Ishq Rumaan shah by hayat irtaza SA episode :2

عشقِ رومان شاہ!
قسط نمبر 2!
تحریر حیات ارتضی
°°°°°°°°
“ہم پاکستان کیوں جا رہے ہیں؟”

“ایشال” کوئی تمیز ہوتی ہے، میں نے تمہیں اتنی آزادی نہیں دی کہ تم میرے کمرے میں اس طرح آسکو!”
“اور نہ ہی تمہارے ساتھ میری ایسی کوئی فرینڈ شپ ہے کہ تم اس طرح سے دروازہ کھول کر میری اجازت کے بغیر میرے روم میں آ جاؤ!”
“رومان شاہ” اپنی جگہ سے غصے سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا۔

“میں بیوی ہوں آپ کی،آپ کے روم میں آ سکتی ہوں۔ میری بات کا جواب دیجیے!”

“میرے روم سے دفع ہو جاؤ،میرے ساتھ دوبارہ اس ایٹیٹیوڈ سے بات مت کرنا،میں تمہارا پابند نہیں ہوں کہ تمہارے ہر سوال کا جواب دوں۔”
“ایشال” کی بدتمیزی سے اندر آنے پر،سوال کرنے پر، “رومان شاہ” کا چہرہ غصے سے سرخ پڑ چکا تھا۔ اسے کہاں برداشت تھا کہ کوئی اس سے اس انداز میں بات کرے۔

“اس سے ملنے کے لیے جا رہے ہیں،جس کے نام کی تسبیح روز کرتے ہیں،جس کے لیے ہر وقت بے قرار رہتے ہیں،جس کی تصویر موبائل کی سکرین پر سجا رکھی ہے۔ کیوں وہ دور ہو کر بھی آپ سے دور نہیں ہوتی آپ کے اوپر قبضہ جما کر بیٹھی ہے؟”
کہتے ہوئے اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

“میں تمہارے کسی سوال کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا،کل کی فلائٹ ہے تمہیں اگر جانا ہے تو ٹھیک ہے نہیں تو رہو یہاں پر گھر میں،نوکر ہیں تمہارا خیال رکھنے کے لیے۔”

“پہلے بھی نوکر ہی خیال رکھتے ہیں آپ کو تو اس لڑکی کے خیالوں سے فرصت نہیں ہے۔”

“میں نے زندگی میں تم سے زیادہ ناشکری کرنے والی عورت کبھی نہیں دیکھی۔ تمہیں مرتے ہوئے زندگی دی،تمہیں عزت دی اور تم میری “جانِ شاہ” کا مقابلہ کرنا چاہتی ہو؟”
“اور میں کیا اُس کو سوچوں گا، سوچا تو اسے جاتا ہے جو مصنوعی ہو، جو آپ کی روح میں بسا ہو اسے سوچنے کی ضرورت نہیں پڑتی!”
“سوچنا تو مجھے تمہیں پڑتا ہے کہ انسانیت کے ناطے تمہارا خیال رکھنا چاہیے تم میری سوچ ہو۔ “جانِ شاہ” کو سوچنے کی ضرورت نہیں پڑتی،وہ تو ہر سانس کے ساتھ خود ہی میرے جسم کو تسکین دیتی رہتی ہے،میری روح کو توانائی بخشتی ہے۔ ایک لمحے کے لیے اگر جس دن وہ میری سوچوں میں نہیں ہوگی مطلب کہ “رومان شاہ” مر چکا ہو گا۔ “رومان شاہ” کو سانس نہیں آئے گی،دل دھڑکنا بند ہو جائے گا کیونکہ جیتے جی تو وہ کبھی میری سوچوں سے دور نہیں ہو سکتی۔”
“رومان شاہ” کا “میرب” سے اظہارِ محبت “ایشال” کے دل میں آگ لگا رہا تھا،اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے پورے وجود پر بچھو ہزاروں کی تعداد میں ڈنگ مار رہا ہو وہ ایسے درد کو وہ محسوس کر رہی تھی۔

“میرب” کو سوچنے کے لیے مجھے عہد نہیں کرنا پڑتا،وہ تو ایسے ہے جیسے دل دھڑکتا ہے،چاہے آپ سو رہے ہو یا جاگ رہے ہوں دل کو یاد نہیں کروانا پڑتا کہ اسے دھڑکنا ہے۔ ایسے ہی میری سوچوں کو یاد نہیں کروانا پڑتا کہ “میرب” کو یاد رکھنا ہے۔ “میرب” تو میری روح ہے روح میں بسا ہوا وہ خوبصورت احساس ہے جس کو پا کر “رومان شاہ” نے محبت کا مطلب سمجھا ہے۔ “میرب” “رومان شاہ” کی صبح کا آغاز ہے،میری راتوں کا سکون ہے “میرب” میرا خیال بھی وہی ہے میرا احساس بھی وہی۔”

“بس کر دیں اس سے زیادہ اس کی تعریف نہیں سن سکتی، کیا خاص ہے اس میں؟”
وہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر چلائی۔

“یہ جاہلوں والی حرکتیں میرے روم سے باہر جا کرو!”
“اتنا کچھ بتانے کے بعد بھی اگر نہیں پتہ چلا کہ اس میں کیا ہے تو میں نہیں بتا سکتا!”
“میرا دل تو چاہتا ہے کہ تمہیں یہی دفن کر کے جاؤں،کوفت ہونے لگی ہے مجھے تمہاری شکل دیکھ کر۔”

“ہاں تاکہ آپ پاکستان جاکر اس کے ساتھ رہیں،ایسا تو میں کبھی نہیں ہونے دوں گی!”

“تم مجھے روکو گی؟”
تنزیہ نگاہوں سکتے پوچھ رہا تھا۔

“میں آپ کو اس کا ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتی پلیز…”

“مجھے لگتا ہے تمہیں سائیکاٹرسٹ کی ضرورت ہے، تم دماغی طور پر نارمل نہیں لگتی ہو مجھے اور تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے میں اس کا ہو چکا ہوں،ہمیشہ سے اس کا تھا، ہوں اور رہوں گا!”
“مجھ سے غلط امیدیں مت لگاؤ۔”رومان شاہ” مر تو سکتا ہے مگر “میرب” سے دغا بازی نہیں کر سکتا!”

“پلیز مجھے ایک موقع دیں ہم یہاں سے نہیں جائیں گے آپ اس کو بھول جائیں، کہیں تو میں یہ بچہ بھی ہمارے درمیان سے ہٹا دوں گی پھر ہم نئی زندگی شروع کریں گے!”

“تم میرے کمرے سے جا رہی ہو یا ملازموں کو کہہ کر باہر پھینکواؤں؟”
“کیوں مجبور کر رہی ہو مجھے وہ کرنے کو جو میں نہیں کرنا چاہتا؟”

“پلیز میری بات…”

“دفع ہو جاؤ!”
“ایک بار کہی ہوئی بات تمہاری عقل میں کیوں نہیں گستی؟”
وہ اتنی زور سے چلایا کہ روم کی دیواریں تک لرز اٹھی تھی۔ “ایشال” بھی ڈر سے کانپ گئی تھی اس نے تو ہمیشہ “رومان شاہ” کو خاموش ہی دیکھا تھا مگر یہ “رومان شاہ” کا کون سا روپ تھا وہ دیکھ کر گھبرا گئی تھی،اس کے پہلو تلے سے زمین نکل گئی۔ بہت تیزی سے روم سے باہرآ چکی تھی اسے “رومان شاہ” سے خوف آرہا تھا اور “رومان شاہ” کی خوبصورت آنکھیں غصے سے لال ہو کر دہشت ناک لگ رہی تھی۔ آواز میں ایسی دہشت تھی کہ روم سے باہر نکل کر بھی “ایشال” کا دل خوف سے کانپ رہا تھا۔ “ایشال” نے “رومان شاہ” کا یہ روپ کبھی نہیں دیکھا تھا،وہ جب سے “رومان شاہ” کی زندگی میں آئی تھی “رومان شاہ” ہمیشہ خاموش ہی رہتا تھا،”رومان شاہ” کے اندر اتنا غصہ ہے یہ اسے نہیں پتہ تھا۔ “رومان شاہ” نے اس لڑکی سے خود کو اس طرح سے دور رکھا تھا کہ آج تک اس نے کبھی اکیلے اس لڑکی کے روم میں قدم تک نہیں رکھا تھا۔ جب بھی کسی کام سے گیا ہمیشہ گھر کے ملازمہ اس کے ساتھ ہوا کرتی تھی۔ گھر میں کام نہ ہوتے ہوئے بھی نوکروں کی فوج اسی لیے کھڑی کر رکھی تھی کہ “ایشال” ہمیشہ ہجوم میں گھری رہے اور اس کے دماغ میں کبھی کچھ غلط نہ ہو۔ “رومان شاہ” کو خود پر تو پورا بھروسہ تھا کہ وہ اپنی “میرب” کے سوا میں کسی کو نہ دیکھ سکتا ہے نہ چاہ سکتا ہے نہ ہی اس کے اسکے مضبوط عصابوں اور جذباتوں کے لیے کسی عورت کی ضرورت ہے۔ اس کی آنکھوں کو دیکھنے کے لیے صرف “جانِ شاہ” چاہیے تھی،جذباتوں کی قربت نے ہمیشہ “میرب” “رومان شاہ” کو ہی مانگا تھا۔ مضبوط شخصیت کا مالک ہو کر وہ ایک لڑکی سے گھبراتا تھا،اس نے اپنی حفاظت کے لیے گھر میں پہرے لگا رکھے تھے۔ ایسا پاک دامن شخص جو اپنے آپ کی حفاظت کرتا تھا اپنی ناراض دو سال سے روٹھی ہوئی بیوی کے لیے۔
ایسا بے مثال عشق صرف “رومان شاہ” ہی کر سکتا ہے،ایسا عاشق نہ کوئی آیا ہے نہ آئے گا۔عاشق ہو تو “رومان شاہ” جیسا،جو اپنی حفاظت اپنے یار کے لیے کرے۔
محبت کا پہلا اصول یہی ہے جہاں رشتوں میں تقدس کی مٹھاس لازم ہو۔ ایسے عاشق تو ہزاروں مل جائیں گے جو زبان سے محبت کے موتیوں کی مالا جپتے ہوئے محبوب کو باتوں میں ورگلا لیں گے مگر ایسا عاشق ایسا چاہنے والا کہیں نہیں ملے گا جس نے خود کو سنبھال کر رکھا ہو اپنے محبوب کے لیے،جس نے اپنی حفاظت کی اپنی بیوی کے لیے۔ جس کی نظریں کسی اور کو دیکھنا گناہ سمجھتی تھی،جس کے ہاتھوں نے “جانِ شاہ” کے لمس کے سوا کبھی کسی لمس کو محسوس نہیں کیا۔
زندگی میں کچھ فیصلے مجبوری میں کیے ہیں،ایسی مجبوریاں ہر شخص کی زندگی میں آتی ہیں۔ ایسے ہی ایک مجبوری ایک احسان کے بدلے اس نے “ایشال” سے کانٹریکٹ میرج تو کر لی مگر اس کے دل نے ایک سیکنڈ کے لیے بھی کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ “ایشال” اس کی بیوی ہے۔ “ایشال” کے ساتھ سب کچھ پہلے سے طے تھا،کنٹریکٹ میں صاف صاف لکھا ہوا تھا کہ کبھی “رومان شاہ” پر کوئی حق نہیں جتا سکتی نہ حق مانگ سکتی ہے مگر “رومان شاہ” جیسا خوبصورت شخص سامنے ہو تو ایمان کا ڈگمگا جانا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ “ایشال” اپنی زبان سے مکرنا چاہتی تھی مگر وہ “رومان شاہ” تھا،اپنے وعدوں کا ہمیشہ سے پابند،اپنے کیے ہوئے فیصلوں پر قائم رہنے کا عادی شخص تھا۔ “رومان شاہ” کی آنکھوں سے نیند اڑ چکی تھی یہ سوچ کر کہ کل اس کی نظریں “جانِ شاہ” کو دیکھیں گی۔ بیڈ پر آنکھیں کھولے ہوئے تکیے پر سر رکھ کر ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھے خیالوں کی دنیا میں “میرب” کو سوچ رہا تھا،آج کی رات “رومان شاہ” کی آنکھوں میں نیند آئے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
°°°°°°°°°°°
“میرب” کب تک اس طرح خود کو سب سے دور رکھو گی،معاف کر دو بھائی کو،ختم کر دو اپنی اور ان کی سزا۔”

“مرہا” تمہیں آج بھی صرف اپنے بھائی کا درد محسوس ہوتا ہے،میرا نہیں،جب بھی آتی ہو صرف اپنے بھائی کی طرف داری کرنے کے لیے آتی ہو۔”

“میرب” تم مجھے سگی بہنوں سے کہیں زیادہ عزیز ہو،جیسا تم سوچتی ہو ویسا بالکل نہیں ہے۔ میں آپ لوگوں کی زندگی کو یوں بکھرا نہیں دیکھ سکتی،اس لیے تمہیں سمجھاتی ہوں ضد چھوڑ دو!”

“ضد ہوتی تو چھوڑ دیتی، یہ درد ہے جس کو میں چاہ کر بھی نہیں چھوڑ سکتی!”
“حقیقت یہی ہے کہ تمہیں اپنے بھائی کی تکلیف محسوس ہوتی ہے،بس زبان سے تم کہنا نہیں چاہتی۔ زبان سے بہن کہہ دینے سے نند بہن کبھی نہیں بنتی!”

“افسوس ہے “میرب” مجھے تمہاری سوچ پر تم میرے لیے نند ہونے سے پہلے میری بہت اچھی دوست ہو۔ میرے اکلوتے بھائی کی زندگی اس کی جان ہو تم!”
“کیا میں یہ بات نہیں جانتی کہ “رومان” بھائی کی جان بستی ہے تمہارے اندر اس کے باوجود میں تمہارے بارے میں کبھی برا سوچوں تو خدا کرے مجھے کبھی دوسری سانس بھی نہ آئے۔ میں تم لوگوں کے حق میں بری نہیں ہوں۔ میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ بس کر دیں ایک دوسرے کو تڑپانا۔ تڑپا تو “میرب” تم رہی ہو حقیقت یہی ہے کیونکہ “رومان” بھائی کا تو کوئی دن ایسا نہیں ہوتا جب وہ فون نہیں کرتے جب وہ تم سے بات کر کے تمہیں واپس اپنی زندگی میں لانے کی کوشش نا کرتے ہوں مگر تم ہو کہ ضد چھوڑنے کا نام ہی نہیں لے رہی!”

“یہ ضد نہیں ہے…”

“یہ ضد ہے “میرب” اس بات کو سمجھو…”
“رومان” بھائی “رائم” سے تمہارے جتنا ہی پیار کرتے تھے وہ “رائم” کے لیے کبھی برا سوچ ہی نہیں سکتے۔ اگر تم ماں ہو تو وہ بھی “رائم” کے باپ ہیں یار۔ تم کیسے سوچ سکتی ہو کہ بھائی جان بوجھ کر “رائم” کی زندگی کو داؤ پر لگا سکتے تھے؟”
“بھائی کے پاس آپشن نہیں تھا، اگر ہوتا تو وہ اپنے بیٹے کو کبھی خود سے دور نہ ہونے دیتے!”

“نہیں تمہارے بھائی سیلفش تھے مجھے بچانے کے لیے میرے بیٹے کی جان کو داؤ پر لگا دیا،اگر وہ چاہتے تو میرے بیٹے کو بچا سکتے تھے!”

“اس وقت یا تو وہ تمہیں بچا لیتے یا “رائم” کو…… ہاں تو اگر تمہیں لگتا ہے کہ بھائی سیلفش ہو گئے تو یار وہ بھی تو تمہاری محبت میں ہوئے!”
“کہاں ملے گا ایسا عاشق ایسا شوہر ایسا چاہنے والا جس نے اپنی بیوی پر اپنی اولاد قربان کر دی ہو،تمہیں میرے بھائی کی محبت کی قدر کرنی چاہیے “میرب” مگر تم نے تو میرے بھائی کو سزا کا مستحق ٹھرا دیا۔ میرے اس بھائی کو جس نے کبھی کسی کا برا نہیں چاہا،میرے بھائی کو اس بات کی سزا دے رہی ہو کہ اس نے اپنی ہی اولاد کا برا سوچا ہے۔ کیا ہو گیا ہے “میرب” کبھی ٹھنڈے دماغ سے سوچو جو کبھی کسی کا برا نہیں سوچ سکتا وہ اپنی اولاد کا برا کیسا سوچے گا۔ مجھے افسوس ہوتا ہے تمہاری سوچ پر!”
“مرہا” کہنے پر آئی تو کہتی چلی گئی تھی وہ ان دو سالوں میں اپنے بھائی کو روز تڑپتا ہوا دیکھ رہی تھی اس کا بھائی کیسے “میرب” کی آواز سننے کے لیے فون کرتا تھا مگر یہ لڑکی اپنے روم سے ہی باہر آنے کو تیار نہیں ہوتی تھی۔

“بس یہ تھی تمہاری حقیقت…”
“سچ آخر زبان پر آ ہی گیا!”
“میرب” درد بھری نظروں سے دیکھ کر بولی۔

“تمہارا بھائی صحیح ہے اور میں غلط تو ہوں ٹھیک ہے میں غلط ہی صحیح مجھے صحیح نہیں بننا۔ میں تمہارے بھائی کو کبھی معاف نہیں کر سکتی اگر معافی چاہیے تو مجھے میرا “رائم” لا دے۔ جاؤ اور جا کے پوچھو اپنے بھائی سے کیا اپنی ساری دولت لگا کر میرے بیٹے کو واپس لا سکتے ہیں؟”
“کیا وہ میری اجڑی ہوئی گود کو بھر سکتے ہیں اگر بھر سکتے ہیں،تو آپ کے بھائی کے قدموں کی دھول بن کے رہنے کو تیار ہوں!”
زور سے روتے ہوئے چلا رہی تھی۔

“واہ “میرب” تمہیں بھائی اپنے قدموں کی دھول بنا کے رکھیں گے، جس “میرب” کو بھائی نے اپنا دل چیر کر اس کے اندر رکھ لیا ہے تاکہ “میرب” کو کہیں دنیا کی نظر نہ لگ جائے۔ “میرب” کو کوئی تکلیف نہ ہو،اس میرب کو بھائی اپنے پیروں کے نیچے رکھیں گے دھول بنا کر––– تم نے تو میرے بھائی کی محبت کا مذاق ہی بنا دیا ہے!”
“میرب” آج مجھے دکھ ہو رہا ہے اور نہ چاہتے ہوئے میرا دل چاہ رہا کہ میں کہہ دوں کہ تم لائق نہیں ہو میرے بھائی کی محبت کی، اگر ہوتی تو میرے بھائی کی محبت کی قدر کرتی!”

“اس سے آگے ایک لفظ بھی “میرب” سے مت کہنا!”
“تمہارا بھائی… تمہارا بھائی… تمہارا بھائی بس کر دو یار!”

“تمہارا بھائی دودھ کا دھلا ہوا ہے،میں غلطیاں نکال رہی ہوں؟”

“بس کرو یار اس طرح سے “میرب” سے کسی کو بات کرنے کا حق نہیں۔”
“شاہ میر” شور کی آواز سن کر “میرب” کے روم میں آیا تھا۔

“میں آپ کی بہن کے بارے میں کچھ غلط نہیں کہہ رہی ہوں صرف وہی کہہ رہی ہوں جو حقیقت ہے۔ کاش اس حقیقت کو آپ لوگ اسے دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔”

“بتانے پر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا؟”
“گھر کو جنگ کا میدان مت بناؤ!”

“کب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا؟”
“دو سال بہت ہوتے ہیں،لوگ اپنے عزیزوں کو کھو کر اپنی زندگی کو آگے بڑھاتے ہیں مگر یہ خود بھی وہیں رکی ہوئی ہے اور میرے بھائی کو بھی وہیں پر لٹکا کر رکھا ہوا ہے۔”

“تو کیوں لٹکے ہوئے ہیں تمہارے بھائی ان کو بولو کہ شادی کر لیں اپنی زندگی گزاریں خوشحال ہو جائیں میں نے تو نہیں روکا!”

“کاش “رومان” بھائی یہ سب کر لیتے اور ان کو کر لینی چاہیے!”

“تم کیوں نہیں اس کے پاس کچھ دنوں کے لیے چلی جاتی، جاؤ جا کر اپنے بھائی کی شادی کروا دو تاکہ وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھ جائے کیوں بیٹھے ہیں میرے انتظار میں زندگی خراب کر رہے ہیں کیوں اپنی جوانی برباد کر رہے ہیں؟”
“وہ خوبصورت ہیں پڑھے لکھے ہیں کوئی بھی خوبصورت پڑھی لکھی لڑکی کا رشتہ ان کو باآسانی سے مل جائے گا تم جاؤ اور جا کر اپنے بھائی کی شادی کروا دو!”

“اچھا اور تم برداشت کر لو گی بھائی کی دوسری شادی؟”

“ہاں کر لوں گی!”
“مجھے تمہارے بھائی کی زندگی میں نہ واپس جانا ہے اور نہ ہی مجھے کوئی فرق پڑتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کیا کر رہے ہیں۔”

“تم لوگوں کو ذرا سی شرم آرہی ہے،جاہلوں کی طرح تم دونوں لڑائی کر رہی ہو۔ ڈسکسٹنگ تم دونوں ایسی تو کبھی نہیں تھی!”
“شاہ میر” نے غصے سے بولتے ہوئے انہیں خاموش کروایا۔

“جاہل تو میں ہوں، آپ لوگ تو پڑھے لکھے ہیں!”
“آپ کی بہن پڑھی لکھی ہے، بس ایک جاہل میں ہوں ایک میرا بھائی ہے، ہم میں نہ عقل ہے اور نہ ہی رشتوں کو نبھانے کی صلاحیت!”

“مرہا” بس کر دو یار تم کیوں بات کو اتنا بڑھا رہی ہو؟”
“یہ ان دونوں کا مسئلہ ہے وہ خود سلجھا لیں گے تمہیں بیچ میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے!”
“شاہ میر” نے اریٹیٹ ہوتے ہوئے کہا۔

“مجھے بیچ میں پڑنے کی ضرورت ہے وہ بھائی ہے میرا اور میرے بھائی کی زندگی خراب ہو رہی ہے!”

“اور میری بہن کی زندگی وہ بالکل ٹھیک ہے؟”
“میری بہن کی زندگی خراب نہیں ہو رہی؟”
“یہ تم نے کیا میرا بھائی میرا بھائی لگا رکھا ہے۔ میں نے تو تمہارے بھائی کو صرف تمہارا بھائی کبھی نہیں سمجھا مگر تم ہر بار مجھے یہ احساس دلاتی ہو یاد کرواتی ہو کہ تمہارا بھائی صرف تمہارا ہے!”

“ہاں کیونکہ میرا بھائی صرف میرا ہے، اگر میرا بھائی آپ کا بھائی ہوتا یا آپ اپنی دوستی کو اچھی طرح سے نبھاتے تو سمجھاتے اپنی بہن کو، فورس کرتے اور اس سے اپنے گھر واپس بھیجتے مگر نہیں آپ تو اسے چھوٹی بچی بنا کر اس کی ضد کو پورا کرنے کے لیے اس کا ساتھ دے رہے ہیں!”

“میں اپنی بہن کو فورس نہیں کر سکتا یہ اس کا بھی گھر ہے اگر وہ نہیں جانا چاہتی تو میں کیا کروں میں سمجھا سکتا ہوں زبردستی نہیں کر سکتا اور اگر میری جگہ تمہارا بھائی ہوتا تو کیا تمہیں فورس کر کے گھر سے نکال دیتا؟”

“وہ “رومان” بھائی ہیں وہ آپ کے جیسے نہیں ہیں۔ اگر میں “میرب” کی جگہ ہوتی تو “رومان” بھائی مجھے زبردستی آپ کے ساتھ واپس بھیج دیتے کیونکہ انہیں حق پر بولنا آتا ہے مگر آپ سیلفش ہیں صرف اپنی بہن کے بارے میں سوچ رہے ہیں،آپ کو حق پر بولنا آتا ہی نہیں ہے!”
“مرہا” غصے سے بولتی ہوئی وہاں سے جا چکی تھی۔

“بھائی پلیز آپ دونوں میرے لیے جھگڑا مت کیا کریں۔ مجھے لگتا ہے میں منحوس ہوں جب سے آپ کے گھر پر آئی ہوں آپ دونوں میں اکثر لڑائی کی وجہ میں بن جاتی ہوں۔”
“میرب” روتے ہوئے بول رہی تھی۔

“شششش…”
“دوبارہ ایسا لفظ اپنے منہ سے مت نکالنا!”
“میری بہن کل بھی میرے لیے رحمت تھی اور آج بھی رحمت ہے!”
اسے پیار سے گلے لگاتے ہوئے سمجھایا۔

“مگر میں آپ کی شادی شدہ لائف میں جھگڑے کی وجہ تو بن رہی ہوں۔ مجھے قسم سے اچھا نہیں لگتا جب آپ میری وجہ سے جھگڑتے ہیں۔”

“اس کی فکر مت کرو میں اسے سمجھا لوں گا!”

“بھائی وہ بہت غصے میں ہے!”

“بھائی پر یقین رکھو میں اسے سمجھا لوں گا!”

“پکا؟”

“سو پرسنٹ پکا!”
“پلیز “میرب” خوش رہا کرو۔ میں تمہارے ہر فیصلے میں تمہارے ساتھ ہوں مگر جو کچھ “مرہا” نے کہا ہے اس پر غور کرنا اور کہیں بھی یہ مت سمجھنا کہ میں تمہارے فیصلے میں تمہارے ساتھ نہیں ہوں مگر “میرب” “مرہا” جو بول رہی تھی اس میں بہت ساری باتیں تو حقیقت تھی،جو بھی فیصلہ کرو سمجھداری سے کرو،دو سال ہو گئے ہیں “میرب” تمہیں ایسے دکھی دیکھ کر ممی پاپا خوش نہیں ہیں۔”
“شاہ میر” کافی دیر تک اسے سمجھاتا رہا، “میرب” ہمیشہ کی طرح اپنے بھائی کی باتوں کو خاموشی سے سن رہی تھی۔ “میرب” کو اپنے بھائی سے بحث کرنا بالکل پسند نہیں تھا مگر وہ اپنے فیصلے پر اٹل تھی۔ “شاہ میر” اسے سمجھا رہا تھا مگر اس کے دماغ میں مسلسل “مرہا” کا خیال چل رہا تھا۔ آخر وہ بھی تو “شاہ میر” کی جان تھی جتنے غصے سے وہ گئی تھی “شاہ میر” جانتا تھا کہ اب وہ کمرے میں جا کر روئے گی اور اس کا رونا “شاہ میر” کی جان نکالتا تھا مضبوط دل اے سی پی آج بھی اپنی بیوی کے آنسوؤں کے سامنے ہار جایا کرتا ہے۔

“بھائی آپ پریشان نہیں ہوں۔ میں ٹھیک ہوں اور آپ کی باتوں پر ضرور سوچوں گی۔ آپ جا کر اس کو دیکھیں، وہ غلط نہیں ہے، بس وہ بھی اپنے بھائی سے بہت پیار کرتی ہے۔ اگر اس کی جگہ میں ہوتی تو شاید میں بھی یہ کرتی!”
“میرب” نے اپنے بھائی کو پریشانی میں مبتلا دیکھتے ہوئے ہلکی سی چہرے پر سمائل لاتے ہوئے خود کو نارمل پریزینٹ کروانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
وہ اپنے بھائی کی شادی شدہ زندگی میں فساد کی جڑ بن کر ان کے رشتے کو خراب نہیں کرنا چاہتی تھی مگر یہ سچ تھا کہ آج “مرہا” کی باتیں اس کے دل پر بہت ساری ضربیں چھوڑ گئی تھی۔

“اب دوبارہ تم رؤ گی تو نہیں؟”

“نہیں––آپ جائیں بے فکر ہو کر میں ٹھیک ہوں!”

“شاباش… اوکے میں چلتا ہوں،تم میری باتوں پر غور ضرور کرنا،بیٹا زندگی گزارنے کے لیے کبھی کبھی لچک لینی پڑتی ہے!”
اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے روم سے جا چکا تھا۔

“اے اللہ رحم فرما میری مشکلوں کو آسان کر دے!”
“اے اللہ میری آزمائشوں کو ختم کر دے!”
“میرے مالک یا تو میرے دل کو موم کر دے کہ میں شاہ کو معاف کر سکوں یا مجھے اپنے پاس بلا لے میں تھک گئی ہوں خود سے لڑتے لڑتے!”
وہ سوچتے ہوئے بیڈ پر بیٹھی ہوئی خالی نظروں سے فرش کو دیکھ رہی تھی۔
°°°°°°°°°°°°
“رومان شاہ” نے دو سال بعد اپنے ملک کی سرزمین پر قدم رکھا تھا،اپنے ملک کی فضاؤں میں گھلی ہوئی مٹی کی خوشبو کو آنکھیں بند کر کے سانسوں میں اترتے ہوئے محسوس کر رہا تھا۔ اپنی سرزمین کو چاہنے والے دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں جتنی بھی ترقی یافتہ ملک میں رہ لیں مگر وہ اپنی سرزمین کو کبھی نہیں بھول سکتے “رومان شاہ” بھی انہی لوگوں میں شامل تھا۔ “رومان شاہ” دو سال بعد اپنے گھر میں آ کر کتنا سکون محسوس کررہا،اس کے پاس الفاظ نہیں تھے بتانے کے لیے اور ایسا کوئی دلدار بھی نہیں تھا جس کو وہ بتاتا کہ اس وقت وہ کتنا پرسکون ہے کتنا خوش ہے۔ گھر کے پرانے ملازمین “رومان شاہ” کو دیکھ کر بہت خوش تھے،گھر میں قدم رکھتے ہی “رومان شاہ” کو اس گھر میں گزرا ہوا ہر لمحہ آنکھوں کے سامنے دکھائی دے رہا تھا۔ دو سال بعد اس نے اپنی ماں کے روم کا دروازہ کھولتے ہوئے اندر قدم رکھا تو اس کے دل میں محسوس کیا کہ سامنے ہی جائے نماز پر بیٹھی ہوئی نورانی چہرہ لیے اس کی امی جان اٹھ کر کھڑی ہو گئی ہیں۔ وہ دونوں بازو پھیلا کر اپنے بیٹے کا ویلکم کر رہی ہیں اور “رومان” کو ایسا لگ رہا تھا اس کی امی جان اپنے بیٹے کا استقبال کر رہی ہیں۔ “رومان شاہ” تصوّراتی کی دنیا میں اپنی ماں کو دیکھتے ہوئے اسی جگہ پر جہاں کھڑا ہوا تھا جہاں اکثر اس کی امی جان جائے نماز بچھا کر نماز پڑھا کرتی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے کتنا قیمتی اور خوبصورت وقت ہمارے ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسل جاتا ہے۔ کتنے خوبصورت رشتے ہمارے ہاتھوں سے ہمیشہ کے لیے چھوٹ جاتے ہیں۔ اپنی امی جان کو یاد کرتے ہوئے بے اختیار “رومان شاہ” کی آنکھوں میں آنسوں آگئے تھے،وہ بیڈ پر اپنا مضبوط بھاری ہاتھ پھیرتے ہوئے اس احساس کو محسوس کرنا چاہتا تھا کہ کبھی اس بیڈ پر اس تکیے پر اس کی والدہ کا نورانی وجود لیٹا ہوا ہوتا تھا۔ اس کمرے میں آج بھی اس کی ماں کے ساتھ گزارے ہوئے خوبصورت لمحے قید تھے،جن کو “رومان شاہ” محسوس کرتے ہوئے روم کا دروازہ بند کر چکا تھا۔ نجانے کتنی دیر وہ اپنی ماں کے کمرے میں بیٹھا ہوا آنسوؤں سے رو رہا تھا “رومان شاہ” بڑا ہو گیا تھا زندگی میں بہت آگے جا چکا تھا زندگی میں بہت سارے اتار چڑھاؤ دیکھ لیے تھے مگر اس کے اندر چھپا ہوا “رومیوں” آج بھی اس کمرے میں آتے ہی باہر آ گیا تھا آج بھی “رومیوں” رو رہا تھا اپنی ماں کو یاد کر کے۔ “رومان شاہ” نہ کبھی بھولا تھا نہ بھول سکتا تھا اس ہستی کو جو اس کے لیے کیا معنی رکھتی تھی یہ تو اس کے قریب رہنے والے لوگ جانتے تھے۔ ہر بیٹا اپنی ماں سے محبت کرتا ہے مگر “رومان شاہ” جیسی محبت عزت اور احترام بہت کم بیٹے کرتے ہیں،بہت کم بیٹے ایسے ہوتے ہیں جو نچھاور ہو جاتے ہیں اپنی ماؤں کی ہستیوں پر۔ باہر سب کو مضبوط دکھائی دینے والا “رومان شاہ” اپنی ماں کے کمرے کی ہر چیز کو ہاتھوں سے چھوتے ہوئے چھوٹے بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا تھا۔ رو رو کر جب تھک گیا کوئی چپ کروانے والا نہیں تھا،نہ تو وہ ہستی تھی جب اپنے بیٹے کو سینے سے لگا کر دلاسہ دیتی کہ “بیٹا میں تیرے پاس ہوں تو چپ کر جا”، اور نہ ہی “میرب” تھی جو کندھے پر ہاتھ رکھ کے کہتی کہ “شاہ” چپ کر جائیں آپ کی امی جان جہاں بھی ہوں گی آپ کو دیکھ رہی ہوں گی اور آپ اگر ایسے روئیں گے تو ان کی روح کو تکلیف ہوگی۔” کوئی بھی تو نہیں تھا جو اسے صبر کے باندھ لگانے میں مدد کرتے ہوئے اسے چپ کرواتا۔ کبھی کبھی زندگی انسان کو ایسے موڑ پر لے آتی ہے جہاں پر نہ تو واپسی کے راستے پر جانا آسان ہوتا ہے نہ آگے بڑھنا آسان ہوتا ہے آج “رومان شاہ” بھی اسی مقام پر کھڑا تھا۔ وہ تھک گیا تھا خود سے لڑتے لڑتے،”میرب” کو ان دو سالوں میں اس نے اس سے دور کر کے پوری کوشش کی تھی کہ “میرب” خود سے اسے معاف کر کے اس کی زندگی میں لوٹ آئے مگر ایسا نہیں ہو سکا تھا اور اس سے زیادہ “شاہ” میں اور صبر نہیں تھا کہ وہ “میرب” سے دور رہتا وہ راتوں کو جاگ جاگ کر تڑپ تڑپ کر تھک چکا تھا۔ اپنے سکون کو واپس حاصل کرنے کے لیے “میرب” کو اپنی زندگی میں لانا بہت ضروری تھا۔ اس نے دل میں ٹھان لیا تھا کہ اب تو زبردستی ہی صحیح مگر “میرب” اپنی زندگی میں واپس لے آئے گا اور یہ سب اتنا آسان نہیں ہوگا وہ یہ بھی جانتا تھا۔ ابھی تو “جانِ شاہ” کو “ایشال” کا نہیں پتہ تھا مگر اسے جب پتہ چلے گا اس کا کیسا ری ایکشن ہوگا اس بات کو باخوبی جانتا تھا مگر “رومان شاہ” ہر چیز کے لیے تیار تھا اب وہ “میرب” سے جدائی برداشت نہیں کر سکتا تھا اس کے علاوہ ہر چیز کے لیے اس نے ذہنی طور پر خود کو تیار کر رکھا تھا۔ کوئی بھی چیز آپ کو اتنی تکلیف نہیں دیتی جب آپ ذہنی طور پر اس دکھ کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ “رومان شاہ” اپنا دل ہلکا کرتے ہوئے اپنی ماں کے روم سے باہر آیا تھا،باہر سب ملازمین “رومان شاہ” کے انتظار میں کھڑے تھے۔ اس کی سرخ لال آنکھیں بتا رہی تھی کہ وہ اور رو کر آیا ہے مگر زبان سے اس نے اپنا دکھ کسی پر بھی ظاہر کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا۔ وہ ایسا ہی تھا اپنے جذباتوں خیالاتوں پر پہرا لگانے والا،کسی پر اپنا دکھ ظاہر نہ کرنے والا۔ وہ اندر سے ٹوٹ کر بھی سب کی نظروں میں بہادر بن کر چٹان کی طرح کھڑا رہتا تھا۔

“رومان” بھائی ہم بہت خوش ہیں کہ آپ واپس آگئے ہیں مگر آنے سے پہلے بتاتے تو ہم گھر کو لائٹوں سے سجا دیتے!”
“زکیہ” جو گھر کی پرانی ملازمہ ہونے کے ساتھ اس کی ماں کی بہت اچھی خدمت گزار بھی تھی اس نے “رومان شاہ” کو اپنی ماں کے روم سے باہر نکلتے ہوئے دیکھ کر کہا۔

“تو کوئی بات نہیں اب سجاؤ گھر کو دلہن کی طرح!”
“راہوں میں اتنے پھول بچھاؤ کہ فضاؤں کو پتہ چلنا چاہیے کہ گھر کی مالکن واپس آرہی ہیں!”
وہ دونوں ہاتھ کمر پر باندھے ہوئے بڑے ٹھہراؤ سے بول رہا تھا۔

“کیا مطلب بھائی میں کچھ…سمجھی… نہیں۔”
“مالکن تو آپ کے ساتھ آئی ہے نا!”
“زکیہ” نے نظریں “ایشال” کی جانب کرتے ہوئے لفظوں کو توڑ پھوڑ کر کہا تھا۔

“زکیہ” کیا بوڑھی ہو گئی ہیں؟”
“یہ گھر “میرب” کا ہے اس گھر کی مالکن اور آپ کے بھائی کے دل کی مالک آج بھی “میرب” ہے۔ تم شاید بھول گئی ہو یہ گھر امی جان “میرب” کے حوالے کر کے گئی ہیں،تو کیسے سوچ لیا کہ “میرب” کی جگہ میں کسی اور کو دے دوں گا؟”
“رومان شاہ” کا یہ کہنا جہاں “زکیہ” کے چہرے پر خوشی لے آیا تھا وہ پتہ نہیں کیا کیا سوچ رہی تھی مگر پوچھنے کی ہمت نہیں تھی دوسری جانب “ایشال” سن کر آگ کی لپٹوں کی زد میں آ چکی تھی۔

“کیا مطلب آپ اسے اس گھر میں واپس لے کر آئیں گے وہ میرے ساتھ رہے گی؟”

“وہ تمہارے ساتھ نہیں رہے گی… تم اس کے ساتھ رہو گی!”
“تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے یہ گھر بھی اس کا ہے، میں بھی اس کا ہوں اور یہاں پر کھڑے تمام ملازمین بھی اس کے ہیں!”

“تو میں کیا ہوں؟”
“میری حیثیت کیا ہے؟ آپ آتے ہی نوکروں کے سامنے مجھے ذلیل کر رہے ہیں!”

“یہ سب گھر کے فرد ہیں اور گھر کی کوئی ایسی بات نہیں جو یہ لوگ نہیں جانتے،سالوں سے ہمارے ساتھ جڑے ہیں آج سے نہیں!”
“امی جان کے وقت سے اس گھر کے تمام اچھے اور برے وقت میں ہمارے ساتھ رہے ہیں۔ اگر تمیز سے رہو گی،اپنی حدوں کو یاد کر کے رہو گی تو یہ گھر تمہارا بھی ہے اور تمہیں یہاں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ اس کی گارنٹی میں دیتا ہوں!”
“اور اگر تم “میرب” کا مقابلہ کرنا چاہتی ہو تو پھر مشکل بڑھتے بڑھتے اتنی بڑھ جائیں گی کہ ایک دن یہاں پر تمہیں سانس لینا مشکل ہو جائے گا۔ بہتر ہے کہ تم اس سے مقابلہ مت کرو،جس کے ہاتھ میں باغ دوڑ میری امی جان تھما کر گئی۔”

“تو کیا چاہتے ہیں کہ میں اس کی پابند ہو کر رہوں؟”

“میں تو خود اس کا پابند ہوں، تم سے بھی یہی امید کرتا ہوں!”

“بہتر ہوگا کہ آپ مجھ سے امیدیں مت لگائیں… اور کچھ دن صبر کریں آپ بھی––اسے آپ نہیں لا سکتے!”

“میں تمہارا حکم مان لوں، میں تمہارا پابند ہوں؟”
“میں “رومان شاہ” اپنی مرضی کا مالک ہوں،تم دوبارہ مجھے آرڈر دینے کی کوشش مت کرنا!”
جب سے “ایشال” نے اپنے رنگ ڈھنگ بدلے تھے “رومان شاہ” کو “ایشال” سے شدید چڑ ہونے لگی تھی۔

“اللہ نہ کرے کہ میں آپ پر حکم جھاڑوں، کچھ دن رک جائیں!”
“ایشال” نے اپنے لہجے کو نرم کیا تھا وہ سمجھ چکی تھی کہ “رومان شاہ” کو جتنا تیش دلا رہی ہے وہ سخت ہوتا جا رہا ہے۔

“وجہ کیوں رک جاؤں؟”

“پہلے میں گھر کو اپنے طریقے سے سیٹل کروں گی اس کے بعد لے آئیے گا اسے مگر یہاں پر رہنے کے لیے ہم دونوں میں رشتہ برابری کا ہو گا!”

“پہلی بات کہ تمہیں محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہے، جس کا گھر ہے وہ خود آ کر اپنے طریقے سے سیٹل کر لے گی اور دوسری بات میں کوئی وعدہ نہیں کروں گا، تم برابری کے خواب مت دیکھو، میں تو تمہیں اس کے مقابل اتارنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا!”
وہ دو ٹوک انداز سے بول رہا تھا۔

“زکیہ” آپ تیاری کریں!”
“میں آپ کی بی بی جی، آپ کی بھابی کو لینے جا رہا ہوں!”
یہ کہتے ہوئے “رومان شاہ” کے گال بلش کر رہے تھے۔

“جی بھائی…”
“زکیہ” نے مسکراتے ہوئے سر کو ہلایا اور باقی ملازمین کو تیاری کی آگاہی دینے لگ گئی۔

“پلیز پہلے مجھے تو گھر اچھی طرح دکھا لیں ایسی کیا بے چینی ہے کہ ہم نے ابھی گھر میں قدم ہی رکھا ہے اور آپ اسے لینے جا رہے ہیں؟”
“پلیز آپ تھک گئے ہیں تھکن اتاریے پھر لے آئیے گا۔”
وہ تڑپ کر گیٹ تک “رومان شاہ” کے پیچھے آئی تھی۔

“تھکن اتارنے کا سامان ہی تو لینے جا رہا ہوں!”
“میری تھکن تو اس کو دیکھتے ہی اتر جائے گی اور جب وہ جھگڑا کرے گی مجھ پر حق جمائے گی تو جو سکون میں محسوس کروں گا اس سکون سے میں دور نہیں رہنا چاہتا!”
“رومان شاہ” کا چہرہ خوشی سے بلش کر رہا تھا۔ وہ تیزی سے نکلتا ہوا بڑی سی گاڑی کے اندر بیٹھتے ہوئے جا چکا تھا۔ “ایشال” تڑپتی ہوئی نفرت کی آگ میں جلتی ہوئی گھر کے اندر جا رہی تھی،”شاہ” نے اس کا استقبال تک نہیں کروایا تھا،کسی کو یہ بتایا تک نہیں تھا کہ وہ اس کی بیوی ہے۔

“ویلکم “میرب…” آؤ تمہیں ایسا ٹف ٹائم دوں گی کہ تم یاد رکھو گی!”
“شاہ” کو تو ایک نہ ایک دن میں اپنا بنا ہی لوں گی میں بھی دیکھتی ہوں “شاہ” کتنی دیر تک میری محبت سے بچتا ہے!”
وہ دماغ میں سوچ کر دانتوں کو پیستی ہوئی لاؤنج میں پڑے ہوئے صوفے پر بڑا سا پیٹ لے کر بیٹھ گئی تھی کیونکہ ابھی تک تو اسے یہ نہیں پتہ تھا کہ اس کا روم کون سا ہے اور ملازم تو اپنے گھر کی مالکن کے آنے کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے۔ “ایشال” دماغ میں شیطانی آئیڈیاز لیے خطرناک پلاننگ کر رہی تھی کہ اسے کیا کرنا ہے۔
°°°°°°°°°°°
“میری جان اب تمہارا موڈ ٹھیک ہوگا یا ایسے ہی منہ سجا کر رخ دوسری جانب کر کے بیٹھی رہو گی؟”

“میرا منہ ہے میری مرضی…”

“ہاں یہ بھی ٹھیک ہے، تمہارا منہ تمہاری مرضی!”
“لگتا ہے میں نے تمہیں بہت زیادہ ڈھیل دے دی ہے!”
“سچ کہتے ہیں بیوی کو ضرورت سے زیادہ سر پر نہیں چڑھانا چاہیے، اب تمہیں میں اپنے شوہروں والا اصلی روپ دکھاؤں گا تو تب جا کر تمہارے ہوش ٹھکانے آئیں گئے۔ میری نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تم بہت میرے سر پر چڑھ گئی ہو!”

جب سے “مرہا” کی “میرب” کے ساتھ لڑائی ہوئی تھی اور “شاہ میر” بیچارے نے بیچ میں جا کر “میرب” کی طرفداری کی تھی اس وقت سے “مرہا” “شاہ میر” سے ناراض تھی۔ “شاہ میر” نے ہر حربہ استعمال کیا لیکن “مرہا” اس سے بات نہیں کر رہی تھی۔ “شاہ میر” جس کو “مرہا” پر غصہ تو بالکل نہیں آتا تھا، بیچارے نے مصنوئی غصہ بنا کر دکھانے کی پوری کوشش کی ہے،اب دیکھتے ہیں کیا رزلٹ ملتا ہے۔

“مطلب کیا کریں گے آپ میرے ساتھ؟”
“مرہا” لڑاکو بن کر اٹھ کر کھڑی ہو گئی تھی۔

“کرنے کو تو بہت کچھ کر سکتا ہوں اگر نہیں کر رہا تو میری فرمانبرداری سمجھو!”

“اچھا کیا کریں گے یہ ذرا میں بھی تو سنوں؟”

“اگر تمیز سے میری بات نہیں مانو گی تو پھر تمہیں بتاؤں گا کہ میں کیا کر سکتا ہوں، میرا حکم ہے کہ جا کر میرے لیے گرم پانی کا باتھ ٹب تیار کرو… ورنہ––”

“ورنہ کیا؟”
وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے ہوئے متلاشی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔

“جا کر دو منٹ سے پہلے باتھ ٹب گرم پانی سے میرے لیے ریڈی کرو، اگر پانی کی گرمائش میرے مطابق نہیں ہوئی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا، پھر تمہیں ورنہ کا مطلب بھی سمجھاؤں گا!”

“نہیں پہلے آپ مجھے ورنہ کا مطلب سمجھائیں میں نہیں کر رہی آپ کا کوئی بھی کام۔ میں ملازمہ نہیں ہوں آپ کی جو آپ کا ہر حکم مانوں۔ آپ مجھے ورنہ کا مطلب سمجھائیں!”
یہاں تو کیس “شاہ میر” پر الٹا پڑ چکا تھا، “شاہ میر” کو اپنی جان بچانی مشکل ہو رہی تھی۔

“حد ہے یار بندہ چلو ڈرامہ کرنے کے لیے ہی ڈر جاتا ہے!”
“شاہ میر” نے بیچارا تھا منہ بناتے ہوئے کہا۔

“بات کو گھمائیں مت!”
“آپ بتائیں کہ میں آپ کا کام نہیں کروں گی تو ورنہ کیا؟”
“مجھے جاننا ہے کہ آپ کیا کریں گے؟”
“مرہا” کی سوئی ایک ہی بات پر اٹکی ہوئی تھی۔

“کچھ نہیں یار اگر تم میرا کام نہیں کرو گی تو میں خود اٹھ کر کر لوں گا، یہ بتانا چاہ رہا تھا کہ ورنہ میں یہ کروں گا!”
“شاہ میر” کی بات پر “مرہا” کو ہنسی آرہی تھی جس کو اس نے بڑی مشکل سے روک رکھا تھا۔

“مجھے فضول کی تڑیاں مت دکھایا کریں!”
“دو بیٹوں کی ماں ہوں!”

“جی جی پتہ ہے کہ آپ دو دو جوان بیٹوں کی ماں ہیں، جو اس وقت پیمپر لگا کر سکول گئے ہوئے ہیں اور آکر میری ہڈی پسلی ایک کر دیں گے۔ برائے مہربانی آپ اپنے بیٹوں کو مت بتائیے گا کہ مجھ سے گستاخی ہوئی ہے۔ میں جا رہا ہوں شاور لینے بڑی مہربانی ہوگی اگر ملازمہ سے کہہ کر میرے لیے ناشتہ ریڈی کروا دیں تو بڑی نوازش ہوگی!”
“شاہ میر” دانت نکالتے ہوئے شاور لینے کے لیے واش روم میں جا رہا تھا۔

“آپ کو ناشتہ نہیں ملے گا باہر سے جا کر کیجیے!”

“نہ یار اتنی زیادتی مت کرو،مجھے باہر کا کھانا اچھا نہیں لگتا تم اچھی طرح سے جانتی ہو، مجھے ناشتہ بنوا کر دو پلیز!”

“جی نہیں آپ گھر پر ناشتہ نہیں کر سکتے، جا کر باہر سے ناشتہ کیجیے جس طرح سے مجھ پر چلائے اسی طرح باہر جا کر ناشتہ بھی کریں!”

“یار پہلی بات میں تم پر چلایا نہیں تھا اور دوسری بات دو دن سے سزا بھگت رہا ہوں۔ پورے دو دن سے باہر کھانا کھا رہا ہوں تم جانتی ہو باہر کا کھانا مجھے سوٹ نہیں کرتا یار میرا پیٹ خراب ہو گیا ہے!”

“کوئی بات نہیں پیٹ خراب ہو جاتا ہے مگر دماغ ٹھیک ہو جاتا ہے!”
“گھر کا کھانا کھا کھا کے، بیوی سے خدمتیں کروا کر بیوی کو ہی آنکھیں دکھاتے ہیں۔ میں نہیں ناشتہ نہیں بنواؤں گی، چپ چاپ تیار ہو کر جائیں اور باہر سے ناشتہ کیجئے گا!”

“حد ہے یار کتنی ظالم ہو گئی ہو۔ تھوڑا تو لحاظ کر لیا کرو، تمہارا شوہر ایک پولیس والا ہے سب اس سے ڈرتے ہیں سوائے تمہارے!”
“چلو ایک کام کرو سنو دو چار کسیاں دے دو میں اسی سے کام چلا لوں گا!”
“شاہ میر” دانت نکالتے ہوئے
پیار بھری نگاہوں سے دیکھتا اس کی جانب قدم بڑھا رہا تھا۔

“کچھ بھی نہیں ملے گا مطلب کچھ بھی نہیں!”
“مرہا” کہہ کر چالاکی سے روم سے بھاگنے والی تھی کہ “شاہ میر” نے دو ہی قدموں میں فاصلہ طے کرتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے واپس کھینچ چکا تھا۔

“چھوڑیں مجھے!”
“کوئی غلط بات مت کیجئے گا، میں سنجیدہ ہوں!”
وہ ناراض سی نظروں سے دیکھتے ہوئے، “شاہ میر” کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی

“اوہ ہو! تو اب حدیں بھی طے ہوں گی؟ چلو بتا دو، کہاں تک اجازت ہے، وعدہ ہے ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھوں گا!”

“چھوڑیں مجھے…”

“نہیں چھوڑوں گا جو کر سکتی ہو کر لو!”
“پولیس والے سے بچ کر بھاگنے کی کوشش کر رہی تھی میری جان!”
کمر پر ہاتھ باندھے ہوئے محبت بھری نگاہوں سے دیکھ کر ہنس رہا تھا۔

“قسم سے دو بچوں کے باپ بن گئے ہیں ابھی تک آپ کا ٹھرکی پن ختم نہیں ہوا!”
چہرے کا رخ دوسری جانب کرتے ہوئے وہ خود کی حفاظت کر رہی تھی۔

“ٹھرکی اچھا جی اب بتاتا ہوں ٹھرکی کسے کہتے ہیں!”

“نہانے کا ارادہ ترک کرتے ہوئے، مرہا کو آہستگی سے بانہوں میں لیا اور نرمی سے بیڈ پر بٹھا دیا۔ پھر اس کے چہرے کے قریب جھک کر اپنی محبت کا وہ لمس دیا، جس نے مرہا کی ناراضی کی برف کو پل میں پگھلا دیا۔ محبت کی ہلکی سی پھوار جیسے دل پر برسنے لگی تھی، اور مرہا کے چہرے پر بےاختیار مسکراہٹ بکھر گئی۔وہ چاہ کر بھی شامیر کی محبت کے سامنے اپنی ناراضگی کو برقرار نہیں رکھ سکی۔”

وہ اپنے “میر” سے ناراض نہیں تھی نہ ہی اس سے “میرب” سے کوئی گلہ تھا وہ تو اپنے جان سے پیارے بھائی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔ اپنے اکلوتے بھائی کی تڑپ کو برداشت نہیں کر پا رہی تھی،اپنے بھائی کی تڑپ اس کا درد وہ اپنے دل میں محسوس کرتی تھی،اس لیے اکثر درد میں وہ اپنے “میر” سے ناراض ہو جایا کرتی تھی۔ “شاہ میر” ایسے ہی اس کے غصے کو اپنی محبت کی پناہوں میں لے کر سمیٹ لیا کرتا تھا۔ “شاہ میر” کی محبت کے سامنے “مرہا” کا غصہ ہمیشہ ہی ٹھنڈا پڑ جاتا تھا،”شاہ میر” کی محبت “مرہا” کے غصے پر ایسے برستی تھی جیسے آگ پر ٹھنڈا پانی۔ اسے اپنی محبت کی بارش میں بھگو کر مضبوط سینے میں چھپائے ہوئے لیٹا تھا۔

“میری جان ناراض مت ہوا کرو،تمہاری ناراضگی تمہارے “میر” سے برداشت نہیں ہوتی!”
اس کے بالوں میں پیار سے انگلیاں پھیرتے ہوئے اس کو بچوں کی طرح سمجھا رہا تھا۔

“آپ ہمیشہ مجھے جھوٹا ثابت کر دیتے ہیں، ہمیشہ مجھ پر ہی غصہ کرتے ہیں، آپ “میرب” کو کیوں نہیں سمجھاتے کہ وہ بھائی کے پاس چلی جائے۔ آپ “میرب” سے بہت محبت کرتے ہیں مجھ سے نہیں کرتے!”

“میری جان بہن اور بیوی کی محبت بہت الگ ہوتی ہے، ان کا مقام بہت الگ ہوتا ہے۔ اپنی اور “میرب” کی محبت کو کمپیئر مت کیا کرو!”
“میری جان ایک بات دماغ سے نکال دو کہ میں تم سے کم محبت کرتا ہوں،اے سی پی کی جان ہو تم ورنہ جتنا غصہ تم کرتی ہو کبھی سوچا ہے میں کیسے برداشت کر لیتا ہوں؟”
“مجھ میں تو مقابل کا غصہ برداشت کرنے کی ہمت ہی نہیں ہے،تمہارا غصہ تو میں ہنستے ہنستے سہہ جاتا ہوں،اب بھی تمہیں میری محبت کا ثبوت چاہیے؟”
“شاہ میر” نے اسے اپنی بانہوں کے نرمان حصار میں بھر لیا، سینے سے لگا کر جیسے اپنی موجودگی کا یقین دلا رہا ہو۔ اس کے ماتھے پر لب رکھے، چہرے کو نرمی سے چھو کر جیسے سکون بانٹ رہا ہو۔ اس کے لمس میں وہ چاہت تھی، جو بے لفظ ہو کر بھی دل تک اتر رہی تھی۔ “مرہا” کی ساری بےچینیاں، اس خاموش قربت میں مٹتی چلی گئیں۔

محبت بھی کتنی لطیف اور خوبصورت کیفیت ہے۔ جس سے دل شکوہ کرتا ہے، ناراضگی برستا ہے، وہی شخص سکون کا باعث بن جاتا ہے۔ جیسے “مرہا” اس لمحے اپنے شوہر کے سینے پر سر رکھے، بچوں کی سی معصومیت سے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر کبھی کھیل رہی تھی، کبھی تھپتھپا رہی تھی۔ “شاہ میر” کے سینے پر ہاتھ پھیرنا، “مرہا” کا پرانا معمول تھا اور “شاہ میر” نے کبھی اسے روکنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ دونوں کے درمیان خاموش سی محبت کے اظہار کا ایک خوبصورت انداز تھا۔ سچی محبت وہی ہوتی ہے، جہاں قربت کے بعد دوری کی کوئی جگہ نہ ہو… بلکہ قربت کے بعد بھی دل مزید قریب ہو جائیں، یہی محبت کی اصل خوبصورتی ہے۔

                 °°°°°°°°°°°°°

“اگر اپ کو اعتراض نہ ہو تو میں اپنی بیوی کو لینے آیا ہوں!”

“بیٹا ہمیں کیوں اعتراض ہوگا، ہم تو خوش ہیں اگر وہ تمہارے ساتھ چلی جائے تو…”
“ہم نے سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر بیٹا تم جانتے ہو کہ وہ کتنی ضدی ہے!”

“آپ لوگ پریشان نہ ہوں بس مجھے اجازت دیجئے میں اسے لے کر جانا چاہتا ہوں میں خود سب کچھ ٹھیک کر لوں گا!”
“رومان شاہ” صرف روایتی دامادوں کی طرح پوچھ رہا تھا جبکہ اسے “میرب” کو لے جانے کے لیے کسی کی اجازت نامے کی ضرورت نہیں تھی۔

“ٹھیک ہے بیٹا لے جانا مگر رکو ابھی ابھی تو آئے ہو دو سال بعد تم نے اس گھر میں قدم رکھا ہے، کھانا کھاؤ، آرام کرو، اس کے بعد “میرب” کو لے کے چلے جانا!”

“نہیں کھانا بھی ہم ایک ساتھ اپنے گھر میں کھائیں گے اور آرام بھی اپنے گھر میں ہی کریں گے۔”
“رومان شاہ” کی بات پر “ملک زبیر” اور اس کی بیوی نے ایک دوسرے کے چہرے کی جانب دیکھا۔ دل میں تو یہی سوچا تھا کہ یہ شخص آج بھی نہیں بدلا۔ وہ آج بھی دو ٹوک بات ہی کرنے کا عادی تھا مگر وہ میاں بیوی دونوں اپنی بیٹی کی خوشیاں ہی تو چاہتے تھے اس لیے وہ خوش تھے کہ “رومان شاہ” “میرب” کو لینے آیا ہے کیونکہ پیار سے “میرب” کبھی نہیں جائے گی یہ بات وہ اچھی طرح سے جانتے تھے،سامنے بیٹھا شخص اس وقت فیصلہ کر کے آیا تھا کہ وہ ہر صورت اسے لے کر جائے گا یہ اس کے لفظوں سے صاف ظاہر ہو رہا تھا۔

“ٹھیک ہے بیٹا تم جاؤ اور “میرب” سے مل لو!”

“جی بہت شکریہ!”
وہ “ملک زبیر” کی بات پر کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
°°°°°°°°°°°°
“ٹھک ٹھک ٹھک…”

“کون؟ آجائیں!”
“میرب” کی آواز سن کر “رومان شاہ” نے گہری سانس لی تھی، پورے ”دو سال چھبیس دن پندرہ گھنٹے اور تینتالیس سیکنڈ“ کے بعد اس نے اپنی جان کی آواز سنی تھی۔ وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہو چکا تھا۔ “میرب” جو نیچے جھک کر سائیڈ ٹیبل کے ڈرال سے کچھ نکال رہی تھی۔ اس نے دروازے کی جانب دیکھا نہیں تھا مگر اندر آتی ہوئی خوشبو نے اس کے دل کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا، اس کی سانسوں نے محسوس کیا کہ اس خوشبو کو وہ پہلے سے جانتی ہے۔ کیسے بھول سکتی تھی یہ اس کے “شاہ” کی خوشبو تھی،اس کے ہاتھ میں پکڑا ہوا باکس نیچے گرا وہ پلٹ کر تیزی سے کھڑی ہوئی تھی۔ اس کا شک غلط نہیں تھا اس کی نظروں کے سامنے “رومان شاہ” کھڑا تھا،اسی جاذبِ نظر پرسنیلٹی کے ساتھ وائٹ کارٹن کے سوٹ کے اوپر بلیک کلر کا کوٹ پہنے ہوئے۔ دونوں بازو کمر پر باندھے ہوئے چہرے پر وہی ایٹیٹیوڈ “میرب” کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا وہ حیران نظروں سے کھلے ہونٹوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ آج بھی بدلہ نہیں تھا، وہ آج بھی اتنا ہی خوبصورت تھا، آج بھی “میرب” کا نازک دل دھڑکا رہا تھا وہ آج بھی “میرب” کے دل کے اندر تھا۔ یہ بات “میرب” جانتی تھی خود سے جھوٹ بولتے بولتے “میرب” تھک چکی تھی،وہ ایک ماں کو ہارتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھی۔ اس لیے خود سے ہی جھوٹ بول بول کر وہ تھک چکی تھی۔ “شاہ” اس کی نظروں کے سامنے کھڑا تھا ایک ایک قدم اس کی جانب اٹھاتے ہوئے اس کے قریب آچکا تھا۔ یہ سچ ہے یا خواب “میرب” سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ اس کے جسم میں ساکت نہیں تھی،دماغ سوچ نہیں پا رہا تھا وہ ٹکٹکی باندھے اسے دیکھے جا رہی تھی۔ حالت تو مقابل کی بھی وہی تھی، دو سال بعد اس نے “جانِ شاہ” کا چہرہ دیکھا تھا،تو دو سال بعد اس نے اپنی زندگی کو اپنی نظروں کے سامنے دیکھا تو اس کی کیا حالت ہوگی مگر وہ “رومان شاہ” تھا جس کا اپنے جذباتوں پر کنٹرول تھا جو جب جتنا چاہتا تھا اتنا ہی ظاہر ہوتا تھا۔ اس کی نازک سی کمر میں ہاتھ ڈالتے ہوئے “میرب” کو اپنے گلے لگایا اور اتنا کس کے لگایا کہ “میرب” کی سانسیں بند ہو رہی تھی۔
یہ کیا “میرب” تو اس پر ناراض تھی غصہ تھی، شاید وہ کچھ کچھ لمحوں کے لیے بھول چکی تھی۔

وہ “رومان شاہ” کے سینے سے لگی چھپ گئی تھی، اس کے وجود سے اٹھتی مہک “میرب” کے دل کو بےقراری میں مبتلا کر رہی تھی۔ “میرب” کی آنکھوں سے خاموش آنسو بہہ رہے تھے، اور “رومان شاہ” نے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے نرمل پیالے میں سمیٹا۔ اس کی آنکھوں میں ایسی شدتِ محبت تھی کہ “میرب” کی سانسیں لرزنے لگیں۔ وہ پیار سے اس کے چہرے پر جھکتا گیا، جیسے ہر بوسہ عقیدت کا ایک اظہار ہو۔
وہ پل کچھ ایسا تھا، جیسے وقت تھم گیا ہو۔ دونوں اپنے جذبات کے زیرِ اثر تھے… یہ “عشقِ رومان شاہ” تھا، جو اپنی شدت سے ہر ہوش پر حاوی ہو چکا تھا۔
“رومان شاہ” بہک رہا تھا، وہ کچھ نہیں جانتا تھا، نہ مقام کا ہوش تھا، نہ لمحے کا، صرف اتنا جانتا تھا کہ اس کی “جانِ شاہ” اس کی آغوش میں ہے۔
مگر “میرب”… وہ لمحہ بھر کو سنبھل گئی تھی۔ اس نے نرمی سے “رومان شاہ” کے سینے پر ہاتھ رکھا اور خود کو تھوڑا پیچھے کر لیا۔

“آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟”

“تمہیں لے جانے!”
وہ بھی ہوش میں آکر دونوں ہاتھ کمر پر باندھ چکا تھا۔

“مجھے آپ کے ساتھ نہیں جانا!”

“وجہ؟”

“آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں!”

“تمہاری زبان سے سننا چاہتا ہوں!”

“اس سے پہلے کئی بار بتا چکی ہوں!”

“ہمم… ایک بار اور بتا دو!”

“میں آپ سے نفرت کرتی ہوں!”

“ہاں ہاں کچھ منٹ پہلے میں نے دیکھا کہ تم مجھ سے کتنی نفرت کرتی ہو!”

“وہ ایک کمزور لمحہ تھا بس…”

“مان لیتا ہوں!”

“مانیں یا نہ مانیں مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا!”

“گڈ… تیار ہو جاؤ تو میرے لیے بنا نہیں جاؤں گا!”

“آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے!”

“تمہاری غلط فہمی ہے!”

“میں آپ سے نفرت کرتی ہوں اتنی سی بات آپ کی سمجھ میں کیوں نہیں آرہی؟”

“ساتھ چلو نفرت جتاتی رہنا میں نے منع تو نہیں کیا!”

“میں آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی!”

“کیوں ڈر لگتا ہے کہ نفرت برقرار نہیں رکھ سکو گی؟”

“میں آپ کے سوال کا جواب دینے کی پابند نہیں ہوں!”

“جانِ شاہ” منہ نہ کھلواؤ!”
“پابند تے تو ہمیشہ میری ہی رہیں گی، جنا مرضی تڑپ لے!”

“شاہ” میرا تماشہ مت بنائیں!”

“تماشہ میں بنا رہا ہوں یا تم؟”
“میرے ساتھ چپ چاپ چلو!”

“مجھے آپ کے ساتھ نہیں جانا… ہاتھ چھوڑیں میرا!”

“میں نے تمہارا ہاتھ چھوڑنے کے لیے نہیں پکڑا تھا!”
“مت بھولو کہ میرے ہاتھ میں اپنا ہاتھ تم نے زبردستی دیا تھا!”
وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سختی سے بول رہا تھا۔ “رومان شاہ” اچھی طرح سے جانتا تھا کہ “میرب” کو یہاں سے صرف وہ زبردستی ہی لے جا سکتا ہے پیار سے جانے والی “میرب” چیز نہیں تھی۔ اس کی کلائی کو تھام کر زبردستی اسے روم سے باہر تک لے آیا تھا۔

“رومان شاہ” تم اسے زبردستی نہیں لے جا سکتے!”
“شاہ میر” “میرب” کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے اپنے پیچھے کر چکا تھا۔ “شاہ میر” اور “مرہا” “میرب” کے روم سے آتی ہوئے شور کی آوازوں سے متوجہ ہو کر آئے تھے۔ “مرہا” تو اپنے بھائی کو نظروں کے سامنے دیکھ کر خوش ہو گئی تھی مگر حالات سمجھ سے باہر تھے۔

“کیوں نہیں لے جا سکتا؟”
“اور تم ہوتے کون ہو مجھے روکنے والے؟”
“رومان شاہ” کا چہرہ غصے سے سرخ پر چکا تھا۔

“یہ بہن ہے میری!”

“یہ بیوی ہے میری!”

“وہ تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی!”

“میں اس کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں!”

“تم میری بہن کے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے!”

“بیوی ہے میری تم مجھے روک نہیں سکتے!”

“بیوی ہے تو کیا زبردستی اس کی مرضی کے خلاف لے کر جاؤ گے ایسا کس قانون میں لکھا ہے؟”

“اے سی پی دوست بن کر تم نے بہت روک لیا مجھے،اس سے زیادہ “رومان شاہ” میں برداشت نہیں ہے۔ اب تم میری بیوی کے بھائی کی حیثیت سے مجھے قانون سکھا رہے ہو!”
انگارے برساتی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔

“بیٹا جتنے قانون کے قاعدے تم نے پڑھے ہیں ان سب کو میں اپنے پاؤں کی نوک پر رکھتا ہوں۔ میری کتاب میں لکھا ہے کہ اگر بیوی سے محبت ہے تو پھر اسے زبردستی اپنے ساتھ رکھا جا سکتا ہے اور تمہاری بہن پیار کی زبان سمجھنے والی چیز نہیں ہے!”

“اگر میں نہ بھیجوں تو؟”

“اور اگر تم نے مجھے میری بیوی سے دور رکھنے کی کوشش کی تو ایک بات مت بھولو کہ جس میں تمہاری جان بستی ہے وہ میری بہن ہے۔ تو اے سی پی تیار رہنا اب مقابلہ برابری کا ہوگا۔ اگر میں تڑپوں گا تو سکون سے میں تمہیں بھی نہیں رہنے دوں گا!”
“یہاں سے جاتے ہوئے اپنی بہن کو اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔ تڑپتے رہنا اس کے بغیر جیسے میں دو سال سے تڑپتا ہوں!”

“تم مجھے دھمکی دے رہے ہو؟”
“مرہا” سے دوری کا سنتے ہی “شاہ میر” کے دل میں زوروں کا درد اٹھا تھا۔

“نہیں حقیقت بیان کر رہا ہوں اور میں جو کہتا ہوں وہ کرتا ہوں۔ بہتر ہے کہ اپنی بہن کو میرے ساتھ نرمی سے بھیج دو ورنہ “رومان شاہ” کو ایک ایک سو ایک طریقے آتے ہیں اپنی بات کو منوانے کے!”
“جس کو اپنے پیچھے چھپا رکھا ہے اس کو میرے حوالے کرو!”
“جانِ شاہ” بھائی کے پیچھے مت چھپو۔ “شاہ” آج تمہیں لیے بغیر نہیں جائے گا!”
°°°°°°°°°°°°

Author

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *