Saleeb e sakoot by hayat irtaza S.A Episode 31
صلیب سکوت
از حیات ارتضیٰ SA
قسط نمبر: :31
═══════❖═══════
نور کے بابا کمرے میں داخل ہوئے تھے۔
“گلناز جلدی سے نور بیٹی کو نکاح کے لیے تیار کرو، وہ لوگ نکاح کی جلدی کر رہے ہیں۔”
نور روتی ہوئی آنکھوں سے اپنے باپ کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کی نظروں میں چھپے سوال کو دیکھ کر افضل خان شرمندہ ہو گئے اور نظریں جھکا بیٹھے، ہمت نہیں ہوئی کہ اپنی بیٹی سے نظریں ملائیں۔
“نور تیار ہے، آپ مولوی صاحب کو بلا لیں…
نور کی ماں کب سے چھلکنے والے آنسوں پر باندھ لگائے کھڑی تھی… مگر اب روک نہ سکی۔”
“ایک بار ادھر آؤ، میری بات سنو…” خان نے اشارے سے بلایا۔
نور اب بھی نظر جھکائے، بیڈ پر پتھر سی بیٹھی تھی۔ دلہن کے روپ میں وہ بے حد پیاری لگ رہی تھی… آنکھیں گود میں رکھے ہوئے ہاتھوں پر جمی ہوئی تھیں۔
نور کی ماں نور کے باپ کے ساتھ دروازے کے باہر کھڑی تھی۔ دروازہ آہستہ سے بند کیا۔ سر پر رکھے ہوئے دوپٹے کو ذرا سیدھا کرتے ہوئے وہ سنجیدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
“دل کو مضبوط کرو، گلناز… ایک دو دن کی بات نہیں ہے، ساری عمر کا رونا ہے… مگر اس کے سامنے مت رو… وہ بچی اور بھی دل برداشتہ ہو جائے گی۔”
نور کے باپ اس کی ماں کو سمجھا رہے تھے، مگر اپنے آنسوں کو روک بھی نہیں پا رہے تھے۔
“کیسے چپ کر جاؤں… میری بیٹی مجھ سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ جائے گی،
شاید کبھی نہ ملنے کے لیے…
صدیوں سے یہی روایت چلتی آ رہی ہے کہ بہنیں بھائیوں کے لیے قربان کر دی جاتی ہیں۔
آج اس پڑھے لکھے دور میں بھی یہی ہو رہا ہے…
میری بیٹی بغیر کسی غلطی کے اپنے بھائی کے لیے قربان ہونے جا رہی ہے،
اس بھائی کے لیے جسے کچھ پتہ ہی نہیں…”
گلناز اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھے ہوئے تھی، جیسے اپنی آواز کو دبا کر احتیاط سے روکنا چاہتی ہو تاکہ نور تک نہ پہنچے…”
“میں جانتا ہوں، گلناز… وقت تمہارے لیے بہت تکلیف دہ ہے، میں تمہارا درد سمجھ رہا ہوں… مگر تم ہماری بیٹی کا درد بھی سمجھنے کی کوشش کرو۔ ہمارا رونا اسے کمزور کر دے گا… اور اگر عین نکاح کے وقت اس نے کوئی ضد ٹھان لی، تو مشکل ہو جائے گی…”
نور کے باپ دیوار کا سہارا لیے کھڑے تھے، ایک ہاتھ دل پر رکھا ہوا اور نظریں جھکی ہوئی تھیں۔”
“کتنی بدقسمت ہے میری بیٹی… اس کا نکاح کس سے ہو رہا ہے، اسے کچھ پتہ نہیں، اس کا نام کیا ہے، یہ بھی نہیں جانتی، اور وہ اس کے ساتھ کیسا سلوک کرے گا، یہ بھی معلوم نہیں…”
نور کی ماں منہ پر ہاتھ رکھے جیسے اندر اٹھتے ہوئے دردکو دبانے کی کوشش کر رہی تھی۔
نور کا باپ دیوار کے ساتھ سہارا لیے کھڑا تھا، جیسے اگر سہارا چھوٹے تو ابھی زمین پر گر جائے گا۔
“انجان لوگ، جن کی نظروں میں وہ دشمن خاندان کی بیٹی بن کر جا رہی ہے… میری بیٹی کا کوئی قصور نہیں، پھر بھی وہ سزا بھگتنے جا رہی ہے…”
نور کی ماں کی آواز لرز رہی تھی، ہونٹ کانپ رہے تھے اور آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئی تھیں۔ ہر لفظ کے ساتھ دل کا درد اس کے چہرے پر صاف دکھائی دے رہا تھا، اور افضل خان کے آنسو بھی رک نہیں پا رہے ۔
“صبر کرو… نور کی ماں… صبر، یہ وقت نہیں ہے…”
“نکاح کی تیاری کرو، میں مولوی صاحب کو لے آتا ہوں۔”
نور کے باپ نے زبردستی اپنا چہرہ سنبھالا اور راہداری سے ہوتے ہوئے مولوی صاحب کو لینے کے لیے چل پڑے۔
یہاں رکتے تو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ان کا دل خود بخود رک جائے، درد اتنا زیادہ تھا کہ سانس لینا بھی مشکل لگ رہا تھا۔
نور کی ماں لمحہ بھر وہیں کھڑی رہی، آنسو بہاتی، جیسے درد کو آخری بند لگا رہی ہو… پھر گہری سانس فضا میں چھوڑتے ہوئے دوپٹے کے پلو سے چہرہ صاف کیا اور کمرے میں واپس چلی گئی۔
نور سامنے ہی بیڈ پر بیٹھی، سہمی ہوئی نظروں سے اپنی ماں کی جانب دیکھتی رہی… خاموشی میں بھی اس کی حالت ایسی تھی، جیسے کوئی مجرم پھانسی لگنے سے کچھ دیر پہلے محسوس کرتا ہے۔
“نور، میری بچی…”
گلناز آگے بڑھی اور اپنی بیٹی کو مضبوطی سے سینے سے لگا لیا۔ پھر جیسے ضبط کا آخری سہارا بھی ٹوٹ گیا ہو، وہ دل کھول کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اس کے ہونٹ بے اختیار کانپ رہے تھے اور بازو نور کو یوں جکڑے ہوئے تھے، جیسے اس ایک لمحے میں وہ اس کی ساری تکلیف، سارا درد اپنے سینے پر اتار لینا چاہتی ہو۔ نور کی چھوٹی چھوٹی، بے ترتیب سانسیں ماں کے سینے سے ٹکراتی رہیں، اور کمرے میں ایک ایسی خاموش مگر دل دہلا دینے والی کیفیت پھیل گئی… جہاں بہنے والا ہر آنسو اور لرزتی ہوئی ہر سانس ایک ان کہی کہانی سناتی محسوس ہو رہی تھی۔
“مت روئیں، اماں…” نور نے آہستگی سے کہا، مگر آواز میں لرزش تھی، جیسے دل کے درد کو لفظوں میں سمیٹنے کی کوشش کر رہی ہو۔
نور کی ماں حیرت سے اس کی طرف دیکھتی رہ گئی۔ دل پر ایک دھچکا سا لگا، مگر ہونٹوں سے کوئی لفظ نہ نکل سکا۔
“جب آپ لوگوں نے فیصلہ کر ہی لیا ہے تو اب دل چھوٹا مت کریں…”
نور نے ساکت لہجے میں کہا۔ نظریں زمین پر جمی ہوئی تھیں، اور باتوں میں ایک ہلکی سی تلخی شامل تھی، جیسے وہ خود کو سمجھا رہی ہو کہ اب رونے کا فائدہ نہیں۔
“نور…” ماں نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا، “بیٹا، ہم مجبور ہیں…”
“کوئی بات نہیں…” نور نے سیدھا سا جواب دیا اور خاموش ہو گئی۔
اب اسے کچھ کہنا نہ تھا۔ وہ وہیں بیٹھی رہی، نظریں ایک ہی جگہ ٹکی ہوئیں… جسم خاموش تھا، مگر دل کے اندر ایک بے آواز طوفان چل رہا تھا۔ کمرے کی خاموشی اس درد کو اور گہرا کر رہی تھی، اور ہر گزرتا لمحہ اس بوجھ کو بڑھاتا جا رہا تھا۔
نور کے بابا مولوی صاحب اور چند گواہوں کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوئے…
نکاح کا خوبصورت فریضہ شروع ہوا، مگر اس نکاح میں کسی کے چہرے پر خوشی نہ تھی… ایک ایسا رشتہ، جو خوشی کے بغیر باندھا جا رہا تھا۔
کلمات پڑھے گئے، اور قبول ہے کہتے ہی وہ کسی اور کی منکوحہ بن چکی تھی…
ایک ایسے شخص کی، جسے وہ جانتی تک نہ تھی… ہمیشہ کے لیے اسی کے نام ہو چکی تھی۔
نور کی آنکھوں سے ایک بار پھر بے اختیار آنسو بہہ نکلے۔ اسے اپنے آنسوؤں پر جیسے غصہ آ رہا ہو، وہ ہتھیلیوں سے انہیں رگڑ رگڑ کر صاف کرنے لگی۔
نکاح ہوتے ہی کمرے میں ایک ہلچل مچ گئی…
“افضل خان کی تیاری کر دو، ہم زیادہ دیر رکنا نہیں چاہتے…”
تبریز خان نے روکھے ہوئے، لہجے میں کہا تھا۔
“میں ابھی تیاری کرواتا ہوں…”
افضل خان نے ایک مجبور باپ کی طرح سر جھکائے جواب دیا۔
کچھ ہی دیر میں کمرہ خالی ہو چکا تھا…
اب کمرے میں صرف نور اور اس کے ماں باپ تھے۔
نور کے بابا آگے بڑھے اور اس کے پاس بیٹھ گئے۔ پھر اچانک اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے۔
“نور بیٹا، مجھے معاف کر دینا…”
“بابا… آپ یہ کیا کر رہے ہیں…”
نور گھبرا کر بولی، “آپ کیوں معافی مانگ رہے ہیں، مجھے آپ سے کوئی شکوہ نہیں…”
نور کے بابا نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا…
“میری چھوٹی سی، معصوم سی بیٹی پل بھر میں کتنی سمجھدار ہو گئی ہے…”
یہ کہتے ہوئے انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔
نور کی ماں پاس ہی کھڑی تھی… خاموشی سے روئے جا رہی تھی، جیسے آنسو ہی اب اس کا سہارا ہوں۔
═══════❖═══════
نکاح کے بعد، افضل خان سے مختصر رخصتی کی بات کر کے تبریز خان سب کے پیچھے آخر میں نکلا۔ نکاح میں شامل ہونے والے سب لوگ پہلے ہی واپس مرکزی ہال میں پہنچ چکے تھے، لہٰذا راہداری سنسان تھی۔
تبریز خان کمرے سے باہر آیا، قدم آہستہ آہستہ بڑھ رہے تھے، خاموشی میں صرف قدموں کی آواز گونج رہی تھی۔
خیالوں کی ڈور میں الجھا ہوا تبریز خان راہداری میں ایک کمرے کے سامنے سے گزر رہا تھا، کہ اچانک دروازہ کھلا اور روشانے عین اس کے سامنے کھڑی ہو گئی، جیسے پہلے سے اس کا انتظار کر رہی ہو۔ تبریز خان فوراً دو قدم پیچھے ہٹا، ورنہ ٹکراؤ ہو جاتا۔
واہ تبریز خان، واہ…!
وہ، جو کھبی خود کو اعلیٰ ظرف سمجھتا تھا، آج کم ظرفی کی مثال قائم کر کے جا رہا ہے۔
روشانے نے انگلی سے اشارہ کیا اور چہرے پر خفا سا تاثر ظاہر کیا، جیسے ہر لفظ کو زبانی نہیں بلکہ حرکت سے بیان کر رہی ہو۔
تبریز خان نے چند لمحے کے لیے رک کر اسے دیکھا، سر تھوڑا سا جھکا لیا، اور ہاتھ جیب میں ڈال لیے، اندرونی طور پر الجھن میں مبتلا۔
راہداری کی خاموشی میں صرف ان کے تاثرات بول رہے تھے، اور ماحول میں ایک دباؤ محسوس ہو رہا تھا۔
“کاش تم نے اعلی ظرفی اپنے بھتیجے کی تربیت میں اتار دی ہوتی، تو آج اس کی کم ظرفی اس طرح سرعام نہ ہوتی۔”
تبریز خان کا لہجہ درد اور زہر سے لپٹا ہوا تھا۔
“میں اپنے بھتیجے کی بات نہیں کر رہی، تمہارے ظرف کی بات کر رہی ہوں۔ تم نے کیا کیا!
ذرا اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھ لو، تبریز خان…”
“… میں تم سے کسی بحث میں نہیں پڑنا چاہتا، جانتی ہو کیوں…”
چہرے پر سنجیدگی اور وقار چھلک رہا تھا، اور دونوں ہاتھ جیبوں میں ڈالے تبریز خان اس کی طرف نظریں جمائے کھڑا تھا، شاید انتظار میں کہ روشانے پوچھے، کیوں۔
“شاید اسی لیے تم بحث نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ تمہیں اپنے اندر کا کھوٹ نظر آ گیا ہے!”
روشانے کے لہجے میں وقار اور چمک تھی، آنکھوں میں تحدید، اور ہر لفظ میں یہ واضح تھا کہ وہ اپنی جگہ پر مضبوط کھڑی ہے اور تبریز خان کو اس کی غلطی کا احساس دلانا چاہتی ہے۔
تبریز خان کے لبوں پر تنزیہ، روشانے کے دل کو جلانے والی مسکراہٹ ابھری۔
“تمہاری اسی سوچ نے تمہیں بھی تباہ کیا، اور تمہارے بھتیجے کو بھی…”
“میرے اندر نہ کل کوئی کھوٹ تھا، نہ آج ہے۔ اگر کھوٹ ہوتی، تو جرگہ میں بیٹھ کر فیصلے کے ساتھ اس گھر کی بیٹی کو نکاح میں لے جانے کی غلطی کبھی نہ کرتا… بلکہ وہی طریقہ اپناتا جو تمہارے بھتیجے نے اختیار کیا۔”
تبریز خان کی آنکھوں میں اترتی سرخی دیکھ کر روشانے ایک لمحے کے لیے گھبرا سی گئی۔ اس کی نگاہوں میں ایسا سخت تاثر تھا کہ جیسے ضبط کی ڈور ذرا سی ڈھیلی پڑتی، تو کوئی طوفان اٹھ کھڑا ہوتا۔
“نکاح نہیں… تم اسے بطورِ سزا لے جا رہے ہو، اور نکاح کا نام دے دینے سے خود کو حق پر ثابت نہیں کر سکتے۔ نکاح تو اریان نے بھی کیا ہے، پھر وہ غلط اور تم لوگ صحیح کیسے ٹھہرے؟”
روشانے کی آواز بلند تھی۔تلوار کی دھار جیسی تیز اور چبھتی ہوئی۔ اس کے لہجے میں انا اور غرور صاف جھلک رہے تھے، اور وہ اپنی جگہ پر مضبوطی سے کھڑی تھی۔ ہر لفظ، ہر اشارہ اور ہر حرکت اس کے عزم اور پختہ ارادے کو ظاہر کر رہا تھا۔
اس کی شخصیت کا دباؤ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سامنے کھڑے شخص پر کوئی عذاب نازل ہو رہا ہو۔ آنکھوں میں شعلے لرز رہے تھے، اور وہ ایک قدم بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھی۔ راہداری کی خاموشی میں یہ لمحے مزید گہرائی اختیار کر گئے،
“جو سمجھنا ہے، سمجھ لو… میں تمہارا جواب دہ نہیں ہوں۔”
وہ دوٹوک انداز میں کہتا ہوا آگے بڑھ گیا۔
“تمہاری اسی اکڑ کا انجام تمہاری بیٹی کو بھگتنا ہوگا… اسے تڑپا تڑپا کر ماریں گے!”
روشانے نے جاتے ہوئے تبریز خان کی پشت پر یہ جملہ اچھال دیا، جیسے دل میں جمع برسوں کا غبار ایک ہی وار میں نکال دینا چاہتی ہو۔
تبریز خان غصے سے پلٹا، دو قدم پیچھے آیا اور اس کے عین سامنے آ کھڑا ہوا۔ آنکھوں میں طیش کی سرخی یوں دہک رہی تھی، جیسے وہ سامنے کھڑی روشانے کو نگاہوں ہی سے جلا کر راکھ کر دے گا۔
“جو بھی کرنا… سنبھل کر کرنا۔ مت بھولنا۔اس گھر کی بیٹی ہمارے گھر جارہی ہے۔”
لفظوں کو ادا کرنے کے بعد وہ اچانک مڑا اور تیز قدموں سے سیڑھیاں اُتر گیا، پھر لمحوں میں نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
“عمر گزر گئی… مگر اس شخص کی اکڑ کم نہیں ہوئی!”
روشانے نے پھنکار بھری، اپنی ہی انا کی آگ میں جلتی ہوئی واپس کمرے میں گئی اور دروازہ اتنے زور سے بند کیا کہ دیواریں بھی لرز اٹھیں۔
═══════❖═══════
سرخ کامدار فراک میں نازک سی نور، ماحد کی دلہن بن کر اس کے ساتھ رخصت کر دی گئی تھی۔ گاڑی میں وہ پچھلی سیٹ پر اکیلی بیٹھی تھی، جب کہ اس کا دولہا ڈرائیور کے ساتھ اگلی سیٹ پر جا بیٹھا تھا۔ مگر یہ بات نور کے لیے حیران کن نہیں تھی۔ کہیں نہ کہیں وہ پہلے ہی جانتی تھی کہ اس کے ساتھ ایسا ہی ہوگا…
آنسوؤں سے بھیگی آنکھوں پر دھند سا جالا تن گیا تھا۔ نہ کچھ صاف دکھائی دے رہا تھا، نہ ہی وہ کچھ دیکھنا چاہتی تھی۔ دنیا اس کے لیے جیسے یکایک اندھیری ہو گئی ہو۔ گاڑی اسٹارٹ ہوئی اور آہستہ آہستہ چل پڑی… مگر منزل کیا ہے، یہ وہ نہیں جانتی تھی۔
گاڑی کے اندر ایسی خاموشی تھی جیسے وہاں کوئی زندہ مخلوق موجود ہی نہ ہو۔ سفر کب شروع ہوا اور راستے کب کٹے، اسے کچھ خبر نہ رہی۔ نور کو ہوش تب آیا، جب گاڑی ایک جھٹکے سے رک گئی، اور اس کا دل بے اختیار دھڑک اٹھا۔
ماحد نے ایک لمحہ بھی اس کی طرف پلٹ کر نہ دیکھا۔ گاڑی سے اُترا اور بے نیازی سے آگے بڑھ گیا، جیسے اس کے پیچھے بیٹھی لڑکی اس کی زندگی کا حصہ ہی نہ ہو۔ نور چند لمحے وہیں کھڑی رہ گئی… بے زبان، بے سہارا، بالکل لاوارث سی۔ نہ کسی نے آ کر پوچھا، نہ کسی نگاہ نے اسے پہچانا۔
پھر گھر کے نوکر آگے بڑھے۔ خاموش، رسمی، سپاٹ۔ انہوں نے اسے ایسے کمرے کی طرف لے جانا شروع کیا جیسے وہ دلہن نہیں، بس ایک امانت ہو جو مقررہ جگہ پہنچانی ہو۔ نور خاموشی سے ان کے ساتھ چلتی رہی… قدم تو آگے بڑھ رہے تھے، مگر اندر کہیں کچھ ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر رہا تھا۔
باقی گھر والوں کا کہیں نام و نشان نہیں تھا۔ نہ صحن میں کوئی موجود تھا، نہ راہداریوں میں کوئی آہٹ۔ شاید وہ سب پہلے ہی آ چکے تھے، یا ممکن تھا ان کی گاڑی نور کی گاڑی کے بعد پہنچی ہو۔ اس گھر میں کل کتنے افراد ہیں، کون اپنا ہے اور کون بیگانہ… وہ کچھ بھی نہیں جانتی تھی۔
سہمے ہوئے قدموں کے ساتھ وہ نوکروں کے ہمراہ چلتی رہی، خاموش راہداریوں سے گزرتے ہوئے آخرکار کمرے تک پہنچ گئی۔ دل تیز تیز دھڑک رہا تھا، اور ہر قدم کے ساتھ انجانا خوف اس کے وجود میں اترتا چلا جا رہا تھا۔
ملازمین کے انداز میں کسی خاص احترام کی جھلک نہیں تھی۔ کمرے میں چھوڑ کر وہ فوراً پلٹ گئے، جیسے بس یہاں تک پہنچا دینا ہی ان کی ذمہ داری ہو۔ دروازہ بند ہوا تو اس کی آواز نور کے دل پر کسی بوجھ کی طرح آن ٹھہری۔
وہ چند لمحے وہیں کھڑی رہی… خاموش، سہمتی ہوئی، اور خوف زدہ نگاہوں سے اردگرد کا جائزہ لیتی۔ کمرہ خاصا وسیع تھا، مگر اس کی وسعت میں اپنائیت نام کو بھی نہ تھی۔ ہر چیز حد درجہ سلیقے سے سجی ہوئی تھی، جیسے یہاں رہنے والا شخص جذبات سے زیادہ نظم و ضبط کو اہمیت دیتا ہو۔کم سے کم نور کو تو یہی لگ رہا تھا۔
دیواروں سے لٹکتے پردے ہوں یا زمین پر بچھا ہوا صاف ستھرا قالین، سب کچھ ایک خاص ترتیب میں تھا۔
ایک جانب اسٹڈی ٹیبل رکھی تھی، جس پر رکھا لیمپ ہلکی سی روشنی بکھیر رہا تھا، اور سامنے رکھا ہوا فرنیچر اپنی جگہ اس خاموشی کو مزید گہرا کر رہا تھا۔ پورا کمرہ کسی اجنبی ذہن کی عکاسی کر رہا تھا… ٹھنڈا، متوازن اور حد سے زیادہ قابو میں رکھا ہوا منظر لگ رہا تھا۔
نور کو یوں محسوس ہوا جیسے وہ کسی کمرے میں نہیں، بلکہ ایک انجان دنیا میں کھڑی ہے، جہاں ہر چیز اپنی جگہ مکمل تھی… سوائے اس کے وجود کے۔
نور خاموشی سے کرسی پر بیٹھی۔ جسم ساکت تھا، مگر دل دھڑک رہا تھا۔
ایک لمحے بعد اس کے ہونٹوں سے ایک ہلکی سی سسکی ٹوٹ گئی۔ آنسو آہستہ آہستہ بہنے لگے اور اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپ گیا۔
خاموش کمرے میں ہر قطرہ آنسو، ہر دھڑکن، اس کے اندر چھپی تکلیف کو بیان کر رہی تھی۔
═══════❖═══════
عروب گھر پر ہی موجود تھی۔ وہ نکاح کے لیے ساتھ نہیں گئی تھی۔ بھلا اس گھر میں کیسے جا سکتی تھی، جہاں ایک ایسی عورت رہتی ہو، جس کی نظروں میں عروب کا وجود ایک نجاست کی طرح ہو۔
کمرے کے کونے میں وہ نماز کے بعد بیٹھی تھی، سر جھکائے، ہاتھ دعا کے لیے اٹھے ہوئے۔ چہرہ سفید چادر میں لپٹا ہوا تھا، آنکھیں بند تھیں، اور سانس آہستہ آہستہ چل رہی تھی، جیسے دل کا بھاری بوجھ اُتارنے کی کوشش کر رہی ہو۔
“اللہ، تو میرے دل کا حال جانتا ہے… میں ظالم نہیں ہوں، مگر چاہ کر بھی اس لڑکی کے لیے اپنے دل میں کوئی نرم گوشہ پیدا نہیں کر سکتی… میری بیٹی کی زندگی تباہ کرنے والا، ہمارے گھر کی عزت کو تار تار کرنے والا، کوئی اور نہیں… اسی لڑکی کا سگا بھائی ہے۔ میں اس سے رحم نہیں دکھا سکتی… تو مجھے معاف کر دے۔”لب ہل رہے تھے۔
چہرے پر جھریاں نہیں تھیں، مگر ہاتھوں کی ہلکی لرزش، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اور دل کی بے ترتیب دھڑکن اس کے اندر کے اضطراب کو ظاہر کر رہے تھے۔ وہ کمرے میں خاموش بیٹھی تھی، ہر سانس کے ساتھ کچھ کہتی، کچھ چھپاتی ہوئی۔
یہ سوچ، یہ درد، کئی برسوں سے اس کے پیچھے چل رہا تھا۔ شاید اگر وہ کبھی تبریز خان سے نہ ملی ہوتی، تو اس کا بیٹا اور اس کی بیوی آج اس کے ساتھ ہوتے، اور شاید وہ عورت اس قدر دشمنی پر نہ اترتی۔ یہ خیالات اس کے ذہن پر بوجھ بن کر جمے ہوئے تھے، اور وہ خاموشی سے ان کا سامنا کر رہی تھی۔
عروب نے گاڑی کے ہارن کی آواز سے پہچان لیا کہ ماحد نکاح کے بعد اس لڑکی کے ہمراہ گھر پہنچ چکا ہے۔ نکاح ہو چکا تھا، اس کی خبر تو تبریز خان اسے پہلے ہی فون پر دے چکا تھا، مگر وہ اس کی شکل دیکھنے سے گریز کر رہی تھی۔
چاہتی تو آتے ہی سخت رویہ اپنا سکتی تھی، مگر خود پر گزرے ہوئے درد اور یادیں اسے روک رہی تھیں۔ وہ جائے نماز پر بیٹھی رہی، ہاتھ گود میں رکھے ہوئے، جسم ساکت مگر دل تیز دھڑک رہا تھا۔ آنکھیں سجدے کی جگہ پر جمی ہوئی تھیں، جیسے کسی اور ہی دنیا میں کھو گئی ہو۔
ہر لمحے، ہر سانس کے ساتھ دل کے اندر ایک بھاری بوجھ اتر رہا تھا۔ وہ نفرت بھی محسوس کر رہی تھی، غصہ بھی، اور ترس بھی… سب کچھ ایک ساتھ۔ مگر جسم خاموش تھا، اور وہ اپنے اندر کے احساسات کے ساتھ الجھ رہی تھی۔
یہ لمحہ، یہ خاموشی، عروب کے لیے ایک ٹکراؤ تھی۔دماغ چاہتا تھا کہ سخت رویہ اختیار کرے، مگر دل خود پر گزرے ہوئے وقت کو یاد کرتے اسے روکے ہوئے تھا۔
═══════❖═══════
تبریز خان کی نظریں ماضی میں الجھی ہوئی تھیں۔ وہ اسٹڈی روم میں بیٹھا تھا، نگاہیں کہیں دور ٹھہری ہوئی تھیں… وہاں، جہاں سے یہ سب شروع ہوا تھا۔
کس طرح اس کی شادی روشانے سے ہوئی، اور کس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے صارم جیسا بیٹا عطا کیا۔ وہ اپنے بیٹے سے بے حد محبت کرتا تھا، آخر وہ اس کی پہلی اولاد تھا۔
آج نکاح کے وقت اس کی نظر صارم کو ڈھونڈتی رہی، مگر وہ کہیں دکھائی نہ دیا۔ وہ کہاں تھا، کیوں وہاں موجود نہیں تھا؟ شاید اسی لیے تبریز خان بے چین تھا، دل چاہ رہا تھا کہ ایک بار اپنے بیٹے کی جھلک دیکھ لے۔
نکاح کے بعد وہ سیدھا گھر آ گیا تھا۔ اس کی گاڑی ماحد کی گاڑی سے چند منٹ پہلے پہنچ چکی تھی، مگر وہ اپنے کمرے میں نہیں گیا ۔ پتہ نہیں کیوں، عروب کا سامنا کرنے کی ہمت اس میں نہیں ہو پا رہی تھی۔
وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے وہیں بیٹھا تھا۔ بس سوچ رہا تھا… کیا سوچ رہا تھا، یہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔ بس اتنا محسوس ہو رہا تھا کہ ماضی اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہا ہے۔
آخر اس نے کرسی پیچھے دھکیلی، کھڑا ہوا اور موبائل اٹھا لیا۔ کمزور قدموں سے کمرے کی طرف بڑھا، سوچوں سے پیچھا چھڑانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے۔
دروازہ ہلکا سا کھلا ہوا تھا۔ اس نے آہستگی سے دھکیلا تو دروازہ کھلتا ہی چلا گیا، عروب سامنے ہی جائے نماز پر بیٹھی ہوئی تھی، حالانکہ نماز ادا کیے کافی وقت گزر چکا تھا۔ وہ ہمیشہ وقت کی پابند تھی… شاید نماز کے بعد وہیں رک گئی تھی۔
تبریز خان نے خاموشی سے دروازہ بند کیا۔ عروب نے پلٹ کر دیکھا، پھر بغیر کچھ کہے جائے نماز تہ کی۔ سر پر بندھی سفید چادر کو ڈھیلا کیا اور اسے بھی تہ لگا کر جائے نماز کے ساتھ میز پر رکھ دیا۔وہ یہ سفید چادر نماز کے وقت استعمال کرتی تھی۔
’’اذان تو کافی دیر پہلے ہو چکی تھی، آپ نے آج نماز لیٹ پڑھی…؟‘‘
تبریز خان نے خاموشی توڑنے کے لیے سوال کیا، حالانکہ جواب وہ خود بھی جانتا تھا۔
’’نہیں، نماز تو وقت پر ادا کی ہے… بس اللہ تعالیٰ کے سامنے دل کا حال رکھ رہی تھی، اس لیے دیر ہو گئی…‘‘
وہ گہری سانس لیتے ہوئے بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی، پاؤں نیچے لٹکے ہوئے تھے۔ چہرے پر سنجیدگی کے ساتھ گہری پریشانی صاف جھلک رہی تھی۔ تبریز خان بھی قریب ہی آ بیٹھا۔ نرمی سے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے ہاتھ پر رکھ لیا، جیسے پہلے ہی اس کی ہمت بندھانا چاہتا ہو، جیسے وہ ٹوٹ نہ جائے۔
وہ نظریں جھکائے بیٹھی رہی… شاید اپنے آنسو چھپانا چاہتی ہو۔
تبریز خان:
’’اللہ سے دل کا حال کہنے کی کیا حاجت ہے… وہ تو اپنے بندے کی خاموشیوں تک سے واقف ہوتا ہے۔ پھر مجھے کیوں لگا کہ آج آپ کی دعا میں شکوہ شامل تھا؟ جیسے آپ اپنے رب کے سامنے کچھ رکھ دینا چاہتی ہوں، حالانکہ وہ سب کچھ پہلے ہی جانتا ہے۔‘‘
تبریز خان کی نظریں اس کے چہرے پر ٹھہری تھیں، مگر دل کہیں اور اٹکا ہوا تھا۔ اس خاموشی میں اسے اس کے اندر کا بوجھ صاف محسوس ہو رہا تھا… وہ جانتا تھا کہ یہ صرف نماز کی تاخیر نہیں تھی، یہ دل کے کسی گہرے زخم کا بوجھ تھا جو لفظوں میں ڈھلنے سے پہلے آنکھوں میں اتر آیا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں یہ خاموشی ٹوٹ کر شکوہ نہ بن جائے، اور وہ اس لمحے اس کا سہارا بننا چاہتا تھا، سوال نہیں۔
عروب:
’’جب انسان خود اپنے دل کی بات سمجھ نہ سکے … تب جو کچھ اللہ کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے، وہ شکوہ نہیں ہوتا … بس ایک بوجھ ہوتا ہے، جو دل اٹھا نہیں پاتا، اس لیے اسے رب کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔‘‘
آنکھیں نم تھیں، اور ہر لفظ کے ساتھ دل اندر سے ٹوٹ رہا تھا۔
تبریز خان نے اس کے ہاتھ کو تھپتھپایا۔ آواز دھیمی تھی، جیسے ڈر ہو کہ کہیں اس کی ٹوٹتی ہوئی ہمت نہ بکھر جائے۔
’’کیوں خود کو اتنا تھکا رہی ہو… اللہ دلوں کے حال سے واقف ہے۔‘‘
اس نے لمحہ بھر کو توقف کیا، پھر ہاتھ کی گرفت ذرا مضبوط ہو گئی۔
’’سب کچھ اسی پر چھوڑ دو، وہی بہتر کرے ۔
’’آج آپ کا یوں مجھ سے نظریں چرا کر اتنی دیر تک سٹڈی روم میں بیٹھنا… مجھے ہزاروں سوچوں میں مبتلا کر گیا ہے، خان۔‘‘
پلکیں اٹھیں، اور آنکھوں کی نمی رخسار پر بہہ گئی۔ جووہ کب سے روکے ہوئے تھی، سوال اس کی نظریں کر رہی تھیں، مگر زبان خاموش تھی۔
تبریز خان نے گہری سانس لی اور آنکھیں لمحے کے لیے بند کر لیں۔ پھر آہستہ کھولیں اور عروپ کی طرف دیکھا۔
’’جو سوال دل میں ہے، پوچھ لیں… میں جانتا ہوں کچھ تو ہے جو آپ کو پریشان کر رہا ہے، اور آپ اچھی طرح جانتی ہو کہ میں تمہیں کبھی پریشان نہیں دیکھ سکتا۔‘‘
عروب کی نظریں جھکی تھیں، خاموشی میں بے شمار سوال چھپے تھے… دل ٹوٹ رہا تھا، مگر لب نہ بول سکے۔
عروب نے آہستہ سے کہا۔
’’کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جو میں بے شمار بار آپ سے پوچھتی ہوں، اور آپ ہر بار مجھے سنبھال لیتے ہیں، ہمیشہ بہترین جواب دیتے ہیں۔ مگر کچھ سوال ایسے بھی ہوتے ہیں… جنہیں پوچھ کر میں آپ کے دل کو دکھانا نہیں چاہتی۔‘‘
وہ لمحہ بھر رکی، سانس ذرا بھاری ہو گئی۔
’’پھر بھی نہ جانے کیوں وہی سوال مجھے بے چین کیے رکھتے ہیں۔ دل چاہتا ہے کوئی تو ہو جو ان کا جواب دے دے… شاید تب میں باقی کی زندگی سکون سے گزار سکوں۔‘‘
آنکھوں میں نمی، اور عمر بھر کا پچھتاوا نظر آرہا تھا۔
تبریز خان نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔
’’میں آپ کو سنبھالنے کے لیے، زندگی کے ہر موڑ پر آپ کے ساتھ کھڑا ہوں۔ جو سوال آپ کو اس قدر بے چین کیے ہوئے ہیں، پوچھ لیجیے… میں ایمانداری سے جواب دوں گا۔‘‘
وہ لمحہ بھر رکا، پھر اس کی نم آنکھوں میں جھانک کر خود ہی بول اٹھا۔
’’اور ایک سوال، جو میں آپ کی نظروں سے پڑھ چکا ہوں… اس کا جواب بھی دے دیتا ہوں۔ ہاں، میرا سامنا روشانے سے ہوا تھا۔ میں اس سے ملا تھا۔‘‘
تبریز خان کے یہ الفاظ سنتے ہی عروب چونک سی گئی۔
’’ایسے کیا دیکھ رہی ہیں…‘‘ اس کی آواز میں نرمی تھی۔ ’’ہم آپ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ آپ کے دل میں چھپی ہر بات سمجھ سکتے ہیں۔ بس ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ آپ خود وہ بات کہیں، تاکہ دل مطمئن ہو سکے… مگر شاید میں اس میں ہر بار ناکام رہ جاتا ہوں۔‘‘
عروب نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔
’’نہیں خان… ایسا کہہ کر مجھے شرمندہ مت کریں۔ آپ ناکام نہیں ہیں۔ ناکام تو ہر بار میں ہو جاتی ہوں… خود کو یہ سمجھانے میں کہ میرا کوئی قصور نہیں۔‘‘
اس کی آواز بھرا گئی۔
’’مگر کیا کروں، جب بھی ماضی میں جھانکتی ہوں تو خود ہی قصور وار نظر آتی ہوں۔ آپ کی اپنے بیٹے سے محبت… اور اس کے بیچ حائل یہ دوری، مجھ سے برداشت نہیں ہوتی۔ اور اس سب کی وجہ… میں ہوں۔‘‘
وہ لمحہ بھر خاموش رہی۔
’’میں یہ سب کیسے بھول جاؤں، خان…
تبریز خان کی آواز میں نرمی بھی تھی اور ٹھہراؤ بھی۔
’’ہزار بار آپ سے کہا ہے کہ خود کو قصوروار مت سمجھا کریں… اور ایک بار پھر سمجھا رہا ہوں۔‘‘
وہ ذرا رکا، جیسے لفظ تول رہا ہو۔
’’ہر رشتے میں ایک ایسا موڑ آتا ہے، جہاں انسان کو اپنے شریکِ حیات کی وفا پر بھروسا کرنا پڑتا ہے۔ ہر بات ویسی نہیں ہوتی جیسی آنکھوں کو دکھائی دیتی ہے۔ یہ لمحہ بیوی پر بھی آ سکتا ہے، اور شوہر پر بھی۔‘‘
اس کی گرفت اس کے ہاتھ پر ذرا مضبوط ہو گئی۔
’’ایسے وقت میں پارٹنر پر اعتبار اتنا ہی ضروری ہو جاتا ہے، جتنا جینے کے لیے سانس لینا۔ یہ رشتے کا سب سے کمزور لمحہ ہوتا ہے… کچھ لوگ یقین نہ کر پائیں تو بکھر جاتے ہیں۔ ہزاروں گھر صرف ایک گرم ہوا کے جھونکے سے ٹوٹ جاتے ہیں۔‘‘
آواز میں ہلکی سی سنجیدگی اتر آئی۔
’’اس لیے نہیں کہ کوئی تیسرا قصوروار ہوتا ہے، بلکہ اس لیے کہ رشتے میں موجود دو لوگ ایک دوسرے پر یقین کھو بیٹھتے ہیں۔‘‘
پھر اس نے گہری سانس لی۔
’’اور جہاں تک صارم کی بات ہے… ہاں، میں اسے بہت یاد کرتا ہوں۔ وہ میرا خون ہے، میرے دل کا وہ حصہ جس کی کمی میں ہر روز محسوس کرتا ہوں۔‘‘
اس کی نظر سیدھی عروب پر ٹھہری۔
’’مگر اس جدائی کی وجہ آپ نہیں ہیں… یہ بات آپ کو ماننی ہوگی ۔زیادہ سوچ کر خود کو تکلیف مت دیا کریں۔
’’آج آپ کی صارم بیٹے سے کوئی ملاقات نہیں ہو سکی…‘‘عروب نے آہستہ پوچھا مگر نظروں میں تفیش نہیں، فکر تھی۔
’’نہیں… میری نظریں بھی اسے ڈھونڈتی رہیں، مگر وہ کہیں نظر نہ آیا ۔‘‘ٹوٹے سے لہجے میں جواب دیا۔
آپ نے بچی سے ملاقات کی ہے ۔
عروب نے چہرہ ہلکا سا پھیر لیا، نظریں جھکی اور زاویے سخت ہو گئے۔
’’نہیں… نہ کی ہے، اور نہ کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
تبریز خان نے اس کی طرف دیکھا۔ آواز میں سختی نہیں تھی، بس ایک گہرا ٹھہراؤ تھا۔
’’یہ ٹھیک نہیں ہے… دل کو اتنا سخت مت کریں۔‘‘
وہ ذرا رکا، جیسے لفظوں کو نرم کرنا چاہتا ہو۔
’’جا کر اس سے ملاقات کریں۔ ہم ظالم نہیں ہیں۔ اپنی بیٹی کی عزت کا بدلہ لینے کے لیے، اُس وقت ہمارے پاس یہی راستہ تھا۔‘‘
کمرے میں خاموشی اتر آئی۔ عروب کی نظریں جھکی رہیں، مگر دل میں جیسے ایک اور بوجھ آ کر بیٹھ گیا ہو۔
تبریز خان نے بدستور چھائی ہوئی خاموشی کو محسوس کیا۔ آہستہ سے ہاتھ بڑھایا اور نرمی کے ساتھ اس کے چہرے کا رخ اپنی طرف کیا۔
’’میری طرف دیکھیں…
’’میں نہیں جاؤں گی… اور نہ ہی مجھ سے کسی اپنائیت کی امید رکھیے گا۔‘‘
عروب کا لہجہ سپاٹ تھا، مگر آنکھوں کی نمی سب کچھ کہہ رہی تھی۔
تبریز خان نے اسے غور سے دیکھا۔
’’خانم… آپ اتنی سنگ دل تو نہیں ہیں۔‘‘
وہ ذرا رکا، پھر دھیرے سے کہا،
’’بچی کا کوئی قصور نہیں، جو ہم اسے سزا دیں۔‘‘
عروب کی پلکیں جھپکیں، آواز میں دراڑ آ گئی۔
’’قصور۔۔۔قصور تو ہماری بیٹی کا بھی کوئی نہیں تھا…‘‘
خاموشی لمحہ بھر کو ٹھہر گئی۔
” اس کی سزا ان لوگوں کو مل گئی ہے ۔ ان کی بیٹی بطور بدلہ ہمارے گھر آ چکی ہے۔‘‘سنجیدگی سے سمجھایا ۔
عروب کے ہونٹ کانپنے لگے، آنسو گلے میں اٹک گئے۔
’’یہ سزا کافی نہیں ہے خان… مجھے نہیں معلوم میری بیٹی کے ساتھ وہاں کیسا سلوک ہو رہا ہوگا…‘‘
تبریز خان کی آواز میں دکھ اتر آیا۔
’’ہم اللہ تعالیٰ سے بہتری کی دعا کر سکتے ہیں۔ ہم نے اپنی بیٹی کی تلاش چھوڑی تو نہیں ،انشاءاللہ ہم اسے جلدی ڈھونڈ لیں گے۔
“مگر جو ہماری بیٹی کے ساتھ ہوا، اگر وہی ہم اس لڑکی کے ساتھ کریں تو کیا یہ انسانیت ہوگی؟ اللہ سب دیکھ رہا ہے… اور معافی ہمیں بھی نہیں ملے گی۔ اللہ سے ڈرنا چاہیے۔‘‘
عروب نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
’’ڈرتی ہوں میں اللہ سے… ہر سانس کے ساتھ ڈرتی ہوں۔
اسی لیے تو اپنا فیصلہ اللہ کے سامنے رکھ کر بیٹھی تھی… کہ میں ظالم نہ بنوں، مگر اس لڑکی کے لیے اپنائیت بھی پیدا نہ کر سکوں گی…”
’’خانم…‘‘
تبریز خان نے آہستہ پکارا۔جیسے اسے تھوڑا سا دباؤ دے کر سمجھانا چاہتا تھا۔
عروب نے فوراً نفی میں سر ہلایا، آواز میں کپکپاہٹ اتر آئی۔
’’اللہ کا واسطہ ہے خان، میرے ساتھ زبردستی مت کیجئے گا۔‘‘
وہ لمحہ بھر کو رکی، جیسے اندر کہیں سے ہمت سمیٹ رہی ہو۔
’’میں اس لڑکی کے لیے کوئی نرم گوشہ دل میں پیدا نہیں کر سکتی۔۔۔۔ناہی سے معاف کر سکتی ہوں۔۔۔میں تو خود کو آج تک معاف نہیں کر سکی اُس غلطی کے لیے… جس کی وجہ سے باسق خان جیسا بھائی مجھ سے نفرت کرنے لگا، اور مون جیسا بیٹا… ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہو گیا۔‘‘
آواز ٹوٹنے لگی تھی۔
’’میں آج بھی یہی کہوں گی کہ ایک لڑکی کا بھٹکا ہوا ایک قدم… صرف ماں باپ اور بھائیوں کے لیے نہیں، آنے والے وقت میں اُس کی اپنی بیٹی کے لیے بھی ایک لمبی سزا بن جاتا ہے۔‘‘
’’کاش ایک لڑکی یہ بات وقت پر سمجھ لے… مر جائے، مٹ جائے، مگر محبت کے نام پر کبھی ایسا قدم نہ اٹھائے جو اس کی نسلوں کے نصیب میں سوال بن کر لکھ دیا جائے۔‘‘
یہ کہتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔سسکیاں بڑھتی گئی ،آنکھوں سے آنسو مزید بہنے لگے۔
تبریز خان نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر اسے اپنی آغوش میں لے لیا، مضبوطی سے اپنے سینے سے لگا لیا۔
اُس لمحے تبریز خان کو کوئی لفظ، کوئی دلیل مناسب نہ لگی…
عروب بہت ٹوٹ چکی تھی، اور کبھی کبھی خاموشی مرد کی سب سے بڑی دانشمندی ہوتی ہے۔
═══════❖═══════
نور اندر سے کانپ رہی تھی، وہ سہمی ہوئی، بے چین۔
کمرے میں آ کر بیڈ پر بیٹھے ہوئے چار گھنٹے سے زیادہ وقت گزر چکا تھا، مگر ابھی تک کوئی اس کی خبر لینے نہیں آیا تھا۔ اس کی نازک کمر اکڑ گئی تھی اور وہ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی کہ اب کیا کرے۔ بیٹھے رہے یا سونے کی کوشش کرے؟
اگر وہ کپڑے بدلنے کی کوشش کرے تو اسے معلوم نہ تھا کہ اماں نے جو سوٹ کیس بھیجا تھا وہ کہاں رکھا ہے، اور وہ خود اسے کیسے تلاش کرے؟ کمر اکڑ کر سخت ہو چکی تھی۔ نور نے کشن سے سہارا لیتے ہوئے آنکھیں بند کرنے کی کوشش کی، مگر اسی لمحے روم کا دروازہ زور سے کھلا۔
ایک خوش شکل نوجوان اندر داخل ہوا۔ گورا پٹھانی چہرہ غصے سے انگارہ ہو رہا تھا۔ نور کے دل کی دھڑکن گھبراہٹ سے بڑھ گئی۔ وہ جان گئی تھی کہ یہی ماحد ہے۔ نکاح نامے پر اس کا نام خود پڑھی ہوئی تھی۔
ماحد کے چہرے پر غصے کی لکیریں صاف نظر آ رہی تھیں۔ نور کے ذہن میں ایک ہی دعا آئی۔
“خدا خیر کرے…”
اور اسے اچھی طرح احساس تھا کہ اس کی زندگی اب آسان نہ رہنے والی تھی۔
ماحد کی نظریں جیسے ہی نور پر پڑیں، اس کی آواز بے اختیار تیز ہو گئی۔
’’تم… میرے بیڈ پر کیا کر رہی ہو؟‘‘
نور کا دل زور سے دھڑک اٹھا۔ وہ گھبرا کر ذرا پیچھے ہٹی، دونوں ہاتھ گھٹنوں کے گرد لپیٹ لیے۔ پلکیں جھکی رہیں، ہونٹوں پر ہلکی سی لرزش ٹھہر گئی۔
’’م… میں…‘‘ آواز رکی، جیسے لفظ ساتھ چھوڑ گئے ہوں۔
ایک لمحے بعد اس نے بہت آہستہ کہا،
’’بیڈ پر نہ بیٹھوں تو… کہاں بیٹھوں؟‘‘
ماحد دروازے کے پاس کھڑا رہا، اس کی نظریں شدید غصے سے جل رہی تھیں۔ اس کے ہونٹ سخت اور دانت جڑے ہوئے، ہاتھ زور سے مڑ کر قبضے میں تھے، اور ہر چند لمحوں بعد وہ کمرے میں ایک قدم آگے بڑھاتا، جیسے اپنی طاقت ظاہر کر رہا ہو۔
’’یہ میرا مسئلہ نہیں کہ تم کہاں بیٹھو گی یا کہاں رہو گی…‘‘ اس کی آواز کمرے کے ہر کونے میں گونج رہی تھی۔
’’اور یہاں، میرے کمرے میں، میرے ساتھ ہرگز نہیں۔‘‘
اس نے ایک لمحے کو رک کر اپنی گردن ہلکی سی جھکائی، جیسے الفاظ پر زور ڈال رہا ہو، اور پھر آگے بڑھ کر بیڈ کے کنارے کی طرف اشارہ کیا۔
’’یہ بات اپنے دماغ میں بٹھا لو کہ تم یہاں بطور سزا لائی گئی ہو۔‘‘
ماحد کے چہرے کے عضلات سخت اور آنکھیں تیز تھیں۔
’’یہ مت بھولنا کہ تمہارے بھائی کی وجہ سے میری بہن کی زندگی برباد ہوئی ہے۔ وہ ہم سے دور ہو گئی…‘‘
اس کی آواز اب اور بلند ہو گئی، ہاتھ کی حرکت سے کمرے میں ہوا میں تھرتھراہٹ سی پیدا ہو گئی۔
’’اور اگر تمہیں یہ لگتا ہے کہ اس سب کے بعد تمہارے ساتھ کوئی نرم رویہ رکھا جائے گا تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ جتنی جلدی یہ غلط فہمی دور کر لو گی، تمہاری صحت کے لیے اتنا ہی بہتر ہوگا۔‘‘
نور کی حالت ایسی تھی جیسے ایک معصوم ہرنی کو شیر کے سامنے بٹھا دیا گیا ہو۔
پلکیں جھکی ہوئی تھیں، ہاتھ گھٹنوں کے گرد لپٹے، اور کمر ہلکی سی لرزش سے ساتھ دے رہی تھی۔
اس کی سانسیں بے ترتیب اور تیز تھیں، ہر لفظ، ہر حرکت میں خوف چھپا ہوا تھا۔
آنکھیں ماحد کی طرف اٹھتی تو فوراً نیچے جھک جاتی، جیسے کسی غلطی پر سزا پا رہی ہو۔
ہر لمحہ وہ ایک قدم پیچھے ہٹنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر بیڈ کے کنارے نے اسے قید کر رکھا تھا۔
ماحد اتنا زور سے بول رہا تھا کہ اس کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی، اور نور کے دل میں خوف کی لکیریں مزید گہری ہو گئی تھیں۔۔۔
ہمت جمع کر کے اس نے لمحہ بھر کے لیے نظریں اٹھائیں۔
’’پپ… پ… پلیز ناراض مت ہوں…‘‘ آواز کپکپا رہی تھی،
’’آپ بس مجھے بتا دیں میں کہاں بیٹھوں… میں وہیں بیٹھ جاؤں گی… بس غصہ مت کریں…‘‘
ماحد کی غصے بھری، چیختی ہوئی آواز نے نور کو اندر تک ہلا دیا۔ وہ بری طرح ڈرتے ہوئے بیڈ سے نیچے اترنے لگی۔ گھونگھٹ چہرے پر ہونے کی وجہ سے اسے صحیح طرح نظر نہیں آ رہا تھا۔
بھاری کام دار فراک میں اس کا پاؤں الجھا…
اور اگلے ہی لمحے وہ زمین پر بری طرح گری۔
گرنے کی شدت سے شاید اس کی زبان دانتوں کے نیچے آ گئی تھی۔ ایک تیز درد کے ساتھ منہ میں گرم سا احساس پھیلا۔ زمین پر خون کے قطرے ٹپکنے لگے، فرش پر لال نشان بنتے چلے گئے…
وہ زمین پر گری تڑپ رہی تھی، اور وہ…
وہ بے حس انسان ذرا فاصلے پر کھڑا، خاموشی سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔
’’اپنی منہوس شکل لے کر یہاں سے دفع ہو جاؤ۔‘‘
اس کی آواز میں ذرا سی بھی نرمی نہ تھی۔
’’اور اگر تمہیں یہ لگتا ہے کہ تمہارے اس معمولی سے خون کو دیکھ کر مجھے تم پر رحم آ رہا ہے… تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔‘‘
اس نے سخت نظروں سے اسے دیکھا۔
’’اٹھو… اور دفع ہو جاؤ۔ اپنی شکل اس کمرے سے گم کرو… اس سے پہلے کہ میں تم پر ہاتھ اٹھا کر وہ کر بیٹھوں جو میں نہیں کرنا چاہتا۔‘‘
نور دبی دبی سسکیاں لے رہی تھی۔ زبان کے کٹ سے شدید درد ہو رہا تھا۔ آنسو آنکھوں سے بہتے جا رہے تھے، سانسیں ٹوٹ ٹوٹ کر آ رہی تھیں۔
اس نے خود کو سمیٹنے کی کوشش کی۔ لڑکھڑاتے ہاتھوں کے سہارے اٹھ کر کھڑی ہوئی۔ گھونگھٹ اب بھی چہرے پر لٹک رہا تھا، جیسے اس کی بے بسی پر پردہ ڈالے ہوئے ہو۔
’’اپنی یہ سسکیاں بند کرو…‘‘
ماحد کی آواز پھر گونجی۔
’’زہر لگ رہی ہو مجھے تم۔‘‘
وہ ایک قدم آگے بڑھا۔
’’اپنا رونا دھونا میرے کمرے سے باہر جا کر کرو۔ نکلو… میرے کمرے سے۔‘‘
اس کی غصے والی دھاڑ پر معصوم نور اپنے بھاری کام دار فراک کو سنبھالتے ہوئے، لڑکھڑاتے قدموں سے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔
یا اللہ… یہ سزا کے لیے آئی ہے، یا یہ سزا بابا نے میرے لیے مقرر کی ہے؟
وہ خود سے یہ سوال کرتے ہوئے پاس پڑے صوفے پر دھم سے بیٹھ گیا، جیسے سارا غصہ اسی پر نکالنا چاہتا ہو۔ انگلیاں بالوں میں الجھا کر اس نے آنکھیں سختی سے بند کیں، اور دل میں اٹھتے ہوئے طوفان کو قابو میں رکھنے کی ایک بے جان سی کوشش کی۔
کمرے میں خاموشی چھائی ہوئی تھی، مگر اس کے اندر شور مچا ہوا تھا۔
بابا… یہ کہاں پھنسا دیا آپ نے مجھے؟ میں اس لڑکی کو ایک لمحہ بھی اپنے ساتھ برداشت نہیں کر سکتا۔ اسے دیکھتے ہی مجھے اپنی بہن یاد آ جاتی ہے…
جبڑے بھنچ گئے، دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔
اگر یہ میرے ساتھ رہی تو میں کچھ ایسا کر بیٹھوں گا جو مجھے نہیں کرنا چاہیے، جو آپ نے مجھے اپنی تربیت میں کبھی نہیں سکھایا۔
وہ دل میں اٹھتے ہوئے اس غصے کو بڑبڑاہٹ میں ڈالتا رہا۔
بابا نے اسے صرف اسی شرط پر نکاح کے لیے آمادہ کیا تھا کہ یہ لڑکی نکاح کے بعد محض سزا کے طور پر اس گھر میں رہے گی۔
مگر اپنے ہی کمرے میں اسے دیکھ کر ماحد اپنے حواس پر قابو کھوتا جا رہا تھا۔۔۔
ماحد نے عبیرہ کو یاد کرتے ہوئے دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ لیے۔ آنکھوں میں نمی تھی، مگر وہ اپنی آواز اور جذبات کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
’’آپ کا بھائی… آپ کو بہت مس کرتا ہے…‘‘
ہلکی سی ہچکی کے ساتھ اس کے ہونٹ ہل رہے تھے، اور ہتھیلیوں کے نیچے چھپی ہوئی آنکھوں کی نمی اس کے دل کی شدت کو ظاہر کر رہی تھی۔
وہ سانس روک کر خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر چھپے ہوئے دکھ اور بہن کی محبت کا احساس ہر لمحے صاف محسوس ہو رہا تھا۔
═══════❖═══════
نور روم سے باہر نکلی، گھونگٹ اوپر کیا اور پیچھے کی طرف جھانکا، مگر ہال خالی تھا۔ خالی خالی شائیں شائیں کے درمیان زبان پر اچانک تیز درد نے اسے جکڑ لیا۔ کٹ گہرا تھا، خون کے قطرے تیزی سے زمین پر گرتے اور ہر قطرہ ایک چھوٹا داغ چھوڑ رہا تھا۔
نور نے ہاتھ اٹھائے، خون سے رنگے ہاتھ دیکھے اور سانس لینے میں مشکل محسوس کی۔ ہال کی خاموشی میں ہر قدم بھاری محسوس ہو رہا تھا، اور اس کے دل کی دھڑکن کے ساتھ زمین پر خون کے قطرے ٹکراتے جا رہے تھے، جیسے ہر لمحہ حقیقت کے وزن کو سامنے لا رہا ہو۔
نور کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، سسکیاں گلے کے اندر دب گئی تھیں۔ خوف نے اسے ایسا دبایا تھا کہ رونے کی ہچکیاں بھی باہر نہیں آ رہی تھیں۔ بے اختیار اس کے ذہن میں اماں کی یاد آئی، جو اس کی چھوٹی سی تکلیف پر بھی تڑپ جاتی، ذرا سا بخار ہو تو دوائی لے کر اس کے پیچھے پیچھے رہتی۔ نور کو یاد آیا کہ وہ دوا سے کتنی دور بھاگتی تھی، مگر اب، اس درد اور خوف کے درمیان، اسے سچ میں دوا کی ضرورت تھی۔
اس کے ہاتھ اب بھی خون سے لال تھے، اور ہر سانس کے ساتھ درد اس کے جسم میں گھل رہا تھا۔ ہال کی سنسانی میں ہر قدم بھاری محسوس ہو رہا تھا، جیسے ہر لمحہ اس حقیقت کا بوجھ اس پر بڑھ رہا ہو۔ نور نے آہستہ آہستہ قدم آگے بڑھائے، اپنی کمزوری اور خوف کے باوجود، اور دل ہی دل میں دعا کی کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے۔نظر مدد کی طلبگار تھیں ۔
نور کا درد دیکھنے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ ادھر ادھر دیکھ رہی تھی، منہ کھولا، شاید کوئی آئے… مگر ہال سنسان تھا۔ نہ کوئی بندہ، نہ کوئی آواز۔ مدد کس سے مانگے؟
“اللہ جی، کیا کروں… یہ خون رک ہی نہیں رہا…”
وہ اپنے خون سے رنگے ہاتھ دیکھ کر خوفزدہ ہو کر بڑبڑائی۔ چند لمحے وہ یوں ہی کھڑی رہی، آنکھوں میں آنسو، گلے میں دبی ہوئی سسکیوں کے ساتھ۔
مجبور ہو کر وہ واپس کمرے کی طرف پلٹی، جہاں اس کا شوہر موجود تھا۔ چند گواہوں اور اس کے والدین کے سامنے قبول کر کے وہ اسے اپنے ساتھ لے آیا تھا، مگر اب وہی شخص اسے باہر نکال چکا تھا۔مگر وقت کی نزاکت یہی تھی کہ مدد کے لیے اسے دوبارہ اسی کے پاس جانا پڑا۔
دل زور سے دھڑک رہا تھا، خوف کی ٹھنڈی لہر اس کی رگوں میں دوڑ رہی تھی۔ اندر کھڑا شخص جتنے غصے سے بول رہا تھا، نور کو ڈر تھا کہیں وہ اس کی جان نہ لے لے، اور مدد کے لیے کوئی بھی موجود نہ تھا۔
آہستہ آہستہ، ڈرتے قدم اٹھاتے ہوئے نور نے روم کا دروازہ کھولا اور اندر قدم رکھا۔ سامنے وہ شخص بگڑے ہوئے موڑ کے ساتھ بیٹھا تھا، سر جھکا کر، بالوں کو انگلیوں میں جکڑے ہوئے۔ شاید اب بھی شدید غصے میں تھا۔ دروازے کی ہلکی کھلنے کی آواز پر اس نے نظریں اٹھا کر دروازے کی طرف دیکھا۔
نور کی جان کانپ گئی، بات کرنے کی ہمت کہاں سے لاتی۔ اس کے اٹھائے ہوئے گھونگٹ سے شاید اس نے نور کے لبوں پر بہتے ہوئے لال خون کو دیکھ لیا تھا۔ وہ شاید حیرت یا تشویش سے اپنی جگہ سے اٹھ گیا، مگر نور اتنی خوفزدہ تھی کہ جھٹکے سے اٹھنے کی ہی گھبراہٹ میں الٹے قدموں پیچھے ہٹ گئی۔ اسے لگا شاید وہ مارنے والا ہے۔
ماحد تیزی سے بھاگتا ہوا روم سے نکلا۔
نور اتنی تیز رفتاری سے بھاگی کہ ماحد کو بھی مجبوراً اس کے پیچھے دوڑنا پڑا۔ وہ مین گیٹ کی جانب بڑھ رہی تھی، ہر قدم کے ساتھ دل دھڑک رہا تھا، سانسیں ہلکی ہلکی پھول رہی تھیں، ماحد سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہے، کیوں بھاگ رہی ہے…
نور تیزی سے بھاگتی ہوئی مین گیٹ کے سامنے آ کر رک گئی۔ دونوں ہاتھوں سے فراک سنبھالے وہ ہانپتی ہوئی کھڑی تھی۔ سانس بے ترتیب تھیں، ہاتھ کانپ رہے تھے۔
“پلیز… پلیز دروازہ کھول دیں… پلیز مجھے جانے دیں…”
اس کی آواز لرز رہی تھی۔
وہ گارڈز کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہو گئی۔ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، لبوں پر خون کی سرخی اور چہرے پر خوف صاف نظر آ رہا تھا۔ وہ کچھ اور کہنے کی کوشش کر رہی تھی مگر الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے، بس بار بار ایک ہی التجا، ایک ہی درخواست۔
گارڈز ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے، سامنے کھڑی اس لڑکی کی حالت کچھ کہے بغیر بھی سب کچھ کہہ رہی تھی۔
“بیگم صاحب، ہم دروازہ نہیں کھول سکتے… جب تک گھر کے مالک اجازت نہ دیں…”
گارڈ نے نظریں جھکائے دھیمی آواز میں کہا۔
دروازہ گارڈز کیسے کھول سکتے تھے۔ حکم کے بغیر ایک قدم بھی ان کے اختیار میں نہیں تھا۔ دونوں اپنی اپنی جگہ خاموش کھڑے تھے، نظریں نیچی، جیسے سامنے کھڑی لڑکی کی حالت دیکھنے کی ہمت ہی نہ ہو۔
نور کے ہاتھ آہستہ آہستہ جھک گئے۔ لمحہ بھر کو اسے کچھ سمجھ نہیں آیا، جیسے الفاظ کا مطلب اس کے ذہن تک پہنچ ہی نہ سکا ہو۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔
اسی لمحے ماحد اس کے پیچھے آ کر رک چکا تھا۔ سانسیں اب بھی تیز تھیں، چہرے پر وہی سختی تھی، مگر سامنے کھڑی نور کی حالت نے لمحہ بھر کو اسے بھی روک لیا۔
نور نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، مگر اسے احساس ہو گیا تھا کہ وہ آ چکا ہے۔ اب اس کے پاس جانے کا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔
“اندر چلو، کیا تمہارا دماغ خراب ہے؟ اس طرح پاگلوں کی طرح بھاگ رہی ہو…”
ماحد نے سختی سے کہا اور اس کی کلائی پکڑ لی۔
نور کے جسم میں جیسے جان ہی نہیں رہی تھی۔ گرفت اچانک پڑی تو وہ سہم گئی۔
“اب… اب نہیں آؤں گی…” اس کی آواز بمشکل نکلی۔ “ایک بار معاف کر دیجئے، پلیز…”
وہ اپنی نازک کلائی اس کے مضبوط ہاتھ سے چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی، مگر ماحد خاموش رہا۔ نہ غصہ کم ہوا، نہ گرفت ڈھیلی پڑی۔ وہ اسے اپنے ساتھ کھینچتا ہوا روم کی طرف لے جا رہا تھا، جیسے اس لمحے نور کی موجودگی اس کے لیے صرف ایک بوجھ ہو۔
“پپ… پلیز…”
نور کے قدم لڑکھڑا گئے۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا آنے لگا۔
“مجھے مت مارنا… میں قسم سے آپ کو تنگ نہیں کرنا چاہتی تھی…”
اس کی آواز اب روتے روتے ٹوٹ رہی تھی۔
“میرے منہ سے خون آنا رک نہیں رہا تھا… اس لیے… بس اسی لیے آپ کے پاس آ گئی تھی…”
ماحد ایک لمحے کو بھی نہیں رکا۔
نور کی انگلیاں اس کی کلائی پر پھسل گئیں، اور وہ خاموشی سے اس کے ساتھ چلتی گئی، جیسے اب اس کے پاس مزاحمت کی ہمت بھی باقی نہ تھی۔
“یہ کیسا شور ہے؟ یہ کیا تماشہ لگا رکھا ہے؟”
عروب شور سن کر اپنے کمرے سے باہر نکلی۔ سامنے کا منظر دیکھ کر اس کی پیشانی پر ناگواری کی لکیر ابھری، اور اس نے غصے بھری نگاہوں سے نورکو دیکھا۔
اس کی نظر نور پر جا ٹھہری۔ لڑکی کے ہونٹوں سے بہتا ہوا خون، آنکھوں میں خوف اور آنسو، اور وہ سہمے ہوئے انداز میں کھڑی تھی۔ لمحہ بھر کو منظر ایسا تھا کہ دل دہل جائے۔ باہر والا یہی سمجھے کہ اس لڑکی پر ظلم ہوا ہے۔
عروب کا دل ایک لمحے کو بیٹھ سا گیا۔ نظریں بے اختیار ماحد کی طرف اٹھیں، پھر واپس نور کے چہرے پر آ گئیں۔ نہیں… یہ ممکن نہیں تھا۔ میں نے اپنے بیٹے کی ایسی تربیت نہیں کی۔کہ وہ کسی لڑکی پر ہاتھ اٹھائے۔۔عروب کہ دل سے یہ آواز نکلی تھی۔
مگر اس وقت حالات، نور کی حالت، اور یہ خاموشی… سب کچھ ایسا تاثر دے رہا تھا جو حقیقت نہیں تھا، مگر بہت کچھ کہہ رہا تھا۔
عروب نے ایک گہری نظر نور پر ڈالی، جیسے پورا منظر اپنے ذہن میں بٹھا رہی ہو۔ یہ شور، یہ آنسو، یہ خون… اب یہ سب نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔
اس کی نظر نور کے چہرے پر ٹھہر گئی۔ ہونٹوں پر جما خون، آنکھوں میں خوف اور آنسو، اور کپکپاتے ہاتھ۔ ایک لمحے کو اس کے دل میں کھنچاؤ سا پیدا ہوا۔ پھر اس کی نگاہ ماحد پر گئی۔
وہ جانتی تھی۔
اس کا بیٹا ایسا نہیں ہو سکتا تھا۔
عروب نے نور کی طرف ایک قدم بڑھایا، بغیر شور کیے، بغیر کسی کو الزام دیے۔ چہرے پر سنجیدگی تھی، اور آنکھوں میں وہ یقین جو صرف ایک ماں کو اپنی تربیت پر ہوتا ہے۔
“ماما…”
ماحد نے نور کو کھینچتے ہوئے روک لیا۔ اس کی گرفت ایک لمحے کو سخت تھی، پھر ڈھیلی پڑ گئی۔ نور کی کلائی اس کے ہاتھ میں کانپ رہی تھی۔
“یہ اچانک بیڈ سے اٹھی تھی۔” وہ جلدی میں بولا۔
“چوٹ لگ گئی ہے… منہ سے خون نکل رہا ہے۔”
عروب کی نظر فوراً نور کے چہرے پر گئی۔ اس کے ہونٹوں پر خون پھیلا ہوا تھا۔ آنکھیں سرخ تھیں، پلکیں بار بار جھپک رہی تھیں، جیسے وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہو۔
“اور یہ…” ماحد نے سانس لے کر بات مکمل کی،
“گھر سے باہر جانے کی کوشش کر رہی تھی۔”
اس نے نور کو اپنی طرف کھینچا نہیں، بس ہاتھ پکڑے رکھا۔ جیسے اب وہ روک رہا ہو، لے کر نہیں جا رہا۔
عروب نے ایک قدم آگے بڑھایا۔ اس کی نظریں پہلے بیٹے کے ہاتھ پر گئیں، پھر نور کی کلائی پر۔
“ہاتھ چھوڑو، ماحد۔”
ماحد نے فوراً انگلیاں کھول دیں۔ نور کا ہاتھ آزاد ہوتے ہی نیچے لٹک گیا۔ وہ خود کو بمشکل سیدھا کھڑا رکھ پا رہی تھی۔
عروب نے قریب آکر نظریں اٹھا کر ماحد کو دیکھا۔پھر واپس سے نظریں نور پر ٹکا دی۔ایک لمحے کو اس کی بھنویں ہلکی سی سکڑیں،لمحہ بھر کو طوفان سے پہلے والی خاموشی چھائی تھی۔
عروب نے نور کے سامنے آ کر قدم روک دیے۔ اس کے بازو سینے پر بندھے تھے۔ چہرہ سخت تھا۔
ماحد ایک طرف کھڑا تھا، بالکل خاموش۔ اس کی نظریں نیچے تھیں۔
“یہاں تمہارے ناز نخرے نہیں چلیں گے۔”
عروب نے صاف اور کڑے لہجے میں کہا۔
“یہ مت بھولنا کہ تم بدلے کے طور پر اس گھر میں آئی ہو۔”
نور نے سر جھکا لیا۔ اس کے ہاتھ آپس میں الجھ گئے۔ آنکھوں میں پانی بھر آیا۔
“تمہارے بھائی نے میری بیٹی کی زندگی خراب کی ہے۔”
عروب نے بات ختم کی، جیسے فیصلہ سنا رہی ہو۔
ماحد نے ایک لمحے کو ماں کی طرف دیکھا، پھر نظریں ہٹا لیں۔ اس نے کچھ نہیں کہا۔
“ہم سے نرمی کی امید مت رکھنا۔”
عروب نے بازو کھولے، ہاتھ نیچے گر گئے۔
“ہم تم پر ہاتھ نہیں اٹھائیں گے، مگر تمہارے چونچلے بھی نہیں اٹھائیں گے۔”
نور نے جلدی سے آنسو صاف کیے۔ سر ہلایا۔
“جی…”وہ بس اتنا ہی کہہ پائی ۔
عروب نے ماحد کو دیکھا۔ آواز میں نرمی نہیں تھی، مگر چیخ بھی نہیں تھی۔
“ماحد۔”
“جی، ماما۔”
وہ فوراً متوجہ ہوا، نظریں بے اختیار جھک گئیں۔
عروب نے نگاہ نور سے ہٹا کر بیٹے پر جمائی۔
“اس کے ساتھ جیسا بھی سلوک کرنا ہے کرو، مگر اسے اپنے روم میں رکھو۔”
ماحد کے چہرے پر ناگواری صاف ابھری۔
“میں اسے اپنے روم میں برداشت نہیں کر سکتا۔” اس نے دھیمی مگر بھری ہوئی آواز میں کہا۔
“مجھے اسے دیکھ کر اتنا غصہ آتا ہے کہ مجھے خود پر بھی قابو نہیں رہتا۔ ڈر لگتا ہے، یا تو میں کوئی غلط قدم اٹھا لوں گا یا خود کو نقصان پہنچا بیٹھوں گا۔”
عروب کے چہرے کے تاثرات نہیں بدلے۔
“تمہیں برداشت کرنا پڑے گا۔”
اس نے سیدھا جواب دیا۔
“میں تم سے یہ نہیں کہہ رہی کہ تم اسے بیوی کا درجہ دو، یا عزت و احترام دکھاؤ۔ اسے سزا دینے کے لیے اپنے ساتھ رکھو۔”
ماحد خاموش ہو گیا۔ انگلیاں آپس میں الجھ گئیں۔
“جس لڑکی کے بھائی نے میری بیٹی کی زندگی برباد کی ہو…”
عروب کی آواز میں کڑواہٹ گھل گئی۔
“اس کی بہن کے ساتھ اگر تم اتنی سی سختی بھی نہیں کر سکتے تو افسوس ہے تمہارے بھائی ہونے پر۔”
کمرے میں خاموشی پھیل گئی۔
ماحد نے سر جھکا لیا۔ وہ مزید کچھ کہنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔
عروب نے اس کی خاموشی کو دیکھا۔
“مجھے لگتا ہے تم سمجھ چکے ہو۔”
اس کا لہجہ فیصلہ کن تھا۔
“مجھے دوبارہ یہ بات دہرانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔”
“جی…”
یہ لفظ بمشکل اس کے ہونٹوں سے نکلا۔
عروب نے نگاہ گھما کر ماحد کی طرف دیکھا۔
“اسے لے کر جاؤ۔”
پھر قدرے سختی سے بولی،
“یہ دوبارہ اس وقت روم سے باہر نظر نہیں آنی چاہیے۔”
وہ ایک لمحے کو رکی، پھر بولی،مزید سختی سے کہا۔
“چاہے فرش پر سلاؤ، دیوار کے ساتھ کھڑا رکھو یا واش روم میں… مجھے اس سے کوئی غرض نہیں۔ دنیا والوں کی نظر میں تم اسے نکاح کر کے لائے ہو، اس لیے یہ تمہارے کمرے میں ہی رہے گی۔”
ان الفاظ میں حد بھی تھی اور حکم بھی۔
ماحد نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔
نور نے ایک نظر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ اس کا جھکا ہوا سر، بند لب، اور بے بسی صاف دکھائی دے رہی تھی۔
وہ سمجھ گئی۔ یہاں کسی بات کی گنجائش نہیں تھی۔
حالات سے سمجھوتہ کرتے ہوئے وہ اس کے ساتھ چل پڑی۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی ماحد نے جھٹکے سے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
نور لڑکھڑا کر رک گئی۔
کمرے کی خاموشی میں یہ حرکت بھی ایک الگ سزا کی طرح تھی۔
ماحد نے اس کی طرف دیکھا۔
آنکھوں میں سرخی تھی، جیسے غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا ہو۔
انگلی اٹھا کر اس کی جانب اشارہ کیا۔
“میرے خیال سے جو ماما نے کہا ہے، وہ تم نے سن لیا ہوگا۔”
نور نے سر ہلایا۔ ہچکیاں گلے میں دباتے ہوئے، جیسے صبر کا بندھ باندھ لیا ہو۔
“جی… سن لیا ہے۔ آپ کو شکایت کا کوئی موقع نہیں ملے گا۔”
ماحد نے ایک لمحہ اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا۔ ناگواری اس کے چہرے پر صاف تھی۔
“بہت مہربانی ہوگی، فلحال اپنی شکل یہاں سے لے کر جاؤ۔”
وہ خشک لہجے میں بولا۔
“واش روم جا کر منہ دھوؤ، کلی کرو، خون صاف کرو۔ عجیب چڑیلوں جیسی شکل بنا رکھی ہے۔”
نور ایک لمحے کو ساکت رہ گئی۔
اس سنگدلی پر اسے حیرت ہوئی۔ اس شخص میں یہ احساس تک نہیں تھا کہ وہ خود جا کر ذرا سی مدد کر دے۔
اس نے کچھ نہیں کہا۔
بس آہستہ سے مڑی۔
بھاری کامدار فراک کو دونوں ہاتھوں سے سنبھالتی ہوئی وہ واش روم میں داخل ہو گئی۔ بیسن کے سامنے کھڑی ہو کر اس نے پانی منہ میں بھرا، کلی کی۔ سرخ پانی بیسن میں گرا۔ اس نے دوبارہ پانی لیا، پھر تیسری بار۔ جیسے خون کو نہیں، اپنی حالت کو دھونا چاہتی ہو۔
وہ منہ پر پانی کے چھینٹے مارتی رہی۔
پانی کے ساتھ آنسو بھی بہہ رہے تھے۔
کچھ آنکھوں سے، کچھ دل سے۔
ٹاول سے چہرہ صاف کیا۔
آئینے میں ایک لمحے کو خود کو دیکھا، پھر نگاہ ہٹا لی۔
جب وہ باہر نکلی تو ماحد بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔
آرام سے۔
جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
نور کمرے کے اندر آ کر رک گئی۔
چند قدم آگے بڑھی، پھر ٹھہر گئی۔
کمرہ خاموش تھا۔
بیڈ بھرا ہوا تھا۔
وہ وہیں کھڑی رہ گئی۔
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا…
وہ کہاں سوئے۔
وہ اسے اس طرح نظر انداز کر رہا تھا جیسے کمرے میں وہ موجود ہی نہ ہو۔ ماحد بیڈ پر لیٹا تھا، نظریں چھت پر جمائے، جیسے نور کی موجودگی اس کے لیے بے معنی ہو۔
ٹھنڈے پانی سے کئی بار کلیاں کرنے کے بعد خون تو رک چکا تھا، مگر منہ کا درد اب بھی باقی تھا۔ اس کے باوجود یہ تکلیف اس سرد رویے کے سامنے کچھ بھی نہیں تھی جو اس گھر میں اس کا مقدر بن چکا تھا۔
نور چند لمحے وہیں کھڑی رہی۔ دل چاہا کہ بغیر کچھ کہے زمین میں سما جائے، مگر جسم کی تھکن اور دل کی بے بسی نے اسے بولنے پر مجبور کر دیا۔
“میں… میں کہاں سوؤں؟”
وہ آہستہ سے بولی، جیسے ہر لفظ کے ساتھ ہمت بٹور رہی ہو۔
آواز کمزور تھی، مگر اس میں وہ سوال چھپا تھا جو اب اس کی پوری زندگی بننے والا تھا۔
“صوفے پر سو جاؤ۔”
وہ بے دلی سے بولا۔
پھر جیسے بات ادھوری لگی ہو، تلخی کے ساتھ اضافہ کیا،
“ویسے تم اس صوفے کے بھی لائق نہیں ہو، تمہیں تو زمین پر فرش پر سلانا چاہیے تھا۔”
نور کا دل ایک لمحے کو ساکت ہو گیا۔
“پتہ نہیں تمہارا بھائی میری بہن کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہوگا…”
وہ بڑبڑاتے ہوئے بولا،
“مگر ہمارے ماں باپ نے ہمیں ایسی تربیت نہیں دی۔ اسی لیے صوفے پر سو جاؤ۔”
یہ کہتے ہوئے اس نے رخ دوسری طرف موڑ لیا۔ سائیڈ ٹیبل پر رکھا لیمپ بند کیا تو کمرے میں یکدم اندھیرا پھیل گیا۔ صرف دوسری جانب جلتا مدھم سا لیمپ باقی رہ گیا، جو روشنی کم اور سائے زیادہ بنا رہا تھا۔
نور اب بھی وہیں کھڑی تھی۔
نہ روشنی تھی، نہ سمت۔
کچھ لمحے وہ یوں ہی کھڑی رہی، پھر آہستہ آہستہ صوفے کی طرف بڑھی۔ آنسو بہتے ہوئے، وہ صوفے پر لیٹ گئی۔ نہ تکیہ تھا، نہ چادر۔
آج سے پہلے اس نے خود کو کبھی اس حد تک بے قیمت محسوس نہیں کیا تھا۔
بھاری کامدار سوٹ جسم میں چبھ رہا تھا۔ کروٹ بدلتی تو کپڑے کی شکنیں اور زیادہ تکلیف دیتیں۔ اوپر سے منہ کا درد تھا جو ہر سانس کے ساتھ خود کو یاد دلا رہا تھا۔
ماحد بیڈ پر رخ موڑے لیٹا تھا۔
وہ جاگ رہا تھا یا سو چکا تھا، نور کو معلوم نہیں ہو سکا۔
مگر نور جاگتی رہی۔
ساری رات۔
کبھی ہتھیلیوں سے آنسو صاف کرتی، کبھی چہرہ چھپا لیتی۔ آنسو پونچھتے پونچھتے ہتھیلیوں میں جلن ہونے لگی، مگر آنسو تھے کہ رکتے ہی نہیں تھے۔
پتہ نہیں رات کے کس پہر، جب آنسو تھک گئے یا شاید آنکھوں نے ہار مان لی، نیند نے زبردستی اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔
وہ نیند بھی ایسی تھی جس میں سکون نام کی کوئی شے شامل نہیں تھی۔ نیم بے ہوشی سی کیفیت… جس میں درد جاگتا رہا اور جسم سو گیا۔
صوفے کی سختی اس کی کمر میں اتر چکی تھی۔ منہ کا درد دھڑکنوں کے ساتھ تیز ہوتا جا رہا تھا۔ کبھی کروٹ بدلتی تو کپڑوں کی چبن اور بڑھ جاتی، کبھی آنکھ کھل جاتی تو اندھیرے میں اپنی ہی سسکی سنائی دیتی۔
دل کسی بند کمرے میں قید پرندے کی طرح پھڑپھڑاتا رہا۔
یہ نیند نہیں تھی، یہ بے بسی کا وقفہ تھا۔
ایک ایسا وقفہ جہاں انسان زندہ تو رہتا ہے، مگر اندر سے مسلسل ٹوٹتا رہتا ہے۔
اور صبح تک وہ اسی بے رحم درد میں جکڑی رہی…
بغیر کسی شکوے، بغیر کسی آواز کے۔
═══════❖═══════
دن تیزی سے گزر رہے تھے، مگر عبیرہ کے دل میں اس حادثے کی گونج اب بھی باقی تھی۔ شیشے سے بنی وہ خوبصورت دیوار جیسے اس کی آزمائش بن گئی تھی۔
جونہی اس کی نظر اس پر پڑتی، وہ ان اڑتالیس اذیت بھرے گھنٹوں میں واپس چلی جاتی… وہ گھنٹے جو اس کے دل کو دہلا دینے کے لیے کافی تھے۔
اس سب کے باوجود، ہر گزرتے دن کے ساتھ آریان کی محبت اور توجہ اس کے وجود کے گرد ایک حصار سا بُن رہی تھی۔ وہ سنبھل تو گئی تھی، مگر مکمل طور پر آزاد نہیں ہوئی تھی۔
اس حادثے کے بعد کافی دن تک وہ بہتر محسوس نہیں کرتی تھی۔۔۔آج کافی دنوں بعد اس کا موڈ کچھ بہتر تھا۔
صبح ناشتے کے بعد اس نے بھی کچھ نہیں کھایا تھا۔ شاید آج وہ خود کو مصروف رکھ کر دل کو بہلانا چاہتی تھی۔
اس نے ٹیبل پر آریان کی پسند کی کئی ڈشز سجا دی تھیں۔ گرم کھانوں کی خوشبو فضا میں پھیل رہی تھی اور اس کی بھوک کو اور تیز کر رہی تھی، مگر وہ خود کو روکے بیٹھی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ آج وہ دونوں ساتھ کھائیں۔
کافی دیر سے وہ اس کا انتظار کر رہی تھی۔ وقت جیسے سست پڑ گیا تھا۔ بیزار سی شکل بناتے ہوئے اس نے فون اٹھایا۔ چند لمحے وہ اسکرین کو دیکھتی رہی، پھر نہ جانے کس جذبے کے تحت اس نے ماحد کا نمبر ڈائل کر دیا، جو اسے زبانی یاد تھا۔
دل میں ایک دم گھر والوں کی یاد شدت سے ابھری۔ جب بھی گھر یاد آتا، اس کے لیے ہر خوشی بے معنی ہو جاتی تھی۔ انگلیاں تیزی سے اسکرین پر چلیں اور کال ملائی ۔
مگر ہمیشہ کی طرح، نمبر نہیں ملا۔
وہ ہلکی سی کڑواہٹ سے مسکرائی۔ نہیں… شاید مسکرائی بھی نہیں۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ آریان خان نے فون کی سیٹنگ ایسی کر رکھی ہے کہ سوائے اس کے کسی اور نمبر پر کال نہیں جا سکتی۔ وہ یہ بات جانتی تھی، پھر بھی نہ جانے کیوں دن میں ایک دو بار یہ نمبر ضرور ملا دیتی تھی۔ شاید دل کو ایک لمحے کی تسلی چاہیے ہوتی تھی، چاہے نتیجہ پہلے سے معلوم ہو۔
نمبر نہ ملنے پر وہ چند لمحے وہیں کھڑی رہی۔ اداسی اس کے چہرے پر صاف اتر آئی تھی۔
“میری جان، اس طرح چیٹ کرنا اچھی بات نہیں ہے…”
اچانک پیچھے سے آنے والی آواز پر وہ بری طرح چونک گئی۔ فون اس کے ہاتھوں سے پھسلنے ہی والا تھا کہ آریان نے آگے بڑھ کر بڑی مہارت سے اسے تھام لیا۔
عبیرہ کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ وہ پلٹ کر اس کی طرف دیکھنے لگی۔ دونوں کی نظریں ایک لمحے کے لیے الجھ گئیں۔
اس کا دل جیسے تھم سا گیا۔ سانسیں بے ترتیب تھیں۔ خوف اور شرمندگی کا عجیب سا ملغوبہ اس کے سینے میں ہلچل مچا رہا تھا۔
آریان نے خاموشی سے فون اس کے ہاتھ میں واپس تھما دیا۔
ہال میں ایک لمحے کو مکمل سکوت چھا گیا۔
کھانوں کی خوشبو اب بھی فضا میں موجود تھی، مگر اس لمحے وہ بھی جیسے بے اثر ہو گئی تھی۔
صرف عبیرہ کی تیز دھڑکن تھی… جو اسے خود اپنے کانوں میں سنائی دے رہی تھی۔
“چیٹ نہیں کر رہی تھی…”
وہ ذرا توقف کے بعد بولی۔ نظریں آریان پر جمائے کھڑی تھی، جیسے نظریں ہٹائیں گی تو خود بھی ٹوٹ جائیں گی۔
آریان کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری، مگر آنکھوں میں وہ نرمی نہیں تھی جو لفظوں میں تھی۔
“اچھا… تو پھر یوں چوری چھپے اُن لوگوں کا نمبر ملانا، جن سے میرا دشمنی کا رشتہ ہے… میری جان، یہ چیٹنگ نہیں تو اور کیا ہے؟”
اس کا لہجہ نرم تھا، مگر مفہوم میں چبھن صاف محسوس ہو رہی تھی۔
ہلکی سی بالوں کی ایک لٹ جو سرک کر ماتھے سے گال تک آ گئی تھی، آریان نے نرمی سے اسے کان کے پیچھے کر دیا۔ جیسے اسے یہ گوارا نہ ہو کہ کوئی بے ترتیب لٹ عبیرہ کے چہرے کو چھوئے۔
پھر اس کی انگلی نہایت آہستگی سے عبیرہ کے رخسار پر پھسلی۔ لمس میں محبت تھی، نظر میں گہرائی… مگر الفاظ اب بھی کہیں نہ کہیں زخم دے رہے تھے۔
وہ اس کے چہرے کو یوں دیکھ رہا تھا جیسے وہ اس کی دنیا ہو،
اور باتیں یوں کر رہا تھا جیسے اسے یاد دلا رہا ہو کہ وہ دنیا اس کی اپنی شرائط پر قائم ہے۔
عبیرہ کے گلے میں جیسے کچھ اٹک گیا۔ وہ جانتی تھی یہ نرمی مکمل نرمی نہیں ہے…
یہ محبت بھی ہے اور اختیار بھی۔
بے اختیار عبیرہ کی آنکھوں میں نمی کی ہلکی سی جھلک اُتری…
اور آریان خان وہ جھلک دیکھ چکا تھا۔
وہ منظر اسے اچھا نہیں لگا۔ دل میں ہلکی سی کسک اُٹھی۔ جیسے کسی نے اندر کہیں ناخن رکھ دیا ہو۔
اس نے آہستہ سے اس کے چہرے کو دیکھا، پھر مدھم آواز میں بولا،
“یہ تکلیف پہنچانے کا کوئی نیا انداز ہے، میری جان؟”
اس کا اشارہ صاف اُس نمی کی جانب تھا جو عبیرہ کی پلکوں پر ٹھہری ہوئی تھی۔
عبیرہ نے خاموشی سے نظریں جھکا لیں۔ شاید وہ اس کے سامنے نہیں رونا چاہتی تھی۔ شاید وہ اپنی کمزوری کو اس کی آنکھوں میں ثبت نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔
پچھلے چند دنوں سے، دونوں کے درمیان ایک گھٹن زدہ ماحول چھایا ہوا تھا۔
ہر بات، ہر نظر، ایک دوسرے کے گرد بوجھ بن کر منڈلا رہی تھی۔
یہ خاموشی کبھی اتنی سخت تھی کہ دل کے ہر دھڑکن کو محسوس کیا جا سکتا تھا،
اور کبھی اتنی نرم کہ بس لمحے کو سہارا دے رہی تھی۔
عبیرہ اور آریان، دونوں اپنے اپنے جذبات میں الجھے ہوئے،
جیسے دو کشتیوں کے بیچ پانی کا راستہ تنگ ہو گیا ہو۔
یہ گھٹن، یہ خاموشی، ان کے دلوں میں چھپی ہوئی چھوٹی چھوٹی شکایات اور تلخیوں کو بڑھا رہی تھی…
وہ مزید کچھ کہے بنا پلٹ کر دور جانے لگی۔
مگر آریان نے فوراً آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام لیا۔ گرفت سخت نہیں تھی، مگر واضح تھی… جیسے وہ کسی بھی قیمت پر اسے یوں روٹھ کر جانے نہیں دے سکتا۔
“ہاتھ چھوڑیں میرا…”
وہ بمشکل بولی۔
“میں پانچ منٹ اکیلی رہنا چاہتی ہوں… پھر ٹھیک ہو جاؤں گی۔ آپ فریش ہو کر آئیں۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے کھانا بنایا ہے۔”
آنسو روکنے کی کوشش میں اس کی آواز بھاری ہو گئی تھی۔
الفاظ گلے میں اٹک رہے تھے، جیسے ہر جملہ بولنے کے لیے اسے اندر سے زور لگانا پڑ رہا ہو۔
وہ مضبوط بننے کی کوشش کر رہی تھی…
مگر اس کی پلکوں پر ٹھہری نمی اس کہ دل کی حالت بتا رہی تھی۔۔
“پانچ منٹ مجھ سے دور رہ کر رونا چاہتی ہو…؟”
اس کی آواز اب مدھم ضرور تھی، مگر اس میں وہ ٹھہرا ہوا اختیار موجود تھا جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔
“اور تمہیں لگتا ہے کہ میں ایسا کرنے دوں گا؟”
عبیرہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
آریان اس کے بالکل قریب کھڑا تھا۔ اگلے ہی لمحے اس نے اپنے مضبوط بازو اس کے گرد حائل کر دیے۔ یہ گرفت جکڑنے والی نہیں تھی… مگر اتنی مضبوط ضرور تھی کہ عبیرہ کو احساس ہو جائے، وہ اس کی حد میں ہے۔
وہ اس کے حصار میں آ چکی تھی۔
اس کے سینے سے لگ کر کھڑی عبیرہ کو اپنی ہی دھڑکن سنائی دے رہی تھی… یا شاید وہ آریان کے دل کی آواز تھی جو اس کے کانوں تک پہنچ رہی تھی۔
“ان خوبصورت آنکھوں کو رونے کی اجازت نہیں ہے۔اور اکیلے میں تو بالکل بھی نہیں۔”
اس نے آہستہ سے کہا”
لفظوں میں ضد تھی… مگر اس ضد کے پیچھے عجیب سی بے چینی بھی چھپی تھی۔
عبیرہ کی پلکیں مزید بھیگ گئیں۔
اس کے دل میں ایک عجیب سا احساس اتر آیا تھا… وہ جانتی تھی یہ آدمی اسے رونے بھی اپنی مرضی سے دیتا ہے۔
اور یہی بات اسے سب سے زیادہ بے بس کر دیتی تھی۔
کبھی ایسا لگتا کہ اس کی محبت ایک نرم، محفوظ چھتری کی مانند ہے، جو ہر خطرے سے بچا لیتی ہے۔
اور کبھی ایسا محسوس ہوتا کہ یہ محبت ایک پنجرے کی طرح ہے، جس میں وہ اڑ تو سکتی ہے… مگر دیواروں کی حدود سے باہر نہیں جا سکتی۔
“آپ جانتے ہیں… کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ میں آپ کو پوری طرح سمجھتی ہوں۔”
وہ اس کے حصار میں کھڑی تھی، مگر نظریں اس کے سینے پر ٹکی ہوئی تھیں۔ آواز دھیمی تھی، مگر لفظ صاف تھے۔
“آپ کے دل کی ہر چھوٹی سی بات… جیسے میں محسوس کر لیتی ہوں۔”
وہ چند لمحے رکی۔ سانس بھری۔
“اور پھر پل بھر میں ایسا لگتا ہے جیسے آپ اجنبی ہیں۔ جیسے میں آپ کو جانتی ہی نہیں۔”
آریان کی گرفت میں ہلکی سی سختی آئی، مگر وہ خاموش رہا۔
عبیرہ کی پلکیں جھک گئیں۔
“آپ کی محبت سمجھ نہیں آتی… کبھی مخمل جیسی نرم ہوتی ہے… اور کبھی کانٹوں جیسی چبھنے لگتی ہے۔”
یہ شکوہ نہیں تھا۔
یہ ایک تھکی ہوئی سچائی تھی، جو اس کے دل سے نکل کر لبوں تک آ گئی تھی۔
کمرے میں چند لمحوں کے لیے سکوت اتر آیا۔
صرف ان دونوں کی سانسیں تھیں، جو ایک ہی فاصلے میں گھل رہی تھیں… مگر پھر بھی کہیں نہ کہیں ایک پردہ سا باقی تھا۔
آریان کی نظریں اب اس کے چہرے پر تھیں۔ گہری، ٹٹولتی ہوئی۔
جیسے وہ یہ جانچ رہا ہو کہ وہ کتنا کہہ گئی ہے… اور کتنا ابھی اپنے اندر چھپا رہی ہے۔
آریان نے اس کے چہرے کو اپنی انگلیوں سے ذرا سا اوپر اٹھایا۔
نگاہیں اس کی آنکھوں میں اُتریں… گہری، سنجیدہ۔
“مجھے بھی لگتا ہے…”
اس کی آواز میں ہلکی تھکن تھی، مگر ہر لفظ کا وزن دل پر بیٹھ رہا تھا۔
“کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں نے تمہیں سچ میں اپنی روح میں اتنا بسا لیا ہے… کہ تم ہر سانس، ہر خیال میں میرے ساتھ ہو۔”
عبیرہ کی سانس تھم سی گئی۔
“اور پھر… پل بھر میں ایسا لگتا ہے جیسے تم اچانک اجنبی بن گئی ہو۔”
اس کی آواز میں وہی درد چھپا تھا جو وہ لفظوں میں نہیں بول سکتا تھا۔
یہ الزام نہیں تھا، بلکہ ایک خاموش اعتراف تھا… شاید بے بسی کی طرح، جو صرف دل کی گہرائی میں موجود تھی۔
اس کی پیشانی عبیرہ کی پیشانی سے ہلکی سی چھو گئی۔
“میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا…”
لفظ دھیمے تھے، مگر ہر حرف دل کے ایک تہہ دار احساس کو بیان کر رہا تھا۔
عبیرہ نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں وہ ہلکی بے یقینی دیکھی، جو اکثر چھپایا کرتا تھا۔
شاید دونوں ایک ہی ڈر کے اسیر تھے… فرق صرف اتنا تھا کہ کوئی اسے تسلیم کرتا تھا، اور کوئی چھپا لیتا تھا۔
“میں بھی آپ کو کھونا نہیں چاہتی…”
عبیرہ کی آواز میں لرزش تھی، مگر الفاظ میں غیر معمولی ٹھہراؤ۔ وہ اب اس کے حصار میں قید نہیں لگ رہی تھی، بلکہ اپنی جگہ پر قائم محسوس ہو رہی تھی۔
“مگر شرطوں پر محبت نہیں ہوتی، یہ بات آپ کو سمجھنی ہوگی۔”
آریان کی نظریں اس کے چہرے پر جم گئیں۔ گرفت ڈھیلی تو نہیں ہوئی، مگر اس میں ایک سوال ضرور آ گیا تھا۔
عبیرہ نے ہمت جمع کی۔
“آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں… اور میرے گھر والوں کو دشمن سمجھتے ہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔”
اس کی آنکھوں میں اس بار آنسو نہیں تھے، صرف سچ تھا۔
“میں اپنے گھر والوں سے بہت محبت کرتی ہوں، آریان۔”
پہلی بار اس نے اس کا نام اس لہجے میں لیا… جیسے کوئی حد کھینچ دی ہو۔
کمرے کی فضا بدل گئی۔
یہ وہ عبیرہ نہیں تھی جو ابھی کچھ دیر پہلے نظریں جھکا رہی تھی۔ یہ وہ عبیرہ تھی جو محبت بھی کرتی تھی اور اپنے رشتوں کی حرمت بھی جانتی تھی۔
آریان خاموش کھڑا اسے دیکھتا رہا۔
شاید پہلی بار اسے احساس ہوا تھا کہ محبت صرف حاصل کرنے کا نام نہیں… قبول کرنے کا بھی نام ہے۔
“اور اگر میں تمہارے گھر والوں کے لیے دل صاف نہ کر سکا تو…؟”
آریان کی آواز اس بار پہلے جیسی پختہ نہیں تھی۔ اس میں ہلکی سی دراڑ تھی، جو شاید وہ خود بھی چھپا نہیں سکا۔
“تو کیا چھوڑ دو گی مجھے؟”
یہ سوال سادہ تھا… مگر اس کے پیچھے کھڑا خوف بہت گہرا تھا۔
عبیرہ نے اس کی آنکھوں میں وہ درد صاف دیکھا۔ جیسے اس ایک جواب پر اس کی محبت کی بنیاد ٹکی ہو۔ جیسے وہ یقین چاہ رہا ہو… مکمل اور بے شرط۔
کمرے کی فضا یکدم سنجیدہ ہو گئی۔
کھانوں کی خوشبو، روشنی، سب کچھ پس منظر میں چلا گیا۔
عبیرہ نے آہستہ سے اس کے بازوؤں پر رکھی اپنی ہتھیلیاں مضبوط کیں۔
“چھوڑنا آسان ہوتا تو شاید ڈر نہ لگتا…”
“میں آپ کو چھوڑنا نہیں چاہتی۔ مگر خود کو بھی نہیں چھوڑ سکتی۔”
اس کی آواز میں آنسو نہیں تھے… صرف سچ تھا۔
“محبت کسی ایک رشتے کو بچانے کے لیے دوسرے رشتے کو جلانے کا نام نہیں ہے ، آریان۔”
یہ فیصلہ نہیں تھا۔
یہ ایک حد تھی… جس کے اندر وہ دونوں کھڑے تھے۔
اب سوال یہ نہیں تھا کہ کون کس سے زیادہ محبت کرتا ہے…
سوال یہ تھا کہ کون محبت کو کس وسعت کے ساتھ قبول کر سکتا ہے۔
“محبت میں شرطیں تو تم بھی رکھ رہی ہو…”
آریان کی آواز اب نرم نہیں رہی تھی۔ وہ ایک قدم پیچھے ہٹا، مگر نظریں اسی پر جمائے رکھیں۔
“الزام صرف مجھے دے رہی ہو۔ تمہاری محبت میں آریان خان پتھر سے موم بن گیا… اور تم کہہ رہی ہو میں شرطیں رکھ رہا ہوں؟”
اس کے لہجے میں دکھ تھا، اور اس دکھ کے نیچے چھپا ہوا غرور بھی۔
“اب بھی تم اپنے گھر والوں کو نہیں بھول سکیں۔ بتاؤ… یہاں دغا بازی کون کر رہا ہے؟ میں… یا تم؟”
یہ سوال نہیں تھا، چیلنج تھا۔
عبیرہ کے چہرے کا رنگ ہلکا سا بدل گیا۔ وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی، جیسے یقین نہ آ رہا ہو کہ بات یہاں تک آ پہنچی ہے۔
“دغا بازی؟”
اس نے آہستہ سے دہرایا۔
“اگر اپنے ماں باپ کو یاد کرنا دغا ہے تو ہاں… میں قصوروار ہوں۔”
اس کی آواز ٹوٹی نہیں تھی۔
بلکہ اس میں ایک عجیب سا وقار تھا۔
“مگر آپ نے کبھی سوچا… میں نے کیا چھوڑا ہے؟ اپنا گھر، اپنی پہچان، اپنی دنیا۔ صرف اس لیے کہ آپ نے مجھے اپنا کہا۔”
“آپ پتھر سے موم بنے ہیں… تو میں بھی سونے سے مٹی بنی ہوں، آریان۔ فرق صرف یہ ہے کہ آپ اپنی تبدیلی گنواتے ہیں… اور میں اپنی قربانی چھپاتی ہوں۔”
کمرے میں خاموشی اتر آئی۔
یہ جھگڑا نہیں تھا۔
یہ دو محبت کرنے والوں کے درمیان وہ سچ تھا… جسے دونوں سننا نہیں چاہتے تھے، مگر کہہ دینا ضروری تھا۔
“غلط… تم نے میرے لیے کچھ نہیں چھوڑا!”
آریان کی آواز میں غصہ اور درد دونوں سنائی دے رہے تھے۔ اس کی نظریں عبیرہ پر تھیں، چہرے پر ایسا تناؤ جیسے وہ سچائی پوری طرح سے سامنے رکھنے جا رہا تھا۔
“تمہارے پاس کوئی انتخاب نہیں تھا۔ جب میں تمہیں تمہارے گھر والوں سے اتنا دور لے آیا… جہاں سے تمہاری واپسی ممکن ہی نہیں تھی، اس لیے تم نے مجھے اپنا لیا۔ ورنہ شاید تم مجھے دھتکار کر خود سے دور کر دیتیں۔”یہ محض الفاظ نہیں تھے۔
یہ زہر میں لپٹے زہریلے تیر تھے، جو عبیرہ کے دل کو اندر تک چھلنی کر گئے۔
عبیرہ کا دل آریان کی بات سے ٹوٹ کر کرچیوں میں بکھر گیا۔
شاید وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ آریان اس پر ایسا طنز کر سکتا ہے۔
“آپ تو ابھی سے ڈگمگا گئے ہیں…”
عبیرہ کی آواز میں سختی اور درد دونوں تھے۔
“ابھی تو بہت سی کٹھن راہیں پار کرنی ہیں، آریان… آپ تو ابھی سے تنز پر اتر آئے ہیں۔”
اس کی نظروں میں بے یقینی چھپی تھی۔
آریان بالکل خاموش تھا۔
اس کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ شاید خود اسے بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
کچھ دنوں سے جو کچھ وہ بول رہا تھا، کیوں بول رہا تھا… یہ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا، یا شاید زبان تک لانے کی ہمت نہیں تھی۔
اسی ٹوٹ پھوٹ نے دونوں کے درمیان ایک دباؤ اور الجھن پیدا کر دی تھی،
جیسے ہر لمحہ ان کے دل کی دھڑکنیں ایک دوسرے سے سوال کر رہی ہوں، مگر کوئی جواب نہ دے رہا ہو۔
“ویسے آپ بھی تو… اپنی روشانے اور پریشے کو نہیں چھوڑ سکتے۔”
عبیرہ کے الفاظ ایک دھار کی طرح گرے، اس کی آنکھوں میں تلخی اور درد دونوں جھلک رہے تھے۔
اس نے آریان کی خاموشی کو چیلنج کرتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کی کمزوری پر رکھا، جیسے اس لمحے سے وہ کچھ ثابت کرنا چاہتی ہو۔
آریان کی رگوں میں ہلکی سی جھنجھلاہٹ دوڑ گئی، دل کی دھڑکن تیز ہوئی، لیکن وہ خاموش رہا، صرف عبیرہ کی ہر سانس، ہر نظر، ہر حرکت کو محسوس کر رہا تھا۔
خاموشی میں بھی ایک شدت تھی، ایک ایسی کیفیت جس میں دونوں کے درمیان لفظوں سے زیادہ کچھ چھپا ہوا تھا۔
کچھ لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔
آریان کی نظریں عبیرہ پر جم گئیں۔
“عبیرہ… خاموش کیوں ہو گئی؟”
اس کی آواز میں ہلکی سختی تھی، اور دل ٹوٹنے کا درد چھپا ہوا۔
“میں سن رہا ہوں… کچھ اور بھی ہے کہنے کو تو کہہ دو۔”
اس کے لہجے میں صرف سوال نہیں، ایک طرح کی بے بسی بھی تھی، جیسے وہ بس یہ جاننا چاہتا ہو کہ عبیرہ کے دل میں کیا چل رہا ہے۔
“کہنے کو بہت کچھ ہے… مگر میرا خاموش رہنا بہتر ہے۔ آپ برداشت نہیں کر پائیں گے۔”
اس کا لہجہ بظاہر نرم تھا، مگر ہر لفظ میں ایک چھپی ہوئی تلخی، ایک زہر کی مانند درد تھا۔
عبیرہ اس کے بالکل قریب کھڑی تھی۔
اتنی قریب کہ صرف سانسوں کا فاصلہ باقی رہ گیا تھا،
مگر دلوں کے درمیان ایک گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی،
جیسے ہر جذبات ایک دوسرے سے بات کرنا چاہتا ہو مگر زبان خاموش ہو۔
آریان نے آہستہ سے اس کے ہاتھ پر
اپنا ہاتھ رکھا،
اس کے لمس میں نرمی اور درد دونوں موجود تھے۔
عبیرہ نے لمحہ بھر کے لیے اس کی آنکھوں میں جھانکا…
پھر آہستہ اپنا ہاتھ چھڑا لیا،
نظروں میں خفگی، دل میں ٹوٹنے کی آواز، اور سینے میں ایک گھٹن سی رہ گئی۔
“عبیرہ…”
اس نے نام اس طرح کھینچ کر پکارا، جیسے وہ اس کی انگلیوں سے پھسل رہا ہو۔
“تمہاری ناراضگی… میں اسے کبھی برداشت نہیں کر سکتا… باقی دنیا کی ہر تکلیف سہ لوں گا۔”آریان اس بات کو برداشت نہیں کر پا رہا تھا کہ عبیرہ نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے ہٹا دیا۔
عبیرہ کی پلکیں لرز گئیں… جیسے وہ بھی اسے تکلیف پہنچانا نہیں چاہتی تھی۔ دل کا بوجھ بے اختیار پھوٹ رہا تھا۔
وہ ایک لمحے کے لیے اسے دیکھتی رہی، پھر ہلکا سا تلخ سا تبسم لبوں پر آیا۔
“کچھ دیر پہلے آپ کیا بول رہے تھے… یاد ہے؟ آپ کو اندازہ بھی ہے اس سے مجھے کتنی تکلیف ہوئی؟”
آریان خاموش رہا۔ اس کی آنکھوں میں وہی درد تھا جو اس کے دل میں چھپا ہوا تھا، مگر الفاظ نہ بن سکے۔
عبیرہ نے سانس کھینچا، جیسے دل کا بوجھ باہر نکالنا چاہتی ہو۔
“کبھی احساس دلاتے ہیں کہ میں آپ کے لیے سب سے قیمتی ہوں… اور پھر پل بھر میں مجھے بتا دیتے ہیں کہ میری اپنی کوئی مرضی نہیں… آپ مجھے اتنا الجھائے ہوئے ہیں کہ نہ میں خود کو آزاد محسوس کر پاتی ہوں، نہ قید میں۔ آپ میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟”
“مجھے سمجھ نہیں آتا… آپ سے ناراض رہوں یا آپ کی باتوں میں آ جاؤں… محبت کروں یا خود کو بچاؤں…”
وہ ایک قدم پیچھے ہٹی۔
“کیوں کر رہے ہیں آپ یہ سب میرے ساتھ؟”
اب سوال نہیں، شکوہ تھا… شکوہ جو صرف محبت کے اندر سے جنم لیتا ہے۔
عبیرہ روتے ہوئے گرے رنگ کے صوفے پر ڈھیر ہو گئی۔
دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ لیے… جیسے آنکھوں کے کنارے سے چند آنسو چھپانے کی کوشش کر رہی ہو۔
کمرے میں بوجھل خاموشی اتر گئی، ہر لمحہ جیسے ہوا بھی رک گئی ہو۔
آریان کچھ کہنے سے قاصر تھا۔ اس کی خاموشی میں بھی درد کی صدائیں گونج رہی تھیں۔اس کا رب گواہ تھا کہ وہ عبیرہ کو کسی بھی طرح کی ذہنی اذیت نہیں دینا چاہتا تھا۔
آریان دو قدم کے فاصلے پر کھڑا تھا۔
سیاہ کوٹ اور پینٹ میں ملبوس، ہلکی رنگت کی شرٹ اور قرینے سے بندھی ٹائی… ہر چیز اپنی جگہ مکمل۔
مگر اس کی آنکھیں بے چین سی ہو چکی تھیں۔
وہ اسے یوں ٹوٹتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔
اچانک جیسے فاصلے کا حوصلہ ختم ہو گیا۔
وہ آگے بڑھا… اور اس کے سامنے زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔
آہستہ سے اس کے چہرے سے ہاتھ ہٹاتے اپنے ہاتھوں میں لیے۔
عبیرہ نے کوئی مزاحمت نہیں کی…
آریان نے جھک کر اپنی پیشانی ہاتھوں پر ٹکا دی۔
کوئی لفظ نہیں بولا اس نے۔
کبھی کبھی جھک جانا ہی سب سے بڑی معافی ہوتا ہے۔
چند لمحے اسی طرح گزر گئے۔
عبیرہ کی سانسیں رونے کی وجہ سے بے ترتیب تھیں۔
آریان کی پیشانی اب بھی اس کے ہاتھوں پر ٹکی ہوئی تھی۔
اس کی انگلیاں بے اختیار سا ہلیں… جیسے وہ اس کے بالوں کو چھونا چاہتی ہو۔
مگر اگلے ہی لمحے اس نے خود کو روک لیا۔
ہاتھ آہستگی سے کھینچ لیے۔قریب آتے انگلیوں کے لمس کو اس کے دل نے محسوس کیا تھا مگر جب لمس دور ہوا تو اس نے سر اٹھا کر عبیرہ کی جانب دیکھا۔
اس کی آنکھوں میں غرور نہیں تھا… صرف خوف تھا۔،شاید عبیرہ کو کھو دینے کا خوف۔
عبیرہ نے بھیگی پلکوں کے ساتھ اسے دیکھا۔پھر نظروں کو اس کے چہرے سے ہٹا لیا۔
“میں جانتا ہوں… میں غلط بول گیا ہوں۔ مجھے احساس ہے۔ مگر مجھ سے ناراض مت ہونا، یار… تمہاری ناراضگی برداشت نہیں ہوتی۔”
وہ اس لمحے کسی ضدی مرد کی طرح نہیں، ایک ڈرے ہوئے بچے کی طرح لگ رہا تھا… جیسے اس کی آنکھوں میں اپنا وجود تلاش کر رہا ہو۔
عبیرہ نے نم پلکیں جھکاتے ہوئے اس کے چہرے کو دیکھا۔۔
“کیوں ناراض نہیں ہو سکتی؟ آپ کبھی جان کر کبھی انجانے میں مجھے ذہنی اذیت دیتے رہیں۔۔۔۔اور میں ناراض بھی نہیں ہو سکتی۔”
“اتنا روتا ہوا لہجہ مت اپناؤ… رونے کے علاوہ باقی سب حق دے دیے ہیں اپنا… آپ تمہارے نام کر دیا ہے۔ ایسے بیگانوں کی طرح تو مت بولو یار۔”
“اور جانتی ہو… جس بات پر تم مجھ سے جھگڑ رہی ہو، میں تمہیں ان سے دور کیوں رکھنا چاہتا ہوں؟”
عبیرہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔
اس کی نظروں میں حیرت تھی… جیسے وہ کسی بڑے راز کا دروازہ اٹھانے والا ہو۔
آریان اٹھ کر صوفے پر اس کے اور قریب بیٹھ گیا۔
عبیرہ کے دونوں ہاتھ اب بھی اپنے ہاتھوں میں تھامے ہوئے تھا… مضبوطی سے… جیسے ڈر ہو کہ وہ چھوٹ نہ جائیں۔
اس نے گہری سانس لی۔ جو کہنا چاہتا تھا وہ اس کے لیے بھی آسان نہ تھا۔
“اس لیے دور رکھتا ہوں… کیونکہ جس دن تم ان سے ملو گی، وہ تمہیں مجھ سے چھیننے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔”
اس کی آواز میں اب خوف نہیں تھا، بلکہ اعلان تھا۔
“اور اس دن جنگ ہو گی… کیونکہ میں تمہیں خود سے دور نہیں جانے دوں گا… پھر چاہے میں مروں… یا کوئی اور… مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”
اس کی نظروں میں جنون چھلک رہا تھا کہ جس دن کوئی بھی عبیرہ کو اس سے دور کرنے کی کوشش کرے گا، حالات بدترین ہو جائیں گے۔”
“میری زندگی میں تمہارا مجھ سے دور ہونا ناممکن ہے، جان۔ یہ بات اپنے دماغ میں بٹھا لو۔”
آریان کی آنکھوں میں ایک عجیب سی ضد اتر آئی۔
“تمہارے گھر والوں سے میری سب سے بڑی دشمنی اس وقت یہی ہے… باقی سب باتیں ایک طرف رکھ دو۔”عبیرہ ساکت بیٹھی تھی۔
اسے آریان کے جنون سے خوف آ رہا تھا۔
کمرے کی فضا بدل چکی تھی۔
یہ محبت تھی… یا اعلانِ جنگ… عبیرہ کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا تھا۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟ میں سچ کہہ رہا ہوں… یہی میرا ڈر ہے جو مجھے نہ چاہتے ہوئے بھی تمہارا دل دکھانے پر مجبور کر دیتا ہے۔
جو تم چاہتی ہو، وہ میں نہیں کر سکتا۔ تم اپنے گھر والوں سے ملنا چاہتی ہو اور میں نہیں ملا سکتا… کیونکہ اگر وہ ملیں، تو میں دور ہو جاؤں گا۔”
آریان کی باتوں میں وضاحت تھی، اور اس کی نظریں اس بات کی شدت کو پوری طرح سے ظاہر کر رہی تھیں۔
عبیرہ کے دل میں ایک لمحے کے لیے خواہش جاگی کہ وہ وہاں سے اٹھ کر چلی جائے۔
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ سامنے بیٹھا شخص محبت کر رہا ہے یا اسے قید کرنے کی کوشش…
“بس کریں یہ جنونیت… یہ محبت اب میری سمجھ سے باہر ہو گئی ہے، جانتے ہیں کیوں؟ جب تک آپ مجھ سے نفرت کرتے تھے، تب تک تو ٹھیک تھا… میں آپ کو برداشت کر رہی تھی، کیونکہ ہمارے بیچ دشمنی کا رشتہ تھا۔ مگر اب… اب آپ محبت کے دعویدار ہیں، تو پھر میرے ساتھ ایسا سلوک کیسے کر سکتے ہیں؟”
عبیرہ کی آواز میں آنسوؤں کی کھنک تھم رہی تھی۔ لرزتے ہونٹوں کے باوجود اس کی ٹھوڑی تن گئی تھی۔ وہ ٹوٹنا نہیں چاہتی تھی… آج وہ اپنا دفاع کرنا چاہتی تھی، اور یہ اس کا حق تھا۔
آریان اپنے اندرجیسے اٹھتے طوفان کو قابو میں کرنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر اگلے لمحے اس کی آنکھوں میں ضد جھلک گئی۔
“میری جنونیت اس سے بھی بڑھ سکتی ہے… اگر تم یوں میری انا سے ٹکراؤ گی۔”
وہ ایک جھٹکے سے سیدھا ہو کر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا، جیسے کوئی پہاڑ راستہ روک دے۔
“انا…؟ میں انا سے ٹکرا رہی ہوں، آریان؟ ایک بار اپنے دل سے پوچھیں۔ جن حالات میں ہمارا رشتہ بنا… اس کے بعد بھی اگر محبت نے ہمارے درمیان جگہ بنا لی، تو یہ میری انا نہیں تھی۔ اگر میں انا کی دہلیز پر کھڑی رہتی، تو یہ کبھی ممکن ہی نہ ہوتا۔”
اس کے لہجے میں شکوہ تھا، مگر اس شکوے کے پیچھے ایک سچی تھکن بھی چھپی تھی۔
“تو اب مسئلہ کیا ہے؟” آریان نے بے صبری سے اس کے کندھوں کو تھام لیا۔ اس کی گرفت میں ایک عجیب سی بے قراری تھی۔
“مجھ سے محبت کرو… ہم ایک ساتھ خوشحال زندگی گزاریں گے۔اس ضد کو چھوڑ دو میں دنیا کی ہر خوشی تمہارے قدموں میں لا کر رکھ دوں گا…. ہمارے بچے ہوں گے… ہماری ایک دنیا ہوگی…. ہماری فیملی… تم اور میں، اور کوئی نہیں۔”
اس کی آواز میں جنون بھی تھا اور محبت بھی… مگر اس محبت کے سائے میں ہلکی سی خودغرضی بھی صاف جھلک رہی تھی۔
“بچے…؟” عبیرہ کے لبوں پر تلخ مسکراہٹ ابھری، جو فوراً ہی درد میں بدل گئی۔
“بیٹی ہوگی… اور پھر ایک دن کوئی آریان خان آئے گا… اور آپ کی بیٹی کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرے گا جیسا آپ میرے ساتھ کر رہے ہیں۔ وہی سلوک جو آپ نے میرے گھر والوں کے ساتھ کیا۔”
وہ اب رکنے والی نہیں تھی۔ مہینوں کا دکھ الفاظ بن کر بہنے لگا۔
“جس دن آپ اس اذیت سے گزریں گے نا… تب احساس ہوگا کہ ایک لڑکی کی عزت کیا ہوتی ہے، ایک باپ کی بے بسی کیا ہوتی ہے، ایک بھائی کا درد کیا ہوتا ہے… اور ایک ماں کے آنسوؤں کی کتنی قیمت ہوتی ہے۔”
آج اس نے اپنے اندر جمع دکھ کا بوجھ پوری طرح اس کے سامنے کھول کر رکھ دیا تھا۔ دل میں کچھ بھی نہیں بچا تھا۔
“بددعائیں دے رہی ہو اس اولاد کو… جس کا ابھی کہیں نام و نشان بھی نہیں؟”
آریان کی آنکھوں میں ایک لمحے کے لیے خون اتر آیا۔ شاید پہلی بار اس نے دل کی کسی گہرائی میں باپ ہونے کے جذبے کو چھوتے ہوئے محسوس کیا… یا شاید یہ صرف غرور پر لگی چوٹ تھی ۔ خود بھی سمجھ نہ پایا۔
مگر عبیرہ سمجھ گئی تھی۔
وہ اس کی سرخ آنکھوں سے نہیں ڈری۔ کیونکہ وہ ایک سچ جانتی تھی ۔سامنے کھڑا یہ شخص اس سے حد سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ ہاں، اس محبت میں خود غرضی شامل تھی…یہ الگ زاویہ تھا۔ مگر یہی ادراک اسے عجیب سی دلیری دے گیا۔
” اتنا درد اس اولاد کے لیے… جو ابھی دنیا میں آئی بھی نہیں؟” اس کی آواز دھیمی مگر کاٹ دار تھی۔
“تو ذرا سوچیں، مسٹر آریان خان… اس باپ پر کیا گزری ہوگی، جس کی بیٹی کو اغوا کر کے آپ لے آئے… کیا حال ہوا ہوگا اس بھائی کا، جو شاید کسی کا سامنا بھی نہیں کر پاتا ہو… اور ماں پر کیا بیت رہی ہوگی، جس کی بیٹی کا مہینوں سے کوئی پتہ نہیں…”
وہ ایک قدم اس کے قریب آئی، اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔
“کبھی سوچا ہے یہ سب؟ ان کا درد… صرف چند لمحوں کے لیے محسوس کر کے دیکھیں۔”
“کیوں… کیوں محسوس کروں میں ان کا درد؟
جب روشانے اور صارم کی زندگی میں تمہاری ماں نے آگ لگائی تھی، تب اس نے یہ سب سوچا تھا؟”
آریان نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔ اس کے لہجے میں برف جیسی سردی تھی، مگر اندر کہیں دہکتا ہوا لاوا صاف محسوس ہو رہا تھا۔
“پہلی بات … میری ماں کا نام ادب سے لیں۔
ماں… ماں ہوتی ہے، چاہے میری ہو یا آپ کی!”
عبیرہ آج خاموش رہنے والی نہیں تھی۔
اس کی آواز کانپی ضرور، مگر الفاظ مضبوط تھے۔
“اور اتنی ہمدردی آج بھی روشانے کے لیے؟”
عبیرہ کے لب طنزیہ انداز میں مڑے۔
“جس نے مجھے مارنے کے لیے اتنی بھیانک سازش رچی تھی…وہ آج بھی آپ کے دل کے نزدیک ہے، بس وقتی طور پر آپ کو اس پر غصہ تھا اب وہ بہترین عورت بن چکی ہے۔
“اسے اس گناہ کی سزا ضرور ملے گی، میں اسے معاف نہیں کروں گا۔
مگر تم دونوں باتوں کو ملا نہیں سکتی۔
جو کچھ تمہارے ماں باپ نے کیا ۔ وہ الگ مسئلہ ہے، اور اس میں روشانے بے قصور ہے۔
اور جو کچھ روشانے نے تمہارے ساتھ کیا، اس میں تم بے قصور ہوں۔
تو ہر قصوروار کو ایک ہی فہرست میں شامل کرو، عبیرہ آریان خان!”
اس کے لفظ تیر کی طرح نکلے ۔ سیدھے عبیرہ کے غرور پر لگتے ہوئے۔
“اپنی ماں کے لیے الگ قاعدے قانون مت بناؤ۔”
آریان نے سختی سے ایک ایک لفظ اس کے منہ پر پھینکا، جیسے فیصلہ سنا رہا ہو۔
“میں کسی کے لیے الگ قانون نہیں بنا رہی…اپنے خاص لوگوں کے لیے الگ قاعدے قانون تو آپ بنا رہے ہیں!”
عبیرہ نے فوراً جواب دیا۔
“ٹھیک ہے ۔ میری ماں کا قصور ثابت ہو لینے دیں۔ وعدہ کرتی ہوں، ہمیشہ کے لیے ان سے دور ہو جاؤں گی۔
مگر جب تک قصور ثابت نہیں ہوتا، تب تک آپ میرے گھر والوں کے لیے کوئی غلط لفظ نہیں بولیں گے۔”
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بول رہی تھی ۔ جیسے اٹل فیصلہ کر چکی تھی ۔
“قصور…؟ اتنا سب کچھ تمہیں دکھایا، اور تمہیں اب بھی لگتا ہے کہ وہ بے قصور ہیں؟
تمہیں مجھ پر یقین نہیں؟”
آریان کی آواز میں چوٹ محسوس ہوئی۔
“نہیں۔”
وہ بغیر جھجک کے بولی۔
ایک لفظ… مگر وزن پورے اعتراف جتنا۔
“اس لیے یقین نہیں… کیونکہ وہ میرے ماں باپ ہیں۔
آپ سے کہیں پہلے میرا رشتہ ان سے جڑا ہے۔
میں ایک بار ضرور ان کے منہ سے سننا چاہوں گی کہ سچ کیا ہے۔
اگر آج آنکھیں بند کر کے آپ پر یقین کرتے ہوئے انہیں رونا قرار دے دیا…
تو کل وہ وقت دور نہیں جب ان کی محبت میں آپ پر یقین نہیں کر سکوں گی۔”ہال میں چند لمحوں کے لیے ایسی خاموشی چھا گئی، جیسے دیواریں بھی سانس روک کر کھڑی ہوں۔
“ٹھیک ہے۔ تیاری کرو ۔ ہم صبح کی فلائٹ سے نکل رہے ہیں۔”
وہ اچانک فیصلہ کر چکا تھا۔
“کہاں جا رہے ہیں؟”
اس نے فوراً پوچھا، دل بے نام خدشوں سے بھرنے لگا۔
“فی الحال بتانا ضروری نہیں سمجھتا۔
کہیں تو جائیں گے۔”
وہ کہتا ہوا مڑا اور لمبے قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
“کھانا کھا لیں… میں نے بہت دل سے بنایا ہے۔”
عبیرہ نے اونچی آواز میں کہا، جیسے اس کے جاتے قدم روک لینا چاہتی ہو۔
“نہیں کھانا۔ جتنا کچھ کھلا دیا ہے… کافی ہے۔”
وہ بنا پلٹے بولا۔
“پیار کرنے والے آپ جیسے نہیں ہوتے!”
غصے میں اس کے دل کی بھڑاس لبوں تک آ گئی، اور وہ وہیں صوفے پر ڈھیر ہو گئی۔
“جی بالکل ۔ تم جیسے ہوتے ہیں۔
سارے اعزازی میڈل اپنے اور اپنے گھر والوں کے نام ہی رکھ لو!”
آریان بھی آخر انسان تھا۔
اپنے اندر کا زہر نکالتا ہوا کمرے میں داخل ہوا اور زور سے دروازہ بند کر دیا۔
دروازے کی گونج جیسے سیدھی عبیرہ کے دل پر لگی۔
اس نے بے اختیار دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ لیے۔
“کہاں پھنس گئی ہوں میں…؟
نہ آگے جانے کا راستہ ہے، نہ پیچھے لوٹنے کا۔
میرے اللہ… کوئی راستہ دکھا دے مجھے۔”
اس کی بند ہوتی آنکھوں سے ایک آنسو ڈھلک کر ہتھیلی پر آ گرا، اور وہ ٹوٹے دل کے ساتھ اپنے رب سے دعا مانگنے لگی۔
══
کہانی کا اگلا باب
اگلے سنڈے رات 8:00 بجے آپ کے لیے پیش کیا جائے گا۔
Saleeb e sakoot× Hayat Irtaza SA
مکمل ناول کی آڈیو بکس سننے کے لیے
آفیشل یوٹیوب چینل سبسکرائب کیجیے۔
تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس
Hayat Irtaza SA کے اصل نام سے دستیاب ہیں۔
اگر یہ ایپیسوڈ آپ کو پسند آئے
تو اپنی قیمتی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔
آپ کی آراء ہمارے لیے باعثِ حوصلہ ہیں۔