Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A. Episode :28

صلیب سکوت
از حیات ارتضیٰ S.A
قسط نمبر:28
═══════❖═══════
روشانے کے بدلتے رویے کو دیکھ کر آریان اور عبیرہ دونوں حیران رہ گئے۔ کبھی جو روشانے عبیرہ کے وجود کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھی، اب وہ اتنی نرمی اور محبت سے پیش آ رہی تھی کہ نہ چاہتے ہوئے بھی عبیرہ اس کی گرویدہ سی ہو کر رہ گئی۔
شروع میں عبیرہ کو لگتا تھا کہ روشانے کی محبت محض دکھاوا ہے، مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ اسے یقین ہونے لگا کہ روشانے واقعی بدل چکی ہے۔ اس کا پیار اتنا بڑھ گیا تھا کہ وہ عبیرہ کو اپنی بیٹی سمجھنے لگی۔
روشانے روزانہ چھوٹے چھوٹے کاموں میں اس کی مدد کر دیتی، کبھی اپنے ہاتھوں سے بالوں کی مالش کرتی، اور تو کبھی آریان کے آفس سے گھر آنے سے پہلے عبیرہ کے ساتھ مل کر کھانا تیار کروا دیا کرتی۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ عبیرہ روشانے کے بدلے ہوئے انداز پر حیران ہوتی، مگر آہستہ آہستہ اس کے ساتھ جڑتی چلی جا رہی تھی۔ آریان جب آفس جاتا، عبیرہ اور روشانے اکثر ایک ساتھ وقت گزارتی۔ وہ ہنستے، کھیلتے، کھانا بناتے اور چھوٹے چھوٹے لمحوں کی خوشیوں کو محسوس کرتے۔
روشانے نے خود سے قدم بڑھاتے ہوئے عبیرہ کو آریان کے ساتھ شاپنگ اور گھومنے پھرنے کے لیے بھیج دیا، جیسے خود کو اس کی خوشیوں کا حصہ بنا لیا ہو۔ ہر آنے والا دن عبیرہ کی زندگی میں پہلے سے زیادہ روشن لگنے لگا تھا۔
آریان کی حیرت کی انتہا نہ تھی۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ روشانے اتنی آسانی سے عبیرہ کو قبول کر لے گی، مگر روشانے نے نہ صرف اسے تسلیم کیا بلکہ اپنی محبت اور اعتماد بھی دے دیا۔
آریان نے روشانے کی رضا پاتے ہی ہر دن کو خصوصی بنا دیا۔ وہ عبیرہ کی خوشیوں میں شریک رہتا اور اسے محسوس کراتا کہ اس کی زندگی کا ہر لمحہ اہم ہے۔
وقت گزرتا گیا اور روشانے کے جانے کا دن قریب آ گیا۔ عبیرہ دکھی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ روشانے کی غیر موجودگی میں گھر میں اکیلی رہنا مشکل ہوگا، کیونکہ روشانے کی محبت اور موجودگی اس کی زندگی کو خوشیوں سے بھر دیتی تھی۔

آریان نے عبیرہ کو گلے لگا کر نظروں سے تسلی دی اور کہا کہ وہ ہمیشہ اس کے ساتھ ہیں، اور زندگی کے خوشگوار لمحے ہمیشہ جاری رہیں گے۔
روشانے کا رویہ واقعی قدرت کا کرشمہ لگ رہا تھا۔ وہ محبت اور خیال کی ایسی مثال بن گئی تھی جو عبیرہ کے لیے زندگی کو معنی دیتی تھی۔ آریان کی محبت اور اعتماد نے عبیرہ کے دل کو سکون اور خوشی سے بھر دیا، اور وہ اپنی زندگی کے ہر لمحے کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگی۔دونوں کو خوش دیکھ کر روشان یں بھی خوش تھی۔۔۔وہ اب پرسکون سے ہو کر جانے کو تیار کھڑی تھی۔۔۔

روشانے عبیرہ کی طرف نگاہ ڈالتی، آنکھوں میں ہلکی چمک اور لبوں پر نرم مسکراہٹ کے ساتھ۔ ایک قدم آگے بڑھ کر عبیرہ کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی،
“میری بیٹی کا خیال رکھنا… اور خبردار، اگر اسے ذرا سا بھی پریشان کیا تو…‘”
وہ رک گئی، کان کے قریب جھک کر ہلکی طنزیہ آواز میں کہا۔
“عبیرہ، اس کے کان کھینچ کے رکھنا… ورنہ یہ جتنا خوبصورت ہے، اس کے لیے گرل فرینڈ بنانا کوئی مشکل کام نہیں۔”
عبیرہ نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلایا اور آریان کی طرف دیکھا۔

“روشانے… کچھ تو ترس کھائیں میری ذات پر… یہ تو پہلے مجھ پر یقین نہیں کرتی تھی…”آریان نے مسکراتے ہوئے کہا،
“قسمیں کھا کر اپنی سچائی ثابت کی، بتایا ہے کہ میں ایک باعزت لڑکا ہوں… اور اب آپ نے پھر سے اس کو ہوا دے دی ہے۔ آپ کے جانے کے بعد پتہ نہیں کیا کرے گی…”
لفظوں کے درمیان اس کی شرارت چھپی ہوئی تھی، جسے سن کر عبیرہ بھی ہنسی چھپائے بغیر نہیں رہ سکی۔
’’اتنے تم معصوم نہیں ہو جتنے بننے کی کوشش کر رہے ہو، عبیرہ بیٹا…‘‘ روشانے نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا،
’’اس کی یہ مصنوعی معصومیت پر مت جانا۔ میں تمہیں بتاتی ہوں، اس کا لائف سٹائل ہمیشہ سے کیسا رہا ہے۔‘‘
’’اس کی ہمیشہ سے بہت ساری گرل فرینڈز رہی ہیں۔ سکول لائف، کالج لائف، یونیورسٹی لائف… اور بزنس کی دنیا میں آ کر تو اس نے انتہا کر دی تھی۔ ہر روز اس کے ساتھ ایک نئی لڑکی نظر آتی تھی۔‘‘

روشانے کی باتیں ختم ہوتے ہی آریان کے چہرے سے ہنسی غائب ہو گئی۔ عبیرہ کی انگارے بھری نظریں دیکھ کر، وہ واقعی گھبرا گیا تھا ۔

’”عبیرہ… یار ایسے مت دیکھو،”آریان نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ ’’سچ کہوں تو بس نگاہوں کی حد تک ہی دل لگی ہوا کرتی تھی، اس سے آگے کبھی کچھ نہیں تھا…”
“ہر ایک کی قسمت تم جیسی کہاں ہوتی ہے، جس پر آریان خان دل سے فدا ہو جائے۔ اور یہ محبت تو ہر گزرتے دن کے ساتھ پہلے سے زیادہ بڑھتی جا رہی ہے۔”
“ان حسیناؤں سے تو میں ایک ہی دن میں اُکتا جایا کرتا تھا…
عبیرہ کے چہرے پر چھپی ناراضگی کو دیکھ کر، آریان کے لبوں پر گھبراہٹ کے ساتھ ہنسی کی چھنکار آئی تھی۔۔
“آپ کو شرم نہیں آتی، پھوپھو… کے سامنے کچھ بھی بولے جا رہے ہیں؟” عبیرہ نے ہچکچاتے ہوئے کہا، آواز میں چھوٹی سی جھنجھلاہٹ اور شرمندگی تھی۔

“نہیں، مجھے پریکٹیکل باتیں کرتے ہوئے شرم نہیں آتی…”
آریان اپنی جگہ کھڑا رہتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کاندھوں کو تھوڑا سا اُچھکایا، اس کے نزدیک معمولی بات تھی۔
عبیرہ کی نظر ایک پل کے لیے آریان پر ٹھہری۔ بلیک شرٹ، ہلکی مسکراہٹ، اور وہ شوخ انداز،بس ایک جھلک، اور دل کو چھو گیا۔
آریان اپنی جگہ کھڑا تھا، ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کاندھوں کو تھوڑا سا اُچھکاتا ہوا۔ روشانے اس پر نظر ٹکائے کھڑی تھی، اور اس کی نظروں میں گھبراہٹ صاف تھی، مگر وہ اسے لگاتار چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔

“اوکے، اب مجھے اجازت دو، ورنہ میری فلائٹ لیٹ ہو جائے گی… عبیرہ اپنا بہت سا خیال رکھنا، اور مجھے بہت جلد دادی بننے کی خوشخبری سنانی ہے…”
وہ جاتے ہوئے عبیرہ کو پیار سے گلے لگا کر ماتھا چومتی رہی۔ عبیرہ شرم سے لال پڑتے ہوئے نظریں جھکا گئی۔
آریان، جو پہلے سے ہی روشانے کی ہینڈ کیری ہاتھ میں پکڑے ایئرپورٹ چھوڑنے کے لیے تیار کھڑا تھا، عبیرہ کی طرف شرارتی نظروں سے دیکھتا رہا۔

“انشاءاللہ، انشاءاللہ… جیسے ہی جہاز لینڈ کرے گا، خوشخبری آپ تک پہنچا دی جائے گی۔”
آریان کی نظروں میں شرارت تھی، وہ عبیرہ کی طرف دیکھتے ہوئے بول رہا تھا۔ عبیرہ نے پلکیں نیچی کر لیں، مگر دل کی دھڑکن تھوڑا تیز ہو گئی۔اس کے فوراً جواب پر روشنی کو ہنسی آگئی تھی۔

“اپنا بہت خیال رکھیے گا۔ ہم آپ کا انتظار کریں گے۔ بہت جلد آپ ہمارے پاس پھر سے رہنے کے لیے آئیں گی، ہم آپ کو بہت مس کریں گے…”
عبیرہ روشانے کو گلے لگا کر بولی، آنکھوں میں نمی چھپی ہوئی۔
“اوکے میرا بچہ، انشاءاللہ میں ضرور آؤں گی۔ اور یاد رکھنا، مجھے بہت جلد خوشخبری چاہیے…”

“جی…”عبیرہ شرم سے نظریں جھکا گئی۔

“جی جی، انشاءاللہ آپ پاکستان پہنچیں، ہم آپ کو یہ گڈ نیوز دیں گے۔ ایسی باتوں کے لیے آپ مجھ سے رابطہ کیا کریں…”آریان خان نے بیچ میں پھر سے لقمہ دیا ۔۔
عبیرہ کے چہرے پر شرم تھی،

“حد ہے عبیرہ اس میں شرمانے والی کیا بات ہے… میں تو حیران ہوں کہ آریان خان کی بیوی ہو کر اتنی شرمیلی کیسے ہو سکتی ہو۔وہ کھل کھلا کر ہنسا تو عبیرہ اور بھی شرمندہ سی ہو گئی۔۔

“وہ ٹھیک ہے، تم بہت بے شرم ہو…”
روشانے ہنستی ہوئی بولی،

“میں بے شرم نہیں ہوں، پریکٹیکل ہوں، اور انشاءاللہ آپ کو جلدی خوشخبری سننے کو ملے گی …”
آریان عبیرہ کی طرف دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ عبیرہ شرم سے لال ہو گئی۔

“چلو، گندا بچہ…”
روشانے ہنستے ہوئے الوداع کہتی اپارٹمنٹ سے باہر نکل گئی۔

“آپ کتنے بے شرم ہیں… بولنے سے پہلے تھوڑا سوچ لیا کریں۔”
عبیرہ دروازہ بند کرنے کے لیے اس کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی، جبکہ روشان جا چکی تھی۔

“کیا بے شرمی کی ہی ہے؟ اب وہ دادی بننا چاہتی ہیں…”
آریان نے اس کا ہاتھ تھام کر اس کی نظروں میں جھانکا۔ عبیرہ نے فوراً نظر جھکا لی، دل کی دھڑکن تیز۔
“جائیں، آپ کو لیٹ ہو رہا ہے…”
عبیرہ نے شرماتے ہوئے اسے گھما کر دروازے کے قریب لے جاتے ہوئے ہلکا سا ہاتھ اس کے کاندھوں پر رکھا۔

“اچھا اچھا، جا رہا ہوں…”
آریان ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔ “ظالم لڑکی، ایسے کون شوہر کو دھکے دے کر نکالتا ہے؟ اپنا خیال رکھنا، مجھے آتے ہوئے لیٹ ہو جائے گا، مجھے ایک ضروری میٹنگ میں جانا ہے…”
اس کے ماتھے پر پیار بھرا لمس۔ عبیرہ نے پلکیں نیچی کر لیں،
“کھانا وانا بنانے کی زحمت مت کرنا۔ میٹنگ سے واپس آ کر ڈنر پر چلیں گے… تیار ہو کر میرا انتظار کرنا۔”
آریان آنکھوں پر گوگل لگائے، عبیرہ کو دیکھ کر جا رہا تھا۔
“اوکے۔۔۔”عبیرہ نے ہاتھ ہلا کر بائے کہا اور دروازہ بند کر دیا۔
اب بھی آریان کے محبت بھرے لمس کو اپنے ماتھے پر محسوس کر رہی تھی۔
خود سے شرما کر آنکھیں بند کیے، دروازے سے پشت لگائے کھڑی رہی۔
لمحہ بھر کے لیے مسکراتی ہوئی عبیرہ ہال میں پہنچی اور صوفے پر بیٹھ گئی۔ اس کا چہرہ اچانک اداس ہو گیا، جیسے کسی پرانی یاد نے اسے چھو لیا ہو۔ آنکھوں میں نمی جھلکنے لگی اور وہ اپنے گھر والوں کی یاد میں کھو گئی۔ یادیں اس کے چہرے پر ہلکی روشنی کی طرح جھلک رہی تھیں، اور دل کے کسی کونے میں خوشی کے ساتھ دکھ بھی اُبھرا—آریان کی محبت اسے محسوس ہو رہی تھی، مگر اپنے گھر والوں کی یاد اسے ابھی مکمل طور پر چھوڑ نہیں پائی۔
“ماں باپ کی محبت کبھی نہیں کمزور ہوتی، اور خونی رشتوں کی محبت فاصلوں کے بوجھ تلے بھی دبتی نہیں۔”

═══════❖═══════

یارم صوفے پر نیم دراز تھا۔ رات کی تھکن ابھی تک سانسوں میں بسی ہوئی تھی، فجر کے بعد آنکھ لگی تو نیند نے اسے جکڑ لیا تھا۔
دروازہ آہستہ سا کھلا، اور لمحے بھر کے لیے ٹکرائی ہوئی خاموشی میں ایزل رک گئی۔
سوئے ہوئے یارم کو دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ اُبھری۔ چند قدم چل کر وہ قریب آئی، ذرا سا جھکی… اتنا کہ اس کی سانس یارم کے چہرے سے ٹکرائی۔

“گڈ مارننگ…””نرم سی آواز کانوں میں اس طرح گھلی کہ ہر حرف دل کی دھڑکن سے ہم آہنگ لگنے لگا۔”
یارم نے پلکیں بھینچ کر، آہستہ سے آنکھیں کھلیں۔ چند لمحے لگا کہ یہ حقیقت نہیں خواب ہے۔ وہ تکیہ کمر کے پیچھے رکھ کر سیدھا ہوا، چہرے پر ہلکی سی سست مسکراہٹ تھی ۔
“خیریت…بڑی خوش نظر آرہی ہو ….”
آواز میں نیند کی سستی تھی۔
یارم کی نظریں بے اختیار اس پر رک گئیں، جیسے ہر لمحہ کو دل میں اتار لینا چاہ رہا ہو۔ اس کا دل اچانک تیز دھڑکنے لگا، ہر بار الفاظ کے پیچھے چھپی اس کی معصوم مسکان کو محسوس کر رہا تھا۔ پیلا فراک، سفید دوپٹہ، اور وہ نکھری ہوئی رنگت… جیسے صبح خود کمرے میں آ کھڑی ہوئی ہو، اور یارم کے دل کے ہر گوشے میں روشنی پھیلا گئی ہو۔
ان کے درمیان خاموشی میں یارم نے محسوس کیا کہ وہ لمحہ کچھ الگ تھا۔بس وہ اور ایزل، اور ایک چھوٹی سی خوشبو بھری خوشی، جو نہ کہی گئی، نہ چھپی، بس محسوس کی گئی۔

ایزل کوئی جواب نہ دے سکی۔ بس ہلکی سی مسکان، جو بات کو لفظوں میں باندھنے کی ضرورت نہیں دیتی تھی۔ ایک قدم پیچھے ہٹی، دوپٹہ ذرا سا سنبھالا، نظریں کچھ دیر ٹہر گئیں پھر واپس یارم پر
آ گئیں۔
یارم نے یہ توقف محسوس کیا۔ معمول سے ایک لمحہ زیادہ نظریں اس کے چہرے پر جمیں۔ وہ کچھ کہنے والا تھا، مگر ایزل کا نظریں چرانا اسے خاموش کروا گیا۔ جیسے خود بھی اس ٹھہراؤ سے گھبرا گئی ہو۔
آواز میں ہلکی سی شوخی تھی، آنکھوں میں احتیاط۔ یارم نے مسکرا کر سر جھٹکا، خود کو واپس حال میں لے آیا۔ گھڑی پر ایک نظر ڈالی، پھر ایزل کی طرف دیکھا۔
“آج سنڈے ہے…”
بس اتنا ہی کہا، مگر لہجے میں بے نیازی کے بجائے نرم خوشی چھپی ہوئی تھی۔
ایزل کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ کوئی بڑا لمحہ نہیں، بس معمولی نرمی، جو خاموشی سے رشتے میں جگہ بنا رہی تھی۔
یارم نے ہلکا سا گلا کھنکارا، نظریں دوبارہ ایزل کی طرف اٹھیں، ٹھہراؤ کے ساتھ۔
“میں نے پوچھا خیریت ہے… کافی خوش نظر آرہی ہو۔” لہجہ سپاٹ رکھنے کی کوشش میں بھی نرم سا تھا۔

“آپ کو پتہ ہے… باہر بارش ہو رہی ہے۔”
ایزل نے کھڑکی کی سمت اشارہ کیا، آواز میں وہی بے ساختہ خوشی، جو مسکراہٹ بن کر ہونٹوں پر آ جاتی تھی۔
بارش کی بوندیں ٹیرس پر چھن چھن کر پڑ رہی تھیں، ہوا کے نرم جھونکے بالوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ اسلام آباد کے پہاڑ دھند کی ہلکی چادر میں لپٹے، اور دور دور تک چھوٹے روشنی کے دھبے، جیسے شہر خود بھی اس خوشی کا حصہ بن گیا ہو۔

یارم نے کھڑکی کی طرف سرسری سی نظر ڈالی، پھر واپس ایزل کو دیکھا۔ ہونٹوں پر وہی ہلکی مسکان، جو بے نیازی کا گمان دیتی تھی، مگر پوری طرح بے نیاز نہیں تھی۔

“تو اس میں کون سی نئی بات ہے، ایزل؟”
“اسلام آباد میں تو آئے دن بارش ہوتی رہتی ہے۔”
ایزل نے ناک سکیڑی، ہونٹ آگے کو آئے۔ دونوں بازو سینے پر باندھ لیے۔

“کسی بات پر خوش بھی ہو جائیں کریں۔؟”
آواز میں ہلکی ناراضی گھلی ہوئی تھی، اور وہ واقعی کسی ضدی بچی جیسی لگ رہی تھی، جو چاہتی ہو کہ سامنے والا اس کی خوشی میں شریک ہو۔

یارم نے اچانک لہجے میں غیر فطری خوشی بھر دی۔
“ارے واہ… باہر بارش ہو رہی ہے!”
پھر ذرا سا رُک کر، مسکراہٹ قابو میں رکھنے کی ناکام کوشش کے ساتھ بولا،
“کیا……. زبردست موسم ہے، کتنے مہینوں بعد ایسی بارش نصیب ہوئی ہے۔ مجھے تو بارش بے حد پسند ہے۔”
ایزل نے گھور کر دیکھا، آنکھیں سکیڑیں، ناک ہلکی سمیٹی۔ سمجھ گئی… یہ خوشی سچی نہیں، شرارت تھی۔
“بہت ہی فضول جوک ہے…”

یارم نےقہقہہ لگایا۔ ایزل نے پہلی بار اسے اس طرح سے قہقہ لگا کر ہنستے ہوئے دیکھا، ایزل کی ناراضگی نرمی سے پگھل رہی تھی۔ وہ بےساختہ نظریں اس کے چہرے پر جمائے کھڑی تھی۔

“آپ… ہنستے ہوئے کتنے خوبصورت لگتے ہیں…”
ہلکی سی سرگوشی، اور لبوں پر بے ساختہ مسکان… جیسے وہ لمحے میں خود بھی کھو گئی ہو۔

“اچھا… آج سے پہلے کسی نے بتایا نہیں کہ میں ہنستا ہوا خوبصورت لگتا ہوں۔”
ایزل کی خوشی دیکھ کر یارم کی نظریں اس پر جم گئیں۔ ہر چھوٹی جھلک۔۔۔ہلکی مسکان، پلکوں کی چمک، آنکھوں میں چمکتی شرارت۔۔۔اس کے دل تک محسوس ہو رہی تھی۔ وہ بس اسی لمحے میں موجود رہا، بیچ میں کچھ بھی نہ آنے دیا جو اس کی ہنسی چھین سکے۔
ایزل کے لبوں پر وہ بے ساختہ مسکان، ہلکی سی سرسراہٹ کی طرح، یارم کے دل میں اتر رہی تھی۔ لمحے کی شدت نے سب کچھ دھیرے سے سست کر دیا، جیسے وقت خود رک گیا ہو، اور صرف وہ دونوں، اور ان کی خوشیاں باقی رہ گئی ہوں۔

یارم نے قدم آہستہ بڑھائے، وہ قریب آیا، لیکن بغیر کسی شور یا حرکت کے،صرف اس لمحے کے ساتھ جڑنے کے لیے۔ ہر قدم، ہر نگاہ، ہر سانس، اس کے دل کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ لگ رہی تھی۔

“خوش رہا کرو… تمہاری ہنسی،” اس نے آہستہ کہا، “مجھے یاد دلاتی ہے کہ زندگی کتنی قیمتی ہے۔”
ایزل کی نظریں فوراً اس کی آنکھوں میں جا ٹھہریں، لبوں پر چھوٹی سی مسکان، دل کی دھڑکن تھوڑی تیز۔ وہ لمحے میں کھو گئی، ایزل کے لیے یہ لمحہ بہت قیمتی تھا۔۔۔ایک خاموش خوشی، جو الفاظ میں بیان کیے بغیر،محسوس کی جا رہی تھی۔

“اگر آپ اتنے پیار سے کہو… تو میں تو سوتے ہوئے بھی ہنستی رہوں گی۔”
وہ دیوانوں کی طرح مسکرائی، یارم کے قدم خود بخود قریب آئے تھے ، پہلی نزدیکی کی خوشی اس کے ایزل کے چہرے پر جھلک رہی تھی۔

“نہیں، اب اتنی بھی بات دل پر لینے کی ضرورت نہیں… اگر تم سوتی ہو ہنسو گی تو میرے لیے تھوڑا مشکل ہو جائے گا،یہ تو ڈر کے مارے نیند ہی نہیں آئے گی “
یارم شرارت بھرے لہجے میں بولا۔

بارش کی نرم بوندیں ٹیرس کے کنارے سے ٹپک رہی تھیں، ہوا کے جھونکے بالوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ اسلام آباد کے پہاڑ دھند کی چادر میں لپٹے، جیسے پورا شہر اس لمحے کی خوشی کا گواہ بن رہا ہو۔

“آپ سے میری خوشی برداشت نہیں ہوتی…”
ایزل کو تھوڑا برا لگا، مگر ناراضگی سخت نہیں تھی۔
وہ ٹیرس کی جانب بڑھنے لگی کہ یارم نے پلٹے بنا اس کا ہاتھ تھام کر روک لیا۔
اسی وقت یارم کے فون پر رنگ ٹون کی آواز ابھری ،یارم کے ہاتھ کی گرفت تھوڑی نرم ہوئی، اور ایزل اپنا بازو جھٹکتے ہوئے چھڑوا کر ٹیرس پر چلی گئی۔
“پاگل لڑکی…” یارم ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ منہ میں بڑبڑایا اور فون کی طرف بڑھ گیا۔
خاموشی میں بارش کی بوندیں اور پہاڑوں کی نرم دھند جیسے اس ادھورے لمحے کے مکمل ہونے کے انتظار میں کھڑی تھی۔۔
وہ جا چکی تھی، مگر ضروری کال سنتے ہوئے بھی بے اختیار یارم کی نظریں بار بار ٹیرس کے شیشے کی جانب اٹھ رہی تھیں۔ بوندیں شیشے پر پھیل چکی تھیں، اور اس پار ایزل اب صاف دکھائی نہیں دے رہی تھی۔
═══════❖═══════

یارم کے پاس سے نکلنے کے بعد وہ کب سے ٹیرس پر بارش میں کھڑی تھی، اسے خود اندازہ نہیں تھا۔
بارش تو ویسے ہی اسے بہت پسند تھی، اور آج یارم کے اُس مختصر سے قریب آنے نے اس کی خوشی کو اور گہرا کر دیا تھا۔
دل چاہ رہا تھا کہ وہ بارش میں سبز پہاڑیوں کو بتائے کہ آج اسے کتنی خوشی ملی ہے۔
ایک چھوٹا سا لمحہ، مگر اس کے دل میں دیر تک ٹھہر جانے والا۔
کاش کوئی ہوتا جس سے وہ یہ خوشی بانٹ سکتی۔
کوئی جسے بتا سکتی کہ آج دل کس قدر ہلکا اور خوش ہے۔
مگر وہاں اس کے ساتھ صرف بارش تھی۔
وہ اپنی خوشی خود ہی محسوس کرنے لگی۔
بارش میں آہستہ آہستہ گھومتی، پاؤں سے پانی اچھالتی، بے اختیار مسکرا دیتی۔
ہتھیلیوں میں بوندیں بھر کر چہرے پر ڈالتی، جیسے خود کو یقین دلا رہی ہو کہ یہ سب حقیقت ہے۔
بارش میں بھیگے بال کمر پر بکھر گئے تھے، اور بوندیں خاموشی سے ٹپک رہی تھیں۔
وہ اس لمحے میں اتنی کھوئی ہوئی تھی کہ یہ بھی محسوس نہ کر سکی—
کہ یارم، جو اسے دیکھنے کے لیے واپس آیا تھا،
کچھ فاصلے پر کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔

بارش میں کھیلتی ہوئی ایزل کو دیکھ کر یارم ایک لمحے کو ٹھہر گیا۔
اس کی ہنسی میں ایسی بے فکری تھی جو دل میں ہلکی سی چبھن بن گئی۔
کیا وہ واقعی درست کر رہا ہے؟
کیا اسے اس خوشی سے دور رکھنا، جس کی وہ حق دار ہے؟
یہ سوال بے اختیار اس کے ذہن میں ابھرا، اور وہ جانتا تھا کہ اس کا جواب اتنا آسان نہیں۔خود سے اٹھنے والے اس سوال سے یارم نے نظریں چرا لیں۔
وہ کب سے دروازے پر کھڑا اسے دیکھ رہا تھا، پلکیں جھپکنا تک بھول چکا تھا۔
سامنے، وہ شرارتی، بچوں جیسی ذہنیت والی لڑکی بارش میں بھیگتی کھیل رہی تھی۔
گھومتے ہوئے اچانک اس کی نظریں یارم پر پڑیں، جو بس اسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا۔
“آپ کب آئے؟”
وہ خود کو نارمل دکھاتے ہوئے اس سے پوچھ رہی تھی۔
“میں اسی وقت آیا تھا، جب تم پاگلوں کی طرح بارش میں نہانے میں مگن تھی،” جواب دیتے ہوئے یارم نے ہاتھ کے اشارے سے اسے اندر بلایا۔
“فوراً اندر آؤ، ٹھنڈ لگ جائے گی… اس بدلتے موسم میں کون بے وقوف نہاتا ہے۔”
ایزل نے بھیگے بالوں کو ہلکا سا جھٹکا دیا۔ بارش کی باریک بوندیں اس کے چہرے سے پھسل کر زمین پر گرنے لگیں۔
“نہیں، مجھے ابھی بارش میں نہانا ہے،” وہ مسکرا کر بولی۔
“بارش مجھے بہت پسند ہے…۔”

“ایزل…”
اس نے اس کا نام ذرا کھینچ کر لیا، نظروں کا زاویہ معمول سے تھوڑا سخت ہو گیا۔
“فوراً اندر آؤ، ایک بار کہی ہوئی بات سمجھ میں نہیں آتی؟ ٹھنڈ لگ جائے گی، بیمار ہو جاؤ گی۔”
“پلیز…” ایزل نے بھیگے بالوں کو پیچھے کیا، بارش کی بوندیں اس کے ماتھے سے پھسل گئیں۔
“تھوڑی دیر بارش میں نہانے سے کوئی بیمار نہیں ہوتا۔”
“بہت دنوں بعد نہا رہی ہوں، نہا لینے دیں نا…”
وہ بچوں کی طرح منہ بنا کر بولی، اسے واقعی بارش میں رہنا تھا۔
یارم نے ایک لمحہ اسے دیکھا، پھر قدرے سنجیدہ ہو گیا۔
“میں نے کہا اندر آؤ۔ بارش تیز ہے اور موسم بدل رہا ہے۔ اس موسم میں نہانا مطلب بیمار ہونا ہے۔”
“اور تمہارے بیمار ہونے کا مطلب یہ کہ تمہارے سسر کو لگے گا میں تمہارا خیال نہیں رکھتا۔ فوراً اندر آؤ۔”
آخر میں وہ قدرے جھنجھلا کر بولا،
“ہر وقت بچوں جیسی ضد کرنا ضروری نہیں ہوتا۔”
وہ جانتا تھا کہ اس کی یہ سختی اصل میں ایزل کے لیے نہیں تھی، بلکہ اپنے اندر اٹھتے ان سوالوں سے بچنے کی ایک کوشش تھی… اور اسی بے سمتی میں اس کی جھنجھلاہٹ بے اختیار اس معصوم پر اتر رہی تھی۔
کتنے کھڑوس ہیں آپ…
نہ خود انجوائے کرتے ہیں، نہ مجھے کرنے دیتے ہیں… ظالم انسان…
وہ بیزار سا منہ بناتے ہوئے پاؤں پٹختی ہوئی یارم کے پاس سے آندھی کی طرح گزری۔
چپل نہ ہونے کی وجہ سے آف وائٹ، چمچماتی ٹائلوں پر اس کا پاؤں پھسلا، اور وہ خود کو سنبھال ہی نہ پائی۔
دھڑام…
فرش پر گرنے کی آواز کے ساتھ اس کی چیخ پورے گھر میں گونج اٹھی۔
یارم جو ابھی تک اس کی جھنجھلاہٹ پر وہیں کھڑا ہلکی سی مسکراہٹ لیے تھا، آواز سنتے ہی گھبرا کر پلٹا۔
دو ہی لمحوں میں وہ ایزل کے پاس تھا۔
ایزل فرش پر بیٹھی اپنے پاؤں کو دونوں ہاتھوں سے پکڑے درد سے کراہ رہی تھی۔
“تم دھیان سے کیوں نہیں چل سکتی؟”
وہ اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا، نظریں اس کے پاؤں پر جمی تھیں۔
آواز میں سختی کم اور گھبراہٹ زیادہ تھی۔
“آپ پہلے مجھے ڈانٹ لیں…”
وہ آنسوؤں کے ساتھ شکوہ کر گئی۔
“یہی تو آپ کے لیے سب سے ضروری ہوتا ہے۔”
“یہ تو نہیں کہ بیوی کو پیار سے گود میں اٹھا کر بیڈ تک لے جائیں اور دیکھیں کہ چوٹ تو نہیں لگی…”
ہونٹ کپکپا رہے تھے، درد اور ناراضی ایک ساتھ بول رہی تھی۔
“مگر نہیں… آپ تو ٹھہرے کھڑوس، پہلے ڈانٹنا شروع کر دیتے ہیں۔”
“میں کھڑوس ہوں؟”
یارم نے اسے گھور کر دیکھا، مگر لہجے میں وہ سختی نہ تھی۔
“یہ بعد میں پوچھ لیجئے گا…”
وہ تکلیف سے بولی۔
“پہلے مجھے اٹھائیں اور روم میں لے کر چلیں، میرے پاؤں میں بہت درد ہو رہا ہے…”
“واہ بابا… کیا ہی انتخاب کیا ہے میرے لیے…”
“ہر وقت انٹرٹین کرنے کو یہ عجوبہ بیوی دے دی ہے۔”
یہ سب وہ دل ہی دل میں سوچتے ہوئے، ہلکی آواز میں بڑبڑا رہا تھا،
مگر ہاتھوں کی گرفت میں ایزل کا خیال اب بھی پوری طرح موجود تھا۔

“کیا کہا آپ نے؟”
ایزل نے چونک کر پوچھا۔
یارم کی بڑبڑاہٹ میں کہے گئے لفظ اسے صاف سنائی نہیں دیے تھے،
مگر لہجے کا رخ اس کے خلاف تھا… اس بات کا یقین اسے پورا تھا۔

“کچھ نہیں…”
یارم نے بات ٹال دی۔
“میں نے کہا چلو، تمہارا تشریف کا ٹوکرا اٹھا کر روم میں لے کر چلوں۔”
ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا،
“گری تم اپنے شوق سے ہو، مگر سزا کے طور پر اٹھانا مجھے پڑے گا۔”
یہ کہتے ہوئے وہ ایزل کو احتیاط سے گود میں اٹھا کر کھڑا ہوا۔
اس کے قدم بھاری اور محتاط تھے، زمین پر ہر قدم کے ساتھ ہلکی سی آواز گونج رہی تھی۔
وہ دھیرے دھیرے کمرے کی طرف بڑھا۔۔

“اگر میں آپ کے لیے سزا ہوں تو مت اٹھائیں…”
ایزل نے ہلکے سے منہ بنایا۔
“کسی پڑوسی کو بلا لیں مجھے اٹھانے کے لیے۔”
یہ کہتے ہوئے اس نے دونوں ہاتھ یارم کے گلے میں ڈال دیے۔
ایک آنکھ بند تھی، دوسری ذرا سی کھلی، وہ یارم کے چہرے کے تاثرات جانچ رہی تھی۔
درد کم تھا، ڈرامہ زیادہ۔
یارم ایک دم رک گیا۔
“کیا کہا؟”
اس نے اسے گھور کر دیکھا۔
“پڑوسی کو کہوں کہ وہ یارم خان کی بیوی کو آ کر اٹھائے؟”
آواز میں غصہ صاف تھا۔
“یہ لفظ دوبارہ زبان پر آیا نا، تو اچھا نہیں ہوگا۔”

“آپ ہی تو کہہ رہے تھے کہ میں مصیبت ہوں…”
ایزل نے فوراً صفائی دی، آواز اب ذرا نرم تھی۔
“مجھے لگا آپ کو مشکل لگ رہی ہے، اس لیے—”

“بس۔”
یارم نے بات کاٹ دی۔
“بیوی ہو تم میری۔ یہ بات مت بھولنا۔”
وہ اسے احتیاط سے بیڈ تک لے آیا۔
آہستگی سے لٹا کر اس کے پاؤں کے نیچے تکیہ رکھا۔
چہرے پر اب بھی غصے کی سرخی تھی، مگر ہاتھوں میں نرمی آ چکی تھی۔
ایزل کو تب اندازہ ہوا کہ اس کی بات واقعی حد سے آگے نکل گئی تھی۔
“سوری…”
وہ بچوں کی طرح ہونٹ آگے نکال کر بولی۔
“چپ کر کے لیٹ جاؤ۔”
یارم نے مختصر کہا۔
“بام لے کر آتا ہوں۔ اس وقت مجھے غصہ آ رہا ہے، اس لیے خاموشی بہتر ہے۔”
یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔۔

“سو رومانٹک…
سو کیئرنگ…
لو یو، ڈی ایس پی صاحب…
وہ اکیلے میں ہنستے ہوئے دانت نکال کر مسکرائی، جیسے ابھی ابھی کوئی شرارت کامیاب ہوئی ہو۔
دل ہی دل میں سوچتے ہوئے اس کی مسکراہٹ اور گہری ہو گئی۔
ڈی ایس پی صاحب… مجھے کیوں لگتا ہے کہ آپ بہت جلد ایزل کو اپنے دل میں خاصی جگہ دینے والے ہیں؟
وہ آنکھیں بند کر کے دونوں ہتھیلیاں آپس میں جوڑ کر ٹھوڑی کے نیچے لے آئی،
آواز آہستہ تھی، جیسے خود سے بات کر رہی ہو۔
اللہ جی… آج جناب کے بدلے رنگ دیکھ کر کہیں میں خوشی سے مر ہی نہ جاؤں۔
یہ کہتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر وہی نرم سی مسکراہٹ ٹھہر گئی،
جو تب آتی ہے جب دل بہت مطمئن ہو۔

یارم جب کمرے میں داخل ہوا تو ایزل کو اکیلے بیٹھے دیوانوں کی طرح مسکراتے اور خود سے باتیں کرتے دیکھ چکا تھا۔
ایک لمحے کو وہ دروازے کے پاس ہی رکا، ابرو ہلکے سے سکیڑے، جیسے سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو کہ یہ کس کیفیت میں ہے۔

“اگر تمہاری یہ بڑبڑاہٹ والا چیپٹر مکمل ہو گیا ہو…”
وہ آہستہ چلتا ہوا بیڈ کے قریب آیا،
“تو میں پاؤں پر بام لگا سکتا ہوں؟”
ایزل نے چونک کر آنکھیں کھولیں۔
ہاتھ فوراً ہتھیلیوں سے الگ کیے، جیسے پکڑی گئی ہو۔
ہلکی سی شرمندہ مسکراہٹ کے ساتھ اس نے نظریں یارم کے چہرے پر اٹھائیں، پھر فوراً پاؤں کی طرف دیکھنے لگی۔

“جی لگا دیجئے۔۔۔وہ شرماتے ہوئے بولی۔۔۔
یارم بیڈ کے کنارے بیٹھ گیا تھا۔
یارم بیڈ کے کنارے بیٹھ گیا، بام ہاتھ میں تھامے، چہرے پر نرم مگر محتاط سا تاثر تھا،
جو اس کی فکر اور دیکھ بھال کو ظاہر کر رہا تھا۔

بام لگانے کے لیے یارم نے ہچکچاتے ہوئے ہاتھ آگے بڑھایا،
مگر پھر خود کو سنبھالتے ہوئے نرمی سے بام لگایا۔
ایزل کی شرارتی نظریں اس پر جمیں رہیں،
وہ دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ کر بار بار شرمانے کی بہترین اداکاری کر رہی تھی۔
ہر پل اس کی حرکت میں بچوں جیسی بے ساختگی اور ڈرامہ دونوں صاف نظر آ رہے تھے۔
یارم نے نفی میں سر ہلایا، مگر نظریں اسے دیکھتے ہی رک گئیں۔
“قسم سے، تمہیں اُٹھا کر نہ میوزیم میں رکھنا چاہیے…”
وہ گھور کر دیکھتے ہوئے بولا،
“ٹکٹ لگنا چاہیے تمہیں دیکھنے کے لیے۔”

ایزل دانت نکالتے ہوئے ہنسی چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔
“مگر مجھے دیکھنے آئے گا کون؟”
اس کی شرارت ہر زاویے سے واضح تھی، جیسے وہ جانتی ہو کہ یارم ہر پل اسے دیکھ رہا ہے۔

“بہت سے آئیں گے… تم جیسے پاگل، پاگل کو دیکھنے کے لیے…”
یارم نے نرمی سے اس کے پاؤں پر آئیوڈیکس لگاتے ہوئے کہا۔
ایزل کے پورے وجود میں سنسناہٹ دوڑ گئی، مگر وہ ہنسنا نہیں چھوڑ رہی تھی۔
چہرے پر چھوٹی چھوٹی مسکانیں، نظریں بار بار یارم کی طرف اٹھتی اور پھر فوراً ہٹ جاتی تھیں۔

یارم نے نفی میں سر ہلایا، لیکن نظریں اسے دیکھتے ہی جم گئیں، جیسے اپنی فکر اور نرمی کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہو۔

ایزل ہنسی چھپاتے ہوئے آنکھیں چھوٹی بڑی کرتی رہی، اور چہرے پر وہی نرم شرارتی رنگ تھے۔

“اتنی شرمانے کی ضرورت نہیں، تمہارے پاؤں میں تکلیف ہے، اس لیے میں خدمت کر رہا ہوں، تاکہ کل کو تم اپنے سسر سے جا کر یہ نہ کہو کہ میں تمہارا خیال نہیں رکھتا تھا۔”

“ہر بات میں انکل کو بیچ میں مت لایا کریں…”
ایزل نے گھور کر کہا، مگر آواز میں مزاح بھی تھا۔

“انکل تو بیچ میں رہیں گے، آخر انکل نے ہی تو تم جیسا نمونہ میری زندگی میں شامل کیا ہے۔”

“میں نمونہ ہوں…” ایزل نے نرمی سے مگر شرارتی انداز میں جواب دیا۔

“بالکل، اگر نمونے سے بڑی کوئی چیز ہوتی تو تم وہ بھی ہو سکتی تھی…”
یارم نے نرمی سے، مگر جان بوجھ کر باتوں میں الجھا کر آئیوڈیکس لگایا،تاکہ وہ درد محسوس نہ کرے ۔

ایزل کے شرمیلے ردعمل پر ہلکا سا مسکرایا۔
چہرے پر ہلکا سا رنگ اور شرارت کی جھلک تھی،
اور یارم کی نظریں ہر پل اس کے ردعمل پر جمیں رہیں۔
چھوٹی چھوٹی باتوں میں یارم کی نرمی اور ایزل کی شرارتی ہنسی،
ہر لمحے کو خوشگوار اور جاندار بنا رہی تھی۔
ایک نرم سا مزاح، ایک دل کی فکر، اور بے ساختہ خوشی—
یہ سب کچھ ان کے تعلق کو خاموش مگر محسوس ہونے والا خوشگوار رنگ دے رہا تھا۔
═══════❖═══════

میٹنگ ختم ہوتے ہی آریان نے فون ہاتھ میں لیا تھا۔
اسکرین پر عبیرہ کا نام خود بخود ابھر آیا، جیسے دل نے حکم دیا ہو۔لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ چھلکی ۔
کال ملائی…
رِنگ گئی۔
ایک رِنگ…
دوسری…
تیسری…
فون بند ہو گیا۔
اس نے فوراً دوبارہ نمبر ڈائل کیا۔
اس بار بھی وہی خاموشی، وہی خالی رِنگ۔
آریان کے ماتھے پر شکن پڑی۔
دل کے اندر ایک انجانی سی کھٹک نے سر اٹھایا۔
عبیرہ کبھی اس کا فون یوں نظرانداز نہیں کرسکتی، کبھی نہیں۔دل نے گواہی دی ۔

ڈرائیور نے گاڑی آگے بڑھائی تو آریان کی آواز بے اختیار سختی لیے بلند ہو گئی۔
“Go…. Fast

حکم ملتے ہی گاڑی جیسے سڑک کو کاٹتی ہوئی آگے بڑھی۔
ہر گزرتا لمحہ دل کی دھڑکن کو بے قابو کرتا جا رہا تھا۔
وہ بار بار فون دیکھ رہا تھا، جیسے اس بار اسکرین روشن ہو جائے گی… مگر نہیں۔
گھر کے سامنے گاڑی ابھی پوری طرح رکی بھی نہیں تھی کہ وہ دروازہ کھول کر باہر آ چکا تھا۔
قدم تیز تھے، سانس بے ترتیب۔
ہاتھ میں اب بھی فون تھا، جیسے آخری امید وہی ہو۔
دروازے کے سامنے پہنچ کر اس نے بیل دبائی۔
ایک بار…
پھر دوسری بار…
خاموشی۔

وہی دروازہ، جسے عبیرہ اکثر پہلی ہی بیل پر کھول دیا کرتی تھی۔
آریان نے بیل پر ہاتھ رکھا رہنے دیا، جیسے آواز اندر تک پہنچ جائے گی۔
دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
پسینہ کنپٹیوں سے بہنے لگا۔
اس نے بے اختیار دروازے کے ہینڈل کی طرف دیکھا،

“چابی۔
یاد آیا اس کے پاس چابی موجود ہے۔ پھر جیب میں ہاتھ ڈالا۔
چابی گھماتے ہوئے ہاتھ ہلکے سے کانپ رہے تھے۔
دروازہ کھلا اور وہ ایک ہی جھٹکے میں اندر داخل ہو گیا۔

“عبیرہ…”
آواز گھر کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ گئی۔
کوئی جواب نہیں۔
وہ لاؤنج سے کچن کی طرف بڑھا، نظریں ہر طرف بھٹکتی رہیں۔
ہر کمرہ خالی۔
ہر گوشہ خاموش۔
بالکونی کی طرف گیا۔
دروازہ کھولا۔
سکاٹ لینڈ کی تیز، کاٹ دار ٹھنڈی ہوا ایک جھٹکے سے اندر آئی۔
سردی نے اس کے چہرے اور گردن کو چھوا، جس نے لمحہ بھر کے لیے سانس روک دیا تھا۔
فضا میں پہاڑوں سے اترتی ٹھنڈ رچی ہوئی تھی، جو دل تک اتر رہی تھی۔
بالکونی خالی تھی… بالکل خالی۔
اس کے سینے میں جیسے کچھ ٹوٹ سا گیا۔
سانس بھاری ہو گئی۔بے اختیار سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مسئلہ جیسے دل بند ہو رہا ہو

“عبیرہ…”
یہ آواز اب پکار نہیں تھی،
یہ خوف تھا…
یہ وہ ڈر تھا جس کا نام لینے سے بھی دل کانپ جاتا ہے۔
چاروں اطراف میں نظریں دوڑاتے اچانک سے اس کی نظر سامنے رکھ کے ٹیبل پر پڑی۔
آریان نے سانس تھامے، لرزتے ہاتھوں سے ٹیبل کی جانب دیکھا۔
ٹیبل پر پڑا ایک سفید خط اچانک اس کی نظروں سے ٹکرایا، جیسے لمحے میں اس کی دنیا رک گئی ہو۔
کاغذ کے ہلکے پھولے ہوئے کنارے اس کے ہاتھوں میں کانپنے لگے، دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
اس نے کاغذ اٹھایا اور کھولا…جیسے جیسے تحریر پڑھ رہا تھا اس کا دل بند ہو رہا تھا۔

“آریان میں جا رہی ہوں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے…
میں ہمیشہ تم سے دور جانا چاہتی تھی اور آج مجھے موقع مل گیا ہے۔
آخر تم نے مجھ پر بھروسہ کر ہی لیا…
مجھے تم سے نفرت ہے، شدید نفرت…
تم نے مجھ سے میرے گھر والوں کو دور کر دیا اور مجھ سے یہ اُمید لگائی کہ میں تم سے پیار کروں گی، یہ تمہاری غلط فہمی تھی۔
ہمیشہ تم گھر کو باہر سے لاک کر جاتے تھے، میں بھاگ نہیں سکتی تھی، اس کے بعد روشانے کو میرے سر پر چھوڑ جاتے تھے…
سارا دن میرا خیال رکھنے کے لیے اور آج آخر کار مجھے وہ وقت نصیب ہو گیا کہ میں تمہاری قید رہائی پا سکوں۔
بہت کچھ لٹا دیا میں نے، مگر پھر بھی تم سے محبت نہیں کر سکی…
مجھے ڈھونڈنے کی کوشش مت کرنا، تم چاہ کر بھی مجھے ڈھونڈ نہیں سکو گے۔
تم سے شدید نفرت کرنے والی،
(عبیرہ تبریز خان)”

آریان کے ہاتھ کانپ رہے تھے، کاغذ اس کے لیے جیسے بھاری پتھر بن گیا ہو۔
وہ بے دردی سے خط کے ٹکڑے کر چکا، اسے زمین پر پھینکتا، مگر دل اس کا یقین نہیں کر رہا تھا۔
“یہ کیسے ہو سکتا ہے… میری عبیرہ ایسا کچھ نہیں کر سکتی…”
اس کے اندر ایک خلا سا پیدا ہوا، ہر سانس اک کرب میں بدل گیا۔
وہ زمین پر بیٹھ گیا، ہاتھوں میں خط کو پھاڑے ہوئے باقی کاغذ کے ٹکڑے، آنکھیں نم، دل چکرا رہا تھا۔
ہر لمحہ عبیرہ کو کھو دینے کا خوف اسے اندر سے توڑ رہا تھا۔
“عبیرہ… کہاں ہو تم؟ تم میری ہو… صرف میری، آریان خان کی…تمہاری محبت میرا یقین ہے میں نہیں یقین کرتا اس جھوٹی کہانی پر۔”
اپنی ہی آواز کانوں میں گونج رہی تھی، مگر جواب کہیں نہیں تھا۔
گارڈز قریب آئے، مگر آریان نے ہاتھ کا اشارہ کر کے انہیں دور کر دیا۔
اس کا دل نہیں چاہتا تھا کہ کوئی اس حالت میں اسے دیکھے۔
پر حقیقت یہی تھی کہ عبیرہ کو کھو دینے کا خیال اسے ہر گزرتے لمحے کے ساتھ موت کے قریب لے جا رہا تھا۔
═══════❖═══════
گارڈز مسلسل عبیرہ کو ڈھونڈ رہے تھے، مگر دس گھنٹے گزرنے کے باوجود کوئی سراغ نہیں ملا۔

ہر کمرے، ہر راہداری خالی، اور عبیرہ کی ہنسی، اس کے اشارے جیسے ہوا میں تحلیل ہو گئے ہوں۔
آریان کی آنکھوں میں نیند کی کوئی جھلک نہیں تھی۔ کھانے پینے کی کوئی چیز اس کے لیے اہم نہیں رہی۔ ہر لمحہ دماغ میں ایک ہی سوال تھا: عبیرہ کہاں ہے؟ کیا وہ واقعی اسے چھوڑ کر چلی گئی، یا کچھ ایسا ہوا جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا؟

وقت رک سا گیا تھا۔ کمرے کی خاموشی میں صرف اس کی دھڑکن گونج رہی تھی، جو ہر لمحے تیز اور بے چین ہوتی جا رہی تھی۔ دل امید کے لیے تڑپ رہا تھا، مگر دماغ ہر ممکن خطرے کی نشاندہی کر رہا تھا۔ اور اس سب کے درمیان ایک حقیقت ناقابلِ انکار تھی۔

دل یہ قبول کرنے کو تیار نہیں تھا کہ وہ اسے چھوڑ کر جا سکتی ہے، ماننے کو تیار نہیں تھا کہ دھوکہ دے سکتی ہے، اور برداشت نہیں کر پا رہا تھا کہ اس کی محبت جھوٹی ہو سکتی ہے۔

دل بار بار گواہی دے رہا تھا کہ کچھ تو ہے جو اس کی نظروں سے اوجھل ہے، کوئی حقیقت جو وہ سمجھ نہیں پا رہا۔

وقت جیسے رک سا گیا تھا۔ کمرے کی خاموشی میں صرف اس کی دھڑکن گونج رہی تھی، ہر دھڑکن میں خوف اور امید کے الجھے ہوئے رنگ تھے۔ دماغ محسوس کر رہا تھا کہ عبیرہ کہیں اس سے دور چلی گئی ہے، اور دل یہ حقیقت ماننے سے قاصر تھا۔

دل اور دماغ ایک ہی جنگ میں الجھے ہوئے تھے۔ آریان کی آنکھیں سرخ اور نم تھیں، اور بے اختیار اس کے قدم اُس طرف بڑھے جہاں وہ کبھی نہیں جانا چاہتا تھا—وہ چیز جسے عبیرہ سخت ناپسند کرتی تھی، اور جس سے محبت کے بعد وہ خود مکمل طور پر دور ہو چکا تھا۔ وہ تھی حرام شراب۔
ایک بوتل، جو کب سے اسٹور روم کے کونے میں پڑی ہوئی تھی، اس نے کبھی پلٹ کر نہیں دیکھی تھی۔ آج، الماری کا کیبنٹ کھول کر، دو تین ڈبے غصے سے نیچے پھینکتے ہوئے، وہ اس بوتل تک پہنچا۔ دل بوجھل تھا، سکون کہیں نہیں تھا۔

بغیر سوچے سمجھے، اس نے منہ لگایا، زہریلی کڑواہٹ کو گلے میں اتارتے ہوئے، ٹوٹے قدموں سے ہال کی طرف بڑھا۔

وہ ہال میں بیٹھ گیا۔ سامنے آئینے کی ایک بڑی دیوار تھی، جو پورے اپارٹمنٹ کی جان لگتی تھی۔ اپنے عکس کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے وہ خود اسے چھیڑ رہا ہو۔ آریان نے بڑے غور سے خود کو دیکھا، اور نہ جانے کیوں، نظریں خود بخود اپنے عکس سے ہٹ نہیں رہیں۔
غصے اور درد کے ملے جلے گھونٹ حلق میں اتارتے ہوئے، وہ مسلسل دیکھتا رہا، جیسے ہر بار وہی عکس اس کے دل کو چھلنی کر رہا ہو، ہر دھڑکن میں ایک ادھوری تڑپ، ایک بے بسی، اور ایک ان کہی محبت کی صدا گونج رہی ہو۔

═══════❖═══════

آپ کے خیال میں👉 اس ایپیسوڈ کا سب سے چونکا دینے والا لمحہ کون سا تھا؟کمنٹس میں ضرور بتائیں۔نیکسٹ ایپیسوڈ کے لیے📝 اپنا ریویو دیں❤️ ایپیسوڈ کو لائک کریںاس وقت آپ کی سپورٹ بہت ضروری ہے 🤍

Similar Posts

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *