Ishq Rumaan shah by hayat irtaza SA episode :1
عشقِ رومان شاہ
تحریر حیات ارتضی
قسط نمبر :1
°°°°°°
“بس کر دو “جانِ شاہ” کتنی سزا دو گی؟”
“سزا تو مجھے مل رہی ہے آپ سے محبت کرنے کی!”
“میرے عشق کو میری محبت کو سزا سمجھ کر ہی واپس لوٹ آؤ!”
“کبھی نہیں!”
“آپ جتنی مرضی کوشش کر لیں کبھی مجھے اپنے پاس نہیں بلا سکتے!”
“جانِ شاہ” بات محبت اور عشق کی حد تک رہنے دو!”
‘اگر بات “رومان شاہ” کی انا پر آ گئی تو کوئی دیوار ایسی نہیں جو تمہیں مجھ سے دور رکھنے میں کار آمد ثابت ہو سکے۔”
“آپ مجھے دھمکا رہے ہیں؟”
“میں تمہیں سمجھا رہا ہوں!”
“میں کمزور نہیں ہوں میرا بھائی میرے ساتھ ہے!”
“شاہ میر” بھائی کے ہوتے ہوئے آپ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے!”
“تمہارا بھائی اگر میرا دوست نہ ہوتا تو میں اس کی ہستی مٹا دیتا!”
“میرا بھائی اتنا کمزور نہیں جس کو آپ اپنے راستے سے آسانی سے ہٹا لیتے!”
“کسی کو مٹانے کے لیے طاقت نہیں جنون کی ضرورت ہوتی ہے اور تم سے عشق کا جنون اتنا ہے کہ میں سامنے آنے والی ہر ہستی کو مٹا سکتا ہوں مگر میری مجبوری یہ ہے کہ میرے مقابل میرا دشمن نہیں میرا دوست ہے!”
‘اور وہ دوست جو میری “جانِ شاہ” کا بھائی ہے ورنہ تمہارے بھائی جیسے دس کو میں اپنے راستے سے ہٹانے کی طاقت بھی رکھتا ہوں اور جنون بھی!”
“میرے بھائی کو ہاتھ لگا کر دکھائیں میں آپ کی جان لے لوں گی!”
“سونیے جان تے پہلے وی تیری اے”
“بار بار کڈن دی دھمکیاں نہ دیا کر!”
“شاہ” کے آتشی لب مسکرا اٹھے تھے “میرب” کی دھمکی دینے پر۔
“جتنی محبت اور جنون سے تم اپنے کمینے بھائی کا نام لیتی ہو قسم سے اگر تمہارا سگا بھائی نہ ہوتا تو تمہارے عشق کے جنون میں اس کو اس دنیا سے کب سے رخصت کر چکا ہوتا۔”
“میرا بھائی میری جان ہے!”
“جانِ شاہ” دل پر آگ مت لگاؤ ورنہ بھول جاؤں گا کہ وہ تمہارا محرم تمہارا بھائی ہے!”
“تمہاری محبت میں شراکت مجھ سے برداشت نہیں ہوتی،یہ بات تم اچھی طرح سے جانتی ہو۔ بھائی سے محبت اتنی ہی جتاؤ جتنی میں برداشت کر سکوں۔”
“مجھے میسج مت کیا کریں اور میں آپ کی “جانِ شاہ” نہیں ہوں۔”
“مر گئی وہ “میرب” جو آپ کی “جانِ شاہ” ہوا کرتی تھی۔”
“تم میری “جانِ شاہ” ہو اور ہمیشہ رہو گی۔”
“بہت تڑپ لیا “جانِ شاہ” تمہارے بغیر اب اور نہیں،ویٹ اینڈ واچ بہت جلدی تم سے ملاقات کروں گا تیار رہنا۔”
“مجھے آپ کی شکل بھی نہیں دیکھنی نفرت کرتی ہوں میں آپ سے،اتنی نفرت کہ آپ کی شکل دیکھنے سے بہتر ہے کہ میں اپنی جان دے دوں۔”
“زبان کو لگام دو “جانِ شاہ” ورنہ پاکستان آ کر تمہاری زبان حلق سے کھینچنا میرے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔”
“ناراض رہنے کا حق ہے بدتمیزی اور زبان درازی کا حق “رومان شاہ” نے تمہیں کبھی نہیں دیا۔ تم سے محبت کرتا ہوں تو اس یہ مطلب ہرگز نہیں جو منہ میں آئے گا تم بکتی جاؤ گی۔”
“تو کیوں کرتے ہیں مجھے میسج؟”
“مت کیا کریں مجھ سے بات،میں تو آپ کو کبھی میسج نہیں کرتی!”
“پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتے میرا؟”
“جانِ شاہ” کافی بے لگام ہو چکی ہو،لگام ڈالنے کے لیے تم سے ملاقات ضروری ہو گئی ہے۔”
“کبھی آپ سے نہیں ملوں گی،یونہی ترستے رہیں گے آپ میرے لیے جیسے میں تڑپ رہی ہوں اپنے بیٹے کے لیے!”
“تڑپ تو رہا ہوں اور کتنا تڑپانا چاہتی ہو؟”
“اور جب “رومان شاہ” تم سے ملنا کنفرم کر دے گا تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے تم سے ملنے سے نہیں روک سکتی۔ میں بھی دیکھتا ہوں تم کیسے مجھ سے ملاقات نہیں کرتی،کیسے خود کو مجھ سے دور رکھتی ہو۔”
“شاہ” میں آپ کی پابند نہیں ہوں!”
“بس کر دیں مجھے دھمکانا۔ مت بھولیں کہ اب آپ کی دھمکیاں مجھ پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ کل کی “میرب” آپ پر مرتی تھی،آج کی “میرب” آپ سے نفرت کرتی ہے۔”
“جانِ شاہ”،تم کل بھی میری پابند تھی آج بھی میری پابند ہو اور جب تک زندہ رہو گی میری ہی پابند رہو گی!”
“رومان شاہ” کبھی تمہیں خود سے دور نہیں ہونے دے گا!”
“بھول رہے ہیں آپ کہ میں آپ سے دور ہو چکی ہوں وہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے!”
وہ طنز کرتے ہوئے میسج کر رہی تھی۔
“دو سال کے عرصے کو تم نے کچھ زیادہ ہی خود پر سوار کر کے خود کو آزاد خیال بنا لیا ہے۔ مت بھولو جس طرح سے آزادی دی ہے ویسے چھین بھی سکتا ہوں!”
“کاش یہ طاقت اس وقت دکھائی ہوتی جب وہ لوگ میرے بیٹے کو چھین کر لے جا رہے تھے!”
“تم جانتی ہو کہ اس وقت میرے پاس صرف ایک ہی آپشن تھا یا تو میں تمہیں بچا لیتا یا “رائم” کو!”
“کتنی بار تمہیں اپنی صفائی پیش کر چکا ہوں،تم سے معافی مانگ چکا ہوں۔ کیا چاہتی ہو تم،گڑگڑاؤں،تمہارے پیروں میں گر جاؤں آ کر؟”
“میں ایسا کچھ نہیں چاہتی۔ بس میں آپ کو کبھی معاف نہیں کر سکتی!”
“کاش یہ غصہ یہ طاقت دکھا کر آپ بچا لیتے “رائم” کو، میرے بیٹے کو بچا لیتے مگر آپ سیلفش ہیں آپ نے میرے بیٹے کو نہیں بچایا۔”
“وہ میرا بھی بیٹا تھا۔”
“اگر میرے بس میں ہوتا تو میں “رائم” کو کبھی خود سے دور نہیں جانے دیتا۔”
“میں گزرے ہوئے وقت میں جا کر وہ سب کچھ ٹھیک نہیں کر سکتا مگر “جانِ شاہ” ہم دونوں ایک ساتھ ہو کر آنے والا کل بہت خوبصورت بنا سکتے ہیں۔”
“پلیز “جانِ شاہ” یہ دوریاں ختم کر دو،مت تڑپاؤ مجھے،آجاؤ میری زندگی میں واپس۔”
“کبھی نہیں مجھے میرا “رائم” لا دیجیے میں خود سے چل کر آپ کی زندگی میں واپس آجاؤں گی۔”
“تم جانتی ہو کہ “رائم” جہاں جا چکا ہے میں وہاں سے اسے نہیں لا سکتا اگر دنیا کے کسی کونے میں “رائم” ہوتا تو میں اس سے ڈھونڈ کر لے آتا مگر خدا سے کیسے واپس لے کر آؤں؟”
“تو پھر سوچ لیجئے کہ میں بھی آپ کے لیے مر گئی ہوں،میں نہیں آپ کے ساتھ رہ سکتی،نہیں رہ سکتی اس شخص کے ساتھ جو میرے بیٹے کو نہیں بچا سکا۔”
“میرب” مت بھولو خود زبردستی میری زندگی میں شامل ہوئی تھی۔”
“میری زندگی میں شامل ہوتے ہوئے تم نے یہ شرط نہیں رکھی تھی کہ اگر کل کو ہماری اولاد ہمارے درمیان نہ ہوئی تو مجھے چھوڑ کر چلی جاؤ گی۔”
“میرب” سے “جانِ شاہ” کا سفر تم طے کر چکی ہو اب بس کر دو میں تمہیں لینے آرہا ہوں!”
“آپ سے محبت کر کے مجھ سے غلطی ہو گئی۔”
“تے فر ہون غلطی دی سزا بنا کے مینوں ہمیشہ آودے نال رکھ۔”
“مر جاؤں گی مگر آپ کے ساتھ نہیں رہوں گی۔ل!”
دو ٹوک میسج کیا۔
“مار دوں گا مگر خود سے دور نہیں جانے دوں گا!”
ٹیکسٹ کے ساتھ غصے سے بھرے لال ایموجیز بھیجی گئی۔
“دوبارہ اتنی اونچی آواز میں بات کی تو حلق سے زبان کھینچ لوں گا،محبت کرتا ہوں بے انتہا مگر بدتمیزی کرنے کا حق شاہ نے تمہیں نہیں دیا!”
“میسج پر کسی کو چلانے کی آواز آتی ہے میں نے تو زندگی میں پہلی بار سنا ہے!”
“جس بدتمیزی سے میسج کر رہی ہو،میں تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں، تمہارے دل میں چلانے کی آواز میں محسوس کر سکتا ہوں!”
“دل میں چلانے کی آواز سن سکتے ہیں مگر جو میرے دل میں درد ہے اس کو نہیں سمجھ سکتے؟”
“سمجھ سکتا ہوں، اگر نہ سمجھ سکتا تو دو سال کی دوری میں کبھی برداشت نہ کرتا۔”
“کائنڈ یور انفارمیشن––آپ نے یہ دوری مجبوری میں برداشت کی ہے کیونکہ میں آپ کے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی!”
“تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ دنیا کی کوئی ایسی طاقت نہیں جو “رومان شاہ” کو تم سے دور رکھ سکے!”
“تم اگر مجھ سے دور رہ رہی ہو تو یہ میری محبت ہے جو تمہیں تکلیف نہیں پہنچانا چاہتی، ورنہ تم کبھی مجھ سے دور رہو اور اس میں میری مرضی شامل نہ ہو ایسا کبھی ہو ہی نہیں سکتا!”
“آج بھی وہی اکڑ وہی ایٹیٹیوڈ!”
“آپ کو میرے درد کا احساس نہیں ہے؟”
“میری جان، میرے دل کی دھڑکن، میری راتوں کا سکون، میرے دن کی روشنی، میری نظروں کی ٹھنڈک، کیسے سمجھاؤں تمہیں کہ مجھے تمہارا درد اپنے دل کے اندر محسوس ہوتا ہے، کیونکہ تمہارا درد اور میرا درد ایک ہی ہے!”
“کیوں نہیں سمجھتی “رائم” میرا بھی بیٹا تھا، جو تکلیف تم محسوس کرتی ہو اسی تکلیف سے دن رات میں بھی گزرتا ہوں!”
“میرب” میں تمہارا دکھ سمجھ سکتا ہوں،محسوس کر سکتا ہوں مگر اس گزرے ہوئے وقت کا ازالہ نہیں کر سکتا، اتنی سی بات تم کیوں نہیں سمجھ رہی؟”
“میرب” دو سال ہو گئے ہیں مجھے تمہارے لیے تڑپتے ہوئے،”میرب” میری راتیں ویران ہو گئی ہیں،میرا دل ویران ہو گیا ہے،میرے لیے دنیا بے معنی ہو گئی ہے۔ خدا کا واسطہ،ہمیشہ کی طرح تم سے معافی مانگتا ہوں،پچھلے دو سال سے لگاتار دن میں نہ جانے کتنی بار تمہیں میسج کرتا ہوں کہ ‘مجھے معاف کر دو’ مگر تم اپنی ضد پر اڑی ہوئی ہو۔”
“تم کتنی ظالم ہو گئی ہو “جانِ شاہ” اپنی آواز تک سنانے کی روادار نہیں ہو۔ ظالم بن کر میرے کئی بار فون کرنے پر بھی تم میرا فون نہیں اٹھاتی مگر تم میرے میسج کا جواب دے دیتی ہو میں تو اتنے پر بھی خوش ہوں، خدا کے لیے مجھے معاف کر دو، اس سے زیادہ جدائی برداشت کرتے کرتے میری جان ہی نہ نکل جائے۔”
روز کی طرح “رومان شاہ” جھگڑا کر کے،لڑ کے آخر میں معافی بھرا میسج بھیج چکا تھا۔ یہ پچھلے دو سالوں سے چلا آرہا تھا کہ “رومان شاہ” دن میں نہ جانے کتنی بار “میرب” کو میسج کرتا اور اسے کہتا کہ وہ اسے معاف کر دے مگر “میرب” “رومان شاہ” کی اس غلطی کی معافی نہیں دینا چاہتی تھی۔”میرب” آج بھی تڑپتی تھی اپنے بیٹے “رائم” کے لیے،”رائم” اس کا کل سرمایہ تھا۔ “میرب” کی سب سے بڑی محرومی یہ تھی کہ وہ دوبارہ کبھی ماں نہیں بن سکتی تھی۔ “رائم” کو اس میں کتنی منتوں مرادوں سے لیا تھا یہ بات تو پھر وہی جانتی تھی اور اب تو وہ پوری زندگی کے لیے ماں لفظ کبھی کسی کے منہ سے نہیں سن سکتی تھی۔ “میرب” جب اس بارے میں سوچتی تو “میرب” کا دل تڑپ جاتا تھا،ایسا نہیں تھا کہ “میرب” کے دل سے “رومان شاہ” کی محبت ختم ہو گئی تھی کیونکہ “رومان شاہ” کی محبت کو اپنے دل سے نکالنا “میرب” کے بس کی بات ہی نہیں تھی۔ وہ ہاتھوں سے نوچ کر اپنے کلیجے کو تو باہر نکال سکتی تھی مگر اپنے کلیجے کے اندر سے “رومان شاہ” کی محبت نہیں نکال سکتی تھی۔”رومان شاہ” کی محبت اتنی کمزور نہیں تھی جس کو “میرب” اپنے دل سے آسانی کے ساتھ نکال سکتی وہ الگ بات ہے کہ “میرب” ہر دن یہ کوشش کرتی تھی کہ وہ “رومان شاہ” کو بھول جائے اس کی محبت کو بھول جائے مگر ہر بار وہ اس کوشش میں پوری طرح سے ناکام ہو جاتی تھی۔ “رومان شاہ” کی محبت “میرب” کے دل کے اندر جڑوں سے سمائی ہوئی تھی۔ جب بھی اسے کھینچ کر نکالنے کی کوشش کرتی تھی کر کلیجہ منہ کو آنے لگتا تھا۔ “میرب” ایسے دوراہے پر آن کھڑی ہوئی تھی جہاں پر ایک طرف “رومان شاہ” کی بے مثال سچی جنونی محبت تھی اور دوسری جانب اس کی ممتا تھی “رائم” کی محبت تھی۔ اسے وہ منظر نہیں بھولتا تھا جب وہ لوگ “رائم” کو لے جا رہے تھے اور “رائم” تڑپ کر بازو پھیلا کر ‘بابا بابا’ کہتے ہوئے رو رہا تھا۔ اس کے بیٹے کی آنکھوں میں کتنی امید تھی کہ اس کا بابا اسے بچا لے گا، اس کے لیے تو اس کا بابا سپر مین تھا۔ جب بھی “میرب” اس وقت کو،اس لمحے کو یاد کرتی تھی تو “میرب” کا دل چاہتا تھا کہ اپنی جان لے لے،”میرب” “رائم” کو جب یاد کرتی تھی تو اپنے آپے سے باہر ہو جاتی تھی۔ اپنے چہرے پر تھپڑ مارتی تھی،اپنے بال نوچتی تھی۔ پچھلے دو سال سے “میرب” اپنے “رائم” کو ہمیشہ کے لیے کھو کر زندہ تھی اور یہ زندگی اس کے لیے موت سے بھی زیادہ بدتر ہو چکی تھی۔ دو سال پہلے خوشحال “رومان شاہ” اور “میرب” کی زندگی میں ایک ایسا طوفان آیا تھا جس طوفان نے “رومان شاہ” اور “میرب” کی زندگی کو تہس نہس کر دیا تھا۔ ایک دوسرے سے ایک منٹ الگ نہ رہنے والے پچھلے دو سال سے الگ ہوکر موت ہے بھی بدتر زندگی گزار رہے تھے۔ ہمیشہ کی طرح دن چڑھتے ہی “رومان شاہ” کا میسج دیکھ کر “میرب” لڑ رہی تھی اور زارو قطار آنسوؤں سے رو رہی تھی۔ یہ کیسا ہجر تھا جس میں رقیب سے دور بھی نہیں رہا جاتا تھا اور قریب بھی نہیں جایا جاتا تھا۔ یہ کیسی نفرت تھی جس میں معاف بھی نہیں کیا جا سکتا تھا اور محبت بھی کرنی نہیں چھوڑی جا سکتی تھی۔
ایسی محبت صرف “رومان شاہ” کر سکتا ہے اپنی “جانِ شاہ” سے اور “میرب” کر سکتی تھی اپنے “شاہ” کے ساتھ،جس میں نہ دوریاں سہنے کی ہمت تھی ناپاس جانے کا حوصلہ۔
پچھلے دو سال سے “میرب” “رومان شاہ” سے نفرت کرتے ہوئے اس سے دور ہو چکی تھی مگر آج بھی آنکھ کھلتے ہی فون پر نظر اسی لیے جاتی تھی کہ دشمنِ جاں کا میسج آیا ہوگا۔ جھگڑا کرنے کے لیے وہ روز تیار ہو جاتی تھی یہ کیسی محبت تھی جو نہ جینے دیتی تھی نہ مرنے دیتی تھی،نہ پاس آنے دیتی تھی نہ دور جانے دیتی تھی،عشق کی زبان عشق کرنے والے ہی سمجھ سکتے ہیں زمانہ کیا جانے عشق کے روگ کو۔
محبت تو وہ خوبصورت جذبہ ہے جس میں عاشق جل جل کر مرتے ہوئے بھی سکون محسوس کرتے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح ایک دوسرے پر حق جتا کر لڑتے ہوئے میسج کا سلسلہ تھم چکا تھا مگر وہ اب بھی ہاتھ میں فون لیے روتی نگاہوں سے سکرین پر نظریں جمائے بیٹھی تھی کیونکہ ابھی تک اس کے “شاہ” کا پنجابی میسج نہیں آیا تھا جس میں وہ اپنے دل کی باتوں کو لفظوں میں بیان کرتا تھا۔ اتنے سالوں میں “شاہ” نہیں بدلا تھا آج بھی اسے غصہ محبت اور نفرت کا اظہار کرنے کے لیے اپنی زبان کا ہی سہارا لینا پڑتا تھا مگر اب “میرب” بہت بدل چکی تھی اب “شاہ” کے آئے ہوئے پنجابی میسج کو وہ گوگل پر ٹرانسلیٹ کر کے دیکھتی تھی کہ اس کے “شاہ” نے کیا کہا ہے۔ “میرب” کہتی تو نہیں تھی مگر اسے “شاہ” کے آخری پنجابی فیلنگ سے بھرے ہوئے میسج کا انتظار رہتا تھا، اور سچ میں “شاہ” کی پنجابی میں جو گہرائی سے بولے ہوئے لفظ ہوتے تھے اس میں ایسی فیلنگ ہوتی تھی جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا تھا۔ میسج کی بیپ ہونے پر “میرب” نے جلدی سے “شاہ” کے میسج کو ٹرانسلیٹ کرتے ہوئے پڑھا اور اس کا دل تڑپ گیا تھا آخر “شاہ” کی پنجابی میں بولے گئے الفاظ تھے،”میرب” کے دل پر اثر انداز کیسے نہ کرتے،عاشق کے دل سے نکلی ہوئی بات عاشق کے دل پر وار نہ کرے ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔
“سجناں جے توں خوشیاں دیتیاں”
” دکھ وی کلیجہ چیرن والے دیتے”
“لوکاں نے تے صرف گلاں کیتیا”
“توں تے کھول خلاصے دیتے”
“نہیں لنگدا وقت وچھوڑے دا”
“بِن یار گزارا کون کرے”
“دنیا تو کنارہ تے ہو سکدا”
“یاراں تو کنارہ کون کرے”
“اک دن ہوے تے لنگ جاوے”
“بلھیا ساری عمر گزارا کون کرے”
“جے اگر میرے وس وچ ہندا”
“چھڈ دیندا میں تینوں سوچے بغیر”
“پر جانِ شاہ دل تے میرا زور نئی”
“جندہ تیرے تو بغیر گزارا نہیں ہوندا”
روز کی طرح “میرب” نے آخری میسج کا جواب نہیں دیا تھا کیونکہ وہ اپنے “شاہ” پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی کہ اب اس کے پنجابی میں بھیجے ہوئے میسج کی اسے باخوبی سمجھ آتی ہے۔ وہ “شاہ” پر یہی ظاہر کرتی تھی کہ اسے پنجابی میسج سمجھ میں ہی نہیں آتے اس لیے وہ جواب نہیں دیتی۔ نجانے کس کی کالی نظر لگ گئی تھی ان کی محبت کو ایک دوسرے میں جن کی جان بستی تھی وہ کیسے دور ہو گئے۔
°°°°°°°°°°°°°
“آ ہ ہہ”
“شاہ میر” گھبرا کر اٹھا تھا اسے نیند میں ایسا لگا جیسے اس کے منہ پر کسی نے پانی سے بھری ہوئی ٹینکی انڈیل دی ہو۔ جب گھبرا کر آنکھ کھلی تو دیکھا اس کی پیاری بیوی جو کبھی بہت معصوم اور شریف ہوا کرتی تھی، پانی سے بھرا ہوا جگ اس کے اوپر انڈیل کر لائٹ مسٹرڈ کلر کی پیرو کو چھوتی ہوئی فراک میں قیامت ڈھاتی ہوئی نظروں سے دیکھتی ہوئی دونوں بازو سینے پر رکھے ہوئے کھڑی تھی۔
“کیا تھا یہ سب؟”
“شاہ میر” حواسوں کو قائم کرتے ہوئے بیڈ سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا،سر کو دائیں بائیں جھٹکا دیتے ہوئے بالوں سے پانی کی چھینٹے اڑائیں جو اڑ کر اس کے سامنے ہی کھڑی ہوئی پیاری سی بیوی کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔
“بچوں کو سکول سے لیٹ ہو رہا ہے اور آپ کی آنکھ نہیں کھل رہی تھی تو مجبوراً، میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔”
نظروں کے زاویے پھرتے ہوئے ایٹیٹیوڈ سے بولی تھی۔
کون کہہ سکتا تھا کہ یہ وہی “مرہا” ہے جو کبھی “شاہ میر” سے ڈر کر کانپ جایا کرتی تھی۔ جس میں کانفیڈنس نہیں تھا،جو ہمیشہ ڈری سہمی ہوئی رہتی تھی مگر اب تو دو بچوں کی ماں بن کر وہ مغرور بھی ہو گئی تھی اور پہلے سے کہیں زیادہ خوبصورت بھی ہو گئی تھی مگر اب وہ “شاہ میر” سے ڈرتی نہیں تھی اور یہ “شاہ میر” کی دی ہوئی محبت اور تحفظ مان اور غرور تھا جو اس کی آنکھوں میں چمک رہتی تھی۔
“تو تم مجھے آواز دے کر بھی اٹھا سکتی تھی یہ کون سا طریقہ ہے اٹھانے کا؟”
“شاہ میر” نے گھور کر آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا۔
“کیونکہ میں آپ سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے اور یہ بات آپ جانتے ہیں۔”
“اچھا اور تمہیں لگتا ہے کہ میں اتنا شریف ہوں کہ تم نے سوتے ہوئے میرے اوپر جگ بھر کر پانی کا ڈال دیا اور میں تمہیں کچھ بھی نہیں کہوں گا؟”
وہ ایک ایک قدم اٹھاتا ہوا اس کے قریب ہو رہا تھا اور “مرہا” اپنے پاؤں کو پیچھے لے جا رہی تھی۔ خود اعتمادی تو “مرہا” میں بہت آگئی تھی اور جڑوا دو بیٹوں کی ماں بن کر اس میں تھوڑی سی مغروری بھی آگئی تھی مگر آج بھی جب “شاہ میر” کے قدم اس کی جانب اٹھتے تھے تو نہ چاہتے ہوئے بھی “مرہا” کا دل گھبراہٹ کا شکار تو ہو جاتا تھا۔
“مانا کہ میں شریف ہوں مگر اتنا شریف نہیں ہوں کہ تمہیں تمہاری شرارت کی سزا نہ ملے۔”
“شاہ میر” شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے جگ اٹھا چکا تھا مطلب صاف تھا کہ وہ بھی “مرہا” کے اوپر پانی ڈال کر اپنا بدلہ لینا چاہتا تھا،کون کہہ سکتا تھا کہ یہ دو بچوں کے ماں باپ بن چکے ہیں۔ “مرہا” آگے آگے بھاگ رہی تھی اور اے سی پی “شاہ میر” ملک جس کے خوف سے مجرم اپنا گناہ منٹوں میں قبول کر لیتے تھے کیونکہ ان میں اے سی پی “شاہ میر” میر کی مار کھانے کی ہمت نہیں ہوتی تھی،وہ اے سی پی “شاہ میر” ملک “مرہا” کے پیچھے پیچھے تھا۔ “شاہ میر” نے “مرہا” پر جگ انڈیل دیا، “مرہا” پہلے تو گھبرا کر اپنے چہرے پر ہاتھ رکھے ہوئے دیوار کے ساتھ ایک جگہ پر رک گئی تھی کیونکہ آگے بھاگنے کی کوئی جگہ ہی نہیں تھی،ایک طرف “شاہ میر” کھڑا تھا اور دوسری طرف دیوار تھی مگر دوسرے ہی لمحے خود پر پانی کو نہ محسوس کرتے ہوئے وہ بچوں کی طرح دانت نکال کر کھی کھی کر کے ہنستی ہوئی لوٹ پوٹ ہو رہی تھی۔ “شاہ میر” دانتوں کو پیستے ہوئے مصنوعی غصہ “مرہا” پر ظاہر کرتے کبھی جگ اور کبھی دانت نکالتی ہوئی “مرہا” کو دیکھ رہا تھا۔
“بہت دانت نکل رہے ہیں تمہارے!”
“شاہ میر” نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کھینچ کر اپنے قریب کیا تو مرہا کی ہنسی تھم گئی۔
“ہوںںں… بولو––صبح صبح بہت دانت نکل رہے ہیں تمہارے،میری نیند کا ستیا ناس کر کے تمہیں مزہ آرہا ہے؟”
“تو آپ ہوش میں سویا کریں،آپ کو نہیں پتہ کہ آپ کے بچوں کو سکول جانا ہوتا ہے۔ روز میری ذمہ داری ہے کہ میں آپ کو اٹھایا کروں؟”
اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں تھی۔
“اچھا اگر میں ہوش میں نہیں سوؤں گا تو تم روز میرے اوپر اس طرح پانی ڈال کر اٹھایا کرو گی؟”
وہ متلاشی نظروں سے دیکھتے ہوئے اس کی کمر پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔
“جی بالکل اسی طرح آپ کے اوپر پانی ڈال کر اٹھایا کروں گی!”
“اور آنکھیں دکھا کر مجھے ڈرائیں مت،دو دو بیٹوں کی ماں ہوں!”
“اچھا اور تمہیں لگتا ہے تمہارے بیٹے تمہیں مجھ سے بچا لیں گے؟”
“جی بالکل مجھے ایسا لگتا ہے کہ میرے بیٹے مجھے بچا لیں گے اور اس بات کا مجھے پورا یقین ہے!”
وہ اعتماد بھرے لہجے سے بول رہی تھی۔
“اچھا چلو پھر ایک کام کرو اپنے بیٹوں کو آواز دو تاکہ وہ تمہیں آ کر بچا لیں۔ میں تمہارے کیے کی ٹائم سے سزا دینے والا ہوں۔ شاباش جلدی جلدی آواز دو اپنے بیٹوں کو!”
“عبداللہ…”عبدالرحمن…” پلیز بیٹا جلدی آئیں۔”
“آپ کے بابا مجھے پیٹنے والے ہیں!”
“مرہا” نے پورے زور سے آواز دی تھی۔
“کتنی ڈرامے باز ہو تم میں نے کب کہا کہ میں تمہیں پیٹنے والا ہوں اور تم مجھ سے پٹنے والی چیز ہو؟”
اس کی چلاکی پر “شاہ میر” گھور رہا تھا،وہ جانتا تھا کہ ابھی اس کے بیٹے الہٰ دین کے چراغ سے نکلے ہوئے جن کی طرح حاضر ہو جائیں گے، بلکہ حاضر ہو چکے تھے۔
“کیا ہوا ماما؟”
وہ دونوں سیڑھیوں سے بھاگتے ہوئے اتر کر فل یونیفارم پہنے ہوئے پیچھے بیگ لگائے ہوئے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے ایٹیٹیوڈ سے آ کر پوچھ رہے تھے۔ آخر اے سی پی “شاہ میر” ملک کے بیٹے تھے اتنا ایٹیٹیوڈ تو ان پر سوٹ کرتا تھا بچپن سے ہی ان میں بہت ہی خود اعتمادی تھی،ان کے بات کرنے کا سٹائل ابھی سے پولیس والوں کے جیسا تھا۔
“بیٹا آپ کے بابا نے مجھے دھمکی دی ہے کہ یہ مجھے میری غلطی کی سزا دیں گے اور مجھے پیٹیں گے!”
وہ اپنے بیٹوں سے کہتی ہوئی آنکھ کے اشارے سے “شاہ میر” کو دکھا رہی تھی کہ اب اسکے بیٹے حساب لیں گے۔
“ان سے کہیں ہماری ماما کو ہاتھ تو لگا کر دکھائیں!”
دونوں نے ایک ساتھ توتلی سی آواز میں کہا۔
“ہاں بھئی تم ہماری بہو کو ہاتھ تو لگا کر دکھاؤ!”
“تم نے کیا ہماری بہو کو اکیلا سمجھ رکھا ہے؟”
“شاہ میر” کے بابا اور ماما دونوں آچکے تھے، وہ مسکراتے ہوئے اپنے پوتوں اور بہو کا ساتھ دے رہے تھے۔
“اور آپ ہماری ماما کو خود سے دور کریں، ہمیں بالکل اچھا نہیں لگتا، جب آپ ہماری ماما کے پاس آتے ہیں!”
“عبداللہ” توتلی سی زبان میں کہتا ہوا “شاہ میر” کو آنکھیں دکھا کر کمر سے ہاتھ ہٹانے کو بول رہا تھا۔ “شاہ میر” بیچارہ اپنے ماں باپ کے سامنے شرمندہ سا ہو گیا تھا اس نے جلدی سے ہے “عبداللہ” کی کمر سے ہاتھ ہٹائے جو وہ اٹھانا بھول چکا تھا اور “عبداللہ” بھی بیچاری شرم سے لال سرخ ہو گئی۔
“بہت ہی شرارتی بچے ہیں!”
وہ آہستہ سے غرایا۔
“بالکل باپ پر گئے ہیں!”
“مرہا” نے آہستہ سی آواز میں “شاہ میر” کو ٹونٹ کیا۔
“اچھا اس بات کو بھولنا مت اب الزام تو لگا دیا ہے میں تو ثابت کر کے دکھاؤں گا۔”
“یہ تم دونوں آپس میں کیا کھسر پھسر کر رہے ہو؟”
“شاہ میر” کی ماں نے مذاق سے ٹانگ کھینچتے ہوئے پوچھا۔
“کچھ نہیں ماما میں تو یہ کہہ رہا تھا کہ آپ چاروں مل کر بھی “مرہا” کو مجھ سے بچا نہیں سکتے۔ میں بھی دیکھتا ہوں کیسے بچاتے ہو آپ سب لوگ مل کر اسے!’
“شاہ میر” نے شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔
نیچے جھک کر “مرہا” کو زبردستی گود میں اٹھایا اور تیزی سے باہر کی جان قدم اٹھاتا ہوا جا رہا تھا۔
“چھوڑیں مجھے کیا ہو گیا ہے سب دیکھ رہے ہیں!”
“مرہا” شرم سے لال ہو رہی تھی۔
“ہاں تو دیکھنے دو اپنی بیوی کو اٹھا کر لے جا رہا ہوں جو آج کل ضرورت سے زیادہ ہی ناراض رہنے لگی ہے،اس کے ہوش ٹھکانے لگانا ضروری ہو گئے ہیں!”
سب لوگ اس کے پیچھے پیچھے تھے مگر وہ جانتے نہیں تھے کہ “شاہ میر”کو کیا کرنے والا ہے مگر وہ حیران ہو گئے “شاہ میر” کی حرکت دیکھ کر،اس نے صبح صبح “مرہا” کو اٹھا کر باہر سوئمنگ پول میں لا کر پھینک دیا تھا۔ “مرہا” بیچاری پانی میں گر کر ہڑبڑا اٹھی تھی،بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے غصے بھری نگاہوں سے “شاہ میر” کو دیکھ رہی تھی جس نے ایک جگ پانی کا بدلہ سوئمنگ پل میں پھینک کر لیا تھا۔وہ “مرہا” کو پانی میں پھینک کر دونوں ہاتھ ایک دوسرے سے مارتے ہوئے خوشی سے دیوانہ ہو رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ “شاہ میر” کھل کر اپنی جیت کا جشن مناتا پیچھے سے آکر اس کے دونوں بیٹوں نے اسے زور سے دھکا دیا اور “شاہ میر” جو بالکل کنارے پر کھڑا تھا اس کا بیلنس تھوڑا سا آؤٹ ہوا اور وہ سیدھا سوئمنگ پول میں آ گرا تھا۔ اب باہر کھڑے ہوئے “ملک زبیر” ،اس کی وائف اور “عبداللہ” “عبدالرحمن” کی ہنسی کی آواز گونج رہی تھی۔ “شاہ میر” کی حالت دیکھ کر “مرہا” کی بھی ہنسی چھوٹ گئی تھی،”شاہ میر” بیچارے نے یہ پلان تو بالکل نہیں کیا تھا کہ ایسا بھی کچھ ہو سکتا ہے۔
“کیوں کیسا رہا میرے بیٹوں کا وار؟”
“مرہا” دانت نکال کر ہنستے ہوئے “شاہ میر” پر پانی کی چھینٹے پھینک رہی تھی۔
“اچھی ٹریننگ دے رہی ہے اپنے بیٹوں کو!”
وہ مصنوعی غصہ دکھاتے ہوئے تھک چکا تھا اس کی ہنسی چھوٹ گئی۔
“بالکل بہت اچھی ٹریننگ دے رہی ہوں،دیکھ لو میری ٹریننگ کتنی پرفیکٹ ہے،کیسا بدلہ لیا ہے میرے بیٹوں نے!”
وہ بڑے فخر سے بول رہی تھی۔
اپنے بیٹوں کی جیت کی خوشی “مرہا” کے چہرے پر دکھائی دے رہی تھی۔ اندر سے تو اپنے بیٹوں کے اس پھرتی بھرے وار کو دیکھ کر وہ بھی خوش تھا مگر اب وہ سب کے سامنے تسلیم کر کے اپنی کھلی نہیں اڑا سکتا تھا۔
“تم دونوں یہیں رکنا اگر تم دونوں کو اٹھا کر میں نے سوئمنگ پول میں نہ ڈالا تو پھر کہنا!”
وہ گھور کر “عبداللہ” اور “عبدالرحمن” کو دیکھتے ہوئے سوئمنگ پول کی بنی ہوئی سٹیل کی سیڑھیوں کی طرف بڑھ رہا تھا۔
“پہلے پکڑ کر تو دکھائیں!”
وہ دونوں ننھے شیطان کہتے ہوئے وہاں سے بھاگ چکے تھے اور ان کے پیچھے پیچھے ہی ان کے دادا دادی بھی چلتے ہوئے جا رہے تھے۔ بچوں کے سکول کا ٹائم ہو چکا تھا اور “شاہ میر” صاحب تو پوری طرح گیلے ہو چکے تھے،ایسے میں بچوں کو لیٹ ہو جاتا،موقع کی مناسبت کو دیکھتے ہوئے اس کے دادا دادی اب خود ان کو سکول چھوڑنے جائیں گے یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی ایسے کارنامے گھر میں اکثر ہو جایا کرتے تھے اور اکثر دادا دادی بڑے پیار سے اپنے پوتوں کو سکول چھوڑنے جایا کرتے تھے،ان کے اکلوتے بیٹے کی اولاد انہیں بہت عزیز تھی۔ جہاں وہ “شاہ میر” کی اولاد کو دیکھ کر خوش اور مطمئن تھے دوسری طرف اسی گھر میں لاتعلق ہو کر رہتی ہوئی اپنی بیٹی کے دکھ کو دیکھ کر ان کا کلیجہ پھٹتا تھا۔ “میرب” کو اپنا گھر چھوڑے ہوئے دو سال ہو چکے تھے۔ “رائم” اس سے دور کیا ہوا “میرب” نے ہنسنا کھیلنا،خوش رہنا سب کچھ چھوڑ دیا تھا،وہ اپنی مرضی سے کبھی کبھار ہی سب کے بیچ میں آکر بیٹھتی تھی ورنہ سارا سارا دن اپنے کمرے میں ہی بند رہتی تھی۔ ان دو سالوں میں سب نے پوری کوشش کی تھی کہ وہ زندگی کی جانب پہلے کی طرح لوٹ آئے مگر “رائم” کی جدائی “میرب” کا دل برداشت نہیں کر سکا تھا اس لیے وہ کسی سے ملنا ہی نہیں چاہتی تھی،ضدی تو وہ ہمیشہ سے تھی۔ اس کی ضد نے تو “رومان شاہ” کو اس سے محبت کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔
“آپ ہاتھ تو لگا کر دکھائیں میرے بیٹوں کو!”
“کیا کہا ہاتھ تو لگا کر دکھاؤں تمہارے بیٹوں کو؟”
“چلو نہیں لگاتا، تمہارے بھگوڑے بیٹے تو بھاگ گئے ہیں مگر ان کی ماں کو تو ہاتھ لگا سکتا ہوں نا۔”
“شاہ میر” سیڑھیوں سے ہاتھ کو ہٹاتے ہوئے پانی کو اِدھر اُدھر کرتے ہوئے “مرہا” کی جانب شرارت بھری گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے بڑھ رہا تھا۔
“دور رہیے گا کسی بھی طرح کی کوئی حرکت بازی کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔”
وہ آنکھیں دکھا رہی تھی۔
“اور میرے بیٹوں کو دوبارہ بھگوڑے کہنے کی ہمت مت کیجئے گا کتنا گندا الفاظ ہے!”
“اچھا پولیس والے کو آنکھیں دکھا رہی ہو اور تمہارے بیٹے بھگوڑے ہیں اسی لیے تو اپنی ماں کو چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔”
وہ “مرہا” کے قریب جا کر اس کی کمر پر ہاتھ رکھے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بول رہا تھا۔
“میرے بیٹے سکول سے لیٹ ہو رہے تھے اس لیے گئے ہیں!”
“کائنڈ یو انفارمیشن وہ آپ کے اس بیڈ الفاظ کے بالکل مستحق نہیں ہیں!”
“شاہ میر” کے ہاتھ کی سختی سے پر کی کمر میں درد ہونے لگا تھا،اپنی طرف سے بیچارے نے پیار سے ہاتھ رکھا ہوا تھا مگر پولیس والے کا ہاتھ تھا کب سختی دکھا دیتا تھا اسے خود بھی پتہ نہیں چلتا۔
“تمہارے بیٹے کس کے مستحق ہیں وہ بعد میں بات کریں گے مگر ماں جس سزا کی مستحق ہے وہ تو صبح صبح دے کر ہی جاؤں گا!”
وہ دو ٹوک کہتا ہوا،اس کے سر کے پیچھے سے ہاتھ رکھتے ہوئے، “شاہ میر” اپنی محبت کے لمس اسکے تو ہونٹوں پر بکھیر چکا تھا۔
دو بچوں کے ماں باپ بن کر بھی ان کی محبت میں کوئی کمی نہیں آئی تھی،آج بھی ان کے درمیان کل جیسا محبت سے بھرا ہوا رشتہ قائم تھا مگر اکثر دونوں کے درمیان اپنے بھائی اور بہن کی وجہ سے جھگڑا ہو جایا کرتا تھا۔ مطلب کہ “شاہ میر” اپنی بہن کو صحیح ثابت کرنے پر قائم رہتا تھا اور “مرہا” اپنے جان سے پیارے بھائی “رومان شاہ” کو صحیح کہتی تھی۔ اسی مدے پر اکثر ان میں جھگڑا ہوا جایا کرتا تھا اور رات کو بھی دونوں اسی بات پر جھگڑ پڑے تھے۔ اسی لیے “مرہا” نے آ کر اس سے اٹھانا ضروری نہیں سمجھا تھا،اسی لیے صبح صبح “شاہ میر” پر پانی کا جگ بھر کر پھینکا گیا تھا مگر صبح اتنی خوبصورت ہو جائے گی یہ تو “شاہ میر” اور “مرہا” دونوں نے نہیں سوچا تھا۔ آج بھی “مرہا” “شاہ میر” کے قریب آنے پر شرما کر نظریں جھکا جایا کرتی تھی اور اس کی اسی ادا کا “شاہ میر” دیوانہ تھا۔ خوبصورت سی سزا ملنے پر “مرہا” شرم سے نظریں نہیں اٹھا رہی تھی۔
“میری جان مت میرے ساتھ جھگڑا کیا کرو،کبھی اپنے بھائی کی وجہ سے،کبھی اپنے بیٹوں کی وجہ سے،چھوڑو ان سب کو تم میرے ساتھ خوشی خوشی عشق لڑایا کرو!”
اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اس کے گال کو پیار سے چوم رہا تھا۔
“نہ میں اپنے بھائی کو چھوڑ سکتی ہوں اور نہ ہی اپنے بیٹوں کو اور نہ ہی آپ سے جھگڑا کرنا چھوڑ سکتی ہوں!”
وہ “شاہ میر” کے سینے پر سر رکھے ہوئے بڑے مان سے بول رہی تھی۔
“اچھا تو اس کا مطلب کیا ہے کہ میں تمہاری لسٹ میں سب سے بعد میں آتا ہوں؟”
بانہوں کے حصار میں لیے ہوئے پیار سے پوچھ رہا تھا۔
“پلیز میں صبح صبح سے جھگڑا نہیں کرنا چاہتی، آپ میرے لیے کیا ہیں اپنے دل سے پوچھیں، جواب خود مل جائے گا!”
“دل سے تو بہت بار پوچھا ہے ہر بار یہی جواب آتا ہے کہ تمہیں اپنا بھائی مجھ سے کہیں زیادہ عزیز ہے!”
“ایسا نہیں ہے مجھے آپ بھی بہت عزیز ہیں۔ میں آپ سے صرف اس لیے ناراض ہوتی ہوں کہ کیوں آپ “میرب” کو سمجھا کر بھائی کے پاس واپس نہیں بھیج دیتے؟”
“میں اپنے بھائی کو “میرب” کے لیے تڑپتا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔ وہ کتنی ضدی ہے دو سالوں میں اس نے کبھی بھائی سے بات تک نہیں کی۔ بھائی روز مجھے فون کر کے کہتے ہیں کہ میں ان سے بات کروا دوں، وہ ان دو سالوں میں کبھی ایک دن بھی نہیں بھولے۔ وہ بھائی کو معاف کیوں نہیں کر دیتی؟”
“آپ بھی جانتے ہیں کہ بھائی جھوٹ نہیں بولتے، بھائی کے پاس آپشن نہیں تھا “رائم” کو بچانے کا، پھر بھی “میرب” بھائی کو قصوروار بنا کر کیوں سالوں سے کٹ گہرے میں کھڑا کر کے اپنے نفرت کی آگ میں جلا رہی ہے؟”
“یہ ان دونوں کا مسئلہ ہے تم بیچ میں کیوں پڑ رہی ہو؟”
“تم بھی جانتی ہو کہ ہمارے سمجھانے سے “میرب” نہیں مانے گی، وہ ضدی ہے اور ڈاکٹر نے اس پر سختی کرنے سے منع کیا ہے کیا تم یہ بات نہیں جانتی!”
“میں سب کچھ جانتی ہوں اور میں یہ بھی جانتی ہوں کہ اگر آپ اپنی بہن کو سمجھائیں گے تو وہ آپ کی بات ضرور مانے گی، یہ چکمہ کسی اور کو دیجیے گا کہ وہ آپ کی بات بھی نہیں سنتی!”
نہ چاہتے ہوئے پھر سے “مرہا” کا لہجہ تلخ ہوا اور وہ “شاہ میر” کو وہی چھوڑ کر پانی کو ہاتھوں سے سائیڈ پر کرتے ہوئے سوئمنگ پول سے باہر نکل گئی۔ “مرہا” جا چکی تھی اور “شاہ میر” خالی خالی نظروں سے دیکھتے ہوئے سوئمنگ پول کے اندر ہی کھڑا تھا۔
“میری جان کیسے سمجھاؤں کہ میں اپنی بہن کا مان نہیں توڑ سکتا کیونکہ اگر اس کے فیصلے کے خلاف جا کر اسے سمجھا کر زبردستی بھیجوں گا تو “میرب” کا اپنے بھائی کے مان اور غرور سے بھرا ہوا دل ٹوٹ جائے گا۔ وہ میرے فیصلے کے آگے سر جھکا کر چلی تو جائے گی مگر اس کا مان ٹوٹ جائے گا جو میں کبھی نہیں دیکھ سکتا!”
وہ گہری سانس لے کر سوچتا ہوا سیڑھیوں سے باہر نکل رہا تھا۔
ترکی کی ایک خوبصورت رات میں ہوا بھیانک حادثہ جس نے دو خوبصورت جوڑوں کی زندگی میں تباہی مچا دی تھی۔ اس حادثے کو گزرے ہوئے دو سال ہو گئے تھے مگر ان دو سالوں میں دلوں میں بہت سی دراڑیں پیدا ہو چکی تھی جن کو بھرنے کے لیے “رومان شاہ” اور “میرب” کا ایک ہونا بہت ضروری تھا۔”رومان شاہ” تو اپنی جانب سے دوریاں مٹانا چاہتا تھا مگر “میرب” کی ضد کے آگے وہ ہار کر اپنے قدموں کو باندھ لگائے ہوئے تھا۔ اس رات اگر “رومان شاہ” “میرب” کے فیصلے پر سر نہیں جھکاتا تو “میرب” نے اپنی جان لے لینی تھی وہ “رومان شاہ” کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی وہ اپنے بیٹے کی موت کا ذمہ دار اسی کے باپ کو مانتی تھی۔ “رومان شاہ” اپنی “میرب” کے باغی پن کو دیکھ چکا تھا، وہ سچ میں اپنی جان لے سکتی تھی اس بات کا یقین کرنے کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ اس نے “رومان شاہ” کو حاصل کرنے کے لیے اپنے ہاتھ کی دونوں نسیں کاٹ لی تھی تو اپنے بیٹے کی محبت میں وہ کس حد تک گزر سکتی ہے۔ “شاہ میر” نے اپنی بہن کی زندگی بچانے کے لیے زبردستی “رومان شاہ” سے یہی فیصلہ کروایا تھا کہ وہ کچھ مہینوں کے لیے اس سے دور ہو جائے گا اور وقت کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا مگر یہ “شاہ میر” کی غلط فہمی تھی،اس بات کو دو سال کا عرصہ گزر چکا تھا کچھ بھی تو نہیں بدلا تھا۔
°°°°°°°°°°°
“گڈ مارننگ سر!”
“گڈ مارننگ!”
“ایشال” کہاں ہے؟”
“رومان شاہ” نے ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے مؤدبانہ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوئے “عارف” سے کہا۔
“سر “ایشال” بی بی اپنے روم میں ناشتہ کر کے جا چکی ہیں!”
“عارف” نے “رومان شاہ” کے آگے ناشتہ صرف کرتے ہوئے کہا۔
“عارف” “رومان شاہ” کا باورچی تھا،جب سے “رومان شاہ” ترکی شفٹ ہوا تھا اس وقت سے لے کر کچن کا کام “عارف” ہی سنبھالتا تھا اور اس کی بیوی گھر کے تمام نظام کو دیکھتی تھی،گھر میں اتنے افراد نہیں تھے جتنے نوکر تھے،افراد دو تھے اور نوکر دس۔ گھر میں صرف “ایشال” اور “رومان شاہ” رہتے تھے،”ایشال” پریگنینٹ تھی اس لیے “رومان شاہ” اس کی بہت حفاظت کرتا تھا،”ایشال” کا خیال رکھنے کے لیے گھر میں نوکروں کی ایک بڑی فوج تعینات رہتی تھی۔
“ایشال” بی بی نے ناشتہ اچھے سے کیا تھا یا نہیں؟”
“رومان شاہ” اپنا ناشتہ کرتے ہوئے نظریں ناشتے پر مرکوز کیے بولا۔
“سر ناشتہ تو کیا مگر بس تھوڑا سا،اس کے بعد وہ کہہ رہی تھی کہ اس کا دل نہیں چاہ رہا اور اٹھ کر چلی گئیں۔”
“ہمم… ٹھیک ہے ایک کام کرو ان کا ناشتہ ریڈی کرو اور میرے ساتھ اپنی وائف کو بھیجو!”
“کتنی بار کہا ہے کہ ان کے کھانے کا خاص خیال رکھا کریں،آپ لوگوں کو تنخواہ صرف میری اور “ایشال” بی بی کی شکل دیکھتے کے لیے نہیں دی جاتی!”
“سر ہم اپنی طرف سے پوری کوشش کرتے ہیں بی بی جی ڈانٹ کر ہمیں خاموش کروا دیتی ہیں۔ وہ ہماری مالکن ہیں آپ کی وائف ہیں تو ہم ان سے بحث کیسے کر سکتے ہیں؟”
“آپ لوگوں سے بحث کرنے کو تو کسی نے نہیں کہا، صرف اتنا کہا ہے کہ انہیں کھانے کے لیے فورس کیا کریں اور وہ جو کھانا چاہتی ہیں اس طرح کا کھانا ان کے آگے رکھا کریں تاکہ وہ اپنی صحت کے لیے کھانا کھا سکے!”
“رومان شاہ” ہمیشہ کی طرح “عارف” پر ناراض ہو رہا تھا، “رومان شاہ” چاہتا تھا کہ “ایشال” اور بچہ دونوں صحت مند رہیں مگر “ایشال” اکثر کھانے کو نظر انداز کر کے چلی جاتی تھی۔ “رومان شاہ” ایسا انسان تھا جو نوکروں پر اونچی آواز میں بات کرنا کبھی پسند نہیں کرتا تھا،جب بھی وہ اونچی آواز سے بات نہیں کرتا تھا اسے اپنے غربت کے دن یاد تھے مگر اس کی جان اس کے دل کا سکون آنکھوں کی ٹھنڈک اس سے دور تھی تو “رومان شاہ” میں ایک چڑچڑا پن آ چکا تھا۔ ہنسنے کو تو اس کا دل ہی نہیں کرتا تھا،ہر صبح کی شروعات “میرب” کے میسج سے ہوتی تھی “رومان شاہ” روز صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے اسے کال کرتا “میرب” ہمیشہ کی طرح کاٹ دیتی پھر “رومان شاہ” ہمیشہ کی طرح صبح اٹھ کر میسج پر اس سے معافی مانگتا،”میرب” معافی دینے سے انکار کر دیتی پھر دونوں میں تھوڑا جھگڑا ہوتا،لڑائی ہوتی،طعنے دیے جاتے اس کے بعد “رومان شاہ” کا ایک فیلنگ سے بھرا ہوا،درد سے بھرا ہوا پنجابی میسج جاتا اس پر اینڈ ہو جایا کرتا تھا،جس کا جواب “میرب” کبھی نہیں دیتی تھی۔ اس کے بعد جب “رومان شاہ” کھانے کے لیے ٹیبل پر پہنچتا تو ہمیشہ کی طرح “ایشال” ناشتہ کر کے جا چکی ہوتی تھی۔ “ایشال” “رومان شاہ” کی محبت،توجہ چاہتی تھی،”رومان شاہ” کے لیے تڑپتی تھی،اسے “رومان شاہ” کی محبت چاہیے تھی،”رومان شاہ” کا ساتھ چاہیے تھا،نا چاہتے ہوئے بھی “ایشال” “میرب” سے جیلس ہوتی تھی نفرت کرتی تھی۔ “رومان شاہ” اس کا خیال رکھتا تھا اس کے قدموں میں دنیا کی ہر نعمت رکھنے کو تیار تھا مگر جو کچھ وہ “رومان شاہ” سے چاہتی تھی وہ “رومان شاہ” کے بس میں نہیں تھا۔ وہ “رومان شاہ” سے اس چیز کی طلبگار تھی جو چیز “رومان شاہ” کے بس میں نہیں،وہ “رومان شاہ” کے دل میں اپنے لیے جگہ مانگتی تھی۔ “رومان شاہ” اس پاگل لڑکی کو کیسے بتاتا کہ یہ اس کے بس میں نہیں ہے،جس دل پر اس کا زور ہی نہیں،جو دل اتنا باغی ہے اس کی سنتا ہی نہیں،جس دل پر “جانِ شاہ” کی حکومت ہے اس دل میں اس کی اجازت کے بغیر وہ کیسے اس کو جگہ دے سکتا تھا۔ “رومان شاہ” کھانا کھا کر روز کی طرح “ایشال” کے روم میں “عارف” کی بیوی کے ساتھ ناشتہ لے کر گیا۔ دروازہ کھٹکھٹا کر اندر داخل ہوا تھا،پیچھے ہی “عارف” کی بیوی ناشتے کی ٹرالی لیے ہوئے اندر داخل ہوئی۔
“آپ کھانا لے جائیں،روز یہ احسان مت کیا کریں مجھ پر۔ مجھے جتنی بھوک تھی میں نے کھا لیا!”
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر رخ پھیرتے ہوئے دونوں ہاتھ سینے پر رکھے کھڑی تھی۔
“ایشال” تمہارا یہ بچپنا کب ختم ہوگا،تمہیں روز سمجھا سمجھا کر میں تھک گیا ہوں!”
“رومان شاہ” کا لہجہ سرد تھا۔
“تو مت سمجھایا کریں،کس نے کہا ہے کہ آپ مجھے روز سمجھانے آجایا کریں؟”
“تم جاؤ یہاں سے کبھی تو ہمیں اکیلا چھوڑ دیا کرو ہر وقت سر پر منڈلاتی رہتی ہو!”
“ایشال” نے “عارف” کی بیوی کو غصے بھری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے انگلی کے اشارے سے باہر جانے کو کہا تھا،وہ بیچاری ٹرالی کو چھوڑ کر دروازہ بند کرتی ہوئی وہاں سے جا چکی تھی۔
“ایشال” مجھے اس طرح بدتمیزی سننے کی عادت نہیں ہے،لہجے کو کنٹرول میں رکھ کر تمیز کے دائرے میں رہتے ہوئے بات کیا کرو۔ اپنی اور اسکی عمر کا فرق دیکھو!”
“رومان شاہ” دونوں ہاتھ کمر پر باندھے ہوئے اپنے اسی دبدبے اور جاذبِ نظر اسٹائل میں کھڑا ہوا تھا،ترکی میں رہتے ہوئے اس کے لباس میں کافی چینجنگ آچکی تھی اب زیادہ تر تھری پیس سوٹ میں نظر آیا کرتا تھا جبکہ اس کا فیورٹ لباس آج بھی کرتے شلوار کے اوپر کوٹ پہننا تھا مگر “رومان شاہ” تھا جس پر ہر چیز سوٹ کرتی تھی وہ جو چیز پہنتا تھا اس چیز کے ریٹ بڑھ جاتے تھے،اس خوبصورت شہزادے کو پھٹے پرانے کپڑے بھی پہنا دیے جائیں تو اس کی وجاہت میں کمی نہیں آ سکتی تھی۔ اس کا خوبصورت گورا چہرہ اس پر ہلکی ہلکی بیرڈ جو پہلے سے تھوڑی بڑھ چکی تھی،کثرتی سینہ آج بھی اس بات کی نشاندہی کرتا تھا کہ وہ جم ریگولر جانے کا عادی ہے۔ کمر کے پیچھے ہاتھ باندھ کر سینہ تانے کھڑا ہونے کا شاندار سٹائل اسے سب سے الگ اور منفرد بناتا تھا۔ آج بھی اس پر جا کر نظریں رک جاتی تھی مگر ان دو سالوں میں “رومان شاہ” پہلے سے کافی کمزور ہو چکا تھا،وہ اپنی صحت پر زیادہ توجہ نہیں دیتا تھا،کھانا پینا صرف اتنا تھا جتنا زندگی جینے کے لیے چاہیے ہوتا ہے۔ ہر وقت “میرب” کو پانے کی حسرت اسے اندر سے توڑتی رہتی تھی،جس “رومان شاہ” کا دل “میرب” کی محبت سے لبریز تھا اس “رومان شاہ” سے “ایشال” محبت کی توقع رکھتی تھی۔
“میں تو آپ کے قدموں کی دھول بن کر رہنے کو تیار ہوں،خدا کے لیے میری جھولی میں اپنی محبت ڈال دیں!”
وہ “رومان شاہ” کے قدموں میں بیٹھ چکی تھی۔
“کیا کر رہی ہو پاگل ہو گئی ہو؟”
“کیوں خود کو احترام کے معیار سے گرا رہی ہو؟”
“میں تمہاری بہت عزت کرتا ہوں کیونکہ تم میرے بہت اچھے دوست کی بہن ہو۔ تمہارے بھائی کے مجھ پر بہت احسان ہے،تمہارے بھائی نے میرا اس وقت ساتھ دیا تھا جب میرے ساتھ کھڑا ہونے والا کوئی نہیں تھا، میں ساری زندگی اس کے اس احسان کو نہیں بھول سکتا اور تم یہ سب کر کے مجھے میری ہی نظروں میں گرا رہی ہو۔”
“رومان شاہ” نے اس کو ہاتھ تک نہیں لگایا تھا وہ تیزی سے پیچھے ہو کر کھڑا ہو گیا اسے گوارا نہیں تھا کہ وہ اپنے سامنے کھڑی ہوئی لڑکی کو ہاتھ لگاتا۔ وہ اس لڑکی کی بہت عزت کرتا تھا ہمیشہ عزت کے نگاہ سے ہی دیکھتا تھا،اسے خوش رکھنا چاہتا تھا مگر “ایشال” کی توقعات اس سے بہت زیادہ تھی۔
“شاہ” آپ میرے ساتھ یہ سب کیوں کر رہے ہیں،کیا میں آپ کو اچھی نہیں لگتی یا آپ اس بچے کی وجہ سے مجھ سے نفرت کرتے ہیں؟”
“اگر ایسا تھا تو اس وقت اپنا ظرف دکھا کر مجھے قبول کرنے کی کیا ضرورت تھی؟”
وہ روتی ہوئی نظروں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔
“ہمارا نکاح کس صورت میں ہوا تھا یہ بات تم اچھی طرح سے جانتی ہو اور میں آج بھی تمہاری بہت عزت کرتا ہوں اور ہمیشہ کرتا رہوں گا جب تک زندہ ہوں تو میں تمہاری ہر ضرورت کو پورا کروں گا مگر جو تم چاہتی ہو وہ میں نہیں کر سکتا اینڈ ڈونٹ کال می “شاہ!”
“شاہ” کہنے کا حق صرف “میرب” کو ہے اور “میرب” میرے لیے کیا ہے یہ میں لفظوں میں بیان کر کے نہیں بتا سکتا!”
“کیوں نہیں میں آپ کو “شاہ” کہہ کر بلا سکتی، میں بھی آپ کی بیوی ہوں!”
“تم سب کچھ میرے منہ سے دوبارہ کیوں سننا چاہتی ہو؟”
میں نہیں چاہتا کہ حقیقت گھر کے ملازموں کے سامنے آئے اور تم ہو کہ ہر روز مجھے مجبور کرتی ہو کہ میں تمہیں بار بار حقیقت یاد کرواؤں،تو ٹھیک ہے میں تمہیں حقیقت بتاتا ہوں سنو!”
“تمہاری اور میری کانٹریکٹ میرج ہے۔ تم نے کانٹریکٹ میں صاف صاف لکھا ہے کہ تمہیں صرف تحفظ کی ضرورت ہے تم مجھ سے کسی بھی طرح کی کوئی توقع نہیں رکھتی۔ تم مجھ سے کبھی بھی شوہر ہونے کا حق نہیں مانگ سکتی شاید تم یہ سب بھول چکی ہو۔ اس کانٹریکٹ میں تم نے اپنے ہوش حواس میں سائن کیا تھا۔”
“یاد ہے سب کچھ یاد ہے مگر آپ کے ساتھ رہتے رہتے مجھے آپ سے محبت ہو گئی ہے تو کیا کروں؟”
“تم پاگل ہو گئی ہو ایسے الفاظ مت بولو جو مجھے تمہارے منہ سے زہر لگ رہے ہیں۔ ہمارے درمیان محبت اور میاں بیوی والا کوئی چکر نہیں ہے میں تمہاری عزت کرتا ہوں تمہیں تحفظ دے رہا ہوں کیونکہ تم بھی جانتی ہو کہ تمہاری جان کو خطرہ ہے۔ تمہاری جان بچا کر میں تمہارے بھائی کے احسانوں کا بدلہ چکا رہا ہوں اس سے زیادہ کی توقع مجھ سے مت رکھنا۔”
“رومان شاہ” کی دھاڑ پر ایک بار تو اندر سے “ایشال” کانپ گئی تھی۔
“میں توقع کروں گی اس وقت میں دکھی تھی،پریشان تھی،میں نہیں جانتی تھی کہ آپ کے ساتھ رہتے ہوئے آپ مجھ پر اتنا اثر انداز ہو جائیں گے۔ مجھے آپ سے کچھ نہیں چاہیے تھا، مجھے آپ سے سب کچھ نہیں چاہیے یہ آج کی حقیقت ہے۔ آپ جیسے شوہر کو 24 گھنٹے اپنی نظروں کے سامنے دیکھنا اور لاتعلقی ظاہر کرنا یہ مجھ سے نہیں ہوگا،سچ یہی ہے کہ مجھے آپ کے ہونے سے فرق پڑتا ہے بہت فرق پڑتا ہے مجھے آپ کے ساتھ رہنا ہے،آپ مجھے میلے کپڑے کی طرح خود سے دور نہیں رکھ سکتے!”
“شٹ اپ… شٹ… اپ!”
وہ پھونکاتے ہوئے بولا۔
“غلطی ہو گئی کہ میں تمہارے روم میں آکر، تمہاری صحت کا خیال رکھنے کے لیے تمہیں ناشتہ کروانا چاہتا تھا!”
“رومان شاہ” کا چہرہ غصے سے سرخ لال ہو چکا تھا،آنکھوں سے آگ نکل رہی تھی۔
“آپ مجھے ڈرا دھمکا کر خاموش نہیں کروا سکتے،میں آپ کی بیوی ہوں اور آپ کو مجھے میرے تمام حق دینے ہوں گے اور ایسا کیا ہے اس میں جس کو آپ اسے بھول نہیں سکتے؟”
“مجھے موقع دیں میں آپ کی زندگی خوشیوں سے بھر دوں گی!”
“اس کا نام دوبارہ مت لینا!”
“وہ میرے لیے کیا ہے،میں تمہیں بتانے کا پابند نہیں ہوں آئندہ اس کا نام عزت سے لینا۔ تمہارے جاننے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ “رومان شاہ” کی چلتی ہوئی سانسوں کی ضمانت ہے۔ “میرب” “رومان شاہ” ایک لڑکی کا نام نہیں میری زندگی ہے۔ اس سے زیادہ میں تمہیں بتانے کے موڈ میں نہیں!”
وہ کہتے ہوئے آگ برساتی شعلہ بار نظروں سے دیکھ کر جا چکا تھا۔
“ایشال” بغیر اپنے نائنتھ منتھ کے بڑے ہوئے پیٹ کا لحاظ کیے زمین پر بیٹھ کر چیخوں کے ساتھ ہو رہی تھی۔ وہ تڑپ رہی تھی اسے “رومان شاہ” چاہیے تھا۔ وہ “رومان شاہ” جو پہلے سے ہی “میرب” کا ہو چکا تھا،وہ تو اپنے لیے کوئی ڈسیژن نہیں لے سکتا تھا تو اس کے لیے کیا لیتا۔ اس کے دل پر تو صرف “میرب” کی حکومت چلتی تھی۔ اس کا دن “میرب” سے شروع ہوتا تھا اور رات “میرب” پر ختم ہو جاتی۔دو سالوں میں ملاقات نہ کرنے کے باوجود بھی “میرب” اس کی سانسوں میں بستی تھی۔ “میرب” ایک سیکنڈ کے لیے بھی اس کی سوچوں سے غائب نہیں ہوتی تھی اور یہ پاگل لڑکی اس کے دل میں اپنی محبت تلاش کر رہی تھی۔
“آپ میرے ہیں!”
“آپ کو حاصل کرنے کے لیے میں نے اپنا بہت کچھ گنوا دیا ہے،آپ کو میرا ہونا ہی ہوگا!”
وہ بڑبڑا کر سوچ رہی تھی۔
”میرب…”میرب…”میرب––”
“نفرت ہے مجھے اس نام سے!”
“مجھے نفرت ہے تم سے…شدید نفرت!”
“تم مر کیوں نہیں جاتی تم دور ہو کر بھی کیوں “شاہ” کے حواسوں پر چھائی ہوئی ہو،کیوں نہیں تم اس کے دل سے نکل سکتی؟”
“ایسا کیا ہے تم میں کہ دو سال بعد بھی یہ شخص تمہیں بھول نہیں سکا؟”
وہ فرش پر بیٹھی ہوئی سوچوں میں روتے ہوئے “میرب” کو کوس رہی تھی۔
°°°°°°°°°°°°
“کیا یار اتنے مہینوں کے بعد مل رہے ہیں اور تم ہو کہ نخرے ہی کیے جا رہی ہو۔”
“صبا” یار مجھے نہیں کہیں جانا، میرا دل نہیں چاہتا،تم لوگ یہیں پر بیٹھو میرے ساتھ،ہم باتیں کرتے ہیں مگر مجھے کہیں نہیں جانا!”
“میرب” بیزار سا منہ بناتے ہوئے بول رہی تھی۔
“چلو یار بہت مزہ آئے گا، کتنے مہینوں نہیں بلکہ پورے ڈیڑھ سال کے بعد ہم مل رہے ہیں۔ “سارہ” اور تم تو ملتی رہتی ہو یار میں تم لوگوں کو بہت مس کرتی ہوں۔”
“ہاں تو کس نے کہا تھا عشق لڑا کر شادی کر کے امریکہ سیٹل ہونے کو؟”
“سارہ” نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔
“یار مجھے کیا پتہ تھا کہ شادی کے بعد شوہر کے ہوتے ہوئے بھی میں تم کمینیوں کو اتنا مس کیا کروں گی!”
“تم دونوں کو نہیں پتہ میں امریکہ جا کر تم لوگوں کو کتنا مس کرتی ہوں۔ جب تم بتاتی ہو کہ تم اس میڈم کے پاس بیٹھی ہو اس سے باتیں کر رہی ہو تو پتہ ہے “سارہ” مجھے کتنی جیلسی ہوتی ہے میں سوچتی ہوں کہ میں کیوں نہیں ہوں تم لوگوں کے پاس۔”
“کیونکہ جانا تمہیں عشق ہو گیا تھا اور عشق کے بعد تم نے شادی کر لی اور شادی کرنے کے بعد تم امریکہ اپنے شوہر کے ساتھ سیٹل ہو گئی اس لیے تم ہمارے ساتھ نہیں ہو!”
“سارہ” “صبا” کے درد کو ہوا میں اڑاتے ہوئے دانت نکالتے ہوئے ہنستے ہوئے بول رہی تھی۔
“شٹ اپ “سارہ” میں تمہیں اپنا دکھ سنا رہی ہوں اور تمہارے دانت ہی اندر جانے کا نام نہیں لے رہے!”
“ارے بھئی اب دانت ہے تو ہیں کیا دانت نکلوا کر گھر پہ رکھ کر آتی، اور ویسے بھی یہ ایک دکھیاری روح کم تھی جو تم بھی دکھی آتما بن رہی ہو،خدا کا نام ہے تھوڑا ہنسو کھیلو۔”
“ہنسنے کھیلنے کی ہی کوشش کر رہے ہیں اگر یہ میڈم کہیں جانے کو تیار ہو جائے۔”
“صبا” نے “میرب” کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
“میرب” تیار ہو جاؤ، جانا ہے تو مطلب جانا ہے،کل شام کا پلان پکا ہے ہم جا رہے ہیں!”
“سارہ” نے ضد کرتے ہوئے کہا۔
“تم لوگ اتنی ڈھیٹ کیوں ہو؟”
“میرا سچ میں دل نہیں کرتا باہر جانے کو!”
“میرب” اس طرح کب تک خود سے دور بھاگتی رہو گی، باہر نکلو لوگوں سے ملو زندگی ختم نہیں ہوئی ہے۔ تم “رومان” بھائی کو معاف کیوں نہیں کر دیتی؟”
“خود بھی تکلیف میں ہو اور “رومان” بھائی کو بھی تکلیف میں رکھا ہوا۔ ان کو معاف کر کے دونوں پھر سے ایک ہو جاؤ!”
“میں نہیں معاف کر سکتی، اگر تمہارے “رومان” بھائی میرے بیٹے کو واپس لا دیں تو میں ان کو معاف کر دوں گی!”
“کیا تمہارے “رومان” بھائی میرے “رائم” کو واپس لا سکتے ہیں؟”
“رائم” کا نام لیتے ہی “میرب” کی آنکھوں سے آنسوں ٹپ ٹپ گرنے لگے تھے۔
“میرب” کیوں اتنی نہیں ضدی بن گئی ہو؟”
“رومان” بھائی بے قصور ہیں،اس بات کو کیوں نہیں مان لیتی کوئی،باپ جان بوجھ کر اپنے بیٹے کو موت کے منہ میں نہیں دھکیل سکتا،تمہیں اتنی سی بات سمجھ میں کیوں نہیں آتی۔”
“تمہارے “رومان” بھائی بے قصور نہیں ہے ان کے پاس دو آپشن تھے، ایک یہ کہ وہ مجھے بچا لیتے اور دوسرا یہ کہ وہ میرے بیٹے کو، میرے “رائم” کو، میری جان کو بچا لیتے مگر وہ سیلفش بن گئے، انہوں نے مجھے بچا لیا،میرا چھوٹا سا “رائم” تڑپتے ہوئے روتے ہوئے مجھ سے دور جا رہا تھا۔ میں اس سے خود سے دور جاتا ہوا دیکھ رہی تھی۔کیسے بھول جاؤں وہ سب نہیں بھول سکتی نہیں اس کو معاف کر سکتی، جس بیٹے کو دنیا میں لانے کے لیے میں اپنی جان پر کھیل گئی، کیا “شاہ” یہ نہیں جانتے تھے۔ کتنی دعاؤں سے منتوں سے میں نے “رائم” کو خدا سے لیا،اولاد کے لیے “شاہ” نے میری تڑپ کو دیکھا تھا۔ “شاہ” کو پتہ ہونا چاہیے تھا کہ اگر “میرب” بچ بھی گئی تو کبھی اپنے بیٹے کے بغیر خوش نہیں رہ سکے گی!”
“صحیح فیصلہ یہ ہوتا کہ وہ میرے بیٹے کو بچا لیتے!”
“شاہ” کے غلط فیصلے نے میری بیٹے کی جان لے لی، میرا بیٹا مر گیا، مر گیا میرا بیٹا!”
وہ تڑپ کر رو رو کر بتا رہی تھی دونوں ہاتھ پھیلا کر اپنے خالی ہاتھ دکھا رہے تھی۔ اس کی تکلیف کو دیکھ کر “صبا” “سارہ” کی آنکھوں سے بھی آنسوؤں بہہ رہے تھے،زندگی کو جینے والی ہنسنے والی، چہکنے والی “میرب” دکھوں میں گر گئی تھی۔
“تم دونوں کو کیا لگتا ہے کہ میں “شاہ” کو معاف نہیں کرنا چاہتی؟”
“میں “شاہ” کو معاف کرنا چاہتی ہوں مگر میں جب بھی “شاہ” کی طرف قدم اٹھاتی ہوں میری نظروں کے سامنے میرے “رائم” کا روتا ہوا چہرہ آتا ہے، وہ قاتل میرے بیٹے کو جکڑے ہوئے مجھ سے دور لے جا رہے تھے اور “شاہ” میرے بیٹے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ چھوڑ دیتے مجھے میرے بیٹے کو بچا لیتے، میں قیامت کے دن “شاہ” پر خوش ہو جاتی مگر “شاہ” نے میرے بیٹے کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ میرا چھوٹا سا بیٹا اس کے خون میں لت پت کپڑے جب گھر آئے،سوچو مجھ پر کیا گزری ہوگی،میرے “رائم” کے لیے جو ڈریس میں نے اس کی برتھ ڈے کے لیے خریدا تھا،اس سوٹ میں میرے “رائم” کو مار دیا گیا۔ اسکا جسم بھی ہم تک نہیں پہنچایا گیا صرف خون میں لت پت کپڑے آئے۔ ساتھ میں چٹھی پر لکھا گیا تھا کہ میرے بیٹے کی لاش اس قابل نہیں تھی کہ بھیجی جاتی،اس کے ٹکڑے ہو گئے تھے۔ ظالموں نے یہ لکھتے ہوئے یہ نہیں سوچا ایک ماں پر کیا گزرے گی،وہ مریں گے اللہ تعالی ان کو ان کے کیے کی سزا دے گا!”
“آ ہ آ ہاااا… آہ آ ہ… میرا بیٹا،میری جان جو ہنستا کھیلتا میری نظروں کے سامنے کچھ گھنٹوں پہلے تھا، میرے اس بیٹے کا چہرہ میں آخری بار نہیں دیکھ سکی!”
“میرب” اپنے سینسز میں نہیں تھی۔
“پھر بھی تم لوگ کہتی ہو کہ میں سب کچھ بھول جاؤں میں اسے معاف کر دوں۔ میں کیسے بھول جاؤں میں نہیں بھول سکتی،میں نے بہت کوشش کی کہ میں “شاہ” کو معاف کر دوں میں نہیں کر سکتی۔”
وہ بچوں کی طرح آوازیں نکال کر اونچی اونچی سسکیوں سے رو رہی تھی،اس کی تڑپ اس کی جلتی ہوئی ممتا کو دیکھ کر “سارہ” “صبا” بھی آنسوں سے رو رہی تھی۔
“میری جان صبر کرو صبر!”
“صبا” اور “سارہ” “میرب” کو اپنے ساتھ لگائے ہوئے گروپ میں بیٹھی تھی۔
“میرب” میری جان “رومان” بھائی بھی تو اسی درد سے گزر رہے ہیں!”
“رائم” ان کا بھی اکلوتا بیٹا تھا وہ مجبور تھے!”
“تم لوگ اب بھی اس کی طرفداری کر رہی ہو؟”
وہ ان کو جھٹکتے ہوئے دور ہوئی تھی “صبا” اور “سارہ” نے پھر سے کھینچ کر “میرب” اپنے ساتھ لگا لیا۔
“میرب” ہمیں تمہارے دکھ کا اندازہ ہے مگر “رومان” بھائی بھی تو اسی دکھ سے گزرے ہیں۔ تمہارے ساتھ تمہاری پوری فیملی ہے “رومان” بھائی اکیلے اس درد میں تڑپ رہے ہیں۔ ان کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہے۔ کوئی نہیں ہے جو ان کو ہمت دے ان کے آنسو صاف کرے!”
“تم ان کو معاف کر کے اس کے پاس چلی جاؤ تم دونوں کا دکھ ایک ہی تو ہے۔ تم دونوں ہی مل کر ایک دوسرے کے زخموں کا علاج کر سکتے ہو!”
“صبا” اسے بہت پیار سے سمجھا رہی تھی۔
“نہیں معاف کر سکتی نہیں کروں گی معاف کبھی نہیں کروں گی!”
“میرب” ایک بار پھر اٹل انداز سے بول رہی تھی۔ “صبا” “سارہ” ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ کر خاموش ہو گئی تھی کیونکہ “میرب” کا درد بہت بڑا تھا۔ اس نے اپنے بیٹے کو کھویا تھا جس کا قصور وار وہ اپنے ہی شوہر کو مانتی تھی جبکہ ایسا نہیں تھا مگر اس کی ممتا اس پر حاوی تھی جو اس کے اندر چھپی ہوئی بیوی اور محبوبہ کو جیتنے نہیں دے رہی تھی۔ “میرب” کیسے بتاتی کہ وہ اپنے ساتھ جھگڑتے جھگڑتے تھک چکی تھی۔ جب بھی “رومان شاہ” کے حق میں دلیل دیتی اس کی ممتا اپنے بیٹے کے درد کو بیان کرنے لگتی تھی۔ ہر بار اس کی ممتا جیت جاتی تھی اور “میرب” “رومان شاہ” ہار جاتی تھی “میرب” اپنا دل چیر کر کیسے دکھاتی کہ وہ خود میں ہی کتنی تکلیف میں ہے۔ وہ نا تو اپنے بیٹے کو کھو کر مر رہی تھی،نا اپنے “شاہ” سے دور ہوکر زندہ رہ پا رہی تھی۔ ایسی تکلیف دہ زندگی تھی،نہ اس سے جیا جا رہا تھا اور نہ مرا جا رہا تھا۔ اپنے ہاتھوں سے جان لے کر وہ رب کی بارگاہ میں گنہگار نہیں بننا چاہتی تھی،خود کے لیے جہنم کی آگ نہیں اکٹھا کرنا چاہتی تھی۔ اس کے باوجود اس نے کئی بار خود کشی کرنے جیسی گندی سوچ کو سوچا اور کوشش بھی کی۔ کسی بدبخت ظالم کی گندی نظر ہی لگ گئی تھی اس خوبصورت مسکراتے ہوئے جوڑے کو۔ دونوں کا بھی کتنے خوش ہوا کرتے تھے۔ “رائم” کے پیدا ہونے کے بعد دونوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک وقت میں دونوں ایک دوسرے سے اتنا دور ہو جائیں گے۔ زندگی ایسا پلٹا مارے گی کہ خوشیاں غم میں بدل جائیں گی۔
سچ کہتے ہیں کہ آنے والا وقت اپنی آغوش میں کیا چھپائے ہوئے ہیں کوئی نہیں جانتا۔ اگر کوئی آنے والے وقت کے بارے میں جان سکتا تو آج ایک دوسرے سے بے انتہا محبت کرنے والے “رومان شاہ” اور “میرب” اتنے دور نہ ہوتے۔
°°°°°°°°°°°
عشقِ رومان شاہ
✍️ حیات ارتضیٰ S.A
ایک باپ کی کہانی جو اپنی بیوی اور خاندان کی عزت کے لیے، اپنے اکلوتے بیٹے کی جان کی قربانی دینے پر مجبور ہو گیا۔
✨ سوال برائے قارئین:
آپ اگلی قسط پڑھنا چاہیں گے؟
اور آپ کس طرح کی کہانیاں پڑھنا پسند کرتے ہیں؟
کمنٹ باکس میں ضرور بتائیں!