Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:2

رازِ وفا
از قلم زویا علی شاہ
قسط نمبر 2
°°°°°°°°°
“زیغم” مسلسل خاموشی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا تھا۔ “مائد” کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ “زیغم سلطان” کی یہ خاموشی کیسے توڑے۔ “زیغم” کے چہرے پر واضح پریشانی جھلک رہی تھی۔ بالاخر، “مائد” کو خاموشی توڑنے کے لیے ایک ترکیب سوجھی۔

“زیغم” کراچی سے سندھ تک کا سفر تھوڑا لمبا ہے، ہم اس طرح بھوکے پیٹ نہیں طے کر سکتے۔ پہلے ہم ہوٹل میں رکیں گے، سٹے کریں گے، اور ساتھ ہی اچھا سا کھانا کھائیں گے۔ اس کے بعد باقی کا سفر کریں گے۔”
“مائد” نے نرمی سے کہا، جیسے “زیغم” کو قائل کرنا چاہتا ہو۔

“نہیں “مائد”، ہمیں جلد از جلد حویلی پہنچنا ہے۔”
“زیغم” کی آواز سخت تھی، اس کی آنکھوں میں بے چینی واضح تھی۔

“مجھے فون پر جو خبر دی گئی ہے، میں جاننا چاہتا ہوں کہ وہ کتنی حقیقت ہے۔ مجھے تب تک سکون نہیں آئے گا جب تک میں حویلی نہیں پہنچ جاؤں گا۔ تم گاڑی کی رفتار بڑھاؤ اور جلدی مجھے حویلی پہنچاؤ!”
وہ مضبوط لہجے میں بولتا ہوا گاڑی کے شیشے سے باہر بے چین نظروں سے دیکھتا ہوا جا رہا تھا۔ اگر “زیغم” کے بس میں ہوتا تو “زیغم” اس وقت اڑ کر اپنی حویلی تک پہنچ جاتا مگر کبھی کبھی بے چینیوں کو دل میں دفن کر کے کچھ فاصلے طے کرنے پڑتے ہیں۔

“زیغم” یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ تم تک غلط خبر پہنچائی گئی ہو!”
“ایسا کیسے ممکن ہے کہ اتنا سب کچھ حویلی میں ہوتا رہا ہو اور تمہیں خبر تک نہ ہوئی؟”
“مائد” نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے گاڑی کا اسٹیئرنگ گھماتے سپیڈ دی تھی۔
وہ گہری نظروں سے بار بار “زیغم” کی جانب دیکھ رہا تھا۔وہ “زیغم” کے دل میں چھپے درد کو بھی سمجھ رہا تھا کہ “زیغم” اس وقت بہت پریشان ہے مگر چاہ کر بھی وہ “زیغم” کے لیے کچھ نہیں کر پا رہا تھا۔ “زیغم” اور “مائد” بچپن سے بیسٹ فرینڈ تھے اور آج بھی ان کے دوستی کے رنگ بہت گہرے تھے۔دونوں کا ناطہ اس وقت ٹوٹا جب “زیغم” پڑھائی کے لیے امریکہ چلا گیا اور “مائد” پاکستان میں ہی رہ گیا مگر فون پر ان کی دوستی ہمیشہ قائم رہی تھی۔ کوئی دن ایسا خالی نہیں جاتا تھا جب وہ ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے تھے۔

“نہیں “مائد”، اگر یہ خبر کوئی اور دیتا تو شاید میں یقین نہ کرتا، مگر جس نے یہ خبر دی ہے، اس پر شک کرنے کی میرے پاس کوئی وجہ نہیں ہے۔”
“زیغم” کا لہجہ قطعی تھا، آنکھوں میں گہری سنجیدگی جھلک رہی تھی۔خوبصورت چہرے پر پریشانی کے رنگ اسے اور بھی پرکشش بنا رہے تھے۔

“کس نے دی تھی تمہیں یہ خبر؟”
“مائد” نے فوراً پوچھا، وہ مسئلے کی تہہ تک پہنچنا چاہتا تھا۔ کسی بھی طرح وہ “زیغم سلطان” کی پریشانی کم کرنا چاہتا تھا مگر دوسری جانب “زیغم” ہمیشہ سے خاموش طبیعت، الجھی ہوئی پرسنلٹی کا مالک تھا۔ آج بھی “زیغم سلطان” بدلہ نہیں تھا اور نہ ہی اس کے اصول بدلے تھے۔ حقیقت پر پہنچے بنا باتوں کو اچھالنا “زیغم سلطان” کی فطرت میں شامل نہیں تھا۔

“وقت آنے پر تمہیں ضرور بتاؤں گا، مگر ابھی نہیں۔”
“زیغم” نے نظریں سڑک پر مرکوز رکھتے، دو ٹوک انداز میں فیصلہ سنایا تھا۔

“کیوں؟ تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے؟”
“مائد” کی آواز میں بے یقینی تھی، جیسے وہ “زیغم” کے جواب سے پہلے ہی الجھن میں مبتلا ہو چکا تھا۔

“اگر یقین نہ ہوتا تو پاکستان آ کر سب سے پہلے تمہیں اطلاع نہ دیتا، اگر یقین نہ ہوتا تو “زیغم سلطان” اس وقت تمہارے ساتھ گاڑی میں موجود نہ ہوتا!”
“تمہیں کیا لگتا ہے کہ میرے لیے یہ مشکل تھا؟”
“میں گاڑی بھی ہائر کر سکتا تھا، ڈرائیور بھی اور گارڈز بھی۔ مگر اگر میں نے تم سے ہیلپ لی ہے، تمہیں پکارا ہے، تو مطلب صاف ہے کہ “زیغم سلطان” کو آج بھی اپنے بچپن کے بیسٹ فرینڈ پر پورا یقین ہے۔”
اس کے لہجے میں قطعیت تھی، وہ کسی غلط فہمی کی گنجائش نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔

“مگر جو خبر مجھ تک پہنچی ہے، جب تک اس کی تصدیق نہ کر لوں، میں تمہیں بھی نہیں بتانا چاہتا۔ میں نہیں چاہتا کہ آدھی ادھوری خبر سن کر کسی کو نشانہ بناؤں اور کل کو مجھے شرمندہ ہونا پڑے۔”
“زیغم” کے چہرے پر سنجیدگی برقرار تھی۔اس کا سلجھا ہوا انداز سنجیدہ الفاظ اس کی پرکشش اور عقلمندی ذہانت کی عکاسی کر رہے تھے۔

“ویسے تو مجھے حویلی کے لوگوں سے زیادہ امیدیں نہیں ہیں، اچھی طرح جانتا ہوں کہ ان کی فطرت کیسی ہے۔ بس ایک بابا سائیں تھے، جو ہمیشہ ان کی چالاکیوں اور فطرت سے بے خبر رہے، کیونکہ بابا سائیں خود نیک دل، سیدھے اور سچے انسان تھے۔”
“زیغم” کی آواز میں ٹھہراؤ تھا، مگر آنکھوں میں ایک پرانی کسک واضح تھی۔
کبھی کبھی اپنوں کے دکھ اتنے اذیت ناک ہوتے ہیں کہ وقت کے ساتھ بھی ان زخموں کی بھرپائی نہیں ہو پاتی۔ “زیغم” اپنوں کی چالاکیوں سے تو پوری طرح سے واقف تھا مگر غداریوں سے واقف ہونا باقی تھا۔ گاڑی رفتار سے چلتے ہوئے اپنی منزل کی جانب بڑھ رہی تھی مگر اندر کا ماحول ایک عجیب سی بے چینی میں ڈوبا ہوا تھا۔ “مائد” مسلسل “زیغم” کی طرف دیکھتے ہوئے اسٹیئرنگ گھما رہا تھا، مگر اس کے دماغ میں ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا۔جسے وہ کب سے جاننے کی کوشش کر رہا تھا۔

“زیغم”، یہی بات تو مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ جب اس حویلی میں ہمیشہ سے شاطر اور چالاک لوگ رہتے تھے، تو آج تمہارے ابا اور اماں کے گزر جانے کے بعد ایسا کون سا نیک سیرت وہاں پیدا ہو گیا ہے جس نے تمہیں ایسی خبر سنا دی کہ تم چار سال بعد فوراً پاکستان آنے کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہو گئے؟”
“مائد” کی آواز میں الجھن نمایاں تھی، وہ جیسے ہر ممکن طریقے سے “زیغم” کے دماغ میں جھانکنا چاہتا تھا۔

“جبکہ تم یہاں سے اپنے سب رشتے ناطے توڑ کر گئے تھے۔ جاتے وقت تم نے خود مجھ سے کہا تھا کہ اب کبھی پاکستان لوٹ کر نہیں آنا چاہتے، تم اپنی اماں اور ابا کی تدفین کے لیے بھی اجنبیوں کی طرح آئے اور واپس چلے گئے۔ تو اب آخر ایسی کیا خبر تم نے سن لی کہ فوراً پلٹنے پر مجبور ہو گئے؟”
“مجھے یہی تو سمجھ نہیں آ رہا، میں بہت الجھا ہوا ہوں!”
“مائد” کی پیشانی پر سوچ کی شکنیں تھیں، وہ گاڑی کے شیشے میں “زیغم” کے تاثرات دیکھ رہا تھا۔ “زیغم” کی آنکھوں میں ایک انجانی کشمکش تھی، جسے وہ زبان پر پتہ نہیں کیوں نہیں لا رہا تھا۔

“مائد”، تھوڑا سا حوصلہ رکھو۔ مجھے قسم ہے ہماری دوستی کی، میں ایک ایک بات تمہیں سچ بتاؤں گا اور تمہارے علاوہ میں کس کو بتاؤں گا؟”
“زیغم” کی آواز میں ٹھہراؤ تھا مگر آنکھوں میں وہی اضطراب، جیسے وہ خود بھی کسی امتحان میں گھرا ہو۔

“تمہارے علاوہ شاید وہ شخص سچ میں میرا عزیز ہو سکتا ہے جس نے مجھے یہ خبر دی ہے اور اگر یہ کسی سازش کا حصہ ہوا، تو پھر سب سے پہلی گردن اسی کی کٹے گی جس نے مجھے یہ خبر دی ہے!”
“زیغم” کی آواز میں سختی در آئی تھی۔

“اور اگر یہ خبر سچ ثابت ہو گئی، تو آج کے بعد میں اسے اپنا خون، اپنا بھائی، اپنا سب کچھ مان لوں گا۔۔۔۔ مان لوں گا کہ وہ شخص پورے دل سے میرا اپنا ہے۔”
“زیغم سلطان” پھر کبھی اس پر شک نہیں کرے گا!”
وہ جیسے خود سے وعدہ کر رہا تھا، یا شاید کسی آزمائش کے لیے خود کو تیار کر رہا تھا۔
گاڑی مسلسل رفتار میں تھی، مگر “مائد” کے دماغ میں سوالوں کا طوفان تھا۔ ایک ہی خیال بار بار ذہن میں گھوم رہا تھا— “کون ہے وہ شخص جس نے “زیغم” کو حویلی میں ہونے والی عجیب سی ہلچل کے بارے میں بتایا اور آخر کیا ہو رہا ہے حویلی میں؟” راستہ خاموشی سے کٹ رہا تھا۔ زیغم کی سنجیدگی اور مسلسل خاموشی ماحول کو مزید بوجھل بنا رہی تھی۔ “مائد” نے ایک گہری سانس لی اور اچانک گاڑی ایک ‘سب وے ریسٹورنٹ’ کے سامنے روک دی۔

“یہ کیا کر رہے ہو؟”
“زیغم” نے حیرت سے “مائد” کی طرف دیکھا۔

“تمہاری ضد اپنی جگہ، مگر خالی پیٹ کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ کچھ کھا لو، ورنہ راستے میں نڈھال ہو جاؤ گے۔”
“مائد” کا لہجہ دوستی بھرا مگر زبردستی لیے ہوئے تھا۔
“زیغم” نے پہلے انکار کیا، مگر “مائد” نے اسے نظر انداز کرتے ہوئے ‘سب وے’ سے تازہ سلاد، برگر اور کولڈ ڈرنک لے لی۔ واپس آ کر اس نے زبردستی “زیغم” کو کھانے پر مجبور کیا۔

“دیکھو، میں جانتا ہوں کہ تمہارا دماغ ابھی بہت الجھا ہوا ہے، مگر خود کو بھوکا رکھ کر چیزیں بہتر نہیں ہوتیں۔ کم از کم تھوڑا سا کھا لو۔”
“مائد” نے سلاد کا ایک ڈبہ “زیغم” کی طرف بڑھایا۔
“زیغم” نے ایک نظر کھانے پر ڈالی، پھر “مائد” کے خلوص کو دیکھتے ہوئے خاموشی سے کچھ نوالے کھا لیے۔ “مائد” نے بھی اپنا برگر کھاتے ہوئے گاڑی دوبارہ سٹارٹ کر دی۔ راستہ اب بھی لمبا تھا، مگر “مائد” کو اندازہ تھا کہ جوابات جلد ہی ان کے سامنے آنے والے ہیں۔
°°°°°°°
“نایاب” نے کروٹ بدلی، اس کی آنکھوں میں وحشت تھی۔

“کیسے دبا رہی ہے؟”
“کیا ہاتھوں میں جان نہیں؟”
وہ غصے سے چلائی، جبکہ “دانیا” زمین پر بیٹھی، خاموشی سے اس کے پاؤں دبا رہی تھی۔ اس کے ہاتھ لرز رہے تھے، مگر ہمت نہ ہوئی کہ کوئی جواب دے۔ “نایاب” کو اس کی خاموشی مزید طیش دلا گئی۔

“حرام کھا کھا کر تمہارے ہاتھوں میں جان نہیں رہی؟”
“ایسے دباتے ہیں؟”
اچانک اس نے اپنی ایڑھی “دانیا” کے منہ پر دے ماری۔

“آاہہہ!”
“دانیا” کی ہلکی سی سسکی کمرے میں گونجی، اور وہ جھٹکے سے پیچھے ہٹ گئی۔ “دانیا” کے ہونٹ سے خون بہنے لگا۔اس کا ہونٹ تو پہلے سے ہی زخمی تھا اور رہی سہی کسر “نایاب” نے پوری کر دی تھی۔ “دانیا” نے درد سے بلبلاتے ہوئے اپنے ہونٹ پر ہاتھ رکھا، مگر “نایاب” کی نظریں بے رحمی سے اس پر جمی تھیں۔ “نایاب” کا غصہ دانیا پر نہیں تھا، یہ غصہ “زیغم” پر تھا۔ تھوڑی دیر پہلے ہی اس نے “زیغم” کی واٹس ایپ ڈی پی دیکھی تھی، جس میں وہ ہمیشہ کی طرح بے حد پرکشش لگ رہا تھا۔ “زیغم…” خاندان کا سب سے منفرد، سب کی نظروں کا مرکز، اور “نایاب” کی برسوں سے ادھوری خواہش تھا مگر “زیغم” نے ہمیشہ کی طرح “نایاب” کے میسج کو نظر انداز کر دیا تھا، سین تو کیا مگر جواب دینا گوارا نہ کیا۔ یہی زخم “نایاب” نے “دانیا” پر اتار دیا تھا۔

“ایسے ہی آنکھیں پھاڑ کر دیکھتی رہے گی یا پیر دبائے گی؟”
“یا پھر مار کھانے کی عادت ہو گئی ہے تمہیں؟”
“نایاب” نے جھنجھلا کر کہا، اور “دانیا” نے کپکپاتے ہاتھوں سے اس کے پاؤں دبانے شروع کر دیے مگر تکلیف اس کے بس سے باہر ہو رہی تھی۔ ہاتھوں پر پہلے ہی “قدسیہ” کی گرائی ہوئی گرم چائے کے چھالے تھے، اور مسلسل پاؤں دبانے کی وجہ سے ان سے خون رسنے لگا تھا۔ آنکھوں میں آنسو تھے، مگر لبوں پر خاموشی۔ درد اتنا تھا کہ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ چیخ چیخ کر روئے مگر ہائے رے قسمت کی ماری کھل کر رو بھی نہیں سکتی تھی۔ کیا بدنصیبی تھی اس کی۔ یہاں رحم کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ ہر کوئی اپنے مفاد میں مگن تھا۔
“نایاب” کا باپ پیسے کا پوجاری گاؤں میں تقریر کرنے گیا تھا—اپنے مفاد کے لیے۔
بھائی جسم کا بھوکا کوٹھے پر رات گزارنے نکلا تھا—اپنے مفاد کے لیے۔
اور “نایاب؟” وہ اپنے مفاد کے لیے بے بس “دانیا” پر ظلم ڈھا رہی تھی۔۔۔ مگر ظلم سہہ کر “دانیا” کے جسم میں اب جان نہیں تھی۔

“بس کر دو “نایاب!” خدا کا واسطہ ہے، میں مزید اس درد کو برداشت نہیں کر سکتی!”
“دانیا” نے کپکپاتی آواز میں التجا کی، مگر “نایاب” کو جیسے کچھ سنائی ہی نہیں دے رہا تھا۔

“حرام کھا کھا کر حلال کرنا سیکھو نمک حرام لڑکی!”
“نایاب” نے اپنے فون سے نظریں ہٹا کر ایک نظر دیکھتے ہوئے زہریلے لہجے میں کہا۔

“میں حرام نہیں کھاتی!”
“یہ حویلی، یہ پیسہ، سب میرے بابا کا ہے!”
“تم لوگ حرام کھا رہے ہو!”
یہ الفاظ “نایاب” کے لیے چنگاری کا کام کر گئے۔ اچانک وہ غصے سے بیڈ سے اٹھی، کاٹدار نظروں سے دیکھتے ہوئے جھٹکے سے دانیا کے بال مٹھی میں جکڑ لیے۔

“تمہیں آج میں بتاتی ہوں کہ حرام کون کھا رہا ہے!”
وہ “دانیا” کو زمین پر گھسیٹنے لگی، اس کے بال مٹھی میں بری طرح الجھے ہوئے تھے، جبکہ دانیا کی ہلکی چیخیں پورے کمرے میں گونج رہی تھیں۔ کچن کی طرف گھسیٹتے ہوئے، “نایاب” کے چہرے پر درندگی ناچ رہی تھی۔ گھر میں نوکر موجود تھے، مگر کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ “نایاب” کے آگے زبان کھولے۔ بس ایک ہی شخص تھا جو کچھ کر سکتا تھا—نایاب کی طلاق یافتہ پھوپھو، “سلمہ” بیگم۔ اسے بھی پوری طرح سے اچھا تو نہیں کہا جا سکتا تھا مگر کم از کم وہ “نایاب” کو یہ درندگی کرنے سے ضرور روکنے کی کوشش کرتی تھی مگر وہ اس وقت اپنے کمرے میں بے فکری کی نیند سو رہی تھی… اور رات کافی ہو چکی تھی۔ “دانیا” کی چیخیں پورے گھر میں گونج رہی تھی۔ “دانیا” سب ملازموں کی جانب آس بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی کہ شاید کوئی ہی اسے آگے بڑھ کر بچا لے مگر وہاں پر کھڑا ہر شخص ان کا پابند تھا ہر کوئی اپنی جان بچانا چاہتا تھا ہر کوئی اچھی طرح سے جانتا تھا کہ اگر وہ ذرا سا بھی بیچ میں پڑے گا تو ان کی گھر کی بہو بیٹیوں کی عزتیں بھی لٹ جائیں گی اور ان کو موت کی گھاٹ اتار کر راتوں رات دفنا بھی دیا جائے گا۔
ایسے میں کون ہمت کرتا آگے بڑھنے کی۔ ہر کوئی بے بس مجبور نظریں جھکائے کھڑا تھا ایسا نہیں تھا کہ ان کو “دانیا” پر رحم نہیں آرہا تھا۔ کوئی بھی دل رکھنے والا انسان ہوتا اس کو اس وقت ضرور دانیا پر رحم آتا۔ مگر ان بے رحم ماں بیٹی کو “دانیا” پر رحم نہیں آرہا تھا۔دونوں ماں بیٹی اس وقت فرعون بنی بیٹھی تھیں، جیسے اس معصوم کی زندگی اور موت کا اختیار صرف ان کے ہاتھ میں ہو۔ ظلم، سفاکیت اور بے رحمی ان کے چہروں پر رقص کر رہی تھی۔ نوکروں کے چہروں پر خوف صاف جھلک رہا تھا، مگر کوئی بھی آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔ “نایاب” نے بے دردی سے دانیا کو کچن کی دہلیز پر لا پٹخا۔ فرش پر گھسیٹنے کی وجہ سے اس کی کلائیاں زخمی ہو گئی تھیں، ہونٹ سے بہتا خون چہرے پر پھیل چکا تھا، اور آنکھوں میں اذیت کی سرخی نمایاں تھی۔

“چھوڑ دو مجھے، خدا کے لیے چھوڑ دو!”
“دانیا” نے سسک کر “نایاب” کے ہاتھوں سے اپنے بال چھڑانے کی کوشش کی، مگر “نایاب” کی مٹھی اور سخت ہو گئی۔ اتنی دیر میں “قدسیہ” کمرے سے باہر نکل آئی، اس کے چہرے پر ناگواری تھی، اور آنکھوں میں وہی زہر بھری بے رحمی۔

“یہ آدھی رات کو کیا مصیبت ہے؟”
“کیوں یہ منہوس اتنا چیخ رہی ہے؟”
وہ جھنجھلا کر چلائی۔ اسے تو “دانیا” ہمیشہ سے زہر لگتی تھی۔
“قدسیہ” کی نظر جیسے ہی “دانیا” پر پڑی، اس کے زہر بھرے لبوں پر ایک ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ پھیلی۔ اسے اچھی طرح نظر آ رہا تھا کہ اس کی اپنی بیٹی، “نایاب”، “دانیا” کے بال جکڑے اسے گھسیٹ رہی تھی مگر “قدسیہ” نے ایک لفظ بھی “نایاب” کو روکنے کے لیے نہیں کہا۔ایسی ماں جو خود بے تربیت ہو وہ اپنی اولاد کی تربیت کیسے کر سکتی ہے۔ “قدسیہ” انتہائی خراب ماں تھی اسے پتہ ہی نہیں تھا کہ اولاد کی تربیت کیسے کی جاتی ہے۔ اپنی اولاد کے اندر ہر بری چیز اس عورت نے خود سے ڈالی تھی، تو ایسی عورت سے رحم کی امید کیسے کی جا سکتی ہے۔ اس کے بجائے وہ “نایاب” کے پیچھے پیچھے کچن میں چلی آئی، جیسے کسی تماشے کا آخری سین دیکھنے آئی ہو۔ چہرے پر سکون تھا جبکہ نظروں کے سامنے “دانیا” کی بے بسی اس کی زخمی حالت تھی۔ اتنی بے رحم عورت کہ اس کے چہرے پر ذرا سی شکن بھی نہیں تھی بلکہ مسکراہٹ کھل رہی تھی۔ اس گھٹیا عورت کو دیکھ کر تو جلاد بھی شرما جائے گا۔

“اماں سائیں! آج اس کا کھیل ختم کرتے ہیں!”

“نایاب” کا چہرہ غصے سے تمتمایا ہوا تھا، اس کی آنکھوں میں جنون ناچ رہا تھا مگر اس وقت پتہ نہیں کیا سوچ کر “قدسیہ” نے یہ جملہ بولا تھا۔
“ہیں؟ ابھی اور اسی وقت۔۔۔؟”

“کچھ دیر پہلے آپ نے خود کہا تھا کہ اس کی ضرورت نہیں رہی، تو پھر دیر کس بات کی؟”
“نایاب” نے سخت لہجے میں کہا تھا کیونکہ وہ ابھی اور اسی وقت “دانیا” کا خاتمہ کرنا چاہتی تھی “دانیا” کا آج اپنے لیے بولا گیا ایک جملہ “نایاب” سے ہضم نہیں ہو رہا تھا۔ “قدسیہ” نے معنی خیز نظروں سے بیٹی کو دیکھا، اور ایک پل کو سوچا۔

“مگر تم نے خود ہی تو کچھ دیر پہلے منع کیا تھا نا!”
“قدسیہ” نے کچھ سوچتے ہوئے مسکرا کر کہا۔

“ہاں کہا تھا۔۔۔ مگر لگتا ہے اس کو میرے احسانوں کی کوئی قدر نہیں ہے!”
“یہ اس لائق ہی نہیں کہ اس پر رحم کیا جائے!”
وہ زہریلے لہجے میں بولی۔اس کے بالوں کو مزید کھینچتے ہوئے اسے تڑپا رہی تھی اور ایسے احسان بھرے لہجے میں بول رہی تھی جیسے اس نے “دانیا” پر بہت سے احسان کیے ہوں اور “دانیا” بیچاری نے اس کے احسانوں کی پاسداری نہ کی ہو۔ ایک عورت ہو کر “نایاب” حد سے زیادہ بے حس تھی مگر اس میں قصور صرف “نایاب” کا نہیں تھا۔ “نایاب” کی رگوں میں خون بھی تو ایسے ہی ماں باپ کا دوڑ رہا تھا جس میں بے رحمی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔

“اماں میں نے ہی آپ کو منع کیا تھا، اب میں ہی بول رہی ہوں میں اس کی شکل نہیں برداشت کر سکتی۔ اس کا قصہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں!”

“جو حکم میری شہزادی کا۔ جو تم کہو گی وہی ہوگا۔ راج ہے تمہارا اس گھر پر، اگر تمہیں اس کی شکل، اس کا وجود برداشت نہیں، تو ٹھیک ہے، دیکھ اب میں کیا کرتی ہوں!”
وہ اپنی بیٹی کا ماتھا چوم کر ایسے اس کی بات ماننے کو تیار تھی جیسے اس کی بیٹی بڑا ہی کوئی نیکی کا مقدس کام کرنے جا رہی ہو۔ ایسی ماں بیٹی کو زندہ درگور کر دینا چاہیے مگر وہ تو گھر میں صرف اپنا راج سمجھتی تھی۔ نہ کسی کا ڈر، نہ کسی کا خوف۔ بدلحاظ بے رحم عورتیں اور کر بھی کیا سکتی تھی۔ قدسیہ نے دانت پیسے، پھر اچانک تیزی سے چولہے کی طرف بڑھی اور وہاں رکھا گھی کا ڈبہ اٹھایا۔

“گھی گرم کرو اور پورے جسم پر انڈیل دو!”
“چند منٹوں میں یہ دیکھنا کتنی خوفناک لگنے لگے گی اور دیکھنا پھر کیسے تڑپ تڑپ کر مرتی ہے یہ۔”
“قدسیہ” کی بات سن کر “دانیا” کی چیخیں مزید بلند ہو گئیں۔ درد سے اس کی آنکھیں جلنے لگی تھی۔

“نہیں! خدا کے لیے ایسا مت کریں! میں مر جاؤں گی!”
وہ دہائیاں دینے لگی۔

“میں آپ کے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔ میں آئندہ کبھی کچھ نہیں بولوں گی، ایک بار معاف کر دیں پلیز، پلیز مجھے ایک بار معاف کر دیں۔”
“میں “نایاب” تمہارے پاؤں پڑتی ہوں، مجھ سے غلطی ہو گئی، میں آئندہ کچھ نہیں بولوں گی۔”
وہ “نایاب” کے پاؤں پڑ رہی تھی مگر “نایاب” کے چہرے پر صرف سفاکی تھی۔ وہ اس وقت فرعون بنی کھڑی تھی مگر شاید وہ یہ بھول گئی تھیں کہ فرعون بھی خود کو خدا سمجھتا تھا، اور پھر اللہ نے اس کا انجام کیا کیا!
شاید وہ یہ بھی بھول گئی تھیں کہ ظالم جتنا بھی طاقتور ہو، اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکتا۔ جب زمین پر ظلم حد سے بڑھ جائے، جب کسی معصوم کی سسکیاں عرش تک جا پہنچیں، تو پھر انصاف کا فیصلہ اللہ کے دربار سے ہوتا ہے— اور جب اللہ فیصلہ کرتا ہے، تو پھر کوئی فرعون باقی نہیں رہتا!
“دانیا” کی چیخیں خاموشی میں دفن ہو رہی تھیں، مگر یہ خاموشی طوفان سے پہلے کی خاموشی تھی۔ شاید قدرت نے ان دونوں کے لیے کوئی ایسا انجام لکھ دیا تھا، جو انہیں کبھی یاد آتا تو روح کانپ جائے گی۔ نوکر اب بھی خاموش کھڑے تھے، کوئی بھی آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کر رہا تھا۔ “نایاب” نے اس کے بال مزید سختی سے جکڑ لیے۔

“چیخ۔۔۔ اور چیخ۔۔ جتنا چیخ سکتی ہے چیخ!”
“تُو جتنا چیخے گی، اتنا ہی مزہ آئے گا!”
اس نے “دانیا” کے چہرے پر جھکتے ہوئے ایک اور زوردار تھپڑ دے مارا۔ “دانیا” زمین پر گری ہوئی تھی۔ اس کی چیخیں، اس کی تکلیف، اس کا زخمی وجود دیکھ کر اس وقت ہر آنکھ اشکبار تھی مگر ڈر اتنا تھا ان ظالم لوگوں کا کہ وہ آنکھوں میں آنسو چھپائے ہوئے تھے۔”قدسیہ” نے چولہے کی آنچ تیز کر دی، گھی پتیلی میں گرنے لگا، اور جیسے جیسے وہ گرم ہونے لگا، “دانیا” کے جسم میں خوف کی سنسناہٹ پھیلتی جا رہی تھی۔ یہ لمحہ اس کی زندگی کا سب سے خوفناک لمحہ تھا۔ اس کے دل نے تسلیم کر لیا تھا کہ یہ اس کی زندگی کی آخری رات ہے!

“اماں سائیں! اس کی زبان پر اچھی طرح گرم گھی ڈالنا، اور اس کے بعد پورے جسم پر بہا دینا!”
“نایاب” کا زہر سے بھرا لہجہ کچن میں گونج رہا تھا، آنکھوں میں سفاک چمک تھی۔

“نہ اس کی شکل بچے گی، نہ خوبصورتی، اور نہ ہی زبان تاکہ یہ کسی سے کچھ نہ کہہ سکے، نہ اپنے بھائی سے، نہ کسی اور سے!”
“قدسیہ” نے “دانیا” کے چیخنے کی پرواہ کیے بغیر چولہے پر رکھی پتیلی کی طرف دیکھا، جس میں گھی گرم ہو چکا تھا۔

“اماں سائیں آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے!”
“نایاب” نے “دانیا” کے بال مزید سختی سے جکڑتے ہوئے سفاق اور شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجائے ہوئے کہا تھا جیسے اس کے دماغ میں کوئی نیا آئیڈیا آیا ہو۔
“بے فکر ہو کر اس کا خاتمہ کریں۔ بعد میں سب سے کہہ دیں گے کہ یہ خود کھانا بناتے ہوئے جل گئی!”

“واہ میری بچی بہت سمجھدار ہے۔”
“قدسیہ” اپنی بیٹی کی دونوں ہاتھوں سے بلائیں لیتے ہوئے مسکرا رہی تھی جیسے بیٹی نیا ملک تعمیر کرنے کے بارے میں آئیڈیا پیش کر رہی ہو۔

“تُو میری ٹینشن نہ لے، میں نہیں ڈرتی کسی سے۔ اگر ڈرتی ہوتی تو اس کے ماں باپ کو مروانے سے پہلے ڈرتی!”
اپنے ماں باپ کی موت کے ذمہ دار کو سامنے دیکھ کر، اپنی تکلیف کو محسوس کر کے، اپنی موت کا منظر نظروں کے سامنے دیکھتے ہوئے، “دانیا” کی ہمت ختم ہو گئی تھی۔ “دانیا” کی دردناک التجائیں، دعائیں کرتی ہوئی چیخیں پورے گھر کی در و دیوار سے ٹکرا رہی تھی۔ آنکھوں میں خوف، جسم ڈر سے کانپنے لگا، مگر کوئی اسے بچانے والا نہیں تھا۔ کچن کے دروازے پر کھڑے نوکر بھی خوف سے زمین میں دھنسے کھڑے تھے، کوئی کچھ نہیں کر پا رہا تھا۔ “قدسیہ” نے چمچ سے گرم گھی نکال کر اس کے سامنے کیا، “نایاب” نے “دانیا” کا چہرہ سختی سے پکڑا، اس کے ہونٹ زبردستی کھولے مگر جب زمینی لوگ خود کو خدا سمجھنے لگیں تو اس وقت اللہ کی ذات ایسے ایسے کرشمے کرتی ہے جن کے بارے میں کبھی انہوں نے سوچا بھی نہ ہو۔ “دانیا” کا آخری وقت مقرر کرنے والی “نایاب” اور “قدسیہ” یہ بھول گئی تھیں کہ اللہ کی ذات سب سے بڑی ہے۔ اپنے معصوم اور مظلوم لوگوں کی مدد کرنے کے لیے خدا کبھی کبھی انسانوں کو فرشتوں کی طرح بھیجتا ہے۔ آج “دانیا” کے صبر کی انتہا ہو گئی تھی، ظلم کی انتہا ہو گئی تھی، تو آج خدا نے کسی کو اس کے لیے فرشتہ بنا کر بھیجا تھا۔
جب انسان کو لگتا ہے کہ اب اس کا صبر ختم ہو گیا، اب اس میں برداشت نہیں کہ وہ اور دکھ نہیں سہہ سکتا، تب خدا اپنے بندے کے دکھوں کو مٹا دیتا ہے، اس کی آزمائشوں کو ختم کر دیتا ہے۔ بے شک خدا کبھی اپنے بندے کو اس کی ہمت سے زیادہ دکھ نہیں دیتا۔ آج “دانیا” کی ہمت ختم ہوئی تو آزمائشوں کا سلسلہ بھی ختم ہو گیا تھا۔ خدا نے اس کی سن لی تھی، اس کی فریادیں، اس کی دعائیں رائیگاں نہیں گئی تھیں۔
وہ آ گیا تھا، جو ان سب کی سانسیں بند کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ وہ آ گیا تھا، جو ان سب پر قہر بن کر ٹوٹنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔باہر سے آتی ہوئی دھڑ دھڑ کر کے گولیوں کی آوازیں سن کر “نایاب” اور “قدسیہ” حیران تھی اور ان دونوں کے چہرے پر عجیب سی گھبراہٹ طاری ہو گئی تھی۔
حویلی کی پرسکون رات اچانک گولیوں کی گونج سے لرز اٹھی۔ فضا میں بارود کی بو پھیل چکی تھی، اور ہوا میں معلق گولیوں کے خول اس روایتی استقبال کی گواہی دے رہے تھے۔ جو سندھ کے وڈیروں کے لیے مخصوص تھا۔ نوکر ہاتھوں میں بندوقیں لیے خوشی میں فائرنگ کر رہے تھے، جیسے کسی بادشاہ کی واپسی ہو رہی تھی۔ ہر آنکھ خوشی سے چمک رہی تھی جو اس بات کی دلیل تھی کہ آنے والا سب کے دلوں میں بستا ہے۔

“یا اللہ تیرا شکر ہے حویلی کے اصل مالک “زیغم” سائیں واپس آگئے ہیں!”
ایک ملازم نے جوش میں نعرہ بلند کیا تھا۔
حویلی کے مین دروازے کے سامنے دھول اڑاتے ہوئے گاڑیوں کا قافلہ رکا۔ سیاہ چمچماتی ہوئی گاڑی کی فرنٹ سیٹ سے ایک شخص باہر نکلا— لمبا قد، چوڑا سینہ، مضبوط جسم، اور حسن ایسا کہ جیسے خود فطرت نے تراشا ہو۔ اس کا سنہری گندمی رنگ، نیلی گہری آنکھیں، چہرے پر وجاہت کی چمک اور رعب دار شخصیت کسی شہزادے سے کم نہ تھی۔ یہ “زیغم سلطان لغاری” تھا— وہی “زیغم”، جو چار سال پہلے حویلی کو چھوڑ کر جا چکا تھا، اور اس کی اچانک واپسی کا کوئی خواب میں بھی تصور نہیں کر سکتا تھا۔ “زیغم” کے ساتھ کھڑا اس کا دیرینہ دوست “مائد خان دورانی۔” وہ بھی ایک مضبوط اور امیر گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ مضبوط خدوخال اور سخت گیر نظروں والا، اپنے دوست کے شانہ بشانہ کھڑا تھا۔ دونوں کی موجودگی نے فضا میں ایک عجیب سا دبدبہ طاری کر دیا تھا۔ وقت ایک دیر کے لیے تھم سا گیا تھا۔گولیوں کی دھڑ دھڑ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ اتنی گولیاں ایک ہی بار میں چلنا خوشی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اندر، کچن میں، “قدسیہ” کے ہاتھ میں پکڑا ہوا گرم گھی کا چمچ اس نے جلدی سے واپس گرم دیگچی کے اندر پھینک دیا تھا۔ گھی کا چمچ یکدم دیگچی میں گرنے کی آواز کے ساتھ ٹکرا گیا۔ “قدسیہ” کے چہرے پر ایک لمحے کے لیے سراسیمگی چھا گئی۔ دونوں ایک دوسرے کو حیرانی سے دیکھتی ہوئی تیزی سے کچن سے باہر نکلیں۔

“یہ فائرنگ کیوں ہو رہی ہے؟”
“نایاب” نے الجھ کر ملازموں سے سوال کیا۔

“پتہ نہیں بی بی سائیں۔ ہم ابھی پتہ لگاتے ہیں!”
ایک ملازمہ تیزی سے باہر کی جانب لپکی تھی لیکن ٹھیک اسی وقت گھر کا اندرونی مضبوط خوبصورت اور قدیم لکڑی کا دروازہ آہستہ سے کھلتا چلا گیا۔ ملازم دروازہ کھول کر سائیڈوں پر کھڑے ہو گئے تھے۔ ہوا میں ایک عجیب سا ٹھہراؤ تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کوٹ ڈیجی کی ہواؤں نے کچھ دیر کے لیے خود کو خوشیوں کے لیے روک لیا ہو۔ دو ملازمین بڑے سے لکڑی کے قدی دروازے کے پلوں کو پوری طرح سے کھول کر پیچھے ہو کر کھڑے ہو گئے تھے۔ “زیغم سلطان لغاری” نے مضبوط بھاری قدم گھر کے اندر رکھے تھے مگر جیسے ہی “قدسیہ” اور “نایاب” کی نظریں اس پر پڑیں، ان کے چہرے کی ساری رنگت ہوا ہو گئی۔دونوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔ بھکھلائی ہوئی باندریاں لگ رہی تھی۔ دونوں حیرت سے منہ کھولے ایک دوسرے کو دیکھے جا رہی تھی۔

“زیغم۔۔۔۔!”
“نایاب” نے “زیغم” کا نام لینا چاہا مگر “زیغم” کو سامنے دیکھ کر اس کی زبان لڑکھڑا گئی تھی۔ الفاظ حلق سے نکل نہیں پائے تھے۔ “نایاب” اور “قدسیہ” کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ یہ کیسے ممکن تھا؟ چار سال بعد، اچانک، بغیر کسی اطلاع کے، “زیغم” واپس آ گیا تھا!
وہی “زیغم”، جو ان کی سوچوں سے مٹ چکا تھا، جس کی واپسی کا کبھی انہوں نے خواب میں بھی تصور نہیں کیا تھا، وہ آج اپنی مکمل وجاہت کے ساتھ ان کے سامنے کھڑا تھا۔ ان کے دماغ میں سوچوں کا طوفان چل رہا تھا مگر لب خاموش تھے۔ ہونٹ ڈر کے مارے خشک پڑنے لگے تھے۔ وہاں پر کھڑے ہوئے ملازمین کے چہروں پر خوف دیکھ کر “زیغم” نے ایک نظر چاروں اطراف میں دوڑائی تھی۔ اس سے پہلے “زیغم” وہاں کی ہواؤں میں بکھرے ہوئے ظلم اور درد اور اپنی بہن کی خاموش ہو چکی سسکیوں کو سن پاتا۔ خاموشی کا سینہ چیرتے ہوئے، ایک مدھم تکلیف زدہ سی آواز بلند ہوئی۔

“زیغم” بھائی!”
وہ آواز، جو کمزور تھی، مگر اس کے اندر اتنا درد تھا کہ پتھر بھی پگھل جائیں۔

“دانیا…”
دیوار کا سہارا لیے، کانپتے وجود کے ساتھ، “دانیا” اپنی زندگی کے آخری لمحے گن رہی تھی۔ اس کی زخمی حالت، نیلوں سے بھرا چہرہ ، اور خوفزدہ آنکھیں وہ سب کچھ کہہ رہی تھیں جو الفاظ نہیں کہہ سکتے تھے۔ اس کی نظریں “زیغم” پر پڑی تو آنکھوں سے آنسوؤں کی دھار بہہ نکلی۔ وہ لڑکھڑاتے ہوئے، بمشکل قدم بڑھاتی “زیغم” کی طرف دوڑی۔ اس کا کمزور وجود زمین پر گرنے ہی والا تھا کہ “زیغم” نے دونوں بازو پھیلائے اور تیز قدموں میں آگے بڑھ کر اپنی بہن کو جھپٹ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ “زیغم” کا دل تڑپ اٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آگ بھڑک رہی تھی، مگر سینے میں جلتا ہوا درد اس سے بھی زیادہ شدید تھا۔ وہ بہن، جسے وہ اپنی جان سے زیادہ پیار کرتا تھا مگر اس سے ہوئی ایک غلطی نے بے شک “زیغم” کو اس سے دور کر دیا تھا مگر “زیغم” آج بھی دل سے اپنی بہن سے محبت کرتا تھا مگر بھائی ہونے کے ناطے جو کچھ “دانیا” سے ہوا تھا، غیرت مند بھائی ہونے کے ناطے وہ سب کچھ بھلا نہیں پایا تھا مگر اس کا مطلب ہرگز نہیں تھا کہ وہ “دانیا” کے لیے ایسا کچھ چاہتا تھا جو کچھ اس کے ساتھ ہو چکا تھا۔ “زیغم” کا دل درد سے پھٹ رہا تھا۔ وہ “دانیا” کو صحیح سلامت چھوڑ کر گیا تھا مگر آج ایک زندہ لاش کی طرح اس کی بانہوں میں تھی۔ اپنے بھائی کے گلے لگ کر “دانیا” کو ایسا لگ رہا تھا کہ وہ جلتے ہوئے تندور سے نکل کر کسی کی محافظ کی دسترس میں پہنچ گئی ہو۔ “دانیا” کی دردناک چیخیں حویلی کی دیواروں سے ٹکرا کر گونج رہی تھیں، جیسے وہ خود بھی اس ظلم پر نوحہ کناں ہو لیکن اس کی دردناک روتی ہوئی چیخیں جب “زیغم” کے سینے سے ٹکرائیں تو “زیغم سلطان” کا دل چیر کر رکھ دیا تھا۔
اس کی گہری نیلی آنکھوں میں وحشت سی لہرائی، چہرے کی رگیں تن گئیں، اس کے مضبوط ہاتھوں کی گرفت اپنی زخمی بہن پر مزید سخت ہو گئی۔

“یہ سب کس نے کیا؟”
“زیغم” کا سوال نہیں، دہکتا ہوا انگارہ تھا جو خاموشی میں پھینکا گیا تھا۔ اس کی گونج پوری حویلی میں گونجی، مگر کسی میں ہمت نہیں تھی کہ اس کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر جواب دے سکے کیونکہ اس وقت سب کے سامنے معصوم بے بس “دانیا سلطان” نہیں کھڑی تھی، سب کا منہ توڑ جواب دینے والا “زیغم سلطان” کھڑا تھا جو بہادر بھی تھا نڈر بھی تھا اور سب کی نظروں میں اس کا ڈر بھی تھا۔ “قدسیہ” اور “نایاب” کے چہروں کا رنگ اڑا ہوا تھا۔ وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہی تھیں، مگر الفاظ جیسے حلق میں اٹک گئے تھے۔ “نایاب” کے ہاتھ غیر محسوس طریقے سے لرز رہے تھے، جبکہ “قدسیہ” کے چہرے پر ایک زبردستی کا ضبط تھا، جو کسی بھی لمحے ٹوٹنے کو تھا۔ دوسری جانب، “زیغم” کی گرفت میں پڑی “دانیا” کی سسکیاں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ اس کا زخمی وجود، اس کے کانپتے ہاتھ، اس کی آنکھوں میں بسی درد کی شدت “زیغم” کے اندر طوفان برپا کر چکی تھی۔ “مائد خان دورانی”، جو اب تک چپ کھڑا تھا، ایک قدم آگے بڑھا۔ اس کی آنکھوں میں بھی شدید غصہ تھا، مگر وہ “زیغم” کے ضبط کا منتظر تھا۔ “مائد” کو تو اندازہ بھی نہیں تھا کہ “زیغم” کو ملنے والی خبر اس قدر اذیت ناک تھی۔ اب “مائد” کو سمجھ آیا کہ آخر “زیغم” نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیسے کیا۔ وہ “زیغم” جو کبھی پاکستان آنا ہی نہیں چاہتا تھا وہ کیسے اچانک لوٹ آیا۔
“مائد” کی آنکھیں پھٹی ہوئی تھی۔ چہرے پر غصے کے شدید تاثرات بکھرے ہوئے تھے مگر وہ خاموش تھا کیونکہ یہاں پر صرف “زیغم” بول سکتا تھا اور “زیغم” کے ہی بولنے کا حق تھا۔ وہ اسی گھر کا بیٹا بھی تھا اور داماد بھی۔ مالک بھی تھا اور حکمران بھی۔ وہ الگ بات تھی کہ وہ خود ہر چیز سے دستبردار ہو کر یہاں سے چلا گیا تھا۔

“دانیا”، مجھے بتاؤ… کس نے یہ سب کیا؟”
“زیغم” نے اس کے چہرے کو نرمی سے اوپر کیا، مگر اس کی گرجدار دھاڑتی ہوئی آواز کی گونج میں ایسا خطرہ تھا کہ حویلی کی دیواریں بھی لرز گئیں مگر گرجدار آواز سے وہ اپنی بہن کو ڈرانا نہیں چاہتا تھا۔ اس کی نظریں تو سامنے کھڑی “قدسیہ” اور “نایاب” پر مرکوز تھی۔ اب تو “زیغم” کو سب اندازہ ہو چکا تھا کہ یہاں پر اس کی بہن پر بہت ظلم ہو رہا تھا مگر پھر بھی وہ “دانیا” کے منہ سے سننا چاہتا تھا۔ “دانیا” نے “زیغم” کے سینے سے سر کو اٹھاتے ہوئے کانپتے ہوئے ہلکی سی نظر “قدسیہ” اور “نایاب” پر ڈالی، جو سانس روکے کھڑی تھیں، مگر اگلے ہی لمحے وہ بے ہوش ہو کر “زیغم” کے سینے سے واپس جا لگی۔ “زیغم سلطان” کے بازوؤں میں پڑی دانیا بے سدھ تھی، اس کے چہرے کی زردی “زیغم” کے دل کو نوچ رہی تھی۔”زیغم” اسے جھنجھوڑ کر ہوش میں لانے کی کوشش کر رہا تھا، مگر “دانیا” کا وجود بالکل بے جان تھا۔

“دانیا…”دانیا!”
“زیغم” کی آواز لرز گئی، اس نے اپنی بہن کو سینے سے لگا کر بے بسی سے پکارا، مگر کوئی جواب نہ ملا۔ سامنے کھڑی “نایاب” اور “قدسیہ” کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک ابھری۔ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر جلدی سے آگے بڑھیں، جیسے انہیں بے حد فکر ہو “دانیا” کی۔

“دانیا” کیا ہوا؟”
“نایاب” کی آواز میں مصنوعی گھبراہٹ تھی۔

“قدسیہ” نے بھی پریشان ہونے کا ڈرامہ کیا۔
“یا اللہ، یہ کیا ہوگیا؟”
“زیغم” کی آنکھوں میں لپکتے شعلے اور زیادہ بھڑک اٹھے۔ اس نے ایک جھٹکے سے اپنی پسٹل نکالی اور سیدھا ان دونوں پر تان دی۔

“بس یہ ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ مت بھولو کہ تم لوگوں کے سامنے “سلطان” نہیں “زیغم سلطان” کھڑا ہے، جس کو تم لوگوں کی چالاکیاں بچپن سے ہی سمجھ میں آتی تھی!”
“زیغم” کی دھاڑتی آواز گونجی۔ پسٹل نکال کر دکھانا صرف دھمکی نہیں تھی، اس کی انگلی ٹریگر پر تھی اور وہ لمحے بھر میں گولی چلا سکتا تھا۔ “نایاب” اور “قدسیہ” کے چہروں کی ہوائیاں اڑ گئیں، ان کے قدم زمین میں دھنس گئے۔ پسٹل کا رخ ان کے سینے پر تھا، اور “زیغم” کی آنکھوں میں ایسی وحشت تھی کہ ان کے سانس حلق میں اٹک گئے۔

“تم دونوں کی یہ جرات! میری بہن کے ساتھ یہ سب؟”
“آج میں تم دونوں کو—”
وہ دانتوں کو پیستے ہوئے، بولتے ہوئے، الفاظ روک چکا تھا۔ اس کا غصہ اس کے بس نہیں تھا۔

“نہیں “زیغم” نہیں!”
پیچھے کھڑے “مائد خان” نے تیزی سے “زیغم” کا ہاتھ اوپر کر دیا۔
گولی چلنے میں بس ایک لمحہ باقی تھا، اور جیسے ہی “مائد” نے “زیغم” کی کلائی جھٹکی، پسٹل سے نکلنے والی گولی سیدھا چھت میں لٹکتے شیشے کے فانوس سے جا ٹکرائی۔

“ٹھاااااااااا!”
فانوس ایک لمحے میں چکنا چور ہو گیا، کانچ کی کرچیاں زمین پر بکھرتے ہی خوفناک آواز پیدا کر گئیں۔

“آہ!”
نوکروں کی چیخیں نکل گئیں، “نایاب” اور “قدسیہ” بھی چیخ مار کر دیوار سے جا لگیں۔ ان کے جسم کانپ رہے تھے، آنکھوں میں موت کا خوف لہرا رہا تھا۔

“ہاتھ چھوڑو میرا “مائد خان!”
“زیغم” غرایا، اس کی نظریں خونخوار ہو گئیں۔

“یہ دونوں زندہ نہیں رہ سکتی۔میں ان کو زندہ نہیں چھوڑوں گا!”
“ان کی جرات کیسے ہوئی میری بہن کے ساتھ یہ سب کرنے کی؟”
وہ اپنے ہاتھ کو جھٹک کر چھڑواتے ہوئے حلق کے بل چلا رہا تھا۔

“صبر رکھو!”
“مائد” نے سختی سے اس کا کندھا دبایا۔
“ابھی نہیں، پہلے اپنی بہن کو سنبھالو۔ اب جب تم آ گئے ہو، تو سب کچھ دیکھ لینا مگر فی الحال “دانیا” کو روم میں لے کر جاؤ!”
“زیغم” نے اپنی آنکھوں میں دہکتی نفرت کے ساتھ “نایاب” اور “قدسیہ” کی طرف دیکھا، جو دیوار سے چپکی، سانس روکے کھڑی تھیں۔ “زیغم” نے “دانیا” کو مضبوطی سے اپنی بانہوں میں سمیٹا اور تیز قدموں سے سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔ ہر قدم کے ساتھ اس کی یادوں میں وہ مناظر تازہ ہو رہے تھے، جب وہ پاکستان چھوڑنے سے پہلے، اسی حویلی میں اپنی بہن کے ساتھ بے فکری سے رہتا تھا۔ یہ وہی گھر تھا جہاں وہ اپنی بہن کے ساتھ کھیلتا تھا مگر وقت نے سب بدل دیا تھا۔ “مائد خان” نے ایک آخری خونخوار نظر “نایاب” اور “قدسیہ” پر ڈالی۔ “مائد خان” نے ہاتھ میں پسٹل گھماتے ہوئے انہیں اشارہ کیا۔

“اپنے کمروں میں جاؤ!”
“نایاب” اور “قدسیہ” کی حالت ایسی ہو چکی تھی جیسے زمین ان کے پیروں کے نیچے سے کھسک گئی ہو۔ وہ بغیر کچھ کہے سپیڈ کے ساتھ بھاگتی ہوئی اپنے کمروں میں چلی گئیں، ان کے قدم بے ترتیب تھے، جیسے کوئی جان بچا کر فرار ہو رہا ہو۔
اور “زیغم”، اپنی بہن کو سینے سے لگائے، بے حد مضبوط مگر دل ہی دل میں ٹوٹا ہوا، اپنے کمرے میں جا چکا تھا۔
°°°°°°°°°°°
فارم ہاؤس کی پرتعیش اور بےحیائی سے بھری محفل پورے عروج پر تھی۔ تیز موسیقی، حسیناؤں کا تھرکنا، جام پر جام گلے میں انڈیلے جا رہے تھے۔ حلال و حرام کی تمیز ختم ہو چکی تھی۔ اس  بے راہ رَوی محفل میں “توقیر لغاری” اپنی عیاشی میں مگن تھا۔ اس کا فون کب سے بج رہا تھا، مگر وہ محفل کے رنگ میں ایسا ڈوبا تھا کہ دھیان دینا بھی گوارا نہ کیا۔

ملازم: سائیں، جان کی امان چاہتا ہوں، بڑی بی بی سائیں کا فون ہے اور یہ چوتھی بار کال آئی ہے، اس لیے مجھے لگا کوئی ضروری بات ہوگی۔”
نظریں جھکائے، محتاط لہجے میں، جیسے کوئی غلطی نہ کر بیٹھے۔
“توقیر لغاری” نے جام گھمایا، بیزار نظروں سے ملازم اور فون کی طرف دیکھا، جیسے اس لمحے اس کے لیے سب سے فالتو چیز یہی تھی۔ پھر بھی، اکتاہٹ سے فون اٹھا کر ایک طرف بڑھ گیا، فون سننے کے لیے شور سے کچھ دور جا کھڑا ہوا تھا۔

“خیریت ہے؟”
“جب گھر سے باہر ہوتا ہوں تو اس طرح فون کر کر کے میرا دماغ مت خراب کیا کرو!”
“کیا گھر میں قیامت ٹوٹ گئی ہے جو تم سے صبر نہیں ہو رہا؟”
“لوٹ کر گھر ہی آنا ہے نا، جو بھی عذاب ہے، گھر آ کر بتا دینا!”
“ہمیشہ تم جب میں گھر سے باہر ہوں تو تم۔۔۔۔۔”
“توقیر لغاری” غصے اور جھنجھلاہٹ سے بغیر “قدسیہ” کی پوری بات سنے بولتا چلا گیا۔ اپنے وقت برباد ہونے پر شدید چِڑا ہوا تھا۔

“میری بھی سن لیں، مجھے بولنے کا موقع دے دیں، سائیں! قیامت ٹوٹی ہے، تبهی فون کیا ہے!”
“قدسیہ” کی آواز میں کپکپاہٹ، خوف واضح ہوا، جیسے کچھ بہت بھیانک ہو چکا ہو۔
“قدسیہ” کی غیر معمولی گھبرائی ہوئی آواز نے “توقیر لغاری” کو چوکنا کر دیا، ہاتھ میں پکڑا جام ایک لمحے کو رکا۔ محفل کا شور جیسے پس منظر میں دب گیا، ایک بےچینی سی دل میں اتر آئی۔

“خیریت تو ہے؟”
“کیا ہوا ہے؟”
“توقیر لغاری” کی آواز میں اب سنجیدگی، ماتھے پر تیوریاں تھی۔ جیسے کسی انہونی کا احساس ہو چکا ہو۔

“وہ… وہ واپس آ گیا ہے…!”
“قدسیہ” کی سانس پھولی ہوئی تھی، الفاظ جیسے زبردستی لبوں سے نکل رہے تھے۔

“کون واپس آ گیا ہے؟”
ابرو تن گئے، پیشانی پر لکیریں گہری ہونے لگی، دل میں بےچینی کا احساس تھا۔

“زی۔۔ “زیغم…”زیغم” واپس آ گیا!”
گھبراہٹ سے آواز لرز گئی، بتانے کا انداز ایسا تھا جیسے کسی بہت بڑی آفت کا اعلان کر رہی ہو۔”توقیر لغاری” کے ہاتھ میں پکڑا ہوا جام لبوں سے دور ہی رک گیا تھا۔ نظر حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھی۔ اپنی قوت سماعت پر اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اس نے جو سنا ہے وہ پوری طرح سے ٹھیک ہے یا پھر وہ یقین کرنا نہیں چاہ رہا تھا۔ محفل کا شور، قہقہے، موسیقی… سب کچھ جیسے پل بھر میں سب خاموش ہو گیا ہو۔اس کے وجود کے اندر تک سنسنی دوڑ گئی۔ لوگوں کو اپنی انگلیوں پر، اپنے اشاروں پر نچانے والا ہر کسی پر اپنی حکمرانی جگانے والا “توقیر لغاری”، “زیغم” کا نام سنتے ہی اس کے دل کی دھڑکن رکنے لگی تھی۔آنکھیں اس قدر خوفزدہ تھی جیسے کوئی بہت بڑا خطرہ اس کے سر پر منڈلا رہا ہو۔ ماتھے پر بار بار آتی ہوئی پسینے کی بوندیں اس کے اندر کے ڈر کو دکھا رہی تھی۔کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد اس نے اپنی خاموشی کو گھبراہٹ زدہ الفاظوں میں توڑ دیا۔

“اچانک… اچانک کیسے واپس آ گیا؟”
اس کے الفاظ حیرانی اور غصے کا امتزاج، جیسے ذہن ماننے کو تیار نہ ہو۔ ہاتھ کی گرفت فون پر سخت ہو گئی۔

“مجھے کیا پتہ کیوں آیا ہے، کیسے آیا ہے!”
“اچانک آ گیا تھا، اور اس وقت “شہرام” بھی گھر پہ نہیں ہے!”
آواز تیزی سے کانپ رہی تھی، جیسے الفاظ تیزی سے باہر نکل رہے ہوں، خوف واضح ہو کر اس کے حواسوں پر سوار تھا۔ سچ میں گنہگاروں کو اپنے سامنے موت نظر آرہی تھی۔

“جلدی سے آ جاؤ، وہ بہت زیادہ باولا ہو کر آیا ہے!”
“آتے ہی اس نے بندوق کا منہ ہم ماں، بیٹی پر کھول دیا تھا!”
“اگر دو سیکنڈ کی دیر ہوتی، تو ہم وہیں ڈھیر ہو جاتے!”
‘خدا کا واسطہ، سائیں، جلدی آ جاؤ!”
“قدسیہ” کی گرجدار آواز میں آج گھبراہٹ اور بے بسی کی شدت تھی، جیسے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو۔ “توقیر لغاری” کا چہرہ “زیغم سلطان” کے آنے کی خبر سن کر گھبراہٹ سے سرخ ہو چکا تھا۔ سفاک انسان کا خون کھول اٹھا تھا۔ انگلیاں جام کے گرد سخت ہوئیں، اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اپنا غصہ کس پر اتارے۔ ایک جھٹکے سے گلاس زمین پر دے مارا۔ شور شرابے سے بھری محفل میں کسی کو اس کانچ کے گلاس ٹوٹنے کی آواز تک نہیں گئی تھی۔ “زیغم” کا نام جیسے اس کے بدن میں آگ لگا گیا تھا۔وہ اس آگ کی لپٹوں میں ابھی سے جلنا شروع ہو چکا تھا۔

“اچھا، اچھا! ٹھنڈ رکھو، آ رہا ہوں!”
غصے اور بےچینی سے دبی سی آواز میں چلایا، وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا۔”زیغم” کے آنے سے حالات کیسے ہو سکتے ہیں، اس بات کا اندازہ خود “توقیر لغاری” کو بہت اچھی طرح سے تھا۔”قدسیہ” کا فون بند ہو چکا تھا۔

“زیغم۔۔۔” اب یہ مصیبت پاکستان کیوں آیا؟”
“یہ تو خود بول کر گیا تھا کہ کبھی واپس نہیں آئے گا، تو پھر کیوں منہ اٹھا کر آ گیا ہے؟”
وہ جھنجھلاہٹ سے لب بھینچے خود سے ہی سوال کر رہا تھا۔ “زیغم” کی واپسی اس کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔

“اللہ خیر کرے، اس بے لگام کو سنبھالنا ہی بڑا مشکل کام ہے…”
“پتہ نہیں اب کیا ہوگا…”
زیرِ لب بڑبڑایا، پیشانی کی رگیں تن گئیں، ذہن میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں تھی۔
اس کے قدم تیزی سے گاڑی کی جانب بڑھ رہے تھے۔ محفل سے وہ معذرت کر کے نکلا تھا کہ گھر میں کوئی ایمرجنسی ہے۔ اپنے آدمیوں اور سکیورٹی کے ہمراہ وہ اپنی گاڑی میں تیزی سے آکر بیٹھ گیا تھا۔ اس کے چہرے سے محسوس ہو رہا تھا کہ خطرہ بہت قریب آ پہنچا ہے۔ شراب زدہ محفل کا سارا نشہ ایک پل میں ہوا ہو چکا تھا۔
خود کو زمینی خدا سمجھنے والے، اب “زیغم” کا نام سن کر ہی کانپ اٹھے تھے اور جب “زیغم” کا ان کے ساتھ سامنا ہوگا، تو پھر کیا ہوگا؟
یہ سوچ سوچ کر “توقیر لغاری” کے دل کی دھڑکن بےترتیب ہو چکی تھی، ماتھے پر پسینہ نمودار ہونے لگا تھا۔بار بار ماتھے پہ آئے ہوئے پسینے کو وہ ٹشو سے صاف کر رہا تھا۔
اس کا گھبراہٹ زدہ دل اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ آنے والے لمحے کسی طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔
°°°°°°°°
“شہرام” حسن محل کی رنگینیوں میں اپنی رات مدہوشی کے عالم میں گزار رہا تھا، شراب کے نشے میں دھت، “ماہ رخ” کے پہلو میں نیند میں گھرا ہوا تھا۔ پاس رکھے ہوئے اس فون کی مسلسل گھنٹی نے اس کی رنگین اور پرسکون رات میں خلل پیدا کر دیا تھا۔
بار بار بجتے فون نے اس کی نیند میں خلل ڈالا تو “شہرام” کے ماتھے پر نیند شکنیں ابھریں لگی۔ “شہرام” کو سخت ناپسند تھا کہ جب وہ حسن محل میں آئے، تو کوئی اس کی راتوں میں مداخلت کرے۔ ہاتھ بڑھا کر بیزاری سے فون اٹھایا، مگر جیسے ہی اسکرین پر اپنے باپ کا نام دیکھا،نشہ ایک پل میں ہرن ہو گیا۔

“بابا سائیں کا فون وہ بھی اس وقت؟”
رات کے اس پہر اس کے باپ کا فون آنا یہ عام بات نہیں تھی!
اس کا باپ اس کی رنگین راتوں میں کبھی رکاوٹ نہیں بنا تھا، کیونکہ جب باپ خود اسی گھٹیا فطرت کا مالک ہو، تو بیٹے کو صحیح اور غلط کی تمیز کیا سکھاتا مگر اس وقت فون آنے کا مطلب تھا کہ کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔آنکھیں کھلتے ہی اس کے دل میں بےچینی کی لہر دوڑ گئی۔ “شہرام” اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کا باپ آج ایک خاص حلقے میں تقریر کے لیے گیا ہے۔ کہیں وہاں کوئی حادثہ تو نہیں ہو گیا؟
“ماہ رخ” بھی کروٹ لے کر جاگ گئی، الجھن سے اسے دیکھنے لگی تھی۔ وہ “شہرام” کے بالوں میں نرمی سے انگلیاں پھیرتے اس کے قریب ہونے لگی مگر “شہرام” کا دل کسی اور ہی بےچینی میں گھرا ہوا تھا۔ اس نے ایک جھٹکے سے “ماہ رخ” کا ہاتھ ہٹایا، جیسے اس کا لمس بھی ناقابلِ برداشت ہو!
“ماہ رخ” کو اس کا انداز بہت عجیب لگا، کیونکہ آج سے پہلے “شہرام” نے کبھی ایسا نہیں کیا تھا…
“شہرام” حواس باختہ، گھبراہٹ سے بیڈ پر پوری طرح سے اٹھ کر بیٹھ چکا تھا۔

“کک… ککک… کیا بولے جا رہے ہیں؟”
“وہ… وہ واپس کیسے آ سکتا ہے؟”
“شہرام” کے گھبرائے ہوئے چہرے پر بات کرتے ہوئے دل کی دھڑکن بےترتیب، پیشانی پر پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے۔

“وہ تو کہہ کر گیا تھا… عہد کر کے گیا تھا کہ کبھی واپس نہیں آئے گا…!”
بات کرتے ہوئے اسکے گلے میں کانٹے چبھنے لگے، الفاظ لڑکھڑانے لگے تھے۔
“وہ واپس کیسے آ سکتا ہے…؟”
گھبراہٹ میں الفاظ پر الفاظ دوہراتے ہوئے پوچھے جا رہا تھا۔

“اب مجھے کیا پتہ کیوں آیا ہے!”
“تیری ماں کا فون آیا تھا، بڑی گھبرائی ہوئی تھی!”
“آتے ہی اس نے تیری ماں اور بہن پر بندوق تان لی تھی!”
“تُو جانتا ہے وہ کتنا بے لگام ہے۔ آتے ہی سب کے ناک میں دم کر دیا!”
فون کے دوسری جانب “توقیر لغاری” کی گھبرائی ہوئی آواز پھولی ہوئی سانسوں اور بے چینی میں بول رہا تھا۔

“تیری ماں کی حالت ٹائٹ تھی۔ جلدی سے گھر پہنچ، میں اکیلا اس بے لگامے کو نہیں سنبھال سکوں گا!”
“یہ رنگینیاں چھوڑ، حویلی پہنچ—اس سے پہلے کہ وہ ہماری زندگی کے سارے رنگ ختم کر دے!”
دوسری جانب سے “توقیر لغاری” کی گھبرائی ہوئی آواز گونجی تھی جبکہ “شہرام” کی جیسے بولتی بند ہو چکی تھی۔

“شہرام” بکھلایا ہوا، تیزی سے بیڈ اٹھتے ہوئے بولا:
“اچھا… ٹھیک ہے! ٹھیک ہے۔پہنچ رہا ہوں!”
ادھورے لباس میں بیڈ سے نیچے اترا، جلدی سے اپنے کپڑے ترتیب دیتے ہوئے والٹ اور فون اٹھانے لگا۔
“ماہ رخ” اس کی گھبراہٹ کو حیرانی سے دیکھ رہی تھی۔ وہ حیران تھی کہ “شہرام” کسی سے اتنا خوفزدہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ پورے علاقے میں تو “شہرام” اور “شہرام” کے باپ کی حکومت تھی۔

“کیا ہوا سائیں؟ کیوں پریشان ہیں؟”
اپنی خاص دل لبھانے والی ادا سے قریب آتے ہوئے اس کے چہرے کو چھونا چاہا تھا مگر “شہرام” نے ہاتھ جھٹک کر پیچھے کردیا۔

“اس وقت نہیں، ماہ رخ!”
“مجھے جانے دو!”
“شہرام” سختی سے بغیر اس کی جانب دیکھے ہوئے بولا تھا۔
“ماہ رخ” نے حیرانی سے اس کے گھبرائے ہوئے چہرے کی جانب دیکھا۔”ماہ رخ” کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ یہ “شہرام توقیر لغاری” ہے کیونکہ وہ سالوں سے اس کے پاس آرہا تھا بے شمار راتیں اس کے پہلو میں گزار چکا تھا مگر آج تک نہ تو اس طرح سے گھبرایا تھا اور نہ ہی کبھی اس طرح سے جھٹک کر اسے خود سے دور کیا تھا۔آج سے پہلے ایسا روپ “ماہ رخ” نے کبھی نہیں دیکھا تھا تو وہ ضرورت سے زیادہ حیران ہو رہی تھی۔

“میں نے کب روکا ہے سائیں چلے جانا۔۔۔ مگر جانے سے پہلے اتنا تو بتا دیں کہ آخر ایسا کیا ہو گیا ہے جو آپ اتنے گھبرائے ہوئے ہیں؟”
“ایسا کیا ہو گیا ہے کہ میں آپ کو دکھائی نہیں دے رہی؟”
“آپ مجھے دھتکار رہے ہیں؟”
“شہرام” کی بے رخی نے اس کا دل توڑ دیا تھا۔

“نہ، نہ۔۔۔ “شہرام توقیر لغاری” کی جان ہے تُو!”
“تجھے کیسے دھتکار سکتا ہوں؟”
اس کے ماتھے کو چومتے ہوئے۔بےچینی سے دروازے کی طرف بڑھا۔اس کا یہ انداز بھی “ماہ رخ” کو بالکل سمجھ نہیں آیا تھا۔ کچھ تھا جو سالوں میں نہیں ہوا تھا۔ “ماہ رخ” حیران نظروں سے دیکھے جا رہی تھی۔

“میرا اس وقت گھر پہنچنا بہت ضروری ہے…”
“میری جان اس وقت صرف اتنا سمجھ لو کہ تمہارے سائیں کے سر پر ایک بلا نازل ہو گئی ہے۔”بلا بہت خطرناک ہے!”
“بس میری حفاظت کی دعا کرنا!”
وہ پلٹ کر اسے بتاتے ہوئے۔تیزی سے دروازہ کھولا اور باہر نکل گیا۔
“ماہ رخ” حیران، پشیمان نظروں سے بند دروازے کو دیکھتے ہوئے، چہرے پر گہری شکنیں ڈالے، دماغ میں پرانی کچھ سوچیں گردش کرنے لگی تھی۔
°°°°°°°

رازِ وفایہ محض ایک کہانی نہیں، ایک فکری سفر ہےجہاں جاگیردار کا ظلم بھی بے نقاب ہوتا ہےاور جاگیردار کا انصاف بھی اپنے وزن کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔اگر یہ تحریر آپ کو سوچ میں ڈال گئی ہےتو اگلے ابواب اسی سوال کو آگے بڑھاتے ہیں

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *