ تم بھی میرے ساتھ ہمیشہ آرام سے رہتی ہو۔ مگر مسئلہ صرف تب آتا ہے جب میں تمہیں محبت کی نظر سے دیکھتا ہوں، اور نکاح کی بات کرتا ہوں۔”
“ہاں تو جب تمہیں صاف پتہ ہے کہ نہ میں تمہارے ساتھ کوئی رشتہ بڑھانا چاہتی ہوں اور نہ ہی محبت جیسی فضول چیز میں پڑنا چاہتی ہوں، تو پھر بہتر ہے تم خود ہی قدم پیچھے ہٹا لو۔ کیوں بار بار اپنی بے عزتی کرواتے ہو؟” رومی کے لہجے میں ذرا بھی نرمی نہیں تھی۔

اس کا ہاتھ اب بھی فیصل کی گرفت میں تھا، جسے وہ بہت زور لگانے کے بعد بھی چھڑا نہیں پا رہی تھی۔
“ریلی؟ تمہاری نظر میں محبت ایک فضول چیز ہے؟” زرام کی نظروں میں حیرانی اور غصہ دونوں جھلک رہے تھے۔

رومی نے سخت لہجے میں کہا، “ہاں، میری نظر میں محبت ایک فضول چیز ہے… جس میں صرف اور صرف ٹائم ضائع ہوتا ہے اور کچھ نہیں۔ میری زندگی اتنی فضول نہیں کہ میں محبت جیسی چیزوں میں پڑوں اور پھر ناکام محبت پر روتی پھروں۔ میری زندگی کے بہت سارے مقصد ہیں جنہیں مجھے ابھی پورا کرنا ہے۔”

“ہر محبت ناکام نہیں ہوتی،، کچھ محبتیں کامیاب بھی ہوتی ہیں،، دنیا میں مقام بھی دیتی ہیں،، اور خوبصورت رشتوں میں بدل کر دوسروں کے لیے مثال بھی بن جاتی ہیں،، بشرط یہ کہ وہ محبت حلال انداز میں کی جائے۔” فیصل کی آواز بھاری تھی مگر لہجہ سیدھا۔

“اور میرا نہیں خیال کہ میں نے کبھی تمہیں غلط نظر سے دیکھا ہو،، پہلے دن سے ہی تمہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا ہے،، اور دل میں صرف یہ خواب رکھا ہے کہ تمہیں اپنی شریکِ حیات بناؤں۔”

فیصل کےلہجے میں غصہ ضرور تھا،، مگر لفظوں میں ایسا ٹھہراؤ تھا جو نہ چاہتے ہوئے بھی رومی کے دل میں اتر رہا تھا۔ یہ الگ بات تھی کہ رومی اس کی باتوں کو دل پر محسوس کرتے ہوئے بھی انکار کر رہی تھی۔ دل گواہی دے رہا تھا کہ اس کے منہ سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ سچ ہے،، مگر وہ پھر بھی انکار پر ڈٹی ہوئی تھی۔

کیونکہ جب انسان سامنے والے کی بات جان بوجھ کر سمجھنا ہی نہ چاہے،، اور دل سے عہد کر لے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے،، اس کی بات کو اپنے دل کے نازک حصے تک پہنچنے ہی نہیں دے گا،، تو پھر سچائی بھی اس کے لیے بے معنی ہو جاتی ہے۔

“خاموش کیوں ہو،، بتاؤ کہ کیا میری باتیں تمہارے دل پر اثر نہیں کر رہیں؟ جواب دو نا،، نظریں مت چراؤ!” رومی کو نظریں چراتے دیکھ کر فیصل کے سوالوں کا دباؤ اور بڑھ گیا تھا۔

“میرے پاس تمہاری باتوں کا کوئی جواب نہیں ہے،، تم میرا ہاتھ چھوڑو،، مجھے درد ہو رہا ہے۔” مسلسل ہاتھ چھڑوانے کی کوشش اور مضبوط گرفت نے رومی کی نازک کلائی میں درد بھر دیا تھا۔

“جواب تو تمہارے پاس سب ہیں،، اور میں اتنا بے وقوف نہیں ہوں کہ مجھے سمجھ نہ آئے۔ وہ الگ بات ہے کہ تم نے ہمیشہ مجھے بے وقوف ہی سمجھا۔ میری باتیں تمہیں سمجھ بھی آ رہی ہیں،، اور دل پر اثر بھی ڈال رہی ہیں۔ مجھے تو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ اور کون سی چیز ہے جو تمہیں مجھ سے محبت کرنے سے روک رہی ہے۔”
وہ لمحہ بھر کو رکا اور پھر اٹل لہجے میں بولا۔
“چلو،، انکار ہی کرنا ہے تو ڈھنگ سے کرو۔ بتاؤ،، مجھ میں کون سی خرابی ہے؟ کوئی تو وجہ ہوگی نا جس کی بنیاد پر تم میرے رشتے کو قبول نہیں کرنا چاہتیں،، میری محبت کو رد کر رہی ہو؟ وہ وجہ بتا دو،، میں چپ ہو جاؤں گا۔”

لہجہ سخت اور سنجیدہ تھا۔ “آج میں جواب لیے بغیر نہیں جاؤں گا۔”
رومی کے لیے یہ امتحان کی گھڑی تھی۔ ایک طرف کلائی کا شدید درد،، دوسری جانب بیچ راستے میں کھڑے ہونا۔ کوئی بھی وہاں سے گزرتے ہوئے دیکھ سکتا تھا۔
ملازمین بھی دور سے گزر رہے تھے مگر نظریں اٹھانے کی ہمت کسی میں نہیں تھی۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ وہ دیکھ نہیں رہے تھے،، ہاں البتہ سن نہیں پا رہے تھے کیونکہ دونوں مدھم لہجے میں بات کر رہے تھے۔
“جواب دو رومی! آج جواب دیے بغیر نہیں جانے دوں گا!” چڑتے ہوئے لہجے میں دباؤ بڑھا۔

اس سے پہلے کہ لہجہ مزید تلخ ہو جاتا یا رومی کوئی جواب دیتی،، اوپر کھڑکی سے یہ منظر زرام دیکھ چکا تھا۔ وہ تیز قدموں سے نیچے آیا اور کھنکار کر گلا صاف کیا تاکہ موجودگی ظاہر ہو۔
رومی کے چہرے پر شرمندگی کے آثار تھے کہ بھائی نے یہ سب دیکھ لیا تھا۔ فیصل کے انداز میں مگر کوئی جھجک نہیں تھی۔ چہرے پر شرم کے آثار بالکل نہیں تھے۔ ہاں،، اس نے رومی کی کلائی چھوڑ دی تھی اور دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈال لیے۔ رومی اپنی کلائی کو دوسرے ہاتھ سے تھامے،، نظریں ادھر اُدھر کرنے لگی۔
“عقل کے اندھوں،، تھوڑا سا عقل کا استعمال کر لیا کرو۔ اس طرح بیچ راستے میں کھڑے ہونا نہایت ہی بے وقوفی کی حرکت ہے۔”

“شکر کرو کہ صحیح وقت پر میری نظر تم لوگوں پر پڑ گئی جبکہ زیغم بھائی بھی میرے کمرے میں موجود ہیں۔ ،، اگر یہ سین زیغم بھائی دیکھ لیتے تو بہت ناراض ہوتے،، اور ہونا بھی چاہیے تھا۔” زرام نے سرد مہری سے کہا۔
“تم ایک کام کرو،، جاؤ اور جا کر زیغم بھائی کو بلا لو۔ تھک گیا ہوں میں یہ دھمکی سنتے سنتے۔ آج زیغم بھائی کو بلا ہی لاؤ،، جو ہونا ہے ایک باری ہو جائے۔” لہجہ کڑا تھا، اور جواب ایسا جس کی زرام کو شاید توقع نہیں تھی۔

“خیریت ہے؟ منہ میں انگارے لے کر گھوم رہے ہو؟” زرام نے ذرا نرمی اختیار کرتے ہوئے پوچھا۔

“نہیں،، انگارے لے کر منہ میں گھومنے کا تو صرف تم سب بہن بھائیوں کو حق حاصل ہے۔ باقی لوگ تو تمہاری نظر میں زمین پر رینگنے والے عام سے کیڑے مکوڑے ہیں۔ ہمیں تو کوئی حق نہیں کہ ہم منہ میں انگارے لے کر پھریں۔”

“تمہارا دماغ ٹھیک ہے؟ میں تمہیں سمجھا رہا ہوں اور تم مجھ پر ہی چڑھ دوڑے ہو۔ میرے کہنے کا صرف اتنا مطلب ہے کہ جو بھی مسئلہ ہے وہ آرام سے بیٹھ کر سلجھایا جا سکتا ہے۔ تم لوگوں کے پاس اچھا خاصا وقت ہوتا ہے ہاسپٹل میں۔ تم لوگ وہاں بھی سکون سے بات کر سکتے ہو۔ ایک صحیح رشتے کو غلط انداز سے اگر بھائی کے سامنے پیش کرو گے تو اس کے نتائج غلط ہی ہوں گے۔ ہر چیز کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔”

” بات تو تب ہوگی،، جب یہ محترمہ خود مجھ سے بات کرنا چاہیں گی۔ پتہ نہیں کیوں میں اسے آوارہ مزاج اورغیر سنجیدہ انسان لگتا ہوں،، عجیب سی بے اعتباری ہے،، عجیب سا ایٹیٹیوڈ ہے۔ جب سے امریکہ سے آئی ہیں،، شاید ہمیشہ یہی سوچتی رہی ہوں گی کہ میں اس کو میلی نظر سے دیکھ رہا ہوں۔ حالانکہ میرا نہیں خیال کہ یہ میری فیلنگ سے ناواقف ہیں۔ ہاں مگر زبان سے کبھی اعتراف کرنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ جب بھی قدم بڑھایا،، محترمہ نے میری انسلٹ کر دی۔”
فیصل کا لہجہ بھاری ہو رہا تھا۔
“مگر ایک حد ہوتی ہے،، جب وہ کراس ہو جائے تو سامنے والے کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔ اور وہی تکلیف اس وقت میں محسوس کر رہا ہوں۔”

اس نے ایک لمحے کو رومی کی طرف دیکھا،، پھر نظریں جھکا لیں۔
“معافی چاہتا ہوں تم سے،، تمہاری بہن سے۔ مجھ سے غلطی ہو گئی کہ میں نے سوچا کہ ان کے ساتھ میرا کوئی رشتہ بن سکتا ہے۔ غلطی ہو گئی کہ میں نے اپنے خیالات میں انہیں اپنی شریکِ حیات سمجھا۔ یہ تو اعلیٰ ہستی ہیں،، اور میں ان کے معیار پر کہیں پورا نہیں اتر سکتا۔ تو ہاں،، گستاخی میری ہوئی،، غلطی میری ہوئی۔ میں اس کی معذرت کرتا ہوں،، اور اب مجھے اجازت دو۔”

فیصل نے حد سے زیادہ سرد لہجے میں کہا،، دونوں ہاتھ جوڑے اور بھاری قدموں سے دروازے کی طرف چل پڑا۔ رومی اور زرام کے چہرے پر حیرانی کے تاثرات تھے۔ انہیں بھی فیصل سے اس ردِعمل کی بالکل امید نہیں تھی۔ زَرام نے فوراً آگے بڑھ کر جلدی سے فیصل کا ہاتھ تھام کر روک لیا۔

فیصل کیا ہو گیا یار؟ اتنا غصہ کیوں؟ میں تمہارا دوست ہوں… تمہارے لیے کبھی غلط نہیں سوچ سکتا، نہ ہی کچھ ایسا کہہ سکتا ہوں جس سے تمہاری دل آزاری ہو۔ میرے کہنے کا مقصد صرف اتنا تھا کہ تم دونوں سکون سے، پرسکون جگہ پر بیٹھ کر ایک دوسرے کے بارے میں سوچ لو، پروپوزل پر غور کر لو۔

فیصل نے فوراً اس کی بات کاٹ دی، سرد لہجے میں بولتے ہوئے۔
“پہلی بات تو یہ کہ پروپوزل صرف میری طرف سے ہے، تمہاری بہن کی طرف سے انکار ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ امریکہ سے پڑھ لکھ کر آئی ہیں، اعلیٰ سوچ کی مالک ہیں… اور فیصل ٹھہرا بے وقوف، جو پچھلے دو سال سے اندھی محبت میں اس کے گرد چکر کاٹ رہا ہے۔”

فیصل کے لہجے کی تلخی اور اس کے الفاظ کی کڑواہٹ نے ماحول میں بوجھ سا بھر دیا تھا۔ رومی کی نظریں جھک گئیں اور زرام کے لب خاموشی سے کچھ دیر کے لیے بند ہو گئے۔

فیصل کا مزاج ایسا نہیں تھا کہ ذرا ذرا سی بات پر بھڑک اٹھے،، وہ تو ہمیشہ خوش مزاج اور برداشت کرنے والا شخص جانا جاتا تھا،،

فیصل کی جگہ اگر کوئی اور ہوتا تو شاید زرام اس کے رویّے پر سخت ردِ عمل دیتا،، مگر یہاں بات کسی اور کی نہیں تھی… یہ اس کا جگری یار تھا،، وہ دوست جس کے ساتھ کبھی جھگڑا نہیں ہوا،، جس کی زبان سے کبھی اونچی آواز سننے کو نہ ملی،، ہمیشہ زرام ہی کی جانب سے غصہ اور سختی آ جاتی تھی مگر فیصل خاموشی سے برداشت کر لیتا تھا،،

اور دوسری طرف رومی بھی حیران و خاموش تھی،، شاید اسی لیے کہ اس نے بھی کبھی فیصل کا یہ روپ نہیں دیکھا تھا… یہ سختی،، یہ غصہ،، یہ بے بسی،، اس کے لیے سب نیا تھا،،

کبھی کبھی خاموش طبع انسان جب بول پڑے،، تو لفظوں کی گرج دلوں پر بجلی بن کر گرتی ہے… اور فیصل کے الفاظ بھی کچھ ایسے ہی دلوں کو چیرتے ہوئے نکلے تھے،،
کیا ہو رہا ہے یہاں؟ زیغم کی آواز پر ایک دم سب نے چونک کر دیکھا۔ زیغم یہ سارا منظر اوپر سے دیکھ رہا تھا۔

ذرام تیزی سے بہانہ بنا کر اپنے کمرے سے باہر آیا کہ اسے ملیحہ سے ضروری بات کرنی تھی۔ زیغم کو اس کا انداز تھوڑا عجیب لگا،، کیونکہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ وہ زیغم کی بات کو بیچ میں کاٹ کر کسی اور سے بات کرنے چلا جائے۔

نہ جانے کیوں،، اس کے قدم کھڑکی کی جانب بڑھ گئے تھے، کیونکہ زرام کچھ لمحے وہیں کھڑا تھا۔ وہ تیزی سے بہانہ بنا کر نکل گیا،، جبکہ اس سے پہلے ان دونوں کے بیچ میں آرام دہ گفتگو جاری تھی۔

جب اس نے نیچے کا منظر دیکھا،، کچھ خاص سمجھ نہیں آیا،، مگر یہ ضرور محسوس ہو رہا تھا کہ ماحول میں کشیدگی ہے،،
مگر نیچے پہنچ کراس نے کچھ باتیں سن لی تھیں،، اور اتنی باتوں سے اسے کافی حد تک سمجھ آ گیا کہ وہاں کس موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی،،

“کچھ نہیں بھائی،، بس وہ ذرا فیصل کے ساتھ تھوڑی ناراضگی تھی،، وہی دور کر رہا ہوں۔” زرام کے الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے،، مگر اس نے بہانہ بنانے کی اچھی کوشش کی۔

رومی آہستہ سے قدم اٹھاتی ہوئی وہاں سے جانے لگی تھی۔

“رومی،، رکو یہاں،، مجھے تم سے بات کرنی ہے۔” زیغم کی سنجیدہ، مدھم آواز پر رومی کے چلتے ہوئے قدم فوراً رک گئے،، اور چہرے پر گھبراہٹ کے رنگ بھی واضح ہو گئے۔ فیصل بےخوف اور پرسکون کھڑا تھا۔
“اندر آؤ،، مجھے تم سب سے بات کرنی ہے۔” زیغم کہتے ہوئے دونوں ہاتھ کمر پر باندھے،، آگے آگے چلنے لگا۔ رومی کافی گھبرائی ہوئی تھی،، ایسے چل رہی تھی جیسے چور کی چوری پکڑی گئی ہو۔

فیصل بھی خاموشی سے پیچھے چل پڑا،، اب بولنے کی ہمت کسی میں نہیں تھی۔ مگر فیصل کو کوئی خوف نہیں تھا کہ زیغم نے ان کی بات سن لی ہے۔ جبکہ کسی کو بھی یہ پتہ نہیں تھا کہ اس نے بات سنی ہے یا نہیں،، اور وہ کس لیے اندر لے جا رہا ہے۔

زیغم سب کو اپنے ہمراہ حویلی کے اندر لے جاتا ہوا راستہ بدل کر گیسٹ ہاؤس کی طرف لے گیا۔ اسے مناسب نہیں لگا کہ اندر مہرو، ملیحہ اور ملازمین کے سامنے وہ کسی بات پر غور کرے۔ اس کے لیے پرسکون ماحول ضروری تھا، اور گیسٹ ہاؤس سے بہتر مقام کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا۔
گیسٹ ہاؤس پہنچ کر وہ خاموشی سے جا کر صوفے پر بیٹھ گیا، ٹانگ پر ٹانگ جمائے،، خاموش نظروں سے سب کو دیکھ رہا تھا۔ سب ایک ہی لائن میں ایسے کھڑے تھے جیسے مجرم جج کے سامنے اپنی سزا کے انتظار میں ہوں۔

آرام سے بیٹھ جاؤ،، مجرموں کی طرح مت کھڑے رہو۔ زیغم کے کہنے پر سب جلدی سے اپنی اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ زرام اور فیصل ایک ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا، جبکہ رومی سنگل صوفے پر سر جھکائے بیٹھ گئی۔ فیصل کے علاوہ دونوں کے چہروں پر خوف اور گھبراہٹ کے آثار واضح تھے۔
یہ وہ عزت تھی جو وہ دونوں زیغم کو دیتے تھے۔ اپنے بڑے بھائی کے سامنے ایسے بیٹھے ہوئے، جیسے ان کی بہت بڑی چوری پکڑی گئی ہو۔
سب سے پہلے تو یہ کہ مجھے بے حد افسوس ہے کہ تم لوگوں میں ابھی تک بچپنا باقی ہے،، زیغم کی آواز گیسٹ روم میں گونج اٹھی۔
سنجیدہ لہجے میں،،، زیغم نے بات شروع کی۔
سوری بھائی،، سب نے ایک ساتھ کہا۔ سب کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔

بات “سوری” کی نہیں ہے،، بات افسوس کی ہے۔ تم لوگ آرام سے بیٹھ کر بات کر سکتے تھے،، کیا تم لوگوں کی عقل یہ نہ سوچ سکی کہ ملازمین بھی موجود ہیں؟ تم لوگوں کو ایسے کھڑے دیکھ کر لوگ ہزاروں طرح کی باتیں بنا سکتے ہیں۔

“بھائی،، میری عقل نے تو سوچا تھا،، اسی لیے تو سمجھانے کے لیے گیا،، مگر اس نواب زادے کا پارہ چڑھا ہوا تھا،، اس نے میری بات سنی ہی نہیں۔” زرام نے فیصل کی جانب دیکھتے ہوئے شکوہ کیا۔

“میں تم لوگوں کے گلے شکوے نہیں سننا چاہتا،، اب میں صاف صاف بات سننا چاہتا ہوں۔ جو آدھی ادھوری میں سن چکا ہوں،، اگر یہ مسئلہ تم لوگ پہلے مجھ تک لے آتے تو شاید تم لوگوں کو یہ باہر تماشہ لگانے کی ضرورت نہ پڑتی۔”

زیغم کا لہجہ تھوڑا سرد ہوا،، تو سب واپس سے سنجیدہ ہو گئے۔
“اب زبانیں بند کر کے مت بیٹھو میں نے پوچھا ہےکہ مسئلہ کیا ہے؟

ان کی خاموشی دیکھ کر زیغم کو غصہ آنے لگا تھا۔

“کوئی مسئلہ نہیں ہے بھائی،، خوامخواہ میں ایک تماشہ کریئیٹ کرنا تھا،، جو انہوں نے کر دیا ہے۔” رومی کا اشارہ فیصل کی جانب تھا۔

“افسوس کی بات ہے،، اگر اب بھی تمہیں یہ سب تماشہ لگ رہا ہے تو میں کوئی بات کرنا بھی نہیں چاہتا۔” فیصل کا لہجہ بھی کافی تلخ تھا۔

دونوں ہی ایک دوسرے سے حد سے زیادہ خفا تھے۔ رومی اس لیے ناراض تھی کہ اسے فیصل کی وجہ سے شرمندہ ہونا پڑ رہا تھا،، جبکہ فیصل کو یہ غصہ تھا کہ وہ بار بار اسکی محبت کی انسلٹ کر رہی ہے۔

“میرے خیال میں میں نے تم لوگوں کو یہاں مسئلے کو سلجھانے کے لیے اکٹھا کیا ہے، نہ کہ الجھانے کے لیے۔ اگر تم لوگ اپنے درمیان بحث کرنا چاہتے ہو، تو پھر میری موجودگی بے معنی ہے۔ زیغم کو ان دونوں کا بحث کرنے کا انداز ناپسند آیا اور وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔

یہ منظر فیصل، رومی اور زرام تینوں کے لیے برا تھا، کیونکہ ان کے بڑے بھائی کی ناراضگی نے انہیں عجیب سا محسوس کروایا۔ فیصل بھی زیغم کو بڑے بھائی سے بڑھ کر عزت دیتا تھا۔زیغم کی شخصیت ایسی نہیں تھی کہ اس کے سامنے ہر کوئی بحث کرے، اور نہ ہی وہ ہر معمولی بات میں مداخلت کرتا۔ مگر جس فیصلے میں زیغم سلطان موجود تھا، اسے سلجھائے بغیر وہ کبھی نہیں اٹھتا تھا۔

اور زیغم سلطان کا یہی انداز اسے سب سے الگ اور منفرد بناتا تھا۔ جب بھی وہ جرگا میں بیٹھتا، ہر شخص کو یقین ہوتا کہ زیغم سلطان کا فیصلہ انصاف کے ترازو میں تولا جائے گا اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔ فیصلے لٹکانے کا وہ عادی نہیں تھا۔ زیغم سلطان کے جرگے میں فیصلے بہت جلدی نپٹ جاتے تھے، اور یہ فیصلہ تو اس کے اپنے گھر کا تھا؛ اسے کیسے لمبا چلنے دیتا؟ اور اس کی یہ ناراضگی بھی محض دکھاوا تھی، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ جب تک وہ ٹیڑھی انگلی نہیں کرے گا، یہاں بیٹھے لوگ سیدھے نہیں ہو سکتے۔

“سوری، سوری بھائی، ہم معذرت کر رہے ہیں، آپ بیٹھ جائیں، اس طرح ناراض ہو کر مت ہو جائیں۔” فیصل نے جلدی سے زیغم کو جانے سے روک لیا، اور وہ اٹھ کر زیغم کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ رومی بھی ہمت کر کے اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔

زیغم بغیر کچھ کہے خاموشی سے واپس جا کر صوفے پر بیٹھ گیا۔

“اب بتاؤ، مسئلہ کیا ہے؟ کچھ حد تک تو میں مسئلہ سمجھ چکا ہوں، جو بھی پہلے بتانا چاہے بتا سکتا ہے، اور ایک بات کان کھول کر سن، مسئلہ ختم کیے بغیر یہاں سے کوئی نہیں جا سکتا۔” زیغم سلطان کے لہجے میں حکم کی طرح اثر تھا۔

رومی میں تو ابھی ہمت نہیں تھی؛ وہ کچھ کہتی، مگر فیصل میں اس وقت بے پناہ ہمت تھی۔
جب دل میں سچی محبت ہو، اور انسان رشتے کو اللہ کے بنائے اصول کے دائرے میں رہتے ہوئے محرم کے رشتے میں مضبوط کرنا چاہے،
تو اس میں قدرتی طور پر ہمت اور طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔ فیصل نے گہری سانس لی، ہمت جمع کی، اور نگاہ زیغم کی جانب اٹھا کر دیکھا۔
“بھائی، میں رومی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں۔
میں اسے پیار کرتا ہوں اور عزت و احترام کے ساتھ، نکاح کے رشتے میں باندھنا چاہتا ہوں۔
یہ میری خواہش ہے، جس سے زرام بھی واقف ہے۔

میری نیت، میرا رب جانتا ہے، بالکل صاف ہے اور اس میں کسی قسم کا کھوٹ نہیں۔
بس اتنی سی خواہش میرا جرم ہے، باقی مسئلہ کیا ہے؟
یہ بات آپ خود ان سے پوچھ لیں۔”

ذرام نے یہ سب کچھ بڑے ٹھہراؤ اور سکون کے ساتھ زیغم کو حقیقت بتائی۔
“اس سے تو میں سب کچھ بعد میں پوچھوں گا،
مگر پہلے یہ جاننا چاہتا ہوں کہ محبت تمہاری طرف سے شروع ہوئی تھی؟”

“جی بھائی؟”

زیغم کے سوال پر فیصل نے ہاں میں سر تو ہلایا، مگر ابھی وہ سوال کے اصل مطلب کو سمجھ نہ سکا۔

“جب محبت تمہاری طرف سے شروع ہوئی تھی، جب اس رشتے کو سجانے کا پہلا خواب تم نے دیکھا تھا،
تو پھر ذمہ داری بھی زیادہ تم پر ہی تھی۔
کیونکہ محبت رومی کی طرف سے نہیں شروع ہوئی، اس لیے یہ جذباتی ردِعمل بےمعنی ہے۔

زیغم کے لہجے میں ایسا ٹھہراؤ اور سچائی تھی کہ فیصل بولنے کی ہمت نہ کر سکا۔
وہ بس خاموش نظریں جھکائے بیٹھا رہا۔

“سوری بھائی، میں شرمندہ ہوں… مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔”
فیصل نے گہری سانس لیتے ہوئے اپنی غلطی تسلیم کر لی۔ اس کا یہ اعتراف زیغم سلطان کو اچھا لگا۔

“دیکھو فیصل، تم میرے لیے چھوٹے بھائی کی طرح ہو۔ جس طرح زرام ہے،میں تمہیں بھی اسی نظر سے دیکھتا ہوں۔میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا۔

“محبت میں ہمیشہ حاصل کی امید لگانا غلط ہے، کیونکہ محبت صرف پانے کا نام نہیں۔ ہر کسی کو محبت نہیں ملتی۔
محبت کا احترام یہ بھی ہے کہ اگر دوسرا اپنی خوشی سے تمہاری طرف قدم نہیں بڑھا رہا، اگر اس کی زندگی میں تمہاری جگہ نہیں ہے… تو خاموشی سے پیچھے ہٹ جانا بھی محبت ہے۔”

“واہ! بھائی وہ! کیا ہی خوبصورتی سے آپ نے محبت کا مفہوم سمجھایا ہے… آپ کو قسم سے شاعر ہونا چاہیے!”زیغم کی بات پر زرام نے بیچ میں مداخلت کی، دانت نکالتے ہوئے ہنس رہا تھا۔

زیغم نے سرد نظر ڈالی تو فوراً زرام کی ہنسی گم ہو گئی اور زبان بند۔
“سوری بھائی…” کہتا ہوا وہ خاموش بیٹھ گیا۔
زیغم کی نظریں اس اس پر مرکوز تھیں ۔
“یہ صرف فیصل کے لیے نہیں، تمہارے لیے بھی ہے۔ تم نئی جنریشن نے پتہ نہیں محبت کا مذاق کیوں بنا رکھا ہے۔
جب تمہیں بھی ملیحہ سے محبت ہوئی تو،تم نے اپنی چاہت اس پر مسلط کر دی۔ تو بہتر ہے اپنی چونچ بند رکھو اور خاموشی سے بنا لقمہ دی ہے بیٹھے رہو۔”

بیٹھے بٹھائے زرام نے اپنی عزت افزائی خود ہی کروا لی تھی۔ گویا جان بوجھ کر بندوق کا رخ اپنی طرف کر لیا ہو۔
اگر اس وقت فیصل اتنے نازک موڑ پر نہ کھڑا ہوتا تو ضرور طنز کرتا۔ اب مزہ آیا یا نہیں؟
مگر وہ بیچارہ اس لمحے بالکل سنجیدہ بن کر بیٹھا ہوا تھا۔

زیغم ذرام کی بولتی بند کروانے کے بعد پھر سے فیصل کی جانب دیکھتے ہوئے بولا

“اچھا، میں یہ کہہ رہا تھا کہ تم نے رومی سے محبت کی ـ یہ ایک فطری بات ہے۔
اسے پروپوز کیا ـ یہ بھی فطری ہے۔
اس نے انکار کر دیا ـ تو یہ بھی ایک فطری عمل ہے۔
اسے بھی قبول کرنا چاہیے۔ مگر پتہ نہیں لڑکی کا انکار مردوں کی انا کا مسئلہ کیوں بن جاتا ہے؟ جب کوئی لڑکی انکار کرے تو تم لوگ اسے اپنی ناک کا مسئلہ بنا لیتے ہو۔‘‘

،،ایسا نہیں ہے بھائی، بات انا کی نہیں۔ آپ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں، میں ایسا انسان نہیں ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب بھی بات شروع کی، رومی نے انسلٹ کر کے بات کا رخ موڑ دیا۔ وہ کبھی مجھے موقع ہی نہیں دیتی تھی کہ اپنے دل کی بات کہہ سکوں۔
مانتا ہوں کہ میں جذباتی ہو گیا، مگر اتنا وقت تو دیا تھا کہ وہ میری محبت کو سمجھ سکے۔ اگر میں غلط ہوں، تو یہ بھی بالکل درست نہیں ہے۔‘‘

زیغم نے اس کی پوری بات سننے کے بعد بڑے تحمل سے جواب دیا۔

“میں نے تو کہا ہی نہیں کہ وہ بالکل صحیح ہے۔ میں تو صرف وہ زاویہ دکھا رہا ہوں جہاں سے تم مجھے غلط نظر آتے ہو۔
اور جہاں تک رومی کی بات ہے… تم نے محبت کا دعویٰ کیا تو پھر اس کے دل کو سمجھنے کی کوشش بھی تمہاری ذمہ داری تھی۔‘‘
وہ اپنی بات بول کر، چند لمحے خاموش رہا۔ جیسے کہانی کا دوسرا رخ پلٹ کر دکھانا چاہتا ہو۔
زیغم، رومی اور فیصل تینوں سوچ میں ڈوب گئے۔

،،مطلب؟‘‘فیصل نے آہستہ سے پوچھا۔

“مطلب یہ کہ تم نے صرف یہ دیکھا کہ رومی تمہیں جان بوجھ کر نظر انداز کرتی ہے، یا انسلٹ کر کے بات بدل دیتی ہے ـ خاص طور پر تب جب تم اس موضوع پر بات کرنا چاہتے ہو۔ عام روٹین میں تو اسے تم سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
تو پھر ایک بار تمہیں یہ بھی سوچنا چاہیے تھا کہ کہیں اس کے دل میں کوئی ایسی بات تو نہیں جو اسے تم سے محبت کرنے سے روک رہی ہے۔‘‘

یہ کہہ کر زیغم خاموش ہو گیا۔ اب وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ فیصل نے اس کی بات کا وزن سمجھا یا نہیں۔
زیغم کے لب خاموش گئے۔
کمرے پر ایک لمحے کو گہرا سکوت چھا گیا۔

رومی کے چہرے پر ایک غیر یقینی سایہ آ گیا۔

زیغم کی آنکھوں میں ٹھہراؤ تھا، جیسے وہ سب کو آئینہ دکھا رہا ہو مگر لفظوں کے بجائے سکوت کے وار سے۔

فیصل نے ایک نظر رومی کی جانب دیکھا۔شاید اس کے چہرے سے جاننے کی کوشش کر رہا تھا کہ سچ میں اس کے دل میں ایسا کیا ہے جس کے بارے میں زیغم بات کر رہا تھا۔ مگر رومی کی جھکی ہوئی نظریں دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل ہو گیا۔

البتہ زرام سخت حیران تھا۔ یہ کیونکر ممکن ہوا کہ جو بات اس کی آنکھوں سے اوجھل رہی، جسے وہ لاکھ کوشش کے باوجود نہ سمجھ سکا، وہ زیغم نے یوں سہولت سے جان لی؟ اور تعجب یہ کہ زیغم تو نہ فیصل کی محبت کی گہرائی سے واقف تھا اور نہ رومی کے انکار کی تکرار سے۔

مگر پھر زرام کے ذہن نے خود ہی جواب دے ڈالا۔ یہی وصف تو زیغم سلطان کا ہے۔ وہ کم گو ضرور ہے، مگر اس کی بصیرت وہاں تک جا پہنچتی ہے جہاں عام عقل کا گزر ممکن نہیں۔ باریکیوں کو پرکھنا اور چھپی ہوئی حقیقتوں کو بےنقاب کرنا گویا اس کی فطرت میں شامل ہے۔

ایسے ہی تو نہیں کہ پیچیدہ سے پیچیدہ معاملہ اس کے سامنے آئے اور وہ لمحوں میں اسے انصاف کے ترازو میں تول دے۔ ایسے ہی تو نہیں کہ عدالت کے ایوانوں میں اس کا شمار بہترین وکیلوں میں کیا جاتا ہے۔

اور پھر جرگے کی مجلس میں۔جہاں بڑے بڑے رائے دہندہ بھی الجھ جاتے ہیں۔زیغم کا فیصلہ حرفِ آخر مانا جاتا ہے۔ اس کی خاموش نگاہیں ہی کافی ہوتیں کہ شور دب جائے اور بحث تھم جائے۔ وہ سربراہ ضرور تھا، مگر اس کی سربراہی حکم کی سختی سے نہیں، دلوں پر حکمرانی سے قائم تھی۔

کچھ دیر کے لیے فضا پر گہری خاموشی چھا گئی۔
ابھی زیغم دوبارہ لب کھولنے ہی والا تھا کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی اور سب کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔

کسی اور کا فون ہوتا تو شاید زیغم سلطان ہرگز نہ اٹھاتا، مگر یہ کال مہرو کی تھی۔
مہرو۔جس کی مسکراہٹ زیغم کے دن کو روشن کر دیتی اور جس کی ناراضی اس کی راتوں کو بوجھل بنا دیتی۔

اس ہستی کو وہ کبھی نظر انداز نہیں کر سکتا تھا، کیونکہ زیغم کا فون نہ سننا مہرو کے لیے بےچینی اور الجھن کا باعث بنتا۔
اور زیغم، اپنی سرکار کو کسی حالت میں بھی پریشان نہیں دیکھ سکتا تھا۔خاص طور پر اس وقت جب مہرو چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی تنگ آ جاتی تھی۔پریگنسی کی وجہ سے وہ کافی ضدی اور چڑچڑی ہو چکی تھی۔
اس نے فوراً کال ریسیو کی اور موبائل کان سے لگا لیا۔

’’کہاں ہیں آپ؟ کھانا تیار ہے، ہم سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ اور زرام بھائی دونوں کمرے سے کہاں غائب ہیں۔‘‘
مہرو کی آواز سنتے ہی زیغم کے چہرے پر وہ مسکراہٹ بکھر گئی جسے چھپانا اس کے بس میں نہیں تھا۔

’’سرکار، بس چند لمحوں میں آ رہا ہوں۔‘‘

’’آپ فوراً آئیے، ہم سب انتظار میں ہیں۔ مائد بھائی اور دانیا آپی بھی پہنچ چکے ہیں۔
اور پلیز… فیصل بھائی اور رومی کو بھی فون کر دیجئے، وہ بھی ابھی تک نہیں آئے۔ کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے۔‘‘
مہرو کی باتوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری تھا، اور زیغم محض سنتا جا رہا تھا۔
’’جی، ٹھیک ہے سرکار۔ ابھی انہیں کال کر دیتا ہوں اور ہم بھی دس منٹ میں حاضر ہیں۔ بس تھوڑا سا وقت دیجیے۔‘‘
زیغم نے ادب و احترام کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کی، مگر حسبِ عادت دوسری طرف سے فون بغیر جواب کے ٹھک سے بند کر دیا گیا۔

یہ انداز اسے اچھی طرح معلوم تھا۔ مسکرا کر اس نے نفی میں سر ہلایا ۔فون کو پاس ہی صوفے پر رکھتے ہوئے۔

پھر رخ فیصل اور زرام کی طرف موڑ دیا۔۔
’’اب تم لوگ ذرا مہربانی کر کے جلدی مسئلے کا کوئی حل نکالو۔ میری بیوی کا موڈ خراب نہ ہو۔ آرڈر آ چکا ہے کہ کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے کہ ہمیں ہی کھانا گرم کرنے کے لیے بلایا جائے اور برتن دھلانے کا شرف بھی بخشا جائے، بہتر ہے کہ اس بحث کو سمیٹ لیا جائے۔‘‘
“جی بھائی تو بتائیں، کیا کرنا پڑے گا اس بات کو سمیٹنے کے لیے؟” زرام نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔

“تمہیں بس اپنی چونچ بند کرنی پڑے گی اور چپ رہنا پڑے گا۔ بلکہ یوں کرو، تم اٹھو، تمہارا یہاں کوئی کام نہیں۔ اندر جا کے بات کو سمیٹو، کوئی بہانہ بنا کر مہرو کو خود میں الجھائے رکھو تاکہ وہ میرے بارے میں نہ پوچھے۔ میں خود مسئلہ حل کر لوں گا۔ اگر تم کسی کام کے ہوتے تو نوبت یہاں تک نہ آتی، جب تمہیں سب پتہ تھا تو یہ مسئلہ تمہیں حل کرنا چاہیے تھا۔” زیغم کی بندوق کا رخ ایک بار پھر بیچارے معصوم زرام کی طرف ہو گیا۔

“بھائی، لگ رہا ہے آج میرے ستارے کافی گردش میں ہیں۔ مجھے اب چلے جانا چاہیے۔ اور آپ ہیں تو مجھے ٹینشن بھی نہیں ہے۔ میں چلتا ہوں ذرا خواتین کی ہیلپ کرنے کے لیے۔”
زرام کو جیسے موقع ہی چاہیے تھا، ایسے نو دو گیارہ ہوا کہ دروازے سے پلٹ کر بھی نہ دیکھا اور دروازہ بند کرتا ہوا نکل گیا۔جاتے ہوئے زرام کے لبوں پر مسکراہٹ تھی اور دل میں یہ یقین تھا کہ زیغم سب کچھ ٹھیک کر لے گا۔

رومی کو گھبراہٹ کے مارے اپنے دل کی دھڑکنیں کانوں میں سنائی دے رہی تھیں۔ اس سے زیادہ گھبراہٹ اس نے آج تک کبھی محسوس نہیں کی تھی۔
ایک طرف کشمکش یہ تھی کہ آخر زیغم بھائی نے اس کے دل کی بات کو کتنا اور کیسے سمجھا؟
کیونکہ اس نے تو کبھی اپنے دل کا حال زبان تک نہیں لایا، نہ ہی زیغم یا اس گھر کے کسی فرد سے ذکر کیا۔ تو پھر زیغم کو کیسے پتہ چلا؟اس کے دل کی بات تھوڑی بہت اس کی ماں کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا تھا۔

دوسری طرف زرام کا روم میں ہونا اسے تھوڑا سا حوصلہ دے رہا تھا۔ وہ اس سے نسبتاً زیادہ فرینک تھی اور عمر کا فرق بھی زیادہ نہ تھا۔ مگر زیغم کے ساتھ تو عمر کا بھی فاصلہ تھا اور عہدے کا بھی لحاظ۔ ایسے میں دل کی دھڑکنوں کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا۔

زیغم کی نظروں سے یہ سب کچھ اوجھل نہ تھا۔ وہ کبھی ایک نظر رومی پر ڈالتا اور پھر ایک نظر فیصل پر۔ مگر دونوں اپنی جگہ خاموش بیٹھے تھے۔

“یہ دونوں کچھ نہیں کریں گے!”
زیغم نے دل میں گہری سانس لیتے ہوئے سوچا۔

’’رومی، فیصل سے میں نے کافی کچھ کہہ دیا، تم کچھ نہیں کہو گی؟‘‘
زیغم نے رومی کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔

’’نہیں بھائی، مجھے کچھ نہیں کہنا۔ اس بات میں کچھ کہنے لائق ہی نہیں ہے۔ میں اسے بڑھاوا نہیں دینا چاہتی۔‘‘

زیغم اس کی جانب سوچتی نظروں سے دیکھ رہا تھا؛
’’ایسا بالکل نہیں ہو سکتا! بات کو تو بڑھاوا مل چکا ہے، بات تو بہت آگے نکل چکی ہے۔ اب تم انکار کر رہی ہو، وہ الگ بات ہے۔‘‘

رومی حیران نظروں سے اس کی جانب دیکھتی رہی؛
’’بھائی، مجھے نہیں پتہ آپ کیا سوچ رہے ہیں، مگر ایسا ویسا کچھ نہیں ہے۔‘‘
رومی نفی میں سر ہلاتے ہوئے اور انگلیاں مروڑتے ہوئے اب بھی اپنے انکار پر قائم تھی، مگر اس کے دل کے جذبات زیغم کی نظروں سے چھپے ہوئے بالکل نہیں تھے۔

’’رومی۔۔۔‘‘ زیغم نے اس کا نام کھینچتے ہوئے لیا۔

’’انکار کی وجہ مجھے پتہ ہے، مگر تمہارا انکار بے بنیاد ہے۔ ہر انسان ایک جیسا نہیں ہوتا۔ تمہاری سوچ یہ ہے کہ اس حویلی کے لوگوں کی شادیاں کامیاب ہونے کے بجائے ، ناکامیوں کی طرف زیادہ گئی ہے، اور تمہارے قریبی رشتے سب ناکام رہے ہیں۔ اس لیے تمہیں شادی سے ڈر لگتا ہے۔
مسئلہ فیصل میں نہیں ہے، نہ ہی اس میں کوئی کمی ہے؛ مسئلہ تو ہماری سوچ ہے۔ اس سوچ کو بدلو، اور اب تو اللہ کا شکر ہے سب ٹھیک ہونے لگا ہے۔ ملیحہ اور زرام کا رشتہ بھی الحمدللہ ٹھیک ہو گیا ہے، دانیا کو بھی شہرام جیسے عذاب سے چھٹکارا ملا اور وہ اپنی زندگی میں بے حد خوش ہے۔ اسے مائد جیسا اچھا اور نیک فطرت ہم سفر ملا۔

نایاب کا اور میرا رشتہ تمہیں سوچنے کی ضرورت ہی نہیں؛ کیونکہ وہ رشتہ کبھی تھا ہی نہیں۔ اسے زبردستی بنایا گیا، گناہوں کی بنیاد پر جڑے رشتے کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ اس نے بہرام بھائی کی ٹوٹتی سانسوں پر اپنا رشتہ میرے ساتھ قائم کیا، تو کیسے سوچ لیا کہ کبھی خوشیاں اس کا مقدر ہو سکتی ہیں۔

’’اور اگر تم قدسیہ پھوپھو اور اپنے بابا کے بارے میں سوچ رہی ہو، تو ان کا بھی مت سوچو۔ ان کی قسمت میں جو لکھا تھا، وہ ہو گیا۔ انہوں نے اپنی زندگی گزار لی۔ ہمیشہ اچھا اور پوزیٹو سوچو، تو اچھی چیزیں دکھائی دیتی ہیں؛ اگر نیگٹو سوچو، تو ہر طرف برائی ہی برائی نظر آتی ہے۔‘‘

زیغم نے ایک ہی سانس میں وہ سب کچھ کہہ ڈالا جو رومی کے دل میں چھپا ہوا تھا۔
رومی پھٹی اور حیران نظروں سے زیغم کی جانب دیکھ رہی تھی۔ یہ سب کچھ آج تک اس نے کبھی زبان تک نہیں لایا، مگر زیغم نے ایک ایک لفظ سچائی کے ساتھ بتایا۔ یہی وہ وجہ تھی جس کی وجہ سے وہ فیصل کی محبت سے انکار کر رہی تھی۔

دوسری جانب فیصل حیران نظروں سے زیغم کو دیکھتے ہوئے ساری بات سن چکا تھا۔ وہ اپنے آپ پر حد سے زیادہ شرمندہ تھا، اس بات کی شرمندگی تھی کہ کیسے وہ رومی کے دل میں چلتی کشمکش، پریشانی، درد اور اس ڈر کو سمجھ سکا۔

’’بھائی۔۔۔ کیسے پتہ آپ کو یہ سب۔۔۔؟‘‘
رومی نے کہتے ہوئے خود ہی اپنی بات ادھوری چھوڑ گئی۔ وہ یہی پوچھنا چاہتی تھی کہ بھائی آپ کو کیسے پتہ کہ وہ اس وجہ انکار کر رہی ہے، مگر زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی۔

’’جواب تمہیں معلوم ہے، رومی۔ اپنے دل سے پوچھو؛ کیا فیصل میں کوئی برائی ہے؟‘‘
زیغم نے فیصل کی جانب اشارہ کیا، جو حسرت بھری نگاہوں سے رومی کو دیکھ رہا تھا۔
’’جواب دو بیٹا۔۔۔ بتاؤ، کیا فیصل میں کوئی برائی ہے؟‘‘
رومی نے نفی میں سر ہلایا، مگر ابھی بھی اپنے انکار پر قائم تھی۔

’’کوئی کمی تو ضرور تو ہوگی جو تمہیں ناپسند ہو،رومی نے پھر سے نفی میں سر کو ہلا دیا کیونکہ کوئی کمی تھی نہیں اس میں تو کیسے کہتی کہ کمی ہے۔

“تم اسے پسند بھی کرتی ہو۔ یہ بات میں تمہیں بتا سکتا ہوں۔ شاید اس اندھے کو نظر نہ آئے، مگر مجھے نظر آ رہی ہے، بیٹا۔‘‘
فیصل نے حیرانی سے دیکھا۔ مطلب یہ کہ رومی اسے پسند کرتی تھی؛ اس بات پر وہ غافل تھا۔ فیصل کو اپنی عقل اور بے وقوفی پر غصہ آیا کہ کیسے وہ رومی کے دل کی بات سمجھ نہ سکا اور فضول میں بات کو اتنا بڑھا دیا۔ اب صرف افسوس تھا کہ تھوڑا اور انتظار کر لیتا، شاید رومی اپنے دل کی بات بتا دیتی۔

رومی خاموش تھی؛ کوئی جواب نہیں دے پا رہی تھی۔بیچاری کی ایک کے بعد ایک ساری چوری پکڑی جا چکی تھی۔

’’اپنے دماغ سے ہر وہم نکال دو اور اس کی محبت کی عزت کرو۔ اگر کوئی محبت سے، عزت سے، تمہارا ہاتھ تھام کر شادی جیسے خوبصورت رشتے میں باندھنا چاہتا ہے، تو میرے خیال میں اس میں کوئی برائی نہیں۔‘‘

’’مگر بھائی، میرا دل ڈرتا ہے۔رومی نے ہچکچاتے ہوئے کہا؛ مجھے لگتا ہے ہمارا رشتہ کامیاب نہیں ہوگا۔ اور اماں ہمارے رشتے کو کبھی کامیاب ہونے بھی نہیں دیں گی، کیونکہ اماں کو فیصل پسند نہیں ہے۔ میں اماں کو نہیں چھوڑ سکتی۔ وہ جیسی بھی ہیں، میری ماں ہیں۔ اور شادی کی ناکامی کے بعد انہوں نے ایک ایسی زندگی گزاری جس میں کوئی رنگ نہیں تھا، اور ان کے اکیلے پن نے انہیں مزید برائی کی جانب دھکیل دیا۔ میں ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں اور خدمت کرنا چاہتی ہوں تاکہ وہ مزید گمراہی کے راستے پر نہ چلیں، سازشیں نہ بنیں۔‘‘

رومی کی دل کی بات زبان پر آ گئی۔

’’تم انہیں سمجھاؤ، پیار سے۔ ایموشنل کر کے سمجھ جائیں گی، مگر انکار مت کرو۔ اس کی شکل دیکھ کر تمہیں اندازہ نہیں ہو رہا کہ وہ تم سے کتنا پیار کرتا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ بیچارا رونے لگے۔‘‘
آخر میں زیغم نے ماحول کو تھوڑا ہلکا کیا، اور اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ اسے اب یقین تھا کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ لوگوں کے چہروں کو دیکھ کر وہ سب کچھ بخوبی پڑھ سکتا تھا۔

’’میں جا رہا ہوں۔ دس منٹ کا ٹائم ہے۔ تم لوگوں کے پاس بات ختم کر کے کھانے کے ٹیبل پر پہنچو۔‘‘
وہ قدم بڑھاتا ہوا دروازے تک پہنچ گیا، پھر رک گیا، پیچھے دیکھے بغیر رومی اور فیصل سے مخاطب ہوا؛

’’میں انکار نہیں سننا چاہتا۔ رومی، ہر لحاظ سے تم لوگوں کا رشتہ پرفیکٹ ہے اور انشاءاللہ آنے والے وقت میں اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ ایسا میرا دل گواہی دیتا ہے۔ اللہ کا نام لے کر حامی بھر دو، باقی سب کچھ وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جائے گا۔ تمہاری اماں کو بھی منالیں گے۔‘‘
یہ کہہ کر وہ باہر نکل گیا اور دروازہ بند کر دیا۔کمرے میں صرف رومی اور فیصل رہ گئے تھے۔
✦✦✦ ✍︎ ✦✦✦
رومی عجیب سی گھبراہٹ میں تھی۔ گہری سانسیں لے کر وہ فیصل کے پاس سے گزرتی ہوئی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ اس کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ وہ روم سے جانے کی تیاری کر رہی ہے اور یہ سب کچھ فیصل کے دل میں اضطراب پیدا کر رہا تھا۔

فیصل تیز قدموں سے چلتے ہوئے دروازے کے سامنے کھڑا ہو گیا۔

“کیا بدتمیزی ہے۔ جانے دو مجھے !” اس کی آنکھوں میں غصہ جھلک رہا تھا۔

لیکن فیصل کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔
“غصے کے پیچھے چھپی گھبراہٹ کو چھپانے کی کوشش مت کرو۔ یہ کوشش فضول ہے۔”

“گھبراتی ہے میری جوتی۔ تم ہٹو۔ مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی اور زیغم بھائی کی باتوں کو زیادہ دماغ پر نہ سوار کرو۔”

فیصل قدم بڑھاتے ہوئے مزید قریب ہوا۔
“نہ تو میں پیچھے ہٹوں گا اور نہ ہی تمہیں کمرے سے باہر جانے دوں گا۔ زیغم بھائی کی باتیں دماغ پر نہیں دل پر اثر کرتی ہیں۔ اب سب کچھ سامنے ہے۔ اگر پھر بھی تمہارے دل کی بات نہ سمجھ سکوں تو مجھ سے بڑا بے وقوف کوئی نہیں ہوگا۔”

رومی گھبرا کر چار قدم پیچھے ہٹی۔

“اپنی حد میں رہو!”
انگلی اٹھاتے ہوئے وارننگ دی،
فیصل نےمسکرا کر اس کی طرف قدم بڑھایا، اس کی آنکھوں میں خاموش سوال جھلک رہے تھے ۔
“اچھا چلو ٹھیک ہے۔ بتا دو میری حد کیا ہے؟”
اس کی نظروں میں محبت اور شوخی کے رنگ گہرے تھے۔ وہ رنگ دیکھ کر رومی کا دل بے اختیار دھڑکنے لگا۔ اگر وہاں کوئی اور لڑکی ہوتی تو شاید گھبرا کر پیچھے ہٹ جاتی، مگر رومی کے دل میں فیصل کے لیے ایک الگ ہی محبت چھپی ہوئی تھی، جسے اس نے خود سے بھی چھپا رکھا تھا۔
ایسے میں کمرے میں ان دونوں کے سوا کوئی نہ تھا۔ صرف فیصل کی موجودگی تھی، اور خاموشی اور بھی گہری لگ رہی تھی۔ ہر نظر، ہر مسکراہٹ، ہر لمحہ ایک نرمی اور قربت کا احساس دلا رہا تھا۔ رومی خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر دل کے جذبات الفاظ کے بغیر بھی بول رہے تھے۔

“دیکھو، فیصل، میری بات سنو۔”
رومی نے ہمت جمع کرتے ہوئے کہا، لیکن اس کی آواز میں ہلکی سی لرزش تھی۔

“ہاں جی، بالکل۔ کہو، سن رہا ہوں۔”
فیصل نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، آنکھوں میں نرمی اور محبت جھلک رہی تھی۔

“تمیز سے اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر بات سنو۔”
رومی نے تھوڑی سختی کے ساتھ کہا، لیکن دل کے نرم احساسات چھپائے نہیں جا سکتے تھے۔

“ایسا نہیں ہو سکتا، سوری…”
فیصل نے ہنستے ہوئے کہا، مگر اس کی ہنسی میں شرارت چھپی تھی۔

“زیادہ فلرٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ورنہ ایک تھپڑ لگاؤں گی۔”
رومی نے دھمکی آمیز انداز میں کہا، لیکن آنکھوں میں چھپی نرم مسکراہٹ واضح تھی۔

“میں تیار ہوں تھپڑ کے لیے۔”
فیصل نے ہنستے ہوئے اپنا چہرہ آگے بڑھایا، اور لمحہ ہلکی شرارت سے بھر گیا۔

“پلیز پیچھے ہٹو، مجھے پریشان مت کرو۔”
رومی نے فیصل کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے دھکا دیا اور خود سے دور ہو گئی۔

مگر دوسرے ہی لمحے فیصل نے اس کی کلائی تھامی اور اسے اپنے قریب کر لیا، اور وہ لمحہ جیسے اس کے سانسوں تک محدود ہو گیا۔

“کیا بدتمیزی ہے۔”
رومی نے زور سے کہا، لیکن اس کی آواز میں چھپی محبت واضح تھی۔

“محبت ہے۔”
فیصل نے نرمی سے جواب دیا، آنکھوں میں گہری عقیدت کے رنگ تھے۔

“میری اماں تمہیں پسند نہیں کرتیں۔”
رومی نے پریشانی میں کہا۔

“کوئی بات نہیں، میں نے کون سا ماں سے شادی کرنی ہے۔”
فیصل نے شرارت سے جواب دیا۔

“شرم کرو، وہ میری ماں ہے۔”
رومی نے فوراً کہا،

“ہاں، تو، پھر وہ میری بھی ماں ہوئی۔ پھر ٹینشن کس بات کی ہے؟”
فیصل نے نرمی سے کہا، اور اس کی محبت بھری نظریں رومی کے چہرے پر جم گئی تھیں۔

“وہ اس رشتے کے لیے کبھی ہاں نہیں کریں گی۔”
رومی نے نرمی سے کہا۔

“بیٹی کا راضی ہونا ضروری ہے۔”
فیصل نے پختگی اور محبت کے ساتھ کہا۔

“اور اگر کل کو ہمارا رشتہ کامیاب نہ ہو سکا…”
رومی نے ڈر کے ساتھ کہا۔

“اللہ نہ کرے۔ اچھا سوچو گی تو انشاءاللہ ہمارا رشتہ کامیاب بھی ہوگا اور خوشیوں سے بھرا ہوا بھی۔ بس صرف اللہ پر یقین رکھو اور فضول وسوسے چھوڑ دو۔”
فیصل نے یقین اور محبت کے ساتھ کہا،

“ادھوری زندگی جینے والے خود پر یقین نہیں کر پاتے، کیا کروں؟”
رومی نے دل کا بوجھ بانٹتے ہوئے کہا۔

“تو خود پر نہیں یقین، تو خدا پر یقین کرو۔ وہ ہمارے رشتے کو کامیاب کرے گا۔ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ میں تمہاری زندگی خوشیوں سے بھر دوں گا۔ بس ٹرسٹ کر کے تو دیکھو۔”
فیصل نے محبت اور اعتماد کے ساتھ کہا، اور اس کی آنکھوں میں سچائی صاف جھلک رہی تھی۔

“پوری زندگی اماں سے دور تڑپتے ہوئے گزاری ہے۔ اب وہ جیسی بھی ہیں، میں ان کو چھوڑ سکتی ہوں۔ مگر کل کو تمہیں بہت کچھ سناؤں گی، پھر تم مجھے سناؤ گے۔ کبھی میں تمہاری سائیڈ لیتے ہوئے اماں کی نظروں میں بری بن جاؤں گی اور کبھی اماں کی سائیڈ دیتے ہوئے تمہاری نظروں میں بری بن جاؤں گی۔ بس یہی سے رشتہ خراب ہونا شروع ہو جائے گا۔”
رومی نے غصے اور درد کے ملے جلے جذبات کے ساتھ کہا، آنکھوں میں آنسو اور دل میں ہلکی سی بےچینی کے ساتھ۔

رومی ایک بار پھر سے فیصل سے دور ہو کر کھڑی ہو گئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اس کے چہرے پر دل کا درد صاف جھلک رہا تھا۔

“اگر تمہیں صرف یہ ڈر ہے کہ تمہاری اماں مجھے برا بھلا کہیں گی اور میں برداشت نہیں کروں گا اور تمہیں سناؤں گا، تو میں اللہ کو حاضر جان کر قسم کھاتا ہوں کہ ، ایسا کبھی نہیں ہوگا۔

میں پورے دل سے وعدہ کرتا ہوں اپنی آخری سانس تک تمہیں کوئی طعنہ نہیں دوں گا اور یہ وعدہ ہے کہ میں اپنی ماں کی طرح ان کی عزت بھی کروں گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ میں اپنی محبت سے ان کا دل جیت لوں اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے۔”
فیصل نے نرمی سے اس کے ہاتھ کو پکڑا اور ایک بار پھر اپنی محبت کی سچائی دکھانے کی کوشش کی۔

رومی نے نظریں اٹھا کر اس کی جانب دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، اور دل میں ایک پیچیدہ جذبات کا طوفان تھا۔ وہ بھی تو فیصل کو اپنا سفر بنانا چاہتی تھی، مگر اپنی ماں کو کچھ چھوڑ کر اس کے قریب بھی نہیں ہو سکتی تھی۔

“بہت محبت کرتا ہوں یار، مت ٹھکراؤ۔ میں وعدہ کرتا ہوں سب ٹھیک کر دوں گا۔”
فیصل نے رومی کے آنسو نرمی سے صاف کرتے ہوئے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔

“مجھے ڈر لگتا ہے… میں ٹوٹے رشتوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔ اس لیے میں نے دل سے عہد کیا تھا کہ میں کبھی شادی نہیں کروں گی۔”
رومی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔

فیصل نے اسے بازوؤں میں سمیٹ لیا، ایک جگہ جہاں صرف محبت اور عقیدت کا احساس تھا۔

“ہاتھ تھام کر تو دیکھو، میں تمہیں کوئی بھی بوجھ نہیں اٹھانے دوں گا۔ تمہاری ہر مشکل کے سامنے میں تم سے پہلے کھڑا رہوں گا۔”

رومی نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ فیصل کی آنکھوں میں آج بھی وہی سچی محبت جھلک رہی تھی، اور اب وہ اس سے زیادہ انکار نہیں کر سکتی تھی۔
خاموشی سے اس نے سر اس کے سینے پر ٹکا دیا، اور اس کے انداز میں وہ ہاں چھپی ہوئی تھی جسے فیصل نے اس کی خاموشی میں فوراً محسوس کر لیا اور مسکرا دیا۔

“آئی لو یو…”فیصل نے سرگوشی کہا،رومی شرما کر خود سے مٹ گئی۔ اور یہ الفاظ دونوں کے دلوں کے درمیان خاموشی کی زبان بن گئے۔
“بس اللہ پر یقین رکھو اور اپنی محبت پر بھروسہ کرو۔ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، اور ہم ایک ساتھ خوشیوں بھری زندگی گزاریں گے۔”

خاموشی میں، صرف ان کی دھڑکنیں اور ایک دوسرے کی قربت باقی تھی، ہر پریشانی پیچھے رہ گئی تھی، اور محبت کی نرم روشنی نے ہر لمحے کو روشن کر دیا تھا۔

✦✦✦ ✍︎ ✦✦✦

“ارے بھائی، کہاں رہ گئے تھے تم ؟ مہمان گھر پہنچ چکے ہیں اور میزبان غائب ہیں!”
مائد نے زیغم کو دیکھ کر شکوہ کیا۔

“سو سو سوری جناب، پہلی بات تو یہ کہ تم یہاں مہمان نہیں ہو، اور میں غائب تھا، اس کے لیے بہت معذرت خواہ ہوں۔”
زیغم نے مائد کا ہاتھ تھاما اور گرم جوشی سے اسے گلے لگا لیا۔ مائد نے بھی فوراً گلے لگایا، اور دونوں ایسے گلے مل رہے تھے جیسے برسوں کے بعد ملاقات ہوئی ہو۔دونوں کی دوستی وقت کے ساتھ ساتھ مزید گہری ہوتی جا رہی تھی۔

دانیا اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی ، “السلام علیکم! کیسے ہیں آپ اور کہاں تھے؟”
زیغم نے اسے گلے لگایا اور ماتھے پر شفقت بھرا بھوسہ دیا، جیسے ایک باپ اپنی بیٹی کے لیے حفاظت اور محبت کا احساس دے رہا ہو۔ دانیا کے لبوں پر وہی خوشگوار مسکراہٹ بکھر گئی جو ہمیشہ ایسے لمحوں میں ظاہر ہوتی تھی۔

“بس تھوڑا سا ضروری کام تھا، اس لیے دیر ہو گئی۔”
زیغم نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
“چلو، خیر، تم لوگ بتاؤ ہمارا شہزادہ کہاں ہے؟ کہاں ہے حسن صاحب؟”
اس نے بات کا رخ بدلتے ہوئے حسن کی جانب اشارہ کیا۔

“وہ دیکھیں، اپنی پیاری مامی جان کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔”
دانیا نے مہرو کی جانب اشارہ کیا۔
مہرو نے حسن کو اپنی گود میں لیے ہوئے ، کھیلتے ہوئے باتیں کر رہی تھی۔ حسن ارد گرد کی دنیا سے بے نیاز لگ رہا تھا،
ملیحہ بھی ارمیزہ کو گود میں لیے کرسی پر بیٹھی تھی۔ تینوں کی توجہ کا مرکز ننھا حسن تھا۔ وہ بول نہیں سکتا تھا، مگر اس کی ہر حرکت، ہر مسکراہٹ، ہر نظر سب کے دل کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔

ہنسی، خوشی اور محبت کی یہ محفل چھوٹے لمحوں کے حسین لمحات سے بھر گئی تھی۔

ننھا حسن اپنی چھوٹی انگلی سے مہرو کے چہرے کو چھو رہا تھا، اور اس کی آنکھوں میں کھیلنے کی چمک تھی۔ ہر ہنسی، ہر چھوٹا سا لمس مہر کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر رہا تھا۔۔
مہرو کے لبوں پر مسکراہٹ دیکھ کر زیغم کے دل میں ایک خیال آیا۔
وہ خیال جیسے اس کے دل کو گدگدانے لگا۔ زیغم سوچ رہا تھا کہ کچھ مہینوں بعد مہرو کی گود میں ان دونوں کی محبت کی نشانی، ان کی اپنی اولاد ہوگی۔

یہ احساس اتنا خوبصورت تھا کہ اس کا دل ایک لمحے کے لیے بند ہو کر دوبارہ سے دھڑکنے لگا۔
یہ ایک ایسا لمحہ تھا جسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل تھا، کیونکہ اس کی خوبصورتی صرف محسوس کی جا سکتی تھی،

فیملی کا یہ حسین منظر، محبت، قربت اور خوشی کی چھوٹے چھوٹے لمحات سے بھرپور تھا، جس نے سب کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دی اور دلوں کو سکون سے بھر دیا ۔

اسی وقت زرام بھی وہاں پہنچ چکا تھا، جو ابھی کچھ دیر پہلے ہی اپنے روم میں گیا تھا کیونکہ اس کے سر میں درد ہو رہا تھا۔ وہ کسی کو بتا کر پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا، اس لیے خاموش رہا۔
چوٹ ابھی تازہ تھی، مگر خوشی کے لمحوں میں شاید اس نے اپنے درد کو پس پشت ڈال دیا۔ زرام خود ڈاکٹر بھی تھا، اس لیے دوا کے بارے میں کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی اور اس نے خود فیصلہ کیا کہ اس وقت اسے پین کلر لینی ہے۔ وہ خود ہی روم سے دوا لے کھا کر واپس آیا تھا۔

عورتیں حسن کے ساتھ مصروف تھیں، اور زیغم حسن سے مل کر واپس مائد کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ تھوڑی سی ہنسی کے بعد سب کی توجہ آہستہ آہستہ کھانے کی طرف ہو گئی، کیونکہ گرم خوشبوئیں سب کو بے چین کر رہی تھیں۔

اسی وقت رومی اور فیصل بھی وہاں پہنچے۔ زرام اور زیغم کی نظروں نے فوراً دونوں کا معائنہ کیا۔ رومی اور فیصل کے چہروں کو دیکھ کر دل کو سکون ملا۔ رومی کا چہرہ شرمایا ہوا تھا، اور فیصل کا چہرہ کھلا اور پر اعتماد تھا۔ اب سوال کرنے کی ضرورت باقی نہیں تھی۔

باقی گھر والوں کو بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ رومی اور فیصل کب سے وہاں موجود تھے۔ ان کے خیال میں دونوں ابھی پہنچے تھے۔ سلام کے بعد وہ ٹیبل پر بیٹھ گئے،سب نے خوش دلی سے ان کا ویلکم کیا۔
اور قسمت سے رومی اور فیصل کی کرسی بھی ایک دوسرے کے ساتھ تھی۔

گرم گرم لذیذ کھانوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے باتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ عورتیں اپنی باتوں میں گم تھیں اور مرد حضرات اپنی باتوں میں مصروف تھے۔

ایسے میں فیصل نے نرمی سے اپنی ساتھ والی کرسی کی جانب ہاتھ بڑھایا اور رومی کا ہاتھ تھام لیا۔ رومی گھبرا گئی اور دل کی دھڑکنیں ایک لمحے کے لیے رک گئی۔

رومی نے ادھر ادھر نظر دوڑا کر دیکھا، مگر سب اپنے کام اور باتوں میں مصروف تھے۔ فیصل تو ایسے مرد حضرات کے ساتھ گپے مار رہا تھا جیسے اس نے نہیں، کسی اور نے رومی کا ہاتھ تھاما ہو۔ رومی نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی، مگر فیصل کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ وہ ہاتھ نہیں ہلا پائی۔
رومی کے دل میں گھبراہٹ اور خوشی کے اتنے رنگ بھر گئے کہ لمحہ جیسے رُک سا گیا، اور ہر دھڑکن میں ایک نئی مسرت اور نرمی کے احساس نے اس کے وجود کو چھو لیا۔
✦✦✦ ✍︎ ✦✦✦
وقت کبھی کسی کے لیے نہیں رکتا، وقت چلتا ہی جاتا ہے۔ اگر کوئی وقت رہتے رشتوں کو سمیٹ لے تو ٹھیک ہے، نہیں تو ایسے لوگوں کے پاس سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں رہ جاتا، اور پچھتاوے انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔

جس طرح نایاب اندر سے کھوکھلی ہو چکی تھی، اس کے پاس جینے کا کوئی مقصد نہیں تھا۔ دن کے ہجوم میں بھی وہ تنہا محسوس کرتی، لوگ موجود ہوتے لیکن کوئی اس کے دل کے قریب نہ تھا۔ وہ اپنی کمرے کی خاموشی میں بیٹھ کر اکثر خود سے سوال کرتی کہ کیا واقعی معافی ممکن ہے؟مگر اس کے پاس اپنے ہی سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔

راتوں کو وہ اکیلے روتی رہتی، ہر سجدے میں لرزتی، ہر دعا میں گڑگڑاتی ، لیکن دل کے کسی کونے میں ایک انجانا خوف اس کی سانسیں روک لیتا۔اگر اللہ نے مجھے معاف نہ کیا تو؟

اس خوف نے اس کی روح کو گھیر لیا تھا۔ آنکھوں کے آنسو، ہونٹوں پر دعائیں اور دل میں دہشت… یہی اس کی زندگی کا حاصل رہ گیا تھا۔ نایاب کا جسم زندہ تھا مگر اس کی روح ہر دن تھوڑی تھوڑی مر رہی تھی۔

دوسری جانب توقیر کی حالت ہر گزرتے دن کے ساتھ بگڑتی جا رہی تھی۔ اب تو وہ کھڑے ہونے کے قابل بھی نہیں رہا تھا۔
مسلسل ذہنی دباؤ اور ڈپریشن نے اس پر ایسا وار کیا کہ ایک روز وہ فالج کا شکار ہو کربستر تک محدود ہو کر رہ گیا۔

اب تو گھر میں اکثر اس کی چیخنے چلانے کی آوازیں گونجتی رہتیں، لیکن زرام نے اس کے علاج معالجے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ وہ جانتا تھا کہ توقیر اس کا باپ ہے، اس ناطے وہ کمرے میں جاتا اور جتنا اس کے بس میں ہوتا،اس کا خیال بھی کرتا۔ مگر یہ سب کرتے ہوئے اس کا دل زخمی رہتا۔ تنہائی میں جب کوئی نہ دیکھ رہا ہوتا تو زرام کی آنکھوں سے بھی آنسو چھلک آتے، مگر وہ اپنے دکھ کو خود تک محدود رکھتا۔ نایاب اور اس کے بیچ میں اب کوئی گفتگو نہ تھی، ایک ایسی خاموشی جس نے فاصلوں کو اور بڑھا دیا تھا۔

اس کے باوجود زرام نایاب کی ضروریات کا پورا خیال رکھتا۔ لیکن نایاب نے خود اپنی ضروریات محدود کر لی تھیں۔ کئی کئی دن وہ اپنے کمرے سے باہر ہی نہ نکلتی۔ وقت کا پرندہ اپنی رفتار سے دوڑتا جا رہا تھا۔
زرام ملیحہ کو بھی اپنے گھر لے آیا تھا، تاکہ ماحول میں کچھ سکون اور روشنی ہو۔ ملیحہ اور زرام کی زندگی خوشحال گزر رہی تھی۔ ملیحہ نے اپنی اسکول کی نوکری نہیں چھوڑی کیونکہ فارغ رہنے پر وہ بوریت محسوس کرتی۔ زرام نے بھی اسے کبھی منع نہ کیا۔ وہ اپنی جاب پر جاتی، اور زرام اپنے معمول کے مطابق اسپتال کا رخ کرتا۔

ملیحہ کا رویہ نایاب کے ساتھ نہ تلخ تھا نہ میٹھا۔ وہ کبھی کچھ کہتی ہی نہ تھی۔ لیکن توقیر کے لیے وہ ہمیشہ ملازمین کو ہدایت دیتی کہ کھانے اور دوائیوں میں کسی قسم کی کمی نہ ہو۔ یہ ملیحہ اور زرام کی انسانیت تھی، ورنہ توقیر اور نایاب نے اپنی زندگیوں میں جو کچھ کیا تھا، وہ اس قابل ہرگز نہ تھے کہ کوئی ان کا خیال رکھے۔ مگر انسانیت سے بڑھ کر دنیا میں کوئی چیز نہیں۔ اور دونوں اپنی اسی انسانیت کے ناطے بھلائی پر قائم تھے۔

وقت اپنی تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔ دوسری طرف فیصل اور رومی کا رشتہ طے ہو چکا تھا۔ رومی کو حیرت تھی کہ اس کی ماں، جو ہمیشہ لالچ کے پیچھے دوڑتی رہی، اچانک فیصل کے ساتھ اس کی شادی پر راضی کیسے ہو گئی؟ اس کے دل میں سوال تو اٹھے مگر جواب کہیں نہ ملا۔ حقیقت یہ تھی کہ زیغم سلطان نے ایک بار پھر اپنی ذہانت استعمال کی تھی۔اس نے پراپرٹی کا ایک بڑا حصہ سلمہ کے نام کر دیا۔
لیکن ساتھ ہی شرط رکھی کہ یہ راز رومی کے کانوں تک نہ پہنچے اور سلمیٰ اسی وقت کاغذات پر دستخط کرے جب وہ فیصل کے ساتھ رشتے پر رضامند ہو جائے اور کسی بھی طرح کا کوئی تماشا نہ کرنے کا وعدہ کریں اور لکھ کر دے ۔

سلمیٰ کے لیے یہ سودہ ہر طرح سے فائدہ مند تھا۔ اگر چہ اسے فیصل پسند نہ تھا، مگر وہ ڈاکٹر تھا، اچھی پوسٹ پر فائض تھا، اپنا گھر بار رکھتا تھا۔ بے انتہا دولت مند نہ سہی، مگر کھاتے پیتے گھرانے سے تھا۔ اور جب پراپرٹی بھی ہاتھ آگئی، تو سلمیٰ نے رومی کے رشتے کے لیے ہاں کر دی۔

رومی کو سراغ نہ ملا، لیکن دل میں ایک انجانا شک بار بار دستک دیتا رہا کہ کچھ تو ہے جو اس کی نظروں سے اوجھل ہے۔ بہرحال، رومی اور فیصل کا رشتہ طے پا گیا اور شادی کا وقت مہرو کی ڈلیوری کے بعد مقرر کیا گیا۔

ادھر مائد اور دانیا خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ درخزئی کے قاتلوں کو انجام تک پہنچایا جا چکا تھا۔ کچھ کو مائد نے اپنے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتارا، باقی ایک حادثے میں بری طرح زخمی ہوئے۔ ایک کی موت ہو گئی اور دو کی زندگیاں موت سے بھی بدتر حالت میں جا پہنچیں۔ اس سے بڑی سزا اور کیا ہو سکتی تھی؟ بے شک اللہ تعالیٰ مکافاتِ عمل دنیا ہی میں دکھا دیتا ہے۔ اگر وہ سلامت رہتے تو خون کا یہ سلسلہ اور طویل ہو جاتا۔

پختون معاشرت میں قتل و غارت کو عام سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی روایت ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتی آئی ہے۔ وہاں خون بہانا صرف دشمنی نہیں بلکہ انا اور غیرت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ایک قتل دوسرے قتل کو جنم دیتا ہے، اور یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ دل سے اپنی شر اور دشمنی کو کبھی دفن نہیں کرتے۔ ان کے ہاں صلح کرنا کمزوری ہے اور بدلہ لینا بہادری۔ اسی سوچ نے کئی خاندانوں اور نسلوں کو اجاڑ کر رکھ دیا۔

مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ آگ بجھتی نہیں، بلکہ ہر روز اور بھڑکتی ہے۔ یہ آگ صرف خون مانگتی ہے، اور جو اس میں جلتا ہے وہ اپنی خوشیاں، اپنے رشتے، حتیٰ کہ اپنی زندگی بھی اس کے حوالے کر دیتا ہے۔ قتل وقتی طور پر غیرت اور انا کی تسکین تو دے سکتا ہے، لیکن اس کے بعد جو سکوت دل پر چھا جاتا ہے، وہ سکوت انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ نہ چین باقی رہتا ہے، نہ سکون، نہ محبت۔

اصل طاقت انتقام لینے میں نہیں، بلکہ اس انتقام کو ختم کرنے میں ہے۔ جو لوگ صلح کر کے آگے بڑھتے ہیں، وہی سکون پاتے ہیں۔ ورنہ دشمنی اور خون کا یہ کھیل نسلوں تک پھیلتا ہے، اور ہر آنے والا لمحہ مزید بربادی کی خبر لاتا ہے۔

مائد کی ماں اکثر کہا کرتی کہ اس قتل و غار سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔
“بدلے کی آگ کبھی کسی کا پیٹ نہیں بھرتی۔ یہ صرف لاشیں چھوڑتی ہے۔اور ماؤں کی گودے اجاڑ دیتی ہے۔”

مائد خان ایسا نہیں تھا مگر اس کا معصوم بھائی بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔اس لیے اس کے نزدیک بدلہ لینا لازم تھا۔ مگر شاید اللہ نے مورے کی دعاؤں کو سنا، اور یوں یہ خون کا سلسلہ رک گیا۔

✦✦✦ ✍︎ ✦✦✦

(کچھ مہینوں بعد )
ہاسپٹل میں اس وقت ماحول ہلچل بھرا اور سنسنی خیز تھا، اور زیغم سلطان کی سانسیں جیسے رک گئی ہوں۔ مہرو نساء کو اپریشن تھیٹر میں لے جایا جا چکا تھا کیونکہ نارمل ڈلیوری ممکن نہیں تھی؛ وہ کافی کمزور تھی اور ڈاکٹر نے فوری اپریشن کرنا مناسب سمجھا۔

دانیا بھی پہنچ چکی تھی اور اپنے بھائی کو گھبرا ہوا دیکھ کر ہنسی چھپانے کی کوشش کر رہی تھی، جبکہ مائد، زرام اور فیصل کے لیے یہ منظر غیر معمولی تھا۔انہوں نے آج تک زیغم کو اتنا پریشان اور خوفزدہ کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ملیحہ ابھی نہیں پہنچی تھی، اور رومی ڈاکٹر کے ہمراہ تھیٹر میں داخل ہو گئی تھی۔
سب کی نظریں آپریشن تھیٹر کے دروازے پر جمی ہوئی تھیں، اور پھر آخر وہ لمحہ آ گیا۔
°°°°°°°

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *