Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:18

رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر 18
°°°°°°°°°°°
گاؤں کی مٹی محبت کا رنگ فضاؤں میں ملا ہوا تھا۔ چاروں طرف پرسکون ہوائیں چل رہی تھی۔ ہوا کے دوش پر اڑتی گاڑی جیسے ہی کچے راستے پر پہنچی، تو زرام کے چہرے پر ایک عجیب سی خوشی تھی۔ دس دن بعد اپنے گاؤں واپس آ رہا تھا، اور اب کے بار وہ صرف چند دنوں کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے آیا تھا۔ ماشاءاللہ سے اس کی ٹریننگ مکمل ہو چکی تھی، اور اب وہ پورے جوش و خروش کے ساتھ اپنے گاؤں کے ہسپتال کو سنبھالنے کا ارادہ لے کر آیا تھا اور یہ خوشی وہ اپنے گھر والوں سے نہیں دانیا اور ارمیزہ سے بانٹنا چاہتا تھا۔ گھر والے تو صرف نام کے تھے جن کو اپنی مطلبی اور فرضی دنیا سے فرصت ہی نہیں تھی۔ ہزاروں اچھی خواہشیں لیے وہ گاؤں آیا تھا وہ دوسرا زیغم سلطان بننا چاہتا تھا، وہ اپنے تایا سلطان لغاری کے جیسا بننا چاہتا تھا، گاؤں کی خدمت کرنا چاہتا تھا، ایک اچھا نام بنانا چاہتا تھا یہ سب جذبے وہ دل میں لیے منزل طے کر رہا تھا۔
گاڑی کی رفتار تیز تھی، سڑک ایک سائیڈ سے تیزی سے تیار ہو چکی تھی دوسری سائیڈ پر کام چل رہا تھا بیچ میں تھوڑا سا رستہ کچا تھا جہاں سے گزر کر پکی سڑک پر چڑھا جاتا تھا اور بے دھیانی میں اس کا دھیان سامنے موجود پانی کے گڑھے پر نہیں گیا۔ جیسے ہی گاڑی کا ٹائر پانی سے ٹکرایا، چھینٹے قریب سے گزرتے ہوئے پانچ چھ لوگوں پر جا گرے۔ ایک لمحے کو زرام کو سمجھ نہیں آیا کہ کیا ہوا، مگر اگلے ہی پل وہ شرمندہ ہو کر گاڑی سے باہر نکلا۔ چمچماتی بڑی سی گاڑی سے نکلتے ہوئے اس کے جینز کے اوپر پہنی ڈارک چاکلیٹ براؤن شرٹ اس کی صاف رنگت پر خوب جچ رہی تھی، اور آنکھوں پر لگا دھوپ والا چشمہ اس کے پرکشش انداز کو مزید نمایاں کر رہا تھا۔

“سوری پلیز! میں نے دیکھا نہیں تھا، معذرت چاہتا ہوں!”
زرام نے جلدی سے کہا۔
وہ خواتین، جو کھیتوں سے جانوروں کے لیے چارہ لے کر جا رہی تھیں، زرام کی شرمندگی دیکھ کر مسکرا دیں۔

“نہیں سائیں، کوئی بات نہیں، آپ کو شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں!”
ان میں سے کچھ جانتی تھیں کہ وہ حویلی سے تعلق رکھتا ہے، مگر زیادہ تر لوگوں یہ نہیں پتہ تھا کہ یہ توقیر لغاری کا بیٹا ہے۔ ‘زرام کا تعلق حویلی سے ہے’ زیادہ تر لوگوں کو صرف اتنا ہی پتہ تھا کیونکہ زرام کا یہاں پر آنا جانا بہت کم رہا تھا، تو لوگوں کو اس کے بارے میں کم پتہ تھا۔ خواتین آگے بڑھ گئیں۔ صبح کا وقت تھا، سڑک پر ابھی زیادہ رش نہیں تھا۔ کچھ بچے اسکول جا رہے تھے، کچھ اساتذہ، اور کچھ لوگ اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے مگر جیسے جیسے سورج بلند ہوتا، راستے پر بھیڑ بھی بڑھ جاتی۔ زرام گاڑی کی طرف بڑھا ہی تھا کہ پیچھے سے ایک مانوس آواز نے اس کا تعاقب کیا۔ وہ آواز سنتے ہی مسکرا دیا۔ اسے پہچاننے میں ذرا بھی دیر نہیں لگی۔ جیسے ہی پلٹا، چہرے پر اور بھی رونق آ گئی۔ کیا چاہیے تھا اسے؟ اپنے گاؤں میں قدم رکھتے ہی اپنی محبت کا دیدار نصیب ہو گیا تھا۔

“اندھوں کی طرح گاڑی چلانا تمہاری فطرت ہے، یا غریب غربہ لوگ تمہیں نظر ہی نہیں آتے؟”
“سب کیڑے مکوڑے لگتے ہیں تمہیں؟”
“گاڑی میں بیٹھ کر خود کو آسمانی مخلوق سمجھتے ہو؟”
ملیحہ کی تیز، غصے سے بھری آواز گونجی۔ وہ جو دور سے ہی اس کی حرکت دیکھ چکی تھی، بغیر سنے ہی زرام پر برس پڑی تھی۔ شاید سب کے حق کے لیے کھڑا ہونا اس کی فطرت میں شامل تھا۔ زرام نے دھوپ والا چشمہ آنکھوں سے ہٹایا، ایک نظر اس کی طرف دیکھا، پھر گاڑی سے ٹیک لگا کر دونوں بازو باندھ لیے۔ وہ جانتا تھا کہ اب اس کی “تیکھی مرچ” رکنے والی نہیں۔ بس بولتی ہی جائے گی مگر لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی، جو بتا رہی تھی کہ ملیحہ کو یوں سامنے دیکھ کر اس کا دل کتنا خوش ہو گیا تھا۔
سکن کلر کے گاؤن کے اوپر میچنگ پرنٹڈ حجاب، گلے میں ہینڈ بیگ ڈالے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ اس کا نکھرا نکھرا چہرہ کسی بھی میک اپ کے بغیر بھی دل موہ لینے والا تھا۔ اور زرام، جو کچھ لمحے پہلے گاڑی کی رفتار سے کھیل رہا تھا، اب وقت کو تھمے دیکھنا چاہتا تھا—بس ملیحہ کو دیکھتا رہے، یونہی، خاموشی سے کھڑا اس کا دیدار کرتا رہے۔ زرام کی محبت کی چنگاری اور ملیحہ کی چڑ کر کی ہوئی تکرار کی جنگ ہمیشہ ہی دلچسپ ماحول کریٹ کر دیتی ہے۔

“تم بہرے ہو یا نشہ وشہ کر کے آئے ہو؟”
ملیحہ نے غصے سے لفظوں کو چباتے ہوئے کہا، آنکھیں تیز، لہجہ سخت۔ پتہ نہیں کیوں، مگر اسے زرام سے ایک خاص قسم کی چڑ تھی، اسے دیکھتے ہی ملیحہ کا دل کرتا تھا کہ اس کو چار کھری کھری سنا دے۔ زرام جو اب تک ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا، اب ذرا سا سر جھٹک کر سیدھا ہوا۔

“نہیں، بہرا تو نہیں، الحمدللہ بالکل ٹھیک ٹھاک سن سکتا ہوں۔ ہاں، نشے والی بات کی جا سکتی ہے……”
اس نے جان بوجھ کر جملہ ادھورا چھوڑا اور ایک معنی خیز نظر اس پر ڈالی۔

ملیحہ نے گھور کر دیکھا۔
“کیا مطلب؟”

“مطلب یہ کہ جب صبح صبح تم جیسی نشیلی چیز سامنے کھڑی ہو، تو بندے کو نشہ تو چڑھ ہی سکتا ہے، ہے نا؟”
زرام نے شوخی سے کہا اور اپنے چشمے کو گھما کر دوبارہ آنکھوں پر لگا لیا۔

“آگئے نا چھچھورے انسان! اپنی حرکتوں پر!”
ملیحہ نے اسے گور کر دیکھتے ہوئے کہا۔

“تمہاری قسم، میں بالکل چھچھورا نہیں ہوں… مگر کیا کروں، تمہیں دیکھ کر میرا اچھا خاصا سوبر دل خودبخود چھچوری حرکتوں پر آ جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں تو میں بہت شریف انسان ہوں!”
زرام نے لبوں پر مسکراہٹ سجائے، شرارت بھری نظروں سے اس کے غصے سے بھرے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا۔

“ہاں ہاں، بہت بڑے شریف! معصومیت کے اعلیٰ پیکر تمہیں تو آسکر ایوارڈ ملنا چاہیے!”
ملیحہ نے آنکھیں سکیڑ کر طنزیہ لہجے میں جواب دیا۔

“لبوں پر غصہ، آنکھوں میں یہ چنگاریاں… قسم سے، غضب ڈھا رہی ہو!”
زرام نے گہری سانس لیتے ہوئے اسے مزید چڑانے کے انداز میں کہا۔

“تمہیں مزہ آ رہا ہے؟”
ملیحہ نے گھورتے ہوئے ہاتھ کمر پر رکھا، جیسے ابھی کوئی چیز اٹھا کر اس پر دے مارے گی۔

“ہاں مزہ تو بس تمہیں دیکھنے میں ہے، چاہے غصے میں ہی کیوں نہ دیکھوں!”
زرام نے آنکھ مار کر مزید شرارت سے کہا۔

“تمہیں پتہ ہے تمہاری باتیں اتنی فضول ہوتی ہیں کہ،تمہاری باتوں سن کر بندہ اپنا سر دیوار سے دے مارے!”
وہ زچ ہو کر بولی، جبکہ زرام کی ہنسی چھوٹ گئی۔

“ایسا نہ کرنا پلیز، تمہیں چوٹ لگ گئی تو درد میرے دل میں ہوگا!”
وہ مصنوعی فکرمندی سے بولا،مگر لبوں پر شرارتی مسکراہٹ سجائے ہوئے تھا جس سے ملیحہ کو مزید تپ چڑھ رہی تھی۔

“افف! میں کیوں تم سے بات کر رہی ہوں؟”
ملیحہ نے جھنجھلا کر رخ موڑ لیا، جبکہ زرام کی نظروں میں ایک الگ سی نرمی در آئی تھی، اس کے لیے یہ لمحے بہت قیمتی تھے۔ وہ اس خوبصورت لمحات میں ہمیشہ کے لیے قید ہونا چاہتا تھا۔

“مس ملیحہ، تمہیں مجھ سے بات کرنی ہے… اور ہمیشہ کرنی ہے۔ تمہاری باتیں ‘میرے دل کا سکون’ ہیں، تمہاری باتوں سے میری صبح ہوا کرے گی اور تمہاری باتوں پر ہی میری شام ڈھلا کرے گی!”
“تمہاری زندگی میں، میں ہوں اور صرف میں ہی رہوں گا۔ اگر مجھ سے پہلے کوئی تھا، تو مجھے اس سے کوئی غرض نہیں، مگر نہ کوئی آئے گا، نہ آسکے گا۔ ایسا ہوا تو تباہی آئے گی۔”
زرام نے بے حد شدت سے کہا، اس کی نظریں ملیحہ کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں، وہ ہر ایک لفظ اس کی آنکھوں سے میں اتار دینا چاہتا تھا۔
وہ ایک لمحے کو چپ ہوئی، شاید اس کے الفاظوں کی شدت نے اسے خاموش کر دیا تھا، مگر زرام اس وقت کسی اور ہی دنیا میں تھا، ایک ایسی دنیا جہاں صرف وہ اور ملیحہ تھے۔

“میں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی چیز کو اتنی شدت سے نہیں چاہا جتنا تمہیں چاہا ہے۔ تم میری ہو… صرف میری۔ تمہاری ہر ادا، تمہارا ہر نخرہ، تمہارا غصہ، سب کچھ پورے دل سے قبول ہے–––ہمیشہ تمہیں اپنی پلکوں پر سجا کر رکھوں گا۔ تمہیں دنیا کی ہر خوشی دوں گا، بس سوائے ایک چیز کے… بس تمہیں خود سے دور جانے نہیں دوں!”

ملیحہ نے گھبرا کر اکھڑی ہوئی سانس لی تھی۔ اس اچانک آفات کے لیے وہ بالکل تیار نہیں تھی مگر زرام نے اس کے بازو کو تھام کر اپنی بات مکمل کی۔
“تمہیں تحفظ دوں گا، عزت دوں گا، دنیا کی ہر خوشی تمہارے قدموں میں رکھوں گا!”

ایک پل کو ملیحہ کا وجود سن ہو گیا، مگر پھر جیسے ہی حقیقت کا احساس ہوا، اس نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑایا۔
“تمہاری نظر میں غریب لوگوں کی عزت نہیں ہوتی نا؟”
“یہی حرکت تمہاری سوسائٹی کی کسی لڑکی کے ساتھ کسی چھوٹے گھر کے مرد نے کی ہوتی، تو تم لوگ اسے کاٹ دیتے! مگر دوسروں کی بہو بیٹیاں تم لوگوں کے لیے صرف بیکار ردی ہوتی ہیں!”
زرام نے کچھ کہنا چاہا، مگر ملیحہ کی آنکھوں میں شدید غصہ تھا۔

“مگر میں تمہیں یہ سب کیوں سمجھا رہی ہوں؟”
“کیونکہ اگر تم سیکھنے کے قابل ہوتے، تو شاید میں تمہیں کچھ سمجھاتی! مگر تمہیں ایک کام ضرور کرنا چاہیے—اس گاؤں کے سربراہ زیغم سلطان سے ملنا، تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ عزت کیا ہوتی ہے، کیسے غریبوں کے ساتھ رحم دلی اور محبت کا رشتہ جوڑا جاتا ہے، اور کیسے دوسروں کی بہو بیٹیوں کو بھی تحفظ دیا جاتا ہے!”
وہ غصے سے بولتی ہوئی اپنا ہاتھ جھٹک کر چلی گئی، اور زرام کو جیسے جھٹکا لگا تھا۔ اسے شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ اس نے اس کا ہاتھ بیچ سڑک میں پکڑ کر غلطی کر دی۔ وہ سب کچھ بے ساختہ ہوا تھا، مگر محبت کبھی کبھی انسان کو لاپروا کر دیتی ہے، وہ سب کچھ بھول کر وہی کر بیٹھتا ہے جو دل کہتا ہے مگر سب سے زیادہ حیرانی زرام کو اس وقت ہوئی جب اسے احساس ہوا کہ ملیحہ کو یہ تک نہیں معلوم کہ وہ کس خاندان سے ہے۔

“مطلب یہ بے وقوف لڑکی یہ بھی نہیں جانتی کہ میں زیغم کا ہی بھائی ہوں؟”
وہ مسکرا دیا، ایک ایسی مسکراہٹ جو شرارت اور حیرت کے درمیان بٹی ہوئی تھی۔

“چلو، اچھا ہے… تھوڑا اور تمہیں سرپرائز کرنے کا موقع مل جائے گا!”
وہ زیرِ لب بولتا ہوا مسکرا دیا اور اسے جاتا ہوا کچھ دیر دیکھتا رہا۔ وہ نظروں سے اوجھل ہونے لگی تھی۔ زرام اپنی گاڑی میں بیٹھ گیا۔

“مجھے نہیں پتہ کہ زندگی کتنی ہے، مگر قسم سے، تمہارے ساتھ گزرا ہر لمحہ لاجواب ہے۔ زرام لغاری کو انتظار رہے گا اس دن کا، جب تم پورے حق سے میری ہو کر میری دسترس میں آؤ گی۔ وہ دن خوبصورت ہوگا، اور رات حسین۔ ہر لمحہ محبت سے بھرپور ہوگا، جہاں صرف تم اور میں ہوں گے، جہاں کوئی فاصلہ نہ ہوگا، نہ کوئی دنیا داری کی رکاوٹ آئے گی۔ میں دنیا کی ہر خوشی تمہارے قدموں میں لا کر رکھ دوں گا، تمہاری ہر خواہش پوری کرنا میں اپنا فرض سمجھوں گا۔ تمہارے نخرے، تمہاری ضدیں، تمہاری مسکراہٹیں، سب میری ہوگی۔ تمہاری باتوں سے میری صبح کی روشنی نکلے گی، اور تمہاری ہنسی میری رات کے سکون کی چادر ہوگی۔ تمہیں اپنی پلکوں پر بٹھاؤں گا، ہر تکلیف، ہر غم، ہر آنسو کو تم سے پہلے مجھ تک پہنچنا ہوگا۔ تم تک نہیں پہنچے گا اور وہ لمحہ… جب تم میرے نام کی ہو کر میری زندگی میں قدم رکھو گی، میں اس پل کو روک لینا چاہوں گا، اسے ہمیشہ کے لیے قید کر لینا چاہوں گا، تاکہ وہ کبھی ختم نہ ہو، ہمیشہ کے لیے میرا رہے۔”
زرام یہ سب سوچتے ہوئے لبوں پر ایک دلکش مسکراہٹ لیے، گاڑی حویلی کی طرف موڑ چکا تھا۔
°°°°°°°°
“آغاجان، پلیز! یہ سوپ پی لیجیے۔”
وہ التجا بھرے لہجے میں بولا، ہاتھ میں سوپ کا باؤل تھامے، نظریں آغا جان کے چہرے پر جمائے کھڑا تھا مگر وہ سختی سے رخ پھیر چکے تھا۔

“مجھے نہ تم سے کوئی بات کرنی ہے، نہ تمہارا لایا ہوا کھانا کھانا ہے، اور نہ یہ سوپ پینا ہے، سمجھے؟”
ناراضگی اور خفگی ان کے لہجے میں نمایاں تھی۔ ہسپتال کے بیڈ پر لیٹے ہونے کے باوجود ان کی سختی میں کوئی کمی نہ تھی۔

“یہ سب باتیں ہم گھر جا کر سلجھا لیں گے، ابھی تو بس طبیعت کا خیال کر لیں۔”
وہ بے بسی سے ان کے قریب ہوا، ہاتھ تھوڑا اور آگے بڑھایا تاکہ سوپ پلا سکے، مگر وہ اسی سرد مہری سے دیکھتے رہے۔

“کہہ دو اپنے بیٹے سے کہ مجھے اس سے کوئی بات نہیں کرنی!”
یہ جملہ انہوں نے مورے کو دیکھ کر کہا تھا۔ نظریں گہری تھیں، آواز میں ایک بے بسی اور ناراضی کا امتزاج تھا۔

“فضول کے چونچلے نہ دکھائے مجھے! بڑا آیا فرمانبردار بیٹا بننے!”
“جب میری عزت کو مٹی میں ملانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تو اب فرمانبردار بیٹا بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے ہسپتال میں مرنے کے لیے چھوڑ کر جا سکتے ہو۔ میری طرف سے اجازت ہے!”
مورے نے تڑپ کر انہیں دیکھا، آج خان کی ہر بات مورے کے دل پر ضرب لگا رہی تھی۔ خان اتنا جذباتی ہو کر ایسی باتیں کبھی نہیں کرتے تھے مگر اس وقت ان کا غصہ آخری حدوں کو چھو رہا تھا۔

“خدا کے واسطے، ایسی باتیں نہ کریں!”
“خدا آپ کو میری بھی عمر لگا دے۔ کیوں ایسی دل جلانے والی باتیں کر رہے ہیں؟ آپ کی طبیعت مزید خراب ہو جائے گی!”
مائد بے چین ہو کر بولا، آنکھوں میں نمی اترنے کو تھی۔ قریب کرسی پر بیٹھی مورے نے بھی بے اختیار نظریں جھکا لیں۔ وہ جانتی تھی کہ اس وقت کچھ بھی کہنے کا فائدہ نہیں، مگر یہ بھی سچ تھا کہ مائد کا دل آج ایک بار پھر بری طرح ٹوٹ چکا تھا۔

“ایک بار آپ کی بات سے انکار کر دیا تو میں فرمانبردار بیٹے کی لسٹ سے باہر نکل گیا؟”
آواز مدھم تھی مگر دکھ سے بوجھل۔ وہ نظریں جھکائے کھڑا تھا، جیسے اپنی صفائی دینے کی بھی ہمت نہ ہو۔

“اتنا بدظن ہو گئے مجھ سے کہ اب مرنے کی باتیں کرنے لگے ہیں؟”
“کیا ایک رشتے پر ٹکی ہے میری فرمانبرداری؟”
آنکھیں نمی سے لبریز ہوئیں، مگر وہ فوراً ہی اپنی کمزوری صاف کر گیا مگر آغا جان کے چہرے پر نرمی کا ایک شائبہ بھی نہیں تھا۔

“ہاں، اسی پر ٹکی ہے تمہاری فرمانبرداری!”
ان کے سخت الفاظ نے جیسے کمر توڑ دی ہو۔

“آج سے پہلے میں نے تم سے ایسا کیا مانگا ہے جو تمہیں اپنی فرمانبرداری دکھانے کا موقع ملا ہو؟”
“یہی ہے تمہاری فرمانبرداری، یا تو انکار کر کے ہمیشہ کے لیے مجھ سے دور ہو جاؤ، میں تم سے کوئی رشتہ نہیں رکھنا چاہتا، یا پھر آج اپنے بچپن کی منگ، اپنی غیرت کو اپناؤ اور میرے فرمانبردار بیٹے بن جاؤ! زندگی میں پھر کبھی تم سے کچھ نہیں مانگوں گا!”
کمرے میں گہرا سکوت چھا گیا۔ مورے نے بے چینی سے مائد کی طرف دیکھا، جو ساکت کھڑا تھا، جیسے فیصلہ کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔

“پلیز، آغا جان! بس سوپ پی لیں، آپ کو دوا دینی ہے۔”
آواز میں بے بسی تھی، مگر وہ جانتا تھا کہ ضد کے پہاڑ کو جھکانا آسان نہیں۔

“نہیں پیوں گا! چلے جاؤ یہاں سے!”
انہوں نے سختی سے رخ موڑ لیا، جیسے کوئی جذباتی کشمکش ان کے اندر بھی برپا ہو۔ مورے نے بے اختیار آنکھیں موند لیں، جبکہ مائد کی انگلیاں سوپ کے باؤل پر سختی سے جم گئیں، جیسے کسی نادیدہ درد کو برداشت کر رہا ہو۔
زندگی کبھی کبھی ایسے فیصلوں کے دہانے پر لے آتی ہے جہاں کوئی راستہ سکون کا نہیں ہوتا، جہاں ہر راہ دکھ سے بھری ہوتی ہے۔ آج مائد خان دورانی زندگی کے ایسے ہی دوراہے پر کھڑا تھا—یا تو اپنے آغا جان کی زندگی بچا سکتا تھا یا پھر اپنی ذات۔ آغا جان نے بہت آسانی سے کہہ دیا تھا کہ وہ فرمانبردار بیٹا نہیں، جبکہ حقیقت تو یہ تھی کہ مائد ہمیشہ سے ہی ان کا فرمانبردار بیٹا تھا۔
اس نے گہری سانس لی، آنکھیں بند کیں اور مٹھیاں سختی سے بھینچ لیں، جیسے خود کو ٹوٹنے سے بچانے کی آخری کوشش کر رہا ہو۔ باؤل کو سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر وہ دروازے کے قریب جا کر رکا، دونوں ہاتھ کمر پر رکھے کچھ لمحے خود کو سنبھالتا رہا۔ آج کا فیصلہ اس کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدلنے والا تھا۔ کچھ درد ایسے تھے جو ہمیشہ کے لیے اس کے اندر قید ہو جانے والے تھے۔ آج کے بعد نہ کوئی امید تھی، نہ کوئی آس کہ اس کے دل کا باغ کبھی ہرا نا ہوگا۔ وہ ایک ایسے رشتے کے لیے ہامی بھرنے جا رہا تھا، جس کے لیے اس کا دل کبھی رضامند نہ ہوا۔ ایک ایسی لڑکی کے ساتھ زندگی گزارنے کا وعدہ کرنے جا رہا تھا، جسے اس نے کبھی اپنی دلہن کے روپ میں نہیں دیکھا تھا، نہ خوابوں میں اور نہ حقیقت میں۔ اس کی آنکھوں نے کبھی اس کا خواب نہیں دیکھا تھا، نہ چاہا تھا کہ وہ اس کی دسترس میں آئے۔ ہمیشہ اس سے دور رہنے کی خواہش رکھی تھی، مگر آج آغا جان کا فرمانبردار بیٹا بننے کے لیے، مائد خان دورانی نے اپنے ہاتھوں سے اپنے دل کے اتنے ٹکڑے کر دیے تھے کہ وہ ساری عمر بھی چبھتے رہیں، تو بھی عمر کم پڑ جائے گی۔

“پی لیجیے سوپ۔ قبول ہے مجھے جو دل چاہتا ہے، فون کر کے انہیں تاریخ دے دیجیے، میری طرف سے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔”
آواز مضبوط تھی مگر اندر کہیں نہ کہیں وہ خود کو توڑ رہا تھا۔ دروازے کی جانب رخ کیے، ضبط کی آخری حد پر کھڑا وہ ان لفظوں کو ادا کر گیا، جو اس کے لیے کسی اذیت سے کم نہ تھے۔

“آپ کا فرمانبردار بیٹا بننے کے لیے مائد خان مر کر بھی اس رشتے کو توڑنے کے بارے میں دوبارہ نہیں سوچے گا!”
مورے نے بے بسی سے اس کی طرف دیکھا، مگر وہ چہرہ موڑے کھڑا رہا۔ وہ اپنے اندر کی جنگ باہر نہیں لانا چاہتا تھا۔ ایسا ہی تھا مائد خان درانی اپنے دل کی بات کسی پر نہ ظاہر کرنے والا۔

“مورے، آغا جان کو سوپ پلا دیجیے، ان کی دوا کا وقت ہو رہا ہے۔ اگر کوئی غلطی یا کوتاہی ہو گئی ہو، جس سے آپ کا دل دکھا ہو، تو معافی چاہتا ہوں۔ آئندہ کبھی آپ کو تکلیف نہیں پہنچاؤں گا۔ یہ میری زندگی کی پہلی اور آخری غلطی سمجھ کر معاف کر دیجیے۔”
یہ کہتے ہوئے وہ آہستہ سے دروازے کھول کر دہلیز پار کر گیا، مگر اس کے لفظوں کی گونج کمرے میں باقی رہی۔ مورے اور آغا جان نے اس کے لفظوں میں چھپا درد محسوس کر لیا تھا۔ مورے خاموشی سے اٹھ کر آغا جان کو سوپ پلانے لگی، اور آغا جان بغیر کچھ کہے، بنا کسی مزاحمت کے سوپ پیتے رہے۔ ایسا نہیں تھا کہ مائد خان دورانی کا درد ان تک نہیں پہنچا، مگر آج ایک بار پھر روایات جیت گئی تھیں۔ ماں باپ نے روایات کی بھینٹ ایک ایسے شہزادے کو چڑھا دیا تھا، جو دل سے اس رشتے کے لیے خوش نہیں تھا، مگر فرمانبردار بیٹا بن کر پس گیا تھا—اس چکی میں، جسے ‘روایات’ کہتے ہیں۔
°°°°°°°°°°
“مہرو النسا٫” کی گھنی پلکوں میں ہلکی سی لرزش ہوئی، جیسے نیند کی دبیز تہہ کو چیر کر ہوش کی سرحدوں میں قدم رکھنے والی تھی۔ زیغم سلطان کی نظریں ایک پل کے لیے اس جنبش پر ٹھہر گئیں۔ پلکوں کی وہ ہلکی سی لرزش، جیسے ہوا کے نرم جھونکے سے شبنم کے قطرے لرز اٹھیں، زیغم کے دل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کر گئی۔ وہ صوفے پر بیٹھا تھا مگر محسوس یوں ہو رہا تھا جیسے وہ کسی انجان بے قراری میں ڈوب رہا ہو۔ اس کی گرفت صوفے کی باہری کناروں پر سخت ہونے لگی۔ دل کی دھڑکنیں کسی نامعلوم شدت سے تیز ہوئیں، جیسے کسی انجانی کشش نے اس کی پوری ذات کو اپنی گرفت میں لے لیا ہو۔”مہرو النسا٫” کی پلکیں مزید لرزیں، ہلکا سا خمیدہ سا سایہ اس کی آنکھوں کے گرد پڑا، جیسے کوئی خواب ٹوٹ کر حقیقت کی دنیا میں آنے کو بے تاب ہو۔ زیغم نے گہری سانس لی، مگر اس کے لبوں پر کوئی لفظ نہیں آیا۔ یہ لمحہ، یہ کیفیت، یہ احساس… سب کچھ نیا تھا، انوکھا تھا، اور شاید… بہت خوبصورت بھی!

“مم… ممم… میں، میں یہاں کیسے آئی؟”
وہ جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ الجھی ہوئی نظریں بدلے ہوئے کمرے میں گھومی، پھر زیغم پر ٹھہر گئیں جو خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا،اس کی گہری پرکشش آنکھیں جس انداز سے اسے دیکھ رہی تھی، وہ انداز تو کسی نارمل لڑکی کو گھبرانے پر مجبور کر سکتا تھا اور یہاں کوئی عام لڑکی نہیں، “مہرو النسا٫” تھی جو دنیا داری سے سالوں پیچھے جی رہی تھی۔

“ریلیکس، ریلیکس… تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ تم میرے روم میں ہو اور میں تمہیں یہاں لے کر آیا ہوں۔”
زیغم نے نرمی سے کہا، ساتھ ہی آگے بڑھ کر بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اس کے اوپر سے ہاتھ گزارا تاکہ وہ نہ اٹھے۔ “مہرو النسا٫” کے اندر ایک انجانی گھبراہٹ سرایت کر گئی۔ جیسے کوئی میلوں کا سفر طے کرکے تھکن سے چور ہو، اس کی سانسیں بے ترتیب ہونے لگیں۔ اس نے بے چینی سے اپنے سر پر اوڑھی ہوئی خون آلود چادر کو جلدی سے کھینچا، پھر فوراً اس کا صاف پلو لے کر چہرے پر ڈال لیا، وہ خود کو زیغم سلطان کی گہری نظروں سے بچانا چاہتی تھی۔ زیغم کے لبوں پر ایک مدھم مسکراہٹ بکھر گئی۔ اس کی گہری نیلی آنکھوں نے اس کمسن، معصوم حسینہ کو ایک طویل نظر سے دیکھا، جو نازک کانچ کی گڑیا کی طرح سہمی ہوئی تھی۔

“فائدہ نہیں ہے اب چہرہ چھپانے کا!”
وہ سرگوشی میں بولا، اس کی نظروں میں ایک پراسرار چمک تھی۔
“پچھلے آدھے گھنٹے سے میں تمہیں دیکھ رہا ہوں… اور مکمل دیکھ چکا ہوں۔ تو بہتر ہوگا کہ اب یہ نقاب پوشی ہٹا دو۔”
اس کے لہجے کی گہرائی “مہرو النسا٫” کی سانسیں مزید منتشر کر گئی۔ زیغم کا ہاتھ آہستہ آہستہ اس کے چہرے سے چادر ہٹانے لگا، مگر وہ سہم کر مزید چھپنے لگی۔ اس کی گھبراہٹ کو محسوس کرتے ہوئے زیغم نے اس کے مخملی ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔ وہ ہاتھ… روئی سے زیادہ نرم، مخمل سے زیادہ نازک، جیسے ہوا میں بکھرتی خوشبو ہو۔ زیغم کی گرفت میں آتے ہی “مہرو النسا٫” نے بے بسی سے پلکیں جھپکائیں۔ زیغم نے ہولے سے سر جھکایا، اس کے جھجکتے لمس کو محسوس کرتے ہوئے ایک عجیب سا احساس اس کی رگوں میں دوڑنے لگا۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں الفاظ کمزور پڑ گئے تھے، جہاں صرف دھڑکنوں کی زبان باقی تھی۔

“دد۔۔دد۔۔۔دور ہو جائیں!”

“کیوں؟”

“مجھے… مجھے ڈر لگ رہا ہے آپ سے!”

“مگر میں کوئی جلاد تو نہیں اور نہ ہی میرے سر پر لال رنگ کے سینگ ہیں، جنہیں دیکھ کر تمہیں ڈر لگ رہا ہو!”

“نہیں سائیں… آپ بہت غصے والے ہیں، مجھے یہاں سے جانے دیں، میں کبھی یہاں نہیں آؤں گی، میری… میری وجہ سے یہاں پر بہت لڑائیاں ہو گئی ہیں۔”
وہ آنسوؤں سے روتے ہوئے بول رہی تھی، اس کا پورا وجود کپکپا رہا تھا۔ کچھ تو زیغم کے اتنا قریب بیٹھنے کا، کچھ اس کے بھاری مضبوط ہاتھوں میں تھامے ہوئے اپنے ہاتھوں کو دیکھ کر، اور کچھ… پہلی بار وہ اس احساس کو جی رہی تھی۔ اسے تو اس کی اماں سائیں کے علاوہ کسی عورت نے کبھی ہاتھ نہیں لگایا تھا، اور یہاں تو گہری نیلی آنکھوں والا مضبوط، خوبصورت شخص اس کے اتنے قریب بیٹھا اس کی کلائیوں کو تھامے ہوئے تھا۔ “مہرو النسا٫” کی اوپر والی سانس اوپر اور نیچے والی نیچے رہ گئی تھی، سانسیں آپس میں ملنا تو دور، صحیح سے اوپر نیچے رہ کر بھی اپنا کام نہیں کر پا رہی تھیں۔ جبکہ زیغم کے لب مسکرا رہے تھے۔
اتنی سادگی، ایسی خوبصورتی، اس نے آج سے پہلے کہیں نہیں دیکھی تھی، اور اس احساس کو اس نے آج تک نہیں جیا تھا۔ یہ احساس جو بھی تھا، بہت خوبصورت تھا۔ وہ بچہ نہیں تھا، تیس سال کا مرد تھا، آدھی دنیا دیکھ چکا تھا۔ اسے یہ سمجھنے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ اس کا دل کس احساس کو محسوس کر رہا ہے۔ وہ تو صرف نایاب کو جلانے کے لیے یہ سوچ رہا تھا کہ اس لڑکی کو اس کے مقابل کرے گا، مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ گیا تھا۔ یہاں تو زیغم سلطان کے اپنے جذبات بے قابو ہونے لگے تھے۔ یہ کیا تھا؟ جو بھی تھا، خدا کی قسم، لاجواب تھا!

“اگر اس جذبے کو محبت کہتے ہیں، تو تہہ دل سے اسے قبول ہے۔”
وہ اپنے دل میں سوچ کر اس کی گھبرا کر بند ہوئی آنکھوں اور کپکپاتے لبوں کو دیکھ رہا تھا، دیکھ کر محظوظ ہو رہا تھا۔

“نام کیا بتایا تھا تم نے اپنا؟”
زیغم نے آہستہ سے پوچھا، اس کی گہری نیلی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی۔

“مم… مم… “مہرو النسا٫”… اماں مجھے ‘مانو’ کہتی تھی… آپ کو جس نام سے بلانا ہے، بلا لیجیے… مگر پلیز، تھوڑا سا دور ہو جائیں!”
وہ آنکھیں بند کیے، کپکپاتے لہجے میں بولی۔ نازک کلائیوں کو ہلکے سے جھٹکا دے کر چھڑوانے کی ناکام کوشش کی، مگر اس کی کلائیاں اس وقت زیغم سلطان کے مضبوط ہاتھوں کی گرفت میں تھیں، اور ان سے نکلنا ناممکن تھا۔

“مہرو النسا٫”… مانو… یا مم… مم… “مہرو النسا٫؟”
زیغم نے شرارت بھری مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔ “ان تینوں میں سے کون سا نام ہے؟ میں تو کنفیوز ہو گیا!”

وہ اس کی گھبرائی ہوئی کیفیت سے لطف اندوز ہو رہا تھا، جب کہ “مہرو النسا٫” کی حالت ایسی تھی جیسے زمین پر کھڑی ہو، مگر دل کسی طوفان میں گھر چکا ہو۔

“کیا ہو گئے ہیں آپ کن کوز؟”
اس نے حیرانی سے آنکھیں کھولیں اور کنفیوز کا مفہوم ہی بدل دیا۔
“مہرو النسا٫” نے کبھی نصاب نہیں پڑھا تھا، اس لیے اس جملے کا مطلب کیا تھا، اسے بالکل نہیں معلوم تھا مگر زیغم سلطان کا قہقہہ بےاختیار گونج اٹھا۔ وہ اتنی معصومیت سے پوچھ رہی تھی کہ اس میں نہ کوئی ملاوٹ تھی، نہ ہی بناوٹ۔ وہ سچ میں سادہ تھی، کیونکہ اسے واقعی کنفیوز کا مطلب نہیں آتا تھا۔

“کنفیوز؟ مطلب… اُلجھن میں ہوں، کسی چیز کو سمجھ نہ پا رہا ہوں۔”
(سندھی میں: مونجهيل آھيان، ڪا شيء سمجهي نه ٿو سگھان۔)
زیغم نے مسکراتے ہوئے وضاحت دی، مگر اس کے دل میں کچھ اور ہی ہلچل مچی ہوئی تھی۔ وہ لڑکی ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اسے مزید حیران کر رہی تھی۔

“ہمم… ٹھیک ہے، اب… اُٹھنے دیں مجھے،میں نے جانا ہے!”
وہ گھبرا گئی تھی، اس کی پلکیں لرزنے لگیں جب زیغم سلطان کی گرم سانسیں اس کے چہرے سے ٹکرائیں۔

“کہاں جانا ہے؟”
زیغم نے نرم مگر گہری آواز میں پوچھا۔

“کہیں بھی… یہاں سے دور!”
اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔

“تم یہاں سے نہیں جا سکتیں، پتہ ہے کیوں؟”
“مہرو النسا٫” نے جلدی سے نفی میں سر ہلایا۔ اس کی نظریں خوف اور حیرانی کے ملے جلے جذبات لیے زیغم کی نیلی آنکھوں پر جا ٹھہریں، جن میں ایک عجیب سی سنجیدگی تھی۔

“بیوی ہو تم زیغم سلطان کی!”
زیغم کے الفاظ بجلی کی طرح اس کے کانوں میں گونجے تھے۔

“میرے نکاح میں ہو، اس لیے یہاں سے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا!”
“اور تمہاری اماں مرتے ہوئے تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھما کر گئی ہے!”

“نن… ن… نہیں! میں بیوی نہیں ہوں!”
“مہرو النسا٫” کی آواز کانپ گئی، آنکھوں میں بے یقینی تھی، دل میں خوف۔ زیغم سلطان نے گہری نظر اس پر ڈالی اور دھیرے سے مسکرایا۔

“بیوی ہو!”
اس نے پراعتماد لہجے میں کہا۔
“مانا کہ ہمارا نکاح تمہاری اماں نے صرف پناہ دینے کے لیے کیا تھا، مگر اس سے نکاح کا مطلب نہیں بدلتا! نکاح، نکاح ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اور اس کے نبیﷺ نے نکاح کو کیا مقام دیا ہے، تمہیں پتہ بھی ہے؟”
“مہرو النسا٫” خاموش ہو گئی، وہ بس زیغم کی بات سن رہی تھی۔

“نکاح میرے نبیﷺ کی سنت ہے، اور میرے نبیﷺ نے فرمایا ہے جو میری سنت سے روگردانی کرے، وہ مجھ سے نہیں!”
زیغم کی آواز گہری تھی۔
زیغم نے نرمی سے کہتے ہوئے نظریں اس کے خوبصورت چہرے پر مرکوز کر رکھی تھی۔ اس کے لہجے میں وہ ٹھہراؤ تھا جو کسی مضبوط، ذمہ دار مرد کا ہوتا ہے۔ زیغم سلطان جو کم بولتا تھا مگر جب بولتا اس کے بولنے میں وہ تاثیر تھی کہ “مہرو النسا٫” سننے پر مجبور ہو گئی تھی۔

“نکاح انسان کے لیے رحمت ہے، یہ محبت، عزت اور ذمہ داری کا نام ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا: دنیا متاع ہے، اور دنیا کی سب سے بہترین متاع نیک بیوی ہے۔”
“مہرو النسا٫” کا دل ایک پل کے لیے جیسے رک سا گیا۔ یہ سب وہ پہلی بار سن رہی تھی، مگر زیغم سلطان کی باتوں میں ایسا سچ تھا جو کسی بھی دلیل سے زیادہ وزنی تھا۔

“یہ نکاح تمہیں تحفظ دیتا ہے، عزت دیتا ہے، اور تمہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ تم میرا نام ہو، میرا حق ہو، میرا فرض ہو۔”
زیغم کے الفاظ جیسے اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر رہے تھے۔ زیغم بغیر سوچے سمجھے نکاح کی مضبوط دلائل سے سنا رہا تھا اور یہ سب کچھ اس کے دل کی گہرائیوں سے نکل کر آ رہا تھا۔ “مہرو النسا٫” کی سانسیں بے ترتیب ہو گئیں۔ اس کا دل عجیب کیفیت میں تھا، جیسے کوئی انجانا احساس اس پر حاوی ہو رہا ہو۔ کیا وہ سچ میں زیغم سلطان کی بیوی تھی؟
کیا یہ نکاح واقعی اتنا مضبوط تھا کہ وہ اس سے انکار نہیں کر سکتی تھی؟
زیغم نے نرمی سے اس کی کلائی تھوڑی دیر کے لیے چھوڑ دی، مگر اس کی نظروں کی گرفت ابھی بھی مضبوط تھی۔

“اب کہو، جانا ہے کہیں؟”
“مہرو النسا٫” نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کا دل آج ایک نئے سفر کی دہلیز پر کھڑا تھا۔

“ج… ج… جی! جانا ہے، کیونکہ آپ کو بہت غصہ آتا ہے، اور آپ کی بیگم کو بھی بہت غصہ آتا ہے، اور وہ جو بڑی بی بی جی ہیں، ان کو بھی بہت غصہ آتا ہے۔”
“مہرو النسا٫” نے گھبرائے ہوئے لہجے میں کہنا شروع کیا، جیسے وہ کسی بڑی مصیبت میں پھنس گئی ہو۔

“اور وہ… وہ جو لمبی لکڑی والے بھائی صاحب ہیں، ان کو بھی بہت غصہ آتا ہے۔ اور وہ جو… پتہ نہیں کون ہے، جو آپ بیگم کو ‘بیٹی بیٹی’ کہہ رہے تھے، ان کو بھی بہت زیادہ غصہ آتا ہے۔ اتنے سارے… اتنے سارے غصے والے لوگ دیکھ کر مجھے ڈر لگ رہا ہے! مجھے یہاں نہیں رہنا، آپ مجھے میری اماں کے گھر چھوڑ آئیں!”
وہ بے ربط الفاظ میں اپنی پریشانی بیان کر رہی تھی، مگر اس کی ٹوٹی پھوٹی باتیں، اس کا گھبراہٹ میں تیز چلتا سانس، اور لرزتی پلکیں زیغم سلطان کی دھڑکنوں کو اور بھی بے ترتیب کر رہی تھیں۔ زیغم سلطان نے گہری سانس لی، اس کے نیلی آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی تھی۔

“میرے ہوتے ہوئے کسی کا غصہ تم پر نہیں چل سکتا!”
زیغم نے ٹھہرے ہوئے مگر مضبوط لہجے میں کہا۔

“اتنا جان لو کہ یہاں تمہارے شوہر کی حکومت چلتی ہے۔ کوئی بھی تم پر آج کے بعد اونچی آواز میں نہیں چلائے گا، چلانا تو دور کی بات کوئی نظر اٹھا کر بھی دیکھنے کی جرات نہیں کرے گا!”
“مہرو النسا٫” نے حیرانی سے زیغم کی طرف دیکھا، وہ یقین نہیں کر پا رہی تھی کہ کوئی اس کے لیے اتنا کہہ سکتا ہے۔

“اور رہی میری بات، تو مجھے لگتا ہے کہ آج کے بعد میں بھی غصہ نہیں کر پاؤں گا!”
زیغم نے آہستہ سے مسکراتے ہوئے کہا، پھر ایک لمحے کو رکا اور سنجیدگی سے بولا:
“اور ویسے بھی، آج میں نے تم پر غصہ نہیں کیا، میں نے ان پر غصہ کیا تھا جنہوں نے تمہیں نقصان پہنچایا!”
“مہرو النسا٫” کا دل ایک پل کے لیے جیسے رک سا گیا۔ اچانک زیغم کا بھاری ہاتھ اس کے چہرے کے قریب آیا۔ بالوں کی لٹ کو پیچھے کرنے لگا، مگر “مہرو النسا٫” گھبرا کر فوراً چادر کا پلو کھینچ کر اپنے چہرے کو چھپا گئی۔

زیغم سلطان نے گہری سانس لی اور نرمی سے مسکردیا۔
“تمہارا یہ پردہ کرنا، خود کو چھپانا، زیغم سلطان کو بہت اچھا لگ رہا ہے۔”
وہ دھیرے سے جھکا اور اس کے لرزتے وجود کو دیکھتے ہوئے محبت میں بھیگا جملہ ادا کیا۔
“مگر یہ پردہ سب کے لیے رکھو، میرے لیے نہیں!”
“تم میری بیوی ہو، اور شوہر سے بیوی کا کوئی پردہ نہیں ہوتا!”
نرمی سے اس نے چہرے سے پلو ہٹا کر اس کے حسین، گھبرائے ہوئے چہرے کو دیکھا، اور جیسے کسی اور ہی دنیا میں کھو گیا تھا۔زیغم سلطان نے اپنی جگہ سے ہلکا سا سرک کر “مہرو النساء” کو دیکھا، جو چادر میں خود کو لپیٹے سہمی ہوئی لیٹی تھی۔

“آج کے بعد کہیں جانے کی بات کرنے کی اجازت نہیں ہے، اس کے علاوہ سب کچھ کرنے کی اجازت ہے، مگر رہنا اسی کمرے میں… اور میرے ساتھ ہے!”
اس کے ٹھہرے ہوئے لہجے میں سختی تھی۔

“نہیں! نہیں! میں آپ کے ساتھ کیسے رہ سکتی ہوں؟”
“مہرو النساء” نے تیزی سے سر نفی میں ہلایا، آنکھیں خوف اور بے یقینی سے پھیل گئیں۔

“کیا مطلب؟ جیسے سب بیویاں اپنے شوہروں کے ساتھ رہتی ہیں، ویسے!”
زیغم سلطان نے سنجیدگی سے کہا۔

“نہیں! اماں نے کہا تھا کہ میں بیوی نہیں ہوں!”
“مجھے تو بس آپ کی خدمت کرنی ہے، آپ کی بیگم کی بھی خدمت کرنی ہے، آپ کے بچوں کا خیال رکھنا ہے… مگر میں بیوی نہیں ہوں!”
اس کا لہجہ التجا کر رہا تھا۔
زیغم کے اتنا سمجھانے کے باوجود بھی اس کے دماغ پر اس کی اماں کی باتیں نقش تھی۔ اس کی نظر میں زیغم سلطان اور اس کی بیوی اور بچوں کی خدمت اس پر فرض تھی۔

“بیوی ہو!”
زیغم سلطان نے دو ٹوک کہا۔ زیغم کا لہجہ حکم دینے والا تھا۔

“نن… نہیں!”
اس کی آواز لرز گئی، جیسے کسی گہرے خوف نے دل میں پنجے گاڑ دیے ہوں۔

“جب میں نے کہا ہے کہ تم میری بیوی ہو، تو مطلب ہو!”
زیغم کی آواز گہری تھی، لہجے میں ایسی قطعیت تھی جس نے “مہرو النساء” کے وجود کو مزید لرزا دیا۔ اس کے لہجے کی سختی پر “مہرو النساء” کی پلکیں لرزنے لگی تھی۔ ہونٹ بچوں کی طرح باہر نکل آئے، اور وہ پھسک پھسک کر رونے لگی۔ آنکھوں میں بے بسی کے آنسو تیرنے لگے۔

“کیوں رو رہی ہو؟”
زیغم سلطان نے الجھن سے پوچھا۔

“آپ کو غصہ آ رہا تھا، اس لیے!”
وہ سسکیوں کے بیچ بولی۔

“ہاں، تو جب اتنا سمجھانے کے بعد بھی تم بار بار کہو گی کہ بیوی نہیں ہو، تو مجھے غصہ تو آئے گا نا؟”
“پیار سے سمجھایا ہے، تو تمہیں اچھے بچوں کی طرح سمجھ چاناہیے تھا!”
زیغم کی لہجہ ایسے تھا جیسے کسی ضدی بچے کو منا رہا ہو۔

“میں بچی نہیں ہوں!”
“مہرو النساء” نے تیزی سے کہا۔

“گڈ! ٹھیک ہے، اسی بات پر بتاؤ، عمر کتنی ہے تمہاری؟”
زیغم سلطان نے شرارت سے پوچھا۔

“پورے 18 سال اور دو دن!”
“مہرو النساء” نے روتے ہوئے جواب دیا۔

“ویری گڈ! مطلب، کلینڈر کا حساب کتاب بہت اچھی طرح سے رکھتی ہو!”
زیغم سلطان اس کے ’دو دن‘ پر مسکرا دیا، آنکھوں میں ہلکی سی شرارت تھی۔

“جی، کیونکہ میری اماں کہتی تھی کہ میں بہت سمجھدار ہوں، چٹکیوں میں سب کچھ سمجھ جاتی ہوں اور ہر بات یاد بھی رکھتی ہوں!”
وہ سوں سوں کرتے ہوئے اپنی ہی تعریف کر گئی۔ اس کے منہ سے اپنی تعریف سن کر زیغم سلطان کے لب ایک بار پھر سے مسکرا دیے تھے۔ وہ سچ میں بہت معصوم تھی زیغم سلطان کی سوچ سے بھی کہیں زیادہ۔

“اچھا، ویری گڈ! تو ٹھیک ہے، “مہرو”، آج سے میں تمہیں “مہرو” کہہ کر بلایا کروں گا۔ تم ایک سمجھدار بیوی کی طرح اپنے شوہر کے کمرے میں رہو گی!”
“اور تم نے خود ہی ابھی کہا ہے کہ تم بچی نہیں ہو، اور تم بات بھی بہت جلدی سمجھ جاتی ہو۔ تو میری بات کو سمجھ جاؤ!”
زیغم سلطان نے دھیمے لہجے میں شرارتی انداز میں کہا مگر اس کی آنکھوں میں سنجیدگی تھی۔

“نہیں! پھر بڑی بی بی جی آئیں گی، مجھے ماریں گی!”
“دیکھیں، میرا سر پھٹ گیا ہے۔ میرے چہرے پر کوئی نشان نہیں تھا، مگر انہوں نے آتے ہی اتنا بڑا نشان دے دیا… اب پتہ نہیں یہ کیسے ٹھیک ہوگا!”
وہ جلدی جلدی بولتی گئی، جیسے کسی ڈراؤنے خیال نے اس کا ذہن جکڑ لیا ہو۔ وہ زخم کی بات کرتے ہوئے کافی خوفزدہ نظر آرہی تھی۔

“پریشان نہ ہو، ٹھیک ہو جائے گا، اور نشان بھی ہٹ جائے گا!”
“آج کے بعد ہاتھ اٹھانا تو دور کی بات ہے تمہاری طرف کوئی نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا… میرا وعدہ ہے تم سے…”
زیغم سلطان نے یقین دلانے والے انداز میں کہا۔

“مگر…”

“ابھی کے لیے اگر مگر چھوڑ دو!”
“تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے… میں تمہارے لیے کچھ کھانے کو منگواتا ہوں!”
“پلیز، مجھے یہ چادر ہٹانے دو، اس پر بلڈ لگا ہوا ہے!”
زیغم نے چادر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

“ہوں… کیا لگا تھا؟”
“مہرو النساء” نے الجھن سے پوچھا۔
اچانک اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

“بلیڈ لگا تھا… بلیڈ؟”
اس کی آواز حیرانی اور گھبراہٹ میں بلند ہوئی۔

“بلیڈ لگا ہوا ہے، اس سے تو میرا منہ کٹ جائے گا!”
“مہرو النساء” کے نزدیک بلڈ کا مطلب بلیڈ تھا، کاٹنے والا، اس لیے وہ خوفزدہ ہو گئی تھی۔

“بلڈ مطلب، خون!”
زیغم کو ہنسی آرہی تھی۔

“اچھا…”
وہ حیرانی سے سوچ میں پڑ گئی، جیسے اب تک اس بات کی سنگینی کو نہیں سمجھ پائی تھی۔ زیغم سلطان نے گہرا سانس لیا، اس لڑکی کی معصومیت اور سادگی نے ایک پل کے لیے اس کے دل میں ایک عجیب سا احساس جگا دیا تھا۔ زیغم سلطان کی زندگی ایک بے رنگ تصویر تھی، جس پر دکھوں کے اتنے گہرے سائے چھائے تھے کہ وہ مسکرانا ہی بھول چکا تھا مگر “مہرو النساء”… جیسے اس کی اجڑی ہوئی دنیا میں خوشیوں کے رنگ بھرنے آئی تھی۔ اس کی معصومیت، اس کی سادگی، اس کا دنیا داری سے بے نیاز ہونا… زیغم سلطان کے ویران دل میں ایک نرم سی روشنی اتار رہا تھا۔ وہ محض ایک گھنٹے کی ملاقات تھی، جس کا پہلا آدھا حصہ وہ بے ہوش رہی، اور باقی چند منٹ، جن میں اس نے بس چند سادہ سی باتیں کی تھیں—یہی مختصر پل زیغم سلطان کے لیے قیمتی ترین بن گئے تھے۔ وہ چند لمحے، جو عام دنوں میں بے معنی ہوتے، آج اس کی یادوں میں نقش ہو چکے تھے۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی… برسوں بعد ٹھہر جانے والی، بے ساختہ مسکراہٹ۔ جیسے “مہرو النساء” نے اس کی سنسان زندگی میں امید کی ایک نئی کرن بن کر آئی تھی۔ زیغم سلطان نے نرمی سے ہاتھ بڑھایا، تاکہ اس کے سر پر رکھی خون سے بھیگی چادر ہٹا سکے، مگر “مہرو النساء” نے فوراً چادر کو مضبوطی سے تھام لیا۔ اس کے چہرے پر گھبراہٹ تھی، آنکھوں میں حیا کی جھلک، معصوم سی باپردہ لڑکی کبھی بھی اپنے سر کے بالوں کو کسی کے سامنے عیاں کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔اس کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ تھا۔ زیغم کی نظریں اس کی جھکی ہوئی شرم و حیا سے لبریز پلکوں پر رک سی گئی تھی۔

وہ اس کی پاکیزگی، اس کی سادگی، اس کے اس انداز پر بے اختیار مسکرا دیا۔ محبت سے بھرپور لہجے میں بولا:
“میں نے ابھی سمجھایا تھا نا کہ میں تمہارا شوہر ہوں… اور میرے سامنے یہ پردہ فرض نہیں ہے مہرو، یہ چادر ہٹانے دو، خراب ہو چکی ہے… خون میں بھیگی ہوئی ہے۔”
اس کا انداز نرمی اور محبت میں لپٹا ہوا تھا، جیسے کسی نازک شیشے کو چھونے سے پہلے سوچا جاتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی حیا کو ٹھیس پہنچے، مگر وہ یہ بھی نہیں دیکھ سکتا تھا کہ وہ یوں زخمی حالت میں خون سے لپٹی ہوئی جراثیم سطح چادر میں رہے۔ زیغم کے لہجے میں اتنا پیار تھا کہ “مہرو النساء” نے بے بسی سے پلکیں جھکا لیں، مگر اس کی انگلیاں اب بھی چادر کو تھامے تھیں، زیغم کے پیار بھرے لہجے سے اس کا انکار کرنے کو بھی دل نہیں کر رہا تھا مگر اپنے سر سے چادر ہٹانے کا حوصلہ بھی نہیں تھا اس میں۔
زیغم سلطان خاموشی سے اٹھا اور کپڑوں والی الماری کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے قدموں میں ایک ٹھہراؤ تھا، مگر آنکھوں میں گہری سنجیدگی۔ اس نے آہستہ سے الماری کا دروازہ کھولا، اور اندر لٹکے کپڑوں میں سے اپنی مخصوص خوبصورت اجرک کو ہینگر سے اتارا۔ اجرک کی خوشبو اور روایتی رنگوں میں ایک اپنائیت تھی، ایک تحفظ کا احساس، جو شاید وہ “مہرو النساء” کو دینا چاہتا تھا۔

وہ پرسکون قدموں سے واپس آیا اور اجرک اس کے قریب رکھتے ہوئے نرم لہجے میں بولا:
“یہ لو… آرام سے اٹھ کر بیٹھو، میں اپنا چہرہ ادھر کر لیتا ہوں۔ تم یہ خون آلود چادر ہٹا کر یہ اجرک لے لو… پھر ٹھیک ہے؟”
اس کے انداز میں محبت بھی تھی اور خیال بھی۔ وہ زبردستی نہیں کرنا چاہتا تھا، مگر “مہرو النساء” کو یوں خون میں بھیگی چادر میں دیکھ کر اس کا دل بے چین ہو رہا تھا۔ اس کے دل میں نایاب کے لیے جو غصہ تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس غصے کو وہ چہرے کے زاویوں سے ظاہر کرے کیونکہ اس کے ذرا سا غصہ کرنے پر “مہرو النساء” بہت زیادہ خوفزدہ ہو رہی تھی اور اس معصوم سی لڑکی کو خوفزدہ کرنا اس کا ہرگز مقصد نہیں تھا، اس لیے وہ فوراً سے پہلے چادر کو ہٹوا دینا چاہتا تھا۔ چادر دے کر اس نے واقعی اپنا چہرہ دوسری طرف کر لیا، اسے یقین دینا چاہتا تھا کہ وہ اسے دھوکہ نہیں دے گا، اسے مجبور نہیں کرے گا۔ بس ایک اعتماد دیا تھا، جو شاید کسی بھی رشتے کی پہلی اینٹ ہوتی ہے۔
“مہرو النساء” نے چوری سے آنکھوں کو گھماتے ہوئے۔ پلکیں جھپکائیں اور زیغم کو دیکھتے ہی گھبراہٹ سے جلدی جلدی بیڈ پر اٹھ کر بیٹھتے ہوئے پیچھے سرکنے لگی۔ جیسے ہی اس نے اٹھنے کی کوشش کی، سر میں گہری چوٹ کی ٹیس اٹھ گئی۔ وہ تکلیف سے کراہی، ماتھے پر شکنیں ابھریں اور لبوں سے بے اختیار سسکی نکل گئی۔

زیغم سلطان کا دل جیسے کسی انجانے خوف سے بے چین ہو گیا۔ وہ پلٹنے ہی والا تھا کہ “مہرو النساء” کی گھبرائی ہوئی آواز گونجی۔
“پیچھے مت دیکھیے گا… پیچھے مت دیکھیے!”

زیغم نے فوراً قدم روک دیے، ایک لمحے کے لیے۔
“اچھا ٹھیک ہے، نہیں دیکھ رہا، تم آرام سے چادر بدل لو۔”
وہ وہیں رخ موڑے کھڑا رہا۔ “مہرو النساء” نے کپکپاتے ہاتھوں سے اپنی خون آلود چادر ہٹائی اور جلدی سے چادر کو ایک سائیڈ پر رکھتے ہوئے اجرک اپنے گرد لپیٹ لی۔ مجال تھی جو ایک بال بھی باہر نظر آتا۔

“اب دیکھ سکتا ہوں؟”
انداز ایسا تھا جیسے اجازت مانگ رہا ہو۔

“مہرو النساء” نے نظریں جھکائیں، مدھم سی آواز زیغم کے کانوں سے ٹکرائی۔
“جی، دیکھ سکتے ہیں۔”
زیغم نے پلٹ کر دیکھا تو ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیل گئی۔ اجرک میں لپٹی وہ نازک سی ہستی، معصوم چہرہ اور سادگی میں گھلی ہوئی شرم، سب کچھ ایک دلکش منظر پیش کر رہے تھے۔”مہرو النساء” کے گرد زیغم کے پرفیوم کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی، یہ وہ اجرک تھی جو زیغم سلطان لے کر زیادہ تر جرگہ میں بیٹھنے کے لیے جایا کرتا تھا۔ زیغم کچھ کہنے ہی والا تھا کہ موبائل پر رفیق کا میسج آیا، جس کی وجہ سے اس کی توجہ بٹ گئی۔ اسی لمحے دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی، اور ملازمہ ٹرالی پر سوپ اور فروٹس لے کر اندر داخل ہوئی۔

“سنیے…”

“جی سائیں۔”
ملازمہ کے ہاتھ سے ٹرالی لے کر قریب کرتے ہوئے زیغم نے جاتی ہوئی ملازمہ کو روکا۔

“آپ جانتی ہو یہ کون ہیں؟”
زیغم نے کمر پر ہاتھ باندھتے ہوئے، اپنے خاص دبدبے والے انداز میں نرمی مگر وقار کے ساتھ سوال کیا۔

“جی نہیں سائیں، بس اتنا پتہ ہے کہ یہ آپ کی مہمان ہیں۔ حکم کریں، ایک بار بتا دیں، آئندہ یاد رکھوں گی۔”
وہ مؤدب انداز میں نظریں جھکائے بولی۔

“یہ میری بیوی ہیں… زیغم سلطان کی بیوی۔”
زیغم کے لبوں پر ہلکی سی سختی آئی، پھر ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔

ملازمہ نے فوراً سر جھکایا، چہرے پر حیرت اور احترام کا امتزاج تھا۔
“ماشاءاللہ سائیں، مبارک ہو! میں ہمیشہ یاد رکھوں گی اور حکم کریں، کس کو بتانا ہے اور کس کو نہیں کہ یہ ہماری بی بی جی ہیں؟”

زیغم کی آنکھوں میں مضبوطی تھی، لہجہ اٹل تھا۔
“سب کو بتانا ہے، ہر خاص و عام کو۔ حویلی میں سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ میرا اس کے ساتھ کیا رشتہ ہے اور یاد رکھو، میری اجازت کے بغیر کوئی اس کمرے میں قدم نہیں رکھے گا… سوائے تمہارے۔”

“جی سائیں، جو حکم۔ میں بی بی جی کا خود خیال رکھوں گی، اور یہ خوشی کی خبر ابھی سب کو سناتی ہوں۔ اگر کوئی اور خدمت ہو تو بتائیں۔”

“نہیں، جا سکتی ہیں آپ!”
وہ مؤدب انداز میں سر جھکاتے ہوئے دروازہ کھول کر باہر چلی گئی۔

“مہرو النساء” جو اب تک خاموش تھی، اچانک گھبرائی ہوئی آواز میں بولی:
“آپ نے کیوں بتایا؟ آپ کو نہیں بتانا چاہیے تھا!”
گھبراہٹ اس کے چہرے سے جھلک رہی تھی، وہ بیڈ سے اتر کر کھڑی ہوگئی۔

زیغم نے سنجیدگی سے اسے دیکھا، کمر پر ہاتھ باندھتے ہوئے پرسکون لہجے میں پوچھا۔
“کیوں نہیں بتانا چاہیے تھا؟”

“مہرو النساء” کی آنکھوں میں بے چینی تیرنے لگی۔
“اماں سائیں نے منع کیا تھا… انہوں نے کہا تھا کہ یہ بات کسی کو نہ بتاؤں۔ نکاح صرف اس لیے کیا گیا تھا تاکہ وہ سکون سے، ایک حلال رشتے میں مجھے چھوڑ کر اس دنیا سے جا سکیں…”
اس کا لہجہ لرز رہا تھا، وہ بے بسی سے زیغم کو دیکھ رہی تھی مگر جیسے ہی زیغم سلطان کی نظریں اس کی نظروں سے ٹکرائی “مہرو النساء” نے گھبرا کر فوراً سے نظریں جھکا لی تھیں۔
“اب میں کیا کروں گی؟ آپ نے سب کو بتا دیا ہے!”

“جب تم بے ہوش تھیں، میں اسی وقت کافی لوگوں کو آگاہ کر چکا تھا کہ میں نے تمہارے ساتھ نکاح کیا ہے۔ تم میری بیوی ہو، اور مجھے نہیں لگتا کہ مجھے کسی سے چھپانے کی ضرورت ہے۔ل اور تم یہ فضول کی ٹینشنیں مت پالو، بیٹھو۔”
وہ اس کے کندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھتے ہوئے اسے بٹھانے لگا، مگر “مہرو النساء” نے فوراً کندھے جھٹک دیے اور گھبراہٹ میں پیچھے ہٹ گئی۔ اس کے چہرے پر اتنی شرم اور حیا تھی کہ اس کا گورا مخملی چہرہ پوری طرح سرخ ہونے لگا۔ زیغم سلطان نے ہلکا سا مسکرا کر اسے دیکھا، دل میں ایک عجیب سی اپنائیت جاگی۔

“مہرو”، ریلیکس ہو جاؤ، کیا ہو گیا یار…”
وہ اسے نرمی سے تسلی دے رہا تھا، مگر زیغم کا مضبوط دل اس کی شرم و حیا اور معصوم گھبراہٹ کا پوری طرح گرویدہ ہو چکا تھا۔
محبت وہ دیپ ہے جو خواہشوں کی آندھی میں نہیں جلایا جا سکتا، یہ وہ خوشبو ہے جو زبردستی کسی کی سانسوں میں نہیں بسائی جا سکتی۔ یہ وہ روشنی ہے جو خود ہی کسی دل کے اندھیروں کو منور کر دیتی ہے، بنا کسی کوشش کے، بنا کسی تقاضے کے۔
زیغم سلطان کے دل میں جو محبت “مہرو النساء” کے لیے جاگی، وہ کسی مجبوری یا مصلحت کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ یہ وہ جذبہ تھا جو کسی بے موسم برسات کی طرح نرمی سے اس کے دل کی زمین کو سیراب کرتا گیا۔ جسے نہ نایاب کی شدتیں جگا سکیں، نہ حمائل کی بے لوث چاہت اسے پانے میں کامیاب ہو سکی کیونکہ محبت لین دین کا سودا نہیں، یہ ایک بے ساختہ احساس ہے جو دل کی زمین پر ویسے ہی اگتا ہے جیسے بے خبر جھکڑ میں کوئی بیج دور کہیں جا گرتا ہے اور نرمی سے جڑ پکڑ لیتا ہے۔
یہ وہ مقدس جذبہ ہے جو نہ طاقت سے حاصل ہوتا ہے، نہ جبر سے، بلکہ یہ کسی خاموش لمحے میں، کسی ایک نظر میں، کسی ایک پل میں انسان کے دل پر حکمرانی کرنے لگتا ہے۔ زیغم سلطان کے دل میں “مہرو النساء” کے لیے محبت کسی طوفان کی طرح نہیں، بلکہ کسی مدھم روشنی کی طرح جاگی تھی، جو آہستہ آہستہ اس کی روح تک اتر گئی۔ وہ محبت جو نایاب کی شدتوں میں کہیں دفن رہی، جو حمائل کی معصوم دعاؤں میں بھی اسے حاصل نہ ہو سکی، وہ محبت “مہرو النساء” کے ایک سادہ لمحے میں پروان چڑھ گئی، بے آواز، بے طلب اور بے حد حسین۔

“اچھا ٹھیک ہے، تم خود بیٹھ جاؤ۔”
زیغم سلطان نے اپنے خوبصورت احساسات کو محسوس کرتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے اسے بیڈ پر بیٹھنے کو کہا۔ “مہرو النساء” جلدی سے پیچھے ہو کر بیٹھ گئی، وہ بیڈ پر پاؤں لٹکائے ہوئے بیٹھی تھی۔

“سیدھی ہو کر بیٹھ جاؤ۔”

“میں ٹھیک ہوں۔”

“مجھے زیادہ پتہ ہے کہ تم ٹھیک ہو یا نہیں، سیدھی ہو کر بیٹھو۔”
زیغم تکیہ سیدھا کرتے ہوئے ذرا سا قریب ہوا تو وہ چھوئی موئی کے پودے کی طرح سمٹ گئی۔

“آرام سے بیٹھو، تمہیں کھاؤں گا نہیں، آدم خور نہیں ہوں۔”
وہ نرمی سے کہتا ہوا مسکرا کر بیڈ پر ہی پاؤں لٹکا کر بیٹھ گیا، جبکہ “مہرو النساء” گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹ کر بیڈ کراؤن کے ساتھ لگی بیٹھی تھی۔ زیغم نے پلیٹ سے ایپل نکال کر چھیلنا شروع کیا اور پلیٹ میں رکھ کر “مہرو النساء” کے آگے بڑھا دیا۔ اس کا دل تو چاہ رہا تھا کہ اپنے ہاتھوں سے اسے ایپل کے ٹکڑے کھلائے، مگر جس سے وہ پہلی نظر میں فدا ہو چکا تھا، اس کے ساتھ اپنے جذبات بانٹنا اتنا آسان نہیں تھا۔ دل پر پتھر رکھ کر اس نے پلیٹ “مہرو النساء” کی طرف سرکا دی۔

“مہرو النساء” نے جھجھک کے ساتھ ایک ایپل کا ٹکڑا اٹھا لیا۔
“محترمہ، یہ سب کھانے ہیں، ایک سیب ہے، اسے پورا کھاؤ تاکہ میں تمہیں میڈیسن دے سکوں۔”

“کیا دے سکوں؟”
“مہرو النساء” کے منہ میں جاتا ہوا ٹکڑا رک گیا۔

“میں تمہیں دوا دے سکوں۔”
زیغم نے تحمل سے وضاحت دی۔ “مہرو النساء” انگلش کے ورڈز سمجھنے میں قاصر تھی، مگر زیغم نے ذرا بھی جھنجھلاہٹ ظاہر نہیں کی، نرمی سے اس کی مشکل کو آسان کر دیا۔

“سائیں، آپ میرے ساتھ نا یہ گاڑھی گاڑھی انگلش مت بولا کریں، مجھے سمجھ نہیں آتی۔”
وہ بڑے التجا والے انداز میں بولی۔

“ٹھیک ہے، پوری کوشش کروں گا کہ ایسا کوئی جملہ نہ بولوں جس سے “مہرو” کو پریشانی ہو۔”
زیغم سلطان کی گہری نیلی آنکھیں “مہرو النساء” پر مرکوز تھیں، جو ہاتھ میں لیے ہوئے سیب کے ٹکڑے کو کھاتے ہوئے نجانے کیا کیا سوچ رہی تھی۔

“مہرو”، اتنا سوچنے کی ضرورت نہیں ہے، میں نے سب کو بتا دیا ہے، سب کچھ خود سنبھال لوں گا۔ یہ کمرہ تمہارا ہے، تم اس میں آرام سے رہو، یہاں کسی کی جرات نہیں کہ کوئی قدم بھی رکھ سکے۔”

“نا سائیں، میں نہیں رہ سکتی، یہ آپ کا گھر ہے اور آپ پر آپ کی بیوی کا حق ہے، آپ کے کمرے پر بھی آپ کی بیوی کا حق ہے۔”

“اور میری بیوی تو تم بھی ہو۔”
وہ ذرا سا آگے جھکا تھا، “مہرو النساء” سرک کر پیچھے ہو گئی۔

“میں آپ کی بیوی نہیں ہو سکتی، سائیں، آپ سمجھنے کی کوشش کریں۔”

“ٹھیک ہے، تم سمجھا دو، میں سمجھ جاؤں گا، کیوں نہیں تم میری بیوی بن سکتی؟”

“کیونکہ آپ بہت بڑے ہیں، بہت زیادہ امیر ہیں، اور بہت زیادہ،…”
وہ کہتے کہتے چپ ہو گئی۔

“اچھا، اور بہت زیادہ کیا ہے؟”
زیغم نے دلچسپی سے پوچھا، نظریں اس پر جما دیں۔

“بولو بھی، میں اور کیا؟ جو جملہ ادھورا چھوڑا ہے، اسے مکمل کرو۔”
زیغم سلطان نے نرمی سے کہتے ہوئے “مہرو النساء” کی طرف دیکھا، جو نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔

“آپ… آپ بہت خوبصورت ہیں!”
وہ نظریں چراتے ہوئے سیب کے ٹکڑے پر تشدد کرنے والے انداز میں چبانے لگی، جیسے اپنی جھجک اور بے ساختگی کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہو۔ زیغم کے لبوں پر دھیمی سی مسکراہٹ آ گئی۔

“اچھا، خوبصورت تو تم بھی بہت ہو، اس لیے پھر ہمارے درمیان یہ بات تو بے مول ہے۔”
یہ کہتے ہی وہ ذرا سا جھکا، جیسے اس کی جھکی نظروں کو پڑھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ “مہرو النساء” نے ایک دم گھبرا کر چادر چہرے کے آگے کر لی اور شرما کر اس میں چھپ گئی۔ اس کی گہری نیلی آنکھوں کے عکس سے شرما کر وہ چادر میں تو چھپ گئی تھی مگر دل کی دھڑکنیں دھک دھک کر کے عجیب سا شور مچانے لگی تھی۔

“اچھا یہ کھاؤ، باقی باتیں بعد میں کریں گے۔”
زیغم نے نرمی سے کہا اور “مہرو النساء” کی جھجھک کو محسوس کرتے ہوئے بات کا رخ بدل دیا۔ وہ اسے انکمفرٹیبل نہیں کرنا چاہتا تھا،کیونکہ ایسی صورت میں اس کی میڈیسن لیٹ ہو سکتی تھی۔ اس لیے “مہرو النساء” کو کمفرٹیبل محسوس کروانے کے لیے اس نے اس سے ہلکی پھلکی گفتگو شروع کر دی۔ وکیل تھا تو بات کا رخ کیسے پلٹنا ہے اس میں تو خوب مہارت رکھتا تھا۔

“تمہیں کیا پسند ہے اور کیا نہیں پسند؟”
زیغم نے سوال ابھی شروع ہی کیا، مگر اسی وقت مائد کا فون آ گیا۔
وہ “مہرو النساء” کو فروٹس کے ساتھ روم میں چھوڑ کر، ہاتھ کے اشارے سے کھانے کی تاکید کرتے ہوئے، بڑے شیشے کی کھڑکی کھولتے ہوئے ٹیرس کے نظارے میں کھو گیا۔ وہ مائد سے بات کرنے میں مصروف ہو گیا تھا۔
دوسری طرف “مہرو النساء”، جو اب تک سیب کا ایک ٹکڑا اپنے منہ میں دبائے بیٹھی تھی، اردگرد دیکھنے لگی۔ یہ کمرہ نہیں تھا، اسے تو کوئی محل لگ رہا تھا!
سامنے ایک بڑا سا کنگ سائز بیڈ تھا، جس پر گہری نیلی اور سنہری شیڈز کی بیڈ شیٹ بچھی تھی۔ بیڈ کے ساتھ دونوں سائیڈ پر لکڑی کے نفیس سائیڈ ٹیبلز تھے، جن پر قیمتی لیمپ رکھے تھے، کمرے کی ایک پوری دیوار شیشے کی تھی، جہاں سے باہر کا منظر صاف نظر آ رہا تھا۔ کمرے کے ایک کونے میں ایک خوبصورت سٹنگ ایریا بنا ہوا تھا، جہاں نفیس صوفے اور بیچ میں ایک شیشے کی ٹیبل رکھی تھی، جس پر چمکدار کرسٹل کا شو پیس رکھا تھا۔ دوسری طرف دیوار کے ساتھ ایک بڑی سی سٹڈی ٹیبل رکھی تھی، جس پر ایک قیمتی لیپ ٹاپ، چند کتابیں، اور ایک نفیس پین ہولڈر رکھا تھا۔ سٹڈی ایریا کے پیچھے دیوار پر ایک بڑی سی بُک شیلف نصب تھی، جس میں قطار در قطار کتابیں سجی ہوئی تھیں۔
کمرے میں ہر چیز انتہائی نفاست سے رکھی گئی تھی۔ ہر شے اپنی جگہ پر ترتیب سے موجود تھی، جیسے کوئی بھی چیز بے ترتیب ہو ہی نہیں سکتی۔ کمرے کی چھت پر ایک شاندار فانوس جھلملا رہا تھا، جو کمرے کے شاہانہ انداز کو مزید بڑھا رہا تھا۔ الماری کی طرف نظر گئی تو وہ بھی کسی چھوٹے موٹے شو روم سے کم نہیں تھی۔ اندر قیمتی برانڈڈ کپڑے انتہائی ترتیب سے ہینگرز پر لٹکے تھے۔ الگ شیلف میں جوتے، گھڑیاں، اور پرفیومز رکھے تھے۔ ایک طرف شیلف میں مہنگے چشمے اور کف لنکس سجے تھے، جو زیغم کی امیرانہ شخصیت کی مکمل عکاسی کر رہے تھے۔ “مہرو النساء” نے سیب کا ایک ٹکڑا چبایا اور پھر نظروں کو ایک بار پھر پورے کمرے پر دوڑایا۔ یہ اس کی سوچ سے کہیں زیادہ عالی شان تھا۔ ایسا کمرہ، ایسا ماحول… یہ سب اس کے لیے بالکل نیا تھا۔ اسے لگ رہا تھا جیسے کھلی آنکھوں سے وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے۔ ایسی چیزیں تو اس نے شاید کبھی خوابوں میں بھی نہیں سوچی تھی۔ بے اختیار اس کی نظریں فون کان کو لگائے، اس کی جانب پشت کیے کھڑے زیغم سلطان پر پڑی۔ اس کی شخصیت کسی خوابوں کے شہزادے سے کم نہیں تھی—اونچا لمبا قد، چوڑے شانے، بھرپور مردانہ وجاہت کا پیکر۔ اس کے بدن پر کلف لگا ہوا، انتہائی نفاست سے سلا ہوا چاکلیٹ براؤن کلر کا مہنگا تھری پیس سوٹ تھا، جس میں اس کی وقار بھری شخصیت مزید نکھر کر سامنے آ رہی تھی۔ اوپر سیم کلر کے کوٹ کے بٹن کھلے تھے، مگر انداز ایسا تھا کہ دنیا کی کوئی شے اس کی پرکشش شخصیت کی مکمل عکاسی نہیں کرسکتی تھی۔
ایک ہاتھ اس نے کمر پر رکھا ہوا تھا، جبکہ دوسرے ہاتھ میں فون تھامے وہ مدھم آواز میں کسی سے بات کر رہا تھا۔ اس کی گہری آواز کی سنجیدگی کمرے میں موجود ہر چیز پر اپنا اثر چھوڑ رہی تھی۔ انداز میں بے ساختہ رعب اور رکھ رکھاؤ تھا،”مہرو النساء” کو لگ رہا تھا کہ وہ جس سے بھی بات کر رہا ہے، وہ ایک عام آدمی نہیں بلکہ کوئی بڑی کاروباری شخصیت تھی اور شاید زیغم سائیں کے لیے وہ کال کرنے والا شخص بہت اہمیت رکھتا تھا۔ وہ اپنے چھوٹے سے دماغ سے جتنا سوچ سکتی تھی سوچ رہی تھی۔ اس مضبوط ہاتھ کی مضبوط گرفت میں تھما ہوا فون بھی اس کی گرفت کے وقار میں لپٹا محسوس ہو رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں پکڑا ہوا فون ایسے تھا جیسے اس فون کی قیمت اس کے مردانہ مضبوط بالوں سے بھرے ہوئے خوبصورت ہاتھ کی وجہ سے ہے۔
“مہرو النساء” نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔ اتنا خوبصورت مرد… جو اپنی پرسنیلٹی میں کسی بادشاہ سے کم نہیں، وہ اسے اپنی بیوی کیسے مان سکتا ہے؟
وہ تو ایک عام سی لڑکی تھی، جو شاید ایک ملازمہ سے زیادہ اہمیت رکھنے کے قابل بھی نہیں تھی۔ وہ خود کو اس کمرے میں بھی اجنبی محسوس کر رہی تھی، اس شاہی ماحول میں جہاں ہر چیز زیغم سلطان کے مرتبے اور شان و شوکت کا ثبوت دے رہی تھی۔ وہ کیسے اس کی بیوی ہو سکتی تھی؟
اس کے برابر کھڑے ہونے کا حق کیسے رکھتی تھی؟
وہ لمحہ بہ لمحہ خود کو مزید چھوٹا محسوس کرنے لگی، جیسے اس محل نما کمرے میں اس کا وجود ہی غیر ضروری ہو۔
°°°°°°°°°°°
“میں اس کی جان لے لوں گی!”
نایاب کا دماغ تیزی سے بھڑک رہا تھا، آنکھوں میں وحشت، چہرہ غصے سے سرخ۔ وہ پاگلوں کی طرح کمرے میں اِدھر اُدھر چکر کاٹ رہی تھی، ہاتھ جھٹک رہی تھی، کبھی بیڈ پر مکا مارتی، کبھی دیوار پر۔ عجیب سی وحشت نایاب کے چہرے سے چھلک رہی تھی۔ اس کا پورا وجود اس آگ میں جل رہا تھا کہ زیغم شادی کر کے، نکاح کر کے ایک لڑکی کو لے آیا ہے، یہ بات بھلا وہ کیسے برداشت کر سکتی تھی۔

“وہ اس گھر میں نہیں رہ سکتی! کیسے وہ نکاح کر کے لے آیا اسے؟”
“میں سالوں سے اس کے لیے ذلیل ہو رہی ہوں، کیا کچھ نہیں کیا زیغم کو پانے کے لیے میں نے! اور یہ ایک ہی جھٹکے میں وہ نکاح کر کے آ گیا؟”
اس کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی، وہ بار بار اپنی باتوں کو دہرائے جا رہی تھی۔ اس کے اندر غصے کا طوفان برپا تھا۔

“چپ کر جاؤ نایاب!”
قدسیہ بیگم نے دھاڑتے ہوئے اپنی بیٹی کو جھنجھوڑا، مگر نایاب کی بڑبڑاہٹ اس کا غصہ کم نہیں ہو رہا تھا۔ وہ اب بھی پاگلوں کی طرح غصے میں بڑبڑا رہی تھی۔

“تمہارے چیخنے سے کچھ ٹھیک نہیں ہو جائے گا!”
“وہ ضدی، اڑیل، بددماغ گھوڑا ہے! اس نے جو کرنا تھا، کر دیا! نکاح کر کے لے آیا! اب کیا چاہتی ہو اس کی گولیوں سے ہم سب تمہاری خاطر اپنے سینے چھلنی کروا لیں؟”
توقیر سخت غصے سے بولا، اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا مگر نایاب پر کوئی اثر نہیں ہوا۔

“میں نے آپ سب سے کچھ کہا؟”
“مجھے آپ لوگوں سے کوئی امید نہیں ہے! میں نے جو کرنا ہوگا، خود کروں گی!”
نایاب کا غرور اور غصہ تمیز و تہذیب کی حد سے زیادہ تھا۔ اس وقت اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس کے سامنے اس کی ماں کھڑی ہے باپ اور بھائی کھڑا ہے۔ اسے زیغم چاہیے تھا، زیغم اس کا تھا اور اس وہم میں وہ سالوں سے جیے جا رہی تھی۔

“میں بھی دیکھتا ہوں کیسے ٹکتی ہے وہ اس گھر میں میری بہن کے سہاگ پر ڈاکہ ڈال کر؟”
“وہ دو ٹکے کی لڑکی، جو پتہ نہیں کن جھونپڑیوں سے اٹھا کر لے آیا ہے! اور اب اسے میری بہن کے سر پر سوار کر دیا۔ ایسا تو میں کبھی نہیں ہونے دوں گا!”
شہرام نے آگ میں مزید تیل ڈالا، وہ ٹیپو سلطان بنا ہوا تھا جیسے ابھی جا کر لڑ پڑے گا۔

“پتہ نہیں کہاں سے لے آیا ناس پیٹی کو! میری بیٹی کا گھر اجاڑنے آئی ہے؟”
قدسیہ ممتا کی مورت بنی بڑبڑائی، “مہرو النساء” کے لیے اس کے لہجے میں زہر گھلا ہوا تھا۔

“ٹھیک ہے، دو اس کے منہ میں ہاتھ!”
“پھر جب تم سب کو چیر کے رکھ دے گا تو مجھے مت کہنا!”
توقیر غصے میں بڑبڑاتا ہوا کمرے کی طرف چلا گیا۔

قدسیہ نے اس کی پشت کو گھور کر دیکھا اور زہر خند لہجے میں بولی:
“ماشاءاللہ! یہ ہے تم لوگوں کا باپ؟’
‘تم لوگوں کے حق کے لیے لڑ نہیں سکتا؟”
اسی لمحے دروازہ کھلا، اور ذرام جو راستے میں ملیحہ سے مل کر خوشی خوشی، چہرے پر خوشی سجائے مگر جیسے ہی گھر میں داخل ہوا، مختلف آوازوں نے اس کے قدموں کو روک دیا۔ وہ کچھ لمحے کے لیے ساکت ہوا، ارد گرد سے اٹھتے شور کو محسوس کیا۔

“گھر میں پھر ہنگامہ؟”
اس نے لب بھینچتے ہوئے ارد گرد نظر دوڑائی۔ یہ سب کچھ نیا نہیں تھا، مگر آج جو شور تھا، وہ عام دنوں سے کہیں زیادہ خطرناک لگ رہا تھا۔ بے اختیار اس کے قدم نایاب کے روم کی جانب بڑھ گئے تھے۔
°°°°°°°

اگلا ایپیسوڈ ملاحظہ کیجیے

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *