Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:14
رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر 14
°°°°°°°°°°°
حمائل کب سے پارک کی خوبصورت بینچ پر بیٹھی تھی۔ ہوا میں ہلکی خنکی تھی، مگر اس کے اندر کی سرد مہری کہیں زیادہ تھی۔ سامنے انگریز جوڑے ہنستے مسکراتے گھوم رہے تھے، کچھ پاکستانی بھی دکھائی دے رہے تھے، بچے کھیل میں مگن تھے، اور نوجوان دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھے۔ امریکہ کا کلچر ہمیشہ سے ایسا ہی تھا، زندگی سے بھرپور، بے فکری میں ڈوبا ہوا۔ ایک وقت تھا جب حمائل بھی انہی خوشیوں کا حصہ تھی، مگر آج…… آج وہ خاموش تھی، نظریں بے مقصد لوگوں کو دیکھ رہی تھیں، مگر دماغ کہیں اور بھٹک رہا تھا۔ زیغم سلطان…… وہی زیغم، جو کبھی اس کی دنیا تھا، جس کے بغیر جینے کا تصور بھی ممکن نہ تھا، وہی زیغم آج اس سے بہت دور تھا اور یہ دوری زیغم نے نہیں، حمائل نے خود پیدا کی تھی۔
اس نے آہستہ سے ٹشو نکالا اور اپنے گالوں پر بہتے آنسو صاف کیے۔ جیسے چاہ رہی ہو کہ کوئی اس کی بے بسی نہ دیکھے، مگر دل کا دکھ کہاں چھپایا جا سکتا تھا؟ آنکھیں بند کیں، تو وہ لمحے زندہ ہو گئے، جب زیغم اس کے ساتھ تھا، جب وہ دونوں ایک ساتھ ہنستے، لڑتے، بحث کرتے، جب سب کچھ مکمل لگتا تھا۔ ہوا میں خنکی بڑھ رہی تھی، مگر اس کے اندر کا موسم کہیں زیادہ سرد تھا۔
زیغم اور حمائل ایک خوبصورت شپ پر بیٹھے تھے۔ سورج کی نرم روشنی سمندر کے پانی پر چمک رہی تھی۔ ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی جو موسم کو مزید خوشگوار بنا رہی تھی۔ دور کہیں لہروں کی سرسراہٹ تھی اور بیچ کے کنارے چند لوگ چہل قدمی کر رہے تھے۔ یہ ایک ایسا دن تھا جب سب کچھ پُرسکون اور خوشگوار لگ رہا تھا، مگر حمائل کے دل میں موجود بات نے اس کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کر رکھا تھا۔ زیغم سلطان نے بلو کلر کی جینز اور وائٹ ٹی شرٹ کے اوپر نیوی بلو جیکٹ پہن رکھی تھی۔ اس کے بال ہلکی ہوا میں ذرا بکھر رہے تھے، مگر اس کی پر سکون شخصیت میں کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ وہ آرام سے شپ کی لکڑی کی بنی ہوئی ریلنگ کے قریب بیٹھا تھا، سمندر کی لہروں کو دلچسپ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
حمائل نے موسم کی مناسبت سے ایک خوبصورت اسکن کلر کے لانگ کوٹ کے ساتھ بلیک جینز اور اندر وائٹ ٹرٹل نیک سویٹر پہن رکھا تھا۔ اس کے بال کھلے تھے اور سمندری ہوا سے ہلکے ہلکے اڑ رہے تھے۔ وہ زیغم کے قریب ہی بیٹھی تھی، مگر نظریں کہیں دور۔ حمائل بہت دنوں سے جو بات سوچ رہی تھی آج اسے زبان تک لانے کا اس کا پورا ارادہ تھا۔ اس سے زیادہ وہ اپنے جذباتوں پر پہرے نہیں بٹھا سکتی تھی۔
“زیغم۔”
“ہمم”
“آئی لو یو……”
“کیا کہا تم نے؟”
زیغم نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا، جیسے یقین نہ آ رہا ہو۔
“میں نے کہا کہ میں تم سے پیار کرتی ہوں اور شادی کرنا چاہتی ہوں۔”
حمائل نے مسکراتے ہوئے اس کے سامنے گلاب کا پھول بڑھایا۔ اس کی آنکھوں میں شرارت بھی تھی اور بے خوفی بھی۔ حمائل ایسی ہی تھی ہر بات زبان پر فوراً لے آتی تھی۔ کانفیڈنس والی لڑکی تھی۔ اپنی کوئی بھی بات کہتے ہوئے کرتے ہوئے اسے کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوئی تھی اور محبت کے معاملے میں بھی اس نے ایسا ہی کیا تھا مگر زیغم سلطان نیچر وائز حمائل سے مختلف تھا وہ حیران نظروں سے اسے دیکھے جا رہا تھا اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ سچ میں حمائل نے وہی کہا ہے جو اس کی سماعت نے سنا ہے۔
“There is no need to be so surprised “Ziygham.” I have spent my whole life in America, where it is common for girls to express their love. It doesn’t matter to me whether a boy proposes or a girl—love is love!”
“اس پر اتنا حیران ہونے کی ضرورت نہیں “زیغم۔” میں نے ساری زندگی امریکہ میں گزاری ہے، جہاں لڑکیوں کا اظہارِ محبت کرنا عام سی بات ہے۔ مجھے فرق نہیں پڑتا کہ پروپوزل لڑکا کرے یا لڑکی––محبت تو محبت ہوتی ہے!”
زیغم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری، اس نے اپنی کہنی شپ کی لکڑی پر ٹکائی اور تھوڑا سا آگے جھک کر حمائل کو دیکھا، جیسے اس کے الفاظ کی گہرائی کو محسوس کر رہا ہو۔ گہری نیلی آنکھیں کافی محتاط ہو کر اسے دیکھ رہی تھی۔
“ہمم… نائس۔ بہت اچھا، مگر میں ماڈرن ہو کر بھی کچھ پرانے خیالات کا ہوں، “حمائل۔”
“مجھے آج بھی یہی لگتا ہے کہ پروپوزل لڑکے کی طرف سے آنا چاہیے۔ تو میرے خیال سے تم نے تھوڑی جلد بازی کر دی ہے۔”
“نہیں، مجھے نہیں لگتا کہ میں نے جلد بازی کی ہے “زیغم”، کیونکہ میں تمہیں کھونا نہیں چاہتی!”
حمائل نے مضبوط لہجے میں کہتے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
زیغم نے گہری سانس لی اور لمحے بھر کے لیے سمندر کی طرف دیکھا، جیسے سوچ رہا ہو کہ جواب کیسے دے۔
“اور اگر میں کہوں کہ میں تم سے پیار نہیں کرتا تو؟”
“نہیں، تم ایسا نہیں کہہ سکتے!”
حمائل کی آواز بھر آ گئی۔
“میں تمہیں مجبور کر دوں گی کہ تم مجھ سے محبت کرو۔ اگر مجھ میں کوئی کمی ہے تو بتاؤ، میں خود کو بدل لوں گی!”
زیغم نے اس کی بات سن کر ایک پل کے لیے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
“حمائل، میں نے کب کہا کہ تم میں کوئی کمی ہے؟”
“تم پرفیکٹ ہو، خوبصورت، ایجوکیٹڈ، سلیقہ مند، باکردار۔ تم میں کوئی کمی نہیں، مگر…”
“پھر قبول کر لو میرا پروپوزل!”
حمائل کے چہرے پر امید کی روشنی ابھری۔
زیغم نے ایک گہری سانس لی، جیسے کوئی بڑا فیصلہ لینے والا ہو، وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور اپنی جیکٹ کے کالر کو ہلکا سا ٹھیک کیا۔ نظر حمائل پر مرکوز کرتے ہوئے سنجیدگی سے بولا:
“حمائل، میں سیدھی بات کرنے والا آدمی ہوں، جو دل میں ہوتا ہے وہی زبان پر لے آتا ہوں۔ شاید اسی وجہ سے پاکستان میں اپنے گھر والوں کے ساتھ فٹ نہیں ہو پایا۔”
حمائل خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔
“پیار… پیار کا مجھے نہیں معلوم کہ یہ کیا ہوتا ہے، کیسا محسوس ہوتا ہے۔ میں نے کبھی اس جذبات کو محسوس نہیں کیا، مگر ہاں، تم میرے لیے بہت اہم ہو۔ تم میری سب سے اچھی دوست ہو، اور میں نہیں چاہتا کہ شادی کر کے ہم اس رشتے کو خراب کر دیں۔ میرے خیال میں ہمیں ابھی اس بارے میں سوچنا چاہیے۔”
حمائل کو لگا جیسے کسی نے اس کا دل مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔
“سوچ لو، زیغم سلطان! تم میرا دل توڑ رہے ہو، سیدھا سیدھا انکار کر رہے ہو!”
“کہہ رہے ہو کہ تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہو سکتی؟”
زیغم خاموشی سے اس کی نم آنکھوں کو دیکھتے ہوئے، اپنے جذبات کو قابو میں رکھے ہوئے تھا۔
“ریجیکٹ نہیں کر رہا، “حمائل…” بس اپنی دوستی بچانے کی کوشش کر رہا ہوں۔”
حمائل کے ہاتھ میں موجود گلاب کا پھول کانپ گیا، جیسے اس کی امید بھی کانپ رہی ہو۔ ہوا چل رہی تھی، سمندر کی موجیں نرم انداز میں بیچ سے ٹکرا رہی تھیں، مگر حمائل کو لگا جیسے وہ سب کچھ کھو چکی ہو۔
“حمائل، میری طرف دیکھو، پاگل مت بنو۔ یہ کیا بات ہوئی؟”
“تم اتنی کانفیڈنس والی لڑکی ہو اور اس بات پر رو کر مجھے گِلٹی فیل کروا رہی ہو؟”
زیغم نے نرمی سے کہا، اس کا چہرہ ہلکے سے اپنی طرف کرتے ہوئے، دوستانہ نظروں سے دیکھا۔
“چھوڑو مجھے، تم سے کوئی بات نہیں کرنی!”
حمائل نے اپنا چہرہ جھٹکے سے دوسری جانب کر لیا۔ آنسو اب بھی اس کی آنکھوں میں چمک رہے تھے۔
“تم نے کتنی آسانی سے کہہ دیا کہ تم ہماری دوستی کو بچا رہے ہو۔ کہاں لکھا ہے کہ میاں بیوی بن کر انسان دوست نہیں رہ سکتے؟”
“مان لیا کہ تمہیں مجھ سے محبت نہیں، چلو دوستی کے ناطے ہی میرے پروپوزل کو قبول کر لو! اگر تمہاری زندگی میں کوئی اور ہے تو صاف صاف بتا دو، میں خاموشی سے پیچھے ہٹ جاؤں گی!”
“یار، تم رو رہی ہو۔۔۔”
زیغم کی آواز نرم تھی۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ حمائل جیسی پر اعتماد اور حقیقت کو سمجھنے والی اس طرح رو بھی سکتی ہے۔
“نہیں تو کیا تمہارے انکار پر مجھے ہنسنا چاہیے؟”
حمائل نے آنسو بھری نظروں سے روٹھے انداز میں خفا نظروں سے گھورتے ہوئے کہا۔ زیغم نے گہری سانس لی، وہ اپنے اندر الجھ رہے خیالات کو سمیٹنے کی کوشش کر رہا تھا۔ حمائل اس کی بہت اچھی دوست تھی بہت اچھا وقت انہوں نے ایک ساتھ ایک ہی گھر میں گزارا تھا۔ اس طرح حمائل کا دل توڑنا اس کا بالکل مقصد نہیں تھا۔
“میں نے انکار نہیں کیا، حمائل، صرف وہ بتایا ہے جو میرے دل میں ہے اور تم تو جانتی ہو، میں اپنے دل کی بات کبھی نہیں چھپاتا۔ تم سے تو میں نے کبھی اپنی کوئی بات چھپائی نہیں ہے۔ میں تمہارے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہوں، تم اچھی طرح جانتی ہو کہ میری زندگی میں کوئی اور لڑکی نہیں۔ مجھے صرف اپنے کام پر فوکس کرنا ہے، اپنی اسٹڈیز کو آگے بڑھانا ہے۔”
زیغم کی نظروں میں سچائی تھی، مگر حمائل کا دل ابھی بھی بوجھل تھا۔
“جب تمہاری زندگی میں کوئی نہیں ہے، تو پھر مجھے ایکسیپٹ کرنے میں پرابلم کیا ہے؟”
“صرف یہ کہ تمہیں پیار جیسا جذبہ کبھی میرے لیے محسوس نہیں ہوا؟”
“تو ٹھیک ہے، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا!”
“حمائل…”
زیغم نے کچھ کہنا چاہا، مگر وہ بولتی رہی۔ اس وقت اسے زیغم کی بات نہیں سننی تھی، اپنی سنانی تھی اور منوانی تھی۔
“زیغم سلطان اگر میری محبت میں اگر دم ہوا، تو تمہیں بھی مجھ سے محبت ضرور ہو جائے گی…… اور اگر ایسا نہیں بھی ہوا، تو کوئی بات نہیں، میری محبت ہم دونوں کے لیے کافی ہے!”
حمائل کے لہجے میں مضبوطی تھی۔ اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں، مگر آنسوؤں کو وہ پوری ہمت سے روکنے کی کوشش کرتی ہوئے بے دردی سے آنکھوں کو رگڑ رہی تھی۔ زیغم نے ایک گہری سانس لی، نظریں تھوڑی دیر کے لیے جھکا لیں۔ زیغم نہ تو اسے روتا ہوا دیکھ سکتا تھا اور نہ ہی اس وقت وہ کہہ سکتا تھا جو وہ چاہتی تھی۔ سچائی یہی تھی کہ زیغم کے دل میں حمائل کے لیے بہت عزت تھی۔ وہ حمائل کی بہت ریسپیکٹ کرتا تھا۔ اس سے اپنا دکھ سکھ شیئر کرتا تھا مگر حمائل اس سے بہت زیادہ کی امیدیں لگا چکی تھی۔ وہ دونوں اس وقت ایک کشتی میں بیٹھے تھے، جو ہلکے ہلکے پانی کی لہروں پر بہہ رہی تھی۔ سمندر کی نرم ہوائیں چل رہی تھیں، شام کا وقت تھا، آسمان پر سورج غروب ہونے کو تھا، اور اردگرد روشنیوں کی جھلکیاں پانی میں عکاس ہو رہی تھیں۔ حمائل کا چہرہ ضد اور امید کے بیچ پھنسا ہوا تھا، جبکہ زیغم کی نظروں میں ایک الجھن تھی، جیسے وہ خود کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہو۔ ماحول حسین تھا، مگر ان دونوں کے بیچ میں ہونے والی گفتگو آج پہلے سے بہت مختلف تھی۔
“اور اگر میں کل کو تمہیں وہ محبت نہ دے سکا جس کی تم حقدار ہو، تو پھر کیا مجھے معاف کر پاؤ گی؟”
زیغم نے گہری سانس لے کر اس کی روتی ہوئی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے فیصلہ کن انداز میں کہا۔
“کر دوں گی… کیونکہ محبت میں شرطیں نہیں ہوتیں، زیغم! میں تم سے کسی بدلے کی امید نہیں رکھتی۔”
حمائل نے نم آنکھوں کے ساتھ ہلکی سی مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا۔
“سوچ لو، کیونکہ زیغم سلطان اپنی بات سے پلٹتا نہیں ہے۔ مانا کہ محبت میں شرطیں نہیں ہوتیں، مگر محبت میں مقابل سے امیدیں بہت زیادہ ہوتی ہیں اور جب مقابل آپ کی امیدوں پر پورا نہیں اترتا، تو تکلیف بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔”
زیغم نے سنجیدگی سے کہا، اس کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا جو حمائل کو لمحہ بھر کے لیے خاموش کر گیا۔
“اس کا کیا مطلب ہے؟”
“کیا تم مجھے ایکسیپٹ کرنے کے بعد ایک بیکار کپڑے کی طرح گھر میں رکھو گے اور مجھے بیوی ہونے کا حق نہیں دو گے؟ یہی کہنا چاہتے ہو؟”
حمائل نے آنسو ضبط کرتے ہوئے تیز لہجے میں کہا۔
“دیکھ لو حمائل، تمہاری اور میری سوچوں کا مرکز یہیں سے بدلنا شروع ہو گیا ہے، اور تم زندگی بھر ایک ساتھ رہنے کے خواب دیکھ رہی ہو؟”
زیغم نے گہری سانس لے کر سنجیدگی سے کہا۔ وہ اسے حقیقت کا آئینہ دکھا رہا تھا۔
“میرا مطلب صرف یہ ہے کہ میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ تمہارے اس سوال کا مطلب کیا تھا؟”
حمائل نے تھوڑا ٹھہر کر سنجیدگی سے کہا، وہ زیغم کی بات کی گہرائی کو سمجھنا چاہ رہی تھی۔
“مطلب صاف تھا حمائل، تم بہت سمجھدار ہو اور میرا مطلب بخوبی سمجھ گئی تھی۔”
زیغم نے گہری سانس لی، جیسے خود کو سمجھانے کے لیے الفاظ چن رہا تھا۔
“میرا کہنے کا صرف اتنا سا مطلب تھا کہ آج چاہے تم جو مرضی کہہ لو، مگر جب تم شادی کر کے میری زندگی میں شامل ہو جاؤ گی، تو میری وہ دوست بہت پیچھے رہ جائے گی جو میری کمزوریوں کو نظر انداز کر سکتی تھی کیونکہ بیوی بن کر تمہیں مجھ پر پورا حق چاہیے ہوگا، اور ان حقوق میں سب سے پہلا حق محبت کا ہوگا اور میں تمہیں بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں، تم کمپرومائز نہیں کر سکو گی۔”
حمائل نے خاموشی سے زیغم کو دیکھا، جیسے اس کی ہر بات کو جذب کر رہی تھی۔
“مشرقی لڑکیوں کی طرح تمہاری سوچ نہیں ہے، جو گھر والوں کی مرضی سے کسی ایسے مرد سے شادی کر لیتی ہیں جنہیں وہ جانتی بھی نہیں ہوتیں، اور پھر آہستہ آہستہ محبت ہو جاتی ہے۔ تم میں وہ صبر و تحمل نہیں ہے، حمائل۔ اگر تمہیں محبت نہیں ملی، تو تم اسے برداشت نہیں کر سکو گی، خود کو دھوکا نہیں دے سکو گی۔”
زیغم کی نظریں سمندر کے نیلگوں پانی پر جم گئی تھیں، جیسے وہ اپنی بات مکمل کرنے کے لیے الفاظ کا سہارا نہیں لینا چاہتا تھا۔
“اسی لیے میں نہیں چاہتا کہ ہمارے رشتے میں کوئی پیچیدگی پیدا ہو۔ آگے چل کر یہ رشتہ ہمارے لیے بوجھ بن جائے، تو بہتر یہی ہے کہ تم میری باتوں کو سمجھو۔”
حمائل نے لب بھینچ کر رخ پھیر لیا، سمندر کی نم ہوا نے اس کی آنکھوں میں کچھ اور نمی بھر دی تھی۔ کچھ دیر سوچتے ہوئے ہم حمائل نے زیغم کی جانب دیکھا تھا۔
“اور اگر میں وعدہ کروں کہ میں یہ بھی برداشت کر جاؤں گی کہ تم مجھ سے پیار نہیں کرتے، تو پھر کیا تم مجھے قبول کر سکتے ہو؟”
“But Hamail, why? Why would you endure all this?”
“You are a very good friend of mine, and I can’t see you so helpless. You deserve a much better life partner than me, and In Sha Allah, you will find him. Don’t be foolish! You are a practical-minded girl—what kind of mess have you gotten yourself into?”
“مگر حمائل کیوں، کیوں یہ سب برداشت کرو گی؟”
“تم میری بہت اچھی دوست ہو، میں تمہیں اس طرح بے بس نہیں دیکھ سکتا۔ تم مجھ سے کہیں زیادہ اچھا لائف پارٹنر ڈیزرو کرتی ہو اور انشاءاللہ وہ تمہیں ملے گا۔ پاگل مت بنو، تم پریکٹیکل سوچ رکھنے والی لڑکی ہو، کن چکروں میں پڑ گئی ہو؟”
“تمہیں کسی سے محبت نہیں ہوئی نا؟ مگر جب ہوگی، تب سمجھ آئے گا کہ محبت انسان کو اس کے اپنے ہی اصولوں کے سامنے کس قدر بے بس کر دیتی ہے۔ تمہیں شاید ابھی اس کا احساس نہیں، مگر وہ دن ضرور آئے گا جب تمہیں میری باتیں یاد آئیں گی۔”
حمائل نے گہری سانس لی، آنکھوں میں ایک امید اور بے بسی کی جنگ جاری تھی۔
“تم خوش قسمت ہو، زیغم، کہ میں تمہیں چاہتی ہوں، تم سے محبت کرتی ہوں، تمہیں ہمیشہ کے لیے اپنا بنانا چاہتی ہوں۔ اور میری بدقسمتی یہ ہے کہ تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہوئی۔”
زیغم خاموشی بیٹھا ہوا ،اس کی ہر بات غور سے سن رہا تھا۔
“مگر اس سب کے باوجود، اگر تم مجھے قبول کر لو، تو میں وعدہ کرتی ہوں کہ کبھی تم پر اپنی محبت کو بوجھ نہیں بناؤں گی، کبھی کوئی ایسی ڈیمانڈ نہیں کروں گی جسے تم پورا نہ کر سکو۔ میں بس تمہارے ساتھ چلنا چاہتی ہوں، تمہاری زندگی کا حصہ بننا چاہتی ہوں!”
“اور اگر اس سب کے بعد بھی تمہارا جواب ‘ہاں’ نہ ہوا تو ٹھیک ہے، کبھی پلٹ کر تمہیں مجبور نہیں کروں گی، اس سے زیادہ میں خود کو گرا نہیں سکتی، زیغم۔”
وہ اپنی جگہ سے اٹھنے لگی تھی کہ زیغم نے اس کا ہاتھ تھام کر روک لیا۔
“مجھے تمہارا پروپوز قبول ہے۔”
روتی ہوئی حمائل ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ جا رہی تھی، مگر زیغم کے ایک جملے نے جیسے اس میں جان پھونک دی تھی۔ زیغم آگے بڑھ کر اس کے مقابل آ کھڑا ہوا، آنکھوں میں سنجیدگی اور لہجے میں مضبوطی تھی۔
“میں پورے دل سے اپنی زندگی میں تمہارا ویلکم کرتا ہوں اور تمہیں ہر وہ خوشی دوں گا جو میرے بس میں ہوئی۔ تمہاری ہر خواہش، ہر جذبے کی میں ریسپیکٹ کرتا ہوں، اور تمہاری محبت میرے لیے امپورٹنٹ ہے مگر کچھ ایموشنز ایسے ہوتے ہیں جنہیں فورس نہیں کیا جا سکتا، انہی میں سے ایک ہے ‘لوو۔’ مجھے تھوڑا سا ٹائم دو، امید ہے کہ مجھے تم سے محبت ہو جائے گی۔”
حمائل ساکت کھڑی زیغم کی باتیں سن رہی تھی، آنکھوں میں ایک انجانی امید جھلکنے لگی تھی۔
“مگر ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا، میں کچھ چیزوں پر کبھی کمپرومائز نہیں کروں گا، اور ان میں سب سے امپورٹنٹ ہے ٹرسٹ۔ تمہیں ہمیشہ مجھ پر بلیو کرنا ہوگا کہ میں کبھی تمہیں ہرٹ نہیں کروں گا، کبھی تمہیں دھوکہ نہیں دوں گا۔ ریلیشن شپ میں چیٹنگ کرنے والے لوگ مجھے زہر لگتے ہیں بلکہ، جب دو لوگ ایک دوسرے سے کمٹڈ ہوتے ہیں، تو ان کا بھی چیٹ کرنا مجھے ان بیئرایبل لگتا ہے۔”
زیغم نے گہری سانس لی، اپنے ہر لفظ کو مزید مضبوطی دے رہا تھا۔
“ایک سٹرونگ بانڈ ہمارے درمیان ہمیشہ قائم رکھنا، میں اپنی طرف سے اس رشتے کی ڈور تھامے رکھوں گا، اور تم اپنی طرف سے۔ اور میری کوئی اور ڈیمانڈ نہیں ہے۔”
(حال)
اس کے ساتھ ہی وہ جھٹکے سے خیالوں کی دنیا سے باہر آ گئی تھی۔
سب کچھ یاد کرتے ہوئے وہ کہیں بہت دور نکل گئی تھی، اردگرد کا ہوش ہی نہیں رہا تھا۔ وہ بھول گئی تھی کہ وہ اس وقت پارک میں بیٹھی ہے۔ وہ تو ماضی کے ان دنوں میں جا چکی تھی، جہاں اس نے خود سے زیغم سلطان کو پرپوز کیا تھا۔ اس پرپوزل کے بعد زیغم سلطان نے اپنا کیا ہوا ہر وعدہ نبھایا تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو قبول کر لیا تھا۔ زیغم ابھی شادی کے لیے تیار نہیں تھا، مگر اس نے ایک دن اینگیجمنٹ کی رنگ پہنا کر اسے اپنا بنا لیا تھا اور بہت جلد شادی کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔ وہ اس کی ہر خوشی کا خیال رکھتا تھا، ہر سیلیبریشن اس کے ساتھ کرتا تھا۔ اس درمیان میں، اس نے پاکیزگی کا رشتہ برابری کے ساتھ نبھایا تھا۔ کبھی اپنی لمٹس کراس کرنے کی کوشش تک نہیں کی تھی، وہ اپنے کردار میں بہت مضبوط تھا۔
اکثر جب وہ رات دیر تک بیٹھ کر زیغم سے باتیں کرنے کا ارادہ رکھتی تھی، تو وہ نرمی سے مسکرا کر کہہ دیتا تھا، “میرے خیال سے اب تمہیں جانا چاہیے، حمائل۔ میں تمہارے لیے نامحرم ہوں، اس بات کا خیال رکھا کرو۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، وہ ذرا سا بہکاتا ہے اور انسان گمراہ ہو جاتا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ ہم کسی ایسی حد کو پار کریں جس پر بعد میں پچھتانا پڑے۔” یہ جملے حمائل کو ہمیشہ ایک تحفظ کا احساس دلاتے تھے، زیغم سلطان واقعی ویسا ہی تھا جیسا اس نے ہمیشہ سوچا تھا—اپنے اصولوں پر قائم، اپنی عزت اور محبت کی حدوں کو پہچاننے والا۔
“اب کیوں رو رہی ہوں؟”
“میں کیوں رو رہی ہوں؟”
“سب کچھ میری ہی وجہ سے تو ہوا ہے!”
“میں جذباتی ہوں، اور جذبات میں آ کر نہ میں نے محبت کرتے ہوئے سوچا، نہ ہی زیغم سے دوری اختیار کرتے ہوئے جبکہ اس نے تو مجھے کھلے عام کہہ دیا تھا کہ وہ صرف ایک ہی شرط رکھ رہا ہے—وہ ہے رشتے میں ٹرسٹ۔”
“اور میں نے کیا کیا؟ ٹرسٹ ہی تو توڑ دیا!”
“کیوں میں نے اس پر بھروسا نہیں کیا؟ کیوں نہیں سوچا کہ اگر اس نے نکاح کیا ہے، تو اس کی کوئی مجبوری ہوگی؟”
“کیوں نہیں سمجھا کہ وہ جس فیملی سے تعلق رکھتا ہے، اس کے قاعدے قوانین ہم سے الگ ہیں؟ کیوں میں نے اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کی؟”
وہ دل ہی دل میں خود سے سوال کرتی رہی، اور پھر بے بسی سے رو پڑی۔ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے، خود کو اس پچھتاوے میں ڈھلنے دیتی رہی جس کا بوجھ اب شاید ساری زندگی اس کے ساتھ رہنے والا تھا۔
°°°°°°°°
“توقیر سائیں کہاں ہیں؟”
زیغم سلطان نے حویلی کے اندر قدم رکھتے ہی بلند آواز میں دھاڑتے ہوئے توقیر کو آواز دی۔ زیغم سلطان کی گرجدار آواز سے مانو حویلی میں ایک زور دار دھماکا سنائی دیا، اس کی آواز اتنی گرج دار تھی کہ دیواریں تک لرز اُٹھیں۔ غصے کی شدت سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا، اور ماتھے پر پسینے کے قطرے نمایاں ہو گئے تھے۔
“توقیر سائیں! نکلیں باہر! کتنی چالاکیاں کھیلنی باقی ہیں؟ کتنے زخم دینے باقی ہیں؟”
زیغم کا لہجہ بھرپور غصے اور طیش سے بھرا ہوا تھا، اس کا صبر ٹوٹ چکا تھا۔اس بار توقیر کی حرکت سے زیغم کے پرانے سب زخم جو ابھی تک ہلکے سے بھرے بھی نہیں تھے وہ پھر سے تازہ ہو چکے تھے۔
“اللہ خیر کرے! اب کیا ہو گیا ہے؟”
سلمہ پھوپھو شور سن کر اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی، اس کی آنکھوں میں خوف اور پریشانی کا عالم تھا۔
توقیر نے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا اور تیز قدموں سے باہر آیا۔ اس کے پیچھے قدسیہ اور نایاب بھی گھبرا کر باہر آ گئی تھیں۔ سب کے چہروں پر گھبراہٹ اور مکاری کے رنگ نظر آرہے تھے۔ زیغم کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی کہ سب کے سب اس چیز میں ملوث ہیں سوائے زرام کے۔ زیغم کی آواز سن کر اپنے روم سے ذرام بھی نکل کر باہر آگیا تھا۔
“کیا ہوا ہے؟ کیوں چلا رہے ہو؟”
“اپنے سے بڑوں کی تمیز ہے یا نہیں؟”
توقیر کا لہجہ تیکھا تھا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ ذرام کو بتا سکے کہ زیغم کس حد تک ان کے ساتھ بدتمیزی کرتا ہے۔ آج وہ خوش تھا کیونکہ اسے پتہ تھا کہ وصیت میں رد و بدل کر کے سب کچھ اپنے حق میں کروا چکا ہے۔ توقیر کو دل سے لگ رہا تھا کہ وہ زیغم کو ہرانے میں کامیاب ہو چکا ہے، احمق انسان کو لگ رہا تھا کہ اس نے ایک بڑی جیت حاصل کر لی ہے۔
“واہ توقیر سائیں! واہ! مجھے بڑے چھوٹے کی تمیز سکھا رہے ہیں؟”
“کم از کم اپنے گریبان میں جھانک لیں!”
زیغم طنزیہ لہجے میں بولتے ہوئے غرایا تھا۔
توقیر نے زرام کو زیغم کی طرف اشارہ کر کے دکھایا تھا۔
“دیکھو، دیکھو زرام! اس انداز سے یہ بات کرتا ہے مجھ سے اور تم کہتے ہو زیغم بھائی اچھے انسان ہیں، نیک فطرت ہیں، اور تربیت بہت اچھی کی گئی ہے ان کی۔ یہ ہے اس کی تربیت؟”
“نہ لحاظ، نہ تمیز! اس سے عمر میں بھی بڑا ہوں اور رشتے میں بھی بڑا ہوں!”
“زرام کو سب کچھ بعد میں دکھا لینا توقیر سائیں، پہلے اپنی کرتوتوں کا حساب دے لو۔ زیغم سلطان جو کرتا ہے، کسی سے چھپ کر نہیں کرتا۔ میں جو ہوں، جیسا ہوں، مجھے کسی کو ثابت کر کے دکھانے کی ضرورت نہیں ہے مگر تم جو ہو، جو کر رہے ہو، اسے ثابت کرنا پڑے گا۔ میں بھی انسان ہوں، خدا نہیں، جو ہر غلطی کو چھوڑتا جاؤں۔ رمضان کے مہینے کا لحاظ رکھتے ہوئے میں نے تو ابھی کچھ کیا ہی نہیں، اور تم ابھی سے تڑپنا شروع ہو گئے ہو!”
زیغم غصے سے دھاڑتے ہوئے بول رہا تھا، جبکہ زرام خاموشی سے کھڑا تھا۔ زرام اچھی طرح جانتا تھا کہ زیغم بغیر کسی وجہ کے یوں نہیں چلّا رہا۔ کچھ تو ایسا نیا گل اس کے باپ نے کھلایا ہے جس کی وجہ سے زیغم آپے سے باہر ہو رہا تھا۔
“بس کر دو، زیغم! بس کر دو!”
“تمہیں اگر کسی کو کچھ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں تو ہمیں بھی نہیں ہے! تم نے آتے ہی میرے بھائی کو معذور کر دیا، گولی مار کر بیڈ پر لٹا دیا، اس کی بھی کوئی صفائی دینے کی ضرورت نہیں؟”
“تم نے ہمیں گھر کا نوکر بنا دیا، ہم سے صفائیاں کروا رہے ہو، بابا سے گاڑیاں دلوا رہے ہو، بازار سے سبزیاں منگوا رہے ہو، پھر بھی تمہیں کوئی صفائی دینے کی ضرورت نہیں؟”
“تم میری بیٹی کو مجھ سے چھین کر لے گئے، اس کی بھی کوئی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں؟ کیوں؟ تم خدا ہو؟”
نایاب کے لہجے میں تلخی اور آنکھوں میں ایک عجیب چمک تھی۔ آج وہ کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھی۔ اسے اچھی طرح یقین ہو چکا تھا کہ وصیت اور سب کچھ زیغم کے نام ہو چکا ہے، اور دوسرا سامنے زرام کھڑا تھا، جس کے لیے زیغم ہمیشہ نرمی رکھتا تھا۔ نایاب جانتی تھی کہ زیغم کا زرام کے ساتھ سافٹ کارنر ہے، اور اسی چیز کا وہ بھرپور فائدہ اٹھا رہی تھی۔
“اچھا! میں نے اتنے ظلم کر دیے تم لوگوں پر؟”
“اوہ مائی گاڈ! یہ تو یاد ہی نہیں رہا کہ میں اتنا ظالم ہوں! اب کیا مجھے معافی مانگنی پڑے گی؟ ہاں؟ معافی مانگنی پڑے گی تم لوگوں سے؟”
زیغم دھاڑتے ہوئے نایاب کے مقابل جا کھڑا ہوا تھا۔ اس کی آنکھوں میں طوفان تھا، چہرے پر وحشت، اور بدن میں ایسا جلال کہ سامنے کھڑے شخص کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑا دے۔ اچانک اس نے ہاتھ پوری قوت سے دیوار پر دے مارا۔ زوردار آواز کے ساتھ نایاب کے پیروں تلے سے جیسے زمین کھینچ لی گئی ہو۔ وہ بے اختیار کانپ اٹھی، مٹھیاں بھیچ کر آنکھیں زور سے بند کر لیں۔ لمحہ بھر کے لیے اسے لگا کہ ابھی زیغم پسٹل نکالے گا اور اسے گولی سے اڑا دے گا۔
“کیا بدتمیزی ہے! کسی کا لحاظ بھی ہے یا جنگلی بن گئے ہو؟”
“اس کا بھائی کھڑا ہے، باپ کھڑا ہے، ماں کھڑی ہے سامنے، اور تم میری بیٹی پر ہاتھ اٹھا رہے ہو؟”
قدسیہ غراتے ہوئے آگے بڑھی تھی۔
زیغم نے خونخوار نظریں اس پر گاڑ دیں، ایک قدم آگے بڑھ کر طنزیہ مسکرایا۔
“جہاں کھڑی ہیں وہیں کھڑی رہیں! ورنہ مجھے گولی سے اڑانے میں کوئی دقت نہیں ہو گی، اور نمونے کے طور پر اپنے بیٹے کی حالت تو دیکھ ہی چکی ہو!”
قدسیہ کے قدم وہیں کے وہیں رک گئے تھے۔ چہرے کی ساری ہوائیاں اڑ چکی تھیں۔ جان کی بازی لگانے والی ماں آج اپنی بک بک کرنے والی بیٹی کے لیے زندگی کو داؤ پر لگانے سے گھبرا رہی تھی کیونکہ یہاں پیار کم اور ڈرامے بازیاں زیادہ تھی۔ سب کو اپنی جان زیادہ عزیز تھی پھر چاہے اولاد ہو یا ماں باپ۔
“کیا کہہ رہی تھی تم کہ تم لوگوں پر ظلم ہوا ہے؟”
زیغم واپس سے نایاب کی طرف دیکھتے ہوئے دیوار پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا اور نایاب کی حالت اس وقت ایسے تھی کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے۔ زیغم اس وقت فل غصے میں تھا اپنے آپے سے باہر وہ اس وقت کچھ بھی کر سکتا تھا۔
“بولو نا بولتی کیوں نہیں میں ظالم ہوں میں نے آتے ہی ظلم شروع کر دیا… اور اس ظلم کا حساب کون دے گا جو تم لوگوں نے کیے ہیں؟”
اس کے جبڑے کو دبوچتے ہوئے وہ اسے کے جبڑے کو توڑ دینے کی حد تک سختی دکھاتے ہوئے چیخا تھا۔ زیغم کی آواز زلزلے کی مانند گونجی۔ ہر لفظ بھاری، ہر جملہ انگارے کی مانند دہکتا ہوا۔
“ہم سے ہمارے بابا سائیں کا سایہ چھین لیا تم لوگوں نے۔ میرے بابا سائیں کو غلط دوائیاں دیتے رہے تاکہ وہ مر جائیں! کیا وہ ظلم نہیں تھا؟”
“ہماری جنت ہم سے چھین لی… میری اماں سائیں نے جب حقیقت جان لی، تو اسے بے دردی سے ایکسیڈنٹ میں قتل کروا دیا! کیا وہ بھی ظلم نہیں تھا؟”
“پھر بھی تم لوگوں کو صبر نہیں آیا… میری معصوم بہن پر تم لوگوں نے جال بنتے ہوئے الزام لگایا! پھر بھی تم لوگوں کو چین نہیں ملا؟”
“شادی کے نام پر میری بہن کو اذیتیں دیتے رہے، پل پل تڑپاتے رہے، گھر کا نوکر بناتے رہے… تم نے میری بہن کو مارا… تمہارے بھائی نے مارا… تمہاری ماں نے مارا… تب تم لوگوں کی روح نہیں تڑپی؟”
“تب تم لوگوں کی غیرت کہاں تھی؟”
زیغم کی آنکھیں خون اگل رہی تھیں۔ اس کا ہر لفظ گویا ان سب پر قہر بن کر برس رہا تھا۔ زیغم کے لہجے میں گزرے وقت کے ہر دکھ کے رنگ نظر آرہے تھے۔
“اور سارے فساد کی جڑ تو تم ہو، نایاب!”
“شروعات تم نے کی تھی!”
وہ ایک سیکنڈ کی خاموشی کے بعد ایک بار پھر سے ماضی کی تلخ یادوں کو یاد کرتے ہوئے زور سے دھاڑا تھا، اور نایاب کے چہرے سے جیسے سارا رنگ ہی اڑ گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ نایاب کے لیے کچھ کہتا قدسیہ جلدی سے بیچ میں کود پڑی تھی کیونکہ حالات اس کی سوچ سے زیادہ خراب ہو رہے تھے اور زرام کے سامنے وہ ذلیل ہونا نہیں چاہتی تھی جبکہ ان کو کیا پتہ کہ زرام ایک ایک بات سے اچھی طرح واقف ہو چکا ہے اسی لیے تو خاموش کھڑا ہوا سب دیکھ رہا تھا۔
“واہ واہ واہ! مطلب کہ سارا کچھ ہم نے کیا ہے، تمہاری بہن نے تو کچھ نہیں کیا؟”
“خود اپنے عاشق کو کمرے تک میں—”
“آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!”
“خبردار!! اگر میری بہن کے خلاف ایک لفظ بھی بولا تو!”
“میں بابا سائیں کہ جیسا معصوم نہیں ہوں جو بہک جاؤں گا یا چپ کر جاؤں گا! میں حلق میں ہاتھ ڈال کر تم لوگوں کے پیٹ سے انتڑیاں تک کھینچ لاؤں گا۔ اس لیے میری بہن کے بارے میں سوچ سمجھ کر بولیے گا…!”
زیغم سلطان اتنی زور سے چنگھاڑا کہ قدسیہ کی زبان جیسے ٹک سے بند ہو گئی۔ اس کے چہرے پر خوف کی ایک سرد لہر دوڑ گئی، آنکھوں میں لرزش، اور سانسیں بے ترتیب ہونے لگیں۔ زیغم کی آنکھوں میں شعلے دہک رہے تھے، ہاتھ سختی سے مٹھیوں میں بند، پورا بدن جیسے غصے میں دھک رہا تھا۔
“میری بہن میں کوئی خرابی نہیں ہے! خرابی تم لوگوں کی گندی سوچ میں تھی! اور یہ پتہ تو میں لگا ہی لوں گا کہ وہ سازش کس نے رچائی تھی، کیونکہ اب تو کوئی گنجائش ہی نہیں بچتی نا تم لوگوں پر یقین کرنے کی! مجھے پورا یقین ہے کہ اس سارے کھیل میں تم لوگ ہی ملوث تھے!”
زیغم کے آخری الفاظ گویا عدالت کا فیصلہ تھے۔ قدسیہ سمیت سب پر سکتہ طاری تھا۔
“مطلب کہ اگر تمہاری بہن کچھ غلط کرے تو وہ ماننے سے تم انکار کر رہے ہو اور ہم پر جو دل چاہ رہا ہے، الزام لگائے جا رہے ہو، لگائے جا رہے ہو؟”
توقیر نے تیزی سے لقمہ دیا۔
زیغم کی نظریں بجلی کی طرح اس پر جا گریں، ایک پل میں ایسا محسوس ہوا جیسے حویلی کا درجہ حرارت کئی درجے نیچے گر گیا ہو۔
“تم لوگوں کو لگتا ہے میں اندھا ہوں، حق اور ناحق کی پہچان نہیں رکھتا مگر ہاں، ایک فرق ہے مجھ میں اور تم میں!”
“میں جھوٹے الزامات نہیں لگاتا، میں اپنی بہن کے لیے جان دے سکتا ہوں مگر اس کی غلطی پر پردہ نہیں ڈال سکتا، کیونکہ میں تم لوگوں کی طرح گھٹیا نہیں ہوں!”
“اس وقت چھان بین کرنے میں اس لیے قاصر رہ گیا کیونکہ بابا سائیں زندہ تھے اور ان کی نظروں میں آپ لوگ دانیہ کو غلط ثابت کر چکے تھے… تم لوگوں نے اتنی اچھی طرح سے جال بنا تھا کہ دانیا صحیح ہو کر بھی غلط ثابت ہو گئی تھی۔ تم لوگوں نے بابا سائیں کو ان کی بیٹی سے اتنا بدزن کر دیا تھا کہ بابا سائیں نے اپنی ہی بیٹی کو غلط مان لیا–––اور اس سے بڑا بے وقوف میں تھا جس نے یہ سوچ لیا کہ شاید بابا سائیں نے یہ سب کچھ آنکھوں سے دیکھا ہے، تو پھر بابا سائیں کی نظروں پر شک کیسے کر سکتا تھا اس لیے مات کھا گیا اور اپنی ہی بہن کو غلط سمجھ لیا!”
زیغم کی آواز گرجدار تھی۔ اس کی گرج کے سامنے، توقیر کی گردن میں اکڑ تو تھی، مگر اس کے ماتھے پر چمکتی ہلکی پسینے کی تہہ اس کی بےچینی کا اعلان کر رہی تھی۔
“مجھے لگتا ہے آج تم نے نشہ وشہ کر رکھا ہے، اس لیے فضول میں تماشہ بنا رہے ہو! چھوڑو میری بیٹی کو! تم نے اسے خرید نہیں رکھا جو اس کے ساتھ ایسا وحشیوں جیسا سلوک کر رہے ہو!”
توقیر غصے میں آگے بڑھا، اپنی بیٹی کے جبڑے کو زیغم سلطان کے ہاتھ سے چھڑوانے کی کوشش کی، مگر زیغم کی گرفت اتنی مضبوط تھی کہ توقیر زیغم کی انگلی تک نہ ہلا سکا۔
زیغم کی نظریں سلگ رہی تھیں، اس کے چہرے پر شدید نفرت اور تحقیر واضح تھی۔ وہ سخت لہجے میں بولا:
“نہ، ایسا گھٹیا کام میں نہیں کرتا! میں حرام کو ہاتھ نہیں لگاتا، پھر چاہے وہ شراب ہو یا شباب! یہ سب گندے شوق تمہیں اور تمہارے بیٹے کو ہی زیب دیتے ہیں۔ زیغم سلطان کی رگوں میں جو خون دوڑ رہا ہے، وہ ایسی بے غیرت سوچ نہیں رکھتا!”
یہ کہہ کر اس نے ایک جھٹکے سے نایاب کے چہرے سے ہاتھ ہٹایا اور حقارت بھری نظروں سے توقیر کو گھورا۔
یہ منظر حد درجہ تکلیف دہ تھا۔ زرام خاموشی سے کھڑا تھا، مگر اندر ہی اندر وہ ٹوٹ رہا تھا۔ ایک عجیب سی بے بسی اور حقارت اس کے اندر سرایت کر رہی تھی۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ کسی دلدل میں پیدا ہوا ہو، جہاں عزت، غیرت اور سچائی کا کوئی تصور نہیں۔
“اپنی بیٹی کی تکلیف آرہی ہے، اور جو دوسروں کی بیٹیوں کی عزتیں اچھالی گئیں، اس کے بارے میں کبھی کیوں نہیں سوچا؟”
“بیٹی تو سب کی سانجھی ہوتی ہے، توقیر سائیں! مگر تم نے کیا کیا؟”
“تم نے اس گاؤں کی بہو بیٹیوں کو اپنے پیروں تلے روندا! میرا دل چاہتا ہے کہ میں اسی وقت تمہارے ٹکڑے کر دوں!”
زیغم کی آواز کڑک رہی تھی، اس کے لہجے میں انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی۔
“اس دن جرگہ میں عورتیں رو رو کر اپنی عزتوں کی دہائی دے رہی تھیں، ان کی سسکیاں فضا میں بکھر رہی تھیں مگر ان کی تباہی کے پیچھے کون تھا؟ کون تھا وہ درندہ جس نے ان کی دنیا اجاڑ دی؟”
“تم تھے توقیر سائیں! لعنت ہے ایسی مردانگی پر، ایسی طاقت پر جو کسی عورت کو عزت نہ دے سکے!”
زیغم کا ہاتھ مٹھیاں بنا کر کانپ رہا تھا۔ اس کی نظریں توقیر کو جیسے چیر ڈالنے پر تلی ہوئی تھیں۔
“مرد تو تحفظ کا نام ہے! مرد وہ نہیں جو کسی کمزور پر ہاتھ اٹھائے، جو عورت کو اپنی ہوس یا ظلم کا نشانہ بنائے! جو عورت کی عزت نہ کرے، وہ مرد نہیں، وہ درندہ ہے، وحشی ہے، شیطان کا چیلہ ہے! اگر تم جیسے مردوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے، تو معاشرہ جہنم بن جائے!”
‘اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: عورتوں کے ساتھ بھلائی اور حسن سلوک سے پیش آؤ۔”
“مگر تم جیسے لوگ کیا جانیں بھلائی کیا ہوتی ہے! مرد تو وہ ہے جو عورت کی عزت کے لیے تلوار اٹھائے، جو عورت کے لیے دیوار بنے، جو اپنی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کو سکون دے! وہ نہیں جو انہیں ظلم کی چکی میں پیس ڈالے!”
زیغم کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں، وہ پوری شدت سے آگے بڑھا، توقیر کے بلکل قریب آکر غرایا:
“میں شاید اپنے ماں باپ کا قتل بھی معاف کر دیتا! تم لوگوں کی مکاریاں بھی معاف کر دیتا! مگر جو کچھ تم لوگوں نے میرے گاؤں کی بیٹیوں کے ساتھ کیا، وہ میں کبھی معاف نہیں کروں گا! وہ مجبور نظریں، وہ سسکیاں، وہ بے بسی میری نظروں کے سامنے گھومتی ہیں! ان کی امیدیں مجھ سے جڑی ہیں! اور خدا کی قسم! زیغم سلطان اپنی جان پر کھیل جائے گا، مگر انہیں انصاف ضرور دلوائے گا! ویٹ اینڈ واچ!”
زیغم نے اپنے ہاتھ کی گرفت مضبوط کر لی، جیسے وہ اپنے اندر اٹھنے والے طوفان کو قابو میں رکھ رہا ہو، مگر اس کے الفاظ فیصلہ سنا چکے تھے—اب ظلم کا حساب ہوگا، اور ظالم کی بربادی لکھی جا چکی تھی!
“اور جو کھیل تم لوگوں نے آج کھیلا ہے، میرے بابا سائیں کی وصیت کو بدل کر سب کچھ اپنے نام لگوانے کا، تو میں تم لوگوں کو بتاتا چلوں کہ اس کھیل میں، میں تم لوگوں سے زیادہ ماہر ہوں! آج تم لوگوں کو ایک ایسی خبر دینے جا رہا ہوں جس سے تمہیں ایسا جھٹکا لگے گا کہ سنبھلنا مشکل ہو جائے گا!”
توقیر کی آنکھوں میں ہلکی سی پریشانی ابھری، مگر وہ خود پر قابو رکھتے ہوئے ہنکارا بھر کر ہنسا۔
“اوہ تو ہمیں ڈرا رہے ہو زیغم سلطان؟”
زیغم سلطان نے ایک زوردار قہقہہ لگایا اور اپنے ہاتھ کی انگلی سے پاس پڑی ہوئی فینسی لکڑی کی میز پر ایک مخصوص مقام پر ضرب لگائی۔
“ڈر؟ میں؟ تم لوگوں جیسے مکاروں سے ڈروں گا؟”
“سنو توقیر سائیں! تمہارا یہ بھرم زیادہ دیر تک قائم نہیں رہنے والا۔ تم لوگوں نے وصیت بدلنے کی کوشش کی، کیونکہ تمہیں لگا کہ زیغم سلطان کو جائیداد اور قانونی معاملات کی الف بے تک نہیں آتی اور اگر سچائی میرے سامنے آ بھی گئی تو ، میں بھی تم لوگوں کی طرح کرائے کے وکیلوں کے سہارے لوں گا مگر افسوس تمہاری سوچ غلط تھی۔”
وہ چند قدم پیچھے ہوا، اپنی جیب سے ایک کارڈ نکالا اور ہوا میں گھماتے ہوئے بولا۔
“زیغم سلطان صرف ایک جاگیردار کا بیٹا نہیں، بلکہ ایک پروفیشنل وکیل بھی ہے! ایل ایل بی آنرز، اور کارپوریٹ لا میں اسپیشلائزیشن، اور میرے پاس صرف ڈگری نہیں، تجربہ بھی ہے! تم جیسے قانونی داؤ پیچ کھیلنے والے میرے سامنے 10 وکیل لا کر کھڑے کر دو، تب بھی مجھ سے جیت نہیں سکتے!”
توقیر کا رنگ ایک لمحے کو فق ہوا، مگر وہ فوراً خود پر قابو پاتے ہوئے مصنوعی مسکراہٹ سجائے بولا۔
“اوہ، تو حضرت وکیل بھی ہیں؟ مگر بیٹا، قانون بھی وہی جیتتا ہے جس کے پاس پیسہ ہو، اثر و رسوخ ہو، اور ہمارے پاس دونوں ہیں!”
زیغم نے زوردار قہقہہ لگایا اور ایک زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔
“پیسہ؟ تمہارا سارا پیسہ اور اثر و رسوخ میرے بابا سائیں کی کمائی کی بدولت ہے! تم نے جتنی سازشیں کرنی تھیں، کر لیں، مگر یاد رکھنا، زیغم سلطان اپنے بابا سائیں کی ایمانداری سے کمائی گئی چیزوں کو سنبھالنے کے لیے ابھی زندہ ہے!”
“وصیت کو دوبارہ بدلنے سے پہلے سو بار سوچ لینا، کیونکہ اب سمجھاؤں گا نہیں عدالتوں میں گھسیٹوں گا اور اتنے چکر لگواؤں گا کہ تم لوگوں کی ایڑیاں گر جائیں گی۔”
“اب کھیل تمہارا نہیں، میرا ہو گا، اور اس بار چال میری ہو گی اور مات تمہاری!”
زیغم سلطان کا لہجہ اتنا مضبوط اور زوردار تھا کہ پورے ہال میں سنّاٹا چھا گیا۔ توقیر کے ماتھے پر پسینے کی ننھی بوندیں نمودار ہوئیں، جبکہ اردگرد کھڑے لوگ بے یقینی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ آج پہلی بار زیغم سلطان نے انہیں بتایا تھا کہ وہ صرف جذباتی آدمی نہیں، بلکہ ایک ایسا شخص ہے جو اپنی جنگ قانونی میدان میں بھی جیت سکتا ہے۔ زیغم سلطان کے الفاظ بم کی طرح پھٹے تھے۔ ہال میں موجود ہر شخص پر جیسے سکتہ طاری ہو گیا تھا۔
زرام کی آنکھوں میں حیرت تھی، وہ بے یقینی سے زیغم کو دیکھ رہا تھا۔
” زیغم بھائی وکیل ہے؟”
یہ خبر اس کے لیے بالکل غیر متوقع تھی کیونکہ اس مدے پر کبھی ان کی کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ نایاب کی نظریں زیغم پر جم کر رہ گئیں۔ وہ بے یقینی سے اپنے جبڑے کو تھامے کھڑی تھی، جیسے یقین ہی نہ آ رہا ہو کہ یہ وہی زیغم سلطان ہے جسے سب صرف جاگیردار سمجھتے تھے۔ آج تک اس کی پہچان صرف یہی تھی کہ وہ سلطان لغاری کا بیٹا ہے مگر یہاں تو تختہ ہی الٹ گیا تھا۔نایاب کو سمجھ نہیں ارہی تھی کہ وہ اس بات پر خوش ہو یا روئے۔
قدسیہ کا چہرہ فق ہو چکا تھا، اس کی آنکھیں حیرت سے پھیلی ہوئی تھیں۔
“یہ کیسے ممکن ہے؟ ہم سے تو کسی نے کبھی ذکر تک نہیں کیا کہ یہ خونخوار جانور وکیل بھی ہے!”
زیغم کے آخری فکروں پر توقیر کا رنگ بدلا، اس کی پیشانی پر پسینے کی چمک واضح تھی۔ اسے لگا جیسے زیغم سلطان اس کے سامنے کوئی پھانسی کا پھندہ بن کر جھول رہا ہو۔ وہ جو کھیل کھیل رہا تھا، اس کا ہر پتا الٹ چکا تھا۔
سلمہ نے اپنا سر تھام لیا۔
“یہ تو میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ اب کیا ہوگا یہ تو ہمیں جینے نہیں دے گا!”
وہ دل میں سوچتے ہوئے ٹھنڈی آہیں بھر رہی تھی۔ پورے کمرے میں خاموشی تھی، ایک ایسی خاموشی جو طوفان سے پہلے چھا جاتی ہے۔ زیغم سلطان نے سب کے تاثرات کو گہری نظروں سے دیکھا، ایک زہریلی مسکراہٹ اس کے لبوں پر ابھری، اور وہ ایک قدم آگے بڑھا۔
“اب کیا ہوا؟ زبانیں گونگھی ہو گئیں؟ ابھی تو کھیل شروع ہوا ہے، توقیر سائیں۔ اور اب کی بار، چال میری ہوگی، اور مات تمہاری!”
زیغم کی آواز میں ایسی گونج تھی کہ پورے ماحول پر لرزہ طاری ہو گیا۔ وہ اپنی بات پوری کر چکا تھا، مگر اس کے الفاظ ابھی بھی فضا میں گونج رہے تھے۔ پورے ہال میں سناٹا چھا گیا تھا، کسی میں ہمت نہیں تھی کہ اس کی بات کا کوئی جواب دے سکے۔وہ دھب دھب کرتا بھاری قدموں سے آگے بڑھا۔ اس کے قدموں کی گرج سے زمین جیسے تھرتھرا رہی تھی، اور ہر کوئی بے بسی سے اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا۔سیڑھیوں سے اترتے ہوئے بھی اس کے شانے تن کر چل رہے تھے۔ ہر قدم کے ساتھ وہ اپنا غصہ پی رہا تھا، ضبط کر رہا تھا، مگر آنکھوں میں طوفان بھرا تھا۔ وہ بنا کسی کو دیکھے سیدھا اپنے روم کی طرف بڑھا۔ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس کی پشت سے بھی ایک ہیبت ٹپک رہی تھی۔ دروازے تک پہنچ کر اس نے ایک جھٹکے سے دروازہ کھولا، اندر داخل ہوا، اور اگلے ہی لمحے زور سے دروازہ بند کر دیا۔
‘ٹھک!’
آواز ایسی تھی جیسے کسی نے دروازہ نہیں، کسی کی امیدیں توڑ دی ہوں۔ کمرے کے اندر گہرا سکوت تھا، اور باہر لوگ دم بخود کھڑے زیغم سلطان کے جانے کے بعد بھی اس کی گونجتی ہوئی باتوں کے حصار میں قید تھے۔
°°°°°°°°°°
قدسیہ زیغم کے جانے کے بعد اچانک ہوش میں آتے ہی بین ڈالنے لگی۔ وہ زمین پر بیٹھتی چلی گئی اور اپنا سینہ پیٹنے لگی، جیسے اس پر کوئی قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔ ہال میں اس کی آہ و بکا کی آوازیں گونجنے لگیں۔
“یہ کیا ہوگیا؟ یہ کیا ہوگیا؟ اللہ! ہم کہاں جائیں؟ کون ہے ہمارا سہارا؟”
قدسیہ زار و قطار روتے ہوئے سینہ پیٹ رہی تھی، جیسے اس کی دنیا اجڑ گئی ہو۔ گھر کے باقی افراد سکتے میں تھے، مگر کوئی بھی اسے دلاسا دینے کے قابل نہیں تھا۔
“اب کیا ہوگا؟ یہ تو پہلے ہی ہمیں چین سے جینے نہیں دیتا تھا، اور اب وکیل بن کر آیا ہے! اللہ! کون سے کرموں کی سزا مل رہی ہے؟ تم بھی کچھ بولو، کچھ کرو، بیٹے ہو ہمارے!”
قدسیہ کی بے قراری عروج پر تھی، وہ بے بسی سے زرام کو دیکھ رہی تھی، جیسے اس سے کوئی معجزہ ہونے کی امید ہو مگر زرام بس خاموش کھڑا تھا، اس کے چہرے پر عجیب سی سختی تھی، جیسے ضبط کی آخری حد پر کھڑا ہو۔
“کیا کرنا چاہیے؟”
اس نے بالآخر گہری سانس لے کر سرد لہجے میں کہا۔
“آپ بتائیں، مجھے کیا کرنا چاہیے؟ جا کر زیغم بھائی سے جھگڑا کروں؟ انہیں کہوں کہ وہ آپ لوگوں کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں؟ اور یہ کہتے ہوئے مجھے خود پر شرمندگی نہیں ہوگی؟”
اس نے تلخی سے قدسیہ کو دیکھا، جو اب بھی بے بسی سے آنسو بہا رہی تھی۔
“جتنا غلط آپ لوگوں نے زیغم بھائی کے ساتھ کیا ہے، دانیا بھابھی کے ساتھ کیا ہے، اس کے بعد اور کیا غلط ہوگا؟”
“حد ہوتی ہے ہر چیز کی! بس کر دیں!”
وہ آج پہلی بار پھٹ پڑا تھا، اپنے اندر جمع ساری تلخی باہر آ گئی ہو۔
“مجھے افسوس ہوتا ہے آپ سب کو دیکھ کر، کہ اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی آپ کو لگتا ہے کہ آپ لوگ صحیح ہیں!”
وہ طنزیہ مسکرایا، مگر اس مسکراہٹ میں تلخی تھی، زہر تھا۔
“تو ٹھیک ہے، پھر سزا بھگتیں۔ جو ہوگا، وہ ہوگا! میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں، جو زیغم بھائی آپ کے ساتھ کریں گے، میں بیچ میں نہیں بولوں گا۔”
وہ اپنا فیصلہ سنا چکا تھا، اور قدسیہ کا رنگ جیسے فق ہو گیا تھا۔ ہال میں سناٹا چھا گیا، زرام کی گونجتی ہوئی آواز کے بعد اب صرف خاموشی تھی، اور قدسیہ کی بے بسی۔ قدسیہ کی چیخ و پکار کے بعد ہال میں ایک عجیب سا سناٹا چھا گیا تھا، مگر توقیر خاموش بیٹھنے والوں میں سے نہیں تھا۔ وہ زرام کی باتوں سے جل بھن گیا تھا، غصے سے اسے گھورتے ہوئے بھاری قدموں سے آگے بڑھا۔ قدسیہ ابھی بھی بین ڈال رہی تھی، مگر توقیر کی نظریں بس اپنے بیٹے پر جمی تھیں، جو اپنی جگہ سختی سے کھڑا تھا۔
“چل ٹھیک ہے! ہمیں تم سے کچھ زیادہ امیدیں تھیں بھی نہیں!”
توقیر نے طنز بھری ہنسی کے ساتھ کہا۔
“ہمارا ببر شیر ایک بار اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے، پھر دیکھنا! زیغم سلطان کے کیسے چیتھڑے اڑاتا ہے شہرام! اگر اس کی ہیکڑی شہرام نے نہ نکال کر رکھ دی تو پھر کہنا!”
توقیر نے غصے سے زرام کی طرف انگلی اٹھائی، جیسے اسے دھتکار رہا ہو۔ زرام کے چہرے پر ایک پل کو افسوس جھلکا، مگر وہ ضبط کر گیا۔
“شہرام میرا شیر بیٹا ہے! وہ تمہاری طرح ہار کبھی نہیں مانے گا اور نہ ہی اس زیغم کے سامنے گھٹنے ٹیکے گا۔ زیغم سلطان چاہے کتنا ہی بڑا وکیل کیوں نہ بن گیا ہو، مگر ہم اسے زمین پر گھسیٹیں گے! یہ توقیر لغاری کا وعدہ ہے!”
قدسیہ نے جیسے نئی امید پکڑ لی تھی، وہ فوراً بولی:
“ہاں! شہرام انشاءاللہ جلدی ٹھیک ہو جائے گا اور زیغم کو بتائے گا کہ اصل شیر کیسا ہوتا ہے!”
زرام بس خاموشی سے کھڑا سب کچھ دیکھ رہا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں بے بسی اور دل میں ایک عجیب سا درد تھا۔
اس کے لبوں پر ایک تلخ مسکراہٹ ابھری، جیسے وہ خود سے کوئی جنگ لڑ رہا ہو۔ پھر وہ گہری سانس لے کر بولا:
“افسوس ہے مجھے آپ پر۔ ماں باپ ہو کر کیسی تربیت کر رہے ہیں؟ کیا سکھا رہے ہیں؟”
“اپنی ضد، اپنی انا کے لیے سب کو اندھا بنا رہے ہیں! افسوس ہے مجھے اپنی ذات پر کہ میں آپ کے گھر کیوں پیدا ہوا!”
قدسیہ کو جیسے سانپ سونگھ گیا، مگر اگلے ہی لمحے اس کی آنکھیں غصے سے انگارے برسانے لگیں۔ وہ جھٹ سے آگے بڑھی اور تیزی سے بولی:
“ہاں ہاں! اچھا تُو جا! جا کر اسی زیغم کا بھائی بن جا! ویسے بھی ہم نے کب کہا کہ ہمیں تیری ضرورت ہے؟ ہم نے کب تجھے روکا ہے؟ جا، اس کے قدموں میں بیٹھ جا، اس کی چمچہ گیری کر!”
قدسیہ کی آواز زہر میں بجھی ہوئی تھی، مگر زرام کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں آیا۔ وہ ایک گہری نظر اپنے والدین پر ڈال کر خاموشی سے پلٹا۔ نایاب اور سلمہ سکتے کے عالم میں کھڑی تھیں۔ ان کے لب سلے ہوئے تھے، یا شاید وہ بولنا ہی نہیں چاہتی تھیں۔ زرام نے ایک پل کے لیے نایاب کو دیکھا، جیسے اسے کچھ کہنا چاہتا ہو، مگر پھر وہ سر جھٹک کر وہاں سے چلا گیا۔ اس کے قدموں کی چاپ پورے ہال میں گونجتی رہی، اور پیچھے توقیر اور قدسیہ اپنی ہی دنیا میں زیغم کی شکست کے خواب بُن رہے تھے۔
ماں باپ کی غلط تربیت کا نقصان صرف دوسروں کو نہیں، خود کو بھی ہوتا ہے۔ جب وہ اپنی اولاد کے دل میں دوسروں کے لیے زہر بھرتے ہیں، تو درحقیقت اپنی نسلوں کو تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔ نفرت، بدگمانی، اور خودساختہ برتری کا زہر جب نسل در نسل منتقل ہوتا ہے، تو محبت، سکون اور عزت کی جڑیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ کل کو یہی اولاد جب زندگی کے میدان میں اترتی ہے، تو دشمنیوں کے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔ کبھی غرور کی آگ میں جلتی ہے، کبھی انتقام کی راہوں پر بھٹکتی ہے اور آخر میں؟ ماں باپ کی بھری ہوئی نفرت، خود انہی کی عزت اور مان کو راکھ بنا دیتی ہے۔
خدارا! اپنی نسلوں کو محبت، انصاف اور انسانیت کا درس دیں، ورنہ وقت کسی کا لحاظ نہیں کرتا!
جو سوچیں بوئی جائیں گی، وہی کاٹنی پڑیں گی، اس لیے عقل سے کام لیں۔
دلوں میں نفرت نہیں، محبت بسا کر دیکھیں، شاید زندگی آسان لگے۔
اپنی اولاد کو دشمنی نہیں، صبر اور برداشت سکھائیں، یہی اصل جیت ہے!
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “بہترین شخص وہ ہے، جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔”
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: “اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ، بے شک اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔” (القرآن)
°°°°°°°°
زیغم کے دماغ کی رگیں غصے سے تن چکی تھیں۔ اوپر سے روزے کی حالت میں ضبط کرنا مزید مشکل ہو رہا تھا۔ باہر جو کچھ ہوا، اس کے بعد بھی اس کی دھڑکن اب تک بے ترتیب تھی۔ وہ فون کو بیڈ پر اچھالتے ہوئے تیز قدموں سے چلتا ہوا واش روم میں گیا اور ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مار کر خود کو کچھ سنبھالنے کی کوشش کی۔ ٹھنڈے پانی نے چہرے پر پڑتے ہی ایک لمحے کے لیے کچھ سکون دیا، مگر دماغ میں ہلچل اب بھی جاری تھی۔ اس نے ٹاول سے چہرہ خشک کیا اور خود کو پرسکون کرنے کی ناکام کوشش کرتا باہر آیا لیکن آتے ہی فون کی مسلسل بجتی بیل نے اس کے غصے کو ایک بار پھر بھڑکا دیا۔ ابھی وہ کسی سے بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھا، مگر اس کی عادت تھی کہ بغیر دیکھے فون کو اگنور نہیں کرتا تھا۔ وہ ہمیشہ پہلے نمبر دیکھتا اور پھر فیصلہ کرتا کہ کال ریسیو کرنی چاہیے یا نہیں۔ اس نے بیڈ پر پھینکے ہوئے فون کی طرف بڑھ کر ایک نظر ڈالی اور لمحے بھر میں اس کا غصہ مزید بڑھ گیا۔ اسکرین پر جگمگاتا نمبر جیسے اس کے ضبط کا امتحان لے رہا تھا۔ “حمائل” کا نام سکرین پر روشن ہو رہا تھا۔
“حمائل! پرابلم کیا ہے تمہاری؟”
زیغم غصے سے دھاڑا۔
“ایک ہی بات بار بار دہرانے کا عادی نہیں ہوں میں!”
“میں جو بات ایک بار کہہ دیتا ہوں، وہ فائنل ہوتی ہے، اور میں فائنل کر چکا ہوں کہ اب میری زندگی میں تم کبھی واپس پلٹ کر نہیں آ سکتی!”
وہ فون اٹھائے بغیر ہی اس کی بات سن کر غصے سے چیخ اٹھا تھا۔ حمائل کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ زیغم شدید غصے میں ہے۔ وہ اسے برسوں سے جانتی تھی، اس کے ہر انداز سے واقف تھی۔ ایک لمبا عرصہ اس کی بہترین دوست رہ چکی تھی، تو وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اس وقت زیغم کا غصہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔
“کیا ہوا ہے تمہیں؟ کس پر غصہ کر کے آئے ہو؟”
اس نے نرمی سے پوچھا۔
“چاہے جس پر مرضی غصہ کر کے آیا ہوں، تمہارا مجھ سے یا میری زندگی سے کوئی لینا دینا نہیں!”
زیغم کا لہجہ برف کی طرح سرد تھا۔
حمائل کے دل میں ایک لمحے کو درد کی شدید لہر اٹھی، مگر اس نے خود کو سنبھال لیا۔ وہ جانتی تھی کہ غصے میں زیغم کسی کی نہیں سنتا۔
“کیوں؟ کیا اب میں تمہاری دوست نہیں ہوں؟”
اس کا لہجہ مدھم تھا۔
“دوستی؟”
زیغم کی ہنسی زہر میں بجھی ہوئی تھی۔
“تم نے بدقسمتی سے ہمارے بیچ یہ رشتہ بھی چلنے کے قابل نہیں چھوڑا، حمائل! یہ سب تمہاری ہی مہربانیاں ہیں۔”
اس کا لہجہ سخت تھا۔
“جب میں نے سمجھایا تھا کہ ہم اچھے دوست ہیں اور ہمیں دوست ہی رہنے دو، تب تمہاری سمجھ میں میری بات بالکل نہیں آئی تھی اور اب، جب سب کچھ تم نے خود ختم کر دیا ہے، تو تمہیں دوستی کی یاد آ رہی ہے؟”
زیغم کی آواز میں طنز تھا، مگر اس کے الفاظ میں گہری تلخی بھی تھی۔
“پلیز، پلیز معاف کر دو زیغم!”
حمائل کی آواز میں بے بسی تھی، جیسے وہ کسی ڈوبتے شخص کی طرح آخری امید کے طور پر ہاتھ بڑھا رہی ہو۔
“میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں، میں مانتی ہوں کہ غلطی میری تھی۔”
اس کا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا، آنکھوں میں آنسو، مگر زیغم کے چہرے پر کوئی نرمی نہیں آئی۔
“میں جانتی ہوں کہ اس رشتے کو تباہ میں نے کیا، میں ہی بھٹک گئی تھی… تم نے تو کبھی اپنی بات سے انحراف نہیں کیا…”
مگر زیغم خاموش تھا، اس کے چہرے پر سنگلاخ سرد مہری تھی۔ حمائل کی باتیں شاید کسی اور وقت میں اثر کر جاتیں، مگر آج نہیں… آج وہ ہر احساس سے عاری لگ رہا تھا۔ زیغم کی آنکھوں میں سلگتی ہوئی چنگاریاں تھیں، ماضی کی تلخ یادوں نے اس کے غصے کو مزید بھڑکا دیا تھا۔
“یہ سب کچھ میں نے بھی تمہیں کہا تھا جب تم مجھے چھوڑ کر جا رہی تھی، حمائل!”
اس کی آواز گرج دار تھی، جیسے برسوں کی دبی چنگاری ایک لمحے میں شعلہ بن گئی تھی۔
“یہ سب کچھ میں نے بھی تمہیں سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ صرف ایک غلطی کے لیے مجھے معاف کر دو کیونکہ یہ غلطی میں نے کسی اور کے لیے نہیں، بلکہ اپنے بابا کے حکم پر کی تھی! کتنی منتیں کی تھیں میں نے، مگر تم نے میری سنی تھی؟ نہیں سنی نا!”
وہ ایک قدم آگے بڑھا، فون کی سکرین پر نظریں جمائے جیسے وہ حمائل کے دل میں جھانک کر اسے اپنی بے بسی یاد دلانا چاہتا تھا۔
“میں نے تم سے کہا تھا کہ مجھے صرف اور صرف رشتے میں ٹرسٹ چاہیے۔ میں نے قسم کھا کر کہا تھا کہ میں زندگی میں کبھی تمہیں دھوکہ نہیں دوں گا۔ اس دن بھی قسم کھائی تھی میں نے! تو پھر؟ پھر بھی تم نے مجھے چھوڑ دیا!”
زیغم کا دل ایک بار پھر وہی زخم سہہ رہا تھا، وہی اذیت جو حمائل کے فیصلے نے اس کی روح پر ثبت کر دی تھی۔
“میں نے تمہیں بتایا تھا کہ مجھے نایاب میں کوئی دلچسپی نہیں، میں کبھی پلٹ کر نایاب کے پاس نہیں جانا چاہتا، نہ ہی جاؤں گا مگر تم نے سنی تھی میری کوئی بات؟ کوئی ایک دلیل سنی تھی؟”
زیغم کا سانس تیز ہو چکا تھا، اس کا ضبط جواب دے رہا تھا، وہ خود کو سنبھالے کھڑا تھا مگر غصے اور دکھ نے اسے بے چین کر دیا تھا۔
“اپنے الفاظ یاد کرو، حمائل!”
وہ جیسے آخری وار کر رہا تھا۔
“تم نے مجھ سے کیا کہا تھا؟”
زیغم کی آواز میں اب کوئی نرمی باقی نہیں تھی، کوئی گنجائش، کوئی امید نہیں تھی۔ وہ زیغم سلطان تھا ایسا ہی تھا وہ اپنی بات پر ڈٹ جانے والا۔ وہ پہلے کسی کا دل کبھی نہیں توڑتا تھا اور جب اس کا دل کوئی توڑ دے تو زیغم سلطان کبھی چاہ کر بھی اس سے ٹھیک نہیں ہو پاتا تھا یہ زیغم سلطان کی زندگی کے رول تھے۔
“جانتی ہوں، بہت اچھی طرح سے جانتی ہوں! تم پر یقین نہ کرنا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی!”
حمائل سسکتے ہوئے رو رہی تھی، مگر زیغم کے دل پر اب ان آنسوؤں کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ وہ تھکے ہوئے انداز میں ایک تلخ ہنسی ہنسا، جیسے کسی زخم کو چھیڑ دیا گیا ہو۔
“معاف کر دو، حمائل! میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اپنی زندگی کی الجھنوں میں اس قدر الجھا ہوا ہوں کہ اس وقت تمہیں کچھ نہیں دے سکتا، کچھ بھی نہیں۔ مجھے اس وقت صرف اپنی بیٹی اور اپنی بہن پر توجہ دینی ہے، جو میرے قیمتی رشتے ہیں ان کو میری بہت ضرورت ہے۔ میری غیر موجودگی میں میرا بہت نقصان ہو چکا ہے!”
زیغم نے ایک گہرا سانس لیا، اپنے اندر جلتے لاوے کو قابو میں کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“ہاں، آنے والے وقت میں شاید تمہیں پھر سے اپنی دوست تسلیم کر لوں، لیکن اس وقت کے لیے میرے پاس وہ رشتہ بھی نہیں ہے۔ میرے دل میں کسی کے لیے ایک بار دراڑ پڑ جائے تو وہ دوبارہ نہیں بھرتی، حمائل!”
زیغم کی آنکھوں میں ایک چبھن ابھری، ماضی کی یادوں نے اس کے زخموں کو مزید ہرا کر دیا تھا۔
“میں تمہاری وہ کی ہوئی انسلٹ نہیں بھول سکتا، جو تم نے میری اپنے گھر پر کی تھی!”
حمائل کی سسکیاں اسے سنائی دے رہی تھی مگر پھر بھی وہ رکا نہیں اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھا۔ زیغم اپنی تذلیل کبھی نہیں بھول سکتا تھا، نہ وہ الفاظ، نہ وہ لہجہ، نہ وہ تحقیر بھری نظریں۔
“میں بھولنے والوں میں سے نہیں ہوں، حمائل!”
زیغم کی آواز میں ایسی ٹھہراؤ بھری سختی تھی کہ اگر حمائل سامنے ہوتی تو شاید اس کی ٹانگیں کانپ جاتیں۔
“تمہیں لگتا ہے کہ چند آنسو بہانے، چند لفظ کہنے سے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا؟”
“نہیں، حمائل! کچھ چیزیں مٹتی نہیں، بس وقت کے ساتھ اور گہری ہوتی جاتی ہیں۔ جیسے وہ زخم جو تم نے میرے بھروسے پر لگایا تھا۔”
اس نے فون ہاتھ میں گھمایا، ایک لمحے کے لیے نظر سکرین پر ٹھہری، مگر پھر اگلے ہی پل وہ فون بیڈ پر اچھال کر سیدھا لیٹ گیا۔ آنکھوں پر بازو رکھتے ہوئے اس نے گہری سانس لی، مگر اس کے دل کی بے ترتیبی کم نہ ہوئی۔ اسے معلوم تھا کہ کچھ دکھ اور کچھ زخم ہمیشہ کے لیے ہوتے ہیں—اور تذلیل ان میں سے سب سے گہرا زخم ہوتا ہے، جو کبھی نہیں بھرتا۔ تکیے پر سر رکھتے ہی زیغم کی آنکھوں کے سامنے وہ منظر گردش کرنے لگا جب وہ حمائل کے سامنے اپنی صفائی پیش کر رہا تھا، مگر حمائل مسلسل اس کی تذلیل پر تذلیل کیے جا رہی تھی۔ زیغم سلطان، جو اپنی فطرت کے برخلاف نرمی اختیار کر چکا تھا، اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا، جبکہ حمائل کا لہجہ سخت اور بے رحم تھا۔
“حمائل، پلیز میری بات سنو! وہ نکاح صرف چند کاغذ کے ٹکڑوں پر مبنی ہے، میرے لیے اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ میں نے بابا سائیں کے حکم پر نکاح کیا، مگر دل سے صرف تمہیں چاہا ہے۔ مجھے نایاب کے پاس کبھی پلٹ کر نہیں جانا، نہ ہی میں اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں۔ تمہیں مجھ پر بھروسہ کرنا چاہیے!”
زیغم کی آواز میں بے بسی تھی، وہ ہر ممکن طریقے سے حمائل کو یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا۔
“ٹرسٹ؟ شادی کر کے آگئے ہو، نکاح کر لیا ہے تم نے، اور اب مجھ سے کہہ رہے ہو کہ تم پر بھروسہ کروں؟”
“میں تمہیں اپنے گاؤں کی کوئی سادہ لوح، بے وقوف لڑکی لگتی ہوں جو تمہاری ان باتوں میں آ جاؤں گی؟ اپنے حقوق سب سمجھ میں آتے ہیں مجھے، اور میں تمہاری ان جھوٹی وضاحتوں پر یقین کرنے والی نہیں۔ یا تو تم ابھی اور اسی وقت اس لڑکی کو طلاق دو، یا پھر تم سے میرا رشتہ ختم!”
“حمائل، کسی رشتے کو اتنا ہلکا مت لو، ہمیشہ جذباتی فیصلے لینا اچھی بات نہیں، تمہیں زیغم کی بات سننی چاہیے۔”
زیغم کے والد نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
“نیور! مجھے کچھ نہیں سننا! یا تو یہ اس لڑکی کو طلاق دے، یا پھر مجھ سے ہمیشہ کے لیے اپنا تعلق ختم کر دے!”
حمائل نے دو ٹوک لہجے میں فیصلہ سنایا تھا۔
“اگر میں کہوں کہ میں چاہ کر بھی اس نکاح کو ختم نہیں کر سکتا تو؟”
زیغم نے گہری سانس لیتے ہوئے مدھم مگر مضبوط لہجے میں کہا۔
“تو کیا؟”
حمائل نے تیزی سے اسے گھورا، آنکھوں میں شعلے لیے۔
“تو صاف لفظوں میں تمہیں میرے ساتھ رشتہ ختم کرنا ہوگا! یہ لو پھر، اپنی منگنی کی انگوٹھی رکھو اپنے پاس!”
اس نے غصے سے اپنی انگلی سے انگوٹھی نکال کر زیغم کی طرف اچھال دی، اور زیغم بے بسی سے اسے دیکھتا رہ گیا۔
“پلیز انکل، مجھے حمائل سے اکیلے میں بات کرنی ہے…”
زیغم نے سنجیدگی سے حمائل کے والد کی طرف دیکھا۔
“مجھے تم سے اب کوئی بات نہیں کرنی!”
حمائل نے سخت لہجے میں جواب دیا، آنکھوں میں شدید غصہ تھا۔
“پلیز حمائل، بیٹا خاموش ہو جاؤ!”
اس کے والد نے نرمی سے اسے سمجھانے کی کوشش کی اور پھر حمائل کی ماں کا ہاتھ پکڑ کر باہر چلے گئے۔ اب کمرے میں صرف حمائل اور زیغم رہ گئے تھے۔
زیغم نے گہری سانس لی، جیسے اپنے غصے کو قابو میں رکھ رہا ہو، پھر دھیمے مگر گہرے لہجے میں بولا:
“یہی وجہ تھی کہ میں تم سے کسی بندھن میں نہیں بندھنا چاہتا تھا۔ جب تم نے مجھ سے محبت کا اعتراف کیا تھا، میں نے اسی وقت کہا تھا کہ مجھے زہر لگتے ہیں وہ رشتے جن میں ٹرسٹ نہ ہو۔ مجھے زہر لگتے ہیں وہ لوگ، جو ایک ریلیشن میں رہ کر ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے ہیں!”
“ہاں تو چیٹ تم نے کیا ہے، بھروسہ تم نے توڑا ہے، میں نے نہیں!”
حمائل نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ٹک سے جواب دیا تھا۔
زیغم نے گہری سانس لی، جیسے اپنے ضبط کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہو، پھر بولا:
“یہی تمہارا جذباتی پن، میں ہمیشہ سے جانتا تھا اور یہی بات میں نے تم سے کہی تھی کہ تم میرے ساتھ نبھا نہیں کر سکو گی۔ میں نے تو اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کی ہے، حمائل، ہمارے رشتے کو خوبصورت رکھنے کی۔ اب تو مجھے تم سے محبت ہونے لگی تھی، اور تم یہ کیا کر رہی ہو؟ خود اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی خوبصورت دنیا کو آگ لگانے لگی ہو؟ پلیز سمجھنے کی کوشش کرو، میں تمہیں چیٹ نہیں کر سکتا، میری فطرت میں ہی نہیں ہے چیٹ کرنا!”
“تو پھر جو نکاح کر کے آئے ہو، وہ کیا ہے؟”
حمائل نے طنزیہ ہنسی ہنسی۔
“پاگل سمجھتے ہو زیغم مجھے؟”
“ہاتھ مت لگانا! میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں، تمہارے ساتھ رہنا چاہتی ہوں، تمہارے پیار میں پاگل ہوں، مگر اتنی پاگل نہیں کہ تم جو بھی کہانی گھڑ کر سناؤ گے، میں مان لوں گی۔ ایک تم نے اپنے گاؤں میں اپنی فیملی میں شادی کر رکھی ہے، اصل تو ہر لحاظ سے تمہاری بیوی وہی کہلائے گی، اور میں کون؟ رکھیل؟”
“شٹ اپ… یو شٹ اپ! اس سے آگے اور کچھ مت کہنا!”
زیغم کا ضبط ٹوٹ گیا تھا، اس کی آنکھوں میں شدید غصہ ابھرا۔
“جو کہنا تھا، تم نے کہہ دیا! اتنے گھٹیا الفاظ بولنے سے پہلے تمہیں عورت ہو کر شرم بھی نہیں آئی؟”
“میں تو تمہیں ہمیشہ تقدس کی نگاہ سے دیکھتا تھا، اور تم نے پل بھر میں خود کو بےمول کر دیا؟ افسوس ہے مجھے تمہاری سوچ پر!”
“رکھو اپنا افسوس اپنے پاس!”
حمائل نے سختی سے کہا:
“اور اس دنیا کو آگ میں نے نہیں لگائی! نکاح تم کر کے آئے ہو، میں نہیں! اور ہمارا رشتہ صرف ایک ہی صورت میں بچ سکتا ہے، تمہیں اسے طلاق دینی ہوگی!”
وہ غصے سے پیر پٹختی ہوئی پلٹنے لگی۔
“سوچ لو، حمائل!”
زیغم کی آواز گونجی۔
“آج وقت ہے، یہ وقت کبھی پلٹ کر نہیں آئے گا! آج اگر تم یہاں سے اس طرح رشتہ توڑ کر گئی تو سوچ لو، وقت بدلے گا، تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگا، اور پھر جب تم واپس میری زندگی میں آنا بھی چاہو گی، تو خدا کی قسم، زیغم کبھی پلٹ کر تمہیں آنے کا موقع نہیں دے گا! میرے دل کے دروازے تمہارے لیے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گے!”
“بس کر دو!”
حمائل نے تیز لہجے میں کہا۔
“مجھے انڈر پریشر مت کرو! اگر کچھ کر سکتے ہو، تو اس لڑکی کو طلاق دو! میں تمہارے ساتھ دوسری عورت برداشت نہیں کر سکتی!”
یہ کہہ کر وہ پیر پٹختی ہوئی وہاں سے چلی گئی تھی، اور زیغم بس اسے جاتا دیکھتا رہ گیا۔ یادیں… بہت تکلیف دہ تھیں۔
زیغم کروٹ لیتے ہوئے تکیے پر الٹا لیٹ گیا، اپنی سانسیں تک روکے ہوئے، کیونکہ اسے وقت کی وہ شرمندگی نہیں بھول رہی تھی جب حمائل نے سب کے سامنے اس کی بےعزتی کی تھی۔ وہ بے بسی سے اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا، اپنی صفائی دے رہا تھا، مگر حمائل نے ایک لمحے کے لیے بھی اس کی بات سننے کی زحمت نہیں کی تھی۔ وہ اسے مسلسل جھوٹا، دغاباز اور دھوکے باز کہہ رہی تھی، جبکہ زیغم اپنی ہر ممکن کوشش کر رہا تھا کہ کسی طرح وہ اس پر یقین کر لے۔ لیکن نہیں… حمائل نے سب کے سامنے اس پر چیخ چیخ کر الزام لگائے، اسے نیچا دکھایا، اور آخر میں اپنے ماں باپ کے سامنے اس کی بےعزتی کر کے وہاں سے چلی گئی۔ وہ لمحہ زیغم کے لیے ناقابلِ برداشت تھا۔ جس حمائل کے لیے وہ سب کچھ چھوڑ سکتا تھا، جسے وہ اپنی زندگی کا سب سے قیمتی حصہ سمجھتا تھا، وہی حمائل ایک لمحے میں اس کے کردار پر انگلی اٹھا کر چلی گئی تھی۔ زیغم نے ایک ٹھنڈی آہ بھری تھی۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب وہ اس گھر میں ایک لمحہ بھی نہیں ٹھہرے گا۔ جب زیغم پاکستان سے امریکہ گیا تھا، تو حمائل کے بابا نے زبردستی اسے اپنے پاس روک لیا تھا۔ زیغم کے بابا سائیں نے بھی حکم دیا تھا کہ “تم باہر نہیں رہو گے، تم ان کے ساتھ ہی رہو گے!” زیغم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ قیام اس کے لیے اتنا تکلیف دہ ثابت ہوگا لیکن اب سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔ جب حمائل نے خود ہی اس رشتے کو توڑ دیا تھا، تو زیغم کے پاس اس گھر میں رہنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ وہ جس پل اس گھر کی دہلیز سے نکلا، اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
اسی شام اس نے فوراً ایک علیحدہ روم بک کروایا۔ وہ جانتا تھا کہ حمائل کے والدین اسے روکنے کی کوشش کریں گے، مگر وہ اب مزید کسی بحث کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا۔ وہ ہر حال میں اس ماحول سے دور نکل جانا چاہتا تھا جہاں اسے بار بار وہ لمحہ یاد آتا، جب حمائل نے اس کی محبت، اس کے خلوص، اور اس کے اعتبار کو ٹھکرا دیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کچھ رشتے وقت کے ساتھ مر جاتے ہیں، مگر کچھ رشتے ایسے بھی ہوتے ہیں جو ایک غلط فہمی کی نذر ہو کر بھی ہمیشہ کے لیے دل میں زندہ رہتے ہیں… زیغم سلطان کے لیے حمائل کے ساتھ کا ہر لمحہ ایک خواب تھا، جو ٹوٹ چکا تھا… مگر اس خواب کے ٹوٹنے کی آواز ابھی تک اس کے اندر گونج رہی تھی۔ زیغم نے حمائل کے لیے جو محسوس کرنا شروع کیا تھا، وہ محبت تھی یا صرف عادت؟ شاید وہ توجہ تھی جو حمائل اسے دیتی تھی، یا پھر وہ قربت جو دھیرے دھیرے دل میں جگہ بنا رہی تھی مگر حقیقت یہ تھی کہ حمائل اس کی زندگی کا ایک حصہ بن چکی تھی، اور زیغم کو یہ رشتہ اچھا لگنے لگا تھا۔ وہ ہمیشہ اس کا خیال رکھتی، اس کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر دھیان دیتی، جیسے اس کے بغیر کچھ ادھورا ہو۔ زیغم نے بھی بنا کچھ کہے اس رشتے کو قبول کر لیا تھا، مگر جیسے ہی وہ اس تعلق کو دل سے اپنانے لگا، حمائل نے پل بھر میں سب کچھ ختم کر دیا۔ یہ فقرہ حمائل کے حال پر بالکل ٹھیک بیٹھتا تھا: “سب کچھ لٹا کر ہوش میں آیا تو کیا آیا!
°°°°°°°°°°°°°°
“جوان جہان لڑکی ہے اور کچھ دن رکنے کے لیے آئی ہے، بات کچھ جم نہیں رہی۔”
“اور یہ اس کے منہ اور ہاتھوں پر اتنے زخم کیوں ہیں؟”
“لگ رہا ہے کسی نے اچھی خاصی دھلائی کی ہے۔ کیا شادی شدہ ہے؟ اس کے شوہر نے اس کا یہ حشر کیا ہے؟ یا پھر…؟”
مونا کی ماں اپنے تکے لگانا شروع ہو چکی تھی۔
“میرے خیال سے ہمیں کسی کی زندگی کے بارے میں بغیر کسی وجہ اور جانچ پڑتال کے مدعیِ بحث نہیں بننا چاہیے۔”
مورے نے دو ٹوک انداز میں اس موضوع پر مزید بات کرنے سے مونا کی ماں کو روکنا چاہا تھا۔
“بھئی! مدعیِ بحث تو اس لڑکی کا وجود بنے گا، مجھے پورا حق ہے۔ آخر یہ میری بیٹی کا سسرال ہے، یہاں میرا ہونے والا داماد بھی رہتا ہے، اور یہیں پر ایک جوان لڑکی بغیر کسی رشتے کے رہ رہی ہوگی، تو کیا میں سوال نہیں کروں گی؟ لوگ بھی سوال کریں گے!”
مونا کی ماں چپ کرنے والی شخصیت نہیں تھی۔ دوسروں پر لفظوں کے تیر مارنا کسی کی کردار کشی کرنا اس کا فیورٹ مشغلہ تھا تو اتنے اچھے موقع کو وہ اپنے ہاتھوں سے ضائع کیسے جانے دے سکتی تھی۔
“آپ کے کہنے کا مطلب کیا ہے؟ میں سمجھی نہیں۔”
مورے کے لہجے میں ہلکی سی سختی آنے لگی تھی۔ کہاں تک وہ اس عورت کی باتوں کو برداشت کرتی؟ مونا کی ماں تو منہ کھولتے ہی جا رہی تھی۔
“اب بچی تو نہیں ہیں آپ کہ بات سمجھ نہ آئے۔ میں نے تو کوئی ڈھکی چھپی بات کی بھی نہیں، صاف لفظوں میں کہا ہے کہ ایک جوان لڑکے اور ایک جوان لڑکی کا ایک ہی گھر میں رہنا مجھے مناسب نہیں لگتا۔ ہم تو غیرت مند لوگ ہیں، اور یہاں تو ایک نہیں، دو دو لڑکے ہیں۔ عجیب ہیں اس کے گھر والے، جو اسے یہاں چھوڑ گئے ہیں!”
مونا کی ماں نے الفاظ زہر میں ڈبو کر کہے۔
“مجھے اپنے غیرت مند بیٹوں پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ کبھی کسی بہو بیٹی کی عزت کی جانب گندی نظر سے نہیں دیکھیں گے، اور یقین ہے مجھے اس بچی پر کہ وہ بھی ایسی نہیں ہے۔ نیک سیرت نیک ماں باپ کی اولاد ہے اس نے تو کبھی نظر بھر کے بھی مائد کی جانب نہیں دیکھا اور جہاں تک درخزائی کی بات ہے تو درخزائی اسے اپنی بڑی بہن سمجھتا ہے اور وہ اسے اپنا چھوٹا بھائی۔ رشتوں میں احترام کیا ہوتا ہے ہمارے بچوں کو بھی اچھی طرح سے پتہ ہے مگر شاید آپ کو نہیں پتہ کہ رشتوں میں اچھائی کس چیز کا نام ہے۔ آپ نے بغیر کسی لحاظ کے کتنی آسانی سے ہمیں بے غیرت کہہ دیا…”
مورے کا پارہ ٹھیک ٹھاک ہائی ہو چکا تھا۔
“استغفراللہ میں نے کب آپ کو بے غیرت کہا؟”
مونا کی ماں نے جلدی سے چالاکی کے ساتھ تصدیق کی۔
“اگر آپ خود کو غیرت مند کہہ رہی ہیں اور ہمارے بارے میں کچھ نہیں کہا تو اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم بے غیرت ہیں!”
مورے کے لہجے میں سختی در آئی تھی۔
“اور جہاں تک دانیہ کے گھر والوں کی بات ہے، تو وہ بھی غیرت مند لوگ ہیں۔ اس کا بھائی خود اپنی بہن کی فکر رکھتا ہے، اور اگر وہ کسی مجبوری کے تحت چند دن ہمارے ہاں ٹھہر رہی ہے، تو اس میں آپ کو کیا تکلیف ہے، میں تو یہ سمجھ نہیں پا رہی۔”
“آپ بولے جا رہی ہیں، بات اچھالے جا رہی ہیں، اور اگر کوئی آپ کو جواب نہیں دے رہا، تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ جواب دینا نہیں جانتا۔ بعض اوقات آدمی لحاظ میں بھی چپ ہو جاتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اس کی خاموشی کا اتنا فائدہ اٹھائیں کہ مقابل اپنے مقام سے نیچے گر کر جواب دینے پر مجبور ہو جائے۔”
مورے کی پٹھانی خون سے لبریز آنکھوں اور غصے بھرے لہجے نے لمحوں میں مونا کی ماں کو چپ کروا دیا۔ وہ جانتی تھی کہ مورے جھگڑالو مزاج کی عورت نہیں، مگر جب وہ بولتی ہے، تو پھر سامنا کرنے والا چپ ہو جاتا ہے۔
یہ ساری گفتگو ایک معصوم ہستی پر شدت سے اثر انداز ہو رہی تھی۔ دانیہ کا دوائی لینے کا وقت ہو چکا تھا، مگر کمرے میں پانی نہ ہونے کے باعث وہ کچن کی طرف جا رہی تھی۔ ہال سے گزرتے ہوئے اس کے کانوں میں یہ تلخ الفاظ پڑے، جو سیدھا اس کے دل پر لگے۔ وہ وہیں رک گئی، ساری بات سنی، اور پھر چپ چاپ اپنے کمرے کی طرف پلٹ گئی۔ آنکھوں میں آنسو تھے، قدموں میں بے چینی تھی۔ یہ الفاظ اس کے دل کو چھیدنے کی حد تک تکلیف دے گئے۔ دل کے زخم ہرے کر گئے تھے۔
°°°°°°°°°
مائد خان دورانی تیزی سے روم میں داخل ہوا، جیسے اندر کسی طوفان کا گزر ہوا ہو۔ گلے میں لپٹا سٹالر بے دھیانی میں اتار کر بیڈ پر اچھال دیا اور دونوں ہاتھ کمر پر باندھ کر بےچینی سے کھڑکی کے قریب جا کھڑا ہوا۔ باہر دوپہر کی روشنی اپنے عروج پر تھی۔ سنہری دھوپ کھڑکی کے شیشے سے چھن کر اندر آ رہی تھی، کمرے میں مدھم سی حدت پھیل رہی تھی۔ ہلکی سی ہوا پردوں کو جنبش دے رہی تھی، مگر مائد کی الجھنوں پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ وہ وہاں کھڑا اپنے ہی خیالات کی بھول بھلیوں میں گم تھا۔ وہ ایک وجیہہ پٹھان تھا، جس کے چہرے پر وقت سے پہلے ٹھہراؤ آ چکا تھا۔ گہری آنکھوں میں چھپی بےچینی، ماتھے کی ہلکی سی تیوری اور سخت جبڑے اس کی اندرونی جنگ کے عکاس تھے۔ دل کی بےقراری کو وہ اچھی طرح جانتا تھا، مگر کچھ چیزیں انسان کے اختیار میں نہیں ہوتیں—نہ ان کا مقابلہ کر سکتا ہے اور نہ انہیں چھوڑ سکتا ہے۔ یہی کشمکش سالوں سے اس کے ساتھ تھی۔ اس نے ہمیشہ اپنے دل کو خاموش کرایا تھا، اپنے جذبات کو عقل کی زنجیروں میں قید رکھا تھا۔ مگر آج… آج وہ خود کو سنبھالنے میں ناکام ہو رہا تھا۔ کھڑکی سے باہر نظر ڈالی، تو سورج اپنی آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا، مگر اندر اس کے دل کا موسم ابر آلود تھا۔ ایک گہری سانس لے کر وہ تھوڑا سا پیچھے ہٹا، جیسے خود پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہو مگر بےچینی تھی کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی… شاید آج کچھ بدلنے والا تھا، یا شاید وہ خود بدلنے کے دہانے پر کھڑا تھا۔ بہت مشکل ہوتا ہے خود سے ہی جھوٹ بولنا، اور مائد خان وہ مضبوط شہزادہ تھا جو سالوں سے خود سے جھوٹ بولتا آیا تھا۔ اپنے آپ سے لڑتا، خود کو کسوٹی پر اتارتا، کبھی حالات سے تو کبھی جذبات سے آزمایا تھا۔
کھڑکی کے پار نگاہیں جمائے وہ خاموش کھڑا تھا۔ دوپہر کی دھوپ سنہری روشنی بکھیر رہی تھی، مگر اس کے اندر اندھیرا سا تھا۔ پردے ہلکی ہوا میں مدھم سرسراہٹ پیدا کر رہے تھے، جیسے کوئی بےآواز فریاد۔ اس کی پٹھانی وجاہت میں ایک خاص ٹھہراؤ تھا، مگر دل میں طوفان تھا۔ جبڑے سختی سے بھینچے، مٹھیوں میں بےاختیار تناؤ، اور آنکھوں میں وہ کہانی جو کبھی کسی نے پڑھی نہیں تھی۔ کتنا آسان ہوتا ہے دوسروں کو حقیقت کا آئینہ دکھانا، مگر خود سے جھوٹ بولنا… وہ جانتا تھا کہ یہ سب سے مشکل کام ہے اور وہ یہ مشکل برسوں سے جھیل رہا تھا۔ اپنے اندر کے جذبات کو روند کر، ہر خواہش کو سختی سے دبا کر وہ خود کو ایک اصولی جنگجو ثابت کرتا آیا تھا مگر کیا ہر جنگ کا جیتنا ضروری ہوتا ہے؟ یا کچھ ہاریں ایسی بھی ہوتی ہیں، جو جیت سے زیادہ سکون دے سکتی ہیں؟ شاید آج وہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کھڑا تھا، اپنے ہی خلاف… اپنی ہی جنگ میں۔
کمرے کے دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی، مگر جواب کا انتظار کیے بغیر مونا اپنی مخصوص مسکراہٹ لیے اندر داخل ہو چکی تھی۔ اس نے دروازہ آہستہ سے بند کیا، جیسے یہاں آنا اس کا حق ہو۔ مائد خان، جو خاموشی کی چادر اوڑھے اپنی ہی سوچوں میں گم تھا، ناگواری سے پلٹا۔ اس کی گہری بھوری آنکھوں میں ایک پل کے لیے ناپسندیدگی ابھری، مگر اس نے چہرے پر ٹھہراؤ برقرار رکھا۔ اس کے گھنے سیاہ بال بے حد سلیقے سے سیٹ تھے، جبکہ چہرے پر ہلکی ہلکی سی داڑھی اس کی پرکشش مردانہ وجاہت کو مزید نمایاں کر رہی تھی۔ وہ خاموشی سے سیدھا کھڑا ہوا، ہاتھ کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا کر جیسے خود کو ضبط میں رکھ رہا ہو۔ اس کے لیے بیڈروم مکمل پرائیویسی کی جگہ تھی، جہاں کسی کا یوں بے تکلفی سے آ جانا اسے سخت ناپسند تھا۔ مونا نے شرارتی انداز میں اس کی طرف دیکھا، مگر مائد خان کی آنکھوں میں وہی بے تاثر سختی قائم رہی، جیسے یہ سب اسے گوارا نہ ہو۔
“اب روم کے اندر تو کوئی نہیں، یہاں تو تم میری طرف ہنس کر دیکھ سکتے ہو۔ مانا کہ وہاں تمہیں شرم آ رہی تھی، مگر یہاں تو ہم اکیلے ہیں۔ اب بھی وہی روکھا سوکھا سا چہرہ لیے کھڑے ہو؟”
مونا شوخی سے بولی، اس کے لبوں پر شرارت بھری مسکراہٹ تھی۔ وہ نرمی سے قدم بڑھاتے ہوئے مائد خان دورانی کی توجہ حاصل کرنا چاہتی تھی۔اس کے کافی قریب آ کھڑی ہوئی تھی۔ مائد خان نے لمحہ بھر کے لیے نظریں اٹھا کر اس کی جانب دیکھا تھا مگر اس کی گہری بھوری آنکھوں میں کوئی تاثر نہیں تھا۔ اس کے چہرے پر وہی سنجیدگی قائم رہی، جیسے کسی نے اس کی سوچوں کی دنیا میں مداخلت کر دی ہو۔ اس کے لمبے قد، گھنے سیاہ بالوں، اور ہلکی سی داڑھی نے اس کی شخصیت میں چار چاند لگا رکھے تھے۔
“میرے سر میں درد ہے۔”
مائد نے دو ٹوک جواب دیا، جیسے مزید کوئی بات کرنے کا موڈ نہ ہو۔ اس کا لہجہ خشک تھا، جس میں کوئی نرمی نہیں تھی۔ وہ نظریں چرا کر ایک بار پھر کھڑکی کی طرف متوجہ ہو گیا، جہاں سے ہلکی ہلکی دھوپ اندر آ رہی تھی، مگر مونا کے چہرے پر اس بے رخی کا گہرا اثر ہوا تھا۔
“سر میں درد ہے یا مجھ میں انٹرسٹ نہیں ہے، “مائد؟”
مونا کی آواز میں ہلکی سی تلخی در آئی، آنکھوں میں شکوہ تھا۔ وہ اپنے بازو سینے پر باندھتے ہوئے کھڑی ہوگئی، جیسے خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہو۔
“یہ تمہاری ہمیشہ سے عادت رہی ہے، مجھے اگنور کرنا۔ اب بس کرو!”
وہ ایک لمحے کو رکی، جیسے امید کر رہی ہو کہ مائد کوئی ردعمل دے گا، مگر وہ بدستور کھڑکی کی طرف دیکھتا رہا۔ اس کی گھنی بھنویں سکڑیں، مگر چہرے پر کوئی واضح تاثر نہیں آیا۔
مونا نے گہری سانس لی، جیسے خود کو سمجھانے کی کوشش کی ہو، پھر دھیرے سے بولی:
“ہماری شادی ہونے والی ہے، جانتے ہو؟”
“اماں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ عید کے بعد ہماری شادی ہوگی۔ وہ اسی سلسلے میں تمہاری مورے سے بات کرنے آئی ہیں۔”
مائد خان نے پلکیں جھپکائیں، مگر اس کی آنکھوں میں وہی روایتی خاموشی اور لاتعلقی تھی، جیسے یہ خبر اس کے لیے کوئی خاص معنی نہ رکھتی ہو۔ اس کے چہرے کی سختی پہلے جیسی برقرار تھی، مضبوط پیشانی پر ہلکی سی تیوری ابھری، مگر وہ اب بھی خاموش تھا۔
مونا نے بے چینی سے قدم آگے بڑھایا، آنکھوں میں التجا تھی۔
“مائد! کچھ تو کہو! کیا تمہیں کوئی اعتراض ہے؟”
مگر مائد کی خاموشی میں ایک عجیب سا جمود تھا، جیسے وہ اپنے اندر کسی ان کہی جنگ سے گزر رہا ہو۔ اس کی آنکھیں اب بھی کھڑکی کے پار کہیں دور دیکھ رہی تھیں، اور کمرے کی فضا مزید بوجھل ہوگئی تھی۔
“میں ابھی شادی کے لیے تیار نہیں ہوں۔”
مائد نے دوٹوک لہجے میں کہا۔
مونا نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔
“تیار نہیں ہو؟ مطلب کب کرنی ہے شادی؟ یا پھر کرنی ہی نہیں ہے؟”
اس کی آواز میں تلخی در آئی تھی۔
“پلیز، فضول میں مجھ سے الجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا۔”
مائد کی آواز میں واضح بے زاری تھی۔ وہ کھڑکی سے نظریں ہٹا کر سیدھا مونا کی جانب دیکھ رہا تھا، اس کی آنکھوں میں وہی روایتی سرد مہری تھی جو مونا کو کبھی اچھی نہیں لگتی تھی مگر ہمیشہ سے وہ مائد کے مزاج کو سمجھتی تھی اسی لیے برداشت بھی کرتی آئی تھی مگر آج تو مونا کا صبر جیسے جواب دینے لگا تھا۔
وہ ایک قدم آگے بڑھی اس کے قریب ہوتے ہوئے نظروں میں نظریں گاڑے تلخی سے بولی:
“کیسے بات ختم کر رہے ہو، “مائد خان دورانی؟”
“اتنے سالوں سے تمہارے نام پر منسوب ہوں، اور تم ہو کہ بات کو ٹال رہے ہو؟ میری سب دوستوں کی شادیاں ہو چکی ہیں، اور تم بھی کوئی دودھ پیتے بچے نہیں ہو جو تیار نہیں ہو۔ اکتیس سال کے ہو چکے ہو! کیا ساٹھ سال کا بڈھا بن کر شادی کرنی ہے؟”
مائد کی بھنویں ہلکی سی سکڑیں، چہرے پر بیزاری کا سایہ گہرا ہوا۔
“جب دل چاہے گا تب کروں گا۔ مائد خان دورانی کسی کی سوچ کا پابند یا غلام نہیں ہے، سمجھی؟”
اس کا انداز سخت تھا، اور مونا کو یہ بے رخی بری طرح چبھی۔
“میں ساٹھ سال تک تمہارا انتظار نہیں کر سکتی!”
مونا نے غصے سے کہا، مگر مائد کے چہرے پر کوئی تاثر نہ آیا۔
“تو پھر جا کر اپنے گھر والوں کو بتاؤ، وہ تمہارے لیے کوئی فیصلہ کر لیں۔”
اس نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
مونا چند لمحے حیرت سے اسے دیکھتی رہی، پھر بے یقینی سے بولی:
“اس بات کا کیا مطلب ہے، مائد؟”
“مجھے نہیں معلوم اس کا کیا مطلب ہے۔”
مائد نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا، جیسے بحث میں الجھنے کا کوئی ارادہ نہ ہو۔
مونا کا صبر جیسے جواب دے گیا تھا، وہ تیزی سے اس کے سامنے آئی اور تیز لہجے میں بولی:
“مائد! تمہارے دل میں جو ہے وہ زبان پر لاؤ۔ مجھے اس طرح ریجیکٹ کرنے کی جرات بھی مت کرنا! میں کوئی بھیک مانگنے والی نہیں ہوں جو تم مجھے یوں خاموش کروا دو گے۔ کیا چل رہا ہے تمہارے دماغ میں؟ کیوں تم مجھ سے دور بھاگتے ہو؟”
“تو کیا کروں؟ ہر وقت تمہارے گھر آ کر بیٹھا رہوں؟”
مائد نے ایک لمبی سانس لی، ماتھے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سختی سے بولا۔
“بات کو مت گھماؤ، “مائد!”
“جب بھی فون کرتی ہوں، دو باتوں کے بعد تمہارے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہوتا! تم ہمیشہ بزی ہوتے ہو! ایسا بھی کیا کام ہے کہ تمہارے پاس مجھ سے بات کرنے کا وقت نہیں؟”
مونا کی آواز بلند ہو چکی تھی، مگر مائد کی سنجیدگی برقرار تھی۔
“تم یہاں جھگڑا کرنے آئی ہو؟”
اس نے جھنجھلا کر کہا۔
مونا طنزیہ ہنسی۔
“نہیں، میں تو تم سے بات کرنے آئی تھی، کچھ دیر تمہارے ساتھ بیٹھنے آئی تھی، مگر تم! نہ کبھی بدلے تھے، نہ بدل سکتے ہو! میں پاگل ہوں جو یہاں آئی! اب تم بات میرے گھر والوں سے ہی کرنا، اور میں بھی دیکھتی ہوں کہ تم شادی سے کیسے بھاگتے ہو!”
مونا کے لبوں پر ایک تلخ مسکراہٹ تھی۔
“مت بھولو، مائد! میرے چھ بھائی ہیں، اور اگر تم نے انکار کی جرأت بھی کی تو تمہارا سینہ گولیوں سے چھلنی کر دیں گے!”
مونا کی دھمکی کو سن کر مائد خان کی آنکھوں میں ڈر نہیں تھا وہ بے حد پُرسکون انداز میں مسکرایا۔
“یہ دھمکی کسی اور کو جا کر دینا، مونا۔ مائد خان دورانی تمہارے بھائیوں سے ڈرتا نہیں، سمجھی؟”
“تم اپنے بھائیوں سے جا کر کہو، زبردستی مجھے شادی کے لیے راضی کر کے دکھا دیں تو مان جاؤں گا!”
“اور فی الحال، تم تشریف لے جا سکتی ہو، میں آرام کرنا چاہتا ہوں، میرے سر میں شدید درد ہے۔”
“ٹھیک ہے، مائد! پھر دیکھتے ہیں، زبردستی کیا ہوتی ہے اور اسے کیسے منوایا جاتا ہے!”
وہ تیزی سے روم کا دروازہ زور سے بند کرتے ہوئے جا چکی تھی، جبکہ مائد خان کمر پر ہاتھ باندھے گہری سوچ میں مبتلا تھا۔
°°°°°°°°°°
اگلا ایپیسوڈ ملاحظہ کیجیے