Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:13

رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر 13
°°°°°°°°°°°
جیسے ہی “زیغم” “ارمیزہ” کو لے کر گھر کے اندر داخل ہوا، “دانیہ” بےچینی سے ہال سے اس کی طرف بڑھی۔ “زیغم” پہلے ہی فون پر “دانیہ” کو بتا چکا تھا کہ وہ “ارمیزہ” کو اس کے پاس لا رہا ہے کیونکہ “ارمیزہ” وہاں مزید رہنا نہیں چاہتی تھی۔ “دانیہ” “ارمیزہ” سے ملنے کو بےحد بے قرار تھی۔ دونوں کے درمیان پھوپھو اور بھتیجی کا بےحد گہرا اور محبت بھرا رشتہ تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ “دانیہ” نے “نایاب” سے زیادہ “ارمیزہ” سے محبت کی تھی تو یہ غلط نہ ہوگا۔

“ارمیزہ”، میری جان!”
“دانیہ” “ارمیزہ” کو دیکھتے ہوئے فوراً آگے بڑھی اور اسے اپنی بانہوں میں لینے کے لیے ہاتھ بڑھایا، مگر جیسے ہی “ارمیزہ” نے اپنی پھوپھو کے زخمی ہاتھ اور چہرے پر نشان دیکھے، وہ سہم گئی لیکن اس سے بھی زیادہ دل دہلا دینے والا لمحہ وہ تھا جب “دانیہ” نے اسے اٹھانے کی کوشش کی، مگر وہ ایسا نہ کر سکی۔ بے اختیار اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ “زیغم” نے فوراً اسے اپنے سینے سے لگا لیا۔

“دانیہ”، نہیں! اب رونے کے دن گزر گئے۔ اب دشمنوں کو رلانے کی باری ہے۔ بس بہت رو لیا تم دونوں نے، اب ان کو زخم دینے کی باری ہے۔ جنہوں نے ہمیں زخم دیئے۔ انشاءاللہ بہت جلد تمہارے یہ زخم بھر جائیں گے، مگر اب ان لوگوں کو ایسی سزا ملے گی کہ ان کی روح تک کانپ جائے مگر اس کے لیے تم لوگوں کا ساتھ چاہیے۔ جب تم دونوں پرسکون ہو گی تو ہی میں بے فکر ہو کر ان کو ان کے کیے کی سزا دے سکوں گا!”
“زیغم” کے لہجے میں درد بھی تھا بہن کے لیے محبت بھی تھی اور دشمن کے لیے نفرت بھی جو اس کی بات کو باوزن بنا رہے تھے۔

“ارمیزہ” نے گھبرا کر “زیغم” کی بانہوں میں سمٹتے ہوئے معصومیت سے پوچھا:
“پھوپھو کو کیا ہوا ہے؟”
“پھوپھو کیوں رو رہی ہیں؟”
اس کی ننھی آنکھوں میں بےچینی اور خوف صاف جھلک رہا تھا۔

“کچھ نہیں ہوا، میری جان۔”
“دانیہ” نے فوراً خود سنبھالتے ہوئے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی۔

“پھر آپ رو کیوں رہی ہیں؟”

“میں تو بس تمہیں دیکھ کر خوشی سے رو پڑی۔”
اس نے نرمی سے “ارمیزہ” کے گال پر لب رکھتے ہوئے چوم لیا۔ کتنی بے بسی تھی کہ وہ “ارمیزہ” کو پیار کرنا چاہتی تھی مگر کر نہیں پا رہی تھی نہ اٹھا سکتی تھی نہ ہاتھ لگا سکتی تھی۔

“پھوپھو، آپ کے ہاتھوں پر کیا ہوا؟”
“ارمیزہ” نے ہاتھوں کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“ارمیزہ” کی معصوم آنکھوں میں پریشانی کے سائے تھے۔

“میرے ہاتھوں پر گرم چائے گر گئی تھی!”
“دانیہ” نے “ارمیزہ” کو دیکھتے ہوئے جواب دیا۔

“آپ کو اپنا خیال رکھنا چاہیے تھا،گرم چائے کو ہاتھ کیوں لگایا؟”
وہ نرمی سے تھوڑا آگے جھکی، اپنی پھوپھو کے گال پر ہلکا سا لمس چھوڑتے ہوئے محبت اور فکر سے بولی تھی۔ “دانیہ” اس کی فکر، اس کی محبت پر مسکرا دی۔ کچھ دیر کے لیے زندگی کی تلخیوں کو پس پشت ڈال دیا۔ اس لمحے کو اس وقت کو وہ جینا چاہتی تھی۔

“ہمم…تمہاری پھوپھو بدھو ہیں اسی لیے چائے گرا لی۔ آئندہ دھیان رکھوں گی۔”

“پرومس آپ اپنا دھیان رکھیں گی؟”

“پکا پرومس!”
“ارمیزہ” کی محبت بھرے الفاظ “دانیہ” کی بے رنگ دنیا میں روشنی بھر رہے تھے۔ وہ وہیں صوفے پر بیٹھ گئی اور “ارمیزہ” کو بھی قریب بٹھا لیا۔ ایک نظر اس نے پاس کھڑے “مائد” پر ڈالی، جو خاموشی سے سب دیکھ رہا تھا۔

“اماں سائیں اور “درخزائی” کہاں ہیں؟”
“وہ کہیں دکھائی نہیں دے رہے۔”
“زیغم” نے ارد گرد نظر دوڑاتے ہوئے پوچھا۔

“اماں سائیں کچن میں ہوں گی، شاید افطاری کی تیاری کروا رہی ہیں۔ آؤ بیٹھو، ابھی آ جائیں گی۔”
“زیغم” نے ہلکا سا سر ہلایا اور “مائد” کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا۔ دوسری طرف “ارمیزہ” اور “دانیہ” اپنی باتوں میں مگن تھیں۔ “ارمیزہ” کے آنے سے ایک چیز بہت اچھی ہوئی تھی— “دانیہ” کے چہرے پر خوشیاں لوٹ آئی تھیں۔ “زیغم” بار بار اس کی طرف دیکھ رہا تھا، وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ کس بات پر ہنس رہی تھی، مگر ان کی خوشی دیکھ کر اس کے دل کو سکون مل رہا تھا۔

“اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ دانیا خوش ہے۔”
“زیغم سلطان” نے زیرِ لب اللہ تعالی کا شکر ادا کیا تھا۔
“مائد” نے ایک نظر ان پر ڈالی اور ‘الحمدللہ’ کہتے ہوئے فوراً نظروں کا زاویہ بدل لیا۔

“مائد” اس مشکل وقت میں تم نے جو میرا ساتھ دیا، اس کے لیے شکریہ ادا کرنا چھوٹا لگتا ہے۔ یہ سب کچھ شکریے سے کہیں بڑا ہے… آج کے وقت میں اتنا تو بھائی بھائی کے لیے نہیں کرتا۔ اپنوں کے خون سفید ہو چکے ہیں مگر ہم دونوں میں خون کا رشتہ نہیں اس کے باوجود تم مجھ پر قربان ہونے کو تیار ہو خوش قسمتی ہے میری کہ مجھے تجھ جیسا یار ملا!”
“زیغم” نے “مائد” کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے دل کی گہرائیوں سے اس کا شکریہ ادا کرتی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ “مائد خان دورانی” نے “زیغم” کی آنکھوں میں دیکھا اور مسکرا دیا۔

” کچھ رشتے لفظوں سے نہیں، احساسات سے جُڑے ہوتے ہیں۔ ہمارا رشتہ بھی ایسا ہے۔احساسات خود سے جڑ جاتے ہیں، انہیں کہیں پر زبردستی نہیں جوڑا جا سکتا۔”
“مائد” خان نے بظاہر تو ساری بات “زیغم” کے لیے کی تھی مگر یہ احساسات اور جذبات کا مرکز کوئی اور تھا۔

“بسم اللہ کروں !”
مورے خوشی سے بولی، جیسے ہی اس کی نظر ہال میں بیٹھے “زیغم” پر پڑی۔

“زیغم” بیٹا آیا ہے اور مجھے بتایا بھی نہیں؟”
وہ کچن سے نکلتی ہوئی باہر آئی، اس کے چہرے پر حیرت اور محبت کے ملے جلے تاثرات تھے۔ “زیغم” اپنی جگہ سے اٹھا اور احترام کے ساتھ مورے کے سامنے سر جھکا کر ان کا پیار اور دعائیں لیں۔ مورے نے خوشی سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔

“جیتے رہو، سدا خوش رہو۔ اللہ تعالیٰ تمہاری ہر پریشانی کو دور کرے، تمہیں ہر دکھ سے بچائے اور لمبی عمر عطا فرمائے۔”
مورے نے “زیغم” کے لیے دعاؤں کا انبار لگا دیا تھا اور اتنی دعائیں “زیغم” کو ملتے ہوئے دیکھ “مائد” کو شرارت سوجی تھی۔

“سا خبره ده مور؟ دومره دعاگانې یوځای، خو ماته دعا راکولو کې کنجوسي کوې!”
(“کیا بات ہے مورے؟ اتنی دعائیں ایک ساتھ، مگر مجھے دعا دیتے ہوئے کنجوسی کر جاتی ہیں آپ!”)
“مائد” نے شرارت سے مسکراتے ہوئے مورے کو چوٹ کی۔

“نه، داسې خو هیڅ نه ده. زما لپاره تاسې دواړه یو شان یاست، یو د بل نه غوره. دا ټولې دعاگانې ستا لپاره هم دي.”
(“نہیں، ایسا تو کچھ نہیں ہے۔ میرے لیے تم دونوں ایک جیسے ہو، ایک سے بڑھ کر ایک۔ یہ ساری دعائیں تمہارے لیے بھی ہیں۔”)
مورے نے مسکرا کر “مائد” کی طرف دیکھا۔

“یہ زیادتی ہے! آپ لوگ آپس میں کیا بات کر رہے ہیں؟”
“مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی!”
“زیغم” نے “مائد” اور مورے کو دیکھ کر مصنوعی موڈ بناتے ہوئے کہا۔

“اچھا! اور جب تُو سندھی میں پٹر پٹر کرتا ہے، تو مجھے بھی کچھ خاص سمجھ نہیں آتی۔ اب میرے صرف دو جملوں سے ہی تیری ناک کے تیور چڑھ گئے ہیں!”
“مائد” نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ شرارتی انداز میں کہا۔

“ماشاءاللہ، ماشاءاللہ! ہمارے گھر گڑیا بھی آئی ہیں!”
“تعارف تو کرواؤ، یہ پیاری سی شہزادی کون ہے اور ہماری کیا لگتی ہیں؟”
مورے کی نظریں “دانیہ” کے ساتھ بیٹھی ہوئی “ارمیزہ” پر مرکوز تھیں۔ “دانیہ” اور “ارمیزہ” جو آپس میں باتوں میں مشغول تھیں، مورے کی آواز سن کر ان کی جانب دیکھنے لگیں۔ مورے ان کی طرف مڑی تو “مائد” نے فوراً تعارف کروا دیا۔

“مورے! یہ “زیغم” کی بیٹی ہے۔”

مورے کی آنکھوں میں حیرت اور خوشی کی چمک ابھری۔
“اچھا، مطلب یہ ہماری پوتی ہے!”
“ماشاءاللہ! بڑی پیاری بچی ہے۔”

وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھی اور “ارمیزہ” کو پیار سے اپنے قریب کرتے ہوئے پاس بیٹھ گئی۔ محبت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، پھر نرمی سے پوچھا:
“میری پوتی کا نام کیا ہے؟”

“مائی نیم “ارمیزہ زیغم سلطان۔”
ننھی “ارمیزہ” نے مسکراتے ہوئے معصومیت بھری آواز میں فوراً جواب دیا۔

“ماشاءاللہ، ماشاءاللہ! میری پوتی کا نام ارمیزہ ہے؟”
“بہت پیارا نام ہے، بہت ہی پیارا! جتنی پیاری تم ہو، اس سے کئی زیادہ پیارا نام ہے میری بیٹی کا۔”
مورے نے خوشی سے ارمیزہ کا ماتھا چوما اور محبت بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔

“واٹ اِز یور نیم؟”
ارمیزہ نے تجسس سے مورے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

“میرا نام گلنار ہے۔”
مورے نے مسکرا کر جواب دیا۔

“یہ کیسا نام ہے؟”
ارمیزہ نے حیرانی سے کہا۔

“پرانے زمانوں میں ایسا ہی نام ہوتا تھا۔”
مورے ہلکے سے ہنستے ہوئے بولی۔
زیغم خوشی سے مسکرا رہا تھا، مورے اور ارمیزہ کی باتیں سن کر اس کے چہرے پر خوشی صاف جھلک رہی تھی۔ مائد کی مورے کے روپ میں، دانیا اور زیغم کو اماں سائیں مل گئی تھیں اور ارمیزہ کو دادی کا بے پناہ پیار۔ یہ ان کے لیے قدرت کا انمول تحفہ تھا۔

کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد مورے کو خیال آیا کہ افطاری کا وقت قریب ہے، تو وہ اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولی:
“میں ابھی افطاری کا انتظام کروا لوں، آپ سب لوگ منہ دھو کر ٹیبل پر پہنچو۔”

“مائد بیٹا، “درخزائی” اور اپنے آغا جان کو بھی افطاری کے لیے بلواؤ۔”
مورے جاتے جاتے بولی۔

“جی، جا رہا ہوں۔”
مائد فوراً حکم کی تعمیل کے لیے بڑھا۔
سب لوگ افطاری کے ٹیبل پر پہنچ چکے تھے، اور ٹیبل پر افطاری کا بہت اچھا انتظام تھا۔ زیغم کی محبت کو دیکھ کر رشک کیا جا سکتا تھا۔ دانیا کے ہاتھ ابھی تک مکمل ٹھیک نہیں ہوئے تھے، اس لیے زیغم اپنے ہاتھوں سے اسے افطاری کروا رہا تھا۔ دانیا کا روزہ نہیں تھا کیونکہ اسے دوا لینی ہوتی تھی، مگر زیغم اسے اپنے ہاتھوں سے افطار کی بنی ہوئی چیزیں کھلا رہا تھا اور ساتھ ہی اپنا روزہ بھی کھول رہا تھا۔

“بھائی، آپ روزہ افطار کریں، میرا کون سا روزہ ہے، میں بعد میں کھا لوں گی۔”
دانیا نرمی سے بولی۔

“کیوں بعد میں کیوں کھاؤ گی؟”
“ابھی کھاؤ، اور تم دونوں کھاؤ۔”
زیغم نے محبت سے کہا، کبھی دانیا کو کھلاتا تو کبھی ارمیزہ کو۔

“ماشاءاللہ، میرے بچوں کو کسی کی نظر نہ لگے، اور زیغم بیٹا، تم آرام سے روزہ افطار کرو، میری پوتی کو میرے پاس بھیجو، اسے میں اپنے ہاتھوں سے کھلاؤں گی۔”
مورے نے شفقت سے کہا۔
جیسے ہی مورے نے کہا، فوراً ارمیزہ اٹھ کر ان کے پاس چلی گئی۔ مورے کا لب و لہجہ اتنا مٹھاس بھرا اور سچا تھا کہ کوئی بھی بہت جلد ان سے جڑ جاتا تھا۔ جیسے دانیا بہت جلد ان کے قریب آ گئی تھی، اسی طرح ارمیزہ کو بھی جوڑنے میں وقت نہیں لگا تھا۔ مورے نے اسے اپنے ساتھ والی کرسی پر بٹھا کر اپنے ہاتھوں سے کھلانا شروع کر دیا۔ مائد کے آغا جان تھوڑے خاموش طبیعت کے تھے، مگر ارمیزہ کے ساتھ بیٹھے وہ بالکل بچے بنے ہوئے تھے، اور درخزائی کا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ ٹیبل پر رکھی ہر چیز باری باری ارمیزہ کو کھلا دے۔ ماحول میں خوشیوں کے رنگ بکھرے ہوئے تھے، اور افطاری کا مزہ دوبالا ہو گیا تھا۔ مائد کی فیملی بہت اچھی اور پیار کرنے والی تھی۔ ان کی محبت میں ایسا خلوص تھا کہ کسی کے دل میں بھی بسیرا کر سکتے تھے۔
°°°°°°°°°°
ملیحہ اپنے کچے آنگن میں لکڑی کے تخت پر بیٹھی تھی۔ ہاتھ میں موبائل تھا، اور وہ ہلکی آواز میں فاریہ سے بات کر رہی تھی، تاکہ بابا کی نیند میں خلل نہ آئے۔ اس کے بابا دوائی کھا کر سو رہے تھے۔
سہ پہر کا وقت تھا، دھوپ نرم تھی، اور صحن میں رکھی پرانی مٹی کی صراحیاں گرمی کی حدت کم کرنے کے لیے پانی سے بھری ہوئی تھیں۔موسم کافی چینج ہونے لگا تھا گرمی کا دور شروع ہونے والا تھا مگر ابھی گرمی پوری طرح سے نہیں آئی تھی۔

“فاریہ، میں کوئی جواب نہیں دے سکتی۔ سالوں بعد اپنی ماں اور ابا کے پاس واپس آئی ہوں، اور آتے ہی مجھے نہ تو شادی کرنی ہے، نہ ہی کسی پیار کے چکر میں پڑنا ہے۔”
ملیحہ کی آواز میں بے بسی جھلک رہی تھی۔

“اور ویسے بھی، وہ ٹھہرا امیرزادہ! اس کے تو ایسے شوق ہوں گے کہ جلدی شادی ہو جائے اور جسے چاہے، فوراً پا لے۔ مگر میں؟ میں اس کی چاہت پر یقین کیسے کر لوں؟”
“اور سچ کہوں تو مجھے اس سے محبت بھی نہیں ہے۔ پلیز، برائے مہربانی، تم اسے میرے گھر کا ایڈریس مت دینا۔ میں نہیں چاہتی کہ میری ماں اور ابا یہ کہیں کہ میں شہر جا کر یہ گل کھلاتی رہی ہوں۔”
اس کے لہجے میں ایک عجیب سی سنجیدگی تھی، جیسے خود کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔

فون کے دوسری طرف فاریہ، جو آرام سے کمرے میں لیٹی ہوئی تھی، تھوڑا چڑ کر بولی:
“مگر یار! ایک بار ملنے میں، بات کرنے میں کیا پرابلم ہے؟”
“تم خالہ کو اچھے انداز سے سمجھا سکتی ہو، بتا دینا کہ وہ تم سے پیار کرتا ہے، تمہیں پسند کرتا ہے۔ اس میں غلط کیا ہے؟”
“یار، وہ اتنا رئیس ہو کر بھی تمہارے لیے دیوانہ ہے، اور تم ہو کہ نخرے دکھا رہی ہو!”

“فاریہ، پلیز! اس کی طرف داری کرنا بند کرو۔ تم تو پہلے دن سے ہی اس پر لٹو ہو گئی ہو۔ ایک کام کرو، تم شادی کر لو!”
ملیحہ کی آواز میں بیزاری تھی، وہ تھک چکی تھی اس بحث سے۔

فاریہ نے ایک لمبی سانس لی، پھر شرارت بھرے لہجے میں بولی:
“ہائے! کاش ایسا ہو سکتا مگر اس مجنوں کی اولاد کو تو صرف تم چاہیے اور وہ تمہیں کسی بھی صورت کھونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ایسا نہ ہو کہ تم اسے اتنا تپا دو کہ وہ تمہیں اغوا کر کے نکاح کر لے۔ ویسے بھی، اس کی پرسنیلٹی ایسی ہے کہ کر تو ایسا سکتا ہے!”

ملیحہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں، اس نے بے یقینی سے فون کو دیکھا اور جھنجھلا کر بولی:
“فاریہ! پلیز کبھی بولنے سے پہلے سوچ بھی لیا کرو!”

“نہیں، میری زبان سچ کہنے سے پہلے کچھ نہیں سوچتی، اور یہ حقیقت ہے۔ تمہیں بھی پتہ ہے کہ وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ اس کی شخصیت ہی ایسی ہے!”
“اگر وہ بازار میں پسٹل اٹھا کر ڈشکیوں ڈشکیوں کر سکتا ہے، لوگوں کو ڈرا کر پیچھے کر سکتا ہے، تو پھر سوچ لو کہ وہ تمہارے لیے کیا کچھ کر سکتا ہے!”
“اگر بھرے بازار میں تمہارا ہاتھ پکڑ سکتا ہے، کالج گیٹ پر زبردستی روک کر بات کر سکتا ہے، زبردستی تمہاری مرضی کے خلاف سنسان اپارٹمنٹ میں تمہیں لے جا سکتا ہے۔ تو پھر سوچ لو تمہارے مسلسل انکار پر وہ کیا کیا کر سکتا ہے!”
“میں تو بس تمہیں حقیقت سے آگاہ کر رہی ہوں!”
فاریہ کا بتانے کا انداز کسی ہارر مووی کے سین سے زیادہ ہارر لگ رہا تھا۔
ملیحہ کی سانس تیز ہو گئی، اس نے بے اختیار اِدھر اُدھر دیکھا، جیسے واقعی کوئی اسے سنسان جگہ پر گھسیٹنے والا ہو۔ اس کے اندر ایک عجیب سی گھبراہٹ دوڑ گئی تھی۔

“فاریہ کی بچی! سدھر جاؤ، میری جان نکال دی۔ اتنے تم نے ڈراؤنے انداز میں بتایا، اٹھا کے لے جائے گا اس کے باپ کا راج ہے!”
وہ گھبرا کر بولی، گہری سانس لے کر خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی۔ فاریہ کے انداز نے اسے سچ میں اندر سے جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔ دوسری جانب سے فاریہ کی ہنسی چھوٹ گئی تھی ملیحہ کے ڈرے ہوئے انداز پر۔

“دانت نکال کر ہنسنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آیا بڑا نوابزادہ! مجھے اغواہ کرے گا–––ہاتھ تو لگا کر دیکھائے، ہمارے گاؤں کے جو نئے سردار ہیں، بہت دبنگ ہیں! دشمن تھر تھر کانپتے ہیں، کوئی ہمارے گاؤں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا اور اتنے رحم دل اور سچے ہیں کہ انہوں نے تو گاؤں کے حالات بدل کر رکھ دیے ہیں!”
وہ خوشی سے فاریہ کو بتاتی چلی جا رہی تھی۔ اس کے چہرے پر خوشی اور گاؤں کے سردار کے لیے فخر جھلک رہا تھا۔

“تمہیں پتہ ہے ہمارے گاؤں میں ترقیاتی کام چل رہے ہیں ،نئی سڑکیں بن گئی ہیں، کسانوں کو انہوں نے قرضے دیے ہیں تاکہ وہ اپنی کھیتی باڑی کو بڑھا سکیں۔”
“ہمارے گاؤں میں سحر و افطار کے دسترخوان لگنے لگے ہیں،جہاں پر کوئی بھی جا کر روزہ رکھ سکتا ہے روزہ افطار کر سکتا ہے۔”
“اور سب اسکول دوبارہ کھول دیے گئے ہیں! اب لڑکیاں، لڑکے، بچے، بچیاں سب آرام سے اسکول جا سکتے ہیں، کسی کو کوئی روک ٹوک نہیں اور بہت جلد ہمارے گاؤں میں کالج کا افتتاح ہونے والا ہے!”
اس کی آواز میں خوشیوں کی چھنکار تھی۔ امیدوں کے رنگ تھے۔ وہ بغیر فاریہ کا جواب سنیں خوشی سے بولتی چلی جا رہی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ہر چیز فاریہ کو زوم کر کر کے دکھائے۔ فاریہ خاموشی سے اس کی چہکتی ہوئی آواز سن رہی تھی جو اسے یہاں پر کبھی سننے کو نہیں ملتی تھی کیونکہ فاریہ کے بابا ہمیشہ طنز اور گولا باری کرتے رہتے تھے۔

“فاریہ تم سن رہی ہو نا؟”
اس کی خاموشی کو بھاتے ہوئے ملیحہ نے پوچھا۔

“بولتی جاؤ میری جان میں سن رہی ہوں!”

“اچھا مجھے لگا کے فون بند ہو گیا ہے!”
“اچھا خیر سنو، انہوں نے کھلے عام سب کو خبردار کر دیا ہے کہ اگر کسی نے گاؤں کی بیٹی یا بہو کو پریشان کرنے کی کوشش کی، تو وہ اسے گولیوں سے اڑا دیں گے!”
“اماں بتا رہی تھیں کہ انہوں نے اپنے ہی چچا، جن کی وجہ سے اس گاؤں میں کوئی کھل کے سانس نہیں لے سکتا تھا ان کو سزا کے طور پر اپنے گھر میں بند کر دیا ہے!”
“جب سے نئے سردار آئے ہیں پہلے والے اس گھٹیا سردار کو کسی نے گاؤں میں کبھی نہیں دیکھا۔”
“اور اماں یہ بھی بتا رہی تھی کہ ان کی شخصیت ہی ایسی ہے کہ دشمن ان سے خوفزدہ رہتے ہیں… ان کے فیصلے اتنے کامیاب ہیں کہ آس پاس کے جتنے بھی گاؤں ہیں، وہ اپنے جرگے میں انہیں بلاتے ہیں مشکل فیصلے کرنے کے لیے!”
وہ فخریہ انداز میں بتاتی جا رہی تھی اور فاریہ خوشی سے اس کی باتیں سنتی جا رہی تھی۔ ملیحہ کی خوشی اور چہک اور گاؤں کے حالات سے فاریہ کو اندازہ ہو رہا تھا کہ گاؤں کی قسمت سچ میں بدل چکی ہے۔

“ماشاءاللہ سے ہمارے گاؤں کے حالات اتنے اچھے ہوگئے ہیں، میں تو جب یہاں سے گئی تھی، بہت چھوٹی تھی، اور ایک بار آئی تھی، تب گھر تک پہنچ بھی نہیں پائی تھی… اور اس گھٹیا انسان نے…”
وہ کہتے کہتے خاموش ہو گئی، جیسے کسی ناخوشگوار یاد نے اس کی زبان بند کر دی تھی۔

“مگر اب ایسا کچھ نہیں ہے۔ اب ہم جہاں چاہیں جا سکتے ہیں، ہمیں سب پتہ ہے!”
“روز ہم لوگ شام کو باہر نکلتے ہیں، پاس والی نہر کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں، وہاں پر بہت سی لڑکیاں آتی ہیں۔ اماں مجھے بھی جانے دیتی ہیں، اور تمہیں پتہ ہے؟ میری یہاں پر فرینڈز بھی بن گئی ہیں!”
اس کے لہجے میں خوشی جھلک رہی تھی،وہ اپنے بدلے ہوئے گاؤں پر فخر محسوس کر رہی تھی۔

“اچھا! پھر تو تمہیں میں یاد بھی نہیں آتی ہوں گی؟”
فاریہ جو ملیحہ کی باتیں سن کر خوش ہو رہی تھی اچانک فرینڈز کی بات پر دل برداشتہ سی ہو کر بول اٹھی۔

“ایسا کیسے ہو سکتا ہے، پاگل!”
“میں تمہیں روز یاد کرتی ہوں۔ ہم نے ایک ساتھ اتنا وقت گزارا ہے ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ میں تمہیں بھول جاؤں؟”
“میں تمہیں کبھی نہیں بھول سکتی!”
” اور اماں کہہ رہی تھیں کہ وہ خالہ سے بات کر کے تمہیں کچھ دن کے لیے یہاں پر رکنے کے ضرور بلوائیں گی، پھر ہم ساتھ میں خوب گھومیں گے، میں تمہیں اپنا سارا گاؤں دکھاؤں گی، ہریالی دکھاؤں گی!”
“ہمارا گاؤں اتنا خوبصورت ہے، اتنا خوبصورت ہے کہ میں بتا نہیں سکتی!”
جوش سے بولتے ہوئے وہ کچھ لمحے کو رکی، جیسے کوئی خاص بات یاد آ گئی ہو۔

“اور ایک بات اور بھی ہے!”
اس کا لہجہ مزید پرجوش ہو گیا تھا۔
“تمہیں پتہ ہے؟ مجھے پاس والے سرکاری اسکول میں ٹیچر کی جاب ملنے والی ہے۔ پھر اماں کی چھٹی کروا دوں گی، جو لوگوں کے گھر میں کام کرتی ہیں۔ اماں اب نہیں جائیں گی، میں کام کروں گی! اور پھر بابا کو میں ایک چھوٹی سی شاپ بنا کر دوں گی، جس میں سب جنرل اسٹور کی چیزیں ہوں گی۔ بابا آرام سے وہاں بیٹھ کر سیل کیا کریں گے، اور میری پیاری سی اماں ابا کی ہیلپ کریں گی۔”
“زندگی بھر اماں نے لوگوں کے گھروں میں کام کیا ہے اب ان کے آرام کی باری ہے!”
اس کے لہجے میں خوشی ہی خوشی تھی، اس کے خواب حقیقت کے قریب آ رہے تھے۔

“ملیحہ، میں تمہارے لیے بہت خوش ہوں!”
“اللہ تعالیٰ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔ میں تمہیں بتا نہیں سکتی کہ تمہاری اتنی خوشی بھری آواز سن کر مجھے کتنا سکون مل رہا ہے۔ انشاءاللہ میں ضرور آؤں گی!”
وہ سچ میں دل سے خوش تھی۔

“اللہ تمہیں تمہاری خوشیاں نصیب کرے مگر پلیز، ذرام بھائی کے پروپوزل پر تھوڑا غور کرو۔ اچھے ہیں وہ، اور سچ میں تم سے پیار کرتے ہیں!”

“پلیز، فاریہ! پھر سے وہی بات؟ مجھے ابھی ان چکروں میں نہیں پڑنا۔ مجھے اپنے بابا اور اماں کے لیے بہت کچھ کرنا ہے اور تمہیں پتہ ہے؟ ایک یا دو دن میں میری اسکول میں جاب پکی ہو جائے گی! بس کل یا پرسوں میں چلی جاؤں گی! تم بس میرے لیے دعا کرنا، میں بہت ایکسائٹڈ ہوں!”
اس کی آواز میں خوشی اور امید کی روشنی تھی، جیسے وہ اپنی زندگی کے نئے سفر کے لیے پوری طرح تیاری کر چکی تھی۔ فاریہ کا فون تو بند ہو چکا تھا مگر آنے والی زندگی کے خواب بنتے ہوئے ملیحہ کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری ہوئی تھی۔
°°°°°°°°
“زرام! زرام میری بات سنو!”
نایاب نے تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے زرام کو پکارا، مگر وہ بنا رکے اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ نایاب نے جلدی سے اس کا راستہ روک لیا۔

“زیغم اپنی بہن کے لیے اتنا پوزیسیو ہے کہ وہ اسے یہاں سے لے گیا، جب سے آیا ہے اپنی بہن کو آنکھ کا تارا بنایا ہوا ہے اور ایک میرا بھائی ہے جو مجھ سے بات تک نہیں کرنا چاہتا!”
زرام نے ایک پل کو بھی اس کی طرف دیکھنے کی زحمت نہ کی۔ اس کے دل میں اس وقت نایاب کے لیے صرف نفرت تھی۔ بے شک وہ اس کی بہن تھی مگر اس نے جو کچھ کیا تھا وہ قابلِ معافی ہرگز نہیں تھا۔

“مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی پلیز میرا راستہ چھوڑو!”
زرام نے بے رخی سے کہا۔

“تم مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتے؟”
نایاب نے تصدیق کرتے ہوئے پوچھا۔

“ہاں، نہیں کرنا چاہتا! اور وجہ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے!”
زرام نے ایک نظر نایاب پر ڈالتے ہوئے کاٹ دار لہجے میں کہا۔

“اگر زیغم بھائی دانیا بھابھی کو لے گئے ہیں تو انہوں نے بہت اچھا کیا ہے!”
“پلیز خود کو دانیا بھابھی کے برابر مت کھڑا کرو!”
“کہاں وہ اور کہاں آپ–––ظالموں کے ساتھ میرا کوئی رشتہ نہیں ہو سکتا، چاہے وہ ماں ہو، باپ ہو، بہن ہو یا بھائی!”
وہ سپاٹ سے بھرے لہجے میں بغیر کسی لچک کے بول رہا تھا۔
نایاب نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ وہی زرام ہے جو ہمیشہ خاموش خاموش ہی رہتا تھا مگر اس کے اندر اتنی توانائی کس نے بھر دی۔ اس کا شک زیغم پر تھا۔

“زرام، تم ان لوگوں کی باتوں میں آ گئے ہو!”
“ہم سے تو پوچھو، ہم نے ایسا کچھ کیا بھی ہے یا نہیں؟”
“وہ تمہیں پاگل بنا رہے ہیں۔ زیغم بڑی چالاکی سے تمہیں بہکا کر لے آیا ہے، اور تم ہو کہ سچائی کو سمجھنے کے بجائے ،ان کی باتوں میں آ کر اپنے ہی گھر والوں پر برس رہے ہو!”
نایاب مکاری کے ساتھ سارا سچ جھٹلاتے ہوئے خود کو سچا ثابت کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کی مکاری پر زرام نے ایک جھٹکے سے نظریں اٹھا کر نایاب کی طرف دیکھا۔ زرام کی آنکھیں نایاب کی مکاری کو لے کر نفرت سے سلگ رہی تھیں۔

“بس کر دو پلیز! بس کر دو! میں اندھا نہیں ہوں، بے وقوف نہیں ہوں!”
اس کی آواز بلند ہوتے ہی نایاب پیچھے ہٹی، اس کے چہرے پر خوف ابھرا۔ زرام نے ایک گہری سانس لی، مگر اس کی آنکھوں میں برسوں کا غصہ بھرا تھا۔

“بچپن سے تم سب کو سازشیں کرتے دیکھتا آیا ہوں، جانتا تھا کہ تم لوگ چالاک ہو، مگر اتنے ظالم ہو؟ یہ مجھے نہیں معلوم تھا! اب کوئی ڈرامہ مت کرو، کیونکہ میں سب کچھ جان چکا ہوں!”
بھائی کے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے آئینے میں اپنی شکل دیکھتے ہوئے نایاب کا چہرہ زرد پڑنے لگا تھا کیونکہ اس کی اپنی ہی شکل آئینے میں اتنی کراہت زدہ تھی۔ زرام کی اونچی آواز کو سن کر قدسیہ سلمہ اور توقیر بھی باہر آ چکے تھے۔

“مجھے تو شرم آتی ہے یہ سوچ کر کہ میں اس خاندان کا حصہ ہوں! بابا سائیں نے جو کیا، شہرام بھائی نے جو کیا، اماں سائیں نے جو کیا، آپ نے جو کیا—مجھے سب پتہ ہے!”
اس کا لہجہ ہر لفظ کے ساتھ زیادہ سخت ہوتا جا رہا تھا۔ غصے کی شدت سے آنکھیں سرخی مائل ہو رہی تھیں۔

“پلیز، اب مزید ایکٹنگ مت کرنا! میرا فیصلہ یہی ہے کہ میرا تم لوگوں سے کوئی تعلق نہیں! میں تو ہمیشہ اپنے نام کے ساتھ سلطان لغاری کا سر نیم لگانا چاہتا تھا، مگر بدقسمتی سے میرے حصے میں ایسا سر نیم آیا، جس نے مجھے ذلت اور توہین کے سوا کچھ نہیں دیا!”
“میں تم لوگوں جیسا نہیں ہوں! مجھے معاف کر دو، اور مجھ سے کوئی امید مت رکھو کہ میں تم لوگوں کے لیے کچھ کر سکتا ہوں کیونکہ میں کچھ نہیں کر سکتا!”
نایاب ذرام کو چیختے ہوئے دیکھ خاموشی سے کھڑی تھی۔ اس کے پاس اس وقت بولنے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔

“اچھا! جس باپ نے تم لوگوں کو پال پوس کر بڑا کیا، وہ اب تمہیں زہر لگنے لگا ہے؟”
“جس ماں نے تمہیں پیدا کیا، وہ تمہیں غلط لگنے لگی ہے؟”
“صرف اس زیغم کی وجہ سے؟”
توقیر دھاڑتے ہوئے زرام کی طرف بڑھا، اس کی آنکھوں میں غضب کی سرخی تھی، آواز میں وہی رعب جو ہمیشہ سے پورے گھر پر حاوی رہا تھا مگر زرام کے چہرے پر کوئی پشیمانی نہیں تھی، بس ایک ٹھہری ہوئی نفرت تھی، ایک ایسا درد جو برسوں کی خاموشی توڑ کر باہر آیا تھا۔ توقیر کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے زرام تلخی سے مسکرایا۔

“کاش پیدا ہوتے ہی میرا گلا دبا دیتے، مجھے مار دیتے، بابا سائیں!”
“ایسی ذلت بھری زندگی سے تو موت کہیں زیادہ بہتر تھی!”

“تمہیں صرف زیغم کی باتیں سنائی دے رہی ہیں، تمہیں ہماری کوئی پرواہ نہیں رہی؟”
“کیا تمہیں نظر نہیں آ رہا کہ ہم کس حال میں ہیں؟”
قدسیہ غصے سے آگے بڑھی، زرام کی باتیں اس کے اندر آگ لگا رہی تھی۔ اس کا بس چلتا تو زیغم کی جان لے لیتی جس کی وجہ سے اس کا بیٹا ان پر آ کر بھڑک رہا تھا۔ قدسیہ کو بالکل نہیں لگ رہا تھا کہ ان کی کوئی غلطی ہے، اسے تو بس یہی لگ رہا تھا کہ زیغم نے اس کے بیٹے کو بھڑکا کر بھیج دیا ہے مگر اپنی ماں کے غصے کے باوجود وہ ساکت کھڑا تھا، اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا، ہر جذباتی بندھن سے آزاد ہو چکا تھا۔ وہ اپنے دل سے ان سب کے ساتھ سارے رشتے توڑ چکا تھا۔

“منہ کھولو اور بتاؤ کیا تمہیں ہماری فکر نہیں؟”
قدسیہ پاس آ کر اس کی خاموشی سے جھنجھلا کر پھر سے بولی تھی۔

“مجھے آپ لوگوں کی کوئی فکر نہیں… جب آپ لوگوں سے کوئی رشتہ ہی نہیں رہا تو فکر کیسا!”

“خون ہو تم ہمارا! خون کے رشتے کسی کے کہنے سے ٹوٹ نہیں سکتے!”
توقیر تیزی سے آگے بڑھا، آنکھوں میں غصہ اور بے بسی کی شدت تھی۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس کا بیٹا اس کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے، ہمیشہ کے لیے۔ اس پر پہلے بھی زیادہ امیدیں وابستہ نہیں تھیں، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کا مزاج سلطان لغاری کی فیملی سے زیادہ میل کھاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بچپن سے ہی وہ اپنے خاندان سے کٹا کٹا رہتا تھا، اور جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا، اس نے اپنا زیادہ تر وقت گھر سے باہر، ہاسٹل میں گزارنا شروع کر دیا۔

“آپ جانتے ہیں، کہنے کو میرے پاس بہت کچھ ہے، مگر میں صرف اس لیے خاموش ہوں کہ کہیں خدا کی نظروں میں گنہگار نہ بن جاؤں۔”
اس کا لہجہ پرسکون تھا، مگر آنکھوں میں ایک گہری اداسی اتر آئی تھی، جیسے وہ بہت کچھ کہنا چاہتا ہو مگر ضبط کر رہا ہو۔

“آپ کے گناہوں کی سزا خدا دے گا، میں تو صرف دعا کر سکتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے دلوں میں تھوڑا سا بھی خوف پیدا کر دے، آپ کے ضمیر کو جھنجھوڑ دے، تاکہ آپ کو اپنی غلطیوں کا احساس ہو جائے۔ وقت رہتے سنبھل جائیں، اس سے پہلے کہ انجام دوزخ کے گڑھے میں ہو!”
اس کے لبوں پر ایک تلخ مسکراہٹ تھی، جیسے وہ اس حقیقت سے پہلے ہی واقف ہو کہ ان کے دلوں پر پڑے پردے اتنی آسانی سے نہیں ہٹیں گے۔

“ماں باپ ہیں آپ میرے، مگر یہ کہتے ہوئے مجھے خوشی محسوس نہیں ہو رہی۔ پرورش تو کی تھی نا آپ نے؟ دیکھیے اس پرورش کا نتیجہ! ہماری زندگیوں میں نہ سکون ہے، نہ خوشیاں، نہ محبت ہے نہ ہی احترام۔”
اس نے نظریں جھکا لیں، جیسے ماضی کے ہر لمحے کو یاد کر رہا ہو، جیسے ہر گزرا لمحہ اس کے دل پر ایک زخم کی صورت میں نقش ہو چکا ہو۔

“آپ نے ہمیں دنیا کے اصول سکھائے، مگر دین کی حقیقت سے دور رکھا۔ آپ نے ہمیں اپنا فائدہ دیکھنا سکھایا، مگر حق اور ناحق کا فرق نہ سکھایا۔ آپ نے ہمیں طاقتور بننا سکھایا، مگر صبر اور شکر کا درس نہیں دیا اور نتیجہ؟ آج ہم سب ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں، دلوں میں نفرت لیے جی رہے ہیں۔ یہ کیسی تربیت تھی؟”
اس کی آواز میں درد تھا، ایک دکھ تھا، جو شاید کسی کو محسوس نہ ہوتا، مگر وہ جانتا تھا کہ وہ آج بھی ان سے امید لگائے بیٹھا تھا، شاید آخری بار سمجھ جانے پر ہی یہ اپنے کیے پر شرمندہ ہو جائیں اور ان کی سزاؤں میں کچھ کمی آ جائے۔

“تُو دفع ہو جا! اس وقت دفع ہو جا میری نظروں سے! بڑا آیا مجھے سکھانے والا!”
توقیر کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا، وہ کہاں سمجھنے والا تھا۔ زرام کی تلخ باتیں سن کر اسے مزید طیش آیا، اس نے بغیر کوئی لمحہ ضائع کیے دھتکارتے ہوئے اسے جانے کا کہہ دیا مگر زرام بھی کہاں رکنے والا تھا، وہ جانتا تھا کہ ان کے دلوں پر پڑی مہر نہیں کھلنے والی، انہوں نے کوئی بات نہیں سنی۔ وہ غصے سے قدم اٹھاتا، اپنی مٹھیاں بھینچتا سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

“دیکھا، دیکھا اماں! کتنا بھڑکا دیا ہے زیغم نے زرام کو!”
نایاب نے جلتی پر تیل ڈالا، آنکھوں میں چمک لیے اپنی ماں کی طرف دیکھا۔

“تُو چپ کر جا! تو کون سی چھوٹی چیز ہے۔ آج جو کچھ تم نے میرے ساتھ کیا ہے، نا… میں تو کبھی نہیں بھول سکتی!”
قدسیہ نے غصے سے نایاب کو گھورا، جیسے اس کا خون کھول اٹھا ہو۔

“ہائے ہائے، اب تم دونوں ماں بیٹی شروع ہو جاؤ!”
“سارا ٹبر ہی فساد کی جڑ ہے!”
سلمہ جو کب سے چپ کھڑی تھی، ماں بیٹی کی بحث سنتے ہی بڑبڑاتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ توقیر نے بھی کوئی لفظ کہے بغیر رخ موڑا اور خاموشی سے چلا گیا۔

“کبھی کوئی موقع خالی نہیں جانے دیتی، ماں کے نام پر عذاب ہو، عذاب!”
نایاب اپنی ماں کو تیز نظروں سے گھورتے ہوئے بدتمیزی سے پیر پٹختی وہاں سے چلی گئی۔

“اور تُو کیا ہے؟ تُو کون سی امرت ہے؟”
“تُو بھی ہمارے لیے عذاب ہے، مصیبت ہے، زہر ہے! جہنم میں جا، میری بلا سے!”
“تیرے اس عاشق نے ہماری زندگی کو عذاب میں ڈالا ہے بلکہ عاشق وہ کہاں ہے؟ عاشق تو تُو ہے اس کی! وہ تو تمہیں منہ تک نہیں لگاتا! ڈوب مرو!”
قدسیہ اپنی ہی بیٹی پر طعنوں کی بارش کر رہی تھی، اس کی آواز اتنی اونچی تھی کہ گھر کے نوکر بھی سن رہے تھے۔ نہایت ہی بد تہذیب، بدتمیز اور بگڑے ہوئے کردار کی فیملی تھی، جہاں ہر کوئی دوسرے پر زہر اگلنے میں مصروف تھا۔
°°°°°°°°°
زیغم کی زندگی جیسے ایک روٹین میں بندھ گئی تھی، مصروفیت کا یہ عالم تھا کہ صبح گھر سے نکلتا تو رات گئے ہی واپسی ہوتی۔ گاؤں کے رکے ہوئے کاموں کو بحال کروانے کے لیے اسے مسلسل محنت کرنی پڑ رہی تھی۔ راستے، پل، پانی کے ذرائع، سب کچھ دوبارہ بنانے کا عمل تیزی سے جاری تھا۔ اسی کے ساتھ ساتھ، جرگے میں ہونے والے فیصلے بھی اس کی نگرانی میں کیے جا رہے تھے۔ رمضان کے روزے رکھنے کے باوجود اس کی مصروفیات میں کوئی کمی نہیں آئی تھی، بلکہ دن بھر کی مشقت کے بعد شام کو جب وہ افطار کرتا، تب بھی ذہن مکمل آرام نہیں کر پاتا تھا۔ روزانہ شام کے وقت وہ اپنے خاص ڈیرے پر بیٹھ کر لوگوں کی شکایتیں سنتا، ہر خاص و عام کی درخواست اس تک پہنچتی۔ وہ خود چاہتا تھا کہ سب کے مسائل حل ہوں، مگر اس دوڑ دھوپ میں اپنی ذاتی زندگی کو جیسے پس پشت ڈال چکا تھا۔ پچھلے سات آٹھ دن سے نہ وہ دانیا اور ارمیزہ سے مل پایا تھا اور نہ ہی مائد سے۔ فون پر مختصر بات چیت تو ہو جاتی، مگر وہ تسلی بخش نہیں تھی۔ مائد بھی اپنی مصروفیات میں گم تھا، سو وہ وقت نکال کر خود بھی اس سے مل نہیں پایا۔
آج بھی ایسا ہی دن گزرا تھا۔ صبح سے روزے کی حالت میں مسلسل متحرک رہنے کے بعد اب رات کے نو، ساڑھے نو بج رہے تھے جب وہ تھکا ہارا گھر آیا۔ بدن جیسے توانائی سے خالی ہو چکا تھا، روزے کے ساتھ مسلسل مصروفیت نے جسم کو مزید بوجھل کر دیا تھا۔ سیدھا اپنے کمرے میں آیا۔ عام روٹین میں تو گھر آکر پہلے وہ توقیر لغاری کی فیملی کی درگت بنانے کا کام کرتا تھا مگر اج اس میں بالکل ہمت نہیں تھی۔ بنا کسی سے بات کیے شاور لینے چلا گیا۔ ٹھنڈے پانی کے لمس نے کچھ دیر کو ساری تھکن کو جیسے دھو دیا، مگر اندر کی بے چینی پھر بھی باقی تھی۔ شاور لے کر باہر نکلا تو نائٹ سوٹ کے طور پر بلیک ٹراؤزر اور شرٹ پہنے ہوئے تھا۔ گہری نیلی آنکھوں میں تھکن واضح تھی، نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے ان میں لال ڈورے پڑ چکے تھے، مگر اس کے باوجود وہ بے حد پرکشش لگ رہا تھا۔ بھیگے ہوئے گیلے بالوں سے ٹپکتا ہوا پانی اس کی وجاہت کو مزید نکھار رہا تھا۔ کمرے کی مدھم روشنی میں اس کا قد آور سراپا مزید پراثر لگ رہا تھا۔ ہاتھ سے بالوں میں سے پانی جھاڑتا وہ بیڈ کی طرف آیا۔ اس وقت بلیک کلر میں وہ بے حد جاذبِ نظر لگ رہا تھا اگر کوئی اسے دیکھ سکتا تو مر مٹتا۔ بیڈ کے قریب آکر بیٹھنے کے بجائے کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔ باہر گہری رات چھائی ہوئی تھی، مگر اس کے اندر کی بے چینی میں کہیں روشنی نہ تھی۔ وہ ایک گہرا سانس لے کر باہر نجانے خلا میں کیا تلاش کر رہا تھا۔ شاید اسے احساس ہو رہا تھا کہ وہ سب کو وقت نہ دے کر کہیں دور ہوتا جا رہا ہے۔ روزے اور مسلسل کام کے باوجود وہ ہلکان نہیں ہوا تھا، مگر اندر ہی اندر وہ محسوس کر رہا تھا کہ یہ تھکن اب دل و دماغ پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ وہ دانیا اور ارمیزہ کو ٹائم دینا چاہتا تھا مگر گاؤں اس کی ذمہ داری تھا اور گاؤں کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے وہ اپنی بیٹی اور بہن کی ذمہ داری سے غافل تو نہیں ہو رہا اسی سوچ میں مبتلا تھا کہ فون کی بیل بجنے پر اس کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹ گیا۔ زیغم نے جیسے ہی فون کے قریب آ کر فون پر نظر ڈالی تو فون پر جگمگاتا ہوا “حمائل” کا نام دیکھ کر بغیر کسی تاثرات کے بیڈ پر لیٹ گیا تھا۔
ہمیشہ کی طرح اس نے نہ فون اٹھایا اور نہ ہی وہ اٹھانے کا ارادہ رکھتا تھا، مگر مسلسل بجتی ہوئی بیل کو سائلنٹ پر ڈالنے کے لیے اس نے ہاتھ بڑھایا تو اسکرین پر آئے ہوئے اس کے میسج پر بے اختیار اس کی نظریں رک گئیں۔

“تمہیں خدا کی قسم ہے زیغم، میرا فون اٹھاؤ، تمہیں اللہ کا واسطہ ہے، اس رب کو مانتے ہو تو ایک بار میرا فون اٹھا لو۔۔۔”
اس التجا کو زیغم رد نہیں کر سکتا تھا، یہاں بات خدا کی ذات کی تھی۔

“بولو۔”

“تھینک یو، تھینک یو سو مچ کہ تم نے میرا فون اٹھا لیا زیغم…”
حمائل کی آواز نمی میں بھیگی ہوئی تھی، جیسے وہ کافی دیر سے ضبط کی کوشش کر رہی ہو مگر زیغم کے فون اٹھاتے ہی اس کا حوصلہ ٹوٹ گیا ہو۔

“اس طرح خاموش رہ کر فون نہ اٹھا کر کیوں مجھے سزا دے رہے ہو؟”
“جانتی ہوں مجھ سے غلطی ہوئی ہے، مگر اس غلطی کی اتنی بڑی سزا کہ تم میرا فون تک نہیں سننا گوارا کر رہے؟”
زیغم سلطان نے فون کان سے لگایا مگر اس کے چہرے کہ تاثرات میں رتی برابر بھی فرق نہیں آیا تھا۔ گہری نیلی پرکشش آنکھیں تاثرات سے خالی تھی۔ وہ بیڈ پر نیم دراز تھا، ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھے، دوسرے ہاتھ سے فون تھامے وہ چھت کو گھور رہا تھا۔
دوسری طرف زیغم کی لاپرواہی اور خاموشی سے حمائل کی سسکیاں بڑھنے لگیں، مگر زیغم پر کوئی اثر نہ تھا۔ وہ یوں ہی خاموشی سے سنتا رہا جیسے اس کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہی نہ ہو۔ انداز ایسا تھا جیسے اسے فون سے سسکیاں سنائی ہی نہ دے رہی ہوں۔

“مجھے بتائے بغیر چلے گئے، مجھے بتانا تک گوارا نہیں کیا؟”
وہ ٹوٹتی ہوئی آواز سے شکوہ کر رہی تھی۔

“مدے کی بات پر آؤ، کیا کہنا ہے؟”
زیغم نے ماتھے پر انگلیاں رگڑتے ہوئے گہری سانس لی۔ اس کا انداز تھکا ہوا تھا، جیسے اس مکالمے میں اسے کوئی دلچسپی نہ تھی۔

“مدے کی بات یہ ہے کہ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہے، میں نے تم پر یقین نہ کر کے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی ہے!”

“ٹھیک ہے، سن لیا میں نے۔”
زیغم نے سرد لہجے میں جواب دیا۔
حمائل کی آواز ٹوٹ رہی تھی، مگر وہ آج کسی بھی حال میں اس تک اپنی بات پہنچانا چاہتی تھی۔

“مجھے معافی چاہیے… پلیز، مجھے معاف کر دو… میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی… آئی لو یو… بہت پیار کرتی ہوں تم سے!”
زیغم سلطان کے ہونٹوں پر ایک خشک مسکراہٹ ابھری، مگر اس کے تاثرات میں کسی قسم کی نرمی نہ تھی۔ اس کی نیلی آنکھیں پہلے سے بھی زیادہ سخت ہو چکی تھیں۔ چہرے پر پھیلی ہوئی ہلکی سی مسکراہٹ خاموش طوفان سے آگاہ کر رہی تھی۔

“ایسا نہیں ہوتا، “حمائل…”
“جب چاہا زندگی میں شامل کر لیا، جب چاہا زندگی سے نکال دیا…”
“جب چاہا دل کے قریب کر لیا، جب چاہا بے یقینی سے روند کر دور کر دیا…”
“یہ سب تمہارے طور طریقے ہوں گے، مگر زیغم سلطان کا ایک ہی اصول ہے…”
“وہ راستے ترک کر دیتا ہوں، وہ منزل چھوڑ دیتا ہوں، جہاں عزت نہ ملے، وہ محفل چھوڑ دیتا ہوں۔”
“زیغم سلطان کے اپنے اصول ہیں۔جن کو میں کبھی کسی کے لیے نہیں بدلتا۔ یہ سمجھ لو کہ اگر میں بدلنا چاہوں تب بھی نہیں بدل سکتا!”
حمائل کے لب کپکپائے، وہ تیزی سے آنکھوں سے بہتے آنسو پونچھ رہی تھی۔ زیغم کی باتیں کسی زہر کی طرح اس کے وجود میں اتر رہی تھیں۔

“ایک غلطی کی معافی تو سب کے لیے ہوتی ہے۔ پلیز میری پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر معاف کر دو!”

“معافی محبت میں نہیں ہوتی، یہ میرا اصول ہے!”
زیغم نے سنجیدگی سے کہا۔

“میں اصولوں پر جیتا ہوں، حمائل۔ محبت میں یقین نہ ہو تو کچھ بھی نہیں رہتا۔”
“کیسی تھی تمہاری محبت؟ جو ایک کسوٹی پر بھی پوری نہیں اتری؟”
اس کے لہجے میں سختی تھی، مگر دوسری طرف خاموشی چھائی رہی۔
وہ کم بولتا تھا، مگر جب بولتا تو پورے دلائل کے ساتھ۔ جیسے اس وقت اس کے الفاظ نے حمائل کو خاموش ہونے پر مجبور کر دیا۔ وہ بس سن رہی تھی، بغیر کسی جواب کے، جیسے اس کی ہر بات میں کوئی ایسی مضبوطی تھی جس کا انکار ممکن نہیں تھا۔

“وہ راستے ترک کر دیتا ہوں٫وہ منزل چھوڑ دیتا ہوں!”
“جہاں عزت نہ ملے،وہ محفل چھوڑ دیتا ہوں!”

“مجھے مانگے ہوئے سائے،ہمیشہ دھوپ لگتے ہیں!”
“میں سورج کے گلے پڑ جاؤں، مگر بادل چھوڑ دیتا ہوں!”

“تعلق یوں نہیں رکھا، کبھی رکھا، کبھی چھوڑ دیا!”
“جسے ایک بار چھوڑ دوں، پھر مسلسل چھوڑ دیتا ہوں!”

“میں رشتے ناپ لیتا ہوں،کہاں سچ ہے، کہاں دھوکہ!”
“محبت ہو مگر کمزور ہو، تو وہ رشتہ چھوڑ دیتا ہوں!”

“جہاں لفظوں میں زہر ہو، جہاں لہجے میں نشتر ہو!”
“پھر چاہے کتنی چاہت کیوں نا ہو، وہ بندھن توڑ دیتا ہوں!”

“مجھے رسموں سے مطلب نہیں، مجھے وعدوں کی عزت ہے!”
“جو وعدہ توڑ دے کوئی، میں وہ رستہ چھوڑ دیتا ہوں!”

“جہاں لفظوں میں بوجھ ہو، جہاں رشتے فقط ضد ہوں!”
“میں چاہے کتنا بھی رکوں، وہ لمحہ چھوڑ دیتا ہوں!”

“میرے ظرف کا معیار ہے، میری عزت میرا وقار ہے!”
“جو ایک بار گرا دے مجھے، میں ایک خاموش طوفان ہوں، کچھ کہتا نہیں مگر اس، شخص کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیتا ہوں!”

فون پر بالکل خاموشی چھا گئی۔ حمائل کے ہونٹوں سے کوئی لفظ نہ نکل سکا۔
یہ آخری جملہ سنتے ہی حمائل کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی، فون اس کے ہاتھ سے پھسل کر زمین پر جا گرا۔ وہ خالی آنکھوں سے دیوار کو گھور رہی تھی، جیسے کسی نے اس کی دنیا تہس نہس کر دی ہو۔ اس نے کتنی آسانی سے اپنے دل کے ہر جذبات کو اس پر کھل کر بیاں کر دیا تھا۔ سچائی تھی اس کے لہجے میں، جسے چاہ کر بھی حمائل جھٹلا نہیں پا رہی تھی۔
اچھی طرح سے جانتی تھی زیغم سلطان کو… جانتی تھی کہ زیغم اپنی ضد کا کتنا پکا ہے، ایک بار جو فیصلہ کر لے، پھر پلٹ کر نہیں دیکھتا۔ اس کی باتیں صرف الفاظ نہیں ہوتیں، پتھر پر لکیر ہوتی ہیں، اور وہ ابھی ابھی اپنی آخری بات کہہ چکا تھا۔ فون بند ہو چکا تھا۔ زیغم سلطان نے بنا کسی جھجک کے فون آف کر دیا تھا۔
حمائل نے جھٹ سے موبائل اٹھایا، کانپتے ہاتھوں سے اسکرین کو دیکھا، مگر نیٹ ورک کی وہ ٹھنڈی باریک سی آواز سنائی دی—
“The number you are trying to reach is currently switched off.”
اس کے وجود میں جیسے لرزہ سا دوڑ گیا۔ زیغم نے واقعی فون بند کر دیا تھا۔ وہ گھٹنوں کے بل بیڈ کے کنارے پر بیٹھ گئی، اس کی انگلیاں بے بس ہو کر موبائل کی اسکرین پر پھسلیں۔ وہ مسلسل اسکرین کو دیکھ رہی تھی، جیسے اگلے ہی لمحے زیغم کا نام جگمگاتا نظر آ جائے گا، جیسے وہ اگلے ہی لمحے اپنی ضد توڑ کر اسے کال کر لے گا… لیکن نہیں…… وہ زیغم تھا… زیغم سلطان… جو ایک بار کسی کو چھوڑ دے، پھر مسلسل چھوڑ دیتا ہے۔ حمائل کی آنکھوں میں ایک ساتھ کئی یادیں امڈ آئیں، وہ وقت جب زیغم نے بے پناہ محبت سے اس کی باتیں سنی تھیں، وہ وقت جب اس کی ایک کال پر وہ سب کچھ چھوڑ کر اس کے پاس آ جایا کرتا تھا، وہ وقت جب حمائل کے ایک آنسو پر تڑپ جایا کرتا تھا مگر اب؟
اب وہ زیغم نہیں تھا… اب وہ بدلا ہوا زیغم تھا، وہی ضدی، وہی اٹل، جو ایک بار فیصلہ کر لے تو پھر کسی کی آنکھوں کے آنسو بھی اسے نہ روک سکیں۔
حمائل نے تھکے ہوئے انداز میں موبائل بیڈ پر اچھالا اور دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا لیا۔ وہ جانتی تھی… بہت اچھی طرح جانتی تھی کہ زیغم سلطان اب واپس نہیں آئے گا۔ حمائل نے اپنے چہرے پر زور سے تھپڑ مارا، آنکھوں میں آنسو، آواز میں دیوانگی تھی۔

“میں کیا کروں؟ کیا کروں میں؟ میں نہیں رہ سکتی… نہیں رہ سکتی زیغم، میں تمہارے بغیر!”
وہ چیخ رہی تھی، اس کے الفاظ لرز رہے تھے، آنسو بہتے جا رہے تھے۔

“اے غافل! وقت رہتے محبت کی قدر کر!”
“جو پل گزر جائیں، وہ لوٹ کر نہیں آتے!”

“خوشیوں کے لمحے تو پل میں بکھر جاتے ہیں!”
“مگر غم کے موسم کبھی گزر نہیں پاتے!”

“جو دل سے ملا ہو، اسے سنبھال کر رکھ!”
“بچھڑنے والے پھر پلٹ کر نہیں آتے!”

“محبت کو ٹھکرا کر نہ آزما وفا کو!”
“یہ وہ مسافر ہے جو صدا نہیں آتے!”

زیغم سلطان کی محبت بن کر بھی آج وہ خالی ہاتھ تھی کیونکہ وقت رہتے اس نے زیغم سلطان کی محبت پر یقین نہیں کیا تھا۔ یہ غلطی ایک ایسی سزا میں بدل چکی تھی، جو اب اس کا روگ بن گئی تھی۔ ایسا روگ، جس کی دوا اگر کوئی کر سکتا تھا، تو وہ صرف زیغم سلطان تھا۔
°°°°°°°°°
ذرام گاؤں واپس آ رہا تھا۔ دو دن سے فیصل اور زرام کی ملاقات نہیں ہو سکی تھی کیونکہ ذرام زیغم کے کہنے پر کچھ خاص کام نپٹا رہا تھا جو کہ گاؤں کے حوالے سے تھے۔ دو دن سے نہ تو وہ فیصل سے مل سکا تھا نہ ہی ہاسٹل جا سکا تھا۔ جیسے ہی فیصل کا فون آیا ذرام نے فوراً سے کان کو لگا لیا تھا۔ اس کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی تھی، آخر فیصل کا فون تھا… اور اسے پوری امید تھی کہ ملیحہ کی جانب سے کوئی اچھا پیغام دیا ہوگا فاریہ نے.

“کوئی اچھی خبر سنانا…!”
ذرام نے فون اٹھاتے ہی کہا۔

“یار اچھی خبر کیسے سناؤں جب مجھے خود نہیں ملی!”
“میری ہونے والی بھابھی نے ڈریس بتانے اور ملنے دونوں سے منع کر دیا ہے!”
فیصل نے جلدی جلدی کہہ ڈالا اس سے پہلے کہ ذرام نام کا بم اس پر پھٹتا۔

“کیا مطلب ہے کہ اس نے ایڈریس دینے سے منع کر دیا ہے؟”
زرام کی آواز میں بے یقینی تھی۔

“فیصل، میرے ساتھ مذاق مت کرو یار!”
وہ جھنجھلا کر بولا کیونکہ فیصل کی مذاق کرنے کی عادت تھی تو کچھ دیر کے لیے زرام کو لگا کہ وہ مذاق کر رہا ہے۔

“مذاق نہیں کر رہا، سچ میں فاریہ نے یہی کہا ہے کہ وہ اپنا ایڈریس نہیں بتانا چاہتی، حالانکہ فاریہ نے اسے بہت فورس کیا ہے!”
فیصل کی باتوں نے زرام کے اندر ایک طوفان کھڑا کر دیا۔ پانچ دن! پانچ دن بعد فاریہ نے جواب دیا تھا، مگر وہ بھی انکار میں! یہ بات زرام کو برداشت نہیں ہو رہی تھی۔ مزید فیصل کی بات سنے بغیر ہی زرام نے فون ٹھک سے بند کر دیا تھا۔ اس کی چمچماتی گاڑی گاؤں کی پکی سڑک پر تیزی سے دوڑ رہی تھی۔ آس پاس ہریالی تھی، کہیں کھیت لہلہا رہے تھے، کہیں درختوں کی قطار راستے کے ساتھ چلتی محسوس ہو رہی تھی۔ سورج غروب ہونے والا تھا، دور کہیں گھروں سے روشنی جھلک رہی تھی مگر زرام کا دماغ کہیں اور تھا۔

“ملیحہ… ملیحہ… ملیحہ!”
وہ دانتوں کو پیستے ہوئے ملیحہ کا نام لے رہا تھا۔

“کیوں تم مجھے مجبور کر رہی ہو کہ میں وہ کروں جو میں نہیں کرنا چاہتا؟”
اس کی گرفت اسٹیئرنگ پر سخت ہو گئی۔

“تم میری ہو! تمہیں میں کسی بھی صورت خود سے دور تو نہیں ہونے دوں گا… پھر چاہے تمہارے پیروں میں گرنا پڑے… یا زبردستی نکاح کرنا پڑے!”
“مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا!”
غصے کی شدت سے اس کے نچلے ہونٹ کا کنارہ دانتوں میں دب گیا، یہاں تک کہ ہلکا سا خون رس آیا، مگر اسے پرواہ نہیں تھی۔ وہ اپنے درد کو محسوس تک نہیں کر رہا تھا۔
اچانک…… ایک زوردار جھٹکا لگا، ایسا لگا جیسے گاڑی کسی چیز سے ٹکر ہوئی ہو! زرام کی آنکھیں گھبراہٹ سے پھیلیں۔

“شٹ!”
وہ فوراً ہوش میں آ کر گاڑی روکتا ہے۔ اپنی گاڑی کے سامنے اسے کسی لڑکی کا وجود نظر آیا تھا۔ وہ جلدی سے دروازہ کھول کر باہر نکلا۔سامنے زمین پر کوئی پڑا ہوا تھا… زرام کی آنکھوں میں سختی اتری، سانس بے ترتیب ہوئی۔

“یہ میں نے کیا کر دیا؟”
زرام فوراً جھکا، پیشانی پر فکر کی لکیر گہری ہو چکی تھی۔

“اوہ… سوری! میری غلطی کی وجہ سے آپ کو چوٹ لگ گئی!”
وہ جلدی سے بولا، آواز میں حقیقی پریشانی تھی۔

زمین پر گری ہوئی لڑکی نے بمشکل خود کو سنبھالا اور اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اس کی سانسیں ابھی تک بے ترتیب تھیں مگر وہ جلدی سے بولی:
“نہیں، نہیں سائیں! ہمیں کوئی چوٹ نہیں لگی، ہم بالکل ٹھیک ہیں!”

تبھی ایک سخت، تیز آواز زرام کے کانوں سے ٹکرائی۔
“ارے اندھے ہو! دکھائی نہیں دیتا؟ اس کی جان بھی جا سکتی تھی!”

زرام نے چونک کر سر اٹھایا۔ وہ آواز… یہ آواز تو… اس کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوئی، ٹینشن کے باوجود اس نے فوراً پہچان لیا—یہ ملیحہ تھی!
زرام کے ماتھے پر شکنیں گہری ہوئیں، دل ایک پل کو جیسے رک سا گیا۔

“ملیحہ…؟”
اس کے لبوں سے بے اختیار نکلا۔ یہاں؟ کیسے؟ یہ تو ممکن ہی نہیں… اس نے بے یقینی سے سامنے کھڑی لڑکی کی طرف دیکھا، مگر آواز… وہی تھی!
دماغ میں سوالات کا طوفان اٹھ چکا تھا، سانسیں بے ترتیب ہوئیں، اور نظریں تیزی سے سامنے کھڑے وجود پر مرکوز ہو گئی تھی۔ زرام کا دل ایک لمحے کو جیسے دھڑکنا بھول گیا تھا۔

“ملیحہ…!”
نیلی پلین فراک، اسی رنگ کا پرنٹڈ دوپٹہ جو سلیقے سے سر پر اوڑھا ہوا تھا، بنا کسی میک اپ کے نکھرتا ہوا چہرہ، کھلتی ہوئی دودھیا رنگت، اور وہی بڑی بڑی آنکھیں جن میں زرام پہلی ہی نظر میں ڈوب گیا تھا… وہی گلابی لب جن سے اپنی محبت کا اعتراف سننے کے لیے وہ نجانے کب سے تڑپ رہا تھا مگر اس وقت وہ آنکھیں محبت سے نہیں، غصے سے دہک رہی تھیں، جیسے ابھی قتل ہی کر دے گی۔

“دکھائی نہیں دیتا؟ یا بڑی بڑی گاڑیوں میں بیٹھ کر تم لوگوں کی آنکھیں کام کرنا چھوڑ دیتی ہیں؟”

وہ غصے سے بول رہی تھی، ہاتھ بڑھا کر گری ہوئی لڑکی کو سہارا دیتے ہوئے۔ زرام کو دیکھے بغیر ہی کہہ گئی:
“پہلے جا کر شہر میں اپنی آنکھوں کا علاج کرواؤ!”
وہ اسی دھج میں بولتی جا رہی تھی، شاید ابھی تک غور ہی نہیں کیا تھا کہ گاڑی کس کی تھی… اور گاڑی سے اترا کون ہے۔

“آپی کیوں لڑ رہی ہیں؟ میں بالکل ٹھیک ہوں، دیکھیں!”
وہ لڑکی زمین سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔

“آپ پریشان نہ ہوں۔ غلطی میری تھی، میں ہی اپنے میمڑے کے پیچھے بھاگتی ہوئی جا رہی تھی۔ سائیں کی کوئی غلطی نہیں ہے، گاڑی کے سامنے میں آئی تھی۔ معاف کرنا سائیں، میرا میمڑا بھاگ گیا ہے، میں ذرا پکڑ لوں!”
وہ جلدی سے کھیتوں کی جانب بھاگ گئی تھی، شاید اس کی بکری کا بچہ تھا جس کے پیچھے وہ دوڑ رہی تھی۔ ملیحہ کو جب سے سکول میں ٹیچر کی جاب ملی تھی تقریبا آدھا گاؤں اسے جاننے اور پہچاننے لگا تھا اور شام کو جب وہ نہر کے کنارے واک کے لیے نکلتی تو اکثر لڑکیوں سے اس کی ملاقات ہوتی رہتی تھی اور اس کی بہت سی دوستیں بن گئی تھی ان میں سے ایک یہ بھی جھلی سی لڑکی تھی جو زرام کی گاڑی سے ٹکرائی تھی اور نہر کے کنارے ٹہلتے ہوئے خوبصورت منظر کو دیکھتے ہوئے اچانک سے ملیحہ کی نظر اس ایکسیڈنٹ پر پڑی تھی تو وہ بھاگتی ہوئی آئی تھی بغیر کچھ سوچے سمجھے بس اسے لگا کہ غلطی گاڑی والے کی ہے۔

“میرے خیال سے تمہیں بھی مجھے سوری کہنا چاہیے، فضول میں تم مجھ پر اتنا بھڑک گئی ہو!”
ملیحہ، جس کی نظریں ابھی تک اس لڑکی اور اس کے میمنے پر جمی تھیں، ایک لمحے کو ٹھٹکی۔ اس نے ابھی تک غور سے اس کی جانب نہیں دیکھا تھا کہ وہ کون ہے۔

“کیوں؟ مجھے کیوں سوری کرنی چاہیے؟ غلطی تم……”
بات ادھوری رہ گئی تھی۔ جیسے ہی اس نے زرام کا چہرہ دیکھا، الفاظ اس کے لبوں پر منجمد ہو گئے۔

“تت۔۔تم یہاں۔۔۔۔۔؟”
وہ حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھتے ہوئے بولی۔

“جی میں یہاں!”
وہ ایک قدم آگے بڑھا تھا۔

“اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر بات کرو!”
ملیحہ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنی جگہ سخت لہجے میں رکنے کو کہا۔

“دھمکی مت دو۔ جب مجھے کوئی دھمکی دیتا ہے نا، تو پھر میں وہ کر جاتا ہوں جس کے بارے میں میں نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا۔”
زرام کے لبوں پر ملیحہ کو دیکھ کر مسکراہٹ کھلنے لگی تھی۔ دل میں سکون اترنے لگا تھا۔

“اور مجھے بھی جب کوئی دھمکی دیتا ہے نا، تو میرا دل چاہتا ہے کہ سامنے والے کا سر پھاڑ دوں۔”

“تو پھاڑ دو۔ کچھ کر کے تو دکھاؤ، یا بس ہر وقت ڈائیلاگ ہی مارتی رہتی ہو؟”

“بڑا شوق ہے سر پھڑوانے کا!”

“سر پھڑوانے کا تو ایک بہانہ ہے، اصل تو یہ چاہتا ہوں کہ کسی بھی بہانے تم مجھ پر حق تو جتاؤ۔”

“استغفراللہ! ٹھرکی انسان، رمضان کا مہینہ ہے اور جہاں تک مجھے لگتا ہے، تمہارا روزہ بھی ہے۔ اڑی ہوئی شکل دیکھ کر صاف پتہ چل رہا ہے کہ تم روزے سے ہو اور میرا بھی روزہ ہے۔ افطار کا وقت ہے، تھوڑی شرم کر لو۔”

“میرا نہیں خیال کہ میں نے ایسا کوئی بےہودہ لفظ بولا ہے جس سے میرے روزے کو نقصان پہنچے۔ ہر وقت منہ میں ہری مرچ لے کر گھومتی رہتی ہو، تھکتی نہیں ہو کیا لڑ جھگڑ کر؟”

“تم نہیں تھکتے لڑکیوں پر ٹھرک جھاڑ جھاڑ کر؟”

“میں نے ایسا کوئی بےہودہ کام کبھی نہیں کیا، سمجھی؟”

“اچھا؟ ابھی کھڑے ہو کر مجھے کلمہ طیب کے معنی سمجھا رہے ہو؟”

“چھوڑو، یہ بتاؤ کہ تم یہاں کر کیا رہی ہو؟”

“کیوں بتاؤں؟”

“کیونکہ میں نے پوچھا ہے!”
ذرام نے گھورتے ہوئے کہا۔

“یہ آنکھیں کسی اور کو دکھائیے گا، میں نہیں ڈرتی!”
ملیحہ نے بےخوفی سے جواب دیا۔

“نہیں ڈرتی؟ اسی لیے تو لگتا ہے کہ تم بالکل میرے مزاج پر فٹ بیٹھتی ہو۔”

“ملیحہ۔۔۔ ملیحہ بیٹا! وہاں کیا کر رہی ہو؟ جلدی آؤ، گھر چلنا ہے!”

“آئی اماں!”
دور سے کسی خاتون نے آواز لگائی تھی اور ملیحہ نے انہیں اماں کہہ کر جواب دیا تھا۔ ذرام کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔

“اس طرح دانت نکال کر ہنس کیوں رہے ہو؟”
“میں نے تمہیں کوئی فنی جوک سنایا ہے؟”

“نہیں، جوک نہیں سنایا، بس اب یہ پوچھنے کی ضرورت نہیں رہی کہ تم کہاں کیا کر رہی ہو۔ سمجھ گیا کہ یہاں تمہارا گھر ہے۔ اب مجھے ایڈریس ڈھونڈنے میں دقت نہیں ہوگی۔ تم تک تو میں پہنچ ہی جاؤں گا۔”

“پہنچ جانا، بڑے شوق سے! میں نہیں ڈرتی اور جس دن زیغم سائیں کو پتہ چلا نا، تو تمہاری ہڈیاں سلامت نہیں رہیں گی!”
“ان کی نظر میں کوئی بڑا چھوٹا نہیں ہے، تم جو بھی ہو، تمہارا حشر کیا ہوتا ہے، یہ تم خود دیکھ لینا!”
وہ دھمکی دے کر تیزی سے اپنی ماں کی طرف بھاگ گئی تھی جبکہ وہ گاڑی سے ٹیک لگائے، دونوں ہاتھ سینے پر باندھے، اسے جاتا دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔

“صدقے جاؤں! مجھے میرے ہی بھائی کی دھمکی دے کر گئی ہے!”
“جو بھی ہو، لاجواب ہو یار!”
“اتنا ایٹیٹیوڈ کہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی جرات رکھتی ہو۔ آج تک کسی لڑکی نے زرام سے اس لہجے میں بات نہیں کی!”
“خیر، ذرام لغاری کی بیوی کو یہی لہجہ سوٹ کرتا ہے!”
سینے پر ہاتھ باندھے دور تک اسے جاتا دیکھ رہا تھا۔
آہستہ آہستہ وہ نظروں سے اوجھل ہوتی گئی اور وہ گاڑی میں بیٹھ کر گھر کی طرف بڑھ گیا۔ اس جھلی کو شاید نہیں پتہ تھا کہ یہ گاؤں اسی کا ہے جس کے ساتھ جھگڑا کر کے گئی ہے۔ اسکو اسی کے بھائی کی دھمکی لگا کر گئی ہے مگر اس گاؤں میں سے ملیحہ کو ڈھونڈنا زرام کے لیے ذرا سا بھی مشکل کام نہیں تھا۔ وہ جو اس کے لیے مرے جا رہا تھا، سیکنڈوں میں ہی خدا نے اسے زندگی بخش دی تھی۔

کبھی کبھی ہم کسی چیز کے لیے اس قدر شدت سے دعائیں مانگتے ہیں اور اس کے لیے اتنے دل سے تڑپتے ہیں کہ اللہ تعالی ہماری سوچ سے بھی پہلے ہماری جھولی میں وہ چیز ڈال دیتا ہے۔ یہ اُس کی بے پناہ مہربانی اور کرم ہوتا ہے کہ وہ ہمیں ہمارے دل کی خواہشات سے آگاہ ہو کر، ہمیں اپنی رضا کے مطابق وہ چیز عطا فرماتا ہے۔
قرآن مجید میں فرمایا گیا: ‘اور جب تم اللہ سے دعا کرو، تو وہ تمہاری دعا کا جواب دیتا ہے۔’
اور زرام تو مسلسل اسے دعاؤں میں مانگ رہا تھا تو اس کا رب اس کی دعائیں سن چکا تھا۔
باقی کا راستہ تو لبوں پر مسکراہٹ پھیلے ہوئے گزر رہا تھا۔ حویلی تک پہنچے ہوئے مغرب کی اذانیں شروع ہو گئیں تھیں۔ روزہ افطار ہو گیا تھا۔ گاڑی میں رکھے ہوئے پانی کو لبوں سے لگاتے ہوئے خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے اس نے خدا سے ایک بار پھر پوری شدت سے ملیحہ کو مانگ لیا تھا۔

“اے اللہ، میری محبت پاک ہے، اور میں اسے محرم بنا کر اپنی زندگی میں لانا چاہتا ہوں۔ اے اللہ، تو نے ہمیں اپنی زندگی میں محرم چننے کا حق دیا ہے، تو میری دعا قبول فرما اور اسے میری زندگی میں شامل کر دے۔ اس کے دل کو میرے لیے نرم کر دے اور میرے اور اس کے درمیان محبت کو اپنی رضا کی بنیاد پر قائم کر۔”
کہتے ہیں کہ افطار کے وقت دعائیں قبول ہوتی ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے، “روزہ دار کی دعا رد نہیں کی جاتی۔” اس لمحے کی اہمیت سمجھ کر، اس نے دل کی گہرائیوں سے دعا کی تھی۔ گاڑی حویلی کے اندر داخل ہو چکے تھی۔
°°°°°°°
زیغم ایک خاص جرگہ کے لیے ابھی پہنچا ہی تھا کہ اس کے فون پر ایک نئی اطلاع آئی۔ وہ فون کی اسکرین کو بغض سے دیکھ رہا تھا، اور جیسے ہی اس نے کال سنی، اس کا خون کھول اٹھا۔ اس کے اندر کا غصہ بالکل بے قابو ہو گیا تھا۔ فوراً اس نے رفیق کو مخاطب کیا:
“جرگہ آج کے لیے منسوخ، آج نہیں، کسی اور دن ہوگی۔”
یہ کہتے ہوئے وہ گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔
رفیق، جو اس کا خاص آدمی تھا، فوراً ہی جرگہ کے ارکان کو اطلاع دینے کے لیے دوڑ پڑا۔ وہ جانتا تھا کہ زیغم جب غصے میں ہوتا ہے تو اُس کی نظر سے کچھ بھی بچ نہیں پاتا۔ رفیق جلدی سے گاڑی میں آیا اور گاڑی چلاتے ہوئے زیغم کے پیچھے چل پڑا۔
زیغم کے چہرے پر غصے سے پسینے کے قطرے ابھر رہے تھے۔ اس کا دماغ اس وقت بہت تیز چل رہا تھا کیونکہ فون پر جو اطلاع ملی تھی، وہ اس کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں تھی۔ اطلاع یہ تھی کہ توقیر نے اپنے فون سے نہیں بلکہ اپنی بیوی قدسیہ کے فون سے وکیل سے رابطہ کیا تھا۔ توقیر کے اپنے فون پر تو ٹریکنگ لگی ہوئی تھی، اور زیغم نے ہمیشہ انسانیت دکھاتے ہوئے گھر کی خواتین کے فون پر ٹریکنگ نہیں لگوائی تھی، مگر توقیر نے بے غیرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی بیوی کے فون سے وکیل سے رابطہ کیا تھا، اور اس کے ذریعے بڑی چالاکی اور مکاری کے ساتھ اپنے وکیل سے رابطہ کرتے ہوئے اس کے بابا کی وصیت میں گڑبڑ کروا دی تھی۔
یہ اطلاع جیسے ہی زیغم تک پہنچی، اُس کا پورا دماغ سٹریٹجک ہو گیا۔ اسے پتہ تھا کہ توقیر نے اس بات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بہت بڑی غلطی کی تھی، اور اب اس کی بھاری قیمت چکانی ہوگی۔ توقیر کو یہ نہیں معلوم تھا کہ زیغم سلطان کون ہے۔ زیغم نہ صرف ایک مضبوط وکیل تھا، بلکہ اس کی حیثیت ایسی تھی کہ وہ کبھی بھی کسی غلط حرکت یا دھوکے کو برداشت نہیں کرتا تھا۔ زیغم سلطان ایک ایسا وکیل تھا جس کی پروفیشنل زندگی اور کامیاب کیسز کا ریکارڈ بہت مضبوط تھا۔ وہ امریکہ سے وکالت کی تعلیم حاصل کر کے آیا تھا اور اپنے کیریئر میں کبھی کوئی کیس نہیں ہارا تھا۔ اس کا وکالت میں تقریباً سات سے آٹھ سال کا تجربہ تھا اور اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ ہمیشہ سچ کی جانب رہ کر انصاف دلانے کا پابند رہتا تھا۔ اس کے کیسز میں کامیابی کا ریکارڈ اس کی صلاحیتوں کا گواہ تھا اور اس کا نام ایک مضبوط وکیل کے طور پر جانا جاتا تھا۔ زیغم نے اپنے آپ کو اس مقام تک پہنچانے کے لیے بہت محنت کی تھی اور اس کی ساکھ اس کی جیتنے والی فائلوں میں چھپی ہوئی تھی۔ زیغم کے بارے میں توقیر کو کچھ بھی علم نہیں تھا کہ وہ کس معیار کا وکیل ہے۔ توقیر کو تو یہی نہیں پتہ تھا کہ زیغم امریکہ سے وکالت کا کورس کر کے آیا ہے۔ توقیر تو اپنی چالاکیوں میں ہی مصروف رہ گیا تھا مگر اب بازی پلٹنے والی تھی۔
اب زیغم کے ذہن میں اس کی پروفیشنل حکمت عملی اور مضبوطی کی بنیاد پر ایک نیا منصوبہ تیار ہو چکا تھا۔ اس کی طاقت اور تجربہ اس کے لئے ایک بڑا ہتھیار تھا۔ توقیر لغاری اس کی بیوی اور بیٹے شہرام کے سر پر اب سلطان کا بیٹا زیغم سلطان لغاری عذاب بن کر نازل ہونے والا تھا۔ گاڑی تیزی سے حویلی کا راستہ طے کر رہی تھی۔

°°°°°°°°°°°°°°°

اگلا ایپیسوڈ ملاحظہ کیجیے

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *