Raaz wafaa by hayat irtaza S.A-Episode:20

رازِ وفا
ازحیات ارتضیٰ .S.A
قسط نمبر 20
°°°°°°
زیغم کے جانے کے بعد مہر النساء بیڈ پر لیٹی رہی، آنکھیں چھت پر جمائے نجانے کیا سوچ رہی تھی۔ یہ کمرہ، یہ جدید سہولتیں، ہر چیز اس کے لیے نئی تھی۔ اس کی زندگی تو سادگی میں بسی تھی، اور یہاں ہر چیز جیسے کسی اور ہی دنیا کی تھی! ایک چیز کو دیکھتی تو دوسری کو بھول جاتی ۔اس کے لیے یہ دنیا جادوئی دنیا سے کم نہیں تھی لیکن سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ اس کچھ نمازیں قضا ہو چکی تھیں! یہ خیال آتے ہی اس کے اندر شدید بےچینی دوڑ گئی۔
مہر النساء کے دل میں جیسے کوئی آگ سی لگ گئی تھی! جیسے ہی نماز کا خیال آیا، وہ ہڑبڑا کر بیڈ سے اٹھی، پاؤں لرز رہے تھے، ہاتھ کانپ رہے تھے، آنکھوں میں پانی بھر آیا تھا اور یہ سب کچھ خوفِ خدا سے ہو رہا تھا۔

“اللہ جی! مجھے معاف کر دیجیے گا… میں نے جان بوجھ کر نماز قضا نہیں کی…”
وہ کانپتی ہوئی آواز میں بولی، آنکھوں میں شرمندگی کے آنسو اتر آئے۔

“اللہ! کبھی نماز نہ پڑھنے والے کو معاف نہیں کرتے!”
“مجھے سزا ملے گی… میں جہنم کی آگ میں جلوں گی… میں کیسے غافل ہو گئی؟”
وہ تیزی سے بیڈ سے نیچے اتری، دل میں شدید بےچینی تھی، آنکھوں میں خوف تھا۔

“یہ سب… یہ سب ان آسائشوں کی وجہ سے ہوا ہے!”
“ہاں! ہمارے نبیؐ نے سچ کہا تھا کہ سادگی میں ہی اصل عبادت کا مزہ ہے!”
وہ بے اختیار زمین پر بیٹھ گئی، چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا اور سسکنے لگی۔

“اللہ جی! مجھے معاف کر دیجیے، میں اپنی قضا نمازیں پڑھ لوں گی، بس ایک بار معاف کر دیں… آئندہ میں کبھی اپنی نمازیں قضا نہیں ہونے دوں گی!”
الفاظ روتے ہوئے لبوں سے ٹوٹ کر نکل رہے تھے، دل خوف سے دھڑک رہا تھا، ضمیر ملامت کر رہا تھا۔ مہر النساء کی آنکھوں میں آنسو بہتے جا رہے تھے، مگر اس کی ندامت میں خلوص تھا، سچے دل سے کی گئی توبہ تھی۔
بے شک وہ بڑی بڑی کتابیں نہیں پڑھ سکی تھی، نہ اسکول گئی تھی، نہ کالج، نہ یونیورسٹی… مگر اس کی اماں نے اسے قرآن سکھایا تھا، نماز کا درس دیا تھا، عبادت کی محبت دی تھی۔ اور آج وہی محبت اسے بےقرار کر رہی تھی!

“نہیں! میں اپنے اللہ سے دور نہیں جا سکتی!”
وہ ہمت باندھ کر اٹھی، آنکھوں کے آنسو صاف کیے، اور وضو کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس نے جلدی سے وضو کرنے کا سوچا اور غسل خانے کی تلاش میں اِدھر اُدھر نظر دوڑائی۔ زیغم کا عالی شان کمرہ اور غسل خانہ ڈھونڈنا مہر النساء کے لیے ایک بھول بھلیاں سے کم نہیں تھا۔ کمرہ واقعی بہت بڑا تھا! ایک طرف لائبریری، ایک طرف سٹڈی کارنر، ایک طرف عالیشان بیڈ، لیکن غسل خانہ کہاں تھا؟

“پہلے والے کمرے میں تو اندر ہی تھا، شاید یہاں بھی ہوگا!”
وہ آہستہ سے بڑبڑائی اور غور سے ہر طرف دیکھنے لگی۔ پھر ایک دیوار پر لگا خفیہ دروازہ نظر آیا، جو غالباً غسل خانے کا تھا۔ وہ کچھ سوچتے ہوئے آگے بڑھی، اسے یقین تو نہیں تھا کہ یہ دروازہ ہے اور یہ غسل خانے کا ہی ہے۔ اللہ تعالی نے خود ہی اس کے قدم اس جانب بڑھا دیے تھے کیونکہ اس کے دل میں نماز کی محبت تھی تو اللہ تعالیٰ راستے کیسے آسان نہ کرتا۔

“شاید یہی بھول بھلیاں کے اندر غسل خانہ ہو گا، وضو کر لیتی ہوں!”
وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بڑبڑائی اور دروازہ دھکیلا۔
جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئی، ایک لمحے کے لیے اس کی سانسیں رک گئیں۔ مہرو کی حیرت – یہ غسل خانہ ہے یا کسی کا خوبصورت کمرہ جہاں یہ لوگ بیڈ رکھنا بھول گئے ہیں۔

“او منهنجا خدا! هي ڪهڙي جاءِ آهي؟ شيشي جي زمين… شيشي جون ديوارون!”
ٹرانسلیٹ:
(او میرے خدایا! یہ کون سی جگہ ہے؟ شیشے کی زمین… شیشے کی دیواریں!)
وہ اپنے پاؤں کو گھسیٹ کر چل رہی تھی کہ کہیں گر نہ جائے۔
چمچماتی بلیک ٹائلز، چاروں طرف جدید شیشے نما دیواریں ، ایک اسکرین، اور… نہ کوئی نلکا، نہ کوئی نل۔

مہرو کا منہ حیرت سے کھل گیا۔
“اف اللہ! کم از کم ایک نلکا ہی لگا دیتے!”
وہ بےاختیار بولی اور چاروں طرف نظر دوڑانے لگی۔ وہ حیران تھی اسے کہیں نل نظر نہیں آرہا تھا۔

“یہ کیا چکر ہے؟ پانی آئے گا کہاں سے؟”
اس نے خود سے سوال کیا اور پرانے غسل خانے کو یاد کیا، جہاں ٹچ سسٹم سے اسے پانی نکال کر دیا تھا مگر پرابلم یہ تھی کہ وہاں پر اسے نل نظر آرہے تھے مگر یہاں تو اسے سوائے ایک سکرین کے کچھ نظر ہی نہیں آرہا تھا۔ مہرو نے ڈرتے ڈرتے دیوار پر موجود اسکرین کو چھوا، سوچا کہ شاید یہی طریقہ ہو پانی کھولنے کا… اور اگلے ہی لمحے پوری چھت سے بارش کی طرح پانی برسنے لگا!

“ہائے اماں!”
وہ ایک دم چیخی، پانی کی تیز دھار نے اسے پورا بھگو دیا! وہ اچانک پانی گرنے سے ڈر گئی تھی اور ڈرتے ہوئے اس کے منہ سے چیخ نکلی۔ ٹھنڈا پانی اس کے سر سے بہتا ہوا چہرے، کندھوں اور چادر تک پہنچ چکا تھا۔ وہ بوکھلا کر پیچھے ہوئی، مگر پانی مسلسل برس رہا تھا! اسے لگ رہا تھا جیسے کہ وہ سمندر میں گر گئی ہو اور چاروں اطراف میں پانی ہی پانی ہو۔

“یا اللہ! یہ کیا تماشا ہے؟”
وہ زور سے بولی، ہاتھوں سے چہرہ پونچھنے کی کوشش کی، مگر پانی اتنی تیزی سے گر رہا تھا کہ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔

“میں نے آخر کیا دبا دیا؟”
“اگر پانی نہ رکا اسی طرح بہتا رہا تو ان کے گھر میں سیلاب آجائے گا اور یہ حویلی اس میں بہ جائے گی!”
وہ الجھی ہوئی انداز میں اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی۔
اب ایک اور مسئلہ تھا! اس کے پاؤں میں جوتی نہیں تھی۔ وہ تو پہلے والے کمرے میں ہی رہ گئی تھی،زیغم تو اسے بے ہوشی کی حالت میں اٹھا کر لایا تھا تو جوتے تو سابقہ کمرے میں رہ گئے تھے اور یہاں صرف زیغم کے جوتے رکھے تھے۔

“میں اپنے سائیں کے جوتے کیسے پہن سکتی ہوں!”
وہ خود سے بولی، الجھن میں چہرہ دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا اور شیشے کی طرح چمکتے ہوئے فرش پر اس کے پاؤں پھسل رہے تھے ٹھیک سے کھڑی نہیں ہو پا رہی تھی۔ اب پانی سے چمچماتے غسل خانے میں وہ کھڑی بھیگ رہی تھی، چادر سے لپٹی ہوئی، حیران، پریشان اور بے بس!
کچھ دیر تو مہرو نے اپنی عقل، جتنی بھی تھی، اس کا استعمال کیا۔ خود کو تحمل میں رکھنے کی کوشش کی، مختلف جگہوں پر ٹچ کرتے ہوئے پانی کو روکنے کی تدبیر بھی کی، مگر جب پوری طرح ناکام ہو گئی، تو اب مہرو کے پاس آخری آپشن ہی بچا تھا—رونا!
وہ بے بسی سے ایک قدم پیچھے ہٹی، پھر جھجکتے ہوئے آگے بڑھی، مگر کچھ سمجھ نہ آیا۔ دروازہ دور تھا کیونکہ واش روم بہت زیادہ بڑا تھا تو دروازے تک مہر النساء سے پہنچا ہی نہیں جا رہا تھا بار بار اس کے پاؤں پھسل رہے تھے۔ آخرکار، تھک ہار کر وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی، اپنے گھٹنوں میں سر دے کر سسکیاں بھرتے ہوئے رونے لگی تھی۔ اوپر سے گرتا ہوا ٹھنڈا پانی اس کے وجود میں سراخ کر کے جیسے اندر تک اتر رہا تھا، ہر قطرہ تکلیف دے رہا تھا۔ ویسے تو موسم بدل چکا تھا، مگر ماتھے کی چوٹ کی وجہ سے یہ پانی شاید زیادہ ہی سخت لگ رہا تھا۔

“یا اللہ! یہ میں کہاں پھنس گئی؟”
مہرو کی سسکیاں تیز ہو گئیں، مگر کوئی بھی سننے والا نہیں تھا۔
°°°°°°°°°
زیغم سلطان جیسے ہی زرام کے کمرے سے نکلا، وہ تیز قدموں سے سیڑھیاں اترتے ہوئے بیرونی دروازے کی طرف بڑھا۔ اسے ایک ضروری میٹنگ میں جانا تھا، پھر عصر کے وقت گاؤں کے جرگے میں بیٹھنا تھا، جہاں روز کی طرح لوگوں کے مسائل حل کرنا تھے۔ مسائل اتنے زیادہ تھے کہ روز حل کرنے کے باوجود بہت سے معاملات ابھی بھی التوا کا شکار تھے۔ ایک طرف زیغم سلطان اکیلا، اور دوسری طرف پورا گاؤں مشکلات میں گھرا ہوا تھا۔ توقیر اور شہرام نے گاؤں میں ایسی تباہی مچائی تھی کہ اب اسے درست کرنے میں وقت لگ رہا تھا، اور زیغم سلطان روزے کی حالت میں بھی پوری ایمانداری سے سب کچھ سنبھال رہا تھا مگر جیسے ہی وہ بیرونی دروازے کی طرف بڑھا، اس کے دل نے ایک خوبصورت سی بے تابی محسوس کی، جیسے کسی خوبصورت احساس نے بے اختیار دل کو چھوا ہو۔ زیغم سلطان کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔ زیر لب مسکراتے ہوئے اس نے ہلکا سا سر نفی میں ہلایا، جیسے خود پر حیران ہوا ہو۔

“یہ میں کیا کر رہا ہوں؟”
قدم بے اختیار پلٹے، اور وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔ آج سے پہلے کبھی اپنے ہی کمرے میں جانے کے لیے اتنی بے تابی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ مسکراتے لبوں کے ساتھ دروازہ کھٹکھٹایا، مگر اندر سے کوئی جواب نہیں آیا۔ پھر یہ سوچ کر دروازہ کھولا کہ اندر موجود نازک سی ہستی اس کی بیوی ہے، اس کی محرم ہے، اور ویسے بھی معصوم ہے، ہو سکتا ہے سو گئی ہو۔

“چلو، بس ایک نظر دیکھ کر چلا جاؤں گا۔”
یہی سوچ کر اس نے ہینڈل گھمایا، چابی لگائی اور اندر بڑھ گیا مگر جیسے ہی دروازہ بند کر کے پلٹا، تو بیڈ خالی تھا۔ زیغم سلطان کی نظریں فوراً پورے کمرے میں دوڑیں، مگر مہرو کہیں نہیں تھی۔ پانی گرنے کی آواز آئی، اور تب اسے احساس ہوا کہ مہرو شاید واش روم میں ہے مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتا، سسکیوں کی آواز نے اس کے دل میں ہلچل مچا دی۔ زیغم سلطان کا دل زور سے دھڑکا۔ وہ گھبرا کر تیزی سے واش روم کی طرف بڑھا، جیسے ہی دروازہ کھولا، اندر کا منظر دیکھ کر دل کانپ اٹھا۔ مہرو زمین پر بیٹھی، گھٹنوں میں سر دیے سسک رہی تھی اور مجال ہے جو اس کے سر سے چادر ہٹی ہو!
چادر میں لپٹا وہ نازک سا وجود، لرزتے کندھے، اور مسلسل بہتے آنسو…

“مہرو!”
بغیر یہ سوچے کہ خود بھی بھیگ جائے گا، زیغم سلطان فوراً آگے بڑھا۔ کپڑے، جیب میں رکھا ہوا والٹ، فون، سب بھیگنے لگا، مگر اسے اس وقت صرف مہرو دکھائی دے رہی تھی۔ وہ اس کے قریب بیٹھ گیا۔

“مہرو، کیوں رو رہی ہو؟”
مہرو نے آنسو بھری آنکھیں اٹھائیں، جو رونے کی شدت سے لال سرخ ہو چکی تھیں۔ وہ اتنی حسین لگ رہی تھی کہ زیغم کو لگا کسی نے اس کا دل مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔ نکھرا نکھرا چہرہ، موٹی موٹی سیاہ آنکھیں، جن پر گھنی پلکیں پہرا دے رہی تھیں… کوئی لپ اسٹک، کوئی میک اپ نہیں، پھر بھی لبوں کی سرخی نمایاں تھی، جو کچھ ٹھنڈ سے، کچھ گھبراہٹ سے کپکپا رہے تھے۔

زیغم نے گھٹنا زمین پر ٹکایا، اور نرمی سے پوچھا:
“مہرو، کیا ہوا؟”

“سائیں، آپ کو نظر نہیں آ رہا؟”
“چھت سے جو موسلادھار بارش ہو رہی ہے، اسی کی وجہ سے رو رہی ہوں!”
“معاف کر دیجیے گا، مگر میں ضرور کہوں گی، اتنے پیسے ہیں آپ کے پاس، کم از کم ڈھنگ کے دو چار نلکے ہی لگوا لیتے!”
وہ رو رہی تھی، مگر زیغم سلطان کے لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ آگئی۔

“جو حکم! نلکے لگ جائیں گے، سوری کہ میں تمہیں بتانا بھول گیا کہ یہاں سب کچھ ٹچ سسٹم ہے۔”

“سائیں! اب یہ ساری سُوریا مجھے نہیں کہنا!”
“مجھے تو پہلے ہی کچھ سمجھ نہیں آ رہی، اوپر سے آپ اتنی گاڑھی گاڑھی انگلش بولتے ہیں!”
“مہرو تو جاہل ہے سائیں، مہرو کیا کرے. مہرو کو آپ کی زبان اور آپ کی چیزیں سمجھ میں نہیں آتی. اسی لیے کہا تھا کہ مجھے میری اماں کے گھر چھوڑ آئے ہیں…”
وہ سسک رہی تھی، اور زیغم سلطان بس دل تھامے اسے دیکھے جا رہا تھا۔

“میں ہوں نا، تمہیں سب سکھانے کے لیے، سمجھانے کے لیے… پریشانی کس بات کی ہے؟”
زیغم سلطان نے نرمی سے کہتے گہری سانس لی اور محبت سے مہرو کو دیکھا۔

“اور اماں کے گھر والی رَٹ چھوڑ دو، مہرو۔ جب تمہاری اماں اب وہاں نہیں ہیں، تو بار بار اس گھر کو یاد کرکے خود کو تکلیف کیوں دیتی ہو؟”
“دل میں ایک یقین رکھا کرو… اگر تمہاری اماں جاتے وقت تمہارا ہاتھ میرے ہاتھ میں تھما کر گئی ہیں، تو کچھ تو انہوں نے مجھ میں دیکھا ہوگا۔ مجھ پر نہیں تو کم از کم اپنی اماں پر یقین رکھو کہ وہ تمہیں محفوظ ہاتھوں میں دے کر گئی ہیں۔”
زیغم نے نرمی سے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور اسے اٹھانے لگا، مگر مہرو نے فوراً اس کا ہاتھ جھٹک دیا۔ وہ کسی کا چھونا گوارا نہیں کرسکتی تھی۔ زیغم نے لمحہ بھر کو سانس روکی اور نظریں جھکا لیں۔ اس کی نگاہوں کے سامنے ایک پاکیزہ، باحیا، سات پردوں میں لپٹا ہوا وہ نازک سا گلاب تھا، جسے نہ کبھی کسی نے چھوا تھا، نہ کسی نے دیکھا تھا…

“مہرو،گر جاؤ گی… اگر مجھ سے تھوڑی سی مدد لے لو گی تو اس میں کوئی گناہ نہیں۔”
مہرو جو خود سے کھڑے ہونے کی کوشش کر رہی تھی، ایک بار پھر سے لڑکھڑائی، مگر اس بار زیغم نے بروقت کھڑے ہوتے ہوئے اس کی کلائی تھام کر اسے گرنے سے بچا لیا۔

“یہ چپل پہنو!”
زیغم نے قریب پڑی اپنی چپل پاؤں سے اس کے قریب سرکائی۔

مہرو نے فوراً سر نفی میں ہلایا۔
“نہیں سائیں، میں آپ کے جوتے کیسے پہن سکتی ہوں؟”

زیغم کی آنکھوں میں سختی آگئی۔
“مہرو، میں کہہ رہا ہوں، پہنو! اور یہ میرا حکم ہے!”
لہجہ سخت ہوا تو مہرو فوراً خوفزدہ ہو گئی، جلدی سے جوتوں کے اندر پیر ڈال لیا مگر جیسے ہی زیغم کی نظریں اس کے شفاف، ملائم، گلابی مائل گورے پیروں پر پڑیں، جو اس کے سیاہ رنگ کے بڑے سائز کے جوتے میں اور بھی نازک اور چھوٹے لگ رہے تھے، تو زیغم سلطان کے لبوں پر بے اختیار ایک ہلکی سی مسکراہٹ بکھر گئی۔

“سائیں، آپ مجھ پر ہنس رہے ہیں نا؟”
“جانتی ہوں، میں بے وقوف ہوں!”
مہرو نے زیغم کو ہلکا سا مسکراتا دیکھ کر بچوں کی طرح ہچکی لے کر رونا شروع کر دیا تھا، جیسے اس کا دل واقعی دکھ گیا ہو۔

“ارے نہیں، پاگل!”
زیغم سلطان نے نرمی سے کہا:
“میں تم پر نہیں ہنس رہا۔ میں تو یہ دیکھ کر ہنس رہا تھا کہ میرے جوتے تمہیں کتنے بڑے آ رہے ہیں۔ بھلا میں تم پر کیوں ہنسوں گا؟”
“تمہاری باتیں، تمہاری معصومیت مجھے بہت پسند ہے۔”
وہ گہری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے تحمل سے بولا، تاکہ مہرو اس کی باتوں پر یقین کر سکے۔
مہرو کی عمر بے شک 18 سال تھی، مگر وہ جس طرح اکیلی، بغیر کسی سے ملے، صرف اپنی ماں کے زیرِ سایہ پلی بڑھی تھی، اس کی سوچ ابھی بھی کسی ناسمجھ بچے جیسی تھی۔ وہ نہایت حساس تھی، دوسروں کو سمجھنے کی صلاحیت بھی کم تھی، اور اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں پر ٹوٹ جاتی تھی۔ یہ بات زیغم سلطان پوری طرح سے محسوس کر چکا تھا۔ وہ جان گیا تھا کہ مہرو کو اپنا بنانے کے لیے اسے سخت امتحانوں سے گزرنا پڑے گا اور اس حقیقت کا اسے ابھی سے اندازہ ہو چکا تھا—لیکن وہ پوری طرح سے تیار تھا۔

یہی تو مرد کی محبت ہوتی ہے—جب وہ کسی عورت کو دل سے چاہتا ہے، تو اسے پلکوں پر بٹھا کر رکھتا ہے، اس کے نخرے اٹھاتا ہے، ناز نخرے سہتا ہے، اور اس کی نادانیوں، بھول چوک کو دل سے قبول بھی کرتا ہے، اور اسے سلجھانے کی کوشش بھی کرتا ہے۔
یہیں پر سمجھنے اور سوچنے کی ضرورت ہے، ابنِ حوا! تھوڑا سا غور کرو کہ مرد اور عورت ایک جیسے نہیں ہوتے۔ عورت صبر و تحمل کا پیکر ہے، عزت و وفا کی مجسم تصویر ہے۔ ہر عورت ایک جیسی نہیں ہوتی، جیسے ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا لیکن حقیقت یہی ہے کہ ننانوے پرسنٹ عورتیں اپنے ماں باپ کی عزت کی خاطر، اپنے گھر والوں پر کوئی انگلی نہ اٹھنے دینے کے لیے، چاہے انہیں من چاہا مرد نہ ملے، وہ کمپرومائز کر جاتی ہیں۔ وہ اپنی پوری زندگی ایک شخص کے نام کر دیتی ہیں، اور جب بچے ہو جاتے ہیں تو وہ اپنی دنیا کو صرف اسی مرد کے گرد گھما دیتی ہیں مگر وہ ایک پرسنٹ عورت جو اس روایت کو نہیں مانتی، وہ معاشرے میں عزت سے محروم کر دی جاتی ہے۔ حالانکہ یہ سراسر غلط ہے۔ اسلام نے مرد اور عورت، دونوں کو اپنے ہمسفر چننے کا برابر حق دیا ہے، مگر یہاں کے خود ساختہ “زمینی خدا” اپنے اصول بنا کر عورت کو اس حق سے محروم کر دیتے ہیں۔
اب بات آتی ہے مرد کی—تو مرد عورت کی نسبت مختلف ہوتا ہے۔ چاہے وہ امیر ہو یا غریب، محلوں میں رہنے والا شہزادہ ہو یا مزدور، اگر وہ کسی ایسی عورت کو قبول بھی کر لے جسے اس نے دل سے نہیں چاہا، تو وہ کبھی اس کے ناز نخرے ویسے نہیں اٹھا سکتا جیسے وہ من چاہی عورت کے لیے اٹھاتا ہے۔ اس پر چاہے جتنی بھی دلیلیں دے دی جائیں، حقیقت یہی ہے کہ دل میں محبت کی جگہ ضروری ہے، ورنہ وہ تعلق بوجھ بن جاتا ہے۔
اب زیغم اور نایاب کی مثال لے لو—نایاب نے زیغم کو حاصل کرنے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا؟ صحیح اور غلط کا فرق مٹا دیا، گناہ کیے، سازشیں کیں، مگر نتیجہ؟ زیرو! نہ زیغم کو حاصل کر سکی، نہ زیغم کی محبت کو۔ کیونکہ محبت زبردستی حاصل نہیں کی جا سکتی، یہ ایک انمول تحفہ ہے جو تب ہی حسین لگتا ہے جب اسے رضا مندی سے قبول کیا جائے۔
یہی بات حمائل نے نہیں سمجھی۔ اس نے محبت کی، مگر زیغم کو مجبور کرنے کی کوشش کی، اور محبت میں زبردستی نہیں چلتی۔ زیغم نے ایک اچھے دوست ہونے کے ناطے اس کی محبت کی عزت کی، اسے محبت دینے کی کوشش بھی کی، مگر نتیجہ؟ پھر سے زیرو! کیونکہ محبت خود سے جنم لیتی ہے، اسے پیدا نہیں کیا جا سکتا۔
جیسے زیغم سلطان کے دل میں مہرو کی محبت خود بخود پیدا ہو چکی تھی۔ وہ اور مہرو زمین آسمان کا فرق رکھتے تھے، پھر بھی زیغم اس کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار تھا۔ مگر مہرو؟ وہ اس سب سے لاپرواہ تھی۔ اس میں تو ابھی اتنی صلاحیت بھی نہیں تھی کہ وہ زیغم کے جذبات کو سمجھ سکے۔ وہ تو اب تک خود کو زیغم کی ملازم سمجھ رہی تھی، جبکہ زیغم اسے اپنے دل کی ملکہ بنا چکا تھا!
اور یہی حقیقت ہے—مرد صرف اپنی من چاہی عورت کے ناز نخرے اٹھاتا ہے، باقی سب صرف سمجھوتہ ہوتا ہے!
اور سمجھو تو—زبردستی اور ضد کی آڑ میں بنائے گئے رشتے زیادہ دیر تک کامیاب نہیں رہتے۔ کیونکہ محبت ایک فطری جذبہ ہے، یہ کسی کے کہنے پر، کسی کے دباؤ میں، یا کسی کے زبردستی کرنے سے پیدا نہیں کی جا سکتی۔ جس رشتے میں محبت اور رضا مندی نہ ہو، وہاں وقت کے ساتھ ساتھ گھٹن بڑھتی ہے، دل کے اندر بوجھ محسوس ہوتا ہے، اور آخرکار وہ رشتہ بکھر جاتا ہے کیونکہ محبت قربانی مانگتی ہے، مگر وہ قربانی خوشی سے دی جائے تو ہی معنی رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زبردستی نبھائے گئے رشتے زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ پاتے۔ وہ صرف ایک ذمہ داری بن کر رہ جاتے ہیں، جسے نبھاتے نبھاتے ایک دن دل تھک جاتا ہے، جذبات ماند پڑ جاتے ہیں، اور پھر وہ رشتہ یا تو ٹوٹ جاتا ہے، یا زندگی بھر کے لیے دل میں ایک خلا چھوڑ جاتا ہے۔
اس لیے محبت کو زبردستی کے دائرے میں قید نہ کرو، کیونکہ جو دل سے چاہا جائے، وہی سچ میں نصیب بنتا ہے۔

زیغم کچھ دیر اس کی خوبصورتی کو دیکھتے ہوئے خود سے ہی ہوش میں آیا تھا۔
“اچھا، اب رونا بند کرو! اس میں رونے والی کوئی بات نہیں ہے!”
زیغم سلطان نے نرمی مگر مضبوطی سے کہا، جبکہ مہرو کی بھیگی آنکھیں ابھی بھی اس کی جانب دیکھ رہی تھیں۔

وہ اسے سختی سے ساکت کھڑا دیکھ کر بالوں کو جھٹکتے ہوئے آگے بڑھا اور سمجھانے کے انداز میں بولا:
“میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اسے بند کیسے کرنا ہے۔”

وہ سکرین کی جانب بڑھا اور اشارہ کرتے ہوئے بولا:
“یہ دیکھو! اسے ٹچ کرو، یہاں سے پورا سسٹم خود سے کام کرے گا۔ یہ آپشن دیکھ رہی ہو؟ یہ واش روم کا پورا سسٹم ہے، بیسن، فلش، سب کچھ خودکار ہے۔”
زیغم نے اطمینان سے اسے سمجھایا، تاکہ مہرو آسانی سے سمجھ سکے اور خود کو بے وقوف محسوس نہ کرے۔ وہ اس کی الجھن کو بخوبی محسوس کر چکا تھا، اور اس کے لیے معاملہ آسان بنانے کی پوری کوشش کر رہا تھا۔

“مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا!”

“Well, that was pointless!”
“ساری محنت بیکار گئی۔”
“اچھا ٹھیک ہے، کوئی بات نہیں، بس رونا بند کرو۔”

“کیا کروں؟”

“کپڑے تبدیل کرو!”

“ٹھیک ہے، میں لے آتی ہوں، میرے کپڑے باہر ہیں۔”
مہرو نے دو قدم آگے بڑھائے، پھر اچانک رک گئی۔ ایک لمحے کے لیے الجھن اس کے چہرے پر نمایاں ہوئی۔ اس نے پلٹ کر زیغم کی طرف دیکھا، جو سکون سے اسے دیکھ رہا تھا۔

“جی، لے آؤ۔”
زیغم نے بے ساختہ کہا، جیسے یہ کوئی معمولی بات ہو۔

“مگر… آپ کا کمرہ خراب ہو جائے گا، میرے کپڑے گیلے ہیں۔”
اس کی آواز میں ہچکچاہٹ تھی، جیسے خود کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔ زیغم نے ایک نظر اس پر ڈالی، پھر جیب میں ہاتھ ڈال کر اعتماد سے بات جاری رکھی۔

“تمہارے کمرے سے کیا مراد ہے؟”
“یہ کمرہ بھی ہمارا، اس میں رکھی ہر چیز بھی ہماری۔ اور کوئی بات نہیں، اگر گیلا ہو بھی گیا تو ملازم صاف کر لیں گے، تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔”
اس کی بات میں عجیب سا اطمینان تھا، جیسے اس کی کوئی بھی الجھن اہم نہ ہو۔ مہرو نے خاموشی سے سر ہلایا، مگر قدم ابھی بھی محتاط تھے۔ وہ دروازے کی طرف بڑھی، کچھ لمحوں کو رکی، پھر باہر نکل گئی۔ زیغم نے چھت کی طرف دیکھا، ہاتھ اٹھا کر رین شاور بند کر دیا۔ پانی کے قطرے اب بھی فرش پر نرمی سے گر رہے تھے۔ واش روم کی ٹھنڈک کو محسوس کرتے ہوئے اس نے آگے بڑھ کر فوری طور پر درجہ حرارت میں کچھ گرماہٹ کا اضافہ کیا۔ سب کچھ منظم تھا، جیسے پہلے سے ہی طے شدہ ہو۔ اب یہ انتظام کیا تھا، یہ مہرو کی واپسی پر ہی واضح ہونا تھا، تاکہ اسے ایک گرم اور آرام دہ ماحول ملے۔ مہرو کچھ دیر تک نہیں آئی تو زیغم خود واش روم سے باہر نکلا۔ سامنے کا منظر دیکھ کر وہ لمحہ بھر کو رک گیا۔ اس کی معصوم بیوی بیڈ پر بیٹھی اپنی لائی ہوئی پوٹلی کھول رہی تھی۔ زیغم کی نظر جیسے ہی اس کے کپڑوں پر پڑی، وہ فوراً سمجھ گیا کہ وہ جلدبازی میں مکمل کپڑے نہیں لا پائی۔ جو دو تین سوٹ تھے، ان میں سے کسی کی شلوار غائب تھی تو کسی کی قمیض۔ شاید اس نے کبھی اپنی چیزوں کو خود نہیں سنبھالا تھا۔ اس کی ماں نے غربت کے باوجود اسے لاڈ پیار سے رکھا تھا، مگر اب ایسا لگتا تھا جیسے اس کے پاس پورے کپڑے بھی نہیں تھے۔ زیغم دروازے کے پاس کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ خود بھی وہ پوری طرح بھیگ چکا تھا، اور بالوں سے پانی جھاڑنے میں مصروف تھا مگر اس کے ہاتھ رک گئے جب مہرو نے الجھن کے عالم میں ایک الگ قمیض، ایک الگ شلوار اور ساتھ میں دوپٹہ نکالا۔ اس کی پریشان نظریں جیسے اس کی حالت بیاں کر رہی تھیں۔ وہ کپڑے اٹھائے واش روم کی طرف بڑھی، مگر دروازے کے سامنے زیغم کو کھڑا دیکھ کر ٹھٹک گئی۔ مہرو نے نظریں جھکا لیں، مگر زبان سے کچھ نہ کہا۔ زیغم گہری سانس لیتے ہوئے خود ہی ایک طرف ہو گیا، تاکہ وہ آسانی سے اندر جا سکے۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کی معصوم بیوی کسی بھی قسم کی بےآرامی محسوس نہ کرے۔ جیسے ہی مہرو اندر گئی، اس نے نرمی سے دروازہ بند کر دیا۔ مہرو کو اندر آتے ہی گرماہٹ محسوس ہوئی، چاروں طرف نظر دوڑائی، اس کے لیے یہ بھی عجیب تھا کہ پہلے اسے ٹھنڈ لگ رہی تھی اور اب گرماہٹ ہو چکی تھی۔ہر نئی چیز دیکھ کر مہرو کو جھٹکے پہ جھٹکے لگ رہے تھے۔ ادھر زیغم آگے بڑھ کر بیڈ پر رکھی مہرو کی پوٹلی کو دیکھنے لگا۔ جو بھی تین چار جوڑے تھے، ان سب کے رنگ مدھم اور پرانے تھے۔ شاید ان میں سب سے بہتر وہی تھا جو وہ لے کر گئی تھی۔ اچانک زیغم کو اپنا موبائل اور والٹ یاد آیا۔ اس نے جلدی سے جیب میں ہاتھ مارا، مگر جیسے ہی موبائل نکالا، پورا بھیگا ہوا تھا۔ اسکرین سے پانی ٹپک رہا تھا۔

“او مائی گاڈ!”
وہ زیرلب بڑبڑایا اور فون کو جھٹک کر پانی نکالنے کی کوشش کرنے لگا، مگر پانی اسپیکر کے اندر تک جا چکا تھا۔ والٹ کھولا تو اس میں موجود پیسے اور دیگر سامان بھی گیلا ہو چکا تھا۔ والٹ اور موبائل ایک طرف رکھتے ہوئے وہ اپنی الماری کی طرف بڑھا، نرمی سے دروازہ کھولا اور کپڑے نکالنے لگا۔ اب کہیں جانے کا بالکل موڈ نہیں تھا۔ آرام کی طلب شدت اختیار کر چکی تھی، اس لیے ایک کمفرٹیبل ٹراؤزر اور شرٹ نکال کر لے آیا۔ زیغم کے ہاتھ میں سفید اور سیاہ کمبینیشن کا ٹراؤزر اور شرٹ تھی، وہ پرسکون انداز میں کھڑا مہرو کا انتظار کر رہا تھا۔ جیسے ہی مہرو دروازہ کھول کر باہر نکلی، زیغم کی نظریں بے اختیار اس کے نکھرے نکھرے چہرے پر جم گئیں۔ نرم و گلابی جلد، پانی کی نمی سے ہلکی سی دمکتی ہوئی، جیسے چاندنی کی روشنی میں چمکتا ہوا کوئی نایاب موتی۔ وہ آتے ہوئے واش روم میں شاور چلا کر آیا تھا، تاکہ مہرو آرام سے غسل کر سکے، اور ساتھ صابن، شیمپو وغیرہ بھی ترتیب سے رکھ آیا تھا اور شاید وہ سچ میں سمجھ گئی تھی، کیونکہ وہ شاور لے کر نکلی تھی۔

زیغم کی نظریں اس کے چہرے کی تازگی میں کھوئی تھیں۔ اس کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئیں، مگر وہ خاموش رہا۔ اس کی نظروں کو محسوس کرتے ہوئے مہرو سائیڈ سے گزرتی ہوئی آگے بڑھ گئی مگر جاتے جاتے، اس نے دوپٹے کو نہایت ترتیب سے سر پر لپیٹ لیا، تاکہ زیغم کے سامنے اس کے بھیگے ہوئے بال نظر نہ آئیں۔ کتنا حیا دار انداز تھا اس کا۔ زیغم کے لیے یہ پہلی مثال تھی۔ اس نے زندگی میں کئی لڑکیوں کو دیکھا تھا، مگر کسی میں ایسی شرم و حیا نہ دیکھی تھی۔ وہ ایک لمحے کے لیے رکا، پھر اپنے خیالات جھٹکتے ہوئے کپڑے اٹھائے اور واش روم میں چینج کرنے کے لیے چلا گیا۔ دوسری طرف، مہرو جو وضو کر کے نکلی تھی، اِدھر اُدھر نظریں دوڑانے لگی، شاید جائے نماز تلاش کر رہی تھی۔ کچھ ہی دیر کی جدوجہد کے بعد، اسے سٹڈی ایریا میں، شیشے کی ٹیبل کے نچلے حصے پر رکھی ہوئی ایک خوبصورت مخملی جائے نماز نظر آ گئی۔ نرمی سے اسے اٹھایا، احتیاط سے بچھایا اور اپنی قضا نمازیں ادا کرنے لگی۔ باہر ظہر کی پہلی اذان ہو چکی تھی، اور وہ مکمل خشوع و خضوع کے ساتھ سجدے میں جھک چکی تھی۔
زیغم واش روم سے نکلا، اس کے چہرے پر وضو کی تروتازگی نمایاں تھی۔ وہ ٹاول سے چہرہ اور بازو اچھی طرح خشک کرتے ہوئے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھا، جہاں ایک طرف اس کا برش رکھا ہوا تھا۔ نرمی سے برش اٹھا کر اس نے اپنے بھیگے ہوئے بالوں کو ترتیب دی، پیشانی پر آتے چند آوارہ بالوں کو انگلیوں سے پیچھے کیا، اور پھر ایک لمحے کو خود کو آئینے میں دیکھا۔ وضو کے پانی نے جیسے اس کے چہرے پر ایک روحانی چمک پیدا کر دی تھی مگر اس وقت، اسے اپنی ظاہری حالت سے زیادہ کسی اور چیز کی پروا تھی۔۔۔نماز۔
اس کی نظر ایک لمحے کو سٹڈی ایریا کی جانب اٹھی، جہاں مہرو پہلے ہی جائے نماز بچھا کر عبادت میں محو تھی۔ اس کا سراپا مکمل سکون اور عاجزی کا منظر پیش کر رہا تھا۔ زیغم نے گہری سانس لی اور ایک لمحے کے توقف کے بعد سٹڈی ایریا کی طرف بڑھا۔ وہاں پہنچ کر، اس نے پاس رکھا ہوا دوسرا جائے نماز اٹھایا، اسے نہایت محبت اور احترام سے مہرو کے قریب مگر تھوڑا فاصلے پر بچھایا، تاکہ دونوں اپنی اپنی عبادت میں مگن رہ سکیں۔

“اللہ اکبر”
زیغم نے دل کی مکمل یکسوئی کے ساتھ نماز شروع کر دی۔ اس کی آواز دھیمی تھی، مگر دل کی گہرائیوں میں اترتی ہوئی۔ وہ مکمل خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ کے حضور جھک چکا تھا۔ ادھر مہرو کی سجدے میں جھکی پیشانی پر نور کی ایک لطیف سی جھلک نمایاں تھی، اور ادھر زیغم کی آنکھیں بند تھیں، مگر دل مکمل طور پر کھلا ہوا، اللہ کی جانب متوجہ تھا۔ دونوں اپنی اپنی عبادت میں مصروف تھے، مگر ماحول میں ایک پرسکون ہم آہنگی تھی، جیسے یہ لمحہ صرف عبادت کا نہیں، بلکہ روحانی قربت کا بھی ہو۔
°°°°°°°°°
“السلام علیکم! کیسی ہے اب آپ کی طبیعت، آغا جان؟”
دانیہ نے نرم لہجے میں پوچھا تھا، اس کی آنکھوں میں حقیقی فکر جھلک رہی تھی۔

“ٹھیک ہوں، اللہ کا شکر ہے، پہلے سے بہت بہتر محسوس کر رہا ہوں۔”
آغا جان نے محبت بھرے انداز میں جواب دیا، ان کا لہجہ ہمیشہ کی طرح مضبوط تھا، مگر چہرے پر ہلکی سی تھکن نمایاں تھی۔ مورے، جو قریب کھڑی تھی، دانیہ کی فکر مندی دیکھ کر مسکرا دی۔ ان دونوں کے درمیان اب حقیقتاً ماں بیٹی جیسا رشتہ قائم ہو چکا تھا۔ ہلکی ہلکی ہوائیں کھڑکی سے اندر آ رہی تھیں، کمرے میں دوائیوں کی مخصوص مہک رچی بسی تھی۔ ایک طرف دل کی دھڑکن چیک کرنے والی مشین کی مدھم آواز مسلسل سنائی دے رہی تھی۔ مائد ان سے دو چار قدم پیچھے تھا۔ خاموشی سے اندر آیا، اس کے ہاتھ میں آغا جان کے لیے بنے ہوئے کھانے کی باسکٹ تھی۔ “السلام علیکم” کہتے ہوئے باسکٹ مورے کے ہاتھ میں تھما دی اور ایک طرف جا کر کھڑا ہوگیا۔

“آغا جان! آپ نے تو ہمیں ڈرا ہی دیا تھا!”
درخزائی جلدی سے آگے بڑھ کر آغا جان کے سینے سے لگ گیا۔

“اب میں ٹھیک ہوں، تم لوگوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔”
آغا جان نے نرمی سے اس کی پیٹھ تھپکی، ان کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح شفقت تھی۔

“میں بھی آئی ہوں آپ کا حال پوچھنے کے لیے۔”
ارمیزہ بیڈ کے قریب جا کر کھڑی ہوئی، اس کے لہجے میں معصومیت تھی۔

“اچھا جی، تم بھی آئی ہو میرا حال پوچھنے؟”
“مجھے بہت اچھا لگا،تھینک یو تھینک یو۔”
آغا جان نے مسکرا کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا، ان کے انداز میں خالص محبت تھی۔

“مورے، یہ آپ کے کپڑے ہیں، آپ چینج کرلیں۔”
درخزائی نے بیگ مورے کی طرف بڑھایا، جس میں کپڑے تھے۔ مورے نے خاموشی سے بیگ لے لیا، مگر اس کا دھیان مائد کی طرف چلا گیا، جو ایک طرف صوفے پر بیٹھا تھا۔ اس کا چہرہ ویران تھا، نظریں جھکی ہوئی تھیں۔ اس کے ہونٹ خاموش تھے، مگر آنکھوں میں بہت کچھ چھپا ہوا تھا۔ ہاسپٹل روم میں لگے مانیٹر پر دل کی دھڑکن کی ہلکی ہلکی گونج کے بیچ وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ آغا جان نے ایک لمحے کے لیے اسے دیکھا، مگر ہمیشہ کی طرح اپنے فیصلے پر سختی سے قائم رہتے ہوئے نظر انداز کر دیا۔ مورے کی آنکھوں میں بے بسی اتر آئی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کا بیٹا اس شادی سے خوش نہیں ہے، مگر وہ اپنے خان، اپنے شوہر کے فیصلے کے خلاف کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ ساری زندگی اس نے اپنے شوہر کے ہر حکم کو مانا تھا، ہر فیصلہ قبول کیا تھا، اور آج بھی وہ بے بس تھی۔ کمرے میں خاموشی تھی، مگر اس خاموشی میں جذبات کی ایک دنیا آباد تھی، کچھ کہے بغیر بھی سب کچھ سنائی دے رہا تھا۔ ہلکی ہلکی ہوائیں کھڑکی سے اندر آ رہی تھیں۔ ہاسپٹل کے کمرے میں مدھم روشنی تھی، ماحول میں ایک عجب سی سنجیدگی کے باوجود ہلکی ہلکی ہنسی کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ مورے اور دانیہ آپس میں گفتگو میں مصروف تھیں، درخزائی اور ارمیزہ آغا جان کا دل بہلانے میں لگے ہوئے تھے، اور آغا جان بھی ان کی باتوں پر مسکرا رہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے سب کچھ نارمل ہو، جیسے پریشانیوں کا گزر یہاں سے کبھی ہوا ہی نہ ہو مگر ایک شخص ایسا تھا جو اس تمام منظر سے کٹا ہوا تھا، جس پر یہ مصنوعی خوشیاں کوئی اثر نہیں ڈال رہی تھیں۔ مائد ایک طرف خاموشی سے بیٹھا تھا، اس کی نظریں خلا میں تھیں، جیسے وہ یہاں ہوتے ہوئے بھی یہاں نہیں تھا۔ دل میں بے شمار خواہشیں مچل رہی تھیں، مگر لب سلے ہوئے تھے۔ وہ وہیں تھا، مگر اس کی روح کہیں اور بھٹک رہی تھی۔

اس کے چہرے پر ویرانی کے سائے تھے، جیسے کوئی شخص اپنی بربادی کا ماتم خود ہی کر رہا ہو، بنا کوئی آواز نکالے۔ جذبات پر سخت پہرے تھے، دل کی دنیا ویران تھی، جیسے کسی نے اس کے خوابوں کو بے دردی سے مسل کر رکھ دیا ہو۔ وہ سب کے درمیان ہوتے ہوئے بھی تنہا تھا، ایک ایسی تنہائی جو آس پاس کے ہجوم میں بھی ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ کمرے میں سب کی ہنسی چل رہی تھی، مگر مائد کے لیے ہر آواز جیسے دھندلا رہی تھی۔ وہ بے بسی کے عالم میں بیٹھا تھا، جیسے کوئی زہر کا پیالہ ہاتھ میں تھما دے، جسے نہ پینا ممکن ہو، نہ انکار کرنا۔ وہ اندر سے ٹوٹ رہا تھا، مگر اس ٹوٹ پھوٹ کا کوئی گواہ نہیں تھا۔ سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا ہونا چاہیے تھا، سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، مگر مائد کی دنیا میں جیسے سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔ وہ بس خاموشی سے بیٹھا تھا، جیسے اس کہانی میں اس کا وجود محض ایک سائیڈ کردار بن چکا ہو، ایک ایسا کردار جو اپنی خواہشات کی قربانی دے کر بھی خاموش رہنے پر مجبور تھا۔ وہ ایک ایسے مسافر کی مانند تھا جو اپنے ہی راستے میں کھو چکا ہو، جس کی منزل چھین لی گئی ہو اور واپسی کا کوئی دروازہ نہ ہو۔ اس کی خاموشی چیخوں سے بھی زیادہ گونج رہی تھی، مگر سننے والا کوئی نہ تھا۔ وہ جذبات کے اس کرب میں تھا جہاں آنسو بھی ساتھ چھوڑ جاتے ہیں، اور زبان بولنے سے انکاری ہو جاتی ہے۔ اس کی آنکھوں میں ایک ادھورا سپنا لرز رہا تھا، دل کے نہاں خانوں میں دبے سوال بے سکونی سے سر اٹھا رہے تھے، مگر جواب دینے والا کوئی نہ تھا۔ وہ سب کے درمیان ہوتے ہوئے بھی اکیلا تھا، جیسے کسی اجنبی دنیا میں کھو گیا ہو جہاں روشنی تو تھی، مگر اس کے حصے میں صرف اندھیرا آیا تھا۔

کمرے میں چلتی باتوں اور خوشگوار ماحول میں اچانک ایک نیا رخ آ گیا تھا۔ دروازہ کھٹکا اور مونا، اس کی ماں اور بھائی سبحان اندر داخل ہوئے۔ مونا کے ہاتھ میں فروٹس تھے، اور وہ ہمیشہ کی طرح چہکتی ہوئی آگے بڑھی۔ سسرال والوں کے دل میں جگہ مونا کو خوب بنانا آتی تھی۔ مائد کے چہرے پر ایک لمحے کو ناگواری ابھری، مگر اس نے بڑی مہارت سے اسے دبایا۔ سب سے بڑی الجھن سبحان کی موجودگی تھی۔ مائد کو یہ شخص کبھی پسند نہیں آیا تھا، اور ان دونوں کی آپس میں کبھی نہیں بنی تھی مگر اس وقت وہ خاموش تھا، کیونکہ آغا جان کی طبیعت کو دیکھتے ہوئے وہ کوئی نیا تنازعہ نہیں کھڑا کرنا چاہتا تھا۔ مونا ہمیشہ کی طرح مغرور انداز میں چلتی ہوئی آئی، جیسے اسے اپنی حیثیت اور مقام کا پورا ادراک ہو۔ آخر وہ اپنے چھ بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی، اور اسے اپنے اس رتبے پر بہت ناز تھا۔ اس کی چمکتی آنکھیں اس کا غرور ظاہر کر رہی تھیں۔

“السلام علیکم! کیسے ہیں آغا جان، کیسی ہیں مورے؟”
مونا کی آواز میں شوخی تھی، مگر انداز میں برتری جھلک رہی تھی۔سب کو سلام بولا تھا مگر اس نے دانیہ کو پوری طرح سے اگنور کر دیا۔سیم اس کی ماں نے بھی یہی طریقہ اپنایا تھا سب سے سلام لیا مگر دانیا کو اگنور کر دیا۔
آغا جان نے خوش دلی سے سلام کا جواب دیا اور مونا کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھا۔ آخرکار، وہ ان کی بہو تھی، اور آغا جان ہمیشہ خاندان کے ہر فرد کو عزت دیتے تھے۔ مونا جا کر مورے سے ملی، لیکن اسی لمحے مائد نے ایک عجیب بات محسوس کی۔ دانیا جو چند لمحے پہلے کافی کمفرٹیبل لگ رہی تھی، اچانک بےچین ہو گئی۔ اس کے چہرے پر ایک واضح گھبراہٹ تھی، جیسے کسی انجانے خطرے نے اسے لپیٹ میں لے لیا ہو۔ وہ پہلے سے بہت بہتر ہو چکی تھی، چہرے کے زخم مدھم ہو چکے تھے، مگر ہاتھوں پر ابھی بھی ہلکے نشان باقی تھے۔ مائد کی نظر جب سبحان پر گئی تو اس کے اندر ایک غصے کی لہر دوڑ گئی۔ سبحان خاموش تھا، مگر اس کی نظریں مسلسل دانیا پر ٹکی ہوئی تھیں۔ وہ نظریں جو سوال تو نہیں کر رہی تھیں، مگر ان میں جو بےباکی تھی، وہ مائد کے وجود میں آگ لگا دینے کے لیے کافی تھی۔ یہی وہ چیز تھی جس کی وجہ سے مائد کو سبحان کبھی پسند نہیں آیا تھا۔
سبحان خان خاموشی سے مائد کے قریب بیٹھ گیا، مگر اس کی نظریں اب بھی دانیا کی طرف تھیں۔ مائد کے ہاتھ سختی سے مٹھی میں بند ہو گئے، لیکن وہ کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔ اگر اس نے زبان کھولی تو سارا الزام اسی کے سر آنا تھا، اور آغا جان کی طبیعت کے پیشِ نظر وہ کسی جھگڑے کا آغاز نہیں کر سکتا تھا مگر اس کا دل تڑپ رہا تھا، جیسے لاوا اندر ہی اندر پک رہا ہو۔ وہ بے بسی محسوس کر رہا تھا، مگر اس وقت اس کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ وہ خاموشی سے یہ سب سہنے پر مجبور تھا، مگر اس کی خاموشی کے پیچھے ایک طوفان تھا جو کسی بھی لمحے پھٹ سکتا تھا۔

“آغا جان، آپ نے ایسی کیا ٹینشن لی جس کی وجہ سے آپ کی طبیعت خراب ہو گئی؟”
مونا پورے حق سے آغا جان سے پوچھ رہی تھی، مگر اس کے انداز میں صرف فکرمندی نہیں تھی، بلکہ جیسے وہ کچھ جتانا چاہ رہی ہو۔ اس کی نظریں کسی خاص طرف اٹھ رہی تھیں، مگر کس لیے؟ یہ سمجھنا مشکل تھا۔

“میں نے کوئی ٹینشن نہیں لی، بس ویسے ہی طبیعت خراب ہو گئی اور ویسے بھی، اب تم عید کے بعد آ رہی ہو ہمیشہ کے لیے، تو پھر تم خود میرا خیال رکھ لیا کرنا۔”
آغا جان نے مدھم آواز مسکراتے ہوئے جواب دیا، مگر ان کے لہجے میں ایک دبے لفظوں میں چھپا اعلان تھا۔ جیسے ہی یہ جملہ ادا ہوا، کمرے میں ایک پل کے لیے سناٹا چھا گیا۔

“مائد چاچو کی عید کے بعد شادی ہے! میں چاچو کی شادی پر بہت سارے ڈریسز لوں گی، میں بابا کو بولوں گی کہ میرے لیے ڈیزائنر سے ڈریسز بنوا دیں!”
ارمیزہ کی خوشی بے قابو تھی، اس کی چہکتی ہوئی آواز نے خاموشی توڑ دی۔

“جی میری جان! اب مائد چاچو کی شادی میں خوبصورت بننا، خوب اچھے سے تیار ہونا!”
مورے نے نرمی سے اسے اپنے سینے سے لگایا، اس کے لہجے میں روایتی پٹھانی شفقت تھی، جو ہمیشہ دل کو بھلی لگتی تھی۔

“ماشاءاللہ یہ تو آپ نے بہت اچھی خبر سنائی ہے لالا!”
مونا کی ماں نے مسکرا کر خوشی کا اظہار کیا جبکہ مونا مسکراتے ہوئے نظریں جھکائے بلش کر رہی تھی مگر مائد کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا تھا۔ اس کے حلق میں کانٹے چبھنے لگے، اور گلے سے تھوک بھی مشکل سے نیچے اترا۔ وہ بےحسی سے بیٹھا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک چھپا ہوا طوفان تھا۔ درخزائی ایک طرف خاموشی سے کھڑا سب کچھ سن رہا تھا۔ اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہ تھا، مگر اس کی نظریں عجیب سی بےچینی لیے ہوئے تھیں۔ وہ سینے پر ہاتھ باندھے خاموش تماشائی بنا کھڑا تھا، مگر مائد جانتا تھا کہ اس کی خاموشی کے پیچھے بہت کچھ چھپا ہے۔

“ٹھیک ہے، تو پھر بسم اللہ کرتے ہیں۔ آخری رمضان میں دن طے کر لیتے ہیں اور عید کے آٹھویں یا دسویں دن ہی ہم شادی کی تاریخ رکھ لیتے ہیں۔”
سبحان خان نے اپنی بات اعتماد سے کہی، مگر اس کی نظریں اب بھی بار بار گھوم پھر کر دانیا پر ٹک رہی تھیں۔ وہ خاموش بیٹھی تھی، مگر اس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ اس زہریلی نظر کو محسوس کر رہی ہے۔ مائد کی مٹھی بےاختیار بھینچ گئی، مگر وہ ضبط کر گیا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ایک ہی پل میں سبحان کا وجود اس کمرے سے مٹا دے، مگر یہ لمحہ ایسا نہیں تھا۔ وہ کچھ نہیں کہہ سکتا تھا، کیونکہ آغا جان کی طبیعت خراب تھی، اور ان کے سامنے کسی بھی قسم کی بدتمیزی ناقابلِ برداشت تھی۔ کمرے میں موجود باقی سبھی لوگ نارمل انداز میں بات کر رہے تھے، مگر مائد کے اندر آگ بھڑک رہی تھی۔ دانیا کا سر جھکا ہوا تھا، وہ خود کو اس نظر کی زد سے بچانے کی کوشش کر رہی تھی، مگر مائد کے لیے یہ منظر ناقابلِ برداشت تھا۔

“سبحان، ذرا آؤ میرے ساتھ، مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے۔ شادی کی باتیں بڑے کر لیں گے۔”
مائد خان نے زبردستی لبوں پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور باہر لے جانے کی پیشکش کی۔ سبحان نے حیرت سے اسے دیکھا، کیونکہ مائد خان تو کبھی اسے منہ نہیں لگاتا تھا، اور آج وہ خود اسے اپنے ساتھ بلا رہا تھا، وہ بھی کسی “ضروری بات” کے لیے؟ یہ بات سبحان کو ہضم نہیں ہوئی، مگر کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ وہ اٹھا اور خاموشی سے مائد کے ساتھ چل دیا۔ اندر روم میں شادی کی باتیں جاری تھیں، ہر کوئی خوشگوار انداز میں باتیں کر رہا تھا، مگر مائد کا دماغ جل رہا تھا۔ وہ اسے ویٹنگ ایریا تک لے آیا، جہاں ذرا تنہائی تھی۔ جیسے ہی وہ رکا، مائد نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا، اس کے غصے کی شدت آنکھوں سے انگارے برسا رہی تھی۔ جو اتنی شدید تھی کہ سبحان نے بےاختیار ایک قدم پیچھے کیا۔

“جس کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہے ہو، جانتے ہو وہ کون ہے؟”
“زیغم سلطان لغاری کی بہن ہے وہ!”
مائد کا لہجہ برف سے بھی زیادہ سرد تھا، مگر آنکھیں شعلے برسا رہی تھی۔

“وہ تمہیں بیچ سے چیرتے ہوئے اتنے ٹکڑے کرے گا کہ تمہاری سات پشتیں بھی ڈھونڈتی رہ جائیں گی کہ تمہارے جسم کا کون سا حصہ کہاں گرا تھا۔ کہیں تو اپنی گندی نظروں کی غلاظت بکھیرنا بند کر دو، گھٹیا انسان!”
مائد کے صبر کی حد ختم ہو چکی تھی۔ اس کی مٹھیاں بھنچ چکی تھیں، اور آنکھوں میں وحشت تھی۔ اگر آج وہ ضبط نہ کرتا، تو شاید یہ باتیں الفاظ تک محدود نہ رہتیں…

“کیا بکواس کر رہے ہو؟ تم خود کو سمجھتے ہو کیا؟ میں کیوں کسی کی طرف دیکھوں گا اور اگر دیکھوں بھی تو تمہیں اس میں کیا تکلیف ہے۔ دیکھنے کی چیز کو، ہر کسی کو حق ہوتا دیکھنے کا؟”
سبحان نے جھوٹ بولتے ہوئے مائد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر غرایا تھا، اور ساتھ ہی اپنا بے باقی والا انداز اپناتے ہوئے کچھ فضول گوئی کے الفاظ بھی بول گیا تھا۔ اس کی آواز ہسپتال کا لحاظ کیے بغیر کافی بلند ہو چکی تھی۔

“ششش… آواز نیچے رکھ، سبحان خان!”
“اگر میں چلایا تو تیرے قدموں کے نیچے سے زمین کھسک جائے گی۔ تُو تو ہمیشہ سے گھٹیا تھا، گھٹیا ہے اور تم نے گھٹیا ہی رہنا ہے!”
مائد کی آنکھوں میں سرخیاں اور غصہ تھا، اس نے اس کا گریبان پکڑ رکھا تھا لیکن ہسپتال کے ماحول کا لحاظ رکھتے ہوئے اس نے آواز نیچے رکھی تھی، تاہم اس کا لہجہ دہشت ناک تھا۔

“تجھے میرے گریبان پر ہاتھ ڈالنا بہت مہنگا پڑے گا!”
سبحان خان نے مائد کے ہاتھ کو پکڑ کر روکا، مگر وہ اب بھی غصے میں تھا، اور اس کا لہجہ کاٹ دار تھا۔

“کیا تمہارا گریبان؟ گھٹیا انسان! تمہیں اتنی تمیز نہیں ہے کہ کسی عورت کی عزت کیا ہوتی ہے؟”
“اگر دوبارہ تم نے ایسی نظروں سے دیکھا، تو میں تیری آنکھیں نوچ لوں گا! اور تمہارے انجام کا فیصلہ میں خود کروں گا!”
مائد کے پورے وجود میں غصہ تھا، اور اس کی غیرت یہ گوارا نہیں کر رہی تھی کہ اس کے یار کی عزت اس طرح سے پامال کی جائے۔ سبحان کی گندی نظریں اس نے مسلسل محسوس کیں، اور یہ اسے انتہائی برا لگا تھا۔ اس کا بس چلتا تو ہاسپٹل کا لحاظ کیے بغیر گولیوں سے اڑا دیتا۔

“تمہیں میں یہی زندہ گاڑ دوں گا! خود کو سمجھتے کیا ہو؟”
“تم نے میرے گریباں پر ہاتھ ڈالنے کی جرات کی؟”
سبحان خان نے غصے میں کمر سے پسٹل نکال کر مائد کی کانپٹی پر تان لیا۔

“یہ گیدڑ دھمکیاں کسی اور کو دینا، مائد خان دورانی تم سے نہیں ڈرتا!”
مائد خان نے بھی فوراً اپنے پسٹل کو نکال کر سبحان کی کنپٹی پر رکھ دیا۔ دونوں کی آنکھوں میں اس وقت خون اترا ہوا تھا۔ فرق اتنا تھا کہ مائد خان حق پر تھا اور سبحان خان غلط تھا۔ اسی لمحے، درخزائی اپنے بھائی کو ڈھونڈتا ہوا ہوا وہاں پہنچا، اور اس نے ویٹنگ روم میں جو منظر دیکھا، اس کی جان نکل گئی۔ درخزائی انہی قدموں پر واپس بھاگ گیا تھا، کمرے میں سب کو انفارم کرنے کے لیے۔

“سبحان لالہ اور مائد بھائی لڑ رہے ہیں، دونوں نے ایک دوسرے پر پسٹل تان رکھی ہے!”
درخزائی بکھلایا ہوا تھا۔ ویٹنگ روم میں جو منظر اس نے دیکھا، وہ ہر کسی کو خوف میں مبتلا کرنے کے لیے کافی تھا۔

“ہائے اللہ! یہ کیا ہو رہا ہے؟”
“ابھی تو سب ٹھیک تھا۔”
سبحان کی ماں اور مونا تیزی سے کمرے کی بار کی جانب لپکی۔ مورے بھی اس کے پیچھے پیچھے بھاگتی ہوئی نکل گئی تھی جبکہ دانیہ اور ارمیزہ خوف میں مبتلا ہو کر آغا جان کے پاس کمرے میں ہی کھڑی تھیں۔

“کیا ہو رہا ہے؟”
آغا جان اپنی جگہ سے اُٹھنے کی کوشش کر رہے تھے مگر وہ اس وقت بیڈ سے نہیں اُٹھ پا رہے تھے۔

“پلیز آغا جان آپ لیٹے رہیں، آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔ سب لوگ ہیں وہاں پر وہ سنبھال لیں گے!”
دانیا نے آگے بڑھ کر آغا جان کو بیڈ سے اٹھنے کے لیے روکا مگر آغا جان نہیں رکے۔

“نہیں مجھے جانا ہے!”
ان کے لہجے میں سختی تھی۔
دانیا خاموشی سے ان کی بیڈ سے اترنے میں ہیلپ کرنے لگی۔ آغا جان نے ڈرپ والی سوئی بھی نکال پھینک کی تھی اور ہارٹ بیٹ چیک کرنے والی مشین بھی اتار دی تھی۔ دیوار کو پکڑ کر آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے وہ روم سے باہر نکل گئے تھے۔ دانیا کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے کیونکہ اس کے ساتھ ارمیزہ بھی تھی اور دانیا میں ہمت بھی نہیں تھی کہ وہ باہر جا کر ایسی سچویشن کا سامنا کر پاتی۔ وہ روم میں ہی رکی ہوئی تھی۔
°°°°°°°°°°°°
وہ نماز پڑھ کر، جائے نماز پر دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتی ہوئی، دل کی گہرائیوں سے ایک معصومیت اور سکون کی جھلک دکھا رہی تھی۔ اس کی موجودگی میں ایک عجیب سا نور تھا، جو دل کو بے اختیار اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔ زیغم سلطان کی نظریں اس پر جا کر ٹھہریں، مگر دل میں اتنی طاقت تھی کہ وہ خود کو غیر محفوظ محسوس نہ کرے، اس لیے اس نے اپنے دل پر پتھر رکھتے ہوئے، اپنی نظریں اس معصوم چہرے سے ہٹا کر اپنی دعا میں مشغول ہو جانے کی کوشش کی مگر پھر دل کی گہرائیوں میں کچھ ایسا ہوا کہ جو پہلی دعا اس کے لبوں سے نکلی، وہ بے اختیار اور بے خودی میں تھی۔ کوئی منصوبہ بندی، کوئی سوچ، کوئی جذبات نہیں تھے، بس وہ لمحہ تھا جب دل نے خود کو بے نقاب کر دیا۔ شاید اسے ہی محبت کہتے ہے۔

“اے اللہ! اس کو تو نے اپنی رحمت سے میرے نصیب میں لکھا ہے، اور اپنی رحمت کے صدقے، میرے دل میں اس کی محبت بھی جگائی ہے۔ ایک ایسا جذبہ، جسے میں نے اپنی تیس سالہ زندگی میں کبھی محسوس نہیں کیا اور یہ جذبہ، میں نے اس سے پہلی نظر ملتے ہی محسوس کر لیا۔”
“اس رشتے کو ہم دونوں کے لیے باعثِ سکون بنانا، جیسے میرے دل میں اس کی محبت ہے، ایسے ہی اس کے دل میں بھی میرے لیے محبت جگانا اور مجھے ثابت قدم رہ کر اس کا انتظار کرنے کی توفیق عطا فرما کیونکہ مہرو کو میں محبت سے اپنا بنانا چاہتا ہوں، زبردستی سے ہرگز نہیں۔”
وہ دعا کرتے ہوئے “آمین” کہتے ہوئے، چہرے پر ہاتھ پھیر چکا تھا مگر وہ اب بھی دعا مانگ رہی تھی۔

“مہرو، میرے لیے بھی دعا کرنا!”
وہ ٹھوڑی پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیار بھری نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بولا تھا۔

“آپ کے لیے کیا دعا کروں سائیں؟”
“آپ جائے نماز پر بیٹھے ہیں، خود اپنے لیے دعا کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنی دعاؤں کو زیادہ قبول کرتا ہے، اور ویسے بھی آپ کے پاس سب کچھ ہے، کس چیز کی دعا کروں؟”
وہ اپنی دعا کو روک کر، بغیر اسے دیکھے، جواب دے رہی تھی۔

“ہو سکتا ہے کچھ ایسا ہو، جو تم میرے لیے مانگو تو جلدی مل جائے۔”

“اچھا، کیا دعا کرو؟”

“تم بس دعا کر دو، جو میں جو چاہتا ہوں، مجھے وہ مل جائے۔”

“ٹھیک ہے، اللہ جی، سائیں، جو چاہتے ہیں، ان کو مل جائے۔”
زیغم مسکرا دیا تھا۔ اسے جرگہ پہنچنا تھا، مگر اس کا دل ہی نہیں کر رہا تھا جانے کو۔ میٹنگ کا ٹائم پہلے ہی وہ نکال چکا تھا، اوپر سے اس کا فون بھی بند تھا، اور اسے جا کر نیا فون بھی لینا تھا۔ اس میں کبھی نہیں سوچا تھا کہ کبھی کسی ہستی کے لیے ایسا کچھ محسوس کرے گا۔ جائے نماز پر بیٹھے وہ ابھی اسے اور دیکھنے کا ارادہ رکھتا تھا، مگر دروازے پر ہونے والی کھٹکھٹ نے اسے اٹھنے پر مجبور کر دیا تھا۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر جا کر دروازہ کھولتا ہے، تو سامنے رفیق کھڑا ہوتا ہے۔

“سائیں، گستاخی معاف کیجئے گا، مگر بی بی جی کا فون تھا، اس لیے مجھے آپ کی آرام میں خلل ڈالنا پڑا… دانیہ بی بی کا فون ہے۔”

“دانیہ…”
زیغم نے حیرانی سے کہا، اور فوراً رفیق کے ہاتھ سے فون لے لیا۔ فون کان سے لگاتے ہی جیسے دانیہ کا نام لیا، مگر دوسری جانب سے جو خبر ملی تھی، وہ زیغم سلطان کے قدموں سے زمین نکالنے کے لیے کافی تھی۔

“اوکے اوکے، میں آ رہا ہوں، ریلیکس، میں ابھی آ رہا ہوں۔ تم ارمیزہ کا خیال رکھو۔”
وہ کہتے ہوئے تیزی سے فون رفیق کو تھماتے ہوئے، گاڑی نکالنے کے لیے بولتے ہوئے، الماری سے کپڑے نکال کر چینج کرنے کے لیے ڈریسنگ روم میں چلا گیا۔ پانچ منٹ بھی نہیں لگے تھے ریڈی ہونے میں۔ بہت جلدی سے تیار ہوا تھا کیونکہ خبر یہ تھی کہ مائد خان کا اپنے سسرال والوں کے ساتھ کوئی جھگڑا ہوا ہے اور آپس میں بندوقیں تن چکی ہیں۔ یہ خبر کوئی معمولی اور چھوٹی نہیں تھی۔ اسی لیے وہ ہڑبڑاہٹ میں کپڑے چینج کر کے جا رہا تھا۔
مہر النساء یہ سب کچھ جائے نماز فولڈ کر کے رکھتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ وہ تیزی سے باہر نکلنے ہی والا تھا کہ دروازے سے پلٹ کر تجسس بھری نظروں سے دیکھتی ہوئی مہرو کی جانب دیکھا۔ پھر بے اختیار کے قدم پیچھے مڑ گئے تھے۔

“دروازہ بند کر لو اور آرام کرو۔ میں تمہارے پاس کسی کو بھیجتا ہوں، وہ تمہاری عمر کی ہے، تمہیں اچھا لگے گا، اور جو کچھ کھانا پینا ہو، بلا جھجک اسے بتا دینا۔ میں ضروری کام سے جا رہا ہوں جلدی آ جاؤں گا۔”
بھاری ہاتھ اٹھا کر اس کے گال پر رکھتے ہوئے بچوں کی طرح سمجھایا تو مہرو نے اس کی نظروں میں دیکھتے ہوئے نظریں جھکا لیں، مگر اب کی بار ہاتھ جھٹکا نہیں تھا۔ وہ دروازہ بند کر کے جا چکا تھا، جبکہ مہرو وہیں کھڑی تھی۔

“صبح سے میں روزہ رکھوں گی، کتنی غلط بات ہے۔ ماہ رمضان میں کسی نے مجھے اٹھایا نہیں، اور میں نے روزہ نہیں رکھا۔ اللہ جی، مجھے معاف کر دینا، اس میں میری کوئی غلطی نہیں۔ ان لوگوں نے مجھے اٹھایا ہی نہیں!”
وہ زیغم کی باتوں کو بالائے طاق رکھ کر اپنے اللہ سے اپنے روزہ نہ رکھنے کی معافی مانگ رہی تھی۔
°°°°°°°
درخزائی نے بالکل ٹھیک بتایا تھا جیسے ہی ویٹنگ ایریا میں مونا اور اس کی ماں ایک ساتھ داخل ہوئی اندر کا نظارہ ہی خوفناک لگ رہا تھا۔ مونا کی ماں، اپنے غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے، آگے بڑھی اور دونوں لڑکوں کے درمیان آ کر کھڑی ہو گئی۔ مائد خان اور سبحان خان، ایک دوسرے کے کن پٹیوں پر پسٹل رکھے ہوئے تھے، اور ماحول میں کشیدگی طاری تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ دونوں کو دھکیل کر ایک دوسرے سے دور کیا۔

مونا کی ماں نے اپنے بیٹے سبحان خان اور مائد کو گہری نظر سے دیکھا۔
“کیا کر رہے ہو تم دونوں؟ پاگل ہو گئے ہو؟”
غصے میں لفظوں کو چباتے ہوئے بولی۔

“نیچے کرو اس کو!”
وہ غصے سے دونوں کی پسٹل کے رخ نیچے کرتے ہوئے چلائی تھی۔ وہاں پر کچھ ہاسپٹل کا سٹاف بھی اکٹھا ہونے لگا تھا۔ مونا کی ماں کی عمر اور الفاظ کا اثر فوراً ہوا، دونوں نے ایک لمحے کے لیے پسٹل نیچے کر دیں، لیکن ان کی نظریں اب بھی ایک دوسرے پر جمی ہوئی تھیں۔ مونا کی ماں کا چہرہ غصے اور ڈر کی شدت سے سرخ ہو چکا تھا۔ اس کے لہجے میں اتنی شدت تھی کہ دونوں لڑکے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے آہستہ آہستہ پیچھے ہٹ گئے۔

“تمہاری ہمت کیسے ہوئی کہ میرے بھائی پر گولی چلانے کی کوشش کی؟”
مونا نے غصے سے مائد خان کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔

“میں تمہارا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا۔”
مائد خان نے بیزاری سے جواب دیا کیونکہ مونا جس انداز سے پوچھ رہی تھی اس طرح تو مائد خان کبھی کسی کا جواب بھی نہ دے۔ پھر مونا کس کھیت کی مولی ہے۔

“جواب دینا پڑے گا! ضروری کیسے نہیں سمجھتے ہو؟”
مونا نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سختی سے کہا۔ اس کی آواز میں اتنی شدت تھی کہ ہر لفظ میں اپنے بھائی کی محبت اور اس کے تحفظ کا عہد صاف جھلک رہا تھا۔

اتنے میں، مورے جو ابھی کمرے میں داخل ہوئی تھی، تیز قدموں سے مونا کے پاس آئی۔
“چپ کر جاؤ مونا، بیٹا، چپ کر جاؤ! یہ ہسپتال ہے، تھوڑا سا خیال رکھو!”
اس کے لہجے میں ایک ماں کا درد اور فکر تھی۔

“میں تو خیال رکھ لوں گی کاش اتنا سا خیال یہ بھی رکھ لیں…”
مونا کا اشارہ مائد کی جانب تھا اسے بالکل اپنا بھائی غلط نہیں لگ رہا تھا۔

“میں بات کر رہی ہوں بیٹا، تم چپ کر جاؤ!”
مورے مونا کی چٹکتی ہوئی آواز سے گھبرا رہی تھی۔

“مائد خان، مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔”
مورے ناراض نظروں سے مائد خان کو دیکھتے سختی سے بولی تھی۔

مائد خان نے اپنی مورے کے سامنے سر کو جھکا لیا۔
“معاف کر دیجیے مورے، میں نے جان بوجھ کر ایسا کچھ نہیں کیا۔ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے، اس کو لاتوں کی زبانی سمجھ آتی ہے۔”
غصے سے سبحان کی طرف دیکھا، اسے اپنی بات کا مکمل احسا س دلانا چاہتا تھا۔

“تیری تو ایسی کی تیسی! بڑا آیا مجھے لاتوں سے سمجھانے والا!”
“تُو باہر مل، یہاں عورتوں کے بیچ میں خود کو بڑا مرد سمجھ رہا ہے!”
سبحان عورتوں کو دیکھتے ہی شوخا ہونے لگا تھا۔

“تو جہاں چاہے مل لینا، اور یہ دھمکی کس کو دے رہا ہے؟”
“مائد خان نہیں ڈرتا، نہ تجھ سے نہ تیرے باپ سے!”
مائد خان نے یہ بات غصے سے کہی، اس کی آنکھوں سے انگارے نکل رہے تھے مگر اسی وقت ایک زور دار تھپڑ اس کے گال پر رسید ہوا تھا۔ یہ تھپڑ مارنے والا کوئی اور نہیں، اس کے آغا جان تھے۔ مائد خان اپنی جگہ سے ہلکا سا لڑکھڑا گیا تھا کیونکہ اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ ایسا کچھ ہو سکتا ہے۔ وہ جوان تھا مگر باپ کے سامنے نظر جھکائے کھڑا تھا۔ بولنا تو دور کی بات تھی اس نے نظریں تک نہیں اٹھائی تھی۔ اس سے زیادہ وہ فرمانبرداری کا ثبوت کیا دے سکتا تھا۔

“ہمت کیسے ہوئی یہ حرکت کرنے کی؟”
آغا جان نے غصے میں کہا۔

“آغا جان، میری بات سنیں، اس نے جو حرکت کی ہے وہ بھی…”
مائد خان کچھ کہتے ہوئے خاموش ہو گیا تھا کیونکہ وہ دانیا کا نام بیچ میں نہیں اچھالنا چاہتا تھا۔

“نہیں بتاؤ! بتاؤ! بتاؤ نا، آغا جان کو بھی تو پتہ چلے کہ ان کے لاڈلے کے دماغ میں کیا چل رہا ہے!”
سبحان نے اس موقع کا پورا فائدہ اٹھایا تھا۔ وہ بھلا کیسے مائد خان کو نیچا دکھانے سے پیچھے ہٹ سکتا تھا۔

“تم اپنا منہ بند رکھو! مرد ہو تو باہر میرے ساتھ اس معاملے پر بات کرنا!”
مائد خان نے اپنی طرف سے بات ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔

“نہیں نہیں، آغا جان! میں بتاتا ہوں۔ وہ جو مہمان لڑکی آپ نے اپنے گھر میں آستین کا سانپ بنا کر رکھی ہوئی ہے، وہ میری بہن کی خوشیوں کو نگل جائے گی!”
“آپ کے ہو نہار برخوردار بیٹے اس کے لیے کافی پوزیسو ہو رہے ہیں!”
“ایک کمرے میں اتنے سارے لوگ بیٹھے ہوئے تھے، صرف اس نے ہی محسوس کیا کہ میں اس کی اس محترمہ کی طرف دیکھ رہا ہوں اور اس نے یہاں آ کر میرے اوپر پسٹل تان دی، جبکہ میں نے اس کو اتنی صفائیاں دیں کہ میرے دل میں اس کے لیے کچھ نہیں ہے۔ میرے لیے وہ ایسے ہے جیسے مونا ہے، مگر نہیں، یہ تو پتہ نہیں کیوں اتنا بدزن ہو رہا تھا۔”
سبحان خان نے مکاری سے ساری بات کا رخ بدل دیا تھا۔
وہاں پر کھڑے ہوئے زیادہ تر افراد کو مائد خان غلط لگ رہا تھا کیونکہ مکار انسان نے جال ہی بہت صفائی سے پھینکا تھا۔ مائد کو غلط سمجھنے والوں میں سب سے پہلا نمبر مونا اور اس کی ماں کا تھا اور دوسرا شاید آغا جان تھے جبکہ مورے کا دل اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار تو نہیں تھا مگر اس وقت حالات اس کے بس میں بھی نہیں تھے۔

“بکواس کر رہا ہے! ایسا کچھ نہیں ہے!”
مائد خان کو اپنی ذرا سی فکر نہیں تھی، مگر یہ کیچڑ دانیا پر اچھالنا چاہ رہا تھا۔

═══════❖═══════

اگلا ایپیسوڈ ملاحظہ کیجیے

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *