Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:15

رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر 15
°°°°°°°°°°°
“چلیں اماں، اُٹھیں، چلتے ہیں، ویسے بھی روزہ ہے تو میرے بھی سر میں درد ہو رہا ہے۔”
مونا نے آہستہ سے کہا۔ مونا خوشی خوشی مائد کے روم میں گئی تھی مگر اس کے روم سے باہر نکلنے پر۔ اس کے چہرے کے خراب تاثرات واضح کر کے بتا رہے تھے کہ اندر کا ماحول ٹھیک نہیں تھا۔ مورے اور مونا کی اماں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

“کیا ہوا؟ مائد نے کچھ کہا؟”
مورے نے بےچینی سے پوچھا۔

“نہیں، کچھ نہیں… بس، مجھے گھر جانا ہے!”
مونا نے مختصر جواب دیا۔

“میرا تو نہیں خیال کہ اب بھی پوچھنے کی گنجائش ہے کہ مائد نے کچھ کہا ہے یا نہیں۔”
مونا کی مورے نے بات کو بڑھانے کے لیے اچھالنے کی کوشش کی۔

“خدا کا واسطہ ہے، چپ کر جائیں! مجھے پوچھنے تو دیں کہ کیا ہوا ہے۔ اگر مائد نے کچھ کہا ہے تو میں اسے ضرور ڈانٹوں گی۔”
مورے نے نرمی سے مگر سنجیدگی سے کہا۔ مونا کا پھولا ہوا چہرہ دیکھ کر مورے سچ میں پریشان ہو گئی تھی۔

“نہیں، ڈانٹنے کے بجائے آپ نے جو گھر میں لاوارثوں کے ڈیرے لگا رکھے ہیں، اس میں کمی کریں۔ اس لڑکی کو گھر سے چلتا کریں۔ میرا تجربہ کہتا ہے کہ اس کا یہاں رہنا ٹھیک نہیں۔”
مونا کی ماں نے تلخی سے کہا، انداز ایسا تھا جیسے اس کی تجربہ کار آنکھوں نے آتے ہی نجانے ایسا کیا دیکھ لیا تھا دانیا کے اندر جو فوراً سے تنقید کا نشانہ اس معصوم ہستی کو بنا لیا تھا، جس میں اتنی ہمت ہی نہیں تھی کہ وہ کسی کو نقصان پہنچا پاتی مگر یہ دنیا داری کا دستور ہے ہمیشہ لوگ معصوم لوگوں کو ہی ٹارگٹ کرتے ہیں۔ حالانکہ دانیا نے تو مونا کی ماں اور مونا سے اتنی عزت سے بات کی تھی، اور کچھ ایسا کہا بھی نہیں تھا جس پر انگلی اٹھائی جاتی، مگر مونا کی ماں کو تو عادت تھی رائی کا پہاڑ بنانے کی۔ اور دو منٹ پہلے جو مورے نے تھوڑا سا غصہ اس پر نکالا تھا اس کا بدلہ لینے کا یہ اس کے پاس اچھا وقت تھا تو وہ کیسے چھوڑ سکتی تھی۔ اس لیے فوراً سے پہلے تنقید کا نشانہ دانیہ کو بنایا گیا مگر ان کے اس جملے نے مونا کے کان کھڑے کر دیے۔ اب تک تو اس نے اس پہلو پر دھیان ہی نہیں دیا تھا، کیونکہ مائد ہمیشہ سے ہی اسی اکڑی ہوئی طبیعت کا تھا اور اسی انداز میں بات کرتا تھا۔ ہاں، آج معاملات کچھ زیادہ الجھ گئے تھے شادی کی بات پر، مگر اب جب اس کی ماں نے جلتی پر تیل ڈالا تھا تو مونا چونک گئی۔

“جی میں تو یہ پوچھنا ہی بھول گئی کہ وہ لڑکی کون ہے اور یہاں کیوں رہ رہی ہے؟”
مونا نے چونک کر سوال کیا۔

“بیٹا، وہ مہمان ہے، بس کچھ دن کے لیے اس گھر میں رکی ہوئی ہے، پھر چلی جائے گی۔ اس کا مائد کی کسی بات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ تو اتنی معصوم بچی ہے کہ اپنے کمرے سے نکلتی تک نہیں۔ اسے بیچ میں لانے کی کوئی ضرورت نہیں۔”
مورے نے نرمی سے سمجھایا۔

“تم بس یہ بتاؤ کہ مائد نے کیا کہا ہے؟”
وہ تحمل سے بولی، مگر اس کے لہجے میں بےچینی واضح تھی۔

“جی، انہوں نے کہا ہے کہ وہ ابھی تک شادی کے لیے تیار نہیں ہیں۔”
مونا نے پھولے ہوئے چہرے سے آہستہ سے جواب دیا مگر لہجے میں بدتمیزی بالکل نہیں تھی۔

“ماشاءاللہ! سن لیا آپ نے؟”
“آپ کے صاحبزادے ابھی تک تیار نہیں ہیں! تیس سال کے ہو گئے ہیں، ابھی شادی نہیں کرنی تو کب کرنی ہے؟”
“کتنے سالوں سے لٹکایا جا رہا ہے، لٹکایا جا رہا ہے! مزید ہم برداشت نہیں کر سکتے!”
مونا کی ماں نے غصے سے کہا اور فوراً بندوق کا رخ مائد کی مورے کی طرف کر دیا۔

“اب اپنے لاڈلے بیٹے کو سمجھائیں اور بتائیں کہ شادی کا صحیح وقت ہو چکا ہے!”
ان کے لہجے میں صاف ناراضگی تھی۔

“اس کے کہنے سے کیا ہوتا ہے، میں اسے سمجھا لوں گی۔”
مائد کی مورے نے نرم لہجے میں کہا۔
“اس نے ویسے ہی مذاق میں کہہ دیا ہوگا، آپ بات کو دل پر نہ لیں۔”

پھر مونا کی طرف دیکھ کر شفقت سے بولیں:
“بیٹا، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارا بیٹا بہت سمجھدار ہے، وہ ہماری بات کو سمجھے گا۔”

“جی، مجھے آپ پر پورا یقین ہے۔”
مونا نے آہستہ سے کہا، مگر اس کے لہجے میں اب بھی ہلکی سی بے چینی تھی۔

“اللہ کرے میری بیٹی کا یقین کامیاب رہے۔ ہمیں اب اجازت دیں، ہم چلتے ہیں اور اپنے بیٹے سے بات کر لیجیے، ہمیں شادی کی تاریخ دیں۔ ہم عید کے بعد اپنی بیٹی کا فرض ادا کرنا چاہتے ہیں۔”
مونا کی ماں اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے بولی۔

“جی جی، انشاءاللہ، میں بہت جلد آپ کو کوئی اچھی خبر پہنچاؤں گی۔ آپ رکیں نا، شام کو افطاری کرکے جائیے گا۔”
مورے نے نرمی سے کہا۔

“نہیں، نہیں، ہمیں اجازت دیں۔ افطاری ہم اپنے گھر جا کر کریں گے۔ بس آپ کی مہربانی ہے کہ اب اپنے بیٹے کو کہیں کہ ہمیں مزید انتظار نہ کروائے۔”
مونا کی ماں روٹھے انداز میں بولی، سلام کیا اور رسمی انداز میں ملتے ہوئے باہر نکل گئیں۔

مورے نے آگے بڑھ کر مونا کو گلے لگایا اور اس کے سر پر پیار دیتے ہوئے کہا:
“بیٹا، انشاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ مائد تمہارا ہے اور تمہارا ہی رہے گا۔ میں اسے سمجھا دوں گی!”
“اور تم اپنی ماں کو بھی سمجھانا۔ ہر چیز جذبات میں بہہ کر ٹھیک نہیں ہوتی۔”

“جی، میں سمجھاؤں گی۔ آپ بھی مائد کو سمجھائیے گا، اتنا روٹھا انداز اچھا نہیں لگتا۔ وہ اتنا روڈ ہو کر مجھ سے بات کر رہا تھا کہ مجھے بھی غصہ آگیا۔ کچھ غلط باتیں میرے من سے بھی نکل گئی، جس پر میں شرمندہ ہوں۔ میں اس سے سوری بھی کر لوں گی، بس آپ میری طرف سے بھی اسے سمجھائیے گا کہ وہ کوئی بات دل میں نہ رکھے۔ میں جذباتی ہو کر بول گئی تھی۔”
مونا نے آہستہ سے شرمندہ لہجے میں کہا۔ اسے اپنی غلطی کا احساس تھا کہ مائد خان دورانی سے جس انداز سے وہ بات کر کے آئی ہے اس کی وجہ سے اس کا غصہ مزید بھڑک گیا ہے جو کہ ایک خطرے کی علامت تھا۔

“کوئی بات نہیں، میں سمجھا لوں گی اور بہت جلد تمہیں رخصت کر کے دلہن بنا کر اپنے گھر لے آؤں گی۔”
مورے نے محبت سے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور دروازے تک چھوڑنے گئی۔ دونوں ماں بیٹی گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہو چکی تھیں، جبکہ مورے پریشان چہرے کے ساتھ اندر واپس لوٹ آئی تھی۔
°°°°°°°°°°°°
ہسپتال کی چھت پر شام کی ہلکی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ نیچے وارڈز میں مصروفیت اپنے عروج پر تھی، مگر یہاں اوپر فیصل اور زرام آخری دنوں کی یادیں سمیٹے کھڑے تھے۔ کچھ فاصلے پر دوسرے انٹرنز بھی آپس میں ہنسی مذاق کر رہے تھے، مگر ان دونوں کی گفتگو الگ ہی دنیا میں تھی۔ دونوں نے ایک ساتھ میڈیکل کی پڑھائی مکمل کر لی تھی یہ ان کی ٹریننگ کی آخری دن چل رہے تھے۔ اسی لیے ذرام اس پورے ہفتے اپنے گاؤں نہیں گیا تھا۔

“مجھے ملیحہ مل گئی ہے…”
زرام نے اچانک دھماکہ کیا۔

“قسم سے یار، سچ بتا!”
فیصل نے حیرت سے اسے دیکھا۔

“سچ یار، تمہاری قسم! وہ میرے ہی گاؤں میں رہتی ہے!”

“واقعی؟”

“ہاں، اس دن جب تم نے فون کر کے بتایا تھا کہ ملیحہ نے فاریہ کو ایڈریس دینے سے منع کر دیا ہے۔ میں پریشان تھا اور اچانک وہ مجھ سے وہیں ٹکرا گئی جہاں سے ہمارے گاؤں کی حدود شروع ہوتی ہیں۔ مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ ملیحہ ہے، مگر جیسے ہی اس نے تڑتڑ بولنا شروع کیا، پورا یقین ہو گیا کہ وہی تیکھی مرچ ہے!”
زرام کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

فیصل نے شرارتی نظروں سے اسے دیکھا۔
“اچھا! اسی لیے دوبارہ مجھے فون کر کے نہیں کہا کہ ایڈریس چاہیے؟ وہی تم جو ہر دوسرے دن کہتے تھے، ‘مجھے نہیں پتہ کیسے، مگر ایڈریس چاہیے،تو مطلب چاہیے!”
وہ نقل اتارتے ہوئے بولا۔

“ہاں، نہیں کہا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے میری دعائیں سن لیں! اور بغیر تمہارا احسان لیے ہی، وہ مجھے مل گئی۔”
زرام ہنسا۔

“استغفراللہ! کتنے بڑے احسان فروش ہو تم!”
فیصل نے ڈرامائی انداز میں سر جھٹکا۔
“میں نے تمہارے لیے تمہاری اس تیکھی مرچی—”

“شٹ اپ! تمیز سے نام لو، زرام لغاری کی ہونے والی بیوی ہے وہ!”
زرام فوراً بولا۔

“اوہ سوری!”
فیصل نے ہاتھ جوڑ کر معصومیت سے کہا۔
“میری ہونے والی بھابھی جی سے میں نے اتنی باتیں سنی ہیں! میری تو عزت کی دھجیاں اڑا دی تھیں انہوں نے، صرف تمہاری وجہ سے! تمہارا ڈرائیور، بے شرم، پتہ نہیں کیا کیا نہیں بولا، اور آج تم نے کتنی آسانی سے کہہ دیا کہ تم میرا احسان نہیں لینا چاہتے؟”
“واہ بھئی، واہ! ابھی تو شادی نہیں ہوئی، شادی ہو گئی، پھر تو تم نے ہمیں مکمل بھلا دینا ہے!”
فیصل نے افسوس سے سر ہلایا۔

“تم بھولنے والی چیز ہو جو میں تمہیں بھول جاؤں گا؟”
زرام نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
“اور ویسے بھی تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ اب سے میں ٹریننگ کے بعد گاؤں میں اپنے ہسپتال میں ہی رہوں گا۔”

“مطلب کہ تم میرے ساتھ یہاں جاب نہیں کرو گے؟”
زرام کی بات سن کر فیصل بے چین سا ہو کر بولا۔

“نہیں، کیونکہ زیغم بھائی کا حکم ہے۔”
زرام نے سنجیدگی سے کہا۔
“انہوں نے کہہ دیا ہے کہ جب پڑھائی کی ہے تو اپنے گاؤں میں رہو، وہاں بہترین ڈاکٹرز کی سہولت میسر ہونی چاہیے۔ انہوں نے گاؤں میں ہسپتال کا کام بھی شروع کروا دیا ہے۔ بلڈنگ پہلے سے ہی موجود تھی، مگر وہاں اچھے ڈاکٹرز نہ ہونے کی وجہ سے وہ بیکار پڑی تھی۔ زیغم بھائی نے اسی کو فلحال سیٹ کروا کر. تایا ابا کے نام سے ہاسپٹل کا افتتاع کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ کام تیزی سے شروع ہو چکا ہے!”

“یار، میں خوش ہوں کہ تم اپنے گاؤں جا رہے ہو۔”
فیصل نے گہری سانس لی اور زرام کی طرف دیکھا۔

“میں اس بات پر بھی خوش ہوں کہ تمہیں تمہاری محبت مل رہی ہے، تمہیں مبارک ہو۔”
زرام مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا، مگر فیصل کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی۔

“میں اس بات پر بھی خوش ہوں کہ جس تایا ابا کو تم بہت پیار کرتے تھے، جن کا ہمیشہ تمہاری باتوں میں ذکر ہوتا تھا، ان کے نام سے ہسپتال بن رہا ہے۔”
فیصل نے ایک لمحے کو رُک کر زرام کے تاثرات دیکھے، جو کچھ کہنے والا تھا، مگر خاموش رہا۔

“میں اس بات پر بھی خوش ہوں کہ تمہارا زیغم بھائی واپس آ گیا، جس کو تم بہت چاہتے تھے۔”
فیصل نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی، مگر آواز میں چھپا درد واضح تھا۔

“مگر اس سب کے باوجود بھی میں خوش نہیں ہوں۔ جانتے ہو کیوں؟”
زرام نے ابرو چڑھاتے ہوئے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

“کیونکہ یار، تُو مجھے چھوڑ کر جا رہا ہے!”
فیصل نے نم آنکھوں کے ساتھ مسکراتے ہوئے کہا، مگر زرام اس کے اندر کے خالص جذبات کو محسوس کر چکا تھا۔ زرام نے کھینچتے ہوئے فیصل کو اپنے ساتھ لگا لیا تھا۔

“کیا ہو گیا ہے یار؟ زندہ ہوں، مرنے نہیں والا جو تم اتنے افسردہ ہو رہے ہو!”
زرام نے اسے جھنجھوڑتے ہوئے کہا، جبکہ فیصل نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی۔

“اور ہم کون سی لڑکیاں ہیں جو اپنے گھروں تک محدود ہو جائیں گے؟ جب چاہیں گے، ایک دوسرے سے ملیں گے!”
زرام کے لہجے میں وہی پرانا بے فکری کا انداز تھا، جو فیصل کو ہمیشہ سکون دیتا تھا۔

“اور تمہاری اطلاع کے لیے ایک اور عرض ہے کہ ہمارے ہسپتال کو ڈاکٹرز کی ضرورت ہے، تو اس لیے تمہیں بھی وہیں سیٹل کروانے کا پورا ارادہ رکھتا ہوں۔”
زرام نے شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔
فیصل نے حیرانی سے اسے دیکھا، جیسے بات پوری طرح سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔

“اور تمہارا جواب ہاں میں ہونا چاہیے، نہ سننا نہیں چاہتا!”
زرام نے آنکھیں گھماتے ہوئے دو ٹوک لہجے میں کہا، جبکہ فیصل اب اس کی بات پر بے اختیار ہنستا چلا گیا۔

فیصل نے زرام کو گھورتے ہوئے کہا:
“حکم دے رہے ہو، بتا رہے ہو، یا پوچھ رہے ہو؟”

زرام نے بے نیازی سے کندھے اچکائے۔
“حکم دے رہا ہوں کہ تمہیں وہیں سیٹل ہونا ہے! نکالو کوئی بہانہ، ہمارے گاؤں میں بچوں کے ڈاکٹر کی بہت ضرورت ہے۔”

فیصل نے گہری سانس لی اور مسکرا کر کہا:
“تو مطلب میرے پاس کوئی چوائس نہیں ہے؟”

زرام نے ہنستے ہوئے اس کے کندھے پر دھپ ماری۔
“بالکل بھی نہیں!”

“سوچ لو، میری ہونے والی بھابھی نے ابھی تمہاری زندگی میں پوری طرح انٹری بھی نہیں ماری، اور تم پہلے سے اس کی سوتن لے کر جا رہے ہو۔ بعد میں بھابھی کیا حشر کرنے والی ہے، مجھے تو ابھی سے پس منظر میں وہ نظر آ رہی ہیں۔ بہت کڑوی ہے بھابھی کی زبان، توپ کا گولا پہلے چھوڑے گی اور بات بعد میں کرے گی۔”
فیصل ہنستے ہوئے جس طرح ایکٹنگ کر کے بتا رہا تھا، بے اختیار زرام کے لبوں سے قہقہہ چھوٹ گیا تھا کیونکہ اس کی تیکھی مرچی سچ میں ایسی تھی، بولتی پہلے تھی، سوچتی بعد میں، نڈر، بے خوف۔ زارام کے لبوں پر ملیحہ کا نام سنتے ہی مسکراہٹ پھیل گئی، جبکہ اس وقت وہ اپنی زندگی سے بے حد ڈسٹرب تھا مگر ملیحہ کی محبت اور فیصل کی دوستی نے اس کی زندگی میں خوشیوں کے رنگ بھرے ہوئے تھے۔

اچھے دوست اللہ تعالیٰ کی بہترین نعمت ہوتے ہیں۔ وہ سایہ دار درخت کی مانند ہوتے ہیں، جو دھوپ میں سایہ دیتے ہیں اور طوفان میں چھت بن جاتے ہیں۔ دوست وہ نہیں ہوتے جو صرف اچھے اسٹیٹس لگا دیں یا خوبصورت پوسٹیں شیئر کر دیں، بلکہ دوست وہ ہوتا ہے جو دل کی آواز کو بنا کہے سن لے، جو لفظوں کے محتاج نہ ہوں بلکہ خاموشیوں کو بھی سمجھ سکیں۔
دوست وہ نہیں ہوتا جو صرف خوشیوں میں شریک ہو، بلکہ وہ ہوتا ہے جو اندھیروں میں روشنی بن کر ساتھ کھڑا ہو، جو راستہ بھٹکنے پر ہاتھ تھام لے اور مشکلوں میں ڈھال بن جائے۔
اصل دوست وہ ہوتا ہے جو فاصلے، وقت اور مصروفیات کی پرواہ کیے بغیر جب بھی پکارا جائے، بغیر کسی شکوے کے بس یہی کہے:
“میں ہوں تمہارے ساتھ، ہر وقت، ہر لمحہ، ہمیشہ!”
دوستی وہ رشتہ ہے جہاں نہ خون کی ضرورت ہوتی ہے، نہ نام کی، بلکہ صرف خلوص کافی ہوتا ہے۔ جو تمہاری ہنسی میں خوشی، تمہارے آنسوؤں میں درد اور تمہاری خاموشی میں کہانی ڈھونڈ لے، وہی سچا دوست ہوتا ہے۔
°°°°°°°°°
کانفرنس روم کی لمبی شیشے کی دیواروں سے روشنی اندر آ رہی تھی۔ ایک بڑا اوول ٹیبل، جس کے گرد نامور وکلاء اور قانونی ماہرین بیٹھے تھے۔ ہر کوئی سنجیدہ اور متوجہ تھا، مگر سب کی نظریں جس شخصیت پر جمی تھیں، وہ زیغم تھا۔

زیغم، جو امریکہ سے تعلیم یافتہ تھا، اور جس کا تجربہ اس کی عمر سے کہیں زیادہ گہرا تھا۔ وہ پچھلے چھ سات سال میں ایک بھی کیس نہیں ہارا تھا، اور یہی بات اسے سب سے الگ مقام دیتی تھی۔ گندمی رنگت، پرکشش شخصیت، ہلکی ہلکی داڑھی، اور نیوی بلیو تھری پیس سوٹ کے اندر لائٹ کلر کی شرٹ میں ملبوس زیغم کی شخصیت کمرے میں ایک الگ دبدبہ رکھتی تھی۔ اس کی گہری نیلی آنکھوں میں اعتماد کی چمک تھی، اور اس کی ہر بات وزن رکھتی تھی۔

“اگر ہم اس کیس کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں شواہد کی ترتیب پر کام کرنا ہوگا۔ کسی بھی کمزوری کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔”
زیغم نے ٹھہرے ہوئے، مگر مضبوط لہجے میں کہا۔
تمام وکلاء اس کی بات سے متفق نظر آئے، کچھ نے نوٹس لیے، اور کچھ نے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ اپنی بات جاری ہی رکھ رہا تھا کہ اچانک ٹیبل پر رکھا اس کا فون بج اٹھا۔ سب کی نظریں لمحے بھر کو اس کی طرف اٹھیں، مگر زیغم نے ذرا بھی جھجک محسوس کیے بغیر فون اٹھایا۔ اسکرین پر بیٹی کا نام چمک رہا تھا۔

“بابا… میں اداس ہو گئی ہوں، آپ مجھے ملنے کب آئیں گے؟”
چھوٹی سی معصوم آواز نے زیغم کے چہرے پر نرمی بکھیر دی۔

“میرا بچہ، بابا اس وقت ضروری میٹنگ میں ہیں، جیسے ہی فارغ ہوں گا، فوراً تمہارے پاس آؤں گا۔ بس تھوڑا سا انتظار کر لو، ہاں؟”
زیغم نے محبت بھرے انداز میں کہا۔

“ٹھیک ہے بابا، جلدی آئیے گا، میں ویٹ کروں گی!”

“ہاں، میرابچہ، بابا جلدی آئے گا۔””
فون بند ہوتے ہی زیغم نے گہری سانس لی۔ اس کی آنکھوں میں ایک پل کے لیے نرم سی چمک ابھری تھی۔ میٹنگ روم میں بیٹھے تمام افراد کے لبوں پر بے ساختہ ایک مسکراہٹ پھیل گئی۔ کسی نے کوئی تبصرہ نہیں کیا، مگر زیغم کی شخصیت کا ایک نیا رنگ سب نے دیکھ لیا تھا۔وہ ایک بہت اچھا وکیل ہی نہیں اس کے انداز سے پتہ چل رہا تھا کہ وہ باپ بھی بہت اچھا ہے۔ زیغم نے دوبارہ پیشہ ورانہ انداز اپنایا اور گفتگو کو وہیں سے جوڑ دیا، جہاں سے رکی تھی۔ میٹنگ دوبارہ سنجیدہ انداز میں جاری ہو گئی، مگر اس لمحے نے سب کے دل میں ایک خاص جگہ بنا لی تھی۔ میٹنگ ختم ہوتے ہی زیغم تیزی سے لفٹ کی طرف بڑھا۔ اس کا انداز ہمیشہ کی طرح پُر اعتماد تھا۔ لفٹ کے دروازے کھلے تو وہ لمبے قدموں سے باہر نکلا اور سیدھا اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔ جیسے ہی گاڑی میں بیٹھا، فون کی سکرین روشن ہوئی— ارمیزہ کا نام جگمگا رہا تھا۔ زیغم کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے فوراً کال ریسیو کی۔

“بابا!”
دوسری طرف سے ننھی سی خوشی میں ڈوبی آواز آئی۔

“جی میرا بچہ؟”
زیغم نے نرمی سے کہا، ایک ہاتھ سے اسٹیئرنگ پکڑتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کی۔

“آپ آ رہے ہیں نا؟”

زیغم ہلکا سا مسکرایا۔
“ہاں میرا بچہ، بابا راستے میں ہیں۔ تھوڑا سا ویٹ کر لو، پھر ہم بہت ساری باتیں کریں گے، ٹھیک؟”

“ٹھیک بابا! میں اور پھوپھو دروازے پر کھڑے ہو کر انتظار کریں گے!”
ارمیزہ کی آواز میں خوشی چھلک رہی تھی۔
زیغم نے محبت سے مسکرا کر فون بند کیا اور گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔ تین دن بعد وہ اپنی بیٹی اور بہن سے ملنے جا رہا تھا، اور یہ خیال ہی کافی تھا کہ سارا دن کی تھکن لمحوں میں اڑن چھو ہو گئی۔ زیغم اپنی بیٹی اور بہن سے ملنے کے ارادے بنا رہا تھا، مگر آج تقدیر اسے کہیں اور لے جا رہی تھی۔ یہ کیسی جگہ تھی جہاں اس نے محض رب کے ڈر سے ہمدردی کا رشتہ بنایا تھا؟ زیغم نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اس در سے اس کا کوئی ایسا تعلق بھی جُڑ سکتا ہے، جو ہمیشہ کے لیے اس کی زندگی بدل دے گا۔
کہتے ہیں نا، تقدیر اوپر سے جُڑ کر آتی ہے۔ جوڑے پہلے سے لکھے جاتے ہیں، نصیب پہلے سے طے کیے جاتے ہیں۔ بندہ زمین پر اپنے ہمسفر کو ڈھونڈتا ہے، مگر حقیقت میں ہمسفر وہی ہوتا ہے جسے اللہ پہلے سے چُن کر بھیجتا ہے اور جو اللہ ہمارے لیے چُنتا ہے، وہ یقیناً بہترین ہوتا ہے۔ اب زیغم کی قسمت اسے کہاں لے کر جا رہی تھی، یہ تو وہ خود بھی نہیں جانتا تھا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی جو فون کال آئی، اس نے سب کچھ بدل دیا۔ وہ جو اپنی بیٹی اور بہن کے پاس جانے والا تھا، وہی زیغم اب ایک نئی منزل کی طرف نکل پڑا تھا۔ یہ راستہ کتنا صحیح تھا، کتنا غلط؟ اس میں کیا اچھا تھا، کیا برا؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا مگر جو بھی ہوگا، وہ وہی ہوگا جو اس کے نصیب میں لکھا جا چکا ہے، جو تقدیر میں پہلے سے طے تھا۔ کیونکہ انسان کچھ سوچتا ہے، مگر ہوتا ہمیشہ وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے۔
°°°°°°°°°°°°°
حمائل کی ماں نرمی سے سمجھاتے ہوئے اس کے پاس بیٹھی تھی۔

“بیٹا، تم نے زیغم کو خود چھوڑا تھا، اس میں اس کی کوئی غلطی نہیں۔ اس لیے ہم اسے قصوروار نہیں ٹھہرا سکتے۔ اب تم اس طرح رو کر، کھانا پینا چھوڑ کر، افسردہ ہو کر نہ صرف خود کو تکلیف دے رہی ہو بلکہ ہمیں بھی تکلیف پہنچا رہی ہو۔”
حمائل کی ماں اس کے روم میں آئی تھی، کیونکہ پچھلے کچھ دنوں سے حمائل نے ہر چیز پر دھیان دینا چھوڑ دیا تھا۔ نہ وہ ٹھیک سے کھا پی رہی تھی، نہ ہی کسی کام پر دھیان دیتی تھی، اور نہ ہی روم سے باہر نکلتی ۔ وہ بس سارا دن بے سدھ بستر پر پڑی رہتی۔ اس کی ماں اس کے قریب بیٹھ کر نرمی سے اس کے بالوں کو سہلانے لگی، جیسے اسکے ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑنے کی کوشش کر رہی ہو۔ اپنی لاڈلی بیٹی کو اس حال میں دیکھنا اس کے لیے بہت تکلیف دہ تھا۔

“مجھے پتہ ہے ماما کہ غلطی میری ہے… میں نے ہی اسے خود سے دور کیا، مگر ماما، مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو چکا ہے۔ میں کتنی بار فون پر معافی مانگ چکی ہوں، مگر وہ ماننے کو تیار ہی نہیں۔ ماما، مجھے زیم چاہیے… میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی۔”
وہ روتے ہوئے سسک پڑی تھی۔

اس کی ماں نے گہری سانس لی اور نرمی سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھرتے ہوئے اسے پرسکون کرنے کی کوشش کی۔
“حمائل بیٹا، تم اپنی طرف سے کوشش کر کے دیکھ لو، مگر جہاں تک میں اس لڑکے کو جانتی ہوں، وہ اپنی ضد، اپنی باتوں اور اپنے اصولوں کا بہت پکا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ دوبارہ تم سے سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہوگا۔”
حمائل کی سسکیاں مزید تیز ہوگئیں، جبکہ اس کی ماں کے چہرے پر بے بسی کی جھلک تھی… شاید کچھ زخم وقت ہی بھر سکتا ہے۔ اس لیے اس کی ماں خاموش ہو گئی تھی شاید اس کے پاس وہ الفاظ نہیں تھے جن کا سہارا لے کر وہ اپنی بیٹی سے ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑ سکتی مگر ماں باپ اپنے بچوں کو تکلیفیں بھی نہیں دیکھ سکتے اس وقت حمائل کی ماں اپنی بیٹی کو تکلیف میں دیکھ کر پریشان تھیں۔

“Hamail, please my dear… You are hurting me by crying like this. Pray to Allah, my child… He will make everything better. Crying like this is not a solution to anything.”
“حمائل، پلیز بیٹا… اس طرح رو کر تم مجھے تکلیف دے رہی ہو۔ اللہ سے دعا کرو، اللہ سب بہتر کرے گا۔ اس طرح رونا کسی چیز کا حل نہیں ہے۔”
حمائل نے ماں کی بات سنی، مگر دل کی بے قراری کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔

“Mama, I love him so much. I can’t even imagine losing him because of one mistake.”
“ماما، میں اس سے بہت پیار کرتی ہوں۔ اپنی ایک غلطی کی بنا پر اسے کھونے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔”

“بیٹا، تم اسے کھو چکی ہو، سمجھنے کی کوشش کرو۔ پریکٹیکل ہو کر سوچو، جذبات میں بہہ کر تم خود کو بھی تکلیف دے رہی ہو اور مجھے بھی۔ اس طرح سے تمہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا، صرف خود کو اذیت میں مبتلا کر رہی ہو۔”
“جب وہ تمہیں سمجھا رہا تھا، تمہیں یقین دلا رہا تھا تو تمہیں اس وقت اس کی بات ماننی چاہیے تھی اور ویسے بھی، اسلام میں جب چار شادیاں جائز ہیں، تو پھر تمہیں تھوڑی سی لچک لینی چاہیے تھی اور اگر اس نے نکاح کر لیا تھا، شادی کر لی تھی، جب تمہیں پتہ ہے کہ تم اس سے پیار کرتی ہو، اس کے بغیر نہیں رہ سکتی، تو پھر تمہیں اسے اس طرح خود سے دور نہیں کرنا چاہیے تھا، اتنا روڈ بیہیویئر نہیں دکھانا چاہیے تھا۔”
“میں تمہاری ماں ہو کر پھر بھی یہ کہوں گی کہ زیغم کی اس میں غلطی نہیں تھی، وہ تمہیں سمجھا رہا تھا اور تم ہمیشہ سے جانتی تھی کہ وہ جس خاندان سے تعلق رکھتا ہے، وہاں پر تمہیں اس طرح کی چیزیں فیس کرنے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ وہاں کی لائف، وہاں کے قاعدے قانون، وہاں کے رولز یہاں کے ماڈرن دور سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔ وہاں کی عورتوں کو یہ سب کچھ فیس کرنا پڑتا ہے مگر نہیں، تب تم ضدی بن گئی۔ تمہارے بابا نے تمہیں سمجھایا، میں نے سمجھایا، زیغم نے سمجھایا، مگر تم نے اس لڑکے کی انسلٹ کی اور تم اچھی طرح سے جانتی ہو کہ وہ اپنی ایگو پر کوئی چیز برداشت نہیں کرتا۔”
“اور اب اتنا زیادہ وقت گزر چکا ہے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ یہاں ہوتا تو پھر بھی بات کچھ اور تھی، اب تو وہ یہاں سے جا چکا ہے، ہمیشہ کے لیے۔ تو پھر کیسے تم اس کے لیے رو کر، خود کو اذیت دے کر–––؟”

“پلیز ماما، اگر آپ میری حوصلہ افزائی نہیں کر سکتیں تو دل توڑنے والی باتیں بھی مت کریں۔ پلیز میرے روم سے چلی جائیں!”
غصے سے کہتے ہوئے اس نے اپنی ماما کی گود سے سر ہٹا لیا، آنکھوں میں آنسو تھے اور لہجے میں بے بسی جھلک رہی تھی، وہ اپنی ہار ماننے کو تیار ہی نہیں تھی۔

“حمائل، تمہارے اسی جذباتی پن سے مجھے ڈر لگتا ہے۔ تمہاری یہی شدت، ایک دن تمہیں لے ڈوبے گی۔ زندگی کے ہر فیصلے جذبات سے نہیں کیے جاتے۔”
اسکی ماما نے نرمی سے مگر گہری تشویش کے ساتھ کہا، ان کی نظریں بیٹی کے بکھرتے وجود کو تکلیف کے ساتھ دیکھ رہی تھیں، وہ اپنی بیٹی کے نیچر سے اچھی طرح سے واقف تھی۔ حمائل بچپن سے ہی بہت ضدی تھی۔اس کا دل جس چیز کو پسند کر لیتا اس چیز کو وہ کبھی خود سے دور جاتا نہیں دیکھ سکتی تھی مگر یہاں بات کسی قیمتی چیز نہیں تھی جس کو وہ زبردستی اس کی جھولی میں ڈال دیتے۔ بات زیغم سلطان کی تھی جس سے اس کی مرضی کے خلاف کوئی کچھ نہیں کروا سکتا تھا۔اس کی مما ڈر رہی تھی کہ کہیں حمائل کی ضد اسے مزید کسی بڑی تکلیف میں نہ ڈال دے۔

“پلیز ماما، مجھے اس وقت کوئی بات نہیں کرنی!”
وہ تکیے پر سر رکھ کر خود کو چادر میں چھپا چکی تھی، وہ اس وقت جو سننا چاہتی تھی وہ یہ تھا کہ اس کی ماما کہے کہ ہم کسی بھی طرح سے ہم کو تہماری زندگی میں واپس لے آئیں گے مگر بات اس کی سوچ سے ہٹ کر کی گئی تھی تو اس لیے اسے اپنی ماما سے کوئی بات نہیں کرنی تھی وہ ایسی ہی تھی ہمیشہ سے ضدی۔ ماں باپ کے پیار نے اسے کافی بگاڑ رکھا تھا۔ ویسے تو حمائل میں کوئی خرابی نہیں تھی خوبصورت تھی، پڑھی لکھی تھی، اچھی جاب کرتی تھی، سلیقہ مند تھی مگر اس میں یہ ایک برائی ہمیشہ سے موجود تھی۔ اس کی ماما بے بسی سے کچھ دیر اسے دیکھتی رہی۔ ان کے چہرے پر وہ ممتا بھری نرمی تھی جو اپنی اولاد کو درد میں تڑپتا دیکھ کر مزید کچھ کہنے کی ہمت نہیں رکھتی۔ آخرکار، انہوں نے خاموشی سے ایک نظر اسے دیکھا اور سر جھکا کر کمرے سے باہر نکل گئیں۔ چند لمحے تک حمائل آنکھیں بند کیے یونہی لیٹی رہی، مگر دل میں طوفان مچ چکا تھا۔

“اگر نہیں کوئی میرا ساتھ دینا چاہتا تو نہ دے میں اکیلی ہی اپنی محبت کو حاصل کر لوں گی!”
“نہیں بھول سکتی، نہیں بھول سکتی میں زیغم تمہیں!”
“اور تم مجھے بھول جاؤ، یہ بھی میں نہیں ہونے دوں گی۔ پاکستان چلے گئے تو کیا ہوا؟ تم دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جاؤ، میں پھر بھی تم تک پہنچوں گی۔ اپنی غلطی کے بدلے تمہارے پیروں میں جا کر بیٹھ جاؤں گی۔ دیکھتی ہوں کب تک مجھے معاف نہیں کرتے!”
دل میں عہد کرتے ہوئے وہ خود سے ہی سرگوشی کر رہی تھی، اس کی آنکھوں میں آنسو، مگر چہرے پر ایک عجیب سی ضد تھی، جیسے وہ ہر حد پار کرنے کو تیار ہو۔
°°°°°°°°
مدھم روشنی میں ڈوبا ہوا ایک چھوٹا سا بوسیدہ گھر، جس کی دیواروں پر وقت نے اپنے نشان چھوڑ رکھے تھے۔ گھر کے اندر صفائی ستھرائی تو تھی، مگر غربت کی جھلک ہر کونے میں نمایاں تھی۔ ایک پرانی چارپائی پر ایک بوڑھی عورت نیم دراز تھی، اس کی سانسیں بھاری ہو رہی تھیں، چہرے پر نقاہت تھی، مگر آنکھوں میں ممتا کی چمک اب بھی باقی تھی۔ اس کے قریب، ایک کم عمر، معصوم سی لڑکی بیٹھی تھی، جس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔

“اماں… اماں! آپ کو کیا ہو رہا ہے؟”
“اماں، کچھ تو بولیں!”
مانو کی آواز میں خوف اور بے بسی تھی۔ وہ تیزی سے اپنی اماں کے ماتھے سے بہتے پسینے کو پونچھ رہی تھی، مگر اس کے لرزتے ہاتھ ماں کی حالت کو سنبھالنے میں ناکام ہو رہے تھے۔ اس کا دل گھبراہٹ سے دھڑک رہا تھا، جیسے وہ اپنی اماں کی تکلیف کم کرنا چاہتی تھی، مگر بے بس تھی۔ کچھ کر نہیں پا رہی تھی جس سے اس کی اماں کی تکلیف کم ہو جائے۔ لڑکی شکل سے ہی بہت معصوم اور سادہ لگ رہی تھی مگر اس کی سادگی میں جو حسن تھا وہ خدا کی قسم لاجواب تھا۔ دودھ کی طرح شفاف چہرہ، جھیل جیسی گہری بڑی بڑی آنکھیں جن پر گھنی کالی پلکوں نے سایہ کر رکھا تھا۔ گلاب کی پتیوں کے جیسی پنک پنکھڑیاں جو اپنی اماں کو تکلیف میں دیکھ کر کپکپا رہی تھی۔ بوڑھی اماں نے نیم باز آنکھوں سے اپنی بیٹی کو دیکھا۔ چہرے پر تکلیف کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سا سکون بھی تھا، جیسے وہ سب کچھ قسمت کے حوالے کر چکی ہو۔

“پریشان نہ ہو، میں ٹھیک نہیں ہو سکتی… مگر تجھے محفوظ ہاتھوں میں سونپ کر جاؤں گی…”
اس کے تھکے تھکے ہاتھ کانپتے ہوئے بیٹی کے گال پر جا ٹکے، جیسے اپنی آخری محبت اس کے وجود میں منتقل کر دینا چاہتی ہو۔ سانسیں رک رک کر آ رہی تھیں، ہر سانس جیسے بوجھل ہو چکی تھی، مگر آنکھوں میں فکر صرف اپنی بیٹی کی تھی۔

“ایسے مت کہیں آپ کو کچھ نہیں ہوگا آپ ٹھیک ہو جائیں گی…”
مانو روتے ہوئے اپنی اماں سے لپٹ گئی تھی…
سندھی:
“منھنجو پٽ، جيڪو ھِن دنيا ۾ آيو آھي، ان کي ھڪ نيڪ ڏينھن وڃڻو به پوي ٿو. هاڻي تنھنجي امڙ جي وڃڻ جو وقت اچي ويو آھي. تون پاڻ کي سنڀالي ڇڏ. جيڪڏھن تون ھن ريت روئيندين ته مون کي تمام گهڻي تڪليف ٿيندي.”
(میرا بیٹا، جو اس دنیا میں آیا ہے، اسے ایک نہ ایک دن جانا بھی ہوتا ہے۔ اب تیری اماں کے جانے کا وقت آ گیا ہے۔ خود کو سنبھال لینا، اگر تُو اس طرح روئے گی تو مجھے بہت تکلیف ہوگی۔)

سندھی:
“مان پاڻ کي سنڀالي نٿي سگھان، اوهان کانسواءِ منھنجو ڪير آھي؟ مان ڪيئن اڪيلي رھندس؟ اوهان کي ڪجھ بہ نه ٿيندو، مھرباني ڪري مونکي وڃڻ ڏيو، مان بہ ڪنھن ڊاڪٽر کي وٺي اچندس.”
(میں خود کو سنبھال نہیں سکتی، آپ کے سوا میرا کون ہے؟ میں کیسے اکیلی رہوں گی؟ آپ کو کچھ نہیں ہوگا، پلیز مجھے جانے دیں، میں بھی کسی ڈاکٹر کو ڈھونڈ کر لے آؤں گی۔)

سندھی:
“تون اڪيلي ڪٿي بہ نه ويندين. مون پنهنجي زندگي ۾ جيترو نقصان برداشت ڪرڻو هو، ڪري چڪو آھيان. ھاڻي نه! مان توکي اهڙن محفوظ ھٿن ۾ ڇڏيندس، جتي ڪو بہ توتي خراب نظر نه وجھي سگهي.”
(تو اکیلی کہیں نہیں جائے گی۔ میں نے اپنی زندگی میں جتنا نقصان سہنا تھا، سہہ چکی ہوں، اب اور نہیں! میں تجھے ایسے محفوظ ہاتھوں میں دے کر جاؤں گی جہاں کوئی تجھ پر گندی نظر بھی نہ ڈال سکے۔)
بوڑھی عورت جس کی سانسیں ٹوٹ رہی تھی اچانک سے اس میں جیسے جان سے آگئی تھی۔ وہ سختی سے اپنی بیٹی کو دیکھتے ہوئے اسے باہر جانے سے روک رہی تھی۔ عجیب سا ڈر تھا اس بوڑھی عورت کی آنکھوں میں۔ یہ موت کا ڈر نہیں تھا یہ کچھ اور تھا۔

سندھی:
“هڪ دفعو وري ھن نمبر تي فون ڪر، مونکي ڏي مانو…”
(ایک بار پھر اس نمبر پر فون کر، مجھے دے مانو…)
آواز مدھم ہو چکی تھی، جیسے لفظ بھی اس کا ساتھ چھوڑنے لگے ہوں۔ مانو کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ کر کے ماں کے کمزور ہاتھوں پر گرنے لگے۔ وہ کانپتے ہاتھوں سے فون اٹھانے لگی، مگر اس کے اندر ایک عجیب سا خوف سرایت کر چکا تھا۔ گھر کی دیواریں اس لمحے کی خاموشی میں گواہ بن چکی تھیں، پرانی چھت سے لٹکتا بلب دھیرے دھیرے جھول رہا تھا، اور کمرے کی ہوا میں ممتا اور جدائی کی ملی جلی خوشبو گھل رہی تھی۔ بوڑھی ماں کی نظریں دھندلا رہی تھیں، لیکن ان میں ایک یقین تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو کسی کے سہارے چھوڑ کر جائے گی… وہ بے بس تو تھی، مگر ممتا کے ہاتھ ابھی بھی دعا کے لیے اٹھے ہوئے تھے۔ مانو نے پاس پڑے ہوئے فون کو اٹھا کر اس کا نمبر ملاتے ہوئے اپنی اماں کی جانب بڑھایا تھا۔ فون میں ایک ہی نمبر تھا اور دینے والے نے اس کی اماں کو بڑے تحمل کے ساتھ بتایا تھا کہ اس کا نمبر کیسے ملانا ہے، اور اس کی اماں نے آ کر مانو کو نمبر ڈائل کرنا سکھا دیا تھا۔ تب سے مانو کو اس فون پر نمبر ملانا آتا تھا۔

سندھی:
“منھنجو آخري وقت هلي رهيو آهي، منھنجو وقت ناهي، پٽ جلدي اچي وڃ.”
(میرا آخری وقت چل رہا ہے، میرے پاس وقت نہیں ہے، بیٹا جلدی آ جاؤ۔)
دوسری جانب سے شاید تسلی دی گئی تھی کہ وہ جلدی آ جائے گا، تو فون بند ہو چکا تھا۔
اپنی اماں کی حالت دیکھ کر مانو کے آنسو ٹپ ٹپ گر رہے تھے اس کے ہونٹ کپکپا رہے تھے، کیونکہ اس کا واحد سہارا اس کی اماں تھی، اس کے علاوہ تو مانو کو نہ باہر کی دنیا کا پتہ تھا اور نہ کسی رشتے کا۔ جب سے آنکھ کھولی تھی اس نے صرف اپنے پاس اپنی اماں کو ہی دیکھا تھا۔
°°°°°°°°°°°°
وسیع و عریض حویلی کے اندرونی صحن میں بے چینی کا عالم تھا۔ گیٹ کے قریب کھڑی ارمیزہ بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی، جبکہ دانیا خاموشی سے کھڑی تھی، مگر اس کے چہرے پر انتظار کے آثار نمایاں تھے۔ دونوں کی نظریں مسلسل گیٹ پر جمی تھیں، جیسے کسی خاص شخصیت کی راہ تک رہی ہوں۔ مائد جیسے ہی مین گیٹ سے اندر داخل ہوا، اس کی نگاہ بے قراری سے کھڑی ارمیزہ اور دانیا پر پڑی۔ وہ تیز قدموں سے آگے بڑھا اور نیچے جھک کر ارمیزہ کو گود میں اٹھاتے ہوئے محبت سے سلام کیا۔

“السلام علیکم!”
یہ سلام اس نے دونوں کو کہا تھا، مگر دانیا نے صرف “وعلیکم السلام” کہہ کر رخ موڑ لیا، جیسے مزید بات کرنے کا ارادہ نہ ہو مگر ارمیزہ “وعلیکم السلام” کے بعد مائد چاچو سے خوش دلی سے بات کرنے لگی تھی۔ ان کچھ ہی دنوں میں ارمیزہ مائد کے ساتھ بہت زیادہ اٹیچ ہو چکی تھی۔ بلکہ اس گھر کے سبھی ممبرران کے ساتھ ارمیزہ کی بہت اچھی جمتی تھی۔ سب لوگ بہت کئیرنگ تھے اور محبت کرنے والے تھے اور ارمیزہ ہمیشہ سے محبتوں سے ترسی ہوئی بچی تھی، تو اسے تو جیسے محبت کا دریا مل گیا تھا، جس میں تیرتے ہوئے وہ ہر وقت خوش ہی رہتی تھی۔

“پوچھ سکتا ہوں، آپ لوگ یہاں گیٹ پر کیوں کھڑے ہیں؟”
مائد نے بظاہر ارمیزہ سے پوچھا، مگر اس کی نظریں دانیا پر تھیں، جو دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی۔

“ہم بابا کا انتظار کر رہے ہیں، مگر بابا آ ہی نہیں رہے۔ بابا نے کہا تھا بس تھوڑی دیر میں پہنچ جائیں گے۔”
ارمیزہ نے مائد کے سوال کا جواب دیا، جبکہ دانیا خاموشی سے نظریں باہری دروازے کی جانب مرکوز کیے کھڑی تھی۔ انداز بالکل اگنور کرنے والا تھا۔ چہرے پر کوئی تاثرات دکھائی نہیں دے رہے تھے جن سے اندازہ لگایا جا سکے کہ وہ کیا سوچ رہی ہے۔ مائد نے ایک نظر دونوں پر ڈالی، ارمیزہ کے چہرے پر بے چینی تھی اور دانیا کی آنکھوں میں ایک عجیب سی اداسی۔

“ہمم… تو بابا کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ٹھیک ہے، ویری گڈ! مگر انتظار ہم گھر کے اندر جا کر بھی کر سکتے ہیں۔ بابا کی گاڑی جیسے ہی آئے گی، گارڈز ہمیں فوراً انفارم کر دیں گے۔”
مائد نے نرم لہجے میں کہا اور ارمیزہ کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا۔

“پھر بھی اگر آپ یہاں کھڑے رہنا چاہتے ہو، تو آپ لوگوں کی مرضی۔ آخر یہ آپ لوگوں کا ہی گھر ہے!”
اس نے کندھے اچکاتے ہوئے مزید کہا، مگر اس کی نظریں دانیا پر ہی مرکوز تھیں، جو خاموشی سے دروازے کی سمت دیکھ رہی تھی۔

“نہیں! یہیں کھڑے رہ کر بابا کا انتظار کرنا ہے، آپ بھی یہیں رکیں، میں ابھی اپنا فون لے کر آتی ہوں بابا کو فون کرنے کے لیے۔”
ارمیزہ جلدی سے مائد کی گود سے نیچے اتری اور تیزی سے اندر جانے کے لیے پلٹی۔

“مگر آپ میرے نمبر سے فون کر سکتی ہیں۔”
مائد نے جیب سے موبائل نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔

“نو! میں اپنے فون سے بابا کو فون کروں گی۔”
ارمیزہ نے مضبوط لہجے میں جواب دیا۔

“ٹھیک ہے، جیسے آپ کی مرضی۔”
مائد کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھر گئی تھی۔

“آپ کہیں جائیے گا مت۔ یہیں رکیے، میں ابھی اپنا فارم لے کر آتی ہوں!”

“جی جو حکم…”
مائد خان نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے مسکرا کر اپنی پیاری سی بھتیجی کا حکم مان لیا تھا۔ ارمیزہ کے گھر پر آنے سے گھر میں رونق سی آ گئی تھی۔ مائد مسکرا کر اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا۔ وہ جلدی سے اندر کی طرف دوڑی، اور اسی کے پیچھے ہی دانیا بھی جانے کے لیے پلٹی۔ مائد کو دانیا کا اس طرح بنا کچھ کہے اندر کی طرف جانا عجیب سا لگا۔ وہ کچھ عجیب سا محسوس کر رہا تھا، مگر سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ دانیا کبھی بھی صرف بات چیت تو نہیں کرتی تھی مگر اس طرح انکمفرٹیبل بھی نہیں رہتی تھی مگر آج اس کے انداز میں یہ چیز دکھائی دے رہی تھی کہ وہ مائد کی موجودگی میں انکمفرٹیبل ہے اور یہی چیز مائد کو بہت عجیب لگی تھی۔

“پلیز… دانیا، رکیے!”
مائد نے اسے جاتا ہوا دیکھ فوراً آواز دی، مگر دانیا کے قدم تیز ہو چکے تھے، جیسے وہ رکنا ہی نہ چاہتی تھی۔

“دانیہ! یہ کیا کر رہی ہیں آپ؟”
“کیا آپ مجھ سے خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں؟”
مائد تیز قدموں سے چلتا ہوا فاصلہ طے کر کے اس کے قریب آ چکا تھا۔ اس کے سامنے کھڑا ہو کر اس نے ایک ہاتھ دیوار پر رکھ دیا، سوالیہ نظروں سے آج پہلی بار مائد نے دانیا پر بے اختیار ایک بھرپور نگاہ ڈالی تھی۔

“پلیز! آپ میرا راستہ چھوڑیں اور مجھے اندر جانے دیں۔ مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی، پلیز!”
دانیہ نے نظریں چرا کر التجا کی، آواز میں لرزش تھی۔

“میری زندگی پہلے ہی بہت مشکل ہے، آپ مزید مشکل مت بنائیں۔ آپ بہت اچھے ہیں، مگر پلیز مجھ سے دور رہیں! میں اچھی نہیں ہوں، اور میری ذات تو خود میرے لیے کسی عذاب سے کم نہیں…”
وہ کہتے کہتے رو پڑی، اسکے اندر کی تمام ٹوٹ پھوٹ لفظوں کے ساتھ بہنے لگی تھی۔

“دانیا پلیز، آپ روئیں مت… اٹس اوکے!”
مائد کے چہرے پر بے بسی تھی، وہ آہستہ سے بولتے اس کا راستہ چھوڑ چکا تھا۔

“آپ جائیں، مگر پلیز ریلیکس ہوجائیں۔ میرا مقصد آپ کو پریشان کرنا نہیں تھا۔”
اسے روتا ہوا دیکھ مائد خان نے فوراً دروازے سے ہاتھ ہٹا لیا۔ دانیا نے ایک پل کو بھی رکے بغیر تیزی سے اندر کی طرف بڑھ گئی۔ مائد وہیں کھڑا پریشان نظروں سے اسے جاتا دیکھتا رہا۔

ارمیزہ فون لے کر آ چکی تھی، مگر نظریں ادھر اُدھر گھوما کر بولی:
“پھوپھو کہاں گئیں؟'”

“بیٹے، وہ اندر چلی گئیں، شاید کوئی کام تھا۔”
مائد نے نرمی سے جواب دیا اور پھر جھک کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

“آپ آئیں، میرے ساتھ چلیں، ہم دونوں گارڈن میں کرسیوں پر بیٹھ کر مل کر آپ کے بابا کا انتظار کرتے ہیں۔ اور ہاں، جلدی سے بابا کا نمبر ملائیں۔”
مائد کے دماغ میں بہت کچھ چل رہا تھا، وہ ذہنی طور پر کافی ڈسٹرب تھا، مگر ارمیزہ سے بات کرتے ہوئے اس نے اپنے تاثرات مکمل طور پر نارمل رکھے تھے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ارمیزہ نے اثبات میں سر ہلایا اور جلدی سے اپنے بابا کا نمبر ملا دیا۔

“بابا! آپ کہاں ہیں؟ کب تک آئیں گے؟ میں آپ کا ویٹ کر رہی ہوں، اور میرے ساتھ مائد چاچو بھی آپ کا ویٹ کر رہے ہیں۔ آپ جلدی آئیں!”
زيغم کے فون اٹھاتے ہی ارمیزہ نے اپنے معصوم سے انداز میں بابا کو بلانے کے لیے حکم جاری تھا، مگر دوسری جانب سے شاید جواب اس کی توقع کے مطابق نہیں ملا تھا۔ اس کا موڈ خراب ہوگیا، وہ منہ بسور کر خاموشی سے فون کو سائیڈ پر رکھ کر دونوں بازو سینے پر باندھ کر بیٹھ گئی۔

“کیا ہوا؟ بابا نے کیا کہا؟”
مائد نے اس کے تاثرات دیکھ کر فوراً پوچھا۔

“خود ہی پوچھ لیں۔”
ارمیزہ نے بے زاری سے فون کی طرف اشارہ کیا۔ مائد نے نوٹ کیا کہ کال ابھی چل رہی تھی، اس نے فون اٹھا کر کان سے لگا لیا۔

“کہاں ہو تم؟ اور کیوں نہیں آ رہے؟ گڑیا کا دل کیوں دکھا رہے ہو؟”
مائد نے بغیر کسی تمہید کے زیغم کو جھاڑ دیا۔

“سوری یار، میں ابھی نہیں آ سکتا، مجھے ایک ضروری کام ہے۔ پلیز، میری بیٹی کا موڈ ٹھیک رکھنا اور سنبھال لینا۔”
زیغم نے بات مکمل کرتے ہی فون بند کر دیا، بغیر یہ سنے کہ مائد کیا کہے گا۔

“عجیب انسان ہے!”
مائد نے فون کی اسکرین کو گھورتے ہوئے کہا، جیسے اس کی حرکت پر یقین نہ آ رہا ہو۔ پھر اس نے ارمیزہ کی طرف دیکھا، جو ابھی تک خفا سی بیٹھی تھی۔

“آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کے بابا کو ضروری کام ہے، وہ تھوڑا سا لیٹ ہو جائیں گے، تو کوئی بات نہیں۔ میرے پاس ایک پلان ہے!”
مائد کرسی سے نیچے بیٹھ کر اس کے روٹھے چہرے کو محبت سے دیکھتے ہوئے بولا۔

“کیا؟”
ارمیزہ کے بیزار چہرے پر ہلکی سی دلچسپی ابھری۔

“ہم درخزائی چاچو کے ساتھ جا کر گیم کھیل سکتے ہیں۔”

“واقعی؟”
گڑیا کے بیزار چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔

“ہاں! آج ہم ان کے ساتھ ریس لگائیں گے اور دیکھیں گے کون جیتتا ہے!”
مائد نے پرجوش انداز میں کہا۔

“ٹھیک ہے! چلیں!”
گڑیا خوش ہوگئی، اور مائد نے اس کی انگلی پکڑ کر اندرونی دروازے کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔ مگر مائد کے دماغ میں اب بھی دانیا کی بےچینی اور گھبراہٹ کی گونج باقی تھی۔
°°°°°°°°°°°°
“درخزائی” پورے جوش و خروش کے ساتھ اپنی ویڈیو گیم کھیلنے میں مصروف تھا۔ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی۔ مائد نے ارمیزہ کا ہاتھ تھامے “درخزائی” کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا، اور اندر داخل ہوا۔ “درخزائی” پہلے سے ہی ویڈیو گیم کھیلنے میں مگن تھا، اسکرین پر تیزی سے حرکت کرتے گاڑیاں اور کیریکٹرز، اور اس کے جوشیلے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ کسی دلچسپ موڑ پر تھا لیکن جیسے ہی اس کی نظر ارمیزہ پر پڑی، اس کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا۔

“ارے! ارمیزہ آئی ہے!”
“درخزائی” نے مسکرا کر کنٹرولر ایک طرف رکھا اور ارمیزہ کی طرف بڑھا۔

“درخزائی”! ہم بھی آپ کے ساتھ گیم کھیلیں گے!”
مائد نے پرجوش انداز میں کہا۔

“اوہ ہو! میرے تو وارے نیارے ہو گئے۔ اگر آپ میرے ساتھ کھیلیں گے تو۔ میں تو ہمیشہ سے اپنے بھائی کے ساتھ ویڈیو گیم کھیلنے کا دیوانہ ہوں۔”
“درخزائی” خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا کیونکہ ہمیشہ سے اسے بہت شوق تھا مائد کے ساتھ ریسنگ کرنے کا مگر مائد کے پاس ٹائم کی بہت کمی ہوتی تھی اس لیے ایسے موقع “درخزائی” کو بہت کم ملتے تھے۔ ارمیزہ دونوں کی بات سن کر خوشی سے دیکھ رہی تھی ، اور مائد کے ساتھ “درخزائی” کی ویڈیو گیم پارٹی میں شامل ہوگئی۔ دونوں ٹیمیں بن گئیں، “درخزائی” ایک سائیڈ پر اور مائد ارمیزہ کے ساتھ۔ ریسنگ شروع ہوئی، اسکرین پر کاریں تیزی سے دوڑ رہی تھیں، قہقہے گونج رہے تھے، “درخزائی” پرجوش تھا، اور ارمیزہ کی ہنسی ماحول کو مزید خوشگوار بنا رہی تھی۔ مائد بھی بظاہر ان کے ساتھ خوشی خوشی کھیل رہا تھا، ارمیزہ کو جتوانے کے لیے چھوٹی چھوٹی چالاکیاں کر رہا تھا، مزاحیہ باتیں کر رہا تھا، لیکن اس کے دماغ میں اب بھی دانیا کی گھبراہٹ گردش کر رہی تھی۔ وہ اس کے چہرے پر چھائی بےچینی کو نظر انداز نہیں کر پا رہا تھا۔
°°°°°°°°°
کافی لمبا سفر طے کرنے کے بعد رات کی تاریکی میں، گاڑی آہستہ سے رک گئی۔ زیغم سلطان نے ایک نظر باہر دوڑائی۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں وہ اس ضعیف عورت سے ملنے آتا تھا۔ ایک ایسی ہستی جس سے اس کا کوئی خونی رشتہ نہ تھا، مگر انسانیت اور رحم کا رشتہ جو اس نے خود سے جوڑا تھا۔ اس نے اپنے پروٹوکول گارڈز کو دور ہی رکنے کا اشارہ دیا اور گاڑی سے باہر آیا۔ ہوا میں بکھری پرانی گلیوں کی مہک، وہ اجنبی سا سکوت، اور سائے میں دبے بے جان مکان۔ یہ سب کچھ اس کے لیے نیا تھا۔ زیغم سلطان، جو ہمیشہ محلوں میں بستا تھا، آج ان تنگ اور خستہ حال راستوں پر قدم رکھ رہا تھا مگر اس کے قدموں میں ہچکچاہٹ نہیں تھی، کیونکہ اسے یہاں کوئی اپنی جانب کھینچ رہا تھا—وہ بوڑھی عورت جو اس کی دسترس میں سب سے قیمتی تھی۔ اس نے اپنے فون سے نمبر ڈائل کیا۔ چند لمحوں بعد، ایک کپکپاتی ہوئی آواز نے فون کے دوسری جانب استقبال کیا۔

“پٽ، جتي تون بيٺو آھين، اُتان ئي سڌو ھلي اچ۔ گليءَ ۾ نائون در کڙڪاءِ۔ اهو ئي منهنجو گھر آهي۔”
(بیٹا، جہاں تم کھڑے ہو، وہیں سے سیدھے چلتے آؤ۔ گلی میں نویں دروازے پر دستک دو۔ وہی میرا گھر ہے۔)
زیغم سلطان خاموشی سے آگے بڑھا۔ بوسیدہ دیواریں، کمزور دروازے، اور گلی میں ادھورے خوابوں کی بکھری ہوئی کرچیاں مگر وہ ان سب کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھا، اور نویں دروازے پر دستک دی۔ دروازہ آہستہ سے کھلا۔ اندر سے ایک حجاب اور نقاب میں لپٹا چہرہ نمودار ہوا۔ زیغم سلطان نے نگاہیں نیچے رکھی۔ وہ کسی اجنبی کو دیکھنے نہیں آیا تھا، اس کا مقصد مختلف تھا۔ وہ بغیر کسی توقف کے اندر داخل ہو گیا۔ سامنے ایک ہی سیدھا کچا کمرہ تھا جس میں پرانی سی چارپائی پر وہ بوڑھی عورت لیٹی تھی، زندگی کی آخری سانسیں گن رہی تھی۔ کمرے کی دیواریں خستہ حال، چھت پر دراڑیں، اور فرش پر غربت کی مہر لگی تھی مگر ان سب چیزوں کی پرواہ کیے بغیر، زیغم سلطان بلا جھجک چارپائی کے قریب بیٹھ گیا۔ اس کے کپکپاتے ہوئے ہاتھوں پر زیغم نے ہاتھ رکھا، جیسے اپنی موجودگی سے سکون دینے کی کوشش کر رہا ہو۔ عورت کی آنکھوں میں روشنی کی ایک چمک آئی۔ وہ لمحہ بھر کے لیے جیسے سب بھول گئی۔

“اوهان جي طبعيت خراب آهي۔ اچو، مان اوهان کي اسپتال وٺي هلان۔”
(آپ کی طبیعت خراب ہے۔ چلیں، میں آپ کو ہسپتال لے چلتا ہوں۔)

بوڑھی عورت نے سر ہلایا۔
“نه پٽ، منهنجو وقت ختم ٿي رهيو آهي۔ مون کي خبر آهي، مان هاڻ نه جي سگھنديس۔”
(نہیں، بیٹا۔ میرے پاس وقت نہیں ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ میں اب نہیں جی سکوں گی۔)

زیغم نے نرمی سے اس کے ہاتھ کو دبایا۔
“اوهان ھمت ڇو هاري رهيا آهيو؟ اهڙو نه سوچيو۔ انشاءالله، اوهان جو علاج ٿيندو۔ اوهان ٺيڪ ٿي ويندؤ۔”
(آپ ہمت کیوں ہار رہی ہیں؟ ایسا مت سوچیں۔ انشاءاللہ، آپ کا علاج ہوگا۔ آپ ٹھیک ہو جائیں گی۔)

بوڑھی عورت کی آنکھوں میں ایک گہرا سکون تھا۔
“نه، منهنجي لاءِ وقت گهٽ آهي۔ هي ڪيئن چند پل آھن، جيڪي مون کي مليل آھن۔ مان چاهيان ٿي ته تون مون سان هڪ واعدو ڪرين، ان کان اڳ جو منهنجي سانس بند ٿي وڃي۔”
(نہیں، میرے پاس وقت نہیں ہے۔ یہ ادھار کے چند لمحے جو مجھے ملے ہیں، میں چاہتی ہوں کہ ان میں تم سے ایک وعدہ لے لوں۔ اس سے پہلے کہ میری سانسوں کی ڈور ٹوٹ جائے۔)

زیغم سلطان نے گہری سانس لی۔
“اوهان حڪم ڪريو، اهڙو ڪهڙو واعدو آهي، جيڪو مان پورو نه ٿو ڪري سگھان؟ مان حاضر آھيان۔ اوهان حڪم ڪريو۔”
(آپ حکم کریں، ایسا کون سا وعدہ ہے جو میں پورا نہیں کر سکتا؟ میں حاضر ہوں۔ آپ حکم کریں۔)

“مانو، تون ٻاهر هلي وڃ!”
(مانو، تم باہر چلی جاؤ!)
بوڑھی عورت نے اپنی بیٹی کو باہر جانے کو کہا تھا، شاید وہ صرف اکیلے میں زیغم سلطان سے بات کرنا چاہتی تھی۔ اس کے کہنے پر وہ لڑکی خاموشی سے باہر چلی گئی۔ بوڑھی عورت چارپائی پر لیٹی زندگی کی آخری سانسیں بڑی مشکل سے لے رہی تھی۔

سندھی:
“سائين، منهنجي ڳالهه منهنجي حيثيت کان گهڻي وڏي آهي، پر اوهان چيو هو ته اوهان مون کي پنهنجي ماءُ جو درجو ڏيو ٿا۔ جيڪڏھن اوھان مون کي واقعي ماءُ جي نظر سان ڏٺو آھي، ته اڄ منھنجي واعدي کي نه جھٽلايو. منھنجا ھي مدھم ٿيندڙ، ٽُٽندڙ ساهه، جيڪڏھن اوھان واعدو ڪري ڇڏيندؤ ته مان سڪون سان مري سگھنديس.”
(سائیں، میری بات میری اوقات سے کہیں زیادہ بڑی ہے، مگر آپ نے کہا تھا کہ آپ مجھے اپنی ماں کا درجہ دیتے ہیں۔ اگر ایک لمحے کے لیے بھی آپ نے مجھے اپنی ماں کی نظر سے دیکھا ہے، تو آج میرے وعدے کو ٹھکرائیے گا مت۔ میری مدھم ہوتی، ٹوٹتی ہوئی سانسوں کو اگر آپ وعدہ دے دیں گے، تو میں سکون سے مر سکوں گی۔)

“مهرباني ڪري هٿ نه ڇڏجو، حڪم ڪريو، جيڪو منهنجي وس ۾ هوندو، مان ضرور ڪندس. پر سڀ کان پهريان، اوهان هلو، منهنجي ساڻ، مان اوهان کي ڊاڪٽر وٽ وٺي هلان ٿو.”
(مہربانی کرکے ہاتھ نہ چھوڑیں، حکم کریں، جو میرے بس میں ہوگا، میں ضرور کروں گا مگر سب سے پہلے، آپ چلیں، میرے ساتھ، میں آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے چلتا ہوں۔)
زیغم سلطان کی آواز میں بےچینی تھی۔ وہ بوڑھی عورت کی بگڑتی ہوئی حالت دیکھ کر مزید تاخیر برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے نرمی سے اس کے جھریوں بھرے ہاتھ تھامے اور اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا فیصلہ کیا۔

“نه، پٽ، مان هتي ئي رهنديس. مون وٽ وقت گهٽ آهي، بس تون وعدو ڪر.”
(نہیں، بیٹا، میں یہی رہوں گی۔ میرے پاس وقت کم ہے، بس تم وعدہ کرو۔)
مگر بوڑھی عورت نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اس کی سانسیں بوجھل تھیں، مگر لہجے میں وہی مضبوطی اور یقین تھا۔ وہ جانے کے لیے تیار نہیں تھی، بس زیغم سے ایک وعدہ چاہتی تھی۔ بوڑھی عورت کے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے، جیسے برسوں کا دکھ آج بہہ نکلنے کو بےقرار ہو۔ زیغم نے نرمی سے اس کے چہرے پر بہتے آنسو صاف کیے، اس کی آواز میں ایک بیٹے جیسی محبت اور احترام تھا۔

“اوهان نه روؤ، بس حڪم ڪريو، اوهان ڇا ٿا چاهيو؟”
“آپ روئیں مت، حکم کریں، آپ کیا چاہتی ہیں؟”
زیغم کی نرم مگر پُرعزم آواز میں وہی خلوص تھا جو کسی بےسہارا ماں کے لیے ایک بیٹے کے دل میں ہوتا ہے۔ بوڑھی عورت کی لرزتی ہوئی آواز میں صدیوں کا دکھ سمٹا تھا۔ وہ بولتی گئی، ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں، لرزتے ہونٹوں اور بھیگی آنکھوں کے ساتھ۔ اس کی ہر بات زیغم سلطان کے دل پر وار کر رہی تھی۔ وہ ہمیشہ سوچتا تھا کہ فٹ پاتھ پر بیٹھی اس بزرگ خاتون کی آنکھوں میں ایک عجیب سی ویرانی اور خوف ہے، مگر یہ خوف اتنا گہرا ہوگا، اس کی جڑیں اتنی مضبوط ہوں گی، اس کا ماضی اتنا تلخ ہوگا—یہ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا۔ وقفے وقفے سے وہ سانس بحال کرنے کی کوشش کرتی، پھر بولنا شروع کر دیتی۔ زیغم سلطان کی آنکھوں میں بھی نمی اتر آئی تھی۔ وہ خاموشی سے سنتا رہا، اور جب اس کے آنسو بہنے لگتے، تو زیغم نرمی سے اس کے چہرے سے آنسو صاف کر دیتا۔ وہ وقت کی ہر پرت کھولتی گئی، اپنے ماضی کے ہر درد کو عیاں کرتی گئی۔ زیغم سلطان کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اسے کیسے دلاسہ دے، کیونکہ جو کچھ وہ سن رہا تھا، وہ کسی عام دکھ کی کہانی نہیں تھی—یہ صبر کی انتہا، ظلم کی انتہا، اور برداشت کی انتہا تھی۔ وہ ایک بےبس سامع کی طرح بس بیٹھا سنتا رہا، مگر اس کے دل میں طوفان اٹھ رہے تھے۔ زیغم سلطان ہمیشہ سے اس بزرگ خاتون کی مدد کرتا آیا تھا۔ جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا، اکثر اسے اسی فٹ پاتھ پر بیٹھا دیکھتا تھا۔ یہ جگہ اس کے گاؤں سے بہت دور، کراچی اور سندھ کے درمیانی علاقے میں ایک فٹ پاتھ تھی، جہاں ہر وقت گاڑیوں کی آمدورفت رہتی تھی۔ زیغم نے کئی بار اسے وہیں بیٹھے دیکھا۔ کئی بار گزرتے ہوئے اس عورت کی ہیلپ کی مگر جب وہ پاکستان ہمیشہ کے لیے واپس آیا، تو اس نے اس بزرگ خاتون کے لیے خاص بندوبست کر لیا تھا۔ یہ خاتون نہیں چاہتی تھی کہ زیغم سلطان کا کوئی آدمی اس کے گھر تک راشن یا پیسے دینے آئے۔ وہ ہمیشہ انکار کر دیتی تھی، جیسے کسی خوف میں مبتلا ہو۔ زیغم کو کبھی سمجھ نہ آئی کہ وہ کس چیز سے ڈرتی تھی، مگر آج جب حقیقت سامنے آئی، تو اس کے دل میں ہمدردی مزید گہری ہو گئی۔ زیغم نے اس عورت کی کفالت کے لیے اسے ایک فون لے کر دیا تھا، تاکہ وہ خود اس سے رابطہ کر سکے اور اپنی ضرورتیں بتا سکے۔ زیغم ہمیشہ اپنے رتبے کو ایک طرف رکھ کر، کسی دور مقام پر کھڑا ہو کر، خاموشی سے اس کی ضروریات پوری کرتا رہا مگر اس بزرگ خاتون نے کبھی بھی اپنی اوقات سے بڑھ کر نہیں مانگا تھا صرف ضرورت کے تحت ہی رقم لی تھی، زیادہ نہیں لیتی تھی یہ شاید اس کا اصول تھا۔ وہ اس عورت سے کسی رشتے میں بندھا نہیں تھا، مگر پھر بھی اس کی مدد کرتے ہوئے اسے ایک عجیب سا سکون محسوس ہوتا تھا۔آج جب زیغم، ارمیزہ اور دانیا سے ملنے جا رہا تھا، تو اچانک اس کا فون بجا۔ دوسری طرف یہی بوڑھی خاتون تھی، جس کی آواز میں بے بسی اور التجا تھی۔ وہ بہت بیمار تھی اور زیغم سلطان کو اپنے پاس بلانا چاہتی تھی۔ زیغم چاہ کر بھی انکار نہ کر سکا۔ حالانکہ اسے ہر حال میں ارمیزہ اور دانیا کے پاس جانا تھا، کیونکہ تین دن سے اس کی ان سے ملاقات نہیں ہوئی تھی اور اس کی بیٹی بار بار فون کر کے بول رہی تھی کہ وہ اپنے بابا کا انتظار کر رہی ہے مگر اس عورت کی کانپتی ہوئی آواز کو زیغم انکار نہیں کر پایا تھا مگر یہاں آ کر، اس بوڑھی عورت کی داستان سن کر، اس کا دل ہمدردی اور دکھ سے لرز اٹھا۔ خاتون کی سانسیں بے ترتیب ہونے لگیں، جیسے زندگی کی ڈور آہستہ آہستہ ٹوٹ رہی ہو۔ اس کی سانسیں رک رک کر چل رہی تھیں، اور سینہ بار بار اوپر نیچے ہو رہا تھا۔ زیغم سلطان نے فوراً آگے بڑھ کر اس کے سر کے نیچے ہاتھ رکھا، مگر بوڑھی عورت کی حالت تیزی سے بگڑ رہی تھی۔ وہ مشکل سے سانس لے رہی تھی، جیسے الفاظ کہنا چاہتی ہو مگر سانسوں کی ڈور اتنی کمزور ہو چکی تھی کہ الفاظ بھی اس کا ساتھ چھوڑنے لگے تھے۔
بوڑھی عورت کی آخری خواہش کی ہوش اڑانے کے لیے کافی تھی۔ زیغم کو بالکل امید نہیں تھی کہ بوڑھی خاتون ایسا کوئی وعدہ لینا چاہتی ہیں۔ کمرے میں خاموشی کا راج تھا، صرف بوڑھی عورت کی بے ترتیب سانسوں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ زیغم سلطان اس کے قریب بیٹھا، اس کے سر کو سہارا دیے ہوئے تھا۔ بوڑھی عورت کی آنکھوں میں ایک ایسی التجا تھی جو لفظوں سے زیادہ گہری محسوس ہو رہی تھی۔

“سائين… هڪ واعدو ڪجو…”
(بیٹا… ایک وعدہ کرو…)
اس کی مدھم، کانپتی ہوئی آواز زیغم کے کانوں میں اتری۔
زیغم نے اس کے جھریوں بھرے ہاتھ اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھام لیے۔

“ماں جی، حکم کریں… میں جو کر سکا، ضرور کروں گا۔”
اس کی آواز میں عاجزی تھی، مگر آنکھوں میں بے چینی صاف جھلک رہی تھی۔ بوڑھی عورت نے مشکل سے سانس لی، جیسے بہت بڑی بات کہنے جا رہی ہو۔

“تونھنجي ماءُ توکان ايئن ٿا چئي… تونھنجي ماءُ هڪڙي گذارش اٿئي… منهنجي نياڻي سان نڪاح ڪج…”
(تمہیں ماں سمجھ کر کہہ رہی ہوں… ایک گزارش ہے… میری بیٹی سے نکاح کر لو…)
زیغم سلطان کے چہرے کے تاثرات پل بھر میں بدلے، جیسے وہ یہ الفاظ سننے کے لیے تیار نہ تھا۔ زیغم نے نظریں جھکا لیں۔

“ماں جی…!”
زیغم نے گہری سانس لی، بوڑھی عورت کی نم آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا:
“میں ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ میں شادی شدہ ہوں، میری ایک بیٹی بھی ہے۔”
اس نے نظریں چرائیں، مگر بوڑھی عورت کی نظروں میں التجا مزید گہری ہوگئی۔

“میری بیٹی آپ کے گھر آپ کی بیوی کی خادمہ بن کر رہے گی، کبھی حق نہیں جتائے گی، ہمیں حق نہیں چاہیے، تحفظ چاہیے، عزت کی چادر چاہیے، اور مجھے اس سب کی امید آپ سے ہے۔”
بوڑھی عورت کی آواز لرز رہی تھی، جیسے اس کی آخری امید بس یہی ایک فیصلہ تھا۔

“میری بیٹی کبھی یہ لفظ بھی منہ سے نہیں نکالے گی کہ آپ اس کے شوہر ہیں، وہ بہت صابر بچی ہے، اس نے دنیا داری دیکھی ہی نہیں، اس چار دیواری کے اندر ہی اس نے ہوش سنبھالا ہے، نہ کبھی میرے علاوہ کسی کے ساتھ رہی، نہ بات کی۔”
اس کی آنکھوں میں برسوں کی بے بسی جھلک رہی تھی، جیسے ہر لفظ کے ساتھ کوئی پرانا زخم ہرا ہو رہا ہو۔

“یہ سوچ لیں کہ جھونپڑی جیسے گھر میں اللہ تعالیٰ نے شہزادی اتاری تھی، میں جانتی ہوں کہ میں نے آپ سے جو وعدہ لینا چاہا، یہ میری اوقات سے کہیں بڑھ کر ہے۔”
اس کے ہاتھ کانپنے لگے، مگر لہجے میں بے حد یقین تھا۔

“اگر سائیں میری جھولی میں میری بیٹی کی عزت کی چادر ڈال دیں، نکاح کے کاغذ کے ساتھ، تو یہی تحفظ مجھے یقین دلائے گا کہ میری بیٹی آپ کے سائے میں محفوظ ہے، ورنہ میں تو آپ کے گھر اپنی بیٹی کو ملازم بنا کر بھیجنے کو تیار ہوں۔”
زیغم کی نظریں جھک گئیں، دل جیسے کسی بوجھ تلے دبنے لگا۔

“نکاح کے بعد بھی یہ آپ کی خادمہ ہی رہے گی، آپ کی بیوی، آپ کے بچوں کی خدمت کرے گی… بس بدلے میں صرف چھت، عزت، اور دو وقت کی روٹی چاہیے۔”
بوڑھی عورت کی سانسیں تیز ہونے لگی، جیسے جلدی میں اپنا سب کچھ سونپ دینا چاہتی ہو۔

“زیادہ مت سوچیں، میرے پاس وقت نہیں ہے، میں سکون سے مر نہیں سکوں گی۔”
اس کی سانس اکھڑنے لگی، اور زیغم کو لگا جیسے وہ فیصلہ کرنے میں ایک لمحہ بھی مزید دیر کرے گا، تو شاید وہ امید کی آخری کرن بھی کھو دے گا…

“رفیق… فوراً نکاح پڑھانے والے مولوی صاحب کو لے کر آؤ، اور کچھ گواہ بھی ساتھ لے آنا۔”
زیغم نے جیب سے موبائل نکالتے ہی سخت لہجے میں کہا، مگر اندر کہیں بے چینی کی ایک لہر دوڑ گئی تھی۔ یہ فیصلہ اس کے لیے آسان نہیں تھا، مگر بوڑھی عورت کی ٹوٹتی سانسیں، اس کی التجائیں، اور اس کی درد بھری کہانی سن کر زیغم انکار نہیں کر سکا تھا۔ وہ جس ماحول سے آیا تھا، وہاں اس علاقے میں قدم رکھنا بھی کسی توہین سے کم نہیں سمجھا جاتا تھا، مگر آج وہ انسانیت کے ناطے ایک نئی مثال قائم کرنے جا رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں مولوی صاحب، رفیق، اور چند گارڈز وہاں پہنچ چکے تھے، جو نکاح کے گواہ بنے۔ زیغم نے اس لڑکی کو دیکھنے کی بھی کوشش نہیں کی، کیونکہ وہ پوری طرح نقاب میں لپٹی ہوئی تھی۔ صرف دو بھیگی ہوئی آنکھیں تھیں، جو بے بسی کے ساتھ جھکی ہوئی تھیں۔ زیغم کے لیے یہ سب کچھ ایک بوجھ کی طرح تھا، وہ خود کو مجبور محسوس کر رہا تھا، مگر پھر بھی انسانیت کے ناطے اس نکاح کے لیے رضامند ہو گیا۔

بوڑھی عورت نے اپنی بیٹی کے سر پر لرزتے ہاتھ رکھا، اور کمزور آواز میں کہا:
“نکاح پڑھواؤ مولوی صاحب…”
زیغم جیسے کسی خواب میں تھا، پتہ نہیں کتنی سوچیں اس کے ذہن میں گردش کر رہی تھیں، مگر پھر بھی اس نے دھیرے سے کہا:
“قبول ہے… قبول ہے… قبول ہے…”
نکاح مکمل ہو چکا تھا۔ مولوی صاحب، گارڈز، اور رفیق وہاں سے جا چکے تھے۔ بوڑھی عورت نے کمزور لہجے میں آخری نصیحتیں کرنی شروع کیں۔

“بیٹی، کبھی سائیں سے کوئی امید نہ لگانا، ان کی بیوی کی خدمت کرنی ہے، ان کے ہر حکم کو ماننا ہے، کبھی اپنے منہ سے یہ نہ کہنا کہ تمہارا نکاح سائیں سے ہوا ہے۔ بس اپنی عزت اور پردے کا خیال رکھنا!”
وہ مسلسل بولتی رہی تھی، جیسے اپنے اندر کی ساری باتیں بیٹی کے دل میں اتار دینا چاہتی ہو، مگر پھر اچانک سانس رکنے لگی، جسم لرزنے لگا، اور سانسوں کی ڈور ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گئی۔ وہ لڑکی جو کچھ دیر پہلے زیغم کے لیے ایک اجنبی تھی، اب اس کے نکاح میں آ چکی تھی۔ وہ آنسوؤں میں بھیگی ہوئی تھی، رو رہی تھی، اور وہاں کوئی ایسا نہیں تھا جو اسے چپ کروا سکے۔ انسانیت کے ناطے اس بزرگ خاتون کی تدفین کا سارا انتظام زیغم نے رفیق سے کہہ کر کروایا تھا، اور اسے نمازِ جنازہ کے بعد سپردِ خاک کر دیا گیا۔ رات کے سناٹے میں ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، جیسے کسی بچھڑنے والے کا غم محسوس کر رہی ہو۔ انجانہ سا رشتہ بن گیا تھا زیغم کا اس عورت کے ساتھ۔ قبرستان کی مٹی ابھی تازہ تھی، اور زیغم سلطان خاموشی سے وہاں کھڑا دعا مانگ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک سنجیدگی تھی، آنکھوں میں انجانا سا احساس، دل میں ایک عجیب سی بے چینی۔نمازِ جنازہ کے بعد جب اس بزرگ خاتون کو سپرد خاک کر دیا گیا، تو زیغم نے ایک گہری سانس لی۔ وہ گاڑی کی طرف بڑھا، دروازہ کھولنے ہی والا تھا کہ اچانک ایک خیال بجلی کی طرح ذہن میں کوندا۔
وہ لڑکی…! جسے وہ روتا ہوا چھوڑ آیا تھا، جو اس وقت دنیا میں بالکل تنہا تھی… وہ اب اس کی ذمہ داری تھی۔
زیغم نے گاڑی کا دروازہ بند کیا اور تیز قدموں سے واپس اس ویران گھر کی طرف بڑھ گیا۔ دروازے پر دستک دی تو اندر سے سسکیوں کی مدھم آواز آئی۔ ایک کپکپاتی ہوئی آواز، جس میں خوف کی جھلک نمایاں تھی۔

“کون…؟”

زیغم نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا:
“زیغم سلطان!”
چند لمحوں تک خاموشی رہی، پھر آہستہ سے دروازہ کھلا۔ سامنے مانو کھڑی تھی، نقاب میں لپٹی ہوئی، صرف اس کی سرخ روتی آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔ زیغم نے ایک لمحے کو اسے دیکھا، پھر نظریں جھکا لیں۔ مانو دروازے کے ایک طرف ہو گئی، جیسے اسے یقین نہ آ رہا ہو کہ وہ واپس آیا ہے۔

“اندر آ جائیں…”
اس کی مدھم آواز میں لاچاری جھلک رہی تھی۔ زیغم نے قدم اندر رکھے۔ کچھ دیر پہلے یہ گھر اس ضعیف عورت کی موجودگی میں کچھ کم اجنبی لگ رہا تھا، مگر اب ہر چیز بے حد ویران محسوس ہو رہی تھی۔ پہلے وہ خاتون یہاں تھی، اور زیغم مہمان تھا، مگر اب صرف وہ اور ایک اجنبی لڑکی موجود تھے—دو اجنبی، جو نکاح کے بندھن میں بندھ چکے تھے مگر پھر بھی ایک دوسرے کے لیے انجان تھے۔ زیغم خاموشی سے اندر آ کر رکا، کچھ لمحے وہ لڑکی کو خاموشی سے دیکھتا رہا، جو ساکت کھڑی تھی۔ وہ کچھ کہنے کے لیے الفاظ ڈھونڈ رہا تھا، مگر زبان ساتھ نہیں دے رہی تھی۔

“بیٹھو!”
اس نے سنجیدگی سے کہا۔ مانو خاموشی سے صحن میں رکھی ہوئی چارپائی کے ایک کونے میں جا کر بیٹھ گئی، نظریں جھکائے جیسے اپنی موجودگی کو نظرانداز کرنا چاہتی ہو۔ اس کے کپکپاتے ہوئے ہاتھ اس کے اندر کے ڈر، پریشانی اور بے چینی کو ظاہر کر رہے تھے۔ اس کے قریب ہی زیغم دونوں ہاتھ کمر پر باندھے کھڑا تھا۔ چادر میں لپٹا ہوا اس کا نازک سا وجود دیکھ کر زیغم کو اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ ایج میں زیادہ سے کافی چھوٹی ہے۔ وہ کافی حد تک ڈری ہوئی تھی۔

“تمہارا نام کیا ہے؟”
زیغم نے گہری سانس لیتے ہوئے آہستہ سے اس کا نام پوچھا۔

“مہروالنساء”
سرگوشی کی طرح اس نے جواب دیا۔
گھر میں ایک بوجھل خاموشی چھا گئی۔ زیغم کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا، اور مہروالنساء کے پاس سننے کی ہمت نہیں تھی۔ وہ تو کبھی کسی عورت کے ساتھ نہیں ملی تھی اور یہاں تو اس کے مقابل ایک مرد کھڑا تھا وہ بھی پورے گھر میں اکیلے ماحول کے بیچ میں۔ اس کی اماں صبح سے گھر کو باہر سے تالا لگا کر جاتی تھی تو رات کو آ کر خود اپنے ہاتھوں سے کھول کر گھر کے اندر داخل ہوتی تھی۔ گھر میں کسی کو آنے کی اجازت نہیں تھی اور نہ مہروالنساء کو کہیں باہر جانے کی اجازت دی۔ اپنے بچپن سے لے کر جوانی تک کا جتنا سا سفر طے کیا تھا۔ اس کے لیے یہی اس کی دنیا تھی۔ ہوش سنبھالنے کے بعد اس نے یہی سب کچھ دیکھا تھا۔ باہر کی دنیا کیسی تھی، دنیا والے کیسے تھے وہ اس واسطے پوری طرح سے انجام تھی۔ زیادہ سے زیادہ دروازے کے اندر سے چھوٹے چھوٹے سوراخوں سے باہر نظر دوڑاتی تو کبھی گزرتے ہوئے کچھ بچے نظر آجاتے تو کبھی کچھ لوگ۔ اور آج اچانک سے سارا منظر بدل چکا تھا وہ ہستی اس سے دور جا چکی تھی جو اسے اپنے پروں میں چھپائے ہوئے تھی۔ وہ ایسے محسوس کر رہی تھی جیسے اس کے سر سے آسمان ہٹ گیا ہو اور وہ کڑی دھوپ میں اکیلی کھڑی ہو۔ پوری دنیا میں کوئی بھی تو اس کا اپنا نہیں تھا۔ بے اختیار اپنی اماں کے بارے میں سوچتے ہوئے وہ سسکیوں کی مدھم آواز میں رو رہی تھی۔ زیغم سلطان اس کی تکلیف کو سمجھ رہا تھا مگر اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اس لڑکی سے کیا کہے کیسے اس کو دلاسا دے۔ ان دونوں کے درمیان ایک انجان مستقبل کھڑا تھا، جس کا راستہ ابھی کسی کو بھی نہیں معلوم تھا۔

“چلو، تمہیں میرے ساتھ چلنا ہے۔”
زیغم نے ہمت جُٹاتے ہوئے کہا۔
وہ کچھ بولی نہیں، بس خاموشی سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

“میں اپنے کپڑے لے لوں؟”
اس کے لہجے میں معصومیت، خوف اور دکھ سب ایک ساتھ جھلک رہے تھے۔

“ہمم… لے لو۔”
وہ آہستہ قدموں سے اپنے بوسیدہ سے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔ زیغم کچھ دیر کمر پر ہاتھ باندھے وہیں کھڑا رہا۔ جب وہ باہر نکلی تو اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی کپڑوں کی پوٹلی تھی، جس میں شاید دو سے تین جوڑے ہوں گے۔

“بس یہی ہے؟”
زیغم نے پوچھا۔

“جی۔”

“ٹھیک ہے، چلو۔”
وہ دروازے کی طرف بڑھا مگر پلٹ کر دیکھا تو وہ اب بھی وہیں کھڑی تھی۔ روتی آنکھوں اور ساکت وجود کے ساتھ وہ پورے گھر کو تک رہی تھی۔ شاید یہ جگہ اس کے لیے محض ایک بوسیدہ جھونپڑی نہیں تھی، بلکہ اس کی یادوں، اس کے گزرے لمحوں اور اس کی ماں کی آخری نشانی تھی۔

“میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں، چلو۔ خدا نے جو تقدیر میں لکھا ہوتا ہے، اسے قبول کرنا پڑتا ہے۔ بے شک یہ وقت تمہارے لیے بہت خاص ہے، مگر حویلی میں تمہیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔”
زیغم نے بڑی ہمت کرکے چند ہمدردی کے بول کہے۔ وہ خاموشی سے اس کے پیچھے چل دی۔ دروازے تک پہنچ کر اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا تالا دروازے پر لگایا، چابی ہاتھ میں لی، اور لبوں سے لگا کر آخری بار اپنے گھر کو دیکھا۔ پھر نظریں جھکا کر زیغم کے ساتھ قدم بڑھا دیے۔ دونوں کی سوچ ایک دوسرے سے مختلف، دونوں کا اسٹیٹس الگ، دونوں بالکل جدا ماحول میں پل کر بڑے ہوئے۔ ایک محلوں کا شہزادہ، جس کی دنیا شاہانہ تھی، جس نے دنیا کے کونے کونے کی سیر کی، جس کی زندگی آسائشوں اور اختیار سے بھری ہوئی تھی۔ تو دوسری جانب ایک ایسی لڑکی، جو ایک غریب سے گھر میں پیدا ہوئی، جس کی دنیا گھر کی چار دیواری تک محدود تھی، جس نے کبھی اپنے خوابوں سے آگے کچھ سوچا ہی نہیں تھا۔ وہ ان پڑھ، مگر اس کے سینے میں قران پاک ہی محفوظ تھا۔ اور دوسری جانب وہ وکیل، جس کی دنیا میں ایک الگ پہچان تھی، جس کے الفاظ قانون کی طاقت رکھتے تھے، جس کے فیصلے دوسروں کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ایک شان و شوکت کا عادی، دوسری سادگی کا پیکر۔ ایک کے حکم پر لوگ جھک جاتے، دوسری سر جھک کر زندگی گزارنے کی عادی۔ مگر قسمت کے کھیل بھی نرالے ہوتے ہیں۔ جنہیں کبھی ایک دوسرے کے قریب آنا بھی نصیب نہ ہو، وہی تقدیر کے دھاگوں میں ایسا الجھتے ہیں کہ راستے ہمیشہ کے لیے جُڑ جاتے ہیں۔ اب یہ دو مختلف دنیاؤں کے باسی، جب ایک دوسرے کے ہمسفر بننے جا رہے ہیں، تو یہ ساتھ انہیں کس موڑ پر لے کر جائے گا؟
یہ ہم آہنگی میں بدلے گا یا تضادات کی دیواریں کھڑی کرے گا؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا!
°°°°°°°°°°
سلطان کی گاڑی کے قریب آکر مہروالنساء کی نظریں اس سیاہ چمکتی گاڑی پر جمی تھیں، جو اس کے لیے کسی بلا سے کم نہ تھی۔ اس کے گارڈز اردگرد محتاد انداز میں کھڑے تھے۔ زیغم سلطان جیسے ہی گاڑی کے قریب آیا اس کے گارڈ نے پھرتی سے دروازہ کھول دیا تھا۔ مگر گاڑی کے دروازے پر مہروالنساء کی لرزتی انگلیاں ہچکچاہٹ کا شکار تھیں۔

“بیٹھو!”
زیغم کی گہری آواز ابھری۔
مہروالنساء نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا، پھر گاڑی کی بلندی کو۔

“کیسے بیٹھوں؟ بہت اونچی ہے…”
زیغم نے ہاتھ آگے بڑھایا۔
مہروالنساء کی سانسیں الجھنے لگیں۔ وہ کسی کے لمس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ جلدی سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو میں پکڑی ہوئی کپڑوں والی گٹلی کو اور مضبوطی سے باندھ لیا۔ زیغم کی پیشانی پر شکن ابھری، پھر ایک نظر گاڑی کے دروازے کے ہینڈل پر ڈالی۔

“ٹھیک ہے! اوپر ہینڈل پکڑو اور پاؤں یہاں رکھو۔”
مہروالنساء نے ہچکچاہٹ سے اوپر دیکھا۔ وہ تھوڑا اور پیچھے ہوئی، پھر آہستہ سے ہینڈل کو تھاما اور کانپتے قدموں سے گاڑی کے اندر چڑھنے لگی۔ اس کے لیے گاڑی کے اندر قدم رکھنا بہت مشکل کام تھا۔ جس لڑکی نے کبھی گاڑی نہیں دیکھی تھی وہ اتنی بڑی گاڑی دیکھ کر پریشان نہ ہوتی تو کیا کرتی۔ مہروالنساء کی تو دنیا ہی چند گھنٹوں میں بدل چکی تھی۔ ہزاروں سوال اس کے چھوٹے سے معصوم دل کے اندر تھے مگر نہ جواب پوچھنے کی ہمت تھی نہ کوئی جواب دینے والا اس وقت اسے نظر آرہا تھا۔ زیغم سلطان، جو پچھلی سیٹ پر اس کے ساتھ ہی بیٹھا تھا، ایک نظر اس کے لرزتے وجود پر ڈال کر رخ پھیر چکا تھا۔ ڈرائیور نے گیئر بدلا، اور گاڑی نرم رفتار میں آگے بڑھنے لگی، جبکہ گارڈز دوسری گاڑی میں پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ مہروالنساء نے ایک آخری نظر باہر کی دنیا پر ڈالی، جو اب اس کے لیے بہت پیچھے چھوٹ رہی تھی۔ اس جگہ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کا رشتہ ختم ہو رہا تھا کوئی بھی تو نہیں تھا جس کے لیے وہ ملنے کے بہانے کبھی واپس آ سکتی تھی۔ دبی دبی سی سسکیاں وہ اپنے حلق میں روکے ہوئے تھی۔ اسے اپنی اماں کی بہت یاد آ رہی تھی۔ اس وقت تو اس کی اماں گھر اس کے پاس آ جایا کرتی تھی۔ پورے دن کے انتظار کے بعد یہ وقت تو ان دونوں کا ہوتا تھا۔

“اماں! کہاں چلی گئی ہو مجھے چھوڑ کر؟”
“میں کیسے رہوں گی آپ کے بغیر؟”
وہ دماغ میں سوچتے ہوئے رو رہی تھی، اور اس کے آنسو اس کے نقاب کے اندر جذب ہوتے جا رہے تھے۔
دوسری جانب، زیغم اپنی ہی سوچوں میں گم تھا۔ اس کی اپنی زندگی کی بہت ساری الجھنیں تھیں، اور آج ایک اور الجھن کا اضافہ ہو چکا تھا۔ بے شک اس لڑکی کو ایک چھت اور دو وقت کی روٹی چاہیے تھی، مگر جس گھر میں وہ اسے لے کر جا رہا تھا، وہاں کے لوگ تو اچھے بھلے انسانوں کی زندگیاں تباہ کرنے اور ان کے منہ سے نوالے چھیننے میں ماہر تھے۔ اس گھر میں لے کر جاتے ہوئے پتہ نہیں کیوں، مگر زیغم کا دل گھبرا رہا تھا اور مائد کے گھر وہ اسے لے کر جا نہیں سکتا تھا کیونکہ وہاں پہلے ہی ارمیزہ اور دانیا موجود تھیں۔ مزید بوجھ ڈالنا اسے مناسب نہیں لگا۔ وہ پہلے ہی اپنے اصولوں کو نظرانداز کر کے اپنی بہن اور بیٹی کی حفاظت کے لیے انہیں وہاں چھوڑ چکا تھا۔ انہی سوچوں میں الجھا ہوا تھا کہ موبائل اچانک گاڑی میں بجنے لگا۔ مائد کا فون آ رہا تھا۔

“مائد، میں آج نہیں آ سکوں گا، میں حویلی جا رہا ہوں۔”
فون اٹھاتے ہی زیغم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا۔

“حویلی؟ مگر کیوں؟”
“تم تو یہاں آنے والے تھے!”
“ارمیزہ تمہارا انتظار کرتے کرتے اپنے روم میں جا چکی ہے، اور تم ہو کہ پتہ نہیں کیا مصروفیات لیے بیٹھے ہو! کم از کم اپنی بیٹی کو ملنے تو آ سکتے تھے!”
مائد کی آواز میں خفگی نمایاں تھی۔

“سوری یار، آنا چاہتا تھا، بس مجبوری تھی، کام بہت ضروری تھا!”
زیغم نے مختصر جواب دیا۔

“سنبھال لینا اسے، میں فون رکھتا ہوں، صبح ملتا ہوں تم سے۔”
وہ کہتے ہی فون بند کر چکا تھا۔
گاڑی میں گہری خاموشی چھا گئی تھی۔ زیغم موبائل کی اسکرین پر آئے ہوئے میسجز دیکھنے لگا، جبکہ مہروالنساء کی دنیا جیسے رک چکی تھی۔ آنکھوں میں آنسو، دل میں خوف… یہ سفر اسے کہاں لے جا رہا تھا، یہ سوچ ہی اس کے وجود کو ہلا دینے کے لیے کافی تھی۔
°°°°°°°°°°°°°
حویلی کے اندر قدم رکھتے ہی ایک گہری خاموشی نے ان کا استقبال کیا۔ رات کافی ہو چکی تھی، شاید اسی لیے سب اپنے کمروں میں جا چکے تھے۔ لمبے ستونوں پر جلتے مدھم فانوس، بھاری پردے، اور مہنگے قالین، ہر چیز ایک عجیب سا رعب لیے ہوئے تھی۔ سامنے کچن کے دروازے سے ایک ملازمہ برتن سمیٹتی باہر آئی، زیغم کو دیکھ کر فوراً ادب سے رک گئی۔

“سلام سائیں!”

“وعلیکم السلام۔ ان کے لیے روم کا انتظام کرو اور کھانے کا بھی۔”
زیغم نے سنجیدگی سے کہا۔

ملازمہ نے لمحہ بھر توقف کیا، پھر ہچکچاتے ہوئے بولی:
“سائیں… کمرہ حویلی کے اندر یا باہر؟”
سوال صاف تھا۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ کمرہ حویلی کے اندر ہوگا یا سرونٹ کوارٹر میں۔ زیغم کی نظریں ایک دم ملازمہ پر جم گئیں۔ آنکھوں میں ایسی سختی تھی کہ وہ گھبرا کر سر جھکا گئی۔

“حویلی کے اندر!”
زیغم کا لہجہ حکم دہ تھا، اور اس کے چہرے کے تاثرات میں کوئی نرمی نہ تھی۔

“جی سائیں، ابھی کر دیتی ہوں!”
ملازمہ نے جلدی سے سر ہلایا اور پلٹ گئی۔
مہروالنساء نے اس مختصر گفتگو کو خاموشی سے سنا، اس کے ذہن میں کچھ بھی نہیں تھا نا اچھا نہ برا۔ بے خیال سی نظروں سے وہ چاروں اطراف میں دیکھ رہی تھی مگر زیغم سلطان کو نجانے کیوں ملازمہ کا یہ سوال اچھا نہیں لگا تھا۔ جو بھی ہوا تھا، جیسے بھی ہوا تھا، مگر وہ زیغم سلطان کے نکاح میں تھی اور زیغم سلطان کی عزت یہ گوارا نہیں کرتی تھی کہ اس کے نکاح میں جو عورت ہو، وہ سرونٹ کوارٹر میں رہے۔ ملازمہ مہروالنساء کو اس کے کمرے تک چھوڑنے آئی۔ زیغم اپنے روم کی جانب بڑھ گیا تھا۔ روم میں آتے ہی مہروالنساء کی نظریں چاروں طرف گھوم رہی تھیں۔ یہ کمرہ کسی عام انسان کے لیے شاید سادہ ہوتا، مگر اس کے لیے تو یہ کسی محل کے خوابیدہ گوشے سے کم نہیں تھا۔ نرم قالین پر قدم رکھتے ہی اسے لگا جیسے زمین نے پہلی بار اسے نرمی کا احساس دیا ہو۔ دیواروں پر آویزاں پینٹنگز، ہلکی روشنی بکھیرتے فانوس، اور ایک سجے سجائے بیڈ کو دیکھ کر وہ مبہوت سی کھڑی رہ گئی۔ اس کے ہاتھ میں اب بھی وہ پوٹلی تھی، جس میں اس کی کل دنیا سمٹی ہوئی تھی—چند جوڑے، جو وقت کے ساتھ جیسے اس کے وجود کا حصہ بن چکے تھے۔ جس نے ساری عمر ایک بوسیدہ چارپائی اور سرد گرم موسم کی مار جھیلنے والی رضائی میں گزاری ہو، اس کے لیے یہ سب کسی اور دنیا کا قصہ لگ رہا تھا۔ آنکھوں میں حیرت لیے وہ خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ گئی۔ ابھی اس کا دل ضبط کی جنگ لڑ ہی رہا تھا کہ دروازہ ہلکی سی آواز کے ساتھ کھلا۔ ایک ملازمہ ایک نفیس سی ٹرالی لیے اندر آئی، جس پر رنگ برنگے کھانے سجے تھے۔ چمکتی پلیٹوں میں کھانے کی وہ اقسام تھیں جن کے نام بھی شاید مہروالنساء نے کبھی نہ سنے تھے۔ خوشبوئیں اس کے حواس پر چھا گئیں، مگر اس کی ہمت نہ ہوئی کہ ہاتھ بڑھا سکے۔

“بی بی جی، اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا لیجیے گا۔”
ملازمہ مؤدبانہ انداز میں بولی اور باہر چلی گئی۔
مہروالنساء نے بمشکل سر ہلایا۔ نظریں اس دسترخوان پر ٹک گئیں جو شاید اس جیسے کسی کے لیے نہیں تھا۔ ہاتھ بے اختیار اپنی پوٹلی کو مضبوطی سے تھامنے لگے، جیسے یاد دلانا چاہتی ہو کہ وہ کہاں سے آئی ہے اور یہ دنیا اس کی نہیں. مہروالنساء کی بھوک شدت اختیار کر چکی تھی۔ کل سے کچھ نہیں کھایا تھا، اماں کی طبیعت خراب تھی تو اسے بھوک کا ہوش ہی نہیں رہا مگر پیٹ تو آخر پیٹ ہوتا ہے، کب تک خالی رہتا۔ آج جب سامنے اتنا سجا سنورا کھانا رکھا تھا، تو اس کے اندر کی بھوک جاگ اٹھی، مگر… یہ سب اس کے لیے نیا تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ کہاں سے شروع کرے، کیا کھائے، کیسے کھائے؟
ہلکی سی جھجھک کے ساتھ اس نے چہرے پر موجود نقاب ہٹایا، نظریں جھکائے جو سمجھ میں آیا، تھوڑا سا پلیٹ میں نکالا، اور زمین پر بیٹھ گئی۔ اتنا خوبصورت کمرہ تھا، نرم اور آرام دہ صوفے تھے، مگر اسے لگا جیسے وہ وہاں بیٹھنے کے قابل ہی نہیں۔ اس کے دل میں کہیں نہ کہیں یہ خوف تھا کہ اگر وہ وہاں بیٹھ گئی تو شاید سب گندا ہو جائے گا، یہ سب کچھ اس کا نہیں تھا، وہ اس ماحول کا حصہ نہیں تھی اور وہ سن چکی تھی کہ اس گھر کی مالک کوئی اور ہے۔ جب زیغم نے یہ بتایا تھا کہ اس کی شادی ہو چکی ہے اس کی بیٹی بھی ہے تو مہروالنساء چاہے جتنی بھی معصوم کیوں نہ ہو اتنا تو سمجھ چکی تھی کہ سائیں کی زندگی میں اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور اسے کوئی امیدیں تھی بھی نہیں۔ وہ جانتی تھی کہ کہاں وہ اور کہاں وہ محلوں کا شہزادہ اس کا تو کوئی اس کے ساتھ جوڑ ہی نہیں۔
پہلا نوالہ منہ میں رکھتے ہی آنکھوں میں آنسو اتر آئے۔ وہ روتے ہوئے کھانے لگی، ہر نوالے کے ساتھ اماں کی یاد شدت اختیار کر گئی۔ وہی اماں، جو ہمیشہ اس کے کھانے کا دھیان رکھتی تھی، جو خود بھوکی رہ لیتی، مگر اسے کبھی بھوکا نہیں رہنے دیتی تھی۔ آج وہ اکیلی تھی، ایک اجنبی جگہ پر، ایک اجنبی احساس کے ساتھ۔
ہلکے ہلکے نوالے چباتے ہوئے اس کی نظریں دھندلا گئیں۔ وقت جیسے تھم سا گیا تھا۔ اماں کی محبت، وہ چھوٹا سا کمرہ، بوسیدہ چارپائی، اور ان کے ہاتھوں کی بنی وہ سادہ سی روٹی۔۔۔۔سب کچھ یاد آ رہا تھا۔ ہر نوالہ حلق میں اٹکنے لگا۔ کیا واقعی وہ اس نئی دنیا میں رہ سکے گی۔
°°°°°°°°°°

اگلا ایپیسوڈ ملاحظہ کیجیے

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *